Ayah 24:7والخامسۃ ان لعنۃ اللہ علیہ ان کان من الکذبین۔ اور پانچویں شہادت یہ ہو کہ اگر وہ جھوٹا
ہو تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔
مسئلہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی پر تہمت زنا لگائے یا یہ کہے کہ یہ حمل میرا نہیں ہے اور دونوں اہل لعان بھی ہوں (جس کی اختلافی بحث اوپر گزر چکی) اور عورت قذف کی سزا کا مطالبہ کرے تو شوہر پر لعان کرنا واجب ہوجاتا ہے اگر مرد لعان سے انکار کر دے تو امام ابوحنیفہ کے نزدیک حاکم اس کو قید رکھے جب تک وہ لعان نہ کرے یا اپنے جھوٹے ہونے کا اقرار نہ کرے اگر خود اپنے جھوٹے ہونے کا اقرار کرلے تو اس پر حد قذف جاری کرے۔
امام مالک (رح) ‘ امام شافعی (رح) اور امام احمد کے نزدیک صورت مذکورہ میں قید نہیں کیا جائے گا بلکہ لعان سے انکار کرتے ہی اس پر حد قذف جاری کی جائے گی کیونکہ قذف تو حد شرعی کے اجراء کو ہی چاہتا ہے لعان کی صورت تو شوہر کی سچائی کو ظاہر کرنے کے لئے قائم کی گئی تھی اور جب قاذف خود اپنی سچائی ظاہر کرنے سے قاصر ہو تو فوراً حد جاری کرنے کا مستحق ہوجاتا ہے۔ قید کا مستحق نہیں ہوجاتا۔
امام شافعی (رح) کے نزدیک لعان سے انکار کرنے سے فاسق ہوجاتا ہے۔ امام مالک کہتے ہیں صرف انکار سے فاسق نہیں ہوجاتا۔
امام ابوحنیفہ (رح) : کی دلیل یہ ہے کہ لعان سے انکار کرنا اپنے جھوٹے ہونے کا اقرار ہے لیکن اس میں کسی قدر شبہ ہے (کیونکہ صراحۃً اس نے اقرار کذب نہیں کیا ہے) اور شبہ کی صورت میں حد جاری نہیں کی جاسکتی مجبوراً اس کو قید کیا جائے گا تاکہ وہ یا لعان پر تیار ہوجائے اور لعان کرے یا صراحۃً اپنے جھوٹے ہونے کا اقرار کرے تاکہ اس پر حد قذف جاری کی جاسکے۔
اگر شوہر لعان کرلے تو عورت پر بھی لعان کرنا امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک واجب ہوجاتا ہے اگر وہ انکار کرے تو حاکم اس کو قید کر دے اور اتنی مدت قید رکھے کہ وہ لعان کے لئے تیار ہوجائے یا زنا کا اقرار کرلے اور شوہر کی تصدیق کر دے۔
امام شافعی (رح) کے نزدیک اگر زوج نے لعان کرلیا تو عورت و مرد میں فرقت ہوگئی اور ہمیشہ کے لئے اس پر عورت حرام ہوگئی اور بچے کی نسبت بھی اس کی طرف نہیں ہوگی کیونکہ رسول اللہ ﷺ : کا ارشاد ہے کہ دونوں لعان کرنے والے کبھی جمع نہیں ہوں گے۔
ہم کہتے ہیں لعان اس وقت تک متحقق نہیں ہوتا جب تک عورت بھی لعان نہ کرلے (کیونکہ لعان باب مفاعلۃ سے ہے اور دونوں کی شرکت کے بغیر باب مفاعلۃ کا مصدر متحقق نہیں ہوتا) اس لئے صرف شوہر کے لعان کرنے سے تفریق نہیں ہوسکتی۔ جب تک دونوں لعان نہ کریں فرقت واقع نہ ہوگی۔
Ayah 24:8ویدروا عنہا العذاب ان تشہد اربع شہادت باللہ انہ لمن الکذبین۔ اور عورت سے عذاب کو دور کر دے گا چار مرتبہ اللہ کو گواہ کر کے یہ شہادت دینا کہ وہ یعنی شوہر جھوٹا ہے
Ayah 24:9والخامسۃ ان غضب اللہ علیہا ان کان من الصدقین۔ اور پانچویں یہ کہ اللہ کا غضب آئے اس عورت پر اگر وہ شخص سچا ہے۔ العذاب سے مراد ہے حد زنا جس طرح آیت (فَعَلَیْہِنَّ نِصْفُ مَا عَلٰی الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَاب) ِمیں العذاب سے حد زنا مراد ہے رسول اللہ ﷺ نے حضرت ہلال کی بیوی سے فرمایا تھا وَاِنَّ عَذَاب اللّٰہِ اَشَدُّ مِنْ عَذَاب النَّاسِاللہ کا عذاب لوگوں کے عذاب یعنی حد زنا سے زیادہ سخت ہے۔
لَمِنَ الْکٰذِبِیْنَ کا یہ مطلب ہے کہ یہ شخص جو زنا کی تہمت مجھ پر لگا رہا ہے یا اپنا بچہ ہونے کا انکار کر رہا ہے ان دونوں باتوں میں یہ جھوٹا ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ پہلی بات میں جھوٹا ہے یا یہ مراد ہے کہ دوسری بات میں جھوٹا ہے۔ امام مالک (رح) ‘ امام شافعی (رح) اور امام احمد کے نزدیک مرد کے لعان کرتے ہی حد زنا عورت پر واجب ہوجاتی ہے۔ لیکن جب عورت لعان کرلیتی ہے تو وہ حد ساقط ہوجاتی ہے آیت کا مفہوم یہی ہے۔ آیت میں العذاب سے مراد حد زنا ہے۔
امام شافعی نے فرمایا عورت کے لعان کرنے سے صرف ایک ہی حکم کا تعلق ہوتا ہے یعنی حد زنا ساقط ہوجاتی ہے ‘ اگر مرد گواہوں سے زنا ثابت کر دے تو لعان بیکار ہے۔ حد زنا اس سے ساقط نہیں ہوسکتی۔ اب اگر عورت نے لعان سے انکار کردیا تو حد زنا واجب ہوگئی۔ امام صاحب نے فرمایا اگر عورت لعان سے انکار کر دے تو اس کو قید کردیا جائے گا اور اس وقت تک قید رکھا جائے گا کہ وہ یا تولعان کرے یا مرد کی تصدیق کرے اگر اس نے مرد کی تصدیق کردی تو وجوب لعان کا سبب (یعنی عورت کا انکار) نہ رہا اس لئے لعان کا حکم باقی نہیں رہا اور نہ حد زنا کا وجوب ہوگیا کیونکہ تصدیق براہ راست بالذات اقرار نہیں ہے اس لئے اس سے حد کا وجوب نہیں ہوجاتا ‘ ہاں لعان کا حکم جاری رہتا ہے اور اگر بالفرض تصدیق کو اقرار مان بھی لیا جائے تو ایک ہی مرتبہ حد زنا جاری کرنے کے لئے کافی نہیں ہے ‘ پھر یہ کہنا کہ یَدْرَؤْ عَنْہَا الْعَذَابَمیں العذاب سے مراد حد زنا ہے یہ بات بھی بلا دلیل ہے کیونکہ قید کرنا بھی مراد ہوسکتا ہے ‘ قید بھی عذاب ہے۔ بہرحال شبہ پیدا ہوگیا اور شبہات سے حدود ساقط ہوجاتی ہیں۔
مسئلہ اگر عورت نے اس بات کی تصدیق کردی کہ واقعی یہ بچہ شوہر کا نہیں ہے انکار ولد میں یہ سچا ہے تو امام ابوحنیفہ کے نزدیک اس صورت میں نہ لعان کا حکم باقی رہے گا نہ حد زنا ثابت ہوگی اور بچہ دونوں کا مانا جائے گا کیونکہ لعان ہوجاتا تو بچے کی نسبت پھر شوہر سے نہ ہوتی لیکن لعان نہ ہوا اور زوجین سے نسبی الحاق بچے کا حق ہے اس لئے زوجین کے کہنے سے اس حق کا ابطال نہیں ہوسکتا۔
میں کہتا ہوں امام شافعی (رح) اور امام ابوحنیفہ (رح) دونوں کے قول میرے لئے تعجب خیز ہیں ‘ امام شافعی (رح) کے قول پر تو تعجب کی وجہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک لعان (یعنی لعان کی شہادت) قسم ہے اسی لئے وہ مرد کیلئے شہادت کی اہلیت کی شرط ضروری نہیں قرار دیتے اور ہر مرد کے لئے لعان کا حکم جاری کرتے ہیں خواہ قاذف غلام ہو یا کافر یا اس سے پہلے تہمت زنا کا سزا یافتہ ہو (کیونکہ یہ سب لوگ قسم کھا سکتے ہیں گو اہل شہادت نہیں ہیں) اور ظاہر ہے کہ قسم موجب مال بھی نہیں ہوسکتی (اگر مدعی قسم کھا کر کہے کہ میرا اتنا روپیہ فلاں شخص پر قرض ہے اور مدعیٰ علیہ انکار کرے اور مدعی کے پاس ثبوت کے گواہ نہ ہوں تو مدعی کے صرف قسم کھانے سے مال کا وجوب مدعی علیہ پر نہیں ہوجاتا) اور جب قسم سے وجوب مال نہیں ہوجاتا تو عورت کو سنگسار کرنے کا وجوب کیسے ہوسکتا ہے۔ رجم تو ہر حد سے زیادہ سخت سزا ہے۔
