19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 19:65

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَ اصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖ١ؕ هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِیًّا۠ Open ayah 19:65 in the Quran reader

(یعنی) آسمان اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے سب کا پروردگار ہے۔ تو اسی کی عبادت کرو اور اسی کی عبادت پر ثابت قدم رہو۔ بھلا تم کوئی اس کا ہم نام جانتے ہو

رب السموت والارض وما بینہما فاعبدہ واصطبر لعبادتہ وہ رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور ان چیزوں کا جو ان دونوں کے درمیان ہیں سو اسی کی عبادت کر اور اسکی عبادت پر قائم رہ۔ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یہ عدم نسیان کی علت ہے۔ فَاعْبُدْہُاور واصْطَبِرْ میں رسول اللہ ﷺ : کو خطاب ہے مطلب یہ ہے کہ جب آپ کو معلوم ہوگیا کہ اللہ کی رحمت و فضل آپ پر کامل طور پر ہے اور اللہ کی شان سے بعید ہے کہ وہ آپ کو بھول جائے لہٰذا بطور شکر نعمت آپ اس کی عبادت کی طرف ہمہ تن متوجہ ہوجائیں اور عبادت کی پابندی کریں۔ تاخیر وحی اور استہزاء کفار سے پریشان خاطر نہ ہوں۔ (صبر کے بعد عربی میں علیٰ آتا ہے لیکن) یہاں اصطبر کے بعد لام کا استعمال کیا اشارہ اس طرف ہے کہ عبادت کی پابندی سے لذت حاصل کرو (ناگوار سمجھ کر ادا نہ کرو) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا نماز میں میری آنکھ کی خنکی بنا دی گئی ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ کفار کی طرف سے ایذا رسانی اور مشکلات و شدائد پر آپ صبر کریں تاکہ اللہ کی عبادت پر آپ کو جماؤ حاصل ہو اور آپ اللہ کے عابد بن سکیں۔ (اس صورت میں لِعِبَادَتِہٖ میں لام اجلیہ ہوگا۔ ہل تعلم لہ سمیا۔ بھلا تو کسی کو اس کا ہم صفت جانتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے سمیًا کا ترجمہ کیا ایسا مثل جو عبادت کئے جانے اور الہٰ کہلانے کا مستحق ہو۔ کلبی نے کہا یعنی کیا آپ اللہ کے سوا کسی اور کو ایسا پاتے ہیں جس کا نام اللہ ہو مشرکین بتوں کو الٰہ (معبود) کہتے تھے اللہ (ذات جامع صفات کمالیہ) نہیں کہتے تھے وجہ یہ تھی کہ اللہ کی وحدانیت ظاہر تھی اس کی ذات کے کوئی مشابہ نہ تھا اس لئے لفظ اللہ کے مصداق میں کوئی اشتباہ نہ تھا۔ یہ جملہ حکم عبادت کی علت ہے کیونکہ جب اللہ کی وحدانیت ثابت شدہ ہے اور کوئی اس جیسا نہیں نہ کسی کو معبود ہونے کا استحقاق ہے تو لازمی یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اس کے حکم کو تسلیم کیا جائے اور اسی کی عبادت کی جائے اور عبادت میں جو مشقت ہو اس کو برداشت کیا جائے اور صبر کیا جائے۔
Ayah 19:66

وَ یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَیًّا Open ayah 19:66 in the Quran reader

اور (کافر) انسان کہتا ہے کہ جب میں مر جاؤ گا تو کیا زندہ کرکے نکالا جاؤں گا؟

ویقول الانسان ءاذا ما مت لسوف اخرج حیا۔ اور انسان (منکر قیامت) یوں کہتا ہے کہ جب میں مرجاؤں گا تو کیا پھر زندہ کر کے (قبر سے) نکالا جاؤں گا۔ الْاِنْسَانُیعنی جنس انسان (الف لام جنسی) یا بعض معین انسان (الف لام عہدی) بغوی نے لکھا ہے الانسان سے مراد ابی بن خلف جمحی ہے یہ قیامت جسمانی کا منکر تھا۔ روایت میں آیا کہ اس نے ایک بوسیدہ ہڈی ہاتھ میں لے کر اس کا چورا کردیا اور کہنے لگا محمد کا خیال ہے کہ ہم مرنے کے بعد پھر زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے ‘ اس کے قول کو اللہ نے اس آیت میں نقل کیا ہے۔ اُخْرَجُمیں نکالا جاؤں گا ‘ زمین سے یا حالت موت سے۔ حَیًّا زندہ ہو کر ‘ چونکہ وہ شخص مرنے کے بعد دوبارہ زندگی کا منکر تھا ‘ اس لئے حرف انکار سب سے اوّل ذکر کیا۔ لَسَوْفَمیں لام صرف تاکید کے لئے ہے زمانۂ حال کا مفہوم مراد نہیں ہے۔
Ayah 19:67

اَوَ لَا یَذْكُرُ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ یَكُ شَیْئًا Open ayah 19:67 in the Quran reader

کیا (ایسا) انسان یاد نہیں کرتا کہ ہم نے اس کو پہلے بھی پیدا کیا تھا اور وہ کچھ بھی چیز نہ تھا

اولا یذکر الانسان انا خلقنہ من قبل ولم یک شیئا۔ کیا یہ شخص اس بات کو نہیں سمجھتا کہ ہم اس سے قبل اس کو عدم سے وجود میں لا چکے ہیں اور اس وقت تو یہ کچھ بھی نہ تھا ‘ یعنی جو شے بالکل معدوم ہو کبھی اس کا نام و نشان بھی نہ ہوا ہو اس کو موجود کردینا زیادہ دشوار اور تعجب انگیز ہے مختلف مواد اور احوال و اعراض کا مجموعہ اگر موجود ہو کر فناہو گیا تو اس کو دوبارہ جمع کر کے موجود کردینا اور جوڑ کر یکجا کردینا اتنا دشوار نہیں ہے۔
Ayah 19:68

فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَ الشَّیٰطِیْنَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِیًّاۚ Open ayah 19:68 in the Quran reader

تمہارے پروردگار کی قسم! ہم ان کو جمع کریں گے اور شیطانوں کو بھی۔ پھر ان سب کو جہنم کے گرد حاضر کریں گے (اور وہ) گھٹنوں پر گرے ہوئے (ہوں گے)

فوربک لنحشرنہم والشیطین ثم لنحضرنہم حول جہنم جثیا۔ سو قسم ہے آپ کے رب کی ہم ان کو اور شیاطین کو ضرور جمع کریں گے پھر ان کو دوزخ کے گرداگرد اس حالت سے حاضر کریں گے کہ یہ گھٹنوں کے بل گرے ہوں گے۔ وَالشَّیٰطِیْنَیہ مفعول معہ ہے یا ہُمْ ضمیر پر معطوف ہے۔ بغوی نے لکھا ہے ہر کافر کو ایک شیطان کے ساتھ ایک زنجیر میں باندھا جائے گا اور ساتھ ساتھ میدان حشر میں لایا جائے گا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا جِثِیًّا یعنی گروہ گروہ۔ یہ جثوۃ کی جمع ہے۔ حسن اور ضحاک نے کہا جثیا جاث کی جمع ہے زانو کے بل بیٹھے ہوئے ‘ سدی نے ترجمہ کیا تنگی مقام کی وجہ سے زانو کے بل کھڑے ہوئے۔ میں کہتا ہوں خوش نصیب ہوں یا بدنصیب ‘ مؤمن یا کافر سب کو جہنم کے گرداگرد اللہ جمع کرے گا ‘ نیکوں کو یہ بات دکھا کر خوش کرنے کے لئے کہ اللہ نے ان کو جہنم سے بچا لیا اور بدوں کو زیادہ افسوس و حسرت دلانے کے لئے کہ نیک لوگ جہنم سے لوٹ کر جنت کی طرف چلے گئے اور ان کو جہنم کے لئے چھوڑ گئے۔ عبداللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں اور بیہقی نے حضرت عبداللہ بن نابتہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ منظر گویا میرے سامنے ہے کہ الکرم میں جہنم سے ورے تم لوگ زانو کے بل بیٹھے ہوئے ہو۔ یہ بیان کرنے کے بعد راوی حدیث (یعنی سفیان نے) آیت وَتَرٰی کُلَّ اُمَّۃٍ جَاثِیَۃً ۔۔ پڑھی۔ شیخ ابن حجر نے کہا الکرم سے مراد ہے اونچا مقام جہاں امت محمدیہ ہوگی۔ لفظ ثم دلالت کر رہا ہے اس امر پر کہ حشر سے ایک مدت کے بعد لوگ جہنم کے گرداگرد جمع ہوں گے کیونکہ فیصلے سے پہلے ایک طویل مدت تک ان کو موقف حساب میں رکنا پڑے گا۔
Ayah 19:69

ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِیْعَةٍ اَیُّهُمْ اَشَدُّ عَلَى الرَّحْمٰنِ عِتِیًّاۚ Open ayah 19:69 in the Quran reader

پھر ہر جماعت میں سے ہم ایسے لوگوں کو کھینچ نکالیں گے جو خدا سے سخت سرکشی کرتے تھے

