24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 24:11

اِنَّ الَّذِیْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ١ؕ لَا تَحْسَبُوْهُ شَرًّا لَّكُمْ١ؕ بَلْ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِ١ۚ وَ الَّذِیْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ مِنْهُمْ لَهٗ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 24:11 in the Quran reader

جن لوگوں نے بہتان باندھا ہے تم ہی میں سے ایک جماعت ہے اس کو اپنے حق میں برا نہ سمجھنا۔ بلکہ وہ تمہارے لئے اچھا ہے۔ ان میں سے جس شخص نے گناہ کا جتنا حصہ لیا اس کے لئے اتنا ہی وبال ہے۔ اور جس نے ان میں سے اس بہتان کا بڑا بوجھ اٹھایا ہے اس کو بڑا عذاب ہوگا

ان الذین جآء وا بالافک عصبۃ منکم جو لوگ طوفان لائے وہ تمہاری ہی ایک جماعت ہے۔ یہ دس آیات ہیں ‘ افک انتہائی درجہ کا جھوٹ۔ افک کا لغوی معنی ہے موڑ دینا ‘ الٹ دینا ‘ حضرت عائشہ ؓ پر تہمت کو افک اس وجہ سے فرمایا کہ آپ اپنی پاک دامنی اور شرافت نفس کی وجہ سے تعریف اور دعا کی مستحق تھیں ‘ صدیق اکبر ؓ کی بیٹی تھیں ‘ رسول اللہ ﷺ کی بیوی تھیں ‘ مسلمانوں کی ماں تھیں ہر طرح کی تعظیم و تکریم آپ کی واجب تھی ‘ پس اس کے برعکس جس نے آپ کے اوپر تہمت لگائی اس نے (گویا) حقیقت کو ہی الٹ دیا۔ یہ قلب حقیقت ہوگیا۔ عُصْبَۃٌ دس سے چالیس تک کے آدمیوں کی جماعت۔ اس کا کوئی واحد نہیں۔ کذا فی النہایۃ۔ مِنْکُمْیعنی مسلمانوں میں سے۔ بخاری وغیرہ کی روایت میں آیا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ : فرماتی تھیں (ام المؤمنین) زینب بنت حجش کو ان کی دینداری کی وجہ سے اللہ نے (اس تہمت تراشی سے) بچائے رکھا ‘ انہوں نے سوائے کلمۂ خیر کے اور کچھ نہیں کہا لیکن ان کی بہن حمنہ ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ہلاک ہوگئی (یعنی تہمت تراشی کرنے والوں کی ہمنوا بن گئی) یہ باتیں کرنے والے مسطح ‘ حسان بن ثابت اور عبداللہ بن ابی منافق تھے۔ عبداللہ بن ابی ہی ایسی باتیں نکال کر لاتا اور جمع کرتا تھا۔ بغوی نے لکھا ہے عروہ نے اہل افک میں صرف حسان بن ثابت ‘ مسطح بن اثاثہ ‘ اور حمنہ بنت حجش کے نام دوسرے لوگوں کے ساتھ ذکر کئے ‘ مجھے باقی لوگوں کے نام معلوم نہیں ‘ اتنا ضرور معلوم ہے کہ ایک جماعت تھی جیسا کہ اللہ نے عُصْبَۃٌ مِنْکُمْفرمایا ہے (اور عصبہ دس سے کم کو نہیں کہتے) ۔ عروہ کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ ؓ : کو پسند نہ تھا کہ آپ کے سامنے حضرت حسان ؓ : کو برا کہا جائے آپ فرماتی تھیں حسان کا ہی تو یہ شعر ہے ؂ فَاِنَّ اَبِیْ وَوَلِدَتِیْ وَعِرْضِیْ لِعِرْضِ مُحَمَّدٍ مِّنُکْم وَقَاءُ میرے ماں باپ اور میری آبرو تم سے محمد کی آبرو کو بچانے والے ہیں یعنی حضور ﷺ : کی آبرو پر میرے والدین اور آبرو قربان۔ لا تحسبوہ شرا لکم بل ہو خیر لکم تم اس بات کو اپنے لئے برا نہ سمجھو یہ تو تمہارے لئے بہتر ہے۔ لاَ تَحْسَبُوْہُ کا خطاب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ ؓ : کو ہے ‘ حضرت عائشہ ؓ پر عیب لگانے کا رنج رسول اللہ ﷺ : کو تھا اور تمام مسلمانوں کو بھی تھا۔ حضرت عائشہ ؓ : تمام مسلمانوں کی ماں تھیں۔ خَیْرٌلَّکُمْتمہارے لئے بہتر ہے ‘ اسی سلسلے میں اللہ کے احکام تم کو ملے ‘ تمہاری عزت عنداللہ کا اظہار ہوا ‘ حضرت عائشہ ؓ کی پاک دامنی اور عظمت شان کے اظہار کے لئے اللہ نے اپنے رسول ﷺ پر آیات نازل فرمائیں ‘ جن تہمت تراشی کرنے والوں نے یہ باتیں کیں اللہ نے ان کے لئے ہولناک وعید نازل فرمائی اور یہ تمام آیات قیامت تک محرابوں اور نمازوں میں پڑھی جائیں گی۔ لکل امری منہم ما اکتسب من الاثم ان میں سے ہر شخص کے لئے وہی گناہ ہے جو اس نے کمایا ‘ یعنی جس نے جتنا گناہ کیا اتنی سزا اس کے لئے مقرر ہے کسی نے خود الزام تراشی کی ‘ کسی نے اس کو پھیلانا پسند کیا ‘ کسی نے دوسرے سے سن کر خود بھی بیان کرنا شروع کردیا۔ کوئی صرف ہنس دیا یا زبان سے کچھ نہیں کہا اور کوئی سن کر خاموش رہا ‘ تردید نہیں کی۔ غرض جتنا گناہ کیا اتنی سزا اسکے لئے مقرر ہے۔ بغوی نے لکھا ہے روایت میں آیا ہے کہ جن لوگوں نے حضرت عائشہ ؓ پر تہمت تراشی کی تھی رسول اللہ ﷺ نے ان میں سے ہر ایک (پر حد قذف جاری کی ہر ایک) کو اسّی اسّی کوڑے لگوائے میں کہتا ہوں سزائے تازیانہ اور دنیا میں رسوائی تو ان کی دنیوی سزا تھی اور آخرت میں جتنی سزا اللہ کو منظور ہوگی مل جائے گی۔ والذی تولی کبرہ منہم لہ عذاب عظیم۔ اور ان میں سے جس نے اس طوفان میں بڑا حصہ لیا اس کو سخت سزا ہوگی۔ یعنی جس نے رسول اللہ ﷺ : کی دشمنی میں اور مسلمانوں کو ذلیل کرنے کے لئے یہ طوفان سب سے پہلے اٹھایا اور اس کو پھیلایا اس کو سخت عذاب دیا جائے گا۔ زہری نے لکھا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا یہ عبداللہ بن ابی بن سلول تھا اور عذاب عظیم سے مراد ہے دوزخ کا عذاب۔ ابن ابی ملیکہ نے بروایت عروہ قصہ افک کے ذیل میں حضرت عائشہ ؓ : کا بیان نقل کیا ہے۔ ام المؤمنین نے فرمایا ‘ پھر میں سوار ہوگئی ‘ صفوان نے اونٹ کی مہار پکڑ لی (اور مہار پکڑے آگے آگے چلنے لگے) چلتے چلتے منافقوں کی ایک جماعت کی طرف سے ہمارا گزر ہوا ‘ منافقوں کا قاعدہ تھا کہ (مسلمانوں کے عام) لشکر سے الگ اپنا پڑاؤ کرتے تھے (ان کی فردوگاہ عام مسلمانوں کی فرودگاہ سے الگ ہوتی تھی) ۔ منافقوں کا سردار عبداللہ بن ابی کہنے لگا یہ عورت کون ہے۔ ساتھیوں نے جواب دیا عائشہ ؓ ہے ‘ عبداللہ بولا خدا کی قسم یہ اس سے نہیں بچی اور نہ وہ اس سے بچا ‘ تمہارے نبی کی بیوی رات بھر ایک مرد کے ساتھ رہی ‘ پھر صبح ہوئی تو وہ شخص آگے آگے چلنے لگا۔ بعض کا قول ہے کہ الَّذِیْ تَوَلّٰی کِبْرَہٗسے چار شخص مراد ہیں ‘ عبداللہ بن ابی سلول ‘ حسان بن ثابت ‘ مسطح بن اثاثہ اور حمنہ بنت حجش۔ یہ قول کمزور ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو والَّذِیْ تَوَلّٰیکے بجائے وَالَّذِیْنَ تَوَلَّوْا (بصیغۂ جمع) ہوتا ‘ اس کے علاوہ مسطح اور حسان تو بدری تھے ‘ بدر میں شریک تھے اور شرکاء بدر کے تمام اگلے پچھلے گناہ اللہ نے معاف فرما دیئے ہیں (اس لئے ان پر آخرت میں عذاب عظیم نہیں ہوسکتا) ۔ رسول اللہ ﷺ نے اہل بدر سے فرما دیا تھا جو چاہو کرو اللہ نے تم کو بخش دیا ہے۔ اللہ نے تمام (مخلص) صحابیوں کے متعلق فرمایا ہے وَکُلاًّ وَّعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنٰی اور ہر ایک کے لئے اللہ نے جنت کا وعدہ کرلیا ہے۔ (اس آیت سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ عذاب نہ ہوگا ممکن ہے عذاب کے بعد جنت میں داخلہ ہو) ۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ الَّذِیْ تَوَلّٰیسے حسان مراد ہیں۔ بخاری نے مسروق کا بیان نقل کیا ہے۔ مسروق نے کہا میں حضرت عائشہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ حسان بن ثابت اس وقت ام المؤمنین کے پاس موجود تھے اور حضرت عائشہ ؓ کی شان میں یہ شعر پڑھ رہے تھے۔ حَصَانٌ وَزَانٌ مَا تُزَنُّ بِرَیْبَۃٍ وَتُصْبِحُ غُرْنٰی مِنْ لُحُوْمِ الْغَوَافِلٖ وہ بڑی پاک دامن اور بڑی با وقار ہیں ‘ کسی شبہ کی بات سے متہم نہیں کی جا سکتیں ان کا پیٹ بیخبر بھولی عورتوں کے گوشت سے خالی رہتا ہے (یعنی کسی کی غیبت نہیں کرتیں) ۔ ام المؤمنین نے فرمایا مگر تم ایسے نہیں ہو۔ مسروق کہتے ہیں میں نے ام المؤمنین سے عرض کیا آپ ان کو اپنے آنے کی اجازت کیوں دیتی ہیں۔ اللہ نے تو فرما دیا ہے والَّذِیْ تَوَلّٰی کِبْرَہٗ مِنْہُمْ لَہٗ عَذَابٌ عَظِیْمٌ ام المؤمنین نے فرمایا نابینا ہوجانے سے سخت عذاب اور کیا ہوگا۔ یہ رسول اللہ ﷺ : کی طرف سے (اپنے اشعار میں) دفاع کیا کرتے تھے ‘ یعنی جب مشرک رسول اللہ ﷺ کی ہجا کرتے تھے تو یہ مشرکوں کی ہجو کرتے تھے۔ مسروق کے اس بیان کی روشنی میں ’ عذاب عظیم ‘ سے مراد دنیوی عذاب ہی ہوگا لیکن اوّل تفسیر ہی صحیح ہے۔
Ayah 24:12

لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِهِمْ خَیْرًا١ۙ وَّ قَالُوْا هٰذَاۤ اِفْكٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 24:12 in the Quran reader

جب تم نے وہ بات سنی تھی تو مومن مردوں اور عورتوں نے کیوں اپنے دلوں میں نیک گمان نہ کیا۔ اور کیوں نہ کہا کہ یہ صریح طوفان ہے

لولا اذ سمعتموہ ظن المؤمنون والمؤمنت بانفسہم خیرا جب تم لوگوں نے یہ بات سنی تو مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں نے اپنے (یعنی اپنے بھائیوں کے) متعلق نیک گمان کیوں نہیں کیا۔ اِذْ سَمِعْتُمُوْہُیعنی جب تم نے یہ خبر سنی تھی تو اپنے دینی بھائیوں کے متعلق نیک گمان کیوں نہیں رکھتا۔ دوسرے مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کو۔ اَنْفُسِہِمْ (یعنی اپنی ذات) سے تعبیر کیا کیونکہ تمام مؤمن بلکہ ہر مذہب کے علمبردار آپس میں ایک ذات کی طرح ہوتے ہیں۔ بعض دوسری آیات میں بھی اسی طرح آیا ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے لاَ تَلْمِزُوْا اَنْفُسَکُمْ ۔ لاَ تَقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْ ۔ سَلِّمُوْا عَلٰی اَنْفُسِکُمْوغیرہ آیت میں تنبیہ ہے اس امر پر کہ ایمان کا تقاضا ہے تمام مؤمنوں کے متعلق اچھا گمان رکھنا ‘ ان پر نکتہ چینی کرنے سے باز رہنا جو لوگ مؤمنوں کی عیب چینی کریں ان کا دفاع اس طرح کرنا ‘ جس طرح اپنی ذات کے خلاف حرف گیری کے وقت کیا جاتا ہے (خلاصہ یہ کہ تمام مسلمانوں کو اپنا بھائی بلکہ اپنی ذات کی طرح سمجھنا ایمان کا تقاضا ہے) ۔ وقالوا ہذا افک مبین۔ اور کیوں (نہیں) کہا کہ یہ کھلا ہوا بہتان ہے۔ ایمان تو مدح اور تعظیم کا سبب ہے جو شخص اہل ایمان پر طعن وتشنیع کرتا ہے وہ گویا حقیقت ہی کو الٹ دیتا ہے اور تہمت تراشی اور غیبت کی وجہ سے فاسق و گنہگار ہوجاتا ہے اور فاسق کی شہادت قابل قبول نہیں ہے۔ مسئلہ اس آیت سے ظاہر ہو رہا ہے کہ مسلمانوں کے متعلق حسن ظن رکھنا واجب ہے ‘ جب تک کوئی شرعی دلیل اس کے خلاف موجود نہ ہو ہر مؤمن کے متعلق اچھا خیال رکھنا لازم ہے۔
Ayah 24:13

لَوْ لَا جَآءُوْ عَلَیْهِ بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ١ۚ فَاِذْ لَمْ یَاْتُوْا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓئِكَ عِنْدَ اللّٰهِ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 24:13 in the Quran reader

یہ (افتراء پرداز) اپنی بات (کی تصدیق) کے (لئے) چار گواہ کیوں نہ لائے۔ تو جب یہ گواہ نہیں لاسکے تو خدا کے نزدیک یہی جھوٹے ہیں

لو لا جآء وا علیہ باربعۃ شہدآء اپنے قول کے ثبوت کے لئے چار گواہ کیوں نہیں لائے کہ ان کی شہادت کے بعد حد زنا جاری کی جاتی۔ فاذ لم یاتوا بالشہدآء فاولئک عنداللہ ہم الکذبون۔ پس جب گواہ نہ لائے تو اللہ کے نزدیک یہی لوگ جھوٹے ہیں کہ انہوں نے جو زنا کی خبر کا تذکرہ کیا وہ بہ نیت ثواب کیا (اللہ کی قائم کی ہوئی حد جاری کرانے کی کوشش باعث ثواب ہے) اگر کوئی کسی پر زنا کا الزام قائم کرے اور اتنے گواہ بھی پیش کر دے جو زنا کی سزا جاری کرنے کے لئے کافی ہوں تو ممکن ہو اس کی نیت بخیر ہو وہ اللہ کی نافرمانی سے لوگوں کو روکنا چاہتا ہو لیکن ضروری شہادت پیش نہ کرسکے تو اس صورت میں کسی پر زنا کا الزام لگانے کا مطلب سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ وہ ایک مسلمان کو بدنام کرنا چاہتا ہے حد شرعی قائم کرانا نہیں چاہتا اس حالت میں اگر وہ شرعی سزا قائم کرانے کی نیت کا دعویٰ کرتا ہے تو عنداللہ جھوٹا ہے۔ بعض اہل تفسیر نے عنداللہ کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ وہ اللہ کی بھیجی ہوئی شریعت کی رو سے جھوٹے ہیں ان پر تہمت زنا کی حد جاری کی جائے گی اس وقت آیت کا پورا مطلب یہ ہوگا کہ جب وہ چار گواہ نہ پیش کرسکے تو ان کو تہمت زنا لگانے کی سزا دی جائے گی کیونکہ حکم شریعت کے لحاظ سے وہ جھوٹے ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے روایت میں آیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے چار آدمیوں پر حد قذف جاری کی ‘ عبداللہ بن ابی ‘ حسان بن ثابت ‘ مسطح بن اثاثہ اور حمنہ بنت حجش۔
Ayah 24:14

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ لَمَسَّكُمْ فِیْ مَاۤ اَفَضْتُمْ فِیْهِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۚۖ Open ayah 24:14 in the Quran reader

اور اگر دنیا اور آخرت میں تم پر خدا کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو جس بات کا تم چرچا کرتے تھے اس کی وجہ سے تم پر بڑا (سخت) عذاب نازل ہوتا

ولو لا فضل اللہ علیکم ورحمتہ فی الدنیا والاخرۃ لمسکم فی ما افضتم فیہ عذاب عظیم۔ اور اگر دنیا اور آخرت میں تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو جس حرکت میں تم پڑے تھے اس میں تم پر سخت عذاب واقع ہوجاتا۔ یعنی اے مسلمانو ! اگر نبی ﷺ : کی وجہ سے تم پر اللہ کا کرم نہ ہوتا اور دنیا میں طرح طرح کی نعمتیں وہ اپنی رحمت سے نہ دیتا (منجملہ دوسری نعمتوں کے ایک اسلام کی توفیق اور رسول اللہ ﷺ : کی صحبت کا میسر آجانا بھی ہے جس کی وجہ سے عذاب کے نزول میں رکاوٹ ہوئی اور توبہ کا وقت مل گیا) اور آخرت میں اللہ کی رحمت تم پر نہ ہوتی (کہ اس نے عفو و درگزر اور جنت میں داخل کرنے کا وعدہ فرما لیا ہے) تو جس نازیبا اور پُر معصیت مشغلہ میں تم گھس گئے تھے اس کی وجہ سے دنیا و آخرت میں تم پر بڑا عذاب آجاتا۔ افاضہ کسی کام میں گھس جانا ‘ بعض کے نزدیک افاضہ کا معنی ہے پھیلانا ‘ خبر مستفیض مشہور خبر کو کہتے ہیں۔ لَمَسَّکُمْ تو ضرور تم کو لگ جاتا ‘ جیسے دنیا میں عاد ‘ ثمود ‘ قوم لوط اور قوم شعیب پر عذاب آیا کہ ان کی جڑیں ہی اکھڑ گئیں۔ یہ آیت ان مؤمنوں کے متعلق ہے جو تھے تو اہل افک کے ساتھ مگر مؤمن تھے ‘ منافق نہ تھے اور آیت والَّذِیْ تَوَلّٰی کِبْرَہٗ مِنْہُمْ لَہٗ عَذَابٌ عَظِیْئمیں صرف منافق مراد ہیں جن میں سے عبداللہ بن ابی بھی اور زید بن رفاعہ جیسے لوگ بھی تھے۔ آیت میں لَوْلاَکا لفظ بتارہا ہے کہ اللہ کے فضل و رحمت کی وجہ سے ان مؤمنوں پر عذاب نہ آیا جو افواہ میں شریک ہوگئے تھے ‘ کیونکہ لولا کا مفہوم ہے کسی چیز کا وجود میں نہ آنا کسی دوسری چیز کے موجود ہوجانے کی وجہ سے۔ پس اللہ کا فضل و کرم چونکہ برروئے ظہور آگیا اس لئے عذاب وجود میں نہ آسکا اور والَّذِیْ تَوَلّٰی کِبْرَہٗ مِنْہُمْ لَہٗ عَذَابٌ عَظِیْمٌ میں عذاب ہونے کی صراحت فرما دی ہے اس لئے ثبوت عذاب یقینی ہے۔
Ayah 24:15

