Ayah 21:36ونبلوکم بالشر والخیر فتنۃ والینا ترجعون۔ اور ہم تم کو بری بھلی حالتوں سے اچھی طرح آزماتے
ہیں پھر اس زندگی کے بعد تم سب ہمارے پاس واپس چلے آؤ گے۔
نَبْلُوْکُمْیعنی ہم تمہارے ساتھ ویسا عمل کریں گے جیسا امتحان لینے والا کرتا ہے (اللہ کو سب کچھ معلوم ہے اس لئے اصل کیفیت دریافت کرنے اور واقف ہونے کے لئے وہ ہماری جانچ نہیں کرتا پس بلا یعنی امتحان کی نسبت اس کی طرف حقیقی بلکہ محض مجازی اور ظاہری ہے وہ بندوں کے ساتھ معاملہ ایسا کرتا ہے جیسا ممتحن ان لوگوں کے ساتھ کرتا ہو جن کا وہ امتحان لیتا ہے) ۔
بِالشَّرِّ وَالْخَیْرِیعنی برائی ‘ بھلائی ‘ سختی ‘ نرمی ‘ صحت ‘ بیماری ‘ دولت ‘ افلاس اور ہر ناگوار و گوارا چیز سے ہم تمہاری جانچ کرتے ہیں تاکہ یہ بات ظاہر ہوجائے کہ تم مرغوب و محبوب مقصد کو حاصل کر کے شکر کرتے ہو یا ناشکری اور دکھ پر صبر کرتے ہو یا شکوہ و شکایت اور بےصبری۔
وَاِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ اور ہماری ہی طرف تم کو لوٹا کر لایا جائے گا ‘ پس ہم ہی تم کو صبر و بےصبری اور شکر و ناشکری کی جزا و سزا دیں گے۔ اس آیت میں اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ پیدا کرنے کی اصل غرض جانچ کرنا اور عذاب وثواب دینا ہے اس جملہ میں آیت نبلوکم کے مضمون کی تائید ہے۔ ابن حاتم نے بروایت سدی بیان کیا کہ ایک بار رسول اللہ ﷺ ابوجہل اور ابو سفیان کی طرف سے گزرے حضور کو دیکھ کر ابوجہل ہنسنے لگا اور ابو سفیان سے بولا یہ ہے بنی عبدمناف کا نبی ابو سفیان کو اس بات سے غصہ آگیا اور کہنے لگا بنی عبد مناف میں پیغمبر ہونا تم کو کیوں ناگوار ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ گفتگو سن لی اور پلٹ کر ابو جہل کو ڈرایا اور فرمایا میرا خیال ہے کہ تو اس وقت تک باز نہیں آئے گا۔ جب تجھ پر وہ مصیبت نہ آپڑے جو تیرے چچا پر پڑی تھی اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
واذا راک الذین کفروا ان یتخذونک الا ہزوا اہذا الذی یذکر الہتکم
اور کافر لوگ جب آپ کو دیکھتے ہیں تو بس آپ کی ہنسی اڑاتے ہیں اور (آپس میں کہتے ہیں) کیا یہی ہے جو تمہارے معبودوں کا (برائی کے ساتھ) ذکر کرتا ہے۔
ہُزُوًامسخرہ یعنی وہ شخص جس سے مسخرہ پن کیا جائے۔ اَہٰذَا الَّذِیْ یَذْکُرْ اٰلِہَتَکُمْ یہ پہلے فقرے کی تاکید ہے یعنی کیا یہ ہی وہ شخص ہے جو تمہارے معبودوں کو برا کہتا ہے اور ان کا ذکر برائی کے ساتھ کرتا ہے (برائی کے ساتھ) کا لفظ گو مذکور نہیں مگر مراد ہے دشمن کا ذکر کرنا ‘ برائی کے ہی ساتھ ہوتا ہے اور دوست کا ذکر اچھائی کے ساتھ۔ فُلاَنٌ یَذْکُرُ فُلاَناً فلاں شخص اس آدمی کی برائی کر رہا تھا۔ فُلاَنٌ یَذْکُرُ اللّٰہَفلاں شخص اللہ کا ذکر کرتا ہے ‘ یعنی اللہ کی اچھی صفات بیان کرتا ہے۔ یہ دونوں محاورے ہیں۔
وہم بذکر الرحمن ہم کفرون۔ اور خود یہ لوگ رحمن کے ذکر کا انکار کیا کرتے ہیں۔ رحمن کے ذکر کے منکر ہیں۔ یعنی اللہ کی توحید و تعظیم کے منکر ہیں یا اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ اللہ نے مخلوق کی ہدایت کے لئے پیغمبروں کو بھیجا اور اپنی کتابیں نازل فرمائیں ‘ یا قرآن کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ رحمن یمامہ یعنی مسیلمہ کے علاوہ ہم اور کسی کو نہیں جانتے پس ایسے لوگ اس امر کے زیادہ مستحق ہیں کہ ان سے استہزاء کی جائے اور ان کو مسخرہ بنایا جائے۔
ہم کی تکرار تاکید اور تخصیص کے لئے ہے یا اس لئے ہے کہ اوّل ہُمْ (مبتدا) اور کافِرُوْنَ (خبر) کے درمیان بذکر الرحمن کے لفظ سے فصل ہوگیا ہے۔
Ayah 21:37خلق الانسان من عجل انسان جلدی ہی کے خمیر کا بنا ہوا ہے۔ یعنی عجلت پسندی انسان کی سرشت میں داخل ہے انسان اتناعجلت پسند اور بےصبرا واقع ہوا ہے کہ گویا اس کے خمیر میں عجلت داخل ہے ‘ اگر کسی شخص سے کسی بات کا صدور کثرت سے ہوتا رہے تو محاورے میں کہا جاتا ہے اس کی تو سرشت میں یہ بات داخل ہے۔
فُلاَنٌ خُلِقَ مِنْ غَضَبٍ ۔ خُلِقَ فَلاَنٌ مِنَ الْکَرْمِفلاں شخص کا خمیر ہی غصہ کا ہے فلاں شخص کی سرشت ہی سخاوت سے ہوئی ہے ‘ ایسا کلام بطور مبالغہ کے کہا جاتا ہے اور مجازی معنی پر محمول ہونا ہے۔ سعید بن جبیر اور سدی نے بیان کیا کہ جب حضرت آدم ( علیہ السلام) کے سر اور آنکھوں میں روح داخل ہوگئی تو جنت کے پھلوں پر فوراً نظر پڑی اس کے بعد روح پیٹ کے اندر پہنچی تو آپ کو کھانے کی اشتہاء پیدا ہوگئی اور فوراً ٹانگوں تک روح پہنچنے سے پہلے ہی جنت کے پھل لینے کے لئے اٹھنے لگے ‘ لیکن اٹھ نہ سکے اور گرپڑے ‘ اسی لئے کہا گیا ہے ‘ خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلِاس آیت میں الانسان سے مراد حضرت آدم ہیں آپ ہی کی عجلت پسندی آپ کی اولاد میں بطور توارث منتقل ہو کر آئی ہے آدمی کی یہ عجلت پسندی ہی ہے کہ کفر کی طرف پیش قدمی کرتا ہے اور عذاب کی اس کو وعید سنائی جاتی ہے تو فوراً نزول عذاب کا طلبگار ہوجاتا ہے۔
میں کہتا ہوں صوفیۂ صافیہ کے قول کے مطابق تمام عالم اللہ کے اسماء وصفات کا پر تو اور سایہ ہے اور یہ صفات الٰہیہ تعینات خلائق کے مبادی ہیں اور اللہ کی صفات متضاد ہیں (وہ رحیم بھی ہے اور قہار بھی) پس جس طرح صبور اس کا وصفی نام ہے اسی طرح وہ سریع الحساب بھی ہے عجلت پسندی بھی اس کی ایک صفت ہے اور انسان کے اندر صفت عجلت پسندی کا یہی مبدء ہے اسی بناء پر کہا گیا ہے کہ انسان کی سرشت اور تخلیق میں عجلت داخل ہے۔
ایک شبہ جب عجلت پسندی اللہ کی صفت ہے تو یقیناً یہ صفت اچھی ہی ہوگی لیکن رفتار آیت بتارہی ہے کہ عجلت پسندی مذموم صفت ہے ایک بات یہ بھی ہے کہ جب استعجال انسان کی فطرت میں داخل ہے تو اس کی ممانعت کیوں کی گئی ‘ سرشتی چیز ناقابل تبدیل ہوتی ہے اس کو ترک کرنا انسان کے بس میں ہی نہیں ہے۔
ازالہ نفس استعجال بری چیز نہیں ہے ہاں اس میں حد سے تجاوز کرنا یا بےموقع اس کا استعمال برا ہے دیکھو اللہ نے انبیاء کی تعریف میں فرمایا ہے وہ نیکیوں کی طرف تیزی سے بڑھتے ہیں ‘ پس استعجال کا افراط یا بےمحل استعمال مذموم ہے اور اسکو ترک کرنا ناممکن نہیں ہے 1 ۔
بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ حضرت آدم ( علیہ السلام) کو اللہ نے تھوڑے وقت میں پیدا کیا تھا۔ آدم ( علیہ السلام) کی تخلیق میں عجلت سے کام لیا تھا آپ کو جمعہ کے روز دن کے آخری حصے میں پیدا کیا گیا اور غروب آفتاب سے پہلے پہلے آپ ﷺ : کی تخلیق مکمل ہوگئی۔ دوسری مخلوق آپ سے پہلے دن کے آخری حصہ تک پیدا کی جا چکی تھی۔ حضرت آدم کے سر میں جب روح داخل ہوگئی تو آپ نے عرض کیا الٰہی غروب آفتاب سے پہلے میری تخلیق پوری کر دے یہ قول مجاہد کا ہے۔ بعض لوگوں نے کہا اللہ نے حضرت آدم ( علیہ السلام) کو جلد یعنی یکدم پیدا کردیا ‘ دوسرے آدمیوں کی تخلیق ترتیبی ہے پہلے نطفہ ہوتا ہے ‘ پھر بستہ خون ‘ پھر بوٹی وغیرہ حضرت آدم ( علیہ السلام) کی تخلیق اس طرح نہیں کی گئی۔ بعض اہل علم نے لکھا ہے کہ عجل کا معنی ہے گیلی مٹی ‘ کیچڑ۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے عجل بفتح عین و جیم کیچڑ یا لیس دار دلدل ایک شاعر کا قول ہے
والنبعُ فی الصَّخرۃِ الصَّمَّاءِ مُنْبَتُہٗ وَالنَّخْلُ تَنْبُتْ مِن مَاءٍ وَمِنْ عَجَلٍ
درخت نبع کی پیدائش کا مقام ٹھوس پتھروں میں ہوتا ہے اور کھجور کا درخت پانی اور کیچڑ سے پیدا ہوتا ہے۔
ساوریکم ایتی فلا تستعجلون۔ میں عن قریب (وقت آنے پر) تم کو اپنی آیات (قہر) دکھاؤں گا
پس تم مجھ سے جلدی مت مچاؤ۔
نشانیوں سے مراد ہے (عذاب دنیا و آخرت یعنی) بدر کا واقعہ اور عذاب دوزخ۔ فَلاَ تَسْتَعْجِلُوْنِکا مطلب یہ ہے کہ آیات کے ظہور کا ایک وقت مقرر ہے۔ وقت مقرر سے پہلے تم ان کی طلب نہ کرو۔ مقرر وقت ان کا وقوع ضرور ہوجائے گا۔ حقیقت میں یہ تردید کافروں کے اس خیال کی ہے کہ عذاب کا وقوع بعید از فہم ہے اور اگر واقعی عذاب آنے والا ہے تو فوراً آجانا چاہئے وہ استہزاءً کہتے تھے کہ اے اللہ محمد جو کچھ کہہ رہے ہیں اگر یہ حق ہے ‘ تیری طرف سے ہے (اور ہم اس کے منکر ہیں) تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا۔
بعض روایات میں آیا ہے کہ اس آیت کا نزول نضر بن حارث کے حق میں ہوا مذکورہ بالا قول اسی کا تھا۔
Ayah 21:38ویقولون متی ہذا الوعد ان کنتم صدقین۔ اور وہ (کافر) کہتے ہیں کہ یہ (عذاب اور قیامت کی)
وعید کب آئے گی اگر تم (اس وعید میں) سچے ہو (تو بیان کرو کہ کب اس کا وقوع ہوگا) ۔
کُنْتُمْکے مخاطب رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ ہیں اور کلام سابق چونکہ مفہوم جزا پر دلالت کر رہا ہے اس لئے ان کنتم کی جزا کے ذکر کی ضرورت نہیں۔
Ayah 21:39لو یعلم الذین کفروا حین لا یکفون عن وجوہہم النار ولا عن ظہورہم ولا ہم ینصرون۔ اگر کافر جان لیتے اس وقت (کے سماں) کو جب کہ وہ آگ کو نہ اپنے چہروں کی طرف سے روک سکیں گے نہ پشت کی جانب سے اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔ شرط کا جواب محذوف ہے یعنی اگر کافر جان لیں اس وقت کو جب کہ ہر طرف سے ان کو آگ اپنے گھیرے میں لے لے گی اور اس کو وہ نہ خود دفع کرسکیں گے نہ کوئی اور ایسا مددگار بنے گا جو عذاب کو دفع کرسکے تو اپنے کفر پر قائم نہیں رہیں گے یا عذاب آنے کی جلدی نہیں مچائیں گے یا ایسی بات نہیں کہیں گے۔
Ayah 21:40بل تاتیہم بغتۃ فتبہتہم فلا یستطیعون ردہا ولا ہم ینظرون۔ بلکہ وہ ساعت ان پر اچانک
آ پڑے گی اور ان کو حیران بنا دے گی پھر نہ وہ اس کو لوٹا سکیں گے اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔
تَاْتِیِہِمْکی فاعلی ضمیر نار کی طرف راجع ہے یا وعد کی طرف یا حین کی طرف۔ معنوی اعتبار سے وعدہ بمعنی مدت مقررہ اور حین بمعنی ساعت ہے اس لئے مؤنث کی ضمیر ان کی طرف لوٹ سکتی ہے۔
بَغْتَۃً اچانک ناگہاں۔ وَلاَ ہُمْ یَنْظَرُوْنَیعنی جس طرح دنیا میں مہلت دی گئی ہے اس وقت مہلت نہیں دی جائے گی۔
لاَ ہُمْ یُنْصَرُوْنَاور لاہُمْ یَنْظَرُوْنَمیں ھُم کو فعل سے پہلے ذکر کرنے سے یہ بات معلوم ہوئی کہ صرف کافروں کا کوئی مددگار نہ ہوگا اور صرف انہیں کو مہلت نہیں دی جائے گی۔ گناہگار مؤمنوں کی یہ حالت نہیں ہوگی انبیاء ‘ اولیاء ‘ صلحاء اور ملائکہ کی سفارشی مدد ان کو حاصل ہو سکے گی اور ان کو مہلت بھی دی جائے گی اور مغفرت کردی جائے گی۔
Ayah 21:41ولقد استہزی برسل من قبلک فحاق بالذین سخروا منہم ما کانوا بہ یستہزون۔
اور آپ سے پہلے جو پیغمبر گزرے ان سے بھی استہزاء (مسخرا پن) کیا جا چکا ہے آخر وہی (عذاب) ان پر نازل ہوگیا جس کا وہ مذاق بناتے تھے ‘ اس میں رسول اللہ ﷺ کے لئے پیام تسکین ہے اور استہزاء کرنے والوں کے لئے عذاب کی وعید۔
فَحَاقَیعنی جس چیز کا وہ استہزاء کرتے تھے اسی کی سزا اور عذاب ان پر نازل ہوا۔
Ayah 21:42قل من یکلوکم بالیل والنہار من الرحمن (اے محمد ﷺ ! آپ ان استہزاء کرنے والوں سے) کہئے کہ رات اور دن میں رحمن (کے عذاب) سے تمہاری کون حفاظت کرے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے اس کی تفسیر میں فرمایا یعنی اگر رحمن تم کو عذاب دینا چاہے گا تو تمہارا بچاؤ کون کرے گا یا یہ مطلب ہے کہ اگر رحمن کا عذاب تم پر نازل ہوگا تو کون تم کو بچائے گا۔ مقصد یہ ہے کہ عذاب سے دنیا میں بچانے والا سوائے اللہ کی رحمت عامہ کے اور کوئی نہیں اور عذاب کا دفاع اسی وقت ہوگا جب اللہ ہی مہلت دے گا۔
بل ہم عن ذکر ربہم معرضون۔ بلکہ وہ لوگ اپنے رب کے ذکر سے روگرداں ہی ہیں۔ یہ حکم سوال سے اعراض ہے مطلب یہ ہے کہ رحمن سے ان کو خوف دلاؤ اور اس کے عذاب سے ڈراؤ ‘ اس کے بعد فرمایا ‘ بلکہ یہ ڈرانا بیکار ہے قرآن اور اللہ کے مواعظ سے تو یہ روگرداں ہیں یا مطلب ہے کہ ان کے دل میں تو رحمن کا خیال ہی نہیں آتا اس کے عذاب سے کیسے ڈریں گے۔
Ayah 21:43ام لہم الہۃ تمنعہم من دوننا لا یستطیعون نصرا انفسہم ولا ہم منا یصحبون۔
کیا ان کے پاس ہمارے سوا ایسے معبود ہیں جو (عذاب مذکور سے) ان کی حفاظت کرلیتے ہوں وہ تو اپنی حفاظت کی بھی قدرت نہیں رکھتے اور نہ ہمارے مقابلے میں کوئی اور ان کا ساتھ دے سکتا ہے۔
تَمْنَعُہُمْیعنی ایسے معبود جو ہمارے عذاب سے ان کو بچا سکیں۔
لاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَاَ اَنْفُسِہِمْیعنی ان کے معبود تو اپنی مدد بھی خود نہیں کرسکتے ‘ اگر ان پر مکھی بیٹھ جائے تو اڑا نہیں سکتے۔
وَلاَ ہُمْ مِّنَّا یُصْحَبُوْنَاور نہ ان کے ساتھ ہماری مدد ہوسکتی ہے جس طرح ان لوگوں کے ساتھ ہوگی جو گناہگار اہل ایمان کی شفاعت کریں گے یعنی انبیاء ‘ اولیاء ملائکہ جو گناہگار مؤمنوں کی شفاعت کریں گے ان کے ساتھ تو ہماری مدد ہوگی اور ان بتوں کے ساتھ (جن کو کافر اپنا شفیع سمجھتے ہیں) نہیں ہوگی۔