امام صاحب کا قول یوں عجیب معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے نزدیک لعان قسم نہیں شہادت ہے اسی لئے لعان کرنے والے کے لئے شہادت کی اہلیت ان کی نظر میں ضروری ہے اور یہ بھی امام صاحب نے فرمایا کہ ایک محل میں چار شہادتیں ایک ہی شخص کی یہ زنا کے شاہدوں کے قائم مقام ہیں زنا کے چار گواہ ہونے ضروری ہیں اس لئے شاہد نہ ہونے کی صورت میں چار بار خود شہادت دینی ضروری ہے اور یہ بھی آپ نے فرمایا کہ مرد کے حق میں یہ چار شہادتیں حد قذف کے قائم مقام ہیں اور عورت کی چار شہادتیں حد زنا کے قائم مقام ہیں پھر تعجب ہے کہ مرد کی چار مرتبہ شہادتوں کے بعد حد زنا عورت پر امام صاحب کے نزدیک کیوں واجب نہیں ہوجاتی۔ اللہ نے تو (یَدْرَؤَ عَنْہَا الْعَذَابَ ) فرمایا ہے یعنی عورت کے لعان سے عذاب ساقط ہوجاتا ہے۔ درء کا لفظ خاص ہے اس کا معنی ہے ساقط کرنا یعنی موجب عذاب نہ رہے تو عذاب ساقط ہوجاتا ہے۔ (معلوم ہوتا ہے کہ انکار لعان کی صورت میں حد زنا کا وجوب ہوجاتا ہے اور لعان کے بعد حد زنا کا سقوط ہوجاتا ہے) ۔ عورت کے حق میں جو لعان کو حد زنا کے قائم مقام قرار دیا گیا ہے اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اگر عورت لعان کرے گی تو حد زنا اس پر جاری نہ ہوگی اور لعان سے انکار کر دے گی تو حد زنا جاری ہوگی (انکار لعان کی صورت میں قید کردینے کی سزا کہاں سے نکل سکتی ہے عورت کا لعان تو حد زنا کے قائم مقام ہے قید کے قائم مقام نہیں ‘ پس لعان سے انکار کی صورت میں حد زنا جاری ہوجانی چاہئے۔ )
ایک شبہ شوہر کی چار شہادتیں اگرچہ چار مرد گواہوں کی شہادتوں کے قائم مقام ہیں ‘ لیکن قائم مقام ہونے کا یہ معنی نہیں کہ ان سے زنا کا یقینی ثبوت ہوجاتا ہے ان چار شہادتوں کا چارگواہوں کی شہادتوں کے قائم مقام ہونا مشتبہ ضرور ہوتا ہے اس لئے حد قذف تو اس کی وجہ سے ساقط ہوجائے گی اور حد زنا ثابت نہیں ہوگی۔ حدود شبہات سے ساقط ہوجاتی ہیں۔
ازالہ مدعی کی چار شہادتوں کا چار مردوں کی شہادتوں کے قائم مقام ہونا تو یقینی اور قطعی ہے اس کا ثبوت قرآن سے بھی ہے اور حدیث سے بھی اور اجماع امت سے بھی ‘ ہاں زنا کا قطعی ناقابل شک ثبوت مدعی کی چار شہادتوں سے نہیں ہوتا تو چار گواہوں کی شہادتوں سے بھی ناقابل شک ثبوت زنا کا نہیں ہوتا۔ ہوسکتا ہے کہ چاروں نے جھوٹی شہادت دینے پر اتفاق کرلیا ہو اور کوئی خبر بھی ایسی نہیں ہوتی کہ اس میں جھوٹی ہونے کا احتمال ہی نہ ہو۔ ہاں اگر حد تواتر تک پہنچ جائے اور خبر دینے والا منجانب اللہ معصوم ہو تو ضرور موجب یقین اور قطعیت ہوجاتی ہے۔ دو یا چار گواہوں کی شہادت پر حاکم جو فیصلہ کردیتے ہیں وہ صرف حکم شریعت کی تعمیل ہے اس سے غلبۂ ظن حاصل ہوجاتا ہے اور غلبۂ ظن کی بنا پر حاکم فیصلہ کردیتا ہے یہ مطلب نہیں کہ اس سے حاکم کو یقین ہوجاتا ہے مگر وہ حکم شریعت کی وجہ سے معذور ہے۔
جب چار مردوں کی شہادتوں سے زنا کا ثبوت (شرعی) ہوجاتا ہے اور حد زنا جاری ہوجاتی ہے تو مدعی کا چار مرتبہ قسم کھا کر شہادت دینا تو زیادہ موجب ثبوت ہونا چاہئے۔ اس کی شہادتیں تو اتنی پختہ ہوتی ہیں کہ دروغ ہونے کی صورت میں وہ اپنے لئے اللہ کی لعنت کا خواستگار ہوتا ہے۔ پھر وہ عادل بھی ہوتا ہے فاسق نہیں ہوتا۔ شہادت کی ہر طرح اہلیت بھی رکھتا ہے اور اسی کے ساتھ عورت لعان سے انکار بھی کرتی ہے۔ دیکھو چار آدمی (جھوٹ پر) اگر متفق ہوجائیں تو ناممکن نہیں ہے اور کسی عورت کا شوہر اگر اس پر زنا کی تہمت لگاتا ہے اور عورت کو یقین بھی ہے کہ اگر میں لعان کرلوں گی تو زنا کی سزا سے بچ جاؤں گی اور باوجود اس کے وہ لعان سے گریز کرتی ہے تو ظاہر ہے کہ وہ شوہر کی تصدیق کرتی ہے رہی یہ بات کہ شبہ سے حدود ساقط ہوجاتی ہیں تو اس سے مراد اس قسم کا شبہ نہیں ہے یہ شبہ شریعت کی نظر میں ہیچ ہے ایسا شبہ تو بہرحال باقی رہتا ہے ‘ چار شخص گواہی دے دیں یا شوہر لعان کرلے اور عورت لعان سے انکار کر دے بہرحال جھوٹ کا وہم تو باقی رہتا ہی ہے۔
پس میرے نزدیک امام ابوحنیفہ (رح) نے شوہر کے لئے اہلیت شہادت کی جو شرط ضروری قرار دی ہے اور عورت کے متعلق فرمایا ہے کہ وہ اس درجہ کی ہو کہ اس پر الزام رکھنے والے کو (ثبوت نہ ہونے کی صورت میں) قذف کی سزا دی جاسکے امام صاحب کا یہ قول زیادہ صحیح اور قابل ترجیح ہے اسی طرح امام شافعی (رح) نے جو فرمایا ہے کہ اگر عورت لعان سے گریز اور انکار کرے تو اس پر حد زنا جاری کی جائے سو امام شافعی کا یہ قول اقرب الی الصحت ہے۔
مسئلہ امام شافعی (رح) : کا قول اوپر گزر چکا ہے کہ فقط مرد کے لعان کرتے ہی زوجین میں فرقت ہوجاتی ہے یہ قول بےدلیل ہے۔ امام زفر امام مالک اور (ایک روایت میں) امام احمد (رح) : کا قول ہے کہ جب دونوں لعان کر گزریں تو زوجین میں فرقت ہوتی ہے خواہ حاکم نے فیصلہ نہ کیا ہو لیکن امام ابوحنیفہ (رح) :‘ امام محمد (رح) :‘ امام ابو یوسف (رح) اور (ایک روایت میں) امام احمد (رح) : کا قول ہے کہ حاکم کے فیصلہ سے پہلے فرقت نہیں ہوجاتی خواہ دونوں لعان کرچکے ہوں ‘ فریقین کے لعان کر چکنے کے بعد دونوں میں تفریق کرا دینا حاکم پر واجب ہوجاتا ہے۔
