Ayah 16:124انما جعل الست علی الذین اختلفوا فیہ وان ربک لیحکم بینھم یوم القیمۃ فیما کانوا فیہ یختلفون ہفتہ (کے دن کی تعظیم و عبادت و حرمت کا پاس) تو صرف ان لوگوں پر فرض کیا گیا تھا جنہوں نے اس میں خلاف کیا تھا اور آپ کا رب قیامت کے دن ان کے درمیان اس بات کا فیصلہ کر دے گا جس میں وہ اختلاف کرتے تھے۔
جُعِلَ السَّبْتُ یعنی ہفتہ کے دن کی تعظیم اور دنیا کے تمام مشاغل کی حرمت اور محض عبادت لازم کردی گئی تھی۔
اخْتَلَفُوْا فِیْہ ط یعنی سنیچر کے معاملہ میں انہوں نے اپنے پیغمبر کی مخالفت کی۔ کلبی کا بیان ہے : بنی اسرائیل کو حضرت موسیٰ نے حکم دیا تھا کہ ہر سات دن میں ایک روز یعنی جمعہ کے دن کوئی کام اور پیشہ نہ کریں ‘ صرف عبادت کیا کریں۔ چھ دن اپنے پیشے کیا کریں۔ بنی اسرائیل نے کہا : ہم تو (عبادت کیلئے مخصوص) وہ دن چاہتے ہیں جس روز اللہ سارے عالم کی پیدائش سے فارغ ہوگیا تھا ‘ یعنی سنیچر کا دن۔ اللہ نے سنیچر کا دن مقرر کردیا اور سختی کردی (کہ اس کے پابند رہیں) پھر حضرت عیسیٰ نے بنی اسرائیل کے سامنے جمعہ کے دن کو پیش کیا (یعنی جمعہ کا دن عیسائیوں کیلئے مقرر کیا) کہنے لگے : ہم کو تو یہ بات پسند نہیں کہ ہماری عید کے بعد ہی ان (یہودیوں) کی عید ہوجائے۔ غرض عیسائیوں نے (عبادت کیلئے) اتوار کا دن پسند کرلیا۔ آخر اللہ نے جمعہ کا دن اس امت کو دے دیا اور اس امت نے عطائے الٰہی کو قبول کرلیا اور اللہ نے امت اسلامیہ کو اس دن کی برکات بھی عطا فرما دیں۔
شیخین نے صحیحین میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہم (دنیا میں) پیچھے ہیں ‘ قیامت کے دن آگے ہوں گے۔ باوجود اس کے کہ ان کو کتاب ہم سے پہلے دی گئی اور ہم کو ان کے پیچھے۔ پھر یہ ان کا دن (تھا) جو ان پر فرض کیا گیا تھا ‘ یعنی جمعہ کا دن ‘ مگر انہوں نے اس کی مخالفت کی ‘ لیکن اللہ نے ہم کو اس کی ہدایت کردی۔ سب لوگ اس (روز عبادت) میں ہمارے پیچھے ہیں۔ یہودیوں کیلئے کل کا دن (یعنی سنیچر) اور عیسائیوں کیلئے کل کے بعد کا دن (یعنی اتوار) ۔
بغوی کی روایت میں اس حدیث کے آخر میں اتنا زائد ہے کہ اللہ نے فرمایا ہے : اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَی الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ ۔
مسلم نے حضرت ابوہریرہ اور حضرت حذیفہ کی روایت سے یہ حدیث نقل کی ہے ‘ جس کے آخر میں یہ الفاظ ہیں : ہم دنیا والوں سے پیچھے ہیں اور قیامت کے دن اوّل ہوں گے۔ ہمارا فیصلہ اور لوگوں سے پہلے کردیا جائے گا۔
بعض علماء نے آیت کا مطلب یہ بیان کیا ہے : اللہ نے سنیچر کے دن کی تعظیم اور حرمت صرف ان لوگوں کیلئے لازم کی تھی جنہوں نے اس کے سلسلے میں اختلاف کیا تھا ‘ یعنی یہودیوں پر سنیچر کی تعظیم لازم کی تھی مگر لوگوں میں اختلاف ہوگیا۔ بعض لوگوں نے کہا : سنیچر کا دن سب سے بڑی عظمت کا دن ہے۔ اللہ تمام چیزوں کو پیدا کر کے جمعہ کے دن فارغ ہوگیا اور سنیچر کے دن آرام کیا۔
