21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 21:69

قُلْنَا یٰنَارُ كُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَۙ Open ayah 21:69 in the Quran reader

ہم نے حکم دیا اے آگ سرد ہوجا اور ابراہیم پر (موجب) سلامتی (بن جا)

قلنا ینارکونی بردا و سلما علی ابراہیم۔ ہم نے حکم دیا اے آگ تو ٹھنڈی اور سلامتی بخش ہو جا ابراہیم کے لئے (حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اگر اللہ سلاماً نہ فرماتا تو آگ کی (انتہائی) سردی کی وجہ سے ابراہیم ( علیہ السلام) مرجاتے بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ سلاماً (کونی کی خبر نہیں ہے بلکہ) فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے یعنی ہم نے ابراہیم کو کامل طور پر سالم رکھا۔ بغوی نے لکھا ہے بعض آثار میں آیا ہے کہ اس روز تمام روئے زمین کی آگ بجھ گئی تھی دنیا بھر میں کوئی اس روز آگ سے فائدہ نہ اٹھا سکا اگر اللہ علیٰ ابراہیم نہ فرماتا تو ہمیشہ کے لئے آگ ٹھنڈی ہوجاتی۔ میں کہتا ہوں بظاہر آگ کی خاصیت سلب نہیں ہوئی تھی جلانے کی خاصیت حسب معمول موجود تھی لیکن حضرت ابراہیم کے لئے وہ ضرر رساں نہیں رہی تھی۔ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَکا لفظ اسی پر دلالت کر رہا ہے۔ سدی نے کہا ملائکہ نے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے بازو پکڑ کر زمین پر بٹھا دیا ‘ آپ نے وہاں اچانک شیریں پانی کا چشمہ اور خوبصورت سرخ گلاب کے پھول (اپنی نظر کے سامنے) دیکھے کعب کا بیان ہے آگ سے حضرت کے جسم کا کوئی حصہ متاثر نہیں ہوا صرف بندھن کی رسّی جل گئی۔ اہل روایت نے کہا ہے ابراہیم وہاں سات روز رہے۔ منہال بن عمرو کا بیان ہے کہ حضرت ابراہیم نے کہا جس آرام اور راحت کے ساتھ میں چند روز آگ میں رہا اتنے آرام سے کبھی نہیں رہا۔ ابن یسار نے کہا اللہ نے سایہ کے موکل کو ابراہیم کی صورت عطا فرما کر بھیجا جو آکر ابراہیم کے پہلو میں آپ کی وحشت دور کرنے کے لئے بیٹھ گیا اور بحکم خدا حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) جنت کی ایک قمیص اور مسند لے کر آئے قمیص حضرت ابراہیم کو پہنایا اور مسند پر بٹھایا اور خود بھی آپ کے ساتھ مسند پر باتیں کرنے کے لئے بیٹھ گئے اور اللہ کی طرف سے پیام پہنچایا اور کہا آپ کا رب فرماتا ہے کیا تم کو معلوم نہیں کہ میرے دوستوں کو آگ ضرر نہیں پہنچایا کرتی ہے ‘ کچھ مدت کے بعد نمرود نے ایک اونچی عمارت کے اوپر سے حضرت ابراہیم کو جھانک کر دیکھا اور آپ کو باغ میں بیٹھا پایا اور ایک فرشتہ کو (بصورت انسان) آپ کے پہلو میں بیٹھا ہوا دیکھا اور آپ کے چاروں طرف آگ ہی آگ تھی جو لکڑیوں کو جلا رہی تھی یہ منظر دیکھ کر پکار کر کہا ابراہیم تیرا معبود بہت بڑا ہے جس کی قدرت اس حد تک ہے کہ وہ تیرے اور اس (آگ) کے درمیان حائل ہوا جو میں دیکھ رہا ہوں۔ ابراہیم کیا تو اس سے نکل بھی سکتا ہے ؟ حضرت نے فرمایا ہاں ‘ نمرود نے کہا تجھے اس بات کا ڈر ہے کہ اگر وہاں رہے گا تو آگ تجھے دکھ پہنچائے گی ؟ حضرت ابراہیم نے فرمایا نہیں۔ نمرود نے کہا تو پھر اٹھ کر وہاں سے نکل آ۔ حضرت ابراہیم اٹھ کھڑے ہوئے اور آگ میں قدموں سے چل کر باہر آگئے۔ نمرود نے کہا ابراہیم (علیہ السلام) ! وہ کون آدمی تھا جو تمہارے پہلو میں میں نے بیٹھا دیکھا تھا ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا وہ سایہ کا موکل تھا ‘ میرے رب نے آگ کے اندر میری وحشت دور کرنے کے لئے اس کو میرے پاس بھیج دیا تھا ‘ نمرود نے کہا میں تیرے معبود کے لئے کچھ قربانی پیش کرنی چاہتا ہوں کیونکہ میں نے اس کی قدرت اور طاقت کا ظہور تیرے معاملے میں دیکھ لیا ہے کہ جب تو نے اس کے سوا دوسروں کی عبادت سے انکار کردیا اور اس کی توحید پر قائم رہا تو اس نے تیرے ساتھ کیسا سلوک کیا ‘ میں اس کے نام پر چار ہزار گائیں قربان کروں گا ‘ حضرت ابراہیم نے فرمایا جب تک تو اپنا مذہب چھوڑ کر میرے مذہب کو نہ اختیار کرلے گا میرا رب تیری قربانی قبول نہیں کرے گا۔ نمرود نے کہا میں اپنی سلطنت تو نہیں چھوڑ سکتا (مذہب تبدیل کروں گا تو سلطنت چھوڑنا پڑے گی) ہاں قربانی ضرور پیش کروں گا۔ چناچہ نمرود نے چار ہزار گایوں کی قربانی کردی اور پھر ابراہیم سے کوئی تعرض نہیں کیا۔ اللہ نے ابراہیم کو محفوظ کردیا۔ شعیب جبائی کا بیان ہے کہ جس وقت ابراہیم ( علیہ السلام) کو آگ میں ڈالا گیا اس وقت آپ سولہ سال کے تھے۔
Ayah 21:70

وَ اَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَخْسَرِیْنَۚ Open ayah 21:70 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے برا تو ان کا چاہا تھا مگر ہم نے ان ہی کو نقصان میں ڈال دیا

وارادوا بہ کیدا فجعلنہم الاخسرین۔ اور ان لوگوں نے ابراہیم ( علیہ السلام) کے ساتھ برائی کرنی چاہی تھی سو ہم نے انہی لوگوں کو ناکام کردیا۔ فَجَعَلْنٰہُمْ الْاَخْسَرِیْنَکی تشریح میں بعض لوگوں نے کہا کہ قوم نمرود کی مراد حاصل نہیں ہوئی چیزوں کے نرخ گراں ہوگئے اور مہنگائی بڑھ گئی۔ بعض نے کہا اللہ نے مچھروں کی فوج بھیج دی جس نے نمرود کا گوشت کھالیا اور ایک مچھر اس کے دماغ میں گھس گیا جس کی وجہ سے نمرود ہلاک ہوگیا محمد بن اسحاق کا بیان ہے اللہ نے جب ابراہیم کے لئے آگ کو ٹھنڈا اور سلامتی بخش کردیا تو یہ منظر دیکھ کر آپ کی قوم کے کچھ لوگ ایمان لے آئے لیکن نمرود اور اس کے حکام کا خوف تھا (اس لئے انہوں نے ایمان کا اعلان نہیں کیا) منجملہ ان کے آپ کے بھتیجے لوط بن ہاران بن تارخ بھی ایمان لے آئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ کا نام تارخ تھا جو حضرت لوط کا دادا تھا تارخ بن ثالث تھا ‘ ثالث کو ناخور بھی کہا جاتا تھا۔ حضرت ابراہیم کے چچا کی بیٹی سارہ بنت ہاران بھی ایمان لے آئی تھیں۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے قریۂ کونی (علاقۂ عراق) کو چھوڑ دیا اور لوط و سارہ کو ساتھ لے کر ترک وطن کردیا ‘ آپ کا یہ ترک وطن اللہ کے واسطے تھا اپنے دین کو محفوظ رکھنے کی غرض سے تھا اور اطمینان سے اپنے رب کی عبادت کرنے کے لئے تھا آپ نے فرمایا تھا اِنِّیْ مُہَاجِرٌا اِلٰی رَبِّیْ ۔ لوط کے مؤمن ہونے کا ذکر اللہ نے آیۃ فَاَمَنَ لَہٗ لُوْطٌمیں فرمایا ہے۔ کونی سے چل کر آپ حران پہنچے کچھ مدت وہاں قیام کیا پھر وہاں سے چل کر مصر پہنچے۔ پھر مصر سے شام کی طرف چل دیئے اور علاقۂ فلسطین میں سبع کے مقام پر اترے یہاں سے مؤتفکات کی بستیاں (سدوم وغیرہ جو بحیرۂ میت کے ساحل کی پانچ بستیاں تھیں۔ مترجم) چوبیس گھنٹے کی مسافت پر تھیں حضرت لوط وہاں چلے گئے اور اللہ نے ان کو پیغمبر بنا کر وہاں بھیج دیا۔
Ayah 21:71

