3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsسراج البیان

Ayah 3:41

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ اِلَّا رَمْزًا١ؕ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ كَثِیْرًا وَّ سَبِّحْ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ۠ Open ayah 3:41 in the Quran reader

کہا اے میرے رب ! مقرر کر میرے لئے کچھ نشانی فرمایا تیری نشانی یہ ہے کہ تو تین دن لوگوں سے بول نہ سکے گا ، مگر اشارہ سے اپنے رب کو بہت یاد کر اور صبح وشام تسبیح کر (ف 3)

روحانی وسائل : (ف 3) حضرت زکریا (علیہ السلام) نے بشارت کی تحقیق کے لئے پوچھا کہ اس کے وقوع کی علامات کیا ہوں گی ؟ خدا نے فرمایا ، تیری زبان گنگ ہوجائے گی اور تو تین دن تک بجز اشارات کے اظہار مطلب نہ کرسکے گا اور اس اثنا میں تو رب العزت کی صبح وشام تسبیح و تقدیس کر ، ان آیات میں یہ بتایا کہ مرد مومن محض مادی اسباب ووسائل پر بھروسہ نہیں رکھتا ، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ سے روحانی وسائل کا طالب رہتا ہے ، ایک مادہ پرست انسان تلقین سن کر ہنس دے گا کہ وظیفہ تولید کو عبادت سے کیا تعلق ؟ لیکن جن کے دماغ فلسفہ سے یا بس اور خشک نہیں ہوگئے ، اس بات کو تسلیم کریں گے کہ ہر مادی نتیجہ معلول ہوتا ہے روحانی اسباب ووسائل کا ، یہ درست ہے کہ ہماری نظریں صرف مادیت تک محدود رہتی ہیں ، مگر اس کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ کائنات میں صرف مادیت ہی مادیت ہے ، اللہ والے اور نیک لوگ ظاہری اسباب ووسائل سے کام تو لیتے ہیں ، مگر ان کے تابع نہیں رہتے ۔ حل لغات : مصدقا بکلمۃ من اللہ : یعنی پیغام الہی کے مصدق ۔ حصور : پاکباز ، مناہی سے پرہیز کرنے والا ، اپنے آپ کو خواہشات نفس سے محفوظ رکھنے والا ، محتاط ضابطہ ۔ عاقر : وہ عورت جس کے اولاد نہ ہو ، جو عمر کے ایسے حصے میں جہاں اولاد نہیں ہوتی ۔ رمز ۔ اشارہ کنایہ ۔ ابکار : صبح ۔
Ayah 3:42

وَ اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ وَ طَهَّرَكِ وَ اصْطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 3:42 in the Quran reader

اور جب فرشتوں نے کہا اے مریم ! اللہ نے تجھے پسند کیا اور تجھے پاک کیا اور جہان کی عورتوں پر تجھے برگزیدہ کیا ۔ (ف 1)

مریم کاملہ (علیہ السلام) : (ف 1) حدیث میں آیا ہے ، ” مکمل من الرجال کثیر ولم مکمل من النسآء الا مریم بنت عمران واسیۃ امرۃ فرعون و افضل عائشۃ علی النسآء کفضل الثرید علی الطعام “۔ (مجتبائی : ص 42) یعنی مردوں میں سے تو بہتیرے درجہ بنوع و کمال تک فائز ہوئے ہیں ، مگر عورتوں میں مریم (علیہا السلام) ، آسیہ ؓ اور عائشہ ؓ کے سوا اور کوئی اس فضیلت کو حاصل نہیں کرسکی ، دوسری حدیث میں حضرت خدیجہ ؓ اور حضرت فاطمۃ الزہرا ؓ کا نام بھی آیا ہے ، مقصد یہ ہے کہ ہر زمانے میں حالات و استعداد کے مطابق عورتیں بھی کمال وفضل سے بہرہ وافر حاصل ہوسکتی ہیں ، اس آیت میں حضرت مریم (علیہا السلام) کا ذکر ہے ۔ بالخصوص حضرت مریم (علیہا السلام) کی تقدیس وتطہیر اس لئے فرمائی کہ یہود ان کی نسبت نہایت ہی ناپاک خیالات رکھتے تھے ، یہ قرآن حکیم کا بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے حضرت مریم (علیہا السلام) کے دامن عفت کو ہر آلودگی سے پاک رکھا ۔ اصطفاء کا نقطہ قرآن حکیم میں خاص انتخاب یا ہم خدمات کے لئے چن لینے کے معنوں میں استعمال ہوا ہے ۔ حضرت مریم (علیہا السلام) کے متعلق اس آیت میں دو دفعہ اصطفاء کا لفظ آیا ہے ، پہلے اصطفاء سے مراد ذاتی فضائل کا اظہار ہے دوسرے سے مقصود یہ ہے کہ مسیح (علیہ السلام) کی والدہ ہونے کا شرف حاصل کرنا بجز مریم کاملہ کے اور کسی کے بس کی بات نہ تھی ، آپ نے محض اللہ کے لئے ہر نوع کی گستاخیوں اور ملامتوں کو برداشت کیا ، صرف اللہ کے دین کی خدمت کے لئے دلخراش طعنوں کو سنا ۔
Ayahs 3:43–44

یٰمَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّكِ وَ اسْجُدِیْ وَ ارْكَعِیْ مَعَ الرّٰكِعِیْنَ Open ayah 3:43 in the Quran reader

اے مریم ! اپنے رب کی فرمانبرداری کر اور سجدہ کیا کر اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کیا کر ۔

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ؕ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یُلْقُوْنَ اَقْلَامَهُمْ اَیُّهُمْ یَكْفُلُ مَرْیَمَ١۪ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 3:44 in the Quran reader

یہ غیب کی خبریں ہیں جن کو ہم بذریعہ وحی تجھے بتلاتے ہیں ، حالانکہ تو ان کے پاس حاضر نہ تھا ، جب وہ اپنے قلم ڈال رہے تھے کہ مریم (علیہا السلام) کو کون پالے اور تو ان کے پاس نہ تھا جب وہ جھگڑ رہے تھے (ف 2)

قصوں کا مقصد : (ف 2) (آیت) ” ذلک من انبآء الغیب “۔ کہہ کر قرآن حکیم نے بتایا ہے کہ یہ قصے بطور دیل وبرہان کے بیان کئے گئے ہیں غور کرو سینکڑوں برس پہلے واقعات جن پر تصحیف وتحریف کے کئی پردے پڑچکے ہیں کس طریق پر ایک امی کے منہ سے واشگاف طور پر ظاہر ہو رہے ہیں کیا یہ حضور ﷺ کی نبوت پر زبردست دلیل نہیں ؟
Ayah 3:45

اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ١ۖۗ اسْمُهُ الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیْهًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ Open ayah 3:45 in the Quran reader

اور جب فرشتوں نے کہا ۔ اے مریم (علیہا السلام) ! اللہ تجھے خوشخبری سناتا ہے اپنے ایک حکم کی (ف 3) جس کا نرم مسیح (علیہ السلام) ہے ، عیسیٰ (علیہ السلام) بیٹا مریم (علیہا السلام) کا ، دنیا اور آخرت میں مرتبہ والا اور آخرت کے مقربوں میں (ف 4) سے ۔

