Ayahs 23:31–49(آیت نمبر 31)
نوح علیہ اسلام اور ان کی قوم کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ثمہ انشانا من بعدھم قرناً اخرین) ، ، پھر ان کے بعد ہم نے ایک دوسری امت پیدا کی۔ ، ، بظاہر اس سے مراد ثمود، یعنی صالح علیہ اسلام کی قوم ہے کیونکہ یہ قصہ ان کے قصہ سے مشابہت رکھتا ہے۔ (فارسلنا فیھمہ رسولاً منھم) ، ، پس ان کے اندر انہی میں سے (یعنی انہی کی جنس سے) ایک رسول مبعوث کیا، ، جس کے حسب و نسب اور صداقت کے بارے میں انہیں پورا علم تھا۔۔۔ تاکہ وہ اطاعت کرنے میں جلدی کریں اور رسول ان کی کراہت اور نفرت سے بہت دور ہو۔ اس رسول نے بھی ان کو اسی چیز کی طرف دعوت دی جس کی طرف اس سے پہلے رسول اپنی قوموں کو دعوت دیتے چلے آرہے تھے۔ (ان اعبدو اللہ مالکم من الٰہ غیرہ) ، ، کہ اللہ کی عبادت کرو تمہارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ، ، پس تمام انبیاء ومرسلین اس دعوت پر متفق تھے۔ یہ اولین دعوت تھی جس کی طرف تمام رسولوں نے اپنی قوموں کو بلایا، یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دینا، اس حقیقت سے آگاہ کرنا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی عبادت کا مستحق ہے، غیر اللہ کی عبادت سے روکنا اور غیر اللہ کی عبادت کے بطلان اور فساد سے آگاہ کرنا ہے۔
بنابریں فرمایا : (افلا تتقون) ” کیا تم (اپنے رب سے ڈرتے نہیں ؟ “ کہ تم خود ساختہ معبودوں اور بتوں سے اجتناب کرو ( وقال الملا من قومہ الذین کفروا وکذبوا بلقاء الاخرۃ واترفنھم فی الحیوۃ الدنیا) یعنی ان کے روساء نے جن میں کفرو عناد ’ زندگی بعد موت اور جزا و سزا کا انکار جمع تھے اور ان کو دنیاوی زندگی کی خوش حالی نے سرکش بنادیا تھا ’ اپنے نبی کے ساتھ معارضہ کرتے اس کو جھٹلاتے اور لوگوں کو اس سے ڈراتے ہوئے کہا (ما ھذا الا بشر مثلکم) ” نہیں ہے یہ مگر انسان تم جیسا ہی۔ “ یعنی تمہاری جنس میں سے (یا کل مما تاکلون منہ و یشرب ما تشربون) ” وہی کچھ کھاتا پیٹا ہے جو تم کھاتے پیتے ہو۔ “ پس اسے کس چیز میں تم پر فضیلت حاصل ہے ؟ وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ وہ کھانا کھاتا نہ پانی پیٹا۔
(ولین اطعتم بشرا مثلکم انکم اذا لخسرون) یعنی اگر تم نے اپنے جیسے انسان کی اتباع کی اور اس کو اپنا سردار بنا لیا تو تمہاری عقل امری گئی اور تم اپنے اس فعل پر ندامت اٹھاؤ گے۔ یہ بڑی ہی عجیب بات ہے ‘ کیونکہ حقیقی ندامت تو اس شخص کے لیے ہے جو رسول کی اتباع اور اطاعت نہیں کرتا۔ یہ اس شخص کو سب سے بڑی جہالت اور سفاہت ہے جو تکبر کے باعث ایسے انسان کی اطاعت نہ کرے ‘ جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی سے مختص کر کے اپنی رسالت کے ذریعے سے فضیلت بخشی ‘ اور شجر و حجر کی عبادت میں مبتلا ہوجائے۔
اس کی نظیر کفار کا یہ قول ہے ( فقالو ابشرا منا واحد نت بعد انا اذا لفی ضلال و سعر) القی الذکر علیہ من بیننا بل ھو کذاب اشر) (القمر : (25-34/54 ” بھالا ہم ایک آدمی کی پیروی کریں جو ہم ہی میں سے ہے ‘ تب تو ہم سخت گمراہی اور دیوانگی میں پڑگئے۔ کیا ہم سب میں سے صرف اسی پر وحی نازل کی گئی ‘ نہیں ! بلکہ وہ تو سخت جھوٹا اور متکبر ہے۔ “
چونکہ انہوں نے رسول کی رسالت کا انکار کر کے اسے رد کردیا تھا ‘ اس لیے انہوں نے زندگی بعد موت اور اعمال کی جزا و سزا کا بھی انکار کردیا ‘ چنائچہ انہوں نے کہا : (ایعد کم انکم اذا متم وکنتم ترابا و عظا ما انکم محرجون فیھات ھیھات لما توعدون) یعنی تمہارے ریزہ ریزہ ہو کر ‘ مٹی اور ہڈیاں بن کر بکھر جانے کے بعد تمہارے دوبارہ زندہ کئے جانے کا جو وعدہ یہ رسول تمہارے ساتھ کرتا ہے وہ بہت بعید ہے۔ پس انہوں نے انتہائی کو تائی بینی کا ثبوت دیا اور انہوں نے اپنی طاقت اور قدرت کے مطابق اسے ناممکن سمجھا اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کو اپنی قدرت پر قیاس کیا ‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ اس سے بلند تر ہے۔ پس انہوں نے اللہ تعالیٰ کے مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہونے کا انکار کیا ‘ انہوں نے اللہ تعالیٰ کو عاجز اور بےبس ٹھہرایا اور خود اپنی پہلی پیدائش کو بھول گئے حالانکہ وہ ہستی جو ان کو عدم سے وجود میں لائی ہے ‘ اس کے لیے ان کے مرنے اور بوسیدہ ہوجانے کے بعد ‘ دوبارہ پیدا کرنا آسان تر ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے لیے دونوں بار پیدا کرنا نہایت آسان ہے۔ پس وہ اپنی پہلی تخلیق کا اور محسوس چیزوں کا انکار کیوں نہیں کرتے ‘ نیز وہ کیوں نہیں کہتے کہ ہم ہمیشہ سے موجود ہیں تاکہ ان کے لیے انکار قیامت آسان ہوتا اور ان کے پاس خالق عظیم کے وجود کے اثبات کے خلاف حجت ہوتی۔ یہاں ایک اور دلیل بھی ہے۔۔۔۔ وہ ہستی جو زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد دوبارہ زندہ کرتی ہے وہی ہستی مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرے گی بلاشبہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور دلیل بھی ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے زندگی بعد الموت کے منکرین کو جواب دیا ہے۔ چنائچہ فرمایا۔ ( بل عجبو ان جاھم منذر منھم فقال الکفرون ھذا شیء عجیب اذا متنا و کنا ترا با ذالک رجع بعد) (ق 32/5; ) ان لوگوں کو تعجب ہوا کہ ان کے پاس ‘ انہیں میں سے ایک ڈرانے والا آیا ‘ تو کافروں نے کہا۔ یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے کیا جب ہم مر کر مًٹی ہوجائیں گے۔ ( تو پھر زندہ ہوں گے ؟ ) یہ زندگی تو بہت ہی بعید بات ہے۔ “ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کا جواب دیتے ہوئے فرمایا ؔ ( قد علمنا ما تنقص الارض منھم وعندنا کتب حفیظ) (ق (4/50: ” ان کے اجساد کو زمین کھا کھا کر کم کرتی جاتی ہے ہمیں اس کا علم ہے اور ہمارے پاس محفوظ رکھنے والی ایک کتاب موجود ہے۔ “
(ان ھی الا حیاتنا الدنیا نموت ونحیا) “ بس یہ دنیا کی زندگی ہے ہم مرتے اور جیتے رہتے ہیں۔ “ یعنی کچھ لوگ مرجاتے ہیں اور کچھ لوگ زندہ رہتے ہیں ( وما نحن بمبعوزین) ” اور ہمارے مرنے کے بعد ہمیں دوبارہ زندہ کر کے نہیں اٹھایا جْہے گا۔ “
پس جب ان کا کفر بہت بڑھ گیا اور انزار نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔ تو ان کے نبی نے ان کے لیے بددعا کی ‘ اس نے کہا : (رب انصرنی بما گذبون) “ اے میرے رب ! میری مدد فرما بسبب اس کے جو انہوں نے مجھے جھٹلایا۔ “ ان کو ہلاک کر کے اور آخرت سے پہلے دنیا میں ان کو رسوا کر کے ‘ ( قال) اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا : (عما قلیل لیصبحن ندمین فاحدتھم الصیحۃ بالحق) ” بہت ہی جلد یہ اپنے کیے پر پچھتانے لگیں گے ‘ پس ان کو چیخ نے پکڑ لیا حق ( عدل) کے ساتھ۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ظلم وجور سے نہیں پکڑا بلکہ اس کی پکڑ ان کے ظلم اور اس کے عدل کی وجہ سے ہوئی ‘ چنائچہ ایک زبر دست چنگھاڑ نے ان کو آلیا ( فجعلنھم غشاء) یعنی ہم نے ان کو خشک بھوسہ بنا کر رکھ دیا ایسے لگتا تھا جیسے کوڑے کرکٹ کو سیلاب نے وادی کے کناروں پر پھینک دیا ہو ‘ ایک اور آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (انا ارسلنا علیھم صیحۃ واحدۃ فکالو کھشیم المحتظر) (القمر : (31/54” ہم نے ان پر عذاب کے لیے ایک زبردست چیخ بھیجی اور وہ ایسے ہوگئے جسے ٹوٹی ہوئی باڑ “ اور فرمایا : ( فبعد للقوم الظلمین) ” پس دوری ہے ظالم لوگوں کے لیے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب کے ساتھ ‘ اس کی رحمت سے محرومی ‘ اس کی لعنت اور جہانوں کی مذمت بھی ان کے حصے میں آئی ’ فما بکت علیھم السماہ والارض وما کانوا منظرین) (الدخان (29/44;” پس ان پن آسمان رویا نہ زمین اور نہ ان کو مہلت دی گئی۔ “ (آیت (42
یعنی ان جھٹلانے والے معاندین حق کے بعد ہم نے دوسری قومیں پیدا کیں ‘ ہر قوم وقت مقرر اور مدت معین کے لیے برپا کی گئی ‘ اس نے ایک لمحہ کے لیے آگے پیچھے نہیں ہوسکتی۔ پھر ان میں پے درپے رسول بھیجے ‘ شاید کہ وہ ایمان لے آئیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں۔ مگر کفر اور تکزیب نافرمان ‘ کافر اور باغی قوموں کا وتیرہ بنا رہا۔ کسی قوم کے پاس جب بھی ان کا رسول آتا ‘ وہ اس کو جھٹلاتے رہے ‘ حالانکہ وہ ان کے پاس ایسی ایسی نشانیاں لے کر آتا جو انسان کے بس سے باہر تھیں بلکہ ان رسولوں کی مجرد دعوت اور شریعت ہی اس چیز کی حقانیت پر دلالت کرتی تھی جو وہ لے کر آتے رہے۔ ( فاتبعنا بعضھم بعضا) “ پس پیچھے لگایا ہم نے بعض کو بعض کے۔ “ ہلاک کرنے میں ‘ یعنی یکے بعد دیگرے سب کو ہلاک کردیا۔ پس ان میں سے کوئی قوم باقی نہ رہی اور ان کے بعد ان کے گھر اجڑگئے ( و جعلنھم احادیث) ” اور ہم نے ان کو قصے کہانیاں بنا کر رکھ دیا “ جن کو بیان کیا جاتا ‘ جو اہل تقویٰ کے لیے عبرت مکذبین کے لیے عقوبت اور خود ان کے لیے عذاب اور رسوائی ہے۔ (فبعد القوم لا یومنون) ” پس دوری ہے اس قوم کے لیے جو ایمان نہیں لاتی۔ “ کتنے بدبخت ہیں وہ اور ان کی تجارت کس قدر خسارے کی تجارت ہے۔ (آیت (45 صفحہ 22