بعض لوگوں نے کہا : اتوار کا دن سب سے زیادہ عظمت والا ہے۔ اللہ نے اسی روز مخلوق کو پیدا کرنے کا افتتاح کیا تھا۔ غرض یہ کہ اللہ نے ان کیلئے جمعہ کی تعظیم فرض کی تھی ‘ مگر اللہ کے فرض کردہ دن کے علاوہ انہوں نے دوسرے ایام کی تعظیم کو اختیار کیا۔
بعض اہل تفسیر نے آیت مذکورہ کا یہ مطلب بیان کیا کہ اللہ نے سنیچر کے دن کو لعنت اور صورت بگاڑ دینے کا سبب بنا دیا ‘ ان لوگوں کیلئے جنہوں نے اس کے حکم کی مخالفت کی ‘ یعنی یہودیوں کیلئے لعنت اور ان کی صورتیں مسخ ہوجانے کا سبب سنیچر کا دن ہوا۔ بعض یہودیوں نے سنیچر کے دن مچھلی کا شکار حلال بنا لیا تھا اور کچھ دوسرے لوگ اس کو حرام کہتے تھے۔
لِیَحْکُمُ بَیْنَھُمْ یعنی اختلاف کے مطابق سزا و جزا دے گا۔ ہر فریق کو وہی بدلہ دے گا جس کا وہ مستحق ہوگا۔
Ayah 16:125ادع الی سبیل ربکبالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ وجادلھم بالتیھی احسن آپ اپنے رب کی راہ کی طرف علم کی باتوں اور اچھی نصیحتوں کے ذریعہ سے بلائیں اور (اگر بحث آپڑے تو) ان کے ساتھ اچھی طرح سے بحث کریں (کہ تنک مزاجی اور سخت کلامی نہ ہو) یعنی اے محمد ﷺ ! آپ لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں۔ الْحِکْمَۃ سے مراد قرآن مجید ہے۔ قرآن ایک محکم ‘ مضبوط ‘ اٹل کلام ہے جس پر کوئی نکتہ چینی نہیں کی جاسکتی (گویا حکمۃ بمعنی محکم کے ہے اور اس سے مراد قرآن ہے) اور الْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ سے مراد معارضہ ہے۔ معارضہ ایسی دلیل کو کہتے ہیں جس سے حق واضح ہوجائے اور شبہات دور ہوجائیں۔ اس کا حسن یہ ہے کہ دلیل کے ساتھ ترہیب اور ترغیب بھی ہو (یعنی نہ ماننے پر سخت عذاب کا ڈراوا اور ماننے کے بعد بہترین نتیجہ کی بشارت) بعض علماء نے کہا کہ موعظت حسنہ سے مراد ایسا نرم کلام ہے جس میں درشتی اور چڑچڑا پن نہ ہو۔
وَجَادِلْھُمْ بالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ یعنی بہت اچھے ‘ عمدہ طریقہ سے ان سے مناظرہ کرو اور اس طرح بحث کرو کہ اس میں نفس کی تیزی اور شیطانی وسوسہ کا دخل نہ ہو ‘ چڑچڑا پن اور غلبۂ نفسانی کی خواہش نہ ہو بلکہ محض لوجہ اللہ ہو اور اللہ کا بول بالا کرنا مقصود ہو۔
ان ربک ھو اعلم بمن ضل عن سبیلہ وھو اعلم بالمھتدین آپ کا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو اس کے راستہ سے گم ہوا اور وہی راہ حق پر چلنے والوں کو بھی خوب جانتا ہے۔