حضرت ابن عباس ؓ نے اس جملہ کا ترجمہ اس طرح کیا کہ وہ (بت) بھی اپنے عذاب سے محفوظ نہ ہوں گے یعنی ان معبودوں پر بھی عذاب ہوگا۔ اسی طرح کا مضمون آیت (اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ حَصَبُ جَہَنَّمَ ) میں ادا کیا گیا ہے۔ تم اور جن بتوں کی تم اللہ کے سوا پوجا کرتے ہو سب جہنم کا ایندھن ہوں گے مجاہد نے یصحبون کا ترجمہ ینصرون کیا یعنی ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔ قتادہ نے کہا ان کے ساتھ اللہ کی طرف سے اذن ‘ شفاعت اور مدد نہ ہوگی۔
Ayah 21:44بل متعنا ہولآء وابآء ہم حتی طال علیہم العمر بلکہ ہم نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو (دنیا کا)
خوب سامان دیا یہاں تک کہ ان پر اسی حالت میں عرصۂ دراز گزر گیا۔
مَتَّعْنَا یعنی ہم نے نعمت دی اور مہلت بھی دی۔ ہٰؤُلآءِان کافروں کو۔ حَتّٰی طَالَ عَلَیْہِمُ الْعُمْر یعنی ان کی مدت زندگی لمبی ہوگئی۔
کافروں کو وہم ہوسکتا تھا یا وہم تھا کہ یہ تمام امور ہمارے معبودوں کی وجہ سے ہوئے اللہ نے اس خیال سے اعراض کیا اور فرمایا ایسا نہیں ہے کہ تم کو نعمت و مدت زندگی معبودوں کی وجہ سے ملی ہو بلکہ یہ سب کچھ ہم نے دیا۔ یا یوں کہا جائے کہ اللہ نے جو ان کو نعمت سے نوازا اور طویل زندگی عطا کی تو یہ خیال ہوا کہ ہم کو یہ سب کچھ ہمارے ذاتی استحقاق کی وجہ سے حاصل ہوا ہے اور ہماری یہ حالت ہمیشہ رہے گی ‘ اس خیال کو دور کرنے کیلئے فرمایا ‘ ایسا نہیں ہے بلکہ یہ ہماری طرف سے ڈھیل ہے آئندہ آیت اسی تاویل کی تائید کررہی ہے۔
افلا یرون انا ناتی الارض نقصہا من اطرافہا افہم الغلبون۔ کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ ہم
(کافروں کی) زمین کناروں کی طرف سے گھٹا رہے ہیں پس کیا یہ پھر بھی غالب آجائیں گے۔
اَلْاَرْضَسے مراد ہے کافروں کی سرزمین۔ کافروں کے مقبوضات۔ گھٹانے سے مراد یہ ہے کہ کافروں کے قبضے سے نکال کر مسلمانوں کے تسلط میں ہم دے رہے ہیں تو ایسی حالت میں کیا کافر رسول اللہ ﷺ پر اور مسلمانوں پر غلبہ پاسکیں گے۔
Ayah 21:45قل انما انذرکم بالوحی آپ کہہ دیجئے میں تم کو وحی کے ذریعہ سے (عذاب سے) ڈرا رہا ہوں۔ یعنی عذاب کا ڈراوا اپنی طرف سے نہیں دے رہا ہوں بلکہ جو قرآن میرے اوپر اترا ہے اس میں اللہ نے عذاب کی اطلاع دی ہے اور اللہ کی اطلاع میں غلطی کا احتمال بھی نہیں ہے۔ اس لئے اس خبر کو تم بعید از فہم نہ سمجھو اور نہ تعجب کرو۔
ولا یسمع الصم الدعآء اذا ما ینذرون۔ اور بہرے پکار کو نہیں سنتے ‘ جب ان کو ڈرایا جاتا ہے۔ (کیونکہ وہ
بہرے ہیں پکارنے سے ان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا) مطلب یہ کہ کافر بہرے ہیں ان کو پکارنے سے کوئی فائدہ نہیں۔
Ayah 21:46ولئن مستہم نفحۃ من عذاب ربک لیقولن یولینا انا کنا ظلمین۔ اور اگر آپ کے
رب کے (اس) عذاب کی (جس سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے اور جس کے جلد آجانے کے یہ خواستگار ہیں) ایک ذرا سی لپٹ بھی چھو جائے تو کہنے لگیں گے ہائے ہماری خرابی ہم ہی ظالم تھے اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک قرار دے کر اور اللہ سے نہ ڈر کر ہم نے اپنے اوپر خود ظلم کیا۔
حضرت ابن عباس ؓ نے نفحۃ کا ترجمہ کیا کنارہ بعض نے کہا تھوڑا سا۔ ابن جریج نے کہا نفحۃ یعنی ایک حصہ نَفَخَ فُلاَنٌ لِفُلاَن ‘ فلاں نے فلاں کو اپنے مال میں سے ایک حصہ دے دیا۔ بعض نے نفحۃ کا ترجمہ کیا مارنا نفحت الدَّابَّۃُ بِرِجْلہَاگھوڑے نے اپنی ٹانگ ماری۔ لغوی اعتبار سے نفحہ خوشبو کی لپٹ کو کہتے ہیں۔
مَسٌّچھو جانا ‘ نفحۃ ایک ادنی جھونکا ذرا سی لپٹ۔ اس میں تا وحدت کی ہے ‘ ان دونوں لفظوں سے مبالغہ کا اظہار کیا ہے کہ بڑا عذاب آنا اور پورے عذاب میں مبتلا ہونا تو درکنار ایک ذرا سی لپٹ ان کو چھو بھی جائے تو موت کو پکارنے لگیں گے اور اپنے ظالم ہونے کا اقرار کرنے لگیں گے۔
Ayah 21:47ونضع الموازین القسط لیوم القیمۃ اور قیامت کے روز ہم میزان عدل قائم کریں گے (اور سب کے
اعمال کا وزن کریں گے) ۔ الْقِسْطَ سے پہلے مضاف محذوف ہے یعنی انصاف والی ترازوئیں یا بطور مبالغہ موازین کو بعینہٖ انصاف قرار دیا۔ قسط مصدر ہے۔
لِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِمیں لام بمعنی فی ہے ‘ قیامت کے دن میں۔ یا جزا کا لفظ یوم سے پہلے محذوف ہے قیامت کے دن بدلے کے لئے یا اہل قیامت کے لئے مراد ہے۔ یعنی یوم سے پہلے لفظ اہل محذوف ہے۔ کچھ علماء نے کہا (میزان سے حقیقی ترازو مراد نہیں ہے بلکہ) ٹھیک ٹھیک حساب فہمی اور اعمال کے مطابق بدلہ دینے کا موازنہ مراد ہے ‘ یعنی بطور تمثیل و تشبیہ مجازاً صحیح طور پر ٹھیک ٹھیک حساب فہمی اور معاوضۂ اعمال کو میزان عدل قرار دیا۔ اہل سنت کے نزدیک یہ تاویل درست نہیں بلکہ صحیح یہ ہے کہ میزان عدل بصورت ترازو حقیقتاً قائم ہوگی۔ ابن مبارک (رح) نے الزہد میں اور آجری (رح) نے الشریعۃ میں حضرت سلمان کی موقوف روایت بیان کی ہے اور ابن حبان نے اپنی تفسیر میں بروایت کلبی از ابو صالح حضرت ابن عباس ؓ کی طرف بھی اس قول کی نسبت کی ہے کہ میزان کی ایک زبان اور دو پلڑے ہوں گے۔ ابن مردویہ نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا میں نے خود سنا کہ رسول اللہ : ﷺ فرما رہے تھے اللہ نے آسمان و زمین کی مثل میزان کے دو پلڑے پیدا کئے ہیں۔ الحدیث۔
بیہقی نے حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے حضرت عمر ؓ : کا بیان حدیث جبرئیل کے ذیل میں نقل کیا ہے کہ جبرئیل ( علیہ السلام) نے کہا محمد ! ایمان کیا چیز ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا (ایمان یہ ہے) کہ تم اللہ کو ‘ اس کے ملائکہ کو ‘ اس کے پیغمبروں کو ‘ جنت اور دوزخ کو ‘ اور میزان کو مانو اور مرنے کے بعد اٹھنے پر بھی یقین رکھو اور اچھی بری تقدیر کو بھی عقیدے کے ساتھ تسلیم کرو۔ جبرئیل ( علیہ السلام) نے کہا اگر میں ایسا کرلوں گا (یعنی ان تمام چیزوں کو مان لوں گا) تو کیا مؤمن ہوجاؤں گا ‘ فرمایا ‘ ہاں جبرئیل ( علیہ السلام) نے کہا آپ نے سچ کہا۔
حاکم نے مستدرک میں برشرط مسلم بیان کیا ہے اور اس کو صحیح کہا ہے کہ حضرت سلمان کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن میزان قائم کی جائے گی۔ اگر اس میں آسمانوں کو اور زمین کو تولا جائے گا تو ان کی بھی اس کے اندر سمائی ہوگی۔
