Ayah 24:45اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واللہ خلق کل اضافت کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نے خلیق ماضی کا صیغہ پڑھا ہے دونوں قراءتوں میں معنی صحیح ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دو خبریں دیں ہیں۔ پس اس میں یہ کہنا مناسب نہیں کہ ایک قرات دوسری قرات سے اصح ہے۔ بعض علماء نے کہا : بعض علماء نے کہا : خلق مخصوص چیز کے لیے ہے اور خالق عموم پر بولا جاتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : الخالق الباری ( الحشر :24) اور خصوص میں فرمایا : الحمد للہ الذی خلق السموات والا ارض (الانعام :1) اسی طرح ھو الذی خلقکم من نفس واحدۃ (الاعراف : 189) پس اللہ خلق کل دابۃ من ماء ہونا ضروری ہے۔ الدابۃ حیوان میں سے جو سطح زمین پر چلتا ہے کہا جاتا ہے : دب یدب فھو داب۔ اس میں ھاء مبالغہ کے لیے ہے۔ یہ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ من مائ۔ اس میں جن اور ملائکہ داخل نہیں کیونکہ ہم انہیں نہیں دیکھتے اور نہ یہ ثابت ہے کہ وہ پانی سے پیدا کئے گئے ہیں اور جن آگ سے پیدا کئے گئے ہیں “۔ یہ پہلے گزر چکا ہے۔ مفسرین نے کہا : من ماء سے مراد من نطفۃ یعنی نطفہ سے پیدا کیا ہے (1) کہ ہر انسان کی تخلیق میں پانی ہے جس طرح آدم کو پانی اور مٹی سے پیدا فرمایا اس بناء پر نبی کریم ﷺ نے اس شیخ سے فرمایا تھا جس نے غزوہ بدر میں پوچھا تھا : تم کس سے ہو ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا : نحن من ماء ہم پانی سے ہیں۔ الحدیث۔ ایک قوم نے کہا : جن و فرشتوں کی استشنا نہیں ہے بلکہ ہر حیوان پانی سے پیدا کیا گیا ہے اور آگ پانی سے پیدا کی گئی ہے، ہوا پانی سے پیدا کی گئی ہے کیونکہ عالم کی سب سے پہلی چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی وہ پانی تھا پھر اس سے ہر چیز بنائی۔ میں کہتا ہوں : اس کے صحت پر یہ قول دلالت کرتا ہے : فمنھم من یمشی علی بطنہ۔ پیٹ کے بل چلنا سانپوں اور مچھلیوں کے لیے ہ۔ اور اس طرح دوسرے کیڑوں کے لیے ہے اور دو ٹانگوں پر چلنا انسان اور پرندوں کے لیے ہے اور چار ٹانگوں کا چلنا حیوان کے لیے ہے۔ مصحف ابی میں ہے ومنھم من یمشی علی اکثر اس زیادتی کے ساتھ تمام حیوان شامل ہوگئے جیسے سرطان اور خشاش وغیرہ، لیکن ان الفاظ کو اجماع نے ثابت نہیں کیا۔ لیکن نقاش نے کہا : چار ٹانگوں پر چلنے والوں کا ذکر پر اکتفا کیا (2) اور اس سے زیادہ چلنے والوں کے ذکر سے استغنا کیا کیونکہ تمام حیوانوں کا اعتماد چار ٹانگوں پر ہوتا ہے یہ اس کے چلنے کا سہارا ہوتی ہیں اور بعض حیوانوں میں ٹانگوں کی کثرت اس کی خلقت میں زیادتی ہے وہ حیوان ان تمام ٹانگوں پر چلنے کا محتاج نہیں ہوتا۔ ابن عطیۃ نے کہا : ظاہر یہ ہے کہ یہ کثیر ٹانگیں اس کے چلنے میں حرکت کرتی ہیں (3) ۔ بعض نے کہا : کتاب میں چار سے زیادہ پر چلنے کی ممانعت نہیں ہے کیونکہ یہ نہیں فرمایا کہ چار سے زیادہ پر چلنا نہیں ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس میں اضمار ہے ومنھم من یمشی علی اکثر من اربع جیسا کہ حضرت ابی کے مصحف میں ہے، واللہ اعلم۔ دابۃ کا لفظ ذوی العقول مخاطب اور مکلف ہوتا ہے اسی وجہ سے فرمایا منھم اور فرمایا من یمشی۔ اور اس اختلاف کے ساتھ صانع کے ثبوت کی طرف اشارہ کیا۔ اگر تمام کا صانع مختار نہ ہوتا تو وہ مختلف نہ ہوتے بلکہ وہ ایک جنس سے ہوتے یہ اس قول کی طرح ہے۔ یسقی بمآء واحد، و نفضل بعضھا علی بعض فی الاکل، ان فی ذلک لایت (الرعد : 4) یخلق اللہ ما یشآ، ان اللہ علی کلی شیء قدیر۔ جو ارادہ کرتا ہے اس پر قادر ہے۔
Ayah 24:46لقد انزلنا ایت مبینت، واللہ یھدی من یشآء الی صراط مستقیم۔ اس کا بیان پہلے گزر چکا ہے۔
Ayah 24:47اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ویقولون امنا با اللہ و بالرسول اس سے مراد منافقین ہیں، وہ زبان سے کہتے ہیں، ہم اللہ اور رسول پر ایمان لائے لیکن ان کا یہ کہنا اخلاص اور یقین کے بغیر ہوتا ہے۔ واطعنا۔ وہ کہتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں۔
Ayah 24:48مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و اذا دعوا الی اللہ و رسولہ لیحکم بینھم طبری وغیرہ نے کہا : ایک منافق آدمی جس کا نام بشر تھا اس کے اور ایک یہودی کے درمیان زمین کا جھگڑا تھا یہودی نے اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس فیصلہ کرانے کے لیے بلایا۔ منافق چونکہ حق پر نہ تھا اس نے آپ کے پاس آنے سے انکار کیا اور اس نے کہا : نعوذ باللہ محمد ﷺ ہم پر ظلم کرتا ہے ہم کعب بن اشرف (یہودی) کو اپنا حاکم بناتے ہیں تو اس کے بارے میں نازل ہوئی۔ اس کے اور حضرت علی ؓ کے درمیان پانی اور زمین کا پانی اور زمین کا جھگڑا تھا۔ مغیرہ نے انکار کیا کہ حضرت علی ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس فیصلہ کرانے کے لیے جائیں، مغیرہ نے کہا : وہ مجھ سے بغض کرتا ہے تو یہ آیت نازل ہوئی ؛ یہ ماوردی نے ذکر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : لیحکم مفرد صیغہ ذکر فرمایا۔ لیحکما تثنیہ کا صیغہ ذکر نہیں فرمایا کیونکہ اس سے مراد رسول مکرم ﷺ ہیں اور اللہ تعالیٰ کا ذکر اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور کلام کے آغاز کے لیے تھا۔
