24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 24:60

وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَهُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۭ بِزِیْنَةٍ١ؕ وَ اَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:60 in the Quran reader

اور بڑی عمر کی عورتیں جن کو نکاح کی توقع نہیں رہی، اور وہ کپڑے اتار کر سر ننگا کرلیا کریں تو ان پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ اپنی زینت کی چیزیں نہ ظاہر کریں۔ اور اس سے بھی بچیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہے۔ اور خدا سنتا اور جانتا ہے

والقواعد من النسآء التی لا یرجون نکاح فلیس علیہن جناح ان یضعن ثیابہن غیر متبرجت بزینۃ اور بڑی بوڑھی عورتیں جن کو (کسی کے) نکاح (میں آنے) کی کچھ امید نہ رہی ہو ان کو اس بات میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ وہ اپنے (زائد) کپڑے اتار رکھیں بشرطیکہ زینت (کے مواقع) کا اظہار نہ کریں۔ اَلْقَوَاعِدُ القاعد کی جمع ہے وہ عورتیں مراد ہیں جو حاملہ ہونے اور حیض آنے سے ناامید ہوچکی ہوں چونکہ حمل اور حیض سے انقطاع کی صفت عورتوں ہی کے لئے مخصوص ہے مردوں سے اشتباہ بھی نہیں ہے اس لئے حامل اور حائض کی طرح عورت کے لئے لفظ قاعد (بجائے قاعدۃ کے) عربی میں مستعمل ہے۔ اَلّٰتِیْ لاَ یَرْجُوْنَ نِکَاحًا یعنی وہ عورتیں جو بڑی بوڑھی ہونے کی وجہ سے اس قابل نہ رہی ہوں کہ نکاح کی کوئی توقع کرسکیں ربیعہ نے کہا اس سے مراد وہ بوڑھی عورتیں ہیں جن سے مرد نفرت کرتے ہیں بڑھاپے کی وجہ سے کوئی ان کی طرف رغبت نہیں کرتا۔ جو عمر رسیدہ عورت ایسی ہو کہ اس کے اندر کچھ رعنائی باقی ہو وہ اس آیت سے خارج ہے۔ کپڑے اتار دینے سے مراد ہے کچھ کپڑے اتار دینا حضرت ابن مسعود ؓ اور حضرت اُ بی بن کعب کی قراءت میں مِنْ ثِیَابِہِنَّآیا ہے (من تبعیضیہ ہے یعنی کچھ کپڑے) اس قرأت سے اصل مراد واضح ہوجاتی ہے۔ لہٰذا کسی (آزاد) بوڑھی عورت کے لئے بھی اجنبی مردوں کے سامنے پشت یا پیٹ اور ناف سے نیچے کا بدن کھولنا جائز نہیں۔ سر ‘ چہرہ اور دونوں بانہیں کھول سکتی ہے۔ غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍبرج کا لغوی مفہوم ہے ‘ ظہور ‘ قلعہ ‘ مضبوط عمارت ‘ آسمانی ستاروں کا جھمگھٹ اسی مناسبت سے برج کہلاتا ہے۔ تیرج پوشیدہ چیز کو بناوٹ کے ساتھ ظاہر کرنا ‘ سفینۃ بارجۃ وہ کشتی جس پر پردہ نہ ہو۔ برج آنکھوں کی ایسی کشادگی کہ سیاہی کے اردگرد پوری سفیدی نمایاں ہو کوئی حصّہ اوجھل نہ رہے ‘ لفظ تبرج کا خصوصی استعمال عورتوں کے بےپردہ بن ٹھن کر مردوں کے سامنے آنے کے لئے ہوتا ہے ایک حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ دس باتوں کو برا سمجھتے تھے ان میں سے ایک بات یہ (حضور کو پسند نہ) تھی کہ عورت سنگھار کر کے غیر مقام میں نمودار ہو۔ صاحب ہدایہ نے لکھا ہے کہ تبرج کا معنی ہے غیر مردوں کے سامنے عورتوں کا اظہار زینت۔ ایسا اظہار زینت شرعاً مذموم ہے ہاں شوہر کے سامنے اظہار زینت مذموم نہیں ہے حدیث میں لِغَیْرِ مَحَلِّہَاسے یہ ہی مذموم اظہار زینت ہے۔ اَنْ یَّضَعَن ثِیَابِہُنَّکے بعد غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍ کی قید کا اضافہ کرنے کا یہ مطلب ہے کہ کچھ کپڑے اتار کر غیر مردوں کے سامنے بوڑھی عورتوں کا آنا اس وقت قابل گناہ نہیں قرار دیا جائے گا جب کچھ کپڑے اتارنے سے ان عورتوں کا مقصد اظہار زینت نہ ہو اگر کپڑے اتارنے کا مقصد اندرونی زینت اور لباس کی نمائش ہو تو بہرحال گناہ اور حرام ہے۔ وان یستففن خیر لہن اور (غیر مردوں کے سامنے کپڑے اتارنے سے بالکل) اجتناب رکھنا ان کے لئے بہتر ہے۔ یَسْتَعْفِفْنَعفت کی طلبگار ہوں۔ عفت کا معنی ہے ناجائز کاموں سے اپنے نفس کو روکنا۔ کذا فی القاموس۔ اس جگہ غیر مردوں کے سامنے کپڑے اتارنے سے پرہیز رکھنا مراد ہے ‘ یعنی کپڑے (اتارنا اگرچہ جائز ہے لیکن) اتارنے سے نہ اتارنا بہتر ہے لباس اتار دینے سے فتنہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہوسکتا ہے اور لباس پہنے رہنے میں اس کا احتمال نہیں۔ واللہ سمیع علیم۔ (عورتیں جو مردوں سے باتیں کرتی ہیں ان کی باتوں کو) اللہ خوب سننے والا (اور کپڑے اتار دینے سے ان کی جو غرض ہوتی ہے اللہ اس کو) خوب جاننے والا ہے۔
Ayah 24:61

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَنْ تَاْكُلُوْا مِنْۢ بُیُوْتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اٰبَآئِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اُمَّهٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اِخْوَانِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخَوٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَعْمَامِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ عَمّٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخْوَالِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ خٰلٰتِكُمْ اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَهٗۤ اَوْ صَدِیْقِكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا١ؕ فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ تَحِیَّةً مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُبٰرَكَةً طَیِّبَةً١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 24:61 in the Quran reader

نہ تو اندھے پر کچھ گناہ ہے اور نہ لنگڑے پر اور نہ بیمار پر اور نہ خود تم پر کہ اپنے گھروں سے کھانا کھاؤ یا اپنے باپوں کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا اس گھر سے جس کی کنجیاں تمہارے ہاتھ میں ہوں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے (اور اس کا بھی) تم پر کچھ گناہ نہیں کہ سب مل کر کھانا کھاؤ یا جدا جدا۔ اور جب گھروں میں جایا کرو تو اپنے (گھر والوں کو) سلام کیا کرو۔ (یہ) خدا کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے۔ اس طرح خدا اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو

