Ayah 21:83وایوب اذ نادی ربہ۔۔ اور ایوب کا تذکرہ کیجئے ‘ جب اس نے
(مصائب میں) اپنے رب کو پکارا۔ اے رب مجھے دکھ لگ گیا ہے۔ نادی یعنی دعا کی۔ وہب بن منبہ نے بیان کیا حضرت ایوب رومی تھے ‘ آپ کا جدی نسب اس طرح تھا۔ ایوب بن احرص بن رازخ بن روم بن عیص بن اسحاق بن ابراہیم علیہ السلام۔ آپ کی والدہ حضرت لوط بن ہاران کی اولاد میں سے تھیں۔
آپ اللہ کے برگزیدہ بندے اور نبی تھے اللہ نے آپ کے لئے دنیا وسیع کردی تھی ‘ سرزمین شام میں ایک گھاٹی جس کے اندر میدانی زمین بھی تھی اور پہاڑی بھی آپ کی ملک تھی اونٹ ‘ گائے ‘ بیل ‘ بھینس ‘ بھیڑ ‘ بکری ‘ گھوڑے ‘ گدھے ہر قسم کے بکثرت جانور آپ کے پاس تھے ‘ پانچ جوڑ بیلوں کے کھیتی کرنے کے لئے بھی آپ کے پاس تھے۔ ہر جوڑ کا خادم ایک غلام تھا اور ہر غلام کے بیوی بچے بھی تھے۔ بیلوں کی ہر جٹ کا (یعنی کھیتی کرنے اور ہل جوتنے وغیرہ کا) سامان اٹھانے کے لئے ایک گدھی تھی اور ہر گدھی کے دو دو تین تین چار چار پانچ پانچ اور اس سے زیادہ بچے تھے اللہ نے آپ کو اہل و عیال لڑکے اور لڑکیاں بھی عطا کی تھیں۔ آپ بڑے نیک پرہیزگار غریبوں پر رحم کرنے والے ‘ مسکینوں کو کھانا کھلانے والے ‘ بیواؤں کی خبرگیری کرنے والے ‘ یتیموں کی سرپرستی کرنے والے اور بڑے مہمان نواز تھے۔ مسافروں کو خرچ دے کر وطن تک پہنچا دیتے تھے ‘ اللہ کی نعمتوں کا شکر اور اللہ کا حق ادا کرتے رہتے تھے اللہ نے شیطان مردود سے آپ کو محفوظ کردیا تھا۔ ابلیس دوسرے مالداروں اور عزت یاب لوگوں کو اللہ کی یاد سے غافل بنا دیتا ہے لیکن آپ اس کی دسترس سے باہر تھے۔ آپ کے پاس تین (خاص) آدمی تھے جو آپ پر ایمان لائے تھے ‘ ایک یمنی تھا جس کا نام الیقن تھا اور دو آپ ہی کی بستی کے رہنے والے تھے ایک کا نام یلد اور دوسرے کا نام صافر تھا ‘ یہ تینوں میانہ عمر کے آدمی تھے۔
اس زمانہ میں ابلیس کی رسائی آسمانوں پر تھی ‘ آسمانوں میں جہاں چاہتا ٹھہر سکتا تھا۔ حضرت عیسیٰ کی بعثت کے بعد چار آسمانوں پر جانے کی اسے ممانعت کردی گئی پھر رسول اللہ ﷺ : کی پیدائش پر باقی آسمانوں سے بھی اس کو روک دیا گیا۔
حضرت ایوب (اللہ کا ذکر اور اس کی حمد کرتے رہتے تھے) ایک بار جب آپ نے اللہ کا ذکر کیا اور حمد کی تو فرشتوں نے اس وقت مل کر آپ کے لئے دعائے رحمت کی ‘ ابلیس نے فرشتوں کی دعا سن پائی۔ سن کر جل گیا اور فوراً آسمان پر چڑھ کر اپنے ٹھکانے پر پہنچا اور اللہ سے التجا کی اور کہا الٰہی میں نے تیرے بندے ایوب کے معاملہ پر غور کیا ‘ میں نے دیکھا کہ تو نے اپنے بندے کو نعمتوں سے نوازا ہے اس لئے اس نے تیرا شکر کیا تو نے اس کو عافیت عطا کی اس نے تیری حمد کی تو نے جو کچھ اس کو مرحمت کیا ہے اگر تو اس سے لے لے اور اس کو مصیبت میں مبتلا کر دے تو یہ مصیبت اس کو عبادت و حمد سے روک دے گی اور وہ تیری طاعت سے نکل جائے گا۔ اللہ نے فرمایا جا میں نے اس کے مال پر تجھے دسترس عطا کردی ‘ دشمن خدا ابلیس یہ اختیار لے کر آسمان سے زمین کی طرف آیا پھر خبیث جنات اور سرکش شیطانوں کو جمع کر کے کہنے لگا مجھے ایوب کے مال پر تسلط عطا کردیا گیا ہے اور یہ ایسی سخت مصیبت ہے جس پر (بڑے بڑے) لوگ صبر نہیں کرسکتے ‘ بتاؤ تمہارے اندر کیا طاقت ہے (تم اپنی اپنی طاقتوں کی تفصیل بتاؤ) ایک خبیث شیطان بولا مجھے ایسی قوت دی گئی ہے کہ اگر میں چاہوں تو آتشیں بگولہ بن جاؤں پھر جس چیز پر گزروں اس کو جلا ڈالوں۔ ابلیس نے کہا اچھا تو جس وقت ایوب کے اونٹ اپنی چراگاہوں میں جمے بیٹھے ہوں تم اونٹوں کی طرف جاؤ (اور سب کو جلا ڈالو) یہ کہتے ہی لوگوں کو پتہ بھی نہ چلا اور ایک دم زمین کے نیچے سے ایک آتشیں بگولہ اٹھا اور جب اونٹوں کے پاس سے گزرا تو ان کو اور چرواہوں کو جلا کر سوختہ کردیا یہاں تک کہ سب اونٹوں کو جلا کر ختم کردیا اس کے بعد ابلیس اونٹوں کے نگراں کی صورت بنا کر ایک اونٹ پر سوار ہو کر حضرت ایوب کے پاس پہنچا آپ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے کہنے لگا ایوب ایک آگ آئی سب اونٹوں کو ہر طرف سے اس نے گھیرے میں لے لیا سب اونٹ اور ان کے چرواہے سوختہ ہوگئے۔ حضرت ایوب نے فرمایا الحمدللہ جس نے دیئے تھے اسی نے لے لئے میں تو ہمیشہ سے اپنی جان و مال کو فنا ہونے والا سمجھے ہوا ہوں ابلیس بولا آپ کے رب نے ان پر آسمان سے آگ بھیج دی جس سے سب جل گئے لوگ حیرت میں پڑگئے اور ان کو بڑا تعجب ہوا کوئی کہنے لگا ایوب کسی کی پوجا ہی نہیں کرتے تھے محض دھوکہ میں پڑے ہوئے تھے۔ بعض لوگ کہنے لگے ایوب خدا کی عبادت کرتے تھے خدا ہی نے یہ آگ بھیجی تاکہ ایوب کے دشمن خوش ہوں اور دوستوں کو دکھ پہنچے کسی نے کہا اگر ایوب کے معبود میں طاقت ہوتی اور وہ حفاظت کرسکتا تو ضرور اس کی کارسازی کرتا۔ حضرت ایوب نے یہ باتیں سن کر فرمایا الحمدللہ ! اسی نے مجھے دیا تھا اسی نے مجھ سے لے لیا ہر حال میں وہ قابل حمد ہے۔ میں ماں کے پیٹ سے ننگا پیدا ہوا تھا اور ننگا ہی لوٹ کر مٹی میں جاؤں گا اور ننگا ہی اٹھ کر اللہ کے پاس جاؤں گا۔ جب اللہ تجھے کوئی چیز عاریتہ دے دے تو تجھے اترانے کا حق نہیں ہے اور جب اپنی عاریت پر قبضہ کرلے تو تجھے جزع و فزع نہ کرنا چاہئے اس چیز کا اللہ ہی زیادہ مستحق ہے اور وہی تیرا بھی مالک ہے اور اے شخص اگر اللہ کو تیرے اندر کوئی بھلائی معلوم ہوتی تو تو بھی شہید ہوجاتا اور ان روحوں کے ساتھ تیری روح بھی منتقل ہوجاتی ‘ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کو تیری طرف سے (شر ہی) معلوم ہوئی۔ اسی لئے (آگ کے اندر سے اور شہیدوں کے گروہ سے) تجھے نکال دیا۔ حضرت کی اس گفتگو سے ابلیس ذلیل و خوار ہو کر اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچا اور ان سے کہا اب تمہارے پاس کون سی طاقت ہے میں تو ایوب کے دل کو زخمی نہیں کرسکا ایک دیو بولا میرے اندر ایسی قوت ہے کہ اگر آپ چاہیں تو میں ایسی چیخ ماروں کہ جو جان دار اس کو سنے اس کی جان نکل جائے ‘ ابلیس نے کہا تم بھیڑ بکریوں اور ان کے چرواہوں کو جا کر ختم کر دو حکم پا کر دیو فوراً چل دیا اور بھیڑ بکریوں کے درمیان پہنچ کر ایک چیخ ماری جس سے تمام بکریاں اور ان کے چرواہے مرگئے اس کے بعد ابلیس چرواہوں کے داروغہ کے بھیس میں حضرت ایوب کے پاس پہنچا آپ اس وقت بھی نماز پڑھ رہے تھے ابلیس نے پہنچ کر وہی بات کہی جو پہلے کہی تھی اور حضرت ایوب نے بھی پہلے کی طرح جواب دیا ابلیس اپنے رفقاء کے پاس واپس چلا گیا اور بولا اب بتاؤ تمہارے پاس کیا طاقت ہے میں تو اب بھی ایوب کے دل کو زخمی نہیں کرسکا ایک خبیث جن کہنے لگا۔ اگر میں چاہوں تو آندھی بن سکتا ہوں جو ہر چیز کو اڑا کرلے جائے گی۔ ابلیس نے کا ہ تو بیلوں اور کھیتوں کے پاس جا خبیث جن چلا گیا اور اچانک ایک طوفانی ہوا چلی اور ہر چیز کو اڑا کرلے گئی ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہاں کچھ تھا ہی نہیں۔ اس کے بعد ابلیس کھیتی باڑی کے مینجر کی شکل بنا کر حضرت ایوب کے پاس آیا آپ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے ابلیس نے وہی پہلے والی بات کی اور آپ نے بھی وہی سابق کا جواب دے دیا اور مصیبت پر صبر کرنے پر اپنے دل کو جما لیا آخر جب آپ کے پاس کسی طرح کا مال نہ رہا اور ابلیس نے آپ کا سارا مال تباہ کردیا تو آسمان پر پھر گیا اور بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا الٰہی ایوب جانتا ہے کہ جب آل و اولاد سے تو نے اس کو بہرہ اندوز کیا ہے تو مال بھی عنایت کر دے گا اس لئے مطمئن ہے کیا تو مجھے اس کی اولاد پر تسلط عطا فرما دے گا یہ مصیبت ایسی ہے جس پر (بڑے بڑے) آدمیوں کے دل برقرار نہیں رہ سکتے۔ اللہ نے فرمایا (جا) میں نے تجھے ایوب کی اولاد پر دسترس عطا کی دشمن خدا چلا آیا۔ حضرت ایوب کی اولاد ایک قصر کے اندر تھی۔ ابلیس نے اس قصر کے درودیوار کو جھنجھوڑ ڈالا۔ دیواروں کو باہم ٹکرا دیا لکڑیاں اور پتھر اوپر سے پھینکے ‘ یہاں تک کہ جب سب لوگوں کو خوب زخمی کردیا تو محل کو اٹھا کر الٹ دیا ‘ سب لوگ سرنگوں ہو کر گرپڑے اور ہلاک ہوگئے۔ اس کے بعد بچوں کے اتالیق کی شکل بنا کر حضرت ایوب کی خدمت میں پہنچا خود بھی اس وقت زخمی تھا چہرے پر خراشیں تھیں خون بہ رہا تھا جا کر واقعہ کی اطلاع دی اور کہا اگر آپ وہ منظر دیکھ لیتے جب کہ آپ کے بچے سخت اذیتوں میں مبتلا ہوئے تھے خون بہ رہا تھا اور دماغ بھی باہر نکلنے لگے تھے ‘ پیٹ پھٹ گئے تھے انتڑیاں بکھری پڑی تھیں اسی حالت میں قصر الٹ گیا اور سب الٹے ہو کر جاں بحق ہوگئے تو آپ کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا۔ ابلیس برابر اسی طرح کے (دردناک) الفاظ کہتا رہا اور حضرت ایوب سنتے رہے آخر آپ کے دل میں رقت پیدا ہوئی اور رونے لگے اور ایک مٹھی خاک اپنے سر پر ڈالی اور کہا کاش میں پیدا ہی نہ ہوا ہوتا ‘ ابلیس نے اس بات کو غنیمت سمجھا اور ایوب کی بےصبری کو دیکھ کر فوراً آسمان پر چڑھ گیا ادھر حضرت ایوب نے اپنے الفاظ سے رجوع کرلیا اور توبہ و استغفار کی اور آپ کی توبہ و استغفار کو ملائکہ لے کر ابلیس کے پہنچنے سے پہلے ہی جا پہنچے اور بارگاہِ الٰہی میں پیش کردی اللہ تو پہلے ہی بخوبی واقف تھا (ملائکہ کی پیشی بھی حسب الحکم ہوگئی) ابلیس ذلیل ہوگیا اور کہنے لگا۔ الٰہی تو نے ایوب کو تندرستی دی ہے جسمانی اذیت سے محفوظ رکھا ہے وہ جانتا ہے کہ اس کی تندرستی ہے تو اللہ مال و اولاد اور عنایت کر دے گا اس لئے مال و اولاد کی ہلاکت کا اس پر اثر نہیں پڑا تو مجھے اس کے جسم پر تسلط عطا کر دے گا (تو اس کا قدم ڈگمگا جائے گا) اللہ نے فرمایا جا میں نے ایوب کے جسم پر تجھے تسلط عطا کیا لیکن زبان اور دل پر تیرا تسلط نہیں ہے زبان و دل کے علاوہ باقی جسم کو تیرے زیر تسلط کردیا گیا۔ اللہ نے ابلیس کو یہ تسلط صرف اس لئے عطا فرمایا تھا کہ ایوب کے ثواب میں اضافہ ہو صبر کرنے والوں کے لئے مثال ہو۔ ہر دکھ اور مصیبت پر صبر کرنے کی دوسروں کو تلقین ہو اور بامید ثواب ہر اذیت پر ان کو صبر ہو۔ اللہ کا دشمن اجازت پا کر فوراً آیا ‘ ایوب اس وقت سجدے میں تھے سر اٹھانے نہ پائے تھے کہ ابلیس آگیا اور چہرے کی طرف سے آکر ناک کے سوراخ میں ایک پھونک ماری جس سے حضرت ایوب کا جسم آگ کی طرح بھڑکنے لگا اور سر کی چوٹی سے پاؤوں کی نوک تک ایسے دمبل نکل آئے جیسے بکری کی کلیجی اور ان میں کھجلی پیدا ہوگئی حضرت ایوب نے ناخنوں سے اس کو کھجانا شروع کیا یہاں تک کہ سب ناخن گرگئے پھر کھردرے ٹاٹ سے کھجایا ٹاٹ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا پھر نوک دار کھردرے ٹھیکروں اور پتھروں سے کھجایا اور اتنا کھجایا کہ گوشت کٹنے لگا۔ بو دینے لگا ‘ سڑ گیا۔ بستی والوں نے آپ کو بستی سے باہر نکال کر ایک گھوڑے پر جھونپڑی بنا کر اس میں ڈال دیا اور سب نے چھوڑ ڈیا صرف آپ کی بی بی رحمت بنت افراثیم بن یوسف بن یعقوب نے ساتھ دیا بعض نے رحمت کو حضرت یوسف ہی کی صاحبزادی کہا ہے ‘ رحمت آپ کے پاس آتی رہیں اور آپ کی ضروریات فراہم کر کے لاتی رہیں۔ جب حضرت کے تینوں رفقاء الیقن ‘ یلدو اور صافر نے حضرت ایوب کی یہ ابتلائی حالت دیکھی تو وہ بھی کنارہ کش ہوگئے اور شرعی جرم کرنے کی) آپ پر تہمت لگائی مگر آپ کے دین کو نہیں چھوڑا جب مصیبت بڑھ گئی تو ایک روز تینوں حضرات کے پاس آئے اور خوب سخت سست کہا اور کہنے لگے آپ کو اللہ کی طرف سے یہ گناہ کی سزا دی گئی اللہ سے توبہ کیجئے۔ راوی کا بیان ہے ایک نوجوان مؤمن بھی ان تینوں کے ساتھ تھا اس نے کہا اے عمر رسیدہ لوگو ! آپ لوگ اپنی عمروں کی بیشی کی وجہ سے کلام کرنے کے زیادہ مستحق ہو لیکن آپ لوگوں نے جو کچھ کہا خیال کیا اور جو بات کی اس سے زیادہ اچھا کلام بہترین رائے اور مناسب ترین بات بھی پیش کرسکتے تھے مگر آپ نے ایسا نہیں کیا۔ حضرت ایوب کا تم پر حق ہے ‘ ذمہ داری ہے کیا تم کو معلوم ہے کہ تم نے کس کی توہین اور بےعزتی کی وہ کیسی شخصیت ہے جس پر تم نے عیب تھوپے اور نکتہ چینی کی کیا تم نہیں جانتے کہ وہ اللہ کا پیغمبر ہے اس وقت تمام اہل ارض سے برگزیدہ اور اللہ کا منتخب بندہ ہے پھر تم کو یہ بھی نہیں معلوم اور نہ اللہ نے تم کو بتایا ہے کہ جب سے ایوب کو پیغمبری ملی کبھی بھی اللہ نے اس کی کسی حرکت کو ناپسند کیا ہو یا جو عزت اس کو عطا فرمائی ہے اس کا کوئی حصہ چھین لیا ہو نہ یہ کہہ سکتے ہو کہ اس وقت سے جب سے تم اس کے ساتھ ہوئے ہو کبھی بھی آج تک اس نے اللہ کے سلسلہ میں کوئی ناحق بات کہی ہو۔ جس (دکھ اور تکلیف) کو تم ایوب کے لئے اپنے خیال میں باعث تذلیل و تحقیر سمجھتے ہو (وہ ایسا نہیں ہے) اللہ اپنے پیغمبروں صدیقوں شہیدوں اور نیک لوگوں کو دکھ میں مبتلا کرتا چلا آیا ہے اس کی طرف سے یہ دکھ اور امتحان اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ وہ اس طبقہ سے ناراض ہے نہ اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اللہ کی نظر میں یہ لوگ ذلیل ہوگئے بلکہ یہ امر تو ان کے لئے مزید عزت افزائی اور فضیلت ہے۔
