Ayahs 24:7–11آیت نمبر 11-22 ۔
اس میں اٹھائیس مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : ان الذین جائو بالافک عصبۃ منکم، عصبۃ انکی خبر ہے۔ اور حال کی بناء پر اس کو نصب دینا جائز ہے۔ اور خبر لکل امری منھم ماکتسب من الاثم ہوگی۔ امام بخاری نے اسے تعلیقا نقل کیا ہے اور اس کی حدیث اتم ہے۔ انہوں نے ام رومان حضرت عائشہ ؓ کی والدہ سے روایت کیا ہے کہ حضرت ام رومان نے فرمایا جب حضرت عائشہ ؓ پر تہمت لگائی گئی تو وہ غش کھاکر گرپڑیں۔ ام رومان حضرت عائشہ کی والدہ نے فرمایا : میں اور حضرت عائشہ ؓ بیٹھی ہوئی تھیں اچانک انصار کی ایک عورت داخل ہوئی اور کہا اللہ فلاں کے ساتھ ایسا کرے، اللہ فلاں کیساتھ ایسا کرے۔ ام رومان نے کہا : یہ کہا ہے ؟ اس عورت نے کہا : حضرت عائشہ نے پوچھا : کیا نبی کریم ﷺ نے یہ بہتان سنا ہے اس عورت نے کہا : ہاں۔ حضرت عائشہ نے پوچھا حضرت ابوبکر نے بھی ؟ اس عورت نے کہا : ہاں : حضرت عائشہ غش کھاکر گرپڑیں۔ جب آپ کو افاقہ ہوا تو آپ کو کپکپی کے ساتھ بخار چڑھا ہوا تھا۔ میں نے حضرت عائشہ پر کپڑے ڈالے اور اسے ڈھانپ دیا نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور پوچھا : اسے کیا ہوا ہے ؟ میں نے کہا : یارسول اللہ ﷺ اسے کپکپی کیساتھ بخار ہوگیا ہے۔ فرمایا : شاید اس بات کی وجہ سے ہو جو کہی گئی ہے۔ ام رومان نے کہا : ہاں حضرت عائشہ بیٹھ گئی اور کہا اللہ کی قسم اگر میں قسم اٹھائون تو تم میری تصدیق نہیں کرو گے اگر میں کچھ کہوں تو تم مجھے معذور نہیں سمجھوگے میری مثال حضرت یعقوب اور انکے بیٹوں جیسی ہے۔ ابن ابی ملیکہ نے کہا : حضرت عائشہ اس کا معنی دوسروں سے زیادہ جانتی تھیں کیونکہ یہ ان کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ امام بخاری نے کہا : معمر بن راشد زہری سے روایت کیا حدیث افک غزوہ مریسیع میں پیش آئی۔ ابن اسحاق نے کہا : یہ چھٹا سال تھا۔ موسیٰ بن عقبیٰ نے کہا : چوتھا سال تھا۔ امام بخاری نے معمر عن زہری کی حدیث سے نقل کیا ہے۔ فرمایا : مجھے ولید بن عبد الملک نے کہا : کیا تجھے خبر پہنچی ہے کہ حضرت علی تہمت لگانے والوں میں تھے ؟ انہوں نے کہا میں نے کہا : نہیں لیکن مجھے تیری قوم کے دو افراد ابو سلمہ بن عبدا لرحمان اور ابوبکر بن عبد الرحمن بن حارث بن ہشام نے مجھے خبر دی کہ حضرت عائشہ نے ان دونوں کو کہا : حضرت علی، حضرت عائشہ کے بارے میں خاموش تھے۔ ابوبکر اسماعیلی نے اپنی کتاب المخرج علی الصحیح میں ایک دوسرے طریق سے معمر عن زہری کی حدیث روایت کی ہے، اس میں ہے فرمایا : میں ولید بن عبد الملک کے پاس تھا اس نے کہا : جو اس مسئلہ کو زیادہ اچھالنے والے تھے ان میں حضرت علی بن ابی طالب بھی تھے ؟ میں نے کہا : نہیں۔ حضرت عائشہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اس مسئلہ کو اچھالنے والوں کا سرغنہ عبد اللہ بی ابی بن سلول تھا۔ امام بخاری نے عائشہ کی حدیث سے روایت کیا ہے جو اس مسئلہ کو پھیلانے والے تھے ان میں سے عبد اللہ بن ابی تھا۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : بالافک، افک کا معنی جھوٹ ہے۔ العصبۃ تین سے لے کر دس افراد تک کو عصبہ کہتے ہیں۔ ابن عینیہ نے کہا : چالیس آدمیوں کو عصبہ کہتے ہیں۔ مجاہد نے کہا : یہ دس سے پندرہ افراد ہیں۔ اور الخیر کی حقیقت یہ ہے کہ جس کا نفع اس کے نقصان سے زئد ہو اور الشر جس کا نقصان اس کے نفع سے زیادہ ہو وہ خیر ہوتی ہے۔ کیونکہ دنیا میں اس کا ضرر کم ہوتا ہے اور اس کی خیر آخرت میں بہت زیادہ ثواب ہے۔ اللہ نے حضرت عائشہ اور ان کے گھر والوں اور صفوان کو آگاہ فرمایا کیونکہ خطاب اس ارشاد میں ان سے ہے۔ لا تحسبوہ شرالکم بل ہو خیر لکم کیونکہ شر کی نسبت نفع اور خیر راجح ہے۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ جب نبی پاک ﷺ ، حضرت عائشہ کے ساتھ غزرہ بنی مصطلق میں نکلے اور آپ لوٹے جب مدینہ طیبہ کے قریب تھے تو آپ نے رات کو چلنے کا اعلان فرمایا جب کوچ کرنے کا اعلان ہوچکا تو حضرت عائشہ اٹھیں اور قضاء حاجب کے لئے چلیں حتیٰ کہ لشکر سے دور ہوگئیں جب فارغ ہوئین اور اپنی جگہ پر آئیں اور اپنے سینے پر ہاتھ مارا تو یمن کے موتیوں کا ہار ٹوٹ چکا تھا۔ آپ واپس لوٹیں اور اسے تلاش کیا اس کی تلاش نے آ پکو روک لیا اور آپ نے ہار پالیا اور واپس آئیں وہاں کسی شخص کو نہ پایا آپ نوجوان تھیں گوشت کم تھا۔ مردوں نے آپ کا ہودج اٹھایا اور انہیں آپ کا نہ ہونا محسوس نہ ہوا جب آپ نے اپنی جگہ کسی کو نہ پایا تو آپ اپنی جگہ پر لیٹ گئیں اس امید کے ساتھ کہ آپ کو تلاش کیا جائے گا اور اس کی طرف رجوع کیا جائے گا آپ اپنی جگہ سوگئیں آپ کو بیدار نہ کیا مگر صفوان بن معطل کا قول : انا للہ وانا الیہ راجعون نے وہ پیچھے رہ جانے والی چیزوں کی حفاظت کے لئے لشکر کسے پیچھے تھے کہنے سے بیدار ہوگئیں۔ وہ اپنی سواری سے اترے اور حضرت عائشہ سے دور کھڑے ہوگئے حتیٰ کہ حضرت عائشہ اونٹنی پر سوار ہوئیں۔ حضرت صفوان نے اونٹنی کیمہار پکڑی اور چل پڑے حتیٰ کہ دوپہر کے وقت انہیں لیکر لشکر میں پہنچ گئے۔ جھوٹے اور بہتان تراش اپنے دھندے میں مشغول تھے۔ اس مسئلہ میں لوگ جس کے پاس جمع ہوتے تھے اور جو اس مسئلہ کے بارے استفسار کرتا تھا اور اس کو پھیلاتا تھا وہ عبد اللہ بن ابی بن سلول منافق تھا اس نے صفوان کو دیکھا کہ وہ حضرت عائشہ کی اونٹنی کی مہار پکڑے ہوئے ہے تو اس نے کہا : اللہ کی قسم نہ وہ اسے بچی اور نہ وہ اس سے بچا اور کہا تمہارے نبی کی بیوی نے ایک آدمی کے ساتھ رات گزاری، اور اس بہتان تراشی میں حضرت حسان بن ثابت، مسطح بن اثاثہ اور حمنہ بنت جحش شامل تھے۔ یہ اس حدیث کا اختصار ہے اور یہ مکمل طور پر امام بخاری اور امام مسلم میں ہے۔ جب حضرت صفوان کو اس جھوٹ میں حضرت حسان کی بات پہنچی تو وہ آئے اور حضرت حسان کے سر پر تلوار ماری اور کہا :
تلق ذباب السیف عنی فاننی غلام اذا ہو جیت لیس بشاعر
ایک جماعت نے حضرت صفوان کو پکڑا اور اس کا گریبان پکڑ کر نبی پاک ﷺ کی بارگاہ میں لے گئے۔ آپ ﷺ نے حضرت حسان کا زخم رائیگاں کردیا او اس سے کچھ طلب کیا۔ اس پر دلیل آپ کی مروی حدیث ہے آپ کی بیوی کے ساتھ آپ کا معاملہ ہوا، نبی پاک ﷺ نے آپ کے بیٹوں کے بارے میں فرمایا : دونوں صفوان کے ساتھ اسی طرح مشابہ ہیں جیسے کوا، کوے کے مشابہ ہوتا ہے۔ اور حدیث میں آپ کا قول ہے کہ اللہ کی قسم میں نے کبھی کسی عورت کا پردہ نہیں کھولا اس سے مراد یہ ہے کہ میں نے کبھی زنا نہیں کیا۔ یہ روم کے شہروں میں حضرت معاویہ کے زمانہ میں اٹھاون ہجری میں وصال پاگئے۔