ثم لننزعن من کل شیعۃ ایہم اشد علی الرحمن عتیا۔ پھر (ان کفار کے) ہر گروہ میں سے ان لوگوں کو علیحدہ کریں گے جو ان میں سب سے زیادہ اللہ سے سرکشی کرتا تھا کُلِّ شِیْعَۃٍیعنی ہر امت اور ہر مذہب والوں میں سے۔ شیعۃ جدا گروہ۔ متبعین مددگار ‘ اس لفظ کا اطلاق واحد پر بھی ہوتا ہے اور دو پر بھی اور جمع پر بھی مذکر پر بھی اور مؤنث پر بھی۔ اصل ماخذ شاع یَشِیْعُ (ضرب یضرب) ہے مصدر شَیْعًا شَیَعًا ‘ شُیوعًا مُشَاعًا ‘ شَیْعُوْعَۃً ہے شاعکا معنی ہے پھیل گیا ‘ مشہور ہوگیا (قاموس) میں کہتا ہوں متبعین اور انصار کو شیعہ اس لئے کہتے ہیں کہ شیوع اور پھیلاؤ کا لازمی نتیجہ تقویت اور مددگاروں کے پھیلاؤ سے بھی متبوع اور پیشوا کو قوت حاصل ہوتی ہے۔ شَاع القومقوم پھیل گئی ‘ اس کی تعداد بہت ہوگئی شَیَّعْتُ النَّار بالْحَطَبِمیں نے آگ کو لکڑیاں ڈال کر تیز کردیا ‘ کثرت متبعین سے بھی آدمی کو قوت حاصل ہوجاتی ہے۔ عِتِیًّا (مصدر ہے) بےجا غرور۔ معصیت میں حد سے آگے بڑھ جانا۔ (قاموس) یا طاعت سے سرکشی کرنا۔ بغوی نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ عِتِیًّسے اس جگہ جرأت مراد ہے ‘ (یعنی اللہ کے مقابلہ میں بےباکی۔ مترجم) مجاہد نے اس کا ترجمہ فجور کیا۔ عِتِیًّا ضابطۂ نحو کے لحاظ سے تمییز ہے یعنی اَیُّہُمْ اَشَدُّ عَلَی الرَّحْمٰنِ عِتْوَۃً ۔ سیبویہ کے نزدیک لفظ ایہم مفعول ہونے کی بنا پر محل نصب میں ہے بیضاوی نے لکھا ہے کہ لفظ ایُّ موصولہ ہے اور دوسرے موصولات کی طرح اس کو مبنی ہی ہونا چاہئے لیکن لفظ بعض اور لفظ کل کی طرح یہ ہمیشہ مضاف ہوتا ہے پھر اس جگہ اس کے صلہ کا ابتدائی جزء محذوف بھی ہے (یعنی اَیُّہُمْ اَشَدُّ عَلَی الرَّحْمٰنِاصل میں اَیُّہُمْ ہُوَاَشَدُّ عَلَی الرَّحْمٰنتھا) اس جگہ لفظ ای مبنی نہیں ہے معرب ہے۔ سیبویہ کے نزدیک ایہممبتدا ہے اور اشد خبر ہے۔ مِنْ کُلّ میں مِنْ بمعنی بعض ہے یا زائد ہے۔
Ayah 19:70

ثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بِالَّذِیْنَ هُمْ اَوْلٰى بِهَا صِلِیًّا Open ayah 19:70 in the Quran reader

اور ہم ان لوگوں سے خوب واقف ہیں جو ان میں داخل ہونے کے زیادہ لائق ہیں

ثم لنحن اعلم بالذین ہم اولی بہا صلیا۔ پھر ہم ان لوگوں کو خوب جانتے ہوں گے جو دوزخ میں داخل ہونے کے سب سے زیادہ مستحق ہوں گے۔ ایک شبہ لفظ ثُمَّکا استعمال بتارہا ہے کہ پہلے جہنم کے گرداگرد دوزخیوں کو حاضر کیا جائے گا۔ اس کے بعد ہر گروہ میں سے سب سے بڑے نافرمانوں کو چھانٹا جائے گا ‘ پھر آخر میں اللہ کو علم ہوگا کہ آگ میں داخل ہونے کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے ‘ حالانکہ اللہ کو اگر دوزخیوں کا علم پہلے سے نہ ہوگا تو دوزخ کے گرداگرد ان کو جمع کیسے کیا جائے گا اور سب سے بڑے نافرمانوں کو ہر گروہ میں سے چھانٹ کر کیسے نکالا جائے گا۔ ازالہ ثُمَّ اس جگہ تاخیر زمانی کے لئے مستعمل نہیں ہے بلکہ صرف ترتیب کلام کی تاخیر اور مرتبہ کی تراخی کے لئے مستعمل ہے جیسے آیت ثُمَّ کَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا۔۔ میں آیا ہے۔ (2) یا اس آیت میں جاننے سے مراد ہے عذاب دینا (کیونکہ جاننے کا نتیجہ عذاب کی شکل میں ہی نمودار ہوگا) اور ظاہر ہے کہ دوزخ پر حاضر کرنے کے بعد عذاب دیا جائے گا۔ ایک سوال اعلم اسم تفضیل ہے تو کیا اللہ کے سوا قیامت کے دن کوئی اور مخلوق بھی دوزخیوں کے مستحق دوزخ ہونے سے واقف ہو ‘ کیا کسی اور کو بھی ان کے عقائد و اعمال کا علم ہوگا۔ جواب یہاں اعلم بمعنی علیم کے ہے یعنی ہم ہی واقف ہوں گے کہ کون دوزخ میں داخلہ کا زیادہ مستحق ہے۔ (2) یہ بھی ممکن ہے کہ اعمالنامے لکھنے والے فرشتے دوزخیوں کے اعمال سے واقف ہوں بدکار اور پرہیزگار سعید اور شقی ہر ایک کو تفصیل سے جانتے ہوں لیکن ان سب کے علم سے اللہ کا علم زائد ہو پس اللہ سب سے زیادہ ان کے احوال سے واقف ہوگا (کیونکہ اللہ کو دماغی تصورات اور قلبی تصدیقات اور اندرونی نیتوں کا بھی علم ہے اور اعمال لکھنے والوں کو ان میں سے کسی بات کا علم نہیں ان کو تو صرف بدنی اعمال کا علم ہے) ۔ من کل شیعۃٍکا لفظ اگر کافروں اور گناہگار مسلمانوں سب کو شامل مانا جائے تو لفظ اشد سے تنبیہ ہوگی اس امر پر کہ اللہ بکثرت گناہگار مؤمنوں کو معاف فرما دے گا لیکن بغوی اور اکثر اہل تفسیر نے کل شیعۃ سے صرف کافروں کے گروہ مراد قرار دیئے ہیں اور رفتار کلام کا بھی یہی تقاضا ہے۔ اس صورت میں آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم کافروں کے ہر گروہ میں سے ترتیب وار حسب درجۂ کفر چھانٹ لیں گے اور یکے بعد دیگرے ترتیب کے ساتھ دوزخ میں پھینک دیں گے جو سب سے زیادہ باغی ہوگا ‘ اس کو سب سے پہلے پھر اس سے کم سرکش کو پھر اس سے کم بغاوت والے کو۔ یا یہ مطلب ہوگا کہ ہر کافر کو دوزخ کے اس درجہ اور طبقہ کے لئے چھانٹ لیں گے جو اس کے لئے مقرر اور نامزد ہوگا۔ آیت مذکورہ کی تشریح میں ابن ابی حاتم اور بیہقی نے حضرت ابن مسعود ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ جب اوّل و آخر سب کا حشر ہوچکے گا اور سب کی گنتی پوری ہوجائے گی تو پھر ترتیب وار بڑے جرائم والوں کو پھر ان سے کم جرائم والوں کو پھر ان سے کم درجہ کے مجرموں کو چھانٹا جائے گا ‘ ہناد نے احوص کا قول بھی اس آیت کی تشریح میں اسی کے قریب قریب نقل کیا ہے۔
Ayah 19:71

وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا١ۚ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِیًّاۚ Open ayah 19:71 in the Quran reader

اور تم میں کوئی (شخص) نہیں مگر اسے اس پر گزرنا ہوگا۔ یہ تمہارے پروردگار پر لازم اور مقرر ہے

وان منکم الا واردہا اور تم میں سے ہر ایک دوزخ پر اترنے والا ہے۔ (یعنی اللہ نے قسم کھا کر فرمایا ہے کہ ہر شخص کو دوزخ پر ضرور اترنا ہوگا) کان علی ربک حتما مقضیا۔ یہ آپ کے رب پر (اس کے وعدے کے موافق) لازم ہے ‘ جو ضرور پورا ہو کررہے گا۔ خَتْممصدر (بمعنی صفت) ہے یعنی لازم ہے اللہ نے اپنے اوپر لازم قرار دے لیا ہے ‘ اللہ نے یہ امر طے کردیا ہے اور قطعی فیصلہ کردیا ہے کہ ایسا ضرور ہوگا ‘ اس کے خلاف ہونا ممکن نہیں۔
Ayah 19:72

ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ نَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْهَا جِثِیًّا Open ayah 19:72 in the Quran reader

پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیں گے۔ اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل پڑا ہوا چھوڑ دیں گے