کلمتہ اللہ : (ف 3) ابن مریم (علیہا السلام) کو کلمۃ اللہ اس لئے فرمایا کہ ان کی پیدائش غیر مادی اسباب کی بنا پر ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے خرق عادت کے طور پر محض اختیار کن فیکون سے کام لیتے ہوئے آپ کو مادہ پرست لوگوں کے لئے ایک زبردست نشان بنایا ۔ بارعب اور وجہ مسیح (علیہ السلام) : (ف 4) ان کو جلال ورعب عنایت کیا یہودی باوجود وسیع مادی قوت کے مسیح (علیہ السلام) کو گرفتار نہ کرسکے ، انجیل میں جو یہ لکھا ہے کہ مسیح (علیہ السلام) کو دو چوروں کے ساتھ صلیب پر لٹکا دیا گیا یہ سراسر غلط اور جاہت ووقار کے خلاف ہے ، کوئی نبی اپنے آپ کو اس بےچارگی کے ساتھ کفر کے سپرد نہیں کردیتا نبی آخر وقت تک باطل سے لڑتا اور جہاد کرتا ہے ۔
Ayah 3:46

وَ یُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا وَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:46 in the Quran reader

وہ لوگوں سے ماں کی گود میں اور پوری عمر کا ہو کے (بھی) کلام کرے گا اور وہ نیک بختوں میں ہے (ف 1) ۔

(ف 1) اس آیت میں حضرت مریم (علیہا السلام) کو خوشخبری سنائی ہے کہ تیرا بیٹا اللہ کا نبی ہوگا اور اس کا کام لوگوں کی اصلاح وتربیت ہوگا ۔ جھولے میں گفتگو کرنے کا مطلب وہ نہیں جو بعض قرآن نا آشنا لوگوں نے سمجھا ہے کہ وہ معمولی اور عادی گفتگو ہے ، اس لئے کہ مقام بشارت میں اس کا ذکر خصوصیت فاضلہ چاہتا ہے اور پھر ” الناس “ کی طرف تکلم کا انتساب متقاضی ہے کہ اس سے مراد وہ گفتگو ہو جس کا تعلق منصب اصلاح ورشد سے ہے ۔ حدیث میں آتا ہے کہ مسیح (علیہ السلام) کے علاوہ تین اور بچوں نے بھی بچپن میں باقاعدہ گفتگو کی ہے ، شاہد یوسف ، صاحب جریج اور ماشتہ صاحب فرعون نے ، بات یہ ہے کہ انبیاء فطرۃ ملکہ نبوت لے کر پیدا ہوتے ہیں ابتدا ہی سے ان کے دلوں میں نبوت کے انوار روشن رہتے ہیں اور حسب موقع ان کا اظہار ہوتا ہے ۔ کھلا سے مراد یہ ہے کہ مسیح (علیہ السلام) کی عمر تا بکہولت پہنچے گی اور وہ عمر کے آخری لمحوں میں بھی تبلیغ و اشاعت میں مصروف رہیں گے ۔ حل لغات : المھد : گہوارہ ۔ اخلق : مادہ ومصدر خلق ، بنانا ۔ ھیئۃ : صورت ۔
Ayahs 3:47–49

قَالَتْ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ وَلَدٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 3:47 in the Quran reader

(مریم) بولی ، اے میرے رب ! میرے لڑکا کیونکر ہوگا ؟ حالانکہ مجھے کسی آدمی نے نہیں چھوا فرمایا ، اسی طرح اللہ جو چاہے پیدا کرتا ہے ، وہ جو کوئی کام مقرر کرتا ہے تو صرف کہتا ہے اس کو کہ ہوجا ، سو وہ ہوجاتا ہے ۔

وَ یُعَلِّمُهُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۚ Open ayah 3:48 in the Quran reader

اور خدا عیسیٰ (علیہ السلام) کو لکھنا اور عقل مندی اور توریت وانجیل سکھائے گا ۔

وَ رَسُوْلًا اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ اَنِّیْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ۙ اَنِّیْۤ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّیْنِ كَهَیْئَةِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْهِ فَیَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ وَ اُحْیِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَ مَا تَدَّخِرُوْنَ١ۙ فِیْ بُیُوْتِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 3:49 in the Quran reader

اور بنی اسرائیل کی طرف پیغمبر بنائے گا (وہ کہے گا کہ میں تمہارے پاس تمہارے رب سے ایک نشان لے کے آیا ہوں ، میں مٹی سے تمہارے لئے پرندہ کی صورت پیدا کرکے اس میں پھونکتا ہوں تو وہ بحکم خدا ایک پرندہ ہوجاتا ہے اور مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو چنگا کرتا ہوں اور باذن خدا مردوں کو جلاتا ہوں اور جو کچھ تم کھا کے آؤ اور جو کچھ اپنے گھروں میں رکھ کے آؤ ، تمہیں بتا دیتا ہوں ، اس میں تمہارے لئے پورا نشان ہے اگر تم مومن ہو ۔ (ف 1)

حضرت مسیح (علیہ السلام) کا عہد رسالت : (ف 1) یہودیوں میں جب حضرت مسیح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے ، اس وقت ان کی حالت نہایت بگڑ چکی تھی ، ان میں مادیت کے جراثیم بری طرح سرایت کرچکے تھے اور سرمایہ کا حصول ان کی زندگی کا سب سے بڑا نصب العین تھا ، وہ دنیا میں سب سے زیادہ مال دار تھے ، اور چاہتے تھے کہ دنیا بھر کے ذخائر وخزائن ان کے پاس جمع رہیں اور ساری دنیا ان کی محتاج ہو ، اس مادیت کے ساتھ ساتھ وہ مذہبیت کے دعوے دار بھی تھے چند رسوم وظواہر کے سوا ان کے پاس اور کچھ نہ تھا ، روحانیت اور اخلاق حمیدہ سے وہ کوسوں دور تھے ۔ اس لئے ان کے ہاں مسیح (علیہ السلام) ایسے روحانی شخص کو بھیجنے کا مقصد یہ تھا کہ وہ ان کی مادیت کے طلسم کو توڑ دے اور انہیں یقین دلادے کہ ایک قوت مادہ سے وراء اور بلند بھی ہے جس کے اختیارات زیادہ وسیع ہیں چناچہ مسیح (علیہ السلام) نے انہیں چند معجزات وخوارق دکھائے جو مادیت کے قلعہ عقل وفلسفہ پرکاری ضرب کی حیثیت رکھتے ہیں ، پرندے بنائے ، مادرزاد اندھے اور کوڑھیوں کو شفا بخشی اور ان کو بتایا کہ تمہاری ضروریات اکل وشرب کے لئے کتنا کافی ہے اور کس قدر تم جمع کرتے ہو حضرت مسیح (علیہ السلام) کے یہ روحانی کرشمے ان کی مادیت کا صحیح جواب تھے ، نقطہ نگاہ کی غلطی : وہ لوگ جو مسیح (علیہ السلام) کے معجزات کا انکار کرتے ہیں اس لئے کہ خیال میں حضور ﷺ کی معاذ اللہ توہین ہوتی ہے ، انہیں ان آیات پر دیانتداری سے غور کرنا چاہئے اور صرف یہ دیکھنا چاہئے کہ قرآن حکیم کے الفاظ کیا پیش کرتے ہیں ، اگر ان آیات کے الفاظ میں تاویل کی کوئی گنجائش نہ ہو تو پھر محض تمہاری محدود عقل جو قدم قدم پر ٹھوکریں کھاتی ہے ، ہرگز قابل اعتنا نہیں ، ایک مسلمان کو سب سے پہلے یہ دیکھنا چاہئے کہ قرآن حکیم کے الفاظ کیا چاہتے ہیں اور ان کا سادے سے سادہ مطلب کیا ہے ؟ اس کے بعد وہ اپنے ذخیرہ علم کا جائزہ لے اور اس کی عقلی تحلیل کرے ۔ اور یہ کہنا کہ اس سے حضور ﷺ کی توہین کا پہلو نکلتا ہے ، غلط ذہنیت پر مبنی ہے یہ درست ہے کہ حضور ﷺ تمام فضائل و کمالات کے جامع ہیں اور حضور ﷺ مطلقا منصب نبوت کے آئینہ ہیں جس میں نبوت کے تمام کمالات کو بیک نظر دیکھا جاسکتا ہے مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ حضور ﷺ معجزات وخوارق دکھانے میں بھی سابق ماحول کے پابند ہیں ، حضرت مسیح (علیہ السلام) کا ان معجزات کی نسبت باذن اللہ کہنا تمام شبہات کو دور کردیتا ہے ، اس لئے کہ خدا کی اجازت سے سب کچھ ہو سکتا ہے اور اس کے بعد اعتراض وتاویل کی قطعا ضرورت محسوس نہیں ہوتی ۔ ترجمہ :
Ayahs 3:50–51

وَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ لِاُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ وَ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ Open ayah 3:50 in the Quran reader

اور سچا بتاتا ہوں اپنے پہلے کتاب کو جو توریت ہے اور اس لئے آیا ہوں کہ بعض چیزیں جو تم پر حرام ہوئی تھیں ، میں ان کو تمہارے لئے حلال کر دوں اور تمہارے پاس تمہارے رب سے نشان لے کے آیا ہوں ، سو تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو ۔

اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 3:51 in the Quran reader

بیشک اللہ میرا اور تمہارا رب ہے ، سو اسی کی بندگی کرو یہی سیدھی راہ ہے (ف 1)

حضرت مسیح (علیہ السلام) کی تعلیم : (ف 1) آپ (علیہ السلام) نے فرمایا میں تورات کی تصدیق کرتا ہوں اور ان پابندیوں کو اٹھاتا ہوں جن کو خواہ مخواہ تم نے اپنے اوپر عاید کرلیا ہے ، اور فرمایا کہ میرا رب اور تمہارا رب صرف ایک ہے ، اسی کی پوجا اور پرستش صراط مستقیم ہے ۔
Ayah 3:52

فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِیْسٰى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ١ۚ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ١ۚ وَ اشْهَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 3:52 in the Quran reader

پھر جب عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کا کفر معلوم کیا تو کہا کہ خدا کی راہ میں میرا مددگار کون ہے ؟ حواریوں نے کہا کہ ہم اللہ کے مددگار ہیں ، ہم اللہ پر ایمان لائے اور تو گواہ رہ کہ ہم ماننے والے ہیں (ف 2)

آپ (علیہ السلام) کے اصحاب ارادت : (ف 2) حضرت مسیح (علیہ السلام) کی یہ تعلیم توحید وروحانیت یہودیوں کو ناگوار محسوس ہوئی ، اس لئے انہوں نے پوری طرح مخالفت کی ٹھان لی حکومت وقت کو آپ کے خلاف آمادہ تعزیر کیا ۔ اس پر آپ (علیہ السلام) نے مخلصین کی ایک جماعت کو دعوت ارادت دی اور (آیت) ” من انصاری الی اللہ “۔ کا نعرہ لگایا ، جس کو سن کر حواریین نے لبیک کہا اور نصرت واعانت کا مضبوط عہد کیا ۔ قرآن حکیم نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کو تقدیس کے ساتھ ساتھ حواریوں کو بھی شرف خلعت سے نوازا ، مگر انجیل میں لکھا ہے کہ مسیح (علیہ السلام) کے حواریوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کو دھوکا دیا اور گرفتار کرا دیا اور انکار کیا ، معلوم ہوتا ہے یہ تحریف ہے ۔ حل لغات : حواریون : جمع حواری ، مخلص دوست ، ارادت مند ۔ مکروا : مصدر مکر ، معنی تدبیر محکم و خفیہ ۔ توفنی : پورا پورا دے گا ، (آیت) ” انی متوفیک “۔ کے معنی پورا پورا لے لینا بھی ہے یعنی میں تمہیں بحفاظت تمام لے لوں گا ۔ ورافعک : کے معنی ہوں گے تعبین نوع کے عینی ، توفی بصورت رفع واقع ہوگی ۔
Ayahs 3:53–55

رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا بِمَاۤ اَنْزَلْتَ وَ اتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 3:53 in the Quran reader

اے ہمارے رب ! جو کچھ تونے نازل کیا ہے ہم نے اس کو مانا اور ہم (عیسی ) رسول کے تابع ہوئے ، سو تو ہمیں گواہوں میں لکھ لے ۔

وَ مَكَرُوْا وَ مَكَرَ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ۠ Open ayah 3:54 in the Quran reader

اور انہوں نے (یعنی کافروں نے) فریب کیا اور اللہ نے بھی وٹو کیا ، اور اللہ تعالیٰ کا داؤ سب سے بہتر ہے ۔

اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسٰۤى اِنِّیْ مُتَوَفِّیْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَیَّ وَ مُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ جَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَیْنَكُمْ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 3:55 in the Quran reader

جب اللہ نے کہا اے عیسیٰ میں تجھے کھینچ لینے والا اور اپنی طرف اٹھانے والا اور کافروں سے پاک کرنے والا ہوں اور تیرے (ف 1) تابعداروں کو قیامت کے دن تک کافروں کے اوپر رکھوں گا (یعنی وہ غالب رہیں گے) پھر میری طرف تمہیں لوٹنا ہوگا پھر جس میں تم اختلاف رکھتے ہو اس میں تمہارے درمیان فیصلہ کروں گا (ف 2)

