23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayahs 23:101–114

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَئِذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 23:101 in the Quran reader

پھر جب صور پھونکا جائے گا تو نہ تو ان میں قرابتیں رہیں گی اور نہ وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے

فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 23:102 in the Quran reader

تو جن کے (عملوں کے) بوجھ بھاری ہوں گے وہ فلاح پانے والے ہیں

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فِیْ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 23:103 in the Quran reader

اور جن کے بوجھ ہلکے ہوں گے وہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے تیئیں خسارے میں ڈالا ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے

تَلْفَحُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ وَ هُمْ فِیْهَا كٰلِحُوْنَ Open ayah 23:104 in the Quran reader

آگ ان کے مونہوں کو جھلس دے گی اور وہ اس میں تیوری چڑھائے ہوں گے

اَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 23:105 in the Quran reader

کیا تم کو میری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں ؟ (نہیں) تم ان کو سنتے تھے (اور) جھٹلاتے تھے

قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَ كُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیْنَ Open ayah 23:106 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ! ہم پر ہماری کم بختی غالب ہوگئی اور راستے سے بھٹک گئے

رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْهَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 23:107 in the Quran reader

اے پروردگار ! ہم کو اس میں سے نکال دے اگر ہم پھر (ایسے کام) کریں تو ظالم ہوں گے

قَالَ اخْسَئُوْا فِیْهَا وَ لَا تُكَلِّمُوْنِ Open ayah 23:108 in the Quran reader

(خدا) فرمائے گا کہ اسی میں ذلت کے ساتھ پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو

اِنَّهٗ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 23:109 in the Quran reader

میرے بندوں میں ایک گروہ تھا جو دعا کیا کرتا تھا کہ اے ہمارے پروردگار ! ہم ایمان لائے تو تو ہم کو بخشدے اور ہم پر رحم کر اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے

فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِیًّا حَتّٰۤى اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِیْ وَ كُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ Open ayah 23:110 in the Quran reader

تو تم ان سے تمسخر کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے پیچھے میری یاد بھی بھول گئے اور تم (ہمیشہ) ان سے ہنسی کیا کرتے تھے

اِنِّیْ جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤا١ۙ اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 23:111 in the Quran reader

آج میں نے ان کو ان کے صبر کا بدلہ دیا کہ وہ کامیاب ہوگئے

قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ Open ayah 23:112 in the Quran reader

(خدا) پوچھے گا کہ تم زمین میں کتنے برس رہے ؟

قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَسْئَلِ الْعَآدِّیْنَ Open ayah 23:113 in the Quran reader

وہ کہیں گے ہم ایک یا ایک روز سے بھی کم رہے تھے شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجئے

قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:114 in the Quran reader

(خدا) فرمائے گا کہ (وہاں) تم (بہت ہی) کم رہے کاش تم جانتے ہوتے

(آیت نمبر (101 اللہ تبارک و تعالٰ قیامت کے روز کی ہولناکیوں اور دل دہلا دینے والے مناظر کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ جب انسانوں کو ان کی قبروں سے اٹھانے کے لیے صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگوں کو ایک مقررہ مقام پر اکٹھا کیا جائے گا تو لوگ اس وقت ہول اور دہشت میں مبتلا ہوں گے وہ اپنے نسبی تعلق تک کو بھول جائیں گے جو کہ سب سے زیادہ طاقتور تعلق ہوتا ہے۔ جب ایسا ہوگا تو نسب کے علاوہ تعلقات تو زیادہ آسانی سے بھول جائیں گے اور نفسا نفسی کے اس عالم میں کوئی کسی کا حال نہیں پوچھے گا۔ کسی کو علم نہیں ہوگا کہ آیا اسے نجات مل جائے گی یا نہیں ‘ ایسی نجات کہ اس کے بعد بدبختی قریب نہیں بھٹکے گی ؟ یا وہ ایسی بدبختی سے دو چار ہوگا کہ اس کے بعد کبھی خوش بختی سے بہرہ مند نہیں ہوگا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (یود المجرم لو یفتدی من عذاب یومذ ببنیہ۔ وصاحبتہ واخیہ۔ و فصیلتہ التی تو یہ۔ ومن فی الارض جیعا ثم ینجیہ) (المعارج : (14-11/80” اس دن مجرم چاہے گا کہ اس دن کے عذاب کے بدلے میں سب کچھ دے دے یعنی اپنے بیٹوں ‘ بیوی ‘ بھائی اور اپنے خاندان کو جو اسے پناہ دیتا تھا اور زمین کی ہر چیز فدیہ میں دے کر عذاب سے نجات حاصل کرلے۔ “ اور جیسا کہ ارشاد ہے۔ (فاذا جاءت الصالخۃ۔ یوم یفر المرء من اخیہ۔ و امہ وابیہ۔ و صاحبتہ و بنیہ۔ لکل امریء منھم یو مئذ شان یغنیہ) (عبس : (37-33/80” جب قیامت برپا ہوگی تو اس دن آدمی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا ‘ اپنی ماں اور باپ سے ‘ بیوی اور بیٹوں سے دور بھاگے گا۔ اس روز ہر شخص اپنی ہی فکر میں مبتلا ہوگا جو اسے دوسروں سے بےپروا کر دے گی۔ “ قیامت کے روز بعض مقامت ایسے ہوں گے جو شدید کرب ناک اور سخت تکلیف دہ ہوں گے جیسے میزان عدل کا مقام ‘ جہاں بندے کے اعمال کا وزن کیا جائے گا اور نہایت عدل و انصاف سے دیکھا جائے گا کہ اس کے نیک اور بد اعمال کیا ہیں اور اس وقت نیکی اور بدی کا ذرہ بھر وزن بھی ظاہر ہوجائے گا۔ (فمن ثقلت موازینہ) پس جس کی نیکیوں کا پلڑا برائیوں کے پلڑے سے جھک جائے گا (فاولئک ھم المفلحون ) ” تو یہی لوگ کامیاب ہیں۔ “ یعنی یہی لوگ جہنم سے نجات حاصل کریں گے اور جنت کے استحقاق سے بہرہ ور ہوں گے اور ثنائے جمیل سے سرفراز ہوں گے۔ (ومن خفت موازینہ) اور جس کی برائیوں کا پلڑا نیکیوں کے پلڑے سے بھاری ہوگا اور اس کے پلڑے پر برائیاں چھا جا ہیں گی۔ (فاولئک الذین خسرو انفسھم) ” پس یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا۔ “ اس خسارے کی نسبت دنیا کا بڑے سے بڑا خسارہ بھی بہت معمولی ہے۔ یہ بہت بڑا اور ناقابل برداشت خسارہ ہے جس کی تلافی ممکن ہی نہیں۔ نہیں یہ ابدی خسارہ اور دائمی بدبختی ہے اس نے اپنے شرف کے حامل نفس کو خسارے میں مبتلا کردیا جس کے ذریعے سے وہ ابدی سعادت حاصل کرسکتا تھا۔ پس تھا پس اس نے اپنے رب کریم کے پاس ابدی نعمتوں کو ہاتھ سے گنوا دیا۔ (فی جھنم خالدون) ” وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ “ وہ ابدالآ باد تک اس سے نہیں نکلیں گے۔ یہ وعید ‘ جیسا کہ ہم گزشتہ سطور میں ذکر کرچکے ہیں ‘ اس شخص کے لیے ہے جس کی برائیاں اس کی نیکیوں پر چھا گئی ہوں گی اور ایسا شخص کافر ہی ہوسکتا ہے۔ اس طرح اس کا حساب اس شخص کے حساب کی مانند نہیں ہوگا جس کی نیکیوں اور برائیوں دونوں کا وزن ہوگا کیونکہ کفار کے پاس تو کوئی نیکی ہی نہیں ہوگی۔ البتہ ان کی بداعمالیوں کو اکٹھا کر کے شمار کیا جائے گا۔ وہ ان بداعمالیوں کا مشاہدہ اور ان کا اقرار کریں گے اور رسوائی اٹھائیں گے۔ رہا وہ شخص جو بنیادی طور پر مومن ہے مگر اس کی برائیوں کا پلڑا نیکیوں کے پلڑے کے مقابلے میں جھکا ہوا ہوا ہوگا۔۔۔۔۔ تو وہ اگرچہ جہنم میں داخل ہوگا مگر وہ اس میں ہمیشہ نہیں رہے گا جیسا کہ کتاب و سنت کی نصوص اس پر دلالت کرتی ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کافروں کے برے انجام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا (تلفح وجوھھم النار ) ” جھلسائے گی ان کے چہروں کو آگ۔ “ یعنی آگ انہیں ہر جانب سے ڈھانپ لے گی حتٰی کہ ان کے تمام قابل شرف و احترام اعضاء کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی آگ کے شعلے ان کے چہروں سے ٹکڑے ہو ہو کر گریں گے۔ (و ھم فیھا کلحون) ” اور وہ اس میں بدشکل ہوں گے۔ “ شدت عذاب کی وجہ سے ان کے چہرے بگڑ جائیں گے اور ان کے ہونٹ اوپر کی طرف سکڑ جائیں گے۔ زجرو توبیخ اور ملامت کے طور پر ان سے کہا جائے گا : ( الم تکن ایتی تتلی علیکم ) ” کیا میری آیتوں کی تم پر تلاوت نہیں کی جاتی تھی ؟ “ ان آیات کے ذریعے سے تمہیں دعوت دی گئی کہ تم ایمان لے آؤ اور آیات تماہرے سامنے پیش کی گئیں تاکہ تم غور کرو (فکنتم بھا تکذبون) پس تم ظلم اور عناد کی وجہ سے ان آیات کو جھٹلاتے تھے حالانکہ یہ واضح آیات تھیں جو حق اور باطل پر دلالت کرتی تھیں اور اہل حق اور اہل باطل کو کھول کھول کر بیان کرتی تھیں۔ یہ اس وقت اپنے ظلم کا اقرار کریں گے جب اقرار کوئی فائدہ نہ دے گا۔ ( قالو ربنا غلبت غلینا شقوتنا) کہیں گے ہم پر ہماری بدبختی غالب آگئی جس نے ظلم ‘ حق سے روگردانی ‘ ضرررساں امور کو اختیار کرنے اور فائدہ مند امور کو ترک کرنے سے جنم لیا۔ (وکنا قوما ضالین ” اور ہم گمراہ لوگ تھے۔ “ یعنی اپنے عمل میں گمراہ تھے۔ اگرچہ وہ جانتے تھے کہ وہ ظالم ہیں ‘ یعنی ہم نے دنیا میں اس طرح کام کئے جس طرح گمراہ ‘ بیوقوف اور حیران و سرگرداں لوگ کام کرتے ہیں۔ جس طرح ایک اور آیت میں ان کا قول نقل ہوا ہے۔ (وقالو لو کنا نسمع او نعقل ما کنا فی اصحب السعیر) (الملک (10/67” اور کہیں گے اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے تو جہنمیوں میں سے نہ ہوتے۔ “ (ربنا اخرجنا منھا فان عدنا فا نا ظالمون ) ” اے ہمارے رب ! ہمیں اس سے نکال لے ‘ پھر اگر ہم یہی کام کریں تو یقینًا ظالم ہوں گے۔ “ وہ اپنے اس وعدے میں بھی جھوٹے ہیں کیونکہ تب بھی ان کا حال وہی ہوگا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (ولو ردوا لعادوا لما نھوا عنہ) (الانعام : (28/6” اور اگر ان کو دنیا میں لوٹا دیا جائے تو دوبارہ وہی کام کریں گے جن سے ان کو منع کیا گیا ہے۔ “ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کوئی حجت باقی نہیں رکھی بلکہ ان کے تمام عذر منقطع کردیے اور دنیا میں ان کو اس نے اتنی عمریں دیں کہ اس میں نصیحت پکڑنے والے نصیحت پکڑ لیتے ہیں اور مجرم جرم سے باز آجاتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمائے گا : (اخسؤ ا فیھا ولا تکلمون) ” پھٹکارے ہوئے اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔ “ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ کلام۔۔۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔۔۔۔ علی الاطلاق بہت بڑا قول ہے جو مجرموں کو ناکامی ‘ زجرو توبیخ ‘ ذلت ‘ حسارے ہر بھلائی سے مایوسی اور ہر شر کی بشارت کے طور پر سننے کو ملے گا۔ یہ کلام اور رب رحیم کا غیظ و غضب جہنم کے عذاب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کا وہ حال بیان کیا ہے جس نے ان کو عذاب تک پہنچایا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم کیا ‘ چناچہ فرمایا : (انہ کان فریق من عبادی یقولون ربنا امنا فاغفرلنا وارحمنا وانت خیر الرحمین ) ” میرے بندوں میں سے کچھ لوگ تھے جو کہتے تھے ‘ اے ہمارے رب ! ہم ایمان لائے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما ‘ اور تو سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے۔ “ پس انہوں نے ایمان کو ‘ جو اعمال صالحہ کا تقاضا کرتا ہے ‘ اپنے رب سے مغفرت اور رحمت کی دعا کو اس کی ربوبیت کے توسل کو ایمان عنایت کرنے میں اس کی نوازش کو ‘ اس کی بےپایاں رحمت کو اور احسان کو جمع کردیا۔ یہ آیت کریمہ ضمنًا اہل ایمان کے خشوع و خضوع ‘ اپنے رب کے حضور ان کی فروتنی ‘ ان کے خوف الہٰی اور اللہ تعالیٰ سے پر امیدی پر دلالت کرتی ہے۔ پس یہ لوگوں کے سردار اور اصحاب فضیلت ہیں (فاتخذ تموھم) ” لیکن تم نے ان کو بنا لیا۔ “ اے حقیر اور ناقص العقل کافرو ! (سخریا) ” مذاق (کاموضوع) “ یعنی تم ان کے ساتھ استہزاء کرتے تھے اور ان کے ساتھ حقارت سے پیش آتے تھے حتیٰ کہ تم انہیں بیوقوف سمجھتے تھے (حتی انسو کم ذکری وکنتم منھم تضحکون) ” یہاں تک کہ ( اس شغل نے) تمہیں میری یاد ہی بھلا دی اور تم ان سے مذاق کرتے رہے۔ “ اہل ایمان کے ساتھ استہزاء میں ان کی مشغولیت ان کے لیے ذکر کو بھلا دینے کی موجب ہوئی ‘ جیسے ذکر کو فراموش کردینا ان کو تمسخرو استہزاء پر آمادہ کرتا رہا۔ پس دونوں امور ایک دوسرے کے لیے معاون بنے رہے۔ کیا اس جرات سے بڑھ کر کوئی جرات ہے ؟ (انی جزیتھم الیوم بما صبرو) میں نے آج ان کو اپنی اطاعت کرنے اور تمہاری اذیتوں کو برداشت کرنے کا بدلہ دیا ہے ‘ حتیٰ کہ وہ مجھ تک پہنچ گئے۔ (انھم ھم الفائزون) ” بیشک وہی لوگ کامیاب ہیں۔ “ یعنی دائمی نعمتیں اور جہنم سے چھٹکارا پاکر کامیاب ہوئے ‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ ایک اور آیت کریمہ میں فرماتا ہے : (فالیوم الذین امنو من الکفار یضحکون) (المطففین (34/83;” آج وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں کافروں پر ہنسیں گے۔ “ (قل) اللہ تعالیٰ ملامت کے اسلوب میں ان سے کہے گا۔ یہ اسلوب اس لیے بھی ہوگا کیونکہ وہ بیوقوف تھے انہوں نے اس تھوڑی سی مدت میں ہر برائی کا ارتکاب کیا جو اس کے غضب اور عقاب کا باعث بنتی ہے۔ انہوں نے ان نیکیوں کا کتساب نہ کیا جن کا اکتساب اہل ایمان نے کیا تھا جو ان کے لیے دائمی سعادت اور ان کے رب کی رضا کی باعث بنیں۔ (کم لبثتم فی الارض عدد سنین۔ قالو البثنا یوما او بعض یوم ) ” تم زمین میں کتنے برس رہے ‘ وہ کہیں گے ایک دن یا دن کا کچھ حصہ۔ “ ان کا یہ کلام ‘ ان کے دنیا میں رہنے اس سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں بہت ہی کم اندازے پر مبنی ہے مگر یہ اس کی مقدار کو کوئی فائدہ دیتی ہے نہ اس کی تعین کرتی ہے اس لیے وہ کہیں گے۔ (فس 4 ل العادین) یعنی اس کی تعداد کا حساب کتاب رکھنے والوں سے پوچھ لیجیے۔ وہ خود تو اب ایک شغل اور اس کے عدد کی معرفت سے غافل کردینے والے عذاب میں مبتلا ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا : (ان لبثتم الا قلیلا) ” نہیں ٹھہرے تم مگر بہت کم۔ “ خواہ تم اس کی تعداد کا تعین کرو یا نہ کرو تمہارے لیے برابر ہے۔ (لو انکم کنتم تعلمون ) ” کاش تمہیں علم ہوتا۔
Ayahs 23:115–116