وَ نَجَّیْنٰهُ وَ لُوْطًا اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا لِلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:71 in the Quran reader

اور ابراہیم اور لوط کو اس سرزمین کی طرف بچا نکالا جس میں ہم نے اہل عالم کے لئے برکت رکھی تھی

ونجینہ ولوطا الی الارض التی برکنا فیہا للعلمین۔ اور ہم ابراہیم ( علیہ السلام) کو اور لوط ( علیہ السلام) کو بچا کر اس زمین کی طرف لے گئے جس میں ہم نے دنیا جہان والوں کے لئے خیر و برکت رکھی تھی۔ برکت سے مراد ہے سرسبزی ‘ باغات ‘ درختوں اور پھلوں کی کثرت۔ منجملہ برکات کے یہ بھی ہے کہ بکثرت انبیاء کی بعثت اس سرزمین پر ہوئی۔ حضرت ابی بن کعب نے ارض مبارکہ کہنے کی یہ وجہ بیان کی کہ وہاں شیریں پانی کی کثرت ہے اور صخرۂ بیت المقدس کے نیچے سے ایک چشمہ جاری ہے۔ بغوی نے بروایت قتادہ بیان کیا کہ حضرت عمر ؓ نے حضرت کعب ؓ سے فرمایا تم مدینہ میں منتقل کیوں نہیں ہوجاتے وہ تو رسول اللہ ﷺ کا مقام ہجرت ہے اور روضۂ پاک بھی وہیں ہے۔ کعب نے کہا امیر المؤمنین ! میں نے اللہ کی کتاب (توریت) میں پڑھا ہے کہ ارض شام تمام زمین میں اللہ کا خزانہ ہے اور وہیں اللہ کے (خاص) بندوں کا خزانہ ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ نے فرمایا میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ آئندہ ہجرت ہوگی (لوگ وطن چھوڑ چھوڑ کر بھاگیں گے) پس بزرگ مرتبہ والے لوگ ابراہیم کے مقام ہجرت کی طرف چلے جائیں گے۔ دوسری روایت میں آیا ہے ابراہیم کے مقام ہجرت سے جو لوگ چمٹے رہیں گے وہ زمین کے تمام باشندوں میں برگزیدہ ہوں گے اور (باقی) زمین پر برے لوگ رہ جائیں گے ان کی زمینیں ان کو باہر نکال پھینکیں گی اللہ ان سے نفرت کرے گا بندروں اور سوروں کے ساتھ ایک آگ ان کو ہنکائے گی جہاں وہ رات کو قیام کریں گے آگ بھی رات کو ان کے ساتھ رہے گی اور جہاں وہ دوپہر کو ٹھہریں گے آگ بھی دوپہر کو ان کے ساتھ ٹھہرے گی۔ رواہ ابو داؤد۔ حضرت زید بن ثابت راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شام کے لئے خوشی ہو ہم نے عرض کیا کس وجہ سے ‘ فرمایا رحمت کے فرشتے اپنے پر پھیلائے اس پر سایہ فگن ہوں گے۔ رواہ احمد والترمذی۔ حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک آگ حضرموت (یمن) کی طرف سے نکلے گی یا یہ فرمایا کہ حضرموت سے ایک آگ لوگوں کو ہنکا کر لائے گی ہم نے عرض کیا پھر حضور ہم کو کیا حکم دیتے ہیں فرمایا تمہارے اوپر شام (میں رہنا یا آجانا) لازم ہے۔ رواہ الترمذی۔ حضرت ابو جوالہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عنقریب ایسا ہوگا کہ تمہاری تین مجتمع فوجیں ہوجائیں گی ایک فوج شام میں ‘ ایک فوج یمن میں اور ایک فوج عراق میں۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اگر میں نے وہ زمانہ پا لیا تو مجھے حکم دیجئے (میں اس وقت کیا کروں) فرمایا تیرے اوپر شام (میں رہنا یا آجانا) لازم ہے اللہ کی زمین میں شام کی سرزمین برگزیدہ ہے۔ برگزیدہ بندے ہی اس کی طرف آئیں گے اگر تم ایسا نہ کرسکو تو پھر یمن میں (رہنا یا اہل یمن کا ساتھ دینا) تم پر لازم ہے اللہ نے میرے لئے شام اور اہل شام کی ذمہ داری لی ہے۔ رواہ احمد و ابو داؤد۔ شریح بن عبید کی روایت ہے کہ حضرت علی ؓ کے سامنے اہل شام کا ذکر آیا اور لوگوں نے کہا امیر المؤمنین ان پر لعنت کیجئے۔ فرمایا نہیں۔ میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ ابدال شام میں ہوں گے اور وہ چالیس آدمی ہوں گے جب ان میں سے کوئی مرجائے گا تو اس کے بدل میں اللہ کسی اور شخص کو مقرر فرما دے گا ان کی برکت سے بارشیں ہوں گی اور انہیں کی وجہ سے دشمنوں پر فتح عطا کی جائے گی اور انہیں کے سبب سے اہل شام کی طرف سے عذاب کا رخ پھیر دیا جائے گا۔ رواہ احمد۔ حضرت عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘ میں نے اپنے سر کے نیچے سے نور کا ایک عمود نکلتا دیکھا یہ ستون جگمگاتا رہا یہاں تک (کہ اوپر اٹھنے کے بعد) شام میں پہنچ کر ٹھہر گیا۔ رواہ البیہقی فی الدلائل۔
Ayah 21:72

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ١ؕ وَ یَعْقُوْبَ نَافِلَةً١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِیْنَ Open ayah 21:72 in the Quran reader

اور ہم نے ابراہیم کو اسحق عطا کئے۔ اور مستزاد برآں یعقوب۔ اور سب کو نیک بخت کیا

ووہبنا لہ اسحاق و یعقوب نافلۃ اور ہم نے اس کو عطا کیا اسحاق اور (اس پر) مزید یعقوب۔ بعض علماء کا قول ہے کہ عافیۃٌ کی طرۃ نافلۃ بھی مصدر ہے اور گو لفظاً اس کا فعل پہلے مذکور نہیں مگر وہبنا (کا معنی بھی عطا کرنے کے ہیں اس لئے یہ وہبنا) کا مفعول مطلق ہے۔ مجاہد اور عطاء نے کہا نافلہ کا معنی ہے عطیہ۔ اسحاق اور یعقوب دونوں اللہ کے عطاکردہ تھے اس صورت میں نافلۃ دونوں سے حال ہوگا۔ حسن اور ضحاک نے کہا نافلہ کا معنی ہے فضل (مہربانی) یعنی ہم نے اپنی مہربانی سے ابراہیم ( علیہ السلام) کو (بیٹا) اسحاق اور (پوتا) یعقوب عطا کیا۔ اس صورت میں نافلہ علت ہبہ (مفعول لہ) ہوگا۔ حضرت ابن عباس ؓ ‘ حضرت ابی بن کعب ‘ ابن زید اور قتادہ کا قول مروی ہے کہ نافلۃ صرف یعقوب تھے نافلہ کا معنی ہے زائد۔ حضرت ابراہیم نے اللہ سے بیٹا مانگا تھا اور دعا کی تھی رَبِّ ہَبْ لِیْ مِنَ الصَّالِحِیْنَاللہ نے دعا قبول فرمائی اور اسحاق بیٹا عطا فرما دیا اور مزید اپنی طرف سے (بلا طلب) پوتا یعقوب بھی عطا کردیا۔ اس صورت میں نافلۃ یعقوب ( علیہ السلام) سے حال ہوگا۔ اس کا قرینہ موجود ہے اس لئے عبارت میں کوئی کمزوری نہیں۔ وکلا جعلنا صلحین۔ اور (ابراہیم ( علیہ السلام) ‘ لوط ( علیہ السلام) ‘ اسحاق ( علیہ السلام) ‘ یعقوب میں سے) ہر ایک کو ہم نے صالحین میں سے کردیا۔ یعنی غیر اللہ کے ساتھ لگاوٹ سے ان کے دلوں کو پاک صاف کردیا۔ برے اخلاق و اعمال سے ان کو شستہ رکھا ‘ ہر زنگ کو ان کے نفسوں سے صاف کردیا اور پھر اعلیٰ اوصاف و اخلاق کی ان کے دلوں پر جلا کردی ‘ گناہوں کی آلودگی سے ان کے بدنوں کو پاک رکھا۔ طاعت و صلاح میں ہر وقت مشغول رکھا ‘ بگاڑ کہیں پیدا نہ ہونے دیا ‘ نہ دل میں ‘ نہ نفس میں ‘ نہ جسمانی اعمال واطوار میں۔
Ayah 21:73

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِمْ فِعْلَ الْخَیْرٰتِ وَ اِقَامَ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءَ الزَّكٰوةِ١ۚ وَ كَانُوْا لَنَا عٰبِدِیْنَۚۙ Open ayah 21:73 in the Quran reader