اور بالفرض اگر ایوب اللہ کے نزدیک اس مرتبہ پر نہیں بھی ہوں تب بھی وہ تمہارے بھائی تو ہیں ‘ تم نے ان کے ساتھ رہ کر ان سے برادری کی ہے (مطلب یہ ہے کہ اگر تم ان کو پیغمبر نہیں مانتے تو دوست ہی سمجھو مدت تک تم ان کے ساتھ رہے ہو) اور کسی دانش مند کے لئے جائز نہیں کہ اپنے دوست سے اس کی مصیبت کے وقت کنارہ کش ہوجائے یا اس کو لعنت و ملامت کرے وہ تو خود غم رسیدہ اور دکھی ہے اس پر نکتہ چینی کرنی اور نکتہ چینی بھی وہ جس کا علم عار دلانے والے کو نہیں کسی طرح درست نہیں۔ مناسب تو یہ ہے کہ اس سے ہمدردی کی جائے اس کے رونے میں شرکت کی جائے اس کے لئے دعائے مغفرت کی جائے اور جو تدبیریں اس کے معاملے کو درست کرنے والی ہیں وہ بتائی جائیں۔ دانش مند اور ہدایت یافتہ وہ شخص نہیں جو ان باتوں سے ناواقف ہو۔
سن رسیدہ بزرگو اللہ کی عظمت و جلال کا مطالعہ اور موت کی یاد تمہاری زبانوں کو کاٹ دیتی ہے اور دلوں کو پارہ پارہ کردیتی ہے کیا تم کو معلوم نہیں کہ اللہ کے کچھ بندے ایسے ہیں جو بڑے فصیح اللسان ‘ بلیغ البیان دانش مند اور عالم ہیں نہ گونگے ہیں نہ بیان سے عاجز اس کے باوجود اللہ کے خوف نے ان کو خاموش کردیا ہے جب وہ اللہ کی عظمت کا ذکر کرتے ہیں تو ان کی زبانیں (ماسوا کے تذکرے سے) کٹ جاتی ہیں ‘ رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ‘ دل پارہ پارہ ہوجاتے ہیں اور ہوش و حواس پراں ہوجاتے ہیں اور یہ سب کچھ اللہ کی عظمت کو دیکھنے اور جلال الٰہی کا مشاہدہ کرنے کے وقت ہوتا ہے لیکن جب (ان کو ہوش آتا ہے اور) استقامت حال نصیب ہوتی ہے تو اس وقت وہ اپنے پاکیزہ اعمال کے ساتھ اللہ کی طرف دوڑتے ہیں مگر اپنا شمار خطاواروں اور ظالموں کے ساتھ کرتے ہیں وہ خود ابرار اور گناہوں سے پاک ہوتے ہیں لیکن قصورواروں اور گناہگاروں کے ساتھ ہوتے ہیں یہی لوگ بڑے دانش مند اور اصحاب قوت ہیں۔ حضرت ایوب نے اس نوجوان کی یہ تقریر سن کر فرمایا اللہ چھوٹے بڑے کے دل میں اپنی رحمت سے حکمت کی تخم پاشی کرتا ہے پھر دل میں پودا پیدا ہوتا ہے تو زبان پر اللہ اس کو ظاہر فرما دیتا ہے حکمت کا مدار نہ طول عمر اور بڑھاپے پر ہے نہ تجرے کی فراوانی پر اگر اللہ کسی کو بچپن میں ہی باحکمت بنا دیتا ہے تو اس کا مرتبہ دوسرے حکماء کے نزدیک کم نہیں ہوتا اہل حکمت جانتے ہیں کہ نور عزت خداداد ہے اس کے بعد حضرت ایوب نے ساتھیوں کی طرف سے منہ پھیرلیا اور اپنے رب کی طرف رخ کر کے فریاد وزاری میں مشغول ہوئے۔ عرض کیا اے میرے رب تو نے مجھے کس لئے پیدا کیا ‘ کاش تو نے مجھے پیدا نہ کیا ہوتا۔ اے کاش مجھے معلوم ہوجاتا کہ مجھ سے کون سی خطا ہوگئی اور میں نے کون سا ایسا کام کیا جس کی وجہ سے تو نے اپنا مبارک رخ میری طرف سے پھیرلیا ‘ اگر میں نے کوئی گناہ کیا تو مجھے مار ڈالتا اور میرے آباء و اجداد کے ساتھ مجھے ملا دیتا ‘ موت ہی میرے لئے زیادہ مناسب تھی ‘ کیا میں مسافروں کے لئے قیام گاہ اور مسکینوں کے لئے قرارگاہ نہیں بنا ہوا تھا کیا میں یتیموں کا والی اور بیواؤں کا سرپرست نہیں تھا الٰہی میں تیرا بندہ ہوں اگر تو مجھ سے بھلائی کرے گا تو تیرا احسان ہے اور اگر میرے ساتھ برائی کرے گا تو مجھے سزا دینے کا تجھے اختیار ہے تو نے مجھے مصیبتوں کی آماجگاہ اور دکھوں کا نشانہ بنا دیا مجھ پر ایسی مصیبت پڑی ہے کہ اگر تو پہاڑ پر ڈال دیتا تو وہ بھی نہ اٹھا سکتا ‘ پھر میری کمزوری اس کو کیسے برداشت کرسکتی ہے تیرے قطعی حکم نے مجھے ذلیل کردیا اور تیری ہی حکومت نے مجھے بدحال بنا دیا اور میرے جسم کو دبلا کردیا۔ اگر میرا رب اپنی ہیبت کو نکال دے جو میرے دل میں ہے اور میری زبان کو رواں کر دے کہ میں منہ بھر کر بول سکوں پھر یہ مناسب بھی ہو کہ بندہ اپنی طرف سے حجت پیش کرسکے تو امید ہے کہ جو مصیبت مجھ پر ہے اس سے مجھے بچاؤ عطا کر دے گا لیکن وہ تو مجھ سے بہت بالا و اعلیٰ ہے ‘ وہ مجھے دیکھتا ہے میں اسے نہیں دیکھتا وہ میری بات سنتا ہے میں اس کی آواز نہیں سنتا اس کی نظر (عنایت) میری طرف نہیں۔ نہ وہ مجھ پر رحم کرتا ہے نہ مجھ سے قریب ہے نہ مجھے اپنے قریب کرتا ہے کہ میں اپنا عذر پیش کرسکوں اور اپنی براءت کی بات کرسکوں اور اپنا دفاع کرسکوں حضرت ایوب اتنی ہی بات کرنے پائے تھے اور آپ کے ساتھی آپ کے پاس ہی بیٹھے تھے کہ یکدم ایک بادل چھا گیا ساتھیوں نے خیال کیا کہ اس کے اندر کوئی عذاب آیا ‘ لیکن اس کے اندر سے آواز آئی اے ایوب ! اللہ فرماتا ہے میں تیرے قریب ہوں اور ہمیشہ سے تیرے قریب ہی رہا ‘ اٹھ اپنا عذر پیش کر اور اپنی براءت کی بات کر اور اپنی طرف سے دفاع کر اور کمر کس کر اٹھ کھڑا ہو اور اس مقام پر کھڑا ہو جس مقام پر کوئی طاقت ور کھڑا ہو کر دوسرے طاقتور کا دفاع کرتا ہے اگر تجھ سے ہو سکے۔ مجھ سے وہی جھگڑا کرسکتا ہے جو مجھ جیسا ہو اے ایوب تیرے نفس نے تجھے آرزومند بنا دیا ہے کہ تو اپنی قوت سے اپنے مقصد کو پہنچ جائے گا تو کہاں تھا جس روز میں نے زمین کو پیدا کیا اور اس کی بنیاد پر اس کو قائم کیا کیا تو نے میرے ساتھ زمین کے کناروں کو پھیلا رہا تھا کیا تو واقف ہے کہ میں نے کس اندازے سے اس کو بنایا ‘ کس چیز پر اس کے اطراف کو قائم کیا ‘ کیا تیری اطاعت کر کے پانی نے زمین کو اٹھایا ہے کیا تیری حکمت سے زمین پانی کا سرپوش بنی ہوئی ہے تو اس روز کہاں تھا جب میں نے آسمان کو چھت کی شکل میں ہوا میں بلند کیا تھا نہ اوپر سے کوئی رسی ہے کہ آسمان سے بندھا لٹک رہا ہو ‘ نہ نیچے سے ستون اس کو اٹھائے ہوئے ہیں کیا تو اپنی حکمت سے اس مقام تک پہنچ سکتا ہے کہ آسمان کے نور کو بہا دے یا ستاروں کو چلا دے کیا تیرے حکم سے رات و دن کا ادل بدل ہو رہا ہے۔ جس روز دریاؤں کے فوارے میں نے (زمین سے) نکالے تھے اور سمندروں کو ان کی حدود میں بند کیا تھا تو تو کہاں تھا کیا تیری قوت سے سمندروں کی لہریں ان کی حدود کے اندر روکی گئی ہیں یا مدت حمل ختم ہونے پر رحم کا منہ تو کھولتا ہے جب میں نے پانی کو خاک پر روکا تھا اور اونچے پہاڑ برپا کئے تھے تو کہاں تھا کیا تجھے علم ہے کہ کس چیز پر میں نے پہاڑوں کو برپا کیا ہے یا کس توازن سے ان کو قائم کیا ہے کیا تیرے پاس ایسی کلائیاں ہیں جو ان کا بوجھ اٹھا سکیں۔ کیا تو جانتا ہے کہ جو پانی میں آسمان سے اتارتا ہوں وہ کہاں سے آتا ہے کس چیز سے بادل پیدا ہوتا ہے۔ برف کا خزانہ کہاں ہے اولوں کے پہاڑ کہاں ہیں ‘ دن کے اندر رات کا خزانہ کہاں ہے اور رات میں دن کا خزانہ کہاں رہتا ہے اور ہواؤں کا خزانہ کہاں ہے ‘ درخت کس زبان میں باتیں کرتے ہیں۔ کس نے انسان کے جوف (سینہ یا پیٹ یا سر) میں عقل پیدا کی اور کس نے کانوں اور آنکھوں کے یہ شگاف بنائے ‘ فرشتے کس کے اقتدار کے مطیع ہیں اور کس نے اپنی قہاری طاقت سے سب طاقتوروں کو مغلوب کر رکھا ہے اور کس نے اپنی حکمت سے رزق کی تقسیم کی ہے۔ اللہ نے اسی طرح کے کلام میں اپنی آثار قدرت کا بکثرت اظہار فرمایا۔
ایوب نے عرض کیا ‘ الٰہی جو تفصیل تو نے بیان فرمائی اس کو سمجھنے (اور جواب دینے) سے (میری حالت اور) میرا مرتبہ حقیر ہے میری زبان گنگ ہوگئی میری عقل اور دانش کند ہوگئی اور میری قوت کمزور پڑگئی اے میرے معبود ! میں جانتا ہوں کہ جو کچھ تو نے بیان فرمایا وہ تیرے ہی دست قدرت کی کاریگری اور تیری ہی حکمت کی تدبیر کا نتیجہ ہے بلکہ تیری تدبیر حکمت و صنعت اور قدرت اس سے بھی بڑی ہے کوئی چیز تجھے بےبس نہیں کرسکتی کوئی چیز تجھ سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی ‘ میرے معبود مجھ پر دکھ ایسے پڑے کہ میں بےقابو ہو کر بول پڑا مصیبت نے ہی میری زبان چلا دی۔ کاش زمین پھٹ جاتی اور میں اس میں سما جاتا اور ایسی بات اپنے رب کی شان میں نہ کہتا جو میرے رب کی ناراضگی کا باعث ہوتی کاش اس سے پہلے ہی سخت ترین دکھ سے پیدا ہونے والے غم کی وجہ سے میں مرچکا ہوتا۔ میں نے جو کچھ زبان سے نکالا وہ اس لئے نکالا کہ تو میری معذرت قبول فرما لے اور خاموش رہا تو اس لئے کہ تجھے مجھ پر رحم آجائے۔ میری زبان سے غلطی سے ایک بات نکل گئی دوبارہ ہرگز ایسا نہیں کروں گا۔ میں نے اپنا ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لیا ہے اور دانتوں کے نیچے زبان دبالی ہے اور چہرے پر خاک مل لی ہے۔ آج میں تیرے عذاب سے تیری ہی پناہ چاہتا ہوں اور سخت دکھ سے تیرے ہی جوار رحمت کا خواستگار ہوں مجھے اپنی پناہ میں لے لے۔ میں تیری سزا سے محفوظ رہنے کے لئے تجھ سے ہی فریاد کرتا ہوں میری فریاد رسی فرما میں تیری ہی مدد کا طلبگار ہوں ‘ میری مدد کر میں تجھی پر بھروسہ رکھتا ہوں میرا کام پورا فرما دے میں تیرے ہی ذریعہ سے بچاؤ کا خواہاں ہوں مجھے اپنی حفاظت میں لے لے ‘ میں تجھ سے اپنے قصور کی معافی چاہتا ہوں مجھے معاف فرما دے میں آئندہ ہرگز کوئی ایسی بات نہیں کروں گا جو تیری مرضی کے خلاف ہو۔ اللہ نے ایوب سے فرمایا تیرے بارے میں میرا علم (پہلے ہی) نافذ ہوچکا تھا اور میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے میں نے تیرا قصور معاف کیا تیرے اہل و عیال اور مال کی واپسی کا حکم دے دیا بلکہ جتنا تیرے پاس تھا اتنا ہی مزید تجھے دے دیا تاکہ پیچھے آنے والوں کے لئے قدرت کی نشانی مصیبت زدہ لوگوں کے لئے عبرت اور صبر کرنے والوں کے لئے باعث عزت ہوجائے اپنی ایڑی زمین پر مار (دیکھ) یہ ٹھنڈا پینے کا اور نہانے کا پانی ہے ‘ اس میں تیری شفا ہے۔ اپنے ساتھیوں کی طرف سے قربانی پیش کر اور ان کے لئے دعائے مغفرت کر انہوں نے تیرے متعلق میری نافرمانی کی ہے (یعنی تیرے متعلق برا خیال قائم کیا اور تجھے چھوڑ کر چلے گئے) حسب الحکم ایوب نے زمین پر اپنی ایڑی ماری فوراً ایک چشمہ پھوٹ نکلا ‘ ایوب نے اس میں گھس کر غسل کیا اور فوراً ہی اللہ نے سارے دکھ دور کردیئے آپ چشمہ سے نکل کر آکر بیٹھ گئے اتنے میں سامنے سے آپ کی بی بی آگئی اور ایوب ‘ جہاں پہلے پڑے تھے وہاں آپ کو تلاش کرنے لگی اور جگہ خالی پا کر متحیر دیوانی ہو کر ادھر ادھر ڈھونڈنے لگی آخر ایک آدمی کو بیٹھا دیکھ کر حضرت ایوب سے ہی پوچھنے لگی اللہ کے بندے تم کو اس بیمار کا کچھ پتہ ہے جو یہاں پڑا ہوا تھا ایوب نے جواب دیا جی ہاں (میں اسکو پہچانتا ہوں) نہ پہچاننے کی کوئی وجہ نہیں ‘ یہ کہہ کر آپ مسکرا دیئے اور فرمایا وہ میں ہی تو ہوں ہنسنے سے بی بی نے پہچان لیا اور (دوڑ کر) گلے لگ گئی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں عبداللہ (بن عباس) کی جان ہے بی بی ایوب کے گلے سے اس وقت تک لپٹی رہی کہ سارے مویشی اور اولاد (جو فنا ہوچکی تھی دوبارہ زندہ کو کر) ان کے سامنے سے گزر گئی۔ اس کا تذکرہ آیت ذیل میں ہے۔
وایوب اذ نادی ربہ انی مسنی الضر اور یاد کرو ایوب کا واقعہ جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ اے
یرے رب مجھے دکھ لگ گیا ہے۔
ضُرٌّحالت کا خراب ہونا۔ جسمانی ہو یا مالی یا عزت کی بربادی۔
صاحب قاموس نے لکھا ہے ضر بالفتح اور ضربالضم مصدر ہے اور ضر بالضم اسم بھی ہے بیضاوی نے لکھا ہے ضَر (بالفتح) کا استعمال ہر دکھ کیلئے عام ہے بدنی ہو یا مالی اور ضر (بالضم) کا استعمال صرف بدنی دکھ کیلئے ہوتا ہے جیسے کوئی بیماری یا بدن کی لاغری کمزوری۔
حضرت ایوب ( علیہ السلام) کتنی مدت دکھ میں مبتلا رہے ‘ کب دعا کی اور کیوں کی ؟