بہت عرصے کی بات ہے ‘ کسی اہل علم کا قول میری نظر سے گزرا ہے ‘ جن کا نام اس وقت مجھے یاد نہیں۔۔۔۔ کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت اور تورات کے نزول کے بعد اللہ تعالیٰ نے قوموں پر سے عذاب کو اٹھایالیا ‘ یعنی وہ عذاب جو ان کا جڑ سے خامہ کردیتا تھا اور اس کی جگہ اللہ تعالیٰ نے مکذبین و معاندین حق کے خلاف جہاد مشروع کیا۔ معلوم نہیں انہوں نے یہ رائے کہاں سے اخذ کی ہے لیکن جب میں نے ان آیات کو سورة القصص کی آیات کے ساتھ ملا کر غور کیا تو میرے سامنے اس کا سبب واضح ہوگیا کہ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے پے درپے ہلاک ہونے والی قوموں کا ذکر فرمایا پھر آگاہ فرمایا کہ اس نے ان قوموں کے بعد حضرت موسٰی (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھجا ان پر تورات نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے راہنمائی تھی اور فرعون کی ہلاکت سے اس نقطہ نظر کی تردید نہیں ہوتی کیونکہ فرعون نزول تورات سے پہلے ہلاک ہوگیا تھا۔ رہی سورة القصص کی آیات ‘ تو وہ نہایت واضح ہیں کیونکہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کی ہلاکت کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : ( ولقد اتینا موسیٰ الکتب من بعد ما اھلکنا القرون الاولی بصائر للناس وھدی ورحمۃ لعلھم یتذکرون) (القصص (43/28” پچھلی قوموں کو ہلاک کردینے کے بعد ہم نے موسٰی کو کتاب سے نوازا ‘ لوگوں کے لیے بصیرت ‘ ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ شاید وہ نصیحت پکڑیں۔ ” اس آیت کریمہ میں صراحت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان باغی اور سرکش قوموں کی ہلاکت کے بعد موسٰی (علیہ السلام) کو تورات عطا فرمائی اور آگاہ فرمایا کہ یہ کتاب لوگوں کے لیے بصیرت ‘ ہدایت اور رحمت کے طور پر نازل کی گئی ہے۔
شاید وہ آیات بھی اسی پر دلالت کرتی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے سورة یونس میں ذکر فرمایا ہے : (آیت ثم بعثنا من بعدہ رسلا الی قومھم فجاء و ھم بالبینت فما کانو لیومنوا بما گذبو بہ من قبل گذالک نطبع علی قلوب المعتدین ثم بعثنا من بعدھم موسیٰ و ھرون) (یونس : (75, 74/10” پھر نوح کے بعد ہم نے دیگر رسولوں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا وہ ان کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے مگر جس کو انہوں نے پہلے جھٹلا دیا تھا وہ اب بھی اس پر ایمان نہ لائے ہم اسی طرح حد سے گزر جانے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں ‘ پھر ان کے بعد ہم نے موسٰی ( عمران ‘ کلیم اللہ) کو بھیجا “ ( واخاہ ھرون) “ اور ( ان کے ساتھ) ان کے بھائی ہارون کو ‘ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی کہ حضرت ہارون کو نبوت کے معاملے میں ان کے ساتھ شریک کیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی۔ (بایتنا) ” اپنی نشانیوں کے ساتھ۔ “ جو ان کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتی تھیں ( وسلطن مبین) “ اور واضح برہان کے ساتھ۔ “ ان دلائل میں ایسی قوت تھی کہ وہ دلوں پر غالب آجاتے اور اپنی قوت کی بنا پر دلوں میں گھر کرلیتے اور اہل ایمان کے دل ان کو مان لیتے اور معاندین حق کے خلاف حجت قائم ہوجاتی۔
اور یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مانند ہے۔ ( ولقد اتینا موسا تسع ایت بینت) (بنی اسرائیل (101/17; ” اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو نوکھلی کھلی نشانیاں عطا کیں۔ “ اس لیے معاندین حق کے سردار فرعون نے ان کو پہچان لیا لیکن عناد کا راستہ اختیار کیا۔ ( فسعل بنی اسرائیل اذا اجاء ھم) “ آپ بنی اسرائیل کے سردار فرعون نے ان کو پہچان لیا لیکن عناد کا راستہ اختیار کیا۔ ( وسعل بنی اسرائیل اذا جاھم) “ آپ بنی اسرائیل سے پوچھ لیجیے ! جب موسیٰ یہ نشانیاں لے کر ان کے پاس آئے “ ( فقال) تو فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا ( انی لا ظلنک یموسی سحورا) ( بنی اسرائیل : (101/17” اے موسیٰ ! میں تو تجھے سحر زدہ خیال کرتا ہو۔ “ ( قال لقد علمت ما انزل ھو لاء الا رب السموت والارض بصائر وانی لا ظنک یفرعون مثبورا) ( بنی اسرائیل : (102/17” موسیٰ نے کہا : تو جانتا ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں اللہ کے سوا کسی نے نازل نہیں کیں۔ اے فرعون ! میں سمجھتا ہوں کہ تو ضرور ہلاک ہونے والا ہے۔ “ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( وجحدو بھا و استیقنتھا انفسھم ظلم و علو) (النمل (14/27“ انہوں نے محض ظلم اور تکبر کی بنا پر ان نشانیوں کو جھٹلایا حالانکہ ان کے دلوں نے ان کو مان لیا تھا۔ “
یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( ثم ارسلنا موسیٰ و اخاہ ھرون با یاتنا وسلطن مبین الی فرعون و ملاۂ ) ” پھر ہم نے بھیجا موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیوں اور واضح برہان کے ساتھ ‘ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔ “ مثلاً ہامان اور دیگر سرداران قوم۔ ( فاستکبرون) پس تکبر کی بنا پر وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لائے اور اس کے انبیاء کے ساتھ تکبر سے پیش آئے۔ ( وکانو قوما عالین ) “ اور تھے وہ سرکش لوگ۔ “ یعنی ان کا وصف غلبہ ‘ قہر اور فساد فی الارض تھا اس لیے ان سے تکبر صادر ہوا اور اسے وہ کوئی بری بات نہیں سمجھتے تھے۔
(فقالو) انہوں نے تکبر اور غرور سے ضعیف العقل لوگوں کو ڈراتے اور فریب کاری کرتے ہوئے کہا : ( انومن لبشرین مثلنا) ” کیا ہم اپنے جیسے دو انسانوں پر ایمان لے آئیں ؟ “ جیسا کہ ان سے پہلے لوگ بھی ایسے ہی کہا کرتے تھے چونکہ کفر میں ان کے دل ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے تھے۔ اس لیے ان کے اقوال و افعال بھی ایک دوسرے کے مشابہ تھے ‘ چناچہ اللہ تعالیٰ نے رسالت کے ذریعے سے ان پر جو عنایت کی انہوں نے اسے جھٹلایا دیا ( وقومھما) “ اور ان دونوں کی قوم “ یعنی بنی اسرائیل ( لنا ععبدون) ” ہمری غلام ہے۔ “ یعنی وہ پر مشقت کام سر انجام دینے کے لیے ہمارے مطیع ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( واض نجینکم) آیت البقرہ : (49/2” یاد کرو وہ وقت جب ہم نے تمہیں آل فرعون سے نجات دی وہ تمہیں بہت عذاب دیتے تھے۔ تمہارے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتے تھے اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ رکھتے تھے۔ اس میں تمہارے رب کی طرف سے بہت بڑی آزمائش تھی۔ “ پس ہم ان کے متبوع ( پیشوا) ہوتے ہوئے ان کے تابع کیسے بن سکتے ہیں ؟ اور یہ ہم پر سردار کیسے ہوسکتے ہیں ؟
ان کے قول کی نظیر نوح (علیہ السلام) کی قوم کا یہ قول ہے ( انومن لک واتبعک الارذنون) ( الشعراء : (111/26” کیا ہم تجھے مان لیں حالانکہ تیری پیروی تو رذیل لوگوں نے کی ہے۔ “ ( وما نرک اتبعک الا الذین ھم ارادلنا بادی الرای) ( ھود (27/11 ہم دیکھ رہے ہیں کہ صرف انہیں لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہماری قوم میں رذیل اور چھچھورے تصور کئے جاتے ہیں۔ “ اور یہ بات واضح ہے کہ حق کو رد کرنے کے لیے یہ بات درست نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ یہ تکذیب اور عناد ہے ‘ اس لیے فرمایا ( فکذبوھما فکانو من المھلکین) ” پس انہوں نے ان دونوں کو جھٹلایا اور وہ بھی ہلاک شدہ لوگوں میں ہوگئے۔ “ یعنی بنی اسرائیل کے آنکھوں دیکھتے سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔
(و لقد اتینا موسیٰ الکتب) ” اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب۔ “ جب اللہ تعالیٰ نے فرعون کو ہلاک کر کے اسرائیلی قوم کو موسیٰ (علیہ السلام) کی معیت میں نجات بخشی تب موسیٰ (علیہ السلام) کو قوت اور طاقت حاصل ہوئی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم اور اس کے شعائر کو غالب کریں تو اللہ تعالیٰ نے آپ سے وعدہ فرمایا کہ وہ آپ پر چالیس دن میں تورات نازل کرے گا۔ موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب کے مقرر کردہ وقت پر پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( وکتبنا لہ فی الالواح من کل شیء موعظۃ و تفصیلا لکل شیء) (الاعراف : (145/7 ” اور ہم نے ہر چیز کے متعلق نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل اس کے لیے تختیوں پر لکھ دی “ بنا بریں یہاں فرمایا : ( لعلھم یھتدوں) ” تاکہ وہ ہدایت پائیں۔ “ یعنی امرو نہی اور ثواب و عقاب کی تفاصیل کی معرفت حاصل کر کے شاید راہ راست پر گامزن ہوجائیں اور اپنے رب کے اسماء وصفات کی بھی معرفت حاصل کریں۔