مسئلہ نمبر 4 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : لکل امری منھم ما اکتسب من الاثم یعنی جس نے جھوٹ بولا۔ اہل افک کا نام نہیں لیا سوائے حسان، مسطح، حمنہ اور عبد اللہ کے اور کچھ دوسرے مجہول لوگ، یہ عروہ بن زبیر کا قول ہے اس کے متعلق عبد الملک بن مروان نے اس سے پوچھا تو انہوں نے کہا : وہ جتھہ تھا جیسے اللہ نے فرمایا : مصحف حفصہ میں ہے : عصبہ اربعہ
مسئلہ نمبر 5 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : والذی تولیٰ کبرہ منھم حمیداعرج اور یعقوب نے کبر کاف کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور فراء نے کہا : یہ وجہ عمدہ ہے کیونکہ عرب کہتے ہیں فلاں تولی عظم کذاو کذا یعنی وہکام میں بڑا تھا۔ حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جب حضرت حسان جب نابینا ہوگئے تھے شاید وہ بڑا عذاب ہے جس کا اللہ نے وعدہ کیا تھا وہ انکی آنکھوں کا چلاجانا ہے۔ ابو عمر نے حکایت کیا ہے کہ حضرت عائشہ نے حضرت حسان کو اس بات سے بری کردیا تھا۔ کہا تھا اس نے کچھ نہیں کہا۔ حضرت حسان نے حضرت عائشہ کی شان میں یہ اشعار کہے :
حصان رزان ما تزن بریبۃ وتصبح غرثی من لحوم الغوافل
وہ پاک دامن ہے صاحب وقار ہے اس کو متہم نہیں کیا جاسکتا وہ پاک دامن عورتوں کی غیبت سے بھوکی رہتی ہے۔
حلیلۃ خیر الناس دینا ومنصبا نبی الھدی والمکرمات الفواضل
عقیلۃ حی من لوئی بن غالب کرام المساعی مجدھا غیر زائل
مھذبۃ قد طیب اللہ خیھا وطھرھا من کل شین وباطل
فان کا نت ما بلغت انی قلتہ فلا رفعت سوطی الی انامل
فیکف وددی ما حییت ونضربی لال رسول اللہ زین المحافل
لہ رتب عال علی الناس فضلھا تقاصیر عنھا سورة المتطاول
یہ بھی مروی ہے کہ جب حضرت حسان نے حضرت عائشہ کے بارے میں کہا وہ پاک دامن اور صاحب وقار ہے تو حضرت عائشہ نے کہا : تو تو اس طرح نہیں ہے، تو پاکدامن عورتوں کے بارے میں باتیں کرنے والا ہے۔ یہ تعارض ہے اس طرح ان کو جمع کرنا ممکن ہے کہ حضرت حسان نے نصا اور تصریحا کچھ نہیں کہا۔ یہ تعریض اور اشارہ ہے پس اس کو آپ کی طرف منسوب کیا گیا۔ علماء کا اختلاف ہے کہ حضرت حسان نے اس میں زیادہ دخل دیا تھا یا نہیں کیا آپ کو حد لگائی گئی تھی یا نہیں ؟ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہا ہوا تھا ؟
مسئلہ نمبر 6 ۔ محمد بن اسحاق نے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس جھوٹی تہمت میں دو مردوں اور ایک عورت کو حد لگائی تھی وہ مسطح، حسان اور حمنہ تھے، یہ ترمذی نے ذکر کیا ہے۔ قشری نے حضرت سے روایت کیا ہے کہ نبی پاک نے ابن ابی کو اسی کوڑے لگائے تھے اور اس کے لئے آخرت میں آگ کا عذاب ہے۔ اس کے متعلق دو قول ہیں ایک یہ کہ کسی بھی حد نہیں لگائی گئی تھی کیو کہ حد ود اقربا یا دلیل کے ساتھ قائم کی جاتی ہیں اور اللہ نے صرف اخبار کی بناء پر حدود قائم کرنے کر مکلف نہیں بنایا جس طرح منافقین کو قتل کرنے کا مکلف نہیں بنایا تھا جبکہ ان کے کفر کی اطلاع آپ کو خبر دی تھی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اہل الافک کو کوڑے لگائے۔ اس کے متعلق مسلمانوں کے شاعر نے کہا :
لقد ذاق حسان الذی کان اھلہ وحمنۃ اذ قالو ھجیرا ومسطح
وابن سلول ذاق فی الحد خزیۃ کما خاض فی افک ومن القول یفصح
تعاطو برجم الغیب زوج نبیھم وسخطۃ ذی العرش الکریم فابرحوا
واذا رسول اللہ فیھا فجللو مخاذی تبقی عمموھا وفضحوا
فصبت علیھم محصدات کا نھا شابیب قطر من ذری المزن تسفح
ابود ائود نے حضرت عائشہ سے روایت کیا ہے فرمایا : جب میرا عذر نازل ہوا تو نبی پاک کھڑے ہوئے اور وہ ذکر کیا اور قرآن کی تلاوت کیا جب آپ منبر سے اترے تو دو مردون اور ایک عورت کے بارے میں حکم دیا انہیں حد لگائی گئی اور ان کے نام بھی لئے۔ ہمارے علماء نے فرمایا : عبد اللہ بن ابی کو حد نہیں لگائی گئی تھی کیونکہ اللہ نے اس کے لئے آخرت میں عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اگر اسے دنیا میں حد لگائی جاتی تو یہ آخرت میں اس کے عذاب کے لے کمی اور تخفیف کا باعث ہوتا جبکہ اللہ نے حجرت عائشہ کی براءت کی گواہی دی اور تہمت لگانے والے کو جھوٹ کو بیان کیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : یہ اس کے لئے کفارہ ہے جس پر یہ حدود قائم کی گئیں۔
مسئلہ نمبر 7 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : لولا اذ سمعتموہ ظن المومنون والمئومنت بانفسھم خیرا یہ اللہ کی طرف سے مومنین کو انکے گمان کی وجہ سے عتا ب ہے جب جھوٹے لوگوں نے کہا : جو انہوں نے کہا : ابن زید نے کہا : مومنوں نے گمان کیا کہ مومن اپنی ماں کے بارے میں ایسا نہیں کہہ سکتا :
بعض نے کہا : اس کا معنی ہے مومن مردوں اور مومن عورتوں کے فضلاء کو اپنے نفسوں پر قیاس کرنا چاہیے تھا۔ اگر ان سے یہ بعید تھا تو حضرت عائشہ اور حجرت صفوان میں بدرجہ اولیٰ بعید تھا۔ روایت ہے کہ صحیح فکر ہو تھی جو حضرت ابو ایوب انصاری اور انکی بیوی سے ظاہر ہوئی تھی۔ وہ اس طرح ہے کہ حضرت ابو ایوب، اپنی بیوی کے پاس گئے تو بیوی نیپوچھا۔ اے ابو ایوب کیا تو نے سنا جو کہا گیا ہے۔ ابو ایوب نے کہا ہاں یہ جھوٹ ہے۔ اے ام ایوب تو ایسا کرے گی اس نے کہا۔ نہیں اللہ کی قسم حضرت ابو ایوب نے کہا اللہ کی قسم عائشہ تجھ سے افضل ہے ام ایوب نے کہا : ہاں وہ یہ فعل ہے جس پر اللہ نے مومنین کو عتاب فرمایا ہے کیونکہ مومنین نے یہ کام نہیں کیا تھا۔
مسئلہ نمبر 8 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : بانفسھم، نحاس نے کہا : اس کا معنی ہے باخوانھم اللہ نے مسلمانوں پر واجبج فرمایا کہ جب جوہ سنین کہ وہ کسی پر تہمت لگا رہا ہے یا اس کی برائی بیان کررہا ہے جو اس کے متعلق نہیں جانتے تو وہ اس کا انکار کریں اور اس شخص کو جھٹلائیں جس نے اس کو ترک کیا، اس کو وعید سنائی اور اسے بھی وعید سنائی جس نے اس بات کو آگے نقل کیا۔
میں کہتا ہیوں۔ اسی وجہ سے علماء نے یہ آیت آصل ہے کہ ایمان کا وہ درجہ جس کو انسان حاصل کرتا ہے اور اصلاح کا وہ مرتبہ جس پر مومن اترتا ہے اور عفاف کا لباس جس کے ساتھ مسلمان کا پردہ ہوتا ہے وہ کسی متحمل خبر سے زائل نہیں ہوتا اگرچہ وہ پھیل بھی جائے جبکہ اس کی اصل فاسد یہ مجہول ہو۔
مسئلہ نمبر 9 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : لولا جائو علیہ باربعۃ شھداء یہ جھوٹ گھڑنے والوں کو توبیخ ہے۔ لولاہ بمعنی ھلا ہے یعنی اپنے اس افتراء پر چار گواہ کیوں نہ لائے۔ یہ پہلے حکم پر رد ہے اور سابقہ آیت پر لوٹانا جو قذف کے بارے میں ہے۔
