Ayahs 20:79–81آیت 79
جب موسیٰ معجزات کے ذریعے سے فرعون اور اس کی قوم پر غالب آگئے تو وہ مصر میں ٹھہر گئے اور فرعون اور قوم فرعون کو اسلام کی دعوت دینے لگے اور اس کے ساتھ ساتھ بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی اور اس کی تعذیب سے نجات دلانے میں کوشاں رہے۔ فرعون اپنی سرکشی اور روگردانی پر جما ہوا تھا اور بنی اسرائیل کے بارے میں اس کا معاملہ بہت سخت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے وہ آیات و معجزات دکھائے جن کا قرآن میں ذکر فرمایا اور بنی اسرائیل اعلانیہ اپنے ایمان کے اظہار پر قادر نہیں تھے انہوں نے اپنے گھروں کو ماسجد بنا رکھ اتھا اور نہایت صبر و استقامت کے ساتھ وہ فرعون کی تعذیب اور اذیتوں کا اسمنا کر رہے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ بنی اسرائیل کو اس کے دشمن کی غلامی سے رہائی دلا کر ایک ایسی سرزمین میں آباد کرے جہاں وہ علانیہ اس کی عبادت کریں اور اس کے دین کو قائم کریں۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے بنی موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعے سے حکم دیا کہ وہ خفیہ طور پر بنی اسرائیل کو مصر سے نکلنے کے منصوبے سے آگاہ کریں، رات کے ابتدائی حصے میں مصر سے نکل کر راتوں رات بہت دور نکل جائیں اور خبردار کردیا کہ فرعون اپنی قوم کے ساتھ ان کا تعاقب کرے گا، چناچہ تمام بنی اسرئایل اپنے اہل و عیال سمیت، رات کے پہلے پہر، مصر سے نکل کھڑے ہوئے۔ جب صبح ہوئی تو مصریوں نے دیکھا کہ شہر میں (بنی اسرائیل میں سے) کوئی بلانے والا ہے، نہ جواب دینے والا تو ان کا دشمن فرعون سخت غضبناک ہوا۔ اس نے تمام شہروں میں ہر کارے بھجوا دیئے تاکہ وہ لوگوں کو اکٹھا کریں اور ان کو بنی اسرائیل کے تعاقب پر آمادہ کریں تو وہ ان کو پکڑ کر ان پر اپنا غصہ نکال سکے، لیکن اللہ تعالیٰ اپنے امر کو نافذ کرنے پر غالب ہے۔ پس فرعونی لشکر جمع ہوگیا تو وہ اسے لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں روانہ ہوگیا ( فلماترآ الجمعن قال اصحاب موسیٰ انا لمدرکون) (الشعراء)
” جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو (حضرت) موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا لو ہم پکڑے گئے “۔ ان پر خوف طاری ہوگیا، سمندر ان کے سامنے تھا اور فرعون (اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ) ان کے پیچھے تھا اور وہ غیض و غضب سے لبریز تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نہایت مطمئن اور پرسکون اور انہیں اپنے رب کے وعدے پر پورا بھروسہ تھا، چناچہ انہوں نے کہا : (کلا ان معی رب سیھدین) (الشعراء) ” ہرگز نہیں ! میرے ساتھ میرا رب ہے وہ مجھے ضرور کوئی راہ دکھائے گا “۔
پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی کی کہ وہ اپنا عصا سمندر پر ماریں۔ انہوں نے اپنا عصا سمندر پر مارا تو وہ پھٹ گیا اور اس میں بارہ راستے بن گئے اور پانی بلند پہاڑ کی مانند راستوں کے دائیں بائیں کھڑا ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام راستوں کو خشک کردیا جن سے پانی دور ہٹ گیا۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو تسلی دیتے ہوئے حکم دیا کہ وہ فرعون سے ڈریں نہ سمندر میں غرق ہونے سے دریں۔ پس وہ سمندر میں بنے ہوئے راستوں پر چل پڑے۔ فرعون اپنے لشکر کے ساتھ ساحل سمندر پر پہنچا تو وہ ان راستوں پر ان کے پیچھے سمندر میں گھس گیا۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر آگئی اور فرعون اور اس کا لشکر پورے کا پورا سمندر میں داخل ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا تو سمندر کی موجوں نے ان پر تھپیڑے مارنے شروع کردیئے (راستے کے دونوں طرف کی موجیں آپس میں مل گئیں) اور سمندر نے ان کو ڈھانپ لیا اور تمام لشکر ڈوب گیا اور ان میں سے ایک بھی نہ بچا، جبکہ بنی اسرائیل اپنے دشمنوں کو ڈوبتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے دشمن کو ہلاک کر کے ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کیا۔
اور یہ کفر، ضلالت، بدراہی اور اللہ تعالیٰ کے راستے سے عدم اعتناء کا انجام ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (واضل فرعون قومہ) ” اور گمراہ کردیا فرعون نے اپنی قوم کو “۔ یعنی فرعون نے کفر کو مزین اور موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کا استخفاف کر کے اور اس کو برا کہہ کر اپنی قوم کو گمراہ کیا اور کبھی بھی ان کو راہ راست نہ دکھائی۔ وہ انہیں گمراہی اور بدراہی کے گھاٹ پر لے گیا، پھر انہیں عذاب اور ہلاکت کے گڑھے میں دھکیل دیا۔