اس سلسلہ میں علماء کے اقوال مختلف ہیں ‘ بغوی نے لکھا ہے کہ زہری نے حضرت انس ؓ کی مرفوع حدیث نقل کی ہے کہ ایوب اٹھارہ برس دکھ میں مبتلا رہے۔ وہب بن منبہ نے کہا پورے تین سال مبتلا رہے ایک دن بھی زائد نہیں ہوا کعب احبار کے قول میں سات سال کی مدت مذکور ہے۔ بعض اقوال میں آیا ہے کہ مدت مرض سات سال سات ماہ اور سات دن ہوئی۔ حسن بصری نے کہا ایوب سات سال اور چند ماہ بنی اسرائیل کے گھورے پر پڑے رہے آپ کے بدن میں کیڑے رینگتے تھے ‘ سوائے (بی بی) رحمت کے کوئی پاس بھی نہیں جاتا تھا صرف رحمت آپ کے ساتھ جمی رہیں آپ کے لئے کھانا لاتی تھیں اور جب ایوب اللہ کی حمد کرتے تھے تو بی بی بھی حمد میں شریک ہوتی تھیں۔ اس حالت میں بھی ایوب ذکر خدا میں مشغول رہتے تھے ابلیس یہ بات دیکھ کر چیخ پڑا اور اطراف زمین سے اپنے تمام لاؤ لشکر کو بلا کر جمع کر کے کہنے لگا مجھے تو اس بندے نے عاجز کردیا ہے ‘ میں نے نہ اس کا مال چھوڑا نہ اولاد اس حالت میں بھی یہ صبر کرتا رہا بلکہ پہلے سے زیادہ اس نے صبر کا اظہار کیا پھر مجھے اس کے بدن پر بھی اختیار مل گیا تو میں نے اس کے (سارے) بدن کو پھوڑا بنا کر چھوڑ دیا کہ یہ گھورے پر پڑا رہتا ہے اور سوائے اس کی بیوی کے اور کوئی اس کے پاس بھی نہیں پھٹکتا ہے (مگر اس حالت میں بھی اس نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا) اب میں تم سے فریاد کرتا ہوں تم ہی میری مدد کرو اب میں کیا کروں ابلیس کے ساتھیوں نے کہا وہ تدبیر کیا ہوئی جس کی وجہ سے آپ نے گزشتہ لوگوں کو برباد کر کے چھوڑا ابلیس نے کہا وہ ساری تدبیریں بیکار گئیں مجھے کچھ اور مشورہ دو ساتھیوں نے کہا آدم تک آپ کی رسائی کیسے ہوئی تھی کہ آپ نے اس کو جنت سے نکلوا دیا۔ ابلیس نے کہا میں نے اس کی عورت کا ذریعہ اختیار کیا تھا ‘ ساتھیوں نے کہا تو اب بھی ایوب کے سلسلہ میں اس کی عورت کے ذریعہ سے کچھ تدبیر کیجئے ایوب بیوی کے خلاف نہیں کرسکے گا اور بیوی کے علاوہ کوئی اور اس کے پاس جاتا نہیں ہے۔ ابلیس نے کہا تمہارا مشورہ ٹھیک ہے اس کے بعد ابلیس حضرت ایوب کی بیوی کے پاس پہنچا اور مرد کی شکل میں ان کے سامنے جا کھڑا ہوا اور دریافت کیا اللہ کی بندی تیرا شوہر کہاں ہے بیوی نے کہا وہ یہی تو ہیں جو اپنے پھوڑوں کو کھجا رہے ہیں اور ان کے بدن کے اندر کیڑے رینگ رہے ہیں۔ شیطان نے بی بی کے منہ سے یہ بات سنی تو اس کو امید ہو چلی اس نے خیال کیا کہ شاید یہ الفاظ بےصبری کے ہوں (اور میں اس عورت کو مزید درمند بنا کر بےصبر بنا سکوں) چناچہ اغوا کے طور پر بی بی کو راحتوں کا وہ دور یاد دلایا جس سے وہ گزر چکی تھی مویشیوں کا اور مال کا تذکرہ ایوب کے گزشتہ شباب کا ذکر کیا اور موجودہ دکھ اور تکلیف کا بھی بیان کیا اور یہ بھی کہا کہ اب یہ دکھ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔
حسن کی روایت میں ہے ان تذکروں کو سن کر بی بی چیخ پڑی ‘ اس کی چیخ سن کر ابلیس سمجھ گیا کہ اب اس عورت کا پیمانۂ صبر لبریز ہوگیا (اور تدبیر کا کامیاب ہوجانا ممکن ہے) چناچہ اس نے ایک بکری کا بچہ بی بی کو لا کردیا اور کہا ایوب کو چاہئے کہ اس بچے کو (غیر اللہ کے نام پر) ذبح کر دے اس طرح وہ تندرست ہوجائے گا۔ بی بی حضرت ایوب کی طرف لوٹی اور (دور سے ہی) چیختی ہوئی آئی ایوب کب تک آپ کا رب آپ کو دکھ دیتا رہے گا مال کہاں گیا اولاد کہاں گئی۔ دوست کہاں گئے آپ کا خوبصورت رنگ کیا ہوا آپ کا حسین جسم کس طرف چلا گیا۔ بکری کے اس بچہ کو (غیر اللہ کے نام) پر ذبح کر دیجئے یہ دکھ جاتا رہے گا آپ آرام سے ہوجائیں گے ‘ حضرت ایوب نے فرمایا دشمن خدا تیرے پاس جا پہنچا اور تیرے اندر اس نے پھونک مار دی ‘ تیرا برا ہو یہ تو بتا کہ جس مال مویشی اولاد اور صحت پر تو رو رہی ہے وہ دی کس نے تھی ؟ بی بی نے کہا اللہ نے۔ ایوب نے کہا اور کتنے زمانے تک ہم مزے اڑاتے رہے ؟ بی بی نے کہا اسّی برس تک۔ ایوب نے کہا اب کتنے زمانے سے ہم پر یہ مصیبت پڑی ہے بی بی نے کہا سات برس اور چند مہینوں سے ایوب نے کہا تو کیا یہ تیری انصاف کی بات ہوگی اگر تو اسّی برس تک مصیبت نہ جھیلے جس طرح اسّی برس تک ہم راحت سے بہرہ اندوز رہے اگر اللہ نے مجھے شفا دے دی تو خدا کی قسم میں تیرے سو تازیانے ماروں گا تو مجھے مشورہ دے رہی ہے کہ میں اللہ کے سوا دوسروں کے نام پر ذبح کروں تو جو کھانا پینا لے کر آئی مجھ پر حرام ہے اور آئندہ جو کچھ تو لے کر آئے گی اس کو چکھنا بھی میرے لئے حرام ہے میرے پاس سے تو الگ ہوجا مجھے صورت نہ دکھا غرض ایوب نے بی بی کو نکال دیا اور وہ چلی گئی ‘ اس کے بعد جب ایوب نے دیکھا کہ اب تو میرے پاس نہ کچھ کھانے کو ہے نہ پینے کو نہ میرا کوئی دوست ہے تو سجدہ میں گرپڑے اور دعا کی اے میرے رب مجھے دکھ لگ گیا ہے۔
وانت ارحم الرحمین۔ اور تو سب سے بڑ کر رحم کرنے والا ہے۔ حضرت ایوب نے عرض مدعا نہیں کیا بلکہ پہلے اپنی قابل رحم حالت کا اظہار کیا اور پھر اللہ کے ارحم الراحمین ہونے کا۔
Ayah 21:84فاستجبنا لہ پھر ہم نے اس کی دعا قبول کی اور فرمایا تیری دعا قبول کرلی گئی اب سجدہ سے سر اٹھا۔
فکشفنا ما بہ من ضر واتینہ اھلہ و مثلھم ومعھم اور جو کچھ اس کو دکھ تھا ہم نے
دور کردیا۔ حضرت ایوب کو حکم دیا گیا زمین پر ایڑی مارو۔ ایوب نے حکم کی تعمیل کی فوراً پانی کا ایک چشمہ پھوٹ پڑا۔ حسب الحکم آپ نے اس میں غسل کیا غسل کرتے ہی ہر ظاہری بیماری جاتی رہی اور حسن و شباب لوٹ آیا اور چالیس قدم چلے پھر دوبارہ ایڑی مارنے کا حکم ہوا آپ نے حکم کی تعمیل کی تو ایک اور چشمہ پھوٹ نکلا جس کا پانی ٹھنڈا تھا ‘ حکم ہوا اس میں سے پانی لے کر پیو ‘ جونہی آپ نے وہ پانی پیا تمام اندرونی بیماریاں بھی دفع ہوگئیں اور مکمل ترین تندرست ‘ حسین ‘ جوان مردوں کی طرح ہوگئے اس کے بعد آپ نے لباس پہنا اور دائیں بائیں گردن موڑ کر دیکھا تو وہ تمام مال و اولاد جو پہلے ان کے پاس تھی سب موجود پائی بلکہ اللہ نے اس کو دو گنا کردیا۔ دولت کی کثرت اتنی ہوگئی کہ جس پانی سے آپ غسل کر رہے تھے اس کی چھینٹیں جب سینہ پر پڑیں تو وہ سونے کی ٹڈیاں بن گئیں اور حضرت ایوب ان کو پکڑنے کے لئے ہاتھ مارنے لگے ‘ اللہ نے وحی بھیجی ایوب کیا میں نے تجھے غنی نہیں بنا دیا ہے ‘ آپ نے عرض کیا بیشک تو نے مجھے غنی بنا دیا ‘ لیکن یہ تو تیری مزید عنایت ہے اور مزید رحمت سے کون سیر ہوسکتا ہے۔
بخاری میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایوب برہنہ غسل کر رہے تھے کہ سونے کی ٹڈیاں آپ کے اوپر گرنے لگیں آپ ان کو کپڑے میں بھرنے لگے ندا آئی ایوب کیا میں نے تجھ کو اس سے بےنیاز نہیں کردیا ہے (تیرے پاس تو بہت مال ہے تجھے سونے کی ٹڈیاں پکڑنے کی کیا ضرورت ہے) ایوب نے کہا تیری عظمت کی قسم تو نے مجھے غنی ضرور بنا دیا ہے لیکن تیری طرف سے نازل ہونے والی برکت سے تو میں بےنیاز نہیں ہوں۔