Ayahs 24:49–50مسئلہ نمبر 2 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وان یکن لھم الحق یاتوا الیہ مذعنین۔ اطاعت کرتے ہوئے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ آپ ﷺ حق کے ساتھ فیصلہ فرماتے ہیں۔ کہا جاتا ہے : اذعن فلان لحکم فلان یذعن اذعانا تسلیم کرنا نقاش نے کہا : مذعنین کا مطلب ہے خضوع کا اظہار کرتے ہوئے (1) مجاہد نے کہا : اس کا مطلب ہے جلدی کرتے ہوئے۔ اخفش اور ابن اعرابی نے کہا : اقرار کرتے ہوئے۔ افی قلوبھم مرض مرض سے مراد شک و شبہ ہے۔ امر ارتابوا۔ کیا انہیں آپ کی نبوت اور عدل میں شک پڑگیا ہے، ام یخافون ان یحیف اللہ علیہم ورسوللہ یا انہیں خوف ہے کہ فہصلی میں اللہ اور اس کا رسول ان پر ظلم کریں گے۔ استفہام کے لفظ سے کلام ذکر کی کیونکہ یہ تو بیخ میں سخت ہے اور مذمت میں ابلغ ہے جیسے جرید نے مدح میں کہا :
الستم خیر من رکب المطایا واندی العالمین یطون راح (1)
بل اولئک ھم الظلمون۔ وہ معاند اور کافر ہیں کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فیصلہ سے اعراض کیا ہے۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ فیصلہ کرنے کا اختیار مسلمانوں کے لیے ہوگا جب معاہد اور مسلم کے درمیان فیصلہ ہو۔ اس میں ذمیوں کو کوئی اختیار نہیں ہے۔ اور اگر جھگڑا ذمیوں کے درمیان ہو تو پھر ان کا قاضی ہو سکتا ہے۔ اگر دونوں ذمی اسلام کے قاضی کے پاس آئیں تو اس کی مرضی ہے چاہے تو فیصلہ کر دے چاہے تو اعراض کرلے جیسا کہ سورة مائدہ میں گزرا ہے۔
مسئلہ نمبر 4 ۔ یہ آیت دلیل ہے کہ کوئی شخص کسی کو کسی جھگڑے میں تصفیہ کے لیے کسی قاضی کی طرف بلائے تو اس پر لازم ہے کہ وہ ضرور اس قاضی کے پاس جائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی سخت مذمت کی ہے جس کو رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں بلایا جائے تاکہ آپ اس کے اور اس کے خصم کے درمیان فیصلہ کریں اور وہ انکار کرے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : افی قلوبھم مرض، ابن خویز منداد نے کہا : جس کو قاضی کی عدالت میں بلایا جائے اسے جانا واجب ہے جبب کہ اسے معلوم نہ ہو کہ قاضی فاسق ہے یا مدعی اور مدعا علیہ کے درمیان عداوت ہے۔ زہراوی نے حسن بن ابی الحسن سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جس نے اپنے خصم کو کسی مسلمان حاکم کی طرف بلایا اور وہ نہ آیا تو وہ ظالم ہے اور اسے حق نہیں ہے “ (2) یہ بھی ماوردی نے ذکر کیا ہے۔ ابن عربی نے کہا : یہ حدیث باطل ہے۔ رہا یہ قول کہ وہ ظالم ہے، یہ کلام صحح ہے اور رہا یہ قول کہ اس کا حق نہیں یہ صحیح نہیں ہے۔ اور یہ احتمال رکھتا ہے کہ اس کی مراد یہ ہو کہ وہ غیر حق پر ہے۔
Ayah 24:51قولؔ کا لفظ رفع سے پڑھا جائے گا۔ مگر نصب زیادہ قوی ہے کیونکہ دونوں اسموں میں سے پہلا تعریف میں دوسرے کی نسبت زیادہ مشغول ہونا چاہیے یہاں انؔ یقولوا جو کہ دوسرا اسم ہے وہ زیادہ مشغول ہے۔ قول المؤمنین ؔ کی بجائے۔ اِذَا دُعُوْآ اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ لِیَحْکُمْ (جبکہ ان کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف کسی فیصلہ کے لئے بلایا جاتا ہے) تاکہ نبی اکرم ﷺ فرمائیں۔
یزید نے لیحکم پڑھا ہے تاکہ ان کا فیصلہ کیا جائے۔ بَیْنَھُمْ (ان کے مابین) اس فیصلہ کے مطابق جو اللہ تعالیٰ نے ان پر اتارا ہے۔ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا (بس یہ ہوتا ہے کہ وہ کہہ دیتے ہیں) ہم نے آپ کا ارشاد سنا : واَطَعْنَا (اور آپ کا حکم مانا) وَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (وہ وہی کامیاب ہیں) ۔ مفلح ؔ کا معنی فائز ؔ ہے۔
Ayah 24:52وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ (جو شخص اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے) اپنے فرائض میں وَرَسُوْلَہٗ (اور اس کے رسول کی) ان کے طرق میں وَیَخْشَ اللّٰہَ (اور وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے) اپنے گزشتہ گناہوں کے سلسلہ میں وَیَتَّقْہِ (اور وہ تقویٰ اختیار کرے) زمان مستقبل میں۔ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْفَآپزُوْنَ ( وہی کامیاب ہونے والے ہیں)
نکتہ : کسی بادشاہ نے پوچھا کہ قرآن مجید میں کافیہ آیت کو نسی ہے تو جواباً ان کو یہ آیت پڑھ کر سنائی گئی۔ واقع میں یہ آیت کامیابی کے تمام اسباب کو جمع کرنے والی ہے۔
قراءت : وَیَتَّقِہْ ہاء کے سکون سے پڑھنا ابو عمرو، ابوبکر نے بنسبت وقف درست قرار دیا ہے اور حفص نے قافؔ کے سکون، کسرئہ ہاء سے اور قاف اور ہاء کے کسرہ سے دوسروں نے پڑھا ہے۔
Ayah 24:53وَاَقْسَمُوْا بِاللّٰہِ جَھْدَاَیْمَانِھِمْ (وہ اللہ تعالیٰ کے نام کی پختہ قسمیں کھا کر کہتے ہیں) منافقین نے اللہ تعالیٰ کے نام کی پکی قسمیں اٹھائیں ان کو جھد اس لئے کہا گیا کہ انہوں نے اپنی پوری کوشش ان میں صَرف کردی۔ جھد یمینہ کو جھد نفسہ کیلئے بطور استعارہ استعمال کیا گیا۔ جبکہ وہ اس میں اپنی پوری وسعت و کوشش صرف کر دے اور یہ اسی وقت ہے جب وہ قسم میں مبالغہ کرے اور اس کی پختگی و تاکید میں انتہاء کردے۔
قول ابن عباس ؓ : جس شخص نے اپنی قسم کے ساتھ باللہ ؔ کہا اس نے اپنی قسم کو انتہائی مضبوط کردیا۔ اور اصل کلام اس طرح ہے : اقسم جہد الیمین ای اقسم یجھد الیمین جھدًا فعل کو حذف کر کے مصدر کو مقدم کردیا اور اس کی جگہ رکھ کر مفعول کی طرف مضاف کردیا۔ جیسا اس ارشاد میں ہے : فضرب الرقاب ] محمد : 4 [اس منصوب کا حکم حال والا ہے گویا اس طرح کہا گیا : جاھدین ایمانہم اس حال میں کہ وہ اپنی قسموں میں کوشش کرنے والے ہیں۔