ثم ننجی الذین اتقوا ونذر الظلمین فیہا جثیا۔ پھر (جہنم پر اتارنے کے بعد) ان لوگوں کو ہم بچالیں گے جو (شرک سے) بچتے رہے تھے (عذاب دے کر یا بغیر سزا دیئے بہرحال اہل توحید و ایمان کو دوزخ سے نجات دے دی جائے گی) اور کافروں کو دوزخ کے اندر سب کو چھوڑ دیں گے۔ جِثِیًّا یعنی سب کو۔ یعنی دو زانو یا زانو کے بل بیٹھا چھوڑ دیں گے ‘ ورود سے مراد ہے داخل ہونا ‘ پل صراط جہنم کے اوپر ہوگا اور اس پر سے سب کو گزرنا ہی ہوگا۔ بعض اہل ہوٰی (یعنی فرقۂ مرجۂ والے جو ایمان صحیح کے بعد کسی گناہ کو ضرر رساں نہیں خیال کرتے اور کہتے ہیں اگر ایمان دل میں موجود ہے تو پھر کسی مؤمن کا داخلہ جہنم میں نہ ہوگا) ۔ کہتے ہیں کہ ورود سے مراد داخل ہونا نہیں ہے بلکہ دوزخ پر حاضر ہونا اور اس کو دیکھنا مراد ہے حساب کے مقام پر تو سب کو جانا ہی ہوگا اور مقام حساب جہنم کے قریب ہوگا اس لئے ہر ایک کو دوزخ سامنے نظر آئے گی۔ یہ فرقہ کہتا ہے کہ مؤمن کبھی دوزخ میں نہیں جائے گا ‘ کیونکہ جو شخص دوزخ میں چلا جائے گا وہ کبھی وہاں سے باہر نہ آسکے گا ‘ اللہ نے فرمایا ہے اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَہُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰی اُولٰءِکَ عَنْہَا مُبْعَدُوْنَ لاَ یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَہَا۔ مقام حساب میں حاضر کرنے کے بعد اللہ مؤمنوں کو تو وہیں سے نجت دے کر جنت میں لے جائے گا اور کافروں کو دوزخ میں داخل کر دے گا۔ ورود (کا معنی قریب یا کنارے پر پہنچ جانا ‘ قرآن مجید میں بھی آیا ہے وَلَمَّا وَرَدَ مَاءَ مَدْیَنَاور جب موسیٰ مدین کے پانی (کنوئیں) پر اترے۔ ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ کنویں کے اندر نہیں اترے تھے کنارہ پر پہنچے تھے اس کی تائید رسول اللہ ﷺ : کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو امام احمد اور ابو یعلی اور طبرانی نے قابل قبول سند کے ساتھ حضرت معاذ بن انس کی روایت سے بیان کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنی خوشی سے حاکم کے جبر کے بغیر جہاد میں مسلمانوں کی چوکیداری کرے گا وہ دوزخ کو اپنی آنکھ سے بھی نہیں دیکھے گا ‘ مگر صرف قسم پوری کرنے کے لئے کیونکہ اللہ نے فرما دیا ہے وَاِنْ مِّنْکُمْ الاَّ وَارِدُہَا (اور یہ جملہ اہل تفسیر کے نزدیک قسمیہ ہے) اہلسنّت کے مسلک کی تشریح اور مرجیۂ کے شبہات کا ازالہ ہم کہتے ہیں گردن اٹھا کر جھانکنا ‘ دیکھنا ‘ کنارہ پر پہنچ جانا اور حاضر ہونا بیشک ورود کے مجازی معنی ہیں (حقیقی معنی داخل ہوناہی ہے) اور مجازی معنی کی طرف رجوع کسی خاص ضرورت کے زیر اثر ہوتا ہے اور یہاں کوئی ضرورت داعی نہیں بلکہ اسی آیت میں مجازی معنی مراد نہ ہونے کی تائید ملتی ہے کیونکہ اس آیت میں لفظ ننجی اور نذر آیا ہے اور ظاہر ہے کہ نجات دینا یا دوزخ میں چھوڑ دینا اسی وقت ممکن ہے جب پہلے سے دوزخ میں داخلہ ہوگیا ہو۔ حدیث سے استدلال بھی ناکافی ہے ‘ حدیث سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ قسم پوری کرنے کے لئے دوزخ کو دیکھنا ضروری ہے آگ میں داخلہ نہ ہونا نہ مذکور ہے نہ مستنبط۔ رہی آیت اولٰءِکَ عَنْہَا مُبْعَدُوْنَتو اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ دوزخ میں داخلہ کے بعد اور پھر نجات کا وقت اور حکم آجانے کے بعد ان کو دور کردیا جائے گا اس کے بعد وہ دوزخ سے دور رکھے جائیں گے اور دور ہوجانے کے بعد پھر وہ دوزخ کی آہٹ بھی نہیں سنیں گے۔ یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ آگ چونکہ ان کے لئے ٹھنڈی کردی جائے گی ‘ اس لئے دوزخ میں داخل ہونے کے وقت ان کو آگ کی آہٹ بھی سنائی نہیں دے گی۔ ہناد اور طبرانی اور بیہقی نے خالد بن معد کا قول نقل کیا کہ جنت میں پہنچ جانے کے بعد جنتی عرض کریں گے ‘ اے ہمارے مالک کیا تو نے وعدہ نہیں فرمایا تھا کہ ہم لوگ آگ میں ضرور داخل کئے جائیں گے ‘ اللہ فرمائے گا ضرور یہ وعدہ کیا تھا اور ایسا ہو بھی گیا تم لوگ آگ پر سے گزر گئے اور (چونکہ) آگ ٹھنڈی کردی گئی (اس لئے تم کو محسوس بھی نہیں ہوئی) ۔ ابن عدی اور طبرانی نے حضرت یعلی بن امیہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن آگ مؤمن سے کہے گی (میرے اوپر سے) گزر جا ‘ تیرے نور نے میری لپٹ کو بجھا دیا۔ اہل سنت کہتے ہیں کہ ورود بمعنی دخول ہے خواہ بصورت مرور ہی ہو (اندر گھسنا مراد نہ ہو اوپر سے گزر جانا مراد ہو) اس کا ثبوت ابو سمیہ کے اس بیان سے ملتا ہے جو امام احمد اور حاکم اور بیہقی نے نقل کیا ہے ابو سمیہ نے کہا ورود کے معنی کی تعیین میں ہمارا باہم اختلاف ہوگیا کسی نے کہا مؤمن دوزخ میں داخل ہی نہیں ہوگا کسی نے کیا دوزخ میں سب کو جانا ہوگا۔ پھر شرک سے پرہیز رکھنے والوں کو اللہ نجات دے دے گا ‘ میں نے اس اختلاف کا تذکرہ حضرت جابر بن عبداللہ کی خدمت میں حاضر ہو کر کیا حضرت جابر نے اپنی دونوں انگلیاں کانوں تک لے جا کر فرمایا یہ دونوں کان بہرے ہوجائیں اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے ان کانوں سے نہ سنا ہو کہ نیک ہو یا بد کوئی بھی آگ میں داخل ہوئے بغیر نہیں بچے گا مگر مؤمن کے لئے آگ ٹھنڈی پڑجائے گی اور باعث سلامتی ہوجائے گی جس طرح حضرت ابراہیم کے لئے ہوگئی تھی یہاں تک کہ مؤمنوں کی ٹھنڈک سے آگ چلا اٹھے گی ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْہَا جِثِیًّا پھر ہم شرک سے بچنے والوں کو نجات دے دیں گے اور سب کافروں کو اسی کے اندر چھوڑ دیں گے۔ بغوی نے بحوالۂ ابن عیینہ ‘ عمرو بن دینار کی روایت سے بیان کیا کہ نافع بن ارزق نے حضرت ابن عباس ؓ سے ورود کے معنی کی تشریح میں کچھ اختلاف کیا اور کہا ورود سے مراد داخل ہونا نہیں ہے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ‘ اللہ نے دوسری جگہ ارشاد فرمایا ہے اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ حَصْبُ جَہَنَّمَ اَنْتُمْ لَہَا وَارِدُوْنَکیا اس آیت میں ورود سے مراد داخل ہونا نہیں ہے۔ کیا وہ جہنم میں داخل نہیں ہوں گے ‘ پھر فرمایا نافع تم اور میں سب اس میں داخل ہوں گے مجھے تو امید ہے کہ اللہ مجھے نکال لے گا لیکن میرا خیال ہے کہ تجھے نہیں نکالے گا کیونکہ تو داخل ہونے کا ہی منکر ہے۔ سعید بن منصور ‘ عبدالرزاق ‘ ابن جریر ‘ ابن ابی حاتم اور بیہقی نے مجاہد کی روایت سے بیان کیا ہے کہ نافع بن ارزق حضرت ابن عباس ؓ سے ورود کے مرادی معنی کے متعلق جھگڑنے لگا۔ الی آخرہ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ حَصْبُ جَہَنَّمَ اَنْتُمْ لَہَا وَارِدُوْنَ تلاوت کرنے کے بعد فرمایا ‘ کیا وہ آگ میں داخل ہوں گے یا نہیں۔ اس کے بعد یہ آیت پڑھی یَقْدِمُ قَوْمَہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَاَوْدَہُمُ النَّارُاور فرمایا کیا وہ دوزخ میں اپنی قوم کو لے جائے گا یا نہیں۔ اس کے بعد حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا میں اور تو سب ہی اس میں داخل ہوں گے۔ اب تو خود ہی غور کرلے کہ تو وہاں سے نکلے گا یا نہیں (ہمیشہ اس کے اندر ہی پڑا رہے گا) بطریق عوفی حضرت ابن عباس ؓ کا قول آیت اِنْ مِّنْکُمْ الاَّوَارِدُہَاکی تفسیر میں آیا ہے کہ نیک اور بد سب ہی اس میں داخل ہوں گے کیا تم کو نہیں معلوم کہ (ورود بمعنی دخول دوسری آیات میں بھی آیا ہے) اللہ نے فرمایا ہے فَاَوْرَدَہُمْ النَّارَ ۔ وَبئسَ الْوِرْوُد الْمَوْرُوْدُ ۔ وَنَسُوْقُ الْمُجْرِمِیْنَ اِلٰی جَہَنَّمَ وِرْدًا۔ حاکم نے بیان کیا کہ حضرت ابن مسعود ؓ سے آیت اِنْ مِّنْکُمْ الاَّ وَارِدُہَاکا معنی پوچھا گیا ‘ آپ نے فرمایا اِنْ مِّنْکُمْ الاَّ دَاخِلُہَا (یعنی وارد کا معنی ہے داخل) ۔ بیہقی نے بروایت عکرمہ بیان کیا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے آیت مذکورہ کی تشریح میں فرمایا دوزخ میں داخل ہوئے بغیر کوئی نہیں رہے گا۔ امام احمد ‘ ترمذی ‘ بیہقی اور حاکم نے بیان کیا کہ حضرت ابن مسعود نے آیت وَاِنْ مِنْکُمْ الاَّ وَارِدُہَا کے سلسلہ میں بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سب لوگ دوزخ پر اتریں گے۔ اس کے بعد اپنے اپنے اعمال کے موافق وہاں سے نکال لئے جائیں گے اوّل شخص بجلی چمکنے کی طرح (نکل جائے گا) پھر ہوا کی طرح پھر گھوڑے کی تیز دوڑ کی طرح پھر اونٹ کی رفتار کی طرح جس پر سامان بھی لدا ہو۔ پھر آدمی کے دوڑنے کی طرح پھر آدمی کی معمولی رفتار کی طرح۔ ابن ابی حاتم نے حضرت ابن مسعود ؓ : کا بیان نقل کیا ہے کہ سب لوگ پل صراط پر اتریں گے ‘ اور اترنے سے مراد ہے ان کا قیام ‘ پھر اپنے اپنے اعمال کے موافق صراط سے باہر نکال لئے جائیں گے۔ کوئی بجلی کی طرح گزر جائے گا ‘ کوئی بہترین اونٹ کی طرح کوئی آدمی کی دوڑ کی طرح (دوڑ کر) گزر جائے گا یہاں تک کہ گزرنے والوں میں آخری شخص وہ ہوگا جو پل صراپ پر اپنے قدموں کے انگوٹھے رکھتا ہوا صراط سے گزر جائے گا۔ شیخین (بخاری و مسلم) نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا ‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایسا نہیں ہوگا کہ کسی مسلمان کے تین بچے مرجائیں اور وہ آگ میں داخل ہو ہاں صرف قسم پوری کرنے کے لئے (ضرور داخل ہوگا) اس کے بعد سفیان (راوی) نے آیت وَاِنْ مِنْکُمْ الاَّ وَارِدُہَاپڑھی ‘ طبرانی نے حضرت عبد بن بشیر انصاری کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کے تین نابالغ بچے مرجائیں گے وہ (دوزخ میں) نہیں اترے گا مگر رہگزر کی طرح۔ یعنی وہ پل صراط سے گزر جائے گا (بغیر ٹھہرنے کے) ۔ ابن جریر نے غنیم بن قیس کا بیان نقل کیا کہ لوگوں نے آگ میں وارد ہونے کے سلسلہ میں کچھ تذکرہ کیا ‘ حضرت کعب نے فرمایا (آگ سب) لوگوں کو روک لے گی یہاں تک کہ سب لوگوں کے قدم اس پر ٹھیک اس طرح سے ٹھہر جائیں گے نیکوں کے بھی اور بدوں کے بھی پھر (اللہ کی طرف سے) ایک پکارنے والا پکارے گا اپنے ساتھیوں کو روکے رکھ اور میرے رفقاء کو چھوڑ دے یہ ندا ہوتے ہی جو دوزخ کا ساتھی ہوگا وہ دوزخ میں دھنس جائے گا جس طرح آدمی اپنے بچے کو پہچانتا ہے اس سے زیادہ دوزخ اپنے دوست کو پہچانتی ہوگی اور مؤمن اس طرح نکل جائیں گے کہ ان کے کپڑے بھی (خشک نہ ہوئے ہوں گے) تر ہوں گے۔ سیوطی نے لکھا ہے بعض علماء اہل سنت کے نزدیک ورود سے مراد ہے داخل ہونا قرطبی نے اسی معنی کو ترجیح دی ہے اور حضرت جابر وغیرہ کی احادیث سے استشہاد کیا ہے ‘ بعض اہل سنت کے نزدیک ورود سے مراد ہے گزر جانا ‘ نووی نے اس معنی کو پسند کیا ہے اور حضرت ابن مسعود کی اس روایت سے استدلال کیا ہے جس میں صراط سے گزرنے کا ذکر کیا گیا ہے حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث بھی اسی پر دلالت کرتی ہے۔ (حضرت مفسر نے فرمایا) میں کہتا ہوں صراط سے گزرنا ہی موجب دخول ہے ‘ دخول سے مراد یہ نہیں ہے کہ آگ کے اندر گھس جائے۔ جہنم کے اوپر سے مرور بھی دخول ہی ہے لامحالہ ورود سے مراد دخول ہی ہے خواہ بطریق مرور ہی ہو ‘ مختلف احادیث میں تطبیق دینے کی یہی صورت ہے۔ اگر شبہ کیا جائے کہ بیہقی نے حسن بصری کا قول نقل کیا ہے کہ ورود سے مراد ہے دوزخ پر سے گزر جانا بغیر داخل ہونے کے اور مرور دخول سے الگ مفہوم رکھتا ہے تو میں کہوں گا کہ حضرت حسن کے قول میں داخل ہونے سے مراد ہے اندر گھس جانا اور آگ کے اندر پہنچ جانا اور یقیناً گزر جانے کا مفہوم اندر گھس جانے کے مفہوم سے جدا ہے مطلق دخول مراد نہیں ہے (مطلق دخول تو مرور کو بھی شامل ہے) ۔ ہناد نے حضرت حفصہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں یقینی امید رکھتا ہوں کہ جو شخص بدر اور حدیبیہ میں حاضر تھا وہ دوزخ میں داخل نہ ہوگا ‘ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا اللہ نے وَاِنْ مِّنْکُمْ الاَّ وَارِدْہَا کَانَ عَلَی رَبِّکَ حَثْمًا مَقْضیا نہیں فرمایا ہے۔ فرمایا کیا تم نے اللہ کا یہ ارشاد نہیں سنا کہ ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّلِمِیْنَ فِیْہَاِ جثیًّا۔ حضور ﷺ کا یہ آخری جواب بھی بتارہا ہے کہ حدیث مذکور میں داخل نہ ہونے سے مراد ہے اندر نہ گھس جانا اور وہاں استقرار نہ کرنا۔ سیوطی نے لکھا بکثرت سلف صالحین دوزخ میں وارد ہونے سے ڈرتے تھے (کیونکہ دوزخ پر ورود تو یقینی ہوگا) اور نکلنے کا احتمال ہے (یہ امر یقینی نہیں کہ صراط سے گزرتے ہوئے نکل جائیں گے اس لئے ان بزرگوں کو ہر وقت خوف رہتا تھا) ۔ امام احمد نے الزہد میں اور ہناد و بیہقی و سعید بن منصور و حاکم نے حضرت حازم بن ابی حازم کی روایت سے بیان کیا کہ ایک بار حضرت عبداللہ بن رواحہ رونے لگے بی بی نے پوچھا آپ کیوں رو رہے ہیں ‘ حضرت عبداللہ نے فرمایا مجھے خبر دی گئی ہے کہ میں یقیناً دوزخ پر اتروں گا اور یہ نہیں بتایا گیا کہ میں یقیناً وہاں سے نکلوں گا بھی۔ ہناد اور بیہقی نے ابو اسحاق کی روایت سے بیان کیا کہ حضرت ابو میسرہ عمرو بن شرحبیل اپنے بستّر پر جانے کے لئے اٹھے اور فرمایا کاش میری ماں مجھے نہ جنتی بی بی نے پوچھا کیا بات ہے فرمایا اللہ نے یہ تو ہم کو بتادیا کہ میں (اور تم) ضرور دوزخ میں داخل ہوں گے اور یہ نہیں فرمایا کہ میں (اور تم) وہاں سے نکلیں گے۔ امام احمد نے الزہد میں بیان کیا کہ حسن بصری نے فرمایا ایک شخص نے اپنے بھائی سے کہا کیا تجھے معلوم ہے کہ تو ضرور دوزخ پر اترے گا ‘ بھائی نے کہا جی ہاں اس شخص نے کہا کیا یہ بھی تجھے معلوم ہے کہ تو وہاں سے نکل بھی آئے گا بھائی نے کہا نہیں۔ اس شخص نے کہا پھر ہنسی کیسی (روتے رہنے کا مقام ہے چناچہ مرتے دم تک پھر اس کو ہنستے نہیں دیکھا گیا۔
Ayah 19:73