ترمذی اور بیہقی نے حضرت انس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے اور ترمذی نے اس کو حسن کہا ہے حضرت انس ؓ نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ حضور قیامت کے دن میرے لئے شفاعت فرمائیں ‘ ارشاد فرمایا میں ایسا کروں گا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں حضور ﷺ : کو کہاں تلاش کروں ؟ فرمایا ‘ سب سے پہلے مجھے صراط پر تلاش کرنا۔ میں نے عرض کیا اگر میں وہاں آپ کو نہ پاؤں۔ فرمایا ‘ تو میزان کے پاس مجھے تلاش کرنا۔ میں نے عرض کیا اگر میزان کے پاس بھی حضور ﷺ کو نہ پاؤں۔ فرمایا تو حوض کے پاس تلاش کرنا ‘ ایسا نہ ہوگا کہ ان تینوں مقامات میں سے کسی ایک جگہ نہ ملوں۔
حاکم ‘ بیہقی اور آجری کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا میں نے عرض کیا کیا آپ لوگ (یعنی مرد) اپنی بیویوں کو قیامت کے دن یاد کریں گے فرمایا تین مقامات میں کہ کوئی کسی کو یاد نہ کرے گا۔
1) اس جگہ جہاں میزان قائم کی جائے گی تاوقتیکہ اس کو اپنی میزان کا بھاری یا ہلکا ہونا معلوم نہ ہوجائے۔
2) اس جگہ جہاں صراط قائم کی جائے گی تاوقتیکہ یہ معلوم نہ ہوجائے کہ وہ صراط سے نجات پاتا ہے یا نہیں۔
3) اس جگہ جہاں اعمالنامے اڑتے ہوں گے تاوقتیکہ اس کو معلوم نہ ہوجائے کہ اس کا اعمالنامہ کہاں آکر پڑتا ہے دائیں ہاتھ میں یا بائیں ہاتھ میں یا پشت کے پیچھے سے۔ ایسی احادیث بکثرت ہیں جن میں میزان کا ذکر ہے سورة القارعہ کی آیت (فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُۂ فَہُوَ فِیْ عِیْشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ ) کی تفسیر میں کچھ نقل کی ہیں۔
بغوی نے لکھا ہے روایت میں آیا ہے کہ حضرت داؤد ( علیہ السلام) نے اپنے رب سے درخواست کی کہ مجھے میزان دکھا دی جائے اللہ نے ان کو میزان (اس حالت میں) دکھا دی کہ اس کا ہر پلڑا اتنا تھا کہ مشرق سے مغرب تک اس کی وسعت تھی حضرت داؤد بےہوش ہوگئے ‘ جب ہوش آیا تو عرض کیا الٰہی ایسا کون ہے جو اپنے نیکیوں کے پلڑے کو بھر سکے ‘ اللہ نے فرمایا داؤد ( علیہ السلام) جب میں اپنے بندے سے راضی ہوں گا تو ایک چھوارے (کو خیرات کرنے سے) اس کی نیکیوں کے پلڑے کو بھر دوں گا۔ اَلْمَوَازِیْنُجمع کا صیغہ ہے نسفی نے بحر الکلام میں اس کی چند وجوہ لکھی ہیں۔ (1) ہر شخص کی میزان الگ الگ ہوگی۔ (2) یا یوں کہا جائے کہ جمع کا صیغہ بول کر واحد مراد لے لیا جاتا ہے جیسے آیت فنادتہ الملائکۃ میں ملائکہ سے جبرئیل ( علیہ السلام) مراد ہیں اور یٰااَیُّہَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبَاتِمیں الرسل سے مراد صرف رسول اللہ ﷺ کی ذات ہے۔ (3) یا یوں کہا جائے کہ میزان کے ہر جزء پر کو میزان مان کر اس کی جمع موازین ذکر کی ‘ جیسے سراویل (پاجامہ شلوار) جمع کا صیغہ ہے جس کا واحد سراولۃ اور پاجامہ کے ہر جز کو سراولہ قرار دے کر مجموعۂ اجزاء کو سراویل کہا جاتا ہے۔
فلا تظلم نفس شیئاً پھر کسی شخص پر کچھ بھی ظلم نہیں کیا جائے گا ‘ نہ ادنیٰ حق تلفی کی جائے گی نہ برائیوں میں کوئی
اضافہ کیا جائے گا۔
وان کان مثقال حبۃ من خردل اتینا بہا اور اگر اس کا عمل رائی کے دانے کے برابر ہوگا تو ہم اس کو بھی
(میزان میں) لے آئیں گے۔ رائی کے دانے سے مراد ہے حقیر ترین (رائی کے دانہ کے برابر ہو یا اس سے کم و بیش)
ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ : کا قول بیان کیا ہے ‘ قیامت کے دن لوگوں کا محاسبہ کیا جائے گا ‘ جس کی نیکیوں کی تعداد برائیوں سے ایک بھی زائد ہوگی وہ جنت میں جائے گا اور جس کے گناہوں کی تعداد نیکیوں سے ایک بھی زائد ہوگی وہ دوزخ میں جائے گا۔ یہ بھی حضرت ابن عباس ؓ : کا قول ہے کہ ایک دانہ کے وزن سے میزان ہلکی یا بھاری ہوجائے گی اور جس کی نیکیاں اور بدیاں برابر ہوں گی وہ اصحاب اعراف میں سے ہوگا اور اس کو صراط پر روک لیا جائے گا۔
وکفی بناحا سبین۔ اور ہم حساب لینے والے کافی ہیں۔
سدی نے حاسبین کا ترجمہ کیا محصین گنتی میں احاطہ کرنے والے حسب کا معنی ہے اندازہ کرنا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے ترجمہ کیا جاننے والے ‘ یاد رکھنے والے جو شخص کسی چیز کی گنتی کرتا ہے یقیناً اس چیز کا اس کو علم ہوجاتا ہے اور وہ چیز اس کو حفظ ہوجاتی ہے۔ کفی بنا کا یہ مطلب ہے کہ اللہ کے علم و عدل سے کسی کا علم و عدل بڑھ کر نہیں۔
Ayah 21:48ولقد اتینا موسیٰ و ہرون الفرقان وضیآء وذکرا للمتقین اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ اور
ہارون ( علیہ السلام) کو بھی ایک فیصلہ کی روشنی کی اور ان متقیوں کے لئے نصیحت کی چیز (یعنی توریت) عطا کی تھی۔
اَلْفُرْقَانَیعنی توریت جو حق و باطل سے الگ کرنے والی اور دونوں میں امتیاز پیدا کردینے والی تھی۔
ضِیَآءًعظیم الشان روشنی۔ جو لوگ حیرت و جہالت کی تاریکیوں میں پڑے ہوئے تھے ان کو روشنی عطا کرنے والی۔ ذکراً متقیوں کے لئے ہدایت نامہ ‘ یادداشت جس سے اہل تقویٰ نصیحت حاصل کرتے تھے یا ذکر سے مراد یہ ہے کہ اس میں ضوابط شرعیہ بیان کئے گئے تھے۔ غرض یہ کہ توریت میں یہ تینوں اوصاف تھے۔
ابن زید نے کہا فرقان سے مراد ہے دشمنوں پر فتح۔ اللہ نے یوم الفرقان یوم بدر کو فرمایا ہے (جس میں مسلمانوں کو کافروں پر فتح حاصل ہوئی تھی) بعض نے کہا فرقان (جدا کرنے) سے مراد ہے سمندر کو پھاڑنا (پایاب بنا دینا) اس قول پر ضیآء اور ذکر سے مراد توریت ہوگی جو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے پاس آتی تھی اور اس کی روشنی میں حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کو نصیحت کرتے تھے۔
Ayah 21:49الذین یخشون ربہم بالغیب وہم من الساعۃ مشفقون۔ جو اپنے رب سے بن دیکھے
ڈرتے ہیں اور وہ ہی قیامت سے بھی خوف کھاتے ہیں۔ یہ متقین کی صفت ہے یا فعل مدح محذوف ہے اور الذیناس کا مفعول۔ مشفقون ڈرنے والے۔ ہُمْکو شروع میں لانے سے یا تو مبالغہ مقصود ہے یا غیر متقین پر تعریض کہ جو متقی ہیں وہی ڈرتے ہیں اور جو متقی نہیں ہیں وہ نہیں ڈرتے۔
Ayah 21:50وہذا ذکر مبارک انزلنہ افانتم لہ منکرون۔ اور یہ (قرآن بھی) ایک کثیر الفائدہ نصیحت (کی کتاب) ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے تو کیا پھر بھی تم اس سے منکر ہو۔
