Ayah 21:87وذوالنون اور ذوالنون (مچھلی والے) کو یاد کرو۔ ذوالنون سے مراد حضرت یونس بن متیٰ ہیں ‘ جن کو صاحب
الحوت بھی کہا گیا ہے۔
اذ ذہب مغاضبا جس وقت وہ انتہائی غصے میں چل دیا تھا۔
حسب روایت عوفی حضرت ابن عباس کا قول ہے اور ضحاک نے بھی یہی کہا ہے کہ حضرت یونس اپنی قوم کے ساتھ فلسطین میں رہتے تھے ‘ کسی بادشاہ نے ان پر حملہ کیا اور ساڑھے نو قبیلوں کو قید کر کے لے گیا صرف ڈھائی قبیلے باقی رہ گئے۔ اللہ نے شعیا نبی کے پاس وحی بھیجی کہ تم حرقیا بادشاہ کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ وہ کسی طاقت ور نبی کو دشمنوں کے پاس بھیج کر بنی اسرائیل کی قید سے رہا کرائے۔ میں دشمنوں کے دلوں میں بنی اسرائیل کو رہا کرنے کا خیال پیدا کردوں گا۔ شعیاہ نبی شاہ حرقیا کے پاس گئے اور پیام پہنچایا۔ حرقیا کی سلطنت میں پانچ پیغمبر تھے۔ حضرت شعیا سے اس نے پوچھا آپ کی کیا رائے ہے کس کو بھیجوں۔ حضرت شعیا نے کہا یونس کو وہ طاقتور بھی ہے اور امانتدار بھی۔ بادشاہ نے یونس کو بلوایا اور جانے کا حکم دیا۔ حضرت یونس نے پوچھا کیا اللہ نے آپ کو میرے بھیجنے کا حکم دیا ہے بادشاہ نے کہا نہیں یونس نے کہا کیا مجھے اللہ نے نامزد کیا ہے بادشاہ نے کہا نہیں یونس نے کہا تو میرے سوا یہاں دوسرے طاقت ور پیغمبر ہیں کسی اور کو بھیج دو لوگوں نے آپ کی بات نہیں مانی اور جانے پر اصرار کیا ‘ یونس پیغمبر بادشاہ اور قوم سے ناراض ہو کر غصہ کی حالت میں (کسی طرف کو) چل دیئے اور بحر روم پر پہنچ کر کشتی میں سوار ہوگئے۔
عروہ بن زبیر اور سعید بن جبیر اور علماء کی ایک جماعت کا قول ہے کہ یونس اپنی قوم کو چھوڑ کر اللہ سے ناراض ہو کر چل دیئے تھے اور خدا سے ناراضگی کا سبب یہ تھا کہ یونس نے حسب حکم خدا قوم کو عذاب سے ڈرایا تھا اور عذاب کا وقت مقرر کردیا تھا لیکن (جب قوم یونس نے علامات عذاب دیکھ کر توبہ و استغفار کیا تو) اللہ نے عذاب ٹال دیا یونس کو اس پر ناگواری ہوئی ان کو خیال ہوا کہ اب لوگ مجھے جھوٹا قرار دیں گے۔ شرم کے مارے قوم کو چھوڑ کر چل دیئے ان کو کیا معلوم تھا کہ عذاب ٹل جانے کی وجہ کیا ہوئی آپ کی ناراضگی صرف اس سبب سے ہوئی کہ آپ کا جھوٹا ہونا قوم کی نظر میں محقق ہوگیا آپ کو اندیشہ ہوا کہ آئندہ لوگ مجھے جھوٹا کہیں گے۔
بعض روایات میں آیا ہے کہ حضرت یونس کی قوم کا دستور تھا کہ جھوٹے کو قتل کردیا کرتے تھے۔ حضرت یونس کو بھی عذاب ٹل جانے کی وجہ سے یہی اندیشہ ہوا کہ عذاب موعود نہیں آیا اب لوگ مجھے قتل کر ڈالیں گے۔
مغاضبت (باب مفاعلۃ) اس جگہ اشتراک طرفین کے لئے نہیں ہے بلکہ مسافرت اور معاقبت کی طرح ثلاثی مجرد کے معنی میں ہے یعنی مغاضباً کا معنی ہے غضبان۔
حسن نے کہا اللہ سے حضرت یونس کی ناراضگی کا سبب یہ تھا کہ اللہ نے یونس کو حکم دیا کہ فوراً جاؤ ‘ اور ان کو ہمارے عذاب سے ڈراؤ اور دعوت ایمان دو یونس نے درخواست کی کہ مجھے روانگی کی تیاری کرنے کی مہلت دی جائے جواب ملا معاملہ اس سے بھی جلدی کا ہے ‘ فوراً چلے جاؤ۔
یونس نے درخواست کی مجھے جوتہ پہن لینے کی تو اجازت دے دی جائے لیکن اللہ کی طرف سے اتنی بھی مہلت نہیں ملی اور فطری طور پر آپ کے اندر قوت حلم کی کمی تھی اس لئے روانہ تو ہوگئے مگر غصہ کی حالت میں وہب نے کہا یونس نیک آدمی تھے۔ پھر جب آپ پر نبوت کا بار ڈالا گیا تو آپ دب گئے اور بھاگ نکلے اسی لئے اللہ نے آپ کو اولوالعزم پیغمبروں کی فہرست سے خارج کردیا اور رسول اللہ ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا آپ اولوالعزم پیغمبروں کی طرح صبر کیجئے مچھلی والے کی طرح نہ ہوجائیے۔
فظن ان لن نقدر علیہ پس یونس کا یہ خیال ہوا کہ ہم اس پر بندش کی تنگی نہیں کریں گے۔ قدرت کے معنی اس جگہ
تنگی کرنے کے ہیں۔ یہی معنی دوسری آیت میں بھی آئے ہیں اللّٰہُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُاللہ جس کا چاہتا ہے رزق کشادہ کردیتا ہے اور جس کا تنگ کرنا چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔ عطاء اور کثیر علماء کا تفسیری قول یہی ہے۔
لیکن مجاہد ضحاک کلبی اور عوفی کی روایت میں حضرت ابن عباس کا قول یہ ہے کہ قدر کا معنی ہے فیصلۂ الٰہی یعنی یونس کا خیال ہوا کہ ہم اس کو سزا دینے کا فیصلہ نہیں کریں گے۔ تقدیر اور قدر ہم معنی ہیں اللہ نے فرمایا ہے نَحْنُ قَدَّرْنَا بَیْنَکُمْ الْمَوْتَ ۔
بعض علماء نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ یونس نے خیال کیا کہ ہم اس کے معاملے میں اپنی قدرت سے کام نہیں لیں گے۔
بعض نے کہا آیت کا حقیقی معنی مراد نہیں ہے بلکہ یونس کے حال کو اس شخص کے حال سے تشبیہ دی جو اللہ کے حکم کا انتظار کئے بغیر اپنی قوم کو ذلت کی حالت میں چھوڑ کر چلا گیا ہو اور اس نے خیال کرلیا ہو کہ ہم اس پر قابو نہیں رکھتے۔
ابن زید نے کہا جملہ سوالیہ ہے حرف استفہام محذوف ہے اور استفہام انکاری وتو بیخی ہے یعنی کیا یونس نے یہ خیال کرلیا کہ ہم اس پر قابو نہیں پائیں گے۔
بعض نے کہا یہ ظن (غالب خیال) نہ تھا بلکہ ایک شیطانی وسوسہ تھا یونس کے وہم میں یہ بات گزری تھی (چونکہ پیغمبروں کے لئے ایسا وہم بھی ظن کا حکم رکھتا ہے۔ مترجم) اس لئے بطور مبالغہ اس کو ظن قرار دیا۔
حسن نے کہا مجھے اطلاع ملی ہے کہ یونس ( علیہ السلام) سے جب گناہ سرزد ہوگیا اور وہ اللہ سے ناراض ہو کر چل دیئے تو شیطان نے ان کو راہ حق سے پھسلا دینا چاہا ‘ یہاں تک کہ انہوں نے خیال کرلیا کہ میں خدا کے قبضے سے نکل جاؤں۔ لیکن ان کی گزشتہ نیکیاں اور عبادت گزاریاں تھیں اس لئے اللہ نے نہ چاہا کہ ان کو شیطان کے لئے چھوڑ دیا جائے بلکہ مچھلی کے پیٹ میں ان کو ڈال دیا وہاں وہ چالیس شبانہ روز رہے۔ عطاء کا قول ہے کہ سات روز رہے ‘ بعض کا خیال ہے تین روز رہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ مچھلی اپنے پیٹ میں ان کو چھ ہزار سال کی مسافت پر لے گئی۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ ساتویں زمین کی حدود تک لے گئی۔ پھر آپ نے اپنے رب سے توبہ کی۔
فنادی فی الظلمت پھر وہ پکارا تاریکیوں میں یعنی سخت ترین تہ بر تہ تاریکی میں (شدید ترین تاریکی کو متعدد
تاریکیاں قرار دیا۔ ) یا متعدد تاریکیوں سے مراد ہیں رات کی تاریکی سمندر کی تاریکی اور مچھلی کے پیٹ کی تاریکی۔ سیاق کلام بتارہا ہے کہ کچھ عبارت یہاں محذوف ہے۔ یعنی ناراض ہو کر غصے کی حالت میں یونس چل دیئے اور سمندر پر پہنچ کر ایک کشتی میں سوار ہوگئے۔ پھر کشتی کے اندر قرعہ اندازی کی گئی (کہ کس کی نحوست کی وجہ سے کشتی اڑ کر کھڑی ہوگئی ہے اور چکر کاٹ رہی ہے) تو یونس کا نام نکلا پھر (ان کو سمندر میں پھینک دیا گیا یا) انہوں نے خود اپنے کو سمندر میں ڈال دیا اور فوراً مچھلی نے ان کو منہ میں لے کر نگل لیا پھر انہوں نے پکارا۔