مسئلہ نمبر 10 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : فاذلم یا تو بالشھداء فاولئک عند اللہ ھم الکذبون۔ یعنی وہ اللہ کے حکم میں جھوٹے ہیں کبھی کوئی شخص دلیل پیش کرنے سے عاجز ہوتا ہے حالانکہ وہ قذف میں سچا ہوتا ہے لیکن حکم شرع میں اور ظاہر امر میں جھوٹا ہے نہ کہ علم الٰہی میں جھوٹا ہے۔ اللہ نے حدود کو اسی حکم پر مرتب کیا ہے جو دنیا میں مشروع کیا ہے نہ کہ اس اپنے علم کے مقتضیٰ پر جو انسان کے ساتھ متعلق ہے جس پر وہ ہے اپنے علم کے مطابق آخرت میں اس سے برتائو کرے گا۔ میں کہتا ہوں : اس مفہوم کی تائید وہ روایت کرتی ہے جو امام بخاری ؓ نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کی ہے انہوں نے فرمایا۔ اے لوگو وحی کا سلسلہ منقطع ہوچکا ہے اب ہم تمہارے ظاہر اعمال کو لیں گے جس نے ہمارے لئے خیر کو ظاہر کیا ہم اسے امن دین گے اور اپنا قرب بخشیں گے ہمارے لئے اس کے باطن سے کوئی سروکار نہیں۔ اللہ اس کے باطن کا محاسبہ کرے گا اور جو ہمارے لئے برائی ظاہر کرے گا ہم اسے نہ امن دیں گے اور نہ ہم اس کی تصدیق کریں گے گے اگرچہ وہ کہے کہ اس کا باطن اچھا تھا۔ علماء کا اجماع ہے کہ دنیا کے احکام ظاہر پر مبنی ہیں اور دل کے بھید اللہ کے سپرد ہے۔
مسئلہ نمبر 11 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : ولولا فضل اللہ علیکم ورحمتہ۔ سیبوبہ کے نزدیک فضل پر رفع مبتدا کی حیثیت سے ہے اور اسکی خبر محذوف ہے عرب اس کو ظاہر نہیں کرتے اور لولا کا جواب حذف ہے کیونکہ اس کے بعد اس کی مثل ذکر کیا اللہ نے فرمایا : اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہو تو جو کچھ تم نے حضرت عائشہ کے بارے میں کہا ہے اس کے سبب دنیا میں اور آخرت میں تمہیں عذاب عظیم لاحق ہوتا۔ یہ اللہ کی طرف سے عتاب بلیغ ہے لیکن اس نے اپنی رحمت سے دنیا میں متہم پر پردہ فرمایا اور آخرت میں بھی اس پر رحم فرمائے گا جو توبہ کرے گا۔ الافضۃ کا معنی ہے حدیث میں پڑنا۔ اس پر عتاب واقع ہوا ہے کہا جاتا ہے : افاض القوم فی الحدیث۔ قوم اس بات میں پڑگئی۔
مسئلہ نمبر 12 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : اذ تلقونہ بالسنتکم۔ محمد بن سمیقع نے تاء کے ضمہ، لام کے سکون اور قاف کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی القاء سے مشتق ہے یہ قرأت واضح ہے اور حضرت ابی اور حضرت ابن مسعود ؓ نے اذ تتلقونہ، التلقی سے مشتق کرکے دو تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ قرائت سبعہ کے جمہور نے ایک تا اور ذال کے اظہار کے ساتھ بغیر ادغام کے پڑھا ہے۔ بہ بھی التلقی سے مشتق ہے۔ ابو عمرو، حمزہ اور کسائی نے تاء میں زال کو ادغام کرکے پڑھا ہے۔ ابن کثیر نے ذال کے اظہار اور تاء میں ادغام کے ساتھ پڑھا ہے۔ قلقلۃ قراءت ہے کیونکہ یہ اجتماع ساکننین کا تقاضا کرتی ہے۔ یہ فلا تتناجو اور تنابزو پڑھنے والون کی قرائت ہے اور ادغام کی طرح نہیں ہے۔ ابن یعمر اور حضرت عائشہ نے وہ تمام لوگوں سے زیادہ اس معاملہ کو جانتے تھے اس کو اذ تلقونہ تا کے فتحہ، لام کے کسرہ اور قاف کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس قرائت کا معنی عربوں کے اس قول سے ہے۔ ولق الرجل یلق ولقاء جب کوئی جھوٹ بولے اور اس پر متواتر جھوٹ بولتا رہے۔ وہ متعدی کو غیر متعدی پر شاہد لائے ہیں۔ حرف جر کو حذف کیا گیا اور ضمیر کو فعل سے متصل کیا گیا۔ خلیل اور ابو عمرو نے کہا : الولق کا اصل معنی جلدی کرنا ہے کہا جاتا ہے : جاءت الابل تلق۔ تیز دوڑتے ہوئے آئے۔ شاعرنے کہا :
لما رائو جیشا علیھم قدطرق جائوا باسراب من الشام ولق
ان الحصین زلق وزملق جائت بہ عنس من الشام تلق
کہا جاتا ہے : ر جل ذلق وزملق اس کی مثال ھدبد ہے زمالق وزملق۔ میم کی تشدید کے ساتھ وہ شخص جس کو جماع کرنے سے پہلے انزال ہوجاتا ہے۔ راجز نے کہا : ان الحصین زلق وزملق
الولق کا معنی اخف الطعن بھی ہے۔ ولقہ یلقہ ولقا، ولقہ بالسیف ولقات۔ یعنی تلوار کے کئی وار کیے۔ یہ لفظ مشترک ہے۔
مسئلہ نمبر 13 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : وتقولون بافواھکم، افواھکم لفظ مبالغہ، الزام اور تاکید کیلئے ہے۔ تحبونہ کی ضمیر حدیث، اس میں غور وخوض اور اس کے پھیلانے کی طرف لوٹ رہی ہے۔ ھینا۔ تھوڑا گناہ یعنی اس میں تمہیں گناہ لاحق نہ ہوگا۔ وھو عند اللہ یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے۔ یہ نبی کریم ﷺ کے قول کی مثل ہے جو دو قبور کے بارے میں ہے۔ انھا لیعذبان وما یعذبان فی کبیر، یعنی اندونوں کو عذاب ہورہا ہے اور تمہاری نسبت سے انہیں کسی بڑے گناہ کیوجہ سے عذاب نہیں ہورہا۔
مسئلہ نمبر 14 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : و لولا اذ سمعتموہ قلتم مایکون لنا ان نتکلم بھذا سبحنک ھذا بھتان عظیم۔ یعظکم اللہ ان تعوذو لمثلہ ابدا ان کنتم مومنین۔ ویبین اللہ لکم الایت واللہ علیم حکیم۔ یہ تمام مومنوں کو عتاب ہے۔ یعنی تمہیں مناسب تھا کہ تم انکار کرتے، اس کو حکایت کرنے اور نقل کرنے میں ایک دوسرے کی معاونت نہ کرتے اور اللہ کی پاکیزگی بیان کرتے کہ اس کے نبی مکرم ﷺ کی زوجہ سے ایسا فعل واقع ہو اور تم اس بات پر بہتان کا فیصلہ کرتے۔ بہتان کی حقیقت یہ ہے کہ انسان کے بارے میں ایسی بات کہنا جو اس میں نہ ہو اور غیبت یہ ہے کہ بات بیان کی جائے جو اس میں ہو۔ یہی مفہوم نبی کریم ﷺ کی حدیث میں آیا ہے۔ پھر اللہ نے ایسی حالت کی طرف لوٹنے سے نصیحت فرمائی۔ ان مفعول لا جلہ ہے۔ تقدیر کراھیۃ ان ہے۔
مسئلہ نمبر 15 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : ان کنتم مومنین۔ یہ تو قیف اور تاکید ہے جیسے تو کہتا ہے : تجھ ایسا ایسا کرنا مناسب ہے اگر تو مرد ہے۔
مسئلہ نمبر 16 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے یعظکم اللہ ان تعودو لمثلہ ابدا یعنی حضرت عائشہ کے بارے میں پھر ایسی بات کرو اللہ تمہیں اس سے نصٰحت کرتا ہے کیونکہ اس کی مثل نہیں ہوگا مگر اس قول کے مثل جو بعینہ مقول عنہ کے بارے میں کہا گیا ہے یا اس کے بارے میں جو مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات کے مرتبہ میں ہوگا۔ کیونکہ اس میں نبی کریم ﷺ کو اذیت ہے اس لیے اسیسا کرنے والے کی طرف سے یہ کفر ہوگا۔