امام ابوحنیفہ (رح) اور امام محمد (رح) کے نزدیک یہ فرقت ایک طلاق بائنہ ہوگی ‘ باقی اماموں کے نزدیک طلاق بائن نہیں ہے بلکہ اس کو فسخ نکاح قرار دیا جائے گا۔ موخر الذکر قول کی دلیل یہ ہے کہ حرمت رضاعت کی طرح لعان سے دوامی حرمت ہوجاتی ہے۔ (اور اسی کا نام فسخ ہے) صحیحین میں حضرت ابن عمر ؓ : کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دونوں لعان کرنے والوں (یعنی مرد اور عورت) سے فرمایا تمہارا حساب اللہ کے ذمے ہے یقینی بات ہے کہ تم دونوں میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے (مرد کو مخاطب کر کے فرمایا) اب تیری اس پر کوئی راہ نہیں (یعنی اس سے ملنے کا اب تیرے لئے کوئی راستہ نہیں رہا دوامی انقطاع ہوگیا) اس نے عرض کیا یا رسول اللہ میرا مال (یعنی جو مہر میں نے دیا اس کا کیا ہوگا) فرمایا اگر تو نے اس پر سچا الزام لگایا ہے تو مال (مہر) اس حلت کا معاوضہ ہوگیا جو تجھے اس سے جماع کرنے کی حاصل تھی (یعنی تو اس سے قربت کرچکا مہر اس کا معاوضہ ہوجائے گا) اور اگر تو نے اس پر جھوٹی تہمت لگائی ہے تو یہ مال بہت دور چلا گیا اس لئے تیرے لئے اب کوئی مال نہیں ہوسکتا۔ ابو داؤد نے حضرت سہل بن سعد کی راویت سے لعان کرنے والے مرد و عورت کے مقدمہ میں جو حدیث بیان کی ہے وہ اوپر گزر چکی ہے کہ دونوں میں (دوامی) تفریق کرا دی جائے کہ آئندہ کبھی دونوں نہ مل سکیں۔ دارقطنی نے حضرت علی ؓ اور حضرت ابن مسعود ؓ کی روایت سے بھی ایسا ہی بیان کیا ہے۔
شیخ ابن حجر نے لکھا ہے کہ حضرت علی ؓ حضرت عمر ؓ اور حضرت ابن مسعود ؓ سے اس باب میں روایات عبدالرزاق اور ابن ابی شیبہ کے مصنف میں منقول ہیں۔ ابو داؤد نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے حضرت ہلال بن امیہ کے قصہ کے آخر میں بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دونوں میں تفریق کرا دی اور حکم دے دیا کہ عورت پر تہمت زنا قائم نہ کی جائے اور نہ اس کے بچہ کو ولد الزناء کہا جائے۔
صحیحین میں حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک شخص نے اپنی بیوی سے لعان کیا۔ لعان کے بعد رسول اللہ ﷺ نے دونوں میں تفریق کرا دی اور بچہ کا نسب ماں سے ملا دیا۔ (لعان کرنے والے مرد کو اس کا باپ نہیں قرار دیا نہ بچہ کو ولد الزنا قرار دیا) جمہور ائمہ کے قول کی سب سے واضح دلیل وہ روایت ہے جو ہلال بن امیہ کے قصہ میں حضرت ابن عباس ؓ کے حوالے سے ابو داؤد نے سنن میں بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لعان کے بعد فیصلہ فرما دیا کہ (تفریق کے بعد) عورت کا نفقہ مرد پر نہیں ہے نہ رہنے کی جگہ دینا مرد کے ذمے ہے۔ کیونکہ دونوں میں تفریق ہوئی ہے نہ عورت بیوہ ہوئی ہے کہ اس کا شوہر مرگیا ہو نہ مرد نے اس کو طلاق دی ہے ‘ لعان کے بعد جب خود دوامی حرمت ثابت ہوگئی تو اب حاکم کی تفریق کی ضرورت نہیں۔ دوامی حرمت نکاح کے منافی اسی طرح ہے جس طرح حرمت رضاعت نکاح کے خلاف ہے اس لئے حرمت لعان کو فسخ نکاح قرار دیا جائے گا (طلاق بائنہ نہیں مانا جائے گا) ۔
امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا ثبوت حرمت فسخ نکاح کا تقاضا نہیں کرتا۔ دیکھو ظہار سے حرمت ہوجاتی ہے اور نکاح فسخ نہیں ہوتا (بلکہ کفارۂ ظہار ادا کرنے کے بعد پھر حلت ہوجاتی ہے) ہاں ثبوت حرمت کے بعد شوہر بیوی کو دستور شرعی کے مطابق اپنے پاس رکھنے سے جب قاصر ہے تو اچھی طرح بحسن و خوبی عورت کو آزاد کردینا اس پر لازم ہے اور جب اس نے ایسا نہیں کیا تو حاکم نے قائم مقام کی حیثیت سے عورت کو اس سے الگ کردیا تاکہ عورت پر ظلم نہ ہو۔ اس کا ثبوت صحیحین کی اس روایت سے ہوتا ہے جس کے راوی حضرت سہل بن سعد ہیں کہ دونوں کے لعان کر چکنے کے بعد عویمر نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اب اگر میں نے اس کو اپنے پاس روکے رکھا (یعنی اپنے نکاح میں رکھا) تو (گویا) میں نے اس پر جھوٹی تہمت تراشی کی چناچہ لعان کے بعد عویمر نے اس کو تین طلاقیں دے دیں اور رسول اللہ ﷺ نے طلاق دینے کے سلسلے میں اس کے خلاف کچھ نہیں فرمایا۔
دارقطنی نے جو حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے رسول اللہ ﷺ : کی حدیث نقل کی ہے کہ دونوں کو الگ الگ کردیا جائے آئندہ یہ کبھی جمع نہیں ہوسکتے۔ اس کا فرمان رسول ہونا محل نظر ہے۔ شیخ ابوبکر رازی نے اس کے فرمان رسول ہونے پر نکتہ چینی کی ہے۔
صاحب تنقیح نے لکھا ہے اس کی سند جید ہے (اس لئے اس کا فرمان رسول ہونا محقق ہے) اور اس کا مفہوم بتارہا ہے کہ صرف لعان کرنے سے دونوں الگ الگ نہیں ہوجاتے (بلکہ فرمان حاکم کی ضرورت ہے یا اس مرد کا طلاق دینا لازم ہے) امام شافعی (رح) کے خلاف اس حدیث کا مفہوم ایک بڑی دلیل ہے۔
رہی حضرت ابن عباس ؓ کی یہ روایت کہ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرما دیا کہ مرد پر عورت کا نہ نفقہ ہے نہ مسکن اس لئے کہ دونوں بغیر طلاق کے الگ الگ ہوجاتے ہیں تو نفقہ و مسکن نہ ہونے کی یہ دلیل حضرت ابن عباس ؓ کی اجتہادی رائے کا نتیجہ ہے ( رسول اللہ ﷺ نے یہ دلیل بیان نہیں فرمائی) مرفوع حدیث تو اتنی ہے کہ (لعان ہو چکنے کے بعد) مرد پر عورت کا نہ نفقہ ہے نہ حق سکنیٰ ۔ میں کہتا ہوں لعان کے بعد حرمت ہوجانا باجماع علماء ثابت ہے۔ امام شافعی ‘ امام زفر اور دوسرے ائمہ کے نزدیک تو حرمت کا ثبوت ظاہر ہے (کہ یہ حضرات لعان کو فسخ نکاح قرار دیتے ہیں اور لعان کے بعد بغیر حکم حاکم کے فرقت واقع ہوجاتی ہے) اور امام ابوحنیفہ (رح) کے قول پر بھی حرمت کا ثبوت یقینی ہے ورنہ رسول اللہ ﷺ لعان کے بعد دونوں میں تفریق نہ کراتے امام صاحب خود قائل ہیں کہ لعان کے بعد قاضی دونوں میں تفریق کرا دے۔
لیکن یہ حرمت دوامی ہے ‘ حرمت ظہار کی طرح نہیں ہے حرمت ظہار تو کفارہ ادا کرنے سے ختم ہوجاتی ہے اور حرمت دوامی نکاح کے بالکل منافی ہے ‘ ہنگامی حرمت سے تو نکاح باقی رہتا ہے (نکاح کے فائدے سے وقتی محرومی ہوجاتی ہے) اور حرمت دوامی کا معنی سوائے فسخ نکاح کے اور کچھ نہیں ہے اور جب لعان سے خود نکاح فسخ ہوگیا تو حاکم کے حکم کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی۔
ابن ہمام نے خود لکھا ہے کہ امام ابو یوسف کے قول پر قضاء قاضی پر تفریق موقوف نہیں رہتی کیونکہ قضاء قاضی سے پہلے ہی حرمت باتفاق علماء ثابت ہو چکتی ہے۔
امام صاحب کا یہ قول کہ چونکہ شوہر لعان کے بعد بیوی کو دستور شرعی کے مطابق اپنے پاس روک نہیں سکتا اس لئے حاکم عورت کو آزاد کر ادینے کا فیصلہ کر دے تسریح بالاحسان کے لئے قاضی شوہر کا قائم مقام ہے۔ یہ قول چاہتا ہے کہ لعان کے بعد قاضی شوہر کو طلاق دینے کا حکم دے اگر وہ طلاق نہ دے تو قاضی تفریق کا حکم جاری کر دے اور حکم تفریق بعد الانکار جاری کرنے کا تو کوئی بھی قائل نہیں نہ رسول اللہ ﷺ نے طلاق دینے کا حکم دیا (عویمر نے خود طلاق دی) ۔
