Ayah 24:4والذین یرمون المحصنت اور جو لوگ پاک دامن عورتوں کو تہمت زنا لگاتے ہیں۔ یعنی صراحتہً لفظ زنا
کی کسی پاک دامن عورت کی طرف نسبت کرتے ہیں مثلاً کوئی یوں کہتا ہے تو نے زنا کیا یا کہتا ہے اے زانیہ۔ یرمون کی یہ تفسیر تمام علمائے تفسیر و فقہ کے نزدیک مسلمہ ہے کیونکہ چار شہادتیں پیش کرنے کی شرط آیت میں صراحۃً مذکور ہے (اور یہ شرط صرف زنا ہی کے ثبوت کی ہے) اب کسی شخص نے کسی پر کسی دوسرے گناہ کی تہمت لگائی تو باجماع علماء حد قذف (تہمت زنا لگانے کی سزا) اس پر لازم نہ ہوگی۔ بلکہ حاکم حسب صوابدید اس کو تعزیر کرسکتا ہے۔ اسی طرح اگر صراحۃً زنا کی تہمت نہیں لگائی بلکہ پردے پردے میں تعریضاً کسی کی طرف زنا کی نسبت کی (مثلاً یوں کہا میں تو زانی نہیں۔ مطلب یہ کہ تم زانی ہو) تو امام ابوحنیفہ ‘ امام شافعی ‘ امام احمد ‘ سفیان ثوری ‘ ابن سیرین اور حسن بن صلاح کے نزدیک حد قذف جاری نہیں کی جائے گی۔ امام مالک اور ایک روایت میں امام احمد کے نزدیک تعریض زنا پر بھی حد قذف جاری کی جائے گی۔ کیونکہ زہری نے بوساطت سالم حضرت ابن عمر ؓ : کا بیان نقل کیا ہے کہ تعریض زنا پر بھی حضرت عمر ؓ حد جاری کرتے تھے۔ حضرت علی ؓ کے متعلق بھی روایت میں آیا ہے کہ آپ نے تعریض زنا پر کوڑے لگوائے تھے۔
تعریض زنا حقیقت میں صراحۃً تہمت زنا لگانے کی طرح ہے اس لئے اس پر بھی حد جاری ہونا چاہئے۔ ہم کہتے ہیں تعریض ‘ تصریح کی طرح نہیں ہوتی اس لئے عدت کے زمانے میں بیوہ یا مطلقہ عورتوں کو پردے پردے میں پیام نکاح دینا جائز ہے اور صراحت کے ساتھ پیام نکاح عدت میں دینا ناجائز ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے (وَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا عَرَّضْتُمْ بِہٖ مِنْ خِطْبَۃِ النِّسَآءِ ) ۔
اَلْمُحْصَنٰتِ پاک دامن عورتیں۔ پاک دامن مردوں کو زنا کے ساتھ متہم کرنے کا بھی یہی حکم ہے اجماع امت اسی پر ہے۔ دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ پاک دامن عورتوں کا لفظ خصوصیت کے ساتھ اس وجہ سے ذکر کیا کہ اس آیت کا سبب نزول ایک خاص واقعہ تھا۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ عورتوں پر زنا کی تہمت مردوں پر تہمت لگانے کے مقابلے میں کثیر الوقوع ہے اور زیادہ شنیع بھی ہے۔
باجماع علماء احصان سے اس جگہ مراد یہ ہے کہ آزاد ہو یا بالغ ہو عاقل ہو مسلمان ہو پاکدامن ہو اس سے پہلے متہم بالزنا نہ ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے جو فرمایا تھا من اترک باللہ فلیس بمحصن (جس نے کسی کو اللہ کے ساتھ عبادت میں ساجھی بنایا وہ محصن نہیں ہے) اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ وہ مسلمان نہیں ہے۔
اگر کسی نے اپنی عمر میں کبھی جرم زنا کا ارتکاب کیا ہو پھر توبہ کرلی ہو اور اس کی حالت درست ہوگئی ہو اور درستی پر ایک مدت گزر گئی ہو پھر اس کی طرف مجرم زنا ہونے کی کوئی نسبت کرے تو تہمت لگانے والے پر حد قذف جاری نہیں کی جائے گی کیونکہ زنا کی نسبت کرنے والا اپنے قول میں سچا ہوتا ہے البتہ اس کو تعزیر کی جائے گی کیونکہ جس شخص نے توبہ کرلی ہے اس کی طرف سے اس نے گزشتہ گناہ کی نسبت کی حالانکہ گناہ سے توبہ کرنے والا بےگناہ کی طرح ہوجاتا ہے۔ اسی طرح کسی باندی غلام یا بچے یا پاگل کی طرف زنا کی نسبت کرنے والا بھی حد قذف کا مستوجب نہیں ہوتا۔ داؤد کے متعلق روایت میں آیا ہے کہ ان کے نزدیک باندی غلام پر تہمت زنا لگانے والے پر حد قذف جاری کی جائے گی۔
ثم لو یا تو باربعۃ شہدآء پھر نہ لائے چار مرد گواہ ‘ یعنی متہم بالزنا نے اگر زنا کا انکار کیا ہو اور تہمت زنا
لگانے والا چار گواہ پیش نہ کرسکا ہو تو تہمت لگانے والے کے کوڑے مارو اور اگر چار گواہ زنا کے پیش کر دے تو اب قذف کرنے والا سبکدوش ہوجائے گا اس کے اوپر حد قذف جاری نہیں کی جائے گی (بلکہ ثبوت زنا مکمل ہوجانے کی وجہ سے زانی کو کوڑے مارے جائیں گے) اگر چار گواہ زنا کے تو پیش کردیئے لیکن مختلف اوقات میں متفرق طور پر پیش کئے اور سب گواہ مجتمع ہو کر نہیں آئے تو زنا کا ثبوت نہ ہوگا اور جس پر تہمت لگائی گئی ہے اس پر حد زنا جاری نہ ہوگی امام ابوحنیفہ کا یہی مسلک ہے۔ لیکن تہمت لگانے والا بھی مستحق سزا نہیں رہے گا وہ بھی حد قذف سے محفوظ ہوجائے گا۔ کیونکہ زنا کی شہادت کی تعداد تو بہرحال موجود ہے گواہوں کے ساتھ ساتھ آنے کی شرط محض احتیاطاً لگائی گئی ہے تاکہ زنا کی حد ساقط ہوجائے۔ قاذف (تہمت زنا لگانے والے) پر حد قذف لازم کرنے کے لئے یہ شرط نہیں لگائی گئی ہے (کہ اگر گواہ اجتماعی شکل میں شہادت نہ دیں یا ساتھ ساتھ نہ آئیں تو قاذف پر حد جاری کردی جائے) ۔ اسی طرح اگر متہم بالزنا نے ایک بار اقرار کرلیا تو اس پر حد زنا جاری نہ ہوگی اور نہ قاذف پر حد قذف جاری ہوگی۔
آیت میں شہدا سے مراد وہ شاہد ہیں جو شرعاً شہادت کے اہل ہوں۔ اسی لئے اگر اندھوں نے شہادت دی یا ایسے لوگوں نے شہادت دی جو جرم قذف کے سزا یافتہ ہوں یا شاہدوں میں کوئی غلام ہو ‘ ان سب صورتوں میں زنا کا ثبوت نہ ہوگا بلکہ ان گواہوں پر حد قذف جاری کی جائے گی ایسے لوگ شرعاً شہادت کے قابل نہیں ان کا ہونا نہ ہونا برابر ہے غلام تو نہ شاہد بننے کا اہل ہے نہ شہادت دینے کا اس کی شہادت سے تو زنا کے شبہ کا ثبوت بھی نہ ہوگا زنا کا ثبوت تو ادائے شہادت سے ہوتا ہے۔
لیکن اگر گواہ فاسق ہوں تو ان پر حد قذف تو جاری نہ ہوگی لیکن ان کی شہادت سے زنا کا ثبوت بھی نہ ہو سکے گا۔ اس لئے متہم بالزنا پر حد زنا بھی جاری نہ ہوگی ‘ کیونکہ فاسق شہادت ادا کرنے اور شاہد بننے کا اہل تو ہے لیکن فسق کی وجہ سے اس کی شہادت میں کسی قدر ضعف ہے اس لئے فاسقوں کی شہادت سے شبہ زنا تو پیدا ہوجائے گا اور وہ حد قذف سے محفوظ رہیں گے اور ثبوت زنا نہ ہوگا اس لئے زانی پر حد زنا جاری نہ ہوگی۔ امام شافعی (رح) کے نزدیک فاسق گواہوں پر حد قذف جاری کی جائے گی کیونکہ شافعی کے نزدیک فاسق ‘ غلام کی طرح شہادت کا اہل ہی نہیں ہے۔
اس آیت سے ثابت ہو رہا ہے کہ اگر گواہوں کی تعداد چار سے کم ہو تو ان پر حد قذف جاری کی جائے گی (اللہ کی قائم کی ہوئی حد معطل نہ ہو اور مجرم آزادی کے ساتھ جرم نہ کریں) اس نیت خیر کے لئے زنا کی (اور ہر جرم کی) شہادت کی ضرورت تھی اور چار سے کم گواہ ہوں تو یہ غرض حاصل نہیں ہوسکتی (پھر گواہوں کی گواہی صرف بدنام کرنے اور مسلمانوں کی آبروریزی کے جذبہ کے زیر اثر مانی جائے گی بلکہ واقعق میں بھی ایسا ہی ہوگا کیونکہ جب گواہوں کو معلوم ہے کہ ہماری شہادت کی تعداد کم ہے اور حد زنا ہم جاری نہیں کرا سکتے تو پھر گواہی کیوں دیتے ہیں ‘ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی نیت میں شر ہے وہ چاہتے ہیں کہ مسلمان کی رسوائی ہو اور خواہ جرم زنا ثابت نہ ہو سکے) حاکم نے مستدرک میں ‘ ابو نعیم نے المعرفۃ میں ‘ ابوموسیٰ نے الدلائل میں اور بیہقی نے بیان کیا ہے کہ حضرت عمر ؓ کے سامنے حضرت مغیرہ بن شعبہ کی شہادت ابوبکرہ اور نافع اور شبل بن معبد نے دی اور چوتھا گواہ زیاد تھا ‘ اس نے صراحت کے ساتھ شہادت نہ دی تو حضرت عمر ؓ نے تینوں گواہوں کو کوڑے لگوائے اور یہ واقعہ صحابہ کی ایک جماعت کی موجودگی میں ہوا اور کسی نے اس فیصلے کے خلاف انکار نہیں کیا۔ (معلوم ہوا کہ یہ فیصلہ اجماعی تھا) بخاری نے اس واقعہ کے ایک حصہ کو بطور تعلیق بیان کیا ہے۔ عبدالرزاق نے بوساطت ثوری بحوالۂ سلیمان تیمی بروایت نہذی یہ واقعہ نقل کیا ہے اس روایت میں اتنا زائد ہے کہ جب زیاد نے شہادت دینے سے گریز کیا تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا یہ آدمی ناحق شہادت دینے والا نہیں ہے پھر تینوں کے کوڑے لگوائے۔