حسن کا بیان ہے (تندرست ہونے کے بعد) حضرت ایوب ( علیہ السلام) ایک اونچی جگہ پر جا بیٹھے ادھر بیوی نے اپنے دل میں کہا اگر ایوب نے مجھے نکال بھی دیا ہے پھر بھی میں کس کے بھروسہ پر اس کو چھوڑ سکتی ہوں یوں وہ بھوکا مرجائے گا اور اس کو درندے کھا جائیں گے ‘ یہ سوچ کر بیوی لوٹ آئی تو وہاں نہ وہ گھوڑا ملا نہ گزشتہ حالت کا نشان۔ سب چیزیں بدل گئی تھیں جہاں پہلے گھوڑا تھا بیچاری چکر کاٹنے اور رونے لگی۔ یہ سب واقعہ ایوب کی نظر کے سامنے ہو رہا تھا اور چونکہ آپ (ایک اچھا) لباس پہنے تھے اس لئے وہ بی بی آپ کے پاس آکر پوچھنے سے ڈر رہی تھی حضرت ایوب نے خود ہی اس کو بلایا اور دریافت کیا اللہ کی بندی تیرا کیا مقصد ہے بی بی رونے لگی اور کہاں یہاں گھوڑے پر ایک بیمار پڑا تھا مجھے اس کی تلاش ہے معلوم نہیں وہ مرگیا یا کیا واقعہ اس کو پیش آیا حضرت نے پوچھا وہ تیرا کون تھا بی بی نے رو کر کہا وہ میرا شوہر تھا حضرت نے کہا اگر تو اس کو دیکھ لے تو پہچان لے گی ‘ بیوی نے کہا کوئی بھی ایسا نہیں جس نے اس کو دیکھا ہو اور پہچان نہ سکے پھر ڈرتے ڈرتے وہ آپ کو تکنے لگی اور کہا جب وہ تندرست تھا تو نقشہ میں آپ کے ساتھ بہت مشابہ تھا ‘ حضرت نے فرمایا میں ہی ایوب ( علیہ السلام) ہوں جس کو تو نے ابلیس کے نام پر قربانی کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ لیکن میں نے اللہ کا حکم مانا اور شیطان کا کہا نہ مانا۔ میں نے اللہ سے دعا کی اس نے مجھے وہ سب چیزیں لوٹا کر دے دیں جو تیری نظر کے سامنے ہیں۔
وہب کا بیان ہے ایوب برسوں دکھ میں رہے اور ابلیس پر غالب آئے اور شیطان ان پر بالکل قابو نہ پاسکا تو ایک گھوڑے پر سوار ہو کر حضرت ایوب کی بیوی کے راستہ میں آکھڑا ہوا ظاہری شکل آدمی کی بنائی تھی لیکن عجیب ہیبت تھی دوسرے آدمیوں سے جسم ‘ قد اور حسن کے لحاظ سے بالکل ممتاز تھا اور گھوڑے کی جسامت نظر فریبی اور اعضاء کی مکمل ساخت بھی دوسرے گھوڑوں سے اعلیٰ تھی۔ جب حضرت ایوب کی بیوی ادھر سے گزری تو شیطان نے اس سے کہا کیا تم اس دکھی ایوب کی بیوی ہو۔ بیوی نے کہاں ہاں شیطان نے کہا کیا تم مجھے پہچانتی ہو بیوی نے کہا نہیں ‘ شیطان نے کہا میں زمین کا دیوتا ہوں میں نے ہی ایوب کا یہ حال کر رکھا ہے کیونکہ اس نے مجھے چھوڑ کر آسمان کے خدا کی پوجا کی تھی اور مجھے ناراض کردیا تھا اب بھی اگر وہ مجھے ایک سجدہ بھی کرلے تو میں نے ایوب کا جو مال و اولاد لے لی ہے وہ تم دونوں کو لوٹا دوں گا وہ سب چیزیں میرے پاس موجود ہیں یہ کہہ کر شیطان نے وادی کے اندر عورت کو تمام وہ جانور دکھا دیئے جو مرچکے تھے وہب کا بیان ہے میں نے یہ بھی سنا ہے کہ ابلیس نے زوجۂ ایوب سے یہ بھی کہا کہ اگر تیرا آدمی بغیر بسم اللہ کئے کھانا کھالے گا تو اس کو تندرست کردیا جائے گا اور جس مرض میں وہ مبتلا ہے وہ دکھ دور کردیا جائے گا۔
بعض کتابوں میں آیا ہے کہ ابلیس نے عورت سے کہا تھا تو مجھے ایک سجدہ کرلے میں تیرا مال و اولاد واپس کر دوں گا اور تیرے شوہر کو بھلا چنگا بنا دوں گا عورت نے واپس آکر حضرت ایوب کو اس بات کی اطلاع دی حضرت ایوب نے فرمایا وہ دشمن خدا تیرے پاس دین سے بہکانے کے لئے آپہنچا پھر آپ نے قسم کھائی کہ اگر اللہ مجھے تندرست کر دے گا تو میں سو تازیانے تیرے ماروں گا۔ جب آپ نے دیکھا کہ ابلیس کو اب یہ خیال ہوچکا ہے کہ آپ کی بیوی اس کو سجدہ کرلے گی اور اس نے بیوی کو اور مجھ کو کفر کی دعوت دینے کی جرأت کی ہے اس وقت آپ نے دعا کی رَبِّ اِنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرَّچونکہ آپ کی بی بی رحمت نے مصیبت میں آپ کا ساتھ دیا اور صبر کیا اس لئے اللہ نے اس پر رحمت فرمائی اور اس کے لئے حکم میں تخفیف کردی اور حضرت ایوب کو قسم پوری کرنے کی یہ تدبیر بتادی کہ (سو شاخوں کا) ایک گٹھا لے کر ایکدم رحمت کے مار دو اس طرح تمہاری قسم پوری ہوجائے گی حضرت ایوب نے حکم کی تعمیل کی چھوٹی چھوٹی سو شاخوں کا ایک گٹھا بنا کر بیوی کے ایک مرتبہ مار دیا۔
بعض روایات میں آیا ہے کہ ابلیس ایک صندوقچہ میں دوائیں بھر کر (طبیب کی ہیئت بنا کر) حضرت ایوب کی بیوی کے راستہ میں آکھڑا ہوا۔ بی بی ادھر سے گزری اور طبیب کو دیکھا تو اس سے کہا میرا ایک بیمار ہے کیا تم اس کا علاج کر دو گے۔ ابلیس نے کہا ہاں علاج کر دوں گا اور اس کے سوا اور کسی معاوضہ کا طلبگار بھی نہیں ہوگا کہ جب میں اس کو تندرست کر دوں تو اتنا کہہ دے کہ تم نے مجھے صحت مند کردیا۔ بیوی نے جا کر حضرت ایوب ( علیہ السلام) سے اس بات کا تذکرہ کیا ‘ آپ نے فرمایا وہ ابلیس ہے جس نے تجھے فریب دیا ہے ‘ میں قسم کھاتا ہوں کہ اگر اللہ نے مجھے شفا عطا فرما دی تو میں تیرے سو قچمیاں ماروں گا۔
وہب وغیرہ کا بیان ہے کہ ایوب کی بیوی کچھ محنت مزدوری کر کے ایوب کے لئے کھانا لے آتی تھی جب ایوب کا دکھ اور بڑھ گیا تو لوگوں نے آپ کی بیوی کو برا بھلا کہنا شروع کیا اور ایک روز تو یہاں تک نوبت پہنچ گئی کہ کسی نے اس کو کام پر لگایا ہی نہیں دن بھر اس نے کام کی تلاش کی مگر کوئی کام نہیں ملا مجبوراً اس نے اپنے سر کے بالوں کی ایک لٹ کاٹ کر ایک روٹی کے عوض اس کو بیچ ڈالا۔ روٹی لے کر ایوب کے پاس آئی تو آپ نے پوچھا سر کی لٹ کیا ہوئی ؟ بی بی نے واقعہ بیان کردیا اس وقت آپ نے کہا مَسَّنِیَ الضُّرُّ ۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ آپ نے یہ الفاظ اس وقت کہے تھے جب زخموں کے کیڑے آپ کے دل اور زبان کی طرف جانے لگے تھے ‘ آپ کو اندیشہ ہوا کہ اگر ایسا ہوگیا تو میں اللہ کے ذکر و فکر سے بھی جاؤں گا۔
حبیب بن ثابت نے کہا جب تین باتیں حضرت ایوب کے سامنے آگئیں اس وقت مجبوراً آپ نے مَسَّنِیَ الضُّرُّکہا۔ (1) حضرت ایوب کی بیماری کی اطلاع پا کر آپ کے دو دوست آئے اور دیکھا کہ آپ کی آنکھیں جاتی رہی ہیں اور عام حال بھی برا ہے ‘ کہنے لگے اگر اللہ کے ہاں تمہارا کچھ بھی مرتبہ ہوتا تو یہ دکھ تم کو نہ پہنچتا۔ (2) بیوی نے آپ کے لئے کھانا تلاش کیا لیکن قیمت موجود نہ ہونے کی وجہ سے میسر نہ آیا مجبوراً اپنا ایک گیسو کاٹ کر (فروخت کر کے اس کی قیمت سے) کھانا لے کر آئی اور آپ کو کھلایا۔ (3) ابلیس نے کہا تھا کہ میں ایوب کا علاج کروں گا شرط یہ ہے کہ شفاء پانے کے بعد وہ یہ اقرار کرلے کہ تو نے مجھے تندرست کردیا۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابلیس نے حضرت ایوب کے دل میں وسوسہ ڈالا کہ (شاید) بیوی نے حرام زنا کیا اور گیسو کاٹ دیا اور اس وسوسہ کے پیدا ہونے پر آپ کے لئے صبر کرنا مشکل ہوگیا اور بیوی کو بلا کر بقسم کہا کہ میں تیرے سو تازیانے ماروں گا اور پھر دعا کی۔