رہی یہ بات کہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول (عورت کے لئے نہ نفقہ ہے نہ حق سکنیٰ کیونکہ بغیر طلاق کے دونوں میں تفریق ہوجاتی ہے) گو حدیث رسول اللہ ﷺ نہ ہو لیکن مرفوع کے حکم میں ہے کیونکہ آپ رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ کی حقیقت اور کیفیت سے واقف تھے (جانتے تھے کہ حضور ﷺ نے عورت کو نفقہ اور سکونت کے حق سے کیوں محروم قرار دیا) باقی یہ بات کہ جب تفریق لعان سے ہی ہوگئی تو عویمر نے طلاق دینی کیوں ضروری سمجھی تو اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ حضرت عویمر کو اس وقت تک معلوم نہ ہوگا کہ لعان سے خود تفریق ہوجاتی ہے۔
رہا مفہوم شرط کا شافعی (رح) کے نزدیک حجت ہونا تو بیشک شافعی مفہوم شرط کو حجت جانتے ہیں لیکن اس جگہ چونکہ دوامی حرمت ثابت ہے اس لئے مفہوم شرط پر عمل ترک کردیا گیا۔
یا یوں کہا جائے کہ اَلْمُتَلاَعِنَانِ اِذَا افْتَرَ قَالاَ یَجْتَمِعَانِ اَبَدًا کا یہ مطلب ہے کہ جب دونوں لعان کرچکے تو دونوں جدا ہوگئے ‘ آئندہ کبھی دونوں ساتھ نہیں رہیں گے امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک حدیث المتبایعان بالخیار ما لم یتفرقا کا یہ مطلب ہے کہ جب تک ایجاب و قبول نہ ہوگیا ہو اور قولی تفریق نہ ہوگئی ہو اس وقت تک ہر شخص کو بیع نہ کرنے کا اختیار ہے۔ (یعنی اس حدیث میں امام صاحب کے نزدیک تفرق سے مراد قولی تفرق ہے پس اسی طرح حدیث اِذَا افْتَرَقَا لاَ یَجْتَمِعَانِمیں افتراق قولی (یعنی قول لعان) مراد ہے۔
مسئلہ لعان کر چکنے کے بعد اگر شوہر خود اپنی تکذیب کرلے اور اپنے جھوٹے ہونے کا اظہار کر دے تو کیا عورت سے دوبارہ اس کا نکاح ہوسکتا ہے یہ مسئلہ اختلافی ہے۔
امام شافعی (رح) اور امام مالک (رح) کے نزدیک اس کا اقرار تکذیب مان تو لیا جائے گا لیکن صرف اس حد تک کہ جھوٹی تہمت زنا لگانے سے جو ضرر اس کو پہنچتا ہے وہ پہنچ جائے گا اور جو فائدہ پہنچ سکتا ہے وہ نہ پہنچے گا مطلب یہ کہ حد قذف اس پر جاری کی جائے گی اور بچہ اس کا مانا جائے گا لیکن حرمت دوامی دور نہ ہوگی اس عورت سے نکاح کبھی نہ کرسکے گا۔
امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا (اور ایک روایت میں امام احمد کا بھی یہی قول ہے) کہ حد قذف جاری کی جائے گی اور چونکہ قذف کے اقرار کے بعد وہ لعان کا اہل نہیں رہا تو لعان کو صحیح نہیں مانا جائے گا اور جو حکم (یعنی نکاح جدید نہ کرسکنے کا حکم) لعان سے وابستہ تھا وہ بھی اٹھ جائے گا اور دوبارہ نکاح کرسکے گا اسی طرح اگر کسی دوسرے شخص پر تہمت زنا لگانے کی وجہ سے اس پر حد قذف جاری کردی گئی ہو (تو لعان کا اہل نہیں رہے گا) یہی حکم اس وقت ہوگا جب عورت زنا کرچکی ہو اور سزا یاب ہوچکی ہو تو اہل لعان نہیں رہے گی۔ اس لئے ان دونوں لعان کرنے والوں کے لئے جائز ہوگا کہ (شوہر نے جب اپنی تکذیب خود کردی تو) دونوں باہم نکاح کرلیں۔
ہم کہتے ہیں اہلیت لمعان ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ لعان ہوا ہی نہیں (اور جب لعان ہوگیا تو پھر تزوج کے ناجائز ہونے کا حکم جاری رہے گا) دیکھو اگر کسی نے کسی اور پر الزام زنا رکھا (اور زنا ثابت نہ کرسکا) اور اس پر حد قذف جاری کردی گئی پھر مقذوف نے (یعنی جس پر جھوٹی تہمت زنا لگائی تھی اس نے) زنا کیا اور زنا کی سزا اس کو دے دی گئی تو باوجودیکہ زانی اہل لعان نہیں ہوتا پھر بھی اس کے قاذف کی شہادت کبھی قبول نہیں کی جائے گی (بالکل یہی صورت اختلافی مسئلہ کی ہے کہ اپنی خود تکذیب کرنے کی وجہ سے وہ اہل لعان نہیں رہا۔ لیکن جو لعان ہوچکا اس کا حکم باقی رہے گا اور کبھی لعان کرنے والی عورت سے نکاح نہ کرسکے گا) ۔
حنفیہ کہتے ہیں کہ اَلْمُتَلاَعِنَانِ لاَ یَجْتَمِعَانِ اَبَدًا قضیۂ عرفیہ ہے اور قضیۂ عرفیہ میں حکم کی بنا اتصاف پر ہوتی ہے ‘ اس صورت میں یہ مطلب ہوگا کہ لعان کرنے والے جب تک صفت لعان کے ساتھ متصف رہیں گے جمع نہیں ہوسکتے (اور جب صفت لعان ختم ہوگئی تو عدم اجتماع کا حکم بھی ختم ہوگیا کیونکہ مرد نے اپنی تکذیب خود کردی تو صفت لعان جاتی رہی اور عدم اجتماع کا حکم زائل ہوگیا) ہم کہتے ہیں یہ قضیہ عرفیہ نہیں ہے ‘ قضیۂ عرفیہ میں صفت موضوع پائیدار ہوتی ہے اور لعان استمراری وصف نہیں ہے اس لئے اس جگہ حکم بشرط وصف نہیں ہوسکتا ‘ بلکہ مطلب یہ ہے کہ جس مرد و عورت نے کبھی لعان کرلیا ہو ان کا آئندہ کبھی نکاح میں اجتماع نہیں ہوسکتا ‘ یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ جب تک وہ لعان پر قائم رہیں اور ہر ایک دوسرے کو جھوٹا کہتا رہے تو عدم تزوج کا حکم جاری رہے گا اور جب دونوں میں سے کوئی اپنے کو جھوٹا مان لے تو تزوج باہمی جائز ہوجائے گا۔
مسئلہ اگر مرد نے کہا کہ یہ بچہ مجھ سے نہیں ہے تو قاضی (لعان کے بعد) بچہ کا نسب اس شخص سے نہیں جوڑے گا (بچہ کا باپ اس سے لعان کرنے والے کو نہیں قرار دے گا) اور ماں سے اس کا الحاق کر دے گا جو لوگ لعان کے بعد تفریق کے لئے حاکم کے فیصلہ کو ضروری قرار دیتے ہیں ان کے نزدیک مذکور الصدر فیصلہ کے اندر ضمنی طور پر تفریق کا فیصلہ بھی ہوجائے گا (اور جو لوگ تفریق کے لئے قضاء قاضی کی ضرورت نہیں سمجھتے ان کے نزدیک بہرحال تفریق ہوجائے گی) ۔ بصورت مذکورہ لعان کے وقت مرد کو یہ الفاظ کہنا ہوں گے کہ میں نے جو اپنا بچہ ہونے کا انکار کیا ہے ‘ خدا گواہ ہے میں اس قول میں سچا ہوں عورت بھی لعان میں ان الفاظ کا اضافہ کرے گی۔
اگر عورت کے زانی ہونے اور اپنا بچہ نہ ہونے کا مرد نے اظہار کیا ہے تو لعان میں دونوں باتوں کا ذکر کرنا ہوگا ‘ پھر بچہ کا الحاق اس کی ماں سے کردیا جائے گا ‘ حضرت ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مرد اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کرایا ‘ مرد نے اپنا بچہ ہونے کا انکار کیا تھا حضور ﷺ نے دونوں میں تفریق کرا دی اور بچہ کا الحاق ماں سے کردیا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) ۔