فاجلدوہم تو ان کے کوڑے مارو۔ یعنی اگر وہ شخص جس کے زانی ہونے کی شہادت گواہوں نے دی ہے مطالبہ
کرے تو گواہوں کے کوڑے مارو۔ مطالبہ کرنے کی شرط باجماع علماء ہے ‘ کیونکہ اس میں عبد کا حق شامل ہے اگرچہ حق اللہ کا پہلو غالب ہے اور بندے کا حق کمزور حیثیت رکھتا ہے پھر بھی بندے کا حق اس سے متعلق ہے (اس کی عزت و ذلت کا معاملہ ہے) اور بندے کے حق کے لئے مدعی کی طرف سے اپنے حق کی طلب ضروری ہے۔
ثمنین جلدۃ اسّی کوڑے۔ بشرطیکہ گواہی دینے والے آزاد ہوں (غلام نہ ہوں) اگر گواہ غلام ہوں تو باجماع فقہاء
ہر ایک کی سزا آدھی ہوجائے گی ‘ یعنی ہر غلام گواہ کے چالیس کوڑے مارے جائیں گے۔ فقہاء نے حد قذف کو حد زنا پر قیاس کیا ہے (زانی غلام یا باندی ہو تو پچاس کوڑے مارے جانے کا حکم آیت قرآنی اور حدیث میں آیا ہے۔ اس لئے قاذف اگر غلام ہو تو اس کی سزا بھی آدھی ہوگی) ۔ اللہ نے زانی باندیوں کے متعلق فرمایا (فَعَلَیْہِنَّ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذاَبِ ) ۔
بیہقی نے اپنی سند سے روایت کی ہے کہ عبداللہ بن عامر بن ربیعہ نے بیان کیا میں نے حضرت ابوبکر ‘ حضرت عمر ؓ ‘ حضرت عثمان ؓ اور ان کے بعد والے خلفاء کے دور خلافت میں ہر خلیفہ کو یہی پایا کہ وہ باندی غلام کو (جس نے کسی پر تہمت زنا لگائی ہو) چالیس کوڑے مارتے تھے۔
امام مالک نے مؤطا میں یہ اثر نقل کیا ہے مگر اس میں حضرت ابوبکر ؓ کا نام نہیں ہے ‘ امام اوزاعی کے نزدیک غلام کی حد قذف آزاد کے برابر ہے۔
ولا تقبلوا لہم شہادۃ ابدا اور ان کی شہادت آئندہ کبھی قبول نہ کرو۔ اس جملہ کا عطف فاجلدواپر
ہے۔ مبتداء میں شرط کا معنی ہے فاجْلِدُوْا ہُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَۃً وَلاَ تَقْبَلُوْہُمْ شَہَادَۃً اَبَدًاپوری عبارت جزا ہے ‘ ہمارے نزدیک یہ دونوں ٹکڑے (یعنی کوڑے مارنا اور آئندہ کبھی شہادت نہ قبول کیا جانا) حد قذف کے دو جزو ہیں ‘ دونوں کا مجموعہ پوری سزا ہے کیونکہ دونوں میں خطاب حاکموں کو ہے انہیں کو حکم دیا گیا ہے کہ کوڑے ماریں اور آئندہ شہادت قبول نہ کریں۔
واولئک ہم الفسقون۔ اور یہ لوگ یقیناً اللہ کے نافرمان ہیں۔ یہ جملہ علیحدہ ہے اس کا تعلق پہلے
دونوں جملوں سے نہیں ہے ‘ پہلے دونوں جملے انشائیہ ہیں اور یہ جملہ خبریہ ہے حقیقت میں اس جملہ سے ایک شبہ کو دفع کرنا مقصود ہے۔ شبہ کیا جاسکتا ہے کہ حدود تو صرف شبہ پیدا ہونے سے ساقط ہوجاتی ہیں پھر قاذف پر حد جاری کرنے کا حکم کیوں دیا گیا۔ قذف میں سچے ہونے کا بھی تو احتمال ہے (خواہ نصاب شہادت مکمل نہ ہو) اور یہ بھی ممکن ہے کہ قاذف نے محض نیکی کے جذبہ کے زیر اثر اللہ کے قانون کو تعطل سے محفوظ رکھنے کے لئے لوجہ اللہ شہادت دی ہو۔ (اور نصاب شہادت پورا نہ ہونے کی وجہ سے ثبوت زنا نہ ہوسکا) ۔ اس شبہ کو زائل کرنے کیلئے فرمایا ہے کہ ایسے لوگ فاسق ہیں اللہ کے نافرمان ہیں۔ جب چار گواہ نہیں پیش کرسکتے تو معلوم ہوتا ہے ان کی نیت بخیر نہیں یہ مسلمان کی آبرو ریزی کرنی چاہتے ہیں ان کے دلوں کے اندر نیکی کا جذبہ نہیں ہے۔ ان کو حد خداوندی کا اجرا مقصود نہیں ہے۔ اس لئے سزا کے مستحق ہیں۔ امام شافعی نے فرمایا لاَ تَقْبَلُوْا لَہُمْعلیحدہ جملہ ہے عدم قبول شہادت کو حد قذف میں دخل نہیں (سزائے تازیانہ صرف حد قذف ہے) شہادت قبول نہ کرنے کی حد قذف سے کوئی مناسبت ہی نہیں ہے۔ کیونکہ حد قذف ایک فعل ہے جس کی اقامت حاکم پر لازم ہے اور عدم قبول شہادت حرمت فعل ہے (اس کی حیثیت سلبی اور منفی ہے) اس کے بعد اولٰءِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ شہادت کو رد کردینے کی علت ہے۔ ہم کہتے ہیں رد شہادت کی مناسبت حد قذف سے بہت زیادہ ہے۔ قاذف پر حد جاری کرنے کا حکم زجر و توبیخ کے لئے دیا گیا ہے تاکہ لوگ جھوٹی تہمت زنا نہ لگائیں اور دوامی رد شہادت میں زجر ضرب تازیانہ سے زیادہ ہے۔ اسی لئے عدم قبول شہادت کے بعد ابداً کا لفظ فرمایا۔ ظاہر ہے کہ فسق سے ہمیشہ کے لئے شہادت رد نہیں ہوتی ‘ فاسق کی شہادت اسی وقت تک قابل رد ہے جب تک وہ فاسق ہو۔
ایک شبہ لاَ تَقْبَلُوْا لَہُمْ شَہَادَۃً اَبَدًا کا یہ مطلب ہے کہ جب تک قاذف تہمت زنا پر جما رہے اس کی شہادت قبول نہ کرو اور جب توبہ کرلے تو اس کی شہادت قبول کی جاسکتی ہے۔ جیسے یوں کہا جائے کہ کافر کی شہادت کبھی قبول نہ کرو اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک وہ کفر پر قائم رہے اس کی شہادت قبول نہ کرو جب کفر سے تائب ہوجائے تو اس کی شہادت قبول کی جاسکتی ہے۔
ازالہ کافر پر فاسق کو قیاس کرنا غلط ہے کافر کی شہادت قبول نہیں کی جاتی یا نہ قبول کرو۔ اس کے اندر تو خود یہ مفہوم موجود ہے کہ جب تک وہ کافر ہے اس کی شہادت قبول نہ کرو۔ اس لئے ابداً کا لفظ بڑھانے کی ضرورت نہیں اگر کسی مشتق پر کوئی حکم مبنی ہو تو وصفی معنی حکم کی علت ہوتا ہے۔ (جیسے اپنے دوست زید سے اچھا سلوک کرو۔ یعنی اچھا سلوک زید سے اس لئے کرو کہ وہ تمہارا دوست ہے زید کے دوست ہونے کا حسن سلوک کے حکم کی علت ہے۔ ہکذا صرح الشیخ عبدالقاہر۔ مترجم) پس کافر کی شہادت قبول نہ کرنے کے حکم کے ساتھ ابدًا کی قید لغو اور بےفائدہ ہے (لیکن قاذف کی شہادت قبول نہ کرنے کے حکم کے ساتھ ابداً زیادتی زجر و توبیخ کا فائدہ دے رہی ہے۔
Ayah 24:5الا الذین تابوا من بعد ذلک واصلحوا فان اللہ غفور رحیم۔ مگر جو لوگ اس کے بعد توبہ
کر لیں اور (اپنے اعمال و احوال کو) درست کرلیں تو اللہ غفور (و) رحیم ہے۔
امام ابوحنیفہ نے فرمایا الاَّ الَّذِیْنَکا استثناء گزشتہ آخری جملہ کی طرف راجع ہے۔ (یعنی جو لوگ توبہ کرلیں گے اور اپنے احوال کو درست کرلیں گے وہ فاسق نہیں رہیں گے مطلب یہ ہے کہ توبہ سے قذف کی سزا معاف نہیں ہوگی صرف فاسق ہونے کا حکم جاتا رہے گا) اصول فقہ میں امام ابوحنیفہ کا مسلک یہی ہے کہ جب استثناء چند جملوں کے بعد آئے تو اس کا رجوع آخری جملہ کی طرف ہوتا ہے ہاں اگر کوئی قرینہ ایسا موجود ہو جو آخری جملہ کی طرف راجع کرنے سے مانع ہو تو مجبوراً کل کی طرف استثناء کو راجع کیا جائے گا۔