یعنی آپ کا فریضہ تو صرف تبلیغ اور دعوت ہے۔ حصول ہدایت اور سزا و جزا کا علم اللہ کو ہے ‘ اس کی ذمہ داری آپ کی نہیں۔ جو کوئی گمراہ ہو یا ہدایت یافتہ ‘ سب سے واقف اللہ ہے اور وہی ہر ایک کو جزا و سزا دینے والا ہے۔ حاکم نے حضرت جابر بن عبد اللہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ احد کے روز جب لوگ میدان جنگ سے واپس آئے تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت حمزہ کو نہ پایا۔ ایک شخص نے کہا : میں نے فلاں چٹان کے پاس ان کو دیکھا تھا ‘ وہ کہہ رہے تھے : میں اللہ کا اور اللہ کے رسول کا شیر ہوں۔ اے اللہ ! میں تیرے سامنے اس بات سے بیزاری کا اظہار کرتا ہوں جس کو یہ لوگ (یعنی ابو سفیان وغیرہ) لائے ہیں اور ان لوگوں (یعنی مسلمانوں) نے جو شکست کھائی ہے ‘ ان کی طرف سے میں عذر خواہ ہوں۔ (اس شخص سے اطلاع پا کر) رسول اللہ ﷺ حضرت حمزہ کی طرف آئے اور آپ کی لاش کو دیکھ کر رو دئیے اور جب آپ کے کان ناک کٹے اور صورت بگڑی ہوئی پائی تو چیخ پڑے ‘ پھر فرمایا : کیا اس کو ڈھانکنے کیلئے کوئی کپڑا نہیں ہے ؟ ایک انصاری نے اپنا کپڑا حضرت حمزہ پر ڈال دیا اور اس کے بھائی نے ایک اور کپڑا بھی حضرت حمزہ پر ڈال دیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : جابر ! یہ کپڑا تیرے باپ کیلئے ہے (ان کی نعش پر ڈال دے) ۔ رسول اللہ ﷺ نے اس وقت یہ بھی فرمایا : تجھ پر اللہ کی رحمت ہو ‘ میں جس طرح تجھے جانتا تھا ‘ تو ویسا ہی بڑا نیکوکار اور کنبہ پرور تھا۔ اگر صفیہ رنجیدہ نہ ہوتی ‘ یا یہ فرمایا : اگر ہماری عورتوں کو رنج نہ ہوتا تو میں تجھے (یونہی) ایسی حالت میں چھوڑ دیتا کہ تیرا حشر درندوں کے پیٹوں اور پرندوں کے پوٹوں سے (قیامت کے دن) ہوتا (یعنی بغیر دفن کے یونہی چھوڑ دیتا کہ درندے اور پرندے کھا جائیں اور قیامت کے دن اللہ تجھ کو درندوں اور پرندوں کے پیٹ سے اٹھاتا) پھر فرمایا : تم کو بشارت ہو ‘ مجھے حضرت جبرئیل نے آکر اطلاع دی ہے کہ ساتوں آسمانوں والوں میں حمزہ کے متعلق یہ (الفاظ) لکھ دئیے گئے ہیں : حمزہ بن عبدالمطلب اسد اللہ ۔ اسد رسول اللہ (ا اللہ کا شیر اور اللہ کے رسول کا شیر) اس کے بعد اگر آئندہ کسی مقام پر اللہ نے قریش پر مجھے فتحیاب کیا تو تیری بجائے ان کے ستر آدمیوں کے ناک کان کاٹوں گا۔ جب رسول اللہ ﷺ کا یہ رنج اور غصہ مسلمانوں نے دیکھا تو انہوں نے بھی کہا : اگر ہم کو بھی کسی روز اللہ نے ان پر فتح عنایت کی تو ہم بھی ان کے ستر آدمیوں کی اس طرح شکلیں بگاڑ دیں گے کہ کسی عرب نے ایسا نہیں کیا ہوگا۔
ابن سعد اور بزار اور ابن المنذر اور بیہقی اور حاکم نے بیان کیا کہ حضرت ابوہریرہ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ وہیں کھڑے تھے کہ حضرت جبرئیل سورة نحل کی آخری آیات لے کر اترے۔