Ayah 20:82آیات (82)
اللہ تبارک و تعالیٰ بنی اسرائیل کو اپنا احسان عظیم یاد دلاتا ہے کہ اس نے ان کے دشمن کو ہلاک کیا اور کوہ طور کے دائیں جانب وعدہ کیا کہ وہ ان پر کتاب نازل کرے گا جس میں جلیل القدر حکام اور عالیشان خبریں ہیں۔ اس طرح دنیاوی نعمت کی تکمیل کے بعد دینی نعمت کی تکمیل ہوئی۔ مزید برآں اللہ تعالیٰ ان کو اپنا یہ احسان یاد دلاتا ہے کہ اس نے بےآب و گیان بیابان میں ان پر من وسلویٰ نازل کیا اور ان کو بافراط رزق سے نوازا جو انہیں بلا مشقت حاصل ہوتا تھا اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے فرمایا : (کلو امن طیبت ما رزقنکم) یعنی اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں تمہیں عطا کی ہیں، ان پر اس کا شکر ادا کرو۔ (ولا طغوا فیہ) یعنی اس کے عطا کردہ رزق میں سرکشی نہ کرو کہ اسے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں استعمال کرنے لگو یا اس کی نعمت پر اترانے لگو۔ اگر تم نے ایسا کیا تو تم پر میرا غضب نازل ہوگا، یعنی میں تم سے ناراض ہوجاؤں گا اور تمہیں عذاب میں مبتلا کر دوں گا۔ (ومن یحلل علیہ غضب فقد ھوی) یعنی جس پر میرا غضب نازل ہوا وہ ہلاک اور خائب و خاسر ہوا کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور احسان سے محروم ہوگیا اور اس کی ناراضی اور خسارہ اس کے حصے میں آیا۔
بایں ہمہ بندے نے خواہ کتنا بڑا گناہ کیوں نہ کیا، اس کے لئے توبہ کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وانی لغفار) یعنی جو شخص کفر، بدعت اور فسق و فجور سے توبہ کر کے اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور قیامت کے دن پر ایمان لے آتا ہے اور قلب، بدن اور زبان کے ذریعے سے نیک عم کرتا ہے، تو میں بہت زیادہ بخشنے والا اور بےپایاں رحمت کا مالک ہیں ہوں۔ (ثمہ اھتدی) یعنی پھر وہ صراط مستقیم پر گامزن ہوا، رسول کریم ﷺ کی اتباع اور دین قیم کی پیروی کی۔ پس یہ وہ شخص ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو بخش دے گا۔ وہ اس کے گزشتہ گناہوں اور ان پر اس کے اصرار کو معاف کر دے گا کیونکہ وہ بخشش اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کے لئے سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوا، بلکہ تمام اسباب انہی اشیاء پر منحصر ہیں، کیونکہ توبہ گزشتہ تمام گناہوں کو مٹا دیتی ہے۔ راہ ہدایت کی تمام طرف دعوت دینا، بدعت، کفرو ضلالت کا رد کرنا، جہاد اور ہجرت وغیرہ اور ہدایت کی دیگر جزئیات۔ یہ سب گناہوں کو مٹا دیتی ہیں اور منزل مطلوب کے حصول میں مدد دیتی ہیں۔
Ayahs 20:83–93آیات 83
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے جگہ اور وقت مقرر کردیا تاکہ ان پر تیس دن میں تو رات نازل کر دے۔ پھر چالیس دن میں اس کا اتمام کیا۔ جب مدت مقرر پوری ہوئی تو موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب کی ملاقات کے شوق اور چاہت میں وعدے کے مطابق جلدی سے مقررہ مقام پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وما اعجلک عن قومک یموسی) یعنی کس چیز نے تجھ کو اپنی قوم سے پہلے آنے پر آمادہ کیا ؟ تُو نے صبر کیوں نہ کیا یہاں تک کہ تو اپنی قوم کے ساتھ آتا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے غرض کیا : (ھمہ اولاء علیٰ اثری) وہ یہاں سے قریب ہی ہیں وہ عنقریب میرے پیچھے پہنچ جائیں گے اور جس چیز نے مجھے تیری جناب میں جلدی حاضر ہونے پر آمادہ کیا وہ ہے تیرے قرب کی طلب، تیری رضا کے حصول میں جلدی اور تیرا شوق۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (فانا قدفتنا قومک من بعدک) یعنی تیرے بعد تیری قوم کو بچھڑے کی پوجا کے ذریعے سے ہم نے آزمایا۔ پس انہوں نے صبر نہیں کیا اور جب ان کا امتحان ہوا تو انہوں نے کفر کا ارتکاب کیا۔ (واضلھمہ السامری) ” اور سامری نے ان کو گمراہ کردیا “ (فاخرج لھم عجلا جسدا) وہ ان کے لئے ایک بچھڑے کا بٹ بنا لایا (لہ خوار فقالو) اس میں سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی۔ لوگ کہنے لگے (ہذا الھکم والہ موسیٰ ) ” یہ تمہارا اور موسیٰ کا معبود ہے “ جسے موسیٰ بھول گیا ہے۔ اسی طرح بنی اسرائیل فتنے میں مبتلا ہوگئے اور انہوں نے بچھڑے کو پوجنا شروع کردیا۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) نے ان کو روکا مگر وہ بچھڑے کی عبادت سے باز نہ آئے۔
جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم میں واپس آئے تو سخت ناراض ہوئے وہ تاسف اور غیض و غضب سے لبریز تھے انہوں نے اس فعل پر زجرو تو بیخ کرتے ہوئے فرمایا : (یقومہ المہ یعدکم ربکم وعداحسنا) ” اے میری قوم ! کیا تم نے تمہارے رب نے ایک اچھا وعدہ کیا تھا ؟ “ اور یہ تورات نازل کرنے کا وعدہ تھا۔ (افطال علیکم العھد) کیا وعدہ پورا ہونے میں دیر لگ گئی تھی اور میری عدم موجودگی طویل ہوگئی تھی، حالانکہ یہ تو بہت ہی تھوڑی سی مدت تھی۔ یہ بہت سے مفسرین کا قول ہے اور اس میں ایک دوسرے معنی کا احتمال بھی ہے، وہ یہ کہ کیا عہد نبوت اور تمہارے پاس کوئی خبر نہ پہنچی اور طول عہد کی بنا پر آثار نبوت محو ہوگئے تھے اور اسی طرح تم نے آثار رسالت اور علم کے معدوم ہونے اور غلبۂ جہالت کی وجہ سے غیر اللہ کی عبادت شروع کردی۔۔۔ ؟ مگر معاملہ یوں نہیں، بلکہ نبوت تمہارے درمیان موجود اور علم قائم ہے۔ اس لئے تمہارا یہ عذر قابل قبول نہیں۔ یا اس فعل کے ذریعے سے تمہارا ارادہ یہ تھا کہ تم پر تمہارے رب کا غضب نازل ہو، یعنی تم نے ایسے اسباب اختیار کئے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے موجب ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے۔ (فاخلفتم موعدی) ” پس تم نے میرے وعدے کے خلاف کیا “۔ جب میں نے تمہیں استقامت کا حکم دیا اور ہارون (علیہ السلام) کو تمہارے بارے میں وصیت کی تو تم نے غائب کا انتظار کیا نہ موجود کا احترام کیا۔
انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ ان سے یہ کام جان بوجھ کر اور اپنے اختیار سے سرزد نہیں ہوا بلکہ اس کا سبب یہ تھا کہ ہم زیورات کے گناہ سے جو ہمارے پاس تھے، بچنا چاہتے تھے۔ اہل تفسیر ذکر کرتے ہیں کہ بنی اسرائیل نے مصر سے نکلنے سے پہلے قبطیوں سے زیورات وغیرہ مستعار لئے تھے۔ مصر سے نکلتے وقت وہ زیورات بھی ساتھ لے آئے۔ وہاں سے نکل کر انہوں نے وہ زیورات پھینک دیئے تھے جب موسیٰ (علیہ السلام) چلے گئے تو انہوں نے وہ زیورات اکٹھے کر لئے تاکہ موسیٰ (علیہ السلام) کی واپسی پر اس بارے میں ان سے رجوع کریں۔
جس روز فرعون اپنے لشکر سمیت سمندر میں غرق ہوا اس روز سامری نے رسول کا نقش پا دیکھ لیا تھا، اس کے نفس نے اسے آمادہ کیا اور اس نے نقش پا سے خاک کی ایک مٹھی اٹھا لی اور اس خاک میں یہ تاثیر تھی کہ جب اسے کسی چیز پر ڈالا جاتا تو وہ زندہ ہوجاتی تھی۔۔۔ یہ امتحان اور آزمائش تھی۔ اس نے یہ خاک بچھڑے کے اس بت پر ڈال دی، جو اس نے گھڑا تھا۔ اس سے اس میں حرکت پیدا ہوگئی اور اس سے آواز بھی نکلتی تھی۔ بنی اسرائیل نے کہا موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب کو تلاش کرنے گیا ہے اور وہ یہاں موجود ہے، موسیٰ (علیہ السلام) بھول گیا۔
یہ ان کی کم عقلی اور حماقت تھی کہ انہوں نے گائے کے بچھڑے کو جو ایک دھات کا بنا ہوا تھا جس میں آواز پیدا ہوگئی تھی۔۔۔ زمین اور آسمانوں کا الٰہ سمجھ لیا تھا۔ (افلا یرون) ” کیا وہ نہیں دیکھتے “۔ کہ وہ بچھرا (الا یرجع الیھمہ قولا) ان سے کلام کرسکتا ہے، نہ وہ ان کی بات کا جواب دے سکتا ہے نہ ان کو کوئی نفع دے سکتا ہے نہ نقصان ؟ پس صرف وہی ہستی عبادت کی مستحق ہے جو کمال، کلام اور افعال کی مالک ہو اور ایسی ہستی عبادت کئے جانے کا استحاق نہیں رکھتی جو اپنے عبادات گزاروں سے بھی ناقص ہو، کیونکہ عبادت گزار تو کلام کرسکتے ہیں اور بعض معاملات میں اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی قدرت کے مطابق، نفع و نقصان کا اختیار بھی رکھتے ہیں۔
Ayahs 20:94–96آیات (94)