مسئلہ اگر مرد نے عورت سے کہا تیرا (یہ) حمل مجھ سے نہیں ہے تو امام ابوحنیفہ (رح) :‘ امام زفر (رح) اور امام احمد (رح) کے نزدیک لعان کا حکم نہیں دیا جائے (نہ مرد پر حد قذف جاری ہوگی نہ عورت کو زانیہ قرار دیا جائے گا) کیونکہ بچہ ہونا یقینی نہیں ہے (ممکن ہے حمل ہی نہ ہو) امام مالک اور امام شافعی کے نزدیک لعان کرایا جائے گا امام ابو یوسف اور امام محمد نے فرمایا اگر بچہ چھ ماہ سے کم مدت میں پیدا ہوجائے گا تو لعان واجب ہوجائے گا اس قول کا مطلب یہ ہوا کہ بچے کے پیدا ہونے تک لعان نہیں کرایا جائے گا اگر چھ ماہ سے کم میں بچہ ہوگیا تو لعان واجب ہوگا ورنہ نہیں۔ بعض طرق روایت میں حضرت ہلال کے قصہ میں آیا ہے کہ لعان ولادت کے بعد کیا گیا تھا۔
صحیحین میں حضرت ابن عباس ؓ : کی روایت سے حضرت ہلال کے قصہ میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ ظاہر فرما دے اور بچہ اس شخص کی شکل کے مشابہ پیدا ہوا جس کے ساتھ زنا کا الزام ہلال نے قائم کیا ‘ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے دونوں میں لعان کرا دیا۔
امام مالک (رح) اور امام شافعی (رح) نے اپنے قول کی دلیل میں حسب روایت ابو داؤد بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہلال اور ان کی بیوی کے درمیان تفریق کر ادی اور فیصلہ فرمایا کہ بچے کو باپ کی طرف منسوب نہ کیا جائے اور نہ اس کو ولد الزنا قرار دیا جائے اور نہ اس کی ماں کو مہتم بالزنا کیا جائے۔
جو شخص عورت کو زنا کے ساتھ اور بچہ کو ولد الزنا ہونے کے ساتھ متہم کرے اس پر حد (زنا) جاری کی جائے۔
عکرمہ نے کہا وہ بچہ مصر کا گورنر ہوا اور کسی باپ کی طرف اس کی نسبت نہیں کی جاتی تھی۔
اکثر طرق روایت میں آیا ہے کہ لعان کرنے کے وقت ہلال کی بیوی حاملہ تھی۔
نسائی نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عجلانی اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کرایا ‘ بیوی اس وقت حاملہ تھی۔ عبدالرزاق نے بھی یہ واقعہ اسی طرح نقل کیا ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ شوہر نے کہا میں عفار النخل سے ہی اس (عورت) کے قریب نہیں گیا ہوں (اس لئے یہ بچہ مجھ سے نہیں ہے) عفار النخل کا یہ معنی ہے کہ شاخ تراشی کے بعد دو مہینہ تک درخت کو سینچا نہ جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ ظاہر کر دے چناچہ پیدا ہوا تو بڑی بری شکل کا تھا۔ اس روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ انکار حمل کی صورت میں لعان جائز ہے۔
اس حدیث کا جواب اس طرح دیا گیا ہے کہ ہلال نے عورت پر زنا کا الزام قائم کیا تھا انکار حمل نہیں کیا تھا اسی لئے لعان کرایا گیا۔ وکیع کی روایت میں جو آیا ہے کہ ہلال منکر حمل تھے اس لئے انہوں نے لعان کیا تھا ‘ امام احمد نے اس روایت کی صحت سے انکار کیا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ وکیع کی غلطی ہے کہ انہوں نے لعان کی وجہ انکار حمل کو قرار دیا حقیقت یہ ہے کہ ہلال جب رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی بیوی کے زنا کی انہوں نے شہادت دی تو رسول اللہ ﷺ نے لعان کرایا انکار حمل لعان کی وجہ نہیں تھی۔
میں کہتا ہوں ظاہر یہ ہے کہ ہلال نے دونوں الزام قائم کئے تھے ‘ بغوی نے حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ کی روایت سے جو قصہ نقل کیا ہے اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے۔
اگر ہلال کی طرف سے صرف زنا کا الزام ہوتا تو رسول اللہ ﷺ (صراحت کے ساتھ) اس کی طرف بچہ کو منسوب کرنے کی ممانعت نہ فرماتے ‘ کیونکہ زانی کے علاوہ ہلال کے تخم سے بچہ کا ہونا بھی محتمل تھا صرف نفی حمل کی وجہ سے لعان کا جواز ہلال والی حدیث سے ثابت نہیں ہوتا۔
اسی طرح حضرت ابن عباس ؓ نے۔ عجلانی اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کرنے کا جو واقعہ بیان کیا ہے اور یہ بھی بیان کیا ہے کہ اس وقت وہ حاملہ تھی اس سے یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ عجلانی نے صرف انکار حمل کیا تھا (اور زنا کا الزام قائم نہیں کیا تھا) بلکہ ابن سعد نے طبقات میں حضرت عبداللہ بن جعفر کی روایت سے عویمر کے حالات کے ذیل میں بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن جعفر نے فرمایا میرے سامنے کا واقعہ ہے میں موجود تھا جب کہ عویمر بن حارث عجلانی نے اپنی بیوی پر شریک بن سمحا سے زنا کرنے کا الزام قائم کیا تھا اور اس کے حمل کا بھی انکار کردیا تھا عورت حاملہ تھی رسول اللہ ﷺ نے دونوں میں لعان کرا دیا۔ میں نے خود دیکھا کہ منبر کے پاس کھڑے ہوئے دونوں لعان کر رہے تھے کچھ مدت کے بعد بچہ پیدا ہوا تو شریک بن سمحا سے وہ بہت زیادہ مشابہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے بچے کا الحاق اس کی ماں سے کردیا۔
عویمر کو اس کے خاندان والے بہت ملامت کیا کرتے تھے اور کہتے تھے ہم تو اس عورت کو نیک ہی جانتے ہیں لیکن جب بچہ شریک کا ہم شکل پیدا ہوا تو پھر لوگوں نے عویمر کو معذور سمجھا (یعنی ملامت کرنا چھوڑ دیا) بچہ دو سال زندہ رہ کر مرگیا اس کی ماں بھی اس کے کچھ دنوں بعد مرگئی اور شریک اس واقعہ کے بعد لوگوں کی نظر میں ذلیل ہوگیا۔ قصہ کی یہ تفصیل دلالت کر رہی ہے کہ عویمر نے عورت کے زنا کرنے کا بھی دعویٰ کیا تھا اور حمل کا بھی انکار کیا تھا۔
صاحبین کے قول کی دلیل یہ ہے کہ جب شوہر نے انکار حمل کردیا اور چھ ماہ سے کم میں بچہ پیدا ہوگیا تو اس سے ثابت ہوجائے گا کہ انکار کے وقت حمل موجود تھا لہٰذا قذف متحقق ہوگیا (اور حد قذف سے بچنے کے لئے) لعان کیا جائے گا۔
امام صاحب نے فرمایا حمل کا وجود بالفعل یقینی نہیں تو گویا انکار ولد مشروط ہوا اور مطلب یہ ہوا کہ اگر تو حاملہ ہو تو تیرا یہ حمل مجھ سے نہیں ہے اور قذف کو مشروط کرنا صحیح نہیں ہے۔
مسئلہ اگر شوہر نے یہ الفاظ کہے ‘ تو نے زنا کیا اور تیرا حمل زنا کا ہے تو بالاتفاق لعان کرنا ہوگا۔ کیونکہ صراحت کے ساتھ اس نے زنا کا ذکر کیا ہے اس صورت میں امام صاحب کے نزدیک حاکم نفی نسب کا فیصلہ نہیں کرے گا۔ (یعنی یہ حکم نہیں دے گا کہ یہ بچہ تیرا نہیں ہے کسی اور کا ہے) امام شافعی (رح) : کا قول اس کے خلاف ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے بچہ کا الحاق ہلال کے ساتھ نہ کرنے کا حکم دیا تھا اور ہلال نے جس وقت عورت پر الزام لگایا تھا اس وقت وہ حاملہ تھی۔ امام صاحب نے فرمایا احکام کا اجراء تو ولادت کے بعد ہوگا ‘ ولادت سے پہلے حمل کا یقین نہیں۔ باقی رسول اللہ ﷺ کا فیصلہ تو اس کا جواب یہ ہے کہ حمل کا موجود ہونا رسول اللہ ﷺ کو وحی کے ذریعہ سے معلوم ہوگیا ہوگا (اس لئے آپ نے فوراً فیصلہ کردیا کہ بچہ کا الحاق ہلال سے نہ کیا جائے) ۔
