23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayahs 23:68–72

اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَآءَهُمْ مَّا لَمْ یَاْتِ اٰبَآءَهُمُ الْاَوَّلِیْنَ٘ Open ayah 23:68 in the Quran reader

کیا انہوں نے اس کلام میں غور نہیں کیا ؟ یا ان کے پاس کچھ ایسی چیز آئی ہے جو ان کے اگلے باپ دادا کے پاس نہیں آئی تھی

اَمْ لَمْ یَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ فَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ٘ Open ayah 23:69 in the Quran reader

یا یہ اپنے پیغمبر کو جانتے پہچانتے نہیں اس وجہ سے ان کو نہیں مانتے

اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلْ جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ وَ اَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ Open ayah 23:70 in the Quran reader

کیا یہ کہتے ہیں کہ اسے سودا ہے (نہیں) بلکہ وہ ان کے پاس حق کو لے کر آئے ہیں اور ان میں سے اکثر حق کو ناپسند کرتے ہیں

وَ لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَهْوَآءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَؕ Open ayah 23:71 in the Quran reader

اور اگر (خدائے) برحق ان کی خواہشوں پر چلے تو آسمان اور زمین اور جو ان میں ہیں سب درہم برہم ہوجائیں بلکہ ہم نے ان کے پاس ان کی نصیحت (کی کتاب) پہنچا دی ہے اور اپنی (کتاب) نصیحت سے منہ پھیر رہے ہیں

اَمْ تَسْئَلُهُمْ خَرْجًا فَخَرَاجُ رَبِّكَ خَیْرٌ١ۖۗ وَّ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 23:72 in the Quran reader

کیا تم ان سے (تبلیغ کے صلے میں) کچھ مال مانگتے ہو ؟ تو تمہارے پروردگار کا مال بہت اچھا ہے اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے

(آیت 68) ” کیا انہوں نے قرآن میں غورو فکر اور تدبر نہیں کیا ؟ “ اگر انہوں نے قرآن میں تدبر کیا ہوتا تو وہ ان کے ایمان کا موجب اور ان کو کفر منع کرنے کا باعث بنتا ‘ مگر ان پر جو مصیبت نازل ہوئی ہے اس کا سبب ان کا قرآن سے اعراض ہے اور یہ آیت اس امر کی دلیل ہے کہ قران میں تدبر و تفکر ہر بھالئی کی طرف دعوت دیتا ہے اور ہر برائی سے بچاتا ہے اور جس چیز نے ان کو قرآن میں غورو فکر کرنے سے روک رکھا ہے وہ یہ ہے کہ ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں۔ (ام جاہ ھم ما لم یات اباہ ھم الاولین) یعنی یا اس بات نے ان کو ایمان لانے سے روک رکھا ہے کہ ان کے پاس رسول آیا اور ایک ایسی کتاب ان کے پاس آئی جو ان کے اباء و اجداد کے پاس نہیں آئی تھی لہذا یہ اپنے گمارہ آباء و اجداد کی راہ پر چلنے پر راضی ہوگئے۔ جو چیز اس راہ کے خلاف تھی انہوں نے اس کی مخالفت کی لہذا انہوں نے اور ان جیسے دوسرے کفار نے یہی کہا تھا جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے۔ (وکذلک ما ارسلنا من قبلک فی قریۃ من نذیر الا قال مترفوھا انا وجد نا اباء نا علی امۃ و انا علی اثرھم مقتدون) (الزخرف : (23/43” اسی طرح آپ سے پہلے جس بستی میں بھی ہم نے کوئی ڈرانے والا بھیجا تو اس کے خوشحال لوگوں نے کہا ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک طریقے پر پایا ہے ہم تو انہیں کی پیروی کر رہے ہیں۔ “ اور ان کے جواب میں ہر رسول نے فرمایا : (اولو جئتکم باھدی مما وجد ثم علیہ اباء کم) (الزخرف : (44/43” کیا تم اسی طریقے پر چلتے چلے جاؤ گے خواہ میں تمہیں اس راستے سے بہتر راستہ بتاؤں جس پر تم نے آباء و اجداد کو پیا ہے “ اگر تمہارا مقصد حق جوئی ہے تو کیا تم اس کی پیروی کرو گے ؟ اور انہوں نے اپنی نیتوں کے مطابق جواب دیا : انا بما ارسلتم بہ کفرون (الزخرف 24/43:” بلاشبہ تمہیں جس چیز کے ساتھ بھیجا گیا ہے ہم اس کا انکار کرتے ہیں۔ “ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (ام لم یعرفوا رسولھم فھم لہ منکرون ) ” یا کیا انہوں نے اپنے رسول کو نہیں پہچانا کہ وہ اس کا انکار کر رہے ہیں۔ “ یعنی کیا اس چیز نے انہیں اتباع حق سے روک رکھا ہے کہ ان کے رسسول محمد مصطفیٰ ﷺ ان کے ہاں غیر معروف ہیں اور وہ آپ ﷺ کو نہیں پہچانتے ‘ اس لیے ان کو ماننے سے انکار کار رہے ہیں ؟ اور وہ کہتے ہیں کہ ہم اس کو نہیں جانتے نہ اس کی صداقت کے بارے میں ہمیں کچھ علم ہے۔ ہمیں چھوڑ دو ہم اس کے احوال کے بارے میں غور کریں اس کے متعلق لوگوں سے معلومات حاصل کریں۔ نہیں ! ایسی بات نہیں ہے بلکہ وہ رسول اللہ ﷺ کو اچھی طرح جانتے ہیں ‘ اس لیے ان کو ماننے سے انکار کر رہے ہیں ؟ اور وہ کہتے ہیں کہ ہم اس کو نہیں جانتے نہ اس کی صداقت کے بارے میں ہمیں کچھ علم ہے۔ ہمیں چھوڑ دو ہم اس کے احوال کے بارے میں غور کریں اس کے متعلق لوگوں سے معلومات حاصل کریں۔ نہیں ! ایسی بات نہیں ہے بلکہ وہ رسول اللہ ! ﷺ کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ آپ کو ان کا چھوٹا اور بڑا ہر شخص جانتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ آپ اخلاق جمیلہ کے حامل ہیں وہ آپ کے صدق و امانت کو خوب پہچانتے ہیں حتیٰ کہ وہ آپ کو بعثت سے قبل ” الامین “ کے نام سے پکارا کرتے تھے۔ جب آپ ان کے پاس حق عظیم اور صدق مبین لے کر آئے تب انہوں نے آپ کی تصدیق کیوں نہ کی ؟ (ام یقولون بہ جنۃ ) ” یا وہ کہتے ہیں کہ اسے جنون لاحق ہے “ اس لیے وہ ایسی باتیں کر رہا ہے اور مجنون کی باتوں پر کان دھرا جاتا ہے نہ اس کی باتوں کا اتبار ہی کیا جاتا ہے کیونکہ وہ باطل اور احمقانہ باتیں منہ سے نکالتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی بات کا جواب دیتے ہوئے فرمایا : ( بل جاء ھم بالحق) بلکہ حقیقت یہ ہے کہ رسول ﷺ ان کے پاس حق ( امر ثابت) لے کر آئے ہیں جو سراسر صدق و عدل پر مبنی ہے جس میں کوئی اختلاف ہے نہ تناقض۔ تب وہ شخص جو یہ چیز لے کر آیا ہو وہ کیسے پاگل ہے ؟۔۔۔۔ بلکہ وہ تو علم و قعل اور مکارم اخلاق کے اعتبار سے درجہ کمال پر فائز ہے۔ اس میں گزشتہ مضمون سے انتقال ہے یعنی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کو ایمان لانے سے صرف اس چیز نے منع کیا ہے کہ آپ ﷺ ( بل جاء ھم بالحق واکثرھم للحق کرھون) ” ان کے پاس حق لے کر آئے ہیں لیکن ان کی اکثریت حق کو ناپسند کرنے والی ہے۔ “ اور سب سے بڑا حق جو آپ ﷺ ان کے پاس لے کر آئے ہیں ‘ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص اور غیر اللہ کی عبادت کو ترک کرنا ہے اور ان کا اس بات کو ناپسند کرنا اور اس سے تعجب کرنا معلوم ہے۔ پس رسول ﷺ کا حق لے کر آنا اور ان کا حق کو ناپسند کرنا دراصل حق کی تکذیب کرنا ہے۔ یہ کسی شک کی بنا پر ہے نہ رسول ﷺ کی تکذیب کی وجہ سے ‘ بلکہ یہ انکار حق ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (فانھم لا یکذبونک ولکن الظلمین بایت اللہ یجحدون) (الانعام :33/2” یہ آپ ﷺ کو نہیں جھٹلا رہے ‘ بلکہ ظالم اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کر رہے ہیں۔ “ اگر یہ کہا جائے کہ حق ان کی خواہشات نفس کے موفق کیوں نہیں تاکہ وہ ایمان لے آتے اور جلدی سے حق کی اطاعت کرتے تو اللہ تعالیٰ نے اس کا یوں جواب عطا فرمایا : (ولو اتبع الحق اھواء ھم لفسدت السموت والارض ) ” اگر حق ( دین ہی ان کی خواہشتات کی پیروی کرنے لگ جائے تو ‘ تو آسمانوں اور زمین کا سارا نظام ہی درہم برہم ہوجائے۔ “ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی خواہشات نفس ‘ ظلم ‘ کفر اور فساد پر مبنی اخلاق و اعمال سے متعلق ہوتی ہیں۔ پس اگر حق ان کی خواہشات کی پیروی کرنے لگے تو آسمان و زمین ظلم اور عدل عدم عدل کی بنا پر درست ہیں۔ (بل اتینھم بذکر ھم ) ” یعنی ہم ان کے پاس یہ قرآن لے کر آئے جو ان کو ہر قسم کی بھلائی کی نصیحت کرتا ہے۔ یہ ان کا فخرو شرف ہے۔ اگر وہ اس کو قائم کریں گے تو لوگوں کی سیادت کریں گے۔ (فھم عن ذکرھم معرضون ) ” وہ اپنے ذکر ( نصیحت) سے روگردانی کر رہے ہیں “ اپنی بدبختی اور عدم توفیق کی وجہ سے (نسوا اللہ فنسیھم) (التوبۃ (67/9” انہوں نے اللہ کو بھلا دیا اور اللہ نے ان کو اپنے تئیں بھلوا دیا “ پس قرآن عظیم اور اس کو لانے والی ہستی سب سے بڑی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کی ہے مگر انہوں نے اس عظیم نعمت کو ٹھکرا دیا اور اس سے روگردانی کی کیا اس ایمان سے محرومی کے بعد اس سے بڑی کوئی حرماں نصیبی ہے ؟ اور کیا اس کے پیچھے انتہائی درجے کا خسارہ نہیں ؟ (آیت (72) (ام تسئلھم خرجا) اے محمد ! ﷺ کیا ان کو آپ کی اتباع سے اس چیز نے روکا ہے کہ آپ ان سے اس کام پر کوئی اجرت طلب کرتے ہیں ؟ (فھم من مغرم مثقلون) (الطور (40/52:” کہ ان پر تاوان کا بوجھ پڑ رہا ہے “ اور اس طرح آپ کی اطاعت سے ان کو تکلیف پہنچتی ہے کیونکہ آپ ﷺ ان سے اجرت اور خراج طلب کرتے ہیں ؟ معاملہ یوں نہیں بلکہ (فخراج ربک خیر و ھو خیر الرزقین ) ” آپ کے رب کی اجرت بہت بہتر ہے اور وہ بہترین روزی رساں ہے۔ “ یہ اسی طرح کا قول ہے جس طرح انبیاء کرام (علیہ السلام) نے اپنی اپی قوم سے فرمایا : (یقوم لا اس 4 لکم علیہ اجر) (ھود (51/11:” اے میری قوم میں اس پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا “ (ان اجری اللا علی اللہ ہے) (ھود (51/11:” اے میری قوم میں اس پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا “ (ان اجری الا علی اللہ) (ھود (29/11: ” اے میری قوم میں اس پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا “ (ان اجری الا علی اللہ) (ھود (29/11: ” میرا صلہ تو اللہ کے پاس ہے۔ “ یعنی انبیائے کرام (علیہ السلام) کی طرف سے لوگوں کو دعوت دینے میں یہ لالچ نہیں ہوتا کہ انہیں لوگوں کی طرف سے مال و دولت حاصل ہوگا۔ وہ تو صرف خیر خواہی اور ان کے اپنے فائدے کی خاطر ان کو دعوت دیتے ہیں بلکہ انبیاء ومرسلین مخلوق کے لیے ‘ خود ان سے بھی زیادہ خیر خواہ ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو ان کی امتوں کی طرف سے جزائے خیر عطا کرے اور تمام احوال میں ہمیں بھی ان کی اقتداء سے بہرہ مند کرے۔
Ayahs 23:73–74

وَ اِنَّكَ لَتَدْعُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 23:73 in the Quran reader

اور تم تو ان کو سیدھے راستے کی طرف بلاتے ہو

وَ اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰكِبُوْنَ Open ayah 23:74 in the Quran reader

اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ راستے سے الگ ہو رہے ہیں

آیت نمبر (73 اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں ان تمام اسباب کا ذکر کیا ہے جو ایمان کے موجب ہیں اسی طرح تمام موانع ایمان کا ذکر کیا ہے اور فردً فرداً ان کے فساد کو واضح کیا ہے۔ پس موانع ایمان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ منکرین حق کے دل غفلت اور جہالت میں ڈوبے ہوئے ہیں ‘ انہوں نے قرآن میں غورو فکر نہیں کیا ‘ وہ اپنے آباء و اجداد کی تقلید پر جمے ہوئے ہیں اور اپنے رسول ﷺ کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اہنیں جنون لاحق ہے جیسا کہ گزشتہ صفحات میں اس کا ذکر ہوچکا ہے۔۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان امور کا بھی ذکر کیا ‘ جو موجب ایمان ہیں اور وہ ہیں قرآن میں تدبر کرنا ‘ اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو قبول کرنا ‘ رسول مصطفیٰ ﷺ کے احوال اور آپ کے کمال صدق و امانت کی معرفت حاصل کرنا ‘ نیز یہ کہ آپ ان سے کسی قسم کے اجرو صلہ کے طلب گار نہیں آپ کی کوشش تو صرف لوگوں کے فائدے اور مصالح کے لیے ہے اور جس راستے کی طرف آپ لوگوں کو دعوت دیتے ہیں وہ سیدھا راستہ ہے۔ سیدھا ہونے کی بنا پر تمام لوگوں کے لیے نہایت آسان اور منزل مقصود تک پہنچانے کے لیے قریب ترین راستہ ہے۔ نرمی اور آسانی پر مبنی دین حنیف ہے ‘ یعنی توحید میں حنیفیت اور اعمال میں آسانی۔ پس آپ کا ان کو صراط مستقیم کی طرف دعوت دینا اس شخص کے لیے جو حق کا ارادہ رکھتا ہے ‘ اس بات کا موجب ہے کہ وہ آپ کی اتباع کرے کیونکہ یہ ایسا راستہ ہے جس کے اچھا اور انسانی مصالح کے موفق ہونے کی شہادت عقل صحیح اور فطرت سلیم بھی دیتی ہے۔۔۔۔ اگر وہ آپ ﷺ کی اتباع نہیں کرتے تو کہاں جائیں گے کیونکہ ان کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس کو اختیار کر کے آپ کی اتباع سے مستغنی ہوجائیں کیونکہ (عن الصراط لنکبون) وہ صراط مستقیم سے ‘ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے ‘ انحراف کرنے والے ہیں ان کے پاس ضلالت و جہالت کے سوا کچھ نہیں۔ یہی معاملہ ہر اس شخص کا ہے جو حق کی مخالفت کرتا ہے وہ لازمی طور پر تمام معاملات میں راہ راست سے منحرف ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (فان لم یستجیبوا لک فاعلم انما یتبعون اھواء ھم ومن اضلا ممن اتبع ھوہ بغیر ھدی من اللہ) (القصص : (50/28” اور اب اگر وہ آپ کی بات نہیں مانتے۔ تو سمجھ لیجیے کہ وہ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے ہیں اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوسکتا ہے جو اللہ کی طرف سے کسی ہدایت کے بغیر اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرے۔
Ayahs 23:75–77

وَ لَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَ كَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّلَجُّوْا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 23:75 in the Quran reader

اور اگر ہم ان پر رحم کریں اور جو تکلیفیں ان کو پہنچ رہی ہیں وہ دور کردیں تو اپنی سرکشی پر اڑے رہیں (اور) بھٹکتے (پھریں )

وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ مَا یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 23:76 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو عذاب میں بھی پکڑا تو بھی انہوں نے خدا کے آگے عاجزی نہ کی اور وہ عاجزی کرتے نہیں ہیں

حَتّٰۤى اِذَا فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِیْدٍ اِذَا هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَ۠ Open ayah 23:77 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہم نے ان پر عذاب شدید کا دروازہ کھول دیا تو اس وقت وہاں ناامید ہوگئے

“ آیت نمبر (75 یہ ان کے شدید تمرد کا بیان ہے کہ جب ان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ سے اس کو دور کرنے کی دعا مانگتے ہیں تاکہ وہ ایمان لے آئیں یا اللہ تعالیٰ ان کو آزمائش میں مبتلا کرتا ہے ‘ تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں اور اللہ تعالیٰ جب ان کی تکلیف دور کردیتا ہے تو پھر سرکشی اختیار کرلیتے ہیں اور ہمیشہ اپنی سرکشی میں سرگرداں اور اپنے کفر میں متردد اور حیرت زدہ رہتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے کشتی میں سوار ہونے کے وقت ان کا حال بیان کیا ہے کہ اس وقت وہ دین کو اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے پکارتے ہیں اور ان ہستیوں کو بھول جاتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے اور جب اللہ تعالیٰ ان کو اس صورت سے نجات دیتا ہے تو پھر زمین میں شرک کرتے ہوئے بغاوت کا رویہ اختیار کرلیتے ہیں۔ (ولقد اخذ نھم بالعذاب) ” اور ہم نے ان کو پکڑ لیا ساتھ عذاب کے۔ “ مفسرین کہتے ہیں کہ اس سے وہ قحط مراد ہے جس میں وہ سات سال تک مبتلا رہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اس مصیبت میں اس لیے ڈالا تاکہ وہ تذلل اور اطاعت کے ساتھ اس کی طرف رجوع کریں مگر اس چیز نے انہیں کوئی فائدہ دیا نہ ان میں سے کوئی کامیاب ہوی۔ (فما استکانو لربھم) پس وہ اپنے رب کے سامنے جھکے نہ انہوں نے فروتنی اختیار کی۔ ( وما یتضرعون) اور وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑائے نہ انہوں نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا محتاج سمجھا ‘ بلکہ قحط آیا اور گزر گیا مگر وہ اپنی گمراہی اور کفر پر قائم رہے گویا ان پر کوئی مصیبت آئی ہی نہ تھی۔ مگر ان کے پیچھے ایک ایسا عذاب ہے جسے روکا نہیں جاسکتا ‘ چناچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (حتی اذا فتحنا علیھم با با ذا عذاب شدید) ” یہاں تک کہ جب ہم نے ان پر سخت عذاب کا دروازہ کھول دیا۔ “ جیسے بدر کے روز ان کا قتل کیا جانا (اذا ھم فیہ مبلسون) تب وہ ہر بھلائی سے مایوس ہوجاتے ہیں ان کے پاس شر اور اس کے اسباب پہنچ چکے ہیں۔ لہذا انہیں چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا سخت عذاب نازل ہونے سے پہلے پہلے اپنا بچاؤ کرلیں ایسا عذاب جسے روکا نہیں جاسکتا۔ اس کے برعکس عام عذاب بسا اوقات وہ ان سے روک لیا جاتا ہے جیسے دنیاوی سزائیں جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی تادیب کرتا ہے۔ اس قسم کی سزاؤں کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ( ظھرالفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس لیذیقھم بعض الذی عملوا لعلھم یرجعون) (الروم : (41/30” خشکی اور سمندروں میں لوگوں کی کرتوتوں کی وجہ سے فساد برپا ہوگیا تاکہ اللہ ان کو ان کے بعض اعمال کا مزا چکھائے شاید کہ وہ اللہ کی طرف رجوع کریں۔
Ayahs 23:78–80