اِذْ تَلَقَّوْنَهٗ بِاَلْسِنَتِكُمْ وَ تَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِكُمْ مَّا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ وَّ تَحْسَبُوْنَهٗ هَیِّنًا١ۖۗ وَّ هُوَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمٌ Open ayah 24:15 in the Quran reader

جب تم اپنی زبانوں سے اس کا ایک دوسرے سے ذکر کرتے تھے اور اپنے منہ سے ایسی بات کہتے تھے جس کا تم کو کچھ علم نہ تھا اور تم اسے ایک ہلکی بات سمجھتے تھے اور خدا کے نزدیک وہ بڑی بھاری بات تھی

اذ تلقونہ بالسنتکم وتقولون بافواہکم ما لیس لکم بہ علم وتحسبونہ ہینا وہو عنداللہ عظیم۔ (تم کو عذاب پہنچ جاتا) جب کہ تم اس (طوفان و بہتان) کو اپنی زبانوں سے نقل در نقل کر رہے تھے اور اپنے منہ سے ایسی بات کہہ رہے تھے جس کی دلیل تم کو بالکل معلوم نہ تھی اور تم اس کو ہلکی بات سمجھ رہے تھے۔ حالانکہ وہ اللہ کے نزدیک بہت سخت بات تھی۔ اِذْظرفیہ ہے اس کا تعلق مَسَّکُمْیا اَفَضْتُمْسے ہے۔ تَلَقَّوْنَہٗتم اس کو اپنی زبانوں سے لے رہے تھے یعنی ایک دوسرے سے پوچھتا اور نقل کرتا تھا۔ کلبی نے کہا اس کی صورت یہ ہوتی تھی کہ ایک شخص دوسرے سے ملتا اور کہتا تھا مجھے ایسی خبر ملی ہے کیا واقعہ ہے۔ اس طرح ایک دوسرے سے زبانی لیتا تھا۔ مجاہد نے کہا ایک دوسرے سے روایت اور نقل کرتا تھا۔ زجاج نے کہا بعض بعض سے سیکھتے تھے۔ وَتَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاہِکُمْ ۔۔ یعنی تم صرف افواہی باتیں کہتے تھے جن کی کوئی حقیقت نہ تھی منہ سے ایسی باتیں نکالتے تھے جن کی واقفیت تم کو معلوم نہ تھی۔ ہَیِّنًاآسان ‘ خفیف ‘ جس کے نتیجہ میں کوئی خرابی تمہاری نظر میں نہ تھی۔ عِنْدَاللّٰہِ عَظِیْمٌ۔ وہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی تھی ‘ بھاری گناہ تھا جو بڑے عذاب کا موجب تھا ‘ یوں بھی پاکدامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانی بہت بڑا گناہ ہے ‘ زبان سے نکلے ہوئے الفاظ عام طور پر موجب عذاب ہوجاتے ہیں ‘ خصوصیت کے ساتھ ان الفاظ کی عذاب آفرینی کا کیا ٹھکانہ جن سے اللہ کے رسول ﷺ : کی عزت پر حرف آتا ہو اور آپ کی آبروریزی ہوتی ہو۔ حضرت معاذ بن جبل کا بیان ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت میں لے جائے اور دوزخ سے دور کر دے۔ فرمایا تم نے بڑی بات دریافت کی لیکن جس کے لئے اللہ آسان کر دے اس کے لئے آسان بھی ہے اللہ کی عبادت کرو۔ کسی چیز کو اس کے ساتھ (الوہیت و ربوبیت میں) ساجھی نہ بناؤ نماز قائم کرو ‘ زکوٰۃ ادا کرو۔ رمضان کے روزے رکھو ‘ کعبے کا حج کرو۔ آخر میں فرمایا کیا میں تم کو بھلائی کے دروازے نہ بتادوں ‘ (یاد رکھو) روزہ (عذاب سے بچنے کی) سپر ہے ‘ خیرات گناہوں (کی آگ) کو اس طرح بجھا دیتی ہے جیسے پانی آگ کو اور رات کے جوف (وسط) میں نماز پڑھنا (بھی گناہ کی آگ کو بجھا دیتا ہے) پھر آپ نے آیت تُتَجَافِی جُنُوْبُہْم عَنِ الْمَضَاجِعِ ۔۔ یَعْمَلُوْنَ تک تلاوت فرمائی۔ پھر فرمایا کیا میں تمہیں (دینی) امور کا سر اور ستون اور اس کے کوہان کی چوٹی نہ بتادوں ‘ اسلام اس کا سر ہے ‘ نماز اس کا ستون ہے اور جہاد اس کے کوہان کی چوٹی ہے ‘ پھر فرمایا کیا میں تم کو ایسی بات نہ بتادوں جس پر ان سب کا مدار ہے۔ میں نے عرض کیا ضرور فرمائیے ‘ حضور نے اپنی زبان کو پکڑ کر فرمایا اس کو روکے رکھو۔ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ : کیا بات کرنے پر بھی ہماری پکڑ ہوگی فرمایا معاذ ! تجھ پر تیری ماں روئے زبانوں کے نتائج ہی تو لوگوں کو اوندھے منہ دوزخ میں گرائیں گے (یعنی باتوں کی کھیتی دوزخ کی شکل میں کٹ کر سامنے آئے گی) رواہ احمد ‘ والترمذی و ابن ماجہ۔
Ayah 24:16

وَ لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ قُلْتُمْ مَّا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّتَكَلَّمَ بِهٰذَا١ۖۗ سُبْحٰنَكَ هٰذَا بُهْتَانٌ عَظِیْمٌ Open ayah 24:16 in the Quran reader

اور جب تم نے اسے سنا تھا تو کیوں نہ کہہ دیا کہ ہمیں شایاں نہیں کہ ایسی بات زبان پر نہ لائیں۔ (پروردگار) تو پاک ہے یہ تو (بہت) بڑا بہتان ہے

ولو لا اذ سمعتموہ قلتم ما یکون لنا ان نتکلم بہذا سبحنک ہذا بہتان عظیم۔ اور (مسلمانو ! ) جب تم نے (منافقوں سے یہ بہتان اور جھوٹ) سنا تھا تو (ان کی تردید کرتے ہوئے یہ کیوں نہیں کہہ دیا کہ ہمارے لئے یہ بات کہنی بھی جائز نہیں اے اللہ تو پاک ہے (تیرا رسول ﷺ پاک ہے تیرے رسول ﷺ : کی بیوی پاک ہے) یہ بڑا بہتان ہے۔ مَّا یَکُوْنُ لَنَا یعنی ہمارے لئے جائز نہیں ‘ سزاوار نہیں کہ یہ بات یا اس قسم کی باتیں کہیں ‘ صدیق اکبر کی بیٹی اور رسول اللہ ﷺ : کی بیوی کے متعلق ایسے بات کہنی تو سچے مسلمانوں کے لئے بہت ہی شاق تھی ‘ ویسے بھی کسی پاک دامن پر زنا کی تہمت لگانی فاسق بنا دیتی ہے آئندہ ایسے شخص کی شہادت قابل پذیرائی نہیں رہتی اور تہمت تراش مستحق سزا ہوجاتا ہے۔ سُبْحٰنَکَیعنی اے اللہ تو اس بات سے پاک ہے کہ تیرے نبی کی بیوی زانیہ ہو کیونکہ بیوی کی زناکاری تو شوہر کی آبرو کو تباہ کردیتی ہے۔ نبی لوگوں کو دعوت اصلاح دیتا ہے ‘ اس کے گھر میں ایسی بات ہونی جو دوسروں کی نفرت کا باعث ہو کسی طرح جائز نہیں۔ (نہ عقلاً نہ نقلاً ) پیغمبر کی بیوی کافرہ تو ہوسکتی ہے (کافروں کے لئے کفر باعث نفرت نہیں ہوتا اور پیغمبر کی بیوی کا کفر کسی کافر کو پیغمبر کے پاس آنے سے نہیں روکتا نہ بیوی کے کفر سے ان کی نظر میں نبی کی ذلت ہوتی ہے) جیسے حضرت نوح ( علیہ السلام) اور حضرت لوط ( علیہ السلام) کی بیویاں کافر تھیں۔ لیکن بدکار نہیں تھیں۔ ہٰذَا بُہْتَانٌیعنی یہ اتنا بڑا جھوٹ ہے کہ سننے والا اس کو سن کر حیران رہ جاتا ہے جس پر دروغ بندی کی جا رہی ہے اس کی عظمت شان اور پھر اس کی طرف ایسی ذلیل حرکت کی نسبت سننے والے کو متحیر بنا دیتی ہے جس پر دروغ تراشی کی جاتی ہے اس کے مرتبے کے موافق تہمت (کے ہلکے بھاری ہونے) کا اندازہ قائم کیا جاتا ہے۔
Ayah 24:17

یَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنْ تَعُوْدُوْا لِمِثْلِهٖۤ اَبَدًا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 24:17 in the Quran reader

خدا تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ اگر مومن ہو تو پھر کبھی ایسا کام نہ کرنا