ہٰذَا یعنی قرآن ذِکْرٌ مُّبَارَکٌیعنی ایسا ذکر عظیم ہے جس کی (افادیت اور) خیر کثیر ہے۔
اَنْزَلْنٰہُیعنی اس کو ہم نے محمد ﷺ پر اتارا ہے۔ انتم سے خطاب اہل مکہ کو ہے اور استفہام انکاری ہے۔ یعنی جب یہ قرآن کثیر خیر والا ہے اور اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے تو پھر تم کو اس کا انکار نہ کرنا چاہئے۔
Ayah 21:51ولقد اتینا ابراہیم رشدہ من قبل وکنا بہ علمین۔ اور ہم نے (موسیٰ ( علیہ السلام) سے بہت) پہلے ابراہیم ( علیہ السلام) کو (ان کی شان کے مناسب) راستی فہم عطا کی تھی اور ان سے (ان کے احوال سے خوب) واقف تھے۔
رشد یعنی توحید اور بت پرستی سے پرہیز۔ رشدہ میں اضافت بتارہی ہے کہ رشد میں ابراہیم کا بہت بڑا درجہ تھا۔ من قبل یعنی موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) سے پہلے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے جو محمد کے پاس وحی بھیجی یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ہمیشہ سے اللہ کا یہی دستور رہا ہے مخلوق کی اصلاح کے لئے اللہ پیغمبروں کے پاس وحی بھیجتا رہا ہے۔
بعض اہل تفسیر نے من قبل کی تشریح کی ہے بالغ ہونے سے پہلے جب کہ حضرت ابراہیم بچہ ہی تھے اور غار سے باہر آئے تھے اور سورج و چاند سے روگرداں ہو کر اللہ ہی کی طرف رخ کیا تھا اور اِنِّیْ وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ ۔۔ کہا تھا اس صورت میں آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے بچپن میں ہی ابراہیم کو نبوت عطا کردی تھی۔ اسی طرح حضرت یحییٰ کے متعلق فرمایا ہے اٰتَیْنَاہُ الْحکم صبِیًّا۔
یا یہ مطلب ہے کہ نبی بنانے سے پہلے ہم نے ابراہیم کو رشد عطا کردی تھی۔ وَکُنَّا بِہٖ عٰلِمِیْنَیعنی ہم ابراہیم کو جانتے تھے کہ وہ ہدایت و نبوت کے اہل ہیں۔ کیونکہ ان کا مبدء تعین اللہ کا اسم ہادی اور عالم تھا (پس ان پر اللہ کی صفت ہدایت و علم کا پر تو پڑا تھا۔ مترجم)
Ayah 21:52اذ قال لابیہ وقومہ ما ہذہ التماثیل التی انتم لہا عاکفون۔
جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا یہ کیا مورتیاں ہیں جن کی عبادت پر تم جمے ہوئے ہو۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اہانت آمیز لہجے میں دریافت کیا اور قوم والے جو مورتیوں کی تعظیم کرتے تھے اس پر ان کو تنبیہ کی کہ یہ مورتیاں ہیں بےجان ہیں نہ فائدہ پہنچا سکتی ہیں نہ نقصان۔ چونکہ عکوف کے بعد علیٰ آتا ہے اس لئے لہا میں لام تعدیہ کا نہیں ہے بلکہ اختصاص کے لئے ہے۔ یعنی خصوصیت کے ساتھ تم ان کے لئے جمے ہوئے ہو یا لام بمعنی علیٰ ہے یعنی تم ان کی عبادت پر جمے ہوئے ہو یا عکوف کے اندر عبادت کا معنی داخل ہے ‘ یعنی تم ان کی عبادت کرتے ہو۔
Ayah 21:53قالوا وجدنا ابآء نا لہا عبدین۔ انہوں نے کہا ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ان کی پوجا کرتے پایا (یعنی ہمارے
اسلاف ان کی پوجا کرتے تھے قدیم سے ایسا ہوتا چلا آیا ہے کیا ہمارے باپ دادا بیوقوف تھے (مترجم) قوم والوں نے اپنی بت پرستی کا سبب بیان کیا کہ ہم اپنے اسلاف کی تقلید کرتے ہیں (کوئی عقلی وجہ نہ بیان کرسکے تو قومی رواج کا سہارا لیا) ۔
Ayah 21:54قال لقد کنتم انتم وابآوکم فی ضلل مبین ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا تم بھی یقیناً گمراہی میں پڑے ہوئے ہو اور تمہارے باپ دادا بھی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔
یعنی تم سب کھلی ہوئی غلطی پر ہو پتھروں کی پوجا کرتے ہو جو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ ضرر۔ تمہارے باپ دادا بھی کھلی ہوئی غلط راہ پر تھے اور تم ان کے پیرو ہو تو تم بھی غلط راستہ پر ہو۔
Ayah 21:55قالوا انہوں نے کہا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قول ان کو عجیب معلوم ہوا۔ باپ دادا کو گمراہ بتانا ان کی نظر میں عجیب تھا ‘ اس لئے خیال کیا کہ شاید ابراہیم کوئی دل لگی کی بات کہہ رہا ہے۔
اجئتنا بالحق ام انت من اللعبین۔ کیا واقعی کوئی صحیح بات ہم سے کہہ رہے ہو یا دل لگی کر رہے ہو یعنی کیا کوئی ایسی حق بات کہہ رہے ہو جس کی کوئی عقلی سند اور واقعی ثبوت ہو یا یہ محض تفریح طبع کے طور پر یوں ہی کہہ رہے ہو۔ استفہام انکاری ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ تمہاری بات مبنی برحق تو نہیں ہے ‘ (اسلاف کو گمراہ بتانا کس طرح صحیح ہوسکتا ہے) معلوم ہوتا ہے کہ تم دل لگی کر رہے ہو۔
Ayah 21:56قال بل ربکم رب السموت والارض الذی فطرہن وانا علی ذلکم من الشہدین۔
ابراہیم ( علیہ السلام) نے کہا (میں دل لگی کے طور پر یہ بات نہیں کہتا) بلکہ تمہارا رب وہی ہے جو آسمانوں کا اور زمین کا رب (مالک و حاکم) ہے جس نے ان کو نیست سے ہست کیا ہے اور میں بھی اسی کی شہادت دینے والوں میں سے ہوں۔
فَطَرَہُنَّیعنی بغیر سابقہ نظیر کے اللہ نے ان کو نیست سے ہست کیا ہے۔ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِکے بعد فطرہن کہنے کی وجہ یہ ہے کہ جاہل لوگ رب کا اطلاق بادشاہ (اور ہر سرپرست) پر بھی کرتے ہیں اور نمرود نے تو کہا ہی تھا اَنَا اُحْیِیْ وَاُمِیْتُ ۔ اس خیال کو دفع کرنے کے لئے فرمایا ‘ اللہ تمام آسمانوں اور زمینوں کا ایسا رب ہے کہ اسی نے ان کو پیدا کیا ہے اور وہی عدم محض سے وجود میں لایا ہے۔ بل کے لفظ سے گریز ہے یعنی میں تفریح کے لئے ایسی بات نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ زمین و آسمان شہادت دے رہے ہیں کہ اللہ ہی ان کا خالق ہے ‘ یہ سب ممکن اور محل حوادث ہیں یہ اپنی ہستی میں ایسے واجب الوجود کے محتاج ہیں جو وحدہ لا شریک اور تمام صفات کمالیہ سے متصف ہے پس وہی معبود ہونے کا مستحق ہے۔ میں بھی ان خاموش شہادت دینے والوں میں سے ہوں ‘ اور زبان سے اور دل سے اس کی توحید ذاتی و صفاتی کی شہادت دے رہا ہوں۔
Ayah 21:57وت اللہ لاکیدن اصنامکن بعد ان تولوا مدبرین۔ اور خدا کی قسم میں تمہارے (ان) بتوں کی گت بناؤں
گا جب تم ان کے پاس سے منہ پھیر کر چلے جاؤ گے۔
کَیْدَکا معنی ہے مکر۔ تدبیر۔ یہاں مراد ہے کہ کسی تدبیر سے میں ان کو توڑنے کی کوشش کروں گا۔ بیضاوی نے لکھا ہے ت قسمیہ واؤ قسمیہ سے بدل کر آئی ہے اس میں تعجب کا معنی ہے (واو قسمیہ میں تعجب کا معنی نہیں ہوتا) چونکہ بتوں کو توڑنا یا نقصان پہنچانا ایک مشکل کام تھا بت پرستوں کو نمرود کی اور ساری قوم کی حمایت حاصل تھی نمرود کی حکومت تھی ‘ ان سب کے مقابلہ میں بت شکنی عجیب بات تھی اس لئے (بجائے واؤ کے) ت قسمیہ اور لفظ کید کا استعمال کیا۔ (جوہری کے نزدیک کسی چیز کے متعلق برا ارادہ کرنے کو بھی کہتے ہیں ‘ 12)