لَئِنْ اَمَرْتَھُمْ لَیَخْرُجُنَّ (اگر آپ ہمیں حکم دیں گے تو ہم ضرور نکل کھڑے ہونگے) یعنی اگر ہمیں محمد ﷺ غزوہ کی طرف نکلنے کا حکم دیں گے تو ہم ضرورجائیں گے یا اگر ہمیں ہمارے گھروں سے نکلنے کا حکم دیں گے تو ہم ضرور نکل جائیں گے۔ قُلْ لَّاتُقْسِمُوْا (آپ ان سے کہہ دیں تم قسمیں مت اٹھائو) جھوٹی قسمیں نہ اٹھائو کیونکہ وہ گناہ کبیرہ ہیں۔ طَاعَۃٌ مَّعْرُوْفَۃٌ (تمہاری فرمانبرداری معلوم ہے) اس جھوٹے ایمان سے کھلی خالص اطاعت زیادہ اولیٰ اور بہتر ہے۔
: یہ مبتدأ ہے اس کی خبر محذوف ہے نمبر 2۔ یہ خبر ہے اور اس کا مبتدأ محذوف ہے یعنی جو تم سے مطلوب ہے وہ معروف طاعت ہے جس میں کوئی اشتباہ نہ ہو اور نہ شک کیا جاسکے جیسا کہ مخلص مسلمانوں کی طاعت ہے وہ ایمان معتبر نہیں جس کی تم اپنے منہ سے قسمیں اٹھاتے ہو۔ حالانکہ تمہارے دل اس کے مخالف ہیں۔
اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ (بیشک اللہ تعالیٰ کو تمہارے اعمال کی خبر ہے) جو تمہارے ضمائر میں ہے اس کو بھی جانتے ہیں۔ اور تمہارے مخفی راز اس کے سامنے ہیں وہ تمہیں رسوا کرے گا۔ اور تمہارے نفاق پر بدلہ دے گا۔
Ayah 24:54قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ ( کہہ دیجئے ! تم اللہ اور رسول کی طاعت کرو) التفات کی خاطر خطاب سے غائب کی طرف کلام کو موڑ دیا یہ ان کے روندنے کیلئے بلیغ انداز ہے۔ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْہِ مَاحُمِّلَ وَعَلَیْکُمْ مَّاحُمِّلْتُمْ (اگر تم منہ موڑ لو تو رسول پر وہ لازم ہے جس کا بوجھ تم پر ڈالا گیا ہے اور تمہارے ذمہ وہ ہے جس کا بوجھ تم پر ڈالا گیا) مراد یہ ہے کہ اگر تم طاعت سے اعراض کرو گے تو ان کو کچھ نقصان نہ پہنچے گا بلکہ تمہارا اپنا نقصان ہوگا۔ رسول کی ذمہ داری اتنی ہے جتنی اس پر ڈالی گئی اور ادائے رسالت کا ان کو مکلف بنایا گیا۔ جب انہوں نے پیغام کو پہنچا دیا تو وہ اپنی ذمہ داری سے نکل گیا۔ باقی تم پر ذمہ داری اس کی بات کو قبول کرنے اور یقین کرنے کی رہ گئی اگر تم نے وہ ادا نہ کی اور منہ موڑ لیا تو تم نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے غضب کے حوالے کردیا اور اس کے عذاب پر اپنے آپ کو پیش کردیا۔ وَاِنْ تُطِیْعُوْہُ تَھْتَدُوْا (اگر تم اس کی طاعت کرو گے تو راہ پا جائو گے) یعنی اگر تم نے اطاعت کی ان تمام باتوں کی جن کا وہ تمہیں حکم دیتے اور منع کرتے ہیں تو ہدایت کا حصہ تم نے پالیا۔ نفع و نقصان بہر صورت ہماری طرف لوٹنے والے ہیں۔
آپ کی ذمہ داری پہنچا دینا ہے :
وَمَا عَلَی الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ (اور رسول کے ذمہ تو فقط ان احکامات کا کھول کر پہنچا دینا ہے) رسول ﷺ کے ذمہ تو ان احکام کا پہنچا دینا ہے تمہارے قبول کرلینے میں ان کا کوئی فائدہ نہیں اور نہ ہی تمہارے اعراض سے ان کو کوئی نقصان پہنچے گا۔ البلاغؔ کا معنی تبلیغ ہے۔ جیسا کہ الاداءؔ بمعنی التادیۃ آتا ہے۔ المبین ؔ ظاہر۔ یہ اس لئے کہا کیونکہ وہ احکام آیات ومعجزات کے ساتھ ملی ہوئی ہیں۔
فائدہ : پھر مخلصین کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔
Ayah 24:55وَعَدَاللّٰہُ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ (اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے جو تم میں سے ایمان لائے اور اعمال صالحہ کئے وعدہ فرمایا) اس میں نبی اکرم ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو مخاطب کرکے فرمایا گیا ہے۔ منکمؔ یہ بیان وضاحت کیلئے ایک قول یہ ہے اس سے مراد مہاجرین ہیں اور منؔ تبعیض کیلئے ہے۔ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ (ضرور بضرو ران کو زمین میں خلافت عنایت فرمائیں گے) ارض سے ارض کفار مراد ہے ایک قول ارض مدینہ مراد ہے۔
صحیح قول : یہ ہے کہ یہ عام ہے اس لئے کہ (علیہ السلام) کا ارشاد ہے : لید خلن ھذا الدین علی مادخل علیہ اللیل۔ اس دین کو اللہ تعالیٰ وہاں تک داخل کرے گا۔ جہاں تک رات چھائی ہے۔ کَمَااسْتَخْلَفَ جیسے اس نے خلیفہ بنایا۔
قراءت : ابوبکر نے استُخْلف پڑھا ہے۔
الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَھُمْ دِیْنَہُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَھُمْ وَلَیُبَدِّلَنَّھُمْ (ان لوگوں کو جو ان سے پہلے ہوئے اور ضرور بضرور تمکین عنایت فرمائے گا اس دین کو جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے پسند کیا ہے۔ اور ضرور بضرور بدل دے گا) ۔
قراءت : لیُبد لنَّھم کو تخفیف سے مکی اور ابوبکر نے پڑھا ہے۔
مِّنْ بَعْدِ خَوْفِھِمْ اَمْنًا (ان کے خوف کو امن سے) اس میں نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو کفر پر غلبہ کا وعدہ فرمایا ہے اور ان کو زمین پر وارث اور خلفاء بنائے گا۔ وعدہ کیا ہے جس طرح کہ بنی اسرائیل کے ساتھ کیا جبکہ ان کو مصر و شام عنایت فرمائے اور وہاں پر قابض جبابرہ کو ہلاک کردیا۔ نمبر 2۔ اور یہ بھی وعدہ فرمایا کہ پسندیدہ دین کو تمکین عنایت فرمائے گا اور یہ دین اسلام ہی ہے۔ تمکینؔ سے مضبوطی و پختگی مراد ہے۔ نمبر 3۔ ان کا قبیلہ ایمان لے آئے گا۔ اور موجودہ خوف کی حالت زائل ہوجائے گی۔ اور یہ اسی طرح ہوا کہ رسول ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ دس سال تک مکہ میں خوف کی حالت میں اقامت پذیر رہے جب ہجرت کر کے مدینہ چلے گئے تو صبح و شام ہتھیار بندر ہتے یہاں تک کہ ان میں سے ایک کی زبان سے نکلا کیا ہم پر کوئی دن ایسا آئے گا کہ ہم ہتھیار رکھیں گے تو یہ آیت اتری اس پر (علیہ السلام) نے فرمایا تم پر زیادہ زمانہ نہ گزرے گا یہاں تک کہ تم میں ہر آدمی بڑے گروہوں میں اجتباء کے ساتھ بیٹھے گا اور اس وقت اس کے ساتھ ذرا سا ہتھیار بھی نہ ہوگا۔ (ابن جریر فی تفسیرہ) اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ پورا فرمایا اور صحابہ کرام ؓ کو جزیرہ عرب پر غلبہ دیا اور اور انہوں نے مشرق و مغرب کے دور علاقے بھی فتح کرلیے قیصر و کسری کے ممالک کو چیر کر پارہ پارہ کردیا اور ان کے خزانوں کے مالک بنے اور دنیا میں غالب رہے۔