مَسَّنِیَ الضُّرُّکا مطلب بعض علماء نے یہ بیان کیا ہے کہ دشمنوں کی شماتت کا مجھے دکھ لگ گیا ہے بعض روایات میں آیا ہے کہ تندرست ہوجانے کے بعد جب آپ سے دریافت کیا گیا کہ مصیبت کے زمانے میں سب سے بڑھ کر تکلیف دہ چیز آپ کے لئے کیا تھی۔ فرمایا میرے دکھ پر دشمنوں کا خوش ہونا۔
بعض اقوال میں آیا ہے کہ ایک کیڑا ران سے نیچے گرگیا آپ نے اس کو اٹھا کر پھر اس کی جگہ (ران میں) رکھ دیا اور فرمایا کیا مجھے اللہ نے تیری غذا بنایا ہے اس وقت کیڑے نے ایسا کاٹا کہ جتنے کیڑوں نے اس سے پہلے کاٹا تھا سب کی تکلیف سے اس کیڑے کے کاٹنے کی تکلیف بڑھ گئی اور آپ نے (بےساختہ) مَسَّنِیَ الضُّرُّکہا۔
ایک شبہ اللہ نے تو ایوب کو صابر کے خطاب سے سرفراز فرمایا ‘ حالانکہ اپنے دکھ کا شکوہ کیا اور بےصبری کا مظاہرہ کیا اِنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّبھی کہا اور مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنَصْبِ وَّعَذَابٍبھی فرمایا۔
ازالہ یہ شکایت نہ تھی دعا تھی کیونکہ اللہ نے اس دعا کے سلسلہ میں فرمایا فاسْتَجَبْنَا لَۂہم نے اس کی دعا قبول کی۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی ہے کہ جزع اور بےصبری تو مخلوق سے بیماری کی شکایت کرنے کی صورت میں ہوسکتی ہے۔ اللہ سے بیماری کے اظہار کا نام جزع اور بےصبری نہیں۔ حضرت یعقوب نے فرمایا تھا اِنَّمَا اَشْکُوْ بَثِّیْ وَحُزْنِیْ اِلَی اللّٰہِمیں اللہ سے اپنے اندرونی اندوہ وغم کا شکوہ کرتا ہوں۔
سفیان بن عیینہ کا قول ہے جو شخص فیصلۂ خداوندی پر راضی ہو اور لوگوں سے اپنے دکھ کا اظہار کرے تو یہ بےصبری اور جزع نہیں ہے (بلکہ اپنی حالت کا اظہار ہے) جیسا کہ ایک روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ : کی بیماری کے زمانہ میں جبرئیل ( علیہ السلام) آئے اور پوچھا آپ اپنے کو کیسا پاتے ہیں (یعنی آپ ﷺ : کو اپنی حالت کیسی محسوس ہوتی ہے مزاج کیسا ہے) حضور ﷺ نے فرمایا میں اپنے کو مغموم اور بےچین پاتا ہوں۔ میں کہتا ہوں ابن جوزی نے بھی حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ جبرئیل ( علیہ السلام) نے آکر کہا اللہ آپ کو سلام فرماتا ہے اور دریافت فرماتا ہے آپ کا کیا حال ہے۔ الحدیث۔
جب حضرت عائشہ ؓ نے ( رسول اللہ ﷺ : کی طرف سے مزاج پرسی کے جواب میں) کہا ہائے میرا سر تو حضور ﷺ نے بھی (اپنے درد سر کی شکایت کی اور) فرمایا (تم کو ہی درد سر کی شکایت نہیں) میں بھی کہتا ہوں ہائے میرا سر ( یعنی میرے سر میں بھی درد ہے) ابن اسحاق اور امام احمد نے (حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے) بیان کیا کہ بقیع سے واپس آکر رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اس وقت آپ کے سر میں درد ہو رہا تھا اور مجھے بھی سر کا دکھ تھا (یعنی درد سر تھا) میں نے کہا ہائے سر۔ فرمایا (تم ہی نہیں) میں بھی کہتا ہوں آہ میرا سر۔ الحدیث)
واتینہ اہلہ ومثلہم معہم اور ہم نے اس کو عطا کئے اس کے بیوی بچے اور اتنے ہی اور بھی۔
کیا مرے ہوئے بچے زندہ کردیئے گئے یا دوسری اولاد عطا کی گئی
یہ مسئلہ اختلافی ہے حضرت ابن عباس ‘ حضرت ابن مسعود ‘ قتادہ ‘ حسن اور اکثر مفسرین کا قول ہے کہ اللہ نے بعینہٖ وہی (مرے ہوئے) اہل و عیال زندہ کردیئے تھے اور اتنے ہی اور بھی عطا فرما دیئے تھے۔ ظاہر آیت اسی تفسیر پر دلالت کر رہی ہے ‘ حسن کا قول ہے کہ اتنے ہی مویشی اور اولاد اسی مویشی اور اولاد کی نسل سے پیدا کردیئے (جن کو مرنے کے بعد اللہ نے زندہ کیا تھا) اس مطلب کی تائید حضرت ابن عباس ؓ کے اس قول سے ہوتی ہے جو بروایت ضحاک آیا ہے کہ اللہ نے اس بیوی کو دوبارہ جوان کردیا اور اس کے بطن سے اس کے بعد چھبیس لڑکے پیدا ہوئے۔ وہب نے کہا سات لڑکیاں اور تین لڑکے پیدا ہوئے ابن یسار نے کہا حضرت ایوب کے سات لڑکے اور سات لڑکیاں ہوئیں۔
حضرت انس ؓ کی مرفوع روایت ہے کہ حضرت ایوب کے دو خرمن تھے ایک گیہوں کا دوسرا جو کا۔ اللہ نے دو بدلیاں بھیجیں ایک بدلی نے ایک خرمن پر سونے کی بارش کی اور دوسری بدلی نے دوسرے خرمن پر چاندی بہا دی۔
یہ بھی روایت میں آیا ہے کہ حضرت ایوب کے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے کہا اللہ نے آپ کو آپ کے صبر کی وجہ سے سلام کہا ہے اور فرمایا ہے کہ اپنے خرمن کو باہر نکل کر دیکھو حسب الحکم آپ باہر نکلے اللہ نے آپ کے خرمن پر سونے کی ٹڈیاں بھیج دیں ‘ ایک ٹڈی جو اڑی تو ایوب نے اس کا پیچھا کیا اور پکڑ کر واپس لے آئے ‘ فرشتے نے کہا جو کچھ (ٹڈیاں) خرمن کے اندر ہیں کیا وہ آپ کے لئے کافی نہیں تھیں ‘ حضرت ایوب نے کہا یہ تو میرے رب کی برکتوں میں سے ایک برکت ہے اور میں اپنے رب کی نوازشوں سے سیر نہیں ہوسکتا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جو مویشی اور اہل و عیال مرچکے تھے اللہ نے ان کو دوبارہ زندہ نہیں کیا بلکہ ان جیسے دوسرے عطا فرما دیئے۔ عکرمہ کا قول ہے کہ حضرت ایوب سے کہا گیا کہ تیری اولاد آخرت میں تجھے ملے گی اب اگر تو چاہتا ہے تو ہم اس دنیا میں تیرے پاس بھیج دیں اور اگر تیری خواہش ہو تو وہ اولاد آخرت میں تیرے لئے رکھ دیں اور ان کی مثل ویسی ہی اولاد تجھے دنیا میں دے دیں۔ حضرت ایوب نے آخری شق کو پسند کیا کہ مرنے والی اولاد تو آخرت میں عطا کردی جائے اور ان کی مثل دوسری اولاد دنیا میں مل جائے۔ اس روایت کے بموجب آیت کا مطلب اس طرح ہوگا۔ ہم نے ایوب کوا سکی (مر جانے والی) اولاد تو آخرت میں عطا کرنے کے لئے رکھ لی اور انہی کی طرح دوسری اولاد دنیا میں مرحمت فرما دی۔ آیت میں اہل سے مراد ہے اولاد۔
رحمۃ من عندنا وذکری للعبدین۔ (ہم نے ایوب کو اس کی اولاد عطا کی) اپنی رحمت کی وجہ سے اور (دوسرے) عبادت گزاروں کو نصیحت کرنے کے لئے۔
Ayah 21:85واسمعیل وادریس وذوالکفل اور اسماعیل (بن ابراہیم) کو اور ادریس (یعنی اخنوخ) اور ذوالکفل کو۔
