Ayahs 20:115–121آیات (115)
یعنی ہم نے آدم (علیہ السلام) کو وصیت کی اسے حکم دیا اور اس سے عہد لیا کہ وہ اس پر قائم رہے۔ اس نے اس وصیت کا التزام کیا اس کے سامنے سر تسلیم خم کیا اور اس کو قائم کرنے کا عزم کیا مگر اس کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی وصیت کو بھول گیا اور اس کا مضبوط عزم ٹوٹ گیا تب اس سے ایسی لغزش صادر ہوئی جسے سب جانتے ہیں۔ پس وہ اپنی اولاد کے لئے عبرت بن گیا اور اولاد آدم کی طبیعت اور فطرت آدم (علیہ السلام) کی طرح ہوگئی آدم ( علیہ السلام) سے بھول ہوگئی اس کی اولاد بھی نسیان کا شکار ہوگئی آدم ( علیہ السلام) سے خطا ہوئی اور اولاد بھی غلطی کا ارتکاب کرتی ہے۔ آدم ( علیہ السلام) اپنے عزم پر قائم نہ رہ سکا اسی طرح اس کی اولاد اپنے عزم کو توڑ بیٹھتی ہے، آدم (علیہ السلام) نے اپنی خطا کا اعتراف اور اقرار کے کے فوراً توبہ کرلی اور اس کی خطا کو بخش دیا گیا، جو کوئی اپنے باپ کی مشابہت اختیار کرتا ہے اس پر ظلم نہیں کیا جاتا۔ پھر اس اجمال کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا :
Ayahs 20:122–127آیات (122)
یعنی جب اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کو مکمل کیا انہیں اشیاء کے نام سکھائے انہیں فضیلت اور تکریم بخشی اور ان کے اکرام و تعظیم اور ان کی جلالت شان کو تسلیم کروانے کے لئے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا اور فرشتے اس حکم کو مانتے ہوئے فوراً سجدہ ریز ہوگئے۔ ان فرشتوں کے اندر ابلیس بھی تھا اس نے تکبر کی وجہ سے اپنے رب کے حکم کو ماننے سے انکار کردیا اور آدم ( علیہ السلام) کو سجدہ نہ کیا۔ اس نے کہا : (انا خیر منہ خلقتنی من نار و خلقتہ من طین) (الاعراف : 7؍21) ” مَیں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی سے۔ تب آدم اور ان کی بیوی کے ساتھ حد کو پہنچی ہوئی اس کی عداوت ظاہر ہوئی۔ چونکہ شیطان اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے اور اس کا وہ حسد بھی ظاہر ہوگیا جو اس عداوت کا سبب تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) اور ان کی بیوی کو اس سے چوکنا رہنے کا حکم دیا۔ فرمایا : ( فلا یخر جنکما من الجنۃ فتشقی) اگر تمہیں جنت سے نکال دیا گیا تو تم بدنصیب ٹہرو گے کیونکہ جنت میں تمہارے لئے لامحدود رزق اور راحت کامل ہے۔
(ان لک الا تجوع فیھا ولا تعری) ۔ وانک لا تظموء فیھا ولا تضحی) یعنی وہاں تجھے سورج کی دھوپ نہیں لگے گی۔ وہاں دائمی طور پر مطعومات و مشروبات لباس اور پانی کی فراہمی تکان وغیرہ کی عدم موجودگی کی ضمانت ہوگی۔ البتہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک معین درخت کے قریب جانے سے روک دیا۔ فرمایا : (ولا تقربا ھذہ الشجرۃ فتکونا من الظلمین) (البقرۃ : 2؍53) تم دونوں اس درخت کے قریب مت جانا ورنہ ظالموں میں ہوجاؤ گے “۔
شیطان ان دونوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا رہا اور ان کے سامنے اس درخت کے پھل کے کھانے کو مزین کرتا رہا ‘ چناچہ وہ ان سے کہتا : (ھل ادلک علی شجرۃ الخلد) یعنی جو کوئی اس کو کھائے گا وہ ہمیشہ جنت میں رہے گا۔ (وملک لا یبلی) اور جب وہ اس درخت کا پھل کھالے گا تو ایسی بادشاہت حاصل ہوگی جو کبھی منقطع نہ ہوگی۔