لیستخلفنہمؔ میں قسم جو لام اور نون سے متصل تھی اس کو حذف کردیا تقدیر کلام اس طرح ہے : وعدھم اللہ واقسم اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ کیا اور قسم اٹھائی : یستخلِفنَّہم۔ نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ کے وعدہ کو وقوع کے لحاظ سے قسم کی جگہ لایا گیا اور لوازمات قسم کو ذکر کردیا گویا کہ اللہ تعالیٰ نے قسم اٹھا کر فرمایا : لیستخلفنَّہم۔
یَعْبُدُوْنَنِیْ (وہ میری عبادت کرتے ہونگے) اگر تم اس کو جملہ مستانفہ بنا لو تو پھر اس کا کوئی محل اعراب نہیں گویا کلام اس طرح ہے : مالھم یستخلفون ویؤمنون ؟ پھر فرمایا یعبدوننی اگر اس کو تم وعدہ اللّٰہ سے حال بنائو یعنی وعد ھم اللہ فی حال عبادتہم کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ وعدہ اس حالت میں فرمایا کہ وہ اس کی عبادت کرتے ہونگے اس صورت میں یہ محل نصب میں ہے۔ لَایُشْرِکُوْنَ بِیْ شَیْئًا (وہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ہونگے) ۔
: یہ یعبدون کے فاعل سے حال ہے یعنی یعبد وننی موحدین وہ میری عبادت ایسی حالت میں کریں گے کہ توحید پرست ہونگے۔ نمبر 2۔ اور یہ بھی درست ہے کہ یہ حال پہلے حال سے بدل ہو۔
منکرین نعمت خلافت کو فاسق کہا :
وَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ (اور اس کے بعد جو لوگ کفر کریں گے) یعنی اس وعدہ کے بعد۔ یہاں مراد کفر سے کفر انِ نعمت ہے۔ جیسا کہ اس ارشاد میں فرمایا : فکفرت بانعم اللہ (النحل : 112 (
فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ (پس وہی لوگ فاسق ہیں) یعنی فسق میں کمال کو پہنچنے والے ہیں اس لئے کہ وہ اس عظیم الشان نعمت کے منکر ہیں اور اس نعمت کو حقیر قرار دینے کی جسارت کی۔ علماء کہتے ہیں کہ اس نعمت کی سب سے اول ناشکری کرنے والے قاتلین عثمان ؓ ہیں۔ انہوں نے اس کے بعد کہ وہ آپس میں بھائی بھائی تھے اور امت کے امن کو خوف سے بدلا۔
واضح استدلال :
یہ آیت واضح دلیل ہے کہ خلفائے راشدین ؓ کی خلافت برحق تھی کیونکہ جن ایمان والوں اور اعمال صالحہ والوں کے متعلق قسم اٹھائی گئی ہے وہ وہی ہیں۔
Ayah 24:56وَاَقِیْمُوْاالصَّلٰوۃَ (اور تم نماز کو قائم کرو۔ )
اس کا عطف اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول پر ہے۔ اور فاصلہ خواہ زیادہ ہو اس سے عطف میں فرق نہیں پڑتا۔
وَ ٰاتُوْاالزَّکٰوۃَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ ( اور تم زکوٰۃ ادا کرو اور رسول ﷺ کی اطاعت کرو) جس کی طرف وہ بلاتے ہیں اطاعت رسول کو واجب ہونے کی بناء پر دو بارہ لایا گیا تاکہ مزید تاکید ہوجائے۔ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ (تاکہ تم پر رحم ہو) تاکہ تم پر رحم کیا جائے اس لئے کہ یہ اعمال رحمت کو کھینچ کر لانے والے ہیں۔
فائدہ : اب ان کے بالمقابل کفار کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔
Ayah 24:57لَاتَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ (ہر گز کافر لوگ گمان نہ کریں کہ وہ زمین میں ہمیں تھکا دیں گے) وہ اللہ تعالیٰ کو عاجز کرنے والے نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو ان پر قابو نہ ہو۔
اس میں تاءؔ خطاب کیلئے ہے جو نبی اکرم ﷺ کو کیا جارہا ہے اور وہی فاعل ہے اور دو مفعول نمبر 1۔ الذین کفروا اور نمبر 2۔ معجزین ہیں۔
قراءت : شامی اور حمزہ نے یاؔء سے پڑھا ہے۔ فاعل نبی اکرم ﷺ ہی ہیں کیونکہ پہلے آپ کا تذکرہ ہوا اور الذین کفروا مفعول اول ہے جبکہ معجزین مفعول دوم ہے۔
وَمَاْوٰٹھُمُ النَّارُ (اور ان کاٹھکانہ آگ ہے)
اس کا عطف لا تحسبن الذین کفروا معجزین پر ہے۔ گویا کلام اس طرح ہے۔ الذین کفروا لا یفوتون اللہ ومأ واھم النار۔ کافرلوگ اللہ تعالیٰ سے بھاگ نہ سکیں گے اور ان کاٹھکانہ آگ ہے۔ وَلَبِئْسَ الْمَصِیْرُ (اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔ ) المصیر کا معنی مرجع ہے اور وہ آگ ہے۔
Ayah 24:58یٰٓــاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِیَسْتَاْذِنْکُمُ الَّذِیْنَ مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ (اے ایمان والو ! چاہیے کہ اجازت طلب کریں وہ لوگ جن کے مالک تمہارے دائیں ہاتھ ہیں) اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ غلام یا غلام اور لونڈیاں اجازت لے کر گھر میں داخل ہوں۔ وَالَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الحُلُمَ مِنْکُمْ (اور تمہارے وہ لڑکے جو ابھی جوانی کو نہیں پہنچے) آزاد لڑکوں میں سے جو بچے ابھی بلوغت کی عمر کو نہیں پہنچے۔
قراءت : حُلْمَ اس کو سکون لام کے ساتھ تخفیف کے طور پر پڑھا گیا ہے۔
ثَلٰثَ مَرَّاتٍ (تین مرتبہ) دن اور رات میں اور وہ اوقات یہ ہیں : مِنْ قَبْلِ صَلٰوۃِ الْفَجْرِ (فجر کی نماز سے قبل) کیونکہ یہ خوابگاہوں سے بیداری کا وقت ہوتا ہے۔ اس میں نیند کے کپڑے اتارے اور بیداری کا لباس پہنا جاتا ہے۔ وَحِیْنَ تَضَعُوْنَ ثِیَا بَکُمْ مِّنَ الظَّھِیْرَۃِ (اور جبکہ تم دوپہر کے وقت اپنے کپڑے اتارتے ہو) اور وہ دوپہر کا وقت ہے موسم گرما میں یہ بھی قیلولہ کیلئے زائد کپڑے اتارنے کا وقت ہے۔ اور نیند کے کپڑے زیب تن کئے جاتے ہیں۔