لیس علی الاعمی حرج ولا الاعراج حرج ولا علی المریض حرج اندھے پر کوئی تنگی نہیں ہے ‘ نہ لنگڑے پر کوئی تنگی ہے اور نہ بیمار پر کوئی تنگی ہے۔ بغوی نے سعید بن جبیر اور ضحاک وغیرہ کا بیان نقل کیا ہے کہ لنگڑے اندھے اور بیمار لوگ تندرست لوگوں کے ساتھ کھانا کھانے سے خود گریز کرتے تھے کیونکہ تندرست لوگ ان سے نفرت کرتے اور ان کے ساتھ کھانے کو برا سمجھتے تھے۔ اندھا کہتا تھا ممکن ہے میں زیادہ کھا جاؤں (اور دوسروں کے واسطے کھانا کم ہوجائے) لنگڑا کہتا تھا ‘ مجھے بیٹھنے کیلئے دو آدمیوں کی جگہ گھیرنا پڑے گی (اس سے دوسروں کو تنگی ہوگی) اس پر اس آیت کا نزول ہوا۔ مطلب یہ کہ اگر یہ معذور لوگ تندرست لوگوں کے ساتھ کھانا کھائیں تو ان کے لئے کوئی تنگی (گناہ ‘ بندش) نہیں ہے۔ بغوی نے لکھا ہے اسی طرح ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ جب آیت (یٰاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَاْکُلُوْا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بالْبَاطِلِ ) نازل ہوئی تو بیماروں ‘ لنگڑوں اور اندھوں کے ساتھ کھانے سے مسلمانوں پر دشواری آپڑی ‘ مسلمانوں نے کہا کھانا تو ہر مال سے اونچا درجہ رکھتا ہے اور اللہ نے خلافِ حق کھانے سے منع کیا ہے ‘ نابینا آدمی تو عمدہ کھانے کو دیکھ ہی نہیں سکتا اور لنگڑا ٹھیک طور پر بیٹھ نہیں سکتا اور (کھانے میں اگر لوگوں کے ہاتھ پڑ رہے ہوں یا کھانے کیلئے لوگ گھس رہے ہوں تو) مزاحمت نہیں کرسکتا اور بیمار تو کھانا اٹھانے سے ویسے ہی کمزورہوتا ہے (تو ہم اب ان کے ساتھ کس طرح کھا سکتے ہیں) اس پر یہ آیت مفاتحہ تک نازل ہوئی۔ اس تشریح کے مطابق آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ مسلمانو ! اندھوں وغیرہ کے ساتھ کھانے سے تم پر کوئی تنگی نہیں ہے۔ سعید بن مسیب کا بیان ہے کہ مسلمان جب جہاد کو جاتے تھے تو اپنے پیچھے کچھ اپاہج لوگوں کو چھوڑ کر اپنے گھروں کی کنجیاں ان کو دے جاتے تھے اور کہہ دیتے تھے تم کو ہماری طرف سے اجازت ہے کہ ہمارے گھروں کے اندر جو کچھ ہے تم اس میں سے کھا سکتے ہو۔۔ لیکن ان لوگوں کو دشواری پیش آتی تھی۔ وہ کہتے تھے ‘ گھر والے جب یہاں موجود نہیں تو ہم ان کے گھروں کے اندر داخل نہیں ہوں گے اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی اور اجازت عطا کردی۔ حسن نے کہا اس آیت کا نزول جہاد سے رہ جانے یعنی جہاد میں مذکورہ بالا معذوروں کے نہ جانے کی اجازت کیلئے ہوا اور پھر ختم ہوگیا ‘ آئندہ کلام کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ ولا علی انفسکم ان تاکلوا من بیوتکم اور نہ تم پر کوئی تنگی ہے کہ اپنے گھروں میں (رکھی ہوئی چیزوں میں) سے کھالو۔ اپنے گھروں سے مراد ہیں وہ گھر جن میں بیوی بچے ہوں اس میں اولاد کے گھر بھی شامل ہیں ‘ اپنی اولاد کا گھر اپنا ہی گھر ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ : کا ارشاد گرامی ہے تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے اخراجہ اصحاب الستہ وابن ماجۃ والحاکم عن عائشہ ؓ ۔ حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے ابو داؤد ‘ دارمی ‘ ترمذی ‘ نسائی اور ابن ماجہ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پاکیزہ ترین مال وہ ہے جو آدمی اپنی کمائی سے کمائے اور آدمی کی اولاد بھی اسی کی کمائی سے ہے مطلب یہ ہے کہ بیویوں کا اور اپنی اولاد کا مال کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ کذا قال ابن قتیبہ۔ او بیوت ابآئکم او بیوت امہتکم او بیوت اخوانکم او بیوت اخواتکم او بیوت اعمامکم او بیوت عمتکم او بیوت اخوالکم او بیوت خلتکم او ما ملکتم مفاتحہ یا اپنے باپوں کے گھروں سے اپنی ماؤں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا اس مال میں سے جس کی کنجیوں کے تم مالک (بنا دیئے گئے) ہو۔ مَا مَلَکْتُمْ مَّفَاتِحَہٗ سے مراد حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک وکیل (یعنی نمائندہ۔ ایجنٹ) اور منتظم ہے جو زمین اور جانوروں کی دیکھ بھال کا مختار بنا دیا گیا ہو۔ ایسا شخص اپنی زیر انتظام زمین کی پیداوار کھا سکتا ہے اور زیر نگہداشت جانوروں کا دودھ پی سکتا ہے البتہ بوجھ نہیں لاد سکتا نہ غلہ اور پیداوار کا ذخیرہ بنا کر رکھ سکتا ہے۔ ضحاک نے کہا ‘ اپنے غلاموں باندیوں کے گھر مراد ہیں آقا اپنے غلام کے گھر کا مالک ہوتا ہے۔ مَفَاتِحخزانے ‘ اللہ نے فرمایا ہے وَعِنْدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لاَ یَعْلَمُہَا الاَّ ہُوَاور اسی کے پاس غیب کے خزانے ہیں جن کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مفاتح سے کھولنے کے آلے یعنی کنجیاں مراد ہوں۔ عکرمہ نے کہا جب آدمی کنجی کا مالک (یعنی متصرف) ہوجاتا ہے تو وہ اس مال کا خزانچی بن جاتا ہے اس لئے اگر کچھ اس میں سے کھالے تو کوئی حرج نہیں۔ سدی نے کہا اگر کوئی شخص کسی کو اپنے غلہ وغیرہ کا نگراں ‘ متصرف بنا دے تو اگر یہ نگران اس میں سے کچھ کھالے تو کوئی حرج نہیں۔ بزار نے صحیح سند کے ساتھ حضرت عائشہ ؓ : کا بیان نقل کیا ہے کہ مسلمان رسول اللہ ﷺ کے ہمرکاب ہو کر جہاد کو نکلنے کے بڑے خواہشمند ہوتے تھے۔ چناچہ جہاد کو جاتے وقت (گھروں کی) کنجیاں ان لوگوں کو دے جاتے تھے جو اپاہج (لنگڑے ‘ لولے ‘ اندھے ‘ بیمار وغیرہ) ہوتے تھے اور کہہ دیتے تھے کہ جتنا تم پسند کرو ہمارے گھروں سے لے کر کھا سکتے ہو۔ ہماری طرف سے اجازت ہے لیکن جن لوگوں کو اجازت دی جاتی تھی وہ کہتے تھے اس میں سے کچھ کھانا ہمارے لئے جائز نہیں ‘ ان لوگوں نے بےدلی کے ساتھ (مجبور ہو کر) اجازت دی ہے اس پر اس آیت کا نزول ہوا۔ ابن جریر کا بیان ہے کہ زہری سے آیت لَیْسَ عَلَی الْاَعْمٰی۔۔ کے متعلق دریافت کیا گیا کہ اندھے ‘ لنگڑے اور بیمار کا ذکر اس آیت میں کیوں کیا گیا (اس کا پس منظر کیا ہے ؟ ) زہری نے کہا مجھ سے عبیداللہ بن عبداللہ نے بیان کیا تھا کہ مسلمان جب جہاد کو جاتے تھے تو اپنے پیچھے ان اپاہجوں کو چھوڑ جاتے تھے اور ان کو اپنے گھروں کی کنجیاں سپرد کر جاتے تھے اور یہ بھی کہہ دیتے تھے کہ ہمارے گھروں کے اندر جو کچھ ہے اس میں سے کھانے کی تم کو ہماری طرف سے اجازت ہے ‘ لیکن وہ لوگ بڑی دشواری میں پڑجاتے تھے ‘ وہ کہتے تھے کہ جب گھر والے موجود نہیں تو ہم ان کے گھروں کے اندر نہیں جائیں گے۔ (اور گھروں میں داخلے کے بغیر گھروں کے اندر موجود چیز کو کس طرح کھا سکتے ہیں) اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں اجازت عطا فرمادی گئی۔ بعض لوگوں نے کہا مَا مَلَکْتُمْ مَّفاتِحَہٗسے مراد یہ ہے کہ جو کھانے پینے کی چیزیں تم نے جمع کر رکھی ہیں ان کو کھا سکتے ہو۔ مجاہد و قتادہ نے یہ مطلب بیان کیا ‘ تم نے اپنے گھروں کے اندر جو کھانے کی چیزیں رکھ چھوڑی ہیں جن کے تم مالک ہو ‘ ان کو کھانا تمہارے لئے ممنوع نہیں۔ او صدیقکم یا اپنے دوستوں کے گھروں سے۔ خلیط کے لفظ کی طرح لفظ صدیق ایک کے لئے بھی آتا ہے اور چند کے لئے بھی۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے سچے دوستوں کے مکان سے بھی تم (ان کی غیبت میں) کھا سکتے ہو۔ کیونکہ تمہاری یہ بےتکلفی دوستوں کے لئے خوش کن اور پسندیدہ ہوگی۔ بغوی نے لکھا ہے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ‘ اس آیت کا نزول حارث بن عمرو کے حق میں ہوا تھا ‘ حارث رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کسی جہاد پر جانے لگے تو اپنی بجائے گھر کی نگرانی مالک بن زید کے سپرد کردی ‘ جب واپس آئے تو مالک کو بہت دبلا اور کمزور پایا ‘ وجہ دریافت کی تو مالک نے کہا میں نے آپ کے گھر میں موجود غلہ کھانا ‘ جبکہ آپ کی اجازت بھی نہیں تھی اپنے لئے برا (اور باعث گناہ سمجھا۔ اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ ثعلبی نے بھی اپنی تفسیر میں حضرت ابن عباس ؓ کی یہ روایت نقل کی ہے لیکن مالک بن زید کی جگہ خالد بن زید کا لفظ اس روایت میں آیا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے حسن اور قتادہ اسی آیت کی بنا پر قائل تھے کہ دوست کے گھر میں داخل ہو کر اس کی اجازت کے بغیر اس کے گھر سے کوئی چیز کھا لینا جائز ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مذکورۂ بالا اشخاص (یعنی اقرباء اور اعزاء) کے گھروں میں جا کر ان کی موجودگی کے بغیر کچھ کھا لینا جائز ہے۔ کھا سکتے ہو لیکن بطور توشہ ذخیرہ کرنا اور اٹھا کرلے آنا جائز نہیں۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے یہ حکم شروع اسلام میں تھا پھر منسوخ کردیا گیا۔ صحیح بات یہ ہے کہ یہ حکم اب بھی باقی ہے لیکن اس کا جواز اس بات پر موقوف ہے کہ گھر والے نے صریح اجازت دے دی ہو یا قرینہ سے اس کی اجازت معلوم ہوگئی ہو یہی وجہ ہے کہ آیت میں ذکر ایسے ہی لوگوں کا کیا گیا ہے جن سے عام طور پر بےتکلفی ہوتی ہے۔ (اور آپس میں کھانے پینے کا کوئی پرہیز یا تکلف نہیں ہوتا) ان لوگوں کا آیت میں تذکرہ صرف عادت و رواج کے پیش نظر ہے (حصہ کے لئے نہیں ہے) اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ بالکل اجنبی اور غیر آدمی کے گھر پہنچ کر اس کی صریحی یا غیر صریحی اجازت کے بغیر کچھ کھا لینا بھی جائز ہے ‘ بشرطیکہ گھر والے کی رضامندی کا کسی طور پر علم ہوگیا ہو۔ مسئلہ یہ آیت دلالت کر رہی ہے کہ عام طور پر قریبی محرم رشتہ داروں میں چونکہ بےتکلفی اور (کھانے پینے سے) انبساط خاطر ہوتا ہے اس لئے حنفیہ کہتے ہیں کہ محرم قرابت دار کے مکان کے اندر سے اگر کوئی شخص اس قرابت دار کا یا کسی غیر کا مال چرا لے تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ‘ لیکن اگر کسی غیر کے مکان سے کچھ مال چرایا خواہ چرانے والے کے قریبی محرم ہی کا ہو تب بھی ہاتھ کاٹا جائے گا کیونکہ اوّل صورت میں مال محرز نہ تھا اور دوسری صورت میں محرز تھا (محرز بمعنی محفوظ یعنی اوّل صورت میں مال ایسی جگہ نہیں رکھا ہوا تھا جو چرانے والے کے لئے محفوظ مقام سمجھا جائے اور دوسری صورت میں اس چور کے لئے غیر کا گھر ممنوع ہے اور محفوظ مقام ہے) ۔ ایک شبہ اگر یہ بات ہے تو اسی آیت کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ دوست کے مکان کے اندر سے چوری کرنے پر بھی چور کا ہاتھ نہ کاٹا جائے۔ ازالہدوستی عارضی چیز ہے (توڑنے سے ٹوٹ جاتی ہے اور جوڑنے سے جڑ جاتی ہے) قرابت کا درجہ اسی سے جدا ہے (وہ تخلیقی اور فطری ہے توڑنے سے ٹوٹتی نہیں) دوست کے گھر سے مال چرا کر تو چور دوستی کی حدود سے آگے بڑھ جاتا ہے (یہ عمل دوستی شکن ہے) اس فعل کی وجہ سے دوستی ہی باقی نہیں رہتی (لیکن قرابت قریبہ ہر صورت میں باقی رہتی ہے) ۔ بغوی نے لکھا ہے اندھے ‘ لنگڑے اور بیمار کھانا مانگنے کے لئے بعض مسلمانوں کے گھر جاتے تھے صاحب خانہ کے پاس کھلانے کے لئے کچھ موجود نہ ہوتا تو وہ اپنے ماں باپ کے گھر ان کو لے جاتا یا ان لوگوں میں سے کسی کے گھر لے جاتا جن کا ذکر آیت میں کیا گیا ہے ایسا کھانا کھانے میں ان معذوروں کو پس و پیش ہوتا اور وہ کہتے یہ ہم کو دوسروں کے گھر لئے پھرتا ہے اور وہاں سے بغیر اجازت کے لے کر ہم کو کھلاتا ہے اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ اس تشریح کے بموجب آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ نہ اندھوں ‘ لنگڑوں ‘ بیماروں کے لئے کوئی ممانعت ہے نہ تمہارے لئے کوئی گناہ ہے کہ ان معذوروں کے ساتھ مل کر تم اپنے گھروں سے یا اپنی اولاد ‘ اہل و عیال ‘ آباء و امہات ‘ اخوان و اخوات۔ اعمام و عمات اخوال و خالات وغیرہ وغیرہ کے گھروں سے لے کر کچھ کھاؤ۔ بغوی نے بحوالۂ عطا خراسانی حضرت ابن عباس ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ مال دار لوگ غریب قرابت داروں یا دوستوں کے گھر جاتے تھے اور وہ کھانا پیش کرتے تھے تو مال دار لوگ کہتے تھے ‘ بخدا ہم یہ گناہ نہیں کریں گے کہ تمہارے ساتھ کھانے میں شریک ہوجائیں ہم مالدار ہیں اور تم نادار ہو اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ لیس علیکم جناح ان تاکلوا جمیعا او اشتاتا تم پر کوئی گناہ نہیں اکٹھے ہو کر کھاؤ یا الگ الگ۔ بغوی نے لکھا ہے اس آیت کا نزول بنی لیث بن بکر کنانی کے متعلق ہوا اس قبیلہ کا ایک شخص تنہابغیر مہمان کے نہیں کھاتا تھا مہمان ساتھ کھانے کے لئے مل جاتا تو کھانا کھا لیتا ورنہ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ صبح سے بیٹھے بیٹھے شام ہوگئی اور کھانا سامنے رکھا رہا مگر اس شخص نے نہیں کھایا۔ اونٹنیوں کے تھنوں میں دودھ بھرا رہتا مگر وہ تنہا نہ پیتا (اس لئے دودھ دوہتا ہی نہ تھا) جب کوئی مہمان ہم مشرب ہونے کے لئے آجاتا تو پی لیتا۔ دن بھر مہمان کے نہ ملنے اور تنہا نہ کھانے کی وجہ سے بھوکا پیاسا رہتا۔ آخر جب شام ہوجاتی تو کچھ کھا لیتا۔ یہ بیان قتادہ ضحاک اور ابن جریج کا ہے۔ ابن جریر اور بغوی نے اس سلسلہ میں عکرمہ اور ابو صالح کا بیان اس طرح نقل کیا ہے کہ انصار کا دستور تھا کہ جب ان کا کوئی مہمان ہوتا تو اس وقت تک کھانا نہ کھاتے تھے جب تک مہمان کھانے میں ان کے ساتھ شریک نہ ہوجاتا۔ اس آیت میں ان کو اجازت دے دی گئی کہ جس طرح چاہیں کھائیں (مہمان کے ساتھ) اکٹھے ہو کر کھائیں یا الگ الگ کھائیں۔ فاذا دخلتم بیوتا فسلموا علی انفسکم پھر جب تم گھروں میں داخل ہو تو اپنوں کو سلام کرو۔ اپنے گھروں میں ہو یا غیر کے عَلَی اَنْفُسِکُمْسے مراد یہ ہے کہ آپس میں سلام کیا کرو۔ انفس کا اطلاق اس جماعت پر بھی ہوتا ہے جو ایک مذہب کے ہوں یا قرابت دار ہوں۔ اللہ نے فرمایا ہے لاَ تُخْرِجُوْا اَنْفُسَکُمْ مِنْ دِیَارِکُمْ لاَ تَلْمِزُوْا اَنْفُسَکُمْ ۔ ظَنَّ الْمُوؤمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِہِمْ خَیْرًا۔ بعض علماء نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ جب تم گھروں کے اندر داخل ہو اور وہاں کوئی نہ ہو تو خود اپنے آپ کو سلام کیا کرو۔ یعنی یوں کہا کرو۔ اَلسَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَاد اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ ۔ ایسی صورت میں ملائکہ سلام کا جواب دیتے ہیں 1 ؂۔ تحیۃ بطور دعا۔ تحیۃ کے معنی ہی سلام کرنا ہیں۔ اس لئے لفظ تحیۃً ۔ سَلِّمُوْاکا مفعول مطلق ہے۔ شیخین نے صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘ اللہ نے آدم ( علیہ السلام) کو اپنی (قائم کردہ) صورت میں پیدا کیا۔ آدم ( علیہ السلام) کے قد کی لمبائی ساٹھ ہاتھ تھی۔ بنا چکنے (اور پھونکنے) کے بعد فرمایا کہ جاؤ فرشتوں کی یہ جماعت جو بیٹھی ہوئی ہے اس کو سلام کرو اور سنو وہ تم کو کیا جواب دیتے ہیں۔ وہ جو جواب دیں گے وہی تمہارا اور تمہاری نسل کا جوابِ (سلام) ہوگا۔ آدم ( علیہ السلام) نے جا کر السلام علیکم کہا ‘ فرشتوں نے کہا السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔۔ الخ۔ من عنداللہ اللہ کی طرف سے۔ یعنی یہ سلام اللہ کی طرف سے شروع ہوا ہے ‘ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مّنْ عِنْدِاللّٰہِ کا تعلق تحیۃ سے ہو۔ کیونکہ تحیۃ کا معنی دعائے زندگی اور زندگی اللہ کی طرف سے ہوتی ہے۔ مبرکۃ برکت والی۔ یعنی جس کے ساتھ برکت ہو۔ برکت کا معنی ہے بھلائی کی زیادتی سو سلام علیک کے جواب میں کہے علیکم السلام والبرکۃ تم پر سلام ہو اور بھلائیوں کی زیادتی۔ بعض اہل علم نے کہا ‘ سلام کے جواب کو برکت کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس سے خبر میں زیادتی اور ثواب کی امید کی جاتی ہے۔ طیبۃ پاک ‘ یعنی نفاق اور ریاکاری سے پاک ‘ صاف دل سے نکلی ہوئی۔ بعض کے نزدیک طیبۃ کا یہ مطلب ہے کہ اس سے سننے والے کو خوشی حاصل ہوتی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا مُبٰرَکَۃَ طَیِّبَۃً سے مراد ہے اچھی خوبصورت ‘ حضرت انس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میرے کسی امتی سے ملو تو اس کو سلام کرو۔ اس سے تمہاری عمر لمبی ہوگی اور جب اپنے گھر میں داخل ہو تو گھر والوں کو سلام کرو۔ اس سے تمہارے گھر کی خیر بڑھے گی اور چاشت کی نماز پڑھا کرو۔ یہ صلوٰۃ اوابین (اللہ کی طرف لوٹنے والوں کی نماز) ہے۔ اخرجہ البیہقی ‘ فی شعب الایمان والثعلبی وحمزۃ بن یوسف الجرجانی فی تاریخ جرجان ‘ اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔ بغوی نے لکھا ہے اس آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ جو شخص اپنے گھر میں داخل ہو تو گھر والوں اور جو لوگ گھر کے اندر موجود ہوں ان کو یہ شخص سلام کرے۔ جابر ‘ طاؤس ‘ زہری ‘ قتادہ اور عمرو بن دینار کا بھی یہی قول ہے۔ قتادہ نے کہا اگر تم اپنے گھر میں داخل ہو تو اپنے گھر والوں کو سلام کرو۔ وہ تمہارے سلام کے زیادہ مستحق ہیں اور اگر خالی گھر میں داخل ہو جہاں کوئی نہ ہو تب (بھی سلام کرو اور) یوں کہو السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَاد اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ ہم سے بیان کیا گیا ہے کہ ملائکہ سلام کا جواب دیتے ہیں۔ بیہقی نے شعب الایمان میں قتادہ کی مرسل روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم باہر جاؤ تو اپنے گھر والوں کو سلام کے ساتھ رخصت کرو۔ ترمذی نے حضرت انس ؓ : کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (مجھ سے) فرمایا ‘ بیٹے جب تو گھر والوں کے پاس (گھر کے اندر) داخل ہو تو ان کو سلام کیا کر تیرے لئے اور تیر گھر والوں کے لئے برکت ہوگی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ‘ اگر گھر کے اندر کوئی نہ ہو تو یوں کہے السَّلاَمُ عَلَیْنَا مِنّ رَّبِّنَا السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَاد اللّٰہِ الصّٰلِحِیْنَ ‘ السَّلاَمُ عَلَی اَہْلِ الْبَیْتِ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِہم پر ہمارے رب کی طرف سے سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی ہو ‘ گھر والوں پر سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو۔ اس آیت کی توضیح میں عمرو بن دینار نے حضرت ابن عباس ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ جب تو مسجد میں داخل ہو تو یوں کہہ السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَاد اللّٰہِ الصَّلِحِیْنَ ۔ حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ : کا بیان ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا اسلام (میں) کون سا (عمل) سب سے اچھا ہے۔ فرمایا ‘ یہ کہ تم کھانا کھلاؤ اور (ہر شخص کو) سلام کرو۔ خواہ اس کو جانتے ہو یا نہ جانتے ہو۔ متفق علیہ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان کے مسلمان پر چھ حق ہیں اگر کوئی بیمار ہو تو اس کی عیادت کرے۔ اگر وہ مرجائے تو اس کے جنازے میں یہ حاضر ہو۔ اگر وہ دعوت کرے تو یہ دعوت کو قبول کرے۔ ملاقات ہو تو سلام کرے۔ اس کو چھینک آئے تو یہ یرحمک اللہ کہے ‘ اور سامنے موجود ہو یا نہ ہو بہرحال اس کی خیرخواہی کرے۔ رواہ النسائی۔ ترمذی اور بزار نے بھی اسی طرح کی حدیث نقل کی ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم جب تک مؤمن نہ ہو گے جنت میں نہ جاؤ گے اور جب تک آپس میں محبت نہ کرو گے مؤمن نہ ہو گے ‘ کیا میں تم کو ایسی بات نہ بتادوں کہ اگر تم اس کو کرو گے تو آپس میں محبت کرنے لگو گے۔ سلام (کے رواج) کو پھیلاؤ۔ رواہ مسلم۔ ابوہریرہ ؓ کی مرفوع روایت ہے سوار پیدل کو سلام کرے ‘ پیدل بیٹھے ہوئے کو اور تھوڑے (آدمی) بہت کو۔ متفق علیہ۔ بخاری نے حضرت ابوہریرہ ؓ : کی دوسری روایت نقل کی ہے اس میں (اتنا زائد) ہے چھوٹا بڑے کو (سلام کرے) حضرت عمران ؓ بن حصین راوی ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا ‘ السلام علیکم حضور ﷺ نے سلام کا جواب ویسا ہی دے دیا ‘ وہ شخص بیٹھ گیا ‘ حضور ﷺ نے فرمایا دس (نیکیاں ہوئیں یا دس ثواب لکھے گئے) کچھ دیر کے بعد ایک اور شخص آیا اور کہا السلام علیکم ورحمۃ اللہ ‘ حضور ﷺ نے اس کو بھی ویسا ہی جواب دے دیا۔ وہ بھی بیٹھ گیا اور حضور ﷺ نے فرمایا بیس۔ پھر ایک اور شخص آیا ‘ اس نے کہا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ حضور ﷺ نے اس کو بھی (ایسا ہی) جواب دے دیا۔ وہ بھی بیٹھ گیا ‘ حضور ﷺ نے فرمایا تیس 1 ؂۔ رواہ الترمذی وابو داؤد۔ ابو داؤد نے حضرت معاذ بن انس کی روایت سے بھی اسی کے ہم معنی حدیث نقل کی ہے۔ اس روایت میں اتنا زائد ہے کہ پھر ایک اور شخص آیا اس نے کہا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ومغفرتہ حضور نے فرمایا چالیس اور فضائل اسی طرح ہوتے ہیں۔ حضرت ابو امامہ کی مرفوع روایت ہے کہ سب سے زیادہ اللہ سے قرب رکھنے والا وہ شخص ہے جو سلام کی ابتداء کرتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے جو شخص کسی جلسہ میں پہنچے تو سلام کرے ‘ پھر اس کا دل بیٹھنے کو چاہے توبیٹھ جائے۔ پھر (واپسی کے وقت) جب اٹھے تو سلام کرے ‘ پہلا سلام دوسرے سلام سے زیادہ مستحق (ثواب) نہیں ہے۔ رواہ الترمذی وابو داؤد۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا اگر جماعت گزرے تو ان میں سے ایک کا سلام کرنا (سب کی طرف سے) کافی ہے اور بیٹھنے والوں میں سے بھی ایک کا جواب دے دینا کافی ہے۔ بغوی نے مصابیح میں اس کو حضرت علی ؓ : کا قول قرار دیا ہے اور بیہقی نے شعب الایمان میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد کہا ہے۔ کذلک یبین اللہ لکم الایت لعلکم تعقلون۔ اسی طرح اللہ کھول کھول کر تمہارے احکام بیان کرتا ہے تاکہ تم سمجھو۔ یہ تیسری تاکیدی آیت ہے جو علاوہ تاکید کے آخری احکام کی عظمت شان کو بھی ظاہر کر رہی ہے۔ نمبر اوّل اور نمبر دوئم آیات کے خاتمہ پر واللہ علیم حکیم فرمایا تھا اور اس آیت کا خاتمہ لَعَلَّکُمْ تعقلون پر فرمایا۔ اوّل و دوئم احکام کے خاتمہ پر اصل علت احکام بیان کردی ‘ یعنی اللہ کے علم و حکمت کا تقاضا یہی ہے اور اس آیت کے خاتمہ پر مقصد حکم کو ظاہر فرما دیا ہے کہ حق کو سمجھنا اور جو کام بہتر ہے اس کو جان لینا ان آیات کا اصل مقصد ہے۔ دلائل میں بیہقی نے اور ابن اسحاق نے عروہ اور محمد بن کعب قرظی کے حوالہ سے بیان کیا کہ جنگ احزاب کے سال (جب قریش اور غطفان کے قبائل وغیرہ مدینہ پر چڑھ آئے تو) قریش نے مدینہ میں چاہ رومہ کے مجمع الاسیال کے مقام پر اپنا پڑاؤ کیا ان کا کمانڈر ابو سفیان تھا اور غطفان (کے قبائل) نے آکر احد کے ایک طرف نقبین میں قیام کیا ‘ رسول اللہ ﷺ کو اطلاع مل چکی تھی آپ نے مدینہ کے گرد خندق کھدوا دی تھی خود بھی حضور خندق کھودنے میں مصروف عمل تھے اور مسلمان بھی کام میں لگے ہوئے تھے ‘ لیکن منافقوں میں سے کچھ لوگ سستی کر رہے تھے ‘ جھوٹ موٹ کام میں شریک تھے اور موقع پاتے ہی رسول اللہ ﷺ کے علم و اجازت کے بغیر گھروں کو چپکے سے سرک لیتے تھے پھر کسی مسلمان کو کوئی حادثہ درپیش ہوجاتا جس سے وہ مجبور ہوجاتا تو رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کردیتا اور اجازت لے کرجاتا تھا۔ اجازت ملنے پر ضرورت پوری کر کے فوراً واپس آجاتا تھا اس پر آیات ذیل آخر سورة تک نازل ہوئیں۔
Ayah 24:62