دوسری آیت کریمہ یہ ہے۔ (ولم تری از الظلمون فی غمرت الموت والملکۃ باسطوا ایدیھم اخرجوا انفسکم الیوم تجزون عذاب الھون بما کنتھم تقولون علی اللہ غیر الحق و کنتھم عن ایتہ تشکبرون) (الانعام : 6/93) ” کاش آپ ان ظالموں کو اس وقت دیکھیں، جب یہ موت کی سختیوں میں ہوں گے اور فرشتے ان کی طرف ہاتھ بڑھا رہے ہوں گے۔ ( اور کہہ رہے ہوں گے) نکالو اپنی جان آج تمہیں انتہائی رسوا کن عذاب کی سزا دی جائے گی اس کا سبب یہ ہے کہ تم اللہ پر جھوٹ باندھا کرتے تھے اور تم اس کی آیتوں کے ساتھ تکبر کیا کرتے تھے “۔
تیسری آیت کریمہ یہ ہے۔ (ولنذیقھم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر لعلھم یرجعون) (المسجدۃ : 32/21) ” ہم ان کو قیامت کے بڑے عذاب سے کمتر عذاب کا مزا بھی چکھائیں گے، شاید کہ وہ لوٹ آئیں “۔
چوتھی آیت کریمہ یہ ہے (النار یعرضون علیھا غدوا وعشیاء و یوم تقوم الساعۃ ادخلوا ال فعون اشد العذاب) (المومن : 30/36) ” انہیں صبح و شام آگ کے عذاب کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور جس روز قیامت برپا ہوگی اس روز کہا جائے گا کہ آل فرعون کو شدید ترین عذاب میں داخل کردو “۔
جو چیز سلف میں سے بعض مفسرین کے لئے، اس آیت کریمہ کو عذاب قبر پر محمول کرنے اور صرف اسی پر اقتصار کرنے کی موجب بنی۔۔۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔۔۔ وہ ہے آیت کریمہ کا آخر۔ اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ کے آخر میں قیامت کے عذاب کا ذکر کیا ہے۔
اور بعض مفسرین کی رائے ہے کہ ” تنگ معیشت “ عام ہے یعنی اپنے رب کے ذکر سے روگردانی کرنے والوں پر دنیا میں غم و ہموم اور مصائب و آلام کے جو پہاڑ ٹوٹتے ہیں، وہ عذاب معجل ہے۔ برزخ میں بھی ان کو عذاب میں ڈالا جائے گا اور آخرت میں بھی عذاب میں داخل ہوں گے کیونکہ ” تنگ معیشت “ کو بغیر کسی قید کے مطلق طور پر بیان کیا گیا ہے۔
(ونحشرہ) ” اور اکٹھا کریں گے ہم اس کو “۔ یعنی اپنے رب کے ذکر سے اعراض کرنے والے اس شخص کو ( یوم القیمۃ اعمی) قیامت کے روز اندھا اٹھائیں گے۔۔۔ اور صحیح تفسیر یہی ہے۔۔۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (ونحشر ھم یوم القیمۃ علی وجوھم عمیا و بکما وصما) (بنی اسرائیل : 18/98) ” اور قیامت کے روزان لوگوں کو اندھے، گونگے اور بہرے ہونے کی حالت میں، اوندھے منہ اکٹھا کریں گے “۔ وہ نہایت ذلت، الم اور اس حالت پر تنگ دلی کے ساتھ کہے گا : (رب لم حشرتنی اعمی و قد کنت بصیرا) ” اے میرے رب ! کس بنا پر میری یہ بری حالت ہے میں تو دنیا میں آنکھوں والا تھا ؟ “ (قال کذلک اتتک ایتنا فنسیتھا) ” اللہ کہے گا، اسی طرح تیرے پاس ہماری آیتیں آئی تھیں، تو تو نے ان کو بھلا دیا تھا “۔ یعنی تو نے روگردانی کے ذریعے سے ان کو فراموش کردیا۔ (وکذلک الیوم تنسی) ” اور اسی طرح آج تجھے بھلا دیا جائے گا “۔ یعنی تجھے عذاب میں چھوڑ دیا جائے گا۔ پس جواب دیا گیا کہ یہ بعینہ تیرا معل ہے کیونکہ جزا عمل ہی کی جنس سے ہوتی ہے۔ جس طرح تو نے اپنے رب کے ذکر کے بارے میں اندھے پن کا مظاہرہ کرکے اس سے منہ موڑا، اسے فراموش کیا اور اس میں سے اپنے حصے کو بھول گیا، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے تجھے آخرت میں اندھا کردیا ہے، تجھے اندھا بہرہ اور گونگا بنا کر جہنم کی طرف سے لے جایا گیا اور اللہ تعالیٰ نے تجھے جہنم میں جھونک کر تجھ سے منہ پھیرلیا۔
(وکذلک) یعنی یہ جزا (نجزی من اسرف) اس شخص کے لئے ہے جس نے حدود سے تجاوز کیا اور جن امور کی اجازت دی گئی ہے ان سے آگے بڑھ کر محرمات کا مرتکب ہوا (ولم یومن بایت ربہ) اور جو اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہ لایا جو تمام مطالب ایمان پر واضح طور پر اور صراحت کے ساتھ دلالت کرتی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس پر ہرگز ظلم نہیں کیا اور نہ غیر مستحق کو سزا دی ہے، بلکہ اس کا سبب تو صرف اسکا اسراف اور عدم ایمان ہے۔ (ولعذاب الاخرۃ اشد) دنیا کے عذاب کے برعکس آخرت کا عذاب کئی گنا زیادہ سخت ہوگا۔ (وابقی) اور دنیا کے عذاب کے برعکس آخرت کا عذاب کبھی ختم نہ ہوگا، کیونکہ دنیا کا عذاب تو کبھی نہ کبھی منقطع ہوجاتا ہے۔ پس آخرت کے عذاب سے ڈرنا اور اس سے بچنا واجب ہے۔
Ayahs 20:128–129آیت 128
ان جھٹلانے والوں اور آیات الٰہی سے روگردانی کرنے والوں کو، اس عذاب نے راہ ہدایت پر گامزن ہونے، گمراہی اور فساد کی راہ سے اجتناب کرنے پر آمادہ نہیں کیا، جو گزشتہ قوموں اور ایک دوسرے کے پیچھے آنے والی امتوں پر نازل ہوا ؟ یہ ان کے واقعات کو خوب جانتے ہیں، ان کے واقعات کو ایک دوسرے سے نقل کرتے چلے آرہے ہیں اور ان قوموں کے مسکن اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں، مثلاً ہود، صالح اور لوط (علیہ السلام) کی قوموں کے اجڑے ہوئے مسکن۔ انہوں نے جب ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور ہماری کتابوں سے روگردانی کی تو ہم نے ان پر دردناک عذاب نازل کردیا۔
کس چیز نے ان کو بےخوف کیا ہے کہ جو عذاب ان قوموں پر نازل ہوا تھا ان پر نازل نہیں ہوگا ؟ (اکفار کم خیر من اولیکم ام لکم براۃ فی الذبر۔ ام یقولون نحن جمیع منتصر) (القمر : 53/33۔ 33) ” کیا تمہارے کفار ان گزرے ہوئے لوگوں سے بہتر ہیں یا تمہارے لئے (گزشتہ) کتابوں میں براءت لکھ دی گئی ہے یا وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم بڑے مضبوط ہیں “۔ یعنی ان میں سے کوئی چیز بھی ان پر صادق نہیں آتی۔ یہ کفار ان کافروں سے کسی لحاظ سے بھی بہتر نہیں کہ ان سے عذاب کو ٹال دیا جائے بلکہ یہ ان سے زیادہ شریر اور برے لوگ ہیں کیونکہ انہوں نے افضل ترین رسول ﷺ اور بہترین کتاب کی تکذیب کی ہے اور نہ ان کے پاس کوئی تحریری براءت نامہ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی عہد نامہ ہے۔۔۔ اور ایسا بھی نہیں ہوسکتا جیسا کہ وہ کہتے ہیں کہ ان کی قوم انہیں کوئی فائدہ دے گی اور ان سے عذاب کو دور کر دے گی، بلکہ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ یہ ان سے زیادہ ذلیل اور ان سے زیادہ حقیر ہیں۔
