Ayah 24:28آیت نمبر 28
اس میں چار مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فان لم تجدو فھیا احدا۔ فیھا میں ضمیر کا مرجع دوسروں کے گھر ہیں۔ صبری نے مجادہ سے حکایت کیا ہے انہوں نے کہا : فان لم تجدو فیھا احدا کا معنی یہ ہے کہ تمہارا ان کے گھروں میں سامان نہ ہو۔ طبری نے اس تاویل کو ضعیف قرار دیا ہے۔ اسی طرح یہ انتہائی ضعف میں ہے گوایا مجاہد کا خیال ہے کہ وہ گھر جن میں کوئی رہنے والا نہیں تو ان میں بغیر اجازت کے داخل ہو سکتا ہے۔ جب داخل ہونے والے اس میں سامان ہو۔ انہوں نے المتاع کے لفظ سے متاع البیت مراد لیا ہے۔ جو کالین اور کپڑے وغیرہ ہیں یہ سب ضعیف ہے۔ صحیح یہ ہے کہ یہ آیت ما قبل آیت سے اور احادیث سے منسلک ہے۔ تقدیریوں ہے : یا یھا الذین آمنوا لا تد خلوا بیوتا غیر بیوتکم حی تستانسو او تسلموا فان اذن لکم فادخلو والا فارجعوا۔ یعنی اے ایمان والو ! اپنے گھروں کے علاوہ گھروں میں داخل نہ ہو حتی کہ تم اجازت طلب کرلو اور اسلام کرلو اگر تمہیں اجازت دی جائے تو داخل ہو جائو ورنہ واپس چلے جائو جیسا کہ حضرت سعد کے ساتھ نبی پاک ﷺ نے کیا تھا اور حضرت ابو موسیٰ نے حضرت عمر ؓ کے ساتھ کیا تھا۔ اگر تم ان میں کسی کو نہ بتائو جو تمہیں اجازت دے تو تم ان میں داخل نہ ہو حتی کہ تم اجازت پالو۔ طبری نے قتادہ سے سند کے ساتھ روایت کیا فرمایا ایک مہاجہر نے کہا : میں ساری عمر اس آیت پر عمل تلاش کرتا رہا میں نے نہیں پایا کہ میں کسی دوست سے اجازت طلب کروں اور وہ مجھے کہے : لوٹ جائو پھر میں لوٹ جائوں جبکہ میں خوش ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ھوا ازکی لکم۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ خواہ دروازہ بند ہو یا کھلا ہو کیونکہ شرع نے و خول کی تحریم کے ساتھ اس کو بند کردیا ہے حتی کہ اس کے مالک کی اجازت اسے کھول دے بلکہ اس پروا جب ہے کہ دروازے پر آئے اور اجازت کا اس طریقہ پر ارادہ کرے جس سے گھر پر مطلع نہ ہو نہ آنے میں نہ لوٹنے میں گھر پر آگاہی ہو۔ ہمارے علماء نے حضرت عمر بن خطابؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : جس نے اپنی آنکھوں کو گھر کے صحن سے برا اس نے فسق کا ارتکاب کیا۔ صحیح نے حضرت سہل بن سعد سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے نبی پاک ﷺ کے دروازے کی دراز سے جھانکا جبکہ نبی پاک ﷺ کے ہاتھ میں کنگھی تھی جس کے ساتھ آپ سر کو کنگھی کر رہے تھے نبی پاک ﷺ نے اسے فرمایا : ” اگر میں جانتا کہ تو دیکھ رہا ہے تو میں تیری آنکھوں میں اس کے ساتھ مارتا : اللہ تعالیٰ نے دیکھنے کی وجہ سے اذان کو مقرر کیا ہے “ (1)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی پاک ﷺ نے فرمایا : ” جو تجھ پر بغیر اجازت کے جھانکے پر تو کنکری کے ساتھ اس کو مارے اور اس کی آنکھ پھوڑ دے ت تجھ پر کوئی گرفت نہیں ہوگی۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ جب یہ ثابت ہوگیا کہ گھر میں داخل ہونے کے لیے اجازت شرط ہے تو یہ چھوٹے اور بڑے کی طرف سے ہوگا۔ حضرت انس بن مالک بلوغت سے پہلے نبی پاک ﷺ سے اجازت طلب کرتے تھے، اسی طرح صحابہ کرام اپنے بچوں اور لڑکوں کے ساتھ کرتے تھے اس کا مزید بیان سورت کے آخر میں آئے گا۔ انشاء اللہ
