19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 19:38

اَسْمِعْ بِهِمْ وَ اَبْصِرْ١ۙ یَوْمَ یَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْیَوْمَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 19:38 in the Quran reader

وہ جس دن ہمارے سامنے آئیں گے۔ کیسے سننے والے اور کیسے دیکھنے والے ہوں گے مگر ظالم آج صریح گمراہی میں ہیں

اسمع بہم وابصر یوم یاتوننا جس روز یہ لوگ ہمارے پاس (حساب و جزا کے لئے) آئیں گے ‘ کیسے کچھ شنوا اور بینا ہوں گے۔ اَسْمِعْ بِہِمْاور اَبْصَردونوں فعل تعجب ہیں اور اللہ ہر تعجب سے پاک ہے (وہ کسی بات پر تعجب نہیں کرتا اس لئے کوئی بات عجیب نہیں) اس لئے جمہور اہل تفسیر کے نزدیک آیت میں جس تعجب کا اظہار کیا گیا ہے اس کا معنی یہ ہے کہ ان کی حالت قابل تعجب ہوگی ‘ دنیا میں تو اندھے بہرے بنے رہے نہ حق کی بات سنی نہ صورت حق آنکھوں سے دیکھی اگر وہاں کلمۂ حق گوش قبول سے سنتے اور تصویر حق نظر قبول سے دیکھتے تو ان کو فائدہ ہوتا لیکن قیامت کے دن جب حق کی صورت سامنے آئی اور آواز حق سنی تو ایسے وقت کہ کوئی فائدہ نہ تھا ‘ یا فعل تعجب سے مراد اظہار تعجب نہیں بلکہ تہدید اور ڈرانا مقصود ہے کہ قیامت کے دین یقیناً وہ اس عذاب کو دیکھیں گے اور وہ مایوس انگیز جھڑکیاں سنیں گے جن کا ان سے وعدہ کرلیا گیا ہے۔ بعض علماء کا قول ہے کہ اسمع و ابصر (اس جگہ) فعل تعجب نہیں ہیں امر کے صیغے ہیں رسول اللہ ﷺ سے خطاب ہے کہ مواعبد قیامت ان کافروں کو سناؤ اور دکھاؤ۔ لکن الظلمون الیوم فی ضلل مبین۔ لیکن یہ ظالم آج (دنیا میں) کھلی ہوئی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ لفظ الظالمون ذکر کرنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ دنیا میں انہوں نے اپنی آنکھوں اور کانوں کا صحیح استعمال نہیں کیا اور حق کی طرف سے اپنے کو غافل بنائے رکھا۔ یہ کھلی ہوئی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔
Ayah 19:39

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُ١ۘ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ وَّ هُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 19:39 in the Quran reader

اور ان کو حسرت (وافسوس) کے دن سے ڈراؤ جب بات فیصل کردی جائے گی۔ اور (ہیہات) وہ غفلت میں (پڑے ہوئے ہیں) اور ایمان نہیں لاتے

وانذرہم یوم الحسرۃ اذ قضی الامر اور آپ ان لوگوں کو حسرت کے دن سے ڈرائیے جب کہ (آخری) فیصلہ کردیا جائے گا۔ یہ حسرت اس وقت ہوگی جب حساب ہوچکے گا ‘ اہل جنت جنت میں چلے جائیں گے اور دوزخی دوزخ میں اور موت کو ذبح کردیا جائے گا (پھر جنت کے اندر اہل جنت اور دوزخ کے اندر دوزخی کبھی نہیں مریں گے) ۔ حضرت ابو سعید خدری راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘ موت کو چت کبرے مینڈھے کی شکل میں (قیامت کے دن سب کے سامنے) لایا جائے گا پھر ایک منادی پکارے گا ‘ اے اہل جنت ‘ جنت والے سر اٹھا کر جھانک کر دیکھیں گے منادی کہے گا کیا اس کو پہچانتے ہو ‘ اہل جنت کہیں گے ہاں یہ موت ہے ‘ پھر سب کی نظروں کے سامنے اس کو ذبح کردیا جائے گا اور منادی کہے گا اے جنت والو (یہاں تمہاری) دوامی زندگی ہے موت نہیں ہے۔ پھر وہی منادی دوزخیوں کو پکارے گا دوزخ والو تم کو یہاں ہمیشہ رہنا ہے موت نہیں آئے گی اس کے بعد حضور ﷺ نے آیت وَاَنْذِرْہُمْ یَوْم الحَسْرَۃ اِذَ قضی الْاَمْرُتلاوت فرمائی۔ رواہ البخاری۔ شیخین نے صحیحین میں بھی حضرت ابو سعید کی روایت سے ایسی ہی حدیث نقل کی ہے ‘ شیخین نے حضرت ابن عمر ؓ : کی روایت سے بھی یہ حدیث بیان کی ہے لیکن اس میں آیت کو تلاوت فرمانے کا ذکر نہیں ہے۔ ابو یعلی ‘ بزار اور طبرانی نے الاوسط میں حضرت انس کی روایت سے اور حاکم و ابن حبان نے حضرت ابوہریرہ ؓ : کی روایت سے بھی یہ حدیث نقل کی ہے اس میں بھی قراءت آیت کا ذکر نہیں ہے۔ یوم الحسرۃ کی تشریح میں بیضاوی نے لکھا ہے اس روز سب لوگ افسوس کریں گے ‘ بدکار اپنی بدکاری پر اور نیکوکار اپنے نیکی کم کرنے پر۔ طبرانی اور ابو یعلی نے حضرت معاذ بن جبل کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اہل جنت کو صرف اس ساعت پر افسوس ہوگا جس میں (دنیا کے اندر) انہوں نے اللہ کی یاد نہیں کی اور وہ گھڑی یونہی گزر گئی۔ بغوی نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر مرنے والے کو پشیمانی ضرور ہوگی ‘ صحابہ نے عرض کیا پشیمانی کیسی۔ فرمایا اگر نیکوکار ہوگا تو اس کو اس بات کی پشیمانی ہوگی کہ اس نے اس سے زیادہ نیکی کیوں نہیں کی اور بدکار کو اس بات کی پشیمانی ہوگی کہ وہ بدکاری سے باز کیوں نہ رہا۔ وہم فی غفلۃ اور وہ لوگ (آج دنیا میں) غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ‘ یعنی جس گمراہی میں وہ پڑے ہوئے ہیں اس سے بھی غافل ہیں اور آخرت میں ان سے جو معاملہ کیا جائے گا اس کی طرف سے بھی غافل ہیں۔ وہم لا یؤمنون۔ اور وہ ایمان نہیں لاتے۔ یعنی سچے مخبر (رسول اللہ ﷺ کی خبر کی تصدیق نہیں کرتے۔
Ayah 19:40

اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَیْهَا وَ اِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 19:40 in the Quran reader

ہم ہی زمین کے اور جو لوگ اس پر (بستے) ہیں ان کے وارث ہیں۔ اور ہماری ہی طرف ان کو لوٹنا ہوگا

انا نحن نرث الارض ومن علیہا (لیکن آخر ایک دن سب مرجائیں گے) اور تمام زمین اور زمین کے رہنے والوں کے ہم ہی وارث (آخر مالک) رہ جائیں گے یعنی زمین اور زمین کے رہنے والے سب فنا ہوجائیں گے ‘ صرف اللہ باقی رہ جائے گا ‘ جس طرح مورث کے مرنے کے بعد وارث رہ جاتا ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ کسی کی مالکیت باقی نہیں رہے گی صرف اللہ کا اقتدار باقی رہ جائے گا۔ مَنْ (جو لوگ) سے مراد عام ہے جو لوگ ہوں یا جو چیز تغلیباً من (جو اہل عقل کے لئے استعمال ہوتا ہے) ذکر کیا گیا ہے ورنہ مراد عام ہے۔ والینا یرجعون۔ اور ہماری ہی طرف ان کو لوٹا کر لایا جائے گا۔ یعنی قبروں سے اٹھائے جانے کے بعد ہماری طرف سب کو لوٹا کر لایا جائے گا اور ہم اعمال کے مطابق ان کو سزا و جزا دیں گے۔
Ayah 19:41

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ۬ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا Open ayah 19:41 in the Quran reader

