Ayah 24:40او کظلمت یا (ان کے اعمال) تاریکیوں کی طرح ہیں۔
کَظُلُمٰتٍ کا عطف کسراب پر ہے اور او تخییر کے لئے ہے یعنی مخاطب کو اختیار ہے کہ ان کی بد اعمالیوں کو سراب کی طرح سمجھے یا تاریکیوں کی طرح۔ ان کے اعمال قیامت کے دن موجب حسرت اور غیر مفید ثابت ہوں گے اس لئے ان کو سراب کی مانند کہا جاسکتا ہے اور حق کی روشنی سے بالکل خالی ہیں اس لئے ان کو تہ بہ تہ تاریکیاں قرار دیا جاسکتا ہے۔
یا یوں کہا جائے کہ او تنویع کے لئے ہے کیونکہ کافروں کے اعمال دو نوعیتوں کے ہیں کچھ اچھے ہیں جیسے دان ‘ خیرات ‘ عزیزوں کے ساتھ حسن سلوک وغیرہ کچھ برے ہیں اوّل کو سراب سے تشبیہ دی اور دوسری قسم کے اعمال کو تاریکیوں سے یا یوں کہا جائے کہ او تقسیم کے لئے ہے اور اختلاف وقت کی وجہ سے ان کے اعمال کی تشبیہ بھی مختلف طور پر ہے دنیا میں ان کے اعمال کو اندھیریوں کی مثل قرار دیا اور آخرت میں سراب کی طرح فرمایا۔
فی بحر لجی (وہ تاریکیاں) جو گہرے سمندر میں ہوں۔
لُجِیٍّ گہرا ‘ جہاں پانی بہت ہوتا ہے۔ یہ لفظ لج کی طرف منسوب ہے (لج کا معنی ہے کنڈ ‘ جہاں پانی اکٹھا ہوتا ہے) بیضاوی نے لجی کا ترجمہ کیا ہے (سمندر کا وہ حصہ جہاں) پانی بہت ہوتا ہے نہایہ اور قاموس میں بھی لجی کا معنی معظم الماء بیان کیا گیا ہے ‘ بعض نے کہا کجی کا معنی ہے موجزن لہریں مارتا ہوا سمندر۔
یغشہ موج من فوقہ موج جس میں موجوں پر موجیں چڑھی ہوئی ہوں۔
موج وہ لہر جو ہواؤں کے تلاطم سے پانی پر نمودار ہوتی ہے ‘ موج پر موج چڑھنے سے مراد ہے پے در پے لہریں چڑھنا۔
من فوقہ سحاب (اور) اس لہر پر بادل ہوں ‘ جو ستاروں کی روشنی نیچے نہ پہنچنے دیں۔
ظلمت بعضہا فوق بعض یہ تاریکیاں ایسی ہوں کہ ایک کے اوپر دوسری چھائی ہوئی ہو۔
اذا اخرج یدہ لم یکدیرہا اگر (ایسی تاریکیوں میں پھنس جانے والا) اپنا ہاتھ (جو اس کے بہت قریب)
ہے تاریکی میں باہر نکالے تو ہاتھ بھی اس کو سوجھائی نہ دے۔
اَخْرَجَ ‘ یَدَہٗ ۔ یَکَدْ ‘ یَرٰیہ سب فاعلی ضمیریں تاریک مواج سمندر میں سفر کرنے اور پھنس جانے والے کی طرف راجع ہیں جس کا ذکر بطور دلالت کلام موجود ہے اگرچہ صراحۃً نہیں ہے۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ کافر کی بد اعمالیوں کی تاریکیاں اس کے دل پر تہ بر تہ چڑھی ہوئی ہیں جو اس کو ادراکِ حق اور ہدایت کو قبول کرنے سے روکتی ہیں قلبی انکار حق ایک تاریک موجزن سمندر ہے جس پر گناہوں کی تہ در تہ تاریکیاں سمندر کی اٹھتی ہوئی لہروں کی طرح چھائی ہوئی ہیں پھر دل پر گمراہی کی مہر اور چھاپ اس (کالے) بادل کی طرح ہے جو سمندر کی موجوں کے اوپر چھایا ہوا ہو۔ کافر جب واضح ترین حقیقت یعنی ایمان و اسلام پر غور کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو (دل کی تہ بر تہ تاریکیوں میں) دیکھ نہیں پاتا ‘ تمام انبیاء کا انکار کرتا ہے ‘ باوجودیکہ ان کے معجزات واضح طور پر نظر کے سامنے ہوتے ہیں اور پتھروں کو جو ساری کائنات عنصری میں پست ترین درجہ رکھتے ہیں معبود قرار دیتا ہے۔
ومن لم یجعل اللہ نورا فما لہ من نور۔ اور جس کو اللہ نے روشنی عطا نہ فرمائی وہ اس کو روشنی نہیں مل سکتی۔
یعنی ہدایت خداداد چیز ہے بلکہ اہل حق کے ساتھ منطقی لوگ جو صغریٰ کبریٰ کو ترتیب دے کر نتیجہ نکالتے ہیں وہ بھی بتوفیق خداوندی اور امروہبی ضروری نہیں کہ مقدمات کے بعد بھی نتیجہ نکل آئے (یعنی فکر و نظر اور استدلال عقلی بھی عطیۂ خداوندی ہے خود عقل بغیر اللہ کے راہنمائی کے صحیح نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتی) بہت سے وہ لوگ جو دنیوی معاملات میں بڑے بھولے اور نادان ‘ پر آخرت کے معاملات میں بہت تیز اور ہوشیار ہوتے ہیں اور بکثرت آدمی دنیوی امور میں روشن عقل رکھنے والے ‘ مگر آخرت کی طرف سے غافل اور دینی امور میں بےسمجھ جانوروں کی طرح ہوتے ہیں ‘ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے اپنی مخلوق کو تاریکی میں پیدا کیا ‘ پھر اپنا کچھ نور اس پر ڈال دیا۔ پس جس پر اس کے نور کا کوئی چھینٹا پڑگیا وہ ہدایت یاب ہوگیا اور جس پر نہ پڑا وہ گمراہ ہوگیا اسی لئے میں کہتا ہوں کہ علم خداوندی پر قلم (لکھ کر) خشک ہوگیا (آئندہ تحریر میں تغیر نہ ہوگا) ۔
بغوی نے بحوالۂ مقاتل لکھا ہے کہ اس آیت کا نزول عقبہ بن ربیعہ کے حق میں ہوا عتبہ دور جاہلیت میں دین حق کا متلاشی تھا ٹاٹ کا لباس پہن رکھا تھا (اور حق کی جستجو میں سرگرداں تھا) لیکن جب اسلام آیا تو اس نے ماننے سے انکار کردیا۔
Ayah 24:41الم تر کیا آپ نے نہیں دیکھا ‘ یعنی کیا وحی عقلی ‘ استدلال اور کشف کے ذریعہ سے آپ کو ایسا علم نہیں حاصل ہوا جو
یقین و پختگی میں مشاہدۂ چشم کی طرح ہو۔
ان اللہ یسبح لہ اللہ کی (تمام عیوب و نقائص سے) پاکی بیان کرتے ہیں یعنی اس کی پاکی کی شہادت
دے رہے ہیں۔
من فی السموت (فرشتے اور اللہ کی غیبی مخلوق) جو آسمانوں میں ہے۔
والارض اور جو زمین میں ہے ‘ یعنی انسان جن اور دوسری مخلوق۔ کائنات سماوی و ارضی سے مراد ہے ساری
مخلوق۔
مَن کا لفظ (جو اہل عقل کے لئے خاص ہے) اس جگہ استعمال کیا گیا ‘ صرف اس لئے کہ اہل عقل کی شہادت غالب حیثیت رکھتی ہے۔
والطیر صفت اور پرندے بھی جب کہ وہ (ہوا میں) پَر پھیلائے ہوئے ہوں۔
صافات ‘ کا ذکر خصوصیت کے ساتھ اس لئے کیا کہ جو پرندے زمین پر ہیں وہ تو مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِکے ذیل میں شامل ہی تھے اگر صافات کی قید ذکر نہ کی جاتی تو والطیر کا لفظ سوائے تکرار ذکر کے اور کوئی فائدہ نہ دیتا۔
کل قد علم صلاتہ وتسبیحہ (پاکی بیان کرنے والوں میں سے) ہر ایک اپنی دعا اور پاکی بیان کرنے سے
واقف ہے (یعنی تقدیس و تسبیح و دعا کا طریقہ اس کو معلوم ہے) ۔ صلوٰۃ سے مراد ہے دعا۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہر پاکی بیان کرنے اور دعا کرنے والے کی تسبیح و دعا کو اللہ جانتا ہے۔
واللہ علیم بما یفعلون۔ اور جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔
Ayah 24:42وللہ ملک السموت والارض اور آسمانوں کا اور زمین کا مالک اللہ ہی ہے وہی مالک ہے ‘ وہی خالق ہے آسمان و زمین اور ان کی اندرونی کائنات خواہ ذوات (جواہر) ہوں یا صفات یا افعال سب کا پیدا کرنے والا اور مالک وہی ہے۔