Ayah 23:50آیت (50) ۔
وجعلنا ابن مریم و امۃ ایۃ) یعنی ہم نے عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام) پر احسان کیا ‘ ان کو اور ان کی والدہ کو انتہائی تعجب انگیز نشان بنادیا کیونکہ حضرت مریم (علیہ السلام) نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بغیر باپ کے اپنے پیٹ میں رکھا اور پھر آپ کو جنم دیا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے گہوارے میں کلام کیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر بڑے بڑے معجزات دکھائے۔ ( و اوینھما الی ربوۃ) یعنی ہم نے ان دونوں کو ایک بلند مقام پر پناہ دی اور یہ اس وقت کی بات ہے۔۔۔ واللہ اعلم۔۔۔۔ جب حضرت جناب مریم (علیہ السلام) نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو جنم دیا۔ ( ذات قرار) یعنی آرام دہ ٹھکانا ( ومعین) یعنی جاری چشمے کا پانی اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے۔ ( قد جعل ربک تحتک) ” کردی ہے تیرے رب نے تیرے نیچے “ یعنی اس جگہ سے بہت نیچے جہاں حضرت مریم (علیہ السلام) نے پناہ لی تھی اور یہ اس لیے کہا گیا کیونکہ آپ بلند جگہ پر تھیں۔ ( سریا) یعنی ندی اور وہ چشمے کا بہتا ہوا پانی ہے۔ ( وھذی الیک بجدع النخلۃ تسقط علیک رطبا جن یا فکلی واشربی وقزی عینا) ( مریم : (26, 24/19” تو کھجور کے تنے کو ہلا تجھ پر تازہ کھجوریں گریں گی۔ کھا ‘ پی اور اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کر ‘
Ayahs 23:51–56آیت (51)
(یا ایھا الرسل کلو من الطیبت واعملوا صالحا انی بما تعملون علیم ) ” اے رسولو ! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو ‘ بیشک میں تمہارے عملوں کو خوب جانتا ہوں۔ “ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے انبیاء و رسل کو حکم ہے کہ وہ پاک اور حلال رزق کھائیں اور اعمال صالحہ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائیں یہ اعمال صالحہ قلب و بدن اور دنیا و آخرت کی اصلاح کرتے ہیں ‘ نیز اللہ تعالیٰ نے ان کو خبر دار کیا ہے کہ وہ ان کے اعمال سے آگاہ ہے ان کا ہر عمل اور ان کی ہر کوشش اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو ان اعمال کی کامل ترین اور افضل ترین جزا دے گا۔ پس یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ تمام انبیاء ومرسلین کھانے پینے کی تمام پاک چیزوں کی اباحت اور ناپاک چیزوں کی تحریم پر متفق ہیں نیز وہ تمام اعمال صالحہ پر بھی متفق ہیں۔ اگرچہ بعض مامورات کی جنس میں تنوع اور بعض شرائع میں اختلاف ہے تاہم ہر شریعت اعمال صالحہ پر مشتمل ہے۔ البتہ زمانے کے تفاوت کی بنا پر متفاوت ہیں ‘ اس لیے وہ تمام اعمال صالحہ جو ہر زمانے میں صلاح کے حامل تھے ان پر تمام انبیاء اور شریعتیں متفق ہیں مثلاً توحید الہٰی ‘ دین میں اخلاص ‘ محبت الہٰی ‘ خوف الٰہی اللہ پر امید ‘ نیکی ‘ صدق ‘ ایفائے عہد ‘ صلہ رحمی ‘ والدین کے ساتھ حسن لوک ‘ کمزوروں ‘ مسکینوں اور یتیموں کی دستگیری اور تمام مخلوق کے ساتھ مہربانی کا رویہ جیسے احکام۔
اس لیے تمام اہل علم ‘ کتب سابقہ اور عقل سلیم کے مالک محمد مصطفیٰ ﷺ کی نبوت پر ‘ آپ کے مامورات اور منہیات کی جنس کے ذریعے سے استدلال کرتے ہیں۔ جیسا کہ ہرقل نے استدلال کیا تھا کین کہ اگر آپ ﷺ ان امور کا حکم دیتے ہیں جن کا حکم آپ سے پہلے گزرے ہوئے انبیائے کرام دیتے رہے ہیں اور آپ ؓ ان چیزوں سے روکتے ہیں جن سے گزشتہ انبیائے کرا روکتے رہے ہیں تو یہ چیز اس بات کی دلیل ہے کہ یہ بھی انبیا ہے کرام کی جنس سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس ایک گذاب برائی کا حکم دے گا اور بھلائی سے روکے گا۔ بنا بریں انبیائے کرام سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( وان ھذا امتکم امۃ واحدۃ) اے رسولوں کے گروہ تمہاری جماعت ایک دین پر متفق ہے اور تمہارا رب بھی ایک ہے ( فاتقون) ” پس تم مجھ سے ڈرو “ میرے احکام کی تعمیل کر کے اور میرے زجرو توبیخ کے موجب امور سے اجتناب کر کے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو انہیں امور کا حکم دیا جن کا حکم اپنے رسولوں کو دیا کیونکہ اہل ایمان انبیاء و رسل کی پیروی کرتے ہیں اور انہیں کے راستے پر گامزن ہیں ‘ چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت (البقرۃ (972/2” اے اہل ایمان ! جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں عطا کی ہیں ‘ انہیں کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو اگر تم صرف اسی کی عبادت کرتے ہو۔ “ پس انبیائے کرام سے نسبت رکھنے والوں اور دیگر لوگوں پر واجب ہے کہ وہ اس حکم کی تعمیل کریں۔