یعنی بچھڑے کو معبود بنانے میں وہ معذور نہیں تھا۔ اگر وہ بچھڑے کی عبادت کے بارے میں کسی شبہ میں مبتلا ہوگئے تھے تو ہارون (علیہ السلام) نے ان کو بہت روکا تھا اور ان کو آگاہ کردیا تھا کہ یہ ان کی آزمائش ہے۔ ان کا رب تو رحمن ہے، جس کی طرف سے تمام ظاہری اور باطنی نعمتوں کا فیضان جاری ہے اور وہ تمام تکالیف کو دور کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے کہ وہ ہارون (علیہ السلام) کی اتباع کریں اور بچھڑے کو چھوڑ دیں، مگر انہوں نے ایسا نہ کیا اور کہنے لگے : (لن نبرح علیہ عکفین حتی یرجع الینا موسیٰ ) ” موسیٰ (علیہ السلام) کے آنے تک ہم تو اسی کی عبادت و تعظیم میں لگے رہیں گے “۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) اپنے بھائی کو ملازمت کرتے ہوئے آئے اور کہنے لگے : (یھرون مامنعک اذ رایتھم ضلوا الا۔ تتبِعن) ” اے ہارونٖ جب تو نے ان کو دیکھا کہ گمراہ ہوگئے ہیں، تو تجھے میرے پیچھے آنے سے کس چیز نے روک دیا ؟ “ کہ آ کر تو مجھے خبر کردینا تاکہ میں جلدی سے ان کی طرف لوٹ آیا (افعصیت امری) کیا تو نے میرے اس حکم کی نافرمانی کی ہے۔ (اخلقنی فی قومی و اصلح ولا تتبع سبیل المفسید) ” تو میری قوم میں میری جانشینی کر، معاملات کو درست کر اور اہل فساد کے راستے کی پیروی نہ کر “۔
موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت ہارون (علیہ السلام) کو سر اور داڑھی سے پکڑا اور غصے میں اپنی طرف کھینچا۔ ہارون (علیہ السلام) نے کہا : (یبنومہ) ” اے میرے ماں جائے “ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے رقت قلبی کی امید پر یہ فقرہ ہا تھا اور نہ حقیقت یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) ماں اور باپ دونوں طرف سے ان کے بھائی تھے۔ (لاتاخذ بلحیتی والا براسی انی خشیت ان تقول فرقت بین اسرائیل ولمہ ترقب قولی) ” آپ میری داڑھی اور سر نہ پکڑیں، مَیں تو اس بات سے ڈرا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل کے درمیان تفریق ڈال دی اور میری بات کا انتظار نہ کیا “۔ کیونکہ آپ کا حکم تھا کہ میں ان میں آپ کی جانشینی کروں گر میں آپ کے پیچھے چلا آتا تو میں اس چیز کو چھوڑ بیٹھتا جس کے التزام کا اپ نے حکم دیا تھا اور میں آپ کی ملازمت سے ڈرتا۔ (ان تقول فرقت بین بنی اسرائیل) کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ کسی نگرانی کرنے والے اور کسی جانشین کے بغیر ان کو چھوڑ دیا اور اس سے ان میں تشتت و افتراق پیدا ہوگیا۔ اس لئے آپ مجھے ظالموں میں شریک نہ کریں اور نہ دشمنوں کو ہم پر ہنسنے کا موقع دیں۔
اس پر موسیٰ (علیہ السلام) کو بھائی کے ساتھ اپنے طرز عمل پر ندامت ہوئی کہ وہ اس سلوک کے مستحق نہ تھے، اس لئے دعا کی۔ (رب اغفرلی ولاخی واداخلنا فی رحمتک وانت ارحمہ الرحمین) ۔” اے میرے رب ! مجھے اور میرے بھائی کو بخش اور ہمیں اپنی رحمت کے سایہ میں داخل کر، تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے “۔ پھر سامری کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا :
Ayah 20:97آیات (97)
یعنی یہ جو تو نے سب کچھ کیا ہے یہ کیا معاملہ ہے ؟ سامری نے جواب دیا۔ (بصرت بمالو یبصروابہ) ” مَیں نے وہ چیزی دیکھی جو انہوں نے نہیں دیکھی “۔ یعنی وہ جبرائیل (علیہ السلام) تھے جن کو سامری نے سمندر سے باہر نکلتے اور فرعون کے اپنے لشکر ڈوبتے وقت گھوڑی پر سوار دیکھا۔ جیسا کہ مفسرین کی رائے ہے۔ یعنی میں نے گھوڑی کے سم کے نیچے سے خاک کی ایک مٹھی اٹھائی اور بچھڑے (کے بت) پر ڈال دی۔ (وکذلک سولت لی نفسی) میرے نفس میں مجھے ایسے ہی سمجھایا تھا کہ میں (جبریل کے نقش پا سے) ایک مٹھی خاک لوں اور اسے اس بچھڑے پر ڈال دو اور اس طرح وہ کچھ ہوجائے جو ہوگیا۔ پس موسیٰ (علیہ السلام) نے سامری سے کہا : (فاذھب) مجھ سے دور ہوجا (فان لک فی الحیوۃ ان تقول لامساس) یعنی تجھے زندگی میں ایسی سزا دی جائے گی کہ کوئی شخص تیرے قرب آئے گا نہ تجھے چھوئے گا۔ اگر کوئی شخص تیرے پاس آنا چاہے گا تو خود ہی پکار کر اسے کہہ دے گا ” مجھے مت چھونا، میرے قریب نہ آنا “ یہ تمہارے اس فعل کی سزا ہوگی۔۔۔ کیونکہ سامری نے اس چیز کو چھوا جسے کسی دوسرے نے نہیں چھوا اس نے وہ کچھ جاری کیا جو کسی اور نے جاری نہیں کیا۔
(وان لک موعدا لن تخلفہ) ” اور تیرے لیے ایک وعدہ ہے جو ہرگز تجھ سے نہیں ملے گا “۔ پس اس وقت تجھے تیرے اچھے برے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا (والنظر الیٰ الھک الذی طلت علیہ عاکفا) ” اور دیکھ تو اپنے اس معبود کی طرف جس کی تو تعظیم و عبادت کرتا ہے “۔ اس سے مراد بچھڑا ہے (لنحرقنۃ ثم لننسفنہ فی الیمہ نفسا) ” ہم سے جلا کر، اس کا ریزہ ریزہ اڑا دیں گے “۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) نے ایسا ہی کیا۔ اگر وہ بچھڑا معبود ہوتا تو وہ ایذا دینے والے اور تلف کرنے والے سے بچ سکتا تھا۔ بنی اسرائیل کے دلوں میں بچھڑے کی محبت رچ بس گئی تھی، اس لئے موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کے سامنے اس کو تلف کرنے کا ارادہ کیا تاکہ وہ اس کو دوبارہ نہ بنا سکیں۔۔۔ اس کو جلانے اور اس کو ریزہ ریزہ کر کے سمندر میں بکھیرنے سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مقصد یہ تھا کہ جس طرح بچھڑا جسمانی طور پر ختم کردیا گیا ہے اسی طرح ان کے دلوں سے اس کی محبت بھی زائل ہوجائے، نیز اس کے باقی رکھنے میں نفوس کے لئے فتنے کا امکان تھا کیونکہ نفسوں کے اندر باطل کی طرف بڑا قومی داعیہ ہوتا ہے۔
