19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 19:95

وَ كُلُّهُمْ اٰتِیْهِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَرْدًا Open ayah 19:95 in the Quran reader

اور سب قیامت کے دن اس کے سامنے اکیلے اکیلے حاضر ہوں گے

وکلہم اتیہ یوم القیمۃ فردا۔ اور قیامت کے دن ہر ایک اس کے پاس تنہا آئے گا ‘ یعنی کسی کا کوئی مددگار ‘ ساتھی اور پیرو اور دنیا کی کوئی چیز ساتھ نہ ہوگی۔ ابن جریر نے حضرت عبدالرحمن بن عوف کا بیان نقل کیا ہے آپ نے فرمایا کہ میں جب ہجرت کر کے مدینہ کو چلا گیا تو میرے دل میں مکہ والے دوستوں کا کچھ خیال آیا جیسے شیبہ بن ربیعہ عتبہ بن ربیعہ ‘ امیہ بن خلف (ان لوگوں کی دوستی اور محبت یاد آتی تھی) اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 19:96

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا Open ayah 19:96 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے خدا ان کی محبت (مخلوقات کے دل میں) پیدا کردے گا

ان الذین امنوا وعملوا الصلحت سیجعل لہم الرحمن ودا۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے یقیناً اللہ ان کے لئے مؤمنوں کے دلوں میں محبت (پیدا) کر دے گا۔ یا محب (پیدا) کر دے گا جو ان سے محبت کریں گے۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے وُدَّ اور وداو محبت اور محبت کرنے والا۔ واو کی تینوں حرکات صحیح ہیں وُدْ وَدْ وِدْ (یعنی یہ مصدر بھی ہے اور صیغۂ صفت بھی) اور ودید کی طرح کثیر محبت کرنے والے کو بھی ود کہتے ہیں (یعنی صیغۂ مبالغہ بھی ہے) اس آیت میں حضرت عبدالرحمن کے لئے پیام تسلی ہے اور اس امر کا وعدہ ہے کہ بجائے کافروں کے اللہ مؤمنوں کے دلوں میں محبت ڈال دے گا اور ان کو تمہارا دوست بنا دے گا۔ طبرانی نے الاوسط میں بیان کیا ہے کہ اس آیت کا نزول حضرت علی بن ابی طالب کے حق میں ہوا اور ارشاد فرمایا کہ تمہاری محبت سوائے کافروں کے سارے مؤمنوں اور کل مخلوق کے دل میں ڈال دے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس کا میں مولیٰ ہوں علی بھی اس کے مولیٰ ہیں ‘ (مولیٰ بمعنی آقا ‘ دوست ‘ بھائی) رواہ احمد و ابن ماجۃ عن البراء بن عازب و احمد عن بریدۃ والترمذی والنسائی عن زید بن ارقم۔ حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا علی کا ذکر (یا علی کی محبت) عبادت ہے رواہ صاحب مسند الفردوس عن ام المؤمنین عائشہ ؓ حضور گرامی نے ارشاد فرمایا ‘ اللہ جب (کسی) بندہ سے محبت کرتا ہے تو جبرئیل ( علیہ السلام) سے فرماتا ہے میں فلاں شخص سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر حسب الحکم جبرئیل ( علیہ السلام) بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں ‘ پھر آسمان کے رہنے والوں میں منادی کرتے ہیں ‘ اللہ فلاں شخص سے محبت کرتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر زمین پر اس شخص کو مقبولیت عطا کردی جاتی ہے (اور اہل زمین اس سے محبت کرتے ہیں) رواہ البخاری و مسلم من حدیث ابی ہریرۃ 1 ؂۔ میں کہتا ہوں ممکن ہے کہ اس حدیث کا یہ مطلب ہو کہ اللہ بندہ کو اپنی ذات گرامی سے محبت کرنے والا بنا دیتا ہے بندہ اللہ سے محبت کرتا ہے (جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ) پھر اللہ بندہ سے محبت کرنے لگتا ہے ‘ کیونکہ دوسری حدیث میں آیا ہے کہ اللہ نے فرمایا میرا بندہ پیہم نوافل کے ذریعہ سے میرا مقرب ہوتا جاتا ہے ‘ یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔
Ayah 19:97

فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِیْنَ وَ تُنْذِرَ بِهٖ قَوْمًا لُّدًّا Open ayah 19:97 in the Quran reader