مُدْبِرِیْنَیعنی جب ان کو پیچھے چھوڑ کر میلہ میں چلے جاؤ گے تو میں ان کو نقصان پہنچانے اور توڑنے کی کوئی تدبیر کروں گا۔
بغوی نے مجاہد اور قتادہ کا قول نقل کیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ بات چپکے سے کہی تھی۔ سوائے ایک شخص کے اور کوئی نہیں سن سکا تھا۔ اسی نے یہ بات پھیلا دی اور اسی نے کہا تھا کہ ایک نوجوان جس کا نام ابراہیم ہے بتوں کا ذکر کر رہا تھا ہم نے خود سنا تھا۔
سدی نے کہا قوم نمرود کا سالانہ تہوار ایک میلہ ہوتا تھا جب وہ میلہ سے واپس آتے تھے تو سیدھے بتوں کے پاس آتے تھے ان کو سجدے کرتے تھے پھر گھروں کو جاتے تھے حسب معمول جب میلہ کا وقت آیا تو حضرت ابراہیم سے ان کے باپ نے کہا تم بھی اگر ہمارے ساتھ میلے کو چلو تو بہتر ہے ہمارا دین (رواج ‘ مذہبی دستور) تم کو پسند آئے گا۔ باپ کے کہنے سے حضرت ابراہیم ان کے ساتھ ہو لئے کچھ ہی راستہ طے کیا تھا کہ آپ نے خود اپنے کو زمین پر گرا لیا اور کہنے لگے میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے آپ کا مطلب یہ تھا کہ میرے پاؤں میں چوٹ آگئی ہے جب سب لوگ چلے گئے اور صرف کمزور لوگ پیچھے رہ گئے تو حضرت نے پکار کر وہ الفاظ کہے جن کا ذکر آیت میں کیا گیا ہے لوگوں نے آپ کے الفاظ سن لئے پھر حضرت ابراہیم لوٹ آئے اور بت خانہ کی طرف پہنچے تمام بت ایک بڑے کمرے میں قطار بند رکھے ہوئے تھے بت خانہ کے دروازے کے سامنے سب سے بڑا بت تھا اس کے برابر اس سے چھوٹا پھر اس کے برابر اس سے بھی چھوٹا اسی طرح سب کی قطار تھی اور سب کے سامنے تیار کھانا بھی رکھا ہوا تھا کھانا اس لئے سب کے سامنے چنا گیا تھا کہ بتوں کی وجہ سے کھانے میں برکت آجائے اور میلہ سے واپس آکر سب لوگ اس کو کھائیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بطور استہزاء بتوں سے فرمایا تم کھاتے کیوں نہیں جب کوئی جواب نہیں ملا تو فرمایا تمہیں کیا ہوگیا تم بولتے کیوں نہیں اس کے بعد بتوں کی طرف مڑے اور دائیں ہاتھ سے اس قسم کی وجہ سے جو بتوں کو توڑنے کے سلسلے میں آپ نے کھائی تھی اور فرمایا تھا تالِلّٰہِ لَاَ کِیْدَنَّ اَصْنَامَکُمْبتوں پر ضرب لگائی (آیت میں آیا ہے فَرَاغَ عَلَیْہِمْ ضَرْباً بالْیَمْیِنِ اور یمین دائیں ہاتھ کو بھی کہتے ہیں اور قسم کو بھی (مترجم) ۔
Ayah 21:58فجعلہم جذاذا الا کبیرا لہم پس ان (بتوں) کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا گیا مگر پرزے بت کو بغیر توڑے ان
کے لئے چھوڑ دیا۔ جذاذ بروزن فعال بمعنی مفعول ہے جیسے حطام۔ یہ جذ سے ماخوذ ہے جذ کا معنی ہے کاٹنا۔ بعض اہل لغت کہتے ہیں جذاذ جمع کا صیغہ ہے لیکن اس کا کوئی مفرد نہیں ہے ‘ کبیر سے مراد ہے بڑا بت جس کو حضرت ابراہیم نے نہیں توڑا اور اس کے کاندھے پر تیر رکھ دیا۔ فَجَعَلَہُمْمیں جمع مذکر کی ضمیر اس لئے ذکر کی کہ بت پرستوں کے خیال میں ان کے بت ذی علم تھے۔
لعلہم الیہ یرجعون۔ کہ شاید وہ لوگ ابراہیم کی طرف (دریافت کرنے کے لئے) لوٹیں۔ الیہ کی ضمیر ابراہیم
کی طرف راجع ہے حضرت ابراہیم بتوں سے دشمنی رکھنے اور بت پرستی کی مخالفت کرنے میں مشہور تھے اس لئے حضرت نے بتوں کو توڑ دیا اور بڑے بت کو چھوڑ دیا یہ خیال کر کے جب یہ لوگ واپس آئیں گے تو میرے پاس آئیں گے اس وقت میں ان کو جتلا دوں گا کہ تمہارے معبود ایک آدمی کا بھی مقابلہ نہیں کرسکتے۔ یا اِلَیْہِ کی ضمیر بڑے بت کی طرف راجع ہے مطلب یہ ہے کہ بت پرست لوگ جب میلہ سے واپس بڑے بت کے پاس آئیں گے تو اس سے دریافت کریں گے کہ چھوٹے بتوں کی یہ حالت کس نے کی معبود کو علم ہونا اور جواب دینا چاہئے۔ وہ معبود ہی کیا جو نہ کچھ جانے نہ جواب دے آخر جواب نہ پا کر خود ہی ذلیل ہوں گے۔
یا الیہ کی ضمیر اللہ کی طرف راجع ہے مطلب یہ کہ جب بتوں کی بےبسی ان پر ظاہر ہوگی تو شاید وہ اللہ کی طرف لوٹ آئیں۔
Ayah 21:59قالوا من فعل ہذا بالہتنا انہ لمن الظلمین۔ انہوں نے کہا ہمارے ان معبودوں کے ساتھ کس نے
یہ حرکت کی بلاشبہ وہ ظالموں میں سے ہے (کہ ان بےچاروں کو بےقصور اس نے توڑا اور ہمارے جذبۂ مذہبی کا بھی لحاظ نہیں کیا اور ہم کو دکھ پہنچایا (مترجم) ۔
مَنْ فَعَلَمیں مَنْ سوالیہ ہے اور موصولہ بھی ہوسکتی ہے یعنی جس نے بھی یہ حرکت کی وہ ظالم ہے ‘ اس نے معبودوں سے یہ گستاخی کی یا ان کو ایسا توڑا کہ ریزہ ریزہ کردیا یا یہ کہ اس نے اپنے اوپر خود ظلم کیا کہ اپنے کو ہلاکت کے لئے تیار کیا۔
Ayah 21:60قالوا سمعنا فتی یذکرہم یقال لہ ابراہیم۔ کہنے لگے ہم نے ایک نوجوان کو ان (بتوں) کا (برائی
کے ساتھ) تذکرہ کرتے سنا تھا اس نوجوان کو ابراہیم کہا جاتا ہے۔ یہ خبر نمرود اور اس کے اراکین سلطنت کو جب پہنچی تو۔
Ayah 21:61قالوا فاتوا بہ علی اعین الناس لعلہم یشہدون۔ انہوں نے کہا اگر اس نے ایسا کیا تو) اس کو لوگوں کی نظروں کے سامنے لاؤ تاکہ وہ (اس کے قول و فعل کی) شہادت دیں اور بلاثبوت ہم سزا دینے کے مرتکب نہ ہوں) قتادہ حسن اور سدی نے یہی مطلب بیان کیا ہے بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ اعین سے مراد ہیں سردار یعنی سرداران قوم اور حکام کے سامنے اس کو لاؤ۔ محمد بن اسحاق نے کہا یشہدون کا یہ مطلب ہے کہ لوگ آئیں اور دیکھیں کہ اس کو ہم کیسی سخت سزا دیتے ہیں۔ غرض جب لوگ ابراہیم کے پاس آئے تو۔
Ayah 21:62قالواء انت فعلت ہذا بالہتنا یابرہیم۔ انہوں نے کہا اے ابراہیم کیا تو نے ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ حرکت کی ہے۔
Ayah 21:63قال بل فعلہ کبیرہم ہذا فسئلوہم ان کانوا ینطقون۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا بلکہ یہ کام ان کے اس
بڑے نے کیا ہے تم ان بتوں سے پوچھ دیکھو اگر یہ بول سکیں گے (تو بتادیں گے)