ان لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظلمین۔ کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے
بے شک میں (اپنے نفس پر) ظلم کرنے والوں میں سے ہوں۔ یعنی میں تیری اجازت کے بغیر قوم کو چھوڑ کر چل دیا اور انتظار نہیں کیا حقیقت میں یہ میں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا۔
بغوی نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے مرفوعاً نقل کیا ہے کہ اللہ نے مچھلی کو حکم دیا یونس ( علیہ السلام) کو پکڑ لے لیکن اس کے خراش نہ آئے نہ کوئی ہڈی ٹوٹے حسب الحکم مچھلی نے آپ کو لے لیا اور اپنے مقام پر نیچے لے گئی جب سمندر کی تہ میں لے کر پہنچی تو یونس نے تسبیح (سبحان اللہ کہنے) کی آواز سنی دل میں خیال کیا یہ کیسی آواز ہے اللہ نے وحی بھیجی یہ آواز سمندری جانوروں کی تسبیح کرنے کی ہے یہ جان کر آپ نے بھی مچھلی کے پیٹ کے اندر ہی تسبیح کرنی شروع کردی۔ ملائکہ نے تسبیح یونس ( علیہ السلام) کی آواز سنی تو عرض کیا اے ہمارے رب ہم نے ایک عجیب زمین میں ایک ضعیف آواز سنی۔ دوسری روایت میں آیا ہے کہ فرشتوں نے کہا آواز تو جانی پہچانی ہے اور زمین انجان ہے ‘ اللہ نے فرمایا یہ ہمارے بندے یونس ( علیہ السلام) کی آواز ہے جس نے میری نافرمانی کی تھی۔ میں نے اس کو مچھلی کے پیٹ میں قید کردیا فرشتوں نے کہا کیا یہ وہی نیک بندہ ہے جس کی طرف سے روزانہ کوئی نیک عمل تیری طرف چڑھایا جاتا تھا۔ اللہ نے فرمایا ‘ ہاں اس وقت ملائکہ نے یونس کے لئے شفاعت کی اور اللہ نے مچھلی کو حکم دیا کہ یونس ( علیہ السلام) کو اگل دے۔ مچھلی نے کنارے پر آکر یونس ( علیہ السلام) کو اگل دیا۔ اسی کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے فَنَبَذْ فَاہ بالْعَرَاءِ وَہُوََسَقِیْمٌ۔
Ayah 21:88فاستبجنا لہ ونجینہ من الغم پھر ہم نے اس کی دعا قبول فرما لی اور اس کو غم سے نجات دے دی۔ یعنی گناہ
کے غم سے اور مچھلی کا لقمہ بن جانے کے غم سے۔
وکذلک ننجی المؤمنین۔ اور اسی (کی) طرح ہم مؤمنوں کو نجات دیتے ہیں بشرطیکہ اخلاص کے ساتھ
وہ ہم کو پکاریں اور ہم سے فریاد کریں۔
رسول اللہ نے فرمایا مچھلی کے پیٹ کے اندر ذوالنون نے اپنے رب کو پکارا تھا ان کی دعا تھی لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینْ ۔َاس دعا کے ساتھ جو مسلمان کسی معاملہ میں اپنے رب کو پکارے گا اللہ اس کی دعا ضرور قبول فرمائے گا۔ رواہ احمد والترمذی والحاکم۔ وصحہ من حدیث سعد بن وقاص۔ حاکم کی ایک روایت ان الفاظ کے ساتھ آئی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا میں تم کو ایسی چیز نہ بتادوں کہ اگر تم میں سے کسی پر کوئی دکھ یا مصیبت آپڑے اور وہ اس چیز کے ذریعہ سے اللہ سے دعا کرے تو اللہ ضرور اس کی مصیبت دور کر دے ‘ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ضرور ارشاد فرمائیے۔ فرمایا وہ ذوالنون کی دعا ہے لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینْ ۔َ ۔
ابن جریر کی روایت ان الفاظ کے ساتھ ہے اللہ کا وہ نام کہ جس کے ذریعہ سے اگر اس سے دعا کی جائے تو وہ قبول فرما لیتا ہے اور اگر اس سے کچھ مانگا جاتا ہے تو عطا فرما دیتا ہے (ذوالنون کی دعا یعنی) لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینْہے۔
سورۃ آل عمران کے آغاز میں ہم نے ذکر کردیا ہے کہ اللہ کا اسم اعظم تہلیل یعنی نفی و اثبات ہے اور لاَ اِلٰہَ الاَّ اللّٰہُسے لاَ اِلٰہَ الاَّ ہُوَاور لاَ اِلٰہَ اِلَّاَ اْنَت کا درجہ بہت اونچا ہے (یعنی ضمیر غائب و حاضر کا ذکر صراحۃً لفظ اللہ کو ذکر کرنے سے افضل ہے) کیونکہ لفظ (اللہ اگرچہ ذات پر دلالت کرتا ہے لیکن اس کے اندر صفات کمالیہ کا لحاظ ضرور ہوتا ہے اور اللہ اس ذات کا نام ہے جو تمام صفات کمالیہ کو جامع ہے) اور ضمیریں خالص ذات پر دلالت کرتی ہیں ‘ پھر ضمیروں میں بھی خطاب کی ضمیر کا درجہ غائب کی ضمیر سے اعلیٰ ہے کیونکہ خطاب کے اندر کامل ظہور ہوتا ہے (جس میں شرک کی احتمالی بو بھی باقی نہیں رہتی اور غائب کی ضمیر میں ابہام ہوتا ہے۔ مترجم) ۔
حضرت یونس ( علیہ السلام) کو کب پیغمبر بنایا گیا
بغوی نے لکھا ہے کہ سعید بن جبیر کی روایت سے حضرت ابن عباس ؓ : کا قول منقول ہے کہ مچھلی کے پیٹ سے رہائی کے بعد حضرت یونس ( علیہ السلام) کو پیغمبر بنایا گیا کیونکہ سورت الصافات میں پہلے فَنَبَذْنَاہ بالْعَرَاءِ وَہُوَ سَقِیْمٌکے بعد وَاَرْسَلْنَاہُ اِلٰی مِأَۃِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَآیا ہے (اور ترتیب ذکر ترتیب واقعہ پر دلالت کرتی ہے معلوم ہوا کہ پہلے مچھلی نے حضرت یونس کو خشک زمین پر اگلا پھر اللہ نے ایک لاکھ یا اس سے زیادہ آدمیوں کی ہدایت کے لئے آپ کو پیغمبر بنا کر بھیجا۔ مترجم) ۔
حضرت مفسر (رح) نے فرمایا میں کہتا ہوں یہ استدلال کمزور ہے کیونکہ دو واقعوں کے درمیان واو عطف کو لانا ترتیب واقعات پر دلالت نہیں کرتا صرف اتنی بات بتاتا ہے کہ دونوں واقعے ہوئے کون پہلے ہوا واو عاطفہ سے اس کا پتہ نہیں چلتا دوسرے علماء کہتے ہیں کہ آپ کی رسالت مچھلی کے نگلنے اور اگلنے سے پہلے ہی تھی کیونکہ اللہ نے فرمایا وَاِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِذَا اَبِقَ اِلَی الْفُلْکِ الْمَشْحُوْنِاور یونس پیغمبروں میں تھے جب وہ بھری ہوئی کشتی کی طرف بھاگے تھے۔
Ayah 21:89و زکریا اذ نادی ربہ رب لا تذرنی فردا اور یاد کرو زکریا کو جب اس نے اپنے رب کو پکارا اے میرے
رب مجھے اکیلانہ چھوڑ یعنی بغیر اولاد کے نہ رکھ اولاد کو میرا جانشین بنا دے۔
وانت خیر الوارثین۔ اور سب وارثوں سے بہتر آپ ہی ہیں۔
یعنی مخلوق کے فنا ہونے کے بعد اللہ ہی باقی رہنے والا ہے اور سب سے اعلیٰ وبالا ہے۔
Ayah 21:90فاستبجنا لہ ووہبنا لہ یحییٰ واصلحنا لہ زوجہ پس ہم نے اس کی دعا قبول کی اور بیٹا عطا کیا جس کا
نام یحییٰ تھا اور اس کی بی بی کو ٹھیک کردیا ‘ یعنی پہلے وہ بانجھ تھی اللہ نے اس کا بانجھ پن دور کردیا۔
انہم کانوا یسرعون فی الخیر ویدعوننا رغبا ورہبا بیشک وہ (تمام پیغمبر) نیکیوں کی طرف
تیزی سے بڑھتے تھے اور امید و خوف کے ساتھ ہم کو پکارتے تھے رغبت سے مراد ہے ملاقات خداوندی کی رغبت ‘ قرب الٰہی کی رغبت یا ثواب اور امید اور امید قبولیت یا طاعت کی رغبت ‘ امام احمد نسائی حاکم اور بیہقی نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نماز کے اندر میری آنکھ کی ٹھنڈک بنا دی گئی ہے۔ خوف سے مراد ہے اللہ سے جدا ہونے کا خوف یا گناہ کا خوف یا عذاب کا خوف۔
وکانوا لنا خشعین۔ (یعنی) وہ ہمارے ڈر سے دعا کرنے والے تھے۔