امام صاحب کی تفسیر مذکور کے چند دلائل ہیں (1) استثناء کے ساتھ آخری جملہ ہی متصل ہے۔ (2) آخری جملہ اپنے حکم کے لحاظ سے سابق جملوں سے کٹا ہوا ہے اس کی رفتاری ترتیب ہی جدا ہے گو ضمیر اور اسم اشارہ کے لحاظ سے اس کا اتصال گزشتہ تمام جملوں کے ساتھ ہے۔ (3) استثناء کی شرط یہ ہے کہ مستثنیٰ اور مستثنیٰ منہ متصل ہو اور اس جگہ آخری جملہ سابقہ گزشتہ جملوں کے اور مستثنیٰ کے درمیان حائل ہے۔ (4) استثناء کا رجوع سابق کلام کی طرف اس مجبوری کے ساتھ ہوتا ہے کہ تنہا استثناء کا کوئی مستقل معنی نہیں ہوتا اور یہ ضرورت صرف ایک جملہ سے مربوط کرنے سے پوری ہوجاتی ہے اور جملۂ اخیرہ کی طرف رجوع تو بہرحال سب علماء کے نزدیک مسلم ہے اس لئے دوسرے جملوں سے وابستہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ گزشتہ کلام استثناء پر موقوف ہوتا ہے کیونکہ اس کے حکم کو بدلنا تو ضروری ہوتا ہے ‘ استثناء سے وہ حکم بدل جاتا ہے اب یہ تغییر حکم کی ضرورت آخری جملہ کی طرف راجع کرنے سے پوری ہوجاتی ہے۔
ایک شبہ واؤ عطف کے لئے اور سابق کلام کو لاحق کلام کے ساتھ شریک کرنے کے لئے آتا ہے اور سابق میں معطوف معطوف علیہ کی شکل میں چند جملے مذکور ہیں۔ لہٰذا تمام جملوں کا استثناء میں اشتراک ہونا چاہئے۔
ازالہعطف کا یہ مطلب نہیں کہ پورے جملہ کا حکم میں اشتراک ہو حرف عطف تو شرکت اعرابی کو ظاہر کرتا ہے (ہر جملے کا حکم جدا جدا ہوتا ہے) استثناء سے کلام سابق کا حکم بدل جاتا ہے۔ پس ہر جملے کی شرکت استثناء میں نہیں ہوگی۔
(5) توبہ سے فسق ختم ہوجاتا ہے ‘ حدود ساقط نہیں ہوتیں۔ امام شافعی وغیرہ کے نزدیک اگر کوئی قرینہ مانع نہ ہو تو سابق میں جتنے جملے معطوف معطوف علیہ کی شکل میں ذکر کئے گئے ہوں سب کی طرف استثناء کا رجوع ہوتا ہے۔ اسی لئے امام شافعی کا قول ہے کہ توبہ سے حد قذف ساقط ہوجاتی ہے۔ جمہور علماء کے نزدیک توبہ سے حد ساقط نہیں ہوتی۔
امام شافعی (رح) اور امام مالک (رح) کے نزدیک اس جگہ استثناء کا رجوع آخر کے دو جملوں کی طرف ہے اوّل جملہ کی طرف نہیں ہے۔
جملہ لاَ تَقْبَلُوْاچونکہ سابق سے بالکل منقطع ہے اور عدم قبول شہادت حد قذف میں داخل نہیں ہے۔ اس لئے استثناء کا رجوع پہلے جملے کی طرف نہیں ہوگا اس سے روکنے والا قرینہ موجود ہے۔
بیضاوی نے لکھا ہے کہ استثناء کا رجوع گزشتہ تینوں جملوں کی طرف ہے اور اس سے لازم نہیں آتا کہ توبہ کے بعد حد ساقط ہوجائے۔ کیونکہ توبہ کامل اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک حد شرعی کے اجرا کو قبول نہ کرلے یا جس پر تہمت لگائی ہے اس سے معافی طلب کرلے اور وہ معاف کر دے۔
میں کہتا ہوں توبہ کا معنی صرف یہ ہے کہ اپنے کئے پر ندامت ہو اور اللہ سے معافی طلب کرلے۔ پس اگر توبہ سے حد کا ساقط ہوجانا فرض کرلیا جائے تو پھر حد شرعی کو قبول کرنا واجب نہیں قرار پاتا ‘ اسی بنیاد پر امام شافعی (رح) نے فرمایا کہ تہمت لگانے والے کی شہادت صرف تہمت زنا لگانے سے ہی واجب الرد ہوجاتی ہے ‘ خواہ تہمت زدہ شخص حد قذف کا مطالبہ کرے یا نہ کرے کیونکہ قاذف فاسق ہوجاتا ہے۔ اب توبہ کرنے اور پشیمان ہونے اور اپنی حالت کو درست کرلینے کے بعد اس کی شہادت قابل قبول ہوجاتی ہے۔ خواہ اجراء حد کے بعد پشیمان ہوجائے اور توبہ کرلے یا اجراء سزا سے پہلے بہرحال فسق کا دھبہ توبہ کے بعد زائل ہوجاتا ہے اور آئندہ مردود الشہادۃ نہیں رہتا۔
بغوی نے لکھا ہے یہ تشریح حضت عمر ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے سعید بن مسیب سلیمان بن یسار ‘ شعبی ‘ عکرمہ ‘ زہری اور عمر بن عبدالعزیز (رح) کا بھی یہی قول ہے۔ امام شافعی (رح) نے فرمایا حد لگائے جانے کے بعد تو قاذف کی حالت اجراء حد سے پہلے کے مقابلہ میں بہتر ہوجاتی ہے کیونکہ حدود گناہوں کا کفارہ ہوتی ہیں۔ (ان سے گناہوں کا اتار ہوجاتا ہے) تو پھر کیا وجہ کہ اچھی حالت ہونے کے بعد تو اس کی شہادت رد کردی جائے اور بری حالت میں جبکہ اس پر ابھی حد جاری نہ کی گئی ہو اس کی شہادت قابل قبول ہو۔
ہم کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک جو قاذف کی شہادت محض قذف سے ہی (اجرائے حد سے پہلے ہی) واجب الرد ہوجاتی ہے خواہ تہمت زدہ شخص معصوم مطالبہ کرے یا نہ کرے کیونکہ تہمت زنا لگاتے ہی وہ فاسق ہوجاتا ہے اب اگر تہمت زدہ شخص اجرائے حد کا مطالبہ نہیں کرتا تو حد جاری نہیں کی جائے گی لیکن جب تک توبہ نہ کرے گا شہادت قبول نہیں کی جائے گی۔ حضرت عمر ؓ کی روایت میں آیا ہے کہ آیت الاَّ الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ وَاَصْلَحُوْا کے سلسلہ میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ان کا توبہ کرنا ہی اپنے قول (تہمت زنا) کو جھٹلانا ہے (یعنی جب انہوں نے توبہ کی اور اپنے کئے ہوئے پر پشیمان ہوئے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ انہوں نے اپنے آپ کو جھوٹا مان لیا اور تسلیم کرلیا کہ ہم نے جھوٹ کہا) اب اگر انہوں نے خود اپنی تکذیب کردی (یعنی توبہ کرلی تو مردود الشہادۃ آئندہ نہ رہے یہ حدیث اگر پایۂ صحت کو پہنچ جائے تو امام شافعی (رح) کے مسلک کا ثبوت اس سے ہوتا ہے۔
میں کہتا ہوں احادیث احاد اگر صراحت قرآن کے خلاف ہوں تو ان کو نہیں مانا جاسکتا۔ قرآن میں تو لاَ تَقْبَلُوْا لَہُمْ شَہَادَۃً اَبَدًاصراحت کے ساتھ آگیا ہے اب اگر توبہ کرلے گا تو قبول شہادت کے قابل ہوجائے گا۔ فسق کا دھبہ چھوٹ جائے گا اور اگر تہمت زدہ کے مطالبہ کی وجہ سے حد جاری ہوگئی اور اسّی کوڑے لگ گئے تو اس کی شہادت اب کبھی قبول نہیں کی جائے گی خواہ اس نے توبہ کرلی ہو یا نہ کی ہو ‘ کیونکہ رد شہادت کا حکم حق عبد کی وجہ سے ہے اور بندے کا حق توبہ سے ساقط نہیں ہوتا۔
فائدہعلماء کا اتفاق ہے کہ حد قذف سے اللہ کے حق کا بھی تعلق ہے اور بندے کے حق کا بھی تہمت زدہ شخص کی رسوائی اور آبرو ریزی کے عار کو دور کرنے کے لئے حد قذف کا قانون جاری کیا گیا ہے۔ اس سے تہمت زدہ شخص کو خصوصی فائدہ پہنچتا ہے اسی لئے علماء اس کو حق عبد قرار دیتے ہیں ‘ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ حد قذف جرائم سے روکنے والی ہے اسلئے اس کو حد کہا جاتا ہے اس قانون کو جاری کرنے کا مقصد یہ ہے کہ انسانی دنیا تباہی فساد اور فتنہ سے محفوظ رہے اس لئے اس کو حق اللہ کہا جاتا ہے ‘ چونکہ یہ بندے کا حق ہے اس لئے اس کو جاری کرنے کے لئے مدعی کی طرف سے مطالبہ شرط ہے اور قدیم ہونے کی وجہ سے شہادت باطل نہیں ہوجاتی اور مستامن کافر پر بھی اس کا اجراء ہوتا ہے اور قاضی کو اگر اس کا علم مدت حکومت کے زمانے میں ہو تو وہ یہ سزا جاری کر دے گا ‘ لیکن اگر زمانۂ حکومت سے پہلے علم تھا تو جب تک حکومت کے زمانہ میں شہادت اس کے سامنے نہ آئے وہ سابق شہادت پر حد جاری نہیں کرے گا اور اگر ایک شخص حد زنا اور حد قذف دونوں کا مستحق ہو یا حد سرقہ اور حد قذف دونوں کا مجرم قرار پائے تو حد قذف پہلے جاری کی جائے گی (کیونکہ حد زنا اور حد سرقہ دونوں خالص حق اللہ ہیں اور بندے کا حق اللہ کے حق پر مقدم ہوتا ہے) اور اقرار کے بعد اس سے لوٹ جانا درست نہیں (زنا کے اقرار سے لوٹ جانا تو صحیح ہے لیکن شہادت زنا دینے کے بعد لوٹ جانا جائز نہیں) اور چونکہ حد قذف سے اللہ کا حق متعلق ہے اس لئے تہمت زدہ شخص (یعنی مدعی) خود قاذف کو سزا نہیں دے سکتا۔ سزا جاری کرنے کا اختیار صرف حاکم کو ہے اور شبہات پیدا ہونے کی صورت میں حد قذف ساقط ہوجاتی ہے (کیونکہ حق اللہ ہے) اور حد ساقط ہوجانے کے بعد (دیت کی طرح) مالی معاوضہ میں تبدیل نہیں ہوجاتی اور نہ قاذف سے قسم لی جاسکتی ہے (اگر بندہ کا خالص حق ہوتا تو شہادت نہ ہونے کی صورت میں قاذف سے حلف لیا جاتا) اور غلام قاذف ہو تو سزا آدھی ہوجاتی ہے۔ حقوق اللہ کی حیثیت سے جو سزائیں واجب ہیں ان سب میں غلام کے لئے تنصیف ہوجاتی ہے۔ معلوم ہوا کہ حد قذف بھی اللہ کا حق ہے۔ البتہ حق عبد کے سلسلہ کی جو سزائیں ہیں ان کی مقدار کی کمی بیشی تلف حق کی کمی بیشی کے موافق ہوتی ہے۔ حق تلف کرنے والا کوئی ہو غلام ہو یا آزاد اس سے سزا کی کمی بیشی کا تعلق نہیں ہوتا۔
مذکورۂ بالا تمام فروعی مسائل پر ائمہ کا اتفاق ہے اور حد قذف میں اللہ اور بندے کے حق کا مشترک ہونا اجماعی فیصلہ ہے لیکن اس میں غالب کس کا حق ہے اللہ کا یا بندہ کا ‘ اس میں ضرور اختلاف ہے ‘ امام شافعی (رح) کے نزدیک بندے کا حق غالب ہے ‘ بندہ محتاج ہے اور اللہ بےنیاز۔ امام ابوحنیفہ کا قول اس کے برعکس ہے کیونکہ بندے کے حق کا ذمہ دار تو اللہ ہے ‘ اللہ کے حق میں بندے کا حق بھی ملحوظ رہتا ہے اور اللہ کا حق بندہ وصول نہیں کرسکتا ‘ ہاں اللہ کا نائب ہونے کی حیثیت سے وصول کرتا ہے اس اختلاف پر بہت سے مختلف مسائل متفرع ہوتے ہیں۔ جن کی کچھ تفصیل حسب ذیل ہے :
1) حد قذف کے مطالبہ کا حق تہمت زدہ کے وارثوں کو بھی منتقل ہوسکتا ہے امام شافعی (رح) : کا یہی قول ہے ‘ امام ابوحنیفہ کے نزدیک حد قذف کے مطالبہ کا حق وارثوں کو نہیں ہوتا اللہ کے حقوق میں میراث جاری نہیں ہوتی۔ بندوں کے حقوق کا انتقال وارثوں کی جانب ہوسکتا ہے خواہ وہ حقوق مالی ہوں یا مال سے تعلق رکھنے والے ہوں جیسے ضمانت و کفالت یا مال میں تبدیل ہوجاتے ہوں جیسے قصاص اور حد قذف ان تینوں شقوں میں سے کسی میں شامل نہیں ہے اس لئے تہمت زدہ شخص کے وارثوں کو یہ حق منتقل نہیں ہوسکتا ‘ بلکہ مقذوف کے مرنے کے بعد حد قذف باطل ہوجاتی ہے۔ خواہ اقامتِ حد سے پہلے مقذوف مرجائے تو جتنی حد باقی رہ ہوگئی وہ باطل ہوجائے گی۔ شافعی (رح) : کا قول اس کے خلاف ہے۔
2) ثبوت حد کے بعد اگر مقذوف معاف کر دے تو حد ساقط نہیں ہوجاتی۔ امام ابوحنیفہ (رح) : کا یہی مسلک ہے۔ امام شافعی اور ایک روایت کے بموجب امام ابو یوسف (رح) کے نزدیک ساقط ہوجاتی ہے ہاں اگر مقذوف کہے کہ اس نے مجھے تہمت زنا نہیں لگائی اور گواہ جھوٹے ہیں تو بالاتفاق حد ساقط ہوجاتی ہے کیونکہ (مدعی کے انکار و تردید کی صورت میں) تہمت زنا کا تحقق ہی نہیں پھر سزا کا وجوب کیسے ہوگا یہ بات نہیں ہے کہ سزا کا وجوب ہوگیا تھا پھر ساقط کردی گئی۔ ہاں قصاص ‘ وجوب (یعنی ثبوت قتل) کے بعد بھی ورثاء مقتول کے معاف کردینے سے معاف ہوجاتا ہے کیونکہ قصاص میں حق عبد غالب ہے۔
3) امام ابوحنیفہ اور امام مالک (رح) کے نزدیک مال یا کوئی اور چیز حد قذف کا عوض نہیں قرار دی جاسکتی (کیونکہ حد قذف میں اللہ کا حق غالب ہے) امام شافعی اور امام احمد کے نزدیک حد قذف کا معاوضہ ہوسکتا ہے۔
4) امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک حد قذف میں تداخل ہوسکتا ہے (یعنی متعدد جرائم کی سزا میں ایک ہی مرتبہ حد جاری کی جائے گی) یہاں تک کہ اگر ایک ہی شخص پر چند مرتبہ تہمت زنا لگائی یا چندآدمیوں پر لگائی (اور ثبوت شرعی نہ ہوگا) تو سب کی پاداش میں ایک ہی حد قذف جاری کی جائے گی۔ بشرطیکہ ایک قذف کے بعد سزا نہ دی جا چکی ہو (یعنی اگر تہمت زنا میں حد قذف جاری کردی گئی اور سزا پانے کے بعد اس شخص نے پھر دوبارہ کسی اور پر یا پہلے ہی شخص پر تہمت زنا لگائی تو دوبارہ حد جاری کی جائے گی پہلی سزا بعد والے جرم کے لئے کافی نہ ہو) اور اگر ایک مقذوف نے مطالبہ کیا اور حد جاری کردی گئی اور ابھی کوڑے اسّی لگنے نہ پائے تھے کہ دوسرے شخص نے (جس پر اسی شخص نے تہمت لگائی تھی) بھی اپنے حق کا مطالبہ کیا تو (دوسری حد جاری نہ ہوگی بلکہ) پہلی ہی سزا کا باقی حصہ پورا کردیا جائے گا۔ امام شافعی جواز تداخل کے قائل نہیں ہیں۔
میں کہتا ہوں یہ بات مسلمہ ہے کہ حد قذف میں اللہ کا حق اور بندے کا حق دونوں مشترک ہیں مذکورۃ الصدر متفق علیہا مسائل اس کے شاہد ہیں اور یہ امر بھی ثابت شدہ ہے کہ حدود شبہات سے ساقط ہوجاتی ہیں تو گویا اس طرح کہا جائے گا کہ ایک حق تو وجوبِ حد کا مقتضی ہے اور دوسرا حق سقوط حد کا خواستگار لہٰذا سقوطِ حق کا فتویٰ ہونا چاہئے کیونکہ اگر غلط طور پر معافی ہوجائے تو اس سے بہتر ہے کہ غلط طور پر سزا دی جائے (حضرت عمر ؓ : کا یہ قول پہلے نقل کردیا گیا ہے) ۔ اس تنقیح کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ جو حد قذف میں وراثت کو جائز نہیں قرار دیتے ان کا یہ قول صحیح ہے اور اگر مقذوف معاف کر دے تو سزا ساقط ہوجانا چاہئے مقذوف کی طرف سے مطالبہ نہیں رہا اور اجرائے حد کے لئے مطالبہ شرط ہے۔ پس امام شافعی (رح) جو اس صورت میں سقوط حد کے قائل ہیں ان کا قول اس مسئلہ میں درست ہے اور تداخل بھی حد قذف میں ہونا چاہئے جیسا کہ امام ابوحنیفہ (رح) : کا قول ہے اور اگر قاذف و مقذوف نے کسی معاوضہ پر باہم صلح کرلی تو چونکہ مقذوف سقوط حد پر راضی ہوگیا اس لئے حد ساقط ہوجانا چاہئے اور چونکہ اللہ کا حق بھی تعلق ہے اس لئے قاذف کے ذمہ مال کی ادائیگی لازم نہ ہونا چاہئے۔
بخاری نے صحیح میں حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ ہلال بن امیہ نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے اپنی بیوی پر شریک بن سمحا سے زنا کرنے کی تہمت لگائی (واقعہ یقیناً سچا تھا لیکن شرعی شہادت موجود نہیں تھی اس لئے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (یا تو شرعی ثبوت پیش کرو) ورنہ تمہاری پشت پر کوڑے مارے جائیں گے ہلال نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اگر کوئی شخص کسی کو اپنی بیوی پر دیکھے تو کیا گواہوں کو تلاش کرنے جائے۔ حضور ﷺ نے فرمایا گواہ یا تمہاری پشت پر کوڑے۔ ہلال نے کہا قسم ہے اس کی جس نے آپ کو برحق نبی بنا کر بھیجا ہے میں بلاشک و شبہ سچا ہوں اللہ ضرور (کوئی حکم ایسا) نازل فرمائے گا جس سے میری پشت کوڑوں سے بچ جائے گی ‘ اس وقت جبرئیل آیات ذیل لے کر نازل ہوئے۔