مسئلہ نمبر 17 ۔ ہشام بن عمار نے کہا : میں نے امام مالک کو یہ کہتے ہوئے سنا جس نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کو برا بھلا کہا اس کی تادیب کی جائے گی اور جس نے حضرت عائشہ کو برا بھلا کہا اسے قتل کیا جائے گا۔ کیونکہ اللہ فرماتا ہے : یعظکم اللہ ان تعودو لمثلہ ابدا ان کنتم مومنین۔ پس جس نے حضرت عائشہ کی شان میں گستاخی کی اس نے قرآن کی مخالفت کی۔ ابن عربی نے کہا : اصحاب شافعی نے کہا : جس نے حضرت عائشہ کو گالی دی اس کی تادیب کی جائے گی جیسا کہ دوسرے مومنین کے بارے میں ہے۔ ان کنتم مومنین۔ یہ قول حضرت عائشہ کے بارے میں کفر نہیں ہے یہ اس طرح ہے جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ لایومن من لا یمان جارہ بوائقۃ وہ مومن نہیں ہوگا جس کا پڑوسی اس کی تخریب کاریوں سے محفوظ نہیں۔ اگر حضرت عائشہ کو گالی دینے والے کا ایمان حقیقہ سلب ہوتا تو لایزنی الزانی حین یزنی وھو مومن کے قول میں زانی کا ایمان بھی حقیاہ سلب ہوتا۔ ہم کہتے ہیں : جیسا تم نے گمان کیا ایسا نہیں ہے کیونکہ بہتان تراشون نے حضرت عائشہ صدیقہ پر فاحشہ ہونے کا بہتان لگایا پھر اللہ نے انکی برائت فرمائی۔ پس وہ شخص جوا سے برا مانتا ہے جس کی اللہ نے برائت فرمائی وہ اللہ کو جھٹلانے والا ہے اور جو اللہ کا جھٹلانے والا ہے وہ کافر ہے۔ یہ امام مالک کے قول کا طریق ہے یہ اہل بصائر کے لئے واضح راستہ ہے۔
مسئلہ نمبر 18 ۔ اللہ کا ارشاد ہے ان الذین یحبون ان تشیع الفاحشۃ، کہ ان تشیع کا معنی تفشو (پھیلانا) ہے کہا جاتا ہے : شاع الشیء وشیعا وشیعانا وشیعوعۃ، اس کا معنی ظاہر ہونا، بکھر جانا۔ فی الذین امنو یعنی پاکدامن مردوں اور عورتوں میں۔ اس لفظ عام سے مراد حضرت عائشہ اور حضرت صفوانس ہیں۔ الفاحشۃ ایسا برا فعل ہے جو برائی میں انتہا کو پہنچا ہوا ہو۔ بعض علماء نے کہا : اس آیت میں فاحشہ سے مراد برای بات ہے۔ لھم عذاب الیم فی الدنیا یعنی عذبا سے مراد حد ہے اور آخرت میں آگ کا عذاب ہے یعنی منافقین کے لئیے یہ مخصوص ہے۔ ہم نے پہلے بیان کیا ہے کہ حد مومنین کے لئے کفارہ ہے۔ طبری نے کہا : اس کا معنی ہے اگر وہ اصرار کرتے ہوئے بغیر توبہ کے مرے۔
مسئلہ نمبر 19 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : واللہ یعلم یعنی اس گناہ کی بڑائی کی مقدار اور اس پر جزا کو جانتا ہے ؛ اور بعض ہر چیز کو جاننا ہے۔ انتم تعلمون حضرت ابو الدرداء کی حدیث سے مروی ہے کہ نبی پاک ﷺ نے فرمایا : جس شخص نے لوگوں میں سے کسی کی جھگڑے میں مدد کی جبکہ اس کو اس کے متعلق کوئی علم ہی نہیں ہے تو وہ اللہ کی ناراضگی میں ہوتا ہے حتیٰ کہ وہ اس سے باز آجائے۔ اور جس شخص نے اللہ کی حدود میں سے کسی حد کے بارے میں سفارش کی کہ وہ اسے نہ لگے تو اس نے حق کے بارے میں اللہ کی مخالفت کی اور اس نے اللہ کی ناراضگی کی طرف پیش قدمی کی اور اس پر متواتر قیامت تک اللہ کی لعنت ہوگی اور جس نے کسی مسلمان کے بارے میں ایسا کلمہ پھیلایا جس سے وہ بری ہے اسکا خیال ہے کہ وہ دنیا میں اس کے ساتھ اسے عیب دار کردے تو اللہ پر حق ہے کہ اسے کی وجہ سے آگ میں ڈالے۔ پھر اس کا مصداق کتاب اللہ سے تلاوت کیا : ان الذین یحبون ان تشیع الفاحشۃ فی الذین امنو۔۔۔۔۔۔۔ الخ۔
مسئلہ نمبر 20 ۔ اللہ کا ارشاد ہے۔ یایھا الذین امنو لا تتبعو اخطوت الشیطن یعنی شیطان کے راستہ اور مذہب پر نہ چلو۔ مطلب یہ ہے کہ اس راستے پر نہ چلو جس کی طرف شیطان بلاتا ہے۔ الخطوات کا مفرد خطوۃ ہے۔ یہ وہ فاصلہ ہوتا ہے جو دو قدموں کے درمیان ہوتا ہے۔ الخطوۃ خاء کے فتحہ کے ساتھ مصدر ہے۔ کہا جاتا ہے : خطوت خطوۃ اس کی جمع خطوات ہے۔ تخطی الینا فلان۔ اسی سے حدیث ہے۔ انہ رای رجلا یتخطی رقاب الناس یوم الجمعۃ۔ آپ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جو جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگ رہا تھا۔
جمہور نے خطوات طاء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ عاصم اور اعمش نے اسے طاء کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ جمہور نے مازکیٰ کو کاف کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے، یعنی اس نے ہدایت نہیں پائی، وہ سلامت نہ ہوا اور اس نے ہدایت کو نہیں پہچانا۔ بعض علماء نے کہا : مازکیٰ کا مطلب ہے ماصلح اس نے اصلاح نہ کی۔ کہا جاتا ہے : زکا، یذکوز کائ۔ یعنی صلح کرنا۔ حسن اور ابو حیوہ نے اس کو شد کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی اس کا تمہارا تزکیہ کرنا اور تطہیر اور ہدایت دینا یہ اس کے فضل سے ہے۔ تمہارے اعمال کی وجہ سے نہیں ہے۔ کسائی نے کہا : یا ایھا الذین امنو لا تتبعو اخطوٰت الشیطن جملہ معترضہ ہے۔ اور ما زکیٰ منکم من احد ابدا پہلے اور دوسرے لولا کا جواب ہے۔
مسئلہ نمبر 21 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : ولا یاتل اولو الفصل منکم والسعۃ روایات سے مشہور ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر بن ابی قحافہ اور مسطح بن اثاثہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ حضرت مسطح، حضرت ابوبکر کی خالہ کی بیٹی کا بیٹا تھا یہ بدری صحابہ میں سے تھا۔ مہاجر بھی تھا اور مسکین میں سے تھا۔ یہ مسطح بن اثاثہ بن عبادہ بن مطلب بن عبد مناف تھا۔ بعض نے کہا : اس کا نام عوف تھا اور مسطح اس کا لقب تھا۔ حضرت ابوبکر اس کے مسکین ہونے اور اس کی قرابت کیوجہ سے اس پر خرچ کرتے تھے۔ جب حضرت عائشہ پر بہتان کا واقعہ پیش آیا اور مسطح بھی اس بہتان تراشی میں شامل تھا تو حضرت ابوبکر نے قسم اٹھائی کہ وہ اس پر خرچ نہیں کریں گے اور اسے کوئی نفع نہیں پہنچائیں گے۔ مسطح، حضرت ابوبکر کے پاس آیا اور معذرت کی۔ میں حسان کی مجلس میں ہوتا تھا میں سنتا تو تھا لیکن کہتا نہیں تھا۔ حضرت ابوبکر نے مسطح سے کہا تو ہنستا تھا اور اس بات میں تو شریک ہوا پس آپ نے یہ قسم اٹھادی پھر یہ آیت نازل ہوئی۔ ضحاک اور حضرت ابن عباس نے کہا : مومنین کی ایک جماعت ان کے منادفع کاٹ دیئے تھے جنہوں نے تہمت لگائی تھی اور کہا : ہم ان سے صلہ رحمی نہیں کرین گے جنہوں نے حضرت عائشہ کی شان میں کہا ہھے۔ پس تمام کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔ صحیح نے روایت کیا ہے کہ اللہ نے جب ان الذین جائو بالافک عصبۃ منکم سے لیکر دس آیت نازل فرمائیں تو حضرت ابوبکر نے کہا ہو مسطح پر قرابت اور فقر کی وجہ سے خرچ کرتے تھے اللہ کی قسم اس پر کوئی چیز خرچ نہیں کروں گا۔ اس کے بعد جو اس نے حضرت عائشہ کے متعلق کہا ہے۔ اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ولا یاتل اولوا لفضل منکم والسعۃ اولی القربی والمسکین والمھجرین فی سبیل اللہ ولیعفو اولیصفحوا الا تحبون ان یغفر اللہ لکم۔ حضرت عبد اللہ بن مبارک نے کہا : یہ آیت کتب اللہ میں امید افزا آیت ہے۔ حضرت ابوبکر نے کہا اللہ کی قسم میں پسند کرتا ہوں کہ اللہ مجھے معاف کردے۔ پھر آُ نے وہ نفقہ مسطح کا جاری کردیا جو آپ پہلے عطا کرتے تھے اور فرمایا : میں اب کبھی ان سے خرچ نہیں روکوں گا۔