مجاہد نے کہا دل میں بیٹھے ہوئے ڈر کو خشوع کہا جاتا ہے چونکہ اللہ کی عظمت کو وہ پورے طور پر جانتے تھے اس لئے عظمت الٰہی کا خوف ان کے دلوں میں بیٹھ گیا تھا۔ قتادہ نے آیت کا ترجمہ کیا وہ ہمارے حکم کے انتہائی تابعدار تھے (یعنی ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے اور ہمارے حکم کی اطاعت عاجزی کے ساتھ کرنے والے تھے۔ مترجم) ۔
Ayah 21:91والتی احصنت فرجہا اور اس عورت کو یاد کرو جس نے اپنی شرمگاہ کو (حلال اور حرام دونوں سے محفوظ رکھا اس سے مراد مریم بنت عمران ہیں (جو دوشیزہ اور پاکدامن تھیں۔ مترجم) ۔
فنفخنا پھر ہم نے پھونکا یعنی ہمارے حکم سے جبرئیل ( علیہ السلام) نے پھونک ماری۔
فیہا اس کے اندر یعنی مریم کے گریبان کے اندر جبرئیل ( علیہ السلام) نے پھونک ماری اور یہ پھونک مریم کے جسم کے اندر پہنچ گئی اور اس پھونک سے اللہ نے مسیح عیسیٰ بن مریم کو پیدا کردیا۔
من روحنا اپنی روح سے یعنی اس روح سے جو ہمارے حکم سے ہے اضافت کی وجہ سے مضاف کی عظمت کا
اظہار مقصود ہے یا روح سے مراد ہیں عیسیٰ اور من روحنا میں من زائد ہے اور روحنا مفعول کے قائم مقام ہے۔ مترجم) یا روحنا سے پہلے مضاف محذوف ہے یعنی مِنْ جِہَۃِ رُوْحِنَا اور اس سے مراد ہیں حضرت جبرئیل (علیہ السلام)
وجعلنہا وابنہا ایۃ للعلمین۔ اور ہم نے اس عورت کو اور اس کے بیٹے کو (یعنی ان کے قصے اور واقعہ کو) جہان والوں کے لئے (یعنی انسانوں کے لئے۔ مترجم) نشانی بنا دیا۔ جو ہماری قدرت کی ہمہ گیری پر دلالت کر رہی ہے کہ ہم بغیر باپ کے اولاد پیدا کرنے پر بھی قدرت رکھتے ہیں۔
Ayah 21:92ان ہذہ امتکم امۃ واحدۃ بیشک یہ (یعنی توحید کو ماننے اور تمام انبیاء پر ان کے زمانے میں ایمان
لانے والوں کی ملت) تمہاری ملت ہے (یعنی تم سب کی ملت ایک ہی ہے۔ مترجم) اے انسانو ! تم سب پر لازم ہے کہ اسی ملت کو اختیار کرو اور اسی پر قائم رہو۔ یہ ایک ہی ملت ہے انبیاء کی ملتوں میں کوئی اختلاف نہیں اور دوسرے لوگوں کی ملتوں کا اس کے ساتھ اشتراک نہیں صرف اسی کا اتباع معتبر ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یَّقْبَلَ مِنْہُاور جو شخص اسلام کے علاوہ کوئی دوسرا دین اختیار کرے گا تو اس کا دین ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔
لفظ امت اُمٌّ سے ماخوذ ہے (باب نصر) اُمٌّ کا معنی ہے قصد کرنا جو جماعت ایک مقصد پر متفق ہو یا دین و سنت پر متفق ہو اس کو امت کہا جاتا ہے۔ کذا فی القاموس۔ دین اور سنت ہی ساری جماعت کا مقصود ہے اس لئے اس پوری جماعت کو امت کہا جاتا ہے۔
وانا ربکم فاعبدون اور میں ہی تم سب کا رب ہوں ‘ میرے سوا تمہارا کوئی رب نہیں ‘ سو میرے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو۔
Ayah 21:93وتقطعوا امرہم بینہم کل الینا رجعون۔ اور انہوں نے آپس میں اپنے کام یعنی دین کو ٹکڑے
ٹکڑے کردیا۔ ہر فرقہ ہماری طرف لوٹ کر آنے والا ہے۔ امر سے مراد ہے دین۔ تقطعوا اگرچہ باب تفعل ہے لیکن باب تفعیل مراد ہے یعنی انہوں نے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور فرقے فرقے بن گئے۔ ایک دوسرے پر لعنت کرنے لگا باوجودیکہ ان کے لئے اس کا جواز نہ تھا۔ ہمارے پاس لوٹ کر آنے سے یہ مراد ہے کہ ہم ان کو سزا جزا دیں گے۔
Ayah 21:94من یعمل من الصلحت وہو مؤمن فلا کفران لسعیہ پھر جو شخص (کچھ بھی) نیکیاں مؤمن
ہونے کی حالت میں کرے گا اس کی کوشش کی ناقدری نہیں ہوگی 1 ۔
مؤمن ہونے کی شرط اس لئے لگائی کہ اعمال کا ثواب پانے کی شرط ایمان ہے (بغیر ایمان کے کوئی نیکی ثواب آخرت کے قابل نہیں۔ مترجم) ایمان سے مراد ہے اللہ پر اس کے پیغمبروں پر اور پیغمبروں کی لائی ہوئی شریعتوں پر ایمان رکھنا اور سب کو سچا ماننا۔
کفران سے مراد ہے ثواب نہ ملنا اور نیکی کا برباد چلا جانا جس طرح اللہ کی طرف سے بندے کی اطاعت کی شکرگزاری کا معنی ہے ثواب عطا کرنا اسی طرح ناشکری کا معنی ہے ثواب نہ دینا۔
وانا لہ کاتبون۔ اور ہم بلاشبہ اس (کے عمل اور کوشش) کو لکھ رکھنے والے ہیں یعنی فرشتے اعمال ناموں میں
ان کے اعمال درج کرلیتے ہیں اور اللہ ان کو اعمالناموں میں قائم رکھتا ہے۔
Ayah 21:95و حرام علی قریۃ اھلکنھا انھم لا یرجعون حرام ہے یعنی ناممکن ہے تصور میں بھی نہیں
لایا جاسکتا۔ اَہْلَکْنٰہَا یعنی جس کو ہلاک کرنے کا ہم نے حکم دے دیا ‘ جس کو تباہ کردیا ہلاکت سے مراد ہے کفر یعنی جس بستی کو ہم نے کافر پایا اس کی نیکیوں کو اکارت نہ جانا ناممکن ہے ہم اس کے نیک اعمال کو ضرور ضائع کردیں گے یا حرام کا یہ مطلب ہے کہ اس بستی کا توبہ کرنا ناممکن ہے یا دنیا میں دوبارہ زندہ ہونا ناممکن ہے یا سزا کے لئے ان کا قیامت کے دن زندہ کر کے نہ اٹھایا جانا ناممکن ہے۔ اس مطلب پر اَنَّہُمْ لاَ یَرْجِعُوْنَ کلام سابق کی علت ہوگی یعنی یہ غیر ممکن ہونا اس لئے ہے کہ ان کا توبہ کرنا اور ہماری طرف رجوع کرنا اور گزشتہ کفر کی ایمان لا کر تلافی کرنا ہو نہیں سکتا۔ یا حرام خبر مقدم ہے اور اَنَّہُمْ لاَ یَرْجِعُوْنَ مبتدا مؤخر ‘ مطلب یہ ہے کہ جس بستی کو ہم نے ہلاک کردیا اس بستی کا لوٹ کر مقام حساب اور مکان سزا تک نہ پہنچنا ناممکن ہے۔
حضرت ابن عباس نے تشریحی مطلب اس طرح بیان فرمایا کہ جس بستی کو ہم نے تباہ کردیا اس کا دنیا میں واپس لوٹنا ممکن نہیں اس مطلب پر لاَیَرْجِعُوْنَمیں لا زائد ہوگا۔
بہرصورت مطلب کچھ بھی ہو آیت میں کافروں کے لئے وعید عذاب اور اہل ایمان کے لئے وعدۂ ثواب ہے۔
Ayah 21:96حتی اذا فتحت یاجوج وماجوج وہم من کل حدب ینسلون۔ یہاں تک کہ جب یاجوج و
ماجوج کھول دیئے جائیں گے اور وہ (انتہائی کثرت کی وجہ سے) ہر بلندی (یعنی پہاڑ اور ٹیلہ) سے نکلتے معلوم ہوں گے۔
وَہُمْوہ یعنی یاجوج وماجوج۔ مِنْ کُلِّ حَدَبٍہر ابھار اور ہر ٹیلہ (کی آڑ) سے۔ یَنْسِلونپھیل پڑیں گے یاجوج اور ماجوج دو قبیلوں کے نام ہیں۔ حضرت نواس بن سمعان کی حدیث سورة کہف کی آیت فَاِذَا جَاءَ وَعْدَ رَبِّیْ جَعَلَہٗ دَکَّاءَ وَکَانَ وَعْدُ رَبِّیْ حَقًّاکی تفسیر میں ہم نے نقل کردی ہے اس حدیث میں آیا ہے کہ اللہ یاجوج وماجوج کو بھیج دے گا اور وہ ہر ٹیلہ کی آڑ سے پھیل پڑیں گے۔
ہر ٹیلہ کی آڑ سے پھیل پڑنے کا ذکر خصوصیت کے ساتھ اس لئے کیا کہ یاجوج وماجوج کے مسکن پہاڑوں سے پرے ہوں گے اور وہ پہاڑوں سے نیچے اتریں گے۔
بعض اہل تفسیر کے نزدیک وَہُمْکی ضمیر انسانوں کی طرف راجع ہوگی اور حدب سے مراد ہوگی یعنی لوگ قبروں سے جلد جلد تیزی کے ساتھ نکل آئیں گے۔ مجاہد کی قرأت میں حدب کی جگہ جدث آیا ہے اور جدث کا معنی ہے قبر اسی مضمون کو دوسری آیت میں بیان کیا ہے فرمایا ہے فَاِذَا ہُمْ مِّنَ الاجداث اِلٰی رَبِّہُمْ یَنْسِلُوْنَ ۔
