Ayahs 20:41–45آیت 41
اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ بیان کرنے کے بعد کہ اس نے اپنے بندے اور رسول حضرت موسیٰ بن عمران کو دین، وحی، راسلت اور قبولیت دعا سے نوازا۔۔۔ اس نعمت کا ذکر فرمایا جو اس نے حضرت موسیٰ کو ان کی پرورش اور ان کو ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں منتقل کرتے وقت عطا کی تھی، چناچہ فرمایا : (ولقد مننا علیک مرۃ اخری) ” اور ہم نے تجھ پر احاسن کیا دوسری مرتبہ “ جب ہم نے تیری والدہ کی طرف الہام کیا کہ وہ تجھ کو رضاعت کے وقت، فرعون کے خوف سے، ایک صندوق میں ڈال دے، کیونکہ فرعون نے بنی اسرائیل کے بچوں کو ذبح کرنے کا حکم دے رکھا تھا، موسیٰ کی والدہ نے آپ کو چھپا دیا، انہیں حضرت موسیٰ کے بارے میں سخت خوف لاحق ہوا چناچہ انہوں نے آپ کو ایک صندوق میں کھ کر دریا یعنیدریائے نیل میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ نے دریا کو حکم دیا کہ وہ اس صندوق کو کنارے پر لگا دے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مقدر کردیا کہ اس صندوق کو، اللہ تعالیٰ اور حضرت موسیٰ کا سب سے بڑا دشمن پکڑ لے اور اس کی اپنی اولاد کے ساتھ تربیت حاصل کرے اور جو کوئی اس کو دیکھے اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔
اسی لئے فرمایا : (والقیت علیک محبۃ منی) ” اور میں نے ڈال دی تجھ پر محبت اپنی طرف سے۔ “ یعنی جو کوئی آپ کو دیکھتا محبت کرنے لگتا تھا۔ (ولتضنع علی عینی) یعنی تاکہ تو میری آنکھوں کے اسمنے، میری حفاظت میں تربیت حاصل کرے اور رحیم و کریم اللہ کی سرپرستی سے بڑھ کر کس کی کفالت اور دیکھ بھال جلیل القدر اور کامل ہوسکتی ہے، جو اپنے بندے کو اس کے مصالح عطا کرنے اور ضرر رساں امور کو اس سے دور کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے ؟ پس موسیٰ ایک حال سے دوسرے حال میں منتقل ہوتے، تو اللہ ہی ان کی مصلحت کے مطابق ان کی تدبیر فرماتا اور یہ اللہ تعالیٰ کی حسن تدبیر ہی تھی کہ جب موسیٰ دشمن کے قبضے میں چلے گئے تو ان کی والدہ سخت بےچین ہوگئیں اور ان کا دل رنجیدہ ہوگیا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کو مضبوط نہ کیا ہوتا تو قریب تھا کہ وہ حضرت موسیٰ کا بھید کھول دیتیں۔ اس حالت میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ پر تمام دودھ پلانے والیوں کا دو جھ حرام کردیا۔ انہوں نے کسی عورت کی چھاتی کو منہ نہ لگایا تاکہ معاملہ آخر کار ماں تک پہنچے اور ماں ان کو دودھ پلائے، بچہ ماں کے پاس رہے اور ماں مطمئن اور پرسکون ہو اور اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔
فرعون کے کارندے دودھ پلانے کو ایک ایک کر کے بچے کے پاس لائے مگر اس نے کسی کی چھاتی کو قبول نہ کیا۔ موسیٰ کی بہن آئی اور فرعون اور اس کے کارندوں سے کہنے لگی۔ (ھل ادلکم علی اھل بیت یکفلونہ لکم وھم لہ نصحون) (القصص :12/28) ” کیا میں تمہیں ایسے گھرانے کے متعلق نہ بتاؤں جو اس کی کفالت کریں اور اس کی خیر خواہی بھی کریں ؟ “ چناچہ اس طرح ہم نے موسیٰ کو اس کی ماں کے پاس پہنچا دیا۔
(فرجعنک الی امک کی تقرعینھا ولاتحزن وقتلت نفاس) ” پھر ہم نے تجھے تیری ماں کی طرف لوٹایا، تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کرے اور تو نے ایک جان کو قتل کردیا۔ “ وہ مقتول قبطی تھا۔ ایک روز موسیٰ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے جب شہر کے لوگ غفلت میں تھے۔ آپ نے دیکھا کہ وہ شخص آپس میں لڑر ہے ہیں ان میں ایک موسیٰ کی قوم کا آدمی تھا اور دوسرا ان کی دشمن قوم یعنی قبطیوں سے تعلق رکھتا تھا۔ (افستغاثہ الذی من شیعتہ علی الذین من عدوہ فوکزہ موسیٰ فقضی علیہ) (القصص :15/28) ” جو شخص ان کی قوم سے تھا اس نے اس شخص کے خلاف موسیٰ کو مدد کے لئے پکارا جو اس کی دشمن قوم سے تھا، موسیٰ نے اس کو ایک گھون اس مارا اور اس کا کام تمام کردیا۔ “ اسی پر موسیٰ نے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی، اللہ تعالیٰ نے ان کو بخش دیا۔ حضرت موسیٰ کو معلوم ہوا کہ دربار کے لوگ ان کو تلاش کر رہے ہیں تاکہ ان کو قتل کردیا جائے تو وہاں سے فرار ہوگئے۔
فنجینک من الغم) ” پس ہم نے تجھ کو نجات دی غم سے “ یعنی گناہ کی سزا اور قتل سے (وفتنک فتوناً ) یعنی ہم نے تجھ کو آزمایا اور تجھ کو اپنے تمام احوال میں راست روپایا، یا ہم تجھ کو مختلف احوال واطوار میں منتقل کرتے رہے یہاں تک کہ تو اپنے اس مقام کو پہنچ گیا جہاں تجھے پہنچنا۔ (فلبثت سنین فی اھل ھدین) ” پس تو اہل مدین میں کئی اسل رہا۔ “ یعنی جب حضرت موسیٰ کو فرعون اور اس کے درباریوں نیق تل کرنے کا منصوبہ بنایا تو موسیٰ وہاں سے فرار ہو کر مدین پہنچ گئے اور وہاں انہوں نے نکاح کرلیا اور مدین میں آٹھ یا دس اسل رہے۔ (ثم جئت علی قدر یموسی) ” پھر تو آیا تقدیر کے مطابق اے موسیٰ ! “ یعنی تو اس مقام پر اتفاقاً بغیر قصدوار اوہ بغیر ہماری تدبیر کے نہیں پہنچا بلکہ ہمارے لطف و کرم اور اندازے سے پہنچا ہے۔
یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ موسیٰ کلیم اللہ پر اللہ تعالیٰ کی کامل نظر عنایت تھی۔ بناء بریں فرمایا، (واصطنعتک لنفسی) ” اور میں نے تجھ کو پسند کرلیا اپنی ذات کے لئے “ یعنی میں نے تجھ پر اپنی نعمتوں کا فیضان کیا اور تجھ کو اپنی خصوص توجہ اور تربیت سے نوازا تاکہ تو میرا خاص محبوب بندہ بن جائے اور ایسے مقام پر فائز ہوجائے جہاں تک کوئی شاذ و نادر شخص ہی پہنچتا ہے۔ مخلوق میں جب ایک دوست دوسرے دوست کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اس کا دوست اپنے کمال مطلوب میں بلند ترین مقام پر پہنچ جائے تو وہ اس کو اس مقام پہ پہنچانے کے لئے انتہائی کوشش اور جدوجہد کرتا ہے۔۔۔ جب مخلوق کا یہ حال ہے تو آپ کا رب قادر و کریم کے بارے میں کیا خیال ہے، کہ وہ مخلوق میں سے جس کو اپنا محبوب اور دوست بنانے کے لئے چن لے اس کے ساتھ کیا کے گا ؟
Ayahs 20:46–47آیت 46
اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ کو دینی اور دنیاوی نعمتوں سے نوازنے کے بعد فرمایا : (اذھب انت واخوک) ” جاتو اور تیرا بھائی۔ “ یعنی ہارون (بایتی) ” میری نشانیوں کے ساتھ “ یعنی ان نشانیوں کے ساتھ جائیں جو حق کے حسن اور باطل کی قباحت پر دلالت کرتی ہیں، مثلاً یدبیضا اور عصا سمیت نو معجزات لے کر فرعون اور اس کی اشرافیہ کے پاس جائیں۔ (ولا تنیا فی ذکری) ” اور تم دونوں میرے ذکر میں سستی نہ کرو۔ “ یعنی میرا ذکر ہمیشہ کرتے رہو اور اس کو دائمیطور پر قائم رکھتے ہوئے کسی سستی کا شکار نہ ہو، میرے ذکر کو لازم بناؤ جی اس کہ تم دونوں نے خود ان الفاظ میں وعدہ کیا ہے۔ (کی نسبح کثیراً ، ونذکرک کثیراً ) طہ :33, 33, 20) اس لئے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر تمام معاملات میں مدد و معونت فراہم کر کے ان کو سہل بناتا ہے اور ان معاملات کے بوجھ میں تخفیف کرتا ہے۔
(اذھبا الی فرعن انہ طغی) ” تم دونوں فرعون کی طرف جاؤ، وہ سرکش ہوگیا ہے۔ “ یعنی وہ کفر، سرکشی، ظلم اور تعدی کی تمام حدود پھلانگ گیا ہے۔ (فقولا لہ قولاً لیناً ) لفظی آداب کا خیال رکھتے ہوئے، نرمی کے ساتھ نہایت سہل اور لطیف بات کیجیے، فحش گوئی، ڈینگیں مارنے، سخت الفاظ اور درشت افعال سے پرہیز کیجیے۔ (لعلہ) شاید وہ اس نرم گوئی کے سبب سے (یتذکر) نصیحت پکڑے جو اس کو فائدہ دے اور وہ اس پر عمل کرنے لگے (یخشی) اور نقصان دہ چیز سے ڈرے اور اسے ترک کر دے کیونکہ نرم گوئی اس کی طرف دعوت دیتی ہے اور سخت گوئی لوگوں کو اس سے متنفر کرتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ” نرم گوئی “ کی اپنے ارشاد میں تفسیر بیان کی ہے۔ (آیت) ” اور اس سے کہئے کہ کیا تو چاہتا ہے کہ پاک ہوجائے اور میں تیرے رب کی طرف تیری راہنمائی کروں تاکہ تو اپنے رب سے ڈرنے لگے ؟ “ کیونکہ اس قول میں جو نرمی اور آسانی پنہاں ہے اور سختی اور درشتی سے جس طرح پاک ہے، غور کرنے والے پر مخفی نہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے (ھل) کا لفظ استعمال کیا ہے جو (عرض) اور ” مشاورت “ پر دلالت کرتا ہے جس سے کوئی شخص نفرت نہیں کرتا اور اسے ہر قسم کی گندگی سے تطہیر اور تزکیہ کی طرف بلایا ہے۔ جس کی اصل شرک کی گندگی سے تطہیر ہے جسے ہر عقل سلیم قبول کرتی ہے۔ آپ نے یہ نہیں فرمایا (ازکیک) ” میں تجھے پاک کروں “ بلکہ فرمایا : (ترکی) یعنی ” تو خود پاک ہوجائے۔ “
پھر موسیٰ نے اسے اس کے رب کی طرف بلایا جس نے اس کی پرورش کی اور اسے ظاہیر اور باطنی نعمتوں سے نوازا جن پر کشر اور ذکر کرنا چاہیے۔ اس لئے فرمایا : (آیت) ” اور تاکہ میں تیرے رب کی طرف تیری راہنمائی کروں تاکہ تو اپنے رب سے ڈرنے لگے۔ “ جب فرعون نے اس کلام نرم و نازک کو قبول نہ کیا، جس کا حسن دلوں کو پکڑ لیتا ہے تو معلوم ہوا کہ اس کو وعظ و نصیحت کا کوئی فائدہ نہیں، تو اللہ تعالیٰ نے اسے اسی طرح پکڑ لیا جس طرح ایک غالب اور مقتدر ہستی پکڑتی ہے۔
(قالا ربنا اننا نخاف ان یفرط علینا) ” دونوں نے کہا، اے ہمارے رب ! ہم اس بات سے ڈرتے ہیں کہ وہ ہم پر زیادتی کرے۔ “ یعنی کہیں وہ ہمیں عقوبت میں نہ ڈال دے اور تیرا پیغام پہنچانے اور اس پر حجت قائم کرنے سے پہلے ہی کہیں ہمیں کسی تعذیب میں مبتلا نہ کر دے (او ان یطغی) یا وہ حق کے خلاف تکبر سے اقتدار و سلطنت، اپنے اعوان اور اپنی افواج کی بنا پر سرکشی نہ دکھائے۔
(قال لاتخافاً ) فرمایا، اس بات سے نہ ڈرو کہ وہ تم پر زیادتی کرے گا۔ (اننی معکما اسمع واری) ” میں تم دونوں کے ساتھ ہوں، سنتا اور دیکھتا ہوں۔ “ یعنی تم دونوں میری حفاظت اور گنرانی میں ہو، میں تمہاری بات کو سن رہا اور تمہارے تمام احولا کو دیکھ رہا ہوں اس لئے فرعون سے نہ ڈرو ! چناچہ ان دونوں کے دلوں سے فرعون کا خوف زائل ہوگیا اور اپنے رب کے وعدے پر ان کا دل مطمئن ہوگیا۔