مسئلہ نمبر 22 ۔ اس آیت میں دلیل ہے کہ قذف اگرچہ گناہ کبیرہ ہے لیکن اعمال کو ضائع نہیں کرتا اللہ نے اس بہتان کے بعد پھر حجرت مسطح کا ہجرت اور ایمان کے ساتھ وصف بیانج فرمایا ہے۔ یہی حکم تمام کبائر کا ہے اللہ کے شریک ٹھہرانے کے علاوہ کوئی بھی گناہ اعمال کو ضائع نہیں کرتا اللہ کا ارشاد ہے : لئن اشرکت لیحبطن عملک (الزمر :65)
مسئلہ نمبر 23 ۔ اگر کوئی کسی شے پر قسم اٹھائے کہ وہ یہ نہیں کرے گا پھر اس فعل میں بہتری دیکھے تو وہ کردے اور ہر قسم کا کفارہ دے دے یا پہلے قسم کا کفارہ دے اور پھر وہ کام کرے جیسا کہ سورة المائدہ میں گزر چکا ہے۔ فقہاء کا خیال ہے کہ جو کسی سنت کو نہ کرنے یا کسی منذوب کو نہ کرنے کی قسم اٹھائے اور ہمیشہ انہیں ادا نہ کرے تو یہ امر اس کی شہادت کو مجروھ کر دے گا یہ الباجی نے المنتھیٰ میں ذکر کیا ہے۔
مسئلہ نمبر 24 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : ولا یاتل اولو الفضل، ولا یاتل کا معنی ہے قسم نہ اٹھائے اس کا وزن یفتعل ہے یہ الیۃ سے مشتق ہے جس کا معنی قسم ہے اسی سے اللہ کا فرمان ہے : للذین یولون من نسائھم (بقرہ :266) یہ سورة بقرہ میں گزرچکا ہے۔ ایک جماعت نے کہا : اس کا معنی ہے کمی کرنا۔ یہ الوت من کذا سے مشتق ہے کسی امر میں کوتاہی کرنا۔ اس سے اللہ کا ارشاد ہے : لایالونکم خبالا (آل عمران : 118 ) ۔
مسئلہ نمبر 25 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : الا تحبون ان یغفر اللہ لکم : یہ تمثیل اور حجت ہے یعنی ؛ جس طرح تم پسند کرتے ہو کہ اللہ تمہارے گناہ معاف کردے تو اسی طرح تم بھی دوسروں کو معاف کرو جو تم سے کم درجہ ہیں۔ یہی مفہوم نبی کریم ﷺ کے ارشاد : من لایرحم لا یرحم (جورحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا) کا ہے۔
مسئلہ نمبر 26 ۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ آیت کتاب اللہ میں افزا ہے کیونکہ اس لفظ کے ساتھ اللہ نے تہمت لگانے والے نافرمانوں پر لطف فرمایا ہے۔ بعض علماء نے کہا : کتاب اللہ میں امید افزا آیت ہے : وبشر بان لھم من اللہ فضلا کبیرا۔ (الاحذاب) اللہ نے دوسری آیت میں فرمایا : والذین آمنو وعملوا لصلحت فی روضت الجنت لھم ما یشائون عند ربھم ذلک ھو الفضل الکبیر۔ (الشوریٰ ) ۔ اس آیت میں فضل کبیر کی شرح فرمائی ہے اور اس کے ساتھ مومنین کو بشارت دی ہے اور امید افزا آیات سے یہ بھی ہے۔ قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم (الزمر) اور اللہ کا ارشاد ہے : اللہ لطیف بعبادہ بعض نے کہا : یہ آیت امید افزا ہے۔ ولسوف یعطیک ربک فترضیٰ ۔ یہ اس لئے ہے کیونکہ نبی پاک کسی ایک امتی کے دوزخ میں رہنے سے راضی نہ ہوں گے۔
مسئلہ نمبر 27 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : ان یوتو۔ یعنی الا یوتو، لا کو حذف کیا گیا جیسے شاعر کا قول ہے :
فقلت یمین اللہ ابرح قاعدا
زجاج نے اس کو ذکر کیا ہے اور ابو عبیدہ کے قول پرلا کے اضمار کی ضرورت نہیں۔ ولیعفوا یہ عفا الریح سے مشتق ہے جس کا معنی ہے ہوا کا اثر مٹادینا۔ جس طرح ہوا اثر مٹادیتی ہے۔
Ayahs 24:12–23آیت نمبر 23 ۔
اس کے بارے میں دو مسائل ہیں :۔
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : المحصنت یہ لفظ سورة النساء میں گزرچکا ہے۔ علماء کا اجماع ہے کہ پاکدامن مردوں پر تہمت لگانے کا حکم ہے۔ اس آیت سے جو مراد ہے ان میں اختلاف ہے۔ اور جنہوں نے دوسری محصنات عورتوں پر تہمت لگائی اللہ نے ان کے لئے توبہ رکھی ہے۔ کیونکہ فرمایا : والذین یرمون المحصنت ثم لم یا تو باربعۃ شھدائ۔ الا الذین تابو اللہ نے ان لوگوں کیلئے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے اور ازواج مطہرات کے اوپر تہمت لگانے والوں کے لئے توبہ نہیں ہے۔ بعض نے کہا ٰیہ حضرت عائشہ کے بارے میں نازل ہوئی مگر اس سے ہر وہ مراد ہے جو اس صفت سے متصف ہے۔ بعض نے کہا : جو بھی تہمت لگانے والا ہے خواہ جس پر تہمت لگائی گئی ہے مذکر اور مونث داخل ہیں ؛ یہ نحاس نے اختیار کیا ہے۔ بعض نے کہا : مشرکین مکہ کے بارے میں نازل ہوئی کیونکہ جو عورت ہجرت کرتی تو وہ کہتے یہ بدکاری کے لئے نکلی ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ لعنو فی الدنیا والاخرۃ۔ علماء نے فرمایا : اگر اس آیت سے مراد تہمت لگانے والے مومنین ہیں تو لعنت سے مراد دور کرنا، حدلگان اور مومنین کو ان سے وحشت دلانا اور ان سے قطعی تعلقی کرانا ہے اور ان کا عدالت کے رتبہ سے زائل ہونا ہے اور مسلمانوں کی زبانوں پر اچھی تعریف سے دور ہونا مراد ہے۔ اور جنہوں نے کہا : یہ خاص حضرت عائشہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے تو یہ سختیاں عبد اللہ بن ابی اور اس جیسے افراد میں مرتب ہوتی ہیں۔ ابو جعفر نحاس نے کہا : اس آیت کی تاویل میں خوبصورت قول یہ ہے کہ یہ تمام تہمت لگانے والوں کو شامل ہیں خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔ تقدیر یوں ہوگی : ان الذین یرمون الانفس المحصنات۔ اس میں مذکر اور مونث شامل ہیں اسی طرح الذین یرمون میں بھی شامل ہیں مگر مونث پر مذکر کو غلبہ دیا گیا۔
Ayah 24:24آیت نمبر 24 ۔
عام قرأت تاء کے ساتھ ہے۔ ابو حاتم نے اس کو اختیار کیا ہے۔ اعمش، یحییٰ ، حمزہ، کسائی اور خلف نے یشھد یاء جے ساتھ پڑحا ہے۔ ابو عبیدہ نے بھی اس کو اختیار کیا ہے کیونکہ جار مجرور، اسم اور فعل کے درمیان حائل ہیں۔ معنی یہ ہے اس دن کو یاد کریں جب بعض کی
زبانیں بعض پر گواہی دیں گی ان اعمال پر جو وہ قذف اور بہتان میں کرتے تھے۔ بعض علماء نے کہا : اس دن ان کی زبانیں ان کے خلاف گواہی دیں گی اس کیساتھ جو انہوں نے کلام کی تھی۔ وایدیھم وارجلھم دنیا میں جو اعمال کیے ہوں گے ان کی متعلق ان کے اعضاء بولیں گے۔
Ayah 24:25آیت نمبر 25 ۔