اور ان کو پیشوا بنایا کہ ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے اور ان کو نیک کام کرنے اور نماز پڑھنے اور زکوٰة دینے کا حکم بھیجا۔ اور وہ ہماری عبادت کیا کرتے تھے

وجعلنہم ائمۃ یہدون بامرنا اور بنایا ہم نے ان کو (بھلائیوں اور صحیح افکار و اعمال میں لوگوں کا) پیشوا جو ہمارے حکم کے مطابق لوگوں کو ہدایت کرتے تھے۔ (ہمارے دین کا راستہ بتاتے تھے) ۔ واوحینا الیہم فعل الخیرت واقام الصلوۃ وایتاء الزکوۃ وکانوا لنا عبدین۔ اور ہم نے ان کے پاس حکم بھیجا نیک کام کرنے کا اور (خصوصاً ) نماز کی پابندی کا اور زکوٰۃ ادا کرنے کا اور وہ ہماری ہی عبادت کرنے والے تھے۔ خیرات یعنی وہ باتیں جو بذات خود بھی اچھی ہیں اور شریعت نے بھی ان کو اچھا قرار دیا ہے اِقَام الصَّلٰوۃِ وَاِیْتَآء الزَّکوٰۃِکا عطف فِعْلَ الْخَیْرٰتِپر ہے۔ زکوٰۃ اور صلوٰۃ خصوصیت کے ساتھ اچھے اور اہم امور ہیں ان کا عطف عام فعل الخیرات پر ایسا ہی ہے جیسے (اہمیت کی وجہ سے) عام پر خاص کا عطف کردیا جاتا ہے۔ اصل کلام اس طرح تھا ہم نے ان کے پاس وحی بھیجی کہ اچھے کام کریں اور کامل طور پر نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں۔ وَکَانُوْا لَنَا عٰبِدِیْنَیعنی وہ موحد اور عبادت کرنے میں مخلص تھے۔
Ayah 21:74

وَ لُوْطًا اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا وَّ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ تَّعْمَلُ الْخَبٰٓئِثَ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فٰسِقِیْنَۙ Open ayah 21:74 in the Quran reader

اور لوط (کا قصہ یاد کرو) جب ان کو ہم نے حکم (یعنی حکمت ونبوت) اور علم بخشا اور اس بستی سے جہاں کے لوگ گندے کام کیا کرتے تھے۔ بچا نکالا۔ بےشک وہ برے اور بدکردار لوگ تھے

ولوطا اتینہ حکما وعلما ونجینہ من القریۃ التی کانت تعمل الخبئث اور ہم نے لوط کو دیا حکم و علم ‘ حکمت یا نبوت یا مقدمات کو (فیصل کرنے کی قوت) اور ہم نے اس کو اس بستی سے جو گندی حرکات کرتی تھی بچا لیا۔ علم سے مراد ہے اللہ کی ذات وصفات کا اور پیغمبرانہ اوصاف کا علم۔ التِّیْ کَانَتْ تَّعْمل یعنی بستی والے گندے کام کرتے تھے خبائث سے مراد ہے لواطت اور غلے مارنا اور پرندوں سے کھیلنا وغیرہ۔ انہم کانوا قوم سوء فسقین۔ بلاشبہ وہ بڑے بدکار نافرمان لوگ تھے۔ یہ جملہ سابق کلام کی علت ہے۔
Ayah 21:75

وَ اَدْخَلْنٰهُ فِیْ رَحْمَتِنَا١ؕ اِنَّهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ۠ Open ayah 21:75 in the Quran reader

اور انہیں اپنی رحمت کے (محل میں) داخل کیا۔ کچھ شک نہیں کہ وہ نیک بختوں میں تھے

وادخلنہ فی رحمتنا انہ من الصلحین۔ اور ہم نے لوط ( علیہ السلام) کو اپنی رحمت میں داخل کرلیا کیونکہ وہ بلاشبہ نیکوں میں سے تھے۔ رحمت سے مراد ہے اہل رحمت یا جنت۔ میں کہتا ہوں ممکن ہے کہ عالم مثال میں بنظر کشف اللہ کی صفات بصورت دائرہ دکھائی دیتی ہوں اور یہ بھی نظر آتا ہو کہ صوفی اپنی حقیقت کے فناء اور صفات الٰہی کے ساتھ بقاء کے مرتبے میں داخل ہورہا ہے۔ (گویا نجینا سے مراد یہ ہے کہ لوط ( علیہ السلام) کو کثافت ذاتی سے ہم نے نکال دیا اور اَدْخَلْنَاہُ فِیْ رَحْمَتِنَاکا یہ مطلب ہے کہ ہم نے اپنی صفات کے دائرے میں اس کو داخل کردیا) الصالحین یعنی وہ لوگ جن کے لئے پہلے سے ہی اللہ نے بھلائی مقدر کردی ہے۔
Ayah 21:76

وَ نُوْحًا اِذْ نَادٰى مِنْ قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 21:76 in the Quran reader

اور نوح (کا قصہ بھی یاد کرو) جب (اس سے) پیشتر انہوں نے ہم کو پکارا تو ہم نے ان کی دعا قبول فرمائی اور ان کو اور ان کے ساتھیوں کو بڑی گھبراہٹ سے نجات دی

ونوحا اور نوح ( علیہ السلام) کو اس کا عطف لوطاً پر ہے یعنی ہم نے نوح ( علیہ السلام) کو حکم اور علم عطا کیا تھا۔ اذ نادی من قبل جب کہ (مذکورہ انبیاء سے) پہلے انہوں نے (انپے رب کو) پکارا تھا۔ یعنی قوم کو ہلاک کرنے کے لئے بددعا کی تھی۔ فاستجبنا لہ پس ہم نے ان کی دعا کو قبول کرلیا۔ فنجینہ واہلہ اور ہم نے ان کو اور ان کے اہل کو یعنی ان لوگوں کو۔ من الکرب العظیم۔ جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے سخت غم سے نجات دی۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا ڈوبنے سے اور قوم کی جانب سے تکذیب سے نجات دی۔ حضرت نوح کی عمر تمام انبیاء سے زیادہ ہوئی اور سختیاں بھی آپ نے سب سے زیادہ برداشت کیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ قوم والے حضرت نوح ( علیہ السلام) کو مارتے تھے اور اتنا مارتے تھے کہ اپنے خیال میں مردہ کردیتے تھے پھر ایک نمدہ میں لپیٹ کر گھر میں ڈال دیتے تھے۔ لیکن دوسرے روز آپ پھر گھر سے برآمد ہو کر لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتے تھے۔ محمد بن اسحاق نے بیان کیا کہ عبید بن عمیر لیثی نے کہا مجھے اطلاع پہنچی ہے کہ لوگ حضرت نوح کو پکڑ کر آپ کا گلا گھونٹتے کہ آپ بےہوش ہوجاتے پھر ہوش آتا تو کہتے میرے رب میری قوم کو بخش دے وہ ناواقف ہیں۔
Ayah 21:77

وَ نَصَرْنٰهُ مِنَ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 21:77 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے تھے ان پر نصرت بخشی۔ وہ بےشک برے لوگ تھے سو ہم نے ان سب کو غرق کردیا

ونصرنہ من القوم الذین کذبوا بایتنا انہم کانوا قوم سوء فاغرقنہم اجمعین۔ اور ہم نے نوح ( علیہ السلام) کا بدلہ ان لوگوں سے جنہوں نے ہمارے احکام کو جھوٹا قرار دیا۔ بلاشبہ وہ برے لوگ تھے سو ہم نے ان سب کو ڈبو دیا۔ وَنَصَرْنٰہُاور ہم نے اس کی مدد کی پس وہ غالب آگیا اور نجات پائی۔ بِاٰیٰتِنَا یعنی ہماری ان آیات کی جو نوح ( علیہ السلام) کی رسالت کو ثابت کر رہی تھیں۔ بیضاوی نے لکھا ہے اللہ نے ساری قوم نوح ( علیہ السلام) کو ہلاک کردیا ‘ کیونکہ انہوں نے حق کی تکذیب بھی کی تھی اور عملی شر میں بھی ڈوبے ہوئے تھے۔ جس قوم کے اندر بھی یہ دونوں خرابیاں یکجا ہوگئیں ‘ شاید اللہ نے اس ساری قوم کو برباد ہی کردیا۔
Ayah 21:78

وَ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ اِذْ یَحْكُمٰنِ فِی الْحَرْثِ اِذْ نَفَشَتْ فِیْهِ غَنَمُ الْقَوْمِ١ۚ وَ كُنَّا لِحُكْمِهِمْ شٰهِدِیْنَۗۙ Open ayah 21:78 in the Quran reader

اور داؤد اور سلیمان (کا حال بھی سن لو کہ) جب وہ ایک کھیتی کا مقدمہ فیصلہ کرنے لگے جس میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کو چر گئی (اور اسے روند گئی) تھیں اور ہم ان کے فیصلے کے وقت موجود تھے