Ayah 16:126وان عاقبتم فعاقبوا بمثل ماعوقبتم بہ ولئن صبرتم لھو خیر للصبرین اور اگر بدلہ لو تو اتنا ہی بدلہ لو جتنا تمہارے ساتھ برتاؤ کیا گیا ہے اور اگر صبر کرلو تو صبر کرنے والوں کیلئے یہی بہتر ہے۔
کسی برائی کے بدلے کو عقوبت اور عقاب کہا جاتا ہے۔ اس کو عقوبت (برا بدلہ) کہنا محض لفظی مناسبت کی وجہ سے ہے ‘ جیسے جَزَآءُ سَیِّءَۃٍ سَیِّءَۃٌ مِّثْلُھَا میں بدی کے بدلہ کو بھی برائی کہا گیا ہے ‘ حالانکہ برائی کی سزا برائی نہیں ہوتی۔ مطلب یہ ہے کہ برائی کی سزا حد جرم کے برابر دے سکتے ہو ‘ اس سے تجاوز نہ کرو۔
صبر کرنے سے مراد ہے : انتقام نہ لینے اور بدلہ لینے سے رک جانا۔
لَھُوَ خَیْرٌ یعنی انتقام سے صبر بہتر ہے۔ اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا میں تو درپردہ عفو کی ترغیب ہے اور لِءِنْ صَبَرْتُمْ میں تاکید کے ساتھ صبر کرنے کی صراحت ہے۔ للِّصّٰبِرِیْنَ میں لفظ صابرین کو ذکر کرنے سے اللہ کی طرف سے فی الجملہ ان لوگوں کی تعریف ہے جو مصائب اور شدائد پر صبر کرتے ہیں۔
Ayah 16:127واصبر وما صبرک الا باللہ ولا تحزن علیھم ولا تک فی ضیق مما یمکرون اور آپ صبر کیجئے اور آپ کا صبر کرنا خاص اللہ کی توفیق سے ہے اور ان پر غم نہ کیجئے اور جو کچھ وہ تدبیر کرتے ہیں ‘ ان سے دل تنگ نہ ہو جیے۔
چونکہ رسول اللہ ﷺ کا علم اور اللہ پر اعتماد سب سے زیادہ تھا ‘ اسلئے خصوصیت کے ساتھ آپ ﷺ کو اس آیت میں خطاب فرمایا۔
وَاصْبِرْ یعنی کفار کی طرف سے جو ایذاء پہنچے ‘ اس پر صبر کرو۔ وَمَا صَبْرُکَ الاَّ باللّٰہِ یعنی اللہ کی توفیق اور اس کی مدد سے ہی آپ کا صبر ہوسکتا ہے۔
وَلاَ تَحْزَنْ عَلَیْھِمْ اور ان پر یعنی کافروں پر یا مؤمنوں پر اور مؤمنوں کو پہنچی ہوئی اذیت پر رنج نہ کرو۔
وَلاَ تَکَ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْکُرُوْنَ یعنی کافر جو مؤمنوں کے خلاف مکاریاں کرتے ہیں ‘ آپ ان کی پرواہ نہ کریں ‘ ان کو کوئی اہمیت نہ دیں۔ آپ کو ان پر فتح دینا اور ان کو سزا دینا ہمارا ذمہ ہے۔
ضَیق اور ضیق (سینہ کی تنگی ‘ گھٹن ‘ غم) دونوں ہم معنی ہیں۔ ابو عمرو نے کہا : ضَیق غم ‘ ضِیق شدت۔ ابو عبیدہ نے کہا : ضَیق کھانے پینے اور مسکن کی کمی۔ ضِیق دل کی گھٹن ‘ کبیدگی ‘ غم۔ ابو قتیبہ نے کہا : ضَیْقٌ‘ ضَیِّقٌ کا مخفف ہے ‘ جیسے بَیْن ‘ بَیِّنْ کا اور لَیْن ‘ لَیِّنْ کا۔ اس قول پر ضَیْقٌٍ صفت کا صیغہ ہوگا ‘ یعنی تنگ امر۔
Ayah 16:128ان اللہ مع الذین اتقوا والذین ہم محسنون اللہ ایسے لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو (گناہوں سے) بچتے ہیں اور ان کے ساتھ ہوتا ہے جو نیک کردار ہوتے ہیں۔