والی اللہ المصیر۔ اور اللہ ہی کی جانب ہے سب کی واپسی وہی ہر ایک کو اس کے عمل کے موافق بدلہ دے گا ‘
یہاں تک کہ سینگوں والی بکری سے منڈی بکری کو بدلہ دلوائے گا۔
Ayah 24:43الم تر ان اللہ یزجی سحابا کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ بادلوں کو ہنکاتا ہے۔
تزجیہ کسی چیز کو دھکا دینا ‘ بضاعۃ مزجاۃ (حقیر پونجی) جس کو ہر شخص پھینک دیتا ہے ( یعنی ناقابل قدر سمجھتا ہے) ۔
ثم یولف بینہ پھر اس کو (یعنی اس کے متفرق منتشر ٹکڑوں کو یکجا کر کے) جوڑتا ہے۔
ثم یجعلہ رکاما پھر اس کو تہ بر تہ بنا دیتا ہے۔
فتری الودق یخرج من خللہ پھر اس کے شگافوں سے (موسلا دھار) بارش تم کو نکلتی دکھائی دیتی ہے۔
وینزل من السمآء من جبال فیہا من برد اور آسمانوں سے یعنی آسمان میں موجود پہاڑوں سے
اولے اتارتا ہے ‘ ایک ترجمہ یہ بھی کیا گیا ہے کہ آسمان سے اولوں کے (بڑے بڑے تودوں کے) پہاڑ اتارتا ہے۔ اوّل ترجمہ پر مِنَ السَّمَآء اور مِنْ جِبَالٍمیں مِنْابتدائیہ ہوگا اور مِنْ بَرَدٍمیں من بیانیہ۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اللہ نے اس آیت میں اطلاع دی ہے کہ آسمان میں اولوں کے پہاڑ ہیں۔ دوسرے ترجمہ کی بناء پر مِنْ جِبَالٍ مِنْ بَرَدٍ مفعول ہوگا یعنی اولوں کے بڑے بڑے تودے جو پہاڑوں کی طرح ہوتے ہیں ‘ اللہ اوپر سے اتارتا ہے۔
فیصیب بہ من یشآء ویصرفہ عن من یشآء پھر اس کو جس (کی جان و مال) پر چاہتا ہے گراتا
ہے اور جس سے ہٹانا چاہتا ہے ہٹا دیتا ہے۔ یعنی جس کی کھیتیاں اور مال اولوں سے تباہ کرنا چاہتا ہے تباہ کردیتا ہے اور جس سے (اولوں کے رخ کو) پھیرنا چاہتا ہے پھیر دیتا ہے اس کو ژالہ باری سے نقصان نہیں پہنچتا۔
یکاد سنا برقہ یذہب بالابصار۔ (ایسا لگتا ہے کہ) عنقریب بادل کی بجلی کی چمک نگاہوں کو
(جھپک) لے جائے گی۔
Ayah 24:44یقلب اللہ الیل والنہار اللہ رات اور دن کو الٹ پلٹ کرتا ہے ‘ یعنی دن کے بعد رات آتی ہے اور رات کے بعد
دن اور دن رات کا گھٹاؤ بڑھاؤ بھی ہوتا رہتا ہے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ گرمی ‘ سردی ‘ روشنی اور تاریکی کے لحاظ سے رات دن میں تغیر ہوتا رہتا ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ‘ اللہ نے فرمایا مجھے ابن آدم دکھ پہنچاتا ہے زمانے کو گالیاں دیتا ہے ‘ حالانکہ میں ہی زمانہ (کو الٹنے پلٹنے والا) ہوں میرے ہی ہاتھ میں حکم ہے ‘ میں ہی رات دن کا ادل بدل کرتا ہوں ‘ (رواہ البخاری ومسلم فی صحیحہا) ۔
ان فی ذلک لعبرۃ لاولی الابصار۔ بلاشبہ ان (مذکورہ واقعات) میں بصیرت والوں کیلئے عبرت ہے۔
عبرت سے مراد یہ ہے کہ یہ واقعات ایک خالق قدیم کی ہستی پر دلالت کرتے ہیں جس کی قدرت ہمہ گیر ‘ علم محیط کل اور مشیت نافذ ہے وہ کسی کا محتاج نہیں (بلکہ دنیا کا ہر واقعہ اسی کا مرہون منت قدرت و مشیت ہے) ۔
الْاَبْصَارِسے مراد ہے بصیرت اور صحیح فہم۔
Ayah 24:45واللہ خلق کل دآبۃ من مآء اور اللہ ہی نے پیدا کیا ہر رینگنے پھرنے والے جانور کو پانی سے۔
پانی سے مراد ہے وہ پانی جو ہر جانور کے خمیری مادے میں داخل ہے یا نطفہ مراد ہے اس صورت میں کل جانورمراد نہ ہوں گے ‘ کیونکہ بعض جانور بغیر نطفہ کے پیدا ہوں گے لیکن اکثریت انہی جانداروں کی ہے جن کی تخلیق نطفہ سے ہوتی ہے۔ اس لئے بطور تغلیب لفظ کل استعمال کیا۔ ملائکہ اور جن ‘ دابۃ میں شامل نہیں ہیں۔ بعض اہل علم نے کہا مِنْ ماء کا تعلق خَلَقَ سے نہیں ہے بلکہ یہ دابۃٍ کی صفت ہے یعنی جو جانور نطفہ سے پیدا ہوتے ہیں اللہ ہی ان کا خالق ہے۔
بعض علماء نے کہا تمام (عنصری) مخلوق کی اصل پانی ہی ہے۔ 1 بغوی نے لکھا ہے کہ اللہ نے اوّل پانی کو پیدا کیا ‘ پھر اس کے کچھ حصہ کو ہوا بنا دیا ‘ جس سے فرشتے بنے اور کچھ حصہ کو آگ میں تبدیل کردیا جس سے جنات کی تخلیق ہوئی اور کچھ حصہ کو مٹی بنا دیا گیا جس سے حضرت آدم ( علیہ السلام) کی ساخت ہوئی اور مٹی سے ہی تمام جانور بنائے گئے۔
فمنہم من یمشی علی بطنہ سو کچھ جانور تو وہ ہیں جو پیٹ کے بل چلتے ہیں ‘ جیسے سانپ ‘ گنڈا وغیرہ۔
ومنہم من یمشی علی رجلین اور کچھ دو ٹانگوں سے چلتے ہیں جیسے انسان اور پرندے۔
ومنہم من یمشی علی اربع اور کچھ وہ ہیں جو چار ٹانگوں پر چلتے ہیں جیسے چرندے ‘ درندے۔ چار سے
زیادہ پاوؤں پر چلنے والے جانوروں کی بھی کچھ قسمیں ہیں جیسے مکڑی کیکڑا وغیرہ ان کا تذکرہ آیت میں اس وجہ سے نہیں کیا کہ ان کی رفتار کی صورت بھی وہی ہوتی ہے جو چوپایوں کی رفتار کی ہوتی ہے (یعنی چلنے میں ان کی گردن اور منہ اوپر کو اٹھا ہوا نہیں ہوتا) ۔
یخلق اللہ ما یشآء اللہ جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔
یعنی بسائط ہوں یا مرکبات 1 اللہ نے مختلف شکلوں ‘ مزاجوں ‘ طبیعتوں ‘ ہیئتوں کے بنائے ہیں مادہ سب کا ایک ہی ہے لیکن اللہ کی مشیت و مصلحت کے زیر اثر طبیعت ‘ صورت ‘ مزاج اور افعال و حرکات کا تخلیقی اختلاف ہے۔
ان اللہ علی کل شی قدیر۔ بلاشک اللہ کے قابو میں سب کچھ ہے۔ اس لئے جو کچھ وہ چاہتا ہے کرتا ہے۔
Ayah 24:46لقد انزلنا ایت مبینت بیشک ہم (حق کو) واضح کردینے والی آیات (قرآن میں) اتار چکے۔ یا یہ مطلب
ہے کہ اس عالم وجود میں جو وجود حقیقی کے سایہ اور پر تو کی طرح ہے ایسی دلائل کھول کر ہم نے ظاہر کردی ہیں جو خالق علیم و حکیم کی ہستی کی شہادت دے رہی ہیں اور حق کو واضح کر رہی ہیں۔
واللہ یہدی من یشآء الی صراط مستقیم۔ اور اللہ جس کو چاہتا ہے سیدھے راستہ پر چلاتا ہے یعنی
اسلام کے راستہ پر چلنے کی توفیق عطا فرماتا ہے اور یہی راستہ اس کو دوزخ سے بچا کر جنت اور مقام قرب تک پہنچا دیتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ ایمان ایک خداداد وہبی چیز ہے بغیر اللہ کی توفیق اور ہدایت کے محض غور و فکر کرنے اور عقلی گھوڑے دوڑانے سے حاصل نہیں ہوتی۔