مسئلہ نمبر 4 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واللہ بما تعملون علیم۔ گھروں کی جاسوسی کرنے والوں کے لیے اور گناہوں اور غیر حلال چیزوں کو دیکھنے کے لیے غفلت کی حالت میں و خول کے طرلب کرنے والوں کے لیے وعید ہے اور ان لوگوں کے لیے وعید ہے جو ممنوع چیز پر واقع ہوتے ہیں۔
Ayah 24:29آیت نمبر 29
اس میں دو مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ روایت ہے کہ جب آیت استیذان نازل ہوئی تو بعض لوگ اس میں زیادہ تکلف کرنے لگے وہ کسی کھنڈر یا کسی خالی مقام پر آتے تو سلام کرتے اور اجازت طلب کرتے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے ہر ایسے گھر میں اجازت طلب کرنا اٹھا دیا جہاں کوئی رہنے والا نہ ہو کیونکہ استیذان کی علت یہ ہے کہ حرمات نہ کھلیں تو جہاں کوئی رہنے والا ہی نہیں تو علت ہی نہ پائی گئی اور حکم بھی زائل ہوگیا۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ ان گھروں یس مراد کیا ہے ؟ اس میں علماء کا اختلاف ہے۔ حضرت محمد بن حنفیہ، قتادہ اور مجاہد نے کہا : اس سے مراد ہوٹل ہیں جو راستوں پر ہوتے ہیں۔ مجاہد نے کہا : ان میں رہتا کوئی نہیں بلکہ یہ ہر مسافر کے آرام کے لیے وقف ہوتے ہیں ان میں ان کا متاع ہوتا ہے۔ یعنی ان کی منفعت سے لطف اندوز ہوتا۔ حضرت محمد بن حنفیہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد مکہ کے گھر ہیں۔ اس کو امام مالک کا قول بیان کرتا ہے۔ یہ اس قول کی بنا پر ہیں کہ یہ کسی کی ملکیت نہیں ہیں لوگ سب ان میں شریک ہیں کیونکہ مکہ سختی کے ذریعے فتح کا گیا تھا۔ ابن زید اور زشعبی نے کہا : سبزیوں کی دکانیں ہیں۔ (1) ۔ امام ثعلبی نے کہا : وہ لوگ اپنی اشیاء لے کر آتے تھے۔ اور مکانوں میں رکھتے تھے اور لوگوں کو کہتے تھے : ادھر آئو، عطا نے کہا : اس سے مراد وہ کھنڈرات ہیں جہاں لوگ پیشاب پاخانہ کے لیے جاتے ہیں اس میں متاع ہے۔ جابرین زیدنے کہا : یہاں متاع سے مراد سامان نہیں ہے اس کے علاوہ حاجت ہے خواہ منزل ہو جہاں لوگ دن یا رات کے وقت ٹھہرتے ہوں یا ایسی کھنڈر جگہ جہاں لوگ قضاء حاجت کے لیے داخل ہوتے ہوں یا ایسا گھر جس کو دیکھا جاتا ہو یہ متاع ہے دنیا کی ہر منفعت متاع ہے۔ ابو جعفر نحاس نے کہا : یہ عمدہ شرح ہے ائمہ مسلمین کے امام کے قول سے اور یہ لغت کے موافق ہے۔ کلام عرب میں متاع کا معنی منفعت ہے اسی سے ہے : امتع اللہ بک۔ اللہ تعالیٰ تجھے منفعت دے۔ اسی سے ہے فمتعو ھن (الاحزاب : 49)
میں کہتا ہوں : قاضی ابوبکر بن عربی نے بھی اختیار کیا ہے۔ اور جنہوں نے متاع کی تفسیر بغیر تغیر کے انتفاع سے کی ہے تو انہوں نے مفصل کو ڈھانپ دیا اور قول فیصل کو لے آے اور یہ بیان کیا کہ ان میں داخل ہونے والا وہ ہے جس کے لیے انتفاع میں سے کچھ ہو۔ پس طالب علم مدارس میں داخل ہوتا ہے، رہنے والا ہوٹلوں اور سرائوں میں داخل ہوتا ہے اور گاہک سامان خریدنے کے لیے دکان میں داخل ہوتا ہے، پیشاب کرنے والا حاجت کے لیے بیت الخلا میں داخل ہوتا ہے ہر ایک اپنے کام کے لیے آتا ہے۔ رہا ابن زید اور شعبی کا قول تو وہ بھی ایک قول ہے وہ یہ سبزیوں کے مکانات لوگوں کے اموال کی وجہ سے ممنوع ہوتے ہیں ہر داخل ہونے والے کے لیے بالا جمع مباح نہیں ہوتے اور ان میں داخل نہیں ہو سکتا مگر جسے ان کا مالک اجازت دے بلکہ ان کے ارباب لوگوں کو دور کرنے کے لیے مقرر ہوتے ہیں۔