حضرت حذیفہ بن اسد غفاری کا بیان ہے ہم لوگ کچھ باہم بات چیت کر رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ برآمد ہوگئے اور فرمایا کس چیز کا تذکرہ کر رہے ہو۔ ہم نے عرض کیا ہم قیامت کا ذکر کر رہے تھے فرمایا جب تک قیامت سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھو گے قیامت بپا نہ ہوگی۔ پھر آپ ﷺ نے دخان (دھوئیں) کا ‘ خروج دجال کا ‘ دابۃ الارض کا ‘ مغرب کی طرف سے طلوع آفتاب کا ‘ نزول عیسیٰ بن مریم کا ‘ خروج یاجوج وماجوج کا ‘ تین مقامات پر زمین کے دھنسنے کا۔ ایک مشرق میں دوسرا مغرب میں تیسرا جزیرۃ العرب میں اور آخر میں یمن سے ایک آگ کے برآمد ہونے کا ‘ جو لوگوں کو ہنکا کر میدان حشر کی طرف لے جائے گی ‘ ذکر فرمایا۔
دوسری روایت میں ہے کہ ایک آگ قعر عدن سے نکل کر لوگوں کو ہنکا کر میدان حشر کی طرف لے جائے گی ایک اور روایت کے اعتبار سے رسول اللہ ﷺ نے دسویں چیز اس ہوا کو قرار دیا جو لوگوں کو سمندر میں پھینک دے گی۔ رواہ مسلم۔
Ayah 21:97واقترب الوعد الحق اور سچا وعدہ قریب ہوجائے گا۔ یعنی روز قیامت واو عاطفہ ہے اور اس کا عطف فتحت پر
ہے۔ لیکن فراء اور علماء کی ایک جماعت ہے واو کو زائد کہا ہے اور اِقْتَرَبَکو شرط کی جزا قرار دیا ہے۔ یعنی جب یاجوج وماجوج کو کھول دیا جائے گا اور وہ ہر بلندی سے نکل پڑیں گے اور پھیل جائیں گے تو اس وقت قیامت قریب آجائے گی ایک اور آیت میں واؤ زائد آیا ہے اور مابعد واؤ جزاء شرط ہے فرمایا ہے فَلَمَّا اَسْلَمَا وَتَلَّہٗ لِلْجَبِیِنَْ وَنَادَیْنَاہُپھر جب دونوں نے مان لیا اور ابراہیم ( علیہ السلام) نے اسماعیل کو پیشانی کے بل الٹا دیا تو ہم نے اس کو پکارا۔ اس مطلب کے ثبوت کے لئے حضرت حذیفہ کی حدیث کو پیش کیا ہے کہ حضور نے فرمایا اگر کسی آدمی نے بچھیرا پالا ہوگا۔ خروج یاجوج وماجوج کے بعد تو بچھیرا سواری کے قابل نہ ہوگا کہ قیامت بپا ہوجائے گی۔ علاء نے اس قول کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ واؤ زائد ہو اور مابعد واؤ جزا ہو ایسا نہیں ہوتا۔
فاذا ہی شاخصۃ ابصار الذین کفروا تو اس وقت اچانک کافروں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں
گی۔ شخص بصرہ اس کی آنکھ کھل گئی یا اس نے اپنی آنکھ کھول دی۔ ابصار سے مراد ہیں پپوٹے پلکیں اور اذا مفاجاتیہ (بمعنی اچانک ‘ ناگہاں ‘ یکدم) ہے یعنی ہولناکی کی وجہ سے کافر نظر گھما نہ سکیں گے۔ حیران ہو کر رہ جائیں گے۔
یویلنا قد کنا فی غفلۃ من ہذا بل کنا ظلمین۔ (کہیں گے) ہائے ہماری تباہی ہم اس (دن کی طرف)
سے غفلت میں پڑے ہوئے تھے بلکہ ہم (خود ہی) اپنے اوپر ظلم کرنے والے تھے۔ یعنی اس دن کو حق نہیں جانتے تھے۔ اِنَّا کُنَّا ظٰلِمِیْنَیعنی ہم اپنے نفسوں پر خود ظلم کرنے والے تھے ہم نے خود اپنے غور و فکر کو بگاڑ رکھا تھا یا ناقابل معبودیت کو معبود بنا رکھا تھا (ظلم کا لغوی معنی ہے کسی چیز کو بےمحل رکھنا اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنا عبادت کا بےمحل استعمال ہے اسی لئے اس کو ظلم قرار دیا۔ مترجم) ۔
Ayah 21:98انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جہنم بلاشبہ تم اور جس چیز کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو
سب جہنم کا ایندھن ہے (یا سب جہنم میں پھینکے جاؤ گے)
مَاتَعْبُدُوْنَ سے مراد بےعقل بت ہیں اور سامری کا بنایا ہوا بچھڑا اور ان جیسی دوسری بےجان چیزیں۔
جو چیزیں جاندار اور ذی عقل ہیں اگر لوگوں نے ان کو معبود بنا لیا ہو اور وہ اپنی پوجا کرانے پر راضی ہوں جیسے شیاطین اور انسانوں میں سے فرعون نمرود وغیرہ تو وہ بھی مَا تَعْبُدُوْنَکے حکم میں داخل ہیں ان کو بھی جہنم کا ایندھن بنایا جائے گا (کیونکہ باجود ذی عقل ہونے کے انہوں نے عقل کا صحیح استعمال نہیں کیا اور باوجود مخلوق عاجز ہونے کے خالق اور قادر مطلق کے مقام پر پہنچنے کے مدعی بن بیٹھے اس لئے وہ بھی بےعقل چیزوں کی طرح ہوگئے ان کو ذی عقل مخلوق میں شمار کرنا ہی غلط ہے۔ مترجم) باقی وہ مقدس عقلمند ہستیاں جو کسی سے اپنی عبادت کرانی نہیں چاہتے اور نہ وہ اپنے کو معبود کہنے پر راضی تھے نہ اس حرکت کو پسند کرتے تھے وہ ما تعبدونکے حکم سے خارج ہیں۔ (جیسے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) یا حضرت عزیر یا ملائکہ وغیرہ) کوئی کسی دوسرے کا گناہ اپنے اوپر نہیں اٹھا سکتا۔ اس تفصیل و توضیح کی ضرورت اس لئے پڑی کہ اکثر محققین لغت کے نزدیک ما کا لفظ عام ہے۔ ذی عقل اور غیر ذی عقل دونوں کو شامل ہے اس لئے مراد کی تعیین ضروری ہے ‘ بیضاوی نے اس جگہ ایک حدیث نقل کی ہے کہ ابن زبعری نے یہ آیت سن کر دریافت کیا کیا یہ حکم ہمارے ہی معبودوں کے لئے مخصوص ہے اَوْ لِکُلِ مَنْ عَبِدَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِیا ان تمام لوگوں کا بھی یہی حکم جن کی پوجا اللہ کے سوا کی گئی ہو۔ حضور نے فرمایا بَلْ لِکُلِّ مَنْ عُبِدَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ (مخصوص نہیں ہے) بلکہ ہر اس شخص کا یہی حکم ہے جس کی عبادت اللہ کے سوا کی گئی ہے (اس حدیث سے ثابت ہو رہا ہے کہ آیت میں لفظ ما ذی عقل کو بھی شامل ہے اسلئے ابن زبعری کو دریافت کرنے کی ضرورت پڑی اور حضور ﷺ کے جواب سے بھی اس کی تائید ہوگئی کہ آپ نے ذی عقل باطل معبودوں کو آیت کے حکم میں داخل قرار دے دیا۔ مترجم)
ابوداؤد ابن منذر ‘ ابن مردویہ اور طبرانی نے دوسری سند سے یہ حدیث بروایت ابن عباس ؓ بیان کی ہے۔
اگر لفظ ما کو بےجان بےعقل مخلوق کے ساتھ مخصوص قرار دیا جائے تو ظاہر ہے کہ پھر وہ مقدس ہستیاں جو اپنے کو معبود قرار دیئے جانے کو پسند نہیں کرتی تھیں آیت کے حکم میں داخل نہیں ہوں گی۔
حَصَبُ جَہَنَّمَوہ چیز جو جہنم میں پھینکی جائے اور اس سے جہنم کی آگ کو بھڑکایا جائے۔ حَصَبَہٗاس پر پتھر برسائے۔ حَصَبَائپتھریاں ‘ سنگ ریزے۔ کذا قال الضحاک۔
مجاہد اور قتادہ نے کہا یمنی زبان میں حصب جلائی جانے والی لکڑیوں کو کہا جاتا ہے۔ عکرمہ نے کہا یہ حبشی زبان کا لفظ ہے ‘ جس کا معنی ہے جلائی جانے والی لکڑیاں (ایندھن) بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت علی ؓ کی قراءت میں حصب کی جگہ لفظ حطب (ایندھن) آیا ہے۔
انتم لہا واردون۔ تم اس پر (خصوصیت کے ساتھ) اترنے والے ہو (اترو گے) لہا میں لام بجائے علیٰ
خصوصیت کو ظاہر کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ خطاب مشرکوں کو ہے اور ان کے ذیل میں ان کے معبود بھی داخل ہیں یعنی تم اپنے معبودوں سمیت جہنم میں اترو گے۔
Ayah 21:99لوکانا ہولاء الہہ ما وردہا اگر تمہارے یہ معبود حقیقت میں معبود ہوتے تو جہنم میں نہ اترتے۔ یعنی جہنم