بغوی نے لکھا ہے کہ ایک منافق اور ایک یہودی کے درمیان کسی زمین کے متعلق جھگڑا تھا ‘ یہودی چاہتا تھا کہ اس جھگڑے کا فیصلہ رسول اللہ ﷺ سے کرائے (کیونکہ اس کو یقین تھا کہ محمد ظلم اور حق تلفی نہیں کریں گے) منافق نے کہا اس کا تصفیہ کعب بن اشرف یہودی سے کراؤ محمد ہماری حق تلفی کریں گے ‘ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 24:47ویقولون امنا باللہ وبالرسول واطعنا ثم یتولی فریق منہم من بعد ذلک
اور وہ کہتے ہیں ہم اللہ پر اور رسول پر ایمان لائے اور (دونوں کے) فرماں بردار ہوگئے پھر اس (قول) کے بعد ان میں ایک فریق (قبولِ حق سے جب کہ اس کے خلاف فیصلہ ہوجائے) پھرجاتا ہے۔
وَیَقُوْلُوْنَیعنی بشر اور اس جیسے دوسرے منافق کہتے ہیں۔
فَرِیْقٌیعنی وہ فریق جو حق پر نہ تھا۔
وما اولئک بالمؤمنین۔ اور یہ لوگ مؤمن نہیں ہیں۔
اولئک سے تمام منافقوں کی طرف اشارہ ہے اس جملہ میں تنبیہ ہے اس امر پر کہ منافق اگرچہ زبانوں سے مؤمن ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر ان کے دل مؤمن نہیں ہیں۔
یا اولئک سے اسی گروہ کی طرف اشارہ ہے جو فیصلہ سے سرتابی کرتا تھا۔
المُؤْمِنِیْنَ کے الف لام (عہدی) سے ان مؤمنوں کی طرف اشارہ ہے کہ جن کی سچائی اور خلوص سے اللہ واقف تھا اور رسول اللہ ﷺ : بھی ان کو مخلص ‘ صادق مؤمن جانتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ منافق سچے پُر خلوق مؤمن نہیں ہیں۔
ابن ابی حاتم نے حسن (بصری) کی مرسل روایت بیان کی ہے کہ بعض (منافق) لوگوں کا اگر کسی سے کچھ نزاع ہوتا تھا اور اس کو رسول اللہ ﷺ سے جھگڑے کا فیصلہ کرانے کی دعوت دی جاتی تھی تو وہ اگر حق پر ہوتا اور اس کو بجائے خود یہ یقین ہوتا کہ رسول اللہ ﷺ بہرحال حق فیصلہ کریں گے تو وہ رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں جانے اور مقدمہ پیش کرنے پر راضی ہوجاتا تھا لیکن اگر وہ حق پر نہ ہوتا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس معاملہ لے جانے کی اس کو دعوت دی جاتی تو کترا جاتا اور کہتا رسول اللہ ﷺ کے پاس نہیں) فلاں شخص سے چل کر فیصلہ کراؤ۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 24:48واذا دعوا الی اللہ ورسولہ اور جب ان کو اللہ اور اس کے رسول (کے حکم) کی طرف بلایا جاتا ہے۔ بعض علمائے تفسیر نے اس طرح ترجمہ کیا ہے جب ان کو اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی طرف بلایا جاتا ہے۔ اس صورت میں ورسولہٖ کا عطف اللہ پر عطف تفسیری ہوگا جیسے محاورہ میں بولا جاتا ہے۔ اَعْجَبَنِی وَکَرَمُہٗ
لیحکم بینہم تاکہ اللہ کے رسول (حکم خدا کے مطابق) ان کے درمیان فیصلہ کردیں۔
اذا فریق منہم معرضون۔ تو ان میں کا ایک فریق (جو ناحق پر ہوتا) ہے رسول خدا کی طرف آنے سے) کتراتا ہے۔
Ayah 24:49وان یکن لہم الحق یاتوا الیہ اور ان کا (واقعی) حق ہونا ہے تو رسول ﷺ : کی طرف (دوڑے ہوئے) آتے ہیں۔
مذعنین۔ حکم کے مطیع ہو کر۔ کیونکہ ان کو یقین ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول کا فیصلہ ہمارے حق میں ہوگا۔
Ayah 24:50افی قلوبہم مرض کیا ان کے دلوں میں کوئی بیماری ہے۔ یعنی کفر اور حق تلفی کی طرف میلان قلبی ہے۔
ام ارتابوا یا شک میں پڑگئے ہیں۔ یعنی آپ ﷺ : کی طرف سے کوئی بات شک آفریں انہوں نے دیکھ لی ہے جس
کی وجہ سے آپ پر ان کا یقین جاتا رہا ہے۔
ام یخافون ان یحیف اللہ علیہم ورسولہ یا ان کو یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان کی
حق تلفی کرے گا۔ (اور غلط فیصلہ کرے گا) ۔
بل اولئک ہم الظلمون۔ بلکہ (مؤخر الذکر دونوں باتوں میں سے کوئی بات نہیں۔ کھوٹ انہی کے دلوں
کے اندر ہے) وہی ظالم ہیں۔ اپنی جانوں پر بھی ظلم کرتے ہیں کہ دل سے ایمان نہیں لاتے اور اللہ اور رسول ﷺ کے حکم کو نہیں مانتے اور دوسرے لوگوں پر بھی ظلم کرتے ہیں کہ بغیر استحقاق کے لوگوں کا مال ہڑپ کرنا چاہتے ہیں اللہ کے رسول ﷺ کے فیصلہ سے باز رہنے کی تین وجوہ آیت مذکورہ میں بیان کیں پھر آخری دونوں وجہوں کی نفی کر کے اوّل وجہ کو ثابت کردیا۔ لفظ بَلْ میں آخری دونوں شقوں سے اعراض اور اوّل شق کا اثبات ہے۔ بات یہ ہے کہ منافقوں کا رسول اللہ ﷺ سے فیصلہ کرانے پر راضی نہ ہونا تین وجوہ میں سے کسی ایک وجہ کی بناء پر ہوسکتا تھا۔ (1) یا تو کوئی خرابی خود انہی کے اندر ہو۔ (2) یا حاکم میں کوئی نقص ہو۔ (3) حاکم کے اندر عیب ہونے کی دو صورتیں ہوسکتی تھیں ایک یقینی نقص اور (دوسرا) اندیشۂ حق تلفی۔ پیغمبر کی عظمت ‘ نبوت اور عدل و امانت کا تقاضا یہ ہے کہ نہ آپ کی ذات قابل شک اور نہ فیصلہ محل تہمت ‘ اس لئے دونوں آخری شقوں کی نفی یقینی ہے اور صرف اوّل ہی شق کا ثبوت محقق ہے آخری دونوں صورتوں کی نفی کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ جب ان کا حق واقعی ہوتا ہے تو (انصاف ملین کا یقین رکھتے ہوئے) اطاعت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی طرف رجوع کرتے ہیں ‘ قرآن کا اسلوب بیان اور طریقۂ تعبیر یہ ہے کہ منافقوں اور کافروں کے پہلو بہ پہلو مخلص مؤمنوں کے حالات کا بھی اظہار کرتا ہے ‘ اسی لئے اگلی آیت میں مخلص مؤمنوں کا ذکر فرمایا ہے۔
Ayah 24:51انما کان قول المؤمنین اذا دعوا الی اللہ ورسولہ لیحکم بینہم ان یقولوا سمعنا واطعنا واولئک ہم المفلحون۔ مسلمانوں کا قول اس وقت جبکہ ان کو (کسی معاملہ میں) اللہ اور اس کے رسول کی طرف فیصلہ کرنے کے لئے بلایا جاتا ہے ‘ بس یہ ہوتا ہے کہ وہ (خوشی خوشی) کہہ دیتے ہیں ہم نے سن لیا اور اس کو (تہِ دل سے) مان لیا ایسے ہی لوگ (آخرت میں) فلاح پانے والے ہیں۔
اَلْمُؤْمِنِیْنَسے مراد مخلص مؤمن ہیں اولئک یعنی جو لوگ ان اوصاف کے حامل ہیں وہ سب۔ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ وہی بامراد ہوں گے ان کے علاوہ دوسرے فلاح یاب نہ ہوں گے۔
Ayah 24:52ومن یطع اللہ ورسولہ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا خواہ
اس فرماں برداری میں اس کو دکھ پہنچے یا خوشی حاصل ہو۔
ویخش اللہ اور اللہ سے ڈرتا رہے گا۔ یعنی اپنے کئے ہوئے گناہوں کی پکڑ کا اور اللہ کے حکم کے خلاف کرنے کا
اس کو ڈر لگا رہے گا۔
ویتقہ اور اللہ (کے عذاب) سے خوف رکھے گا۔ یعنی اللہ کے احکام و حدود کی پابندی کرے گا تعمیل اوامر کرے گا اور