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا١ۙ اَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ خَیْرٌ مَّقَامًا وَّ اَحْسَنُ نَدِیًّا Open ayah 19:73 in the Quran reader

اور جب ان لوگوں کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو جو کافر ہیں وہ مومنوں سے کہتے ہیں کہ دونوں فریق میں سے مکان کس کے اچھے اور مجلسیں کس کی بہتر ہیں

واذا تتلی علیہم ایتنا بینت اور جب ان کے سامنے ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں جو کھلی ہوئی ہیں ‘ یعنی جن کا مطلب واضح ہے خواہ خود ہی ان کا مطلب کھلا ہوا سمجھ میں آجاتا ہے یا رسول اللہ ﷺ کے بیان سے ان کا مطلب واضح ہوجاتا ہے۔ یا بینات کا یہ مطلب ہے کہ چونکہ آیات معجزہ ہیں اس لئے رسول اللہ ﷺ کی صداقت پر واضح طور پر دلالت کر رہی ہیں اور آپ کی نبوت کو ثابت کر رہی ہیں۔ قال الذین کفروا للذین امنوا تو کافر ‘ اہل ایمان سے کہتے ہیں ‘ رسول اللہ ﷺ کے ساتھی غریب تھے پراگندہ خشک بال ‘ زندگی بدحال ‘ فرسودہ لباس اور مشرک مالدار تھے بالوں میں تیل ڈالتے کنگھا کرتے اور اعلیٰ و عمدہ لباس پہنتے تھے پس ان خوش حال چکنے بال والے کافروں نے بدحال بوسیدہ لباس والے صحابہ سے کہا۔ ای الفریقین خیر مقاما واحسن ندیا (دیکھو ہم) دونوں گروہوں میں کس کا مقام اچھا ہے اور کس کی مجلس اعلیٰ ہے۔ مقام مصدر بھی ہے بمعنی قیام اور اسم ظرف بھی ہے یعنی قیام کی جگہ۔ ندی مجلس ‘ لوگوں کے جمع ہونے کا مقام ‘ مطلب یہ ہے کہ کفارجب آیات واضحات کے مقابلہ سے عاجز ہوگئے اور کوئی جواب ان کو نہ بن پڑا تو بطور فخر و غرور کہنے لگے دیکھو ہمارا حال کیسا ہے اور تم کس حالت میں ہو ہم دنیا میں مرفہ الحال ہیں اور تم بدحال پس اللہ کے نزدیک بھی ہمارا درجہ تمہارے درجہ سے اعلیٰ ہے اللہ نے اگلی آیت میں ان کے اس قول کی تہدید آمیز تردید فرمائی اور ان کی دلیل کو توڑتے ہوئے ارشاد فرمایا
Ayah 19:74

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّ رِءْیًا Open ayah 19:74 in the Quran reader

اور ہم نے ان سے پہلے بہت سی اُمتیں ہلاک کردیں۔ وہ لوگ (ان سے) ٹھاٹھ اور نمود میں کہیں اچھے تھے

وکم اہلکنا قبلہم من قرن ہم احسن اثاثا ورئیا۔ اور ہم نے ان سے پہلے بہت سے قرن والوں کو تباہ کردیا جو دنیوی سامان اور ظاہری دکھاوٹ میں ان سے اعلیٰ تھے۔ ہر زمانہ والوں کو قرن اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ سب زمانہ میں باہم مقارن ہوتے ہیں ‘ بغوی نے اثاثاً کا ترجمہ کیا ہے سروسامان اور مال ‘ مقاتل نے کہا کپڑے اور لباس۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے اثاث گھر کا سامان (اس وقت یہ لفظ اسم جنس ہوگا) اس کا واحد نہیں آتا اور اثاث کا معنی مال بھی ہے اس وقت اس کا واحد اثاثأ آتا ہے۔ رِیْءًاروایت سے ماخوذ ہے ‘ منظر ‘ دکھاوٹ ‘ بعض قراءتوں میں رِیًّا سیرابی آیا ہے۔ یعنی نعمتوں سے سیری۔
Ayah 19:75

قُلْ مَنْ كَانَ فِی الضَّلٰلَةِ فَلْیَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا١ۚ۬ حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ اِمَّا الْعَذَابَ وَ اِمَّا السَّاعَةَ١ؕ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضْعَفُ جُنْدًا Open ayah 19:75 in the Quran reader

کہہ دو کہ جو شخص گمراہی میں پڑا ہوا ہے خدا اس کو آہستہ آہستہ مہلت دیئے جاتا ہے۔ یہاں تک کہ جب اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے خواہ عذاب اور خواہ قیامت۔ تو (اس وقت) جان لیں گے کہ مکان کس کا برا ہے اور لشکر کس کا کمزور ہے