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 23:78 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے لیکن تم کم شکر گزاری کرتے ہو

وَ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 23:79 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے تم کو زمین میں پیدا کیا اور اسی کی طرف تم سب جمع ہو کر جاؤ گے

وَ هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ لَهُ اخْتِلَافُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 23:80 in the Quran reader

اور وہی جو زندگی بخشتا ہے اور موت دیتا ہے اور رات اور دن کا بدلتے رہنا اسی کا تصرف ہے کیا تم سمجھتے نہیں ؟

آیت نمبر (78 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنی نوازشوں کا ذکر کرتا ہے جو انہیں اس کے شکر اور اس کے حقوق ادا کرنے کی دعوت دیتی ہیں ‘ چناچہ فرمایا : (وھو الذی انشالکم السمع) ” اور وہی ہے جس نے پیدا کیے تمہارے لیے کان۔ “ تاکہ مسموعات کا ادراک کرسکو اور اس طرح تم اپنے دین و دنیا میں فائدہ اٹھا سکو (والابصار) ” اور آنکھیں “ تاکہ مرئیات کا ادراک کرسکو اور اپنے مصالح میں ان سے فائدہ اٹھا سکو۔ (والافئدۃ ) ” اور دل۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہیں عقل سے نوازاتا کہ تم اس کے ذریعے سے اشیاء کا ادراک کرسکو اور جانوروں سے ممتاز ہوسکو۔ اگر تم سماعت ‘ بصارت اور عقل سے محروم ہوجاؤ بایں طور کہ تم بہرے ‘ اندھے اور گونگے ہوجاؤ تو تمہارا کیا حال ہو ؟ اور تم کن کن ضروریات اور کون کون سے کمالات سے محروم ہو کر رہ جاؤ ؟ کیا تم اس ہستی کا شکر نہیں کرتے جس نے تمہیں ان نعمتوں سے نوازا ہے کہ تم اس کی وحید اور اطاعت پر قائم رہتے ؟ مگر اس کے برعکس اللہ تعالیٰ کی پے درپے نعمتوں کے باوجود ‘ تم اس کا بہت ہی کم شکر کرتے ہو۔ (وھو الذی ذراکم فی الارض) یعنی وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے تمہیں مختلف سمتوں میں زمین کے کناروں تک پھیلایا اور تمہیں زمین کے فوائد اور مصالح حاصل کرنے کی قدرت عطا کی اور زمین کو تمہاری معاش اور رہائش کے لیے کافی کردیا۔ (والیہ تحشرون ) ” اور (مرنے کے بعد) تم اسی کے پاس اکٹھے کئے جاؤ گے “ اور زمین پر تم جس خیر وشر کا ارتکاب کرتے رہے ہو اس کا بدلہ پاؤ گے اور زمین ‘ جس پر تم آباد تھے تمہاری خبریں بیان کرے گی۔ (وھو الذی یحی ویمیت) وہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے جو زندگی اور موت میں تصرف کرتا ہے۔ (ولہ اختلاف الیل والنھار) یعنی شب و روز کا باری باری ایک دوسرے کے پیچھے آنا اسی کے اختیار میں ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم پر ہمیشہ کے لیے دن طاری کر دے پھر اللہ کے سوا کون سا معبود ہے جو تمہارے آرام و سکون کے لیے تمہیں دن کی روشنی واپس لا دے ؟ کیا تم دیکھتے نہیں ؟ (ومن رحمتۃ جعل لکم الیل والنھار لتسکنو فیہ ولتبتغو من فضلہ ولعلکم تشکرون) (القصص (73/28:” یہ اللہ تعالیٰ کی بےپایاں رحمت ہے کہ اس نے تمہارے لیے رات اور دن بنائے تاکہ تم آرام کرسکو اور اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرسکو اور شاید تم اللہ تعالیٰ کا شکر کرو۔ “ بنابریں یہاں فرمایا : (افلا تعقلون) ” کیا تم عقل نہیں رکھتے ؟ “ کہ تم یہ پہچان سکو کہ وہ ہستی جس نے تمہیں سماعت و بصارت اور عقل جیسی نعمتیں عطا کیں ‘ جس اکیلے نے تمہیں زمین پر پھیلایا ‘ وہ ہستی جو اکیلی زندگی اور موت پر اختیار رکھتی ہے اور جو اکیلی رات اور دن پر تصرف کرتی ہے ‘ یہ بات اس بات کو واجب ٹھہراتی ہے کہ تم خالص اسی کی عبادت کرو جس کا کوئی شریک نہیں اور ان تمام ہستیوں کی عبادت چھوڑ دو ‘ جو کسی قسم کا کوئی فائدہ دے سکتی ہیں نہ نقصان اور نہ وہ کسی چیز میں تصرف کی مالک ہی ہیں بلکہ وہ ہر لحاظ سے عاجز ہیں اگر تم میں ذرہ بھر بھی عقل ہوتی تو تم کبھی بھی ان کی عبادت نہ کرتے۔
Ayahs 23:81–83

بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 23:81 in the Quran reader

بات یہ ہے جو اگلے (کافر) کہتے تھے، اسی طرح کی (بات یہ) کہتے ہیں۔

قَالُوْۤا ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ Open ayah 23:82 in the Quran reader

کہتے ہیں کہ جب ہم مرجائیں گے اور مٹی ہوجائیں گے اور استخوان (بوسیدہ کے سوا کچھ) نہ رہے گا تو کیا ہم پھر اٹھائے جائیں گے ؟

لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا هٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 23:83 in the Quran reader

یہ وعدہ ہم سے اور ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا سے بھی ہوتا چلا آیا ہے (اجی) یہی تو صرف اگلے لوگوں کی کہانیاں ہیں