پس گزشتہ قوموں کو ان کی کرتوتوں کی پاداش میں ہلاک کرنا، ہدایت کے اسباب میں سے ہے، کیونکہ یہ ان رسولوں کی رسالت کی، جو ان کے پاس آئے، صداقت کی اور ان قوموں کے موقف کے بطلان کی دلیل ہے، مگر ہر شخص آیات الٰہی سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا صرف وہی لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جن کو عقل و دانش سے نوازا گیا ہے، یعنی عقل سلیم، فطرت مستقیم اور ذہن جو انسان کو ان امور سے روکتے ہیں جو اس کے لئے مناسب نہیں۔
Ayah 20:130آیت 130
یہ رسول اللہ ﷺ کے لئے تسلی اور صبر کی ترغیب ہے کہ وہ ان جھٹلانے اور روگردانی کرنے والوں کے لئے جلدی ہلاکت کی خواہش نہ کریں۔ ان کا کفر اور تکذیب، ان پر عذاب نازل ہونے کے لئے ایک معقول سبب ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سزاؤں کے لئے سبب مقرر کیا ہے جو گناہوں سے جنم لیتا ہے اور ان لوگوں نے نزول عذاب کے اسباب پیدا کردیئے ہیں مگر جس چیز نے اس عذاب کو موخر کر رکھا ہے وہ ہے اللہ تعالیٰ کا حکم جو مہلت دینے اور وقت مقرر کرنے کو متضمن ہے۔ وقت کا مقرر ہونا اور اللہ تعالیٰ کے حکم کا نفاذ، نزول عذاب کو اس وقت کے آنے تک کے لئے موخر کردیتا ہے۔ شاید کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف رجوع کریں، اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کرلے اور عذاب کو ان سے دور کر دے جب تک کہ اللہ کا کلمہ ان پر ثابت نہ ہوجائے۔
اس لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا کہ وہ ان کی قولی اذیتوں پر صبر کرے اور اس کے مقابلے میں ان اوقات فاضلہ میں رب کی تسبیح و تمحید سے مدد لے۔۔۔ یعنی طلوع آفتاب اور غروب آفتاب، دن کے کناروں پر، یعنی اس کے اوائل اور اواخر میں۔۔۔ یہ خصوص کے بعد عموم کا ذکر ہے۔۔۔ نیز رات کے اوقات اور اس کی گھڑیوں میں۔ اگر آپ ﷺ اس پر عمل پیرا ہوئے تو شاید آپ ﷺ اپنے رب کے عطا کردہ دنیاوی اور اخروی ثواب پر راضی ہوجائیں، آپ کو اطمینان قلب حاصل ہو، اپنے رب کی عبادت سے آپ آنکھیں ٹھنڈی کریں اور ان کی اذیت رسانی پر اس عبادت کے ذریعے سے دل کو تسلی ہو تب آپ ﷺ کے لئے صبر بہت آسان ہوجائے گا۔
Ayah 20:131آیت 131
یعنی دنیا اور اس کی متاع، مثلاً لذیذ ما کو لات و مشروبات، ملبوسات فاخرہ، آراستہ کئے ہوئے گھروں اور حسین و جمیل عورتوں سے حظ اٹھانے والوں کے احوال کو استحسان اور پسندیدگی کی نظر سے دوبارہ نہ دیکھیں، اس لئے کہ یہ سب کچھ دنیا کی خوبصورتی ہے اور اس سے صرف فریب خوردہ لوگ ہی خوش ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے روگردانی کرنے ولاوں کی نظریں ہی اسے پسندیدگی سے دیکھتی ہیں۔ آخرت سے قطع نظر کرکے، صرف ظالم لوگ ہی اس سے متمتع ہوتے ہیں۔ پھر یہ دنیا سب کی سب، تیزی سے گزر جاتی ہے، اپنے چاہنے والوں اور عشاق کو بےموت مار دیتی ہے۔ پس دنیا سے محبت کرنے والے لوگ اس وقت نادم ہوں گے جب ندامت کوئی فائدہ نہیں دے گی اور قیامت کے روز جب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں گے تب انہیں اپنی بےمائیگی کا علم ہوگا۔