حیات مسیح (علیہ السلام) : (ف 1) ایک طرف یہودیوں نے مسیح (علیہ السلام) کے خلاف وسیع پیمانے پر سازش کی اور حکومت وقت کو مجبور کردیا کہ وہ انہیں باغی سمجھے اور سزا دے ، اسی کا نام قرآن حکیم کی زبان میں ” مکر “ ہے ، یعنی تدبیر محکم اور خفیہ ارادہ ، دوسری طرف اللہ تعالیٰ کے ارادے کام کر رہے تھے ، اللہ تعالیٰ حضرت مسیح (علیہ السلام) کو دشمنوں کی زد سے صاف بچا لینا چاہتے تھے ، اور یہودیوں کو دکھانا چاہتے تھے کہ آسمانوں پر ایک زبردست اور علیم و حکیم خدا بھی موجود ہے جو تمہاری سازش کو جانتا ہے اور اس کی قدرت واختیار میں ہے کہ تمہیں تمہارے ارادوں میں ناکام رکھے ، (آیت) ” واللہ خیر الماکرین “۔ جب مقابلہ ہوا انسانی تدابیر وحیل کا اور مادی وارضی منصوبوں کا احکم الحاکمین رب عرش عظیم کی قدرت ومنشا سے تو ظاہر ہے الہی ارادے کامیاب رہیں گے اور شیطان خائب و خاسر ، اگر مان لیا جائے کہ مسیح (علیہ السلام) یہود کے ہاتھوں گرفتار ہوگئے اور صلیب پر لٹک گئے تو بتاؤ فتح کس کی ہے خدا کی یا شیطان کی ؟ خدا نے واشگاف طور پر فرما دیا ہے کہ ہم نے یہودیوں کو ناکام رکھنے کے لئے مضبوط ومستحکم ارادہ کرلیا اور یہ بھی فرما دیا کہ ہمارے ارادے زیادہ بہتر اور کامیاب ہوتے ہیں تو پھر اس بےچارگی وبے بسی کے کیا معنی کہ مسیح (علیہ السلام) کو دشمنوں کے ہاتھ میں دے دیا جائے ، مسیح (علیہ السلام) اگر صلیب پر لٹک کر بچ بھی جائیں تو اس میں یہودیوں کے دعوے (آیت) ” انا قتلنا المسیح “۔ پر کیا اثر پڑتا ہے وہ اس سے زیادہ اور کیا کرسکتے تھے کہ مسیح (علیہ السلام) کو موت کے دروازے پر لا کھڑا کریں ، ایک دشمن جو کچھ کرسکتا ہے ‘ وہ بقول بعض کیا جا چکا پھر خدا کی تدبیریں کیا ہوئیں ؟ خدا کے ارادے کہاں گئے ؟ مسیح (علیہ السلام) اگر مرہم لگا کر جانبر ہوگئے تو یہ ان کی خوش بختی کی ہے ، خدا کی فتح مندی ونصرت کی دلیل نہیں ؟ حالانکہ کہا گیا ہے کہ خدا ان کے تمام منصوبوں کے مقابلہ میں زیادہ کامیاب ہے ، بتاؤ اس صورت میں زیادہ کامیاب کون رہتا ہے ؟ کیا وہ جس کے اختیار میں ہے کہ مسیح (علیہ السلام) کو اپنے برگزیدہ کو کوئی گزند نہ پہنچنے دے ، یا وہ جو مسیح (علیہ السلام) کو موت کے قریب لاسکتے تھے وہ جنہوں نے مسیح (علیہ السلام) کو دار تک لاکھڑا کیا اور وہ تمام سزائیں دیں جو ان کے اختیار میں تھیں ، مگر خدا نے اپنے وسیع اختیارات سے کوئی کام نہ لیا ، بتاؤ اس میں یعنی اس صورت میں مقابلہ میں کس کا پلہ زیادہ بھاری رہتا ہے ؟ چاروعدے : (ف 2) ان حالات میں جبکہ یہودی حضرت مسیح (علیہ السلام) کے مشن کو تباہ کردینا چاہتے تھے اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کے دشمن ہو رہے تھے ، اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح (علیہ السلام) سے چار وعدے کئے اور انہیں بشارت دی کہ تم مطلقا کوئی فکر نہ کرو ، ہم تمہارے ساتھ ہیں ۔ ٍ پہلا وعدہ : یہ تھا کہ (آیت) ” انی متوفیک “ یعنی تیری موت طبعی ہوگی تو دشمنوں کے ہاتھوں محفوظ رہے گا اور وہ تجھے کوئی نقصان یا گزند نہ پہنچا سکیں گے ۔ دوسرا وعدہ : یہ تھا کہ (آیت) ” ورافعک الی “۔ یعنی میں تمہیں اٹھالوں گا ” رفع “ کے معنی عزت و رفعت دینے کے بھی ہوتے ہیں ، مگر بصلہ الی نہیں اگر یہاں مقصود عزت و رفعت ہوتی تو عبارت یوں ہوتی ” ورافعک لدی “۔ تیسرا وعدہ : یہ تھا کہ (آیت) ” ومطھرک “۔ یعنی کفرونفاق کی تمام تہمتوں سے تمہیں پاک رکھوں گا ، اس میں حضور ﷺ کی بعثت کی طرف نہایت باریک اشارہ ہے ۔ چوتھا وعدہ : یہ تھا کہ (آیت) ” وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا “۔ یعنی تیرے ماننے والے تیرے نہ ماننے والوں پر غالب رہیں گے کفر واتباع دونوں کو قرآن حکیم نے مطلق رکھا ہے ، اس لئے دونوں کا عموم بحال رہے گا ، یعنی مسیح کا ہر ماننے والا اس کے ہر منکر پر غالب رہے گا اس صورت میں اس میں مسلمان بھی شامل ہیں ۔
Ayahs 3:56–61

فَاَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَاُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:56 in the Quran reader

سو وہ جو کافر ہوئے ‘ انکو دنیا اور آخرت میں سخت عذاب دوں گا اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا ۔

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 3:57 in the Quran reader

اور وہ جو ایمان لائے اور نیک کام کئے ، ان کو ان کا پورا حق دے گا اور بےانصاف لوگ خدا کو خوش نہیں آتے ۔

ذٰلِكَ نَتْلُوْهُ عَلَیْكَ مِنَ الْاٰیٰتِ وَ الذِّكْرِ الْحَكِیْمِ Open ayah 3:58 in the Quran reader

یہ ہم تجھے حکمت بھرا بیان اور آیات پڑھ کے سناتے ہیں ۔

اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ١ؕ خَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 3:59 in the Quran reader

بیشک عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال خدا کے نزدیک آدم (علیہ السلام) جیسی مثال ہے کہ اس کو خدا نے مٹی سے بنایا اور پھر اس سے کہا کہ ہوجا اور وہ ہوگیا ۔

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِیْنَ Open ayah 3:60 in the Quran reader

یہ حق بات ہے تیرے رب کی طرف سے ، سو تو شک کرنے والوں میں سے نہ ہو ۔

فَمَنْ حَآجَّكَ فِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَنَا وَ اَبْنَآءَكُمْ وَ نِسَآءَنَا وَ نِسَآءَكُمْ وَ اَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَكُمْ١۫ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 3:61 in the Quran reader

پھر جو کوئی بعد اس کے کہ تجھے عمل پہنچ چکا ‘ اس بارہ میں تجھ سے جھگڑے تو کہہ کہ آؤ ہم اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے اور اپنی عورتیں اور تمہاری عورتیں اور اپنی جانیں اور تمہاری جانیں ایک جگہ جمع کریں ، پھر التجا کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت بھیجیں ۔ (ف 1)