میں داخل کرنے کے بعد کفار سے بطور توبیخ کہا جائے گا کہ اگر یہ معبود حقیقت میں ہوتے تو جہنم میں نہ اترتے۔
وکل فیہا خلدون۔ اور (عابد و معبود) سب جہنم کے اندر ہمیشہ رہیں گے۔
Ayah 21:100لہم فیہا زفیر ان کے لئے جہنم کے اندر کر اہٹ ہوگی۔ زفیر کر اہٹ تنفس کی شدت۔
وہم فیہا لا یسمعون۔ اور وہاں (وہ اپنے غل شور میں کسی کی کوئی بات) نہیں سنیں گے ‘ ابن جریر ‘ ابن ابی حاتم ‘
ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے حضرت ابن مسعود کی روایت نقل کی ہے کہ جب دوزخ کے اندر حبس دوام کے جہنمی رہ جائیں گے تو ان کو لوہے کے صندوقوں میں بند کر کے لوہے کی کیلیں ٹھونک دی جائیں گی پھر ان صندوقوں کو دوسرے آہنی صندوقوں میں بند کردیا جائے گا اور لوہے کی میخیں ٹھونک دی جائیں گی پھر ان صندوقوں کو جہنم کے نچلے حصہ میں پھینک دیا جائے گا اور ہر ایک یہی خیال کرے گا کہ میرے سوا کسی کو عذاب نہیں دیا جا رہا ہے (یعنی کوئی کسی کی آواز نہیں سنے گا) یہ بیان کرنے کے بعد حضرت ابن مسعود ؓ نے آیت مذکورہ تلاوت فرمائی۔
بغوی نے لوہے کے صندوقوں اور لوہے کی کیلوں کی جگہ آگ کے صندوقوں اور آگ کی کیلوں کا لفظ نقل کیا ہے باقی حدیث حسب سابق ہے۔
حاکم وغیرہ نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ جب آیت اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ حَصَبَ جَہَنَّمَنازل ہوئی تو مشرکوں سے کہا پوجا تو اللہ کے سوا عیسیٰ اور عزیر اور ملائکہ کی بھی کی جاتی ہے (پھر یہ بھی جہنمی قرار پائیں) اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 21:101ان الذین سبقت لہم منا الحسنی اولئک عنہا مبعدون۔ جن کے لئے ہماری طرف
سے بھلائی مقدر ہوچکی ہے وہ اس (دوزخ) سے دور رکھے جائیں گے۔
اَلْحُسْنٰی یعنی اچھا مرتبہ ‘ درجۂ قرب یا اچھی خصلت یعنی سعادت یا اللہ کی طرف سے طاعت کی توفیق یا جنت کی بشارت 1 ۔ حضرت جنید نے آیت مذکورہ کی تشریح میں فرمایا جن کو ابتداء میں ہماری عنایت حاصل ہوگئی انتہا میں ان کو ولایت نصیب ہوگئی۔
ابن مردویہ نے اور المختار میں ضباع نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا کہ عبداللہ بن الزبعری نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا محمد ﷺ : تم دعویٰ کرتے ہو کہ اللہ نے تم پر اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنَ اللّٰہِ حَصَبُ جَہَنَّمَ ‘ اَنْتُمْ لَہَا وَارِدُوْنَنازل کیا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا ‘ ہاں ابن الزبعری نے کہا پھر پوجا تو چاند ‘ سورج ‘ ملائکہ اور عزیر کی بھی کی جاتی ہے۔ یہ سب بھی ہمارے معبودوں کے ساتھ جہنم میں جائیں گے۔ اس پر آیت اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَہُمْ مِنَّا الْحُسْنٰی اور آیت وَلَمَّا ضُرِب ابْنَ مَرَیَمَ مَثَلاً ۔۔ خَصِمُوْنَتک نازل ہوئی۔
بغوی نے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور سرداران قریش حطیم میں موجود تھے (اور کعبہ کے گرداگرد 360 بت نصب تھے) نضر بن حارث گفتگو کرنے کو آگے بڑھا ‘ رسول اللہ ﷺ نے اس سے کلام کیا۔ یہاں تک کہ اس کو خاموش کردیا پھر آپ نے اس کو اِنَّکُمْ مَا تَعْبُدُوْنَسے تین آیات پڑھ کر سنائیں ‘ پھر آپ اٹھ کھڑے ہوئے ‘ اتنے میں سامنے سے ابن الزبعری آگیا ‘ ولیدہ بن مغیرہ نے اس سے رسول اللہ ﷺ کی بات نقل کردی۔ ابن الزبعری نے رسول اللہ ﷺ کی طرف رخ کر کے کہا کیا آپ کہتے ہیں اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنَ اللّٰہِ حَصَبُ جَہَنَّمَ ‘ حضور ﷺ نے فرمایا ہاں۔ ابن الزبعری نے کہا کیا یہودی عزیر ( علیہ السلام) کی اور عیسائی مسیح اور بنی املیح ملائکہ کی پوجا نہیں کرتے ہیں ‘ حضور نے فرمایا نہیں (وہ عزیر مسیح وغیرہ کو نہیں پوجتے) بلکہ شیطانوں کی پوجا کرتے ہیں اس پر آیت اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَہُمْ مِنَّا الْحُسْنٰینازل ہوئی اور ابن الزبعری کے حق میں اللہ نے نازل فرمایا فاضَرَبُوْہٌ لَکَ الاَّ جَدَلاً بَلْ ہُمْ قَوْمٌ خٰصِمُوْنَ ۔ واحدی نے بھی حضرت ابن عباس کی روایت سے بغوی کے بیان کی طرح واقعہ نقل کیا ہے۔
اصول فقہ کی بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابن الزبعری سے فرمایا تم اپنی قوم کی زبان سے بھی کتنے ناواقف ہو ‘ تم کو یہ بھی معلوم نہیں کہ مَا کا استعمال بےعقل چیزوں کے لئے ہوتا ہے ‘ کتب حدیث میں رسول اللہ ﷺ کی یہ تفصیل مذکور نہیں ہے۔
بعض اہل علم نے بیان کیا ہے کہ اس آیت میں ان بمعنی استثناء ہے یعنی الاَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَہُمْ مِنَّا الْحُسْنٰییہ تاویل دو وجوہ سے غلط ہے (1) ان بمعنی استثناء عربی میں نہیں آتا۔ (2) اگرچہ بعض لوگ استثناء منفصل کو جائز قرار دیتے ہیں لیکن عام طور پر استثناء کا استعمال اتصال کی صورت میں ہوتا ہے اور نزول آیت کا جو سبب ہم نے اوپر ذکر کیا ہے وہ انفصال پر دلالت کر رہا ہے اس لئے اکثر علماء کے نزدیک یہ آیت سابق آیت کے عموم کی مخصص ہے (یعنی اس آیت میں سابق آیت سے استثناء نہیں ہے بلکہ اس کے عموم کی تخصیص ہے۔ مترجم) اور مستقل کلام خواہ متراخی ہو اور دیر کے بعد کہا گیا ہو لیکن اس سے پچھلے کلام کی تخصیص ہوسکتی ہے۔ (حضرت ابن عباس کا یہی مسلک ہے عام صحابہ کا قول اس کے خلاف ہے وہ تخصیص کے لئے اتصال زمانی کو ضروری قرار دیتے ہیں۔ مترجم) ۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک وہ مستقل کلام جو پہلے کلام سے متراخی ہو یعنی دونوں کا وقت ایک نہ ہو پہلے کلام کا ناسخ ہوسکتا ہے مخصص نہیں ہوسکتا اور نسخ کا قول اس جگہ ممکن نہیں کلام خبری میں نسخ جاری نہیں ہوتا (کسی حکم یا ممانعت کو منسوخ کیا جاسکتا ہے خبر کو منسوخ نہیں کیا جاسکتا خبر کو منسوخ کیا جائے تو پہلے کلام کی تکذیب ہوجائے گی مترجم) اس لئے کہنا پڑے گا کہ یہ جدید کلام ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ پہلے کلام سے مجازی معنی مراد ہے۔
ابو داؤد اور ابن ابی حاتم اور ثعلبی اور ابن مردویہ نے اپنی تفسیروں میں بیان کیا ہے کہ حضرت علی نے ایک بار خطبہ دیا اور یہ آیت تلاوت فرمائی پھر فرمایا میں ان میں سے ہوں اور ابوبکر ؓ عمر ؓ اور عثمان اور طلحہ ؓ اور زبیر ؓ اور سعید ؓ اور عبدالرحمن ؓ بن عوف اور ابوعبیدہ ؓ بن جراح بھی ان میں سے ہیں اس کے بعد نماز کی اقامت ہوئی تو آپ کھڑے ہوگئے اور چادر کھینچتے ہوئے (چلتے ہیں) فرمانے لگے۔
Ayah 21:102لا یسمعون حسیسہا وہ اس کی آہٹ بھی نہیں سنیں گے یعنی جہنم سے اتنی دور رکھے جائیں گے کہ اس کی آہٹ بھی ان کو سنائی نہیں دے گی۔
وہم فیہا اشتہت انفسہم خلدون۔ اور وہ اپنی جی چاہی (مرغوب طبع) چیزوں میں ہمیشہ رہیں گے۔