یعظکم اللہ ان تعودوا لمثلہ ابدا اللہ تم کو نصیحت کرتا ہے (اور ممانعت فرماتا ہے) کہ ایسی حرکت دوبارہ پھر کبھی نہ کرنا۔ وعظ کا معنی ہے ایسی بازداشت جس میں خوف بھی دلایا گیا ہو۔ خلیل نے کہا وعظ کا معنی ہے اس طور پر خیر کی یاد دہانی کرنا کہ دلوں میں رقت پیدا ہوجائے ‘ مطلب یہ ہے کہ اللہ تم کو اپنا عذاب یاد دلاتا ہے اور سزا سے ڈراتا ہے۔ اَنْ تَعُوْدُوْا لِمِثْلِہٖ کہ ایسی بات دوبارہ زندگی بھر نہ کہو نہ سنو۔ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ تم کو تنبیہ کرتا ہے اور ڈراتا ہے کیونکہ اس کو تمہارا پھر ایسا کرنا پسند نہیں ہے۔ مجاہد نے یَعِظُکُمْکا ترجمہ کیا تم کو منع کرتا ہے دوبارہ ایسی حرکت کرنے سے۔ ان کنتم مؤمنین۔ (یعنی) اگر تم مؤمن ہو تو نصیحت مانو ‘ ایسی حرکت پھر کبھی نہ کرنا یہ حرکت تقاضائے ایمان کے خلاف ہے۔ جو شیعہ ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ : کو متہم کرتے ہیں وہ مؤمن نہیں ہیں (یہ حضرت مؤلف کا استنباط ہے) ۔
Ayah 24:18

وَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:18 in the Quran reader

اور خدا تمہارے (سمجھانے کے لئے) اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے۔ اور خدا جاننے والا حکمت والا ہے

ویبین اللہ لکم الایت اور اللہ تمہارے لئے آیات کھول کر بیان کرتا ہے۔ یعنی ایسی آیات بیان کرتا ہے جو اوامر و نواہی اور محاسن آداب و اخلاق کی کھلی تعلیم دیتی ہیں۔ واللہ علیم اور اللہ خوب جانتا ہے یعنی اچھے برے امور سے بخوبی واقف ہے اس لئے بھلائیوں کا حکم دیتا ہے اور برائیوں کی ممانعت فرماتا ہے یا یہ مطلب ہے کہ تمام حالات کو جانتا ہے ‘ عائشہ کی پاکدامنی کو بھی جانتا ہے اور بہتان طرازوں کے جھوٹ کو بھی۔ حکیم۔ وہ حکمت والا ہے۔ اس کی سب تدبیریں حکمت سے پُر ہیں۔ وہ اپنے نبی کی طرف کسی برائی کی نسبت کو جائز نہیں قرار دیتا۔
Ayah 24:19

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 24:19 in the Quran reader

اور جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ مومنوں میں بےحیائی یعنی (تہمت بدکاری کی خبر) پھیلے ان کو دنیا اور آخرت میں دکھ دینے والا عذاب ہوگا۔ اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

ان الذین یحبون ان تشیع الفاحشۃ فی الذین امنوا لہم عذاب الیم جو لوگ مسلمانوں میں بری باتیں پھیلانے کے خواستگار ہیں ان کے لئے سخت تکلیف دہ سزا ہے۔ اَلْفَاحِشَۃُحد سے زیادہ بری بات۔ فی الدنیا دنیا میں بھی۔ کہ حد قذف ان پر جاری کی جاتی ہے۔ والاخرۃ اور آخرت میں بھی کہ ان کو دوزخ میں ڈالا جائے گا۔ واللہ یعلم اور اللہ جانتا ہے یعنی دلوں میں چھپی باتوں سے اللہ واقف ہے کہ کس کی نیت بخیر ہے اور کون بے حیائی کی باتیں مسلمانوں میں پھیلانا چاہتا ہے۔ وانتم لا تعلمون۔ اور (اے لوگو ! ) تم نہیں جانتے۔ اس لئے تم کو تو ظاہری امور کا اتباع کرنا چاہئے تھا ‘ اگر الزام زنا کے ثبوت میں کوئی چار شہادتیں شرعی پیش کر دے تو اس کے متعلق گمان اچھا رکھو سمجھ لو اس نے بہ نیت ثواب ایسا کیا ہے۔ کسی مسلمان کی آبرو ریزی اس کا مقصد نہیں وہ اللہ کی مقرر کردہ حدود کو قائم کرانا اور زمین سے بگاڑ کو دور کرنا چاہتا ہے ‘ لیکن اگر شرعی گواہ نہ ہوں تو الزام زنا لگانے والا اچھی نیت نہیں رکھتا۔ حدود الٰہیہ کو قائم نہیں کرا سکتا۔ مسلمانوں کی آبروریزی کرنا اس کا مقصد ہے اس لئے حد قذف اس پر جاری کرو۔ خواہ واقع میں سچا ہو۔ حقیقت خدا جانے۔ اللہ کے حکم کے بموجب وہ جھوٹا ہے تم ظاہری احکام کے پابند ہو اللہ نے ایسے لوگوں کو بہتان تراش کہا ‘ اور تہمت تراشی کی سزا مقرر کردی ہے۔
Ayah 24:20

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 24:20 in the Quran reader

اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی (تو کیا کچھ نہ ہوتا مگر وہ کریم ہے) اور یہ کہ خدا نہایت مہربان اور رحیم ہے

ولو لا فضل اللہ علیکم ورحمتہ وان اللہ روءرحیم۔ اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تم پر اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی ہے اور اللہ بڑا شفیق اور بڑا رحم کرنے والا ہے (تو تم بھی سزا سے نہ بچتے) ۔ یہ خطاب ان مسلمانوں کو ہے جنہوں نے حضرت عائشہ ؓ کے قصہ میں کچھ دخل اندازی کی تھی۔ شرط کی جزاء محذوف ہے ‘ یعنی اگر اللہ کا فضل و کرم تم پر نہ ہوتا تو دنیا میں ایسا عذاب تم پر نازل کرتا کہ تمہاری بیخ و بن اکھڑ جاتی اور آخرت میں تم کو ہمیشہ کے لئے دوزخ میں ڈال دیتا۔ اللہ نے اس آیت میں دوبارہ عذاب سے ڈرایا ہے اور اپنی رحمت کا تذکرہ کیا ہے ‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ واقعہ بڑا اہم اور جرم بہت سنگین تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا آیت اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَۃُ ۔۔ میں عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھی مراد ہیں اور لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِسے مراد ہیں دنیا میں حد قذف اور آخرت میں دوامی دوزخ اور وَلَوْ لاَ فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہٗ میں مراد ہیں حسان ‘ اور مسطح اور حمنہ۔
Ayah 24:21

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّبِعْ خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ فَاِنَّهٗ یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ مَا زَكٰى مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا١ۙ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:21 in the Quran reader

اے مومنو! شیطان کے قدموں پر نہ چلنا۔ اور جو شخص شیطان کے قدموں پر چلے گا تو شیطان تو بےحیائی (کی باتیں) اور برے کام ہی بتائے گا۔ اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو ایک شخص بھی تم میں پاک نہ ہوسکتا۔ مگر خدا جس کو چاہتا ہے پاک کردیتا ہے۔ اور خدا سننے والا (اور) جاننے والا ہے

یایہا الذین امنوا لا تتبعوا خطوت الشیطن ومن یتبع خطوت الشیطن فانہ یامر بالفحشآء والمنکر اے ایمان والو شیطان کے قدم بہ قدم 1 ؂ نہ چلو وہ (تو ہمیشہ ہر شخص کو) بےحیائی اور نامعقول کام کرنے ہی کو کہے گا۔ اَلْفَحْشَآءِوہ کام جس کی برائی عقلاً و نقلاً حد سے زیادہ ہو۔ اَلْمُنْکَرِ وہ کام جو شرعاً نامعقول ہو۔ ولو لا فضل اللہ علیکم ورحمتہ اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی۔ یہ خطاب ان مسلمانوں کو ہے جو (اپنی نادانی کی وجہ سے) منافقوں کے ساتھ افواہ پھیلانے میں شامل ہوگئے تھے۔ اللہ کی ان پر یہ مہربانی ہوئی کہ گناہوں کو مٹا دینے والی سزا کا حکم جاری کردیا گیا اور اللہ نے ان کو توبہ کی توفیق عنایت فرما دی۔ ما زکی منکم من احدا ابدا تو (اس طوفان و بہتان کے گناہ سے) تم میں سے کبھی کوئی پاک نہ ہوتا۔ ولکن اللہ یزکی من یشآء واللہ سمیع علیم۔ اور اللہ جس کو چاہتا ہے پاک کرتا ہے (توبہ کی توفیق عطا فرماتا ہے اور اس کی توبہ کو قبول فرماتا ہے) اور اللہ (ہر شخص کے کلام کو) سننے ولا (اور نیتوں کو) جاننے والا ہے۔ شیخین نے صحیحین میں اور بعض دوسرے اہل روایت نے ذکر کیا ہے کہ جب افک کا واقعہ ہوا حضرت ابوبکر نے فرمایا بخدا آئندہ مسطح کے لئے میں کچھ خرچ نہیں کروں گا۔ مسطح بن اثاثہ کی حضرت ابوبکر ؓ سے رشتہ داری تھی اور مسطح نادار مفلس تھے۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 24:22

وَ لَا یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَ السَّعَةِ اَنْ یُّؤْتُوْۤا اُولِی الْقُرْبٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١۪ۖ وَ لْیَعْفُوْا وَ لْیَصْفَحُوْا١ؕ اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:22 in the Quran reader

اور جو لوگ تم میں صاحب فضل (اور صاحب) وسعت ہیں، وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں کہ رشتہ داروں اور محتاجوں اور وطن چھوڑ جانے والوں کو کچھ خرچ پات نہیں دیں گے۔ ان کو چاہیئے کہ معاف کردیں اور درگزر کریں۔ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ خدا تم کو بخش دے؟ اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے

ولا یاتل اولوا الفضل منکم والشعۃ ان یوتوا اولی القربی والمسکین والمہجرین فی سبیل اللہ اور جو لوگ تم میں (دینی) بزرگی اور (دنیوی) وسعت والے ہیں وہ اہل قرابت کو اور مسکینوں کو اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دینے سے قسم نہ کھا بیٹھیں۔ وَلاَ یَاْتَلِیعنی قسم نہ کھائیں ‘ یہ لفظ باب افتعال سے ہے۔ الیہ سے مشتق ہے الیہ کا معنی ہے قسم۔ یا اس کا مادہ اَلْوٌ ہے الو کا معنی ہے کمی کرنا یعنی کمی نہ کریں۔ اس جگہ قسم کا معنی لینا زیادہ مناسب ہے۔ حضرت ابوبکر نے اثاثہ ؓ : کو کچھ نہ دینے کی قسم کھائی تھی۔ اَلْفَضْلِسے مراد ہے دینی فضیلت (مال مراد نہیں ہے کیونکہ اس کے بعد السَّعَۃِ کا لفظ مذکور ہے اور سَعَۃٌ کا معنی مالی کشائش) اگر مال مراد ہوگا تو تکرار لازم آئے گی (جو بےضرورت جائز نہیں) اس کے علاوہ یہ بات بھی ہے کہ ممانعت صرف انہیں لوگوں کے لئے ہے جو دینی فضیلت رکھتے ہوں ان کے مرتبے کا یہی تقاضا ہے ورنہ کسی رشتہ دار سے اگر دکھ پہنچا ہو تو اس کو اپنا مال نہ دینا اس کے مصارف برداشت نہ کرنا عام لوگوں کے لئے حرام نہیں ہے۔ مِنْکُمْمیں حضرت ابوبکر ؓ اور ان جیسے صاحبان فضل کو خطاب ہے اس سے حضرت ابوبکر ؓ کی دینی فضیلت ظاہر ہوتی ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم میں دولت مند لوگ دنیا ترک نہ کریں۔ خیرات کا حکم مالداروں کے لئے ہے (نادار کیا خیرات کرے گا) ۔ اُولِی الْقُرْبٰی وَالْمَسٰکِیْنَ وَالْمُہٰجِرِیْنَ سے حضرت مسطح اور ان جیسے لوگ مراد ہیں۔ حضرت مسطح مسکین بھی تھے ‘ مہاجر بھی تھے ‘ بدری بھی تھے اور حضرت ابوبکر ؓ کی خالہ کے بیٹے بھی تھے۔ ولیعفوا اور (جوان کی طرف سے زیادتی ہوگئی ہے اس کو) معاف کردیں۔ ولیصفحوا اور ان سے در گزر کریں۔ الا تحبون ان یغفر اللہ لکم واللہ غفور رحیم۔ (اے فضیلت اور دولت والو) کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ (تمہارے درگزر کرنے اور حسن سلوک کرنے اور معاف کردینے کے بدلے میں) تمہارے قصور معاف کر دے۔ یعنی تم سے بھی تو اللہ کے حقوق ادا نہیں ہوتے تو کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہاری کوتاہیوں کو معاف کر دے تم پر اللہ کی نعمتیں اور حقوق بہت زیادہ ہیں اور وہ بدلہ لینے پر پوری پوری قدرت بھی رکھتا ہے اس کے باوجود وہ بڑا معاف کرنے والا مہربان ہے۔ لہٰذا تم بھی اپنے اندر اللہ کی یہ پسندیدہ صفت پیدا کرو۔ شیخین وغیرہ کی روایت ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا خدا کی قسم میں تو دل سے خواستگار ہوں کہ اللہ میرے قصور بخش دے۔ اس کے بعد آپ نے دوبارہ حضرت مسطح کے مصارف جاری کردیئے اور فرمایا واللہ ! آئندہ کبھی میں یہ مصارف نہیں روکوں گا۔ حضرت ابن عمر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا صلۂ رحم جوڑنے والا وہ نہیں ہے جو برابر کا بدلہ لے لے بلکہ واصل رحم وہ شخص ہے کہ اگر کوئی تم سے اپنا رشتہ توڑ لے تو تم اس کو جوڑے رکھو رواہ البخاری۔۔ حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک کا بیان ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ اور دوسرے چند صحابیوں نے قسم کھالی تھی کہ جن لوگوں نے اس بہتان تراشی میں حصہ لیا ہے ان کو کچھ نہیں دیں گے اس پر آیت مذکورہ کا نزول ہوا۔
Ayah 24:23

اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 24:23 in the Quran reader

جو لوگ پرہیزگار اور برے کاموں سے بےخبر اور ایمان دار عورتوں پر بدکاری کی تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیا وآخرت (دونوں) میں لعنت ہے۔ اور ان کو سخت عذاب ہوگا

ان الذین یرمون المحصنت الغفلت المؤمنت لعنوا فی الدنیا والاخرۃ ولہم عذاب عظیم۔ جو لوگ پاکدامن بھولی بھالی مؤمن عورتوں پر زنا کی تہمت لگاتے ہیں وہ یقیناً دنیا اور آخرت میں ملعون ہیں اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔ اَلْمُحْصَنٰتِ پاک دامن عورتیں۔ اَلْغٰفِلٰتِ زنا سے بیخبر ‘ بدکاری کا تصور بھی ان کے دل میں نہیں آتا۔ اَلْمُؤْمِنٰتِ اللہ اور رسول ﷺ پر ایمان رکھنے والیاں۔ عَذَابٌ عَظِیْمٌیعنی دوزخ کے اندر ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔ یہ حکم ہر شخص کا ہے جو کسی پاک دامن ایماندار زنا سے بیخبر عورت پر زنا کی تہمت لگاتا ہے اور آیت والَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَۃِ شُہَدآءَ فَاجْلِدُوْہُمْ ۔۔ میں ہر اس شخص کا حکم بیان کیا گیا جو پاک دامن عورت پر زنا کی تہمت لگاتا ہے خواہ وہ عورت زنا کے تصور سے بیخبر ہو یا نہ ہو ‘ بہرحال حد قذف اور شہادت کا ہمیشہ کے لئے قبول نہ ہونا ہر قاذف اور تہمت تراش کی سزا ہے خواہ وہ سچا ہی ہو مگر شرعی چار گواہ نہ پیش کرسکتا ہو یا جھوٹا ہو ‘ اور ملعون ہونے کا حکم صرف اس شخص کے لئے مخصوص ہے جس نے جھوٹی تہمت لگائی ہو ‘ بےچاری بھولی بھالی عورت اس تہمت سے بیخبر ہوتی ہے۔۔ ایسے تہمت تراش کا جرم بہت بڑا ہوتا ہے لیکن جرم کتنا ہی بڑا ہو اس پر کفر عائد نہیں ہوتا ‘ ایسا مجرم کافر نہیں ہوجاتا۔ صرف کافر ہی نہیں ‘ بعض کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والا بھی شرعاً مستحق لعن ہوجاتا ہے ‘ مثلاً قصداً مؤمن کو قتل کرنے والا بھی مستحق لعنت ہوتا ہے۔ مقاتل نے کہا یہ حکم صرف عبداللہ بن ابی کے لئے تھا ‘ مقاتل کے خیال میں ملعون صرف کافر ہوتا ہے۔ طبرانی نے لکھا ہے کہ خصیف نے بیان کیا میں نے سعید بن جبیر سے پوچھا زنا کرنے اور تہمت زنا لگانے میں سے کون زیادہ سخت ہے ؟ (کس کا گناہ زیادہ ہے) سعید نے کہا زنا (زیادہ سخت ہے) میں نے کہا اللہ نے تو فرمایا ہے اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الَمُوٌْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃَفرمایا یہ آیت حضرت عائشہ ؓ کے حق میں نازل ہوئی تھی ‘ اس روایت کی سند میں یحییٰ حمانی ضعیف راوی ہے۔ بغوی نے بھی خصیف کی یہ روایت نقل کی ہے۔ عوام بن حوشب نے قبیلۂ بنی کاہل کے ایک شیخ کے حوالہ سے نقل کیا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا آیت مذکورہ حضرت عائشہ ؓ اور دوسری امہات المؤمنین کے حق میں خاص طور پر نازل ہوئی اس میں توبہ کا ذکر نہیں اور اگر کوئی دوسری مؤمن عورت پر زنا کی تہمت لگائے اس کے لئے اللہ نے توبہ کی گنجائش رکھی ہے۔ اس کے بعد حضرت ابن عباس ﷺ نے آیت والَّذِیْن یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَۃٍ شُہَدَآءَ ۔۔ اِلَّا الَّذِیْنَ تَاْبُوْا۔۔ تلاوت کی اور فرمایا ان لوگوں کے لئے توبہ کا ذکر کیا گیا اور (آیت مذکورۂ بالا میں) ان لوگوں کے لئے توبہ کا ذکر نہیں کیا۔ اسی طرح طبرانی نے ضحاک بن مزاحم کا قول نقل کیا ہے کہ اس آیت کا نزول صرف امہات المؤمنین کے حق میں ہوا تھا۔ دوسرے اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ (اوّل) اس آیت کا نزول حضور ﷺ : کی بیویوں کے حق میں ہوا تھا یہاں تک کہ (اس کے بعد) وہ آیت جو شروع سورت میں گزری نازل ہوئی یعنی آیت والَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَۃِ شُہَدَاءَ ۔۔ بعد کو نازل ہوئی اور اس میں حد قذف اور توبہ کا ذکر کردیا گیا۔ میں کہتا ہوں ان مختلف اقوال کی بنیاد دو باتوں پر ہے (1) اوّل یہ کہ آیت مذکور کے نزول کا سبب قصۂ افک ہے۔ (2) دوئم یہ کہ کفر کے علاوہ دوسرے کبیرہ گناہوں کے مرتکب پر لعنت شریعت میں وارد نہیں ہے۔ اوّل کا جواب یہ ہے کہ مورد اور سبب نزول کی تخصیص عموم حکم سے مانع نہیں ہوتی ‘ الفاظ میں عموم ہے اس لئے آیت کے اطلاق میں بھی عموم ہے۔ دوسری بات کا جواب یہ ہے کہ لعنت کی خصوصیت کفر ہی کے ساتھ نہیں ہے ‘ قصداً قاتل کو بھی ملعون قرار دیا گیا ہے ‘ معلوم ہوا کہ بعض کبیرہ گناہ بھی مستحق لعنت بنا دیتے ہیں۔ رہی یہ بات کہ اس آیت میں توبہ کی مغفرت کا ذکر نہیں کیا گیا تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ امہات المؤمنین پر تہمت لگانے والوں کی توبہ قبول ہی نہ ہو اور ان کی مغفرت ممکن ہی نہ ہو اللہ نے صراحۃً فرمایا ہے وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآءُاور شرک کے علاوہ جس کو چاہے گا اللہ بخش دے گا۔
Ayah 24:24

یَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:24 in the Quran reader

(یعنی قیامت کے روز) جس دن ان کی زبانیں ہاتھ اور پاؤں سب ان کے کاموں کی گواہی دیں گے

یوم تشہد علیہم السنتہم وایدیہم وارجلہم بما کانوا یعملون۔ جس روز کہ ان کی زبانیں ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے خلاف (ہو کر) ان کے کئے ہوئے اعمال پر گواہی دیں گے (اس روز ان پر عذاب عظیم ہوگا) ۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابو موسیٰ اشعری کی راویت سے بیان کیا ہے کہ قیامت کے دن حساب کے لئے مؤمن کو طلب کیا جائے گا اور اس کا رب اس کے کئے ہوئے وہ اعمال اس کے سامنے لائے گا جو بندے اور رب کے درمیان تھے (یعنی حقوق اللہ سے تعلق رکھنے والے اعمال جن سے بندہ واقف ہوگا اور اس کا رب بندے کے سامنے لائے جائیں گے) مؤمن ان کا اقرار کرے گا اور عرض کرے گا اے میرے رب ! میں نے یہ کئے تھے میں نے یہ کئے تھے ‘ اقرار کرانے کے بعد اللہ ان پر پردہ ڈال دے گا اور معاف فرما دے گا ‘ وہ گناہ اس طرح چھپا دیئے جائیں گے کہ روئے زمین پر کوئی مخلوق ان کو نہ دیکھ سکے گی ہاں اس کی نیکیاں ہی نیکیاں نمایاں ہوں گی سارے لوگ اس کی نیکیاں دیکھیں گے اور باہم بیان کریں گے۔ منافق کو جب حساب کے لئے طلب کیا جائے گا اور اس کا رب اس کے عمل اس کے سامنے لائے گا تو وہ انکار کرے گا اور عرض کرے گا اے میرے رب ! تیری عزت کی قسم میں نے یہ کام نہیں کئے بن کئے کام فرشتے نے مجھ پر لکھ دیئے ہیں۔ فرشتہ کہے گا کیا تو نے فلاں دن فلاں جگہ یہ کام نہیں کیا تھا ‘ منافق کہے گا قسم ہے عزت رب کی میں نے نہیں کئے اس وقت اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی (اور اعضاء شہادت دیں گے) حضرت ابو موسیٰ نے کہا میرا خیال ہے کہ سب سے پہلے اس کی داہنی ران بولے گی ‘ پھر ابو موسیٰ نے آیت اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰی اَفْوَاہِہِمْ ۔۔ تلاوت کی۔ ابو یعلیٰ اور حاکم نے حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے بیان کیا ہے اور حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسا فرمایا (یعنی یہ حدیث مرفوع ہے) ۔ احمد نے بسند صحیح اور طبرانی نے حضرت عقبہ بن عامر کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ : فرما رہے تھے جس روز منہ پر مہر لگا دی جائے گی اس روز انسان کی سب سے پہلی ہڈی جو کلام کرے گی وہ اس کی بائیں ران ہوگی۔ احمد ‘ نسائی ‘ حاکم اور بیہقی حضرت معاویہ بن جیدہ کی روایت سے بیان کیا اور حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن (منافق) لوگ اس حالت میں آئیں گے کہ ان کے مونہوں پر دہانے چڑھے ہوں گے (کہ منہ بند ہوں گے بول نہ سکیں گے) سب سے پہلے آدمی کی ران اور ہتھیلی کلام کرے گی۔ مسلم نے رویت باری تعالیٰ کے باب میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت کردہ ایک طویل حدیث کے ذیل میں بیان کیا ہے کہ آدمی کے عمل (کی شہادت دینے کے لئے) اس کی ران اور اس کا گوشت اور اس کی ہڈی بولے گی اور یہ شخص منافق ہوگا جس پر اللہ کا غضب ہوگا۔ ایک شبہ اس جگہ اللہ نے فرمایا کہ ان کی زبانیں شہادت دیں گی اور دوسری آیت میں فرمایا ہے ہم ان کے منہ پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے کلام کریں گے (بظاہر) دونوں میں اختلاف ہے۔ ازالہ منہ پر مہر لگانے کا یہ مطلب ہے کہ خود اپنے ارادے سے وہ منہ سے بول نہ سکیں گے (اپنی مرضی کے مطابق زبانوں سے کلام نہ کرسکیں گے) ۔ یہ مطلب نہیں کہ ان کے ارادے کے خلاف بھی ان کی زبانوں سے کوئی لفظ نکل نہ سکے گا (اور گویائی کی قوت سلب ہوجائے گی) ۔ قرطبی نے لکھا ہے جسمانی اعضاء ان لوگوں کے خلاف شہادت دیں گے جو اعمال ناموں کی تحریر کے منکر ہوں گے اور اعمالنامہ کے اندراج کو غلط بتائیں گے) اور جھگڑا کریں گے۔ ایسے لوگوں کے خلاف اعضائے جسم شہادت دیں گے۔ میں کہتا ہوں اس تفسیر پر گزشتہ آیات کا نزول عبداللہ بن ابی کے لئے مانا جائے گا جیسا کہ قتادہ کا خیال ہے۔
Ayah 24:25

یَوْمَئِذٍ یُّوَفِّیْهِمُ اللّٰهُ دِیْنَهُمُ الْحَقَّ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:25 in the Quran reader

اس دن خدا ان کو (ان کے اعمال کا) پورا پورا (اور) ٹھیک بدلہ دے گا اور ان کو معلوم ہوجائے گا کہ خدا برحق (اور حق کو) ظاہر کرنے والا ہے

یومئذ یوفیہم اللہ دینہم الحق اس روز اللہ ان کو (ان کے عمل کا) پورا پورا عوض دے گا ‘ یعنی ٹھیک ٹھیک واجبی بدلہ۔ دین بدلہ ‘ عوض ‘ حق واجب ‘ لازم۔ بعض کے نزدیک دین سے مراد ہے حساب اور الحق سے مراد ہے انصاف والا۔ ویعلمون ان اللہ ہو الحق المبین۔ اور وہ جان لیں گے کہ اللہ ہی ٹھیک فیصلہ کرنے والا اور (بات کی حقیقت کو) کھول دینے والا ہے۔ اَلْحَقُّ الْمُبِیْنُ موجودہ حقیقی اصلی ہے۔ تمام چیزوں کو (خواہ وہ جواہر ہو یا عرض) پیدا کرنے والا ہے۔ تمام حقائقِ کائنات کو تھامے رکھنے والا ہے۔ گویا اسی کا وجود اصلی ہے اور ساری کائنات اسی کے وجود کا عکس ہیں۔ اس کی الوہیت کھلی ہوئی ہے الوہیت میں کوئی اس کا شریک نہیں اور ثواب عذاب دینے پر اس کے سوا اور کوئی قادر نہیں۔ یا الحق سے مراد ہے ذوالحق اور المبین سے مراد ہے بین۔ یعنی اس کا انصاف ظاہر ہے۔ یا المبین (ظاہر کرنے والا) کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جو اس نے وعدہ کیا ہے قیامت کے دن اس کو ظاہر کرنے والا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا عبداللہ بن ابی (دین کی صداقت) میں شک کرتا تھا ‘ قیامت کے دن اس کو معلوم ہوجائے گا کہ اللہ ہی حق مبین ہے۔ میں کہتا ہوں شاید حضرت ابن عباس ؓ کے قول کا یہ مطلب ہے کہ عام لوگ خصوصاً کافر خیال کرتے ہیں کہ خدا کی ہستی موہوم ہے (واقعی خدا کا وجود نہیں) یہاں تک کہ وہ حوادث کائنات کو زمانہ کی طرف منسوب کرتے ہیں یا ستاروں کی چال سے ان کو وابستہ سمجھتے ہیں اور انسانوں کے ہاتھ میں نفع نقصان کا حقیقی اختیار جانتے ہیں اسی لئے جتنا بادشاہوں سے ڈرتے ہیں خدا سے نہیں ڈرتے ‘ قیامت کے دن ان کے سامنے آجائے گا کہ جو کچھ وہ خیال کرتے تھے غلط تھا اور اللہ ہی حق مبین ہے۔
Ayah 24:26

اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَ الْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثٰتِ١ۚ وَ الطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَ الطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبٰتِ١ۚ اُولٰٓئِكَ مُبَرَّءُوْنَ مِمَّا یَقُوْلُوْنَ١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ۠ Open ayah 24:26 in the Quran reader

ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لئے اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لئے۔ اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لئے۔ اور پاک مرد پاک عورتوں کے لئے۔ یہ (پاک لوگ) ان (بدگویوں) کی باتوں سے بری ہیں (اور) ان کے لئے بخشش اور نیک روزی ہے