Ayah 24:6والذین یرمون ازواجہم اور جو لوگ اپنی بیویوں کی طرف زنا کی نسبت کرتے ہیں۔ کیفیت وحی دور
ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت (اِن کَانَ مِنَ الصّٰدِقِیْن) تک تلاوت فرمائی حسب الحکم ہلال آئے اور انہوں نے شہادت دی یعنی لعان کیا اور حضور برابر فرماتے رہے کہ اللہ جانتا ہے کہ تم دونوں میں ایک جھوٹا ہے تو کیا تم دونوں میں سے کوئی ایک اپنے قول سے رجوع کرلے گا۔ ہلال کی شہادت کا بعد عورت کھڑی ہوئی اور اس نے شہادت دی یعنی لعان کیا جب پانچویں شہادت کا نمبر آیا تو لوگوں نے اس کو روکا اور کہا یہ شہادت فیصلہ کردینے والی ہے (اگر تو نے جرم کیا ہے تو شہادت سے اب بھی لوٹ سکتی ہے) عورت ذرا جھجکی اور مڑی یہاں تک کہ ہمارا خیال ہوا کہ یہ (شہادت سے) لوٹ جائے گی پھر کہنے لگی میں اپنے خاندان کو آئندہ ہمیشہ کے لئے رسوا نہیں کروں گے چناچہ اس نے شہادت جاری رکھی۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس عورت کو دیکھتے رہنا (اگر اس کے بچہ پیدا ہو اور آنکھیں سرمگیں ہوں سرین بھاری ہوں اور پنڈلیاں گداز ہوں تو (خیال کرلینا کہ) وہ شریک بن سمحا کا ہے۔ چناچہ جب بچہ پیدا ہوا تو وہ ایسا ہی تھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا اگر کتاب اللہ کا فیصلہ نازل نہ ہوا ہوتا تو پھر میں اس عورت سے سمجھتا۔
صحیح میں حضرت سہل بن سعد ساعدی کی روایت سے آیا ہے کہ ابن عویمر عجلانی نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی آدمی کو (مشغول) دیکھ لے تو کیا کرے اگر وہ قتل کر دے گا تو لوگ (قصاص میں) اس کو قتل کردیں گے (گواہ لینے جائے گا تو مرد فارغ ہو کر جا چکے گا) بتائیے وہ کیا کرے حضور ﷺ نے فرمایا تمہارے اور تمہاری بیوی کے معاملہ میں حکم نازل ہوگیا ہے جاؤ اپنی بیوی کو لے کر آؤ حضرت سہل کا بیان ہے پھر دونوں نے مسجد کے اندر لعان کیا میں اس وقت رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھا لعان سے دونوں فارغ ہوگئے تو عویمر نے عرض کیا یا رسول للہ اب اس کے بعد میں اس عورت کو اپنے پاس رکھوں گا تو (گویا) میں نے اس پر تہمت تراشی کی (کیونکہ غیرت مند آدمی زنا کار عورت کو اپنے نکاح میں نہیں رکھتا ہے) چناچہ انہوں نے عورت کو تین طلاقیں دے دیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ذرا دیکھتے رہنا اگر اس عورت کے بچہ پیدا ہو اور وہ سانولا ‘ سیاہ چشم بھاری سرینوں اور گداز پنڈلیوں والا ہو تو میرا خیال ہوجائے گا کہ عویمر (یعنی ابن عویمر) نے سچ کہا تھا اور اگر اسی کی طرح سرخ رنگ کا ہوا ہو تو میں سمجھوں گا کہ عویمر نے اس عورت پر دروغ بندی کی چناچہ جب بچہ پیدا ہوا تو ویسا ہی تھا جس سے رسول اللہ ﷺ کے بیان کے مطابق عویمر کی سچائی ظاہر ہوتی تھی چناچہ آئندہ اس بچہ کا نسب ماں سے ملایا جاتا (اور ولد عویمر نہیں کہا جاتا تھا) ۔
امام احمد نے بروایت عکرمہ حضرت ابن عباس ؓ : کا بیان نقل کیا ہے کہ جب آیت (وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْ بِاَرْبَعَۃٍ شُہَدَاءَ فَاجْلِدُوْا ہُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَۃً وَلاَ تَقْبَلُوْا لَہُمْ شَہَادَۃً اَبَدًا) نازل ہوئی تو انصار کے سردار حضرت سعد بن عبادہ نے عرض کیا (کیا) اسی طرح آیت نازل ہوئی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے گروہ انصار سن رہے ہو تمہارا سردار کیا کہہ رہا ہے (اس کو نزول آیت میں شبہ ہے) انصار نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ان کو آپ برا نہ کہیں یہ بڑے غیر مند آدمی ہیں بخدا انہوں نے (کبھی کسی بیوہ یا مطلقہ سے نکاح نہیں کیا) ہمیشہ ناکت خدا سے ہی نکاح کیا اور نہ اپنی کسی بیوی کو طلاق دی (یعنی جس عورت کا پردہ کسی مرد نے اٹھا لیا ہو اس کو انہوں نے کبھی ساتھ رکھنا پسند نہیں کیا اور انتہائی غیرت یہ کہ کسی عورت کو طلاق نہیں دی کہ وہ کسی دوسرے مرد سے نکاح کرسکے) ان کی اسی شدت غیرت کی وجہ سے ہم میں سے کوئی شخص جراءت نہیں کرسکتا کہ (اگر ان کی چھوڑی ہوئی کوئی عورت ہو تو) اس سے نکاح کرلے۔ حضرت سعد نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میرے ماں باپ قربان بخدا یہ تو میں ضرور جانتا ہوں کہ یہ آیت حق ہے اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے لیکن مجھے تعجب اس بات پر ہے کہ اگر میں بدکار عورت کو اس حالت میں دیکھوں کہ کوئی شخص اس کو اپنی رانوں میں دبائے ہوئے ہے تو مجھے یہ بھی اجازت نہیں کہ میں اس کو اس کی جگہ سے ہلا سکوں جب تک کہ چار گواہ لا کر ان کو آنکھوں سے دکھا نہ دوں خدا کی قسم جب تک میں گواہ لاؤں گا وہ شخص اپنا کام کر کے چل دے گا۔ اس واقعہ کو زیادہ مدت نہ گزری تھی کہ ہلال بن امیہ کا قصہ ہوگیا حضرت ہلال ان تینوں میں سے ایک تھے جن کی توبہ قبول ہونے کی صراحت آیت میں آئی تھی (غزوۂ تبوک کو تین شخص باوجود مقدرت کے نہیں گئے تھے اور واپسی کے وقت حاضر خدمت ہو کر انہوں نے سچ سچ عرض کردیا تھا اور اپنے قصد کا اعتراف کرلیا تھا اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ان پر سخت عتاب کیا تھا اور مسلمانوں کو ان کے بائیکاٹ کا حکم دے دیا تھا انہوں نے چالیس پچاس دن برابر اللہ سے زاری کی اور روتے رہے آخر ان کی توبہ قبول ہوئی اور قبول توبہ کی آیت اللہ نے نازل فرما دی) واقعہ یوں ہوا کہ حضرت ہلال رات کو اندھیرا پڑے اپنی زمین سے واپس آئے آکر دیکھا کوئی شخص ان کی بیوی کے پاس موجود ہے (اور کام میں مشغول ہے) آپ نے اپنی آنکھوں سے ان کی حرکت دیکھی اور اپنے کانوں سے ان کی باتیں سنیں لیکن اس شخص کو متنبہ نہیں کیا صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا میں اندھیرا پڑے گھر آیا تو میں نے اپنی بیوی کے پاس ایک آدمی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے (ان کی باتیں) سنیں رسول اللہ ﷺ : کو یہ اطلاع ناگوار ہوئی اور بار گزری۔ دوسری طرف انصار جمع ہوئے اور انہوں نے کہا سعد بن عبادہ کے قول نے ہم کو آزمائش میں ڈال دیا ‘ اب ہلال بن امیہ کو رسول اللہ ﷺ (کوڑے) لگوائیں گے اور لوگوں میں ان کی شہادت کو باطل قرار دیں گے۔ ہلال نے کہا خدا کی قسم مجھے امید ہے کہ اللہ میرے لئے اس سے رہائی کا کوئی راستہ ضرور نکال دے گا (راوی کا بیان ہے) رسول اللہ ﷺ : کوڑے لگوانے کا ارادہ کر ہی رہے تھے کہ اللہ نے آپ ﷺ پر وحی نازل فرمائی۔ جب وحی نازل ہوگئی (اور حضور ﷺ نے سنا دی) لوگ ہلال کو کوڑے مارنے سے رک گئے۔ آیت نازلہ یہ تھی (وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَہُمْ ) ابو یعلیٰ نے ایسا ہی بیان حضرت انس ؓ : کا نقل کیا ہے ‘ بغوی نے یہ واقعہ نقل کرنے کے بعد اس کے آخر میں یہ بھی بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہلال تم کو خوش خبری ہو اللہ نے تمہارے لئے کشائش پیدا کردی ہلال نے کہا مجھے اللہ سے اس کی امید تھی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عورت کو بلواؤ حسب الحکم عورت حاضر ہوئی۔ جب دونوں رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں اکٹھے ہوئے تو عورت سے (ہلال کا قول) کہا گیا عورت نے ہلال کے قول کو جھوٹا قرار دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ یقیناً جانتا ہے کہ تم دونوں میں سے ایک جھوٹا ہے تو کیا تم دونوں میں سے کوئی (اپنے بیان سے) رجوع کرنے والا ہے۔ ہلال نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ! میرے ماں باپ قربان میں سچ کہہ چکا اور میں نے حق بات کہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو ان دونوں میں کے درمیان لعان کرا دو ۔ حسب الحکم ہلال سے کہا گیا ‘ شہادت دو ہلال نے چار بار اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ میں یقیناً سچا ہوں ‘ پانچویں شہادت کے وقت رسول اللہ ﷺ نے ہلال سے فرمایا ‘ ہلال اللہ سے ڈر دنیوی عذاب ‘ آخرت کے عذاب سے آسان ہے اور اللہ کا عذاب لوگوں کے عذاب سے بہت زیادہ سخت ہے اور یہ پانچویں شہادت واجب کردینے والی ہے (اگر تو جھوٹا ہے تو) عذاب کو تجھ پر واجب کر دے گی۔ ہلال نے کہا خدا کی قسم اللہ اس شہادت پر مجھے عذاب نہیں دے گا ‘ جس طرح رسول اللہ ﷺ اس پر میرے کوڑے نہیں ماریں گے۔ اس کے بعد پانچویں شہادت میں ہلال نے کہا کہ اللہ کی لعنت مجھ پر اگر میں جھوٹا ہوں ‘ پھر پانچویں شہادت کے وقت رسول اللہ ﷺ نے اس عورت کو روکا اور فرمایا اللہ سے ڈر پانچویں شہادت یقیناً واجب کردینے والی ہے اور اللہ کا عذاب لوگوں کے عذاب سے زیادہ سخت ہے ‘ یہ سن کر عورت تھوڑی دیر کے لئے جھجکی اور اقرار کرنے کا ارادہ کیا لیکن پھر کہنے لگی ‘ خدا کی قسم میں اپنے خاندان کو رسوا نہیں کروں گی ‘ چناچہ اس نے پانچویں شہادت دے دی اور کہا اللہ کا مجھ پر غضب ہو اگر وہ (ہلال) سچا ہو ‘ آخر رسول اللہ ﷺ نے دونوں کو الگ الگ کردیا اور فیصلہ کردیا کہ بچہ (اگر ہوگا تو) عورت کا ہوگا باپ کی طرف اس کی نسبت نہیں کی جائے گی۔ لیکن بچہ کو ولد حرام نہیں کہا جائے گا۔ حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر بچہ ایسا ایسا ہو تو شوہر کا ہوگا اور اگر ایسا ایسا ہو تو وہ اس شخص کا ہوگا جس کا نام لیا گیا ہے۔ چناچہ جب بچہ پیدا ہوا تو خاکستری رنگ کے اونٹ کی طرح بدشکل تھا جو آئندہ زندگی میں مصرکا حاکم بنا لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ میرا باپ کون تھا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ تمام روایات میں حضرت ابن عباس ؓ کا بیان مندرجۂ ذیل آیا ہے۔ یہی مقاتل نے بیان کیا کہ جب آیت (وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الخ) نازل ہوئی اور منبر پر رسول اللہ ﷺ نے پڑھ کر سنائی تو عاصم بن عدی انصاری نے اٹھ کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اللہ مجھے آپ پر قربان کر دے (یہ فرمائیے) اگر ہم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو (مشغول) دیکھ لے اور جو کچھ دیکھا ہے اس کو بیان کر دے تو اس کے اسّی کوڑے مارے میں جائیں گے اور مسلمان اس کو فاسق کہیں گے اور آئندہ اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ ہم گواہ اس وقت تک کہاں سے لاسکتے ہیں گواہوں کی تلاش جائیں گے تو اتنے وقت میں وہ شخص اپنے کام سے فارغ ہو کر جا چکا ہوگا۔ انہی عاصم کے ایک چچا زاد بھائی تھے جن کا نام عویمر تھا اور عویمر کی بیوی خولہ بنت قیس بن محصن تھیں (چند روز بعد کا ذکر ہے کہ) عویمر عاصم کے پاس پہنچے اور کہا (بھائی) میں نے اپنی بیوی خولہ کے پیٹ پر سوار خود شریک بن سمحا کو دیکھ پایا (اب کیا کروں) عاصم نے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَپڑھا اور آئندہ جمعہ کو رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! گزشتہ جمعہ کو جو بات میں نے عرض کی تھی اس میں مبتلا میرے ہی خاندان کا ایک شخص ہوگیا۔ عویمر ‘ خولہ اور شریک ‘ سب عاصم کے بنی عم (یعنی ایک ہی دادا کی اولاد) تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے سب کو طلب فرمایا اور عویمر سے ارشاد فرمایا وہ تیری بیوی اور تیرے چچا کی بیٹی ہے ‘ اللہ سے ڈر اس کو بہتان تراشی کا نشانہ نہ بنا۔ عویمر نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے شریک کو اس کے پیٹ پر دیکھا اور چار مہینے سے میں خولہ کے قریب بھی نہیں گیا اس کو اگر حمل ہے تو کسی اور کا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے عورت سے فرمایا اللہ سے ڈر اور جو کچھ تو نے کیا مجھ سے بیان کر دے۔ عورت نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! عویمر بڑا غیرت مند آدمی ہے اس نے دیکھا کہ میں اور شریک دیر تک بیدار رہتے اور باہم باتیں کرتے رہتے ‘ اس کو غیرت آئی اور غیرت نے اس سے وہ بات کہلوائی (جو اس نے آپ سے کہی تھی) رسول اللہ ﷺ نے شریک سے فرمایا تیرا کیا بیان ہے ؟ اس نے کہا جو عورت کہہ رہی ہے وہی میں کہتا ہوں ‘ اس پر اللہ نے آیت (وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَجَہُمْ ) نازل فرمائی۔ حضور ﷺ نے منادی کو حکم دیا کہ الصلوٰۃ جامعۃ کی ندا کر دے ‘ منادی نے ندا کردی لوگ جمع ہوگئے۔ آپ نے عصر کی نماز پڑھی پھر عویمر سے فرمایا اٹھ اور کھڑا ہو کر اللہ کو گواہ کر کے کہہ کہ خولہ زانیہ ہے اور میں یقیناً بلاشبہ سچا ہوں۔ عویمر نے کھڑے ہو کر یہی شہادت دی ‘ پھر دوسری شہادت میں عویمر نے کہا میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں کہ میں نے شریک کو خولہ کے پیٹ پر دیکھا اور میں بلاشبہ سچا ہوں اور پھر تیسری شہادت میں عویمر نے کہا میں شہادت دیتا ہوں کہ اس عورت کو جو حمل ہے وہ میرا نہیں کسی اور کا ہے اور میں سچا ہوں ‘ پھر چوتھی شہادت میں عویمر نے کہا میں اللہ کو شاہد جان کر کہتا ہوں کہ میں نے چار مہینے سے اس سے قربت نہیں کی اور بلاشک میں سچا ہوں۔ پھر پانچویں مرتبہ عویمر نے کہا اگر عویمر اس بات میں جھوٹا ہو تو اس پر خدا کی لعنت ہو (اس کے بعد) ۔ حضور ﷺ نے خولہ سے فرمایا کھڑی ہو (اور قسم کھا کر بیان کر) خولہ کھڑی ہوئی اور اس نے کہا میں خدا کی قسم کھا کر کہتی ہوں کہ میں زانیہ نہیں ہوں اور عویمر جھوٹا ہے ‘ پھر دوسری شہادت میں خولہ نے کہا میں خدا کی قسم کھا کر کہتی ہوں کہ عویمر نے شریک کو میرے پیٹ پر نہیں دیکھا اور عویمر جھوٹا ہے ‘ پھر تیسری شہادت میں عورت نے کہا میں عویمر سے حاملہ ہوں اور یہ جھوٹا ہے ‘ پھر چوتھی شہادت میں عورت نے کہا عویمر نے کبھی مجھے زنا کی حالت میں مبتلا نہیں دیکھا اور یہ جھوٹا ہے ‘ پھر پانچویں شہادت میں اس نے کہا اگر عویمر اس قول میں سچا ہو تو خولہ پر اللہ کا عذاب ٹوٹے ‘ تکمیل شہادت کے بعد رسول اللہ ﷺ نے دونوں کو الگ کرا دیا اور فرمایا اگر یہ قسمیں نہ ہوتیں تو اس وقت اس عورت کے معاملے میں کچھ رائے ہوتی ‘ پھر لوگوں سے فرمایا بچے کی پیدائش کے وقت کو دیکھتے رہو اگر بچے کے دونوں ابرو کشادہ ہوں دونوں میں فاصلہ ہو بال بھورے ہوں رنگ مائل بہ سرخی ہو تو (سمجھو کہ) وہ شریک بن سمحا کا ہے اور اگر رنگ خاکستری ہو بال گھنگھریالے ہوں اعضاء کے جوڑ اونٹ کی طرح ہوں تو سمجھو کہ وہ اس شخص کا نہیں ہے جس کی طرف زنا کی نسبت کی گئی ہے (بلکہ وہ عویمر کا ہوگا) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا خولہ کے بچہ پیدا ہوا تو وہ شریک سے بہت زیادہ مشابہ تھا۔