فِیْہَا کو خٰلِدُوْنَ سے مقدم ذکر کرنا اختصاص اور اہمیت کو ظاہر کر رہا ہے۔ صوفیہ صافیہ کی ذات خداوندی کے سوا کوئی اور خواہش ہی نہیں ہوتی اس لئے ہر وقت وہ وصل کی حالت میں اور دیدار خداوندی کے استغراق میں رہیں گے لیکن یہ وصل اور استغراق ناقابل بیان کیفیت کا حامل ہوگا زمان و مکان اور ہیئت و شکل کی قیود سے خالی اور جہت و امتداد و مسافت سے پاک اسی لئے اس کو بلا کیف کہا جاتا ہے (مترجم) ۔
Ayah 21:103لا یحزنہم الفزع الاخبر ان کو بڑی گھبراہٹ غمگین نہ بنائے گی۔
بغوی نے حضرت ابن عباس ؓ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ فز اکبر سے مراد صور کا اخیر نفخہ (دوبارہ صور پھونکنا) ہے کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے وَنُفِخَ فِی الصُّوْر فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ ۔
میں کہتا ہوں کہ حضرت ابن عباس ؓ کی نفخۂ اخیرہ سے مراد وہ نفخہ ہے جو دنیا کے اختتام پر ہوگا یعنی نفخۂ اولیٰ (جس سے دنیا کا خاتمہ ہوجائے گا۔ مترجم) بعض نے کہا نفخۂ بےہوشی مراد ہے مگر میرے قول میں اور اس قول میں تضاد نہیں ہے کیونکہ پہلے صور ہی کی آواز سے سب گھبرا جائیں گے (بےہوش ہوجائیں گے۔ مترجم) مرجائیں گے۔ قرطبی نے اسی کو صحیح کہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر احادیث میں صرف دو مرتبہ صور پھونکے جانے کا ذکر ہے ایک نفخۂ صعق (یعنی نفخۂ موت) دوسرا نفخۂ بعث (جس کی وجہ سے سب زندہ ہو کر اٹھ جائیں گے) ابن عربی نے کہا نفخات تین ہوں گے۔ (1) نفخہ فزع۔ (2) نفخہ صعق۔ (3) نفخۂ بعث۔ حضرت مفسر نے فرمایا میرے نزدیک یہی زیادہ صحیح ہے۔
ابن جریر نے تفسیر میں ‘ طبرانی نے مطولات میں ‘ ابو یعلی نے مسند میں ‘ بیہقی نے البعث میں ابو موسیٰ مدینی نے المطولات میں علی بن معید نے کتاب الطاعۃ والعصیان میں ابوالشیخ نے کتاب العظمۃ میں اور عبد بن حمید نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے ایک طویل مرفوع حدیث نقل کی ہے اس حدیث میں ہے کہ صور تین بار پھونکا جائے گا (1) نفخۂ فزع (2) نفخۂ صعق (3) نفخۂ قیام۔ حدیث میں فزع کی جو تشریح آئی ہے ہم سورة النمل میں اس کو بیان کریں گے۔
حسن نے کہا فزع اکبر اس وقت ہوگا جب لوگوں کو دوزخ کی طرف لے جانے کا حکم دیا جائے گا۔ ابن جریح نے کہا فزع اکبر اس وقت ہوگا جب موت کو ذبح کردیا جائے گا اور ندا آئے گی اے دوزخ والو دوزخ میں) ہمیشہ رہنا ہے اور موت (بھی) نہیں آئے گی۔ سعید بن جبیر اور ضحاک نے کہا یہ وہ وقت ہوگا جب دوزخ کو اوپر سے سربند کردیا جائے گا اور دوزخ کا سرپوش اس وقت بند کیا جائے گا جب اس کے اندر سے ان لوگوں کو نکالا جا چکا ہوگا جن کو اللہ نکالنا چاہے گا۔
وتتقلہم الملئکۃ اور فرشتے ان کا استقبال کریں گے۔ یعنی وہ جب قبروں سے نکل کر (جنت کی طرف) جائیں گے تو جنت کے دروازوں پر فرشتے ان کا استقبال کریں گے اور مبارکباد دیتے ہوئے کہیں گے۔
ہذا یومکم الذی کنتم تو عدون۔ یہ تمہارا وہی دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ یعنی یہ اسی ثواب کا دن ہے جس کا آسمانی کتابوں میں اور پیغمبروں کی زبانی تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔
Ayah 21:104یوم نطوی السمآء کطی السجل للکتب وہ بھی یاد کرنے کے قابل ہے جس روز (نفحہ اولیٰ کے
وقت) ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ دیں گے جس طرح لکھے ہوئے مضمون کا کاغذ لپیٹ لیا جاتا ہے۔ طے نشر کی ضد ہے یعنی لپیٹنا تہ کرنا۔ سجل کاغذ۔ مساجلۃ (باب مفاعلت) مکاتبت باہم مل کر لکھنا۔ یعنی ہم آسمانوں کو اس طرح لپیٹ دیں گے جس طرح کاغذ کو لکھنے کے لئے تہ کیا جاتا ہے یا یہ مطلب ہے کہ جس طرح لکھے جانے والے مضمون کے لئے کاغذ کو تہ کیا جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ مجاہد اور اکثر اہل علم نے یہ مطلب بیان کیا جس طرح لکھے ہوئے کثیر مضامین کی وجہ سے کا غز کو لپیٹ دیا جاتا ہے۔
سدی نے کہا سجل اس فرشتہ کا نام ہے جو بندوں کے اعمال لکھا کرتا ہے اور للکتب میں لام زائد ہے جیسے روف لکم میں لام زائد آتا ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ جس طرح سجل فرشتہ اعمالناموں کو لپیٹ دیتا ہے اسی طرح ہم آسمانوں کو لپیٹ دیں گے یہ بھی کہا گیا ہے کہ سجل رسول اللہ ﷺ کا ایک کاتب تھا۔
صاحب قاموس نے لکھا ہے (میثاق نامہ یا) تحریر معاہدہ کو کتب السجل کہتے ہیں اس کی جمع سجلات آتی ہے اور حبشی زبان میں کاتب کو بھی کہتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کے ایک کاتب کا نام بھی سجل تھا اور ایک فرشتہ کا نام بھی سجل بمعنی کتاب آتا ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ سجل اس پتھر کو کہتے ہیں جس پر کچھ تحریر کیا جاتا تھا پھر ہر اس چیز کو سجل کہنے لگے جس پر کچھ لکھا جائے (خواہ کاغذ ہو جھلی ہو ہڈی ہو یا کچھ اور ہو۔ مترجم)
کما بدانا اوّل خلق نعیدہ جس طرح ہم نے شروع میں ابتداء تخلیق کی تھی اسی طرح آسانی سے ہم
(اس کو دوبارہ پیدا کردیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح انسان کی ابتدائی تخلیق ہم نے اپنی قدرت کاملہ سے کی ہے اسی طرح اس کو دوبارہ بھی ہم لوٹا کرلے آئیں گے۔ قدرت قدیمہ کے اندر انسان کی دونوں تخلیقیں داخل ہیں اور دونوں ممکن ہیں اور ہر ممکن احاطۂ قدرت میں داخل ہے یعنی تخلیق میں تعدد ہوگا انسان وہی ہوگا۔ بعض نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ جس طرح ابتدائی تخلیق ہماری قدرت سے خارج نہیں ہم نے پیدا کردیا اسی طرح دوبارہ تخلیق بھی ہماری قدرت میں داخل ہے ہم دوبارہ بھی پیدا کردیں گے۔ یعنی دوسری تخلیق بھی اسی طرح ممکن ہے جس طرح پہلی تخلیق ممکن تھی۔ اس صورت میں دوسری تخلیق اوّل تخلیق کی طرح ممکن ہوگی لیکن مخلوق الگ الگ ہوگی۔ دوسری بار پیدا کیا ہوا انسان پہلی مرتبہ پیدا کئے ہوئے انسان کی طرح ہوگا بعینہٖ وہی نہ ہوگا اس کی مثل ہوگا۔ صحیح بات یہ ہے کہ دوبارہ پیدا کیا ہوا انسان بعینہٖ وہی انسان ہوگا جس کو پہلی مرتبہ پیدا کیا گیا تھا ‘ مشابہت صرف تخلیق یا احوال و اوصاف میں ہوگی (شخصیت اور ذات ایک ہی ہوگی)
شیخین نے صحیحین میں اور ترمذی نے جامع میں ‘ حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور فرمایا لوگو ! تم لوگ برہنہ بدن غیر مختون برہنہ پاؤں (قبروں سے) اٹھا کر اللہ کی طرف پیدل لے جائے جاؤ گے پھر آپ نے آیت کَمَا بَدَانَا اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُہٗتلاوت فرمائی اور ارشاد فرمایا سب سے پہلے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو لباس پہنایا جائے گا۔
وعدا ہم نے پختہ وعدہ کرلیا ہے۔ وعداً مفعول مطلق ہے جو فعل محذوف کو پختہ کر رہا ہے۔