قل من کان فی الضللۃ فلیمددلہ الرحمن مدا (اے محمد ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ جو لوگ گمراہی میں ہیں (یعنی تم) تو رحمن ان کو ڈھیل دیتا چلا جا رہا ہے۔ فَلْیَمدُدْاگرچہ امرکا صیغہ ہے لیکن خبر کے معنی میں ہے مطلب یہ ہے کہ جو شخص گمراہی میں اندھا ہوا ہوتا ہے ‘ اللہ اس کو اور ڈھیل دیتا ہے اور گمراہی کے اندر اس کو بڑھاتا اور مہلت دیتا رہتا ہے۔ بجائے خبر کے لفظ امر ذکر کرنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ کے لئے مناسب بھی یہی ہے کہ اس کو ڈھیل دیتا رہے تاکہ کسی طور پر اس کو معذرت پیش کرنے کا موقع نہ رہے۔ (اسی مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) اللہ نے فرمایا ہے اَوَلَمْ نُعَمِّرْکُمْ مَا یَتَذَکَرُّ فِیْہِ مَنْ تَذَکَّرَ ۔
Ayah 19:76

وَ یَزِیْدُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا هُدًى١ؕ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ مَّرَدًّا Open ayah 19:76 in the Quran reader

اور جو لوگ ہدایت یاب ہیں خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے۔ اور نیکیاں جو باقی رہنے والی ہیں وہ تمہارے پروردگار کے صلے کے لحاظ سے خوب اور انجام کے اعتبار سے بہتر ہیں

حتی اذا راوما یوعدون اما العذاب واما الساعۃ فسیعلمون من ہو شر مکانا واضعف جندا یہاں تک کہ جس چیز کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے خواہ عذاب کو (دنیا میں) یا عذاب قیامت کو (مرنے کے بعد) جب وہ دیکھ لیں گے سو اس وقت جانیں گے کہ برا مقام اور کمزور مددگار کس کے ہیں۔ اِمَّا الْعَذَابَ وَاِمَّا السَّاعَۃَ مَا یُوْعَدُوْنَکی تفصیل ہے۔ عذاب سے مراد ہے دنیا میں قتل یاقید ہونا۔ الساعۃ سے مراد آخرت کی رسوائی اور عذاب ‘ حتیٰ کے بعد والا کلام ڈھیل دینے کی غایت ہے ‘ یعنی اللہ ڈھیل اس وقت تک دیتا ہے کہ عذاب دنیا یا عذاب آخرت (جو مرنے کے بعد ہی شروع ہوجاتا ہے۔ مترجم) سامنے آجاتا ہے جب عذاب کا وقت آجاتا ہے تو ڈھیل ختم ہوجاتی ہے۔ جند (فوج) یعنی مددگار۔ کافروں کے مددگار شیاطین ہوتے ہیں اور اہل ایمان کے مددگار ملائکہ۔ یہ کلام کافروں کے کلام کا رد ہے۔ شرمکانا کہہ کر خیر مقاما کی تردید کردی اور اضعف جندا کہہ کر احسن ندیا کی۔ کیونکہ مجلس کی رونق سرداران قوم کے اجتماع سے ہوتی ہے اور مددگار نہ ہوں تو مجلس کا کمزور ہونا یقینی ہوتا ہے۔
Ayah 19:77

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ كَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَ قَالَ لَاُوْتَیَنَّ مَالًا وَّ وَلَدًاؕ Open ayah 19:77 in the Quran reader

بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا اور کہنے لگا کہ (اگر میں ازسرنو زندہ ہوا بھی تو یہی) مال اور اولاد مجھے (وہاں) ملے گا

ویزید اللہ الذین اہتدوا ہدی اور جو لوگ ہدایت یافتہ ہوجاتے ہیں۔ اللہ ان کے ایمان میں مزید ترقی دیتا ہے۔ ان کے مراتب قرب میں اضافہ کرتا ہے ‘ آیات مذکورہ کا خلاصہ یہ ہے کہ کافروں کی دنیا میں مالداری اور راحت اندوزی اور مؤمنوں کی ناداری و بدحالی کی وجہ یہ نہیں ہے کہ کافر اللہ کے محبوب ہیں اور مؤمن مردود بلکہ مؤمنوں کے لئے دنیوی عیش و دولت کی کمی کو اللہ ان کی ہدایت و مراتب قرب کی ترقی کا ذریعہ بنا دیتا ہے اور کافروں کی گمراہی کے باوجود خوش حالی اللہ کی طرف سے ایک ڈھیل ہوتی ہے تاکہ ان کی گمراہی میں مزید اضافہ ہو۔ والبقیت الصلحت خیر عند ربک ثوابا وخیر مردا۔ اور جو نیک کام ہمیشہ باقی رہنے والے ہیں وہ آپ کے رب کے نزدیک ثواب میں بھی بہتر ہیں اور انجام میں بھی۔ الباقیات الصالحات سے مراد ہیں وہ نیک اعمال جن کا فائدہ کرنے والوں کو ہمیشہ ہمیشہ پہنچتا رہے گا۔ یعنی کافروں کو جو نعمتیں اللہ نے عطا فرمائی ہیں وہ (ناقص ہونے کے علاوہ) فانی بھی ہیں ‘ جن نعمتوں پر وہ پھولے ہوئے ہیں ان سے اہل ایمان کو نیک اعمال کا ملنے والا ثواب مآل اور انجام میں بہت بہتر ہے۔ خیر اسم تفضیل کا صیغہ ہے جس سے شبہ ہوتا ہے کہ شاید کافروں کا انجام بھی اللہ کے نزدیک کچھ اچھا ہوگا ‘ مؤمنوں کے انجام کے برابر نہ سہی ان سے کم ہی سہی بہرحال کچھ تو اچھا ہوگا اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں تفضیل سے تفضیل اضافی مراد نہیں ہے ‘ بلکہ فی نفسہٖ بہتری کی فراوانی مراد ہے جیسے بولتے ہیں ‘ موسم گرما موسم سرما سے زیادہ گرم ہوتا ہے یعنی موسم سرما سردی میں جس طرح زیادہ ہوتا ہے اسی طرح گرمی کا موسم گرمی میں موسم سرما سے زیادہ ہوتا ہے۔ شیخین نے حضرت خباب بن الارت کا بیان نقل کیا ہے حضرت خباب نے بیان کیا میں لوہاری کا کام کرتا تھا ‘ میں نے عاص بن وائل کا کچھ کام بنایا اور میری مزدوری اس کے پاس جمع ہوگئی ایک روز مزدوری مانگنے میں اسکے پاس گیا ‘ عاص نے جواب دیا خدا کی قسم جب تک تو محمد ﷺ : کا انکار نہیں کرے گا ‘ میں (تیرا قرض) ادا نہیں کروں گا ‘ میں نے کہا خوب سن لے خدا کی قسم جب تو مر کر دوبارہ زندہ ہو کر اٹھے گا اس وقت تک بھی میں کفر نہیں کروں گا۔ عاص بولا کیا میں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا۔ میں نے کہا ہاں ‘ عاص نے کہا تو پھر میرے پاس وہاں مال بھی ہوگا اور اولاد بھی ‘ میں وہیں تیرا قرض چکا دوں گا اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔ افرء یت الذی کفر بایتنا وقال لاوتین مالا وولدا۔ کیا آپ نے اس شخص کو (یعنی عاص بن وائل کو) دیکھا ‘ جس نے ہماری آیات کا انکار کیا اور کہا مجھے ضرور مال اور اولاد (دوبارہ زندگی میں) دیا جائے گا۔ بغوی نے لکھا ہے وُلُد اور وَلَد دونوں ہم معنی ہیں جیسے عرب اور عرب اور عجم اور عجم بعض نے کہا ولد جمع ہے اور ولد مفرد جیسے اسد جمع ہے (اور اسد (مفرد ہے)
Ayah 19:78

اَطَّلَعَ الْغَیْبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۙ Open ayah 19:78 in the Quran reader

کیا اس نے غیب کی خبر پالی ہے یا خدا کے یہاں (سے) عہد لے لیا ہے؟

اطلع الغیب کیا اس کو غیب کا علم ہوگیا ہے۔ یہاں الٰی محذوف ہے جیسے اطلع الجبل وہ پہاڑ کی چوٹی کی طرف چڑھا ‘ اس صورت میں آیت کا ترجمہ اس طرح ہوگا کیا وہ غیب کی طرف چڑھا ہے ‘ حضرت ابن عباس ؓ نے ترجمہ کیا ‘ کیا اس نے لوح محفوظ میں دیکھ لیا ہے ‘ مجاہد نے کہا کیا اس کو علم غیب حاصل ہوگیا ہے کہ وہ آخرت میں مال و اولاد حاصل ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ ام اتخذ عند الرحمن عہدا۔ یا اس نے اللہ سے کوئی عہد (اس بات کا) لے لیا ہے ‘ یعنی کیا وہ لا الہ الا اللہ کا قائل ہوگیا ہے ‘ قتادہ نے کہا یعنی کیا اس نے نیک کام کر چھوڑے ہیں کلبی نے کہا کیا اللہ نے اس سے وعدہ کرلیا ہے کہ اس کو جنت میں ضرور داخل کرے گا۔
Ayah 19:79

كَلَّا١ؕ سَنَكْتُبُ مَا یَقُوْلُ وَ نَمُدُّ لَهٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّاۙ Open ayah 19:79 in the Quran reader

ہرگز نہیں۔ یہ جو کچھ کہتا ہے ہم اس کو لکھتے جاتے اور اس کے لئے آہستہ آہستہ عذاب بڑھاتے جاتے ہیں

کلا ہرگز نہیں ‘ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ سنکتب ما یقول ونمد لہ من العذاب مدا۔ ہم اس کا کہا ہوا لکھ لیتے ہیں اور اس کے لئے عذاب بڑھاتے چلے جائیں گے۔ ایک شبہ ہر بات جو منہ سے نکلتی ہے فوراً لکھ لی جاتی ہے اللہ نے فرمایا ہے مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ الاَّ لَدَیْہ رَقیْبٌ عَتِیْدٌ۔ لیکن اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ عاص بن وائل نے جو بات حضرت خباب سے کہی تھی اللہ اس کو آئندہ لکھے گا۔ ازالہ لکھنے سے مراد ہے محفوظ رکھنا نظر انداز نہ کردینا یا اس امر کو ظاہر کرنا مقصود ہے کہ ہم نے اس کا قول لکھ لیا ہے یا اس کی بات کا انتقام لینا مقصود ہے بہرحال محفوظ رکھیں گے یا اس بات کو ظاہر کریں گے کہ ہم نے تیری کہی ہوئی بات لکھ لی تھی یا انتقام لیں گے یہ تمام امور آئندہ ہوں گے۔ اللہ کے فرشتے اعمال لکھتے ہیں اور اللہ کے حکم سے لکھتے ہیں اس لئے فرشتوں کا لکھنا اللہ کا لکھنا ہوا یہی وجہ ہے کہ آیت میں لکھنے کی نسبت اپنی طرف کی۔ عذاب میں اضافہ کرنے سے یہ مراد ہے کہ کفر کا عذاب تو اس کے لئے پہلے ہی سے مقرر ہے اب استہزاء کا عذاب مزید اس کے ساتھ شامل کردیا جائے گا۔
Ayah 19:80