حافظ ابن حجر نے لکھا ہے کہ ائمہ (روایت) کا اس آیت کے سبب نزول میں اختلاف ہے کسی کے نزدیک عویمر کے حق میں اس کا نازل ہونا راجح ہے۔ کسی نے ہلال کے بارے میں اس کے نزول کو راجح قرار دیا ہے۔
قرطبی نے آیت کا نزول دو مرتبہ مانا ہے۔ بعض نے دونوں روایتوں میں مطابقت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے اور بیان کیا ہے کہ سب سے پہلے یہ آیت ہلال کے متعلق نازل ہوئی اور اتفاق سے اسی زمانے میں عویمر کا قصہ بھی ہوگیا اس لئے (کہا جاسکتا ہے کہ یہ دونوں واقعات سبب نزول ہیں) علامہ نوری کا بھی اسی قول کی طرف میلان ہے۔ حافظ ابن حجر نے لکھا ہے کہ پہلے ہلال کے متعلق آیت کا نزول ہوچکا ہو پھر جب عویمر اپنا قصہ لے کر آئے اور ان کو ہلال کے واقعہ کا کچھ علم نہ تھا تو رسول اللہ ﷺ نے ان کو حکم قرآنی بتادیا۔ اسی لئے حضرت ہلال ؓ کے قصے میں آیا ہے کہ جبرئیل ( علیہ السلام) یہ آیت لے کر اترے اور حضرت عویمر سے فرمایا کہ تیرے معاملے میں یعنی تیرے واقعہ کی طرح ایک واقعہ ایک اور شخص کا ہوا تھا اس کے معاملہ میں اللہ نے یہ آیت نازل فرما دی ہے۔
ابن الصباغ نے الشامل میں بھی یہی جواب دیا ہے۔
مسئلہ چونکہ آیت (وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَہُمْ ) عام ہے اس لئے امام مالک (رح) امام شافعی (رح) اور امام احمد نے فرمایا کہ جو جوڑا (شوہر اور اس کی بیوی) ایسا ہو کہ ان کے درمیان طلاق ہوسکتی ہو ان کے درمیان لعان کا حکم بھی جاری ہوگا خواہ دونوں آزاد ہوں یا دونوں مملوک یا ایک آزاد اور دوسری مملوک۔ دونوں عادل ہوں یا دونوں فاسق ‘ ایک عادل ہو اور دوسرا فاسق بلکہ دونوں کا مسلمان ہونا بھی ضروری نہیں۔ ایک مسلمان ہو اور دوسری کافر (کتابی) یا دونوں کافر ہوں۔ امام مالک نے کفر فریقین کی صورت میں اختلاف کیا ہے۔ کیونکہ ان کے نزدیک کافروں کا آپس میں نکاح ہی صحیح نہیں ہوتا ‘ اس لئے طلاق بھی صحیح نہیں ہوتی اور طلاق صحیح نہیں تو لعان بھی جائز نہیں۔
امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا جب تک دو شرطیں نہ ہوں گی لعان جائز نہ ہوگا ایک شرط یہ ہے کہ مرد اہل شہادت ہو یعنی مسلمان آزاد عاقل بالغ ہو دوسری شرط یہ ہے کہ عورت ایسی ہو کہ اس کے قاذف (تہمت زنا لگانے والے) کو حد لگائی جاسکتی ہو یعنی مسلمان ہو ‘ آزاد ہو ‘ عاقل ہو ‘ بالغ ہو اور (اس سے پہلے) اس کی طرف زنا کی نسبت نہ کی گئی ہو امام صاحب کے اس قول پر اگر عورت ایسی ہو کہ اس کے قاذف کو حد زنا لگائی جاسکتی ہو اور مرد غلام ہو یا کافر ہو یا تہمت زنا کا پہلے سزا یافتہ ہو (اور ایسا مرد تہمت زنا لگائے) تو لعان کا حکم نہیں دیا جائے گا بلکہ حاکم اگر مناسب سمجھے گا تو تعزیری سزا مرد کو دے گا۔ ہاں اگر شوہر نابینا یا فاسق ہے تو دونوں میں لعان کا حکم دینا جائز ہے ‘ کیونکہ فاسق کی شہادت کو قبول کرنے کا اختیار تو بہرحال قاضی کو حاصل ہے فاسق کی شہادت قابل قبول نہیں اگر حاکم چاہے تو لے سکتا ہے۔ اور نابینا کی شہادت عام معاملات میں اس لئے قبول نہیں کی جاتی کہ وہ مدعی اور مدعی علیہ میں امتیاز نہیں کرسکتا ‘ لیکن قذف کا معاملہ تو اس کا ذاتی ہے وہ اپنے آپ کو پہچانتا ہے اور اپنی بیوی سے اپنا امتیاز کرتا ہے اس لئے اس شہادت کا اہل ہے دوسری شہادتوں کا اہل نہیں ہے ‘ ابن مبارک (رح) نے امام ابوحنیفہ (رح) : کا جو قول نقل کیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امام صاحب کے نزدیک نابینا قاذف ہو تو لعان نہیں کرایا جائے گا۔ اسی طرح امام صاحب کے نزدیک مندرجہ صورتوں میں نہ حد قذف ہے نہ لعان۔ عورت باندی ہو یا کافرہ ہو یا نابالغ ہو یا پاگل ہو یا اس نے نکاح فاسد کیا اور شوہر نے بہ نکاح فاسد اس سے قربت کرلی ہو۔ یا اس کا کوئی بچہ ہو جس کا باپ معلوم نہ ہو یا اس نے اپنی عمر میں کبھی زنا کی ہو خواہ ایک ہی مرتبہ کی ہو پھر توبہ کرلی ہو یا اس سے شبہ کے طور پر مرد نے جماع کرلیا ہو اور واقع میں وہ جماع حرام ہو مرد کو حلال ہونے کا شبہ ہوگیا ہو ان تمام صورتوں نہ حد قذف قاذف پر جاری ہوگی نہ لعان کا حکم دیا جائے گا البتہ حاکم مناسب سمجھے تو عورت کو تعزیری سزا دے سکتا ہے۔
امام صاحب نے جو عورت کے لئے شرط لگائی ہے کہ وہ ایسی ہو جس کے قاذف کو حد لگائی جاسکتی ہو اس کی وجہ یہ ہے کہ شوہر سے حد قذف کو دور کرنے کے لئے لعان کا حکم دیا گیا ہے جن احادیث میں نزول آیت کا سبب بیان کیا گیا ہے ان سے یہی ثابت ہوتا ہے دیکھو رسول اللہ ﷺ نے ہلال سے فرمایا ہلال تم کو بشارت ہو اللہ نے تمہارے لئے کشائش پیدا کردی اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شوہر کے حق میں لعان حد قذف کا بدل ہے اسی لئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ سے ڈرو دنیا کا عذاب یعنی حد۔ عذاب آخرت کے مقابلہ میں بہت آسان ہے پس جب ایسی عورت ہی نہ ہو جس کے قاذف پر حد قذجاری ہوسکتی ہو تو پھر حد کا بدل یعنی لعان کس طرح جائز ہوسکتا ہے۔ ایک شرط امام صاحب نے یہ بھی لگائی تھی کہ شوہر شہادت کا اہل ہو اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ نے فرمایا ہے۔
ولم یکن لہم شہدآء الا انفسہم اور ان کے پاس سوائے اپنے آپ کے اور گواہ نہ ہوں۔ اللہ نے
اس آیت میں خود ازواج (شوہروں) کو شہداء (گواہ) قرار دیا ہے کیونکہ اِلَّا اَنْفُسُہُمْکا نفی سے استثناء کیا ہے اور نفی سے استثناء اثبات ہوتا ہے (ترجمہ یوں ہوگا اور نہ ہوں ان کے لئے گواہ سوائے اس کے کہ وہ اپنے آپ ہی گواہ ہوں) ۔
یہ شبہ نہ کیا جائے کہ اس آیت میں مجازاً شہداء سے مراد ہیں قسم کھانے والے کیونکہ اس تاویل پر مطلب یہ ہوگا کہ ان کے پاس قسم کھانے والے نہ ہوں سوائے اس کے کہ وہ خود ہی اپنے لئے قسم کھانے والے ہوں۔ یہ مطلب درست نہیں ہے حقیقت میں اس جگہ شہادت کو بمعنی حلف لینا ایک کلیہ کی فرع ہے جس کا بجائے خود کوئی وجود نہیں کلیہ یہ ہے کہ (اپنے لئے اپنی شہادت ناجائز ہے اور) دوسرے کے لئے حلف جائز ہے۔ اگر شہادت کا حقیقی معنی قسم ہوتا بھی تب بھی اس جگہ مجازی معنی (یعنی گواہی) کی طرف رجوع کرنا پڑتا (کیونکہ دوسرے کے لئے حلف کا کوئی وجود نہیں) اور جب شہادت کا حقیقی معنی حلف ہے ہی نہیں بلکہ شہادت سے قسم مجازاً مراد لے لی جاتی ہے تو بدرجۂ اولیٰ اس جگہ شہادت سے مراد قسم نہیں بلکہ گواہی ہے۔