وَمِنْ بَعْدِ صَلٰوۃِ الْعِشَآئِ ( عشاء کی نماز کے بعد) کیونکہ یہ وقت بھی بیداری کے کپڑے اتارنے اور خواب کے کپڑے پہننے کا ہوتا ہے۔ ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّکُمْ (یہ تین اوقات تمہارے لئے پردے کے ہیں) یعنی یہ اوقات ثلاثہ پر دے کے ہیں۔
مبتدا اور مضاف کو حذف کردیا ہے تقدیر کلام یہ ہے : ھی ثلاث عورات۔ نصب کی صورت میں کوفی قراء نے پڑھا۔ مگر حفص نے مرفوع ہی پڑھا ہے۔ کوفی قراء نے ثلاث مرات سے بدل قرار دیا ہے ای اوقات ثلاث عورات۔
ان اوقات میں سے ہر وقت کو عورۃ کے لفظ سے تعبیر فرمایا کیونکہ ان اوقات میں آدمی اپنے تستر کو کم کرتا اور اس میں رخنہ اور شگاف ڈالتا ہے۔ اور العورۃؔکا معنی شگاف ہے اور اسی سے الاعورؔ ہے جس کی آنکھ میں خلل ہو دوسرے مقام پر فرمایا : ان بیوتنا عورۃ۔
شان نزول : ایک انصاری غلام مدیح بن عمرو دوپہر کے وقت عمر ؓ کے ہاں گیا جبکہ وہ سوئے ہوئے تھے اور آپ کا کپڑا ہٹا ہوا تھا۔ اس پر عمر ؓ نے کہا میں یہ پسند کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس وقت میں بلا اذن داخل ہونے سے منع فرما دیں۔ وہ غلام نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ پر یہ آیت نازل ہوئی۔
فائدہ : اگلی آیات میں ان تین اوقات کے علاوہ اوقات میں استیذان کی اجازت موقوف کی گئی۔
لَیْسَ عَلَیْکُمْ وَلَا عَلَیْہِمْ جُنَاحٌ0 بَعْدَھُنَّ (ان تین اوقات کے علاوہ اوقات میں بغیر اجازت کے آنے میں تمہیں اور انہیں کوئی گناہ نہیں) یعنی نہ تو تم پر گناہ ہے اور نہ ہی ان مذکورین پر کوئی گناہ ہے کہ ان کے علاوہ اوقات میں اگر وہ بلا استیذان داخل ہو جایاکریں۔
عدم استیذان کی علت :
اب عدم استیذان کی علت واضح کی۔ طَوَّافُوْنَ عَلَیْکُمْ (وہ تمہارے ہاں بار بار آنے والے ہیں) وہ گھریلوضروریات میں بار بار آنے جانے والے ہیں۔ بَعْضُکُمْ عَلٰی بَعْضٍ (ایک دوسرے پر) یہ مبتدأ خبر ہیں۔ تقدیر عبارت یہ ہے : بعضکم طائف علی بعض۔ طائف کو حذف کردیا کیونکہ طوافونؔ اس پر دلالت کر رہا ہے۔
نمبر 2۔ اور یہ بھی درست ہے کہ پورا جملہ ماقبل کا بدل ہو۔ نمبر 3۔ جملہ مبینہ مؤکدہ بھی بن سکتا ہے تقدیر کلام اس طرح ہوگی : ان بکم و بہم حاجۃ الی المخالطۃ والمداخلۃ یطوفون علیکم للخدمۃ وتطوفون علیھم للا ست خدام تمہیں اور انہیں میل جول اور آنے جانے کی بار بار ضرورت ہوگی۔ خدمت کیلئے اور تم ان سے خدمت لینے کیلئے بار بار آئو جائو گے۔ پس اگر استیذان کو ہر وقت لازم کردیا جائے تو اس سے تنگی پیدا ہوگی اور وہ نص کی وجہ سے شرعًا اٹھا لی گئی ہے۔
کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الْاٰیٰتِ (اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہاری خاطر آیات کو کھول کر بیان فرماتے ہیں) جیسا کہ استیذان کا حکم کھول کر بیان کیا اسی طرح دیگر آیات کو وضاحت سے بیان فرماتے ہیں۔ جن میں تمہیں بیان کی ضرورت ہے : وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ (اور اللہ تعالیٰ جاننے والے ہیں) اپنے بندوں کی مصلحتوں کو حَکِیْمٌ (حکمت والے ہیں) اس کی مراد کو بیان کرنے میں۔
Ayah 24:59حسن نے الحلم میں ضمہ کے ثقل کی وجہ سے اسے حذف کردیا ہے۔ مذکورہ تین اوقات میں بچوں کو اجازت طلب کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس کے علاوہ اوقات میں بغیر اجازت آنا مباح کیا گیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں حکم دیا کہ بچے جبب بالغ ہوجائیں تو وہ اجازت طلب کرنے میں ہر وقت مردوں کے حکم میں ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے احکام کا بیان ہے اس کے حلال اور حرام کی وضاحت ہے۔ فرمایا فلیستاذنوا یہ نہیں فرمایا فلیستاذنوکم جبب کہ پہلی آیت میں فرمایا لیستاذنکم کیونکہ بچے مخاطب اور مکلف نہیں ہیں۔ ابن جریج نے کہا : میں نے عطا سے کہا : واذا بدغ الاطفال منکم الحلم فلیستاذنوا کا کیا مطلب ہے ؟ انہوں نے فرمایا : لوگوں پر واجب ہے کہ وہ اجازت طلب کریں جب وہ بالغ ہوجائیں، خواہ وہ آزاد ہوں یا غلام ہوں۔ ابو اسحاق فزاری نے کہا : میں نے اوزاعی کو کہا بچے کی کیا حد ہے جس میں وہ اجازت طلب کرے ؟ انہوں نے کہا : چار سال۔ فرمایا : کسی عورت پر داخل نہ ہو حتیٰ کہ اجازت طلب کرلے ؛ یہ زہری کا قول ہے۔ یعنی آدمی اپنی لونڈی پر اجازت طلب کرلے اس معنی میں یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 24:60وَالْقَوَاعِدُ (اور بڑی بوڑھی عورتیں) یہ قاعد کی جمع ہے۔ یہ عورت کی مخصوص صفات میں سے ہے جیسے طالق اور خالص۔ مراد یہ ہے وہ عورتیں جو اولاد اور حیض سے زیادتی عمر کی وجہ سے بیٹھ جائیں۔ مِنَ النِّسَآئِ (عورتوں میں سے) ۔
الَّتِیْ لَایَرْجُوْنَ نِکَاحًا (وہ عورتیں جو نکاح کی طمع نہ رکھتی ہوں)
یہ محل رفع میں القواعد مبتدأ کی صفت ہے اور خبر فلیس علیہن جناح ہے۔
فَلَیْسَ عَلَیْہِنَّ جُنَاحٌ (پس ان پر کوئی گناہ نہیں )
الف لام کی وجہ سے مبتدأ میں شرط کا معنی پایا جاتا تھا اس لئے شرط پر فاءؔ لائی گئی۔
اَنْ یَّضَعْنَکہ وہ (اپنے زائد کپڑے) اتار دیں اس بات میں کہ وہ اپنے زائدکپڑے اتار دیں۔ ثِیَابَھُنَّ (اپنے کپڑے) یعنی ظاہری کپڑے جیسے اوپر اوڑھنے والا کپڑا۔ دوپٹے کے اوپر منہ پر ڈالنے والا جلباب۔ غَیْرَ مُتَبَرِّ جٰتٍ بِزِیْنَۃٍ (وہ اپنی زینت کو ظاہر نہ کرنے والی ہوں) وہ زینت کو (غیر مردوں) کے سامنے ظاہر کرنے والی نہ ہو۔ الزینۃ سے مراد خفیہ چیزیں مثلاً بال، سینہ، پنڈلی، وغیرہ ان کے اتارنے سے تبرج مقصود نہ ہو۔ بلکہ کپڑوں کو ہلکا کرنا ہو۔