Ayahs 20:48–49آیت 48
تحقیق وحی کی گئی ہے ہماری طرف کہ بیشک عذاب ہے اس شخص پر جس نے تکذیب کی اور منہ پھیرا، یعنی ان دو باتوں کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں۔
(1) فرعون کو اسلام کی دعوت دیں۔
(2) شرف کے حامل قبیلہ، بنی اسرائیل کو فرعون کی قید اور اس کی غلامی سے نجات دلائیں تاکہ وہ آزاد ہو کر اپنے معاملات کے بارے میں خود فیصلہ کریں اور موسیٰ ان پر اللہ تعالیٰ کیش ریعت اور اس کے دین کو نافذ کریں۔
(قد جئنک بایۃ) ” ہم تیرے پاس آئے ہیں نشانی لے کر۔ “ جو ہماری صداقت پر دلالت کرتی ہے۔ (آیت) ” موسیٰ نے اپنا عصا پھینکا اور یکایک وہ واضح طور پر اسنپ بن گیا اور اس نے اپنا ہاتھ گریبان سے نکالا تو دیکھنے والوں کے سامنے سفید چمک رہا تھا۔ “ (والسلم علی من اتبع الھدی) ” اور سلام ہے اس پر جس نے ہدایت کی پیروی کی۔ “ یعنی جس نے صراط مستقیم کی پیروی کی اور شرع مبین سے راہ نمائی لی، اسے دنیا و آخرت کی سلامتی حاصل ہوگئی۔ (انا قد اوحی الینا) ” ہماری طرف وحی کی گئی ہے۔ “ یعنی ہم جو خبر دے رہے ہیں، اپنی طرف سے نہیں دے رہے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ ک طرف سے (ان العذاب علی من کذب و تولی) یعنی اس شخص کے لئے عذاب ہے جس نے اللہ اور انبیاء و رسل کی خبر کی تکذیب کی اور ان کی اطاعت سے منہ موڑا۔ اس میں فرعون کو ایمان و تصدیقف اور دونوں نبیوں کی اطاعت و اتباع کی ترغیب دی گئی ہے اور اس کے متضاد امور سے ڈرایا گیا ہے۔ مگر اس کو کسی وعظ و نصیحت نے کوئی فائدہ نہ دیا اور اس نے اپنے رب کا انکار کردیا اور ظلم وعناد کی بنا پر اس بارے میں جھگڑا کیا۔
Ayahs 20:50–55آیت 50
یعنی فرعون نے موسیٰ سے انکار کے طور پر کہا : (فمن ربکما یموسی) ” تم دونوں کا رب کون ہے اے موسیٰ ؟ “ موسیٰ نے نہایت واضح اور کافی و شافی جواب دیا۔ فرمایا : (ربنا الذی اعطی کل شیء خلقہ) یعنی ہمارا رب وہ ہے جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا اور ہر مخلوق کو اپنی حسن تخلیق، حسن صنعت اور اس کی ضرورت کے مطابق وجود عطا کیا، مثلاً کسی کو بڑا، کسی کو چھوٹا اور کسی کو متوسط جسم عطا کیا اور یہی حال تمام صفات کا ہے۔
(ثم ھدی) ” پھر اس نے رہنمائی کی۔ “ یعنی ہر مخلوق کو جس مقصد کے لئے پیدا کیا گیا ہے اس کی طرف اس نے اس کی راہنمائی کی۔ اس ہدایت کامل کا تمام مخلوقات میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ ہر مخلوق جس منفعت کے لئے تخلیق کی گئی ہے اس کے حصول اور مضرت کے دور کرنے کے لئے کوشاں رہتی ہے حتی کہ اللہ تعالیٰ نے جانوروں کو بھی عقل عطا کی جس کے ذریعے وہ ان امور کے حصول پر متمکن ہوتے ہیں اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مطابق ہے۔ (آیت) ” جس نے ہر چیز کو بہترین طریقے سے تخلیق کیا۔ “ وہ ہستی جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا اور انہیں ایسی بہترین تخلیق عطا کی کہ عقل اناسنی اس سے زیادہ خوبصورت تخلیق پیش نہیں کرسکتی اور وہ ہستی جس نے تمام مخلوقات میں ان کے مصالح کی طرف راہنمائی ودیعت کی، وہی حقیقت میں رب کائنات ہے۔ اس رب کا انکار، سب سے بڑی چیز کے وجود کا انکار کرنا ہے اور یہ حقیقت کا انکار اور صریح جھوٹ ہے۔ اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ اناسن نے بعض ایسے امور کا انکار کیا ہے جو یقینی طور پر معلوم ہیں تو ان کا رب کائنات کا انکار کرنا سب سے بڑا انکار ہے، اس لئے جب فرعون اس قطعی دلیل کا مقابلہ نہ کرسکا تو اصل مقصد سے ہٹ کر جھگڑنے پر اتر آیا اور موسیٰ سے کہنے لگا : (فما بال القرون الاولی) یعنی پہلے زمانے کے لوگوں کا کیا معاملہ ہے اور ان کی کیا خبر اور کیا حال ہے ؟ ان لوگوں نے تو ہم سے پہلے حق کا انکار کر کے کفر، ظلم اور عناد کا ارتکاب کیا، کیا وہ ہمارے لئے نمونہ ہیں ؟
موسیٰ نے فرمایا : (علمھا عند ربی فی کتب لایضل ربی ولا ینسی) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے اچھے برے تمام اعمال کو شمار کر کے اپنی کتاب، یعنی لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے۔ علم و خبر کے اعتبار سے اس نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے کوئی چیز اس کے شمار کرنے اور لکھنے سے چھوٹتی نہیں اور نہ کوئی چیز اسے بھولتی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ انہوں نے جو بھی اعمال آگے بھیجے ہیں قیامت کے روز انہیں ان اعمال کا اسمنا کرنا ہوگا اور ان کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔۔۔ اس لئے اے فرعون ان کے بارے میں تیرے اس سوال اور استفہام کا کوئی معنی نہیں۔ وہ ایک امت تھی جو گزر گئی ان کے اعمال انکے لئے ہیں اور تم جو عمل کرو گے وہ تمہارے لئے ہے۔ اس لئے وہ دلیل جو ہم نے تیرے سامنے پیش کی ہے اور وہ نشانیاں جو ہم تجھے دکھا چکے ہیں، اگر تجھ پر ان کی صداقت متحقق ہوچکی ہے تو حق کے سامنے سرتسلیم خم کر دے۔ کفر، ظلم اور باطل کے ذریعے کثرت جدال کو چھوڑدے اور اگر تجھے اس بارے میں کوئی شک ہے اور تجھے اس پر یقین نہیں ہے تو بحث کا دروازہ کھلا ہوا ہے، دلیل کا جواب دلیل سے اور برہان کا جواب برہان سے ہونا چاہیے اور جب تک دن رات باقی ہیں تو کبھی بھی ایسا نہیں کرسکے گا اور یہ ہو بھی کیسے سکتا ہے حالانکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے بارے میں خبر دی ہے کہ اس نے ان آیات کا ان کی صداقت کا قائل ہونے کے بعد انکار کیا، جی اس کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” انہوں نے ان آیات کا، ان کا قائل ہونے کے بعد، ظلم اور تکبر کی بنا پر انکار کیا۔ “
موسیٰ نے فرمایا : (آیت) ” تجھے اچھیطرح معلوم ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں آسمانوں اور زمین کے رب کے سوا کسی نے نازل نہیں کیں۔ “ تب معلوم ہوا کہ فرعون اپنی بحث وجدال میں ظلم کا مرتکب ہوا اور اس کا مقصد زمین میں تغلب کا حصول تھا۔
پھر موسیٰ نے اللہ تعالیٰ کی بہت سی نعمتوں اور احاسنات کا ذکر کر کے اس دلیل قاطع کو ان پر لازم کردیا، چناچہ فرمایا : (الذی جعل لکم الارض مھداً ) یعنی اس نے زمین کو تمہارے لئے بچھونا بنایا، تم اس سے سکون وقرار حاصل کرتے ہو، اس پر عمارتیں تعمیر کرتے ہو، باغات لگاتے ہو، زراعت کے لئے اس میں ہل چلاتے ہو اور ان تمام کاموں کے لئے زمین کو تمہارے لئے مسخر کردیا ہے اور وہ تمہارے لئے تمہارے فوائد اور مصالح فراہم کرنے سے انکار نہیں کرتی (وسلک لکم فیھا سبلاً ) یعنی ایک جگہ سے دوسری جگہ، ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچانے کے لئے تمہارے لئے زمین میں راستے بنئاے یہاں تک کہ اناسن تمام روئے زمین پر ہر جگہ آسانی سے پہنچنے پر قادر ہیں اور وہ اپنے گھروں میں قیام پذیر رہ کر جو فائدہ اٹھاتے ہیں اس کی نسبت اپنے سفروں میں زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔
(آیت) ” یعنی اللہ تعالیٰ نے بارش برسائی (فاحیا بہ الارض بعد موتھا) (البقرۃ :163/2) ’ اور اس بارش سے زمین کے مردہ ہوجانے کے بعد اس کو زندہ کیا۔ “ پھر اس بارش کے ذریعے سے مختلف انواع، مختلف اشکال اور مختلف احوال کے مطابق نباتات کی بہت سی اصناف پیدا کیں، پھر اس نباتات سے ہمارے لئے اور ہمارے مویشیوں کے رزق فراہم کیا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو روئے زمین کے تمام اناسن اور حیوان ہلاک ہوجاتے۔
اس لئے فرمایا : (کلوا وارعوا انعامکم) ” تم کھاؤ اور اپنے چو پاؤں کو چراؤ۔ “ اللہ تعالیٰ نے احاسن کے طور پر اس آیت کریمہ کو بیان فرمایا ہے تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ تمام نباتات مباح ہیں اور ان میں سے کوئی چیز حرام نہیں سوائے ضرر رساں نباتات کے، مثلاً زہر وغیرہ (ان فی ذلک لایت لا ولی النھی) یعنی اس میں پختہ عقل اور فکر راست رکھنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اس کے احاسن، اس کی رحمت، اس کے بےپایاں جو دوسخا اور اس کی عنیات کامل کی نشانیاں ہیں اور یہ اس حقیقت پر دلیل ہیں کہ وہی رب معبود اور وہی مالک محود ہے جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں۔ حمد، مدح اور ثنا کا اس ہستی کے سوا کوئی مستحق نہیں جس نے یہ تمام نعمتیں عطا کی ہیں، نیز یہ اس امر پر بھی دلیل ہیں کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ پس اس نے جس طرح زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد زندہ کیا اسی طرح وہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرے گا۔
اللہ تعالیٰ نے یہاں عقل مندوں کو خاص طور پر مخاطب کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ عقل مند لوگ ہی ان نشانیوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کو عبرت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ان کے علاوہ دیگر لوگ بہائم اور چوپایوں کی مانند ہیں، وہ ان نشانیوں کو عبرت کی نظر سے نہیں دیکھتے اور نہ ان کی بصیرت کو ان نشانیوں کے مقاصد تک راسئی حاصل ہے بلکہ ان کے لئے ان نشانیوں میں اتنا ہی حصہ ہے جتنا بہائم (چوپایوں) کا ہے۔ وہ کھاتے ہیں، پیتے ہیں اور ان کے دل غافل اور جسم اعراض کرنے والے ہیں۔ (آیت) ” زمین اور آسمان میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے ان کا گزر ہوتا ہے مگر یہ ان سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ “
جب اللہ تعالیٰ نے زمین کی نفاست و فیاضی اور اللہ تعالیٰ کے اس پر بارش براسنے کے سبب اس کے حسن شکر کا ذکر کیا نیز بیان فرمایا کہ زمین اپنے رب کے حکم سے مختلف اقاسم کی نباتات اگاتی ہے۔۔۔ تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے ہمیں زمین سے پیدا کیا، ہمارے مرنے کے بعد ہمیں زمین ہی کی طرف لوٹائے گا اور ہمیں زمین میں دفن کر دے گا اور ایک مرتبہ پھر وہ ہمیں زمین سے نکال کھڑا کرے گا۔ پس جس طرح وہ ہمیں عدم سے وجود میں لایا۔۔۔ اور یہ حقیقت ہمیں معلوم اور ہمارے سامنے متحقق ہے۔۔۔ اسی طرح ہمارے مرنے کے بعد ہمیں دوبارہ زندہ کرے گا اور پھر ہمیں ہمارے اعمال کی جزا دے گا اور مرنے کے بعد اعادہ حیات پر یہ دونوں دلیلیں واضح اور عقلی دلیلیں ہیں۔
1۔ زمین کے مردہ ہوجانے کے بعد اس میں سے نباتات کو دوبارہ نکالنا۔
2۔ مکلفین کو زمین میں سے نکال کر دوبارہ وجود میں لانا۔
Ayahs 20:56–72آیت 56
اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرو نہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔ پس اس نے موسیٰ سے کہا۔ (اجئتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرک) ” کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ تو ہم کو ہمارے زمین سے نکال دے۔ “ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ نے جو معجزات دکھائے ہیں، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ ہے کہ فرعون کی قوم کو مصر کی سر زمین سے نکال کر خود قبضہ کیا جائے اور تاکہ موسیٰ کا کلام ان کی قوم کے دلوں کو متاثر کرے کیونکہ اناسین طبیعت اپنے وطن کی طرف مائل ہوتی ہے وطن سے نکلنا اور اس سے جدا ہونا اس کے لئے بہت مشکل ہوتا ہے۔ پس فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کو حضرت موسیٰ کے قصد سے آگاہ کیا تاکہ وہ ان کے خلاف ہوجائیں اور ان کے خلاف لڑائی پر آمادہ ہوجائیں۔ فرعون نے موسیٰ سے کہا کہ ہم بھی تمہارے جادو دکھا سکتے ہیں ہمیں کچھ مہلت دو ۔ (موعد الا نخلفہ نحن ولا انت مکانا سوی) اور طے کر دے کہ کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے یعنی اس کا ہمیں بھی علم ہو اور تمہیں بھی۔ یا کوئی ہموار میدان ہو جہاں ان کر تبوں کا مشاہدہ ممکن ہو۔
موسیٰ نے فرمایا : (موعدکم یوم الزینۃ) ” زینت (جشن) کے دن کا تم سے وعدہ ہے۔ “ یہ دن ان کی عید کا دن تھا۔ جس میں وہ اپنے کام کاج سے فارغ ہوتے تھے اور تمام مشاغل منقطع کردیتے تھے۔ (وان یحشر الناس ضعی) یعنی چاہشت کے وقت تمام لوگوں کو جمع کیا جائے۔ حضرت موسیٰ نے یہ مطالبہ اس لئے کیا تھا کیونکہ ان کے جشن کا وقت دن چڑھے ہوتا تھا۔ اس جشن میں لوگ کثیر تعداد میں کھٹے ہوتے تھے نیز اس وقت اشیاء کے حقائق کا صاف طور پر مشاہدہ ہوتا ہے جو کسی دوسرے وقت نہیں ہوسکتا۔ (فتولی فرعون فجمع کیدہ) یعنی اس نے وہ تمام واسئل جمع کر لئے جن کے ذریعے سے وہ موسیٰ کے خلاف چال چل سکتا تھا۔ اس نے تمام شہروں میں اپنے ہر کارے دوڑا دیئے تاکہ وہ ماہر جادو گردوں کو اکٹھا کریں۔ اس زمانے میں جادو بہت عام تھا اور لوگ اس کا علم حاصل کرنے میں بہت رغبت رکھتے تھے۔ فرعون نے جادوگروں کا ایک جم غفیر اکٹھاکر لیا۔ دونوں گروہ مقررہ مقام پر آگئے اور لوگ اس مقام پر اکٹھے ہوگئے۔ اتجماع بہت بڑا تھا وہاں مرد، عورتیں، امراء، اشراف، عوام اور چھوٹے بڑے سب لوگ مقابلہ دیکھنے کے لئے جمع ہوگئے انہوں نے لوگوں کو ترغیب دے کر جمع کیا تھا۔ انہوں نے لوگوں سے کہا تھا : (آیت) ” کیا تم اجتماع میں اکٹھے ہو گے ؟ تاکہ اگر جادو اگر جادو گر غالب رہے تو ہم ان کی پیروی کریں۔ “
جب جادو گر تمام شہروں سے اکٹھے ہوگئے تو موسیٰ نے ان کو وعظ و نصیحت کی اور ان پر حجت قائم کرتے باطل مسلک کی مدد کر کے حق پر غالب آنے کی کوشش نہ کرو اور نہ اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی کرو ورنہ عذاب الٰہی تمہیں تباہ کر دے گا۔ تمہاری کوشش اور تمہاری بہتان طرازی ناکام ہوجائے گی اور تمہیں فتح و نصرت اور فعون اور اس کے درباریوں کے ہاں کوئی عزت و جاہ حاصل نہیں ہوگی اور تم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکو گے۔
Ayah 20:73آیت 73
کلام حق دلوں کو ضرور متاثر کرتا ہے۔ جب جادو گروں نے حضرت موسیٰ کی بات سنی تو ان جادوگروں کے درمیان باہم نزاع اور جھگڑا برپا ہوگیا۔ ان کے درمیان نزاع کا سبب شاید یہ اشتباہ تھا کہ آیا موسیٰ حق پر ہیں یا نہیں ؟ مگر اس وقت تک ان کے درمیان اس بارے میں کوئی فیصلہ نہ ہوسکا تھا۔۔۔ تاکہ اللہ تعالیٰ اس معاملے کو ظہور میں لے آئے جس کا وہ فیصلہ کرچکا ہے۔ (آیت) ” تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔ “ اس وقت انہوں نے آپس میں سرگوشیاں شروع کردیں کہ وہ ایک موقف پر متفق ہوجائیں تاکہ اپنے قول و فعل میں کامیابی سے ہمکنار ہوں اور لوگ ان کے دین کی پیروی کریں۔