مباہلہ : (ف 1) مسیح (علیہ السلام) کے متعلق آیات سابقہ میں بکرات یہ بیان کیا جا چکا کہ ان کی حیثیت ایک محترم ومکرم رسول سے زائد نہیں مگر عیسائی ہیں کہ غلو سے کام لیتے ہوئے انہیں ابن اللہ سمجھنے پر مصر ہیں ، ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایک عجیب مگر آخری فیصلہ کی طرف دعوت دی ہے اور وہ یہ ہے کہ دونوں متخاصم مل کر اللہ سے جھوٹے کی ہلاکت چاہیں اور دیکھیں کہ خدا کس کی تائید میں ہے ، کون باقی رہتا ہے اور کس کے حق میں ہلاکت مقدر ہے ، یہ طریق فیصلہ اس وقت اختیار کیا گیا جب منطق وبرہان کے تمام حربے ناکام رہے اور عقیدت میں غلو ہر دلیل وفلسفہ پر غالب رہا ، جب بحث کے تمام دروازے بند ہوگئے اور غور وفکر کے لئے تمام راہیں تعصب وجہالت کی وجہ سے مسدود ہوگئیں ، ظاہر ہے ان حالات میں ایک زبردست انسان کے لئے سوا اس کے چارہ ہی کیا رہتا ہے کہ وہاحکم الحاکمین کی پیشگاہ وعدل و انصاف میں حاضر ہو اور داد خواہ ہو ۔ احادیث میں آیا ہے کہ جب وفد نجران سے گفتگو ہوئی اور نجران کے عیسائیوں نے ضد سے کام لیا ، حضور ﷺ نے دعوت مباہلہ دی ، انہوں نے کہا ہم سوچ کر کل اس کا جواب دیں گے اور دوسرے دن مقابلہ میں آنے سے انکار کردیا ، حضور ﷺ نے فرمایا ، اگر وہ میدان مباہلہ میں آجاتے تو ان پر آسمان سے آگ برسائی جاتی اور ایک بھی ان میں سے بچ کر نہ جاتا ، اسلام سے پہلے طریق فیصلہ میں مباہلہ کا ذکر نہیں ، جس کے معنی یہ ہیں کہ اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس کو اپنی حقانیت پر بیش از بیش یقین ہے اور اصرار ہے اور وثوق ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر وقت اس کی تائید ونصرت میں کار فرما ہے ، کیا عین الیقین کی یہ صورت کوئی دوسرا مذہب پیش کرسکتا ہے ؟ حضور ﷺ کے بعد پھر مباہلہ جائز ہے یا نہیں ۔ علامہ دوانی نے اس پر ایک مستقل رسالہ لکھا ہے اور ثابت کیا ہے کہ امور مہمہ شرعیہ میں مباہلہ کرنا اب بھی درست ہے ۔ (کذا فی ردالمختار المعروف بہ شامی) آیت کے الفاظ سے پتہ چلتا ہے کہ مباہلہ ان امور میں ہونا چاہئے جو اصولی ہوں اور کفر واسلام میں دائر ہوں اور انکا مبنی برحق ہونا از قبیل قطعیات ہو ، اس لئے فرمایا (آیت) ” من بعدما جآءک من العلم “۔ اور مجتہدات فقہیہ میں اختلاف رائے مباہلہ تک نہ پہنچے تو اچھا ہے ۔ (آیت) ” نسآء نا ونسآء کم میں پہلی ازواج اور پھر دوسری عورتیں ثانوی حیثیت سے داخل ہیں ، اسی طرح ” ابنآء نا “ کا لفظ مجازا دوہتوں اور پوتوں کے لئے استعمال ہوا ہے ، مقصد یہ ہے کہ امہات المومنین آیت مباہلہ میں بطور اولین مفہوم کے داخل ہیں ، یہ الگ بات ہے کہ حضور ﷺ نے انہیں انتخاب میں نہیں لیا اور صرف حضرت فاطمہ ؓ پر اکتفا کیا ۔ حل لغات : نبتھل : مادہ ابتھال ۔ بتضرع آرزو کرنا ۔
Ayahs 3:62–64

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ١ۚ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 3:62 in the Quran reader

البتہ یہی سچا قصہ ہے ، اور سوائے خدا کے کوئی معبود نہیں ، اور بیشک خدا غالب حکمت والا ہے ۔

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 3:63 in the Quran reader

پھر اگر وہ قبول نہ کریں تو خدا مفسدوں کو خوب جانتا ہے ،

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍۭ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَ لَا نُشْرِكَ بِهٖ شَیْئًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 3:64 in the Quran reader

کہہ اے اہل کتاب ایک بات کی طرف آؤ ، جو ہم میں اور تم میں برابر ہے کہ ہم خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں ، اور ہم سے کوئی کسی کو خدا کے سوا پروردگار نہ ٹھہرائے پھر اگر وہ منہ موڑیں تو تم یوں کہو کہ تم گواہ رہو کہ ہم فرمانبردار ہیں (ف 1)

دعوت اتحاد : (ف 1) قرآن حکیم دنیا سے تفریق واختلاف کو مٹانے آیا ہے وہ چاہتا ہے کہ ساری دنیا کو ایک مرکز پر لا کھڑا کرے اور جتنے فتنے تشدد وافتراق کی وجہ سے بپا ہیں یکسر محو ہوجائیں اور اگر یہ نہ ہو سکے تو بھی تعصبات ختم ہوجائیں مہمات مسائل پر اتفاق ہوجائے اور کم از کم چند چیزیں ایسی مسلمانہ میں سے ہوں جس پر دنیا کے تمام انسان متفق ہوں ، کتنا سچا اور مقدس مسلک ہے ، اس آیت میں اسی دعوت اتحاد کی تشریح ہے ، اہل کتاب کے ہر دو فرقوں کو مخاطب کرکے فرمایا ہے کہ آؤ ہم دونوں مسلمات پر اتفاق کریں اور وہ یہ ہیں کہ ایک اللہ کی پرستش کریں ، کسی دوسرے کو عبادت اور پرستش کے قابل نہ سمجھیں اور اپنے جیسے انسانوں کو (آیت) ” اربابا من دون اللہ “ تصور نہ کریں ، ایک خدا کی بادشاہت ہو اور وہ ایک ہی ہو جو ساری دنیا کا رب ٹھہرے ۔ حل لغات : القصص : بیان ، بات ، قصہ ، معاملہ ، تعالوا : آؤ ۔
Ayahs 3:65–67

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مَاۤ اُنْزِلَتِ التَّوْرٰىةُ وَ الْاِنْجِیْلُ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 3:65 in the Quran reader

اے اہل کتاب ! تم ابراہیم کے بارہ میں کیوں جھگڑتے ہو توریت اور انجیل تو اس کے بعد نازل ہوئی ہیں ، کیا تم نہیں سمجھتے ۔

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ حَاجَجْتُمْ فِیْمَا لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْمَا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:66 in the Quran reader

سنتے ہو کہ جس بات کی تمہیں خبر تھی ‘ اس میں تو تم جھگڑ چکے ، پھر جس بات کی تمہیں خبر ہی نہیں اس میں کیوں جھگڑتے ہو ؟ اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔

مَا كَانَ اِبْرٰهِیْمُ یَهُوْدِیًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّ لٰكِنْ كَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 3:67 in the Quran reader