Ayah 24:30آیت نمبر 30
اس میں سات مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قل للمئومنین یغضوا من ابصارھم اللہ تعالیٰ نے پردے کے ساتھ نظر کے امر کو ملایا۔ کہا جاتا ہے : غض بصرہ یغضہ غضاً ۔ شاعر نے کہا :
اغض طرفی مابداث لی جارتی حتی یواریَ جارتی ماواھا
اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر نہیں کیا جس سے نظر کو بچانا ہے اور فرج کی حفاظت کرنی ہے لیکن یہ معلوم و معروف ہیں اس سے مراد محرم ہے محلل نہیں ہے۔ صحیح بخاری میں سعید بن ابی حسن نے حسن کو کہا : عجمیوں کی عورتیں اپنے سینے اور اپنے سر کھلے رکھتی ہیں (1) ؟ تو آپ نے فرمایا : تو اپنی نظر کو پھیر لے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : قل للمومنین یغضوا من ابصارھم و یحفظوا فروجہم۔ قتادہ نے کہا : یعنی ان کے لیے جو حلال نہیں اس سے آنکھیں نیچے رکھیں اور اس سے اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ و قل للمومنت یغضضن من ابصارھن و یحفظن فرو جھن۔ یعنی خیانت کرنے والی نظروں سے اور ممنوعہ چیزوں کے ذریعے دیکھے سے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : من ابصار ھم من زائدہ ہے جیسے اس ارشاد میں من زائدہ ہے۔ فما منکم من احد عنہ حجزین۔ (الحاقہ) بعض نے کہا : یہ من تبعیضیہ ہے کیونکہ کچھ دیکھنا مباح ہوتا ہے۔ بعض نے کہا : الغض کا معنی نقصان ہے کہا جاتا ہے : غض فلان من فلان، یعنی اس سے کمی کردی۔ آنکھوں کو جب عمل سے روک دیا گیا ہو تو وہ نیچے کی گی ہے اور اس میں کمی کی گئی ہے پس من الغض کے متعلق ہوگیا نہ تبعیض کے لیے ہوگا اور نہ زائدہ ہوگا۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ آنکھ، دل کی طرف بہت بڑا دروازہ ہے اور حواس کے طرق کو اس کی طرف بہت زیادہ پہنچاتا ہے۔ اس وجہ سے ان کی بنا پر سقوط بہت زیادہ ہوتا ہے اس سے بچنا بہت ضروری ہے اور تمام محرکات سے آنکھ کا جھکانا واجب ہے اور ہر اس چیز سے آنکھوں کو نیچا کرنا ضروری ہے جس سے فتنہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :
” راستوں پر بیٹھنے سے بچو “ (1) ، صحابہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ان مجالس پر بیٹھنا ہماری مجبوری ہے ہم یہاں آپس میں گفتگو کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اگر تمہیں ضروری ہے تو راستے کا حق ادا کروں “ (2) صحابہ نے پوچھا : یا رسول اللہ ﷺ راستے کا حق کیا ہے ؟ فرمایا : ” آنکھ کا جھکانا، اذیت سے رکنا، سلام کا جواب دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا “ (3) ۔ اس حدیث کو حضرت ابو سعید خدری نے روایت کیا ہے۔ اس کو بخاری و مسلم نے تخریج کیا ہے۔ آپ ﷺ نے حضرت علی ﷺ سے فرمایا : غیر محرم کی طرف متواتر نہ دیکھو پہلی نظر معاف ہے، دوسری نظر تجھے معاف نہیں “ (4) ۔ اوزاعی نے روایت کیا ہے فرمایا مجھے ہاروں بن رئاب نے بیان کیا کہ غزوان اور حضرت ابو موسیٰ اشعری دونوں کسی جنگ میں تھے ایک عورت کا ستر کھل گیا تو غزاون نے اس کی طرف دیکھا پھر اپنا ہاتھ اٹھایا اور اپنی آنکھ پر زور سے طمانچہ مارا حتی کہ آنکھ سوج گئی اور کہا : تو ایسی چیز کی طرف دیکھتی ہے جو تجھے نقصان دیتی ہے نفع نہیں دیتی ہے۔ پھر غزوان، حضرت موسیٰ سے ملے اور ان سے انکے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا : تو نے اپنی آنکھ پر ظلم کیا ہے اللہ تعالیٰ سے توبہ کرو اور استغفار کرو کیونکہ پہلی نظر دیکھنا اس کے لیے جائز تھا اور اس کے بعد ممنوع تھا۔ اوزاعی نے کہا : غزوان نے اپنے نفس پر ضبط کیا اور کبھی نہ ہنسے حتی کہ وصال ہوگیا۔ صحیح مسلم میں حجرت جریربن عبداللہ سے مروی ہے فرمایا : میں نے نبی پاک ﷺ سے اچانک اٹھنے والی نظر کے بارے میں پوچھا۔ تو آپ ﷺ نے مجھے اپنی آنکھ پھیرنے کا حکم دیا۔ یہ اس کے قول کے توقیت دیتی ہے جو کہتے ہیں کی من تبعیض ہے کیونکہ پہلی نظر پر کنٹرول نہیں ہوتا وہ خطاب تکلیف میں داخل نہیں کیونکہ اس کا وقع قصداً نہیں ہوتا اور نہ اس میں انسان کا کسب ہوتا ہے نہ اس کے روکنے کا مکلف ہوتا ہے پس اس لیے تبعٰض واجب ہے۔ یہ فرج کے بارے میں نہیں فرمایا کیونکہ اس ضبط نہیں ہوتا۔ شعبی نے اپنی بیٹی یا اپنی ماں یا اپنی بہن کو متواتر دیکھنے کو مکروہ کہا ہے۔ ان کا زمانہ ہمارے اس زمانہ سے بہتر تھا اور کسی محترمہ عورت کے طرف بار بار شہوت کی نظر سے دیکھنا حرام ہے۔
مسئلہ نمبر 4 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ویحفظوا فروجہم یعنی اپنی شرمگاہوں کو اس سے چھپائو جس کا دیکھنا حلال نہیں ہے۔ بعض نے فرمایا اس سے مراد ہے زنا سے بچائو۔ اس قول کی نا پر من فرو جھم ہوتا تو بھی جائز ہوتا۔ صحیح یہ ہے کہ تمام مفہوم مراد ہیں لفظ عام ہے۔ بہزبن حکیم بن معاویہ قشیری نے اپنے باپ سے انہوں نے ان کے دادا سے روایت کیا فرمایا : میں نے عرض کی یا رسول اللہ ! ﷺ ہم اپنی شرمگاہوں میں سے کس کو چھپائیں اور کس کو کھلا چھوڑیں۔ نبی پاک ﷺ نے فریایا : ” اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو مگر اپنی زوجہ اور کنیز اس سے مستشنٰی ہیں “ (5) ۔ اس شخص نے پوچھا : ایک مرد دوسرے مرد کے ساتھ ہوتا ہے۔ آپ نے فرمایا : ” اگر تو طاقت رکھتا ہے کہ شرمگاہ کو کوئی نہ دیکھے تو ایسا ضرور کر “ (6) ۔ میں نے عرض کی : کبھی انسان تنہا ہوتا ہے۔ فرمایا : ” اللہ تعالیٰ زیادہ حقدار ہے کہ اس سے حیاء کیا جائے “۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے ساتھ اپنی حالت کا ذکر کیا اور فرمایا : میں نے آپ کی شرمگاہ دیکھی اور نہ آپ نے میری شرمگاہ دیکھی۔
مسئلہ نمبر 5 ۔ اس آیت کی وجہ سے علماء نے بغیر ازار کے حمام میں داخل ہونے کو حرام قرار دیا ہے۔ حالانکہ حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا : جو انسان خرچ کرتا ہے اس میں بہتر وہ درہم ہے جو وہ خلوت میں حمام کے لیے دیتا ہے۔ اور حضرت ابن عباس سے ؓ مروی ہے کہ وہ حمام میں داخل ہوئے جبکہ وہ حجفہ میں محرم تھے۔ پس مردوں کے لیے حمام میں زار کے ساتھ داخل ہونا جائز ہے اسی طرح عورتوں کے لیے ضرورت کے لیے داخل ہونا جائز ہے۔ جیسے حیض و نفاس سے غسل کے لیے یا ایسی مرض کے لیے جو عورتوں کو لاحق ہوتی ہیں عورتوں کے لیے افضل اور اولیٰ یہ ہے کہ اگر ممکن ہو تو وہ اپنے گھروں میں غسل کریں۔ احمد بن منعی نے روایت کیا ہے انہوں نے کہا حسن بن موسیٰ نے ہمیں بتایا انہوں نے کہا ہمیں ابن لہیعہ نے بتایا انہوں نے کہا ہمیں زیان نے بتایا انہوں نے حضرت سہل بن معاذ سے روایت کیا انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے حضرت ام ورداء سے روایت کیا کہ انہوں نے حضرت ام دراداء کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ مجھے نبی پاک ﷺ ملے جبکہ میں حمام سے نکلی تھی۔ آپ ﷺ نے پوچھا : ” ام الدرداء کہاں سے آرہی ہے “۔ (1) انہوں نے کہا : حمام سے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ” قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جو عورت اپنے گھر کے علاوہ کسی گھر میں کپڑے اتارتی ہے وہ اپنے اور حمن کے درمیان ہر پردے کو پھاڑنے والی ہوتی ہے “ ابوبکر بزار نے طاوئوس سے انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا نبی پاک ﷺ نے فرمایا : ” اس گھر سے بچو جس کو حمام کہا جاتا ہے “ صحابہ کرام نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ وہ میل کو صاف کرتا ہے۔ فرمایا : ” پردہ کرو “ ابو محمد عبدالحق نے کہا : یہ اس باب میں سند کے اعتبار سے اصح حدیث ہے لوگ اس کو طاوئوں سے مرسل روایت کرتے ہیں اور ابو دائود نے جو اس بارے میں حظر و اباحت سے روایت کیا ہے اسانید کے ضعیف ہونے کی وجہ سے کوئی چیز صحیح نہیں ہے، اسی طرح جو امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔
میں کہتا ہوں : اس زمانہ میں حمام میں داخل ہوتا اہل فضل اور اہل دین پر حرام ہے کیونکہ لوگوں پر جہالت کا غلبہ ہے اور لوگ اسے سہل سمجھنے لگے ہیں جب وہ حمام کے درمیان میں ہوتے ہیں تو اپنے ازارہ پھینک دیتے ہیں حتی کہ ہر ایک خوش شکل بزرگ آدمی حمام کے وسط میں کھڑا نظر آتا ہے اس کے باہر والا حصہ اس کی شرمگاہ کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ اسے اپنی رانوں کے درمیان سمیٹے ہوئے ہوتا ہے اور کوئی بھی اسے منع نہیں کرتا یہ معاملہ مردوں میں ہے عورتوں کی کیا حالت ہوگی خصوصاً مصری شہروں میں کیونکہ ان کیحکام تو ان پاکیزہ عورتوں سے خالی ہوتے ہیں جو لوگوں کی نظرو وں سے چھپتی ہیں۔ لا حولل ولا قوۃ الا بااللہ العلی العظیم۔
مسئلہ نمبر 6 ۔ اگر وہ حمام میں ستر کے ساتھ داخل ہو تو دس شرائط کے ساتھ داخل ہو۔
2 ۔ خلوت اور لوگوں کے کم ہونے کے وقت داخل ہو۔
3 ۔ اپنی شرمگاہ کو موٹے کپڑے سے ڈھانپے۔
4 ۔ اس کی نظر زمین کی طرف ہو یا سامنے والی دیوار کی طرف ہو تاکہ کسی ممنوع چیز پر نظر نہ پڑے۔
5 ۔ کسی برائی کو دیکھے تو نرمی سے منع کرے وہ کہے : پردہ کرو اللہ تجھ پر پردہ ڈالے۔
6 ۔ اگر کوئی شخص اس کے جسم کو مل رہا ہو تو اسے شرمگاہ پر قدرت نہ دے مرد کی شرمگاہ ناف سے گھٹنے تک ہے ہاں بیوی یا کنیزہ ہو تو ان سے ستر کی صفائی کرا سکتا ہے۔ علماء کا اختلاف ہے کہ ران شرمگاہ ہے یا نہیں۔
7 ۔ اجرت معلومہ جو شرط کے ساتھ معلوم ہو یا لوگوں کی عادت کے ساتھ معلوم ہو اس کی ادائیگی کے ساتھ داخل ہو۔
8 ۔ ضرورت کی مقدار پانی انڈیلے۔
9 ۔ اگر وہ تنہا حمام میں داخل ہونے پر قادر نہ ہو تو اس قوم کے ساتھ اتفاق کرے جو اپنے ادیان کی حفاظت کرتے ہیں اپنے کپڑے پر۔
10 ۔ جہنم کو یاد کرے اگر یہ سب کچھ ممکن نہ ہو تو اسے پردہ کرنا چاہیے اور آنکھوں کو نیچا رکھنے میں کوشش کرے۔