علینا (اس کو پورا کرنا) ہم پر (مثل لازم کے) ہے (اللہ پر کوئی چیز لازم نہیں لیکن اس نے وعدہ پختہ کرلیا ہے اور اللہ
کا وعدہ پورا ہونا لازم ہے ‘ اللہ کے وعدے کے خلاف ہونا محال ہے اس لئے اس کے وعدے کی وفا اس پر گویا لازم ہے۔ مترجم) ۔
انا کنا فعلین۔ ہم ضرور (دوبارہ تخلیق) کرنے والے ہیں۔ یہ جملہ تاکیدیہ ہے وعدے کی مزید تاکید ہے۔
Ayah 21:105ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الزکر اور ہم نے لوح محفوظ میں لکھنے کے بعد سب آسمانی کتابوں میں
لکھ دیا ہے۔
سعید بن جبیر اور مجاہد نے کہا زبور سے مراد تمام کتب الٰہیہ ہیں اور ذکر سے مراد ہے لوح محفوظ۔ یعنی لوح محفوظ میں لکھنے کے بعد ہم نے اپنی تمام نازل کردہ کتابوں میں لکھ دیا ہے۔
شعبی نے کہا زبور سے مراد زبور داؤد ہے جو حضرت داؤد پر اتاری گئی تھی اور ذکر سے مراد ہے توریت حضرت ابن عباس اور ضحاک کا قول ہے کہ زبور سے مراد توریت ہے اور ذکر سے مراد ہیں وہ تمام آسمانی کتابیں جو توریت کے بعد اتاری گئیں۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ زبور سے مراد ہے زبور داؤد ہے اور ذکر سے مراد ہے قرآن۔ مؤخر الذکر دونوں قولوں پر بعد الذکر میں لفظ بعد بمعنی قبل ہوگا۔ یعنی ذکر سے پہلے۔
ان الارض یرثہا عبادی الصلحون۔ کہ زمین کے (یعنی جنت کی زمین کے) مالک میرے نیک
بندے ہوں گے۔
اَلْاَرْضَسے مراد ہے جنت کی زمین۔ اسی مضمون کو آیت والْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَمیں بیان کیا گیا ہے۔ ایک سوال۔ کیا گناہگار مؤمن (جو فاسق ہوتے ہیں صالح نہیں ہوتے) جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔ جواب سزا پانے یا اللہ کی طرف سے گناہ معاف ہوجانے کے بعد ہو پاک ہوجائیں گے (اور صالحین کے حکم میں داخل ہوجائیں گے) اور صالحین کے ساتھ ان کو ملا دیا جائے گا۔
مجاہد نے کہا صالحین سے مراد امت محمدیہ ہے کیونکہ اسی کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے ‘ وَقَالُوْا اَلْحَمْدَلِلّٰہِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَہٗ وَاَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّءُ مِنَ الْجَنَّۃ حَیْثُ نَشَآءُ ۔
بعض لوگوں کے نزدیک الارض سے مراد ہے ارض مقدسہ اور عِبَادِی الصَّالِحُوْنَسے مراد ہیں وہ لوگ جن کو زمین کے پوربی اور پچھمی حصوں میں کمزور (اور حقیر) سمجھا جاتا تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا الارض سے مراد ہے کافروں کی سرزمین مراد یہ ہے کہ کافروں کی زمین کو مسلمان فتح کریں گے گویا یہ اللہ کی طرف سے پیشین گوئی (اور فیصلہ قطعی) ہے کہ دین اسلام غالب آئے گا اور مسلمانوں کو کافروں پر غلبہ حاصل ہوگا۔ میں کہتا ہوں اس وقت الارض سے مراد تمام روئے زمین ہوگا۔ امام احمد راوی ہیں کہ حضرت مقداد نے بیان کیا میں نے خود رسول اللہ ﷺ : کو فرماتے سنا کہ روئے زمین پر تمام مکان خواہ مٹی کے بنے ہوئے ہوں یا (اونی کمبلوں کی) جگیاں ہوں کوئی مکان بھی ایسا نہ رہے گا جس کے اندر اللہ کلمۂ اسلام کو داخل نہ کر دے (یعنی ہر گھر میں اسلام داخل ہوجائے گا) عزت والے کی عزت کے ساتھ یا ذلیل کی ذلت کے ساتھ۔ یعنی اللہ ان کو گویا مشرف باسلام کر دے گا اور وہ عزت یاب ہوجائیں گے یا کافر ہی رہیں گے اور ان کو بمجبوری اسلام کا غلبہ تسلیم کرنا اور ذلیل ہونا پڑے گا۔ حضرت مقداد نے فرمایا میں کہتا ہوں اس وقت سارا دین اللہ ہی کا ہوگا (یعنی سب پر اسلام ہی غالب ہوجائے گا۔ مترجم) ۔
Ayah 21:106ان فی ہذا لبلغا بیشک اس میں (جنت تک) پہنچانے کا پورا سامان ہے۔
فی ہذا یعنی قرآن میں جو خبریں ‘ نصیحتیں اور وعدہ وعید مذکور ہیں سب میں۔ لَبلاغاً یعنی جنت میں داخل ہونے کا پورا سامان ہے پورا قرآن جنت کا توشہ ہے جیسے مسافر کے لئے زاد راہ منزل تک پہنچنے کا ذریعہ ہوتا ہے۔ یا بلاغاً سے مراد ہے ذریعۂ کامیابی۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص اس سے نصیحت اندوز ہوگا وہ اپنی آرزو کو پہنچ جائے گا۔
لقوم عبدین۔ عبادت کرنے والے لوگوں کے لئے۔ یعنی ان مؤمنوں کے لئے جو صرف اللہ کی عبادت کرتے
ہیں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا ‘ عابدین سے مراد ہیں علما (یا کل اہل عالم) کعب احبار نے کہا امت اسلام مراد ہے جو پنج وقتہ نمازیں پڑھتی اور رمضان کے روزے رکھتی ہے۔
Ayah 21:107وما ارسلنا الا رحمۃ للعلمین۔ (اے محمد ﷺ ہم نے تم کو نہیں بھیجا مگر رحمت کی وجہ سے جہان والوں پر یا رحمت
بنا کر جہان والوں کے لئے یعنی انس و جن کے لئے۔ پہلے ترجمہ پرر حمۃً مفعول لہ ہوگا یعنی تم کو رسول بنا کر ہم نے اس وجہ سے بھیجا کہ ہم انس و جن پر رحم کرنا چاہتے تھے پس تم کو ہم نے ہادی بنا کر بھیجا تاکہ لوگ تمہارے بتائے ہوئے راستے پر چلیں دوسرے ترجمہ پر رحمۃً سے حال ہوگا یعنی ہم نے تم کو نہیں بھیجا مگر اس حالت میں کہ تم سب کے لئے سبب رحمت ہو۔ حاکم نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے اور ابن سعد و حکیم نے ابو صالح کی روایت سے مرسل حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘ میں (اللہ کی طرف سے) فرستادۂ رحمت ہوں۔ بخاری نے تاریخ میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے ان الفاظ کے ساتھ حدیث نقل کی ہے کہ مجھے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے عذاب بنا کر نہیں بھیجا گیا۔
اس جملہ کا عطف اِنَّ فِی ہٰذَا۔ لِبَلٰغًا پر ہے کیوں کہ قرآن جب جنت کا زاد راہ ہے تو جس رسول پر قرآن کا نزول ہوا اس کا مبعوث ہونا رحمت ہوگیا۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ میری نبوت اور پیام نبوت لوگوں کو سعادت مند بنا دینے کا سبب ہے اور معاش و معاد کی درستی کا کفیل ہے اب جو شخص اس کو قبول نہیں کرتا اور رحمت کے زیر سایہ آنے سے انکار کرتا ہے وہ خود اپنے اوپر ظلم کرتا ہے میری نبوت کے رحمت ہونے میں کوئی کمی نہیں حضرت ابن عباس نے فرمایا رسول اللہ ﷺ : کافروں کے لئے دنیا میں رحمت تھے کہ آپ کی وجہ سے دنیا میں ان پر عذاب نہیں آیا ‘ صورت مسخ ہونے ‘ زمین میں دھنسائے جانے اور بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنے کے عذاب سے مامون ہوگئے۔ (خلاصہ یہ کہ رسول اللہ ﷺ برقول ابن عباس کافروں کے لئے بھی دنیا میں رحمت تھے اور بر تفسیر اوّل کافروں کا مبتلاء عذاب ہونا خودساختہ اور خود آوردہ ہے انہوں نے رحمت کے زیر سایہ آنے سے خود انکار کردیا۔ رسول اللہ ﷺ کے رحمت ہونے میں کوئی کمی نہیں تھی۔
Ayah 21:108قل انما یوحی الی انما الہکم الہ واحد (اے محمد ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ میرے پاس یہی وحی آتی ہے کہ