اور کتاب میں ابراہیم کو یاد کرو۔ بےشک وہ نہایت سچے پیغمبر تھے

واذکر فی الکتب ابراہیم انہ کان صدیقا نبیا۔ اور کتاب (قرآن) میں ابراہیم (کے واقعہ) کو یاد کرو بلاشبہ وہ صدیق اور نبی تھا۔ صدیق کس کو کہتے ہیں مختلف علما نے مختلف معانی بیان کئے ہیں (1) بہت سچ بولنے والا (2) جس نے کبھی جھوٹ نہ بولا ہو۔ (3) سچ بولنے کا عادی ہو۔ صدق کی عادت کی وجہ سے اس کا کذب کا صدور نہ ہوا ہو۔ (4) جس کا اعتقاد بھی صحیح ہو اور قول بھی سچا اور اس نے اپنے عمل سے اپنے قول کی تصدیق کی ہو اور قول کے مطابق عملی مظاہرہ کرتا ہو۔ (5) اللہ کی تمام غیبی صفات اللہ کے انبیاء (اور ملائکہ) اور قیامت جن کا بیان اللہ نے کیا ہے سب کی تصدیق کرتا ہو۔ اللہ نے جن کاموں کو کرنے یا نہ کرنے کا حکم دیا ہے ان امور کو اللہ کے حکم کے مطابق اچھا یا برا جانتا ہو اور احکام خداوندی کی عملی پابندی بھی کرتا ہو اور اپنے عمل سے تصدیق قلبی و لسانی کو ثابت کرتا ہو ‘ ایسا آدمی صدیق ہے۔ میں کہتا ہوں کثرت تصدیق سے یہ مراد نہیں ہے کہ زیادہ اور کثیر امور کی تفصیل اور تصدیق کی جائے جیسا کہ بغوی کی عبارت سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے لائے ہوئے پورے دین کی اور تمام عقائد و اعمال کی تصدیق ہر مؤمن کے لئے ضروری ہے اگرچہ رسول اللہ ﷺ کے لائے ہوئے کسی ایک مسئلہ کے انکار سے بھی کافر ہوجاتا ہے۔ ہاں مؤمنوں میں سے کچھ لوگ تمام اوامرو نواہی کے عملی پابند ہوتے ہیں ہر حکم شرعی کو بجا لاتے ہیں ایسے لوگ صالحین کہلاتے ہیں لیکن ہر صالح کو صدیق نہیں کہا جاسکتا۔ حقیقت میں صدیقیت کا مرتبہ تصدیق و ایمان کی قوت و شدت سے حاصل ہوتا ہے ایمان کی قوت درجۂ صدیقیت پر فائز کرتی ہے ایمان و تصدیق کی قوت انبیاء کو تو براہ راست بلا کسی توسط کے حاصل ہوتی ہے اور امت والوں کو انبیاء کی کامل پیروی کرنے اور ظاہرو باطن ہر طرح کے پورے پورے اتباع سے۔ امت کمالات نبوت میں جب ڈوب جاتا ہے اور انبیاء کی وراثت و تبعیت سے اس پر ذاتی خالص تجلیات کا ظہور ہوتا ہے تو درجۂ صدیقیت تک اس کی رسائی ہوتی ہے۔ آیت اولٰءِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِنَ النَّبِّیْنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّہَدَاءِ وَالصَّالِحِیْنَمیں اپنے فیضان و انعام کا حامل چار قسم کے لوگوں کو قرار دیا ‘ انبیاء ‘ صدیقین ‘ شہداء ‘ صالحین دوسرے مؤمنوں کو انہی کی معیت و ہمرکابی کی بشارت دی۔ سورة النساء میں اس آیت کی تفصیلی توضیح ہم کرچکے ہیں ‘ صدیق وہی جماعت ہے جن کا ذکر سورة واقعہ کی آیت ثُلُّۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ وَقَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخَرِیْنَ میں کیا ہے اور ہم نے اس کی تشریح اسی مقام پر کردی ہے۔ انبیاء کے بعد رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ؓ سب سے بڑے صدیق تھے اور صحابہ میں سے جلیل القدر صحابہ سب سے اونچے تھے اور جلیل القدر صحابہ میں بھی حضرت ابوبکر ؓ سب سے بڑے صدیق تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے آپ کو صدیق فرمایا تھا اور اسی پر اہل سنت کا اجماع ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے خود فرمایا تھا کہ 1 ؂ میں ہی صدیق اکبر ہوں میرے بعد جو صدیق اکبر ہونے کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے یعنی میرے مرتبہ کے بعد نچلے درجہ پر رہتے ہوئے جو شخص صدیق اکبر ہونے کا مدعی ہوگا وہ کاذب ہے۔ بعد ہونے سے مراد یہ نہیں ہے کہ میرے بعد جو مدعی ہوگا بلکہ بعدیت سے مراد ہے مرتبہ کی بعدیت اور درجہ میں پیچھے رہنا۔ نبی کا لفظ یا نبوۃ سے ماخوذ ہے یعنی عالی قدر اور اونچے مرتبہ والا۔ اللہ کی طرف سے پیغمبر بنایا ہوا۔ نبوہ ٹیلہ زمین کا ابھرا ہوا اونچا حصہ۔ یا نبأ (خبر) سے ماخوذ ہے یعنی اللہ کی طرف سے (دین حق سے باخبر۔ جس کو براہ راست اللہ کی طرف سے خبر دی جاتی ہے) ۔
Ayah 19:42

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَ لَا یُبْصِرُ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْكَ شَیْئًا Open ayah 19:42 in the Quran reader

جب انہوں نے اپنے باپ سے کہا کہ ابّا آپ ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہیں جو نہ سنیں اور نہ دیکھیں اور نہ آپ کے کچھ کام آسکیں

اذ قال لابیہ یابت لم تعبد ما لا یسمع ولا یبصر ولا یغنی عنک شیئا۔ جب اس نے اپنے باپ سے کہا ‘ میرے باپ آپ کیوں ایسی چیزوں کی پوجا کرتے ہیں جو نہ کچھ سنتی ہیں (ان کے پاس سننے کی طاقت نہیں ہے) نہ کچھ دیکھتی ہیں (ان کے پاس نور نظر نہیں ہے) نہ آپ کے کام آتی ہیں (ان میں نفع پہنچانے اور ضرر کو دفع کرنے کی طاقت ہی نہیں ہے) یعنی ان کے پاس سننے والے کان نہیں کہ آپ کی دعا اور پکار کو سن سکیں نہ دیکھنے والی آنکھیں کہ تمہاری پوجا اور تمہاری حالت دیکھ سکیں نہ ان میں نفع پہنچانے یا دکھ کو دور کرنے کی طاقت ہے کہ تمہارے کام آسکیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے باپ کو نہایت ادب احترام اور شفقت و محبت کے لہجہ میں بےراوہ روی اور گمراہی پر متنبہ کیا اور بےدھڑک یہ نہیں کہہ دیا کہ تو گمراہی میں پڑا ہوا ہے بلکہ باپ کے معبودوں کی بےبسی کمزوری اور بےحسی کو مدلل طور پر ظاہر کیا اور دریافت کیا کہ آخر ان کی عبادت کرنے سے آپ کی کیا غرض ہے یہ تو بےحس اور بےطاقت ہیں ان کے سامنے جھکنا ہی تقاضائے دانش کے خلاف ہے ‘ پوجا کرنی تو بجائے خود رہی پوجا تو اس ذات کی ہونی چاہئے جو خود محتاج نہ ہو اس کو کسی چیز کی ضرورت نہ ہو دکھ سکھ پہنچانے کی اس کو پوری قدرت ہو نفع پہنچا سکے اور ضرر کو دفع کرسکے زندگی ‘ موت اور رزق دینا نہ دینا اس کے اختیار میں ہو سزا جزا دینا اس کے قبضہ میں ہو اس کو ہر چیز پر کامل اقتدار حاصل ہو۔ وہ ممکن محتاج جو خود اپنی ہستی وبقاء ہستی اور لوازم ہستی میں دوسرے کا دست نگر اور محتاج ہے معبود ہونے کا مستحق نہیں ہوسکتا خواہ اس کے پاس سننے والے کان دیکھنے والی آنکھیں اور دکھ سکھ پہنچانے اور ضرر دفع کرنے کی بظاہر ناقص قوت بھی ہو ‘ یہاں تک کہ فرشتہ یا پیغمبر ہو تب بھی معبود ہونے کا اس کو استحقاق نہیں۔ عقل سلیم اس کی پوجا کرنے کی اجازت نہیں دیتی کیونکہ وہ کچھ بھی ہو بہرحال اس کا وجود اس کا اپنا وجود نہیں۔ مانگا ہوا اور دوسرے سے ملا ہوا ہے۔ پھر وہ ممکن ہے جو بےسمع ‘ بےبصر اور بےطاقت و بےحس ہو اس کو تو بدرجۂ اولیٰ معبود بننے یا معبود قرار دیئے جانے کا کوئی حق نہیں ‘ ایسے بےعلم ‘ بےطاقت ‘ بےحس ‘ بےبس کی پوجا تو سراسر کور دانشی ہے۔
Ayah 19:43

یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ قَدْ جَآءَنِیْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ یَاْتِكَ فَاتَّبِعْنِیْۤ اَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِیًّا Open ayah 19:43 in the Quran reader

ابّا مجھے ایسا علم ملا ہے جو آپ کو نہیں ملا ہے تو میرے ساتھ ہوجیئے میں آپ کو سیدھی راہ پر چلا دوں گا

یا ابت انی قد جآءنی من العلم ما لم یا تک فاتبعنی اہدک صراطا سویا۔ اے میرے باپ میرے پاس ایسا علم پہنچا ہے جو آپ کے پاس نہیں پہنچا آپ میرے کہنے پر چلئے میں آپ کو سیدھا راستہ بتاؤں گا۔ یعنی اللہ کی ذات صفات اور اس کے احکام کو جو علم مجھے ملا ہے وہ آپ کو نہیں ملا۔ لہٰذا دین و مذہب کے معاملہ میں آپ میری بات مانیں اور اس کے موافق چلیں میں آپ کو مذہبی راستہ سیدھا بتاؤں گا جو آپ کو فلاح دارین تک لے جائے گا۔ حضرت ابراہیم نے اپنے آپ کو ہر طرح سے اونچا عالم اور باپ کو صراحت کے ساتھ جاہل نہیں فرمایا ‘ بلکہ ایک ہم سفر رفیق کی طرح راستہ بتانے کا اظہار کیا اور اپنے کو زیادہ راہ شناس بتایا۔ اس سے آگے ذیل کی آیت میں بیان کیا کہ جس راستہ پر آپ چل رہے ہیں (نہ فقط یہ کہ وہ نفع رساں نہیں ہے بلکہ ضرر رساں بھی ہے) وہ شیطان کا راستہ ہے اور شیطان رحمن کا نافرمان ہے۔ اس لئے اس کی پوجا نہ کرو 1 ؂۔
Ayah 19:44

یٰۤاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّیْطٰنَ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِیًّا Open ayah 19:44 in the Quran reader

ابّا شیطان کی پرستش نہ کیجیئے۔ بےشک شیطان خدا کا نافرمان ہے

یا ابت لا تعبد الشیطن ان الشیطن کان للرحمن عصیا۔ اے میرے باپ آپ شیطان کی پوجا نہ کریں بیشک شیطان رحمن کا نافرمان ہے۔ یعنی شیطان کفر اور بت پرستی کو تمہاری نظر کے سامنے آراستہ اور دلکش بنا کر لاتا ہے تم اس کا کہا نہ مانو اس کے بتائے ہوئے راستہ پر نہ چلو کیونکہ شیطان اس خدا کا جو منعم ‘ محسن مہربان ہے سخت نافرمان ہے اور ظاہر ہے کہ رب کے نافرمان کا اتباع کرنے والا بھی رب کا نافرمان قرار پائے گا اور جو رب کا نافرمان ہوگا اس سے رب منعم اپنی نعمتیں چھین لے گا اور ایسے احسان فراموش سے انتقام لے گا۔
Ayah 19:45

یٰۤاَبَتِ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَتَكُوْنَ لِلشَّیْطٰنِ وَلِیًّا Open ayah 19:45 in the Quran reader