وہ سرگوشی، جو وہ آپس میں کر رہے تھے، اس کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” انہوں نے کہا، یہ دونوں جادوگر ہیں جو تمہیں اپنے جادو کے ذریعے سے تمہاری زمین سے نکالنا چاہتے ہیں۔ ان کا یہ قول فرعون کے قول کی مانند ہے جو گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ یا تو فرعون اور جادوگروں میں بغیر کسی قصد یکے اس قول پر اتفاق ہوا یا فرعون نے ان جادو گروں کو اس قول کی تلقین کی جس کاس اس نے لوگوں کے سامنے اظہار کیا تھا اور لوگوں سے کہلوایا تھا، چناچہ جادوگروں نے فرعون کی بات پر اضافہ کرتے ہوئے کہا : (ویذھبا بطریقتکم المثلی) ” اور تمہارے بہترین طریقے کو ختم کردیں۔ “ یعنی تمہارا جادو کا طریقہ جس پر موسیٰ تمہارے ساتھ حسد کرتا ہے اور تم پر غالب آنا چاہتا ہے تاکہ اسے فخر اور شہرت حاصل ہو اور اس علم کا مقصد بھی یہی ہے جس میں تم ایک زمانے سے مشغول ہو۔ موسیٰ چاہتا ہے کہ وہ تمہارے جادو کو ختم کر دے جو تمہارا ذریعہ معاش ہے، جس کی وجہ سے تمہیں ریاست ملی ہوئی ہے۔ یہ جادو گروں کی ایک دوسرے کو حضرت موسیٰ پر غالب آنے کے لئے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ترغیب ہے، اس لئے انہوں نے ایک دوسرے سے کہا : (فاجمعوا کیدکم ) ” پس تم اپنا داؤ اکٹھا کرو۔ “ یعنی اپنی رائے اور بات پر متفقف ہو کر، ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے یکبارگی موسیٰ پر غلبہ حاصل کرلو (ثم ائتواصفاً ) ” پھر آؤ تم صف بندی کر کے۔ “ تاکہ تم بہتر طریقے سے اپنا کام کرسکو اور دلوں میں تمہاری ہیبت بٹھ جائے اور تاکہ تم میں سے کوئی اس کام کو نہ چھوڑے جس کی وہ قدرت رکھتا ہے اور یاد رکھو ! جو آج کامیاب ہو کر اپنے مدمقابل پر غالب آگیا وہی فوز و فلاح کے مقام پر فائز ہے آج کی کامیابی پر مستقبل کی تمام کامیابیوں کی ادار و مدار ہے۔
وہ اپنے باطل میں کتنے سخت تھے، حق کے خلاف اسزشوں میں انہوں نے ہر قسم کا سبب اور وسیلہ استعمال کیا مگر اللہ تعالیٰ اپنی روشنی کو مکمل اور حق کو باطل پر غالب کر کے رہنے والا ہے۔ پس جب ان کی اسزش مکمل ہوگئی اور ان کا قصد منحصر ہوگیا اور عمل کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔ (قالوا یموسی اما ان تلقی) ” انہوں نے کہا، اے موسیٰ یا تو تو پہلے ڈال “ یعنی اپنا عصا (واما ان نکون اول من القی) ” یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں۔ “ انہوں نے یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ ہر حالت میں غالب آئیں گے، موسیٰ کو ابتدا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا۔ موسیٰ نے ان سے کہا : (بل القوا ) ” بلکہ تم ہی ڈالو۔ “ پس انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں (فاذا حبالھم وعصیھم یخیل الیہ) ” یکایک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں (حضرت) مسوی کو یوں محسوس ہوئیں “ (من سحرھم) ان کے بہت بڑے جادو کے زور سے (انھا تسعی) ” کہ وہ دوڑ رہی ہیں۔ “
جب موسیٰ کو رسیاں اور لاٹھیاں اسپن بن کر چلتی ہوئی محسوس ہوئیں (فاو جس فی نفسہ خیفۃ موسی) تو موسیٰ اپنے دل میں ڈر گئے جی اس کہ طبیعت بشری کا تقاضا ہے، ورنہ حقیقت میں انہیں اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس کی نصرت کا پورا یقین تھا۔ (قلنا) ان کو ثابت قدم اور مطمئن رکھنے کے لئے ہم نے کہا : (لاتخف انک انت الاعلی) ” ڈر نہ، تو ہی غالب ہوگا “ یعنی تو ہی ان پر غالب رہے گا اور وہ ہارمان کر تیرے سامنے سرنگوں ہوجائیں گے۔ (والق ما فی یمینک) یعنی اپنا عصا زمین پر پھنیک دے (تلقف ماصنعوا انما صنعوا کیدسحر ولا سفلع الاسحر حیث اتی) ” وہ نگل جائے گا وہ جو کچھ انہوں نے کیا ہے ان کا کیا ہوا، جادوگر کا کرتب ہے اور جادوگر جہاں سے بھی آئے، کامیاب نہیں ہوتا۔ “ یعنی ان کی اسزش اور ان کی چال ان کے لئے بار آور نہ ہوگی اور اس سے انہیں کوئی فائدہ حاصل نہ ہوگا کیونکہ یہ ان جادوگروں کا فریب اور شعبدہ بازی ہے جو لوگوں کو فریب دیتے ہیں۔ وہ باطل کا لبادہ اوڑھے ہوتے ہیں مگر ظاہر یہ کرتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں۔ پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا اور وہ ان جادوگروں کے بناوٹی اسنپوں کو نگل گیا اور لوگ اس اسرے کرشمے کو دیکھ رہے تھے۔ تب جادوگروں کو یقینی طور پر معلوم ہو یا کہ یہ جادو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ معجزہ ہے پس وہ فوراً ایمان لے آئے۔ (آیت) ” پس گرگئے جادو گر سجدے میں اور کہا ہم رب کائنات پر ایمان لے آئے جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے۔ “ پس اس بھرے مجمع میں حق ظاہر اور روشن ہوگیا اور مکر و فریب اور جادو باطل ہوگیا اور یہ چیز اہل ایمان کے لئے ایک واضح دلیل اور رحمت بن گئی اور معاندین حق پر حجت قائم ہوگئی۔