وداود وسلیمن اذ یحکمن فی الحرث اور داؤد و سلیمان کا تذکرہ کیجئے جب دونوں ایک کھیت کے بارے میں مشورہ کرنے لگے۔ حضرت ابن مسعود ؓ :‘ حضرت ابن عباس ؓ اور اکثر اہل تفسیر کا قول ہے کہ وہ کھیت انگور کی بیلوں کا تھا جس میں خوشے نکل آئے تھے ‘ قتادہ نے کہا وہ غلے کا کھیت تھا۔ اذ نفست فیہ غنم القوم جب کہ اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں جا پڑی تھیں۔ اِذّکا تعلق یحکمان سے ہے یعنی وہ دونوں اس وقت فیصلہ کر رہے تھے جب کچھ لوگوں کی بکریاں بغیر چرواہے کے کسی کے کھیت میں پھیل گئی تھیں اور انہوں نے رات کے وقت کھیت کو (چرواہے کی غیر موجودگی میں) چر لیا تھا۔ کذا فی القاموس۔ نہایہ میں نَفَشَتْ السَّاءِمَۃُچرنے والے جانوروں نے رات کے وقت چرواہے کی غیر موجودگی میں چر لیا۔ اگر دن میں بغیر چرواہے کے کسی کھیت (یا محفوظ چراگاہ) میں جا پڑیں اور چرنے لگیں تو ہلمَتِ السَّاءِمَۃُکہا جاتا ہے ‘ نفش کا لغوی معنی ہے پھیل جانا (دُھنی ہوئی اون کو بھی اسی مناسبت سے عہن منفوش کہا جاتا ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے کالْعِہنِ الْمُنْفُوش۔ وکنا لحکمہم شہدین۔ اور ہم ان سب کے فیصلے سے واقف تھے۔ سب سے مراد ہیں داؤد ‘ سلیمان اور فریقین مقدمہ۔ فراء نے کہا صرف حضرت داؤدو حضرت سلیمان ( علیہ السلام) مراد ہیں جمع کا صیغہ بول کر تثنیہ (دو فرد) مراد ہوسکتا ہے۔ اللہ نے فرمایا فَاِنْ کَانَ لَہٗ اِخْوَۃٌ فَلِاْمِّہِ السُّدُسُاگر میت کے چند بھائی ہوں تو اس کی ماں کا (کل مال کا) چھٹا حصہ ہوگا۔ باجماع علماء اخوۃ ( جو جمع کا صیغہ ہے) سے مراد (کم سے کم) دو بھائی ہیں۔
Ayah 21:79

فَفَهَّمْنٰهَا سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ كُلًّا اٰتَیْنَا حُكْمًا وَّ عِلْمًا١٘ وَّ سَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ یُسَبِّحْنَ وَ الطَّیْرَ١ؕ وَ كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:79 in the Quran reader

تو ہم نے فیصلہ (کرنے کا طریق) سلیمان کو سمجھا دیا۔ اور ہم نے دونوں کو حکم (یعنی حکمت ونبوت) اور علم بخشا تھا۔ اور ہم نے پہاڑوں کو داؤد کا مسخر کردیا تھا کہ ان کے ساتھ تسبیح کرتے تھے اور جانوروں کو بھی (مسخر کردیا تھا اور ہم ہی ایسا) کرنے والے تھے