میں کہتا ہوں امام صاحب کی یہ بات بعید از فہم ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ ظاہری امور کی بنیاد پر فیصلہ فرماتے تھے تاکہ مسلمان آپ ﷺ : کا اتباع کریں (پوشیدہ) وحی پر آپ کے فیصلہ کی بنا نہ تھی۔ اگر ایسا ہوتا تو آپ یہ نہ فرماتے کہ تم دونوں میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے بلکہ یقین کے ساتھ دونوں میں سے ایک کے متعلق فرما دیتے کہ تو جھوٹا یا تو جھوٹی ہے۔
مسئلہ اگر بچہ کے پیدا ہونے کے بعد شوہر اپنا بچہ ہونے کا انکار کر دے تو امام شافعی (رح) کے نزدیک اس کا انکار صحیح مانا جائے گا بشرطیکہ پیدا ہونے کی خبر سنتے ہی اس نے انکار کردیا ہو۔ اس صورت میں لعان کیا جائے گا اور گر خبر ولادت سنتے ہی کچھ نہیں کہا بعد کو انکار نسب کیا تو نسب ثابت مانا جائے گا (انکار صحیح نہ ہوگا) اور (قذف کی وجہ سے) لعان کرنا ہوگا۔
امام صاحب نے فرمایا مبارکباد کے وقت اس نے اگر انکار نسب کردیا تو انکار صحیح مانا جائے گا۔ (ظاہر روایت کے اعتبار سے) تعیین مدت کے سلسلہ میں امام صاحب کا قول نہیں آیا۔ ابواللیث کی روایت میں آیا ہے کہ امام صاحب نے تین روز کی مدت (انکار کے لئے) مانی ہے۔ حسن کی روایت میں سات روز کا لفظ آیا ہے۔ صاحبین کے نزدیک پوری مدت نفاس انکار کی مدت ہے ظاہر قیاس کا تقاضا ہے کہ فوراً ولادت کی خبر سن کر اگر انکار نسب کردیا ہو تو مانا جائے اور کچھ وقفہ خاموشی میں گزر گیا ہو تو پھر انکار کو صحیح نہ قرار دیا جائے کیونکہ (موقع ظہار میں) خاموشی رضامندی کی علامت ہے۔ لیکن دقیق قیاس (استحسان) کا فیصلہ ہے کہ اس کو سوچنے اور غور کرنے کی کچھ مدت ملنی چاہئے بغیر غور کئے اگر نکار نسب کر دے گا (اور واقع میں وہ بچہ اس کا ہوگا) تو یہ حرام ہے اور اگر دوسرے کا بچہ ہے اور اس کو وہ اپنا بچہ قرار دے لے گا تو یہ بھی حرام ہے (اپنے بچے کا باپ کسی دوسرے کو قرار دینا یا دوسرے بچے کا باپ اپنے کو ظاہر کرنا دونوں کبیرہ گناہ ہیں) ۔
حضرت ابوہریرہ ؓ : کا بیان ہے میں نے خود سنا رسول اللہ ﷺ : فرما رہے تھے جس عورت نے کسی دوسری قوم کے آدمی کو اپنی قوم میں شامل کیا (یعنی کسی دوسرے شخص سے زنا کر کے بچہ کو اپنے شوہر کا بتایا) وہ اللہ کی رحمت سے خارج ہوگئی اور اللہ قیامت کے دن اس کو جنت میں داخل نہیں فرمائے گا اور جس مرد نے دیدہ و دانستہ اپنے بچہ کا باپ ہونے سے انکار کردیا تو اللہ قیامت کے دن اس سے پردہ کرے گا (اللہ کا دیدار اسے میسر نہ ہوگا) اور اگلے پچھلوں کے سامنے اس کو رسوا کرے گا۔ رواہ ابو داؤد و النسائی والشافعی و ابن حبان والحاکم۔ دارقطنی نے اس کو صحیح کہا ہے۔
صحیحین میں حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت ابوبکرہ کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسلام (کے دور) میں کسی نے غیر باپ کو اپنا باپ قرار دیا اور وہ واقف بھی ہے کہ جس شخص کی طرف وہ اپنے باپ ہونے کی نسبت کر رہا ہے وہ اس کا باپ نہیں ہے تو جنت اس پر حرام ہے۔
مسئلہ اگر بچے کی پیدائش کے وقت مرد کہیں غائب تھا تو واپس آنے کے بعد کی مدت کا اعتبار کیا جائے گا۔ صاحبین کے نزدیک اتنی مدت غور کرنے کے لئے دی جائے گی جتنی مدت نفاس کی ہوتی ہے اور امام صاحب کے نزدیک مدت مبارکباد کی برابر مدت تامل کے لئے کافی ہے۔
مسئلہ اگر شوہر کو اپنی بیوی کے زنا کا یقین ہوگیا یا زید سے زنا کرنے کی خبر مشہور ہونے کی بنا پر پختہ گمان ہوگیا اور تائیدی قرینہ بھی موجود ہے (مثلاً ) شوہر نے زید کو اس عورت کے ساتھ تنہائی میں دیکھ لیاتو اس صورت میں وہ عورت پر زنا کا الزام قائم کرسکتا ہے یا اگر عورت کے کوئی بچہ پیدا ہوا اور اس نے بیوی سے قربت ہی نہیں کی اس لئے اس کو یقین ہوگیا کہ یہ بچہ مجھ سے نہیں ہے تو انکار ولدیت کرنا جائز ہے یا قربت تو کی تھی لیکن وقت قربت سے ابھی چھ مہینے گزرنے نہیں پائے تھے کہ بچہ ہوگیا یا دو سال گزرنے کے بعد بچہ پیدا ہوا ‘ ان سب صورتوں میں بچے سے انکار کردینا اس کے لئے جائز ہے ہاں اگر چھ ماہ سے اوپر دو سال کے اندر بچہ پیدا ہوا یا حیض نہ آنے کی وجہ سے استبراء رحم نہیں ہوا تو اس صورت میں بچہ کی ولدیت سے انکار ناجائز ہے اور حیض آنے کے وقت سے اگر چھ ماہ سے زیادہ عرصہ کے بعد بچہ پیدا ہوا تو بچہ کو اپنانے سے انکار جائز ہے۔
مسئلہ اگر جماع کیا یا عزل کیا یا عورت کے زنا کرنے کا اس کو (یقینی) علم ہوگیا اور اس بات کا احتمال ہے کہ بچہ اسی کا ہو یا زانی کا ہو تو اپنا بچہ ہونے کا انکار حرام ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 24:10ولو لا فضل اللہ علیکم ورحمتہ اور (اے امت محمد ﷺ ! ) اگر تم پر اللہ کا فضل و رحمت نہ ہوتی۔
وان اللہ تواب حکیم۔ اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔ (تو اللہ تم کو رسوا
کر دیتا اور دنیا میں ہی فوری عذاب دے دیتا) ۔
تَوَّابٌ (لوٹنے والا) یعنی جو شخص پشیمان ہو کر اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی کا طلبگار ہوتا ہے اللہ اپنی رحمت کے ساتھ اس کی طرف التفات فرماتا اور لوٹتا ہے۔ حکیم ہے یعنی جو حدود وغیرہ اللہ نے تم پر فرض کی ہیں وہ ان کی حکمت سے واقف ہے۔
شیخین وغیرہ نے بروایت زہری بوساطت عروہ بن زبیر و سعید بن مسیب و علقمہ بن وقاص و عبیداللہ بن عتبہ بن مسعود ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ : کا بیان نقل کیا ہے ‘ حضرت عائشہ ؓ نے یہ بیان اس وقت دیا تھا جب تہمت تراشوں کے الزام سے اللہ نے حضرت عائشہ ؓ کی پاک دامنی ظاہر فرما دی۔