امام ترمذی ابو عبداللہ نے نوادر الاصول میں طاؤس عن عبداللہ بن عباس ؓ کی حدیث سے روایت کیا ہے فرمایا نبی پاک ﷺ نے فرمایا : اس مکان سے بچو جس کو حمام کہا جاتا ہے۔ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! ﷺ ۔ وہ میل کو دور کرتا ہے اور آگ کو یاد دلاتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم ضرور ایسا کرنے والے ہو تو ستر ڈھانپ کر داخل ہو۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث سے روایت کیا ہے کہ نبی پاک ﷺ نے فرمایا : بہتر گھر جس میں مسلمان مرد داخل ہوتا ہے وہ حمام ہے۔ یہ اس لیے کیونکہ وہ جب اس میں داخل ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرتا ہے اور آگ سے پناہ مانگتا ہے اور برا گھر وہ ہے جس میں مرد داخل ہوتا ہے وہ بیت العروس ہے کیونکہ وہ اسے دنیا کی رغبت دیتا ہے اور اسے آخرت بھلا دیتا ہے۔ ابو عبداللہ نے کہا : یہ اہل غفلت کے لیے ہے اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو اس کے ساتھ جو اس میں ہے اہل غفلت کی تذکیر کا سبب بنایا ہے تاکہ وہ اس کے ذریعے اپنی آخرت کو یاد کریں۔ رہے اہل یقین تو آخرت ہمیشہ ان کی آنکھوں کے سامنے رہتی ہے، نہ انہیں حمام اچھا لگتا ہے اور نہ بیت عروس انہیں اپنی طرف راغب کرتا ہے۔ آخرت کے مقابلہ میں دنیا وما فیہا بہت حقیر ہے حتی کہ دنیا کی تمام نعمتیں ان کی آنکھوں میں ایک بڑے دستر خوان بکھرے ہوئے کھانے کی طرح ہیں اور دنیا کی تمام تکالیف ان کی آنکھوں میں اس قتل کی مانند ہیں جس کے اس اس مجرم یا گنہگار کو سزا دی جاتی ہے جو اہل دنیا کی تمام عقوبات میں سے قتل یا سولی چڑھانے کا مستحق ہوتا ہے۔
Ayah 24:31مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وقل للمومنت یہاں اللہ تعالیٰ نے تاکید کے طریق پر عورتوں کو خطاب کے ساتھ خاص کیا ہے کیونکہ قل للمومنین کا قول کافی تھا کیونکہ وہ عام ہے مومنین میں سے مذکر و مونث سب کو شامل ہے جیسا کہ ہر خطاب جو قرآن میں عام ہے۔ یغضفن میں تضعیف ظاہر ہے جبکہ یغضوا میں ظاہر نہیں ہے کیونکہ فعل کا لام کلمہ دوسرے میں ساکن ہے اور پہلے متحرک ہے یہ دونوں فعل امر کے جواب کی وجہ سے محل جزم میں ہیں۔ فرج کے ذکر سے پہلے غض بصر کا ذکر فرمایا کیونکہ نظر دل کے لیے جاسوس ہے جیسا کہ بخار موت کے لیے جاسوس ہے یہ مفہوم ایک شاعر نے بیان کیا ہے :
الم ترأن العین للقلب زائد فما تالف العینان فالقلب آلف
آنکھ دل کی جاسوس ہیں آنکھیں جس کو پسند کرتی ہے دل بھی اس سے الفت کرتا ہے۔ حدیث میں ہے :” نظر شیطان کے زہریلے تیروں میں سے ایک تیر ہے جس نے اپنی نظر کو نیچا کیا اللہ تعالیٰ دل میں اسے مٹھاس عطا فرماتا ہے “ (1) ۔
مجاہد نے کہا : جب عورت آتی ہے تو شیطان اس کے سر پر ہوتا ہے وہ اسے خوبصورت بناتا ہے اس کے لیے جو اسے دیکھتا ہے جب وہ واپس جاتی ہے تو وہ اس کے پچھلے حصہ پر بیٹھا ہوتا ہے وہ اسے مزین کرتا ہے اس کے لیے جو اسے دیکھتا ہے۔ خالد بن ابی عمران سے مروی ہے : متواتر نظر سے نہ دیکھو بعض اوقات بندہ دیکھتا ہے تو اس کی وجہ سے ان کا دل فاسد ہوتا ہے جس طرح چمڑا خراب ہوتا ہے تو اس سے نفع نہیں اٹھایا جاتا۔ اللہ تعالیٰ نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو غیر حلال چیزوں سے نظر نیچی رکھنے کا حکم دیا ہے پس مرد کے لیے اجنبی عورت کی طرف دیکھنا جائز نہیں اور عورت کے لیے مرد کو دیکھنا جائز نہیں کیونکہ عورت کا مرد سے تعلق ہے جو مرد کا عورت سے تعلق ہے۔ عورت کا مرد سے وہی قصد ہے جو مرد کا عورت سے قصد ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرمایا میں نے نبی پاک ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ” اللہ تعالیٰ نے ابن آدم پر زنا کا حصہ لکھا ہے تو وہ ضرور اسے پائے گا آنکھیں زنا کرتی ہیں اور ان کا زنا دیکھا ہے “ (الحدیث) (1) ۔