ففہمنہا سلیمن پس ہم نے (صحیح) فیصلہ یا فتویٰ سلیمان ( علیہ السلام) کو سمجھا دیا (ان کی سمجھ میں ڈال دیا) اس جگہ کچھ کلام محذوف ہے ‘ پورا کلام اس طرح تھا۔ ہمارے سمجھانے کے مطابق سلیمان ( علیہ السلام) نے فیصلہ کردیا اور داؤد نے اپنا فیصلہ منسوخ کر کے سلیمان کا فیصلہ جاری کردیا۔ بخاری نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ اللہ نے داؤد کے لئے کتاب اللہ کی تلاوت بہت آسان کردی تھی۔ گھوڑوں پر زینیں کسنے کا حکم دے کر وہ قرآن پڑھنا شروع کرتے تھے اور زینیں کسنے نہ پاتی تھیں کہ وہ پڑھ لیتے تھے اور داؤد صرف اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتے تھے۔ میں کہتا ہوں اس حدیث میں قرآن سے مراد زبور ہے۔ بغوی نے حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ کا یہی قول بتایا ہے۔ مسئلہ اس آیت سے ثابت ہو رہا ہے کہ فیصلہ کرنے کے بعد اگر حاکم کی رائے بدل جائے تو حکم جاری کرنے سے پہلے وہ سابق فیصلہ کو منسوخ کرسکتا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ قتادہ اور زہری نے بیان کیا کہ دو آدمی حضرت داؤد ( علیہ السلام) کے پاس آئے ‘ ایک کھیت کا مالک تھا اور دوسرا بکریوں کا۔ کھیت والے نے کہا اس کی بکریاں رات کو چھوٹ کر میرے کھیت میں پڑگئیں اور (سارا کھیت چر گئیں) کچھ بھی باقی نہیں رہا۔ حضرت داؤد ( علیہ السلام) نے فیصلہ کیا کہ کھیت کے عوض وہ بکریاں کھیت والے کو دے دی جائیں۔ حضرت داؤد ( علیہ السلام) کے پاس سے دونوں حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کے پاس آئے۔ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے پوچھا تم دونوں کے مقدمہ کا کیا فیصلہ ہوا جو فیصلہ حضرت داؤد ( علیہ السلام) نے کیا تھا دونوں نے بیان کردیا ‘ حضرت سلیمان نے فرمایا اگر تمہارا مقدمہ میرے سپرد کردیا جاتا تو میرا فیصلہ کچھ اور ہی ہوتا ایک روایت میں آیا ہے کہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے یہ بھی کہا تھا کہ میرا فیصلہ دونوں کے لئے فائدہ بخش ہوتا۔ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کے اس قول کی اطلاع حضرت داؤد کو بھی ہوگئی۔ آپ نے سلیمان ( علیہ السلام) کو بلوا کر فرمایا تم فیصلہ کرو۔ دوسری روایت میں آیا ہے کہ حضرت داؤد ( علیہ السلام) نے اپنی نبوت اور حق پدری کا واسطہ دے کر فرمایا مجھے بتاؤ وہ کیا فیصلہ ہے جو فریقین کے لئے سودمند ہے۔ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے کہا بکریاں کھیت والے کو دے دیجئے اور کھیت بکریوں کے مالک کے سپرد کر دیجئے۔ کھیت والا بکریوں کے دودھ اون اور نسل سے اتنی مدت تک فائدہ اندوز ہوتا رہے جتنی مدت تک کھیت بکریوں والے کی سپردگی میں رہے۔ بکریوں کا مالک کھیت کو درست کر کے اس میں بھیج بکھیر دے اور جب کھیتی تیار ہو کر اصلی حالت پر آجائے تو تیار کھیت کھیت والے کو دے دے اور اپنی بکریاں واپس لے لے۔ حضرت داؤد ( علیہ السلام) نے فرمایا صحیح فیصلہ یہی ہے جو تم نے کیا پھر آپ نے یہ فیصلہ جاری کردیا۔ روایت میں آیا ہے کہ فیصلہ کرنے کے وقت حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کی عمر گیارہ سال کی تھی۔ ابن ابی شیبہ نے المصنف میں اور ابن المنذر وابن مردویہ نے بھی حضرت ابن عباس ؓ : کی روایت سے بغوی کے اس بیان کی طرح قصہ نقل کیا ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے حضرت داؤد ( علیہ السلام) کا فتویٰ امام ابوحنیفہ (رح) کے فتوے کی طرح ہے جو مجرم غلام کے سلسلہ میں آپ نے دیا ہے اور حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا فیصلہ امام شافعی (رح) کے فتوے کی طرح ہے کہ مغصوب غلام اگر بھاگ جائے اور کوئی جنایت کرلے تو تاوان میں غلام سے کمائی کرائی جائے اور کمائی سے جب اصل حق ادا ہوجائے تو پھر غلام اصل مالک کو واپس کیا جائے۔ میں کہتا ہوں (امام ابوحنیفہ (رح) فقط اسی کے قائل نہیں کہ غلام کے آقا پر تاوان جنایت عائد کیا جائے گا اور عبد کو جنایت کے عوض میں صاحب حق کو دے دیا جائے گا بلکہ ان کے نزدیک تو غلام کا مالک اختیار رکھتا ہے خواہ جنایت عبد کا تاوان اپنے پاس سے ادا کرے یا غلام ہی کی ملکیت منتقل کر دے اور غلام کو ہی صاحب حق کی ملکیت میں دے دے۔ (مطلب یہ کہ امام ابوحنیفہ (رح) : کا فتویٰ حضرت داؤد ( علیہ السلام) کے فیصلے کی طرح نہیں ہے جس میں بکریوں کی ملکیت سے محروم کردیا گیا تھا ‘ بلکہ امام کا فیصلہ اپنے اندر دونوں رخ رکھتا ہے ‘ غلام کو ہی تاوان میں دے دیا جائے ‘ یا غلام کا مالک اپنے پاس سے تاوان ادا کرے اور غلام کو اپنی ملکیت میں باقی رکھے۔ ) حصاص نے کہا تاوان ادا کرنے کا حکم اس لئے دیا گیا کہ انہوں نے بکریوں کو باندھ کر نہیں رکھا تھا۔ بعض اقوال میں آیا ہے کہ اسلام میں یہ حکم منسوخ ہے۔ بلکہ امام شافعی (رح) امام مالک (رح) اور امام احمد (رح) : کا قول یہ ہے کہ اگر مویشی چھوٹ جائیں اور رات کو کسی کا نقصان کردیں تو بقدر نقصان جانوروں کے مالک پر تاوان عائد ہوگا اور اگر چھوٹے ہوئے دن میں کسی (کے کھیت وغیرہ) کا نقصان کردیں تو کوئی تاوان عائد نہیں ہوگا۔ میں کہتا ہوں شاید حضرت داؤد ( علیہ السلام) کے زمانے میں تلف شدہ کھیتی کی قیمت چرنے والی بکریوں کے برابر ہوگی اسی لئے تو آپ نے کھیت والے کے حق میں ساری بکریوں کی ڈگری دے دی۔ عام طور پر رواج ہے کہ کھیت والا دن میں کھیتی کی رکھوالی کرتا ہے اور جانور بھی دن ہی میں چرتے ہیں اور شام کو گھر واپس آجاتے ہیں اس لئے دن میں کھیتی تلف ہوجانے کی ذمہ داری کھیتی کی حفاظت نہ کرنے والے پر ہے ‘ اور رات میں کھیتی تلف کرنے کی ذمہ داری جانوروں کے مالک پر ہے کہ اس نے رات کو جانوروں کو باندھ کر نہیں رکھا۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک چھوٹے ہوئے جانوروں نے کسی کی کھیتی کو دن میں نقصان پہنچایا ہو یا رات میں مالک مویشی پر کوئی تاوان نہیں پڑے گا کیونکہ رسول اللہ ﷺ : کا ارشاد گرامی ہے الجعماء جرحہا جباررواہ الشیخان فی الصحیحین واحمد واصحاب السنن من حدیث ابی ہریرہ ؓ ۔ صاحب ہدایہ نے لکھا ہے امام محمد نے فرمایا عجماء سے مراد ہیں چھوٹے ہوئے جانور (یعنی اگر چھوٹے ہوئے جانور کسی کو زخمی کردیں تو اس کا کچھ معاوضہ نہیں) جمہور نے حرام بن سعد بن محیصہ کی روایت کردہ حدیث سے استدلال کیا ہے کہ حضرت براء ؓ بن عازب کی اونٹنی نے کسی کے باغ (یا کھیت) میں داخل ہو کر کچھ نقصان کردیا۔ رسول اللہ ﷺ کے سامنے مقدمہ آیا تو آپ نے فیصلہ کیا دن میں کھیتوں کی حفاظت ان کے مالکوں کے ذمہ ہے اور رات کو جانوروں نے کچھ نقصان کیا ہے تو جانوروں کے مالک پر اس کا تاوان پڑے گا۔ رواہ مالک فی الموطاء والشافعی واصحاب السنن الاربعۃ والدارقطنی وابن حبان والحاکم والبیہقی۔ امام شافعی نے فرمایا اسی حدیث سے ہم نے اپنے قول پر استدلال کیا ہے۔ یہ حدیث متصل ہے اور اس کے راوی معروف ہیں۔ حافظ ابن حجر نے لکھا ہے اس حدیث کی روایت کا مدار زہری پر ہے اور زہری کے الفاظ میں دوسری سند کے لحاظ سے اختلاف ہے موطاء کی روایت تو وہی ہے جو ذکر کردی گئی اور لیث از زہری کی روایت میں عن ابی محیصہ کا نام نہیں ہے اور معن بن عیسیٰ کی جو روایت عن مالک ہے اس میں عن جدہ محیصۃ آیا ہے اور معمر عن الزہری کی روایت عن حرام عن ابیہ آیا ہے اور اس کا متابع کوئی نہیں۔ اخرجہ ابو داؤد و ابن حبان۔ لیکن اوزاعی اور اسماعیل بن امیہ اور عبداللہ بن عیسیٰ نے جو زہری کی حدیث نقل کی ہے اس میں عن حرام عن البراء آیا ہے۔ میں کہتا ہوں ابن جوزی کی تحقیق التعلیق میں از طریق احمد اسی طرح بیان کیا ہے۔ حافظ ابن حجر نے کہا حرام نے براء سے سماعت نہیں کی عبدالحق نے ابن حزم کے اتباع میں ایسا ہی کہا ہے۔ نسائی نے من طریق محمد بن ابی حفصہ عن الزہری اسی طرح بیان کیا زہری نے کہا مجھے ابو اسامہ بن سہل نے خبر دی کہ براء کی اونٹنی۔ ابن ذئب کی روایت میں ہے کہ زہری نے کہا مجھے یہ بات پہنچی کی براء کی اونٹنی پس تینوں اماموں نے العجماء جرجہا جبار (کے عموم) کا ناقۃ البراء والی حدیث کو مخصص قرار دیا اور کہا العجماء جبار کا حکم بھی دن کے ساتھ مخصوص ہے۔ ہم کہتے ہیں عام بھی خاص کی طرح قطعی ہوتا ہے جب تک دونوں کا ایک وقت میں ہونا ظاہر نہ ہوجائے اس وقت تک عام کو مخصوص البعض نہیں قرار دیا جاسکتا اور اگر تاخر زمانی ثابت ہوجائے تو اس کو منسوخ قرار دیا جائے گا اور اگر اقتران زمانی یا تاخرزمانی کچھ بھی ثابت نہ ہو تو تعارض قائم رہے گا (اور چونکہ حدیث العجماء جبار اور حدیث ناقۃ البراء کا نہ ایک زمانہ میں ہونا ظاہر ہوا کہ عام کو خاص پر محمول کرسکیں ‘ نہ تاخر و تقدم ثابت ہے کہ سابق کو منسوخ سمجھا جائے اس لئے دونوں میں تعارض باقی ہے) پس شک کی حالت میں تاوان عائد ہونے کا فتویٰ نہیں دیا جاسکتا۔ اس کے علاوہ (قاعدہ ہے کہ) دو حدیثوں کا تعارض اگر دور نہ ہو سکے تو قیاس کی طرف رجوع کرنا لازم ہے اور قیاس چاہتا ہے کہ ضمان (تاوان) عائد نہ کیا جائے (کیونکہ مویشیوں کے مالک کا کوئی قصور نہیں وہ موجود ہی نہ تھا مویشی آزاد تھے) نہ اس نے جانوروں کو چھوڑ دیا تھا نہ ہنکایا تھا نہ کھینچ کر لایا تھا کسی موجب ضمان فعل کی اس کی طرف نسبت ہی کی جاسکتی اسی بناء پر ہم کہتے ہیں کہ اگر کسی نے کوئی جانور مسلمانوں کے راستہ میں چھوڑ دیا اور جانور نے کسی کو دکھ پہنچا دیا تو تاوان چھوڑنے والے پر عائد ہوگا ‘ کیونکہ جب تک وہ جانور اس راستہ پر چلتا) رہے گا اس کی رفتار کی نسبت چھوڑنے والے کی طرف رہے گی ‘ ہاں اگر جانور کسی طرف کو مڑ گیا دائیں بائیں ہوگیا یا ٹھہر گیا اور اس کے بعد کسی کو دکھ پہنچا تو مالک کی طرف یہ فعل منسوب نہ ہوگا۔ راہ پر چھوڑنے کا حکم منقطع ہوگیا۔ مسئلہ اگر گھوڑے والا گھوڑے پر سوار ہو یا لگام پکڑے لئے جا رہا ہو یا پیچھے سے ہنکا رہا ہو اور گھوڑا کسی کو لات مار دے یا روند ڈالے یا سر مار ڈالے کاٹ لے یا اندھا دھند چل پڑے یا کسی سے ٹکرا جائے یا کھڑا کھڑا کسی کو ٹکر مار دے اور وہ جگہ گھوڑے والے کی ملک ہو یا ٹھیکے وغیرہ کے ذریعہ سے اس کے قبضہ میں ہو تو سوائے اوّل الذکر صورت کے باقی کسی صورت میں گھوڑے والے پر تاوان عائد نہ ہوگا صرف پہلی صورت میں ضمان دینا پڑے گا کیونکہ سوار ہونے کی حالت میں اس کا بوجھ گھوڑے کی پشت پر پڑے گا ایسی حالت میں اگر گھوڑا کسی کو روند ڈالے گا تو گویا سوار بھی گھوڑے کے ساتھ روندنے میں شریک سمجھا جائے گا۔ پس اس حالت میں اس سوار کو مرتکب اتلاف قرار دیا جائے گا۔ باقی صورتوں میں ہم نقصان رسانی اور ایذا دہی کا سبب آخریں کہہ سکتے ہیں اور مسبب پر تاوان اس وقت عائد ہوگا جب اس کی طرف سے بالارادہ اس فعل کا ظہور ہو (اور وہ خود چاہتا ہو کہ گھوڑے سے کسی کو ضرر پہنچے) اور مذکورۂ بالا صورتوں میں بالارادہ ایذا رسانی کا سبب پیدا کرنا ثابت نہیں۔ لیکن اگر وہ جگہ گھوڑے کے مالک کی نہ مملوک ہو نہ مقبوض بلکہ اس کو وہاں چلنے کی اجازت ہو کھڑا رہنے کی اجازت نہ ہو جیسے عام شاہراہ یا چلنے اور ٹھہرنے دونوں کی اجازت ہو جیسے کوئی جنگل یا مویشیوں کا نخاسہ جہاں سے گزرنے اور ٹھہرنے دونوں کی اجازت ہوتی ہے اس حالت میں مذکورۂ بالا تمام صورتوں میں تاوان عائد ہوگا خواہ سوار ہو یا لگام پکڑے جا رہا ہو یا پیچھے سے ہنکا رہا ہو لیکن ان حالات میں بھی اگر گھوڑا کسی کو لات مار دے یا دم مار کر کچھ ضرر پہنچا دے تو گھوڑے والے پر کوئی تاوان نہ ہوگا کیونکہ عام راستہ میں سلامتی کے ساتھ دوسرے کو ضرر پہنچائے بغیر گزرنا ہر مسلمان کا حق ہے راستہ سب کا مشترکہ ہے راستہ سے فائدہ اٹھانا بھی ہر ایک کا حق ہے لیکن یہ اباحت اس شرط کے ساتھ مقید ہے کہ دوسرے کو ضرر نہ پہنچے مگر اسی حد تک سلامتی ضروری ہے جس حد تک گزرنے والے کے حدود و اختیار میں ہو سوار کے لئے یہ تو ممکن ہے کہ کسی کو گھوڑے کے قدموں سے نہ روند ڈالے کسی کو روندنا حق سیر کا تقاضا نہیں۔ ہاں چلنے میں دم اور لات سے لوگوں کو محفوظ رکھنا سوار کے اختیار سے باہر ہے پس اگر چلتے چلتے گھوڑا سرراہ کسی کے لات مار دے یا دم سے کچھ ضرر پہنچا دے تو سوار کو شریک جرم نہیں قرار دیا جاسکتا صرف اس وقت سوار پر تاوان عائد ہوگا۔ جب وہ مسلمانوں کے راستے میں گھوڑے کو کھڑا کر دے اور اس حالت میں گھوڑا کسی کے لات یا دم مار دے۔ امام مالک (رح) نے فرمایا اگر گھوڑے کے سوار یا لگام پکڑ کر چلانے والے یا ہنکانے والے کی طرف سے گھوڑے کو کچھ ترغیب نہ ہو یا گھوڑے کو وہ مارے نہیں تو مذکورۂ بالا صورتوں میں سے کسی صورت میں گھوڑے والے پر کوئی تاوان نہیں ہوگا اگر گھوڑے کو بھڑکی دیں یا ماریں اور کسی کو گھوڑے سے کچھ ضرر پہنچ جائے تو گھوڑے پر تاوان عائد ہوگا۔ العجماء جبارحدیث مبارک ہے جس میں عجماء کی ضرب کو بلامعاوضہ قرار دیا ہے۔ امام شافعی (رح) نے فرمایا جانور اپنے منہ یا ٹانگ یا دم سے اگر کسی کو کچھ دکھ پہنچا دے تو گھوڑے والے پر تاوان عائد ہوگا خواہ اس کی طرف سے کوئی سبب ضرر پیدا ہوا یا نہ پیدا ہوا ہو اور خواہ گھوڑے پر اس وقت سوار ہو یا ہنکا کرلے جا رہا ہو یا کچھ بھی نہ کرے (صرف ساتھ ہو) امام احمد نے فرمایا اگر گھوڑے کا مالک گھوڑے پر سوار ہو اور گھوڑا اپنے منہ یا اگلی ٹانگوں سے کسی کو ضرر پہنچا دے تو مالک پر ضمان عائد ہوگا اور اگر لات مارنے سے کسی کو نقصان پہنچ جائے تو مالک پر کوئی تاوان نہ ہوگا کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا الرِجُلُ جُبَارٌلات کا کوئی معاوضہ نہیں۔ رواہ الدارقطنی عن سعید بن المسیب مرسلاً ۔ واللہ اعلم۔ فائدہ مجاہد نے کہا حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا فیصلہ صلح کے طور پر تھا اور حضرت داؤد کا فیصلہ حکم تھا اور صلح (حکم سے) بہتر ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت داؤد ( علیہ السلام) اور حضرت سلیمان ( علیہ السلام) دونوں کا فیصلہ وحی پر مبنی تھا لیکن حضرت سلیمان کا فیصلہ ناسخ تھا (جس سے حضرت داؤد کا فیصلہ منسوخ ہوگیا) یہ قول ان لوگوں کا ہے جو کہتے ہیں کہ انبیاء کے لئے اپنے اجتہاد سے کوئی حکم دینا جائز نہیں۔ کیونکہ ان کے پاس وحی آتی ہے۔ ان کو اجتہاد کی ضرورت نہیں۔ اجتہاد میں تو غلطی ممکن ہے اور انبیاء سے غلطی کا صدور ممکن نہیں۔ ظاہر یہ ہے کہ دونوں بزرگوں کا فیصلہ اجتہادی تھا۔ حضرت داؤد کا اجتہاد غلط تھا اور حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا صحیح۔ اللہ تعالیٰ نے سلیمان ( علیہ السلام) کے فیصلے کی تعریف فرمائی۔ انبیاء کے اجتہاد میں غلطی ہوسکتی ہے۔ مگر انبیاء اس پر قائم نہیں رہتے (جب حق واضح ہوجاتا ہے تو وہ اپنے فیصلے سے رجوع کرلیتے ہیں) ۔ وکلا اتینا حکما وعلما اور ہم نے دونوں کو حکمت اور علم عطا فرمایا تھا۔ حسن نے کہا اگر آیت (وَکُلّا اٰتَیْنَا حکُمًا وَِّ عْلَمًا) نہ ہوتی تو حکام تباہ ہوجاتے لیکن اللہ نے (اس آیت میں) ہر اجتہادی فیصلہ کی تعریف فرمائی ہے۔ آیت (وَکُلاَّ اٰتَیْنَا حُکْمًا وَّ عِلْمًا) سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہر مجتہد کا اجتہاد مبنی برصواب ہوتا ہے (کسی کو مخطی نہیں قرار دیا جاسکتا کیونکہ اللہ نے اس آیت میں حضرت داؤد ( علیہ السلام) اور حضرت سلیمان دونوں کی تعریف فرمائی ہے) ۔ لیکن ظاہریہ کا یہ استدلال غلط ہے (آیت سے تو صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ دونوں بزرگوں کو اللہ نے قوت فیصلۂ وعلم عطا کی تھی دونوں فیصلوں کا صحیح ہونا ثابت نہیں ہوتا بلکہ) آیت (فَفَہَمْنَا ہَا سُلَیْمَان) َکے الفاظ بتا رہیں کہ حضرت سلیمان کا فیصلہ صحیح تھا اور حضرت داؤد کا فیصلہ اس کے خلاف تھا (یعنی غلط) حضرت عمرو بن عاص کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ : کو فرماتے سنا فرما رہے تھے جب حاکم اجتہاد کرنے کے بعد کوئی فیصلہ کرے اور فیصلہ میں حق پر پہنچ جائے تو اس کے لئے دوہرا اجر ہوگا اور اگر اجتہادی فیصلہ میں اس سے غلطی ہوجائے تب اس کے لئے اکھیرا اجر ہے۔ رواہ الشیخان فی الصحیحین واحمد واصحاب السنن الاربعۃ والترمذی عن ابی ہریرۃ ؓ ۔ یہ حدیث صراحۃً بتارہی ہے کہ مجتہد سے فیصلہ میں غلطی بھی ہوجاتی ہے اور کبھی اس کا فیصلہ حق بھی ہوتا ہے صواب و خطا یکجا جمع نہیں ہوسکتے یا فیصلہ صحیح ہوگا یا غلط لیکن فیصلہ میں غلطی ہوجائے تب بھی اس کو ایک اجر ضرور ملے گا ‘ غلطی ہوجانے کی بنا پر نہیں بلکہ فکری کوشش اور اجتہاد پر اس کو اکھیرا اجر ملے گا۔ اجتہاد بجائے خود عبادت ہے طلب حق کی کوشش موجب اجر ہے اجتہاد کے بعد غلطی قابل تسامح ہے اور صحت نتیجہ کی صورت میں دو اجر ہوں گے ایک طلب حق کی کوشش کا اور دوسرا حق پر پہنچ جانے کا۔ واللہ اعلم۔ شیخین نے صحیحین میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا میں نے سنا رسول اللہ ﷺ : فرما رہے تھے دو عورتیں تھیں ہر ایک کا ایک ایک بچہ اس کے ساتھ تھا بھیڑیا آیا ایک بچہ کو لے گیا ایک عورت نے دوسری سے کہا بھیڑیا تیرے بچہ کو لے گیا میرا بچہ محفوظ ہے دوسری نے اس کی تردید کی اور کہا تیرے بچہ کو لے گیا میرا بچہ یہ ہے جو موجود ہے دونوں جھگڑا لے کر حضرت داؤد کی خدمت میں حاضر ہوئیں آپ نے بڑی کو ڈگری دے دی اور (چھوٹی ہار گئی) اس کے بعد دونوں کا گزر حضرت سلیمان کی طرف سے ہوا اور آپ سے تفصیل بیان کی۔ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے فرمایا میرے پاس چھری لے آؤ میں بچہ کے دو ٹکڑے کر کے دونوں کو بانٹ دوں گا یہ سنتے ہی چھوٹی بولی آپ پر اللہ کی رحمت ہو یہ بچہ بڑی کا ہی ہے اسی کو دے دیجئے۔ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے بچہ چھوٹی کو دلوا دیا۔ وسخرنا مع داود الجبال یسبحن والطیر اور ہم نے داؤد کے ساتھ تابع کردیا تھا پہاڑوں کو جو داؤد کے ساتھ تسبیح کیا کرتے تھے اور پرندوں کو بھی۔ کہا گیا ہے کہ داؤد جب ذکر کرتے کرتے سست پڑجاتے تھے اور بدن میں کچھ کسل آجاتا تھا تو آپ کے ساتھ پہاڑ تسبیح پڑھنے لگتے تھے تاکہ پہاڑوں کی تسبیح سن کر داؤد میں ذکر الٰہی کرنے کی تازہ چستی پیدا ہوجائے اور پرندے بھی آپ کے ساتھ تسبیح میں مشغول رہتے تھے۔ الطیر کا عطف الجبال پر ہے پرندوں کی تو پھر بھی ظاہری زبان ہوتی ہے وہ کچھ نہ کچھ بولتے ہی ہیں لیکن پہاڑوں کی کوئی زبان بظاہر نہیں ہوتی پہاڑوں کا تسبیح خداوندی میں مشغول ہونا بہت ہی تعجب آفریں ہے اسی لئے الجبال کا ذکر الطیر سے پہلے کیا۔ وہب نے کہا حضرت داؤد کی تسبیح کے جواب میں پہاڑ اللہ کی پاکی بیان کرتے تھے اور پرندوں کا بھی یہی حال تھا۔ قتادہ نے کہا یعنی جب داؤد نماز پڑھتے تھے تو پہاڑ بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا حضرت داؤد درختوں اور پتھروں کی تسبیح کو سمجھتے تھے۔ بعض لوگوں کا قول ہے کہ یہ یسبحن سباحت سے ماخوذ ہے اور (سباحت کا معنی ہے تیرنا ‘ چلنا) حضرت داؤد چلتے تھے تو پہاڑ بھی آپ کے ساتھ چلتے تھے۔ وکنا فعلین۔ اور (ایسا) کرنے والے ہم ہی تھے۔ یعنی داؤد کو علم و حکمت کی فہمائش اور پہاڑوں اور پرندوں کی تسخیر ہمارا فعل تھا۔
Ayah 21:80