ابّا مجھے ڈر لگتا ہے کہ آپ کو خدا کا عذاب آپکڑے تو آپ شیطان کے ساتھی ہوجائیں

یا ابت انی اخاف ان یمسک عذاب من الرحمن اے میرے باپ مجھے ڈر ہے کہ رحمن کی طرف سے کوئی عذاب آپ پر (نہ) آجائے ‘ یعنی اگر آپ کفر اور شیطان کی اطاعت پر قائم رہیں گے تو رحمن کی طرف سے (باجودیکہ اس کی رحمت رحمت کاملہ ہے) کوئی سخت عذاب آجائے گا مجھے اس کا اندیشہ ہے اس کی رحمت اگرچہ فرماں برداروں پر بہت زیادہ ہے لیکن سرکش نافرمانوں پر اس کا عذاب بھی بہت سخت ہے۔ فتکون للشیطن ولیا۔ پھر آپ شیطان کے ساتھی ہوجائیں گے۔ شیطان پر دنیا میں جو لعنت ہے وہ آپ پر بھی ہو جائے گی اور آخرت میں جو عذاب شیطان پر ہوگا آپ پر بھی ہوگا وہ اس طرح آپ کے ساتھ شیطان کا اور شیطان کے ساتھ آپ کا جوڑ اور اتصال ہوجائے گا۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ آیت میں شیطان کے صرف نافرمان ہونے کا ذکر کیا ‘ دوسرے جرائم کا ذکر نہیں کیا شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ اللہ کی نافرمانی ہی تمام جرائم کی جڑ ہے اسی سے سب جرائم پیدا ہوتے ہیں یا یہ وجہ ہو کہ حضرت آدم اور ان کی اولاد سے دشمنی کا نتیجہ بصورت معصیت نکلا (پس جو شیطان رب کا نافرمان انسان کی دشمنی کی وجہ سے ہو اس کی پوجا انسان کے لئے کسی طرح زیبا نہیں وہ تو دشمن ہے) ۔
Ayah 19:46

قَالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِهَتِیْ یٰۤاِبْرٰهِیْمُ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُمَنَّكَ وَ اهْجُرْنِیْ مَلِیًّا Open ayah 19:46 in the Quran reader

اس نے کہا ابراہیم کیا تو میرے معبودوں سے برگشتہ ہے؟ اگر تو باز نہ آئے گا تو میں تجھے سنگسار کردوں گا اور تو ہمیشہ کے لئے مجھ سے دور ہوجا

قال اراغب انت عن الہتی یا ابراہیم ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ نے کہا ابراہیم (علیہ السلام) کیا تو میرے معبودوں سے نفرت کرتا ہے (اس لئے ان کی مذمت کر رہا ہے) حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے تو نرمی ادب اور اخلاق کے ساتھ باپ کو مشورہ دیا تھا لیکن باپ نے (انتہائی کفر و جہالت کی وجہ سے) درشت کلامی ‘ بدخلقی اور سختی کا مظاہرہ کیا ‘ ابراہیم ( علیہ السلام) نے کہا تھا اے میرے باپ لیکن باپ نے میرے بیٹے کہنے کی جگہ بیٹے کا نام لے کر خطاب کیا پھر دھمکی آمیز کلام کیا اور بطور تہدید کہا کیا تو میرے معبودوں سے نفرت کرتا ہے۔ لئن لم تنتہ لارجمنک واہجرنی ملیا۔ اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے پتھر ماروں گا اور تو ہمیشہ کے لئے (میرے پاس سے چلا جا) مجھے چھوڑجا۔ کلبی ‘ مقاتل اور ضحاک نے لَاَرْجُمَنَّکَکا ترجمہ کیا ‘ میں تجھے گالیاں دوں گا سخت سست کہوں گا ‘ برا بھلا کہہ کر تجھے نکال دوں گا ‘ حضرت ابن عباس ؓ کے قول کے مطابق ہم نے ترجمہ کیا ہے ‘ حسن نے ترجمہ کیا میں تجھے ضرور سنگسار کردوں گا۔ وَاہْجُرْنِیْ مَلِیًّاً کا مطلب کلبی نے بیان کیا مجھ سے الگ ہوجا طویل مدت تک ‘ مجاہد اور عکرمہ نے ملیاً کا ترجمہ کیا وقت (طویل) اور سعید بن جبیر نے کہا ہمیشہ۔ ملی کا لغوی معنی ہے ٹھہرنا ‘ تملیت حیناً میں ایک وقت تک ٹھہرا رہا مَلَوَان رات دن ‘ قتادہ اور عطا نے کہا صحیح سالم الگ ہوجا ‘ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا میرے پاس سے صحیح سالم چلا جا ورنہ تجھے میری طرف سے دکھ پہنچ جائے گا۔
Ayah 19:47

قَالَ سَلٰمٌ عَلَیْكَ١ۚ سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِیْ حَفِیًّا Open ayah 19:47 in the Quran reader

ابراہیم نے سلام علیک کہا (اور کہا کہ) میں آپ کے لئے اپنے پروردگار سے بخشش مانگوں گا۔ بےشک وہ مجھ پر نہایت مہربان ہے

قال سلم علیک ساستفرلک ربی انہ کان بی حفیا۔ ابراہیم ( علیہ السلام) نے کہا سلام علیک میں اپنے رب سے آپ کے لئے معافی طلب کروں گا ‘ بلاشبہ وہ مجھ پر مہربان ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف سے یہ سلام رخصت تھا اہل حلم ‘ کم ظرف جاہلوں کی بدسلوکی کے بدلہ میں بھلائی کا برتاؤ کرتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا ہے وَاِذَا اخَاطَبَہُمُ الْجٰہِلُوْنَ قَالُوْا سَلاَماً سلام علیک کہنے کا یہ مطلب ہے کہ میری طرف سے آپ کو دکھ نہیں پہنچے گا ‘ آپ کچھ بھی میرے ساتھ کریں میں تو آپ کے لئے اپنے رب سے معافی کی درخواست کروں گا۔ اکثر اہل تفسیر نے ساستغفرلک کی تشریح میں لکھا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں اللہ سے مشرک باپ کی مغفرت کی دعا کروں گا بلکہ مطلب یہ ہے کہ میں اپنے رب سے دعا کروں گا کہ وہ آپ کو شرک و کفر سے توبہ کرنے اور اسلام و ایمان اختیار کرنے کی توفیق عنایت کر دے ‘ جو امر موجب مغفرت ہو اس کے حاصل ہونے کی توفیق ملنے کی دعا مشرک کے لئے کی جاسکتی ہے (ایمان و اسلام موجب مغفرت ہے پس توفیق ایمان کی دعا مشرک کے لئے ناجائز نہیں ہے) ۔ میں کہتا ہوں آیت کی یہ تشریح غلط ہے اللہ نے دوسری جگہ فرمایا ہے قَدْ کَانَتْ لَکُمْ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ فِیْ اِبْرَاہِیْمَ ۔۔ اس آیت میں اللہ نے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے طریقہ پر چلنے کی ہدایت فرمائی ہے اور آخر میں یہ بھی فرما دیا کہ مشرک کے لئے استغفار کرنے کے معاملہ میں تم ابراہیم ( علیہ السلام) کی پیروی نہ کرو باوجودیکہ ہر مشرک کے لئے ایمان کی توفیق ملنے کی دعا کی جاسکتی ہے (اگر استغفار کا مطلب آیت مذکورہ میں دعا توفیق ایمان ہوتا تو ایسے استغفار کرنے میں ابراہیم کی پیروی کیوں ناجائز قرار دی جاتی ایسا استغفار تو ہر مشرک کے لئے ہوسکتا ہے) صحیح بات یہ ہے کہ حضرت ابراہیم نے جو باپ سے کہا سَاَسْتَغْفِرْلَکَ رَبِّیْیہ اس وقت کہا تھا جب مشرک کے لئے دعائے مغفرت کرنے کی ممانعت آپ کو معلوم نہ تھی ‘ جب ممانعت کا حکم ہوگیا تو پھر آپ نے باپ سے اظہار براءت کیا ‘ رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا ابو طالب سے فرمایا تھا خدا کی قسم میں ضرور آپ کے لئے دعائے مغفرت کرتا رہوں گا ‘ جب تک مجھے اس سے منع نہ کردیا جائے ‘ آخر آیت مَا کَان للنَّبِیِّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِکِیْنَ ۔۔ نازل ہوگئی۔ اس آیت کی تشریح سورت براءت میں گزر چکی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی ظاہر ہے کہ ہر نبی کی (خاص) دعا قبول کی جاتی ہے اگر حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) باپ کے لئے توفیق ایمان کی درخواست کرتے تو اللہ ضرور اس کو توفیق ایمان فرما دیتا ‘ لیکن آزر کے لئے ایمان مقدر ہی نہ تھا ‘ اس لئے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے اس کو ایمان نصیب ہونے کی دعا ہی نہیں کی۔ کَانَ بِیْ حَفِیًّا کا یہ مطلب ہے کہ وہ مجھ پر بڑی مہربانیاں اور کرم کرنے والا ہے کلبی نے کہا وہ عالم ہے میری دعا کو جانتا اور قبول فرماتا ہے ‘ مجاہد نے کہا اس نے مجھے قبول دعا کا عادی بنا دیا ہے۔ (وہ میری بددعا بھی قبول فرما لیتا ہے)
Ayah 19:48

وَ اَعْتَزِلُكُمْ وَ مَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ اَدْعُوْا رَبِّیْ١ۖ٘ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوْنَ بِدُعَآءِ رَبِّیْ شَقِیًّا Open ayah 19:48 in the Quran reader

اور میں آپ لوگوں سے اور جن کو آپ خدا کے سوا پکارا کرتے ہیں ان سے کنارہ کرتا ہوں اور اپنے پروردگار ہی کو پکاروں گا۔ امید ہے کہ میں اپنے پروردگار کو پکار کر محروم نہیں رہوں گا

واعتزلکم وما تدعون من دون اللہ اور میں (اپنے دین کو لے کر) تم لوگوں سے اور ان چیزوں سے جن کو اللہ کے سوا تم پوجتے ہو الگ ہوجاؤں گا۔ مقاتل نے کہا حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کوفی سے ہجرت کر کے ارض پاک کو چلے گئے الگ ہونے کی آپ نے یہی شکل اختیار کی۔ وادعونی ربی عسی الا اکون بدعآء ربی شقیا۔ اور اپنے رب کی عبادت کروں گا۔ امید ہے کہ اپنے رب کی عبادت کر کے محروم نہیں رہوں گا یعنی جس طرح تم لوگ بتوں کی پوجا کر کے اور ان کو پکار کے ناکام رہتے ہو۔ اس طرح میں اپنے رب کو پکار کر اور اس کی عبادت کر کے نامراد نہیں رہوں گا۔ لفظ عسیٰ (امید ہے۔ قریب ہے) کا استعمال محض تواضع اور انکسار نفس و اظہار عجز کے طور پر کیا (ورنہ اللہ کی عبادت اور اس سے دعا کرنے میں حضرت ابراہیم یقیناً ناکام نہیں تھے ‘ نہ رہ سکتے تھے) اس لفظ سے اس امر کی طرف ایماء بھی ہے کہ دعا کا قبول کرنا اور عبادت کا ثواب دینا محض اللہ کی مہربانی پر موقوف ہے اس پر لازم نہیں ہے اور اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ خاتمہ پر دارومدار ہے اور خاتمہ کا علم کسی کو نہیں۔
Ayah 19:49

فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۙ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا نَبِیًّا Open ayah 19:49 in the Quran reader

اور جب ابراہیم ان لوگوں سے اور جن کی وہ خدا کے سوا پرستش کرتے تھے اُن سے الگ ہوگئے تو ہم نے ان کو اسحاق اور (اسحاق کو) یعقوب بخشے۔ اور سب کو پیغمبر بنایا

فلما اعتزلہم وما یعبدون من دون اللہ وہبنا لہ اسحاق و یعقوب وکلا جعلنا نبیا۔ پھر جب ابراہیم ان لوگوں سے اور اللہ کے سوا جن کی وہ عبادت کرتے تھے ان سے علیحدہ ہوگئے تو ہم نے اس کو اسحاق (بیٹا) اور یعقوب (پوتا) عطا کیا اور (ان دونوں میں سے) ہر ایک کو نبی بنایا۔ یعنی جب سب کو چھوڑ کر ابراہیم ملک شام کو چلے گئے تو چھوٹے ہوئے کافر قرابت داروں کے عوض ہم نے ان کو اسحاق و یعقوب عطا فرمائے اور عزت مند اولاد دے کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی کیں اور ان دونوں میں سے ہر ایک کو پیغمبر بنایا۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ صرف حضرت اسحاق و حضرت یعقوب کا ذکر شاید اس لئے خصوصیت کے ساتھ کیا کہ یہ دونوں بزرگ آئندہ پیغمبروں کی اصل تھے (حضرت اسماعیل کی نسل میں تو سوائے رسول اللہ ﷺ کے اور کوئی نبی نہیں ہوا) یا یہ وجہ ہے کہ حضرت اسماعیل کا مستقل ذکر علیحدہ کرنا تھا۔
Ayah 19:50

وَ وَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا وَ جَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا۠ Open ayah 19:50 in the Quran reader

اور ان کو اپنی رحمت سے (بہت سی چیزیں) عنایت کیں۔ اور ان کا ذکر جمیل بلند کیا

ووہبنا لہم من رحمتنا اور ہم نے ان (تینوں) کو اپنی رحمت کا ایک حصہ عطا فرمایا ‘ کلبی کے نزدیک رحمت سے مال اور عزت مند اولاد مراد ہے۔ بعض نے کہا کتاب و نبوت مراد ہے۔ وجعلنا لہم لسان صدق علیا۔ اور (آئندہ نسلوں میں) ہم نے ان کا نام نیک اور اونچا کیا۔ لسان (زبان) سے مراد وہ الفاظ ہیں جو زبان سے نکلتے ہیں ‘ لسان العرب لغت عرب ‘ عرب کا کلام۔ لسان صدق یعنی وہ باتیں جن کی تمام مذاہب والے تعریف کرتے ہیں اور ان پر فخر کرتے ہیں۔ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے دعا کی تھی واجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَاللہ نے یہ دعا قبول فرمائی۔ صدق کی طرف لسان کی اضافت اور پھر لسان کی صفت علو کا ذکر بتارہا ہے اس بات کو کہ جو کچھ ان کی تعریف و ثنا کی جاتی ہے اس کے وہ مستحق ہیں ان کی ایسی خوبیاں ہیں جو امتداد زمانہ کے باوجود پوشیدہ نہیں ہیں۔
Ayah 19:51

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مُوْسٰۤى١٘ اِنَّهٗ كَانَ مُخْلَصًا وَّ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا Open ayah 19:51 in the Quran reader

اور کتاب میں موسیٰ کا بھی ذکر کرو۔ بےشک وہ (ہمارے) برگزیدہ اور پیغمبر مُرسل تھے

واذکر فی الکتب موسیٰ انہ کان مخلصا وکان رسولا نبیا اور کتاب میں موسیٰ کا ذکر پڑھو ‘ بلاشبہ وہ (اللہ کا) منتخب اور عالی قدر پیغمبر تھا۔ مُخْلَصًا یعنی اللہ نے ان کو چن لیا تھا اور اپنے لئے منتخب کرلیا تھا اور غیر کی طرف توجہ کرنے سے پاک کردیا تھا۔ رَسُوْلاً نَّبِیًّارسالت کا مرتبہ نبوت سے اونچا اور افضل ہے اس لئے رسولاً کے بعد نبیاً کہنے کی بظاہر ضرورت نہیں تھی (ہم صدیقاً نبیاً کی تشریح میں لکھ چکے ہیں کہ لفظ نبی جس طرح نبأ سے مشتق ہے اسی طرح نبوۃٌ بمعنی رفعت و علو سے بھی ماخوذ ہے ‘ پس نبی کا ترجمہ ہوا عالی قدر اونچے مرتبہ والا) لیکن اللہ جس کو رسول بناتا ہے اس کو اپنی پیغمبری کا مرتبہ دے کر عالی قدر بھی بناتا ہے اور اپنے احکام سے براہ راست باخبر بھی فرماتا ہے پس موسیٰ ( علیہ السلام) کو اللہ نے اپنے لئے چن لیا تھا ان کو عالی قدر رسول بنایا تھا۔
Ayah 19:52

وَ نَادَیْنٰهُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَیْمَنِ وَ قَرَّبْنٰهُ نَجِیًّا Open ayah 19:52 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو طور کی داہنی جانب پکارا اور باتیں کرنے کے لئے نزدیک بلایا

ونادینہ من جانب الطور الایمن اور ہم نے ان کو طور کے دائیں جانب سے پکارا۔ مصر اور مدین کے درمیان ایک پہاڑ تھا جس کو طور کہا جاتا تھا ‘ بعض علماء نے اس کا نام زبیر بتایا ہے حضرت موسیٰ مدین سے آ رہے تھے مصر کی طرف جانے کا ارادہ تھا ‘ آپ کے دائیں جانب کوہ طور واقع تھا ‘ دور سے آپ نے آگ روشن دیکھی اور ندا آئی یَمُوْسٰی اِنِّیْ اَنَا اللّٰہُ رَبُّ الْعٰلِمِیْنَپہاڑ کا تو کوئی دایاں بایاں رخ نہیں ہوتا اس لئے موسیٰ کا دایاں جانب مراد ہے یعنی وہ مقام جہاں کوہ طور موسیٰ ( علیہ السلام) کے دائیں جانب تھا۔ یَا اَیْمَنکا معنی ہے یُمْن (برکت) والا یعنی طور کے مبارک جانب سے ہم نے موسیٰ کو پکارا مبارک جانب سے مراد ہے وہ رخ جہاں سے اللہ کا کلام آ رہا تھا۔ وقربنہ نجیا۔ اور راز کی باتیں کرنے کے لئے ان کو مقرب بنایا۔ اللہ نے موسیٰ کو اپنا بےکیف قرب عنایت کیا جو وجدانی ہے بیانی نہیں ‘ بخیاً سے یہ مراد ہے کہ اللہ نے اس کو اپنا کلام سنایا اور اس نے اللہ سے کلام کیا۔
Ayah 19:53

وَ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِیًّا Open ayah 19:53 in the Quran reader

اور اپنی مہربانی سے اُن کو اُن کا بھائی ہارون پیغمبر عطا کیا

ووہبنا لہ من رحمتنا اخاہ ہرون نبیا۔ اور ہم نے اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر ان کو عطا فرمایا۔ حضرت ہارون عمر میں حضرت موسیٰ سے بڑے تھے اس لئے یہ مطلب تو نہیں ہوسکتا کہ موسیٰ کے لئے ہم نے ہارون کو پیدا کیا (بلکہ مراد یہ ہے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) کی وجہ سے ہارون کو نبوت عطا کی اور یہ عطاء نبوت موسیٰ : ( علیہ السلام) کی درخواست پر ہوا) بغوی نے لکھا ہے اسی لئے حضرت ہارون کا نام ہبۃ اللہ (عطیۂ خداوندی) ہوگیا۔
Ayah 19:54

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّاۚ Open ayah 19:54 in the Quran reader

اور کتاب میں اسمٰعیل کا بھی ذکر کرو وہ وعدے کے سچے اور ہمارے بھیجے ہوئے نبی تھے

واذکر فی الکتب اسمعیل انہ کان صادق الوعد وکان رسولا نبیا۔ اور کتاب میں اسماعیل کا تذکرہ پڑھو بلاشبہ وہ وعدہ کا سچا تھا اور رسول نبی تھا ‘ حضرت ابراہیم کے ایک بیٹے کا نام اسماعیل تھا ‘ حضرت اسماعیل رسول اللہ ﷺ کے جداعلیٰ تھے ‘ آپ وعدے کے سچے تھے بقول مجاہد جو وعدہ کیا اس کو پورا کیا۔ مقاتل نے کہا حضرت اسماعیل نے ایک شخص سے وعدہ کیا کہ جب تک تو واپس نہ آئے گا۔ میں اس جگہ سے نہیں ہٹوں گا وہ شخص تین روز میں یا برقول کلبی سال کے بعد واپس آیا اور حضرت اسماعیل کو اسی جگہ منتظر پایا۔ وعدے کی سچائی اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتی ہے کہ آپ نے اپنے والد محترم حضرت ابراہیم سے کہا سَتَجِدُنِیْ اِنْشَاء اللّٰہُ مِنَ الصَّابِرِیْنَانشاء اللہ آپ مجھے صابر پائیں گے اللہ نے جو کچھ آپ کو حکم دیا بجا لائیے ‘ چناچہ ذبح ہونے پر ثابت قدم رہے بےتابی کا اظہار نہیں کیا۔ بیضاوی نے لکھا ہے ‘ آیت سے ثابت ہو رہا ہے کہ رسول کا صاحب شریعت ہونا ضروری نہیں ‘ حضرت اسماعیل رسول تھے اور ابراہیمی شریعت پر تھے (خود صاحب شریعت نہیں تھے) حضرت ابراہیم کی اولاد شریعت ابراہیمی پر تھی۔
Ayah 19:55