الخبثت للخبثین والخبیثون للخبیثت ‘ والطیبت للطیبین والطیبون للطیبت اور (یہ قاعدہ عام ہے کہ) گندی عورتیں گندے مردوں کے لائق ہوتی ہیں اور گندے مرد گندی عورتوں کے لائق اور ستھری عورتیں ستھرے مردوں کے لائق ہوتی ہیں اور ستھرے مرد ستھری عورتوں کے لائق۔ اکثر اہل تفسیر کے نزدیک الخبیثات سے مراد ہی گندی باتیں ‘ مذمت ‘ تحقیر اور توہین کرنے والے ناپاک الفاظ ایسے الفاظ و کلمات گندے لوگوں کے لئے ہی زیبا ہیں ‘ ناپاک لوگوں کو ہی ایسی بری باتوں کا استحقاق ہے اور خبیث لوگ ہی مذمت و تحقیر کے اہل ہیں اور پاک کلمات یعنی تعریف ‘ ثنا اور دعا کے مستحق پاک لوگ ہیں اور پاک کلمات انہیں کے لئے زیبا ہیں۔ پس حضرت عائشہ ؓ : ثنا اور تعریف کی مستحق ہیں دعا اور تعریف ہی ان کے لئے زیبا ہے ان پر تہمت تراشی اور بہتان بندی قطعاً ناجائز اور غیر مناسب ہے۔ اولئک مبرء ون مما یقولون یہ لوگ (یعنی حضرت عائشہ ؓ : اور ان جیسے لوگ) ان (بیہودہ) باتوں سے پاک ہیں جو یہ (بہتان بندی کرنے والے) کہتے ہیں۔ زجاج نے کہا آیت مذکورۂ بالا کی تفسیر حسب ذیل کی ہے ‘ گندے کلمات جیسے کلمۂ کفر ‘ جھوٹ ‘ صحابہ اور اہل بیت کو برا کہنا ‘ پاک دامن عورتوں پر زنا کا بہتان رکھنا اور اسی جیسی دوسری باتیں ناپاک آدمیوں جیسے عبداللہ بن ابی وغیرہ کے لئے ہی جچتی ہیں وہی ایسی باتیں کہہ سکتے ہیں۔ پاک لوگ ایسا کلام زبان سے نہیں نکال سکتے۔ گندے لوگوں کو انہیں گندی باتوں کے لئے پیدا کیا گیا ہے ان کے خمیر میں یہی باتیں رکھی گئی ہیں ‘ اور پاک کلمات جیسے اللہ کا ذکر ‘ رسول اللہ ﷺ پر درود وسلام ‘ مؤمن مردوں اور عورتوں کے لئے دعاء مغفرت اور تلاوت قرآن وغیرہ کی توفیق پاک لوگوں کو ہی ملتی ہے۔ پاک لوگوں کی تخلیق ہی پاک کلمات کیلئے کی گئی ہے ان کے خمیر میں یہ پاک باتیں رکھ دی گئی ہیں یہی پاک لوگ اس جرم کے ارتکاب سے پاک ہیں جو تہمت تراش ان کے متعلق کہتے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت میں تہمت تراشی کرنے والوں کی مذمت ہے اور جن کی اللہ نے الزامات سے پاک ہونے کی صراحت کی ہے ان کی مدح ہے۔ ابن زید نے کہا خبیثات سے گندی عورتیں اور خبیثین سے گندے مرد مراد ہیں یعنی اکثر گندی عورتیں گندے مردوں کے لئے اور گندے مرد گندی عورتوں کے لئے اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لئے اور پاک مرد پاک عورتوں کے لئے ہوتے ہیں اور عائشہ ؓ پاک ہیں اسی لئے اللہ نے ان کو اپنے رسول ﷺ : کی زوجیت کے لئے منتخب فرمایا ‘ عائشہ ؓ اور ان جیسے لوگ ان افتراء پردازوں کی الزام تراشی سے پاک ہیں۔ اگر عائشہ ؓ پاک نہ ہوتیں تو پاک رسول کی بیوی بننے کی اہل نہ ہوتیں۔ حضرت ہند بن ابی ہالہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کو ناپسند ہے کہ میں سوائے جنتی (عورت) کے کسی اور سے نکاح کروں۔ رواہ ابن عساکر۔ لہم مغفرۃ و رزق کریم۔ ان کے (یعنی عائشہ ؓ اور ان جیسے لوگوں کے) لئے (گناہوں کی) مغفرت ہے اور عزت والا رزق یعنی جنت ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ روایت میں آیا ہے حضرت عائشہ ؓ چند باتوں پر ناز کرتی تھیں جو آپ ہی کو عطا کی گئی تھیں کسی اور عورت کو نہیں دی گئیں۔ (1) حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) رسول اللہ ﷺ کے پاس حضرت عائشہ ؓ کی تصویر ایک ریشمی کپڑے میں (لپیٹ کر) لائے اور کہا یہ آپ کی بیوی ہیں۔ میں کہتا ہوں ترمذی نے حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے اس کو بیان کیا ہے۔ روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) حضرت عائشہ ؓ کی تصویر اپنے ہاتھ میں لائے تھے۔ (2) حضرت عائشہ ؓ کے سوا اور کسی ناکت خدا (دوشیزہ) سے رسول اللہ ﷺ نے شادی نہیں کی۔ (3) رسول اللہ ﷺ کی وفات کے وقت حضور والا کا سر حضرت عائشہ ؓ کی گود میں تھا۔ (4) حضرت عائشہ ؓ کے حجرے میں رسول اللہ ﷺ کا جسد مبارک دفن کیا گیا۔ (5) جب رسول اللہ ﷺ حضرت عائشہ ؓ کے ساتھ ایک چادر میں ہوتے تو (کبھی اسی حالت میں) وحی آجاتی (اور کسی بیوی کو یہ شرف حاصل نہ تھا) ۔ (6) حضرت عائشہ ؓ کی پاک دامنی کی صراحت آسمان سے نازل ہوئی۔ (7) آپ رسول اللہ کے (اول) خلیفہ کی صاحبزادی ہیں۔ (8) آپ صدیقہ طاہرہ تھیں۔ (9) آپ سے مغفرت اور رزق کریم عطا فرمانے کا وعدہ کیا گیا۔ مسروق اگر حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے کوئی حدیث بیان کرتے تو یہ الفاظ کہتے ‘ مجھ سے بیان کیا صدیق کی صاحبزادی صدیقہ نے جو رسول اللہ ﷺ : کی چہیتی بیوی تھیں اور جن کی پاک دامنی آسمان سے نازل کی گئی تھی۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ اگر پورے قرآن میں تلاش کیا جائے تو کسی کے لئے کوئی وعید اتنی سخت نہیں نازل ہوئی۔ جتنی حضرت عائشہ ؓ پر تہمت تراشنے والوں کے حق میں نازل ہوئی۔ صحیحین میں آیا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا ‘ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ‘ تجھے (یعنی تیری صورت کو) تین رات (برابر) خواب میں میری نظر کے سامنے لایا گیا ‘ فرشتہ ایک ریشمی کپڑے میں تجھے لاتا تھا اور مجھ سے کہتا تھا یہ آپ کی بیوی ہے ‘ میں نے تیرے چہرے سے کپڑا ہٹایا تو وہ تیری ہی صورت تھی ‘ میں نے کہا اگر یہ خواب اللہ کی طرف سے ہے تو وہ اس کو پورا کر دے گا۔ صحیحین میں حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے یہ بھی آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ جبرئیل ( علیہ السلام) ہیں تم کو سلام کر رہے ہیں۔ میں نے جواب دیا وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا رسول اللہ : ﷺ کو وہ کچھ نظر آتا تھا جو میں نہیں دیکھتی تھی۔ یہ بھی حضرت عائشہ ؓ : کا بیان ہے کہ لوگ قصداً عائشہ ؓ : کی باری کے دن رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اپنے ہدیے بھیجتے تھے (باری کی اس تعیین سے) ان کو رسول اللہ ﷺ : کی خوشنودی حاصل کرنا مقصود ہوتی تھی۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ : کی بیویوں کے دو گروہ (جدا جدا) ہوگئے تھے۔ ایک گروہ عائشہ ‘ حفصہ ‘ صفیہ اور سودہ کا تھا اور دوسرا گروہ ام سلمہ اور باقی بیویوں کا تھا۔ ایک روز ام سلمہ کی ساتھ والی بیویوں نے ام سلمہ سے کہا آپ رسول اللہ ﷺ سے عرض کریں کہ آپ لوگوں سے فرما دیں کہ اگر کسی شخص کو رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں کوئی ہدیہ بھیجنا ہو تو رسول اللہ ﷺ جس بیوی کے گھر ہوں وہیں بھیج دیں (عائشہ ؓ کی باری ہی کی تخصیص نہ رکھیں) چناچہ ام سلمہ نے (بیویوں کا قول) رسول اللہ ﷺ سے عرض کردیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا تم مجھے عائشہ ؓ کے معاملے میں مت ستاؤ۔ سوائے عائشہ ؓ کے اور کسی عورت کی چادر میں (اگر میں موجود ہوتا ہوں تو) میرے پاس وحی نہیں آتی۔ ام سلمہ نے کہا میں اللہ کے رسول کو ایذا دینے سے اللہ سے توبہ کرتی ہوں۔ اس کے بعد بیویوں نے ( رسول اللہ ﷺ : کی صاحبزادی) فاطمہ ؓ : کو اسی غرض سے حضور ﷺ کے پاس بھیجا اور (سیدہ) فاطمہ ؓ نے اس بات کے سلسلے میں گزارش کی ‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیٹا ! کیا تجھے وہ بات ناپسند ہے جو مجھے پسند ہے۔ سیدہ نے کہا کیوں نہیں (پسند ہے) ۔ فرمایا تو تو بھی اس سے محبت کر۔ متفق علیہ۔ صحیحین میں حضرت ابو موسیٰ اشعری کی روایت سے آیا ہے کہ (حضور ﷺ نے فرمایا) عائشہ ؓ کی فضیلت عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید (ایک خاص قسم کا کھانا) کی فضیلت اور کھانوں پر۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری نے فرمایا صحابہ کو جب کسی حدیث (کے سمجھنے) میں کوئی دشواری ہوتی اور ہم جا کر حضرت عائشہ ؓ سے دریافت کرتے تو اس کا علم ہم کو ان کے پاس ملتا۔ رواہ الترمذی۔ حضرت موسیٰ بن طلحہ کا بیان ہے میں نے عائشہ ؓ سے زیادہ سلیس بیان کرنے والا کسی کو نہیں پایا۔ رواہ الترمذی۔ بیضاوی نے لکھا ہے ‘ اللہ نے چار شخصوں کو چار کے ذریعہ سے پاکی (یعنی تہمت سے براءت) عنایت کردی۔ 1) یوسف ( علیہ السلام) کو زلیخا کے ایک گھر والے (بچہ) کی شہادت کی وجہ سے۔ 2) موسیٰ : ( علیہ السلام) کو یہودیوں کی تہمت سے اس پتھر کے ذریعہ جو آپ کے کپڑے لے بھاگا تھا۔ 3) مریم ( علیہ السلام) کو انہی کے بچے (عیسیٰ ( علیہ السلام) کی شہادت کی وجہ سے۔ 4) عائشہ ؓ کو ان مذکورہ آیات کے ذریعے سے اور مختلف پُر زور طریقوں سے ‘ حضرت عائشہ ؓ : کی پاکدامنی کا اظہار اتنی موکد عبارتوں میں محض منصب رسول کی عظمت کو بیان کرنے اور آپ کے مرتبے کو بالا اور اعلیٰ بنانے کے لئے کیا گیا ہے۔ میں کہتا ہوں اس سے اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ : کی نظر میں حضرت عائشہ ؓ : کی عظمت و شان کا اظہار بھی مقصود ہے۔ فریابی اور ابن جریر نے حضرت عدی بن ثابت کی روایت سے بیان کیا کہ ایک انصاری عورت نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں اپنے گھر کے اندر (بعض وقت) یسی حالت میں ہوتی ہوں کہ میں نہیں چاہتی کہ اس حالت میں کوئی مجھے دیکھے ‘ لیکن گھر کے آدمیوں میں سے کوئی (نہ کوئی) آدمی (بےروک ٹوک) اندر آجاتا ہے اور اس حالت میں مجھے دیکھ لیتا ہے ‘ میں کیا کروں۔ اس سوال پر آیت ذیل کا نزول ہوا۔
Ayah 24:27