وَ عَلَّمْنٰهُ صَنْعَةَ لَبُوْسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُمْ مِّنْۢ بَاْسِكُمْ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ شٰكِرُوْنَ Open ayah 21:80 in the Quran reader

اور ہم نے تمہارے لئے ان کو ایک (طرح) کا لباس بنانا بھی سکھا دیا تاکہ تم کو لڑائی (کے ضرر) سے بچائے۔ پس تم کو شکرگزار ہونا چاہیئے

وعلمنہ صنعۃ لبوس لکم لتحصنکم من باسکم فہل انتم شاکرون۔ اور ہم نے اس کو زرہ (بنانے) کی صنعت تم لوگوں کے فائدے کے لئے سکھائی تاکہ وہ تم کو لڑائی میں ایک دوسرے کی زد سے محفوظ رکھے۔ تو کیا تم (اب بھی) شکر ادا نہ کرو گے۔ لبوس ہر پہننے والی چیز کو کہتے ہیں عرفاً اس کا استعمال اسلحہ کے لئے ہوتا ہے اس جگہ لوہے کی زرہ مراد ہے قتادہ نے کہا حضرت داؤد سے پہلے زرہ سپاٹ ہوتی تھی ‘ سب سے اوّل آپ نے جال دار زرہ بنائی اور کڑیاں جوڑ کر جھول کی شکل دی۔ حدیث صحیح پہلے گزر چکی ہے کہ حضرت داؤد اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتے تھے۔ لَکُمْسے خطاب قریش کو ہے ‘ لِتُحْصِنَکُمْتا کہ وہ صنعت یا (حلقہ دار) زرہ تم کو دشمن کے حملے سے محفوظ رکھے۔ سدی نے کہا اسلحہ کی مار پڑنے سے تم کو محفوظ رکھے۔ فَہَلْ اَنْتُمْپس اے اہل مکہ ہم نے جو دشمن سے محفوظ رہنے کا ذریعہ تمہارے لئے آسان کردیا۔ کیا اس کا تم شکریہ ادا کرو گے۔ ہَلْ اَنْتُمْمیں امر بصورت استفہام ہے۔
Ayah 21:81

وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ عَاصِفَةً تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖۤ اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ كُنَّا بِكُلِّ شَیْءٍ عٰلِمِیْنَ Open ayah 21:81 in the Quran reader

اور ہم نے تیز ہوا سلیمان کے تابع (فرمان) کردی تھی جو ان کے حکم سے اس ملک میں چلتی تھی جس میں ہم نے برکت دی تھی (یعنی شام) اور ہم ہر چیز سے خبردار ہیں