وَّ نَرِثُهٗ مَا یَقُوْلُ وَ یَاْتِیْنَا فَرْدًا Open ayah 19:80 in the Quran reader

اور جو چیزیں یہ بتاتا ہے ان کے ہم وارث ہوں گے اور یہ اکیلا ہمارے سامنے آئے گا

ونرثہ ما یقول اور اس کی کہی ہوئی چیزوں کے ہم مالک رہ جائیں گے۔ یعنی جس مال و اولاد کی ملکیت کا یہ مدعی ہے اس کو ہلاک کر کے وہ مال و اولاد ہم اپنے قبضہ میں لے لیں گے۔ ویاتینا فردا۔ اور (قیامت کے دن) یہ ہمارے پاس تنہا آئے گا جو مال و اولاد دنیا میں اس کے پاس تھا وہ بھی قیامت کے دن اس کے ساتھ نہ ہوگا آخرت میں جدید مال و اولاد ملنے کا تو ذکر ہی کیا ہے۔
Ayah 19:81

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّیَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّاۙ Open ayah 19:81 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے خدا کے سوا اور معبود بنالئے ہیں تاکہ وہ ان کے لئے (موجب عزت و) مدد ہوں

واتخذوا من دون اللہ الہۃ لیکونوا لہم عزا۔ اور ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اور معبود تجویز کر رکھے ہیں تاکہ وہ ان کے لئے (عنداللہ) باعث عزت ہوں۔ اِتَّخَذُوْا کی ضمیر کفار قریش کی طرف راجع ہے آلہۃ سے بت مراد ہیں مطلب یہ ہے کہ کفار قریش بتوں کی پوجا اس لئے کرتے ہیں کہ اللہ کی بارگاہ میں ان بتوں کی سفارش یا وسیلہ سے ان کو عزت حاصل ہوجائے اور بت ان کی مدد کریں۔
Ayah 19:82

كَلَّا١ؕ سَیَكْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِهِمْ وَ یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِمْ ضِدًّا۠ Open ayah 19:82 in the Quran reader

ہرگز نہیں وہ (معبودان باطل) ان کی پرستش سے انکار کریں گے اور ان کے دشمن (ومخالف) ہوں گے

کلا ایسا ہرگز نہ ہوگا ‘ بتوں کے وسیلہ سے ان کو عزت حاصل نہ ہوگی۔ سیکفرون بعبادتہم وہ ان کی عبادت ہی کا انکار کریں گے ‘ یعنی وہ آلہہ اور معبود ان کی عبادت کا قیامت کے دن انکار کریں گے اور کہیں گے یہ ہماری پوجا نہیں کرتے تھے (شیطانوں اور اپنے ہوا و ہوس کی پوجا کرتے تھے) ہم ان کے اس فعل سے بری ہیں ‘ یا یہ مطلب ہے کہ قیامت کے دن کافر غیر اللہ کی عبادت کا انکار کردیں گے اور کہیں گے خدا کی قسم ہم مشرک نہیں تھے۔ ویکونون علیہم ضدا۔ اور ان کے مخالف ہوجائیں گے۔ ضد سے مراد ہے ذلت و حقارت۔ اوّل فقرہ میں بتوں کا باعث عزت ہونا مذکور ہے ‘ جس کی امید کافروں کو تھی اور عزت کی ضد ذلت ہوتی ہے یا ضد سے مراد ہے مخالف ہونا دشمن ہونا ‘ یعنی کافروں کے باطل معبود قیامت کے دن ان کے دشمن اور مخالف ہوجائیں گے ان کی تکذیب اور ان پر لعنت کریں گے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ کافروں کو عذاب دینے میں مددگار بن جائیں گے ‘ پتھروں کو آگ میں ڈالاجائے گا تو آگ کی تیزی بڑھ جائے گی پتھر ایندھن بن جائیں گے جن کی وجہ سے کافروں کی سوختگی میں اضافہ ہوگا ‘ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ قیامت کے دن یہ کافر اپنے الہہ کے مخالف ہوجائیں گے ‘ دنیا میں تو ان کی پوجا کرتے ہیں لیکن آخرت میں منکر ہوجائیں گے۔ لفظ ضد کی وحدت معنی کی طرف اشارہ کر رہی ہے یعنی سب کافر آلہہ کی ضد ہونے میں ایک شخص کی طرح ہوں گے سب ضدیت میں متفق ہوں گے۔ ابو داؤد و نسائی نے حضرت علی ؓ : کی روایت سے اور ابن حبان نے حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ سب دوسروں کے خلاف ایک ہاتھ ہیں یعنی سب متفق الرائے اور متحد القوت ہوں گے۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے کہ لفظ ضد کا اطلاق جمع پر بھی ہوتا ہے اللہ نے فرمایا ہے وَیَکُوْنُوْنَ عَلَیْہِمْ ضِدًّا۔
Ayah 19:83

اَلَمْ تَرَ اَنَّاۤ اَرْسَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ تَؤُزُّهُمْ اَزًّاۙ Open ayah 19:83 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ ہم نے شیطانوں کو کافروں پر چھوڑ رکھا ہے کہ ان کو برانگیختہ کرتے رہتے ہیں

الم تر انا ارسلنا الشیطین علی الکفرین توزہم ازا۔ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ہم نے شیطانوں کو کفار پر (ابتلاءً ) چھوڑ رکھا ہے کہ وہ ان کو خوب ابھارتے ہیں۔ سوال انکاری ہے اور نفی کا انکار اثبات ہوتا ہے یعنی شیطانوں کو ہم نے کافروں پر مسلط کر رکھا ہے ‘ بغوی نے لکھا ہے اس سے اشارہ اس قول کی طرف ہے جس میں اللہ نے ابلیس سے فرمایا تھا واسْتَفْزِزَّ مَنِ اسْتَطَعْتِ مِنْہُمْ بِصَوْتِکَ یا ارسلنا سے مراد ہے آزاد چھوڑ دینا ‘ یعنی ہم نے شیطانوں کو اور ان کافروں کو باہم تعلق قائم کرنے میں آزاد چھوڑ دیا ہے اَرْسَلْتُ الْبَعِیْرُمیں نے اونٹ کو کھول دیا ‘ آزاد چھوڑ دیا۔ اَزَّابھارنا ‘ برانگیختہ کرنا ‘ جھوٹے فریب دے کر گناہوں پر آمادہ کرنا اور بہکا کر خواہشات کے پیچھے لگا دینا۔ سوال انکاری کے ساتھ جملہ کو شروع کرنے سے مقصود ہے رسول اللہ ﷺ : کو تعجب دلانا کافروں کے اقوال پر اور باوجود ظہور حق کے کفر و گمراہی میں اندھے رہنے پر۔
Ayah 19:84

فَلَا تَعْجَلْ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّاۚ Open ayah 19:84 in the Quran reader

تو تم ان پر (عذاب کے لئے) جلدی نہ کرو۔ اور ہم تو ان کے لئے (دن) شمار کر رہے ہیں

فلا تعجل علیہم انما نعد لہم عدا۔ پس آپ (نزول عذاب میں) ان کے لئے جلدی نہ کریں (یعنی جلد عذاب نازل ہونے کی دعا نہ کریں) ہم ان (کی زندگی کے ایام مقررہ) کی کامل طور پر یقیناً گنتی رکھتے ہیں۔ یعنی ہم نے ان کی عمریں مقرر کردی ہیں ان کے ایام زندگی اور ساعات) محدود اور معدود ہیں (مدت زندگی پوری ہونے سے پہلے ان کو ہلاک نہیں کیا جاسکتا) ۔
Ayah 19:85

یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ اِلَى الرَّحْمٰنِ وَفْدًاۙ Open ayah 19:85 in the Quran reader

جس روز ہم پرہیزگاروں کو خدا کے سامنے (بطور) مہمان جمع کریں گے

یوم نحشر المتقین الی الرحمن وفدا۔ اور جس روز ہم تقویٰ والوں کو رحمن (کے دارالنعیم) کی طرف مہمان بنا کر جمع کریں گے۔ اِلی الرَّحْمٰنِ میں رحمن کی ذات کی مراد نہیں بلکہ اس) سے مراد ہے وہ مقام عزت جہاں تجلیات الٰہیہ پر تو انداز ہوں گی۔ وَفْدوافد کی جمع ہے بادشاہوں کی طرف وفد جاتے ہیں۔ عزت یابی کی امید اور انعام لینے کی تمنا لئے ہوئے۔ پس بارگاہِ الٰہی کی طرف بھی اہل تقویٰ اسی طرح قبروں سے اٹھ کر جائیں گے۔ عبداللہ بن احمد نے زوائد المسند میں اور حاکم و بیہقی و ابن جریر وابن ابی حاتم نے بیان کیا کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا سنو اللہ متقیوں کے وفد کو نہ پیدل اٹھائے گا نہ ہنکا کرلے جائے گا بلکہ جنت کی ان اونٹنیوں پر سوار کرا کے بلوائے گا جن کی نظیر کسی مخلوق نے نہیں دیکھی اونٹنیوں پر سونے کے کجاوے اور زبرجد کی مہاریں ہوں گی ‘ متقی ان پر سوار ہو کر جائیں گے اور جا کر جنت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا خدا کی قسم ان کو پیدل نہیں لے جایا جائے گا بلکہ ایسی اونٹنیوں پر جن کے کجاوے سونے کے ہوں گے سوار کیا جائے گا اور ان اصیل گھوڑوں پر سوار کر کے لے جایا جائے گا جن کی زمینیں یاقوت کی ہوں گی اگر اہل جنت چاہیں گے تو سواریاں اڑنے لگیں گی۔ بیہقی نے طلحہ بن ابی طلحہ کے طریق سے حضرت ابن عباس کا قول یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ اِلَی الرَّحْمٰنِ وَفْدًاکی تشریح میں بیان کیا آپ نے فرمایا ‘ سوار کر کے (لے جایا جائے گا) اور آیت نسوق المجرمین الی جہنم وردا کی تشریح میں فرمایا ‘ پیاسے (یعنی مجرموں کو پیاس کی حالت میں جہنم کی طرف ہنکایا جائے گا) ابن جریر نے ابو طلحہ کی روایت سے حضرت ابوہریرہ ؓ : کا قول نقل کیا وفداً یعنی اونٹوں پر (سوار) ابن ابی حاتم نے عمر بن قیس ملائی کا بیان نقل کیا ہے کہ مؤمن جونہی قبر سے برآمد ہوگا اس کا عمل حسین ترین شکل اور پاکیزہ ترین خوشبو کے ساتھ اس کے سامنے آئے گا اور کہے گا کیا تو مجھے پہچانتا ہے مؤمن جواب دے گا نہیں۔ مگر (اتنا جانتا ہوں کہ) اللہ نے تیری خوشبو کو پاکیزہ اور صورت کو حسین بنایا ہے عمل کہے گا میں دنیا میں بھی ایسا ہی تھا ‘ میں تیرا نیک عمل ہوں ‘ دنیا میں مدت دراز تک میں تجھ پر سوار رہا ‘ آج تو مجھ پر سوار ہوجا اتنا بیان کرنے کے بعد راوی نے پڑھا ‘ یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ اِلَی الرَّحْمٰنِ وَفْدًا پھر کہا کافر کا عمل نہایت بدشکل اور انتہائی گندی بدبو کے ساتھ اس کے سامنے آئے گا اور پوچھے گا کیا تو نے مجھے پہچانا کافر جواب دے گا نہیں ‘ مگر (اتنا جانتا ہوں کہ) اللہ نے تیری شکل بہت بری اور بو نہایت گندی بنائی ہے ‘ عمل کہے گا ‘ میں دنیا میں بھی ایسا ہی تھا ‘ میں تیرا برا عمل ہوں دنیا میں مدت دراز تک تک تو مجھ پر سوار رہا ‘ آج میں تجھ پر سوار ہوں گا۔ اتنا بیان کرنے کے بعد راوی نے پڑھا وَہُمْ یَحْمِلُوْنَ اَوْزَادَ ہُمْ عَلٰی ظُہُوْرِہُمْوہ اپنے بار اپنی پشت پر اٹھائیں گے۔
Ayah 19:86