تبرج کی حقیقت :
جس کا چھپا نا واجب ہو اس کے اظہار میں تکلف سے کام لینا۔ وَاَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ (اور اگر وہ اس سے اجتناب کریں) اگر وہ کپڑے اتارنے سے اجتناب کریں اور کپڑے پہنے رکھیں تو بہت بہتر ہے۔
نحو : وہ مبتداء ہے اور اس کی خبر خیرٌ لھن ہے۔
خَیْرٌ لَّھُنَّ وَاللّٰہُ سَمِیعٌ عَلِیْمٌ (تو ان کے لئے بہت بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ اس بات کو سننے والے ہیں) جو وہ ظاہراً کہیں اور علیمؔ یعنی (جاننے والے ہیں) ان کے مقصود کو۔
Ayah 24:61اس میں گیارہ مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لیس علی الاعمیٰ حرج اس آیت کی تفسیر میں علماء کے مختلف آٹھ اقوال ہیں اور ان میں قریب ترین تین ہیں کیا یہ منسوخ ہے یا ناسخ ہے یا محکم ہے ؟ (1) یہ وللا علی نفسکم سے لے کر آخر تک منسوخ ہے ؛ یہ عبدالرحمن بن زید کا قول ہے۔ فرمایا : یہ چیز ختم ہوچکی ہے، ابتدائے اسلام میں تھی جب کہ ان کے دروازے بند نہیں ہوتے تھے اور ان کے دروازوں پر پردے لٹکے ہوئے ہوتے تھے۔ بعض اوقات کوئی شخص آتا تھا وہ گھر میں داخل ہوتا تھا جب کہ وہ بھوکا ہوتا تھا اور گھر میں کوئی شخص نہیں ہوتا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے اس گھر سے کھانا جائز قرار دیا تھا پھر گھروں کے دروازے بن گئے تو اب کسی کے لیے ان کو کھولنا جائز نہیں پس یہ حکم ختم ہوگیا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ آیت ناسخ ہے ؛ یہ ایک جانور نہ دو ہے مگر اس کی اجازت سے “ (1) اس حدیث کو ائمہ نے نقل کیا ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ آیت ناسخ ہے ؛ یہ ایک جماعت کا قول ہے۔ حضرت علی بن ابکی طلحہ نے حضرت ابن عبب اس ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : جب اللہ تعالیٰ نے یا یھا الذین امنوا لا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل (النسائ :29) نازل فرمایا تو مسلمانوں نے کہا : اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے مال باطل ذریعہ سے کھانے سے منع فرمایا ہے اور طعام، اموال سے افضل ہے (2) پس ہم میں سے کسی کے لیے حلال نہیں کہ وہ کسی کے پاس کھانا کھائے، پس لوگ اس سے باز آگئے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ ابن زید نے کہا : یہ جنگ میں حرج ہے (2) یعنی جنگ میں پیچھے رہ جانے میں کوئی حرج نہیں اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ولا علی انفسکم یہ پہلے کلام سے جدا ہے۔ ایک فرقہ نے کہا : پوری آیت کھانوں کے بارے میں ہے۔ فرمایا : عرب اور جو مدینہ طیبہ میں رہتے تھے بعثت سے پہلے معذور لوگوں کے ساتھ کھانا کھانے سے اجتناب کرتے تھے۔ بعض تو نفرت کرتے ہوئے ایسا کرتے تھے کیونکہ نابینا ہاتھ کو کھانے میں گھماتا رہتا ہے اور لنگڑے کے پاس غرور کی وجہ سے نہیں بیٹھتے تھے اور مریض کی بدبو اور بیماری کی وجہ سے اس کے پاس نہیں بیٹھتے تھے یہ زمانہ جاہلیت کے اخلاق تھے اور یہ تکبر تھا تو یہ آیت یہ اعلان کرتے ہوئے نازل ہوئی اور بعض لوگ غیر معذور سے بچنے کے لیے ایسا کرتے تھے کیونکہ وہ کھانے میں صحیح لوگوں سے درجہ میں کم ہوتے تھے کیونکہ نابینے کو دکھائی نہیں دیتا اور لنگڑا مزاحمت سے عاجز ہوتا ہے اور مریض کمزور ہوتا ہے تو ان کے ساتھ کھانے کی اباحت میں آیت نازل ہوئی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے زہروی کی کتاب میں فرمایا : عذر والے لوگ اپنے عذر کی وجہ سے لوگوں کے ساتھ کھانا کھانے سے بچتے تھے تو یہ آیت ان کے لیے اباحت کا اظہار کرتے ہوئے نازل ہوئی۔ بعض علماء نے فرمایا : آدمی جب کسی معذور کو اپنے گھر لے جاتا تھا اور اپنے گھر میں کھانے کی کوئی چیز نہیں پاتا تھا تو وہ اسے اپنے قرابت داروں کے گھر لے جاتا تھا پس عذر والے لوگ اس سے بچتے تھے تو یہ آیت نازل ہوئی۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولا علی انفسکم یہاں سے کلام کا آغاز ہو رہا ہے یعنی اے لوگو ! تم پر کوئی حرج نہیں جو مخاطب اور غیر مخاطب جمع تھے تو مخاطب کو غلبہ دیا تاکہ کلام کا نظم باقی رہے۔ قرابت داروں کے گھروں کا ذکر کیا اور بیٹوں کے گھروں کا ذکر نہیں کیا۔ مفسرین نے فرمایا : یہ فی بیوتکم میں داخل ہیں کیونکہ بیٹے کا گھر باپ کا گھر ہوتا ہے۔ نحاس نے کہا : بعض علماء نے اس قول کی مخالفت کی ہے تو فرمایا : یہ کتاب اللہ پر حکم لگانا ہے بلکہ ظاہر میں اولیٰ یہ ہے کہ بیٹا ان کے مخالف نہ ہو۔ اور انت ومالک لابیک (1) تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے کی روایت سے بھی حجت قوی نہیں ہوتی کیونکہ یہ حدیث بہت کمزور ہے اگر یہ صحیح بھی ہوتی تو اس میں حجت نہیں تھی کیونکہ نبی کریم ﷺ جانتے تھے کہ اس مخ۔ اطب کا مال اس کے باپ کا ہے۔ یعنی مالک لک۔
مسئلہ نمبر 4 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بعض علماء نے فرمایا : ان کے گھروں سے کھانا تب جائز ہے جب وہ اسے اجازت دیں۔ بعض علماء نے کہا : وہ اسے اجازت دیں یا نہ دیں اس کے لیے کھانا جائز ہے کیونکہ قرابت جوان کے درمیان ہے یہ ان کی طرف سے اذن ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس قرابت میں ایک کھانا جائز ہے کیونکہ قرابت مہربانی ہے اس مہربانی اور شفقت کی وجہ سے نفوس کوئی حرج نہیں سمجھتے کہ ان کی کوئی چیز کھالے جب انہیں اس کے کھانے کے متعلق معلوم ہوگا تو وہ خوش ہوں گے۔ ابن عربی نے بغیر اجازت نسب کی وجہ سے کھانا ہمارے لیے مباح قرار دیا ہے جب کہ کھانا معمول کے مطابق ہو۔ جب کھانا مخصوص ہو اور محفوظ کیا گیا ہو تو پھر کھانا جائز نہیں اور یہ بھی جائز نہیں کہ وہ ذخیرہ کریں اور رنہ ایسی چیز کی طرف تجاوز کریں جو کھانے والی نہ ہو اگرچہ وہ غیر محفوظ ہو مگر ان کی اجازت سے۔