ابراہیم (علیہ السلام) نہ یہودی تھا نہ نصرانی ، بلکہ حنیف (یعنی ایک طرف کا) فرمانبردار تھا اور مشرکوں میں سے نہ تھا (ف 1)

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مذہب : (ف 1) مکہ کے مشرک ، مدینے کے یہودی اور جاہل عیسائی یہ سمجھتے تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میں تقریبا ایک ہزار سال کا وقفہ ہے ، پھر کس طرح یہ ممکن ہے کہ انہیں یہودی یا عیسائی کہا جائے ؟ مشرکین سے کہا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پورے موحد تھے ان کا دین شرک کی آلودگیوں سے قطعا پاک تھا ۔ ان کی ساری عمر شرک کے خلاف جہاد کرنے میں گزری پھر یہ کیونکر قرین قیاس ہے کہ انہیں لات وہبل کے پرستاروں میں شامل کیا جائے ۔ بات یہ ہے کہ انبیاء کا مسلک ٹھیٹ اسلام ہوتا ہے ، وہ بجز توحید اور عدل و انصاف کے اور کسی چیز کے وادار نہیں ہوتے ، انہیں ما بعد کے تعصبات میں گھیرنا سوء فہم ہے ، وہ یہودیت ‘ عیسائیت اور اس نوع کے دوسرے تعصبات سے بالا ہوتے ہیں ، وہ اسلام اور صرف اسلام پیش کرنے کے لئے تشریف لاتے ہیں ، ان کے نزدیک خدا کے بتائے ہوئے طریق کے سوا کوئی دوسرا طریق قابل اطاعت نہیں ہوتا ۔
Ayah 3:68

اِنَّ اَوْلَى النَّاسِ بِاِبْرٰهِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ وَ هٰذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:68 in the Quran reader

ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ سب لوگوں سے (ف 2) زیادہ مناسبت ان کو ہے جو انکے تابع تھے اور اس نبی اور مسلمانوں کو ہے اور اللہ دوست ہے مسلمانوں کا ۔

(ف 2) اس آیت میں بتایا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے اختصاص رکھنے والے تم نہیں ہو ، بلکہ وہ لوگ جنہوں نے ان کی اطاعت کی اور یہ نبی ہیں جو انکے مسلک کی تشریح کر رہے ہیں اور تمام مسلمان ہیں جو رہتی دنیا تک تو حیاء کے علمبردار رہیں گے ۔ اللہ کن کو دوست رکھتا ہے ؟ (آیت) ” اللہ ولی المؤمنین “۔ کہہ کر یہ بتایا ہے کہ خدا کی دوست اور محبت صرف مسلمانوں کے حصہ میں آئی ہے ، اس کی رحمتوں انعاموں کے مستحق صرف رب کعبہ کے پرستار ہیں ، مگر اس وقت جب ان کے دل واقعی ماسوی اللہ سے متنفر ہوں اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور ایمان ہو ۔ حل لغات : حنیف : عام روش سے الگ چلنے والا ، لوگوں کے مزعومات کا ساتھ نہ دینے والا ۔
Ayahs 3:69–71

وَدَّتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یُضِلُّوْنَكُمْ١ؕ وَ مَا یُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 3:69 in the Quran reader

اہل کتاب میں سے ایک گروہ چاہتا ہے کہ کسی طرح تمہیں گمراہ کریں اور وہ اپنی ہی جانوں کو گمراہ کرتے ہیں اور نہیں سمجھتے ۔

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ Open ayah 3:70 in the Quran reader

اے اہل کتاب ! تم کیوں خدا کی آیتوں کا انکار کرتے ہو ؟ حالانکہ تم گواہ ہو ۔

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 3:71 in the Quran reader

اے اہل کتاب ! تم کیوں صحیح میں غلط ملاتے ہو اور سچی بات کو چھپاتے ہو ، حالانکہ تم جانتے ہو (ف 1) ۔

اہل کتاب کا تعصب : (ف 1) حضور ﷺ نے جب اسلام کی روشنی سے سارا عالم بقعہ نور سا بنا دیا تو سپرہ چشم یہودی برداشت نہ کرسکے اور حیلوں اور بہانوں سے اس شمع ہدایت کو بجھانے میں ہوگئے آپ ﷺ نے فرمایا تلبیس سے کیوں کام لیتے ہو حق و باطل کو کیوں ملا دیتے ہو اس کہ دونوں میں کوئی تمیز نہ رہے تم جانتے ہوئے اور علم رکھتے ہوئے بھی حق پوشی سے کام لیتے ہو ، کیا یہ نری بدبختی نہیں ؟ بات یہ تھی کہ یہودی ایک طرف تو اسلام کے متعلق غلط باتیں مشہور کرتے اور عوام میں اسے بدنام کرنے کی کوشش کرتے ، دوسری طرف توریت کی ان آیات میں تحریف سے کام لیتے جن میں حضور ﷺ کی بعثت کا تذکرہ ہے ، قرآن حکیم نے ان کی اس دو گونہ تحریف کو کتمان حق سے تعبیر کیا ہے یعنی وہ سچائی محض اس لئے چھپاتے ہیں کہ اسے واشگاف صورت میں بیان کردینے کی صورت میں ان کا وقار جاتا رہتا ہے اور انکی جاگیریں چھن جاتی ہیں ۔
Ayah 3:72

وَ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اٰمِنُوْا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَجْهَ النَّهَارِ وَ اكْفُرُوْۤا اٰخِرَهٗ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَۚۖ Open ayah 3:72 in the Quran reader

اور اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے یوں کہا کہ جو کچھ مسلمانوں پر نازل ہوا ہے اس پر دن چڑھے ایمان لاؤ اور شام کو اس کا انکار کرو ، شاید وہ پھرجائیں (ف 2)