یعنی ان کا حساب اور جز اللہ انہیں پوری پوری دے گی۔ مجاہد نے یومئذ یوفیھم اللہ دینھم الحق یعنی حق کو رفع کے ساتھ پڑھا ہے اس بناء پر کہ وہ اللہ کی صفت ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا : اگر لوگون کے خلاف کراہت نہ ہوتی تو بہتر رفع تھا کیونکہ یہ اللہ کی صفت ہے اور حضرت ابی کی قرأت کی موافقت بھی ہے۔ یہ اس لئے کہ جریر بن حازم نے کہا : میں نے حضرت ابی کے مصحف میں دیکھا، یومئذ یوفیھم اللہ دینھم الحق۔ نحاس نے کہا : ا بو عبیدہ سے یہ کلام غیر پسندیدہ ہیکیون کہ اس نے اس سے حجت پکڑی ہے جو سواد اعظم کے مخالف ہے۔ اس میں کوئی حجت نہیں کیونکہ اگر یہ صحیح ہوتا کہ یہ مصحف ابی میں اس طرح ہے تو یومئذ یوفیھم اللہ دینھم الحق کی قرأت جائز ہوتئی۔ دینھم، الحق سے بدل ہوتا اور عام قرائت پر دینھم الحق کے لئیے صفت ہے۔ ویعلمون ان اللہ ھو الحق المبین یہ اللہ کے اسماء میں سے دو اسم ہیں۔ ہم ان دونوں اسماء کا ذکر کئی مقامات پر کیا ہے اور خصوصا الکتاب الاسنیٰ میں کیا ہے۔
Ayah 24:26آیت نمبر 26 ۔
ابن زید نے کہا : اس کا معنی ہے عورتوں میں سے خبیث عورتیں، مردوں میں سے خبیث مردون کے لئے ہیں اسی طرح خبیث مرد، خبیث عورتوں کے لئے ہیں۔ اسی طرح خبیث لوگ، خبیث باتوں کے لئے ہیں اسی طرح پاکیزہ کلمات پاکیزہ لوگوں کے لئے ہیں اور پاکیزہ لوگ پاکیزہ باتوں کے لئے ہیں۔ الخبیثات سے مراد بدکار عورتیں ہیں اور الطیبات سے مراد پاکدامن عورتیں ہیں۔ اسی طرھ الطیبون اور الطیبات ہے۔ بعض اہل تحقیق نے کہا : حضرت یوسف ( علیہ السلام) پر تہمت لگائی تو اللہ نے ایک شیر خوار بچے کی زبان سے آپ کی برائت کی جو پنگھوڑے میں تھا اور حضرت مریم ( علیہ السلام) پر تہمت لگائی گئی تو انکے بیٹے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی زبان سے برائت کی اور حضرت عائشہ پر تہمت لگائی گئی تو اللہ نے خود قرآن کے ذریعے آپ کی برائت کی۔ پس اللہ حضرت عائشہ کی برائت کے لئے کسی بچے اور نبی کی برائت کیساتھ راضی نہ ہوا حتیٰ کہ اللہ نے اپنے کلام کے ذریعے بہتان اور تہمت سے آپ کی برائت فرمائی۔ حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : مجھے نوچیزیں ایسی عطا کی گئی ہیں جو کسی عورت کو عطا نہیں کی گئی۔ جب نبی پاک کو میرے ساتھ نکاح کرنے کا حکم دیا گیا تو جبریل میری صورت میں آپ ﷺ کے صحن میں اترے، آپ ﷺ نے مجھ سے شادی کی تو میں باکرہ تھی میرے علاوہ آپ ﷺ نے کسی باکرہ عورت سے نکاح نہیں کیا، نبی کا وصال ہوا تو آپ کا سرمبارک میری گود میں تھا، آپ کی قبر مبارک میرے حجرے میں بنائی گئی، فرشتے میرے حجرے کو گھیرے رہتے ہیں، نبی پاک ﷺ پر وحی نازل ہوتی جب کہ آپ ﷺ کسی دوسرے اہل بیت کے پاس ہوتے تو وہ لوگ آپ سے وحی کے دوران جدا ہوجاتے تھے اور اگر آپ پر وحی نازل ہوتی اور میں آپ کے ساتھ لحاف میں ہوتی تھی تو آپ ﷺ مجھے اپنے جسم سے جدا نہیں فرماتے تھے، میں آپ ﷺ کے خلیفہ اور صدیق کی بیٹی ہوں۔ میرا عذر آسمان سے نازل ہوا، میں پاکیزہ پیدا کی گئی اور پاکیزہ کے پاس رہی، مجھ سے مغفرت اور رزق کریم کا وعدہ کیا گیا۔ یعنی لھم مغفرۃ ورزق کریم۔ فرمایا : اس سے مراد جنت ہے۔
Ayah 24:27آیت نمبر 27 ۔
مسئلہ نمبر 1 ۔
اللہ کا ارشاد ہے ہے : یایھا الذین امنو لاتدخلوا بیوتا۔ ابن آدم جس کو اللہ نے کرامت وفضیلت سے نوازا اسے منازل کے ساتھ خاص فرمایا اور انہیں گھروں میں اوجھل کردیا اور علیحدگی میں انہیں لطف اندوز ہونے کا مالک بنایا اور مخلوق پر پابندی لگادی کہ باہر سے انہیں جھانکیں یا مالکوں کی اجازت کے بغیر ان گھروں میں داخل ہوں انہیں پردے کے آداب سکھائے تاکہ کوئی کسی پوشیدہ چیز پر مطلع نہ ہو۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : جس نے کسی قوم کے گھروں میں ان کی اجازت کے بغیر جھانکا تو ان کیلئے حلال ہے کہ وہ اس کی آنکھ پھوڑ دیں۔ نبی کریم ﷺ ظاہر میں ایک کلام فرماتے تھے جب کہ مراد میں کوئی دوسری چیز ہوتی تھی جیسا کہ حدیث میں ہے عباس بن مرداس نے جب آپ کی مداح کی تو آپ نے حضرت بلال کو فرمایا : ا ٹھو اور اس کی زبان کاٹ دو اس سے مراد یہ تھا کہ اس کو کوئی چیز دے دو ، حقیقتہ اس کی زبان کاٹنا مراد نہیں تھا۔ بعض علماء نے فرمایا : اس پر کوئی ضمان اور قصاص نہیں ہے حضرت انس کی حدیث کیوجہ سے۔ انشاء اللہ یہ صحیح ہیجیسا کہ آگے آئے گا۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ آیت کا شان نزول وہ ہے جو طبرانی وغیرہ نے عدی بن ثابت سے روایت کیا کہ ایک انصاری عورت نے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ میں گھر میں کبھی ایسی حالت میں ہوتی ہوں کہ میں نہیں چاہتی کہ مجھے اس حالت میں کوئی دیکھے نہ والد اور نہ بیٹا۔ پھر کبھی باپ آجاتا ہے وہ مجھ پر داخل ہوتا ہے اور کبھی کوئی اور میرے اہل خانہ سے میرے پاس آجاتا ہے جبکہ میں اس حالت میں ہوتی ہوں تو پھر میں کیا کروں۔ تو یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔ حضرت ابوبکر نے عرض کی یارسول اللہ ﷺ بتائیے وہ سرائیں اور رہائش گاہیں جو شام کے راستہ پر ہیں ان میں کوئی رہنے والا نہیں ہوتا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : لیس علیکم جناح ان تدخلو بیوتا غیر مسکونۃ۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ اللہ نے کسی غیر کے گھر میں دخول کی حرمت کی ایک غایت بیان کی ہے اور وہ استیناس ہے اسور اس سے مراد اجازت طلب کرنا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : تستانسوا کا معنی ہے کوئی عمل کرو اس کے لئے جو گھر میں ہے تاکہ آپ کی آمد محسوس ہوجائے۔ مجاہد نے کہا ؛ کھانسنے اور عمل کرے جو ممکن ہوا اور اتنی مقدار ٹھہر جائے کہ جس سے اس کی آمد معلوم ہوجائے پیر اس کے بعد داخل ہو۔ میں کہتا ہوں سنن ابن ماجہ میں ہے ہمیں ابوبکر بن ابی شیبہ نے بتایا انہوں نے کہا ہمیں عبد الرحیم بن سلیمان نے بتایا انہوں نے واصل بن سائب سے روایت کیا انہوں نے ابو سورة سے روایت کیا ہے انہوں نے ابو ایوب انصاری سے روایت کیا فرمایا : ہم نے عرض کی یارسول اللہ ﷺ یہ سلام یہ استیناس کیا ہے : فرمایا : آدمی تسبیح، تکبیر، تحمید کے ساتھ بولے یا کھانسے اور گھر والوں کو آگاہ کرے۔
مسئلہ نمبر 4 ۔
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے بعض لوگوں نے کہا ؛ سعید بن جبیر سے مروی ہے حتیٰ تستانسوا کاتب کی طرف وہم یا خطا ہے۔ یہ حتیٰ تساذنوا ہے۔ کیونکہ تمام مصاحف اسلام میں حتی تستانسوا ثابت وموجود ہے۔ حضرت عثمان کے زمانہ میں اسی پر اجماع صحیح ہے اس کے خلاف جائز نہیں۔ اللہ کا ارشاد ہے۔ انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ کلام میں تقدیم وتاخیر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حتی تسلموا علی اھلھا وتستانسوا ؛ یہ قول ابو حاتم نے حکایت کیا ہے۔ حضرت ابن عطیہ نے کہا : حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ سے اس قول کی جو چیز نفی کرتی ہے وہ یہ ہے کہ تستانسوا معنی میں ثابت ہے کلام عرب میں اس کی وجہ واضح ہے۔ حضرت عمر اس وقت کمرے کے دروازے پر کھڑے تھے۔ یہ حدیث مشہور ہے یہ تقاضا کرتا ہے کہ حضرت عمر نے حضرت محمد ﷺ سے انس طلب کیا پھر حضرت ابن عباس ؓ ایسی صورت میں اصحاب الرسول کو کیسے غلط کہہ سکتے ہیں ؟
