24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 24:34–35

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ وَّ مَثَلًا مِّنَ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 24:34 in the Quran reader

اور ہم نے تمہاری طرف روشن آیتیں نازل کی ہیں اور جو لوگ تم سے پہلے گزر چکے ہیں ان کی خبریں اور پرہیزگاروں کے لئے نصیحت

اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌ١ؕ اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَةٍ١ؕ اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَیْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِیَّةٍ وَّ لَا غَرْبِیَّةٍ١ۙ یَّكَادُ زَیْتُهَا یُضِیْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ١ؕ نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍ١ؕ یَهْدِی اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌۙ Open ayah 24:35 in the Quran reader

خدا آسمانوں اور زمین کا نور ہے اس کے نور کی مثال ایسی ہے کہ گویا ایک طاق ہے جس میں چراغ ہے اور چراغ ایک قندیل میں ہے اور قندیل (ایسی صاف و شفاف ہے کہ) گویا موتی کا سا چمکتا ہوا تارا ہے اس میں ایک مبارک درخت کا تیل جلایا جاتا ہے (یعنی) زیتون کہ نہ مشرق کی طرف ہے نہ مغرب کی طرف (ایسا معلوم ہوتا ہے کہ) اس کا تیل خواہ آگ اسے نہ بھی چھوئے جلنے کو تیار ہے (بڑی) روشنی پر روشنی (ہو رہی ہے) خدا اپنے نور سے جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ دکھاتا ہے اور خدا (جو مثالیں) بیان فرماتا ہے (تو) لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ نور السموات والارض کلام عرب میں نور ان روشنیوں کو کہتے ہیں جو آنکھ کے ذریعے دیکھی جاتی ہیں مجازاً دوسرے معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کا معنی چمکنا بھی ہے۔ اسی سے کہا جاتا ہے : کلام لہ نور اس کا چمکنے والا کلام ہے۔ اسی سے الکتاب المنیر (روشن کتاب) ہے، اسی سے شاعر کا قول ہے : نسب کان علیہ من شمس الضحا نورا ومن فلق الصباح عمودا لوگ کہتے ہیں : فلان نور البلد شمس العصر و قمرہ فلاں شہر کا نور ہے زمانہ کا سورج اور چاند ہے۔ شاعر نے کہا : فانک شمس والملوک کواکب۔ ایک شاعر نے کہا : ھلا خصصت من البلاد بمقصد قمر القبائل خالد بن یزید ایک اور شاعر نے کہا : ازا سار عبداللہ من مرو لیلۃ فقد سار منہا نورھا وجمالہا یہ کہنا بھی جائز ہے اس کا معنی ہوا للہ کا نور ہے۔ یہ مدح کی حجت سے ہو کیونکہ اس نے تمام اشیاء کو پیدا کیا اور تمام اشیاء کا نور اس سے ہے اس سے تمام اشیاء کی ابتدا ہے اور اسی سے ان کا صدور ہے اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے وہ ان روشنیوں میں سے نہیں ہے جو آنکھوں سے دیکھی جاسکتی ہیں وہ پاک ہے اس سے جو ظالم کہتے ہیں اس کی شان اس سے بلند اور بڑی ہے۔ ہشام جو القی اور مجسمیہ گروہ نے کہا : وہ نور ہے دوسرے انوار کی طرح نہیں، وہ جسم ہے دوسرے اجسام کی طرح نہیں یہ تمام اللہ تعالیٰ پر عقلاً اور نقلاً محال ہے جیسا کہ علم الکلام میں معروف ہے پھر ان کا قول متناقض ہے کیونکہ ان کا قول جسم یا نور ہے اس پر اس کی حقیقت کے ساتھ ایک حکم ہے اور ان کا قول : دوسرے نوروں کی طرح نہیں دوسرے اجسام کی طرح نہیں۔ اس چیز کی نفی ہے جس کو انہوں نے جسمیت اور نور میں سے ثابت کیا تھا یہ تناقض ہے اور اس کی تحقیق علم الکلام میں ہے جو انہیں اس میں ظاہر نظر آیا انہوں نے اس کی اتباع کی۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے جب آپ نماز تہجد کے لیے اٹھتے تو یہ کہتے : اللہم لک الحمد، انت نور السموات والارض۔ اسی طرح آپ ﷺ سے پوچھا گیا : کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : میں نے نور دیکھا۔ اس کے علاوہ بھی احادیث ہیں۔ علماء نے اس آیت کی تاویل میں اختلاف کیا ہے۔ بعض نے فرمایا : اس کا مطلب ہے، اس کے ساتھ اور اس کی قدرت سے اشیاء کی روشنی چمکی اور ان کے امور قائم ہوئے اور مصنوعات بنیں۔ یہ کلام ذہن کی تقریب پر مبنی ہے جیسے کہا جاتا ہے : الملک نور اھل البلد یعنی شہر والوں کے معاملات کا قیام اور ان کی صلاح بادشاہ کے ساتھ ہے کیونکہ اس کے امور سیدھے راستے پر چلاتے ہیں۔ یہ الملک کے لفظ میں مجاز ہے یہ اللہ تعالیٰ کی صفت میں حقیقت محضہ ہے کیونکہ اس نے موجودات کو پیدا کیا عقل کو نور اور ہدایت دینے والا بنایا کیونکہ موجود کا ظہور اس کے ساتھ حاصل ہوا جس طرح روشنی کے ساتھ دیکھی جانے والی چیزوں کا ظہور حاصل ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات بڑی بابرکت ہے اس کے علاوہ کوئی رب نہیں ہے، یہ معنی مجاہد اور زہری وغیرہ نے بیان کیا ہے۔ ابن عرفہ نے کہا : اس کا مطلب ہے وہ آسمانوں اور زمینوں کو منور کرنے والا ہے اسی طرح ضحاک اور قرظی نے کہا ہے جیسے لوگ کہتے ہیں : فلاں غیاثنا یعنی وہ ہماری مدد کرنے والا ہے، فلان زادی فلاں میرے سازوسامان تیار کرنے والا ہے : جریر نے کہا : ونت لنا نور وغیث و عصمہ ونبت لمن یرجو نداک و ریق یعنی ذو ورق۔ مجاہد نے کہا : آسمانوں اور زمین میں امور کی تدبیر فرمانے والا ہے۔ حضرت ابی بن کعب، حسن اور ابو العالیہ نے کہا : وہ سورج، چاند اور ستاروں سے آسمانوں کو مزین کرنے والا ہے۔ اور زمین کو انبیائ، علماء اور مومنین کے ساتھ مزین کرنے والا ہے۔ حضرت ابن عباس رضٰ اللہ عنہما اور حضرت انس نے کہا : اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ آسمان والوں اور زمین والوں کا ہادی ہے۔ پہلا معنی اعم ہے اور تاویل کے ساتھ زیادہ اصح ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ مثل نورہ یعنی اس کے دلائل کی صفت جو وہ بندہ مومن کے دل میں ڈالتا ہے۔ دلائل کو نور کہا جاتا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کو نور کہا ہے فرمایا : انزلنا الیکم نورا مبینا (النسائ) اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو نور فرمایا۔ قد جاء کم من اللہ نور و کتب مبین (المائدہ) یہ اس وجہ سے فرمایا کیونکہ کتاب ہدایت دیتی ہے اور بیان کرتی ہے اسی طرح رسول کی بھی یہی مثال ہوتی ہے اللہ کی طرف اضافت کی وجہ یہ ہے کہ وہ دلالت کو ثابت کرنے والا ہے اور بیان کرنے والا ہے اور اسے وضع کرنے والا ہے یہ آیت دوسرے معانی کا بھی احتمال رکھتی ہے۔ اس میں مثال کے ہر جز کا مقابل ممثل بہ کے ہر جز کے ساتھ نہیں بلکہ اس میں جملہ کی جملہ کے ساتھ تشبیہ واقع ہوئی کیونکہ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی ہدایت، ہر مخلوق کی صنعت کو اس کا پختہ کرنا اور ان تمام پر اس کے پھیلے ہوئے دلائل ہیں جیسے اس نور سے ہے جس کو تم اس صفت پر بناتے ہو جو اس نور کی صفات میں ابلغ ترین صفت پر ہے جو لوگوں کے سامنے ہے۔ بس وضوح اور روشنی میں اللہ کے نور کی مثال اس طرح ہے جس پر تماہری انتہا ہے اے انسانو ! المشکاۃ۔ دیوار میں بنے ہوئے طاق کو کہتے ہیں جو آر پار نہیں ہوتا، یہ ابن جبیر اور جمہور مفسرین کا قول ہے۔ یہ روشنی کو جمع کرتا ہے اس میں چراغ دوسری جگہوں کی نسبت زیادہ روشنی دیتا ہے اس کی اصل وہ برتن ہے جس میں کوئی چیز رکھی جاتی ہے مشکاۃ چمڑے کا برتن جیسے ڈول، اس میں پانی ٹھنڈا ہوتا ہے یہ مفعلۃ کے وزن پر ہے جیسے مقراہ و مصفاۃ۔ شاعر نے کہا : کان عینیہ مشکاتان فی حجر قیضا اقتیاضا باطراف المناقیر بعض علماء نے کہا : مشکاۃ قندیل کا ستون جس میں وٹ ہوتی ہیمجاہد نے کہا : اس سے مراد قندیل ہے۔ فرمایا : فی زجاجۃ کیونکہ وہ شفاف جسم ہے چراغ، فانوس میں زیادہ روشن ہوتا ہے۔ المصباح آگ کے ساتھ وٹ۔ کا نھا کو کب دری، روشنی کرنے اور چمک میں ستارے کی مانند ہے۔ اس میں دو معانی کا احتمال ہے، وہ چراغ کے سات اس طرح ہے یا اپنی صفائی اور اپنے جوہر کی عمدگی کی وجہ سے اس طرح ہے۔ یہ تاویل نور پر تعاون میں زیادہ بلیغ ہے۔ ضحاک نے کہا : الکوکب الدری سے مراد زہرہ ستارہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یوقد من شجرۃ مبارکۃ۔ یعنی درخت کے تیل سے روشن کیا جاتا ہے۔ مضاف کو حذف کیا گیا ہے اور درخت کو مبارک کہا گیا ہے کیونکہ زیتون نما (برہوتری) کے اعتبار سے پھلوں میں سے بڑا ہے۔ اسی طرح انار ہے۔ مشاہدہ اس کا تقاضا کرتا ہے ابو طالب نے مسافر بن ابی عمرو بن مایہ بن عبد شمس کے مرثیہ میں کہا : لیت شعری مسافر بن ابی عمرو ولیت یقولہا المحزون بورک المیت الغریب کما بورک نمع الرمان والزیتون بعض نے کہا : ان کی برکت کی وجہ سے ان کو مبارک کہا گیا ہے کیونکہ ان کی ٹہنیاں نیچے سے اوپر تک پتے نکالتی ہیں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : زیتون میں بہت سے منافع ہیں۔ اس سے چراگ جلایا جاتا ہے، یہ بطور سالن استعمال ہوتا ہے، بطور تیل استعمال ہوتا ہے، اس کے ساتھ دباغت کی جاتی ہے، اس کے ساتھ لکڑیوں کو آگ لگائی جاتی ہے، اس میں کوئی ایسی چیز نہیں مگر اس میں منفعت ہے حتی کہ اس کی راکھ کے ساتھ ریشم کو صاف کیا جاتا ہے۔ یہ پہلا درخت ہے جو دنیا میں پیدا ہوا اور طوفان نوح کے بعد سب سے پہلے اگنے والا یہی درخت ہے۔ انبیاء کی منازل اور ارض مقدسہ میں اگتا ہے۔ اس کے لیے ستر انبیاء کرام نے برکت کی دعا کی۔ ان میں حضرت ابراہیم اور حضرت محمد ﷺ ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے دعا کی : اللہم بارک فی الزیت والزیتون۔ یہ دو مرتبہ عرض کی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لا شرقیۃ ولا غربیۃ۔ اس قول میں علماء کا اختلاف ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ، عکرمہ، قتادہ وغیرہم نے فرمایا : شرقیۃ، جس کو سورج کی دھوپ پڑتی ہے جب سورج طلوع ہوتا ہے۔ اور جب سورج غروب ہوتا ہے تو اس وقت اسے سورج کی دھوپ نہیں لگتی، کیونکہ اس کے لیے پردہ ہوتا ہے اور غربیہ، اس کے برعکس ہے یعنی وہ صحراء میں درخت ہے زمین پر ظاہر ہو سورج کی دھوپ سے کوئی چیز اسے نہیں چھپاتی وہ تیل کے لیے عمدہ ہوتا ہے نہ خالصۃ شرق کے لیی ہے کہ اسے شرقیہ کہا جائے اور نہ غرب کے لیے ہے کہ اسے غربیہ کہا جائے بلکہ وہ شرقیہ غربیہ ہے۔ طبری نے حضرت ابن عباس رضٰ اللہ عنہما سے روایت کیا کہ وہ ایک بہت بڑے صحن میں درخت ہے اس کو اس گھر نے گھیرا ہوا ہے۔ وہ شرق کی جہت سے نہ منکشف ہوتا ہے اور نہ غرب کی جہت سے منکشف ہوتا ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : یہ قول حضرت ابن عباس ؓ سے درست نہیں ہے کیونکہ وہ پھل جو اس طرح ہوتا ہے اس کی اطراف خراب ہوتی ہیں یہ کائنات میں مشاہدہ ہے۔ حسن نے کہا : یہ دنیا کے درختوں میں سے نہیں ہے۔ یہ ایک مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نور کے لیے قائم فرمائی ہے کیونکہ اگر یہ دنیا میں ہوتا تو یا یہ شرقیہ ہوتا یا غربیہ ہوتا۔ ثعلبی نے کہا : قرآن نے واضح طور پر بیان فرمایا کہ یہ دنیا کا درخت ہے، کیونکہ شام کے درخت نہ شرقی ہیں نہ غربی ہیں شام کے درخت افضل درخت ہیں یہ ارض مبارکہ ہے اور شرقیہ، زیتونہ کی نعت ہے اور لا صفت اور موصوف کے درمیان حائل نہیں ہوتا ولا غربیۃ، اس پر ولا غربیۃ کا عطف کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یکاد زیتھا یضیء ولولم تمسسہ نار، یہ اس کے حسن صفائی اور جودت میں مبالغہ ہے نور علی نور، مشکاۃ میں چراغ کی روشنی جمع ہے زجاجہ (شیشہ) تک وہ روشنی پہنچتی ہے اور تیل کی روشنی تک پہنچتی ہے پس اسی وجہ سے وہ نور علی نور ہوگیا ہے۔ یہ انوار مشکاۃ (طاق) میں جمع ہوئے تو وہ انتہائی خوبصور نور ہوگیا اسی طرح اللہ تعالیٰ کے براہین واضح ہیں۔ یہ دلیل کے بعد دلیل ہے اور تنبیہ کے بعد تنبیہ ہے جیسے رسولوں کو مبعوث فرمایا، کتب کو نازل فرمایا اور نصیحتیں فرمائیں جن میں عقل سلیم رکھنے والے کے لیے تکرار ہے پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ وہ جسے چاہتا ہے اپنے نور کی طرف اسے ہدایت دیتا ہے اور اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے سعادت بخشتا ہے اپنے بندوں پر ضرب الامثال کی صورت میں اپنے فضل کا ذکر فرمایا تاکہ انہیں عبرت نصیب ہو اور ایسی نظر ملے جو انہیں ایمان تک پہنچانے والی ہو۔ عبداللہ بن عیاش بن ابی ربیعہ اور ابو عبدالرحمن سلمی نے اللہ نور نون کے فتحہ اور واو کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ نورہ کی ضمیر کا مرجع کا۔ ہے مفسرین کا اس میں اختلاف ہے۔ کعب احبار اور ابن جبیر نے کہا : اس کا مرجع حضرت محمد ﷺ ہیں یعنی مثل نور محمد ﷺ ۔ ابن انباری نے کہا : اللہ نور السموات والارض پر وقف حسن ہے پھر کلام کا آغاز ہو رہا ہے مثل نورہ کمشکوۃ فیہا مصباح۔ یعنی نور محمد ﷺ کی مثال۔ حضرت ابی بن کعب اور ابن جبیر نے بھی اور ضحاک نے کہا : اس کا مرجع مومنین ہیں۔ حضرت ابی کی قرائت میں مثل نور المومنین ہے اور یہ بھی روایت ہے کہ ان کی قراءت میں مثل نور المومن ہے روایت ہے کہ اس میں مثل نور من امن بہ ہے۔ حسن نے کہا : اس کا مرجع قرآن اور ایمان ہے۔ مکی نے کہا : ان اقوال کی بناء پر (الارض) پر وقف ہوگا ابن عطیہ نے کہا : ان اقوال کی بنا پر ضمیر کا مرجع ایسا ہوگا جا کا پہلے ذکر نہیں ہے۔ اس میں مثال کے ہر جز کا مقابلہ ممثل بہ کے جز سے ہوگا۔ پس جنہوں نے کہا کہ ممثل بہ حضرت محمد ﷺ ہیں وہ کعب حبر کا قول ہے۔ اس بنا پر رسول اللہ ﷺ مشکاۃ ہوں گے یا آپ کا سینہ مشکاۃ ہوگا اور مصباح سے مراد نبوت اور اس سے متصل اچھا عمل اور ہدایت ہے۔ الزجاجۃ سے مراد آپ ﷺ کا قلب (دل) ہے۔ الشجرۃ المبارکۃ سے وحی اور ملائکہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کا پیغام آپ کی طرف لاتے تھے اور اس کا سبب جو اس سے متصل ہوتا۔ الزیت سے مراد وہ حجج وبراہین ہیں وحی جن کو اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہوتی تھی اور جنہوں نے کہا : ممثل بہ مومن ہے۔ ان کے نزدیک چراغ سے مراد ایمان اور علم ہے۔ زجاج سے مراد اس کا دل ہے۔ زیت سے مراد حجتیں اور حکمت ہے جن کو وہ اپنے اندر رکھتا ہے۔ حضرت ابی نے کہا : وہ مومن لوگوں میں بہتر حالت میں چلتا ہے جس طرح زندہ مردوں کی قبور میں چلتا ہے اور جنہوں نے کہا : ممثل بہ قرآن اور ایمان ہے تو تقدیر کلام اس طرح ہوگی مثل نورہ الذی ھو الایمان فی صدر المومن فی قلبہ کمشکاۃ یعنی اس نور کی مثال جو ایمان ہے جو بندہ مومن کے سینہ میں ہے اس کے دل میں ہے جو طاق کی طرح ہے۔ اس میں پہلی دونوں تشبیہوں کی طرح تشبیہ نہیں ہے کیونکہ مشکاۃ ایمان کا مقابل نہیں ہے۔ ایک جماعت نے کہا : ضمیر کا مرجع اللہ تعالیٰ ہے۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے جسے ثعلبی، ماوردی اور مہدوی نے ذکر کیا ہے۔ یہ معنی گزر چکا ہے اس قول کی کی بنا پر (الارض) پر وقف نہ ہوگا۔ مہدوی نے کہا : ضمیر کا مرجع اللہ تعالیٰ ہے تقدیر اس طرح ہوگی اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین والوں کو ہدایت دینے والا ہے۔ اس نے جو مسلمانوں کے قلوب میں ہدایت ڈالی اس کی مثال مشکاۃ کی ہے : یہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے اسی طرح حضرت زید بن اسلم نے کہا ہے۔ حسن نے کہا : ضمیر کا مرجع اللہ تعالیٰ ہے۔ حضرت ابی اور حضرت ابن مسعود ؓ اس کو مثل نورہ فی قلب المومن کمشکاۃ پڑھتے تھے۔ محمد بن علی ترمذی نے کہا : ان کے علاوہ کسی نے قرآن میں اس طرح نہیں پڑھا ہے۔ اور تاویل میں ان کی موافقت کی ہے کہ یہ بندہ مومن کے دل میں اس کا نور ہے۔ اس کی تصدیق دوسری آیت میں ہے فرمایا : افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام فھو علی نور من ربہ (الزمر :22) اور پہلے مفسرین نے اس کی اس طرح علت بیان کی ہے کہ ضمیر کو اللہ کے لیے بناناجائز نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نور کی کوئی حد نہیں ہے۔ ابو عمر دراوردی نے کسائی سے روایت کیا ہے کہ انہوں مشکاۃ کے الف میں اور اسے پہلے کاف میں امالہ کیا ہے۔ نصر بن عاصم نے زجاجۃ کو زاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اسی طرح الزجاجۃ کو بھی زاء کے فتحۃ کے ساتھ پڑھا ہے یہ بھی ایک لغت ہے۔ ابن عامر اور حفص نے عاصم سے دری دال کے ضمہ اور ی کی شد کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس کی قراءت کی دو وجہیں یا تو کو کب، الدر کی طرف منسوب کیا گیا ہے اس کی سفیدی اور صفائی کی وجہ سے یا اس کی اص دریء مہموز ہے۔ فعیل یہ الدرئ سے مشتق ہے جس کا معنی دور کرنا ہے۔ پھر ہمزہ میں تخفیف کی گئی وہ بڑے بڑے ستارے جن کے اسماء معروف نہیں ہیں ان کو الدراری (بگیر ہمزہ کے) کہا جاتا ہے۔ حمزہ اور ابوبکر نے عاصم سے دریء ہمزہ اور مد کے ساتھ پڑھا ہے یہ فعیل کے وزن پر الدرء سے مشتق ہے اس معنی میں کہ وہ ایک دوسرے کو دھکیلتے ہیں۔ کسائی اور ابو عمر نے دریء دال کے کسرہ اور ہمزہ کے ساتھ الدرء سے مشتق کرکے پڑھا ہے جس کا معنی دور کرنا ہے جیسے السکیر اور الفسیق۔ سیبویہ نے کہا : ابوعبیدہ نے ابوعمر اور کسائی کی قراءت کو انتہائی ضعیف قرار دیا کیونکہ انہوں نے اس کو درات سے مشتق کیا ہے جس کا مطلب ہے دور کرنا یعنی ستاری ایک افق سے دوسرے افق کی طرف چلتا ہے۔ جب یہ تاویل ہو تو کلام میں کوئی فائدہ نہیں رہتا اور اس ستارے کی بہت سے ستاروں پر کوئی فضیلت نہیں رہتی۔ کیا آپ نے ملاحطہ نہیں کیا کہ یہ نہیں کہا جاتا جاءنی انسان من بنی آدم۔ ابو عمرو اور کسائی جیسے علماء کو ایسی دور از فکر تاویل نہیں کرنی چاہیے تھی۔ لیکن ان کی تاویل اس کے مطابق ہے جو محمد بن یزید سے مروی ہے کہ ان کا معنی یہ کہ ستارا نور کو دور کرتا ہے۔ جیسے کہا جاتا ہے : اندرء الحریق یعنی اندفع آگ سے دور رہ۔ یہ تاویل میں قراٗ ت کے لیے صحیح ہے۔ سعید بن مسعدہ نے حکایت کیا ہے کہا جاتا ہے درء الکوکب بضوء ہ جب اس کی روشنی لمبی اور بلند ہو۔ جوہری نے الصحاح میں فرمایا : درء علینا فلان یدرء دروء یعنی اچانک طلوع ہوا۔ اسی سے کو کب دری بروزن فعیل ہے جیسے سکیر اور حمیر۔ اس کے زیادہ روشن ہونے اور چمکنے کی وجہ سے ہے۔ قد در الکوکب دروئ۔ ابوعمر بن علاء نے کہا : میں نے سعد بن بکر کے ایک شخص سے پوچھا جو ذات عرق سے تھا میں نے کہا : اس بڑے ستارے کو تم کیا کہتے ہو۔ فرمایا : الدری۔ وہ لوگوں میں سے بلیغ تھا۔ نحاس نے کہا : حمزہ کی قراٗ ت اہل لغت کے قول کے مطابق غلط ہے بالکل جائز نہیں ہے کہ عرب کلام میں کوئی اسم فعیل کے وزن پر نہیں ہے۔ ابوعبید نے اس پر اعتراض کیا اور حمزہ کی طرف سے حجت پیش کی کہ یہ فعیل کا وزن نہیں بلکہ یہ فعول کے وزن پر ہے جیسے سبوح واو سے یاء کو بدلا گیا ہے جیسے کہتے ہیں عتی۔ ابو جعفر نحاس نے کہا : یہ اعتراض اور احتجاج بہت بڑی غلطی ہے۔ یہ بالکل جائز نہیں ہے اگر وہ جائز ہوتا جو انہوں نے کہا ہے تو سبوح میں سبیح کہا جاتا۔ یہ کسی نے بھی نہیں کہا ہے۔ عتی اس سے نہیں ہے ان کے درمیان فرق واضح ہے کیونکہ عتی دو جہتوں سے خالی نہیں ہے ہوسکتا ہے کہ یہ عات کی جمع ہو۔ اس میں بدل لازم ہوگا کیونکہ جمع تغییر کے باب سے ہے اور واو اسماء میں طرف کلمہ میں نہیں ہوتی جبکہ اس سے پہلے ضمہ ہو۔ جب اس سے پہلے ساکن تھا اور ساکن سے پہلے ضمہ تھا اور ساکن مضبوط آڑ نہیں ہے تو ضمہ کو کسرہ سے تبدیل کیا گیا اور واوکو یاء سے بدلا گیا۔ اور اگر عتی واحد ہو تو واو کے ساتھ اولی ہے اور اس کا قلب جائز ہے کیونکہ طرف کلمہ میں ہے۔ اور فعول میں واو طرف کلمہ میں نہیں پس اس کا قلب جائز نہیں۔ جوہری اور ابوعبید نے کہا : اگر تو دال کو ضمہ دے اور تو کہے دری تو یہ الدر کی طرف منسوب ہوگا فعلی کے وزن پر ہوگا اور مہموز نہ ہوگا کیونکہ عرب کلام میں فعیل نہیں ہے۔ قراء میں سے جنہوں نے اس کو ہمزہ دیا ہے انہوں نے فعول کا ارادہ کیا ہے جیسے سبوح ہے پھر کثرت سے ضموں کی وجہ سے ثقل پیدا ہوگیا تو بعض کو کسرہ کی طرف لوٹا دیا۔ اخفش نے بعض سے حکایت کیا ہے دری یہ راءۃ سے مشتق ہے اس کو ہمزہ دیا ہے اور اسے فعیل کے وزن پر پہلے حرف کو فتحہ دیا ہے۔ فرمایا : یہ اس کی چمک کی وجہ سے ہے۔ ثعلبی نے کہا : سعید بن مسیب اور ابورجاء نے دری دال کے فتحہ کے ساتھ مہموز پڑھا ہے۔ ابو حاتم نے کہا : یہ خطا ہے کیونکہ کلام میں فعیل بھی نہیں ہے اگر ان سے یہ صحیح ہو تو وہ دونوں حضت ہیں۔ یوقد، شیبہ، نافع، ایوب، سلام ابن عامر اہل شام اور حفص نے یوقد یاء مضمومہ کے ساتھ، قاف کی تخفیف اور دال کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ حسن، سلمی، ابوجعفر، ابو عمرو بن علاء بصری نے توقد تمام حروف مفتوحہ کے ساتھ اور قاف کی شد کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابو حاتم اور ابو عبید نے اس کو اختیار کیا ہے۔ نحاس نے کہا : یہ دونوں قراءتیں قریب قریب ہیں کیونکہ دونوں مصباح کے لیے ہیں۔ یہ وصف کے مناسب ہیں کیونکہ وہ روشن کرتا ہے اور روشن ہوتا ہے۔ الزجاجۃ اس کے لیے برتن ہے اور توقد ماضی توقد، یتوقد سے ہے۔ اور یوقد فعل مضارع اوقد، یوقد سے ہے۔ نصر بن عاصم نے توقد پڑھا ہے اس کی قراٗت پر اصل تتوقد سے ایک تاء کو حذف کیا گیا کیونکہ دوسری اس پر دلالت کرتی ہے کو فیوں نے توقد تاء کے ساتھ پڑھا ہے الزجاجۃ کی طرف ضمیر لوٹائی ہے یہ دونوں قراءتیں الزجاجۃ کی تانیث کی بنا پر ہیں۔ من شجرۃ مبارکۃ زیتونۃ لا شرقیۃ ولا غربیۃ اس پر کلام گزر چکی ہے۔ یکاد زیتھا یضیء ولولم تمسسہ نار نور علی نور مونث فعل نار کی تانیث کی وجہ سے ہے۔ ابو عبید نے کہا : صرف یہی قراءت معروف ہے۔ ابو حاتم نے حکایت کیا ہے کہ سدی نے ابو مالک سے انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے لم یمسسہ نار یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ محمد بن یزید نے کہا : تزکیر اس بنا پر ہے کہ یہ مونث غیر حقیقی ہے ان کے نزدیک مونث کے استعمال کا یہی طریقہ ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ نے کہا : المشکاۃ سے مراد حضرت محمد ﷺ کا جوف (پیٹ) اور الزجاجۃ سے مراد قلب محمد ﷺ ہے اور المصباح سے مراد وہی نور ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کے دل میں رکھا ہے۔ وہ روشن کیا جاتا ہے شجرۃ مبارکۃ سے یعنی آپ سلی اللہ علیہ وسلم کی اصل ابراہیم سے ہے وہ آپ کا شجرۃ (درخت) ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کے قلب اطہر میں نور رکھا جس طرح حضرت ابراہیم کے قلب میں نور رکھا۔ محمد بن کعب نے کہا : المشکاۃ سے مراد حضرت ابراہیم ہیں۔ الزجاجۃ سے مراد حضرت اسماعیل ہیں اور المصباح سے مراد حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کا نام مصباح رکھا جیسا کہ آپ کا نام سراج رکھا۔ فرمایا وداعیا الی اللہ باذنہ وسراجا منیرا (الاحزاب) یوقد من شجرۃ مبارکۃ شجرہ مبارکہ سے مراد حضرت آدم ہیں ان کی نسل میں برکت ڈالی گئی اور آپ سے انبیاء و اولیاء کثرت سے ہوئے۔ بعض علماء نے فرمایا : شجرہ مبارکہ سے مراد حضرت ابراہیم ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو مبارک فرمایا کیونکہ اکثر انبیاء کرام آپ کی صلب سے تھے لا شرقیۃ ولا غربیۃ یعنی ابراہیم نہ یہودی تھے یہ نصاری مشرق کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے تھے۔ یکاد زیتھا یضیء حضرت محمد ﷺ کے محاسن لوگوں کے لیے وحی الٰہی آنے سے پہلے بھی روشن تھے۔ نور علی نور نبی کی نسل سے نبی۔ ضحاک نے کہا : مشکاۃ سے مراد عبدالمطلب ہیں۔ الزجاجۃ سے مراد حضرت عبداللہ ہیں اور المصباح سے مراد حضرت محمد ﷺ پس حضرت محمد ﷺ ان دونوں کے دل میں تھے آپ حضرت ابراہیم سے نبوت کے وارث بنے۔ من شجرۃ تقوی رضوان کا درخت اور ہدایت و ایمان ایک درخت ہے جس کی اصل نبوت ہے اور اس کی فرع مروت ہے، اس کی ٹہنیاں تنزیل ہیں اور اس کے پتے تاویل ہیں اور اس کے خدمت گذار جبریل و میکائیل ہیں۔ قاضی ابوبکر ابن عربی نے کہا غریب امر یہ ہے کہ بعض فقہاء نے کہا یہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم، حضرت محمد ﷺ ، حضرت عبدالمطلب اور ان کے بیٹے حضرت عبداللہ کی مثال دی ہے۔ المشکاۃ سے مراد حبشہ کی زبان میں طاق ہے عبدالمطلب کو مشکاۃ سے تشبیہ دی گئی جس میں قندیل ہے اور الزجاجۃ ہے اور حضرت عبداللہ کو قندیل سے تشبیہ دی گئی اور وہ الزجاجۃ ہے اور حضرت محمد ﷺ مصباح کی مانند تھے یعنی ان کی اصلاب میں ویا وہ روشن ستارہ ہے اور وہ مشتری ہے۔ یوقد من شجرۃ مبارکۃ یعنی نبوت کی میراث حضرت ابراہیم سے ہے وہ مبارک درخت ہیں، یعنی حنیفیۃ لا شرقیۃ ولا غربیۃ لا یہودیۃ ولا نصرانیۃ۔ یکاد زیتہا یضیء ولولم تمسسہ نار فرمایا : قریب تھا حضرت ابراہیم وحی کے ساتھ کلام کرتے وحی آنے سے پہلے، نور علی نور حضرت ابراہیم پھر حضرت محمد ﷺ ۔ قاضی نے کہا : یہ تمام ظاہر سے عدول ہے اور تمثیل میں ممتنع نہیں ہوتا کہ آدمی اس میں وسعت دے۔ میں کہتا ہوں : سوائے پہلے قول کے تمام اقوال کا آیت سے ربط نہیں ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نور کی مثال دی ہے اور اللہ تعالیٰ کے نور کی مثال دینا ممکن بھی نہیں ہے یہ مخلوق کو تنبیہ کرنے کے لیے تھا مگر بعض مخلوق کے ساتھ کیونکہ مخلوق اپنے قصور کی وجہ سے کسی بات کو نہیں سمجھتی مگر اپنی ذات کے ذریعے اور اپنی ذات سے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ کو کوئی بھی نہ پہچانتا مگر اللہ وحدہ یہ ابن عربی کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یہ اللہ تعالیٰ کے نور اور ہدایت کی مثال ہے جو بندہ مومن دل میں ہوتی ہے قریب ہے بندہ مومن ہدایت کے مطابق عمل کرے علم آنے سے پہلے، جب معرفت آنے سے پہلے حضرت ابراہیم نے کہا : ھذا ربی (الانعام :77) یہ آپ نے کسی کے خبر دینے سے پہلے کہا تھا کہ اب کوئی رب ہے جب اللہ تعالیٰ نے انہیں خبر دی کہ وہ اس کا رب ہے تو ہدایت میں اضافہ ہوگیا اور فرمایا : قال لہ ربہ اسلم قال اسلمت لرب العلمین (البقرہ) اور جنہوں نے کہا : یہ بندہ مومن کے دل میں قرآن کی مثال ہے۔ فرمایا : جس طرح یہ چراگ روشن کیا جاتا ہے اور وہ کم نہیں ہوتا اسی طرح قرآن سے ہدایت حاصل کی جاتی ہے اور کم نہیں ہوتا المصباح سے مراد قرآن ہے۔ الزجاجۃ سے مراد مومن کا دل ہے اور المشکاۃ سے مراد اس کی زبان اور اس کا فہم ہے۔ شجرہ مبارکہ سے مراد شجرۃ الوحی ہے۔ یکاد زیھا یضیء ولولم تمسسہ نار قریب ہے کہ قرآن کے دلائل واضح ہوجائیں اگرچہ نہ بھی پڑھے جائیں۔ نور علی نور یعنی قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے مخلوق کے لیے نور ہے باوجود اس کے کہ نزول قرآن سے پہلے اعلام و دلائل ان کے لیے قائم فرما دئیے تھے پس ان کے مزید اضافہ ہوگیا پھر بتایا کہ یہ نور عزیز ہے اسے کوئی حاصل نہیں کرسکتا مگر جس کی ہدایت کا اللہ تعالیٰ ارادہ فرمائے۔ فرمایا : یہدی اللہ لنورہ من یشائ، ویضرب اللہ الامثال للناس۔ یعنی اللہ تعالیٰ اشیاء کو افہام کے قریب کرنے کے لیے بیان فرماتا ہے۔ واللہ بکل شیء علیم وہ ہدایت یافتہ اور گمراہ سب کو جانتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یہود نے کہا : اے محمد ﷺ اللہ کا نور آسمان کے نیچے کیسے پایا جاتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نور کی مثال دی۔
Ayah 24:36

فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَ یُذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ١ۙ یُسَبِّحُ لَهٗ فِیْهَا بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِۙ Open ayah 24:36 in the Quran reader

(وہ قندیل) ان گھروں میں (ہے) جن کے بارے میں خدا نے ارشاد فرمایا ہے کہ بلند کیے جائیں اور وہاں خدا کے نام کا ذکر کیا جائے (اور) ان میں صبح و شام اسکی تسبیح کرتے رہیں

مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے فی بیوت اذن اللہ ترفع، بیوت کی باء کو ضمہ اور کسرہ دیا جاتا ہے۔ یہ پہلے گزر چکا ہے اور فی کے بارے میں اختلاف ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ مصباح کے متعلق ہے۔ بعض نے کہا : یسبح کے متعلق ہے۔ اس تاویل پر علیم پر وقف ہوگا۔ ابن انباری نے کہا : میں نے ابو العباس کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ یہ مصباح، الزجاجۃ اور الکوکب سے حال ہے گویا فرمایا : وھی بیوت۔ ترمذی حکیم محمد بن علی نے کہا : فی بیوت منفصل ہے۔ گویا فرمایا : اللہ فی بیوت أذن اللہ ترفع، اللہ ان گھروں میں ہے اللہ نے حکم دیا ہے کہ انہیں بلند کیا جائے۔ اسی وجہ سے اخبار وارد ہیں کہ جو مسجد میں بیٹھا تو وہ اپنے رب سے مجلس ہوا۔ اسی طرح تورات سے حکایت کیا گیا ہے کہ مومن جب مسجد کی طرف چلتا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندے نے میری زیارت کی اور مجھ پر اس کی مہمان نوازی ہے اور میں جنت سے کم مہمان نوازی پر اس کے لیے راضی نہ ہوں گا۔ ابن انباری نے کہا اگر فی کو یسبح کے متعلق کیا جائے یا رجال کو رفع دینے والی ہو تو واللہ بکل شیء علیم کے قول پر وقف بہتر ہے۔ رمانی نے کہا : یہ یوقد کے متعلق ہے اور اس بناء پر علیم پر وقف نہ ہوگا اگر یہ کہا جائے کہ کیا وجہ ہے جب بیوت، یوقد کے متعلق ہوں مصباح اور مشکاۃ واحد ہیں اور بیوت جمع ہے اور ایک مشکاۃ ہی ایک گھر میں ہوگا۔ بعض علماء نے کہا : یہ اس متلون خطاب سے ہے جس کا واحد سے آغاز ہے اور جمع ساتھ اختتام ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یا ایھا النبی اذا طلقتم النسآء (الطلاق :1) اور اس قسم کی دوسری مثالیں۔ بعض علماء نے کہا : یہ بیوت میں سے ہر بیت کی طرف راجع ہے۔ بعض نے کہا : یہ اس قول کی مانند ہے وجعل القمر فیھن نورا (نوح :16) حالانکہ چاند ایک آسمان میں ہے۔ علماء کے یہاں بیوت کے ملتعلق پانچ اقوال ہیں : پہلا قول : اس سے مراد مساجد ہیں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے ساتھ خاص ہیں اور یہ اہل آسمان کے لیے اس طرح چمکتی ہیں جس طرح ستارے اہل زمین کے لیے چمکتے ہیں، یہ حضرت ابن عباس ؓ مجاہد اور حسن کا قول ہے۔ دوسرا قول : یہ بیت المقدس کے بیوت ہیں، یہ بھی حسن سے مروی ہے۔ تیسرا قول نبی کریم ﷺ کے بیوت مراد ہیں، یہ بھی مجاہد سے مروی ہے۔ چوتھا قول : یہ تمام بیوت ہیں : یہ عکرمہ کا قول ہے اور یسبح لہ فیھا بالغدوّوالاصال اس قول کو تقویت دیتا ہے کہ اس سے مراد مساجد ہیں۔ پانچواں قول اس سے مراد وہ چار مساجد ہیں جنہیں انبیاء نے تعمیر کیا ہے کعبہ، بیت اریحا، مسجد نبوی، مسجد قبا، یہ ابن بریدہ کا قول ہے، یہ پہلے سورة براءت میں گزر چکا ہے۔ میں کہتا ہوں : اظہر قول پہلا قول ہے کیونکہ حضرت انس نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا ہے فرمایا : ” جو اللہ تعالیٰ سے محبت کرتا ہے وہ مجھ سے محبت کرے اور جو مجھ سے محبت کرتا ہے وہ میرے اصحاب سے محبت کرے اور جو میرے اصحاب سے محبت کرتا ہے وہ قرآن سے محبت کرے جو قرآن سے محبت کرتا ہے وہ مساجد سے محبت کرے یہ اللہ تعالیٰ کے فناء اور بناء ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو بلند کرنے کا حکم دیا ہے اور ان میں برکت رکھی ہے اور ان کے اہل کی برکت محفوظ ہے ان کے اہل محفوظ ہیں وہ اپنی نماز میں ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ وہ اپنی مساجد میں ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کے پیچھے ان کی حفاظت فرماتا ہے “۔ مسئلہ نمبر 2: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اذن اللہ ان ترفع اذن کا معنی حکم دینا اور فیصلہ کرنا ہے اذن کی حقیقت علم اور قدرت دینا ہے بغیر کسی رکاوٹ کے اگر اس کے ساتھ امر اور نفاذ متصل ہو تو یہ اقویٰ ہوتا ہے۔ ترفع کا معنی ہے بنائے گئے اور بلند کئے گئے، یہ مجاہد اور عکرمہ کا قول ہے اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذ یرفع ابرھم القواعد من البیت (البقرہ :127) ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” جس نے اپنے مال سے مسجد بنائی اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا “ (1) ۔ اس معنی میں بہت سی احادیث ہیں جو مساجد کے بنانے پر برانگیختہ کرتی ہیں حسن بصری وغیرہ نے کہا : ترفع کا معنی یہ ہے ان کی تعظیم کرنا اور ان کی شان بلند کرنا، غلاظتوں اور انجاس سے پاک کرنا۔ حدیث میں ہے ” مسجد نجاست کی وجہ سے اسطرح سمٹ جاتی ہے جس طرح چمڑا آگ کی وجہ سے سکڑ جاتا ہے “۔ ابن ماجہ نے اپنی سنن میں حضرت ابو سعید خدری سے روایت کیا ہے فرمایا : ” رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے مسجد سے کسی غلاظت اور آلودگی کو دور کیا اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا “۔ حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے فرمایا : ہمیں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ہم گھروں میں مساجد بنائیں اور انہیں صاف ستھرا رکھیں اور خوشبو لگائیں۔ (2) ۔ مسئلہ نمبر 3: جب ہم کہتے ہیں کہ مساجد کی بنیان سے مراد کیا انہیں مزین کرنا ہے ؟ تو اس میں اختلاف ہے۔ ایک قوم نے اس کو مکروہ کہا ہے اور دوسروں نے اس کو مباح قرار دیا ہے۔ حماد بن سلمہ نے ایوب سے انہوں نے ابو قلابہ سے انہوں نے حضرت انس سے روایت کیا اور قتادہ نے بھی حضرت انس سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” قیامت قائم نہ ہوگی حتی کی لوگ مساجد کے سبب فخر کریں گے “ (1) اس حدیث کو ابو دائود نے نقل کیا ہے اور صحیح بخاری میں ہے حضرت انس نے فرمایا : مساجد پر فخر کریں گے پھر انہیں آباد بہت کم کریں گے “ (2) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : تم انہیں مزین کرو گے جیسے یہود و نصاریٰ نے اپنی عبادت گاہیں مزین کی تھیں۔ اور حکیم ابو عبد اللہ ترمذی نے نوادرالاصول میں حضرت ابو درداء کی حدیث روایت کی ہے فرمایا : نبی پاک ﷺ نے فرمایا : جب تم اپنی مساجد کو مزین کرو گے اور تم اپنے مصاحف کو زیور پہنائو گے تو تم پر ہلاکت ہوگئی “۔ اور جن علماء نے مساجد کی تزیین اور خوبصورتی کو مباح قرار دیا ہے انہوں نے اس سے حجت پکڑی ہے کہ اسمیں مساجد کی تعظیم ہے اور اللہ تعالیٰ نے مساجد کی تعظیم کا اس ارشاد : فی بیوت اذن اللہ ان ترفع میں حکم دیا ہے ترفع کا معنی تعظیم کرنا ہے۔ حضرت عثمان سے مروی ہے کہ انہوں نے مسجد نبوی کی تعمیر دیار کی لکڑی سے کی اور اسے خوبصورت بنایا۔ امام ابوحنیفہ نے فرمایا : مساد میں سونے کے پانی سے نقش و نکار بنائے جائیں تو کو حرج نہیں۔ حضرت عمر بن عبد العزیز سے مروی ہے کہ انہوں نے مسجد نبوی میں نقش و نگار بنوائے اور اس کی عمارت اور تریین میں مبالغہ کیا یہ ان کی خلافت سے پہلے ولایت کے زمانہ میں ہوا تھا اور کسی نے انکار نہیں کیا تھا۔ ذکر کیا جاتا ہے ولید بن عبد الملک نے دمشق کی مسجد کی تعمیر میں اور تزیین میں شام کے خراج سے تین گنا مال خرچ کیا اور روایت ہے کہ حضرت سلمان بن داود (علیہ السلام) نے بیت المقدس کی مسجد بنائی اور اس کی تزیین میں مبالغہ کیا۔ مسئلہ نمبر 4 ۔ مساجد کو بدبودار چیزوں اور برے اعمال وگیرہ سے بھی بچانا اور محفوظ رکھنا چاہیے جیسا کہ ہم بیان کریں گے۔ یہ بھی مساجد کی تعظیم سے ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث سے صحیح مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ تبوک کے موقع پر فرمایا : جس نے اس درخت یعنی اس سے کھایا وہ مساجد میں نہ آئے۔ اور حضرت جابر بن عبداللہ سے نبی کریم ﷺ نے فرمایا : جس نے اس سبزی لہسن سے کھایا اور کبھی فرمایا : جس نے پیاز، تھوم اور بدبودار سبزی سے کھایا ہماری مسجد کے قریب نہ آئے ملائکہ کو ان چزء وں سے تکلیف محسوس ہوتی ہے جن سے بنو آدم کو تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ حضرت عمر بن خطاب نے اپنے خطبہ میں فرمایا : اے لوگوں ! تم دو درخت کھاتے ہو میں انہیں نہیں دیکھتا مگر خبیث وہ پیاز اور تھوم ہے میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا جب آپ مسجد میں کسی شخص سے پیاز اور تھوم کی بدبو محسوس کرتے تو اسے حکم دیتے کہ تو بقیع کی طرف نکل جا۔ اور جو ان کو کھائے تو پکا کر ان کی بدبو کو ختم کردے۔ اس کو مسلم نے اپنی صحیح میں نقل کیا ہے۔ علماء نے فرمایا : مسجد سے اس کو نکالنے کی علت اس کی اذیت تھی تو قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ جس سے مسجد میں اس کے پڑوسیوں کو تکلیف ہو مثلا کوئی چرب زبان ہو، نادان ہو یا اس سے بدبو آتی ہو اور اس کے برے پیشے کی وجہ سے بدبو اس سے جدا نہ ہوتی ہو یا کوئی ایسی موذی مرض ہو جیسے جذاب وگیرہ اور ہر وہ چیز جس سے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہو تو اہل مسجد کو اس شخص کو مسجد سے نکالنا جائز ہے جب اس میں یہ علت موجود ہو حتی کہ اس سے وہ علت زائل ہوجائے اسی طرح ایسا شخص لوگوں کے مجمع سے پرہیز کرے جو نماز وگیرہ کے لیے ہو جیسے علم، ولیمہ اور اس جیسی دوسری مجالس جو تھوم وگیرہ کھاتا ہے یا ایسی چیز کھاتا ہے جس کی بدبو ہوتی ہے اور لوگوں کو ازیت دیتی ہے، اسی وجہ سے پیاز تھوم اور الکراث (بدبودار سبزی) کو جمع فرمایا اور بتایا کہ یہ ایسی چیزیں ہیں جو اذیت کا باعث ہوتی ہیں۔ ابوعمر بن عبدالبر نے کہا : میں نے اپنے شیخ ابو عمر احمد بن عبدالملک بن ہشام کو دیکھا کہ انہوں نے اس شخص کے بارے فتوی دیا جس کے پڑوسیوں نے اس کی شکایت کی اور انہوں نے اس پر اتفاق کیا کہ وہ انہیں مسجد میں اپنی زبان اور اپنے ہاتھ سے اذیت دیتا ہے اس کے بارے میں مشورہ کیا گیا تو انہوں نے اسے مسجد سے نکالنے کا فتوی دیا اور مسجد سے دور کرنے کا فتوی دیا اور جس کے پڑوسیوں نے اس کی شکایت کی اور انہوں نے اس مسجد سے نکالنے کا فتوی دیا اور مسجد سے دور کرنے کا فتوی دیا اور ان کے ساتھ نماز میں حاضر نہ ہونے کا فتوی دیا۔ کیونکہ اس جنون کے ہوتے ہوئے اس سے سلامتی کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ میں نے ایک دن شیخ صاحب سے اس فتوی کی دلیل پوچھی اور ان سے دوبارہ پوچھا تو انہوں نے حدیث سے ثوم (لہسن) سے استدلال کیا اور فرمایا : میرے نزدیک یہ لہسن کھانے والے سے زیادہ اذیت کا موجب ہے اور ایسے شخص کو مسجد میں جماعت کے ساتھ حاضر ہونے سے منع کیا جائے گا۔ میں کہتا ہوں : آثار مرسلہ میں ہے کہ ایک شخص جھوٹ بولتا ہے تو فرشتہ اس کی بدبو سے بہت دور چلا جاتا ہے۔ اس بنا پر جو جھوٹ بولتا ہو اور باطل کلام کرتا ہو اسے مسجد سے نکالا جائے گا کیونکہ اذیت دیتا ہے۔ مسئلہ نمبر 5 ۔ اکثر علماء کی رائے یہ ہے کہ تمام مساجد برابر ہیں اس کی وجہ حدیث حضرت ابن عمر ؓ ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ رسول اللہ ﷺ کی مسجد کی بارے میں وارد ہوئی ہے کیونکہ اس میں جبریل امین آتے تھے نیز حضرت جابر کی حدیث میں ہے : فلا یقربن مسجدنا۔ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے۔ پہلا قول اصح ہے کیونکہ حکم میں صفت ذکر کی اور وہ مسجد ہونا ہے حکم میں صفت کا ذکر تعلیل ہوتا ہے۔ ثعلبی نے اپنی سند کے ساتھ حضرت انس سے روایت کیا ہے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے روز اللہ تعالیٰ دنیا کی مساجد لائے گا گویا وہ سفید اونٹنیاں ہیں ان کی ٹانگیں عنبر کی، گردنیں زعفران کی، سر کستوری کے ان کی مہاریں سبز زبرجد کی۔ ان کے مؤذن ان کے نگران ہوں گے جو ان کو آگے سے پکڑ کر چلا رہے ہوں گے اور ان کے ائمۃ انہیں پیچھے سے ہانک رہے ہوں گے اور ان کو آباد کرنے والے ان کے ساتھ متعلق ہوں گے وہ قیامت کے عرصات سے تیز بجلی کی طرح گزریں گی اہل موقف کہیں گے : یہ ملائکہ مقربین ہیں اور مرسل انبیاء ہیں۔ ارشاد ہوگا : نہ یہ فرشتے ہیں اور نہ یہ انبیاء ہیں لیکن یہ اہل مسجد ہیں اور نمازوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ محمد ﷺ کی امت سے ہیں۔ قرآن حکیم میں ہے : انما یعمر مساجد اللہ من آمن باللہ (التوبہ :18) ۔ اللہ کی مساجد کو وہ تعمیر کرتا ہے جو اللہ پر ایمان لایا۔ یہ ہر مسجد کو عام ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا : جب تم کسی شخص کو مسجد میں آنے جانے کا عادی دیکھو۔ تو اس کے لیے ایمان کی گواہی دو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ انما یعمر مساجد اللہ من امن باللہ والیوم الاخر۔ یہ پہلے گذر چکا ہے۔ مسئلہ نمبر 6 ۔ مسجد کو بیع و شرا اور دوسری مشغولیتوں سے بچایا جائے گا کیونکہ نبی مکرم ﷺ نے اس شخص کو فرمایا جو اپنے سرخ اونٹ کے بارے میں پوچھ رہا تھا تو اسے کبھی نہ پائے۔ مساجد اس کام کے لیے بنائی گئی ہیں جس کے لیے بنائی گئی ہیں۔ یعنی اللہ کے ذکر کے لیے، اس حدیث کو امام مسلم نے سلیمان بن بریدہ عن ابیہ کے سلسلہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے نماز پڑھائی تو ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا کس نے میرا سرخ اونٹ پایا ہے ؟ نبی کریم سلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو اسے کبھی نہ پائے مساجد اس کے لیے بنائی گئی ہیں جس کے لیے بنائی گئی ہیں۔ یہ دلیل ہے کہ نماز، اذکار، قراءت قرآن کے علاوہ مسجد میں کوئی عمل نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح تفسیر سے حضرت انس کی حدیث میں آیا ہے فرمایا : ہم مسجد میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے اچانک ایک اعرابی آیا اور مسجد میں پیشاب کرنے لگا صحابہ کرام نے کہا : رک جا، رک جا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمای : اس کے پیشاب کو نہ روکو اسے چھوڑ دو ۔ صحابہ کرام نے اسے چھوڑ دیا۔ حتی کہ اس نے پیشاب کرلیا پھر رسول اللہ ﷺ نے اسے بلایا اور رمایا : یہ مساجد پیشاب اور غلاظت کے لے ش نہیں ہیں۔ یہ اللہ کے ذکر، نماز اور قرآن کی تلاوت کے لیے بنائی گئی ہیں۔ یا جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ فرمایا۔ پھر ایک شخص کو حکم دیا تو وہ پانی کا ایک ڈول لے آیا وہ اس پیشاب کی جگہ پر انڈیل دیا۔ اس کو امام مسلم نے تخریج کیا ہے اور کتاب اللہ سے اس پر یہ قول حق دلالت کرتا ہے : ویذکر فیہا السمہ اور آپ ﷺ نے معاویہ بن حکم سلمی کو فرمایا : یہ مساجد لوگوں کے کلام جیسی چیز کے مناسب نہیں یہ تسبیح تکبیر اور قرآن کی قراءت کے لیے بنائی گئی ہیں۔
Ayah 24:37