ممنوعات سے بچتا رہے گا۔
فاولئک ہم الفائزون۔ سو ایسے ہی لوگ کامیاب ہوں گے۔ دوامی سکھ اور اللہ کی خوشنودی ان کو ملے گی۔
Ayah 24:53واقسموا باللہ جہد ایمانہم لئن امرتہم لیخرجن اور وہ اللہ کی پختہ قسمیں کھا کر کہتے ہیں
کہ اگر آپ ہم کو (جہاد کے لئے یا گھر بار اور مال متاع چھوڑ کر) نکلنے کا حکم دیں گے تو ہم ضرور ضرور نکل کھڑے ہوں گے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ منافق ‘ رسول اللہ ﷺ سے کہا کرتے تھے کہ آپ جہاں ہوں گے ہم آپ کے ساتھ ہوں گے اگر آپ (غزوات یا جہاد کے لئے) نکلیں گے تو ہم آپ کے ساتھ نکلیں گے ‘ اگر آپ (کہیں) قیام کریں گے تو ہم بھی آپ کے ساتھ ٹھہر جائیں گے (آپ کو چھوڑ کر نہیں جائیں گے) اگر آپ ﷺ : ہم کو جہاد کا حکم دیں گے تو ہم جہاد کریں گے۔
قل لا تقسموا طاعۃ معروفۃ آپ ﷺ ان سے کہہ دیجئے کہ (جھوٹی) قسمیں نہ کھاؤ تمہاری فرماں برداری کی
(حقیقت) معلوم ہے۔
مجاہد نے کہا طاعت معروفہ سے مراد ہے کہ تمہاری اطاعت محض زبانی ہے دلی اعتقاد کے ساتھ نہیں ہے تمہاری اس طاعت کی حقیقت معلوم ہے کہ تم جھوٹ بولتے ہو اور ایسی بات کہتے ہو جس پر عمل نہیں کرتے۔ بعض اہل تفسیر نے طاعۃ معروفۃ کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ کھلی ہوئی خالص اطاعت زبانی خلاف ورزی سے بہتر اور افضل ہے۔
مقاتل نے یہ تاویل کی کہ تمہاری طرف سے اچھی اطاعت ہونی چاہئے (یعنی فعل محذوف ہے) بعض نے کہا آیت کا مطلب اس طرح ہے کہ تم سے اطاعت کرنے کی قسمیں مطلوب نہیں بلکہ طاعت معروفہ مطلوب ہے۔
ان اللہ خبیر بما تعملون۔ حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے خوف واقف ہے ‘ تمہاری چھپی ہوئی باتیں بھی اس سے پوشیدہ نہیں ہیں۔
Ayah 24:54قل آپ کہہ دیجئے ‘ خطاب کی تکرار مفید تاکید ہے۔
اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول اللہ اور رسول کی اطاعت کرو۔
فان تولوا فانما علیہ ما حمل وعلیکم ما حملتم اب اگر تم روگردانی کرو گے تو رسول پر وہ (فرض) لازم ہے جس کا بار اس پر ڈالا گیا ہے (یعنی تبلیغ احکام) اور تم پر وہ (فرض) لازم ہے جس کا بار تم پر ڈالا گیا ہے یعنی تعمیل حکم۔
فَاِنَّمَاشرط محذوف ہے کی جزا ہے اصل مطلب یہ ہے کہ اگر تم نہ مانو گے اور روگردانی کرو گے تو خود نقصان اٹھاؤ گے رسول کا کوئی نقصان نہ ہوگا کیونکہ رسول کے ذمے جو فرض عائد کیا گیا ہے۔ اس کو تو انہوں نے ادا کردیا اور تم پر جو فریضہ لازم کیا گیا ہے تم نے اس کو ادا نہیں کیا اس لئے نقصان تمہارا ہی ہوگا۔
وان تعطیوہ تہتدوا اور اگر تم رسول کے حکم پر چلو گے تو ہدایت پاؤ گے۔ حق کا راستہ تم کو مل جائے گا اور جنت تک پہنچ جاؤ گے۔
وما علی الرسول الا البلغ المبین۔ اور رسول کے ذمہ صرف (ان احکام کو) واضح طور پر کھول کر پہنچا دینا ہے جن کا تم کو مکلف کیا گیا ہے۔
ُ البلاغ (مصدر متعدی) پہنچانا۔ المبین واضح کردینے والا یعنی احکام تکلیفیہ کو کھول کر بیان کرنے والا۔
طبرانی اور حاکم نے حضرت ابی بن کعب کی روایت سے بیان کیا ہے اور حاکم نے اس کو صحیح قرار دیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابۂ کرام (یعنی مہاجرین) مدینہ میں تشریف لے آئے اور انصار نے ان کو ٹھہرنے کا ٹھکانا دے دیا تو سارا عرب ان کا دشمن ہوگیا (ہر طرف سے ان کو ہر وقت خطرہ رہتا تھا) بغیر اسلحہ کے نہ ان کی رات گزرتی تھی نہ صبح ہوتی تھی ان کو ہوک اٹھتی تھی کہ کاش (کبھی) ایسی زندگی بھی ہم کو میسر ہوجائے کہ امن وچین کے ساتھ ہماری راتیں گزریں اور سوائے اللہ کے ہم کو کسی کا خوف نہ ہو اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 24:55وعد اللہ الذین امنوا منکم وعملوا الصلحت لیستخلفنہم فی الارض
تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے اللہ نے (ان کے متعلق) وعدہ کرلیا ہے کہ زمین پر ان کو خلیفہ (جانشین یعنی حاکم اور بادشاہ) ضرور بنائے گا۔
مؤمنوں سے مراد ہیں وہ مدینہ والے مؤمن جو نزول آیت کے وقت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ عام مؤمن مراد نہیں ہیں ‘ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے پختہ وعدہ کرلیا ہے کہ ان نیکوکار مؤمنوں میں سے بعض کو عرب و عجم کی زمین کا مالک بنائے گا اور ان کو واجب الطاعت بادشاہ اور حاکم ضرور کر دے گا۔
یا یہ مطلب ہے کہ ان سب کو زمین پر ایسا تصرف عنایت کرے گا جیسا بادشاہوں کو اپنے غلاموں پر ہوتا ہے۔
کما استخلف الذین من قبلہم جیسے ان سے پہلے (نیکوکار ایمان دار) لوگوں کو اس نے خلیفہ بنایا تھا (مثلاً
حضرت داؤد ( علیہ السلام) ‘ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) وغیرہ) ۔
قتادہ نے آیت کا یہی مطلب بیان کیا۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ تم سے پہلے بنی اسرائیل کو جیسے اللہ نے خلافت عطا کی۔ مصر اور شام میں بڑے بڑے بادشاہوں پر ان کو فتح عنایت کی اور ان کے ملک و مال کا بنی اسرائیل کو وارث بنایا اور موسیٰ سے اللہ نے توریت میں ملک شام کی فتح کا وعدہ کیا تھا وہ پورا کیا لیکن حضرت موسیٰ : ( علیہ السلام) کی ندگی میں وہ وعدہ پورا نہیں کیا گیا (بلکہ چالیس سال تک بنی اسرائیل اپنی سرتابی اور نافرمانی کی وجہ سے معتوب رہے) اللہ نے فرمایا ہے ( اِنَّہَا مُحَرَّمَۃٌ عَلَیْہِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً یَّتِیُہْوَن فِی الْاَرْضِ ) بلکہ حضرت یوشع بن نون کے ہاتھوں اس فتح کی تکمیل ہوئی اور حضرت موسیٰ : ( علیہ السلام) کی وصیت کے موافق حضرت یوشع نے ہی بنی اسرائیل کو ملک تقسیم کیا۔ اسی طرح اللہ نے رسول اللہ ﷺ سے بھی وعدہ فرمایا کہ دین اسلام کو ہر مذہب پر غلبہ عنایت فرمائے گا اور ملک شام کی حکومت عطا فرمائے گا۔ آیت غُلِبَتِ الرُّوْمُ فِیْ اَدْنَی الْاَرْضِ وَہُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِہِمْ سَیَغْلِبُوْنَ فِی بِضْعِ سِنِیْنَکی قرأت مشہورہ تو وہی ہے جو قرآن میں پڑھی جاتی ہے لیکن ایک اور قراءت میں غَلَبَتِ الرُّوْمُاور سَیَغْلَبُوْنَآیا ہے اس قراءت کا یہ مطلب بیان کیا گیا ہے کہ قریب زمین پر رومی غالب آگئے اور فارس میں غالب آنے کے میں چند سال ہی بعد یہ مغلوب ہوجائیں گے اور مسلمان ان پر غالب آجائیں گے۔ یہ فتح رسول اللہ ﷺ : کی حیات مبارکہ میں تو حاصل نہیں ہوئی (جیسے حضرت موسیٰ کی زندگی میں بنی اسرائیل کو شام کی فتح حاصل نہیں ہوئی تھی) لیکن حضور گرامی ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کے دور خلافت میں اللہ نے اپنا وعدہ پورا کیا۔ حضرت ابوبکر ؓ نے بنی حنیفہ (یعنی مسیلمہ کے لشکر) سے اور عرب مرتدوں سے جہاد کیا اور غلبۂ روم سے نو سال بعد حضرت عمر ؓ کے دور خلافت میں اللہ نے فتح شام مرحمت فرمائی۔ حدیبیہ کے سال 6 ھ میں رومی غالب آئے تھے اس کے نو سال بعد مسلمانوں نے ملک شام ان سے چھین لیا اور اللہ کا وعدہ پورا ہوا ‘ حضرت عمر ؓ نے صحابہ کرام سے عراق پر لشکر کشی کرنے کا مشورہ کیا ‘ حضرت علی ؓ نے اس آیت کو ثبوت میں پیش کرتے ہوئے جہاد کا مشورہ دیا۔ حضرت علی ؓ کا یہ مشورہ اہل سنت کی متعدد کتابوں میں منقول ہے اور شیعی کتب میں سے نہج البلاغۃ میں بھی حضرت علی ؓ : کا اسی آیت سے یہ استنباط مذکور ہے بروایت نہج البلاغۃ حضرت علی ؓ نے فرمایا اس کام (دین) کی کامیابی یا ناکامی تعداد کی قلت و کثرت پر موقوف نہیں ہے یہ تو اللہ کا دین ہے جس کو اس نے غالب بنایا ہے اور (یہ) اللہ کا لشکر ہے جس کو اس نے غلبہ عنایت کیا ہے اور مدد فرمائی ہے یہاں تک کہ جہاں سے نکلا نکلا اور جہاں پہنچا پہنچا ‘ اللہ نے خود فرما دیا وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ ۔۔ پس اللہ اپنا وعدہ ضرور پورا کرے گا اور اپنے لشکر کو ضرور فتح یاب بنائے گا۔
ولیمکنن لہم دینہم الذی ارتضی لہم اور جس دن کو اللہ نے ان کے لئے پسند کیا ہے اس کو ضرور ضرور
جماؤ عطا کرے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے اس کی تشریح میں فرمایا ان کو ملکی وسعت عطا کرے گا دوسرے ممالک پر ان کا قبضہ ہوجائے گا اور اپنے دین کو تمام مذاہب پر غالب کرے گا۔
ولیبدلنہم من بعد خوفہم امنا اور خوف کے بعد بجائے خوف کے ان کو امن عنایت کرے گا۔
یعبدوننی لا یشرکون بی شیئا وہ میری عبادت کریں گے۔ کسی چیز کو میرا شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔
یَعْبُدُوننَیِ ‘ ْ اٰمَنُوْاکی ضمیر سے حال ہے کیونکہ اللہ کا وعدۂ استخلاف توحید پر قائم رہنے کے ساتھ مشروط ہے یا علیحدہ جملہ ہے جس میں استحقاق خلافت کی علت بیان کی گئی ہے۔
ابو العالیہ نے کہا اللہ نے اپنے نبی کو جزیرۃ العرب پر اقتدار عطا فرما دیا ‘ سب عربوں نے ہتھیار رکھ دیئے اور مسلمان ہوگئے۔ وفات رسول اللہ ﷺ : تک مسلمان اسی چین سے رہے پھر حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کی خلافت کے دور میں بھی امن و چین کی یہی حالت قائم رہی اور حضرت عثمان ؓ : کا دور خلافت بھی اسی طرح گزر گیا آخر جس (خانہ جنگی کی مصیبت) میں پھنسنا تھا پھنس گئے اور اللہ کی نعمت کے شکرگزار نہ بنے۔
ابوالعالیہ کا بیان ہے کہ نزول وحی کے بعد رسول اللہ ﷺ : مکہ میں صحابہ کے ساتھ رہے صحابہ کو حکم تھا کہ کافروں کی طرف سے پہنچنے والی ایذاؤں پر صبر رکھیں ‘ پھر مدینے کو ہجرت کر جانے کا حکم ہوگیا اور لڑنے کا بھی حکم مل گیا ‘ لیکن (ہر طرف سے خوف کی یہ حالت تھی کہ) کوئی ہتھیار اپنے بدن سے الگ نہ کرتا تھا آخر ایک شخص نے کہا کیا ہمارے لئے کوئی دن بھی ایسا نہ آئے گا کہ ہم امن سے رہیں اور ہتھیار کھول دیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
ابن ابی حاتم کا بیان ہے کہ حضرت براء نے فرمایا یہ آیت ہمارے متعلق نازل ہوئی تھی ہم سخت خوف کی حالت میں تھے پھر اللہ نے اپنا وعدہ پورا کیا اور خوف کی بجائے امن عطا کیا اور زمین پر ان کو پھیلا دیا (یعنی ملکی فتوحات عطا فرما دیں) ۔
اس آیت میں آئندہ واقعہ کے متعلق پیشین گوئی ہے (جو صحیح ثابت ہوئی) اس لئے یہ صداقت نبوت کی دلیل ہے اور خلفائے راشدین کی خلافت کی حجت پر بھی یہ آیت دلالت کر رہی ہے اگر خلفائے راشدین کی خلافت مراد نہ ہو تو وعدۂ الٰہی میں کذب لازم آئے گا کیونکہ سوائے خلافت راشدہ کے زمانہ کے موعود (فتوحات ملکیہ) اور موعود لہم (مؤمنین صالحین) یکجا جمع نہ ہوئے اس سے اہلسنت کے مسلک کی صداقت واضح ہوتی ہے اور یہ بھی ثابت ہوتی ہے کہ دین اسلام اللہ کا پسندیدہ دین ہے اور رافضیوں کا یہ قول غلط ہوجاتا ہے کہ ائمہ آج تک خوف کی حالت میں رہے ہیں یہاں تک کہ دشمنوں کے خوف سے امام مہدی بھی پوشیدہ ہیں۔
لفظ منکم (میں خطاب صحابہ کو ہے اس لئے اس لفظ) سے یہ بھی غلط ثابت ہوتا ہے کہ امام مہدی کے ظہور کے بعد اللہ اپنا وعدہ پورا کرے گا (ابھی تک اس نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا) دین کا ظہور کب اور کیسے ہوگا جب کہ کچھ اوپر گیارہ سو برس تک نہیں ہوا۔ ایسا خیال کرنا کتنی بڑی حماقت ہے۔
رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت سفینہ کا بیان ہے میں نے خود سنا کہ میرے بعد خلافت تیس سال ہے پھر ملوکیت ہوجائے گی۔ حضرت سفینہ نے کہا دو سال حضرت ابوبکر ؓ خلافت کو تھامے رہے ‘ پھر حضرت عمر ؓ کی خلافت دس سال رہی ‘ پھر حضرت عثمان ؓ کی خلافت بارہ سال رہی پھر حضرت علی ؓ چھ سال خلیفہ رہے۔