زہری نے ان عورتوں کو دیکھنے کے بارے میں فرمایا جن کو حیض نہیں آتا، ایسی عورتوں کو دیکھنا جائز نہیں جن کو دیکھنے کی طرف نظر شوق کرتی ہو اگرچہ وہ چھوٹی بھی ہوں۔ عطا نے ان لونڈیوں کی طرف دیکھنا بھی مکروہ قرار دیا ہے جو مکہ میں بیچی جاتی ہیں مگر وہ خریدنے کا ارداہ کرتا ہے تو دیکھ سکتا ہے۔ صححیین میں آپ ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت فضل کا چہر خثعمیہ عورت سے پھیر دیا تھا جب وہ سوال کر رہی تھی۔ حضرت فضل اس کو دیکھ رہے تھے آپ ﷺ نے فرمایا : ” غیرت ایمان سے ہے اور مذاء نفاق سے ہے “ (2) ۔ مذاء یہ ہے کہ کوئی مردوں اور عورتوں کو جمع کرے پھر انہیں چھوڑے وہ ایک دوسرے سے دل لگی کرتے رہیں۔ یہ المذی سے مشتق ہے۔ بعض نے کہا : اس کا مطلب مردوں کو عورتوں کی طرف بھیج دینا۔ یہ عربوں کے اس قول سے ہے : مذیت الفرس گھوڑے کو چرنے کے لیے چھوڑ دینا۔ ہر نرکو مذی آتی ہے اور ہر عورت کو قذی آتی ہے۔ جو عورت اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہے اس کے لیے اپنی ینت کو ظاہر کرنا حلال نہیں مگر جس کے لیے وہ حلال ہے یا جس پر وہ ہمیشہ کے لیے حرام ہے وہ امن میں ہوتا ہے کہ اس کی طبع ان کی متحرک ہو کیونکہ اسے ان سے مایوسی ہوتی ہے۔
مسئلہ نمبر 2: ترمذی نے نبہان مولی ام سلمہ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے اسے اور حضرت میمونہ کو فرمایا جب ان کے پاس حضرت ابن مکتوم تھا ” اس سے پردہ کرو “ انہوں نے عرض کی : حضور ! یہ تو نابینا ہے۔ فرمایا : ” کیا تم بھی نابینا ہو کیا تم اسے دیکھتی ہو “۔ (3) ۔ اگر یہ کہا جائے کہ اہل نقل کے نزدیک یہ حدیث صحیح نہیں ہے کیونکہ حضرت ام سلمہ سے روایت کرنے والا راوی آپ کا غلام نبہان ہے اور اس حدیث سے حجت نہیں پکڑی جاتی اور اس کی صحت کی تقدیر پر یہ ازواج مطہرات پر ان کی حرمت کی وجہ سے نبی کریم ﷺ کی طرف سے سختی اور تغلیظ ہوگی جس طرح حجاب کے مسئلہ میں ان پر سختی فرمائی تھی جیسا کہ ابودائودوغیرہ ائمہ نے اشارہ کیا ہے اور صحیح ثابت حدیث کا معنی باقی رہ جاتا ہے وہ یہ کہ نبی کرم ﷺ نے فاطمہ بنت قیس کو ام شریک کے گھر میں عدت گزارنے کا حکم دیا پھر فرمایا : ” وہ ایسی عورت ہے جس کے پاس میرے صحابہ آتے ہیں تو ابن مکتوم نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کو عورت کے لیے جائز ہے کہ وہ مرد کا وہ حصہ دیکھ سکتی ہے جو مرد کے لیے عورت کا دیکھنا جائز نہیں جیسے سر اور کان، لیکن شرمگاہ دیکھنی جائز نہیں اس بنا پر یہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد و قل للمومنت یغضضن من ابصارھن کے عموم کے لیے مخصص ہوگی اور من تبعیض کے لیے ہوگا جسے اس سے پہلی آیت میں تھا۔ ابن عربی نے کہا : نبی پاک ﷺ نے ام شریک کے گھر سے حضرت ابن ام مکتوم کے گھر کی طرف منتقل ہونے کو کہا کیونکہ ام شریک کے گھر کی نسبت اس میں اس کی بقا کے لیے بہتر تھا، کیونکہ ام شریک کے پاس کثرت سے لوگ آتے جاتے تھے تو اسے بھی دیکھنے والے زیادہ ہوتے اور حضرت ابن ام مکتوم کے گھر میں اسے کوئی دیکھنے والا نہ تھا۔ حضرت ابن مکتوم سے اپنی آنکھ کو روکنا اس کے لیے زیادہ بہتر تھا۔