وَ كَانَ یَاْمُرُ اَهْلَهٗ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ١۪ وَ كَانَ عِنْدَ رَبِّهٖ مَرْضِیًّا Open ayah 19:55 in the Quran reader

اور اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰة کا حکم کرتے تھے اور اپنے پروردگار کے ہاں پسندیدہ (وبرگزیدہ) تھے

وکان یامر اہلہ بالصلوۃ والزکوۃ وکان عند ربہ رضیا۔ اور وہ اپنے گھر والوں کو (خصوصیت کے ساتھ) نماز پڑھنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیتے تھے اور اپنے رب کے ہاں وہ برگزیدہ پسندیدہ تھے حضرت اسماعیل خصوصیت کے ساتھ اپنے گھر والوں کو صلوٰۃ و زکوٰۃ کا حکم اس لئے دیتے تھے کہ گھر والوں کی اصلاح سب سے زیادہ اہمیت رکھتی تھی آدمی کو چاہئے کہ سب سے پہلے اپنی درستی کی طرف توجہ کرے پھر اقرب ترین لوگوں کی طرف اصلاح کا رخ موڑے پھر دوسرے لوگوں کی اصلاح کی فکر کرے) اللہ نے فرمایا ہے وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ ۔ وَأْمُرْ اَہْلَکَ بالصَّلٰوۃِ ۔ قُوْا اَنْفَسُکُمْ وَاَہْلِیْکُمْ نَارًابعض علماء کا قول ہے اہل سے مراد ساری امت ہے انبیاء اپنی اپنی امتوں کے باپ ہوتے ہیں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا نماز و زکوٰۃ سے مراد وہ شریعت ہے جس کی تعمیل اللہ نے اسماعیل پر فرض کی تھی اور وہی ملت حنفیہ (دینی ابراہیمی) ہم پر بھی فرض ہے ‘ نماز تمام بدنی عبادات میں اور زکوٰۃ تمام مالی عبادات میں افضل ہے اس لئے خصوصیت کے ساتھ انہی دونوں کا ذکر کیا (ورنہ مراد تو پوری شریعت ہے) ۔ مَرْضِیًّا یعنی اللہ نے ان کو اپنی پیغمبری اور نبوت کے لئے پسند کرلیا تھا اور وہ اللہ کی طاعت پر قائم اور اعمال و افعال کی استقامت کے پابند تھے اس لئے اللہ ان سے راضی تھا۔
Ayah 19:56

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِدْرِیْسَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّاۗۙ Open ayah 19:56 in the Quran reader

اور کتاب میں ادریس کا بھی ذکر کرو۔ وہ بھی نہایت سچے نبی تھے

واذکر فی الکتب ادریس انہ کان صدیقا نبیا۔ اور کتاب میں ادریس کا تذکرہ پڑھو ‘ بلاشبہ وہ صدیق نبی تھے ‘ ادریس حضرت نوح ( علیہ السلام) کے پردادا اور حضرت شیث ( علیہ السلام) کے نواسے تھے ‘ آپ کا نام اخنوخ تھا درس کتب کی وجہ سے آپ کو ادریس کہا جاتا تھا (بہت پڑھنے والے) بیضاوی نے لکھا ہے ادریس غیر منصرف ہے (اس سے معلوم ہوا کہ یہ عربی نام نہیں) پھر درس سے مشتق ہونے کا کوئی معنی نہیں ہاں یہ ممکن ہے کہ جس زبان کا یہ لفظ ہو اس میں بھی لفظ ادریس کا معنی (کثیر الدرس یا اس کے قریب کوئی معنی ہو اور اسی بنا پر ادریس کو ادریس کہا جاتا ہو) عربی معنی کے موافق ہو۔ اللہ نے حضرت ادریس پر تیس صحیفے نازل فرمائے تھے۔ بغوی نے لکھا ہے حضرت ادریس قلم سے لکھنے اور کپڑے سینے اور سیا ہوا کپڑا پہننے کے موجد ہیں آپ سے پہلے لوگ کھالوں کو بطور لباس استعمال کرتے تھے آپ ہی نے سب سے پہلے ہتھیار بنائے اور کافروں سے جنگ کی۔ علم نجوم و حساب کے بھی آپ ہی موجد تھے۔
Ayah 19:57

وَّ رَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِیًّا Open ayah 19:57 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اونچی جگہ اُٹھا لیا تھا

ورفعنہ مکانا علیا۔ اور ہم نے (کمالات میں) ان کو اونچی جگہ تک پہنچایا ‘ بعض علماء نے کہا مکاناً علیاً سے مراد ہے نبوت اور قرب خدا کا اونچا درجہ ‘ بعض کے نزدیک جنت ‘ بعض کے نزدیک چھٹا یا چوتھا آسمان مراد ہے۔ حضرت انس بن مالک نے حضرت مالک بن صعصعہ کی روایت سے بیان کیا کہ شب معراج میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت ادریس کو چوتھے آسمان پر دیکھا تھا ‘ یہ حدیث سورت بنی اسرائیل اور سورة النجم میں بیان کردی گئی ہے۔ حضرت ادریس کے آسمان پر اٹھائے جانے کا قصہ کعب الاحبار وغیرہ نے بیان کیا کہ حضرت ادریس ایک روز دن بھر چلے اور دھوپ کی تیزی اور تپش سے آپ کو تکلیف ہوئی بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا میرے رب ایک روز دھوپ کی تپش میں چلنے سے مجھے اتنی تکلیف ہوئی پانچ سو برس کی مسافت جو ایک دن میں چلنے پر مجبور ہو اس کی کیا حالت ہوگی اے میرے رب اس سورج کی گرمی ہلکی کر دے اور جو فرشتہ اس کو چلاتا ہے اس کا بار کم کر دے۔ دوسری صبح کو فرشتہ کو محسوس ہوا کہ سورج میں گرمی ہلکی ہوگئی جو روز کے معمول کے خلاف تھی عرض کیا اے میرے رب تیرے اس حکم (تخفیف) کی کیا وجہ ہے اللہ نے فرمایا میرے بندے ادریس نے درخواست کی تھی کہ میں سورج کی گرمی کم کر کے تیرے اوپر سے اس کا بار ہلکا کر دوں میں نے اس کی دعا قبول کرلی فرشتہ نے عرض کیا پروردگار میری اس سے دوستی کرا دے اللہ نے اجازت دے دی آفتابی فرشتہ حضرت ادریس کے پاس آیا ‘ ادریس نے اس سے دریافت کیا اور کہا مجھے معلوم ہوا ہے کہ تو بڑا معزز فرشتہ ہے اور ملک الموت کے پاس تیری بڑی عزت ہے تو ملک الموت سے میری سفارش کر دے کہ وہ میری موت میں کچھ مدت ڈھیل کر دے تاکہ میں اللہ کے شکر و عبادت میں مزید اضافہ کرسکوں ‘ فرشتے نے کہا آئی ہوئی اجل کو تو اللہ کسی کے لئے نہیں ٹالتا بہرحال میں ملک الموت سے کہوں گا۔ اس کے بعد آفتابی فرشتہ ادریس کو آسمان پر اٹھا کرلے گیا اور طلوع آفتاب کے مقام کے قریب ان کو ٹھہرایا پھر ملک الموت سے جا کر کہا میرا آپ سے ایک کام ہے بنی آدم میں سے میرا ایک دوست ہے جس نے مجھ سے سفارش کرائی ہے کہ آپ اس کی موت کو کچھ پیچھے کردیں ملک الموت نے کہا مجھے اس کا اختیار نہیں ہاں اگر تم چاہتے ہو تو اتنا کرسکتا ہوں کہ اس کو اس کے مرنے کی اطلاع پہلے سے دے دوں تاکہ وہ پہلے سے تیاری کرلے۔ آفتابی فرشتے نے کہا اچھا ملک الموت نے اپنے رجسٹر میں ادریس کا نام دیکھا ‘ دیکھ کر بولا آپ نے مجھ سے ایسے شخص کے متعلق گفتگو کی ہے جو میرے خیال میں آئندہ کبھی نہیں مرے گا (کیونکہ اس کا نام زندوں کے اس رجسٹر میں نہیں ہے جو مرنے والے ہیں) آفتابی فرشتے نے کہا یہ کیسے ملک الموت نے کہا میں انپے رجسٹر میں یہ بات پائی کہ وہ آدمی طلوع آفتاب کے قریب مرے گا (چنانچہ وہ مرگیا اب زندہ نہیں ہے) آفتابی فرشتے نے کہا میں جو آپ کے پاس آیا ہوں تو اس کو چھوڑ کر آیا ہوں ملک الموت نے کہا اب جا کردیکھو تم اس کو مردہ پاؤ گے اس کی زندگی کا کوئی حصہ باقی نہیں ہے فرشتے نے جا کر دیکھا تو ادریس کو مردہ پایا۔ وہب بن منبہ نے کہا آسمان پر ادریس زندہ ہیں یا مردہ علماء کے اقوال اس کے متعلق مختلف ہیں ایک گروہ نے کہا وہ آسمان پر زندہ موجود ہیں اور صرف وہ ہی نہیں بلکہ چار انبیاء زندہ ہیں خضر اور الیاس زمین پر اور ادریس و عیسیٰ آسمان پر۔ وہب نے بیان کیا آسمان پر روزانہ ادریس کی اتنی عبادت پہنچتی تھی جتنی ساری زمین کے باشندوں کی فرشتوں کو اس پر تعجب ہوا اور ملک الموت کو ادریس سے ملنے کا شوق ہوا اور اللہ سے اجازت لے کر وہ ادریس کی ملاقات کو آدمی کی شکل میں آیا ادریس ہمیشہ روزے رکھتے تھے جب افطار کا وقت آیا تو ملک الموت کو بھی انہوں نے کھانے پر بلایا ملک الموت نے کھانے سے انکار کردیا تین روز ایسا ہی ہوتا رہا اب ادریس کو ملک الموت کا انکار ناگوار ہوا اور تیسری شب کو ملک الموت سے پوچھا میں جاننا چاہتا ہوں کہ آپ کون ہیں ‘ ملک الموت نے کہا میں موت کا فرشتہ ہوں اپنے رب سے آپ کے ساتھ رہنے کی اجازت لے کر آیا ہوں ‘ ادریس نے کہا میرا آپ سے ایک کام ہے ‘ ملک الموت نے کہا کیا کام ہے ‘ ادریس نے کہا آپ میری روح قبض کرلو۔ فرشتے نے روح قبض کرلی پھر تھوڑی دیر کے بعد اللہ نے روح واپس کردی ‘ ملک الموت نے پوچھا آپ نے جو روح قبض کرنے کی درخواست کی تھی اس کی غرض کیا تھی ‘ ادریس نے کہا میں موت کی تکلیف اور گہرائی کا مزہ چکھنا چاہتا تھا (بالکل مرجانا میرا مقصد نہیں تھا) تاکہ موت کے لئے میری قابلیت زیادہ قوی ہوجائے (یعنی آئندہ جب مجھ پر موت آئے تو میرے اندر اس کی تکلیف اٹھانے کی صلاحیت کامل ہو اور کیفیت موت سے میں آشنا ہوچکا ہوں) اس کے بعد حضرت ادریس نے ملک الموت سے کہا میرا آپ سے ایک کام اور ہے ملک الموت نے پوچھا وہ کیا ہے ادریس نے کہا آپ مجھے آسمان پر لے جائیں تاکہ میں وہاں کے احوال دیکھ لوں اور جنت و دوزخ کی طرف بھی لے جائیں اللہ نے ملک الموت کو ادریس کی درخواست پوری کرنے کی اجازت دے دی۔ چناچہ ملک الموت ادریس کو لے گئے دوزخ پر پہنچے تو ادریس نے ملک الموت سے کہا ‘ آپ مالک (مہتمم دوزخ) سے کہہ کر دوزخ کے دروازے کھلوا دیجئے کہ میں (اندر جا کر اور) اتر کر دیکھ لوں ‘ ملک الموت نے ایسا ہی کردیا ‘ ادریس نے کہا دوزخ تو آپ نے دکھا دی اب جنت بھی دکھا دیجئے۔ ملک الموت جنت کی طرف لے گئے اور جنت کے دروازے کھلوا کر اندر لے گئے اندر پہنچ گئے تو فرشتے نے کہا اب یہاں سے باہر نکلو اور اپنی اصلی قرارگاہ پر واپس جاؤ ادریس ایک درخت کی ٹہنی پکڑ کر چمٹ گئے اور بولے اب میں یہاں سے باہر نہیں جاؤں گا (دونوں میں گفتگو کا ردوبدل ہونے لگا) اللہ نے فیصلہ کرنے کے لئے ایک فرشتہ کو بھیجا ‘ فرشتے نے آکر ادریس سے پوچھا ‘ آپ باہر کیوں نہیں جاتے ‘ ادریس نے جواب دیا وجہ یہ ہے کہ اللہ نے فرمایا ہے ہر شخص موت کا مزہ چکھنے والا ہے ‘ میں موت کا مزہ چکھ چکا اور اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ تم میں سے ہر شخص دوزخ میں ضرور اترے گا تو میں دوزخ میں اتر چکا اور اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ وہ جنت سے باہر کبھی نہیں نکلیں گے اس لئے میں اب نہیں نکلوں گا ‘ اللہ نے ملک الموت کے پاس وحی بھیجی میری اجازت سے یہ جنت میں داخل ہوا اور میری اجازت (حکم) سے باہر نکلے گا (تم نکالنے کی کوشش مت کرو) یہی وجہ ہے کہ ادریس وہاں زندہ ہیں ‘ رَفَعْنٰہُ مَکَانًا عَلِیًّاکی یہی تشریح ہے۔
Ayah 19:58