امام صاحب نے شوہر کے لئے شہادت کا اہل ہونے کی شرط لگائی ہے اور یہ بھی ضروری قرار دیا ہے کہ عورت ایسی ہو جس کے قاذف پر حد قذف جاری کی جاسکتی ہو ان دونوں باتوں کا ثبوت عمرو بن شعیب کے دادا کی روایت کردہ حدیث سے ملتا ہے اس حدیث کو ابن ماجہ اور دارقطنی نے چند طرق سے نقل کیا ہے۔
(1) دارقطنی نے بروایت عثمان بن عبدالرحمن زہری بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چار (صورتیں) ہیں جن میں لعان نہیں ہے۔ آزاد مرد اور باندی عورت کے درمیان لعان نہیں ہے۔ غلام مرد اور آزاد بی بی کے درمیان لعان نہیں ہے۔ مسلم مرد اور یہودیہ عورت کے درمیان لعان نہیں ہے۔ مسلم مرد اور نصرانی عورت کے درمیان لعان نہیں ہے۔ یحییٰ ‘ بخاری ‘ ابو حاتم رازی اور ابو داؤد نے کہا عثمان ابن عبدالرحمن کچھ نہیں ہے (ہیچ ہے ناقابل اعتبار ہے) یحییٰ نے ایک بار کہا وہ جھوٹ کہتا تھا ابن حبان نے کہا موضوع احادیث کی روایت کا سلسلہ قابل اعتماد راویوں سے ملاتا تھا اس کی روایت کردہ حدیث کو حجت میں پیش کرنا جائز نہیں۔ نسائی اور دارقطنی نے کہا یہ متروک الحدیث ہے۔
(2) دارقطنی اور ابن ماجہ نے عثمان بن عطاء خراسانی کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چار عورتوں سے لعان نہیں۔ عیسائی عورت مسلمان مرد ‘ یہودی عورت مسلمان مرد ‘ باندی عورت آزاد مرد ‘ آزاد عورت غلام مرد۔ یحییٰ اور دارقطنی نے عثمان بن عطا کو ضعیف کہا ہے ابو حاتم اور ابن حبان نے کہا اس کی حدیث سے احتجاج جائز نہیں۔ علی بن جنید نے کہا یہ متروک الحدیث ہے۔
دارقطنی نے کہا عثمان کی متابعت یزید بن زریع نے بھی کی ہے اس نے بھی بروایت عطا یہ حدیث بیان کی ہے لیکن یزید بن زریع بھی ضعیف ہے۔
(3) دارقطنی نے عماد بن مطر کی وساطت سے عمرو بن شعیب کے دادا کی روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عتاب بن اسید کو بھیجا ‘ اس کے بعد حدیث مذکور نقل کی ہے۔
ابو حاتم رازی نے کہا عماد بن مطر جھوٹ بنایا کرتا تھا ‘ ابن عدی نے کہا اس کی حدیثیں بےحقیقت ہیں۔ یہ متروک الحدیث ہے۔ امام احمد نے کہا حماد بن عمرو (جو عماد بن مطر کا راوی ہے) جھوٹ بناتا تھا اور حدیث خود گڑھتا تھا۔ ساجی نے کہا باجماع اہل روایت یہ متروک الحدیث ہے۔ نسائی اور دارقطنی نے حماد بن عمرو کے راوی زید بن رفیع کو ضعیف کہا ہے (گویا عماد بن مطر از حماد بن عمرو از زید بن رفیع از عمرو بن شعیب کے سلسلہ میں اوّل الذکر تینوں راوی ضعیف جھوٹے اور ناقابل اعتبار ہیں) ۔
ابن جوزی نے لکھا ہے اوزاعی اور ابن جریج نے جو امام الحدیث ہیں یہ حدیث بوساطت عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ بیان کی ہے اور اس کو عمرو بن شعیب کے دادا کا قول قرار دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ : کی طرف اس کی نسبت نہیں کی۔
ابن ہمام نے لکھا ہے ضعیف حدیث اگر متعدد طریقوں سے مروی ہو (اور ہر سند میں ضعف ہو) تو وہ حجت (قابل استدلال) ہوجاتی ہے۔ یہ حدیث اسی قسم کی ہے اس کی تائید اوزاعی اور ابن جریج کی روایت سے ہو رہی ہے کہ دونوں اماموں نے اس کو عمرو بن شعیب کے دادا کا قول قرار دیا ہے (اگرچہ اس کی نسبت رسول اللہ ﷺ : کی طرف نہیں کی اور مرفوعاً نہیں بیان کیا پھر بھی موقوفاً ضرور کہا ہے) ۔
فشہادۃ احدہم اربع شہادات باللہ انہ لمن الصدقین۔ تو ان میں سے ایک (یعنی مرد) کی
شہادت یہی ہے کہ وہ چار بار اللہ کی قسم کھا کر کہہ دے کہ بلاشبہ میں سچا ہوں۔ امام شافعی (رح) نے اس آیت سے اپنے مسلک پر استدلال کیا ہے اس آیت میں شہادت سے مراد قسمیں ہیں۔ گواہیاں مراد نہیں ہیں ‘ کیونکہ لفظ شہادت میں دونوں معنی کا احتمال تھا گواہی اور قسم لیکن لفظ باللہ سے قسم کا معنی محکم ہوگیا۔ لفظ اشہد کہہ کر اگر کوئی قسم مراد لے تو قسم ہوجائے گی معلوم ہوا کہ شہادات کا لفظ بول کر قسمیں مراد لینے کا احتمال تھا لفظ باللہ نے اس معنی کو متعین کردیا۔ شریعت میں اپنی ذات کے لئے خود شہادت دینا قابل قبول نہیں ہاں اپنے لئے قسم کھا سکتا ہے اور اس کی بھی شریعت میں کوئی نظیر نہیں کہ ایک مقام پر (ایک وقت میں) ایک ہی شخص بار بار شہادت ادا کرتا ہو ‘ ہاں قسم کی تکرار کی مثال موجود ہے جیسے قسامت میں ہوتا ہے ‘ اس کے علاوہ ایک بات یہ بھی ہے کہ شہادت کسی چیز کو ثابت کرنے کے لئے ہوتی اور قسم نفی کے لئے یہ بات ناقابل تصور ہے کہ حقیقت شہادت کا تعلق ایک ہی امر سے ہو لامحالہ ایک کی حقیقت اور دوسرے کے مجازی معنی پر عمل واجب ہوگا اور لفظ شہادت کا مجازی معنی (یعنی قسم) مراد ہوگا اور جب شہادت سے قسم مراد ہوگی تو لعان کے لئے شہادت کا اہل ہونا لازم نہ ہوگا۔
ہم کہتے ہیں بیشک اپنے لئے خود شہادت دینے اور بار بار ایک مقام پر شہادت ادا کرنے کی شریعت میں کوئی نظیر نہیں ہے تو دوسرے کے لئے قسم کھانے کی مثال بھی تو کوئی نہیں ہے اور کسی حکم کو واجب کرنے کے لئے قسم کھانا بھی تو شریعت میں کہیں موجود نہیں ہے۔ قسم تو دفع حکم کے لئے ہوتی ہے نہ کہ ایجاب حکم کے لئے۔ پس جس کو موجود کرنے معدوم کرنے اور جیسا چاہے ویسا حکم دینے کا کامل اختیار و استحقاق ہے جب ایک محل میں دونوں امور کو ابتداً مشروع کرنا اس کے لئے جائز ہے تو اس کے لئے یہ بھی جائز ہے کہ ابتداً اس کو مشروع کر دے (اور اس کا ابتداً قانون بنا دے۔ نظیر تلاش کرنے کی ضرورت نہیں) ۔
رہا اپنے لئے خود شہادت دینے کی مثال تو یہ قرآن مجید میں موجود ہے اللہ نے فرمایا ہے شَہِدَ اللّٰہُ اَنَّہٗ لَا اِلٰہَ الاَّ ہُوَاللہ خود شاہد ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے جو مؤذن کو اذان میں اَشْہَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ الاَّ اللّٰہُ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْل اللّٰہِکہتے سنا تو فرمایا اَنَااَشْہَدُ اَنَا اَشْہَدُمیں بھی شہادت دیتا ہوں میں بھی شہادت دیتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ : کا اپنی رسالت کی شہادت دینا خود اپنے لئے شہادت ہے۔
باقی اس جگہ تکرار شہادت کیوں ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ زنا کے گواہ جب کوئی ثبوت پیش کرنے سے قاصرہو تو اس کی جگہ یہ چار شہادتیں بطور بدلیت ضروری قرار پائی ہیں کیونکہ تہمت کے وقت اپنے لئے شہادت (یعنی ایک شہادت) قبول نہیں کی جاسکتی (اس لئے تکرار شہادت ضروری قرار پائی) اگر تہمت کا موقع نہ ہو تو ایک شہادت بھی اپنے لئے قبول کی جاتی ہے جیسے مندرجۂ بالا آیت اور حدیث سے اس کا ثبوت ملتا ہے پس کسی تہمت کے مقام پر اپنے لئے بار بار شہادت دینا اور قسم سے اس کو پختہ کرنا اور بصورت کذب اپنے لئے لعنت اور غضب خدا کی بددعا کرنا (اور لعنت و غضب کا اپنے کو مستحق ظاہر کرنا) بعید از فہم نہیں ہے۔