ایک سازش : (ف 2) دین حنیف کی یہ ایک خصوصیت ہے کہ ایک دفعہ جو اسے سمجھ سوچ کر قبول کرلے ، پھر ارتداد اختیار نہیں کرتا اس لئے کہ اس سے زیادہ سادہ صحیح اور معقول مذہب دنیا میں موجود ہی نہیں ، یہ انسانی بیماریوں کی آخری دوا ہے ، وہ جو اسلام سے مطمئن نہیں وہ بجزدہریت کے کسی دوسرے عقیدے پر مطمئن نہیں ہو سکتا اور دنیا کا دوسرا مذہب اسے اپنی طرف نہیں کھینچ سکتا ، یہی وجہ ہے کہ ہرقل نے ابو سفیان سے منجملہ دیگر سوالات کے یہ بھی پوچھا کہ کوئی اسلام کو قبول کرکے مرتد تو نہیں ہوجاتا ؟ ابو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے ، ہرقل کے پاس اسلامی سفیر حضور ﷺ کا مکتوب گرامی لے کر پہنچا تھا جس میں اسے مسلمان ہونے کی دعوت دی گئی تھی ، اس لئے اس نے مناسب سمجھا کہ ابو سفیان سے رسول عربی ﷺ کے حالات پوچھے جائیں ، ابو سفیان نے جوابا کہا کہ نہین ! ہرقل جو نہایت سمجھ دار بادشاہ تھا ‘ بول اٹھا کہ ایمان صادق کی یہی علامت ہے کہ ایک دفعہ دل جب اس کی چاشنی سے لطف اندوز ہوجائے تو پھر کبھی محروم ذوق نہیں رہتا بات یہ ہے کہ فطرت انسانی کے سانچے میں بجز اعتقاد و صحیح کے اور کوئی چیز نہیں ڈھل سکتی اور انسان بالطبع صرف ایک ہی مذہب کے قبول کرنے کے لئے پیدا ہوا ہے ، وہ اس وقت تک بھٹکتا رہتا ہے جب تک فطری مذہب اسے اپنی طرف نہیں کھینچ لیتا اور جہاں وہ اسلام کی طرف آگیا ‘ پھر اس کا اس کی چوکھٹ سے ہٹنا ناممکن ہے ، ۔ یہودی اسلام کی اس جاذبیت سے واقف تھے وہ چاہتے تھے کہ عوام میں اسلام کی طرف سے بددلی اور بد اعتمادی پیدا کی جائے چناچہ عبداللہ بن الصیف ‘ عدی بن زید اور حارث بن عوف ایسے ذلیل لوگ اس سازش پر آمادہ ہوگئے کہ بظاہر اسلام قبول کرلو اور پھر یہ کہہ کر انکار کر دو کہ ہمیں اسلام طمانیت قلب نہیں بخش سکا ، تاکہ عام لوگ جو اسلام کی طرف مائل ہوگئے ہیں ، وہ متنفر ہوجائیں اور یہ کہیں کہ جب ایسے سمجھ دار لوگ مرتد ہوگئے تو ضرور اسلام میں کوئی نقص ہے ، اللہ تعالیٰ نے جو علام الغیوب ہے ‘ اس سازش کا بھانڈہ پھوڑ دیا اور بتا دیا کہ ان لوگوں کے ارادے مخلصانہ نہیں ۔ حل لغات : تلبسون : مادہ لیس ۔ ملانا ، مختلط کرنا ۔
Ayahs 3:73–74

وَ لَا تُؤْمِنُوْۤا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِیْنَكُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ الْهُدٰى هُدَى اللّٰهِ١ۙ اَنْ یُّؤْتٰۤى اَحَدٌ مِّثْلَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ اَوْ یُحَآجُّوْكُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ١ۚ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۚۙ Open ayah 3:73 in the Quran reader

اور بات اسی شخص کی مانو جو تمہارے دین کے تابع ہے تو کہہ ہدایت وہی ہے جو اللہ ہدایت کرے ، اس لئے کہ جو تم کو دیا گیا ہے ‘ وہ کسی کو نہیں دیا گیا یا یہ کہ تمہارے رب کے پاس وہ تم سے جھگڑا کریں تو کہہ فضل خدا کے ہاتھ میں ہے ‘ جسے چاہے ‘ دے ۔ اور خدا گنجائش والا ہے ۔

یَّخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 3:74 in the Quran reader

وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت سے خاص کرتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے (ف 1)

(ف 1) ان آیات میں بتایا ہے کہ یہودیوں کی مخالفت محض اس بنا پر تھی کہ مسلمان کیوں اس نعمت اسلام ہے سے بہرہ اندوز ہیں یعنی بجز تعصب کے نہ روکے ، اور کوئی چیز انہیں اسلام کی صداقتوں کے قبول کرنے سے نہیں روکتی ، وہ نہیں سوچتے کہ یہ خدا کی دین ہے ، جسے محروم رکھے ، اس کی مصلحتوں کو اس کے سوا اور کون جانتا ہے ۔ حل لغات : قنطار : خزانہ ، مال کثیر ۔ سبیل : اصل معنی راہ اور راستے کے ہیں ، یہاں مراد ہے کہ ایسا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ، کوئی طریق اعتراض والزام نہیں ۔
Ayah 3:75

وَ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مَنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِقِنْطَارٍ یُّؤَدِّهٖۤ اِلَیْكَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِدِیْنَارٍ لَّا یُؤَدِّهٖۤ اِلَیْكَ اِلَّا مَا دُمْتَ عَلَیْهِ قَآئِمًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْاُمِّیّٖنَ سَبِیْلٌ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:75 in the Quran reader

اور اہل کتاب میں کوئی تو ایسا ہے کہ اگر تو اس کے پاس مال کا ایک ڈھیر امانت رکھے تو وہ تجھے ادا کر دے اور کوئی ان میں ایسا ہے کہ اگر تو ایک اشرفی بھی اس کے پاس رکھے تو وہ تجھے ادا نہ کرے ، مگر جب تک کہ تو اس کے سر پر کھڑا رہے ، یہ اس لئے ہے کہ انہوں نے کہا ہم پر جاہلوں (یعنی عربوں) کے حق کا گناہ نہیں ہے اور وہ جھوٹ بولتے ہیں حالانکہ وہ جانتے ہیں (ف 1)

بدترین تعصب : (ف 1) اہل کتاب میں یہودی بدترین تعصب کے حامل تھے ان کی ہر وقت یہ کوشش رہتی کہ مسلمانوں کو لوٹا جائے اور ان کے خون سے ہاتھ رنگے جائیں ، مسلمانوں کے باب میں وہ ہر قسم کے عذر اور خداع کو جائز قرار دیتے اور کہتے ، یہ ان پڑھ اور غیر سرمایہ دار لوگ ہر وقت ہماری جوع البقری کا شکار ہو سکتے ہیں اور ان کو دھوکا دینے اور لوٹنے میں مذہبا کوئی مضائقہ نہیں گویا یہ اصول کہ اقوی اضعف کو پامال کرے ‘ بڑا اصول ہے موجودہ یورپ نے اسے یہودیوں سے سیکھا ہے یہی وجہ ہے کہ تمام سفید فام اور باقتدار حکومتیں ضعیف اور ناتوانوں کو اپنا آزوقہ حیات سمجھتی ہیں اور اخلاقا وعرفا انہیں محکم دینے میں کوئی مضائقہ خیال نہیں کرتیں ۔ قرآن حکیم کہتا ہے کہ یہ طرز عمل اللہ تعالیٰ کے قانون انصاف وعدل کے خلاف ہے اور خدائے قدوس پر یہ زبردست الزام ہے اللہ تعالیٰ کسی حالت میں بھی تعصب کو جائز و درست قرار نہیں دیتے ، انصاف وعدل بہرحال قابل لحاظ ہے ۔
Ayahs 3:76–77

بَلٰى مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ وَ اتَّقٰى فَاِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:76 in the Quran reader

(گناہ) کیوں نہیں ، بلکہ جس نے اپنا عہد پورا کیا اور خدا سے ڈراتو خدا (ایسے ہی) پرہیزگاروں سے محبت رکھتا ہے ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ اَیْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ وَ لَا یَنْظُرُ اِلَیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:77 in the Quran reader

جو لوگ خدا کے عہد پر اپنی قسموں پر حقیر قیمت (یعنی مول) خرید کرتے ہیں ‘ ان کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں اور خدا ان سے نہ کلام کرے گا اور نہ قیامت کے دن ان کی طرف دیکھے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا ، اور ان کے لئے دکھ دینے والا عذاب ہے ، (ف 2)