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ مِنْ ذُرِّیَّةِ اٰدَمَ١ۗ وَ مِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ١٘ وَّ مِنْ ذُرِّیَّةِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْرَآءِیْلَ١٘ وَ مِمَّنْ هَدَیْنَا وَ اجْتَبَیْنَا١ؕ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ بُكِیًّا۩ Open ayah 19:58 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے اپنے پیغمبروں میں سے فضل کیا۔ (یعنی) اولاد آدم میں سے اور ان لوگوں میں سے جن کو نوح کے ساتھ (کشتی میں) سوار کیا اور ابراہیم اور یعقوب کی اولاد میں سے اور ان لوگوں میں سے جن کو ہم نے ہدایت دی اور برگزیدہ کیا۔ جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی تھیں تو سجدے میں گر پڑتے اور روتے رہتے تھے

اولئک الذین انعم اللہ علیہم من النبین من ریۃ ادم و ممن حملنا مع نوح ومن ذریۃ ابراہیم وا سرا آئل وممن ہدینا واجتبینا یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے (خاص) انعام فرمایا منجملہ دیگر انبیاء کے (نوح سے پہلے) آدم ( علیہ السلام) کی نسل سے اور (آدم ( علیہ السلام) سے نیچے) ان لوگوں کی نسل سے جن کو نوح ( علیہ السلام) کے ساتھ ہم نے (کشتی میں) سوار کیا تھا اور (نوح ( علیہ السلام) سے بہت نیچے) ابراہیم ( علیہ السلام) و یعقوب ( علیہ السلام) کی نسل سے اور یہ سب لوگ ان لوگوں میں سے تھے جن کو ہم نے ہدایت کی اور ہم نے ہی ان کو برگزیدہ کیا۔ اُولٰءِکَیعنی زکریا سے ادریس تک جن انبیاء کا ذکر کیا گیا۔ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْیعنی دنیوی اور دینی نعمتوں سے نوازا۔ مِنْ ذُرِّیَّۃِ اٰدَمَ یعنی حضرت آدم ( علیہ السلام) کی نسل میں سے جیسے ادریس وغیرہ۔ وَمِمَّنْ حَمَلْنَا یعنی منجملہ آدم ( علیہ السلام) کی نسل کے ان لوگوں کی اولاد میں سے جو نوح ( علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار کئے گئے تھے خصوصاً خود نوح کی نسل سے جیسے ابراہیم ( علیہ السلام) و اسرائیل جو سام بن نوح ( علیہ السلام) کی نسل سے تھے۔ وَمِنْ ذُرِّیَّۃِ اِبْرٰاہِیْمَ اور نوح ( علیہ السلام) سے نیچے ابراہیم ( علیہ السلام) کی اولاد یعنی اسماعیل ( علیہ السلام) و اسحاق ( علیہ السلام) وغیرہ۔ وَاِسْرَاءِ یْلَاور اسرائیل یعنی یعقوب کی نسل سے مثلاً موسیٰ ہارون زکریا ‘ یحییٰ ‘ عیسیٰ آیت سے ثابت ہو رہا ہے کہ بیٹی کی اولاد بھی ذریت میں داخل ہے۔ وَاجْتَبَیْنَا یعنی نبوت اعزاز اور ہدایت کرنے کے لئے ہم نے انتخاب کرلیا۔ اذا تتلی علیہم ایت الرحمن خروا سجداو ب کیا۔ اور جب ان کے سامنے رحمن کی آیتیں پڑھی جاتی تھیں تو سجدہ کرتے ہوئے اور روتے ہوئے (زمین پر) گرجاتے تھے۔ سُجَّدًاساجد کی جمع ہے۔ بکیاً با کی کی جمع ہے یعنی اللہ کی رحمت کی طلب میں سجدہ میں گرپڑتے تھے اور عذاب کے ڈر سے روتے تھے مراد یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ ان کو شرافت نسب ‘ کمالات ذاتی ‘ علو مرتبہ اور قرب خداوندی حاصل تھا پھر بھی خشیۃ اللہ کی وجہ سے سجدہ میں گرجاتے اور روتے تھے۔ ابن ماجہ ‘ اسحاق بن راہویہ اور بزار نے حضرت سعد بن ابی وقاص کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قرآن پڑھو اور گریہ کرو ‘ رونا نہ آئے تو روتے بن جاؤ۔
Ayah 19:59

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّاۙ Open ayah 19:59 in the Quran reader

پھر ان کے بعد چند ناخلف ان کے جانشیں ہوئے جنہوں نے نماز کو (چھوڑ دیا گویا اسے) کھو دیا۔ اور خواہشات نفسانی کے پیچھے لگ گئے۔ سو عنقریب ان کو گمراہی (کی سزا) ملے گی