بایں ہمہ جھٹلانے والے ظالم ‘ نافرمان ہی رہے اس لیے فرمایا : ( فتقطعو) ” پس کاٹ دیا۔ “ یعنی انبیاء و رسل کی اتباع کا دعویٰ کرنے والوں نے ( امرھم) یعنی اپنے دین کو ( بینھم زبرا) ” آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر کے “ ( کل حزب بما لدیھم) ” ہر گر وہ اس پر جو اس کے پاس ہے۔ “ یعنی ہر گر وہ اور فرقے کے پاس جو علم اور دین ہے (فرحون) وہ اسی پر خوش ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ حق پر ہے اور دیگر لوگ حق پر نہیں ہیں حالانکہ ان میں سے حق پر صرف وہی لوگ ہیں جو انبیاء کے راستے پر گامزن ہیں ‘ پاک چیزیں کھاتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں۔ ان کے سوا دیگر لوگ تو وہ باطل کی راہوں میں سرگرداں ہیں۔
(فذر ھم فی غمرتھم) ” پس چھوڑ دیجیے آپ ان کو ان کی غفلت ہی میں۔ ” یعنی انہیں حق کے بارے میں ان کی جہالت اور ان کے دعوؤں میں ‘ کہ وہ حق پر ہیں ‘ غلطاں چھوڑ دیجیے ( حتی حین) یعنی اس وقت تک جب تک کہ ان پر غذاب نازل نہیں ہوجاتا کیونکہ ان کو کوئی وعظ و نصیحت اور زجرو توبیخ فائدہ نہیں دے سکتی۔ یہ چیزیں انہیں فائدہ دے بھی کیسے سکتی ہیں جبکہ وہ اس زعم میں مبتلا ہوں کہ وہ حق پر ہیں اور اپنے اس مسلک کی طرف دوسروں کو دعوت دینے کے متمنی ہوں۔
(ایحسبون انما نمدھم بہ من مال و بنین نسارع لھم فی الخیرت) یعنی کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے مال اور اولاد میں ہماری طرف سے اضافہ ‘ اس امر کی دلیل ہے کہ وہ بھلائی اور سعادت سے بہرہ مند ہیں اور دنیا اور آخرت کی بھلائی انہیں کے لیے ہے ؟ یہ ان کا اپنا زعم باطل ہے حالانکہ معاملہ ایسے نہیں ہے۔ ( بل لا یشعرون) ” بلکہ وہ نہیں سمجھتے۔ “ کہ ہم ان کو ڈھیل اور مہلت دیے جا رہے ہیں اور ان کو نعمتوں سے نواز رہے ہیں وہ اس لیے کہ تاکہ وہ اپنے گناہوں میں اور اضافہ کرلیں اور آخرت میں اپنے عذاب کو بڑھالیں اور دنیا میں میں ان کو جو نعمتیں عطا ہوئیں ہیں انہیں سے مزے لیتے رہیں۔ (حتی اذا فرحو بما اوتو احذ نھم بغتۃ) (الانعام : (44/6” حتیٰ کہ جو کچھ ان کو عطا کیا گیا تھا ‘ اس سے بہت خوش ہوگئے ‘ تو ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا “
Ayahs 23:57–62(آیت (57
اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب ان لوگوں کا ذکر فرمایا جنہوں نے برائی اور امن کو جمع کیا اور سمجھتے رہے کہ دنیا میں ان پر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر بھی فرمایا جنہوں نے بھلائی اور خوف کو یکجا کیا ‘ چناچہ فرمایا : ( ان الذین ھم من خشیۃ ربھم مشفقو ون) ” بیشک جو لوگ اپنے رب کی ہیبت سے ڈرتے ہیں۔ “ یعنی ان کے دل اپنے رب کے خوف سے لرزاں ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے عدل کیا تو ان کے پاس کوئی نیکی باقی نہیں رہے گی اور انہیں اپنے بارے میں سوء ظن ہے کہ انہوں نے اللہ کے حق کو ادا نہیں کیا اور ایمان کے زوال کا خوف رہتا ہے ‘ انہیں اپنے رب کے بارے میں معرفت حاصل ہے کہ وہ کس اجلال و اکرام کا مستحق ہے ان کا یہ خوف انہیں گناہوں اور واجبات میں کوتاہی سے باز رکھتا ہے۔
(والذین ھم بایت ربھم یومنون) ” اور وہ جو اپنے رب کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں۔ “ یعنی جب ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے ’ نیز وہ آیات قرآنی میں تفکر و تدبر کرتے ہیں تو ان پر قرآن عظیم کی جلالت شان ‘ اس کی آیات و مضامین میں اتفاق اور ان میں عدم اختلاف اور عدم تناقض واضح ہوتا ہے اور وہ ان کو اللہ تعالیٰ اس کے خوف ‘ اس سے امید اور احوال جزا و سزا کی معرفت کی طرف دعوت دیتا ہے جس سے ان کو ایمان کی تفاصیل حاصل ہوتی ہیں۔ زبان جن کی تعبیر کرنے سے قاصر ہے۔ نیز وہ آیات آفاقی میں بھی غورو فکر کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( ان فی خلق السموت والارض واختلاف الیل والنھار لایت لاولی الالباب) ( اٰل عمران : (190/3” بیشک آسمانوں اور زمین کی تخلیق ‘ دن اور رات کے آنے جانے میں عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ “
(والذین ھم بربھم لا یشرکون) ” اور وہ جو اپنے رب کے ساتھ شرک نہیں کرتے۔ “ یعنی وہ کسی شرک جلی میں مبتلا نہیں ہیں مثلاً غیر اللہ کو معبود بنانا اس کو پکارنا اور اس سے امیدیں رکھنا اور نہ شرک خفی میں مبتلا ہیں ‘ مثلاً ریاء وغیرہ بلکہ وہ اپنے تمام اقوال ‘ اعمال اور احوال میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص رکھتے ہیں۔
(والذین یوتون ما اتوا) ” اور وہ لوگ جو دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں۔ “ یعنی جس چیز کا انہیں حکم دیا گیا ہے مقدور بھر اس کی تعمیل کرتے ہیں ‘ مثلاً نماز ‘ زکوٰۃ ‘ حج ‘ صدقہ وغیرہ (و) اس کے باوجود ( قلوبھم وجلۃ) ” اس کے دل خوف زدہ ہیں۔ “ (انھم الی ربھم رجعون) ” اس بات سے کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ “ یعنی اپنے رب کے سامنے حاضر ہونے وار اپنے اعمال کے اس کے سامنے پیش کئے جانے سے ڈرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دلانے کے قابل نہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ان کا رب کیسا اور کس قسم کی عبادات کا مستحق ہے۔
(اولئک یسرعون فی الخیرا) ” یہی لوگ ہیں جو جلدی کرتے ہیں بھلائیوں میں۔ “ یعنی وہ بھلائی کے کاموں کی طرف جلدی سے لپکتے ہیں ان کا عزم صرف اسی چیز پر مرتکز ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتی ہے اور ان کا ارادہ انہیں امور میں مصروف ہوتا ہے جو انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دیتے ہیں۔ ہر بھلائی جو وہ سنتے ہیں یا اس کی جب بھی انہیں فرصت ملتی ہے ‘ اٹھ کر اس کی طرف لپکتے ہیں وہ اولیاء اللہ ‘ اس کے چنیدہ بندوں کو اپنے آگے اور دائیں بائیں دیکھتے ہیں جو بھلائی کے کاموں میں لپکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے تقرب کے لیے سبقت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مسابقت کرنے والا جب کسی دوسرے سے مسابقت کرتا ہے تو کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد اور کوشش سے آگے نکل جاتا ہے اور کبھی اپنی کوتاہی کی بنا پر پیچھے رہ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں خبر دی ہے کہ یہ سبقت کرنے والے ہیں ‘ چناچہ فرمایا : (وھم لھا) ” اور وہ اس کے لیے۔ “ یعنی بھلائیوں کے لیے ( سبقون) ” دوڑتے ہیں۔ “ بلاشبہ وہ بھلائی کی چوٹی پر پہنچ گئے ہیں۔ وہ سب سے آگے نکلنے والے سے مسابقت کرتے ہیں ‘ نیز اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لیے سعادت لکھ دی گئی کہ وہ سبقت کرنے والے ہیں۔
جب اللہ تعالیٰ نے نیکیوں میں ان کی سرعت اور سبقت کا ذکر کیا تو اس سے کسی کو یہ وہم لاحق ہوسکتا تھا کہ ان سے اور دیگر لوگوں سے ایسے امور مطلوب ہیں جو ان کی مقدرت سے باہر یا بہت مشکل ہیں ‘ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ولا تکلف نفسا الا وسعھ)
” یعنی ہم ہر نفس کو بس اتنی ہی تکلیف دیتے ہیں جتنی اس کی قوت کے دائرے میں ہوتی ہے اور وہ تکلیف ایسی نہیں ہوتی جو اس کی پوری قوت کو صرف کر دے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت ہے تاکہ اس کے پاس پہنچنے کا راستہ ہو اور اہل سلوک کی راہیں ہر وقت آباد رہیں۔
(ولدینا کتب ینطق بالحق) ” اور ہمارے پاس کتاب ہے جو حق کے ساتھ بولتی ہے۔ “ اور وہ کتاب اول ہے جس میں ہر چیز درج ہے اور چونکہ جو کچھ اس میں درج ہے ہر چیز اس کے مطابق واقع ہوگی ‘ اس لیے یہ حق ہے۔ (وھم لا یظلمون) ” اور وہ ظلم نہیں کیے جائیں گے۔ “ یعنی ان کی نیکیوں میں کچھ کمی کی جائے گی نہ ان کی سزا اور گناہوں میں کوئی اضافہ ہوگا۔
Ayahs 23:63–67آیت (63