میں کہتا ہوں : ہم نے حضرت ابوا یوب کی حدیث سے ذکر کیا ہے کہ استئن اس سلام سے پہلے ہوتا ہے۔ آیت اپنے باب پر ہے اس میں کوئی تقدیم وتاخیر نہیں ہے جب داخل ہو تو سلام کرے۔
مسئلہ نمبر 5 ۔ تین مرتبہ اجازت طلب کرنا سنت ہے تین مرتبہ سے زیادہ اجازت طلب نہ کرے (یعنی گھنٹی چوتھی مرتبہ نہ دے اور دروازہ چوتھی مرتبہ نہ کھٹکھٹائے) ۔ ابن وہب نے کہا : امام مالک نے فرمایا اجازت طلب کرنا تین مرتبہ ہے۔ میں پسند نہیں کرتا کہ وہ اس سے زیادہ مرتبہ اجازت طلب کرے مگر وہ سمجھے کہ ابھی تک انہیں سنائی نہیں دیا۔ میں زیادہ مرتبہ اجازت طلب کرنے میں کوئی حرج نہیں دیکھتا جب اسے یقین ہو کہ سنائی نہیں دیا۔ استیذان کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی کہے : السلام علیکم : کیا میں داخل ہوسکتا ہوں اگر اسے اجازت دی جائے تو داخل ہوجائے اگر اسے واپس جانے کا حکم ہو تو واپس چلا جالئے اگر سکوت کیا گیا ہو تو تین مرتبہ اجازت طلب کرے پھر جتین مرتبہ اجازت طلب کرنے کے بعد واپس چلا جائے۔ ہم نے کہا : اجازت طلب کرنا تین بار ہے اس پر زیادتی نہیں کی جائے گی۔ یہ مشہور حدیث ہے جس کو الصحیح نے نقل کیا ہے اور یہ نص صریح ہے کیونکہ اس میں ہے حضرت عمر ؓ نے کہا : ہمارے پاس آنے سے تجھے کیا مانع تھا ؟ حضرت ابو موسیٰ اشعری نے کہا : میں آیا میں نے تمہارے دروازے پر تین مرتبہ سلام کیا مجھ پر جواب نہ آیا تو میں واپس چلا گیا کیونکہ نبی پاک ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی تین مرتبہ اجازت طلب کرے پھر اسے اجازت نہ دی جائے تو وہ واپس چلا جائے۔ رہا وہ جو ہم نے استیذان کی صورت ذخر کی ہے اسے ابو دائود نے ربعی سے روایت کیا جب کہ آپ ﷺ گھر میں تشریف فرما تھے اس نے پوچھا : میں داخل ہوجائوں ؟ نبی کریم ﷺ نے اپنے خادم کو فرمایا : تم اس کی طرف جائو اور اسے اجازت طلب کرنا سکھائو۔ تو خادم نے اسے کہا : تم کہو : السلام علیکم : کیا میں داخل ہوسکتا ہوں ؟ اس شخص نے یہ سنا تو کہا : السلام علیکم کیا میں داخل ہوسکتا ہوں ؟ پھر نبی کریم ﷺ نے اسے اجازت دی تو وہ داخل ہوگیا۔ حضرت ابن عمر ؓ کو ایک دن گرمی نے اذیت دی تو وہ ایک قریشی عورت کے خیمہ پر آئے اور کہا : السلام علیکم : کیا میں داخل ہوسکتا ہوں ؟ اس عورت نے کہا : سلامتی کے ساتھ داخل ہوجائو۔ پھر آپ نے سوال لوٹایا تو اس نے یہی جواب دیا پھر حضرت ابن عمر ؓ رک گئے جب اس نے سلامتی کے ساتھ داخل ہوجا کہا تھا کیونکہ لفظ میں احتمال تھا کہ اس کی مراد یہ ہو کہ تم سلام کے ساتھ داخل ہو شخصیت کے ساتھ داخل نہ ہو۔
مسئلہ نمبر 6 ۔ ہمارے علماء نے فرمایا : اجازت طلب کرنا تین مرتبہ کے ساتھ خاص کیا گیا ہے کیونکہ کلام میں سے غالب یہ ہے جب تین مرتبہ تکرار کیا جائے تو سنا اور سمجھا جاتا ہے اسی وجہ سے نبی کریم ﷺ جب کسی کلمہ سے کلام فرماتے تو اسے تین مرتبہ دہراتے تاکہ اسے سمجھا جائے۔ جب آپ کسی قوم پر سلام کرتے تو تین مرتبہ سلام کرتے۔ بعض اوقات اصرار اذیت دیتا ہے حتیٰ کہ جس کام میں مشغول ہوتا ہے وہ منقطع ہوجاتا ہے جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت ابو ایوب کو فرمایا جب آپ ﷺ نے اجازت طلب کی تو وہجلدی سے باہر آگئے تو آپ ﷺ نے فرمایا : شاہد ہم نے تجھ پر جلدی کی ہے۔ نبی پاک ﷺ حضرت معاز کے گھر تشریف لائے اور کہا : السلام علیکم ورحمتہ اللہ انہوں نے کہا : حضرت سعد نے آہستہ سے جواب دیا۔ قیس نے کہا میں نے کہا : کیا آپ ﷺ کو اجازت نہیں د یتے ؟ انہوں نے کہا : چھوڑو تاکہ آپ کثرت سے ہم پر سلام فرمائیں۔ اس حدیث کو ابو دائود نے نقل کیا ہے اس میں یہ نہیں ہے کہا بن شہاب نے کہا تین مرتبہ سلام کرنا آپ کی طرف سے کیا گیا ہے۔ ابود ائود نے کہا : عمر بن عبد الواحد اور ابن سماعہ نے اوزاعی سے مرسلا روایت کیا ہے ان دونوں حضرات نے قیس بن سعد کا ذکر نہیں کیا ہے۔
مسئلہ نمبر 7 ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اجازت طلب کرنا، اس پر لوگوں نے عمل کرنا چھوڑ دیا ہے۔ ہمارے علماء نے کہا : کیونکہ لوگوں نے اب دروازے بنالئے ہیں اور ان کو کھٹکھٹایا جاتا ہے۔ ابو دائود نے حضرت عبد اللہ بن بسر سے روایت کیا ہے فرمایا : نبی پاک ﷺ جب کسی قوم کے دروازے پر آتے تو دروازے کے سامنے کھڑے نہ ہوتے تھے بلکہ دروازے کی دائیں یا بائیں جانب کھڑے ہوتے تھے اور کہتے تھے : السلام علیکم۔ یہ اس لیے تھا کیونکہ اس وقت دروازے پر پردے نہیں ہوتے تھے۔
مسئلہ نمبر 8 ۔ اگر دروازہ بند ہوتا تو آنے والا جہاں چاہے کھڑا ہو اور اجازت طلب کرے اگر چاہے تو دروازہ کھٹکھٹائے کیونکہ یہ حضرت ابو موسیٰ نے روایت کیا ہے کہ نبی پاک ﷺ ایک باغ میں مدینہ طیبہ میں کنویں کے منڈیر پر تھے آپ نے کنویں میں اپنی ٹانگیں لمبی کردیں۔ حضرت ابوبکر نے دروازہ کھٹکھٹایا تو نبی پاک نے اسے کہا : اسے اجازت دے دو اور جنت کی بشارت بھی دو ۔ اسی طرح عبد الرحمن بن ابی الزناد نے اس کو روایت کیا ہے۔ صالح بن کیسان، یونس بن یزید نے انکی متابعت کی ہے۔ ان تمام نے اس کو ابو الزناد سے انہوں نے ابو سلمہ سے انہوں نے عبد الرحمن بن نافع سے انہوں نے حضرت ابو موسیٰ سے روایت کیا ہے۔ محمد بن عمرو لیثی نے ان کی مخالفت کی ہے انہوں نے ابو الزناد سے انہوں نے ابو سلمہ سے انہوں نے نافع بن عبد الحارث سے انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے۔ پہلی سند صحیح ہے۔
مسئلہ نمبر 9 ۔ کھٹکھٹانے کا طریقہ یہ ہے کہ آہستہ سے کھٹکھٹایا جائے حتیٰ کہ سن لیا جائے۔ سختی سے نہ کھٹکھٹائے۔ حضرت انس بن مالک نے روایت کیا ہے فرمایا : نبی کریم ﷺ کے دروازے ناخنوں سے کھٹکھٹائے جاتے تھے۔ یہ ابوبکر احمد بن علی بن ثابت الخطیب نے اپنی جامع میں روایت کیا ہے۔