رِجَالٌ١ۙ لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءِ الزَّكٰوةِ١۪ۙ یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْهِ الْقُلُوْبُ وَ الْاَبْصَارُۗۙ Open ayah 24:37 in the Quran reader

(یعنی ایسے) لوگ جن کو خدا کے ذکر اور نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے سے نہ سوداگری غافل کرتی ہے نہ خریدو فروخت۔ وہ اس دن سے جب دل (خوف اور گھبراہٹ کے سبب) الٹ جائیں گے اور آنکھیں (اوپر کو چڑھ جائیں گی) ڈرتے ہیں

رِجَالٌ (ایسے مرد) یہ یسبح کا فاعل ہے۔ شامی، ابوبکر نے یُسَبَّحُ پڑھا ہے، اور اس کا اسناد تینوں ظروف میں سے کسی ایک کی طرف کیا جاتا ہے میری مراد لہؔ، فیھاؔ بالغدو ہے اور رجال مرفوع ہے۔ اس بناء پر جس پر یسبحؔ دلالت کرتا ہے ای یسبح لہ۔ لَّا تُلْھِیْھِمْ (ان کو غافل نہیں کرتی) تِجَارَہٌ (کوئی تجارت) حالت سفر میں۔ وَّ لَا بَیْعٌ (اور خریدو فروخت) گھر موجودگی میں۔ ایک قول التجارۃ اسم جنس ہے مطلقًا خرید نامراد ہے خواہ کسی نوع کا ہو۔ ایک اور قول بیع کو تجارت کے بعد خاص طور پر ذکر کیا حالانکہ تجارت میں یہ شامل ہے کیونکہ بیع شراء کی نسبت غفلت میں زیادہ مبتلا کرنیوالی ہے۔ اس لئے کہ نفع بخش بیع میں نفع یقینی ہے اور شراء تو گمان نفع کا ہے۔ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کی یاد سے) خواہ دل کے ساتھ ہو خواہ زبان سے وَ اِقَامِ الصَّلٰوۃِ (اور نماز کے قائم کرنے سے) نماز کی اقامت سے۔ اقامۃؔ میں تاءؔ اس الف کے عوض میں ہے جو تعلیل کی وجہ سے ساقط ہوئی ہے یہ اصل میں اقواما تھا۔ جب وائو کو الف سے بدلا تو دو الف جمع ہوئے ایک التقائے ساکنین کی وجہ سے گرا دیا پس اقامًا باقی رہا محذوف کے بدلے تاءؔ کو لائے۔ جب مضاف کیا تو اضافت کو قائم مقام تاء ؔ کے لائے اور تاؔء کو ساقط کردیا۔ وَاِیْتَآ ئِ الزَّکٰوۃِ (زکوٰۃ کی ادائیگی سے) ای عن ایتاء الزکاۃ مطلب یہ ہے کہ ان کے پاس کوئی تجارت نہیں کہ جو ان کو غافل کر دے جیسا اولیائے عزلت۔ نمبر 2۔ خریدو فروخت کے دوران بھی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے والے ہیں اور جب نماز کا وقت آجائے تو بوجھ محسوس کرنے کے بغیر فوراً کھڑے ہوجاتے ہیں جیسا کہ اولیائے عشرت ہیں۔ یَخَافُوْنَ یَوْمًا (وہ ایسے دن سے ڈرتے ہیں) یعنی قیامت کا دن۔ یہ تلھیھم کی ضمیر سے حال ہے یا نمبر 2۔ رجالٌ کی صفت ثانی ہے۔ تَتَقلَّبُ فِیْہِ الْقُلُوْبُ (جس میں بہت سے دل اور آنکھیں پلٹ جائیں گی) اس وجہ سے کہ دل حلق کو پہنچ جائیں گے۔ وَالْاَبْصَارُ (اور آنکھیں) پتھرانے کی وجہ سے یا نیلگوئی کے سبب نمبر 2۔ دل ایمان کی طرف پلٹ آئیں گے حالانکہ وہ پہلے کفر کرتے تھے۔ اور آنکھیں کھلے طور پر معائنہ کریں گی اس کے باوجود کہ وہ پہلے سرکشی کی وجہ سے انکاری ہونگی جیسا کہ دوسرے ارشاد میں ہے فکشفنا عنک غطائک فبصرک الیوم حدید۔ (ق : 22 )
Ayah 24:38

لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 24:38 in the Quran reader

تاکہ خدا ان کو ان کے عملوں کا بہت اچھا بدلہ دے اور اپنے فضل سے زیادہ بھی عطا کرے اور جس کو چاہتا ہے خدا بیشمار رزق دیتا ہے

لِیَجْزِیَھُمُ اللّٰہُ اَحْسَنَ مَاعَمِلُوْا وَیزَیْدَ ھُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ (تاکہ اللہ تعالیٰ ان کا بہترین بدلہ عنایت کرے اور اپنے فضل سے اس سے زائد بھی عنایت فرمائے) یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے اور ڈرتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اعمال کا بہترین بدلہ عنایت فرمائے یعنی تاکہ ان کو دوگنا ثواب سے بدلہ دے۔ ویزیدھم (اور اس میں اضافہ فرمائے) عمل پر مقررہ ثواب پر بطور فضل اضافہ فرمائے۔ وَاللّٰہُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآ ئُ بِغَیْرِ حِسَابٍ (اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتے ہیں بغیر حساب رزق دیتے ہیں) یعنی جس کو اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں ایسا ثواب دیتے ہیں جو دیگر مخلوق کے حساب میں داخل نہیں ہوتا یہ تو اللہ تعالیٰ کے نور سے ہدایت یافتہ کی صفات ہیں۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے گمراہی کو وطیرہ بنا لیا انکا تذکرہ اگلی آیت میں فرمایا ہے۔
Ayah 24:39

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۭ بِقِیْعَةٍ یَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَآءً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمْ یَجِدْهُ شَیْئًا وَّ وَجَدَ اللّٰهَ عِنْدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِۙ Open ayah 24:39 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا ان کے اعمال (کی مثال ایسی ہے) جیسے میدان میں ریت کہ پیاسا اسے پانی سمجھے یہاں تک کہ جب اسکے پاس آئے تو اسے کچھ نہ پائے اور خدا ہی کو اپنے پاس دیکھے تو وہ اس کا حساب پورا پورا چکا دے اور خدا جلد حساب کرنے والا ہے

وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْآ اَعْمَالُھُمْ کَسَرَابٍ (اور وہ لوگ جو کافر ہیں ان کے اعمال سراب کی طرح ہیں) سراب دوپہر کے وقت چلچلاتی دھوپ میں چمکتی ہوئی ریت جو پانی کا سیلاب معلوم ہوتا ہے۔ بِقِیْعَۃٍ یہ قاع یا بقاع کی جمع ہے ہموار میدان جیسا کہ جیرۃ وجار۔ یَّحْسَبُہُ الظَّمْاٰنُ (گمان کرتا ہے اس کو پیاسا) مَآ ئً حَتّٰٓی اِذَا جَآ ئَ ہٗ (پانی یہاں تک کہ جب اس کے پاس آتا ہے) یعنی وہ اس کی طرف آیا جس کو اس نے پانی خیال کیا۔ لَمْ یَجِدْہٗ شَیْئًا (اس نے کچھ بھی نہ پایا) جیسا اس نے گمان کیا۔ وَّ وَجَدَاللّٰہَ (اور اس نے اللہ تعالیٰ کو پایا) اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والے بدلے کو پایا جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا یجد اللہ غفورًا رحیمًا (النسائ : 11) یعنی وہ اس کی مغفرت اور رحمت کو پائے گا۔ عِنْدَہٗ (اپنے پاس) ہٗ کا مرجع کا فر ہے ( کافر کے پاس) فَوَفّٰہُ حِسَابَہٗ (پس اس نے پورا پورا دے دیا اس کا حساب) اس کے عمل کا پورا پورا بدلہ دے دیا۔ سوال : والذین کفروا میں جمع لائے اور یہاں ضمائر واحد ذکر کیں ؟ جواب : ہر ہر کافر کا لحاظ کر کے ضمیرواحد لائے۔ وَاللّٰہُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ (اور اللہ جلد حساب لینے والے ہیں) کیونکہ اس کو شمار و حساب کی محتاجی نہیں اور ایک حساب اس کو دوسرے کے حساب سے مشغول نہیں کرسکتا۔ نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ کا حساب قریب ہے کیونکہ ہر آنے والا قریب ہے۔ حاصلِ آیت : اس آیت میں اس شخص کے اعمال کو جو ایمان نہ رکھتا ہو اور نہ اعمال صالحہ میں طریق حق کی پیروی کرتا ہو مگر ان اعمال صالح پہ خوش گمانی رکھتا ہو کہ وہ اسے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کام دیں گے اور اس کے عذاب سے نجات کا باعث ہونگے پھر آخرت میں اس کی امید بھر نہ آئے بلکہ اس کے اندازے کے خلاف واقع ہو۔ سراب سے تشبیہ دی جس کو کافر میدانِ حشر میں دیکھے گا۔ اور قیامت کے دن کی پیاس اس پر چھا چکی ہوگی وہ اس کو پانی سمجھ کر اس کی طرف جائے گا۔ تو وہاں اپنی امید کو بار آور نہ پائے گا بلکہ اللہ تعالیٰ کے فرشتوں کو وہاں پائے گا۔ جو اسے پکڑ کر جہنم کی طرف کھینچ کرلے جائیں گے۔ اور گرم پانی اور غساق پلائیں گے۔ ایسے ہی لوگوں کے متعلق فرمایا گیا عاملۃ ناصبۃ) الغاشیۃ : 3 (دوسری آیت میں وھم یحسبون انہم یحسنون صنعا۔ ] الکہف : 104[ ایک قول : یہ آیت عتبہ بن ربیعہ بن امیہ کے متعلق اتری۔ اس نے زمانہ جاہلیت میں دین حق کی تلاش میں رہبانیت اختیار کرلی تھی جب اسلام آیا تو اس نے انکار کردیا۔
Ayah 24:40

اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ١ؕ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ١ؕ اِذَاۤ اَخْرَجَ یَدَهٗ لَمْ یَكَدْ یَرٰىهَا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ۠ Open ayah 24:40 in the Quran reader

یا (ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے) جیسے دریائے عمیق میں اندھیرے جس پر لہر چلی آتی ہو اور اسکے اوپر اور لہر (آ رہی ہو) اور اس کے اوپر بادل ہو غرض اندھیرے ہی اندھیرے ہوں ایک پر ایک (چھایا ہوا) جب اپنا ہاتھ نکا لے تو کچھ دیکھ نہ سکے اور جس کو خدا روشنی نہ دے اس کو (کہیں بھی) روشنی نہیں (مل سکتی )

اَوْ کَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ (یا ان کے اعمال اندھیروں کی طرح ہیں جو سمندر میں ہوں) یہاں اوؔ کا لفظ اسی طرح ہے جیسا کہ اوکصیب ] البقرہ : 19[ میں ہے۔ لُّجِّیٍ (جو گہرا ہو) بہت زیادہ پانی والا گہرا۔ یہ اللُّج سے اسم منسوب ہے۔ لُجِّ پانی کا وہ حصہ جہاں پانی زیادہ ہو۔ یَّغْشٰہُ (ڈھانپے اس کو) یعنی سمندر کو ڈھانپے یا اس شخص کو ڈھانپے اور اس پر غالب آجائے اور اس پر چھا جائے۔ مَوْجٌ (موج) پانی کی اٹھنے والی لہر۔ مِّنْ فَوْقِہٖ مَوْجٌ (اس موج کے اوپر موج ہو) مِّنْ فَوْقِہٖ سَحَابٌ (اور اس کے اوپر پانی ہو) اوپر والی موج پر بادل ہو۔ ظُلُمٰتٌ0 (اندھیرے) یعنی یہ اندھیرے ہیں۔ نمبر 1۔ بادل کا اندھیرا نمبر 2۔ موج کا اندھیرا نمبر 3۔ سمندر کا اندھیرا۔ بَعْضُہَا فَوْقَ بَعْضٍ (جو ایک دوسرے کے اوپر ہیں) لہر کا اندھیرا سمندر کے اندھیرے پر اور لہر کا اندھیرا دوسری لہر پر اور پھر بادل کا اندھیراموج پر چھایا ہوا ہے۔ اِذَآ اَخْرَجَ یَدَہٗ (جب وہ اپنا ہاتھ نکالتا ہے) وہ شخص جو سمندر میں گرنے والا ہے۔ لَمْ یَکَدْیَرٰھَا (وہ اپنے ہاتھ کو دیکھنے کے قریب بھی نہیں) یہ نہ دیکھنے میں مبالغہ ظاہر کرنے کیلئے فرمایا مطلب یہ ہے کہ وہ دیکھنا تو درکنار دیکھنے کے قریب بھی نہیں۔ فائدہ ان کے اعمال کو اولاً نفع کے حاصل نہ ہونے بلکہ نقصان دہ ہونے کو سراب سے تشبیہ دی۔ اس کو وہ شخص قطعاً کام نہ آئے گا جس نے اس کو دور سے دھوکا دیا اور نہ ہی وہ اس کی رسوائی و ناکامی کیلئے کافی ہوگا۔ اگرچہ دوسرے کو جس طرح سراب سے کوئی فائدہ نہ ہوا اس کو بھی کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ یہاں تک کہ اس نے زبانیہ کو وہاں پالیا جو اس کو کھینچ کر آگ کی طرف لے جائیں گے۔ دوسری مرتبہ اس کے اعمال کو اندھیرے اور سیاہی میں تشبیہ دی۔ کیونکہ وہ اعمال باطل ہیں۔ اور نور حق سے خالی ہونے کو ظلمات سے تشبیہ دی۔ ایسے اندھیرے جوتہ بہ تہ ہوں جیسے موج بحر کا اندھیرا۔ امواج وسحاب کے اندھیرے۔ وَمَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰہُ لَہٗ نُوْرًافَمَالَہٗ مِنْ نُّوْرٍ (اور جس کو اللہ تعالیٰ نے روشنی عنایت نہ فرمائی ہو اس کو روشنی نہیں مل سکتی) جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت نہ دیں وہ ہدایت نہیں پاسکتا۔ قولِ زجاج حدیث میں ہے کہ خلق اللہ الخلق فی ظلمۃ ثم رش علیھم من نورہ فمن اصابہ من ذلک النور اھتدی ومن اخطاہ ضل۔ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو تاریکی میں پیدا کیا۔ پھر اپنا کچھ نور اس پر ڈال دیا پس جس پر اس نور کا کوئی چھینٹاپڑ گیا وہ ہدایت یاب ہوگیا۔ اور جس پر نہ پڑا وہ گمراہ ہوگیا۔
Ayah 24:41