اللہ تعالیٰ نے تو اس دنیا کو فتنہ اور آزمائش بنایا ہے تاکہ معلوم ہو کہ کون اس کے پاس ٹھہرتا اور اس کے فریب میں مبتلا ہوتا ہے اور کون اچھے عمل کرتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (انا جعلنا ما علی الارض زینۃ لھا لنبلوھم ایھم احسن عملا۔ و انا لجعلون ما علیھا صعیداً اجرزا) (الکھف : 18/8۔ 7) ” جو کچھ زمین پر موجود ہے اس کو ہم نے زمین کی زینت بنایا ہے تاکہ ہم ان کو آزمائیں کہ ان میں سے کون اچھے کام کرتا ہے۔ پھر جو کچھ اس زمین پر ہے ہم سب کو ایک چٹیل میدان بنا دینے والے ہیں “۔
(ورزق ربک) ” وار تیرے رب کا رزق “ دنیاوی رزق یعنی علم، ایمان اور عمال صالحہ کے حقائق، اخروی رزق یعنی ہمیشہ رہنے والی نعمتیں اور رب رحیم کے جوار رحمت میں سلامتی سے بھرپور زندگی۔ (خیر) اپنی ذات وصفات میں اس زندگی سے بہتر ہے جو ہم نے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے (وابقی) ” اور پائدار ہے ” کیونکہ اس کے پھل کبھی ختم نہ ہوں گے اور اس کے سائے دائمی ہوں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (بل توثرون الحیوۃ الدنیا والاخرۃ خیروابقی) (الاعلی : 87/16۔ 18) ” مگر تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، حالانکہ آخرت کی زندگی بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے “۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ بندہ جب دیکھے کہ اس کا نفس سرکشی اختیار کرکے دنیا کی زیب وزینت کی طرف مائل اور متوجہ ہے تو وہ اپنے رب کے اس رزق کو یاد کرے جو آئندہ زندگی میں اسے عطا ہونے والا ہے۔ پھر ان دونوں کے درمیان موازنہ کرے۔
Ayahs 20:132–134آیت 132
اپنے گھر والوں کو نماز کی ترغیب دیجئے، انہیں فرض اور نفل نماز پڑھنے کا حکم دیتے رہیے اور کسی چیز کا حکم دینا ان تمام امور کو شامل ہے جن کے بغیر سا چیز کی تکمیل نہیں ہوتی۔ پس یہ حکم، اپنے گھر والوں کو نماز کے بارے میں ان امور کی تعلیم دینا ہے جو نماز کی اصلاح کرتے ہیں، جو نماز کو فاسد کرتے ہیں اور جو نماز کی تکمیل کرتے ہیں۔ (واصطبرعلیھا) ” اور خود بھی اس پر جمے رہیے۔ “ یعنی نماز پر، اس کی تمام حدود، اس کے ارکان، اس کے آداب اور اس کے خشوع و خضوع کے ساتھ۔ کیونکہ اس میں نفس کے لئے مشقت ہے۔ تاہم مناسب یہی ہے کہ دائمی طور پر نفس کو نماز پڑھنے پر مجبور اور اس کے ساتھ جہاد کرتے رہنا چاہیے اور اس پر صبر کرنا چاہیے کیونکہ بندۂ مومن جب اس طریقے سے نماز قائم کرتا ہے جس طریقے سے قئام کرنے کا اسے حکم دیا گیا ہے تو نماز کے علاوہ دیگر دین کی حفاظت کرنے اور اس کو قائم کرنے کی اس سے زیادہ توقع کی جاسکتی ہے۔ اگر وہ نماز کو ضائع کرتا ہے تو دیگر دین کو زیادہ برے طریقے سے ضائع کرے گا۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو رزق کی ضمانت دی اور ترغیب دی کہ آپ اقامت دین کو چھوڑ کر حصول رزق میں مشغول نہ ہوں۔ چناچہ فرمایا : (نحن نرزقک) یعنی آپ کا رزق ہمارے ذمہ ہے ہم نے جس طرح تمام خلائق کے رزق کی کفالت اپنے ذمہ لی ہے اسی طرح آپ کے رزق کی کفالت بھی ہمارے ذمہ ہے۔ اس شخص کے رزق کی ذمہ داری ہم پر کیسے نہ ہو جو ہمارے حکم کی تعمیل کرتا ہے اور ہمارے ذکر میں مشغول رہتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ کا رزق متقی اور غیر متقی سب کے لئے عام ہے، اس لئے ان امور کا اہتمام کرنا چاہیے جن پر ابدی سعادت کا دارومدار ہے اور وہ ہے تقویٰ ، لہٰذا فرمایا : (والعاقبۃ) یعنی دنیا و آخرت کا انجام (للتقویٰ ) تقویٰ کے لئے ہے اور تقویٰ سے مراد ہے مامورات کی تعمیل اور منہیات سے اجتناب اور جو کوئی ان کو قائم کرتا ہے، انجام اسی کا اچھا ہے جیسا کہ فرمایا : (والعاقبۃ للمتقین) (الاعراف : 8/128) ” اور اچھا انجام متقین کا ہے “۔
Ayah 20:135آیت 135
رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرنے والے آپ سے کہتے ہیں کہ آپ کے رب کی طرف سے ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی ؟ نشانی سے ان کی مراد معجزات ہیں۔ یہ بات ان کے اس قول کی مانند ہے (و قالوالن نومن لک حتی تفجرلنا من الارض ینبوعا۔ اوتکون لک جنۃ من نخیل و عنب فتفجر الانھر خللھا تفجیرا۔ اوتکون لک جنتۃ من نخیل و عنیب فتفجر الانھ خللھا تفجیرا۔ اوتسقط المساء کمازعمت علینا کسفا اوتاتی باللہ و الملکۃ قبیلا) بنی اسرائیل : (18/۔ 90۔ 92) ” انہوں نے کہا کہ ہم تم پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک تو زمین سے ہمارے لئے چشمہ جاری نہ کرے۔ یا تیرے لئے کھجوروں اور انگوروں کا باغی ہو اور تو اس باغ کے درمیان نہریں جاری کر دے یا تو آسمان کو۔۔۔ جیسا کہ تو دعویٰ کرتا ہے۔۔۔ ٹکڑے ٹکڑے کرکے ہمارے اوپر گرا دے یا تو اللہ اور فرشتوں کو ہمارے روبرو لے آئے۔ “ یہ ان کی طرف سے محض تعنت، عناد اور ظلم ہے۔ کیونکہ رسول اور وہ خظد محض بشر اور اللہ کے بندے ہیں۔ ان کا اپنی خواہشات کے مطابق معجزات کا مطالبہ کرنا مناسب نہیں۔ یہ تو صرف اللہ تعالیٰ ہے جو اپنی حکمت کے مطاق آیات و معجزات کا انتخاب کرکے نازل کرتا ہے۔
چونکہ ان کا قول (لولایاتینا بایۃ من ربہ) تقاضا کرتا ہے کہ ان کے پاس رسول اللہ ﷺ کی صداقت پر کوئی نشانی اور آپ کے حق ہونے پر دلیل نازل نہیں ہوئی۔۔۔ حالانکہ یہ جھوٹ اور بہتان ہے کیونکہ آپ بڑے بڑے معجزات اور ناقابل تردید دلائل لے کر آئے کہ ان میں سے کسی ایک کے ذریعے سے مقصود حاصل ہوسکتا ہے، اس لئے فرمایا : (اولھ تاتھم) ” کیا ان کے پاس نہیں آئی “۔ اگر وہ اپنی بات میں سچے ہیں اور دلیل کے ذریعے سے وہ حق کے متلاشی ہیں (بینۃ مافی الصحف الاولی) ” وہ دلیل جو پہلے صحیفوں میں ہے ؟ “ یعنی یہ قرآن عظیم ان تمام باتوں کی تصدیق کرتا ہے جو گزشتہ صحفیوں، یعنی تورات، انجیل اور دیگر کتابوں میں نازل ہوئی ہیں اور انہی امور کے بارے میں خبر دیتا ہے جن کے بارے میں ان گزشتہ کتابوں نے خبر دی ہے ان گزشتہ کتب اور صحفیوں میں اس قرآن عظیم کی تصدیق بھی موجود ہے اور اس کو لانے والے رسول کی بشارت بھی دی گئی ہے۔
یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ (اولم یکفھم انا انزلنا علیک الکتب یتلیٰ علیھم ان فی ذلک لرحمۃ و ذکری لقوم یومنون) (العنکبوت : 29/10) ” کیا ان کے لئے یہی کافی نہیں کہ ہم نے آپ پر یہ کتاب عظیم نازل کی جو انہیں پڑھ کر سنائی جاتی ہے، بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لئے رحمت اور نصیحت ہے جو ایمان لاتے ہیں “۔ آیات الٰہی اہل ایمان کو فائدہ دیتی ہیں، ان کی تلاوت سے ان کے ایمان و ایقان میں اضافہ ہوتا ہے لیکن آیات الٰہی سے اعراض کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے ان پر ایمان رکھتے ہیں نہ ان سے کوئی فائدہ ہی اٹھاتے ہیں۔ (ان الذین حقت علیھم کلمت ربک لایومنون۔ ولوجاء تھم کل ایۃ حتی یروا العذاب الالیم) (بونس : 10/96۔ 97) ” بلاشبہ وہ لوگ جن پر تیرے رب کا حکم قرار پا چکا ہے خواہ ان کے پاس ہر قسم کی نشانی آجائے، وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں “۔
ان آیات کو ان کی طرف بھیجنے اور ان کے ذریعے سے ان سے مخاطب ہونے کا پس ایک ہی فائدہ ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوجاتی ہے تاکہ جب ان پر دردناک عذاب نازل ہو تو ان کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے : (لولا ارسلت الینا رسولاً فنتبع ایتک من قبل ان نذل و نحزی) ” کیوں نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول، پس ہم تیری آیات کی پیروی کرتے قبل اس کے کہ ہم ذلیل و رسوا ہوتے “۔ یعنی عقوبت کے ذریعے سے، لو تمہارے پاس، میری آیات وبراہین کے ساتھ، میرا رسول آگیا ہے اگر بات ایسے ہی ہے جیسے تم کہتے ہو تو اٹھو اس کی تصدیق کرو۔
اے محمد ! ﷺ ان لوگوں سے کہہ دیجئے جو آپ کی تکذیب کرتے ہوئے کہتے ہیں ” اس کے بارے میں گردش زمانہ کا انتظار کرو “ (قل کل متربص) ” کہہ دیجئے ! ہم میں سے ہر ایک منتظر ہے “۔ تم میری موت کا انتظار کرو میں تم پر عذاب الٰہی کے ٹوٹ پڑنے کا انتظار کرتا ہوں۔ (قل ھل تربصون بنا الا احدی الحسنین) (التوبۃ : 9/52) ” کہہ دیجئے کہ تم ہمارے بارے میں بس دو بھلائیوں میں سے ایک کے منتظر ہو “ یعنی کامیابی یا شہادت (ونحن نتربص بکم ان یصیبکم اللہ بعذاب من عندہ او بایدینا) (التوبۃ : 9/52) ” اور ہم اس بات کے منتظر ہیں کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنی طرف سے کوئی عذاب بھیجے یا ہمارے ہاتھوں تمہیں کوئی سزا دے “۔
(فتربصوا فسعلمون من اصحب اصراط السوی) ” پس تم انتظار کرو جلد ہی تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ سیدھے راستے (یعنی صراط مستقیم) والے کون ہیں ؟ “ (ومن اھتدی) ” اور کون ہدایت یافتہ ہے ؟ “ یعنی اپنے طرز عمل کے اعتبار سے، میں یا تم ؟ کیونکہ اس راستے پر چلنے والا شخص ہی صاحب رشد و ہدایت، فوزوفلاح سے بہرہ ور اور نجات یافتہ ہے اور جو کوئی اس راستے سے منہ موڑتا ہے وہ خائب و خاسر اور عذاب کا مستحق ہے اور یہ حقیقت واضح طور پر معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ صراط مستقیم پر گامزن ہیں اور آپ کے دشمن اس کے برعکس راستوں پر چل رہے ہیں۔ واللہ اعلم۔