جب ان کے سامنے اس خود ساختہ خدا کا بطلان واضح ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس ہستی کے متعلق آگاہ فرمایا جو عبادت کی مستحق ہے، جو یکتا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں، فرمایا :
Ayahs 20:98–99آیات (98)
یعنی تمہارا کریم کے سوا کوئی معبود نہی، صرف اسی کے ساتھ محبت کی جائے، اسی پر امیدیں رکھی جائیں، اسی سے ڈرا جائے اور اسی کو پکارا جائے۔ وہی کامل ہستی ہے جو اسماء حسنیٰ اور اوصاف عالیہ کی مالک ہے۔ اس کے علم نے تمام اشیاء کا احاطہ کر رکھا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ بندوں پر جتنی بھی نعمتیں ہیں صرف اسی کی عطا کردہ ہیں۔ صرف وہی ہے جو تمام تکالیف کو دور کرتا ہے۔ اس کے سوا کوئی الٰہ اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔
Ayahs 20:100–103آیات (100)
اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے آپ کو گزرے ہوئے لوگوں کی خبروں سے آگاہ فرمایا :۔۔۔ مثلاً یہ عظیم واقعہ اور اس کے اندر اندر مذکور تمام احکام، جن کا اہل کتاب میں سے کوئی شخص انکار نہیں کرسکتا۔ پس آپ نے گزری ہوئی قوموں کی تاریخ کا درس لیا ہے نہ کسی سے اس کا علم حاصل کیا ہے، لہٰذا آپ کا ان کے واقعات کے بارے میں حق الیقین کے ساتھ آگاہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول برحق ہیں اور آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ سب صداقت پر مبنی ہے۔ بناء بریں فرما : (وقد اتینک من لدنا) ” اور دیا ہم نے آپ کو اپنی طرف سے “۔ یعنی اپنی طرف سے نفیس عطیہ اور عظیم نوازش کے طور پر (ذکرا) ” ایک ذکر “ اس سے مراد قرآن کریم ہے، جس میں تمام گزرے ہوئے اور آنے والے واقعات کی خبر دی گئی ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے کامل اسماء وصفات کا ذکر ہے اور اس میں احکام امرونہی اور احکام جزا کا تذکرہ ہے۔
یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ قرآن کریم بہترین احکام پر مشتمل ہے۔ عقل اور فطرت سلیم ان احکام کے حسن و کمال کی گواہی دیتی ہیں اور قرآن کریم آگاہ کرتا ہے کہ ان احکام میں کیا کیا مصالح پنہاں ہیں، اس لئے جب قرآن کریم رسول پاک ﷺ اور آپ کی امت کے لئے تذکرہ ہے تب اس کو قبول کرنا، اس کے سامنے سر تسلیم غم کرنا، اس کی اطاعت کرنا، اس کی روشنی میں صراط مستقیم پر گامزن ہونا اور اس کی تعلیم و تعلم واجب ہے اس سے روگردانی کے ساتھ پیش آنا یا اس کے ساتھ ایسا سلوک کرنا جو اس سے بھی زیادہ عمومیت کا حامل ہو، جیسے اس کی باتوں کا انکار کرنا۔ تو یہ اس نعمت کی ناشکری ہے اور جو کوئی اس ناشکری کا ارتکاب کرتا ہے وہ سزا کا مستحق ہے۔
اس لئے فرمایا : (من اعرض عنہ) جس نے اس سے روگردانی کی اور اس پر ایمان نہ لایا یا اس کے اوامرو نواہی کو حقیر سمجھایا اس نے اس کے معانی کے تعلم کا تمسخر اڑایا تو یہ شخص (فاند یحمل یومہ القیمۃ وزرا) قیامت کے روز اپنے گناہ کا بوجھ اٹھائے گا جس کے سبب سے اس نے قرآن سے روگردانی کی۔ سب سے بڑا گناہ تو کفر اور قرآن کو چھوڑنا۔ (خلدین فیہ) یعنی وہ اپنے گناہ کے بوجھ اٹھانے کے عذاب میں ہمیشہ رہیں گے، کیونکہ (برے) اعمال ہی درحقیقت عذاب ہیں۔ یہ اعمال برصغیر یا کبیرہ ہونے کے مطابق، ارتکاب کرنے والوں کے عذاب میں بدل جاتے ہیں۔ ( وساء لھمہ یوم القیمۃ حملاً ) یعنی بہت برا بوجھ ہے جو وہ اٹھائیں گے اور بہت برا عذاب ہے جو انہیں قیامت کے روز بگھتنا ہوگا۔ پھر بات کو آگے بڑھاتے ہوئے قیامت کے دن کے احوال اور اس کی ہولناکیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :
Ayahs 20:104–111آیات (104)