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اِذَا كَانُوْا مَعَهٗ عَلٰۤى اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ یَذْهَبُوْا حَتّٰى یَسْتَاْذِنُوْهُ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:62 in the Quran reader

مومن تو وہ ہیں جو خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور جب کبھی ایسے کام کے لئے جو جمع ہو کر کرنے کا ہو پیغمبر خدا کے پاس جمع ہوں تو ان سے اجازت لئے بغیر چلے نہیں جاتے۔ اے پیغمبر جو لوگ تم سے اجازت حاصل کرتے ہیں وہی خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں۔ سو جب یہ لوگ تم سے کسی کام کے لئے اجازت مانگا کریں تو ان میں سے جسے چاہا کرو اجازت دے دیا کرو اور ان کے لئے خدا سے بخششیں مانگا کرو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے

انما المؤمنون الذین امنوا باللہ ورسولہ مؤمن حقیقت میں صرف وہی ہیں جو (سچے دل سے) اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لائے ہیں۔ یعنی وہ لوگ حقیقت میں مؤمن نہیں جو زبان سے تو مؤمن ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر ان کے دل مؤمن نہیں ہیں۔ واذا کانوا معہ علی امر جامع لم ہذہبوا حتی یستاذنواہ ان الذین یستاذنونک اولئک الذین یومنون باللہ ورسولہ اور جب رسول ﷺ کے ساتھ کسی ایسے کام پر ہوتے ہیں جس کے لئے مجتمع کیا گیا ہے تو جب تک آپ ﷺ سے اجازت نہ لے لیں نہیں جاتے (اے رسول ﷺ جو لوگ آپ ﷺ سے ( ایسے موقع پر) اجازت لیتے ہیں پس وہی اللہ پر اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں۔ اَمْرٍ جَامِعٍاجتماعی کام ‘ ایسا کام جس کو انجام دینے کے لئے جمعیت ضروری ہے ‘ جیسے خندق کھودنا ‘ اجتماعی مشورہ ‘ جہاد ‘ جمعہ اور عیدین کی نمازیں وغیرہ۔ لَمْ یَذْہَبُوْا یعنی اس کام کو چھوڑ کر بچھڑ نہیں جاتے اور جس مقصد سے جمع ہوئے ہیں اس سے روگرداں نہیں ہوجاتے۔ حَتّٰی یَسْتَاْذِنُوْہُ یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ سے اجازت کے خواستگار ہوتے ہیں اور آپ ﷺ ان کو جانے کی اجازت دے دیتے ہیں (یعنی بغیراجازت حاصل کئے نہیں جاتے ‘ صرف طلب اجازت کو کافی نہیں سمجھتے) ۔ یہاں یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ مؤمنوں سے مراد کامل ایمان والے مؤمن ہیں یعنی جن مؤمنوں کی حالت کو بیان کیا گیا ہے وہ اس وقت موجود ہی تھے اور سب کامل الایمان تھے ‘ منافقوں سے ان کی حالت ہی جدا تھی۔ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَکَسختی اور مصیبت کے وقت رسول اللہ ﷺ : کا ساتھ نہ چھوڑنا اور مدد کرتے رہنا ان لوگوں کے ایمان کی کھلی ہوئی شہادت تھی۔ اس لئے بلیغ اسلوب بیان کے ساتھ پختہ طریقے سے ان کے مؤمن ہونے کو اس آیت میں دوبارہ ظاہر فرمایا ‘ مطلب یہ ہے کہ جو اجازت لینے کے بعد جاتے ہیں وہ قطعی مؤمن ہیں بلا اجازت لئے چلے جانے والے مؤمن نہیں ہیں۔ فاذا استاذنوک لبعض شانہم فاذن لمن شئت منہم سو اگر وہ اپنے کسی کام کے لئے (جانے کی) آپ سے اجازت طلب کریں تو آپ ﷺ (کو اختیار ہے آپ ﷺ جس کو چاہیں اجازت دے دیں۔ لِبَعْضِ شَاْنِہِمْیعنی ہر کام کے لئے اجازت لے کر چلے جانا مؤمن کی شان کے خلاف ہے ہاں اگر کوئی ضروری کام آپڑے جس کو انجام دیئے بغیر چارہ نہ ہو اور واپس جانا لازم ہو تو اس کے لئے اجازت لی جاسکتی ہے۔ لِمَنْ شِءْتَیعنی ہر طلب گار اذن کو اجازت دے دینا رسول پر لازم نہیں ورنہ اجازت طلب کرنے کا فائدہ ہی کیا ہے ‘ اجازت کی درخواست تو ہر ایک کرسکتا تھا۔ لِّمَنْ شِءْتَکی قید سے یہ بھی معلوم ہو رہا ہے کہ بعض احکام اللہ کے رسول ﷺ : کی رائے پر موقوف ہیں اور اسی طرح خلیفۂ وقت (کے امتیازی اختیار) کو ان میں دخل ہے۔ بعض لوگ اس اختیار تمیزی کے قائل نہیں تو ان کے نزدیک لّمَنْ شِءْتَکا یہ مطلب ہے کہ طلبگاران اذن میں سے جس کی سچائی کو تم جانتے ہو اور سمجھتے ہو کہ واقعی اس کو عذر ہے یا اجتماعی امر یعنی جس کام کے لئے مسلمانوں کا اجتماع کیا گیا ہے وہ کام زیادہ اجتماع کا مقتضی نہیں ہے یا اجازت لے کر جانے والے کی غیر حاضری سے اس کام میں خرابی نہیں آئے گی تو اجازت دے دو ۔ واستغفر لہم اللہ ان اللہ غفور رحیم۔ اور ان کے لئے اللہ سے مغفرت کی دعا کرو ‘ بلاشبہ اللہ بڑا معاف کرنے والا ‘ نہایت مہربان ہے۔ (ان کے اس قصور کو معاف فرما دے گا) یعنی اجازت لینے کے بعد بھی اجتماعی کام کو چھوڑ کر جانا بھی قصور ہے۔ امر دین پر دنیوی کام کو ترجیح دینا یقیناً ایک قسم کی کوتاہی ہے لیکن اللہ بلاشبہ بندوں کی فروگزاشتوں اور خطاؤں کو معاف کرنے والا اور ان کے لئے اپنی مہربانی سے سہولت پیدا کرنے والا ہے۔ (اس لئے معاف فرما دے گا) ۔ بغوی نے لکھا ہے اہل تفسیر نے اس آیت کے شان نزول میں کہا ہے کہ جمعہ کے روز جب رسول اللہ ﷺ (خطبہ دینے کے لئے) منبر پر پہنچ جاتے تھے اور اس وقت کسی شخص کو مسجد سے باہر جانے کا کوئی عذر پیش آجاتا تھا تو وہ مسجد سے باہر نہیں نکلتا تھا بلکہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے جا کر کھڑا ہوجاتا تھا۔ حضور ﷺ پہچان جاتے تھے کہ یہ جانے کی اجازت کا خواستگار ہے ‘ آپ ﷺ ایسے لوگوں میں سے جس کو چاہتے تھے اجازت دے دیتے تھے۔ مجاہد نے کہا جمعہ کے دن (خطبہ کے وقت) امام کی طرف سے ہاتھ سے اشارہ کردینا ہی اذن ہے۔ اہل علم کہتے ہیں ‘ مسلمانوں کے ہر اجتماعی کام کا یہی حکم ہے۔ جب امام کے ساتھ لوگ کسی اجتماعی کام کے لئے جمع ہوں تو بغیر اجازت امام کے اجتماع کو چھوڑ کر نہ جائیں اور امام کو اختیار ہے کہ جب کوئی جانے کے لئے اجازت مانگے تو جس کو چاہے اجازت دے دے نہ چاہے نہ دے۔ اجازت طلب کرنے اور اجازت دینے نہ دینے کی تفصیل اس وقت ہے جب ٹھہرے رہنے سے کوئی اضطراری سبب مانع نہ ہو۔ اگر اضطراری سبب پیدا ہوگیا تو اجازت طلب کرنے کی ضرورت نہیں ہے ‘ مثلاً مسجد میں کسی عورت کو حیض شروع ہوگیا یا کوئی جنب ہوگیا یا کسی کو کوئی (شدید) مرض لاحق ہوگیا ‘ ایسے حالات میں اجازت طلب کرنا لازم نہیں۔
Ayah 24:63

لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا١ؕ قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا١ۚ فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 24:63 in the Quran reader

مومنو پیغمبر کے بلانے کو ایسا خیال نہ کرنا جیسا تم آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہو۔ بےشک خدا کو یہ لوگ معلوم ہیں جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ہیں تو جو لوگ ان کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو ڈرنا چاہیئے کہ (ایسا نہ ہو کہ) ان پر کوئی آفت پڑ جائے یا تکلیف دینے والا عذاب نازل ہو

لا تجعلوا دعآء الرسول بینکم کدعآء بعضکم بعضا رسول کے بلانے کو آپس میں تم ایسا نہ قرار دو جیسا تم ایک دوسرے کو بلاتے ہو 1 ؂۔ دُعَآء الرَّسُوْلِمیں فاعل کی طرف اضافت ہے اور مفعول محذوف ہے ‘ مطلب یہ کہ کسی امر جامع (اجتماعی امر) کے موقع پر رسول اللہ ﷺ تم کو بلائیں تو تم فوراً حکم کی تعمیل کرو اور یہ نہ سمجھو کہ رسول کا بلاوا بھی ایسا ہی ہے جیسا تم آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہو کہ جس کو بلایا جاتا ہے اس کا دل چاہا گیا دل نہ چاہا نہ گیا اور چلا بھی گیا تو جب ارادہ ہوا بغیر اجازت لئے اٹھ کر چلا آیا ‘ رسول کی دعوت پر لبیک کہنی فرض ہے اور بلا اجازت لئے یونہی چھوڑ کر چلا آنا حرام ہے اس تفسیر پر اس آیت کا مطلب ویسا ہی ہوگا جیسا دوسری آیت میں فرمایا ہے۔ یٰاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَآ کُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ ۔ مجاہد نے کہا دُعَاء الرَّسُوْلِ (میں اضافت مفعول کی طرف ہے) یعنی جب تم رسول کو بلاؤ یا پکارو تو اس طرح نہ بلاؤ جیسے آپس میں ایک دوسرے کو بلاتا اور پکارتا ہے۔ بلکہ تعظیم و تکریم کے ساتھ بلاؤ۔ اللہ کے رسول کو ان کا نام لے کر نہ پکارو۔ ابو نعیم نے الدلائل میں ضحاک کی سند سے حضرت ابن عباس ؓ : کا بیان نقل کیا ہے کہ (دیہاتی اعرابی لوگ) یا محمد یا ابا القاسم کہتے تھے ‘ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اس حکم کے بعد وہ لوگ یا نبی اللہ یا رسول اللہ ﷺ : کہہ کر خطاب کرنے لگے۔ یہ تشریح آیت کے سیاق وسباق کے مناسب نہیں ہے کیونکہ پچھلا کلام تو اجازت طلب کرنے نہ کرنے کے سلسلہ میں تھا (اور یہاں رسول کو پکارنے اور بلانے کا طریقہ بتایا گیا ہے۔ دونوں کلاموں میں کوئی ربط نہیں) اس کے علاوہ نفس عبارت بھی اس مطلب سے انکار کرتی ہے کیونکہ دُعَآءَ بَعْضِکُمْ بَعْضًًا مشبہ بہ ہے اور اس میں لفظ بعض (اول) فاعل ہے دعاء کی اس کی طرف اضافت ہے۔ کیونکہ بعضاً منصوب ہے اس لئے یقینی طور پر مفعول ہے پس عبارت کا تقاضا ہے کہ دعاء الرسول (مشبہ) میں بھی دعا کی اضافت فاعل کی طرف ہو۔ بغوی نے لکھا ہے حضرت ابن عباس ؓ نے آیت کا (تشریحی) معنی اس طرح بیان کیا (تم اللہ کے رسول کو ناراض نہ کرو) تم کو ان کی بددعا سے ڈرتے رہنا چاہئے ‘ ان کی بددعا موجب (عذاب) ہے دوسروں کی بددعا کی طرح نہیں ہے۔ بخاری نے صحیح میں حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ کچھ یہودی خدمت گرامی میں حاضر ہوئے اور کہا السام علیک (تم پر ہلاکت ہو ‘ تم کو موت آجائے) حضور ﷺ نے فرمایا وعلیکم (اور تم پر بھی) حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا السام علیکم و لعنۃ اللہ وغضب علیکم (تم کو موت آئے تم پر اللہ کی لعنت ہو اور غضب ٹوٹے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عائشہ ! نرمی کرو۔ نرم کلام اختیار کرو ‘ سخت کلامی اور بےہودہ بات کہنے سے پرہیز رکھو۔ حضرت عائشہ ؓ نے عرض کیا ‘ کیا آپ نے نہیں سنا کہ انہوں نے کیا کہا تھا۔ فرمایا کیا تم نے نہیں سنا کہ میں نے ان کو کیا جواب (لوٹا کر) دیا تھا ‘ میری دعا ان کے بارے میں قبول کی جائے گی اور ان کی دعا میرے بارے میں قبول نہ ہوگی۔ میں کہتا ہوں اس مطلب پر عَلَیْکُمْکا لفظ محذوف قرار دیا جائے گا اور اصل کلام اس طرح ہوگا لاَ تَجْعَلُوْا دُعَآء الرَّسُوْلِ عَلَیْکُمْ کَدُعَآءِ بَعْضِکُمْ عَلٰی بَعْضٍ ۔ (مادۂ دعا کے بعد اگر علیٰ آتا ہے تو بد دعا کا معنی ہوتا ہے اور اگر اس کے بعد لام آئے مثلاً لَہُمْ ‘ لَکَ ‘ لَہٗ لِیْوغیرہ تو اچھی دعا کا معنی ہوگا اور کوئی صلہ یعنی رابط اور حرف جر نہ ہو تو پکارنے بلانے اور اچھی بری دعا کرنے کا معنی ہوگا۔ مترجم) ۔ مگر اس تفسیر پر یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ تم میں سے چھوٹے بڑوں کو پکارتے ہیں اور بڑے کبھی ان کی پکار کو قبول کرلیتے ہیں کبھی ان کی درخواست رد کردیتے ہیں۔ تم ان کی طرح رسول کی دعا کو نہ سمجھو رسول جب اپنے رب سے کوئی دعا کرتے ہیں تو ان کی دعا رد نہیں کی جاتی ضرور قبول ہوتی ہے۔ قد یعلم اللہ الذین یتسللون منکم لواذا تم میں سے جو لوگ (دوسروں کی) آڑ لے کر چپکے سے سرک جاتے ہیں اللہ ان سے واقف ہے۔ سَلٌّچپکے سے کسی چیز کو کسی چیز میں سے کھینچ لینا اور پوشیدہ طور پر نکال لینا۔ پوشیدہ چوری پر اس کا اطلاق اسی وجہ سے کیا جاتا ہے۔ سلَّ البعیرُ فی جوف اللیلرات میں اونٹ چپکے سے پوشیدہ طور پر نکل کر چلا گیا۔ اِنْسَلَّاور استلَّ : بھی اس کا ہم معنی ہے ‘ کذا فی القاموس۔ لِواذًا ‘ لواذباب مفاعلتہ کا مصدر ہے۔ لاَ وَذَ یلاُوِذُ لواذًا۔ مجرد کا مصدر لیاذا آتا ہے اس لئے ثلاثی مجرد کا مصدر نہیں ہے ‘ لیاذکا معنی ہے دوسرے کی پناہ پکڑنا دوسرے سے چمٹ جانا ‘ دوسرے کے ساتھ مل جانا ‘ ایک منقول دعاء میں آیا ہے اللّٰہُمَّ اَلُوذْبِکَاے اللہ ! میں تیری پناہ پکڑتا ہوں۔ لواذ (باب مفاعلت سے مشارکت کو چاہتا ہے) کا معنی یہ ہے کہ ایک دوسرے کی اور دوسرا پہلے کی پناہ میں چلا جائے (باہم ایک دوسرے کی آڑ پکڑ لیں) آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ چھپ کر نکل جاتے ہیں ‘ ایک دوسرے کی آڑ لے کر سرک جاتا ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ جن لوگوں کو جانے کی اجازت مل جاتی ہے ان کی آڑ لے کر ان کے ساتھ یہ بھی نکل جاتے ہیں۔ قاموس میں ہے لوذ ‘ لِواذ کی طرح کسی چیز کے ذریعہ سے چھپ جانا آڑ پکڑ لینا۔ خندق کی کھدائی کے وقت منافقوں کی بھی یہی حالت تھی جیسا کہ ابن اسحاق اور بیہقی نے عروہ اور محمد بن کعب قرظی کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ منافق پوشیدہ طور پر رسول اللہ ﷺ : کا ساتھ چھوڑ کر واپس چلے جاتے تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا جمعہ کے دن مسجد میں ٹھہرنا اور رسول اللہ ﷺ : کا خطبہ سننا گوارا نہ تھا اس لئے بعض صحابہ ؓ کی آڑ لے کر مسجد سے پوشیدہ طور پر نکل جاتے تھے۔ قَدْ یَعْلَمُ اللّٰہُاللہ جانتا ہے یعنی اللہ سزا دے گا ‘ سزا علم کے بعد ہوتی ہے (اس لئے علم کا لفظ بول کر سزا مراد لی) ۔ فلیحذر الذین یخالفون عن امرہ ان تصیبہم فتنۃ او یصیبہم عذاب الیم۔ پس جو لوگ اللہ کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو اس سے ڈرنا چاہئے کہ ان پر (دنیا میں) کوئی آفت (نہ) آن پڑے یا (آخرت میں) ان پر کوئی دردناک عذاب (نہ) آجائے۔ عَنْ اَمْرِہٖمیں بعض کے نزدیک عن زائد ہے (کیونکہ یُخَالِفُوْنَ کا باب بغیر وساطت کے خود متعدی ہے اس کا صلہ عن نہیں آتا) ۔ مطلب یہ ہے کہ مخالف سمت کو چلتے ہیں۔ بعض علماء نے کہا مخالفت کے اندر اعراض کا مفہوم داخل ہے لفظ عن اسی اعراض پر دلالت کر رہا ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے حکم کی طرف سے کتراتے ہیں۔ خَالَفَہَ عَن الْاَمْرِ اس سے اعراض کیا کترایا۔ اس صورت میں مفعول محذوف ہوگا۔ عَنْ اَمْرِہٖکی ضمیر یا اللہ کی طرف راجع ہے یا رسول کی طرف۔ فِتْنَۃٌ بر قول مجاہد فتنہ سے مراد ہے دنیوی مصیبت اور دکھ اور عذاب الیم سے مراد ہے آخرت کا عذاب۔ یعنی جو لوگ اللہ کے امر کے خلاف راہ اختیار کرتے ہیں ان کو ڈرنا چاہئے کہ کہیں ان پر کوئی دنیوی آفت و مصیبت آپڑے یا عذاب الیم میں مبتلا ہوجائیں۔ کچھ علماء قائل ہیں کہ اگر امر کے واجب ہونے یا مستحب ہونے وغیرہ کا کوئی قرینہ نہ ہو (اور قرینہ سے کسی معنی کی تعیین نہ ہوتی ہو) تو (اصل لغت کے لحاظ سے) امر وجوب کے لئے ہوتا ہے مطلق امر مشترک نہیں ہے نہ وجوب و استحباب کے درمیان جیسا کہ امام شافعی کہتے ہیں نہ وجوب استحباب اور اباحت کے درمیان نہ وجوب استحباب اباحت اور تہدید کے درمیان جیسا کہ شیعہ قائل ہیں (خلاصہ یہ کہ صیغۂ امر کی وضع حقیقی وجوب کے لئے ہے دوسرے معانی میں استعمال مجازی ہے جو قرینہ پر موقوف ہے لفظ امر مشترک بعین المعانی نہیں ہے) شیعہ کے قول کے مطابق ہی ابن شریح کا قول بھی روایت میں آیا ہے۔ مطلق امر کو جو لوگ وجوب کے لئے کہتے ہیں ان کی تائید اس آیت سے بھی ہوتی ہے کیونکہ آیت میں مخالفت امر کی صورت میں دنیوی مصیبت اور آخرت کے عذاب سے ڈرایا گیا ہے اور ظاہر ہے کہ خوف مصیبت اور عذاب کا ڈر ترک واجب یا ارتکاب حرام کی صورت میں ہی ہوسکتا ہے۔
Ayah 24:64