زہری نے کہا مجھ سے متعدد اہل حدیث نے یہ قصہ بیان کیا ‘ بعض نے کم بعض نے زیادہ لیکن ہر ایک کا بیان دوسرے کے بیان کی تائید کرتا ہے۔ عروہ کی روایت میں حضرت عائشہ ؓ : کا بیان حسب ذیل آیا ہے۔ ام المؤمنین نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی سفر پر تشریف لے جاتے تو اپنی بیبیوں میں قرعہ اندازی کرتے تھے ‘ جس بی بی کا نام نکل آتا اس کو اپنے ساتھ لے جاتے تھے ‘ چناچہ ایک جہاد 1 پر آپ تشریف لے جانے لگے تو حسب معمول قرعہ اندازی کی ‘ میرا نام نکل آیا ‘ مجھے آپ نے ساتھ لے لیا ‘ یہ واقعہ پردہ کی آیت نازل ہونے کے بعد کا ہے۔ میں ہودج میں سوار ہوئی میرا ہودج ہی اٹھا کر (اونٹ پر) رکھا جاتا تھا اور نیچے اتارا جاتا تھا (مجھے باہر نکلنے کی ضرورت نہ ہوتی تھی) اس طرح ہم مدینے سے چل دیئے۔ جب جہاد سے فارغ ہو کر واپس ہوئے اور مدینے کے قریب پہنچ کر ایک جگہ اترے ‘ رات کو کوچ کرنے کا اعلان ہوا۔ میں (رفع ضرورت کو جانے کے لئے) اٹھی اور چل کر لشکر سے آگے نکل گئی۔ ضرورت سے فارغ ہو کر جب اپنے مقام پر پہنچی اور سینہ کو ٹٹوالا تو عقیق 2 یمنی کا ہار جو میں پہنے تھی وہ ٹوٹ کر کہیں گرگیا ‘ میں ہارو کو ڈھونڈنے کے لئے فوراً لوٹ پڑی ‘ ہار کی تلاش میں مجھے دیر ہوگئی ‘ میرے ہودج کو اٹھا کر اونٹ پر رکھنے والے لوگ آئے اور یہ خیال کر کے کہ میں ہودج کے اندر ہوں خالی ہودج کو اٹھا کر اونٹ پر رکھ دیا ‘ اس زمانہ میں عورتیں ہلکی پھلکی ہوتی تھیں بھاری نہیں ہوتی تھیں ان پر گوشت نہیں چڑھا ہوتا تھا ‘ کھانا تھوڑا کھاتی تھیں ‘ اس لئے لوگوں نے ہودج کی خفت محسوس نہ کی ‘ پھر میں تو کم سن لڑکی ہی تھی انہوں نے ہودج کو اونٹ پر لاد دیا اور اونٹ کو کھڑآ کر کے چل دیئے لشکر کے روانہ ہونے کے بعد مجھے ہار مل گیا۔ پڑاؤ پر واپس آئی تو وہاں کوئی بھی نہ تھا پڑاؤ بالکل خالی تھا ‘ مجبوراً میں اپنی فرودگاہ پر ہی رک گئی اور خیال کیا کہ جب لوگ مجھے نہ پائیں گے تو لوٹ کر ضرور آئیں گے۔ اپنی جگہ بیٹھے بیٹھے مجھے نیند آگئی اور میں سو گئی۔
صفوان بن معطل سلمیٰ ذکوانی نے لشکر سے پیچھے بہت دور قیام کیا تھا (کیونکہ لشکر کی کوئی گری پڑی چیز تلاش کرنے اور نگرانی رکھنے پر ان کو مامور کیا گیا تھا) ۔ وہ رات کے آخری حصہ میں اپنی فرود گاہ سے (حسب الحکم) روانہ ہوئے اور صبح کو میری فرود گاہ پر پہنچ گئے۔ انہوں نے دیکھا کہ کوئی سو رہا ہے دیکھتے ہی مجھے پہچان لیا ‘ کیونکہ پردے کا حکم نازل ہونے سے پہلے انہوں نے مجھے دیکھا تھا۔ مجھے دیکھ کر انہوں نے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَپڑھا ‘ میں ان کے پڑھنے کی آواز سے بیدار ہوگئی اور اپنا چہرہ چادر سے ڈھانک لیا ‘ خدا کی قسم انہوں نے مجھ سے کوئی بات ہی نہیں کی اور سوائے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجَعُوْنَ کے اور کوئی لفظ میں نے ان سے نہیں سنا ‘ اپنی اونٹنی انہوں نے میرے پاس لا کر بٹھا دی اور اس کا دھنگنا باندھ دیا ‘ میں اٹھ کر اونٹنی پر سوار ہوگئی وہ مہار پکڑے ہوئے آگے آگے چلتے رہے ہمارا لشکر ٹھیک دوپہر کے وقت ایک جگہ ٹھہر گیا تھا ‘ میں اس طرح لشکر تک پہنچ گئی۔ میرے معاملہ میں جس (تہمت تراش) کو ہلاک ہونا تھا وہ (غلط افواہیں پھیلا کر) مارا گیا۔ اس تہمت تراشی کا سب سے بڑا ذمہ دار عبداللہ بن ابی سلول تھا ‘ میں مدینے پہنچ کر بیمار ہوگئی اور ایک مہینہ بیمار رہی لوگ الزام تراشوں کی باتوں میں مشغول تھے۔ بیماری کے زمانے میں مجھے پتہ نہیں تھا صرف یہ بات میرے لئے ضرور پریشان کن اور شبہ پیدا کرنے والی تھی کہ رسول اللہ ﷺ : کو وہ التفات میری طرف نہ تھا جو میری بیماری میں پہلے ہوا کرتا تھا ‘ بس اتنی بات ہوتی تھی کہ رسول اللہ ﷺ (حسب معمول) آتے اور سلام علیک کرتے اور فرماتے تم لوگ کیسے ہو پھر واپس چلے جاتے اس سے مجھے شبہ ہوتا پریشانی ہوتی ‘ لیکن راز کا پتہ نہ تھا۔ جب میں اچھی ہوگئی مگر کمزور تھی تو ایک رات کو ام مسطح کو ساتھ لے کر میں مناصع کی طرف جانے کے لئے نکلی پہلے ہمارے گھروں کے پاس بیت الخلاء بنے ہوئے نہیں ہوتے تھے ‘ رفع ضرورت کے لئے رات کو ہم جنگل کی طرف عربوں کے پہلے رواج کے مطابق جایا کرتے تھے ہم کو گھروں کے قریب ٹٹیاں بنانے سے (بدبو سے) ایذا ہوتی تھی۔ (مسطح کی ماں ابو وہم بن عبدمناف کی بیٹی تھی اور مسطح کی نانی صخر بن عامر کی بیٹی تھی صخر کی بیٹی حضرت ابوبکر ؓ صدیق کی خالہ تھی اور اس کا بیٹا مسطح بن اثاثہ تھا) غرض میں اور ام مسطح دونوں ساتھ ساتھ ضرورت سے فارغ ہو کر گھر کی طرف کو لوٹے ‘ ام مسطح کا پاؤں چادر میں الجھ گیا اور اس نے ٹھوکر کھائی گرتے ہی اس کے منہ سے نکلا مسطح مرے ‘ میں نے کہا تم نے یہ بہت بری بات کہی ‘ کیا تم ایسے شخص کو کوس رہی ہو جو بدر میں شریک تھا۔ ام مسطح نے کہا بیٹی کیا تم نے اس کی بات نہیں سنی ؟ میں نے کہا اس نے کیا کہا ؟ اس پر ام مسطح نے مجھے تہمت تراشوں کی کہی ہوئی بات بتائی ‘ اس بات کو سن کر میری بیماری اور بڑھ گئی ‘ جب گھر لوٹ کر آئی اور رسول اللہ ﷺ (حسب معمول) تشریف لائے اور دریافت کیا آپ ﷺ لوگ کیسے ہیں تو میں نے کہا کیا آپ ﷺ : کی اجازت ہے میں اپنے والدین کے گھر جانا چاہتی ہوں۔ میرا خیال تھا کہ مجھے یقینی خبر ماں باپ سے مل جائے گی ‘ آپ نے اجازت دے دی میں والدین کے گھر پہنچی اور اپنی والدہ سے پوچھا اماں لوگ یہ کیا باتیں کر رہے ہیں والدہ نے کہا بیٹا تم اس کا رنج نہ کرو جب کوئی عورت کسی شوہر کی نظر میں چمکیلی ہوتی ہے اور شوہر اس سے محبت کرتا ہے اور اس کی سوکنیں بھی ہوتی ہیں تو سوکنیں اس کے خلاف بڑی بڑی باتیں بناتی ہیں میں نے کہا سبحان اللہ لوگ یہ باتیں کہہ رہے ہیں ‘ میں اس خبر کو سن کر رات بھر روتی رہی صبح تک نہ میرا آنسو تھما نہ نیند آئی ‘ پھر صبح کو بھی روتی رہی۔