(ف 2) اس آیت میں بتایا ہے کہ حق فروشی چاہے کسی قیمت پر ہو ‘ اس کی حیثیت ثمن قلیل سے زائد نہیں ، سچائی اور صداقت کی محبت بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ اسے مانا جائے اور اس کی تائید کی جائے ، وہ لوگ جو دنیوی مفاد کے لئے آخرت کو پس پشت ڈال دیتے ہیں اور دین مستقیم کی صداقتوں پر کان نہیں دھرتے ان کا عالم جو دانی میں کوئی حصہ نہیں ، جس طرح انہوں نے اللہ کی آواز سنی اور پکارنے والے کی آواز پر توجہ نہ دی ‘ خدا بھی اس دن ان سے کوئی رعایت و محبت کی گفتگو نہیں کرے گا اور انہیں ہر نوع کے مکالمہ شفقت سے محروم رکھے گا ، جس طرح انہوں نے آنکھیں رکھتے ہوئے خدا کے پھیلائے ہوئے دلائل و شواہد کو نہ دیکھا اور اندھے بن گئے ‘ اسی طرح وہ بھی انہیں نظرالتفات سے محروم رکھے گا اور قطعا ان کی طرف دھیان نہیں دے گا ، پھر جس طرح انہوں نے تزکیہ وتطہیر کی طرف کبھی التفات نہیں کیا ، اللہ تعالیٰ بھی مکافات کے طور پر انہیں پاکیزگی کا موقع نہیں دے گا اور وہ اپنے گناہوں کی غلاظتوں میں پھنسے ہوئے عذاب الیم سے دوچار رہیں گے ، حل لغات : ایمان : جمع یمنہ بمعنی قسم ۔ خلاق : حصہ ۔
Ayah 3:78

وَ اِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِیْقًا یَّلْوٗنَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتٰبِ لِتَحْسَبُوْهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مَا هُوَ مِنَ الْكِتٰبِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ مَا هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:78 in the Quran reader

اور ان میں ایک فریق ہے جو کتاب پڑھنے میں اپنی زبان مروڑتے ہیں ، تاکہ تم اس بات کو کتاب میں کی سمجھو ، حالانکہ وہ بات کتاب میں کی نہیں ہے اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے نہیں ہے اور وہ جان بوجھ کر خدا پر جھوٹ بولتے ہیں ۔ (ف 1)

بددیانتی : (ف 1) لی کے معنی میل و انحراف کے ہیں نری براسہ کے معنی سر کو ایک طرف جھکا دینے کے ہیں ، (آیت) ” یلون السنتھم بالکتب “۔ کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ الفاظ کو اس طرح پڑھتے ہیں کہ معانی میں ایک قسم کی تحریف و انحراف پیدا ہوجاتا ہے ۔ یعنی اہل کتاب میں ایک فریق یہودیوں کا ایسا ہے جو اپنی طرف سے کچھ عبارتیں وضع کرلیتا ہے اور اسے تورات کی طرف منسوب کردیتا ہے ، یا وہ تورات کے الفاظ کو اس طرح پڑھتا ہے جس سے معانی میں تبدیلی پیدا ہوجاتی ہے ، بات یہ ہے کہ عبرانی رسم الخط اس قسم کا ہے کہ بعض حروف تھوڑی سی صوتی تبدیلی سے کیا سے کیا ہوجاتے ہیں ، اس لئے محرفین کو موقع ملتا ہے کہ وہ اس کمزوری سے جو رسم الخط سے تعلق رکھتی ہے ‘ اپنی خواہشات کے مطابق ناجائز فائدہ اٹھائیں ۔ قرآن کریم یہودیوں کی اس بددیانتی پر انہیں برملا ٹوکتا ہے اور کہتا ہے کہ اس افترا اور جھوٹ سے باز آؤ اور جانتے بوجھتے اس فعل شنیع کے مرتکب نہ بنو ۔
Ayah 3:79

مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّؤْتِیَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ ثُمَّ یَقُوْلَ لِلنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّیْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰنِیّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَۙ Open ayah 3:79 in the Quran reader

کسی بشر کو یہ لائق نہیں کہ اس کو خدا کتاب اور حکم اور نبوت دے پھر وہ لوگوں سے کہے کہ تم خدا کو چھوڑ کر میرے بندے ہوجاؤ بلکہ (یوں کہے کہ) تم خدا والے ہوجاؤ جیسے کہ تم کتاب کی تعلیم دیتے ہو ، اور جیسے کہ تم پڑھتے ہو ۔ (ف 2)

تحریف وبدیانتی کی روشن ممثال : (ف 2) اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ کوئی نبی جسے کتاب و حکمت کی پر از معارف نعمت سے نوازا گیا ہے ‘ ناممکن ہے کہ اپنی پوجا کرائے اور غیر اللہ کی پرستش کا حکم دے ، اس لئے جو لوگ انبیاء کی طرف اس نوع کی تعلیمات کو منسوب کرتے ہیں ‘ وہ راہ راست پر نہیں اور انہوں نے اپنی تعلیمات کو بدل لیا ہے ، انبیاء (علیہم السلام) تو اس لئے تشریف لاتے ہیں کہ بھٹکے ہوئے اور روٹھے ہوئے لوگوں کو پھر سے خدا کے حضور میں لا کھڑا کریں اور ان کے دلوں میں خدا کی محبت و عقیدت کے بےپناہ جذبات پیدا کردیں ، وہ دنیا میں خدا پرستی کی تعلیم دینے کے لئے آتے ہیں ، بالذات ان کا کوئی اپنی مقصد نہیں ہوتا ، وہ محض وسائل وذرائع سے اللہ تک پہنچتے ہیں ، وہ کبھی حدود بشریت سے تجاوز نہیں کرتے ، اس لئے کہ نبوت معراج انسانیت ہے ، اور علم کی آخری حد یہ ہے کہ خدا کی لامحدود قدرتوں کا بزور اعتراف کیا جائے اور اپنی بےچارگی اور عجز کو زیادہ سے زیادہ محسوس کیا جائے ، انبیاء (علیہم السلام) ” عبودیت “ کے اس بلند مفہوم کو سمجھتے ہیں اس لئے وہ کبھی اس قسم کی غلطی میں نہیں مبتلا ہوتے کہ لوگوں سے اپنی پرستش کرائیں ۔ پس وہ کتابیں جن میں کسی نبی کو خدا کو درجہ دیا گیا ہے ظاہر ہے محرف تھیں اور خدائے ذوالجلال کی طرف سے نہیں تھیں ، اس طریق سے قرآن حکیم نے ثابت کردیا کہ جب تک تثلیث کا عقیدہ بقول عیسائیوں کے موجودہ اناجیل میں موجود ہے ‘ اس وقت تک اسے تحریف سے مبر خیال نہیں کیا جاسکتا ۔ حل لغات : الحکمۃ : حکمت ۔ دانائی ۔ ربانیون : جمع ربانی ، خدا پرست ۔ اللہ والا ۔ تدرسون : مضارع ، مصدر درس پڑھا ۔