وَّ نَسُوْقُ الْمُجْرِمِیْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًاۘ Open ayah 19:86 in the Quran reader

اور گنہگاروں کو دوزخ کی طرف پیاسے ہانک لے جائیں گے

ونسوق المجرمین الی جہنم وردا۔ اور مجرموں کو دوزخ کی طرف پیاسا ہانکیں گے۔ مجرمین سے مراد ہیں کافر۔ ورداً کا ترجمہ بغوی نے کیا پیدل۔ بعض نے کہا پیاسے کہ شدت پیاس سے گردنیں ٹوٹ رہی ہوں گی۔ وِرْد کہتے ہیں پانی پر اترنے والی جماعت کو۔ حضرت ابن عباس ؓ نے بھی اس کی تشریح میں پیاسے ہی فرمایا۔ میں کہتا ہوں اللہ نے اس جگہ دو گروہوں کے حشر کا تذکرہ فرمایا (1) کامل تقویٰ والے انبیاء ‘ عرفا وغیرہم۔ (2) مجرمین یعنی کفار عام مسلمانوں کا ذکر نہیں کیا نہ صالحین کا نہ گناہگاروں کا۔ حدیث میں آیا ہے کچھ لوگ پیادہ پا اٹھائے جائیں گے۔ یہ عام مؤمن ہوں گے (صالحین بھی اور گناہگار بھی) ۔ سورۂ بنی اسرائیل کی آیت یُحْشَرُوْنَ عَلٰی وُجُوْہِہِمْ عُمْیًا وَّبُکْمًا وَ صُمًاکی تفسیر میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی اور حضرت معاویہ بن جبل کی روایت کردہ احادیث ہم نے نقل کردی ہیں۔ حضرت ابوذر ؓ : کی حدیث ہے کہ لوگوں کا حشر تین طرح سے ہوگا (یعنی تین فریق ہوں گے) سوار ‘ پیدل اور منہ کے بل۔ شیخین نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگوں کا حشر تین طریقوں سے ہوگا (کچھ لوگ) راغب ہوں گے (کچھ) خوفزدہ ہوں گے اور ایک ایک اونٹ پر دو دو یا تین تین یا دس دس سوار ہوں گے آگ بھی ان کے ساتھ ہوگی جہاں وہ دوپہر کو ٹھہریں گے۔ آگ بھی ان کے ساتھ ٹھہرے گی جہاں وہ رات کو رہیں گے آگ بھی ان کے ساتھ رات کو رہے گی شیخ ابن حجر نے کہا راغبین راہبین وہ لوگ ہوں گے جو پہلے طریقہ پر ہوں گے یعنی عام مؤمن ‘ پھر اس حدیث میں ایک ایک اونٹ پر دو دو اور تین تین اور دس دس کے سوار ہونے کا تو ذکر ہے ایک اونٹ پر ایک کے سوار ہونے کا ذکر نہیں کیا اس سے اشارہ ان لوگوں کی طرف ہے جو ان سب سے اونچے درجہ والے ہوں گے یعنی ابرار (ابرار میں سے ہر شخص مستقل طور پر الگ اونٹ پر سوار ہوگا) بیہقی نے کہا (راغبین سے اشارہ ابرار کی طرف ہے اور راہبین سے ان مخلوط الحال لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو امید و بیم کی درمیانی حالت میں ہیں اور جن کو آگ کھدیڑ کرلے جائے گی وہ کافروں کا گروہ ہوگا۔ حلیمی نے بھی حدیث کی یہی تشریح کی ہے اتنی بات زائد بیان کی ہے کہ ابرار وہی متقی ہوں گے جنت سے ان ہی (کی سواری) کے لئے اونٹنیاں لائی جائیں گی باقی وہ اونٹ جن پر مخلوط الحال لوگوں کو سوار کیا جائے گا تو ممکن ہے کہ قیامت کے دن وہ اونٹ پیدا کئے کردیئے جائیں اور مخلوط الحال لوگوں کو ان پر سوار کیا جائے۔ سیوطی نے کہا یہی قول زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ مخلوط الحال لوگوں کا جنت سے لائے ہوئے اونٹوں پر سوار کیا جانا کچھ مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ پھر اونٹوں پر سوار بھی ان مخلوط الحال گناہگاروں کو کرایا جائے گا جن کے گناہ حساب کے وقت معاف کردیئے گئے ہوں گے اور ان کو عذاب نہیں ہوگا رہے عذاب پانے والے لوگ تو ان کو پیدل چلایا جائے گا یہ بھی احتمال ہے کہ یہ لوگ شروع سے ہی پیدل چلائے جائیں ان کو سوار ہی نہ کیا جائے یا حشر سوار ہونے کی حالت میں ہو اور جب میدان حشر کے قریب پہنچیں تو پیدل ہوجائیں ‘ باقی کافروں کا حشر تو منہ کے بل ہوگا ہی۔ (ان کے سوار ہونے کا کو تو کوئی معنی ہی نہیں) ۔ طبرانی نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن انبیاء کو سواریوں پر لے جایا جائے گا یہاں تک کہ (اسی حالت میں وہ میدان حشر تک پہنچ جائیں گے حضرت صالح ( علیہ السلام) کو ان کی اونٹنی پر سوار ہونے کی حالت میں قبر سے) اٹھایا جائے گا اور مجھے براق پر (سوار) اٹھایا جائے گا اور میرے دونوں بیٹوں حسن و حسین کو جنت کے اوپر سے (آئی ہوئی) دو اونٹنیوں پر اٹھایا جائے گا اور بلال کو جنت کے اوپر سے (آئی ہوئی) اونٹنی پر اٹھایا جائے گا وہ اذان دیں گے ‘ خالص شہادت توحید کی اور جب اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدَ رَّسُوْل اللّٰہک ہیں گے تو اگلے پچھلے تمام مؤمن اس کی شہادت دیں گے پس جس کی شہادت قبول ہونی ہوگی قبول ہوجائے گی اور جس کی شہادت رد ہونی ہوگی رد ہوجائے گی۔ حلیمی اور غزالی نے یقین کے ساتھ کہا ہے کہ جو لوگ سوار کر کے لے جائے جائیں گے وہ قبروں سے سوار ہونے کی حالت میں اٹھائے جائیں گے لیکن اسماعیلی کا قول ہے کہ موقف تک تو پیدل جائیں گے پھر وہاں سے سوار ہوجائیں گے اسماعیلی نے یہ تفریق مختلف احادیث میں توفیق پیدا کرنے کے لئے کی صحیحین اور ترمذی کی حدیث حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے مذکور ہے کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ (خطبہ دینے) کھڑے ہوئے اور فرمایا لوگو ! تم کو اللہ کی طرف اس حالت میں لے جایا جائے گا کہ تم ننگے پاؤں برہنہ بدن غیر مختون اور پیادہ پا ہو گے پھر حضور ﷺ نے آیت کَمَا بَدَأْنَا اَوَّلَ خَلْقٍ نُعِیْدُہٗپڑھی اور سب لوگوں سے پہلے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو لباس پہنایا جائے گا۔ اسی طرح شیخین نے حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے اور طبرانی نے حضرت سودہ ؓ اور حضرت ام سلمہ ؓ اور حضرت سہل ؓ بن سعد اور حضرت حسن ؓ بن علی ؓ کی روایت سے اور بزار نے حضرت ابن مسعود ؓ : کی روایت سے یہ حدیث بیان کی ہے لیکن ان احادیث میں تلاوت آیت اور حضرت ابراہیم کو سب سے پہلے لباس پہنائے جانے کا ذکر نہیں ہے۔ بلکہ اتنا مزید مذکور ہے کہ ام المؤمنین میں سے حضور ﷺ : کی کسی بی بی نے کہا ہائے کیسی بری بات ہوگی کہ ہم میں سے ہر ایک دوسرے کو دیکھے گا ‘ حضور ﷺ نے فرمایا لوگوں کو اس کی طرف توجہ ہی نہیں ہوگی ‘ ہر شخص کو اس روز اپنی پڑی ہوگی۔
Ayah 19:87

لَا یَمْلِكُوْنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۘ Open ayah 19:87 in the Quran reader