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قَدْ یَعْلَمُ مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ١ؕ وَ یَوْمَ یُرْجَعُوْنَ اِلَیْهِ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 24:64 in the Quran reader

دیکھو جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ جس (طریق) پر تم ہو وہ اسے جانتا ہے۔ اور جس روز لوگ اس کی طرف لوٹائے جائیں گے تو جو لوگ عمل کرتے رہے وہ ان کو بتا دے گا۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔

الا ان للہ ما فی السموت والارض خوب سن لو کہ آسمانوں میں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ درحقیقت اللہ ہی کا ہے۔ یعنی اللہ ہی اس کا خالق ومالک ہے۔ قد یعلم ما انتم علیہ تم جس حالت پر ہو وہی اس کو جانتا ہے یعنی ایمان ہو یا نفاق موافقت امر ہو یا مخالفت۔ یہ تمام مکلفین کو خطاب ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ صرف منافقوں کو خطاب ہو اور قَدْ یَعْلَمُسے سابق مضمون کی تاکید مراد مقصود ہو کیونکہ جو ذات ساری کائنات کی خالق اور مالک ہے تو لازمی بات ہے کہ وہ تمام مخلوقات و مملوکات کے احوال سے واقف بھی ہوگی۔ ویوم یرجعون الیہ فینبۂم بما عملوا اور جس روز لوگ اللہ کی طرف لوٹا کر لائے جائیں گے (اس روز) اللہ ان کو ان کے کئے ہوئے اعمال سے آگاہ کر دے گا۔ یعنی اچھے برے عمل کی جزا و سزا پوری دے گا۔ فَیُنَبِّءُہُمْمیںزائد ہے اور یَوْمَ یُرْجَعُوْنَ ۔ یُنَبِّءُہُمْکا ظرف (مفعول فیہ) ہے ‘ جیسے آیت لِاِیْلَافِ قُرْیِشٍ اِیْلاَفِہِمْ رِحْلَۃَ الشِّتَاَءِ وَالصَّیْفِ فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ ہٰذَا الْبَیْتِمیں لایلاف کا تعلق لیعبدوا سے ہے اور فلیعبدوا میںزائد ہے) ۔ واللہ بکل شی علیم۔ اور اللہ ہر چیز سے بخوبی واقف ہے ‘ یعنی کوئی چھپی چیز بھی اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔ بغوی نے حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘ عورتوں کو بالا خانوں پر نہ رکھو اور ان کو لکھنا نہ سکھاؤ (بلکہ) ان کو چرخہ کی اور سورت نور کی تعلیم دو ۔ اللہ نے اللہ کے رسول ﷺ نے اور صحابہ کرام ؓ نے سچ فرمایا۔ الحمدللہ سورت نور کی تفسیر 26 رمضان 1304 ھ ؁ کو ختم ہوئی اس کے بعد انشاء اللہ سورة فرقان کی تفسیر آرہی ہے۔ بعون اللہ وحمدہ۔ سورة نور کی تفسیر کا ترجمہ 25 جمادی الثانی 1390 ھ ؁ کو ختم ہوا۔ فالحمد قبل والحمد بعد لہ والصلوۃ علی رسولہ محمد واتباعہ۔