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بڑے بت پر بڑا غصہ تھا اور اس سے آپ کو نفرت زیادہ تھی کیونکہ وہ لوگ اس کی تعظیم زیادہ کرتے تھے اسی لئے بت شکنی کی نسبت آپ نے بڑے بت کی طرف مجازاً کردی۔ یا یوں کہا جائے کہ آپ نے بت شکنی پر تعریض اقرار نما کی استہزاء کے طرز میں خود بت توڑنے کا اقرار کرلیا۔ جیسے اگر آپ کسی ایسے آدمی کی جو خوشخط نہ ہو کوئی خوشخطی کی تحریر دیکھ کر کہیں کیا یہ تم نے لکھا ہے اور وہ جواب دے میں نے نہیں بلکہ آپ نے لکھا ہے یہ تعریضی اقرار ہے گویا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یوں جواب دیا میں نے نہیں کی بلکہ اس بڑے بت نے کی۔ یا یوں کہا جائے کہ بت پرستوں کا یہ اعتقاد تھا کہ بڑے بت کی موجودگی میں چھوٹے بتوں کی پوجا سے بڑا بت ناراض ہوتا ہے آپ نے ان کے عقیدہ کی نقل کردی۔ قتیبی نے کہا معنوی حیثیت سے کَبِیْرُہُمْ ہٰذَاکا تعلق فَسْءَلُوْہُمْ اِنْ کَانُوْا یَنْطِقُوْنَسے ہے مطلب یہ ہے کہ اگر یہ بول سکتے ہیں تو ایسا بھی کرسکتے ہیں ‘ اور بول نہیں سکتے تو ایسا کر بھی نہیں سکتے گویا اس ضمن میں آپ نے بت شکنی کا اقرار کرلیا (اور بتوں کا عجز ظاہر کردیا) قتیبی کی یہ توجیہ غلط ہے کیونکہ کسائی نے کہا ہے جب ابراہیم نے اعراض کیا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ میں نے ایسا نہیں کیا۔ اس کے بعد اگر ضمنی اقرار مانا جائے گا تو ایسا ہوگا جیسے کوئی کہے میں نے یہ کام نہیں کیا بلکہ میں نے کیا اور ظاہر ہے کہ یہ منفی مثبت کا اجتماع غلط ہے ‘ پھر حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت کردہ حدیث سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ فَعَلَہٗپر وقف نہیں ہے (بلکہ فَعَلَہٗ کا تعلق کَبِیْرَہُمْسے ہے)
حضرت ابوہریرہ ؓ : کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابراہیم (علیہ السلام) نے تین بار کے علاوہ (صورۃً بھی) جھوٹ نہیں بولا دو بار ذات خداوندی کے متعقل (1) اِنِّی سَقیمٌکہا تھا (2) اور بَلْ فَعَلَۂ کَبِیْرُہُمْکہا تھا اور (تیسری بار کا واقعہ یہ ہوا کہ) کسی روز ابراہیم اور سارہ کا گزر کسی ظالم بادشاہ کی طرف سے ہوا بادشاہ سے کہا گیا کہ یہاں ایک شخص (نووارد) ہے جس کے ساتھ بہت ہی حسین عورت ہے۔ بادشاہ نے حضرت ابراہیم کو بلوایا اور دریافت کیا کہ یہ کون عورت ہے ؟ ابراہیم نے کہا میری بہن ہے پھر (واپس آ کر) سارہ سے کہا اگر اس ظالم کو معلوم ہوجاتا کہ تم میری بیوی ہو تو وہ تم کو مجھ سے چھین لیتا اب اگر تم سے وہ دریافت کرے تو تم یہی کہنا کہ میں ابراہیم کی بہن ہوں۔ واقعہ یہ ہے کہ تم میری اسلامی بہن ہو۔ روئے زمین پر میرے اور تمہارے سوا اور کوئی مؤمن نہیں ہے چناچہ بادشاہ نے سارہ کو بلوایا اور ابراہیم نماز پڑھنے کھڑے ہوگئے سارہ کو اس ظالم کے پاس پہنچایا تو اس نے سارہ پر دست درازی کرنی چاہی لیکن فوراً پکڑ لیا گیا (یعنی غیبی پکڑ ہوگئی) یہاں تک کہ پاؤں زمین پر پٹکنے لگا اور سارہ سے درخواست کی میرے لئے اللہ سے دعا کر دے ‘ میں تجھے (اچھا ہو کر) کوئی دکھ نہیں دوں گا سارہ نے اللہ سے دعا کی اللہ نے بندش کھول دی دوبارہ پھر اس نے ہاتھ بڑھایا اور پہلے کی طرح یا اس سے بھی زیادہ سختی کے ساتھ پکڑا گیا۔ اس نے پھر دعا کی درخواست کی اور ضرر نہ پہنچانے کا وعدہ کیا سارہ نے پھر دعا کی اور اللہ نے رہائی دے دی رہائی کے بعد بادشاہ نے کسی دربان کو بلایا اور کہا تو میرے پاس انسان کو نہیں بلکہ جن کو لے کر آیا ہے اس کے بعد اس نے ہاجرہ کو خادمہ کے طور پر سارہ کو دے کر رخصت کردیا سارہ ابراہیم کے پاس پہنچیں تو آپ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے آپ نے ہاتھ کے اشارے سے پوچھا کیا خبر ہے۔ سارہ نے کہا اللہ نے کافر کے فریب کو اسی کے سینہ پر پلٹ دیا اور اس نے خدمت کے لئے ہاجرہ (مجھے) دی ہے ؟
حضرت ابوہریرہ ؓ نے اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد کہا اے ماء السماء کی اولاد (آسمانی پانی مراد خالص نسب کا دعویٰ کرنے والا) یہ (ہاجرہ) ہی تمہاری ماں ہے۔ متفق علیہ۔
رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں تعریضات (اور ابہام) کو کذب مجازاً فرمایا کیونکہ بظاہر تعریض کذب کے مشابہ تھی اللہ نے (مشابہت صوری کی وجہ سے) جزاء سیۂ کو سیۂ فرمایا ہے ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے خود صراحتہً فرما دیا کہ تم میری دینی بہن ہو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت نے تعریضی الفاظ بولے تھے (جو بظاہر جھوٹ معلوم ہوتے ہیں اور حقیقت میں سچ ہیں ہر لفظ کے دو معنی ہیں ایک قریب الفہم دوسرے گہرے اور بعید از فہم حضرت ابراہیم کی مراد گہرے معنی تھا جو ان کا مخاطب نہ سمجھ سکا وہ قریب الفہم معنی سمجھ کر دھوکہ میں پڑگیا)
Ayah 21:64فرجعوا الی انفسہم فقالوا انکم انتم الظلمون۔ اس پر وہ لوگ اپنے جی میں سوچے پھر (آپس میں)
کہنے لگے حقیقت میں تم ہی لوگ ناحق پر ہو۔ یعنی اس وقت انہوں نے اپنی عقلوں کی طرف رجوع کیا اور غور و فکر کیا اور سمجھے کہ ابراہیم کی بات حق ہے اور ہم غلطی پر ہیں۔ اس لئے اپنے دل میں یا باہم کہنے لگے کہ تم ہی بڑا ظلم کر رہے ہو کہ جو بت بول نہیں سکتے نفع خود اپنے کو نہیں پہنچا سکتے اپنے دکھ کو دفع نہیں کرسکتے ‘ ان کی پوجا کرتے ہو۔
Ayah 21:65ثم نکسوا علی روسہم لقد علمت ما ہولآء ینطقون۔ پھر (شرمندگی کے مارے) اپنے سروں
کو جھکا لیا اور (بولے) ابراہیم (علیہ السلام) تم کو یہ تو معلوم ہی ہے کہ یہ (بت) کچھ بولتے نہیں ہیں۔ یعنی کچھ دیر کے لئے تو عقلوں کی طرف انہوں نے رجوع کرلیا تھا اور سمجھے تھے کہ ابراہیم کی بات درست ہے اور ہم غلطی پر ہیں لیکن پھر کفر کی طرف پلٹ گئے اور جھگڑا کرنے کی طرف لوٹ آئے اور کہنے لگے تم یہ بات تو یقیناً جانتے ہو کہ یہ بولتے نہیں ہیں ‘ بات نہیں کرتے۔ کفر کی طرف پلٹنے کو کسی چیز کو سرنگوں کرنے سے تشبیہ دی سر نیچے ٹانگیں اوپر اعلیٰ کو اسفل اور نچلے کو الٹ کر اونچا کردینا حق کو نچلا اور کفر کو سر بلند کردینا ہے۔ مَا ہٰؤُلآءِ یَنْطِقُوْنَیعنی یہ بت بات نہیں کرسکتے بولتے نہیں تو ہم ان سے دریافت کیا کریں۔
Ayah 21:66قال افتعبدون من دون اللہ ما لا ینفعکم شیئاً ولا یضرکم۔ اف لکم ولما تعبدون من دون اللہ افلا تعقلون۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا تو کیا خدا کو چھوڑ کر تم ایسی چیز کی پوجا کرتے ہو جو تم کو نہ کچھ نفع پہنچاتی ہے نہ نقصان۔
تف ہے تم پر (کہ باوجود وضوح حق کے تم باطل پر جمے ہوئے ہو) اور ان پر جن کو خدا کے سوا پوجتے ہو کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے۔