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِكُمْ حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا وَ تُسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَهْلِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 24:27 in the Quran reader

مومنو! اپنے گھروں کے سوا دوسرے (لوگوں کے) گھروں میں گھر والوں سے اجازت لئے اور ان کو سلام کئے بغیر داخل نہ ہوا کرو۔ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے (اور ہم) یہ نصیحت اس لئے کرتے ہیں کہ شاید تم یاد رکھو

یایہا الذین امنوا لا تدخلوا بیتوا غیر بیوتکم حتی تستانسوا وتسلموا علی اہلہا اے ایمان والو ! تم اپنے (خاص رہنے کے) گھروں کے علاوہ غیر گھروں میں داخل مت ہو۔ جب تک ان سے اجازت حاصل نہ کرلو اور گھر والوں کو سلام نہ کرلو 1 ؂۔ غَیْرَ بُیُوْتِکُمْیعنی ان مکانوں کے علاوہ جن میں تم رہتے ہو (خواہ ان غیر مکانوں کے تم ہی مالک ہو) غَیْرَ بُیُوْتِکُمْمیں اضافت میں تملیک کے لئے نہیں ہے ‘ کیونکہ جو شخص اپنا مملوکہ مکان کسی دوسرے شخص کو کرایہ پر یا مفت رہنے کے لئے دے دے (وہ اگرچہ اس مکان کا مالک ہوتا ہے لیکن) اس کو بھی اجازت نہیں کہ رہنے والے کی اجازت کے بغیر اس مکان میں داخل ہو سکے۔ تَسْتَاْنِسُوْاکا مرادی معنی ہے اجازت حاصل کرلو۔ ایک روایت میں حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ابی بن کعب ؓ کی قرأت میں تَسْتَاْنِسُوْاکی جگہ تَسْتَاْدِنُوْا بھی آیا ہے۔ لغت میں انس کا معنی ہے دیکھنا ‘ جاننا ‘ احساس کرنا اور وحشت نہ ہونا۔ ابن ابی حاتم نے کہا کہ حضرت ابو ایوب کے بھتیجے حضرت ابو سودہ نے بیان کیا ‘ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ سلام کرنا تو ہم جانتے ہیں لیکن استیناس (طلب انس) کا کیا مطلب ہے ‘ فرمایا (استیناس یہ ہے کہ) آدمی (باہر ہی رہ کر) سبحان اللہ اور اللہ اکبر اور الحمد للہ کہے اور کھنکھارے (تا کہ گھر والے کو اس کی آمد کی اطلاع ہوجائے) پھر اہل خانہ اجازت دے دے۔ (تو اندر داخل ہوجائے) ۔ قاموس میں ہے انس ضد وحشت (کو کہتے ہیں) اَنَسَ اَلشَئَکسی چیز کو دیکھا ‘ جانا ‘ احساس کیا آنس الصوت آواز کو سنا۔ خلیل نے کہا استیناد کا معنی ہے دیکھنا۔ انست نارًا میں نے آگ دیکھ پائی ہے طلب اذن کو استیناس کے لفظ سے اس لئے تعبیر کیا کہ طلبگار اجازت کے دل میں ایک طرح کی وحشت ہوتی ہے ‘ اس کو اندیشہ ہوتا ہے کہ شاید داخلے کی اجازت نہ ملے۔ جب داخلے کی اجازت مل جاتی ہے تو اس کی وحشت خاطر دور ہوجاتی ہے۔ طلبگار اجازت طالب علم بھی ہوتا ہے اس کو معلوم نہیں ہوتا کہ داخلے کی اجازت گھر والوں کی طرف سے ملے گی یا نہیں۔ اجازت ملنے کے بعد اس کو علم ہوجاتا ہے۔ تُسَلِّمُوْا عَلٰی اَہْلِہَا یعنی گھر والوں کو السلام علیکم کہو۔ حضرت انس کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیٹے ! جب تو گھر والوں کے پاس جائے تو انہیں سلام کر ‘ تیرے اور تیرے گھر والوں کے لئے برکت حاصل ہوگی۔ رواہ الترمذی۔ طلب اجازت پہلے کی جائے یا سلام یہ مسئلہ اختلافی ہے۔ آیت میں طلب اذن کا ذکر پہلے ہے اس لئے کچھ لوگوں کا قول ہے کہ پہلے اجازت داخلہ طلب کی جائے ‘ پھر سلام کیا جائے۔ لیکن یہ قول بےدلیل ہے۔ واؤ (عاطفہ) کا یہ معنی ہے کہ دونوں کام کئے جائیں پہلے پیچھے کس کو کیا جائے یہ واؤ سے نہیں معلوم ہوتا ‘ پھر حضرت ابن مسعود ؓ کے مصحف میں تُسَلِّمُوْاکا لفظ تَسْتَاْذِنُوْاسے پہلے آیا ہے۔ اکثر علماء کا قول ہے پہلے سلام کیا جائے۔ حضرت کلدہ بن حنبل کا بیان ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں جا پہنچا ‘ نہ اجازت داخلہ مانگی نہ سلام کیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا واپس جاؤ اور واپس جا کر کہو السلام علیکم کیا میں اندر آسکتا ہوں۔ رواہ ابو داؤد والترمذی۔ حضرت جابر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے پہلے سلام نہ کیا ہو اس کو (داخلے کی) اجازت نہ دو ۔ رواہ البیہقی فی شعب الایمان۔ بغوی نے لکھا ہے ایک شخص نے حضرت ابن عمر ؓ سے داخلہ کی اجازت طلب کی اور کہا کیا میں اندر آسکتا ہوں ‘ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا نہیں ‘ ایک شخص نے آنے والے کو مشورہ دیا کہ پہلے سلام کر پھر اجازت داخلہ طلب کر۔ حسب مشورہ اس نے سلام کیا پھر اجازت طلب کی حضرت ابن عمر ؓ نے اجازت داخلہ دے دی۔ بعض لوگوں کا خیال ہے اگر آنے والے کی نظر (گھر کے اندر) کسی آدمی پر پڑجائے تو پہلے سلام کرے اور کوئی نظر نہ آئے تو طلب اجازت پہلے کرے پھر سلام کرے۔ حضرت ابو موسیٰ ؓ اور حضرت حذیفہ ؓ اپنی محرم عورتوں کے پاس (گھر کے اندر) آنا چاہتے تو ان سے بھی اجازت داخلہ کے طلب گار ہوتے تھے۔ حسن نے عطاء بن یسار کی روایت سے مرسلاً بیان کیا کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا ‘ کیا میں اپنی ماں کے پاس بھی داخلے کی اجازت لے کر جاؤں۔ فرمایا ہاں اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں تو اس کے ساتھ ہی رہتا ہوں۔ فرمایا اس کے پاس جانے کے لئے اجازت طلب کر۔ اس نے عرض کیا حضور ﷺ میں تو اس کا خادم ہوں۔ فرمایا (پھر بھی) داخلے کی اجازت مانگ۔ کیا تو اپنی ماں کو برہنہ دیکھنا پسند کرے گا۔ اس نے عرض کیا نہیں۔ فرمایا تو پھر اس سے داخلے کی اجازت مانگ۔ رواہ مالک۔ مسئلہ اگر قاصد بھیج کر کسی کو بلوایا جائے اور وہ قاصد کے ساتھ آجائے تو مزید اجازت طلب کرنے کی ضرورت نہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی یہی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کو بلوایا جائے اور وہ قاصد کے ساتھ آجائے تو یہی اس کے لئے اجازت ہے۔ رواہ ابو داؤد۔ دوسری روایت میں آیا ‘ کسی کو بلوانے کے لئے قاصد بھیجنا ہی اجازت ہے۔ ذلکم خیر لکم یہی تمہارے لئے بہتر ہے۔ یعنی اچانک اندر گھس پڑنے سے یا رسم جاہلیت سے یہ طریقہ بہتر ہے۔ حضرت عمران بن حصین کا بیان ہے ہم جاہلیت کے زمانے میں (بجائے سلام علیک کے) کہتے تھے اَنْعَمَ اللّٰہُ بِکَ عَیْنًا۔ اللہ تم کو خنک چشم رکھے۔ انعم صباحاً صبح بخیر ‘ جب اسلام آیا تو اس نے ہم کو ایسا کرنے کی ممانعت کردی۔ رواہ ابو داؤد۔ لعلکم تذکرون۔ تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