مسئلہ نمبر 10 ۔ بخاری و امام مسلم وغیرہما نے حضرت جابر بن عبد اللہ سے روایت کیا ہے فرمایا : میں نے نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضری کی اجازت طلب کی آپ ﷺ نے پوچھا۔ کون ہے ؟ میں نے کہا : میں۔ نبی کریم نے فرمایا۔ میں میں۔ گویا آپ نے میں کہنا ناپسند کیا۔ ہمارے علماء نے فرمایا : نبی کریم ﷺ نے اس لئے یہ ناپسند فرمایا تھا کیونکہ میں کے لفظ سے تعریف حاصل نہیں ہوتی اس میں حکم یہ ہے کہ اپنا نام ذکر کرے جسطرح حضرت عمر بن خطاب ؓ سے ثابت ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے آپ ﷺ اپنے بالا خانے میں تشریف فرما تھے عرض کی : کیا عمر داخل ہوسکتا ہے۔ ؟ صحیح مسلم میں ہے حضرت ابو موسیٰ ، حضرت عمر بن خطاب ؓ کے پاس آئے اور کہا : السلام علیکم۔ یہ ابو موسیٰ ہے۔ السلام علیکم۔ یہ اشعری ہے۔ (الحدیث)
مسئلہ نمبر 11 ۔ خطیب نے اپنی جامع میں علی بن عاصم واسطی سے روایت کیا ہے فرمایا : میں بصرہ میں آیا تو شعبہ کے گھر آیا میں نے ان کا دروازہ کھٹکھٹایا انہوں نے پوچھا : کون ؟ میں نے کہا : میں۔ انہوں نے فرمایا : اے شخص میرا تو کوئی ایسا دوست نہیں جس کو میں کہا جاتا ہو۔ پھر وہ میری طرف نکلے اور کہا : مجھے منکدر نے بتایا انہوں نے حضرت جابر بن عبدا للہ سے روایت کیا فرمایا : میں کسی کام کے لئے نبی کریم ﷺ کے پاس آیا۔ میں نے ان کا دروازہ کھٹکھٹایا انہوں نے پوچھا کون ؟ میں نے کہا : انہوں نے کہا۔ میں میں۔ گویا نبی پاک ﷺ نے میرے اس قول کو ناپسند فرمایا۔ عمر بن شیبہ سے روایت ہے میں نے عمرو بن عبید کا دروازہ کھٹکھٹایا انہوں نے پوچھا کون ہے ؟ میں نے کہا : میں۔ انہوں نے کہا : غیب تو صرف اللہ جانتا ہے۔ خطیب نے کہا : میں نے یہ حکایت کرتے ہوئے سنا کہ جب ان کا دروازہ کھٹکھٹایا جاتا وہ پوچھتے کون ؟ دروازے پر کھڑا شخص کہتا میں تو شیخ صاحب فرماتے : انا (میں) ھم دق۔
مسئلہ نمبر 12 ۔ ہر قوم کا استیذان میں اپنا عرف ہے جیسا کہ ابوبکر خطیب نے مسند ابو عبد الملک مولی ام مسکین بنت عاصم بن عمر بن خطاب سے روایت کیا ہے فرمایا : مجھے میری مالکن نے حضرت ابوہریرہ کے پاس بھیجا وہ میرے ساتھ آئے جب دروازے پر کھڑے ہوئے تو فرمایا : اندرایم ؟ میری مالکن نے کہا : ا ندرون۔ انہوں نے عنوان باندھا ہے باب الاستیذان بالفارسیتہ۔ احمد بن صالح سے روایت کیا گیا ہے فرمایا : دراوردی اہل اصبحان سے تھے وہ مدینہ طیبہ آئے تو جو شخص ان کے پاس آنے کا ارادہ کرتا اسے کہتے اندرون۔ اہل مدینہ نے اس کا لقب دراوردی رکھا۔
مسئلہ نمبر 13 ۔ ابو دائود نے حضرت کلدۃ بن حنبل سے روایت کیا ہے کہ حضرت صفوان بن امیہ نے اسے بارگاہ رسالت میں دودھ، ہرن کا بچہ اور ضغا بیس دے کر بھیجا۔ نبی پاک ﷺ مکہ کی بالائی طرف میں تھے۔ میں حاضرہوا اور میں نے سلام نہ کیا : آپ ﷺ نے فرمایا : تو و اپس جا اور کہہ السلام علیکم۔ یہ حضرت صفوان بن امیہ کے اسلام لانے کے بعد کا واقعہ ہے۔ ابو زبیر نے حضرت جابر سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : جو سلام سے آغاز نہ کرے اسے اجازت نہ دو ۔ ابن جریح نے ذکر کیا ہے کہ عطا نے مجھے بتایا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ ؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا : جب کوئی شخص کہے : کیا میں د اخل ہوسکتا ہوں۔ اور سلام نہ کرے تو تم کہو۔ نہیں حتیٰ کہ تو چابی لے آئے۔ میں نے پوچھا۔ چابی سے مراد السلام علیکم ہے ؟ فرمایا : ہاں۔ روایت ہے کہ حضرت حذیفہ کے پاس ایک شخص آیا اس نے جو گھر میں تھا اسے دیکھا پھر کہا : السلام علیکم کیا میں داخل ہوسکتا ہوں ؟ حضرت حذیفہ نے کہا۔ اپنی آنکھوں کے ساتھ تو تو داخل ہوچکا ہے اور سرین کے ساتھ داخل نہیں ہوا ہے۔
مسئلہ نمبر 14 ۔ اس مسئلہ میں یہ بھی ہے جو ابو دائود نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا ہے کہ نبی پاک ﷺ نے فرمایا : ایک شخص کا دوسرے شخص کی طرف اپناپیغام رسان بھیجنا اس کی طرف اجازت ہے۔ یعنی اس نے اسے بلا بھیجا تو اس نے اسے اندر داخل ہونے کی اجازت دی۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد اس کی وضاحت کرتا ہے۔ جب تم میں سے کسی کو کھانے پر بلایا جائے اور وہ پیغام رساں کے ساتھ آئے تو یہ اس کے لئے اجازت ہے۔ اس حدیث کو ابو دائود نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت کیا ہے۔
مسئلہ نمبر 15 ۔ جب نظر پر نظر پڑھ جائے تو سلام متعین ہوجاتا ہے اندر والے کا تجھے دیکھنا تیرے داخل ہونے کے لیے اذن نہ ہوگا جب تک تو سلام کا حق ادا نہ کرے گا کیونکہ اس پر وارد ہونے والا ہے تو کہے گا : کیا میں داخل ہوسکتا ہوں۔ وہ اگر تجھے اجازت دے تو فبہا ورنہ تو واپس لوٹ جا۔
مسئلہ نمبر 16 ۔ یہ تمام احکام اس گھر کے لئے ہیں جو تمہارا نہیں ہے۔ رہا تمہارا اپنا گھر تو اس میں تمہارے اہل ہیں تو پھر ان سے اجازت طلب کرنے کی ضرورت نہیں مگر تو ان پر سلام کر جب بھی تو داخل ہو۔ قتادہ نے کہا : جب تو اپنے گھر میں داخل ہو تو اپنے گھر والوں پر سلام کر وہ سب سے زیادہ حق دار ہیں۔ جنہیں تو سلام کرتا ہے اگر اس گھر میں تیرے ساتھ تیری والدہ یا تیری ہمشیرہ ہے تو علماء فرماتے ہیں : پہلے تو کھانسی کر اور زمین پرز ور سے پائوں مارتا کہ وہ تیری آمد کے متعلق آگاہ ہوجائیں کیونکہ تیرے اور تیرے اہل کے درمیان تو کوئی حشمت نہیں لیکن والدہ اور ہمشیرہ کبھی ایسی حالت میں ہوتی ہیں جس میں تو انہیں دیکھنا پسند نہیں کرتا۔ ابن القاسم نے کہا : امام مالک نے فرمایا : آدمی اپنی والدہ اور اپنی ہمشیرہ سے اجازت طلب کرے جب وہ انکے پاس جانے کا ارادہ کرے۔ عطا بن یسار نے روایت کیا ہے ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی۔ کیا میں اپنی والدہ سے بھی اجازت طلب کروں ؟ فرمایا : ہاں۔ اس شخص نے عرض کی : حضور : میں اس کی خدمت کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : تو اجازت طلب کر۔ تین مرتبہ یہی سوال و جواب ہوا پھر آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تو اسے برہنہ حالت میں دیکھنا پسند کرتا ہے۔ اس نے کہا : نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : پھر تو اس سے اجازت طلب کر۔ یہ طبری نے ذکر کیا ہے۔
مسئلہ نمبر 17 ۔ اگر اپنے گھر میں داخل ہو جس میں کوئی نہیں رہتا تو ہمارے علماء نے کہا : وہ کہے : السلام علینا من ربنا التحیات الطیبات المبارکات اللہ السلام۔ اس کو ابن وہب نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا اور اس کی سند ضعیف ہے۔ قتادہ نے کہا : جب تو ایسے مکان میں داخل ہو جہاں کوئی نہیں ہے تو تو کہہ : السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین۔ اس کا تجھے حکم دیا گیا ہے فرمایا : ہمارے لئے ذکر کیا گیا ہے فرشتے سلام کا جواب دیتے ہیں۔ ابن عربی نے کہا : صحیح سلام اور استیذان کا ترک ہے۔ میں کہتا ہوں۔ قتادہ کا قول بہتر ہے۔