ادھر رسول اللہ ﷺ نے علی بن ابی طالب اور اسامہ بن زید کو مشورہ کے لئے بلایا کیونکہ وحی آنے میں دیر ہوگئی تھی (مدت سے وحی نہیں آئی تھی) اسامہ رسول اللہ ﷺ : کی بیوی کی پاک دامنی سے واقف تھے انہوں نے پاک دامن ہونے کا ہی مشورہ دیا۔ دوسری روایت میں آیا ہے کہ اسامہ کے دل میں رسول اللہ ﷺ کے گھر والوں کی محبت تھی اسی کے مطابق انہوں نے مشورہ دیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ وہ آپ کی بیوی ہیں اور ہم تو ان کو اچھا ہی جانتے ہیں لیکن علی ؓ نے کہا آپ کے لئے اللہ نے کوئی تنگی نہیں رکھی ان کے علاوہ بہت عورتیں ہیں۔ آپ ﷺ خادمہ سے دریافت کریں وہ سچ سچ کہہ دے گی ‘ رسول اللہ ﷺ نے بریرہ کو بلایا اور فرمایا کیا تو نے عائشہ ؓ کی کوئی ایسی حرکت دیکھی ہے جس سے تیرے دل میں کوئی شک گزرا ہوا بریرہ نے کہا قسم ہے اس کی جس نے آپ کو برحق نبی بنا کر بھیجا ہے میں نے عائشہ ؓ کی کوئی بات ایسی نہیں دیکھی کہ میں نکتہ چینی کرسکوں ہاں بس اتنی بات ضرور ہے کہ وہ چونکہ کم سن لڑکی ہے سو جاتی ہے آٹا گوندھا ہوا رکھا رہتا ہے بکری آتی ہے اس کو کھا جاتی ہے۔ اس تحقیقات کے بعد رسول اللہ ﷺ : منبر پر تشریف لے گئے اور عبداللہ بن ابی کی طرف سے معذرت پیش کرنے کے خواستگار ہوئے اور فرمایا اے گروہ اہل اسلام میرے گھر والوں کے معاملہ میں عبداللہ بن ابی کی ذات سے مجھے سخت تکلیف پہنچی ہے کیا کوئی اس کی طرف سے میرے سامنے کوئی عذر پیش کرسکتا ہے خدا کی قسم مجھے اپنی بیوی کے متعلق (کوئی بات نہیں معلوم ہوئی) اچھائی ہی معلوم ہوئی لوگ ایک ایسے آدمی کا نام لے رہے ہیں جس کے اندر مجھے کوئی برائی معلوم نہیں ہے (وہ اچھا ہی ہے) اور وہ میرے گھر کے اندر میرے ساتھ ہی جاتا ہے ‘ (تنہا نہیں جاتا) یہ سن کر سعد بن معاذ اشہلی کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ (اگر آپ ﷺ : کی طرف سے تہمت تراش کو کچھ دکھ پہنچ جائے تو) میں آپ کو معذور جانتا ہوں اگر وہ اوس کے قبیلہ میں ہے تو میں اس کی گردن اڑا دوں گا اور اگر ہمارے خزرجی بھائیوں میں سے ہے تو آپ جو حکم دیں گے ہم اس کی تعمیل کریں گے۔ یہ بات سن کر قبیلۂ کزرج کا ایک شخص اٹھ کھڑا ہوا۔ حسان کی ماں اس شخص کے چچا کی بیٹی تھی ‘ یعنی سعد بن عبادہ سردار خزرج کھڑے ہوئے پہلے یہ نیک آدمی تھے لیکن قبیلہ کی حمیت ان پر سوار ہوگئی اور سعد بن معاذ سے کہنے لگے خدا کی قسم تم نے جھوٹ کہا تم نہ اس کو قتل کرو گے نہ اس کو قتل کرنے کی تم میں ہمت ہے اور اگر تمہارے قبیلہ والوں میں سے وہ ہوتا تو میرے خیال میں تم اس کو قتل (کرنے کا ارادہ ہی) نہ کرتے اس پر سعد بن معاذ کے چچا زاد بھائی اسید بن حضیر نے سعد بن عبادہ سے کہا تم نے خدا کی قسم جھوٹ کہا ہم اس کو ضرور بالضرور قتل کردیں گے تم یقیناً منافق ہو منافقوں کی طرف سے لڑتے ہو اس کے بعد اوس اور خزرج دونوں قبیلے جوش میں آگئے قریب تھا کہ آپس میں لڑ پڑیں رسول اللہ ﷺ : منبر پر موجود تھے آپ سب کو ٹھنڈا کر رہے تھے آخر سب خاموش ہوگئے اور رسول اللہ ﷺ نے بھی خاموشی اختیار کرلی۔
حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا میں اس روز بھی دن بھر روتی رہی اور رات بھر بھی میرا آنسو نہ تھما نہ نیند آئی۔ والدین کو اندیشہ ہوگیا کہ روتے روتے میرا جگر پھٹ جائے گا ‘ دونوں حضرات میرے پاس بیٹھے ہی ہوئے تھے اور میں رو رہی تھی کہ ایک انصاری عورت نے اندر آنے کی اجازت طلب کی ‘ میں نے اجازت دے دی وہ آکر بیٹھ گئے اور میرے ساتھ رونے لگی۔ کچھ دیر کے بعد رسول اللہ ﷺ : تشریف لے آئے اور بیٹھ گئے اس سے پہلے جب سے میرے متعلق چہ میگوئیاں شروع ہوئی تھیں رسول اللہ ﷺ میرے پاس نہیں بیٹھے تھے اور ایک مہینہ کا وقفہ گزر چکا تھا اس عرصہ میں میرے معاملے کے متعلق کوئی وحی بھی نہیں آئی تھی بیٹھ کر رسول اللہ ﷺ نے اوّل کلمۂ شہادت پڑھا ‘ پھر فرمایا عائشہ ؓ مجھے تیرے متعلق ایسی ایسی خبریں پہنچی ہیں اگر تو ان سے پاک ہے تو اللہ تیری پاکی ظاہر فرما دے گا اور اگر تو اتفاقاً کسی گناہ میں مبتلا ہوگئی ہے تو اللہ سے توبہ و استغفار کر ‘ بندہ جب گناہ کا اقرار کرلیتا ہے اور معافی کا طلبگار ہوتا ہے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے ‘ جب رسول اللہ ﷺ اپنی بات پوری کرچکے تو میرے آنسو تھم گئے کہ ایک قطرہ بھی نکلتا مجھے محسوس نہ ہوا پھر میں نے اپنے والد سے کہا رسول اللہ ﷺ : کی بات کا جواب دیجئے ‘ والد نے کہا خدا کی قسم مجھے کوئی جواب معلوم نہیں کیا جواب دوں۔ پھر میں نے اپنی والدہ سے یہی بات کہی کہ آپ جواب دیجئے ‘ انہوں نے بھی والد کی طرح یہی کہا میں کیا کہوں مجھے کوئی جواب معلوم نہیں ‘ آخر میں نے خود کہا (اس قت میں نو عمر لڑکی تھی زیادہ قرآن بھی نہیں پڑھا تھا) خدا کی قسم میں جان گئی کہ تم لوگوں نے یہ بات سن کر اپنے دلوں میں جما لی ہے اور اس کو سچ ماننے لگے ہو اگر اب میں کہوں کہ میں اس سے پاک ہوں اور خدا جانتا ہے کہ میں اس سے پاک ہوں تو تم مجھے سچا نہ جانو گے اور اگر میں تمہارے سامنے اقرار کرلوں اور خدا جانتا ہے کہ میں اس فعل سے پاک ہوں تو تم مجھے سچاسمجھو گے (اس لئے میں کچھ نہیں کہہ سکتی) مجھے اپنی اور تمہاری حالت کی سوائے اس کے اور کوئی مثال نہیں ملتی جو یوسف ( علیہ السلام) کے باپ نے کہا تھا فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ وَاللّٰہُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰی مَا تَصِفُوْنَ (پس میں بھی یہی کہتی ہوں) یہ کہنے کے بعد میں نے منہ موڑ لیا اور بستر پر لیٹ گئی۔ میں یہ تو جانتی تھی کہ چونکہ میں پاک ہوں ‘ اللہ ضرور میری پاکی کا اظہار فرما دے گا ‘ لیکن میرا یہ گمان بھی نہ تھا کہ میرے معاملے میں اللہ کوئی ایسی وحی نازل فرمائے گا جو (ہمیشہ قرآن) میں پڑھی جائے گی۔ میرے دل میں میری حالت اس قابل نہ تھی کہ اللہ اس کے سلسلہ میں اپنا کلام نازل فرماتا جو (ہمیشہ) پڑھا جائے گا۔ مجھے تو یہ امید تھی کہ رسول اللہ ﷺ : کو اللہ کی طرف سے میری پاک دامنی کا کوئی خواب دکھا دیا جائے گا۔
خدا کی قسم رسول اللہ ﷺ اپنی جگہ سے ہٹے بھی نہ تھے اور نہ کوئی گھر والا باہر نکلا تھا کہ اللہ نے اپنے نبی ﷺ پر وحی نازل فرما دی اور نزول وحی کے وقت رسول اللہ ﷺ پر جو تکلیف ہوئی تھی وہ ہونے لگے ‘ سخت سردی کے زمانے میں نزول وحی کے وقت چاندی کے موتیوں جیسے پسینے کے قطرے (آپ کی پیشانی سے) ٹپکنے لگتے تھے۔
کچھ دیر کے بعد وحی کی وہ حالت دور ہوئی اور ہنستے ہوئے جو لفظ آپ نے سب سے پہلے اپنے منہ سے نکالا وہ یہ تھا ‘ عائشہ ؓ خوش ہوجا ‘ اللہ نے تیری پاک دامنی کا اظہار کردیا ‘ میری ماں نے کہا اٹھ رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤ۔ میں نے کہا خدا کی قسم میں نہ اٹھ کر رسول اللہ ﷺ کی طرف جاؤں گی نہ اللہ کے سوا کسی کا شکر کروں گی ‘ اللہ نے میری پاکی ظاہر فرمائی ‘ اللہ نے مندرجۂ ذیل آیات نازل فرمائیں۔