مسئلہ نمبر 5 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اوما ملکتم مفارتحہ یعنی جو تم نے خزانہ کیا اور تمہارے قبضہ میں ہے۔ اور اس کو عظیم سمجھتا ہے انسان جس کو وہ اپنے گھر میں مالک ہوتا ہے اور اس کے قبضہ میں ہوتا ہے، یہ ضحاک، قتادہ اور مجاہد کی تاویل ہے اور جمہور مفسرین کے نزدیک اس آیت میں وکلاء غلام اور مزدور سب داخل ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : انسان کا وکیل اس کے مال کی حفاظت کرتا ہے، خازن اس کے مال کی حفاظت کرتا ہے تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ معمولی سی چیز کھالے۔ ابن عربی نے کہا : خازن کے لیے جائز ہے کہ وہ جس کو خزانہ کرتا ہے اس سے کچھ کھائے۔ اس پر اجماع ہے۔ یہ اس صورت میں ہے جب اس کے لیے اجرت نہ ہو لیکن جب اس کے لیے اجرت ہو تو اس پر کھانا حرام ہے۔ سعید بن جبیر نے ملکتم میم کے ضمہ، لام لام کے کسرہ اور شد کے ساتھ پڑھا ہے اور مفاتیحہ تاء اور حائء کے درمیان یاء کے ساتھ پڑھا ہے یہ مفتاح کی جمع ہے۔ یہ سورة انعام میں گزر چکا ہے۔
مسئلہ نمبر 6 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اوصدیقکم۔ صدیق جمع کے معنی میں ہے اس طرح العدو ہے جمع کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فانھم عدولی (الشعرائ :77) وہ میرے دشمن ہیں۔ جریر نے کہا :
الصدیق وہ ہوتا ہے جو اپنی محبت میں تجھ سے سچ بولتا ہے اور تو اپنی محبت میں اس سے سچ بولتا ہے۔ پھر یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ لاتدخلوا بیوت النبی الا ان یؤذن لکم (الاحزاب :53) کے ارشاد کے ساتھ اور فان لم تجدوا فیھا احدا فلا تدخلوھا کے قول کے ساتھ اور نبی کریم ﷺ کے ارشاد : لا یحل مال امرء مسلم الا بطیبۃ نفس منہ (2) ۔ کے ساتھ منسوخ ہے۔ بعض نے کہا : یہ محکم ہے۔ یہ اصح ہے۔ محمد بن ثور نے معمر سے روایت کیا ہے فرمایا : میں قتادہ کے گھر داخل ہوا تو میں نے اس میں کھجوریں دیکھیں میں نے انہیں کھانا شروع کردیا انہوں نے فرمایا : یہ کیا ہے ؟ میں نے کہا : میں نے تیرے گھر میں کھجوریں دیکھیں تو میں نے کھانا شروع کردیا۔ فرمایا : تو نے اچھا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : او صدیقکم عبدالرزاق نے معمر سے انہوں نے قتادہ سے۔ او صدیقکم کے تحت فرمایا : جب تو اپنے دوست کے گھر اس کے حکم کے بغیر داخل ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ معمر نے کہا میں نے قتادہ سے کہا : کیا میں اسگھڑے سے پی لوں ؟ انہوں نے فرمایا : تو میرا دوست ہے پھر یہ اجازت کیسی ہے ؟ نبی کریم ﷺ حضرت ابو طلحہ کے باس بیر حاء میں داخل ہوتے تھے اور ان کی اجازت کے بغیر اس کا میٹھا پانی پیتے تھے جیسا کہ علماء نے فرمایا ہے۔ علماء نے فرمایا : پانی اپنے ملکوں کی ملکیت میں ہوتا ہے جب دوست کے پانی سے بغیر اجازت پینا جائز ہے تو اس کے پھلوں اور طعام سے کھانا بھی جائز ہے جب اسے معلوم ہو کہ اس کا دوست اس سے خوشی محسوس کرے گا کیونکہ اس کے ساتھ اس کی بات چیت ہوتی ہے نیز اس میں مشقت بھی کم ہے یا ان کے درمیان محبت ہے۔ اسی مفہوم میں ام حرام کا رسول اللہ ﷺ کو کھانا کھلانا ہے جب وہ ان کے پاس سوتے تھے کیونکہ اغلب یہ ہے کہ جو کچھ گھر میں ہوتا ہے وہ مرد کا ہوتا ہے۔ اور اس کی بیوی کا ہاتھ اس میں عاریتہ ہوتا ہے۔ یہ تمام اسی صورت میں ہے جب تک وہ کپڑے میں باندھ کر نہ لے جائے اور اس سے اپنے مال کو بچانے کا ارادہ نہ ہو اور وہ مال معمولی حیثیت کا ہو۔
مسئلہ نمبر 8 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ لیس علیکم جناح ان تاکلوا جمیعاً او اشتاتاً بعض علماء نے کہا : یہ بنی لیث بن بکر کے بارے میں نازل ہوئی یہ بنی کنانہ سے ایک قبیلہ ہے ان میں سے کوئی شخص تنہا کھانا نہیں کھاتا تھا اور کئی دن تک بھوکا رہتا تھا حتیٰ کہ وہ کوئی ایسا شخص پا لیتا جو اس کے ساتھ کھانا کھاتا ؛ اسی سے کسی کا قول ہے :
اذا ما صنعت الزاد فالتمسی لہ اکیلا فانی لست اکلہ وحدی (2)
ابن عطیہ نے کہا : یہ سیرت انیں حضرت ابراہیم سے میراثا ملی تھی۔ حضرت ابراہیم تنہا کھانا نہیں کھاتے تھے۔ اور بعض عرب ایسے تھے کہ جب ان کا مہمان ہوتا تو وہ میزبان مہمان کے ساتھ کھانا کھاتا تھا تو آیت کریمہ کھانے کی سنت کو بیان کرنے کے لیے نازل ہوئی اور یہ سرات عرب میں سے جو اس کے مخالف تھا اس کو یہ ختم کرنے والی ہے اور عربوں کے نزدیک تنہا کھانا جو حرام تھا اس کو مباح کرنے والی ہے اس کے ذریعے اخلاق کریمانہ کا قصد کیا ہے اور اس لازم کرنے میں مبالغہ کیا ہے کھانے والے کو حاضر کرنا اچھی باتی ہے کہ تنہا کھانا بھی حرام نہیں ہے۔
مسئلہ نمبر 9 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جمیعاً اواشتاتاً ، پر نصب حال کی بناء پر ہے۔ اشتاتاشت کی جمع ہے۔ الشت بمعنی التفرق (جدا جدا ہونا) ہے کہا جاتا ہے : شت القوم یعنی قوم جدا جدا ہوئی۔ امام بخاری نے اپنی صحیح میں باب باندھا ہے۔ لیس علی الاعمی حرج ولا علی الاعرج حرج ولا علی المریض حرج والنھد والاجماع۔ اس باب سے مقصود بقول ہمارے علماء اکٹھا کھانا مباح ہے اگرچہ کھانے میں احوال مختلف ہوں نبی کریم ﷺ نے اس کی اجازت دی ہے پس یہ ان گروہوں میں سنت ہے جو اجتماعی کھانے، دعوت ولیمہ اور سفر میں کھانا ختم ہونے کی صورت میں کھانے کی طرف بلائے جاتے ہیں اور جس کی چابیوں کا تو امین یا دوستی کی وجہ سے مالک ہو تو تیرے لیے رشتہ دار یا دوست کے ساتھ مل کر کھانا اور تنہا کھانا جائز ہے۔ النھد سے مرادوہ مال یا کھانا ہوتا ہے جس کو احباب خرچ کرنے کے لیے جمع کرتے ہیں پھر اسے آپس میں خرچ کرتے ہیں تو کہتے ہیں : تناھدوا انہوں نے خوراک کو جمع کیا پھر اکٹھا خرچ کیا۔