(اے پیغمبر) ہم نے یہ (قرآن) تمہاری زبان میں آسان (نازل) کیا ہے تاکہ تم اس سے پرہیزگاروں کو خوشخبری پہنچا دو اور جھگڑالوؤں کو ڈر سنا دو

فانما یسرنہ بلسانک لتشبربہ المتقین وتنذربہ قوماً لدا۔ سو ہم نے اس قرآن کو آپ کی زبان میں اس لئے آسان کیا ہے کہ آپ اس سے متقیوں کو خوش خبری سنائیں نیز اس سے جھگڑا لو لوگوں کو خوف دلائیں۔ بِلِسَانِکَیعنی آپ کی زبان پر اس کو آسان کردیا ہے ‘ اس صورت میں ب بمعنی علیٰ (پر) ہوگا یا آپ کی زبان (یعنی عربی) میں آسان کردیا ہے ‘ یعنی سہولت آگیں کیفیت میں نازل کیا ہے۔ میں کہتا ہوں بِلِسَانِکَکا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کی امت پر آسان کردیا ہے آپ کی زبان میں اتار کر (دوسری زبانوں میں نہیں اتارا کہ عرب کو سمجھنے میں دشواری ہوتی) لُدّ (الد کی جمع ہے) سخت جھگڑالو لوگ جو حق واضح ہونے کے بعد بھی اس کو قبول نہیں کرتے اور محض عناد قومی و ذاتی اور جذبۂ خصومت کی وجہ سے دوزخ کو پسند کرتے ہیں۔ مجاہد نے کہا الد اس ظالم کو کہتے ہیں جو کبھی راہ راست پر نہ آئے ‘ ابو عبیدہ نے کہا الدوہ شخص ہے جو باطل کا مدعی ہو اور حق کا منکر۔ آیت میں حصر اضافی ہے مطلب یہ ہے کہ ہم نے قرآن کو صرف اس لئے اتارا کہ آپ مؤمنوں کو اس کے ذریعہ سے بشارت دیں اور کافروں کو ڈرائیں اس لئے نہیں اتارا کہ آپ دکھ میں پڑجائیں اور اگر لوگ نہ مانیں تو آپ غمگین اور رنجیدہ ہوں۔
Ayah 19:98

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ١ؕ هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا۠ Open ayah 19:98 in the Quran reader

اور ہم نے اس سے پہلے بہت سے گروہوں کو ہلاک کردیا ہے۔ بھلا تم ان میں سے کسی کو دیکھتے ہو یا (کہیں) ان کی بھنک سنتے ہو

وکم اہلکنا قبلہم من قرن ہل تحس منہم من احد اور ہم نے ان سے پہلے بہت سے گروہوں کو (عذاب سے) ہلاک کردیا ہے سو کیا آپ ان میں سے کسی کو دیکھتے ہیں۔ اس آیت میں کافروں کو ڈراوا ہے اور رسول اللہ کو پیام رسانی پر جرأت دلانا مقصود ہے ہل تُحِسُّکا یہ مطلب ہے کہ آپ اب ان میں سے کسی کو بھی محسوس کرتے ہیں۔ یا تحس بمعنی تری کے ہے کیا آپ اب ان میں سے کسی کو بھی دیکھ رہے ہیں۔ یا آپ کسی کو پاتے ہیں یا کسی کا احساس کرتے ہیں۔ او تسع لہم رکزا۔ یا ان کی آہٹ سنتے ہیں۔ رکز : پست آواز ‘ پوشیدہ آواز ‘ لفظ رکز کی ساخت پوشیدگی کا مفہوم بتاتی ہے۔ رکز الرمح : نیزہ کی نوک زمین میں گاڑ دی (چھپا دی) ۔ رکاز : دفن کیا ہوا مال۔ الحمدللہ دوشنبہ کے روز بتاریخ 5 صفر 1203 ھ ؁ کو سورة مریم کی تفسیر بتوفیق الٰہی ختم ہوئی ‘ اس کے بعد سورة طہٰ کی تفسیر آرہی ہے انشاء اللہ بعونہ تعالیٰ تفسیر مظہری سے سورة مریم کا ترجمہ 3 رمضان المبارک 1388 ھ ؁ کو صبح پانچ بجے ختم ہوا فالحمد اللہ اولاً واخرًا وظاہرًا و باطنًا