حضرت عدی بن حاتم نے فرمایا میں رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک شخص خدمت گرامی میں حاضر ہوا اور اس نے فاقہ کی شکایت کی اور دوسرے آدمی نے آکر راستہ لوٹا جانے کا شکوہ کیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عدی کیا تم نے حیرہ دیکھا ہے ‘ میں نے عرض کیا میں نے خود نہیں دیکھا البتہ اس کے متعلق سنا ضرور ہے فرمایا اگر تمہاری عمر (کچھ) لمبی ہوئی تو دیکھ لو گے کہ (تنہا) عورت حیرہ سے سفر کرتی ہوئی آئے گی اور کعبہ کا طواف کرے گی اور اس کو سوائے خدا کے کسی سے خوف نہ ہوگا۔ میں نے اپنے دل میں کہا اس وقت بنی طے کے غارت گر کہاں ہوں گے جنہوں نے ملک میں آگ لگا دی ہے (حضور ﷺ نے فرمایا) اگر تیری عمر (کچھ) دراز ہوئی تو کسریٰ کے خزانے تم فتح کرلو گے ‘ میں نے کہا کیا کسریٰ بن ہرمز کے فرمایا کسریٰ بن ہرمز کے (پھر فرمایا) اگر تمہاری عمر دراز ہوئی تو دیکھ لو گے کہ آدمی مٹھی بھر بھر چاندی یا سونا قبول کرنے والے کی تلاش میں لئے پھرے گا (اور کوئی لینے والا نہ ملے گا) اور جس روز آدمی اپنے رب کے سامنے جائے گا اور بندے کے اور اس کے رب کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہوگا کہ اللہ کا مطلب بندے کو سمجھائے (بلکہ اللہ براہ راست بندہ سے خطاب کرے گا) اور فرمائے گا کیا اپنے احکام پہنچانے کے لئے میں نے تیرے پاس اپنا رسول نہیں بھیجا تھا ؟ بندہ کہے گا کیوں نہیں ( یقیناً بھیجا تھا) اللہ فرمائے گا کیا میں نے تجھے مال نہیں دیا تھا اور تجھ پر اپنی مہربانی نہیں کی تھی بندہ عرض کرے گا کیوں نہیں (یہ سب کچھ ہوا تھا) اس وقت آدمی اپنی دائیں جانب دیکھے گا تو جہنم کے سوا اس کو کچھ نہیں دکھائی دے گا اور بائیں طرف دیکھے گا تب بھی جہنم ہی دکھائی دے گا (غرض جہنم میں پھینک دیا جائے گا) حضور اقدس ﷺ نے فرمایا دوزخ سے بچو ‘ خواہ چھوارے کا ایک ٹکڑا ہی خیرات کر کے (یعنی چھوارے کا ایک ٹکڑا غریب کو دینا دوزخ سے بچنے کا سبب بن جائے گا) اگر چھوارے کا ایک ٹکڑا بھی میسرا نہ ہو تو (سائل سے) میٹھی بات کہہ کر ہی (دوزخ سے اپنی حفاظت کرو) ۔ حضرت عدی نے (اپنے شاگرد سے) فرمایا میں نے تو یہ دیکھ لیا کہ ایک عورت حیرہ سے کعبہ کا طواف کرنے کے لئے چلتی یہاں تک کہ طواف کرلیتی ہے اور (راستہ میں اس کو کسی لٹیرے بدمعاش کا اندیشہ نہیں ہوتا) اللہ کے سوا اس کو کسی کا خوف نہیں ہوتا اور کسریٰ بن ہرمز کے خزانے فتح کرنے میں تو میں خود شریک تھا۔ آئندہ اگر تمہاری لمبی ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد کو بھی صحیح پالو گے کہ مٹھی بھر (سونا چاندی) آدمی لے کر قبول کرنے والے کی تلاش میں نکلے گا اور قبول کرنے والا اس کو نہیں ملے گا۔
ومن کفر بعد ذلک اور اس کے بعد جو لوگ کفر کریں گے ‘ یعنی مؤمنوں کے صاحب اقتدار اور خلیفۂ ارض
ہونے اور اللہ کے پسندیدہ دین کے استحکام و تائید کے بعد جو لوگ مرتد ہوجائیں گے یا اللہ کی نعمت کی ناشکریں کری گے۔
فاولئک ہم الفسقون۔ سو یہی لوگ (ایمان یا دائرۂ اطاعت سے) خارج ہوں گے۔
بغوی نے لکھا ہے اہل تفسیر کا بیان ہے کہ سب سے پہلے خداداد نعمت کی ناشکری کرنے والے وہ لوگ تھے جنہوں نے حضرت عثمان کو شہید کردیا۔ جب حضرت عثمان ؓ : کو انہوں نے شہید کردیا تو اللہ نے وہ نعمت بھی بدل ڈالی جو ان کو عطا فرمائی تھی ‘ چناچہ خوف ان پر طاری ہوگیا اور (دینی) بھائی بھائی ہونے کے باوجود آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرنے لگا۔
بغوی نے حمید بن ہلال کی روایت سے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ ؓ بن سلام نے حضرت عثمان ؓ کی بابت فرمایا جب سے رسول اللہ ﷺ مدینہ میں تشریف فرما ہوئے اس وقت سے آج تک (اللہ کے حفاظتی) فرشتے تمہارے اس شہر کو اپنے گھیرے میں لئے ہوئے ہیں اب اگر تم عثمان ؓ : کو قتل کر دو گے تو خدا کی قسم فرشتے چلے جائیں گے اور پھر کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے۔ جو شخص عثمان کو شہید کرے گا خدا کی قسم جب وہ اللہ کے سامنے جائے گا تو کوڑھی ہو کر جائے گا اللہ کی تلوار نیام کے اندر ہے اگر اللہ نے نیام سے اس کو نکال دیا تو خدا کی قسم پھر تم سے (ہٹا کر) وہ (کبھی یا روز قیامت تک) نیام میں داخل نہیں کرے گا کیونکہ جب بھی کوئی نبی شہید کیا گیا (اس کے انتقام میں) ستّر ہزار آدمی مارے گئے اور جب بھی کوئی خلیفہ شہید کیا گیا (اس کے بدلہ میں) پینتیس ہزار آدمی قتل کئے گئے۔
میں کہتا ہوں اللہ نے جو مسلمانوں کو زمین پر اپنا خلیفہ بنایا اور خلافت عطا فرمائی ‘ رافضیوں اور خارجیوں کے مختلف گروہوں نے اس کی ناشکری کی۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیت وَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَمیں یزید بن معاویہ کی طرف اشارہ ہو یزید نے رسول اللہ ﷺ کے نواسے کو اور آپ کے ساتھیوں کو شہید کیا یہ ساتھی خاندان نبوت کے ارکان تھے عترت رسول کی بےعزتی کی اور اس پر فخر کیا اور کہنے لگا آج بدر کے دن کا انتقام ہوگیا اسی نے مدینۃ الرسول ﷺ پر لشکر کشی کی اور حرہ کے واقعہ میں مدینہ کو غارت کیا اور وہ مسجد جس کی بناء تقویٰ پر قائم کی گئی تھی اور جس کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ کہا گیا ہے اس کی بےحرمتی کی اسی نے بیت اللہ پر سنگباری کے لئے منجنیقیں نصب کرائیں اور اسی نے اوّل خلیفۂ رسول اللہ یعنی حضرت ابوبکر ؓ کے نواسے حضرت عبداللہ بن زبیر کو شہید کرایا اور ایسی ایسی نازیبا حرکتیں کیں کہ آخر اللہ کے دین کا منکر ہوگیا اور (اللہ کی حرام کی ہوئی) شراب کو حلال کردیا۔
Ayah 24:56واقیموا الصلوۃ واتوا الزکوۃ واطیعوا الرسول لعلکم ترحمون۔ اور نماز قائم کرو اور
زکوٰۃ ادا کرو اور رسول ﷺ : کی (ان تمام امور میں) اطاعت کرو (جن کا وہ تم کو حکم دیں) تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
اطاعت رسول کے حکم کی تکرار مفید تاکید ہے اور اس بات کو ظاہر کر رہی ہے کہ رحمت خداوندی اطاعت رسول کے ساتھ وابستہ ہے۔
Ayah 24:57لا تحسبن الذین کفروا معجزین فی الارض یہ مت خیال کرنا کہ جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ زمین
پر (اللہ کو ان کی گرفت یا ان کو ہلاک کرنے سے) عاجز کردیں گے۔
وماوہم النار۔ اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔
ولبئس المصیر۔ اور کوئی شک نہیں کہ دوزخ برا ٹھکانہ ہے۔
ابن ابی حاتم نے مقاتل بن حبان کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت اسماء بنت مرثد کا ایک غلام تھا جو اکثر حضرت اسماء کے پاس ایسے وقت میں (بلا اجازت) آجاتا تھا کہ اس وقت غلام کا آنا حضرت اسماء کو ناگوار گزرتا تھا ‘ حضرت اسماء ؓ رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ ہمارے خادم اور غلام ایسے وقت ہمارے پاس آجاتے ہیں کہ اس وقت ان کا آنا ہم کو ناگوار ہوتا ہے اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 24:58یایہا الذین امنوا لیستاذنکم الذین ملکت ایمانکم والذین لم یبلغوا الحلم منکم ثلث مرت اے اہل ایمان ! تمہارے مملوک (یعنی باندی غلام) اور تمہارے وہ لڑکے بالے جو جوانی کو نہیں پہنچے تین اوقات میں