ذوالکفل کون تھے پیغمبر تھے یا نہ تھے اس کے متعلق علماء کا اختلاف ہے عطا کا بیان ہے کہ بنی اسرائیل کے ایک پیغمبر کے پاس وحی آئی کہ آپ کے انتقال کا وقت قریب آگیا ہے بنی اسرائیل کے سامنے اپنی حکومت رکھئے اور جو شخص اس بات کی ذمہ داری لے کہ وہ رات میں نمازیں پڑھے گا۔ سستی نہیں کرے گا اور دن کو ہمیشہ روزے رکھے گا۔ کسل نہیں کرے گا اور لوگوں کے مقدمات کا فیصلہ کرے گا اس کو غصہ نہیں آئے گا اس کو حکومت سپرد کر دیجئے پیغمبر نے بنی اسرائیل کے سامنے معاملہ رکھا مجلس میں سے ایک جوان اٹھا اور عرض کیا میں یہ ذمہ داری قبول کرتا ہوں اس جوان نے ذمہ داری قبول بھی کرلی اور اس کو پورا بھی کیا اور اللہ نے بھی اس کی قدر افزائی کی اور اس کو نبوت سے سرفراز فرما دیا اسی جوان کا نام ذوالکفل ہوا۔
مجاہد نے کہا جب الیسع پیغمبر بوڑھے ہوگئے تو انہوں نے کسی کو اپنی جگہ مقرر کرنا چاہا لیکن یہ طے کرلیا کہ اپنی زندگی میں کسی کو اپنا پورا کام سپرد کر کے دیکھ لوں کہ وہ لوگوں کا انتظام کیسے کرتا ہے ‘ چناچہ آپ نے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا جو شخص میری تین باتیں پوری کرنے کی ذمہ داری لے گا میں اپنا کام اس کے سپرد کروں گا۔
1) (ہمیشہ) دن کو روزہ رکھے۔
2) رات کو نمازیں پڑھے۔
3) اور (لوگوں کے معاملات طے کرنے میں) غصہ نہ کرے۔
یہ سن کر ایک شخص جو دیکھنے میں حقیر سا معلوم ہوتا تھا کھڑا ہوا اور اس نے کہا میں ایسا کرسکتا ہوں حضرت الیسع نے اس کو قبول نہیں کیا پھر دوسرے روز بھی یہی اعلان کیا اس وقت بھی سب لوگ خاموش رہے صرف وہی جوان کھڑا ہوا اور اس نے کہا میں ایسا کرسکتا ہوں آخر الیسع نے اس کو اپنا جانشین بنا دیا۔ جب یہ خلیفہ اپنی خوابگاہ میں قیلولہ کرنے کے لئے پہنچا اور دن رات میں وہی وقت اس کے سونے کا تھا فقط قیلولہ کے وقت ہی وہ ایک نیند لے لیتا تھا۔ اچانک ایک کمزور بوڑھے کی شکل میں ابلیس آپہنچا اور دروازہ کھٹکھٹایا۔ خلیفہ نے پوچھا کون ہے ‘ ابلیس نے جواب دیا ایک بہت بوڑھا مظلوم خلیفہ نے اٹھ کر دروازہ کھول دیا ‘ بوڑھے نے کہا میرے اور میری قوم کے درمیان کچھ جھگڑا ہے۔ انہوں نے مجھ پر ظلم کیا ہے اور یہ حرکتیں کی ہیں۔ بوڑھے نے اپنی بات کو اتنا طول دیا کہ قیلولہ کا وقت جاتا رہا اور پچھلا دن آگیا ‘ خلیفہ نے کہا شام کو جب میں جاؤں گا تو تیرا حق دلوا دوں گا ‘ ابلیس چلا گیا اور خلیفہ پچھلے دن میں جب اپنی مجلس میں پہنچا تو اس بوڑھے کو تلاش کرنے کے لئے ادھر ادھر نظر دوڑانے لگا لیکن وہ کہیں نہیں دکھائی دیا۔ دوسرے دن صبح کو بھی جب خلیفہ نے لوگوں کے مقدمات طے کرنے کے لئے اجلاس کیا تب بھی بوڑھے کو تلاش کیا لیکن وہ نظر نہ آیا ‘ اجلاس کے بعد قیلولہ کرنے کے لئے جب اپنی خواب گاہ میں پہنچا تو بوڑھے نے دروازہ کھٹکھٹایا خلیفہ نے دروازہ کھول دیا ‘ بوڑھا آگیا خلیفہ نے کہا میں نے تجھ سے نہیں کہہ دیا تھا کہ جب اجلاس کروں اس وقت آنا ‘ بوڑھے نے کہا وہ بہت برے لوگ ہیں جب آپ اجلاس میں بیٹھے تھے اور ان کو معلوم ہوگیا کہ تو انہوں نے مجھ سے کہہ دیا کہ ہم تجھے تیرا حق دے دیں گے اور جب آپ اجلاس سے اٹھ گئے تو انہوں نے اداء حق سے انکار کردیا۔ خلیفہ نے کہا اب تو جا پھر جس وقت میں پچھلے دن میں اجلاس کروں تو میرے پاس آنا اس گفتگو میں اس دوپہر کا آرام بھی خلیفہ کا جاتا رہا اور پچھلے دن میں جب وہ مجلس میں لوٹے تو بوڑھے کو ادھر ادھر دیکھنے لگے لیکن کسی کو نہ پایا پھر اونگھ سے مغلوب ہوگئے تو (تیسری دوپہر کو) خلیفہ نے گھر والے (خادم) کو حکم دیا کہ کسی کو دروازے کے قریب آنے کی بھی اجازت نہ دینا تاکہ میں سو جاؤں میرے اوپر نیند کا غلبہ ہو رہا ہے غرض جب (سونے) کا وقت آیا تو وہ بوڑھا آپہنچا مگر خادم نے اجازت نہیں دی بوڑھا بےبس ہوگیا اسی اثنا میں اس کو کمرے کا روشن دان نظر آیا فوراً کود کر اس کے اندر داخل ہوگیا اور اندر پہنچ گیا اور اندر سے دروازہ کھٹکھٹانے لگا (تا کہ خلیفہ بیدار ہوجائے) خلیفہ بیدار ہوگیا اور خادم کو آوازدے کر کہا اے شخص کیا میں نے تجھے حکم نہیں دیا تھا کہ کوئی شخص دروازے پر نہ آئے ‘ خادم نے کہا میری طرف سے تو کوئی آیا ہی نہیں ہے آپ خود دیکھ لیجئے کہ یہ شخص کس طرف سے آیا ہے خلیفہ نے اٹھ کر دروازہ کو دیکھا تو اس کو مقفل پایا لیکن وہ شخص کمرے کے اندر موجود تھا وہ کہنے لگا کیا آپ یہاں سوتے رہیں گے ایسی حالت میں کہ اہل معاملہ دروازہ پر موجود ہوں اب خلیفہ نے اس کو پہچانا اور کہا اے خدا کے دشمن تو ہے ابلیس نے کہا ہاں آپ نے مجھے عاجز کردیا اور میں نے جو کچھ آپ کے ساتھ کیا وہ محض غصہ دلانے کے لئے تھا لیکن اللہ نے آپ کو مجھ سے محفوظ رکھا اسی خلیفہ کو ذوالکفل کہا گیا کیونکہ انہوں نے ایک کام کا ذمہ لیا تھا اور اس ذمہ کو پورا بھی کردیا۔
بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ ابلیس ذوالکفل کے پاس آیا اور کہنے لگا میرا ایک قرضدار ہے جو ادائیگی میں ٹال مٹول کر رہا ہے آپ میرے ساتھ ذرا اٹھ کر چلئے اور میرا حق وصول کرا دیجئے آپ اس کے ساتھ اٹھ کر چل دیئے لیکن ابلیس بازار میں پہنچ کر ذوالکفل سے علیحدہ ہوگیا اور آپ کو تنہا چھوڑ کر چل دیا۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ ابلیس نے حضرت ذوالکفل سے معذرت کی اور کہا میرا مدعا علیہ مجھ سے بھاگ گیا۔
بعض اہل روایت نے کہا کہ ذوالکفل وہ شخص تھا جس نے مرتے دم تک ہر رات کو سو رکعت پڑھنے کا عہد کیا تھا اور اس عہد کو پورا کیا۔ بعض علماء نے کہا کہ ذوالکفل نبی تھے عبارت قرآنی کی رفتار سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے لیکن کون سے نبی تھے (اس کی تعیین نہیں کی جاسکتی) بعض نے ذوالکفل زکریا کو ہی قرار دیا حضرت ابوموسیٰ نے کہا ذوالکفل نبی نہیں تھے ایک نیک آدمی تھے۔
کل من الصبرین۔ (ان میں سے) ہر ایک (مصائب پر اور مشقت اطاعت پر) صبر کرنے والوں میں سے
تھا۔ خواہشات نفس اور گناہوں سے نفس کی باگ روکنے والوں میں سے تھا۔
Ayah 21:86وادخلنہم فی رحمتنا اور ہم نے ان کو اپنی رحمت میں داخل کرلیا۔ رحمت سے مراد ہے نبوت ‘ جنت اور مراتب قرب۔
انہم من الصلحین۔ بلاشبہ وہ اہل صلاح میں سے تھے یعنی ان لوگوں میں سے تھے جن کو بگاڑ اور خرابی کی ہر کدورت سے بچا لیا گیا تھا۔