(قال) فرعون نے جادوگروں سے کہا : (امنتم لہ قبل ان اذ لکم) یعنی مجھ سے پوچھے اور میری اجازت کے بغیر تم نے ایمان لانے کا اقدام کیسے کرلیا ؟ چونکہ وہ اپنے ہر معاملے میں فرعون کے مطیع تھے اور اس کا نہایت ادب کرتے تھے، اس لئے فرعون کو ان کا ایمان لانابڑا عجیب اس لگا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اس معاملے میں بھی اس کی اطاعت کریں گے۔ اس دلیل اور برہان کو دیکھ لینے کے بعد فرعون اپنے کفر اور سرکشی میں بڑھتا ہی چلا گیا۔ یہ بات کہہ کر اس نے اپنی قوم کی عقل کو اپنی اس بات سے ماؤف کردیا اور یہ ظاہر کیا کہ موسیٰ کو جادوگروں پر جو غلبہ حاصل ہوا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ حق موسیٰ کے ساتھ ہے بلکہ یہ موسیٰ اور جادوگروں کا گٹھ جوڑ ہے، انہوں نے فرعون اور اس کی قوم کو ان کی زمین سے باہر نکالنے کے لئے اسزش کی ہے۔ پس فرعون کی قوم نے مکرو فریب پر مبنی اس موقف کو سچ سمجھ کر قبول کرلیا۔ (فاستخف قومہ فاطاعوہ انھم کانوا قوماً فسقین) (الزخرف :30/73) ” اس نے اپنی قوم کی عقل کو ہلکا کردیا اور انہوں نے اس کی بات مان لی، بیشک وہ نافرمان لوگ تھے۔ “
فرعون کی یہ بات کسی آدمی کی سمجھ میں نہیں آسکتی جو رتی بھر عقل اور واقعہ کی معرفت رکھتا ہے۔ کیونکہ موسیٰ جب مدین سے تشریف لائے تو وہ تنہا تھے جب وہ مصر پہنچے تو وہ کسی جادوگر سے نہیں ملے بلکہ وہ فرعون اور اس کی قوم کو دعوت دینے کے لئے جلدی سے اس کے پاس پہنچ گئے اور اسے معجزات دکھائے۔ فرعون نے موسیٰ کے معجزات کا مقابلہ کرنے کا ارادہ کرلیا اور امکان بھر کوشش کی، چناچہ ہر کارے بھیج کر تمام شہروں سے ماہر جادوگر اکٹھے کر لئے۔ اس نے جادوگروں سے وعدہ کیا کہ اگر وہ موسیٰ پر غالب آگئے تو وہ انہیں بہت بڑا معاوضہ اور قدر و منلزت عطا کرے گا۔ چونکہ وہ بہت زیادہ لالچی تھے اس لئے انہوں نے موسیٰ پر غلبہ حاصل کرنے کے لئے مکرو فریب کے ہتھکنڈے استعمال کئے۔ کیا اس صورتحال میں یہ تصور کرنا ممکن ہے کہ جادو گروں اور موسیٰ نے فرعون کے خلاف اسزش کرلی ہو اور جو کچھ پیش آیا اس پر پہلے سے اتفاق کرلیا ہو۔ یہ محال ترین بات ہے۔
پھر فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا : (فلا قطعن ایدیکم وارجلکم من خلاف) ” پس میں ضرور کاٹ دوں گا تمہارے ہاتھ اور تمہارے پیر الٹے سیدھے “ جیسے فاسد برپا کرنے والے محاربین کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ ان کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جاتا ہے۔ (ولا وصلبنکم فی جذوع النخل) یعنی تمہاری رسوائی اور اس کی تشہیر کی خاطر تمہیں کھجور کے تنوں پر سولی دے دوں گا۔ (ولتعلمن اینا اشد عذاباً وابقی) ” اور تم جان لو گے کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور پائیدار ہے۔ “ یعنی فرعن اور اس کے گروہ کا یہ گمان تھا کہ فرعون کا عذاب اللہ تعالیٰ کے عذاب سے زیادہ سخت، حقائق کو بدلنے اور بےعقل لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لئے زیادہ دیرپا ہے، اس لئے جب جادوگروں نے حق کو پہچان لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو عقل دے دی جس کی بنا پر انہوں نے حقائق کا ادراک کرلیا تو انہوں نے جواب دیا۔ (لن نؤثرک علی ما جآئنا من البینت) ” ہم ہرگز تجھ کو ترجیح نہیں دیں گے ان دلیلوں پر جو ہمارے پاس آئیں۔ “ جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ اکیلا ہی رب ہے، وہ اکیلا ہی معظم اور معزز ہے اور اس کے سوا (دوسرے تمام) معبود باطل ہیں۔ تجھے ہم اس ہستی پر ترجیح دیں جس نے ہمیں پیدا کیا ؟ یہ نہیں ہوسکتا۔ (فاقض ما انت قاض) ” پس تو جو کرسکتا ہے کرلے۔ “ یعنی جن باتوں سے تو نے ہمیں ڈرایا ہے، ہاتھ پیر کاٹنے سے، سولی پر چڑھانے سے یا اور سخت سزا سے، وہ تو دے کر دیکھ لے۔ (انما تقضی ھذہ الحیوۃ الدنیا) تو ہمیں جس تعذیب کی دھمکی دیتا ہے اس کی غایت و انتہاء یہ ہے کہ تو صرف اس دنیا میں ہمیں عذبا دے سکتا ہے جو ختم ہوجانے والا ہے یہ عذاب ہمیں کوئی نقصان نہیں دے سکتا۔ اس کے برعکس اس شخص کے لئے اللہ تعالیٰ کا دائمی عذاب ہے جو اس کا انکار کرتا ہے۔ یہ گویا فرعون کے اس قول کا جواب ہے۔ (ولتعلمن اینا اشدعذاباً وابقی)
جادوگروں کے اس کلام میں اس بات کی دلیل ہے کہ عقل مند کے لئے مناسب ہے کہ وہ دنیا کی لذتوں اور آخرت کی لذتوں، دنیا کے عذاب اور آخرت کے عذاب کے مابین موازنہ کرے۔ (انا امنا بربنا لیغفرلنا خطیناً ) ” ہم اپنے رب پر ایمان لائے تاکہ وہ ہماری خطائیں بخش دے۔ “ یعنی ہمارے کفر اور ہمارے گناہوں کو اسلئے کہ ایمان برئایوں کا کفارہ ہے اور توبہ پچھلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے (وما اکرھتنا علیہ من السحر) ” اور اس جادو کو بھی معاف کر دے جس پر تو نے ہمیں مجبور کیا۔ “ یعنی وہ جس سے ہم نے حق کا مقابلہ کیا۔ جادو گروں کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ انہوں نے خود اختیاری سے جادو کا کام نہیں کیا تھا بلکہ فرعون نے ان کو ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔
ظاہر ہوتا ہے، واللہ اعلم، کہ جب موسیٰ نے ان کو نصیحت کی جی اس کہ گزشتہ صفحات میں آپ کا یہ ارشاد گزر چکا ہے (ویلکم لاتفتروا علی اللہ کذباً فیسحتکم بعذاب) (طہ، 61/20) ” کم بختو ! اللہ پر بہتان طرازی نہ کرو، ورنہ وہ کسی عذاب کے ذریعے سے تمہاری جڑ کاٹ دے گا۔ “ تو آپ کی نصیحت نے جادوگروں کو متاثر کیا اور ان کے دلوں میں جاگزین ہوگئی، اس لئے موسیٰ کی نصیحت کے بعد ان کے درمیان اختلاف اور تنازع پیدا ہوا لیکن فرعون نے ان جادوگروں کو اس مکر و فریب پر عمل پیرا ہونے پر مجبور کردیا، اسی لئیا نہوں نے جادو کے کرتب دکھانے سے پہلے فرعون کی بات دہرائی (ان ھذبن لسحرن یریدن ان یخرجکم من ارضکم بسحرھما) یہ کہ ہکر وہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہوگئے جس پر فرعون نے ان کو مجبور کیا تھا۔ شاید یہی نکتہ تھا کہ باطل کے ذریعے سے حق کی معارضت کی ناپسندیدگی ان کے لدوں میں جاگزیں ہوگئی تھی۔۔۔ انہوں نے جو کام سر انجام دیا وہ انہوں نے اغماض برتتے ہوئے سر انجام دیا۔۔۔ اسی نکتہ نے ان کے دلوں کو متاثر کیا، اس کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور ان کو ایمان اور توبہ کی توفیق عطا فرمائی۔
انہوں نے کہا تو نے جو اجر و منزلت اور عزت و جاہ کا ہم سے وعدہ کیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ثواب بہتر ہے اور فرعون کے اس قول کی نسبت اللہ تعالیٰ کا ثواب اور احاسن باقی رہنے والا ہے۔ (ولتعلمن اینا اشدعذاباً وابقی) فرعون کی مرادیہ تھی کہ اس کا عذبا زیادہ سخت اور باقی رہنے والا ہے۔ قرآن کریم میں جہاں کہیں فرعون کے ساتھ موسیٰ کا ذکر آیا ہے۔ وہاں جادوگروں کے واقعے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ فرعون نے جادوگروں کے ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی دینے کی دھمکی دی تھی مگر یہ ذکر نہیں فرمایا کہ اس نے اپنی اس دھمکی پر عمل کیا تھا اور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں اس کی تصریح آئی ہے۔ اس دھمکی پر عمل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا دلیل پر موقف ہے (جو موجود نہیں) واللہ تعالیٰ اعلم مگر اس نے اپنے اقتدار کے بل بوتے پر ان کو جو دھمکی دی تھی، وہ اس پر عمل کی دلیل ہے۔ کیوں کہ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرما دیتا۔ ناقلین کا اس پر اتفاق ہے۔
Ayahs 20:74–78آیت 74
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ جو کوئی مجرم کی حیثیت سے اس کے حضور حاضر ہوتا ہے یعنی وہ ہر لحاظ سے مجرمانہ صفات سے متصف ہے جو کفر کو مستلزم ہے اور وہ مرتے دم تک اس پر جما رہتا ہے، اس کی سزا جہنم ہے، جس کا عذاب بہت ہی سخت، جس کی ہتھکڑیاں بہت بڑی، جس کی گہرائی بہت زیادہ اور جس کی گرمی اور سردی بہت المناک ہوگی اور جہنم میں اس کو ایسا عذاب دیا جائے گا جو دل و جگر کو پگھلا کر رکھ دے گا۔ جہنم کے عذاب کی ایسی شدت ہوگی کہ جس کو عذاب دیا جائے گا وہ اس عذاب میں مرے گا نہ جئے گا، نہ وہ مرے گا کہ اس کی جان چھوٹ جائے اور نہ وہ جئے گا کہ وہ اس زندگی سے لذت اٹھا سکے۔ اس کی زندگی قلبی، روحانی اور جسمانی عذاب سے لبریز ہوگی، جس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ عذاب ایک گھڑی کے لئے بھی اس سے دور نہ ہوگا۔ وہ مدد کے لئے پکارے گا لیکن اس کی مدد نہ کی جائے گی اور وہ دعائیں کرے گا لیکن اس کی دعا قبول نہ ہوگی۔ ہاں ! جب وہ پانی مانگے گا تو اسے پینے کے لئے ایسا پانی دیا جائے گا جو تیل کی تلچھٹ کی مانند ہوگا جو چہروں کو بھون کر رکھ دے گا۔ جب وہ پکارے گا تو اس کو جواب دیا جائے گا۔ (اخسوا فیھا ولاتکلمون) (المومنون :108/23) ” دفع ہوجاؤ اور اسی عذاب میں پڑے رہو اور میرے ساتھ کلام نہ کرو۔ “ اور جو کوئی اپنے رب پر ایمان رکھتے، اس کے رسولوں کی تصدیق کرتے اور اس کی کتابوں کی اتباع کرتے ہوئے، اس کے حضور حاضر ہوتا ہے (قد عمل الصلحت) اور اس نے قرض اور مستحب اعمال بھی سر انجام دیئے ہوتے ہیں (فاؤلئک لھم الدرجت العلی) ” تو ان کے لئے بڑے درجے ہوں گے۔ “ یعنی ان لوگوں کے لئے آراستہ بالا خانوں میں عالیشان ضیافتیں ہوں گی، کبھی نہ ختم ہونے والی لذتیں، بہتی ہوئی نہریں، دائمی خلود اور ایسی عظیم مسرتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے تصور میں ان کا گزر ہوا ہے۔ (وذلک) یعنی یہ ثواب (جزآؤا من تزکی) اس شخص کی جزا ہے جو شرک، کفر، فسق اور معصیت سے اپنے آپ کو پاک کرتا ہے۔ وہ یا تو ان مذکورہ گناہوں کا ارتکاب کرتا ہی نہیں یا اگر اس سے کسی گناہ کا ارتکاب ہوجاتا ہے تو وہ تو بہ کرلیتا ہے، نیز وہ اپنے نفس کو پاک کرتا ہے، ایمان اور عمل صالح کے ذریعے اس کی نشو و نما کرتا ہے۔
” تزکیہ “ کے دو معنی ہیں۔
(1) صاف کرنا اور گندگی کو زائل کرنا۔
(2) بھلائی کے حصول میں اضافہ کرنا
زکوۃ کو انہی دو امور کی بنا پر زکوۃ کہا جاتا ہے۔