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الطَّیْرُ صٰٓفّٰتٍ١ؕ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِیْحَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 24:41 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں خدا کی تسبیح کرتے ہیں اور پر پھیلائے ہوئے جانور بھی اور اور سب اپنی نماز اور تسبیح کے طریقے سے واقف ہیں اور جو کچھ وہ کرتے ہیں (سب) خدا کو معلوم ہے

اَلَمْ تَرَ (کیا آپ نے نہیں دیکھا) کیا تمہیں معلوم نہیں اے محمد ﷺ ایسا علم جو معائنہ کی طرح یقینی ہو۔ اَنَّ اللّٰہَ یُسَبِّحُ لَہٗ مَنْ فِیْ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالطَّیْرُ صٰٓفّٰتٍ (کہ اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور پرندے بھی اس حال میں کہ وہ اپنے پر پھیلائے ہوتے ہوں) الطیرُ کا عطف منؔ پر ہے۔ اور صافاتؔ یہ الطیرؔ سے حال ہے یعنی اس حال میں کہ وہ ہوا میں اپنے پر پھیلائے ہوں۔ کُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَہٗ وَ تَسْبِیْحَہٗ (ان میں سے ہر ایک اپنی دعا اور تسبیح سے واقف ہے) علمؔ میں ضمیر کلؔ کی طرف راجع ہے۔ یا اللہ کی طرف راجع ہے۔ اسی طرح صلاتہ اور تسبیحہ کی ضمیروں کے دونوں مرجع بن سکتے ہیں۔ الصلاۃؔ بمعنی دعا۔ اس میں کوئی بعید بات نہیں کہ اللہ تعالیٰ پرندوں کو ان کی دعا و تسبیح الہام کرتا ہو جیسا کہ ان کو دیگر دقیق علوم الہام کرتا ہے جن کو عقلاء کی عقل بھی دریافت نہیں کرسکتی۔ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ بِمَا یَفْعَلُوْنَ (اللہ تعالیٰ جو کچھ وہ کرتے ہیں اس کو جاننے والے ہیں) اس کے علم سے کوئی چیز مخفی نہیں۔
Ayah 24:42

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 24:42 in the Quran reader

اور آسمان اور زمین کی بادشاہی خدا ہی کے لئے ہے اور خدا ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

وَلِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (اور اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت ہے آسمان و زمین) کیونکہ وہ ان کا خالق ہے اور کسی چیز پر تملیک یہ مالکیت ہی کا اثر ہے۔ وَاِلَی اللّٰہِ الْمَصِیْرُ (اور اللہ تعالیٰ کی طرف تمام نے لوٹنا ہے۔ )
Ayah 24:43

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُزْجِیْ سَحَابًا ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَهٗ ثُمَّ یَجْعَلُهٗ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ وَ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِیْهَا مِنْۢ بَرَدٍ فَیُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَصْرِفُهٗ عَنْ مَّنْ یَّشَآءُ١ؕ یَكَادُ سَنَا بَرْقِهٖ یَذْهَبُ بِالْاَبْصَارِؕ Open ayah 24:43 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی بادلوں کو چلاتا ہے پھر ان کو آپس میں ملا دیتا ہے اور ان کو تہ بہ تہ کردیتا ہے پھر تم دیکھتے ہو کہ بادل میں سے مینہ نکل (کر برس) رہا ہے اور آسمان میں جو (اولوں کے) پہاڑ ہیں ان سے اولے نازل کرتا ہے تو جس پر چاہتا ہے اسکو برسا دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ہٹا دیتا ہے اور بادل میں جو بجلی ہوتی ہے اسکی چمک آنکھوں کو (خیرہ کر کے بینائی کو) اچکے لئے جاتی ہے

اَلَمْ تَرَاَنَّ اللّٰہَ یُزْجِیْ سَحَابًا (کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ بادلوں کو ہنکاتا ہے) وہ چلا کر بھیجتا ہے جہاں وہ ارادہ فرماتا ہے۔ سحابًا یہ جمع سحابۃ کی ہے اس کی دلیل : ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَہٗ (پھر ان کو جوڑتا ہے) ثم یولف بینہٗ میں ہٗ کی ضمیر کو لفظ کا لحاظ کر کے مذکر لایا گیا ہے یعنی ان کو ایک دوسرے سے ملا کر یکجا کرتا ہے۔ ثُمَّ یَجْعَلُہٗ رُکَامًا (پھر اس کو تہہ بہ تہہ کردیتا ہے) تہہ بہ تہہ ایک دوسرے کے اوپر فَتَری الْوَدْقَ (پھر تم بارش کو دیکھتے ہو) یَخْرُجُ مِن ْخِلٰلِہٖ (اس کے شگافوں سے نکلتی ہے) اس کے پھٹے ہوئے اور نکلنے کے مقامات سے۔ یہ خلل کی جمع ہے جیسے جبال جمع جبل کی ہے۔ وَیُنَزِّلُ (اور وہ اتار تا ہے) ۔ قراءت : یُنزِلُ مکی و بصری نے پڑھا ہے۔ مِنَ السَّمَآ ء (آسمان سے ) منؔ ابتدائے غایت کیلئے ہے۔ کیونکہ اتارنے کی ابتداء آسمان سے ہوتی ہے۔ مِنْ جِبَالٍ (پہاڑوں سے ) ۔ منؔ تبعیضیہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کو آسمان کے بعض پہاڑوں سے اتارتے ہیں۔ فِیْھَا مِںْ بَرَدٍ (ان میں جو اولے ہیں) یہ منؔ بیانیہ ہے۔ نمبر 2۔ اول دونوں منؔ ابتدائیہ اور یہ من تبعیض کیلئے اس صورت میں ترجمہ یہ ہوگا۔ بیشک وہ اللہ تعالیٰ اولے اتارتا ہے آسمان سے پہاڑوں سے جو اس آسمان میں سے ہیں۔ اول صورت میں یُنَزِّلُ کا مفعول من جبالؔ ہے۔ یعنی بعض پہاڑ اور معنی یہ ہوگا بعض پہاڑ جن میں اولے ہیں آسمان میں اولوں کے پہاڑ قدرت کیلئے بعید و مشکل نہیں جیسے کہ زمین میں پتھر کے پہاڑ۔ نمبر 3۔ یہاڑوں کے تذکرہ سے کثرت مراد ہے جیسا کہا جاتا ہے فلان یملک جبا لاً من ذھب کہ فلاں کثیر دولت کا مالک ہے۔ یعنی آسمان سے کثرت سے اولے برساتا ہے۔ فَیُصِیْبُ بِہٖ (پس وہ اولے پہنچا دیتا ہے) یعنی وہ اولے۔ مَنْ یَّشَآ ئُ (جس کو وہ چاہتا ہے) جس انسان اور اس کی کھیتی پر گرانا چاہتا ہے۔ وَیَصْرِفُہٗ عَنْ مَّنْ یَّشَآ ئُ (اور جس سے چاہتا ہے پھیر لیتا ہے) پس وہ اس پر نہیں گراتا۔ نمبر 2 جس کو چاہتا ہے وہ سزا دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے پھیر دیتا ہے اس سے اسکو سزا نہیں دیتا۔ یَکَادُ سَنَابَرْقِہٖ (قریب ہے کہ اسکی بجلی کی چمک) سناؔ روشنی کو کہتے ہیں۔ یَذْھَبُ بِالْاَبْصَارِ (آنکھوں کو جھپٹ لے) اچک لے اسکے ذریعہ۔ قراءت : یزیدنے یاؔء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ بہٖ یَذْھب۔
Ayah 24:44

یُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 24:44 in the Quran reader

اور خدا ہی رات اور دن کو بدلتا رہتا ہے اہل بصارت کے لئے اس میں بڑی عبرت ہے

یُقَلِّبُ اللّٰہُ الَّیْلَ وَالنَّھَارَ (اللہ تعالیٰ دن اور رات کو الٹ پلٹ کرتا ہے) لمبائی اور چھوٹائی کے مختلف ہونے کے ساتھ پھیرتا ہے ایک دوسرے کے پیچھے آنا : اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ (بیشک اس میں) بادلوں کے اس ملنے اور بارش اور سردی کے اتارنے، دن اور رات کے آنے جانے میں نشانیاں ہیں۔ لَعِبْرَۃً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ (البتہ عبرت ہے آنکھوں والوں کے لیے) عقل مندوں کیلئے۔ آیات کا ربط : ربوبیت ِ باری تعالیٰ پر دلائل ذکر فرمائے۔ نمبر 1۔ آسمان و زمین میں ان کی تسبیح کا ذکر کیا۔ نمبر 2۔ جو ان کے مابین اڑنے والے ہیں ان کا تسبیح کرنا اور اس سے دعا کرنا مذکور ہوا۔ نمبر 3۔ بادلوں کو مسخر کرنا الی آخرہٖ یہ وجود باری تعالیٰ پر واضح دلائل ہیں اور غور وتدبیر کرنے والے کیلئے اللہ تعالیٰ کی صفات کو واضح کرنے والے نشانات ہیں۔ پھر ایک اور دلیل اس انداز سے ذکر فرمائی۔