اجازت لے کر تمہارے پاس داخل ہوا کریں۔
اس آیت میں احکام سابقہ کی تکمیل کی طرف پھر بیان کو لوٹا یا گیا ہے کُمْ (اگرچہ ضمیر خطاب مذکر ہے لیکن اس) سے مراد مرد و عورت دونوں ہیں تغلیباً مذکر کی ضمیر ذکر کی گئی ہے۔
بغوی نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک انصاری غلام کو دوپہر کے وقت حضرت عمر ؓ : کو بلانے کے لئے بھیجا ‘ غلام حضرت عمر ؓ کے پاس (گھر کے اندر) پہنچا تو ایسی حالت میں دیکھا کہ حضرت عمر ؓ : کو اس حالت میں دیکھا جانا ناگوار گزرا ‘ اس پر آیت والَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِّنْکُمْنازل ہوئی۔
جوانی کو نہ پہنچنے سے مراد یہ ہے کہ جوانی کے قریب بھی نہ پہنچے ہوں (مراہق بھی نہ ہوں) جو لڑکے بالغ ہونے کے قریب پہنچ گئے ہوں وہ بالغ کے حکم میں ہیں دوسری آیت میں آیا ہے وَاِذَا طَلَّقْتُمْ النِّسَآءَ فَبَلُغْنَ اَجَلَہُنَّجب تم نے عورتوں کو طلاق دے دی ہو اور وہ اپنی مقررہ مدت (یعنی خاتمۂ عدت) کے قریب پہنچ گئی ہوں۔ پھر ان لڑکوں سے مراد آزاد لڑکے ہیں (غلاموں کا ذکر اوپر کے جملہ میں کردیا گیا ہے) ۔
ثَلٰثَ مَرّٰتٍتین بار یعنی تین اوقات میں۔
من قبل صلوۃ الفجر فجر کی نماز سے پہلے۔ کیونکہ یہ وقت سو کر اٹھنے کا ہوتا ہے جبکہ آدمی لباس خواب اتار دیتا
ہے اور بیداری کے کپڑے پہن لیتا ہے۔
وحین تضغون ثیابکم من الظہیرۃ اور دوپہر کے وقت (قیلولہ کرنے کے لئے بیداری کے) کپڑے
تم اتار لیتے ہو۔
ومن بعد صلوۃ العشآء اور عشاء کی نماز کے بعد۔ کیونکہ یہ وقت لباس اتار دینے اور چادر وغیرہ اوڑھنے کا
ہوتا ہے۔
ثلث عورت لکم یہ تین اوقات تمہارے پردے کے اوقات ہیں۔
بعض اہل علم نے کہا اصل کلام میں مضاف محذوف ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ پردہ کے اعضاء کھلنے کے یہ تین اوقات ہیں۔ عورت وہ حصۂ بدن ہے جس کا کھلنا برا ہے۔ بیضاوی نے آیت کا مطلب اس طرح بیان کیا ہے ‘ یہ تین اوقات ہیں جن میں (تمہارے) پردہ پوش ہونے کا خیال کیا جاسکتا ہے۔ عورت کا اصل معنی ہے شگاف (رخنہ خرابی) بعض نے کہا عورت عار سے بنایا گیا ہے ‘ انسان کے جن حصوں کا کھلا رہنا برا سمجھا جاتا ہے وہ عورت ہیں ‘ اسی مناسبت سے عورتوں کو بھی عورت کہا جاتا ہے (کہ ان کا بےپردہ ہونا مذموم ہے باعث عار ہے) بری بات کو اور کپڑے کے شگاف کو اور مکان کی دیواروں کے شکستہ ہونے کو بھی عورت کہتے ہیں ایک آیت میں آیا ہے اِنَّ بُیُوتَنَا عَوْرَۃٌ ہمارے مکان شکستہ ہیں۔
مذکورہ اوقات کو بھی عورت کہنے کی یہی وجہ ہے کہ ان اوقات میں ننگا کھلا دیکھنا جانا آدمی کے لئے برا اور باعث عار ہوتا ہے۔
قاموس میں ہے عورت کا معنی ہے سرحد وغیرہ کے نظم کا اختلال ‘ ہر قابل ستر چیز ‘ انسان کے اعضاء کریہہ (جو قابل ستر ہیں) وہ وقت جس میں ان اعضاء کو برہنہ کیا جاتا ہے ایسے وقت تین ہیں فجر سے پہلے۔ دوپہر ‘ عشاء کے بعد ‘ ہر ایسی بات جس (کے ذکر) سے حیا کی جائے۔ پہاڑوں کے درے وغیرہ کو عورت کہا جاتا ہے۔
مسئلہ آیت مذکورہ کا اقتضاء ہے کہ مذکورہ تینوں اوقات میں غلام کا اپنے آقا کے پاس بلا اجازت (تنہائی میں) جا پہنچنا ممنوع ہے خواہ غلام چھوٹی عمر کا ہی ہو لیکن ہو با شعور اور باندی (اوقات مذکورہ میں بلا اجازت) اپنی مالکہ کے پاس نہیں جاسکتی ہاں باندی اپنے آقا اور مالک کے پاس ہر وقت بلا اجازت داخل ہوسکتی ہے کیونکہ وہ تو بیوی کی طرح ہے (جو ننگے کھلے سے واقف ہوتی ہے) بالغ یا قریب البلوغ غلام اپنی مالکہ کے پاس کسی وقت داخل نہیں ہوسکتا (شرعاً مالکہ کو اس سے پردہ کرنا چاہئے) اللہ نے فرمایا ہے قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ ابْصَارِہِمْ ۔ وَلاَ یُبْدِیْنَ زَیْنَتُہُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلِتِہِنَّ ۔۔ اس آیت میں جن مملوک لوگوں کا استثناء کیا گیا ہے ان سے مراد باندیاں ہیں غلام نہیں ہیں۔ اس آیت کی تفسیر کے ذیل میں ہم نے یہ مضمون بیان کردیا ہے۔
جو لڑکا باشعور ہے وہ بغیر اجازت لئے ہر سہ اوقات مذکورہ میں داخل نہیں ہوسکتا اور ان تین اوقات کے علاوہ ہر وقت بغیر اجازت حاصل کئے داخل ہوسکتا ہے۔
لیس علیکم ولا علیہم جناح بعدہن ان تین اوقات کے علاوہ (اور کسی وقت بغیر اجازت کے ان
غلاموں باندیوں اور خدمتی لڑکوں کے داخل ہونے میں) نہ تم پر کوئی گناہ ہے نہ ان پر۔
طوفوان علیکم وہ (یعنی خدمتی لڑکے اور غلام) تمہارے اردگرد گھومتے ہی رہتے ہیں۔ آتے ہیں جاتے ہیں (ہر
بار اجازت لینے میں بڑی دشواری ہے اس لئے اوقات ممنوعہ کے علاوہ وہ بلا اجازت آسکتے ہیں) ۔
بعضکم علی بعض تم میں سے بعض بعض کے پاس گھومتے ہی رہتے ہیں۔ اللہ نے اس آیت میں غلاموں
اور بچوں کو خطاب میں شریک کردیا کیونکہ خلط ملط کی کثرت کی وجہ سے گویا سب ایک ہی ہوگئے۔
کذلک یبین اللہ لکم الایت واللہ علیکم حکیم۔ اسی طرح اللہ تمہارے لئے آیات
(احکام) کھول کر بیان فرماتا ہے اور اللہ (تمہارے حالات کو) خوب جاننے والا (اور قوانین شرعی کو نافذ کرنے میں) بڑی حکمت والا ہے۔
بغوی نے لکھا ہے اس آیت کا حکم اب بھی باقی ہے یا منسوخ ہوگیا علماء کے اقوال اس میں مختلف ہیں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا (اس زمانہ میں) لوگوں کے گھروں پر نہ پردے تھے نہ حجاب بچے بالے اور خادم یوں ہی اندر آجاتے تھے اور گھر والوں کو ایسے حال پر دیکھ لیتے تھے جو گھر والوں کے لئے ناگواری کا سبب ہوتا تھا (گھر والوں کو پسند نہ تھا کہ کوئی ان کو ان کے اندرونی احوال دیکھے) اس وجہ سے اللہ نے داخلہ کی اجازت طلب کرنے کا حکم دیا ‘ پھر اللہ نے مسلمانوں کے لئے مالی وسعت کردی اور انہوں نے (دروازوں کے) پردے بنا لئے اب طلب اجازت کی ضرورت نہیں رہی۔
کچھ علماء کا خیال ہے کہ آیت کا حکم منسوخ نہیں ہے۔ سفیان نے موسیٰ بن عائشہ کا بیان نقل کیا ہے موسیٰ نے کہا میں نے شعبی سے دریافت کیا ‘ کیا یہ آیت منسوخ ہے شعبی نے کہا نہیں خدا کی قسم میں نے کہا لوگ تو اس پر عمل نہیں کرتے۔ شعبی نے کہا اللہ المستعان۔