فخلف من بعدہم خلف اضاعوا الصلوۃ واتبعوا الشہوت پھر ان کے بعد کچھ ایسے ناخلف پیدا ہوئے جنہوں نے نماز کو برباد کیا اور (ناجائز) نفسانی خواہشات کے پیچھے پڑگئے۔ فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِہِمْ یعنی ان کے بعد (ان کے جانشین ہوئے) ان کے پیچھے آئے۔ خَلْفَ (برے جانشین ‘ خلف اچھے جانشین۔ اَضَاعُو الصَّلٰوۃ یعنی انہوں نے نماز ترک کردی۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے ترجمہ کیا نماز وقت کو ٹال کر پڑھی۔ سعید بن مسیب نے اس کی تشریح میں فرمایا جیسے ظہر کی نماز عصر کا وقت آنے سے پہلے نہ پڑھی جائے اور عصر کی نماز اس وقت پڑھی جائے جب سورج غروب ہونے لگے۔ حضرت مفسر نے فرمایا میں کہتا ہوں کہ کسی مکروہ طریقے سے نماز پڑھنی اور نماز کے آداب و سنن کو ترک کرنا بھی نماز کو ضائع کرنا ہی ہے۔ اتباع شہوات کا یہ مطلب ہے کہ اللہ کی اطاعت کو چھوڑا اور نفس کی خواہشات کو پورا کیا اور اللہ کی نافرمانیاں کیں۔ فسوف یلقون غیا۔ سو یہ لوگ عنقریب (آخرت میں) خرابی پائیں گے (یعنی غی میں پھینک دیئے جائیں گے) ۔ بغوی نے لکھا ہے ‘ وہب بن منبہ کا قول ہے کہ غی جہنم کے اندر ایک بہت گہری وادی کا نام ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ جہنم کے اندر ایک ایسی وادی ہے کہ جہنم بھی اس کی گرمی سے پناہ مانگتی ہے۔ عادی زناکاروں کے لئے ‘ دوامی شراب خواروں کے لئے اور ان سود خواروں کے لئے جو سودخوری سے باز نہیں آتے اور ماں باپ کی نافرمانی کرنے والوں کے لئے اور جھوٹے گواہوں کے لئے اس کو تیار کیا گیا ہے۔ ابن مردویہ نے یہ حدیث حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے مرفوعاً نقل کی ہے۔ بغوی نے عطا کا قول نقل کیا ہے کہ غی جہنم کے اندر ایک وادی ہے جس کے اندر بجائے پانی کے) پیپ اور خون بہتا ہے ‘ کعب نے کہا غی جہنم کے اندر ایک بہت ہی گہری اور گرم ترین وادی ہے جس کے اندر ایک کنواں ہے کنویں کو بہیم کہا جاتا ہے۔ دوزخ کی آگ جب کچھ بجھنے لگتی ہے تو اس کنویں کا منہ کھول دیا جاتا ہے جس کی آگ سے دوزخ پھر بھڑکنے لگتی ہے۔ بغوی نے بروایت زکریا بن ابو مریم خزاعی بیان کیا کہ حضرت ابو امامہ باہلی نے فرمایا جہنم کے بالائی کنارہ سے گہرائی تک اتنی دوری ہے کہ موٹی دس ماہہ عظیم الجثہ اونٹنیوں کے برابر اگر کوئی پتھر یا چٹان اوپر سے نیچے کو لڑھکائی جائے تو ستّر برس کی مسافت طے کر کے نیچے پہنچے یہ سن کر عبدالرحمن بن خالد بن ولید کے آزاد کردہ غلام نے دریافت کیا حضرت کیا اس کے نیچے بھی کچھ ہے حضرت ابو امامہ نے فرمایا ہاں غی اور اثام ہے۔ ابن جریر ‘ ابن ابی حاتم ‘ سعید بن منصور ‘ ہناد ‘ فریابی ‘ حاکم اور بیہقی نے مختلف سندوں سے اس آیت کے ذیل میں حضرت ابن مسعود ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ غی جہنم کے اندر ایک وادی ہے یا ایک نہر ہے (اختلاف روایت) بہت گہری بہت بدمزہ (دوسری روایت میں ہے دوزخ کے اندر گرم پانی کی ایک نہر ہے) جو لوگ خواہشات کے پیچھے پڑے رہتے ہیں ان کو اس کے اندر پھینکا جائے گا۔ بیہقی کا بیان ہے کہ حضرت براء بن عازب نے فرمایا غی جہنم کے اندر ایک بہت گہری بدبودار وادی ہے۔ طبرانی اور بیہقی نے حضرت براء بن عاذب کی مرفوع روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر دس اوقیہ وزن کا کوئی پتھر جہنم کے (بالائی) کنارہ سے اندر پھینکا جائے تو ستّر برس تک اس کی تہ تک نہیں پہنچے گا پھر غی اور اثام تک پہنچ جائے گا (یعنی جہنم کی تہ تک پہنچنے کے بعد جب اور نیچے گا جائے گا تو غی اور اثام پر پہنچے گا۔ ) میں نے عرض کیا غی اور اثام کیا چیز ہے ‘ فرمایا جہنم کے نچلے حصے اس دو نہریں ہیں جن کے اندر دوزخیوں کا کچ لہو رواں ہے اور یہی وہ دو نہریں ہیں جن کا ذکر اللہ نے آیت فَسَوْفَ یَلْقُوْنَ غَیًّا اور آیت مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ اَثَامًا میں کیا ہے۔ بعض علماء نے کہا غی کا معنی (اس جگہ وہی لغوی معنی یعنی) گمراہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ راہ جنت گم پائیں گے ‘ جنت کے راستہ سے بھٹک جائیں گے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہر بدی کو غی اور اچھائی کو رشاد کہا جاتا ہے ‘ اسی وجہ سے آیت کی تشریح میں ضحاک نے کہا وہ خسران پائیں گے ‘ بعض نے غی کا ترجمہ ہلاکت اور بعض نے عذاب کیا ہے ‘ عذاب ہو یا ہلاکت یا خسران و ناکامی سب ہی شر و بدی کی اقسام ہیں ‘ بعض علماء نے مضاف کو محذوف مانتے ہوئے آیت کا مطلب یہ بیان کیا ہے ‘ دنیا میں گمراہ ہونے کا بدلہ اور سزا آخرت میں پائیں گے۔
Ayah 19:60

اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ شَیْئًاۙ Open ayah 19:60 in the Quran reader

ہاں جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور عمل نیک کئے تو اسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے اور ان کا ذرا نقصان نہ کیا جائے گا

الا من تاب وامن وعمل صالحاً فاولئک یدخلون الجنۃ ولا یظلمون شیئا۔ ہاں اگر جس نے توبہ کرلی اور ایمان لے آیا اور نیک کام کرنے لگا سو ایسے لوگ جنت میں جائیں گے اور ان کی ذرا بھی حق تلفی نہیں کی جائے گی یعنی اتباع خواہشات اور ترک صلوٰۃ سے جس نے توبہ کرلی اور کفر چھوڑ کر ایمان لے آیا اور حسب تقاضائے ایمان نیک عمل کئے وہ جنت میں داخل ہوگا اور اس کی بالکل حق تلفی نہیں کی جائے گی۔ آیت میں اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ توبہ اور ایمان کے بعد سابق کفر کا کوئی مواخذہ اس سے نہیں ہوگا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسلام پچھلے (یعنی ایمان لانے سے پہلے جرائم) کو ڈھا دیتا ہے۔ رواہ مسلم من حدیث عمرو بن العاص۔ اِلاَّ مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ کے الفاظ دلالت کر رہے ہیں کہ مذکورۂ بالا عذاب کی وعید کافروں کے لئے ہے اور جو کفر کے بعد ایمان لے آئے اس کو جنت کی بشارت دی گئی ہے ‘ (حضرت مفسر (رح) نے فرمایا) میں کہتا ہوں کہ عذاب کی وعید سے صرف مَنْ اٰمَنَہی مستثنیٰ نہیں ہے بلکہ مَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًاکا مجموعہ مستثنیٰ ہے اس لئے (وعید سابق صرف کافروں کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ) مؤمن فاسق بھی وعید میں داخل ہیں ‘ حضرت ابن عباس ؓ کی حدیث سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ غی زانی ‘ شرابی اور دوسرے اہل کبائر کے لئے ہے (یعنی صرف کافروں ہی کے لئے نہیں ہے بلکہ فاسق مؤمنوں کے لئے بھی ہے) ۔
Ayah 19:61

جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ عِبَادَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ وَعْدُهٗ مَاْتِیًّا Open ayah 19:61 in the Quran reader

(یعنی) بہشت جاودانی (میں) جس کا خدا نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے (اور جو ان کی آنکھوں سے) پوشیدہ (ہے) ۔ بےشک اس کا وعدہ (نیکوکاروں کے سامنے) آنے والا ہے

جنت عدن التی وعد الرحمن عبادہ بالغیب (اور) ہمیشہ رہنے کے باغوں میں جن کا رحمن نے اپنے بندوں سے غائبانہ وعدہ کیا ہے (رہیں گے) عَدْن یا مصدر ہے بمعنی قیام یا ایک جنت یا جنت کی زمین کا نام ہے بالغیب ان لوگوں کے لئے اللہ نے جنت کا وعدہ کیا ہے جو جنت سے غائب اور اس کو نہ دیکھنے کی حالت میں بھی اللہ کی بندگی کرنے والے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ غیب پر ایمان لانے اور تصدیق کرنے کی وجہ سے اللہ نے اپنے بندوں کے لئے جنت کا وعدہ کیا ہے۔ اوّل مطلب پر بالغیب کا تعلق متلبسین محذوف سے ہوگا اور دوسرے مطلب پر وعد سے۔ انہ کان وعدہ ماتیا۔ بیشک اللہ کی وعدہ کی ہوئی چیز کو وہ ضرور پہنچیں گے۔ مَاتِیًّا (اسم ظرف) یعنی اہل جنت جنت میں ضرور داخل ہوں گے۔ یا ماتِیًّا اسم مفعول بمعنی اسم فاعل ہے یعنی اللہ کا وعدہ ضرور آنے والا ہے ‘ دونوں مضمونوں میں کوئی فرق نہیں ‘ عربی محاورہ میں بولا جاتا ہے مجھ پر پچاس سال گزر گئے۔ میں پچاس سال پر گزر گیا ‘ دونوں ہم معنی ہیں۔
Ayah 19:62

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا١ؕ وَ لَهُمْ رِزْقُهُمْ فِیْهَا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا Open ayah 19:62 in the Quran reader

وہ اس میں سلام کے سوا کوئی بیہودہ کلام نہ سنیں گے، اور ان کے لئے صبح وشام کا کھانا تیار ہوگا

لایسمعون فیہا لغوا الا سلما اس جنت میں وہ لوگ کوئی فضول بات نہ سننے پائیں گے بجز سلام کے ‘ یعنی جنت کے اندر اہل جنت کوئی بےہودہ لفظ نہیں سنیں گے بلکہ اللہ کی طرف سے اور ملائکہ کی طرف سے اور باہم ایک دوسرے کی طرف سے سلام (کی آواز) سنیں گے۔ یا یہ مطلب ہے کہ اہل جنت ایسا کلام ہی سنیں گے جو عیب اور نقص سے پاک ہوگا۔ ولہم رزقہم فیہا بکرۃ وعشیا۔ اور ان کو ان کا کھانا صبح و شام ملا کرے گا۔ یعنی ہر طرح کا رزق با فراغت اور سکھ حاصل ہوگا ‘ حسن بصری نے کہا ‘ عرب کے نزدیک زندگی کا عیش اس سے بڑھ کر اور کوئی نہ تھا کہ صبح و شام کھانے کو غذا (پیٹ بھر کر) مل جائے اللہ نے عرب ہی کے محاورہ کے مطابق اہل جنت کے لئے صبح و شام رزق ملنے کا ذکر کیا (ورنہ حقیقت میں ہر قسم کے عیش کا حصول مقصود ہے) سعید بن منصور اور ابن ابی حاتم نے اس آیت کے ذیل میں حضرت ابن عباس ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ جتنی مقدار ان کو دنیا میں ملتی تھی اتنی ہی آخرت میں ملے گی۔ ابن مبارک نے اس آیت کی تشریح میں ضحاک کا قول نقل کیا کہ رات ودن کی مقدار کے مطابق ان کو ملے گا۔ ابن المنذر نے بیان کیا کہ ولید بن مسلم نے کہا میں نے اس آیت کی تشریح زہیر بن محمد سے دریافت کی۔ زہیر نے کہا جنت میں رات نہیں ہوگی ‘ وہاں تو ہمیشہ نور ہی ہوگا پردہ چھوڑنے سے رات کا اندازہ اور پردہ اٹھا دینے سے دن کا اندازہ معلوم ہوگا۔ حکیم ترمذی نے النوادر میں حضرت ابو قلابہ و حضرت حسن کی روایت سے بیان کیا کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ : کیا جنت میں رات ہوگی ‘ فرمایا (وہاں تو) محض نور کی چمک ہوگی ‘ صبح کا شام پر اور شام کا صبح پر توارد ہوگا ‘ اللہ کی طرف سے نمازوں کے ان اوقات میں جن میں وہ نمازیں پڑھا کرتے تھے عجیب تحفے ان کے پاس آئیں گے اور فرشتے (ان اوقات میں) ان کو سلام کریں گے۔
Ayah 19:63

تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِیًّا Open ayah 19:63 in the Quran reader

یہی وہ جنت ہے جس کا ہم اپنے بندوں میں سے ایسے شخص کو وارث بنائیں گے جو پرہیزگار ہوگا

تلک الجنۃ التی نورث من عبادنا من کان تقیا۔ یہ جنت ایسی ہے کہ ہم اپنے بندوں میں سے اس کا مالک ایسے لوگوں کو بنائیں گے جو خدا سے ڈرنے والے ہوں۔ نُوْرِثُیعنی ہم جنت کو ان کے تقوے کا ثمرہ بنا کر ان کے لئے باقی رکھیں گے ‘ جیسے مورث کا مال وارث کے لئے باقی رہتا ہے (مطلب یہ کہ وارث کرنے سے مراد ہے باقی رکھنا ‘ یہ مطلب نہیں کہ پہلے جنت کا کوئی اور مالک تھا اس کے مرنے کے بعد نیک بندوں کو اس کا وارث بنایا گیا۔ وارث بنانے سے مراد مالک بنانا بھی ہوسکتا ہے ‘ محاورات عربیہ اور بعض آیات اس کی شاہد ہیں اس وقت کسی تاویل کی ضرورت نہیں۔ (مترجم) ۔ وراثت کا لفظ (بجائے تملیک کے) اس لئے اختیار کیا کہ ملکیت و استحقاق کا سب سے قوی ذریعہ وراثت ہی ہے نہ مورث اس کو فسخ کرسکتا ہے نہ وارث اس سے واپس لینے کا امکان ہے نہ اس کو رد کیا جاسکتا ہے نہ اس کا اسقاط ممکن ہے۔ بعض علماء نے کہا مؤمنوں کو جنت کے اندر بعض ایسے مکان بھی ملیں گے جو واقع میں ان دوزخیوں کے لئے تھے کہ اگر وہ کفر نہ کرتے تو ان مکانوں کے مالک و قابض ہوتے لیکن ان کے دوزخ میں جانے کے بعد اللہ ان کے مساکن پر مؤمنوں کو قابض بنا دے گا۔ ابن ماجہ اور بیہقی نے بسند صحیح حضرت ابوہریرہ ؓ : کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے ہر ایک کے لئے دو گھر ہوں گے ایک جنت کے اندر ایک دوزخ کے اندر جب کوئی مرنے کے بعد دوزخ میں چلا جائے گا تو اس کے جنت والے گھر کے وارث اہل جنت ہوجائیں گے یہ ہی اللہ کے قول (اُولٰءِکَ ہُمُ الْوَارِثُوْنَ ) کا مفہوم ہے۔ حضرت انس ؓ : کی روایت سے ابن ماجہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنے وارث کو میراث دینے سے بھاگے گا ‘ اللہ جنت کے اندر اس کی (موجود) میراث کو کاٹ دے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بخاری نے بیان کیا کہ ایک بار رسول اللہ ﷺ نے حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) سے فرمایا ہماری ملاقات سے روکنے والی آپ کے لئے کیا چیز ہے (یعنی کیا وجہ کہ آپ ہمارے پاس نہیں آئے) اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 19:64

وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ١ۚ لَهٗ مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا وَ مَا خَلْفَنَا وَ مَا بَیْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ مَا كَانَ رَبُّكَ نَسِیًّاۚ Open ayah 19:64 in the Quran reader

اور (فرشتوں نے پیغمبر کو جواب دیا کہ) ہم تمہارے پروردگار کے حکم سوا اُتر نہیں سکتے۔ جو کچھ ہمارے آگے ہے اور پیچھے ہے اور جو ان کے درمیان ہے سب اسی کا ہے اور تمہارا پروردگار بھولنے والا نہیں

وما نتنزل الا بامر ربک اور ہم نہیں اترتے مگر آپ کے رب کے حکم سے۔ اصل کلام اس طرح تھا ‘ جبرئیل ( علیہ السلام) محمد ﷺ سے کہہ دو کہ ہم بغیر رب کے حکم کے نہیں اترا کرتے۔ تنزل (باب تفعل) کے بمعنی نزول بھی آتا ہے اور تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد اترنا بھی تنزل کا مفہوم ہے کیونکہ باب تفعل باب تفعیل کا مطاوع ہوتا ہے اور تنزیل کا معنی ہے تھوڑا تھوڑا اتارنا پس تنزل کا معنی ہوا وقفہ وقفہ کے بعد اترنا۔ کبھی تنزیل انزال (اتارنا) کا ہم معنی بھی آتا ہے یعنی اس کے معنی میں آہستہ آہستہ اور قدرے قدرے کا مفہوم نہیں ہوتا۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ایک بار جبرئیل ( علیہ السلام) کے آنے میں چالیس روز کا وقفہ ہوگیا۔ ابن مردویہ نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا کہ ایک بار رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ کون سا مکان اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہے اور کون سی جگہ ہے جس سے اللہ کو سب سے زیادہ نفرت ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا مجھے نہیں معلوم ‘ میں جبرئیل ( علیہ السلام) سے دریافت کروں گا۔ اس کے بعد جبرئیل کو آنے میں (ایک لمبی مدت تک) تاخیر ہوگئی ‘ پھر جب جبرئیل ( علیہ السلام) آئے تو حضور ﷺ نے ان سے فرمایا آپ نے آنے میں بڑی مدت لگا دی مجھے تو یہ خیال ہونے لگا کہ شاید میرا رب مجھ سے کچھ ناراض ہوگیا ‘ اس کے جواب میں حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) نے کہا وَمَا نَتَنَزَّلُ الاَّ بِاَمْرِرَبَّکَ ۔ ابو نعیم نے دلائل میں اور ابن اسحاق نے حضرت ابن عباس ؓ : کی روایت سے بیان کیا کہ قریش نے رسول اللہ ﷺ سے جب اصحاب کہف اور ذوالقرنین اور روح کے متعلق دریافت کیا اور آپ کو اس کا جواب معلوم نہ تھا (اس لئے آپ نے دوسرے روز جواب دینے کا وعدہ کرلیا) آپ کو امید تھی کہ وحی سے جواب معلوم ہوجائے گا لیکن جبرئیل ( علیہ السلام) پندرہ روز تک نہیں آئے اور کوئی وحی بھی نہیں آئی پندرہ روز کے بعدجب جبرئیل ( علیہ السلام) آئے تو آپ نے ان سے تاخیر نزول کا شکوہ کیا۔ الخ بغوی نے ضحاک ‘ عکرمہ ‘ مقاتل اور کلبی کے حوالہ سے بیان کیا کہ جب قوم والوں نے رسول اللہ ﷺ سے اصحاب کہف اور ذوالقرنین اور روح کے متعلق سوال کیا تو حضور ﷺ نے فرمایا میں کل کو بتادوں گا آپ نے اس وعدے کے ساتھ انشاء اللہ نہیں فرمایا ‘ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جبرئیل مدت تک نہیں آئے اور حضور ﷺ : کو (جبرئیل کے نہ آنے اور جواب معلوم نہ ہونے سے) تکلیف ہونے لگی پھر کچھ دنوں کے بعد جب جبرئیل آئے تو حضور ﷺ نے ان سے فرمایا آپ نے بہت دیر کردی ‘ میرا تو خیال خراب ہونے لگا تھا میں آپ کا بےچینی کے ساتھ انتظار کرتا رہا ‘ جبرئیل نے کہا میں بھی آپ سے ملنے کا مشتاق تھا لیکن میں حکم کا بندہ ہوں مجھے جب بھیجا جاتا ہے آجاتا ہوں ‘ روک دیا جاتا ہے رک جاتا ہوں اس پر یہ آیت اور آیات والضحّٰی وَاللَّیْلِ اِذَا سَجٰی مَا وََدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلٰینازل ہوئیں۔ لہ ما بین ایدینا وما خلفنا وما بین ذلک وما کان ربک نسیا۔ اسی کی ملک ہیں ہمارے آگے کی سب چیزیں اور ہمارے پیچھے کی سب چیزیں اور ان کے درمیان کی سب چیزیں اور آپ کا رب بھولنے والا نہیں۔ لَہٗ مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَاسے مراد ہے وقت حاضر سے آئندہ قیامت تک بلکہ ابدالآباد تک ہونے والے واقعات امور ‘ اشیاء ‘ حوادث ‘ دنیوی ہوں یا اخروی اور مَا حَلَفْنَاسے مراد ہیں ماضی کے احوال ‘ واقعات ‘ حوادث اور امور و اشیاء۔ اور مَا بَیْنَ ذٰلِکَسے مراد ہے وقت حاضر اور اس میں موجود تمام اشیاء و احوال بعض علماء کے نزدیک مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَاسے مراد ہے زمین جب ہم اس پر اترنا چاہیں اور خَلَفْنَاسے مراد ہے آسمان جب ہم اس سے اترنے کا ارادہ کریں اور اترنے لگیں اور مَا بَیْنَ ذٰلِکَسے مراد ہے درمیانی خلاء اور فضاء۔ آپ کا رب بھولنے والا نہیں اس کا یہ مطلب ہے کہ آپ کا رب آپ کو بالکل چھوڑ دے اور آپ کے پاس وحی نہ بھیجے اور ہم بالکل آپ کے پاس نہ آئیں ایسا نہیں ہے بلکہ تاخیر وحی اللہ کی حکمت پر مبنی ہے جس سے وہی واقف ہے۔