تمہارا معبود ایک معبود ہے۔ آیت میں حصر اضافی ہے (قرآن کے اندر تو احکام کی تعلیم بھی ہے ‘ اقوام پارینہ اور گزشتہ پیغمبروں کے قصے بھی ہیں وعدہ وعید بھی ہے جنت و دوزخ حساب و کتاب اور عقیدۂ قیامت کے لازم ہونے کا ذکر بھی ہے اللہ کی صفات کمالیہ کا اظہار بھی ہے اور دوسرے مباحث علمی و عملی بھی اور مبدؤ ومعاد سے تعلق رکھنے والے سارے مسائل کا بیان بھی ہے پھر یہ کہنا کہ میرے پاس صرف ایک کو معبود ماننے کی وحی آتی ہے بظاہر غلط ہے لیکن اگر حصر کو اضافی کہا جائے تو کلام صحیح ہوجائے گا کیونکہ (مترجم) وحی کی اصلی غرض اظہار توحید ہی ہے (نبوت ‘ کتاب ‘ شریعت ‘ انبیاء کا تذکرہ ‘ قیامت پر عقیدہ ‘ جنت و دوزخ اور حساب و کتاب کی تشریح سب اسی کی شاخیں اور اسی پر مبنی ہیں) اس لئے توحید کا اعلان و اقرار ہی گویا جوہر وحی ہے اور صرف یہ ہی پیام بذریعۂ وحی بھیجا گیا ہے۔
یا یوں کہا جائے کہ اللہ کی عبادت کے معاملے میں جو وحی آتی ہے وہ صرف یہ ہے کہ معبود فقط ایک ہے (اس صورت میں حصر حقیقی ہوگا مگر مقید بامر عبادت۔ مترجم) ۔
ایک شبہجب توحید حاصل وحی ہے تو توحید کا ثبوت وحی پر موقوف ہوا اور وحی کی بنا عقیدۂ توحید پر ہے اگر توحید کو نہ مانا جائے تو پھر نہ نبوت کی ضرورت باقی رہتی ہے نہ وحی کی۔ یہ کھلا ہوا دور ہے۔
ازالہتوحید کا ثبوت نقلی بھی ہے جو سننے پر موقوف ہے کیونکہ رسالت کا مدار مرسل پر ہے۔
فہل انتم مسلمون۔ پس کیا تم اطاعت کرنے والے ہو۔ یعنی توحید کو مانو اور خالص عبادت اللہ ہی کی کرو اور
وحی کا جیسا تقاضا ہے اس کو پورا کرو اور اللہ کی رحمت حاصل کرنے کے لئے تیار ہوجاؤ۔
Ayah 21:109فان تولوا فقل اذنتکم علی سوآء پھر بھی اگر یہ لوگ سرتابی کریں تو (بطور تکمیل حجت) آپ کہہ
دیجئے کہ میں تم کو نہایت صاف اطلاع کرچکا ہوں۔ یعنی اگر وہ اسلام سے روگرداں ہوجائیں اور اتمام حجت کے بعد بھی توحید کو ماننے سے گریز کریں تو آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں نے تم سب کو برابر وہ وحی پہنچا دی اور وہ اطلاع دے دی جو مجھے ملی تھی۔ اذنتکم یعنی میں نے وحی اور رسالت کی اطلاع دے دی یا اس بات کی اطلاع دے دی کہ میری تم سے مصالحت نہیں ہوسکتی۔
عَلٰی سَوَآءٍکا یہ مطلب ہے کہ میں نے وحی کی کوئی بات کسی سے پوشیدہ نہیں رکھی ‘ سب کو برابر اطلاع دے دی۔ اس سے فرقۂ باطنیہ اور شیعہ کے اس قول کی تردید مستفاد ہوتی ہے کہ ائمہ اپنے خاص ساتھیوں کو احکام شرع بالکل پوشیدہ طور پر سکھاتے تھے اور کہتے تھے کہ دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں۔ یا علی سوائکا یہ مطلب ہے کہ ہم اور تم دونوں اس معاملہ میں برابر ہیں جو کچھ مجھے علم تھا اس سے تم کو بھی واقف کردیا ‘ یا جنگ کے معاملہ میں ہم دونوں برابر ہیں۔ میں تم کو فریب نہیں دیتا تم جنگ کی تیاری کرلو۔ ہم آپس میں دشمن ہیں یا یہ مطلب ہے کہ علی الاعلان میں نے تم کو اطلاع دے دی۔
بعض نے سوآئکا ترجمہ کیا ہے سیدھا راستہ ‘ استقامت رائے یعنی میں عدل اور استقامت رائے پر دلیل کی روشنی میں قائم ہوں اور تم کو میں نے اس کی اطلاع برہان کے ساتھ دے دی۔
وان ادری اقریب ام بعید ما تو عدون۔ اور مجھے نہیں معلوم کہ جس چیز (یعنی مسلمانوں کی فتح اور تسلط یا
حشر اور عذاب قیامت) سے تم کو ڈرایا جا رہا ہے وہ قریب ہے یا دور۔ یعنی ہوگا ضرور اس کے ہونے میں شک نہیں لیکن کب ہوگا یہ مجھے معلوم نہیں 1 ۔
Ayah 21:110انہ یعلم الجہر من القول ویعلم ما تکتمون۔ بیشک اللہ کو تمہاری پکار کر کہی ہوئی بات کی بھی خبر ہے اور جو بات تم دل میں چھپائے رکھتے ہو اس کی بھی خبر ہے یعنی علانیہ جو اسلام پر طعن کرتے ہو اللہ اس سے واقف ہے اور مسلمانوں سے دشمنی اور کینہ جو تم دلوں میں چھپائے ہوئے ہو اس کو بھی اللہ جانتا ہے ‘ یقیناً وہ تم کو اس کی سزا دے گا ‘ یہ جملہ معترضہ ہے اس سے نفاق پر زجر اور اخلاص کی ترغیب دینی مقصود ہے۔
Ayah 21:111وان ادری لعلہ فتنۃ لکم ومتاع الی حین۔ اور میں نہیں جانتا کہ ( کیا مصلحت ہے) شاید وہ
(تاخیر عذاب) تمہارے لئے (صورۃً ) امتحان ہو اور ایک وقت (یعنی موت) تک فائدہ پہنچانا مقصود ہو۔ یعنی باوجودیکہ اللہ تمہارے ظاہر و باطن سے واقف ہے پھر بھی تم کو عذاب میں مبتلا نہیں کرتا اس تاخیر کی وجہ مجھے معلوم نہیں شاید یہ تاخیر عذاب تمہارے لئے ڈھیل ہو جو تمہارے لئے مزید فتنہ میں پھنس جانے کی موجب ہو۔ یا یہ مطلب ہے کہ شاید یہ تاخیر عذاب تمہاری آزمائش ہو کہ تم نصیحت اندوز ہوتے ہو یا نہیں۔
ومتاع الی حین کا یہ مطلب ہے کہ تاخیر عذاب اللہ کی طرف سے تھوڑے وقت اور قلیل مدت کے لئے ایک حقیر بہرہ
اندوزی اور فائدہ ہے۔ قضاء الٰہی میں پہلے ہی فیصلہ ہوچکا ہے کہ تم کو اتنی مدت تک باقی رکھا جائے گا اس لئے فیصلہ شدہ مدت تک تمہاری بقاء ضروری ہے۔
جلال الدین محلی نے لکھا ہے کہ لعل اظہار امید کے لئے آتا ہے اور فتنہ سے امید کی وابستگی غیر مناسب ہے اس لئے فتنہ کے مقابل مَتَاعٌ اِلٰی حِیْنِکو ذکر کیا۔
Ayah 21:112قال رب احکم بالحق (رسول ﷺ نے) کہا اے رب (میرے اور کفار کے درمیان) تو انصاف کا فیصلہ کر دے
ظاہر ہے کہ انصاف کا فیصلہ یہی ہوگا کہ کفار کو عذاب میں مبتلا کیا جائے اور مؤمنوں کو عذاب سے محفوظ رکھا جائے۔
قال رب احکم بالحق اور ہمارا رب بڑا مہربان ہے جس سے ان باتوں کے مقابلے میں مدد کی درخواست کی
جاتی ہے جو تم بنایا کرتے ہو۔
الرحمن مخلوق پر بہت رحم کرنے والا۔ (صیغۂ مبالغہ ہے) ۔
المستعان وہ ذات جس سے یا جس کی مدد طلب کی جائے) ۔
علی ما تصفون یعنی تمہارے چھوٹے غلط بیان کے خلاف کہ فتح کافروں کی ہوگی اور اسلام کا جھنڈا چند ہی روز سر
بلند رہے گا پھر گرا دیا جائے گا اور اگر کافروں پر عذاب نازل ہونے کی دھمکیاں سچی ہوتیں تو اب تک عذاب آگیا ہوتا۔ اللہ نے اپنے رسول کریم کی یہ دعا قبول کرلی ‘ جنگ بدر کے دن کافروں کی کمر توڑ دی اور مسلمانوں کو فتح عنایت فرما دی۔
یا عَلٰی مَا تَصِفُوْنَکا یہ مطلب ہے کہ تم جو بیان کرتے ہو کہ اللہ صاحب اولاد ہے اور محمد ﷺ ساحر ہیں اور قرآن مجید ایک طرح کی شاعری ہے وغیرہ۔ اس تمام خرافات کے خلاف ہمارا رب رحمن ہمارا مددگار ہے ‘ ہم اس سے ہی مدد کے خواستگار ہیں۔
اَلْحَمْدُ اللہ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَصَلّٰی اللہ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ صَلّٰی اللہ عَلَیہِ وَسَلَّم۔
الحمدللہ سورة انبیاء کی تفسیر 25 جمادی الثانیہ کو بروز دو شنبیہ ختم ہوئی۔ اس کے بعد انشاء اللہ سورة الحج کی تفسیر آئے گی۔
حمداً للہ وشکراً لہ تفسیر مظہری سورة انبیاء کا ترجمہ بعونہ تعالیٰ 12 ربیع الاوّل 1389 ھ کو بروز پنجشنبہ ختم ہوا
فالحمدلہ اولا واخرا۔