سعید بن جبیر نے کہا لوگ کہتے ہیں یہ آیت منسوخ ہوگئی۔ خدا کی قسم یہ منسوخ نہیں ہوئی بلکہ لوگوں نے اس کے موافق عمل کرنے میں سہل انگاری سے کام لیا۔ (یعنی اس آیت کے حکم کو زیادہ اہمیت نہیں دی) صحیح یہ ہے کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہے بلکہ طلب اجازت کے حکم کی علت یہ ہے کہ اوقات مذکورہ میں پردہ پوشی (لباس وغیرہ) کا اہتمام نہیں رہتا آیت ثلث عورات اسی مفہوم کو ظاہر کررہی ہے دوسرے اوقات اور مذکورۂ بالا تینوں اوقات میں یہی فرق ہے پس علت حکم موجود نہ ہونے کی وجہ سے حکم کا باقی نہ رہنا نسخ نہیں ہے (یعنی اس زمانہ میں علت حکم موجود نہیں ہے اب دروازے پردہ پوش ہیں اور اوقات ثلثہ مذکورہ میں لوگ ننگے کھلے بھی نہیں رہتے اس لئے حکم باقی نہیں رہا) حضرت ابن عباس ؓ نے جو اس آیت کا منسوخ ہونا فرمایا ہے ‘ آپ کا یہ کلام مجازی ہے (یعنی منسوخ اصطلاحی نہیں بلکہ عدم بقاء علت کی وجہ سے حکم کا باقی نہ رہنا مراد ہے حضرت ابن عباس ؓ نے عدم بقاء حکم کو مجازاً نسخ فرما دیا) اس سے معلوم ہوگیا کہ جب اس زمانہ میں اوقات ثلثہ میں بھی ستر اور پردہ پوشی کا رواج اور نظام قائم ہے تو پھر اجازت طلب کی کوئی ضرورت نہیں۔
Ayah 24:59واذا بلغ الاطفال منکم الحلم فلیستاذنوا کما استاذن الذین من قبلہم
اور جب تم میں سے بچے جوانی کے (حدود کے) قریب پہنچ جائیں تو وہ بھی (ہمہ اوقات داخلہ کی) ویسے ہی اجازت لیا کریں جیسے اجازت ان سے پہلے والے یعنی (بالغ) لیا کرتے تھے۔ ہر وقت کا خلط ملط اور آنا جاناہی باعث تھا کہ ان کو بغیر طلب اجازت کے داخل ہونے کا حکم جواز مل گیا تھا جب وہ صورت جاتی رہی اور جوانی آگئی تو بلا اجازت داخلہ کا حکم بھی جاتا رہا اس حکم کے عموم میں سب لوگ داخل ہیں مرد ہوں ‘ محرم عورتیں ہوں ‘ نا محرم عورتیں ہوں ‘ (بغیر اجازت ملنے کے ہر شخص کے پاس داخلہ ممنوع ہے خواہ کسی وقت ہو) اس کی تائید حضرت ابو سعید خدری کی مندرجۂ ذیل روایت سے ہوتی ہے حضرت ابو سعید نے فرمایا میرے پاس ابو موسیٰ آئے اور بیان کیا کہ حضرت عمر ؓ نے ایک شخص کو بھیج کر مجھے طلب کیا میں فوراً حضرت عمر ؓ کے دروازے پر جا پہنچا اور تین بار سلام علیک کی لیکن (اندر سے) حضرت عمر ؓ نے کوئی جواب نہیں دیا چونکہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرما دیا تھا کہ اگر کوئی (کسی کے گھر جائے اور) تین مرتبہ سلام علیک کرنے کے بعد بھی اس کو داخلہ کی اجازت نہ ملے تو اس کو لوٹ آنا چاہئے۔ اس لئے میں لوٹ آیا۔ حضرت عمر ؓ نے مجھے بلوایا اور واپسی کی وجہ دریافت کی میں نے رسول اللہ ﷺ : کا فرمان نقل کردیا ‘ حضرت عمر ؓ نے فرمایا اس حدیث کا گواہ پیش کرو۔ (چنانچہ میں آپ کے ساتھ آیا ہوں کہ اگر یہ حدیث آپ نے بھی سنی تھی تو میرے ساتھ چل کر شہادت دے دیجئے) میں ابو موسیٰ کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا اور حضرت عمر ؓ کے پاس جا کر شہادت دے دی۔ متفق علیہ۔
عطاء بن یسار کی روایت کی روایت ہے کہ ایک شخص نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر سوال کیا کیا میں اپنی ماں کے پاس داخل ہوں تب بھی (داخلہ کی) اجازت طلب کروں فرمایا ہاں۔ اس شخص نے عرض کیا میں تو اس کے ساتھ گھر میں رہتا ہوں فرمایا (داخلہ کی اجازت) ضرور لے لیا کرو۔ اس شخص نے عرض کیا میں تو اس کا خادم ہوں (ہر وقت اس کی خدمت میں لگا رہتا ہوں) فرمایا (پھر بھی) داخلہ کی اجازت لے لیا کرو۔ کیا تم اپنی ماں کو برہنہ دیکھنا پسند کرو گے اس شخص نے کہا نہیں۔ فرمایا تو پھر اس کے پاس داخل ہونے کی اجازت لے لیا کرو۔ ررواہ مالک مرسلاً ۔
بغوی نے لکھا ہے کہ سعید بن مسیب کہتے تھے آدمی کو اپنی ماں کے پاس بھی داخلہ کی اجازت لے کر جانا چاہئے۔ اس آیت کا نزول اسی سلسلہ میں ہوا تھا۔
میں کہتا ہوں شاید اس آیت میں طلب اجازت کا حکم استحبابی ہے وجوبی نہیں ہے اس لئے اگر کوئی شخص اپنے گھر کے اندر داخل ہونا چاہے اور گھر کے اندر ایسی عورتیں بھی ہوں جن کا پردہ ضروری ہو تو مستحب یہی ہے کہ اجازت لے کر اندر داخل ہو تاکہ نامحرم بےپردہ عورت پر نظر نہ پڑ سکے لیکن غیر عورت کا غیر گھر میں برہنہ ہونے کا احتمال چونکہ ضعیف ہے اس لئے بلا اجازت لئے داخلہ مکروہ تنزیہی ہے (حرام نہیں ہے) ہاں دوسروں کے گھر میں بلا اجازت داخلہ حرام ہے ‘ اللہ نے فرمایا ہے یٰاَیُہَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَدْخُلُوْا بُیُوتًا غَیْرَ بُیُوتِکُمْ حَتّٰی تَسْتَاْنِسُوْا۔
اسی طرح جس گھر میں اجنبی عورتیں ہوں تو ان کے پاس بھی بغیر حصول اجازت کے داخلہ ممنوع ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے قُلْ لِلِمُؤْمِنِیْنَ یَغُضَّوْا مِنْ اَبْصَارِہِمْ ۔
بیضاوی نے لکھا ہے جو لوگ کہتے ہیں کہ بالغ غلام اگر اپنی مالکہ کے پاس جائے تو داخل ہونے سے پہلے اجازت طلب کرنا واجب ہے وہ اس آیت سے اپنے مسلک پر استدلال کرتے ہیں۔
اس کا جواب یہ ہے کہ آیت میں وہ مراہق لڑکے مراد ہیں جو غلام نہ ہوں کیونکہ آیت اوّل الذکر میں مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْکو الَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِّنْکُمْکا مدمقابل قرار دیا گیا ہے اس لئے اس آیت کے اندر ممالیک کا اندراج نہیں ہوگا۔ بیضاوی کے مندرجۂ بالا کلام سے اس طرف اشارہ ملتا ہے کہ عبد بالغ کا اپنی مالکہ کے پاس داخل ہونا یا نہ ہونا مختلف فیہ ہے اور اس مسئلہ کی بنیاد اس بات پر ہے کہ غلام اپنی مالکہ کے لئے محرم ہے یا نہیں امام مالک اور امام شافعی (رح) کے نزدیک محرم ہے امام ابوحنیفہ کے نزدیک محرم نہیں ہے اوّل الذکر قول پر اپنی مالکہ کے پاس بالغ غلام کا داخل ہونا طلب اذن کو مستحب قرار دیتا ہے جیسے دوسری نامحرم عورتوں کے پاس داخلہ کے لئے اذن طلبی مستحب ہے اور مؤخر الذکر قول پر طلب اجازت واجب ہے۔
کذلک یبین اللہ لکم ایتہ واللہ علیم حکیم۔ اسی طرح اللہ تمہارے لئے اپنے احکام بیان فرماتا
ہے اور اللہ بخوبی جاننے والا (اور) بڑی حکمت والا ہے۔
تکرار آیت محض تاکید اور طلب اذن پر زور دینے کے لئے ہے۔