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 23:115 in the Quran reader

کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم نے تم کو بےفائدہ پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آؤ گے

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیْمِ Open ayah 23:116 in the Quran reader

تو خدا جو سچا بادشاہ ہے (اس کی) شان اس سے اونچی ہے اسکے سوا کوئی معبود نہیں وہی عرش بزرگ کا مالک ہے

(آیت نمبر (115) (افحسبتم) یعنی اے مخلوق !” کیا تم نے یہ سمجھ لیا ہے “ کہ (انما خلقنکم عبثا) ” بلاشبہ ہم نے تمہیں بےفائدہ اور باطل پیدا کیا ہے “ کہ تم کھاؤ ‘ پیو ‘ زمین پر اکڑ کر چلو اور دنیا کی لزتوں سے متمتع ہوتے رہو اور ہم تمہیں یوں نہیں چھوڑ دیں گے۔ ہم تمہیں کسی چیز کا حکم دیں گے نہ تمہیں منع کریں گے ‘ تمہیں ثواب عطا کریں گے نہ تمہیں عذاب دیں گے ؟ اس لیے فرمایا : (وانکم الینا لترجعون ) ” اور یہ کہ تم ہماری طرف نہیں لوٹائے جاؤ گے ؟ “ یہ بات تمہارے دل ہی میں نہ آئے۔ (فتعلی اللہ) یعنی اس گمان باطل سے اللہ بہت بڑا اور بلند تر ہے جو اس کی حکمت میں قادح ہے۔ (الملک الحق لا الہ الا ھو رب العرش الکریم) ” وہ حقیقی بادشاہ ہے ‘ اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی عرش کریم کا رب ہے۔ “ اس کا تمام مخلوق کا مالک ہونا حق ہے وہ اپنے صدق ‘ اپنے وعدہ اور وعید میں حق ہے ‘ وہ محبوب اور معبود ہے کیونکہ وہ ہر کمال کا مالک ہے۔ (رب العرش الکریم ) ” وہ عرش کریم کا رب ہے۔ “ پھر اس سے کم تر مخلوق کا تو بدرجہ اولیٰ رب ہے۔ یہ چیز مانع ہے اس سے کہ وہ تمہیں عبث پیدا کرے۔
Ayahs 23:117–118

وَ مَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۙ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ١ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 23:117 in the Quran reader

اور جو شخص خدا کے ساتھ اور معبود کو پکارتا ہے جس کی اس کے پاس کچھ سند نہیں تو اس کا حساب خدا ہی کے ہاں ہوگا کچھ شک نہیں کہ کافر رستگاری نہیں پائیں گے

وَ قُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 23:118 in the Quran reader

کہ میرے پروردگار مجھے بخش دے اور (مجھ پر) رحم کر اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے

(آیت نمبر (117 یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ساتھ غیر اللہ کو پکارتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی دلیل اور برہان نہیں جو اس کے اس مذہب کی صحت پر دلات کرتی ہو۔ یہ ایک الزامی قید ہے ورنہ حقیقت یہ کہ جو کوئی غیر اللہ کو پکارتا ہے اس کے پاس کوئی دلیل ہوتی ہی نہیں بلکہ تمام دلائل وبراہین اس کے مذہب کے بطلان پر دلالت کرتے ہیں ‘ مگر اس نے ظلم اور عناد کی بناء پر ان سے روگردانی کی۔ پس یہ شخص جب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوگا تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے برے اعمال کا بدلہ دے گا اسے فلاح میں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا ‘ کیونکہ وہ کافر ہے۔ (انہ لا جفلع الکفرون ) ” بلاشبہ ‘ کافر فلاح نہیں پاتے۔ “ پس ان کے کفر نے ان کو فلاح سے محروم کردیا۔ (وقل) دین کو اپنے رب کے لیے خالص کر کے اسے پکارتے ہوئے کہ دیجیے ! (رب اغفر وارحم) اے میرے رب ! ہمیں بخش دے یہاں تک کہ ہمیں نا پسدیدہ چیزوں سے بچا اور ہم پر رحم فرما تاکہ تو ہمیں اپنی بےپایاں رحمت کے ساتھ ہر بھلائی کی منزل تک پہنچا دے۔ ( وانت خیر الرحمین) ” اور تو سب رحم کرنے والوں میں سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے۔ “ پس اللہ تعالیٰ بندے پر رحم کرنے والی ہر ہستی سے زیادہ رحیم ہے ماں اپنی اولاد کے لیے جس قدر رحیم و شفیق ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ بلکہ انسان اپنے آپ پر جس قدر رحم کرسکتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے بھی زیادہ رحیم ہے۔