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ جھٹلانے والے ‘ اس بارے میں جہالت میں مبتلا ہیں یعنی جہالت ‘ ظلم ‘ غفلت اور روگردانی میں غلطاں ہیں یہ جہالت اور غفلت انہیں قرآن تک نہیں پہنچنے دیتی۔ پس یہ قرآن سے راہنمائی حاصل کرنے سے قاصر ہیں اور قرآن سے ان کے دلوں تک کچھ نہیں پہنچتا۔ فرمایا : ( آیت واذا قراتن القران) (بنی اسرآئیل : (49, 45/7” جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو آپ کے درمیان اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم ایک پردہ حائل کردیتے ہیں اور دلوں پر غلاف چڑھا دیتے ہیں کہ وہ کچھ نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی ڈال دیتے ہیں۔ “ اور جب ان کے دل غفلت اور جہالت میں مستغرق ہیں تو وہ اپنے حسب حال کفریہ اور شریعت کے خلاف اعمال بجا لائیں گے جو ان کے لیے عذاب کے موجب ہیں۔ (ولھم اعمال من دون ذلک) مگر انکے علاوہ بھی ان کے برے اعمال ہیں ( ھم لھا عملون) ” جنہیں وہ کرنے والے ہیں۔ “ یعنی وہ عذاب کے عدم وقوع پر تعجب نہ کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ انہیں مہلت فراہم کر رہا ہے تاکہ وہ ان اعمال بد کا ارتکاب بھی کرلیں جو باقی رہ گئے ہیں اور جو ان کے لیے درج کئے گئے ہیں۔ جب وہ ان اعمال بد کا پوری طرح ارتکاب کرلیں گے تو وہ بدترین حالت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے غضب اور غذاب میں منتقل ہوں گے۔
(ولھم اعمال من دون ذلک) مگر انکے علاوہ بھی ان کے برے اعمال ہیں ( ھم لھا عملون) ” جنہیں وہ کرنے والے ہیں۔ “ یعنی وہ عذاب کے عدم وقوع پر تعجب نہ کریں کین کہ اللہ تعالیٰ انہیں مہلت فراہم کر رہا ہے تاکہ وہ ان اعمال بد کا ارتکاب بھی کرلیں جو باقی رہ گئے ہیں اور جو ان کے لیے درج کئے گئے ہیں۔ جب وہ ان اعمال بد کا پوری طرح ارتکاب کرلیں گے تو وہ بدترین حالت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے غضب اور عذاب میں منتقل ہوں گے۔
(حتی اذا اخذنا متوفیھم) یعنی جب ہم نے ان لوگوں کو پکڑ لیا جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے متمتع ہیں جو صرف ناز و نعمت اور خوشحالی کے عادی ہیں اور انہیں کبھی کوئی تکلیف نہیں پہنچی۔ ( بالعذاب) ” عذاب کے ساتھ “ یعنی جب ہم نے ان کو عذاب کی گگرفت میں لے لیا اور انہیں نے بھی عذاب کو دیکھ لیا۔ (اذا ھم یجرون) تب وہ چیخنے اور چلانے لگے کیونکہ انہیں ایک ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا جو ان کی گزشتہ حالت سے مختلف تھی۔ وہ مدد کے لیے پکارنے لگے تو ان سے کہا گیا (لاتجرو الیوم انکم منا لا تنصرون) ” نہ چیخو چلاؤ آج ‘ تم ہاری طرف سے مدد نہیں کیے جاؤ گے۔ “ اور جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت نہ آئی اور اس کی جانب سے مدد منقطع ہوگئی تو وہ خود اپنی مدد کرنے پر قادر ہوئے نہ کوئی ان کی مدد کرسکا۔
گویا پوچھا گیا کہ وہ کون سا سبب ہے جس نے ان کو اس حال پر پہنچایا تو جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (قد کانت ایتی تتلی علیکم ) ” میری آیات پڑھی جاتی تھیں تم پر۔ “ تاکہ تم ان آیات پر ایمان لاؤ اور ان کی طرف توجہ کرو مگر تم نے ایسا نہ کیا بلکہ اس کے برعکس ( فکنتم علی اعقابکم تنکصون) ” تم پیچھے کی طرف الٹے پاؤں پھرتے رہے کیونکہ قرآن کی اتباع کے ذریعے سے لوگ آگے بڑھتے ہیں اور اس سے روگردانی کر کے پیچھے رہ جاتے ہیں اور پست ترین مقام پر جا اترتے ہیں۔
(مستکبرین بہ سمرا تھجرون) ” تکبر کرتے ہوئے ساتھ اس کے افسانہ گوئی کرتے ہوئے تم بیہودہ بکتے تھے۔ “ اصحاب تفسیر اس کا یہ معنی بیان کرتے ہیں کہ (مستکبرین بہ) میں ضمیر بیت اللہ یا حرم کی طرف لوٹتی ہے ‘ جو مخاطبین کے ہاں معہود (ذہن میں موجود) ہے یعنی تم حرم یا بیت اللہ کے سبب سے لوگوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ ہم اہل حرم ہیں بنا بریں ہم دوسروں سے اعلیٰ و افضل ہیں۔ (سمرًا) یعنی جماعت کی صورت میں رات کے وقت بیت اللہ کے گرد بیٹھ کر باتیں کرتے (تھجرون) یعنی تم اس قرآن عظیم کے بارے میں قبیح گفتگو کرتے تھے۔ پس قرآن کریم کے بارے میں اہل تکذیب کا طریقہ روگردانی پر مبنی تھا اور اسی طریقے کی وہ ایک دوسرے کو صیت کیا کرتے تھے۔ ( و : قال الذین کفرو لا تسمعوالھذا القران والغوا فیہ لعلکم تغلبون) (حمٓ السجدۃ : (26/41” وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا کہتے ہیں کہ اس قرآن کو مت سنو ‘ جب سنایا جائے تو مشور مچا دیا کرو شاید کہ تم غالب رہو “ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا : ( ام یقولون تقولہ) (الطور : (33/52” کیا کفار یہ کہتے ہیں کہ اپ نے یہ قرآن خود گھڑا لیا ہے ؟ “
وہ ان رذائل کے جامع تھے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان پر عذاب واجب ہوگیا اور جب یہ عذاب واقع ہوگیا تو ان کا کوئی حامی بنا جو ان کی مدد کرسکے نہ فریاددرس بنا ہوگا جو ان کو اس عذاب سے بچا سکے اس وقت ان کے اعمال بد کی بنا پر ان کی زجزو توبیخ کی گئی۔