ولسلیمن الریح اور ہم نے سلیمان کے لئے ہوا کو مسخر کردیا۔ سلیمان کا عطف واؤ پر ہے اور الریح کا عطف الجبال پر۔ حرف عاطف ایک ہی ہے۔ کیونکہ دونوں ایک ہی عامل کے مفعول ہیں۔ بعض اہل تحقیق نے بیان کیا ہے کہ پہاڑوں اور پرندوں کا داؤد کے ساتھ تسبیح پڑھنا بامرداؤد نہ تھا (بلکہ براہ راست اللہ کے حکم تسخیری کے ماتحت تھا اس لئے داؤد کے ساتھ لفظ مع (ساتھ) ذکر کیا اور ہوا کی رفتار بامر سلیمان ہوتی تھی۔ اس لئے لسلیمان (سلیمان کے لئے) لام کے ساتھ فرمایا۔ عاصفۃ تیز کہ تھوڑے وقت میں سلیمان کو لشکر سمیت دور لے جاتی تھی۔ اللہ نے فرمایا ہیغُدُوُّہَا شَہْرُّ َو رَوَاحُہَا شَہْرٌ شروع آدھے دن کی رفتار ہوا ایک مہینے کی مسافت کے برابر اور آخری آدھے دن کی رفتار ایک ماہ کی مسافت کے بقدر تھی۔ اتنی تیز رفتار کے باوجود ہوا کی چال نرم تھی جھکڑ نہ تھے خوشگوار تھی (زیر و زبر کرنے والی نہ تھی) بعض لوگوں نے کہا ہوا کی رفتار حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کی مرضی کے تابع تھی ‘ کبھی تند ‘ کبھی نرم۔ تجری بامرہ الی الارض التی برکنا فیہا سلیمان کے حکم سے ہوا اس زمین کی طرف چلتی جس میں ہم نے برکت عطا کی ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ الی الارض میں الی بمعنی فی (میں) ہے یعنی ملک شام میں مراد یہ ہے کہ بحکم سلیمان ہوا آپ کو فرودگاہ شام سے اصل وطن کی طرف لے جاتی تھی۔ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) وطن سے صبح کو چل کر ملک شام میں جا کر فروکش ہوتے تھے اور پچھلے دن میں ہوا کے کندھوں پر سوار ہو کر شام سے اصل وطن کی طرف لوٹ آتے تھے۔ بعض نے کہا الیٰ اس جگہ اپنے اصلی معنی پر ہے۔ وکنا بکل شی علمین۔ اور (ازل میں ہی) ہم ہر چیز سے واقف تھے۔ یعنی ہماری (ازلی) مصلحت کا جو تقاضا ہے اور ہماری حکمت جو چاہتی ہے ہم اسی کے مطابق جو کچھ چاہتے ہیں کرتے ہیں چناچہ ہوا وغیرہ کو سلیمان ( علیہ السلام) کے حکم کا تابع بنا دینے کی غرض یہ تھی کہ سلیمان اپنے رب کے سامنے اور جھک جائیں وہب نے کہا حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کی مجلس پر پرندے چھائے ہوئے ہوتے تھے ‘ جن (صف بستہ) کھڑے ہوتے تھے اور اس شان کے ساتھ آپ جلوہ افروز ہوتے۔ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) بڑے مرد مجاہد تھے۔ دنیا کے جس حصہ میں کسی بادشاہ کے ہونے کی آپ کو اطلاع ملتی آپ فوراً وہاں پہنچ کر اس فرماں روا کو اطاعت پر مجبور کردیتے تھے۔ اہل روایت کا قول ہے کہ آپ جب کسی جہاد کا ارادہ کرتے تو آپ کے لئے پہلے تختے (بصورت تخت) بچھائے جاتے پھر اس پر خیمہ ڈیرہ قائم کیا جاتا پھر آپ اس پر آدمیوں کو جانوروں کو اور جنگی سامان کو چڑھواتے پھر حسب الحکم تند ہوا تختوں کے نیچے آجاتی اور سب کو اوپر اٹھاتی اور اوپر پہنچ کر نرم بن جاتی تھی۔ اتنی نرم رفتار ہوتی کہ کسی کھیتی کی طرف سے گزرتی تو اس کی پتی بھی نہ ہلتی۔ اس کی رفتار سے گردوغبار بالکل نہ اڑتا اور نہ کسی پرندے کو تکلیف ہوتی سبک سیر اتنی کہ ایک ماہ کی مسافت دن کے نصف اوّل میں اور ایک ماہ کی مسافت پچھلے دن میں طے کرلیتی تھی۔ وہب نے یہ بھی بیان کیا کہ دجلہ کے کسی ساحلی مقام پر ایک کتبہ تھا جس پر حضرت سلیمان کے کسی ساتھی نے لکھ دیا تھا۔ معلوم نہیں وہ ساتھی جن تھا یا آدمی۔ ہم یہاں اترے ہم رات کو یہاں نہیں رہے صبح اصطخر سے چلے تھے دوپہر کو یہاں قیلولہ کیا پچھلے دن میں انشاء اللہ یہاں سے چل دیں گے اور رات کو شام میں رہیں گے۔ “ مقاتل نے بیان کیا کہ حضرت سلیمان کے لئے جنات نے سونے اور ریشم کے تاروں سے ایک فرش بنا تھا جس کی لمبائی چوڑائی ایک ایک فرسخ تھی ‘ اس فرش کے وسط میں حضرت کے لئے سنہری ممبر رکھا جاتا تھا جس پر آپ تشریف فرما ہوتے تھے اور ممبر کے اردگرد سونے چاندی کی کرسیاں رکھی جاتی تھیں انبیاء سونے کی کرسیوں پر اور علماء چاندی کی کرسیوں پر فروکش ہوتے تھے اوپر سے پرندے اپنے پر پھیلائے سایہ فگن ہوتے تاکہ دھوپ کسی پر نہ پڑے کرسیوں کے گردا گرد دوسرے آدمی ہوتے اور آدمیوں کے پیچھے جنات ہوا اس فرش کو (اور فرش والوں کو) اوپر اٹھاتی تھی اور صبح سے شام تک اور شام سے صبح تک ایک ایک ماہ کی مسافت تک لے جاتی تھی۔ سعید بن جبیر کا بیان ہے کہ حضرت سلیمان کے دربار میں چھ لاکھ کرسیاں رکھی جاتی تھیں اگلی قطاروں میں آدمی اور آدمیوں کے پیچھے جنات بیٹھتے تھے پرندے اوپر سے سایہ کئے ہوتے تھے اور ہوا ان سب کو اٹھاتی تھی۔ حسن کا بیان ہے کہ جب پیغمبر خدا سلیمان کی عصر کی نماز گھوڑوں کے معائنہ کی وجہ سے فوت ہوگئی تو آپ کو لوجہ اللہ غصہ آگیا اور آپ نے سب گھوڑوں کو قتل کرا دیا۔ پھر اللہ نے مقتول گھوڑوں کے عوض دوسرے بہتر گھوڑے عطا فرما دیئے ہوا آپ کے حکم سے آپ کی مرضی کے مطابق تیزی سے آپ کو اٹھا کرلے جاتی تھی صبح کو ایلیا سے چلتے تو قیلولہ (دوپہر کا قیام) اصطخر میں کرتے پھر پچھلے دن میں اصطخر سے چلتے تو شام بابل میں کرتے۔ ابن زید نے بیان کیا تختوں سے بنی ہوئی آپ کی ایک سواری تھی جس کے ایک ہزار پائے تھے ہر پایہ (کھوکھلا تھا جس) کے اندر ہزار خانے تھے آپ کے ساتھ انس و جن سوار ہوتے تھے ہر پایہ کے نیچے (اٹھانے والے) ایک ہزار جنات ہوتے تھے جو اس تخت کو اٹھائے ہوتے تھے ‘ تخت اونچا ہوجاتا تو نرم ہوا آکر اس تخت کو اٹھا لیتی (صبح کو چل کر) آپ دوپہر کو ان لوگوں کے پاس قیام کرتے جو ایک ماہ کی مسافت کی دوری پر ہوتے تھے پھر شام ایسے لوگوں میں کرتے جن کی دوری ایک ماہ کی مسافت کے بقدر ہوتی۔ لوگوں کو پتہ بھی نہ چلتا کہ اچانک آپ لشکر سمیت آ پہنچتے۔ روایت میں آیا ہے کہ ایک بار حضرت سلیمان عراق سے صبح کو چلے مرو میں دوپہر کو پہنچے ‘ وہاں قیام کیا پھر بلخ میں عصر کی نماز پڑھی پھر بلخ سے روانہ ہو کر ترکستان میں داخل ہوگئے پھر ترکستان سے سرزمین چین تک پہنچ گئے ہوا کے کندھوں پر یہ راستہ طے کیا اور پرندے سر پر سایہ فگن رہے۔ آپ صبح کے دن میں ایک ماہ کی مسافت طے کرلیتے تھے اور شام کے دن میں بھی اتنی دور پہنچ جاتے تھے۔ یہاں سے آپ نے مشرق کی طرف رخ کیا یہاں تک کہ قندھار پہنچ گئے پھر قندھار سے مکران اور کرمان پہنچے پھر یہاں سے گزر کر بلاد فارس میں پہنچے اور وہاں چند روز فروکش رہے پھر صبح کو یہاں سے روانہ ہو کر دوپہر کو کسکر پہنچے پھر شام تک ملک شام میں آگئے آپ کی (اصل) قرارگاہ شہر تدمر میں تھی شام سے عراق کی طرف روانہ ہونے سے پہلے آپ نے جنات کو حکم دیا تھا کہ ایک عمارت بنائیں چناچہ جنات نے پتھر کی چٹانوں اور ستونوں اور سفید و زر و مرمر سے ایک عمارت تیار کی تھی۔
Ayah 21:82

وَ مِنَ الشَّیٰطِیْنِ مَنْ یَّغُوْصُوْنَ لَهٗ وَ یَعْمَلُوْنَ عَمَلًا دُوْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ كُنَّا لَهُمْ حٰفِظِیْنَۙ Open ayah 21:82 in the Quran reader

اور دیوؤں (کی جماعت کو بھی ان کے تابع کردیا تھا کہ ان) میں سے بعض ان کے لئے غوطے مارتے تھے اور اس کے سوا اور کام بھی کرتے تھے اور ہم ان کے نگہبان تھے

ومن الشیطین من یغوصون لہ ویعملون عملاً دون ذلک وکنا لہم حفظین اور کچھ شیاطین ایسے تھے جو سلیمان کے لئے (جواہر نکالنے کی غرض سے) سمندر میں غوطے لگاتے تھے اور اس کے علاوہ دوسرے کام بھی کرتے تھے اور ہم ہی ان کو سنبھالنے والے ہیں۔ اور کچھ جنات سمندروں میں غوطے مار کر آپ کے لئے جواہر نکال کر لاتے اور اس کے علاوہ دوسرے کام بھی کرتے تھے۔ جیسے اونچی اونچی عمارتیں اور مجسمے اور بڑے بڑے حوض اور ایک جگہ قائم رہنے والی دیگیں اور شہروں کی تعمیر اور عجیب عجیب نادر مصنوعات کی تخلیق وغیرہ۔ کُنَّا لَہُمْ حٰفِظِیْنَ کا یہ مطلب ہے کہ ہم جنات کی نگرانی رکھے ہوئے تھے کہ کہیں سلیمان کی اطاعت سے سرکشی نہ کرنے لگیں زجاج نے کہا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نگرانی رکھتے تھے کہ کہیں بنائی ہوئی چیزوں کو تباہ نہ کردیں۔ بغوی نے بیان کیا ہے کہ جب حضرت سلیمان کسی جن کو کسی آدمی کے ساتھ کام پر بھیجتے تو آدمی سے فرما دیتے جب اس کام سے یہ فارغ ہوجائے تو اس کو کسی اور کام پر لگا دینا ایسا نہ ہو کہ یہ کئے ہوئے کام کو برباد کر دے ‘ جنات کی یہ عادت ہی تھی کہ جب کسی کام سے فارغ ہوجاتے اور دوسرے کام میں مشغول نہ ہوتے تو بنے ہوئے کام کو ہی تباہ کردیتے۔