(تو لوگ) کسی کی سفارش کا اختیار نہ رکھیں گے مگر جس نے خدا سے اقرار لیا ہو

لا یملکون الشفاعۃ الا من اتخذ عند الرحمن عہدا۔ وہاں کوئی سفارش کا اختیار نہیں رکھے گا مگر جس نے رحمن کے پاس (سے) اجازت لے لی ہے ‘ یعنی جن کے اندر ایسے اوصاہوں گے جو شفاعت کرنے کے لئے ضروری ہیں وہ شفاعت کرسکیں گے ‘ مراد یہ ہے کہ ایماندار نیکوکار ہوں تو اہل شفاعت ہوں گے۔ اللہ نے فرمایا ہے اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ دوسری جگہ فرمایا ہے یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ یَزِیْدُہُمْ مِنْ فَضْلِہٖبقول ابن صالح حضرت ابن عباس ؓ نے مؤخر الذکر آیت کی تفسیر میں فرمایا یَسْتَجِیْبُیعنی ان کے بھائیوں کے لئے ان کی شفاعت قبول فرمائے گا ویزیدہم من فضلہ یعنی اپنی مہربانی سے بھائیوں کی بھائیوں کے حق میں شفاعت منظور فرما لے گا۔ یا عہداً سے مراد ہے اجازت ‘ اذن ‘ یعنی سوائے اس کے جس کو شفاعت کی اجازت مل جائے اور کوئی شفاعت نہیں کرسکتا۔ اسی مضمون کی دوسری آیت ہے مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗ الاَّ بِاِذْنِہٖعربی محاورے میں بولا جاتا ہے عہد الامیر الی فلان بکذا۔ حاکم نے فلاں شخص کو ایسا کرنے کا حکم دیا۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَہْدًاسے ہر وہ شخص مراد ہے جو لاَ اِلٰہَ الاَّ اللّٰہُکا قائل ہو اور من سے پہلے لفظ شفاعۃ محذوف ہے یعنی اِلَّا شَفَاعَۃَ مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَا الرَّحْمٰنِ عَہَدًا اور چونکہ لاَ اِلٰہَ الاَّ اللّٰہکا ہر قائل شفاعت کئے جانے کے قابل ہے ‘ اس لئے آیت میں لَاِ الٰہَ الاَّ اللّٰہُکا ہر قائل مراد لینا صحیح ہے اللہ نے تمام مؤمنوں سے مغفرت کا وعدہ کیا ہے فرمایا ہے مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ ۔ اِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِیْعًا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ‘ اللہ پر بندوں کا حق ہے کہ وہ غیر مشرک کو عذاب نہ دے (متفق علیہ من حدیث معاذ) اسی طرح کی ایک اور آیت آئی ہے فرمایا ہے لاَ یَشْفَعُوْنَ الاَّ لِمَنِ ارْتَضٰی۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ لاَ یَمْلِکُوْنَکی ضمیر المجرمین کی طرف لوٹ رہی ہے اور شفاعۃ سے مراد ہے سفارش یاب ہونا (مصدر مجہول) یعنی مجرم شفاعت یاب نہیں ہوں گے ہاں مؤمن شفاعت یاب ہوں گے جن کو اللہ نے وعدہ دے رکھا ہے۔
Ayah 19:88

وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًاؕ Open ayah 19:88 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ خدا بیٹا رکھتا ہے

وقالوا اتخذ الرحمن ولدا۔ اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ رحمن نے (اپنے لئے اولاد اختیار کرلی ہے۔ قالواکا فاعل یہودی عیسائی اور بعض وہ مشرک ہیں جو فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں مانتے تھے۔ چونکہ یہ قول مشہور تھا اور اس کے قائل بھی نامعلوم مجہول نہیں تھے اس لئے ضمیر حس فاعل کی طرف لوٹ رہی ہے اس کا پہلے مذکور ہونا ضروری نہیں۔ (فاعل متکلم اور مخاطب کو معلوم ہو اور مرجع ضمیر متعین ہو تو بغیر ذکر مرجع کے ضمیر غائب ذکر کی جاسکتی ہے) ۔
Ayah 19:89

لَقَدْ جِئْتُمْ شَیْئًا اِدًّاۙ Open ayah 19:89 in the Quran reader

(ایسا کہنے والو یہ تو) تم بری بات (زبان پر) لائے ہو

لقد جئتم شیئا ادا۔ تم نے نہایت سخت حرکت کی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے اداً کا ترجمہ کیا منکر یعنی بری مجاہد اور قتادہ نے سخت بری۔ ادنی امر فلاں بات یا واقعہ کا مجھ پر سخت بوجھ پڑا یہ عربی محاورہ ہے ‘ بغوی نے لکھا ہے عربی زبان میں اِدٌّ کا معنی ہے بہت ہی بڑا حادثہ۔
Ayah 19:90

تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَ تَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّاۙ Open ayah 19:90 in the Quran reader

قریب ہے کہ اس (افتراء) سے آسمان پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ پارہ پارہ ہو کر گر پڑیں

تکاد السموت یتفطرن منہ وتنشق الارض وتخر الجبال ہدا۔ اس کے سبب کچھ بعید نہیں کہ آسمان پھٹ پڑیں اور زمین کے ٹکڑے اڑ جائیں اور پہاڑ ٹوٹ کر گرپڑیں
Ayah 19:91

اَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًاۚ Open ayah 19:91 in the Quran reader

کہ انہوں نے خدا کے لئے بیٹا تجویز کیا

ان دعوا للرحمن ولدا۔ اس بات سے کہ یہ لوگ خدا کی طرف اولاد کی نسبت کرتے ہیں۔ قاموس میں ہے ہَدٌّ توڑنا یا بالکل ڈھا دینا۔ بعض علماء نے آیت کا مطلب اس طرح بیان کیا ہے قریب ہے کہ آسمان ان پر ٹوٹ پڑیں اور زمین پھٹ کر ان کو اپنے اندر دھنسا لے اور پہاڑ ان پر ڈھ پڑیں۔ حضرت ابن عباس ؓ اور کعب نے فرمایا سوائے جن و انس کے آسمان ‘ زمین ‘ پہاڑ اور ساری مخلوق اس قول سے خوف زدہ ہوگئی قریب تھا کہ سب اپنی جگہ سے ہٹ جائیں فرشتے بھی غضبناک ہوگئے اور جہنم بھی بھڑک اٹھی ‘ بعض علماء نے یہ مطلب بیان کیا کہ یہ اتنی پُر ہیبت اور ہولناک بات ہے کہ اگر اللہ کا بےپایاں حلم نہ ہوتا تو سارا عالم تباہ ہوجاتا اور اس بات کو منہ سے نکالنے والے پر الٹ جاتا۔
Ayah 19:92

وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لِلرَّحْمٰنِ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًاؕ Open ayah 19:92 in the Quran reader

اور خدا کو شایاں نہیں کہ کسی کو بیٹا بنائے

وما ینبغی للرحمن ان یتخذ ولدا۔ ہالان کہ خدا تعالیٰ کی شان نہیں کہ وہ اولاد اختیار کرے۔ ینبغی کا ترجمہ دو طرح سے ہوسکتا ہے (1) جائز نہیں ہو نہیں سکتا۔ (2) مناسب اور زیبا نہیں اوّل صورت میں انبغی ینبغی باب انفعال سے ہوگا جو بغی کا مطاوع۔ بغی کا معنی ہے طلب کرنا ‘ طلب شے کے بعد اس شے کے ہوجانے کا نمبر آتا ہے حاصل ترجمہ یہ ہوگا کہ بالفرض اگر اللہ اپنے لئے اولاد کا طالب بھی ہو تب بھی اس کے لئے اولاد کا ہونا ممکن نہیں اس کی اولاد ہو ہی نہیں سکتی ‘ دوسری صورت ظاہر ہے اللہ کی اولاد ہونا ‘ اس کی شان کے خلاف ہے نقص ہے عیب ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے (بجائے اللہ کے) آیت میں صفت رحمانیت پر حکم کو مرتب کرنے سے شاید اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ منعم ہے تمام نعمتوں کا سرچشمہ ہے اس کے سوا باقی مخلوق میں یا اللہ کی نعمتیں ہیں یا نعمت پانے والے ہیں اور ظاہر ہے کہ نعمتیں ہوں (جو خدا نے پیدا کی اور دی ہیں) یا نعمت پانے والے ہوں (جن کو اللہ نے نعمتیں عطا فرمائی ہیں) منعم کے ہم جنس کیسے ہوسکتے ہیں اور بیٹے کے لئے ضروری ہے کہ وہ باپ کا ہم جنس ہو اس لئے اللہ کی اولاد ہونا ممکن نہیں ہے۔
Ayah 19:93

اِنْ كُلُّ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اِلَّاۤ اٰتِی الرَّحْمٰنِ عَبْدًاؕ Open ayah 19:93 in the Quran reader

تمام شخص جو آسمانوں اور زمین میں ہیں سب خدا کے روبرو بندے ہو کر آئیں گے

ان کل من فی السموت والارض الا اتی الرحمن عبدا۔ کیونکہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہیں سب خدا تعالیٰ کے روبرو غلام ہو کر حاضر ہونے والے ہیں۔ یعنی آسمان و زمین میں جو کوئی ہے وہ اللہ کی ملک ہے اس کی مخلوق ہے ‘ بندگی اور اطاعت وانقیاد کے ساتھ اس کی طرف رجوع کرنے والا ہے اور قیامت کے دن اس کے سامنے ذلت عبدیت کے ساتھ آئے گا مجازی غلام ہونا بھی اولاد ہونے کے منافی ہے اسی لئے اگر کوئی کسی سبب سے اپنے بیٹے کا مالک ہوجائے بطور میراث یا خریدنے کے ذریعہ یا کسی کے ہبہ کرنے سے کسی کا بیٹا اس کی ملک میں داخل ہوجائے تو ملک میں آتے ہی آزاد ہوجائے گا ‘ پس حقیقی مملوک ہونے کا کیا ٹھکانہ ہے حقیقی مملوک تو مالک کی مخلوق ہے۔
Ayah 19:94

لَقَدْ اَحْصٰىهُمْ وَ عَدَّهُمْ عَدًّاؕ Open ayah 19:94 in the Quran reader

اُس نے ان (سب) کو (اپنے علم سے) گھیر رکھا اور (ایک ایک کو) شمار کر رکھا ہے

لقد احصہم وعدہم عدا۔ اللہ نے بلاشبہ سب کا احاطہ کرلیا ہے (اس کے دائرۂ علم وقدرت سے کوئی بھی خارج نہیں) اور سب کو گن رکھا ہے یعنی تمام افراد کو ان کے افعال احوال اور زندگی و رزق کو اپنے علم وقدرت کے گھیرے میں لے لیا ہے۔ ہر چیز اس کے نزدیک اندازہ کے مطابق ہے۔