Ayah 24:62اس میں دو مسئلے ہیں۔
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انما المومنون اس آیت میں انما حصر کے لیے ہے، معنی ہے کہ اللہ تعالیٰاور اس کے رسول پر ایمان لانے والے کا ایمان مکمل نہیں ہوتا مگر جب وہ رسول کریم ﷺ کے کسی امرکو مکمل کرنے کا ارادہ کرتا ہو وہ اس ارادہ کے وقت اس کے زوال کے ساتھ اس کے فساد کا ارادہ کرتا ہو اللہ تعالیٰ نے سورت کے آغاز میں بیان فرمایا کہ اس نے آیات بنات نازل کیں اور نزول حضرت محمد ﷺ پر ہے۔ اور سورة کا اختتام آپ کی متابعت کرنے کے موکد حکم کے ساتھ کیا تاکہ یہ ظاہر ہوجائے کہ نبی کریم ﷺ کا حکم، قرآن کے حکم کی طرح ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ امر جامع سے کیا مراد ہے ؟ بعض علماء نے فرمایا : اس سے مراد وہ ہے جس کے لیے امام کو لوگوں کے جمع کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اس میں مصلحت کا پھیلائو ہوتا ہے، مثلاً دین میں سنت کو قائم کرنا، ان کے اجتماع کے ساتھ دشمن کو ڈرانا اور ضرر پر مشتمل ہو تو اس کے مشورہ کے لیے لوگوں کو جمع کرے۔ امام وہ ہوتا ہے جس کے اذن کا انتظار کیا جاتا ہے وہ امارت کا امام ہے۔ کوئی شخص کسی عذر کی وجہ سے نہ جائے مگر اس کی اجازت سے جب کوئی شخص اس کے اذن سے جائے گا تو اس سے سوء ظن دور ہوجائے گا۔ مکحول اور زہری نے کہا : جمعہ، امر جامع سے ہے (1) نماز کے امام سے اجازت لینی چاہیے جب ریاست کا امیر اس کو امامت کے لیے مقدم کرے جب اجازت طلب کرنے والا اجازت طلب کرنا چاہے۔ ابن سیرین نے کہا : لوگ اجازت طلب کرتے تھے جب امام منبر پر ہوتا تھا۔ جب یہ زیادہ عمل ہوا تو زیاد نے کہا : جو اپنا ہاتھ اپنے منہ پر رکھے وہ اپنے منہ پر رکھے وہ بغیر اجازت کے چلا جائے۔ یہ مدینہ طیبہ میں تھا حتیٰ کہ سہل بن ابی صالح کو جمعہ کے دن نکسیر آئی تو انہوں نے امام سے اجازت طلب کی۔ آیت کا ظاہر تقاضا کرتا ہے کہ ریاست کے امیر سے اجازت لی ہے جو احکام نببوت کی تکمیل کراتا ہے کیونکہ اسے بعض اوقات دینی امور میں سے کسی امر کے لیے کسی شخص کو روکنا ہوتا ہے، رہا صرف نماز کا امام اس کے لیے یہ نہیں ہے کیونکہ وہ دین کے اجزاء میں ایک جزء پر وکیل ہے اس شخص کا جو نبوت کے احکامات کی تکمیل و تعمیل کراتا ہے۔
Ayah 24:63اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لا تجعلوا دعآء الرسول بینکم کدعآء بعضکم بعضاً یعنی دور سے آواز دینا : اے ابوالقاسم ! بلکہ رسول مکرم کی تعظیم کرو جیسا کہ سورة الحجرات میں فرمایا : ان الذین یغضون اصواتھم عند رسول اللہ (الحجرات :3) سعید بن جبیر اور مجاہد نے کہا : اس کا مطلب ہے تم کہو : یا رسول اللہ ! اور نرم اور عزت آمیز ملائم لہجہ میں کہو، گستاخانہ انداز میں : یا محمد ! نہ کہو۔ قتادہ نے کہا : انہیں حکم دیا کہ رسول کریم کی عزت و احترام کرو۔ حضرت اببن عبب اس رضیی اللہ عنہما نے فرمایا : اس کا مطلب ہے رسول کریم ﷺ کو ناراض کر کے اپنے خلاف دعا کا موجب نہ ہو کیونکہ آپ کی دعا قبول ہوتی ہے۔ قد یعلم اللہ الذین یتسلون منکم لواذا… التسلسل اور الاسلال کا معنی ہے نکلنا لواذا، الملاوذۃ سے مشتق ہے کسی چیز کی آڑ لیتا تاکہ یعنی ملاوذین، یعنی ایک دوسرے کی آڑ لیتے ہیں۔ یہ وہ رسول ﷺ سے چھپنے کے لیے کرتے تھے، کیونکہ منافقین پر جمعہ کے دن اور خطبہ میں حاضری سے بھاری کوئی اور چیز نہیں تھی ؛ یہ نقاش نے حکایت کیا ہے۔ اس پر گفتگو گزر چکی ہے۔ بعض علماء نے فرمایا :۔ وہ جہاد سے ایک دوسرے کی آڑ لے کر لوٹ جاتے تھے۔ حسن نے کہا : لواذا جہاد سے فرار ہوتے ہوئے : اسی سے حضرت حسان کا قول ہے :
و قریش تجول منا لواذا لم تحفاظ وخف منھا الحلوم (1)
وائو صحیح ہے کیونکہ لاوذ میں واو متحرک ہے کہا جاتا ہے : لاوذیلا وذملاوذۃ ولواذا اور لاذیلو ذلوا ذا ولیاذا۔ یہاں وائو کسرہ کے بعد یاء سے ببدل گئی ہے کیونکہ لاذ میں تعلیل ہوچکی ہے۔ جب فاعل کا مصدر ہو تو تعلیل نہیں کی جائے گی، کیونکہ فاعل میں تعلیل کرنا جائز نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فلیحذرالذین یخالفون عن امرہ اس آیت سے فقہاء نے استدلال کیا ہے کہ امر وجوب بکے لیے ہوتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کے حکم کی مخالفت سے ڈرایا ہے۔ اور ان تصیبہم فتنت او یصیبہم عذاب الیم کے ارشاد سے نافرمانی پر سزا کی پیروی کرنا واجب ہے۔ فتنۃ سے مراد یہاں قتل ہے ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ عطاء نے کہا : اس سے مراد زلزلے اور ہولناکیاں ہیں۔
Ayah 24:64اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الا ان للہ ما فی السموت والارض یعنی تخلیق اور ملک سب اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ قد یعلم ما انتم علیہ وہ تمہیں اس پر جزاء دے گا اور یہاں یعلم بمعنی علم ہے۔ ویوم یرجعون الیہ پہلے خطاب کے صیغے ذکر فرمائے اب خبر کی طرف رجوع فرمایا اس کو خطاب التلوین کہا جاتا ہے۔ فینبھم بما عملوا ان کے اعمال کے متعلق انہیں خبر دے گا اور انہیں ان کی جزا دے گا۔ واللہ بک شیء علیم۔ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال اور احوال کو خوب جاننے والا ہے۔