یعنی ابراہیم نے کہا کیا یہ بات جاننے کے بعد بھی کہ یہ بت نہ بولتے ہیں نہ نفع نقصان پہنچا سکتے ہیں تم ان کو پوجتے ہو۔ نہ بول سکنا اور اپنے پرستاروں کو فائدہ نہ پہنچا سکنا اور پرستش نہ کرنے والوں کو ضرر پہنچانے کی طاقت نہ رکھنا ایسی کمزوری ہے جو الوہیت کے منافی ہے۔ تمہاری حالت پر افسوس ہے کہ باطل پر جمے ہوئے ہو باوجودیکہ تمہاری نظر میں بھی اس کا باطل ہونا واضح ہوگیا اور ان معبودوں کی حالت بھی قابل نفرت و افسوس ہے کہ باوجود استحقاق نہ ہونے کے ان کو معبود بنایا جا رہا ہے کیا تم یہ باتیں دیکھتے ہو پھر بھی نہیں سمجھتے کہ یہ بت قابل پرستش نہیں واجب العبادت اور مستحق معبودیت صرف اللہ ہے۔
Ayah 21:67اف اس آواز کو کہتے ہیں جو کسی چیز سے کراہت کرنے والا اور اکتا جانے والا اپنے منہ سے نکالتا ہے۔ بعض اہل علم نے کہا کسی چیز کی تحقیر کے لئے یا بدبو محسوس کر کے جو آواز نکلتی ہے اس کو اف کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ : کی ناک میں ایک مرتبہ کسی طرح کی بدبو آئی اور آپ ﷺ نے بدبو محسوس کرلی تو فرمایا اف اف اور کپڑا ناک کو لگا لیا۔ بیضاوی نے لکھا ہے اف کا معنی ہے قبح اور بدبو جب وہ لوگ عاجز ہوگئے (اور کوئی جواب بن نہ پڑا) تو آزار اور دکھ دینے کے درپے ہوگئے۔
Ayah 21:68قالوا حرقوہ وانصروا الہتکم ان کنتم فعلین۔ اور کہنے لگے اس کو (آگ سے) جلا دو اور اپنے
معبودوں کی مدد کرو اگر تم ایسا کرنے والے ہو (تو کرو) ۔
اِنْ کُنْتُمْشرط ہے کلام سابق جزاء پر دلالت کر رہا ہے اس لئے آگے جزاء کے ذکر کی ضرورت نہیں۔ یہ بات ایک شخص نے کہی جس کا نام ہنون کہا گیا ہے اللہ نے اس کو زمین میں دھنسا دیا اور وہ قیامت تک دھنستا چلا جائے گا۔ بعض نے کہا یہ بات نمرود نے کہی تھی۔ جب نمرود اور اس کی قوم کا باتفاق آراء فیصلہ ہوگیا کہ حضرت ابراہیم کو آگ میں جھونک دیا جائے تو آپ کو گرفتار کر کے ایک کوٹھری میں بند کردیا گیا اور باڑہ کی طرح کا ایک احاطہ بنایا یا قریۂ کو ثی میں ایک بہت بڑا گڑھا کھودا گیا اور ٹھوس قسم کی لکڑیاں آپ کو جلانے کے لئے وہاں اکٹھی کیں اور عام جوش اس حد تک پہنچ گیا کہ بیمار منت مانتا تھا کہ اگر میں اچھا ہوگیا تو ابراہیم (علیہ السلام) کو جلانے کے لئے لکڑیاں دوں گا۔ عورتیں اگر مراد مانگی تھیں تو کہتی تھیں اگر ہماری مراد پوری ہوگئی تو ہم ابراہیم کو جلانے والی آگ میں لکڑیاں ڈالیں گے لوگ وصیت کرتے تھے کہ ہمارے بعد لکڑیاں خرید کر ڈھیر میں شامل کردینا عورتیں چرخہ کات کر اس کی مزدوری سے لکڑیاں خرید کر بامید ثواب ڈھیر میں شامل کرتی تھیں۔
ابن اسحاق کا بیان ہے اس طرح ایک ماہ تک لوگ لکڑیاں جمع کرتے رہے جب حسب منشاء لکڑیاں جمع کرچکے تو ڈھیر میں ہر طرف سے آگ لگا دی آگ بھڑک اٹھی جب خوب تیز ہوگئی اور اس حد تک پہنچ گئی کہ پرندہ بھی جلنے کے ڈر سے اوپر سے نہ اڑ سکتا تھا تو انہوں نے مزید سات روز تک بھڑکنے دیا اور ابراہیم کو اس میں ڈالنا چاہا لیکن سمجھ میں نہ آتا تھا کہ آگ میں کیسے پھینکیں ابلیس نے آکر منجنیق (گوپھن یا چرخی) قائم کرنے کی تدبیر بتائی لوگوں نے چرخی بنائی اور سب سے اونچی عمارت کی چوٹی پر اس کو قائم کیا اور ابراہیم کو باندھ کر اس میں بٹھایا یہ دیکھ کر آسمان و زمین ملائکہ اور سوائے جن و انس کے ساری مخلوق چیخ پڑی اور عرض کیا اے ہمارے رب ! ابراہیم تیرا خلیل ہے اور آگ میں اس کو ڈالا جارہا ہے اس کے سوا روئے زمین پر اور کوئی تیری عبادت کرنے والا نہیں ہے ہم کو اجازت مل جائے تو ہم اس کی مدد کریں اللہ نے فرمایا ابراہیم میرا خلیل ہے اس کے سوا اور کوئی میرا خلیل نہیں اور میں ہی اس کا معبود ہوں میرے سوا اس کا اور کوئی معبود نہیں اگر وہ تم میں سے کسی کی مدد کا خواستگار ہو یا دعا کرے تو جس سے وہ مدد طلب کرے وہ اس کی مدد کرسکتا ہے میری طرف سے اس کو اجازت ہے اور اگر میرے سواء وہ کسی سے مدد کا طلبگار نہ ہو تو میں اس کی حالت کو خوب جانتا ہوں۔ میں ہی اس کا کارساز ہوں میرے اور اس کے درمیان تم حائل نہ ہو جونہی لوگوں نے حضرت ابراہیم کو آگ میں پھینکنا چاہا تو وہ فرشتہ جو پانی کا خازن (کارندہ) تھا آیا اور اس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا اگر آپ چاہیں تو میں آگ کو بجھا دوں اور ہوا کا مؤکل بھی آیا اس نے کہا اگر آپ کا منشاء ہو تو میں آگ کو ہوا میں اڑا دوں حضرت ابراہیم نے کہا مجھے تمہاری مدد کی ضرورت نہیں میرے لئے اللہ کافی ہے وہی میرا کارساز ہے۔
حضرت ابی بن کعب کی روایت میں آیا ہے کہ جب لوگوں نے ابراہیم کو آگ میں ڈالنے کے لئے مضبوطی کے ساتھ باندھ دیا تو آپ نے کہا لاَ اِلٰہَ الاَّ اَنْتَ سُبْحَانَکَ لَکَ الْحَمْدُ وَلَکَ الْمُلْکُ لاَ شَرِیْکَ لَکَاس کے بعد منجنیق میں رکھ کر آپ کو آگ کی طرف پھینک دیا گیا اسی دوران میں جبرئیل نے سامنے آکر کہا ابراہیم اگر تمہیں میری مدد کی ضرورت ہو تو میں موجود ہوں حضرت ابراہیم نے کہا مجھے آپ کی مدد کی ضرورت نہیں ‘ جبرئیل ( علیہ السلام) نے کہا تو پھر اپنے رب سے درخواست کیجئے ‘ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے کہا مجھے سوال کی کیا ضرورت ہے۔ میری حالت کا اس کو علم ہے میرے لئے یہی کافی ہے۔
کعب احبار کا بیان ہے ہر چیز نے ابراہیم کی آگ بجھانے میں حصہ لیا سوائے گرگٹ کے یہ آگ کو پھونکیں مار رہا تھا (تاکہ مزید اشتعال پیدا ہو) ۔
بغوی نے بوساطت سعید بن مسیب حضرت ام شریک کی روایت بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے گرگٹ کو قتل کردینے کا حکم دیا اور فرمایا یہ ابراہیم پر (بھڑکتی آگ) میں پھونکیں مار رہا تھا (اور آگ کو بھڑکا رہا تھا)
شیخین نے صحیحین میں اور طبرانی نے حضرت ابن عباس ؓ کی مرفوع حدیث نقل کی ہے گرگٹ کو قتل کرد و خواہ کعبہ کے اندر ہی ہو۔
حضرت سعد بن ابی وقاص راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے گرگٹ کو قتل کرنے کا حکم دیا اور اس کو فویسق (فاسق بچہ) فرمایا۔ رواہ مسلم۔
حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے گرگٹ کو برچھے کی پہلی ضرب سے قتل کیا اس کے لئے سو نیکیاں لکھی جائیں گی اور جس نے دوسری ضرب سے قتل کیا اس کے لئے اس سے کم (نیکیاں) لکھی جائیں گی اور جس نے تیسری ضرب سے قتل کیا اس کے لئے اس سے بھی کم (نیکیاں لکھی جائیں گی) ۔ رواہ مسلم۔