یعنی جب صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگ اپنے اپنے حسب حال اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے، اہل تقویٰ وفد کی صورت میں رحمن کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور مجرم اس حال میں اکٹھے کئے جائیں گے کہ خوف، غم اور سخت پیاس کے مارے ان کا رنگ نیلا پڑگیا ہوگا، تو وہ ایک دوسرے سے سرگرشیاں کریں گے اور نہایت پست آواز میں دنیا کی مدت کے کم ہونے اور آخری کے جلد آجانے کے بارے میں ایک دوسرے سے گفتگو کریں گے۔ ان میں سے کچھ لوگ کہیں گے کہ تم لوگ بس دس دن دنیا میں رہے ہو اور بعض دوسرے لوگ کچھ اور کہیں گے۔ پست آواز میں وہ جو سرگوشیاں کر رہے ہوں گے اللہ انہیں جانتا ہوگا اور جو باتیں کر رہے ہوں گے وہ انہیں سنتا ہوگا (اذ یقول امثلھمہ طریقۃ) یعنی ان میں سے سب سے زیادہ معتدل اور اندازے کے سب سے زیادہ قریب شخص کہے گا : (ان لبثتم الا یوما) تم صرف ایک دن دنیا میں رہے ہو۔
اس سے ان کا مقصد بہت بڑی ندامت اور پشیمانی کا اظہار ہے کہ انہوں نے اوقات قصیرہ کیسے ضائع کردیے اور غفلت اور لہو و لعب میں ڈوب کر فائدہ اعمال سے اعراض کرتے ہوئے اور نقصان دہ اعمال میں پڑ کر ان اوقات کو گزار دیا۔ اب جزا کا وقت آگیا ہے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہوا اور اب ندامت، ہلاکت اور موت کی دعا کے سوا کچھ باقی نہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (قل کم لبثتمہ فی الارض عدد سنین۔ قالو البثنا یوما او بعض یومہ فسئل العأدین۔ قل ان لبثمہ الا قلیلا لو انکم نتم تعلمون) ” اللہ پوچھے گا تم زمین میں کتنے سال رہے ہو ؟ وہ جواب دیں گے کہ ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ٹھہرے ہیں، شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجئے ! فرمایا تم زمین میں بہت تھوڑا ٹھہرے ہو، کاش تم نے اس وقت جانا ہوتا “۔
Ayah 20:112آیات (112)
اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کی ہولنا کیوں اور اس کے خوفناک زلزلوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے، (ویسئلونک عن الجبال) ” یعنی وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان پہاڑوں کے ساتھ کیا کرے گا ؟ کیا یہ پہاڑ اپنی حالت پر باقی رہیں گے ؟ ( فقل ینسفھا رمی نسفا) یعنی اللہ تعالیٰ ان پہاڑوں کو ان کی جگہ سے گکھاڑ پھینکے گا اور یہ پہاڑ ایسے ہوجائیں گے جیسے دھنکی ہوئی اوان اور ریت پھر ان کو ریزہ ریزہ کر کے اڑتی ہوئی خاک میں تبدیل کر دے گا۔ پہاڑ فنا ہو کر ختم ہوجائیں گے اللہ تعالیٰ ان کو ہموار کر کے زمین کے برابر کر دے گا اور زمین کو ہموار چٹیل میدان بن دے گا۔ زمین کے کامل طور پر ہموار ہونے کی بنا پر دیکھنے والے کو کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا ‘ یعنی وادیاں اور پست یا بلند مقامات نہیں ہوں گے۔ تمام زمین ہموار اور یکساں نظر آئے گی جو تمام مخلوقات کے لئے کشادہ ہوگی اور اللہ اس کو اس طرح بچھا دے گا جس طرح چمڑا ھچھایا جاتا ہے۔ تمام مخلوق ایک جگہ کھڑی ہوگی پکارنے والے کی آواز ان کو سنائی دے گی اور دیکھنے والا ان کو دیکھ سکے گا اس لئے فرمایا : (یومئذ یتبعون الداعی) ” اس دن وہ پکارنے والے کے پیچھے لگیں گے۔ اور یہ اس وقت ہوگا جب وہ دوبارہ زندہ ہو کر قبروں سے کھڑے ہوں گے اور پکارنے والا ان کو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے اور ایک جگہ جمع ہونے کے لئے پکارے گا تو وہ تیزی سے دوڑتے ہوئے اس کی طرف جائیں گے اور دائیں بائیں وہ اس سے نظر ہٹائیں گے نہ دائیں بائیں التفات کریں گے۔
فرمایا (لا عوج لہ) یعنی پکارنے والے کی دعوت میں کوئی کجی نہ ہوگی بلکہ اس کی دعوت تمام خلائق کے لئے حق اور صدق پر مبنی ہوگی اور وہ پکار کر تمام خلائق تک اپنی آواز پہنچائے گا۔ تمام لوگ قیامت کے میدان میں حاضر ہوں گے اور رحمن کے سامنے ان کی آوازیں پست ہوں گی۔ (فلا تسمع الا ھمسا) ” پس نہیں سنے گا تو سوائے کھسر پھسر کے۔ “ یعنی فقط قدموں کی چاپ یا ہونٹوں کی حرکت سے پیدا ہونے والی پست اٰواز سنائی دے گی اور ان پر خشوع سکوت اور خاموشی طاری ہوگی اور رب رحمن کے فیصلے کے منتظر ہوں گے اور چہرے تذلل اور خضوع سے جھکے ہوئے ہوں گے تم اس عظیم مقام پر دیکھو گے کہ دولت مند اور فقراء مرد اور عورتیں آزاد اور غلام بادشاہ اور عوام سب نظریں نیچے کئے ساکت اور خاموش گھٹنوں کے بل گرے ہوئے اور گردنوں کو جھکائے ہوئے ہوں گے۔ کسی کو معلوم نہیں ہوگا کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ ہر شخص اپنے باپ بھائی اور دوست یار کو بھول کر صرف اپنے معاملے میں مشغول ہو گل۔ (لکل ابریء منھم یومئذ شان یغنیہ) (عس : 8؍73) ” اس روز ہر شخص ایک معاملے میں مصروف ہوگا جو اسے دوسروں کے بارے میں بےپروا کر دے گا۔ “