آیت نمبر (81 (بل قالو مثل ما قال الاولون) ” بلکہ انہوں نے بھی ایسی ہی بات کہی جو پہلوں نے کہی تھی۔ “ یعنی یہ مکذبین بھی انہیں راہوں پر چل پڑے جن پر ان سے پہلے زندگی بعد موت کی تکذیب کرنے والے گامزن تھے ‘ زندگی بعد موت کو بہت بعید سمجھتے تھے اور کہا کرتے تھے : (ع اذا متنا و کنا ترابا و عظاما عء انا لمبعوثن) ” کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے ‘ تو کیا ہم زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے ؟ “ یعنی ان کے زعم باطل کے مطابق اس کا تصور کیا جاسکتا ہے نہ یہ بات عقل میں آسکتی ہے۔ (لقد وعدنا نحن و آباء نا ھذا من قبل) یعنی ہمارے ساتھ ہمیشہ سے یہ وعدہ کیا جاتا رہا ہے کہ قیامت آئے گی ‘ ہمیں اور ہمارے آباء و اجداد کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور ہم نے تو اسے نہیں دیکھا اور نہ آئندہ ہی وہ آئے گی۔ (ان ھذا الا اساطیر الاولین) یہ تو محض قصے کہنایاں ہیں جو کھیل کے طور پر بیان کی جاتی ہیں ورنہ ان کی کوئی حقیقت نہیں۔ وہ جھوٹ کہتے ہیں۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی نشانیوں کا مشاہدہ کروایا جو قیامت کے برباد ہونے سے بھی بڑی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (لخلق السموت والارض اکبر من خلق الناس) (المومن : (57/40” آسمانوں اور زمین کی تخلیق یقیناً انسان کی تخلیق سے زیادہ بڑا کام ہے۔ “ اور فرمایا : (و ضرب لنا مثلا و نسی خلقہ قال من یحی العاظام وھی رمیم) (یس (78/36” وہ ہمارے لیے مثالیں بیان کرتا ہے اور اپنی تخلیق کو بھول جاتا ہے اور کہتا ہے ان ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا جبکہ یہ بوسیدہ ہو کر مٹی بن چکی ہوں گی۔ “ اور فرمایا : (وتری الارض ھا مدۃ فاذ انزلنا علیھا الماء اھتزت و ربت) (الحج (5/22 ” تو زمین کو دیکھتا ہے کہ وہ سوکھی پڑی ہے ‘ ہم نے اس پر پانی برسایا تو وہ لہلہا اٹھی اور پھول گئی۔ “
Ayahs 23:84–89

قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:84 in the Quran reader

کہو کہ اگر تم جانتے ہو تو بتاؤ کہ زمین اور جو کچھ اس میں ہے سب کس کا مال ہے ؟

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 23:85 in the Quran reader

جھٹ بول اٹھیں گے کہ خدا کا کہو پھر سوچتے کیوں نہیں

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ Open ayah 23:86 in the Quran reader

(ان سے) پوچھو کہ سات آسمانوں کا مالک کون ہے ؟ اور عرش عظیم کا (کون) مالک (ہے)

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 23:87 in the Quran reader

بےساختہ کہ دیں گے کہ یہ (چیزیں) خدا ہی کی ہیں کہو کہ پھر تم ڈرتے کیوں نہیں ؟

قُلْ مَنْۢ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ یُجِیْرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:88 in the Quran reader

کہو اگر تم جانتے ہو تو بتاؤ کہ وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہی ہے اور وہ پناہ دیتا ہے اور اسکے مقابل کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا ؟

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ فَاَنّٰى تُسْحَرُوْنَ Open ayah 23:89 in the Quran reader

فوراً کہہ دیں گے کہ (ایسی بادشاہی تو) خدا ہی کی ہے تو کہو پھر تم پر جادو کہاں سے پڑجاتا ہے

آیت نمبر 84 یعنی زندگی بعدالموت اور آخرت کی تکذیب کرنے والوں سے ‘ جو اللہ تعالیٰ کے ہم سر اور شریک ٹھہراتے ہیں ‘ توحید ربوبیت کو جس کا وہ اقرار اور اثبات کرتے ہیں ‘ توحید الوہیت اور توحید عبادت پر دیل بناتے ہوئے ‘ اسی طرح بڑی بڑی مخلوقات کی تخلیق کے اثبات کو ‘ مرنے کے بعد زندگی کے اعادہ پر ‘ جو کہ اس سے آسان تر ہے ‘ برہان ٹھہراتے ہوئے ‘ کہیے ! (لمن الارض ومن فیھا) یعنی زمین ‘ اور زمین کی تمام مخلوقات ‘ حیوانات ‘ نباتات ‘ جمادات ‘ سمندروں ‘ دریاؤں اور پہاڑوں کو کس نے پیدا کیا ‘ ان کا مالک کون ہے اور کون ان کی تدبیر کرتا ہے ؟ اگر آپ ان سے اس بارے میں سوال کریں تو وہ یہیں جواب دیں گے ” صرف اللہ “ ! جب وہ اس حقیقت کا اقرار کرلیں تو آپ ان سے کہیے ! (افلا تذکرون) یعنی کیا تم اس چیز کی طرف رجوع نہیں کرتے جس کی یاد دہانی تمہیں اللہ تعالیٰ نے کروائی ہے جس کا تمہیں علم ہے جو تمہاری فطرت میں راسخ ہے البتہ اعراض بسا اوقات اسے ذہن سے غائب کردیتا ہے۔۔۔۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر تم جروتھوڑے سے غورو فکر کے ذریعے سے ‘ اپنی اس یاددہانی کی طرف رجوع کرو تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ اس تمام کاہنات کا مالک ہی اکیلا معبود ہے اور وہ ہستی جو مملوک ہے ‘ اس کی الوہیت سب سے بڑا باطل ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے بھی بڑی دلیل کی طرف منتقل ہوتا ہے ‘ چناچہ فرمایا : (قل من رب السموت السبع) ” کہہ دیجیے سات آسمانوں کا رب کون ہے ؟ “ اور ان کے اندر ستاروں ‘ سیاروں ‘ کو اکب اور ثوابت کا رب کون ہے ؟ (و رب العرش العظیم) ” اور عرش عظیم کا رب کون ہے “ جو تمام مخلوقات سے زیادہ بلند ‘ سب سے وسیع اور سب سے بڑا ہے ؟ وہ کون ہے جس نے اس پورے نظام کی تخلیق کی پھر اس کی تدبیر کی اور وہ مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان میں صرف کرتا ہے ؟ (سیقولون للہ) یعنی وہ اس حقیقت کا اقرار کریں گے کہ ان سب کا رب اللہ تعالیٰ ہی ہے جب وہ اس کا اقرار کرلیں تو ان سے کہیے ! (افلاتتقون) ” کیا پس تم ( عاجز اور بےبس مخلوق کی عبادت سے) بچتے کیوں نہیں ؟ ” اس کے برعکس تم رب عظیم کی عبادت سے ‘ جو کامل قدرت اور عظیم قوت کا مالک ہے ‘ دور بھاگتے ہو۔ اس آیت کریمہ میں خطاب کا ایسا الوب ہے جو لطف و کرم پر مبنی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے ارشاد (افلا تذکرون) اور (افلا تتقون) میں نظر آتا ہے ‘ نیز اس میں وعظ و نصیحت کا ایسا پیرا یہ ہے جو انتہائی دلکش ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے اس امر کے اقرار کی طرف منتقل ہوتا ہے جو ان سب سے زیادہ عمومیت کا حامل ہے ‘ چناچہ فرمایا : ( قل من بیدہ ملکوت کل شیء) یعنی عالم علوی اور عالم سفلی میں جو کچھ ہمیں نظر آتا ہے اور جو کچھ ہمیں نظر نہیں آتا ان سب کی بادشاہی کس کے ہاتھ میں ہے ؟ (الملکوت) اقتداد اور بادشاہی کے لیے مبالغے کا صیغہ ہے۔ (وھو یجیر) ” وہ شر سے پناہ دیتا ہے “ اپنے بندوں کو ان کی تکلیفوں کو دور کرتا ہے اور ان چیزوں سے ان کو محفوظ کرتا ہے جو انہیں ضرر پہنچاتی ہیں (ولا یجار غلیہ) کسی کی قدرت میں نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کسی کو پناہ دے سکے اور نہ کوئی اس شر اور تکلیف کو دور کرسکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مقدر کردیا ہو بلکہ اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے کسی کو سفارش کرنے کی بھی مجال نہیں۔ (سیقولون للہ) یعنی وہ اس حقیقت کا اقرار کریں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا مالک ہے ‘ وہی پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا۔ (قل) جب وہ اس حقیقت کا اقرار کریں تو الزامی طور پر ان سے کہہ دیجیے ! ( فانی تسحرون) ” پھر تم کہاں سے جادو کردیے جاتے ہو ؟ “ یعنی پھر تمہاری عقل کہاں ماری جاتی ہے کہ تم ان ہستیوں کی عبادت کرنے لگے جن کے بارے میں تم خود جانتے ہو کہ وہ کسی چیز کی مالک نہیں اقتدار میں ان کا کوئی حصہ نہیں اور وہ ہر لحاظ سے عاجز اور بےبس ہیں اور تم نے مالک عظیم ‘ قادر مطلق اور تمام امور کی تدبیر کرنے والے کے لیے اخلاص کو ترک کردیا۔ اس لیے وہ عقل جس نے اس غیر معقول کام کی طرف تمہاری راہ نمائی کی ہے ‘ سحر زدہ ہونے کے سوا کچھ نہیں۔ بلاشبہ شیطان نے ان کی عقل پر جادو کردیا ہے اس نے ان کے راہ نمائی کی ہے ‘ سحر زدہ ہونے کے سوا کچھ نہیں۔ بلاشبہ شیطان نے ان کی عقل پر جادو کردیا ہے اس نے ان کے سامنے شرک کو مزین کر کے خوبصورت بنا کر دکھایا ‘ حقائق کو بدل ڈالا اور یوں ان کی عقلوں پر جادو کردیا جس طرح جادو گر لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیتے ہیں۔
Ayahs 23:90–92

بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِالْحَقِّ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 23:90 in the Quran reader

بات یہ ہے کہ ہم نے ان کے پاس حق پہنچا دیا ہے اور جو (بت پرستی کئے جاتے ہیں) بیشک جھوٹے ہیں

مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّ مَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَ لَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ Open ayah 23:91 in the Quran reader

خدا نے نہ تو (اپنا) کسی کو بیٹا بنایا ہے اور نہ اسکے ساتھ کوئی اور معبود ہے ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوقات کو لے کر چلتا اور ایک دوسرے پر غالب آجاتا یہ لوگ جو کچھ (خدا کے بارے میں) بیان کرتے ہیں خدا اس سے پاک ہے

عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَتَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 23:92 in the Quran reader

وہ پوشیدہ اور ظاہر کو جانتا ہے اور (مشرک) جو اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں اسکی شان اس سے بلند ہے۔

آیت نمبر (90) اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے بلکہ ہم ان جھٹلانے والوں کے پاس حق لے کر آئے ہیں جو خبر میں صدق اور امرو نہی میں عدل کو متضمن ہے۔ ان کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ حق کا اعتراف نہیں کرتے حالانکہ حق اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کی اتباع کی جائے ؟ ان کے پاس جھوٹ اور ظلم کے سوا کوئی ایسی چیز نہیں جو حق کا بدل بن سکے ‘ اس لیے فرمایا : (وانھم لکذبون) ” اور وہ سخت جھوٹے ہیں۔ “ (ما اتخذ اللہ من و لد و ما کان معہ من الہ ) ” اللہ کی کوئی اولاد ہے نہ اس کے ساتھ کوئی معبود ہے۔ “ یعنی یہ سب جھوٹ ہے جس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے آگاہ فرمایا ہے اور جسے عقل صحیح خوب پہچانتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے دو معبودوں کے متنع ہونے پر عقلی دلیل کی طرف توجہ دلائی ہے۔ چناچہ فرمایا : (اذا) اس وقت۔ “ یعنی اگر ان کے زعم باطل کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبود بھی ہوں (لذھب کل الہ بما خلق) یعنی دونوں معبود ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور ایک دوسرے پر غالب آنے کے لیے اپنی اپنی مخلوق کو لے کر الگ ہوجاتے۔ (ولعلا بعضھ ’ م علی بعض) ” اور ایک ‘ دوسرے پر چڑھ دوڑتا۔ “ پس جو غالب ہوتا وہی معبود ہوتا۔ اس قسم کی کھینچا تانی میں وجود کائنات کا باقی رہنا ممکن نہیں تھا اور نہ اس صورت حال میں کائنات کے اس عظیم انتظام کا تصور کیا جاسکتا ہے جسے دیکھ کر عقل حیرت میں گم ہوجاتی ہے۔ اس کا اندازہ سورج ‘ چاند ‘ ایک جگہ قائم رہنے والے ستاروں اور سیاروں کے درمیان باہمی نظم کو دیکھ کر کرو ! جب سے ان کو پیدا کیا گیا ہے یہ ایک خاص ترتیب اور ایک خاص نظام کے مطابق چل رہے ہیں ‘ اس بےکراں کائنات کے تمام سیارے اللہ تعالیٰ کی قدرت سے مسخر ہیں ‘ اس کی حکمت تمام مخلوق کی ضروریات و مصالح کے مطابق ان کی تدبیر کرتی ہے ‘ ان میں کوئی ایک دوسرے پر منحصر نہیں۔ آپ اس نظام کاہنات میں ‘ اس کے کسی ادنیٰ سے تصرف میں بھی کوئی خلل دیکھیں گے نہ تناقض اور تعارض۔ کیا دو معبودوں کے انتظام کے تحت اس قسم کے نظام کا تصور کیا جاسکتا ہے ؟ (سبحن اللہ عما یصفون ) ” اللہ پاک ہے ان چیزوں سے جو وہ بیان کرتے ہیں۔ “ یہ تمام کائنات اپنی زبان حال سے پکار پکار کر کہہ رہی ہے اور اپنی مختلف اشکال کے ذریعے سے سمجھا رہی ہے کہ اس کی تدبیر کرنے والا ‘ الٰہ ایک ہے جو کامل اسماء وصفات کا مالک ہے تمام مخلوقات ‘ اس کی ربوبیت و الوہیت میں اس کی محتاج ہے۔ جس طرح اس کی ربوبیت کے بغیر مخلوقات کا کوئی وجود ہے نہ اس کی کوئی دوام ‘ اسی طرح صرف اسی کی عبادت اور صرف اسی کی اطاعت کے بغیر مخلوقات کے لیے کوئی صلاح ہے نہ اس کا کوئی قوام۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایک نمونے کے ذریعے سے اپنی صفات مقدسہ کی عظمت کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے اور وہ ہے اس کا علم محیط ‘ چناچہ فرمایا : (علم الغیب) یعنی وہ تمام واجبات ‘ مستحیلات اور ممکنات کو جاننے والا ہے جو ہماری نظروں اور ہمارے علم سے اوجھل ہیں (والشھادۃ) اور وہ ان امور کو بھی جانتا ہے جن کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں۔ (فتعلی) وہ بہت بلند اور بہت بڑا ہے (عما یشرکون) ” ان ہستیوں سے جن کو وہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ “ کہ جن کے پاس کوئی علم نہیں سو اے اس علم کے جو اللہ تعالیٰ نے عطا کیا ہے۔
Ayahs 23:93–98

قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 23:93 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ کہو کہ اے پروردگار جس عذاب کا ان (کفار) سے وعدہ ہوا ہے اگر تو میری زندگی میں ان پر نازل کر کے مجھے دیکھائے

رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:94 in the Quran reader

تو اے پروردگار مجھے (اس سے محفوظ رکھیے اور) ان ظالموں میں شامل نہ کیجیو

وَ اِنَّا عَلٰۤى اَنْ نُّرِیَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقٰدِرُوْنَ Open ayah 23:95 in the Quran reader

جو وعدہ ہم ان سے کر رہے ہیں ہم تم کو دکھا کر ان پر نازل کرنے پر قادر ہیں

اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَ١ؕ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ Open ayah 23:96 in the Quran reader

اور بری بات کے جواب میں ایسی بات کہو جو نہایت اچھی ہو اور یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں ہمیں خوب معلوم ہے

وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ Open ayah 23:97 in the Quran reader

اور کہو کہ اے پروردگار ! میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں

وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ Open ayah 23:98 in the Quran reader

اور اے پروردگار ! اس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آموجود ہوں

آیت نمبر 93) چونکہ اللہ تعالیٰ نے حق کی تکذیب کرنے والوں پر اپنے عظیم دلائل وبراہین قائم کردیے مگر انہوں نے ان دلائل کی طرف التفات کیا نہ ان کے سامنے سر تسلیم خم کیا اس لیے ان پر عذاب واجب ہوگیا اور ان پر عذاب نازل ہونے کی دھمکی دے دی گئی اور اللہ تعالیٰ نے رسول ﷺ سے فرمایا کہ وہ یوں کہیں : ( قل رب اما ترینی ما یوعدون) یعنی اے رب ! تو جس وقت بھی ان پر ٹوٹنے والا عذاب مجھے دکھائے اور میری موجودگی میں تو یہ عذاب لائے (رب فلا تجعلنی فی القوم الظلمین) ” تو اے میرے رب ! تو مجھے ظالموں میں سے نہ کرنا۔ “ یعنی اے میرے رب ! مجھ پر رحم فرما مجھے ان گناہوں سے بچا لے جو تیری ناراضی کے موجب ہیں اور جن کے ذریعے سے تو نے ان کفار کو آزمائش میں مبتلا کیا ہے۔ اے میرے رب ! مجھے اس عذاب سے بھی بچا لے جو ان پر نازل ہوگا کیونکہ عذاب عام جب نازل ہوتا ہے تو نیک اور بدسب کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ عذاب کے قریب ہونے کے بارے میں فرماتا ہے : (وانا علی ان نربک ما نعد ھم لقدون ) ” اور ہم اس بات پر کہ ہم آپ کو وہ (عذاب) دکھا دیں جس کا وعدہ ہم ان سے کرتے ہیں ‘ یقیناً قادر ہیں۔ “ لیکن اگر ہم اس عذاب کو موخر کرتے ہیں تو کسی حکمت کی بنا پر ورنہ ہم اس عذاب کو واقع کرنے کی پوری پوری قدرت رکھتے ہیں۔ یہ ان مکارم اخلاق میں سے ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا ہے ‘ چناچہ فرمایا : (ادفع بالتیھی احسن السیءۃ) ” دور کریں برائی کو اس طریقے سے جو احسن ہو۔ “ یعنی جب آپ ﷺ کے دشمن قول و فعل کے ذریعے سے آپ کے ساتھ برائی سے پیش آئیں تو آپ ان کے ساتھ برائی سے پیش نہ آئیں ‘ ہرچند کہ برائی کا بدلہ اسی قسم کی برائی سے دینا جائز ہے مگر آپ ان کے برے سلوک کے بدلے میں ‘ ان کے ساتھ بھلائی سے پیش آئیں یہ آپ ﷺ کی طرف سے برا سلوک کرنے والے پر احسان ہے۔ اس میں فائدہ یہ ہے کہ حال اور مستقبل میں آپ ﷺ کی طرف سے برائی میں تخفیف ہوگی۔ آپ کا یہ حسن سلوک آپ کے ساتھ برائی سے پیش آنے والے کو حق کی طرف لانے میں زیادہ ممد ثابت ہوگا۔ آپ کا حسن سلوک برائی سے پیش آنے والے کو ندامت ‘ تاسف اور توبہ کے ذریعے سے بدسلوکی سے رجوع کرنے کے زیادہ قریب لے آئے گا۔ معاف کرنے والے کو احسان کی صفت سے متصف ہونا چاہیے ‘ اس سے وہ اپنے دشمن شیطان پر غلبہ حاصل کرتا ہے اور رب کریم کی طرف سے ثواب کا مستحق قرار پاتا ہے ‘ چناچہ فرمایا : (فمن عفا واصلح فاجرہ علی اللہ) (الشوری (40/42 ” جو کوئی معاف کردے اور اصلاح کرلے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ “ اور فرمایا : (اد فع بالتیھی احسن فا ذا الذی بینک وبینہ عداوۃ کانہ ولی حمیم۔ وما یلقھا الا الذین صبرو وما یلقھا الا ذوحظ عظیم) (حمٓ السجدۃ : (35, 34/41” آپ برائی کو ایسی نیکی کے ذریعے سے روکئے جو بہترین ہو تب آپ دیکھیں گے کہ وہ شخص ‘ جس کی آپ کے ساتھ عداوت ہے ‘ آپ کا جگری دوست بن جائے گا اور یہ صفت نصیب نہیں ہوتی ( یعنی خلق جمیل کی توفیق) مگر ان لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں اور اس صفت سے بہرہ مند نہیں ہوتے مگر وہ لوگ جو بہت بڑے نصیب کے مالک ہیں۔ “ (نحن اعلم بما یصفون) ” ہم خوب جانتے ہیں جو وہ بیان کرتے ہیں۔ “ یعنی ان باتوں کو جو کفر اور تکذیب حق کو متضمن ہیں ہمارے علم نے ان کی باتوں کا احاطہ کر رکھا ہے۔ ہم نے ان کے بارے میں حلم سے کام لیا ‘ ہم نے ان کو مہلت دی اور ہم نے ان کے بارے میں صبر کیا ہے۔ حق ہمارے لیے ہے اور ان کی تکذیب بھی ہماری طرف لوٹتی ہے۔ اے محمد ! ﷺ آپ کے لیے مناسب یہ ہے کہ آپ ان کی اذیت ناک باتوں پر صبر کریں اور ان سے حسن سلوک سے پیش آئیں انسانوں کی طرف سے برے سلوک کے مقابلے میں بندہ مومن کا یہی وظیفہ ہے۔ رہی شیاطین کی بدسلوکی تو ان کے ساتھ حسن سلوک کوئی فائدہ نہیں دیتا۔ شیاطین تو اپنے گروہ کے لوگوں کو دعوت دیتے ہی اس لیے ہیں کہ وہ جہنم میں جھونکے جانے والوں میں شال ہوجائیں۔ پس شیطان کی بدسلوکی کے مقابلے میں بندہ مومن کا وظیفہ وہ ہ یجس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی راہ نمائی فرمائی ہے ‘ چناچہ فرمایا : (و قل رب اعوذ بک) یعنی میں اپنی قدرت وقوت سے برات کا اظہارت کر کے تیری قدرت و قوت کی پناہ پکڑتا ہوں۔ (من ھمزت الشیطین۔ واعوذ بک رب ان یحضرون) یعنی میں اس شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو ان شیاطین سے ملنے جلنے کی وجہ سے مجھے لاحق ہوسکتا ہے ‘ نیز میں ان کی وسوسہ اندازی اور ایذا رسانی سے تیری پناہ کا طلب گار ہوں اور میں اس شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں جو ان کی موجودگی اور ان کی وسوسہ اندازی کے باعث مجھے لاحق ہوسکتا ہے۔ یہ استعاذہ ہر قسم کے شر اور اس کی اصل سے پناہ طلبی ہے اس میں شیطان کی دراندازی ‘ اس کا وسوسہ اور اس کی ایذا رسانی وغیرہ سب داخل ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی دعا قبول کر کے اسے شیطان کے شر سے پناہ دے دیتا ہے تو بندہ ہر شر سے محفوظ و مصؤن ہوجاتا ہے اور اسے ہر بھلائی کی توفیق عطا ہوجاتی ہے۔
Ayahs 23:99–100