مسئلہ نمبر 3: اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو حکم دیا ہے کہ وہ دیکھنے والوں کے لیے اپنی زیب وزینت ظاہرنہ کریں مگر دیکھنے والوں سے جن کی آیت میں استشناء فرمائی۔ علماء کا اس مقدار میں اختلاف ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے کہا : ظاہر زینت سے مراد کپڑے ہیں (2) ۔ ابن جبیر نے چہرے کا بھی اضاضہ کیا ہے۔ سعید بن جبیر نے بھی اور عطا اور اوزاعی نے چہرہ ہتھیلیاں اور لباس فرمایا ہے (3) ۔ حضرت ابن عباس ؓ ، قتادہ اور حضرت مسور بن مخرمۃ نے کہا : ظاہر زینت سے مراد سرمہ، کنگن اور نصف ذراع تک خضاب (مہندی) بالیاں اور انگوٹھی ہے (4) یہ چیزیں ظاہر کرنا مباح ہے ہر اس شخص کے سامنے جو اس کے پاس آئے۔ طبری نے قتادہ سے نصف ذراع سے معنی میں نبی کریم ﷺ سے حدیث روایت کی ہے ( 5) اور دوسری حدیث حضرت عائشہ ؓ کے واسطہ سے نبی کریم ﷺ سے روایت کی ہے فرمایا : ” جو عورت اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہے جب وہ بالغ ہوجاتے تو اس کے لیے ظاہر کرنا حلال نہیں مگر اپنا چہرہ اور یہاں تک اپنے ہاتھ (نصف ذراع سے پکڑ کر اشارہ کیا ) “ ابن عطیہ نے کہا : میرے لیے آیت کے الفاظ کا حکم ظاہرہوا ہے کہ عورت کو زینت ظاہر نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور اسے اپنے آپ سے ہر زینت چھپانے کی کوشش کرنے کا حکم دیا گیا ہے (6) جس کا ظاہر کرنے کی استشناء واقع ہوئی ہے وہ ضرورت کے حکم کے ساتھ ہے جس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے یا اصلاح شان وغیرہ کے لیے ظاہر کرنا ہوتا ہے پس ما ظھر اس بنا پر وہ ہوگا جس کی عورتوں میں ضرورت ہے اور وہ معاف ہے۔
میں نے کہا : یہ عمدہ قول ہے مگر عادۃ اور عبادۃ جب چہرہ اور ہاتھ ظاہر کئے جاتے ہیں اور یہ نماز اور حج میں ظاہر ہوتے ہیں تو بہتر ہے کہ استشنا دونوں کی طرف راجع ہو اس پر دلیل ابو دائود کی حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت اسماء بنت ابی بکر نبی پاک ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی جبکہ اس پر باریک کپڑے تھے نبی پاک ﷺ نے اس سے چہرہ مبارک پھیرلیا اور اسے فرمایا :” اے اسماء جب عورت بالغ ہوجائے تو اس کا دیکھا جانا درست نہیں مگر یہ حصہ (1) آپ ﷺ نے اپنے چہرے اور اپنی ہتھیلیوں کی طرف اشارہ کیا (2) ۔ یہ احتیاط کی جانب سے اقویٰ ہے اور اس میں لوگوں کے فساد کی بھی رعایت ہے پس عورت اپنی زینت ظاہر نہ کرے مگر چہرے اور ہاتھوں میں سے جو ظاہر ہے۔ اللہ تعالیٰ توفیق بخشنے والا ہے اس کے سوا کوئی پروردگار نہیں۔ ابن خویز منداد جو ہمارے علماء میں سے ہے انہوں نے کہا جب عورت خوبصورت ہو اور اس کے چہرے اور ہتھیلیوں سے فتنہ کا اندیشہ ہو تو وہ ان اعضاء کو بھی ڈھانپ لے۔ اگر وہ بوڑھی ہو یا بدصورت ہو تو اس کے لیے چہرہ اور ہتھیلیاں کھولنا جائز ہے۔
مسئلہ نمبر 7 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ذلک ازکی لہم۔ یعنی نظروں کو نیچا کرنا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنا دین میں پاکیزہ ہے اور انسانوں کی میل کچیل سے بہت دور ہے۔ ان اللہ خبیر اللہ تعالیٰ جاننے والا، بما یصنعون، یہ دھمکی اور وعید ہے۔
۔۔۔