حاکم عادل اس بارے میں فیصلہ کرے گا ‘ نیکوکار کو اس کی نیکی کی جزا دے گا اور بدگار کو محروم کرے گا۔ رب کریم اور رحمن و رحیم پر امید یہ ہے کہ تمام خلائق اس کے ایسے فضل و احسان ‘ عفو و درگزر اور بخشش کو دیکھے گی زبان جس کی تعبیر سے قاصر اور فکر اس کے تصور سے بےبس ہے۔ تب تمام خلائق اس کی رحمت کی منتظر ہوگی مگر رحت ان لوگوں کے لئے مختص ہوگی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ یہ امید آپ کیسے رکھ سکتے ہیں ؟ دوسرے لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ اس امید مذکر کا آپ کو کیسے علم ہوا ؟
تو ہم اس کے جواب میں عرض کریں گے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے اس کی عنایات تمام مخلوقات پر عام ہیں۔ ہم اس دنیاوی زندگی میں مشاہدہ کرتے ہیں کہ ہمیں اور دیگر لوگوں کو لا محدود نعمتیں حاصل ہیں خاص طور پر روز قیامت کے متعلق اللہ کے یہ فرامین (وخشعت الاصوات لرحمن) ‘(الا من اذن لہ الرحمن) اور ( الملک یومئذن الحق لرحمن) (اعرقان : 52؍62) ” اس امر پر دلالت کرتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ رسول اللہ کی رحمت کے سو حصے ہیں اس نے ایک حصہ اپنے بندوں کے لئے نازل فرمایا ہے ’ اس رحمت ہی کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے ساتھ رحم اور عاطفت سے پیش آتے ہیں حتیٰ کہ ایک چو پائے کا پاؤں اگر اس کے بچے پر آجائے تو وہ اپنے پاؤں کو اٹھا لیتا ہے تاکہ وہ اس کو روتد نہ ڈالے یہ اس رحم کی وجہ سے ہے جو اس چو پائے کے دل میں و دیعت کیا گیا ہے۔ جب قیامت کا روز ہوگا تو رحمت کا یہ حصہ بھی ننانوے حصے میں شامل ہوجائے گا۔ اور اللہ رحمت کے ان سو حصوں کے ساتھ اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔ “ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” ماں اپنی اولاد کے لئے جس قدر رحیم ہے اللہ اس سے کہیں زیادہ اپنے بندوں کے لیے رحیم ہے۔
اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بارے میں آپ جو چاہیں کہیں وہ آپ کے اندازوں اور آپ کے جس ذرح وہ اپنے عضل و احسان اور ثواب عطا کرنے میں رحیم ہے۔ ملند وبالا ہے وہ ہستی جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے اور جس کا فضل و کرم ہر زندہ مخلوق کو شامل ہے وہ اپنی بےنیازی کے باعث اپنے بندوں سے بالا و برتر اور ان پر نہایت رحم کرنے والا ہے۔ بندے اپنے تمام احوال میں ہمیشہ اس کے محتاج ہیں اور لمحہ بھر کے لئے اللہ تعالیٰ سے بےنیاز نہیں رو سکتے۔ فرمایا : (یومئذ لا تنفع الا من اذن لہ الرحمن ورضی لہ قولا) ” یعنی اس کی اچازت کے بغیر کوئی شخص اس کے ہاں سفارش نہیں کرسکے گا اور وہ صرف اس شخص کے لئے سفارش کی اجازت دے گا جس کے لئے وہ راضی ہوگا ‘ یعنی انبیاء ومرسلین اور مقرب بندوں کو صرف ان لوگوں کے لئے سفارش کی اجازت ہوگی جن کی باتوں کو اللہ کی رضا حاصل ہوگی اور وہ صرف مخلص مومن ہیں۔ اگر ان میں سے ایک شرط بھی معدوم ہوگی تو کسی کے لئے کسی کی سفارش قبول نہ ہوگی۔
(1) اپنے کفر کی وجہ سے اپنے آپ پر ظلم کرنے والے جنہیں نا کامی، حرماں نصیبی جہنم میں درد ناک عذاب، اور اللہ تعالیٰ کی سخت ناراضی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
(1) وہ لوگ جو انامور پر ایمان لائے جن پر ایمان لانے کے لئے ان کو حکم دیا گیا ‘ نیک عمل کرتے رہے یعنی واجبات و مستحبات پر عمل پیرا رہے۔ (فلا یخف ظلما) ” پس اسے ظلم کا خوف نہیں ہوگا۔ “ یعنی اس کی اصل بد اعمالیوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا (ولا ھضما) ” اور نہ حق تلفی کا۔ “ یعنی نہ اس کی نیکیوں میں کمی کی جائے گی بلکہ اس کے گناہوں کو بخش دیا جائے گا اس کے عیوب کو پاک کردیا جائے گا اور اس کی نیکیوں میں کئی گنا اضافہ کردیا جائے گا۔ فرمایا ( وان تک حسنۃ یضعفھا ویوئت من لدنہ اجرا عظیما) (النساء : 4؍04) ” اگر کوئی نیکی ہوگی تو وہ اسے دو گنا کردے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔ “
Ayah 20:113آیات (113)