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ Open ayah 23:99 in the Quran reader

(یہ لوگ اسی طرح غفلت میں رہیں گے) یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آجائے گی تو کہے گا اے پروردگار ! مجھے پھر (دنیا میں) واپس بھیج دے

لَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَكْتُ كَلَّا١ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآئِلُهَا١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:100 in the Quran reader

تاکہ میں اس میں جسے چھوڑ آیا ہوں نیک کام کیا کروں ہرگز نہیں یہ ایک ایسی بات ہے کہ وہ اسے زبان سے کہہ رہا ہوگا اور (اسکے ساتھ) عمل نہیں ہوگا اور ان کے پیچھے برزخ ہے (جہاں وہ) اس دن تک کہ (دوبارہ) اٹھائے جائیں گے (رہیں گے )

(آیت نمبر (99 اللہ تبارک و تعالیٰ بدکردار اور ظالم لوگوں کے ان لمحات کا حال بیان فرماتا ہے جب موت ان کے سامنے آتی ہے۔ جب وہ اپنے انجام کو دیکھتے ہیں اور اپنے اعمال بد کا مشاہدہ کرتے ہیں تو اس حال میں وہ سخت نادم ہوتے ہیں تو وہ دنیا میں واپس لوٹنے کی خواہش کرتے ہیں ‘ اس کی لذات سے متمتع اور اس کی شہوات سے مستفید ہونے کی خاط نہیں ‘ بلکہ وہ صرف یہ کہتے ہیں : (لعلی اعمل صالحا فیما ترکت) ” شاید کہ میں نیک عمل کروں اپنی چھوڑی ہوئی دنیا میں۔ “ یعنی میں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جو کوتاہی کی اور نیک اعمال کو ترک کیا شاید ان نیک اعمال کو سر انجام دے سکوں۔ (کلا) ” ہرگز نہیں ‘ یعنی اب وہ دنیا میں واپس لوٹ لکیں گے نہ ان کو مہلت عطا ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ صادر کردیا ہے کہ وہ دنیا میں واپس نہیں جائیں گے۔ (انھا) یعنی ان کی وہ بات جس میں وہ دنیا میں واپس جانے کی تمنا کرتے ہیں ( گلمۃ ھو قائلھا) مجرد زبان سے نکلی ہوئی بات ہے جو اپنے قائل کو حسرت و ندامت کے سوا کچھ فائدہ نہ دے گی۔۔۔۔ علاوہ بریں وہ اس میں بھی سچا نہیں ہے کیونکہ اگر اسے دنیا میں واپس بھیج بھی دیا جائے تو دوبارہ وہی کام کرے گا جن سے اس کو روکا گیا تھا۔ (ومن و رائھم برزخ الی یوم یبعثون ) ” اور ان کے سامنے برزخ ہے ان کے دوبارہ اٹھائے جانے تک “ ( برزخ) دو چیزوں کے درمیان رکاوٹ کو کہا جاتا ہے۔ یہاں وہ حجاب مراد ہے جو دنیا اور آخرت کے درمیان حائل ہے۔ اس برزخ میں اللہ تعالیٰ کے مطیع بندے نعمتوں سے سرفراز ہوں گے اور نافرمانوں کو عذاب دیا جائے گا موت کی ابتدا یعنی ان کو قبروں میں رکھے جانے سے لے کر قیامت کے روز دوبارہ اٹھائے جانے کے وقت تک۔ پس ان کو کو چاہیے کہ وہ اس کے لیے تیاری اور اس کا سامان کریں۔