یعنی اسی طرح ہم نے اس کتاب کو فضیلت والی عربی زبان میں نازل کیا ہے جس کو تم خوب سمجھتے ہو اور اس میں کامل تفپہ رکھتے ہو اور اس کے الفاظ و معانی تم پر مخفی نہیں ہیں۔ (وصرفنا فیہ من الوعید) یعنی اس کتاب میں ہم نے وعید کو بہت سی انواع کے ذریعے بیان کیا ہے۔ کبھی تو ان اسماء کے ذریعے سے بیان کیا ہے جو عدل و انتقام پر دلالت کرتے ہیں کبھی اس عبرت ناک عذاب کے ذکر کے ذریعے سے اس وعید کو بیان کیا جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا اور حکم دیا کہ آنے والی امتیں اس سے عبرت حاصل کریں اور کبھی گناہوں کے آثار اور ان سے پیدا ہونے والے عیوب کو بیان کر کے اس وعید کا ذکر کیا۔ کبھی قیامت کی ہولنا کیوں اور اس کے دل کو ہلا دینے والے مناظر کو بیان کر کے اس ووعید کا ذکر کیا۔ کبھی جہنم کے مناظر اور اس میں دئیے جانے والے مختلف انواع کے عذاب اور عقوبتوں کا ذکر کر کے اس وعید بیان کیا ہے۔
اور یہ سب اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر رحمت کی وجہ سے ہے شاید کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں اور گناہوں اور معاصی کو چھوڑ دیں جن سے ان کو نقصان پہنچتا ہے (او یحدث لھم ذکرا) یا اللہ تعالیٰ ان کے لئے نصیحت پیدا کر دے اور یہ لوگ نیک عمل کرنے لگیں جو ان کو عائدہ دیں .... پس اس کتاب کا عربی زبان میں نازل ہونا اور وعید کا مختلف طریقوں سے بیان ہونا عمل صالح کا سب سے بڑا سبب اور سب سے بڑا داعی ہے۔ اگر یہ عظیم کتاب عربی زبان میں نہ ہوتی یا اس وعید کو مختلف انواع میں بیان نہ کیا گیا ہوتا تو اس میں یہ تاثیر نہ ہوتی۔
Ayah 20:114آیات (114)
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم جزائی ذکر کیا جس سے اس کے بندے دو چار ہوتے ہیں اور حکم دینی و امری بیان فرمایا جو اس کتاب کریم میں نازل کیا اور یہ اللہ تعالیٰ کی بادشاہی اور اقتدار کے آپ ثار ہیں تو فرمایا : (فتعلی اللہ) یعنی اللہ تعالیٰ ہر نقص اور آفت سے قاک بلند اور جلیل تر ہے ( الملک) اقتدار حاکمیت جس کا وصف ہے اور تمام مخلوق اس کی مملوک (غلام) ہے۔ اس کی بادشاہی کے خدری و شرعی احکام تمام مخلوق پر نافذ ہیں (الحق) یعنی اس کا وجود اس کا اقتدار اور اس کا کمال سب حق ہے۔ پس صفات کمال کی مالک صرف ایسی ہستی ہوسکتی ہے جو ذی جلال ہو اور اس میں اقتدار بھی شامل ہے۔ بعض اوقات اس کے سوا مخلوق اس کے سوا مخلوق بھی معض اشیاء پر اقتدار اور اختیار رکھتی ہے مگر یہ اقتدار نقص اور باطل ہے جو زائل ہوجانے والا ہے۔۔۔ مگر رب تعالیٰ ہمیشہ کے لئے بادشاہ حقیقی جلال کا مالک اور قائم و دائم رہنے والا ہے۔
(ولا تعجل بالقراٰن من قبل ان یقضی الیک وحیہ) یعنی جب جبریل آپ ﷺ کے سامنے قراٰن کی تلاوت کرتا ہے تو اس کو اخذ کرنے میں جلدی نہ کیجئے اس وقت تک صبر کیجئے جب تک کہ وہ تلاوت سے فارغ نہ ہوجائے۔ جب وہ تلاوت سے فارغ ہوجائے تب اس کو پڑھئے کیونکہ للہ تعالیٰ نے قرآن کو آپ ﷺ کے سینے میں جمع کرنے اور آپ کے اس کی قراءت کرنے کی ضمانت دی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (لا تحرک بہ لسانک لتعجل بہ) ان علینا جمعہ و قراٰنہ) فاذا قرانہ فاتمع قراٰنہ) ثم ان علینا بیانہ) (القیمہ : 57: 61۔ 91) ” جلدی سے وحی پڑھنے کے لئے اپنی زبان کو حرکت نہ دیا کیجئے اس کو جمع کرنا اور پڑھوانا ہماری ذمہ داری ہے اور جب ہم اس وحی کو پڑھیں تو آپ اسی طرح پڑھا کریں پھر اس کے معانی کی تبیین و ضیح ہمارے ذمہ ہے “۔
چونکہ وحی کو اخذ کرنے کے لئے آپ ﷺ کی عجلت دلالت کرتی ہے کہ آپ علم کے ساتھ کامل محبت رکھتے تھے اور اس کے حصول کے بےحد خواہش مند تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ وہ اپنے لئے از دیاد علم کی دعا کریں کیونکہ علم بھلائی ہے اور بھلائی کی کثرت مطلوب ہے اور یہ کثرت اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوتی ہے اور اس کے حصول کا راستہ کوشش شوق علم اللہ تعالیٰ سے سوال کرنا اس سے مدد مانگنا اور ہر وقت اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا محتاج سمجھنا ہے۔ اس آیت کریمہ سے حصول علم کے آداب اخذ کئے جاتے ہیں۔ علم کی سماعت کرنے والے کے لئے مناسب ہے کہ صبر سے کام لے یہاں تک کہ املا کرانے والا اور معلم اپنے کلام سے فارغ ہوجائیں جو لگا تار اور مسلسل ہے۔ اگر ذہن میں کوئی سوال ہے تو وہ اس وقت کیا جائے جب معلم فارغ ہوجائے۔ معلم کی قطع کلامی اور سوال کرنے میں عجلت سے باز رہے کیونکہ یہ حرماں نصیبی کا سبب ہے۔ اسی طرح مسؤل کے لئے مناسب ہے کہ وہ سائل کے سوال کو لکھ لے اور جواب دینے سے قبل سائل کے مقصود کو اچھی طرح سمجھ لے کیونکہ یہ صحیح جواب کا سبب ہے۔