اتَّقُوْا یعنی گناہوں سے پرہیز رکھتے ہیں۔ مُحْسِنُوْنَ یعنی نیک کردار ہیں۔ یا اتَّقُوْا سے مراد ہیں وہ لوگ جو اللہ کے حکم کی تعظیم کرتے ہیں اور اس سے ڈرتے ہیں اور مُحْسِنُوْنَ سے مراد ہیں وہ لوگ جو مخلوق کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں۔ یا اتَّقُوْا سے مراد ہیں وہ لوگ جو بدلہ لینے میں زیادتی کرنے سے بچتے ہیں اور مُحْسِنُوْنَ سے مراد ہیں وہ لوگ جو دوسروں کو معاف کرتے ہیں۔
ا اللہ کے ساتھ ہونے سے مراد ہے : اللہ کی رفاقت ‘ دوستی ‘ مہربانی اور مدد و نصرت کا ساتھ ہونا ‘ یا معیت ذاتیہ مراد ہے جو بےکیف ہے۔ اس کی کوئی کیفیت نہ سمجھی جاسکتی ہے نہ بیان کی جاسکتی ہے۔
ابن سعد وغیرہ نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے جو حدیث بیان کی ہے جس کا ذکر اوپر کردیا گیا ہے ‘ اسی حدیث میں ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اپنی قسم کا کفارہ دے دیا اور جو ارادہ کیا تھا ‘ اس سے باز رہے اور صبر کیا۔
ابن المنذر ‘ طبرانی اور بیہقی نے بھی حضرت ابوہریرہ کی روایت کی طرح حضرت ابن عباس کی روایت سے حدیث مذکور بیان کی ہے اور شان نزول کے سلسلے میں ایسی ہی حدیث سورت کے آغاز میں ہم نے ابن اسحاق ‘ ابن جریر اور عطاء کے حوالے سے ذکر کردی ہے۔
عبدا اللہ بن امام احمد نے زوائد المسند میں اور نسائی اور ابن المنذر اور ابن حبان اور ضیاء اور ترمذی نے بیان کیا ہے اور ترمذی نے اس کو حسن قرار دیا ہے کہ حضرت ابی بن کعب نے فرمایا : احد کی جنگ میں 64 انصار اور چھ مہاجرین کام آئے۔ مہاجرین شہداء میں حضرت حمزہ بھی شامل تھے۔ ان سب کو کافروں نے مثلہ کیا تھا (یعنی سب شہیدوں کے ناک کان بھی کاٹ لئے تھے) انصار نے کہا : اگر ہم کو کسی روز ایسا موقع ہاتھ لگا تو ہم بھی ان کی حالت قابل رحم بنا دیں گے (یعنی ہم بھی مثلہ کردیں گے کہ جو لاشوں کو دیکھے گا ‘ اس کو ان کی ذلیل خستہ حالت دیکھ کر رحم آئے گا) کچھ مدت کے بعد جب مکہ فتح ہوا تو اللہ نے آیت وَاِنْ عَاقَبَتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِہٖ وَلَءِنْ صَبَرْتُمْ لَھُوَ خَیْرٌ للِّصَّابِرِیْنَ نازل فرما دی۔ اس آیت کے نزول کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہم بدلہ نہ لیں گے ‘ صبر کریں گے۔ چار آدمیوں کے علاوہ باقی سب سے ہاتھ روک لو (کسی کو قتل نہ کرو) ۔
بغوی نے لکھا ہے : یہ آیت شہداء احد کے متعلق نازل ہوئی۔ مسلمانوں نے جب دیکھا کہ مشرکوں نے ہمارے شہداء کے پیٹ چاک کئے اور بہت ہی برے طریقہ سے لاشوں کے ناک کان کاٹے ہیں ‘ ہر شہید کو مثلہ کردیا گیا ہے ‘ صرف حنظلہ بن ابو عامر راہب کو مثلہ نہیں کیا تھا کیونکہ حضرت حنظلہ کا باپ ابو عامر (جس کو رسول اللہ ﷺ نے راہب کے بجائے فاسق فرمایا تھا) اس روز ابوسفیان کے ساتھ تھا (اسی وجہ سے حنظلہ کو مثلہ کرنے سے انہوں نے چھوڑ دیا تھا ‘ تو کہا : اگر اللہ نے ہم کو ان پر غالب کردیا تو جو حرکت انہوں نے کی ہے ‘ ہم اس سے بھی زیادہ کریں گے اور ایسا مثلہ کریں گے کہ کسی عرب نے کسی کو نہ کیا ہوگا۔ اس وقت رسول اللہ اپنے چچا حضرت حمزہ (کی نعش) کے پاس کھڑے تھے۔ مشرکوں نے حضرت حمزہ ؓ کے کان ناک اور آلات مردانہ کاٹ لئے تھے اور پیٹ چاک کردیا تھا۔ ہندہ بنت عتبہ (زوجۂ ابو سفیان) نے آپ کے جگر کا ایک ٹکڑا چبا ڈالا تھا اور اس کو نگل گئی مگر وہ پیٹ میں رک نہ سکا اور اس نے اگل دیا۔ رسول اللہ کو جب یہ اطلاع ملی تو آپ نے فرمایا : سنو ! اگر وہ کھا لیتی تو آگ میں کبھی داخل نہ ہوتی۔ حمزہ کو اللہ نے یہ عزت عطا فرما دی ہے کہ ان کا کوئی حصہ دوزخ میں نہیں جائے گا۔ رسول اللہ نے حمزہ ؓ کی جو یہ حالت دیکھی تو ایسا منظر آنکھوں کے سامنے آیا کہ اس سے زیادہ دلخراش منظر کبھی نہیں دیکھا تھا ‘ فرمایا : ابو السائب ! آپ پر اللہ کی رحمت ہو ‘ مجھے معلوم ہے کہ آپ بڑے نیک کردار اور صلہ رحمی کرنے والے تھے۔ اگر آپ کے بعد رہنے والوں کے رنجیدہ ہونے کا خیال نہ ہوتا تو مجھے اس بات سے خوشی ہوتی کہ آپ کو یونہی (بےگور و کفن) چھوڑ دوں تاکہ (قیامت کے دن) آپ کا حشر متعدد (درندوں اور پرندوں کی) گروہوں کے اندر سے ہو۔ خدا کی قسم ! اگر اللہ نے مجھے ان پر فتح عنایت کی تو آپ کی جگہ میں ان کے ستّر آدمیوں کو ضرورضرور مثلہ کروں گا۔ اس پر اللہ نے آیات مذکورہ نازل فرمائیں ان کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا : ہم (انتقام نہیں لیں گے بلکہ) صبر کریں گے۔ چناچہ آپ اپنے ارادہ سے باز آگئے اور قسم کا کفارہ ادا کردیا۔
فائدہ حضرت ابی بن کعب کی مذکورۂ بالا روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کا نزول فتح مکہ کے وقت ہوا ___ حضرت ابوہریرہ ‘ حضرت ابن عباس اور عطاء بن یسار کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ احد کے موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ ابن الحصار نے دونوں متضاد روایتوں میں ایک صورت جامعہ اس طرح بیان کی ہے کہ ان آیات کا نزول اوّل مکہ میں ‘ پھر احد میں ‘ پھر فتح کے بعد یادداشت کے طور پر ہوا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس اور ضحاک نے فرمایا : اس آیت کا حکم سورة براءت کے نزول سے پہلے تھا جبکہ حضور ﷺ کو خود آغاز قتال سے منع کیا گیا تھا اور لڑنے والوں سے لڑنے کا حکم دیا گا تھا۔ لیکن اللہ نے اسلام کو غالب کردیا اور سورة براءت نازل ہوگئی اور (عمومی جہاد کا حکم دے دیا گیا تو) یہ آیت منسوخ کردی گئی۔ نخعی ‘ ثوری ‘ سدی ‘ مجاہد اور ابن سیرین کے نزدیک یہ آیت محکم ہے ‘ منسوخ نہیں ہوئی۔ جن لوگوں نے ظلم کیا ہو ‘ ان کے ظلم کے مطابق انتقام لینے کا حکم اس آیت میں دیا گیا ہے یہی اس کی شان نزول ہے ‘ ظالم نے جتنا ظلم کیا ہو ‘ اس سے زیادہ انتقام لینا جائز نہیں۔ بقدر ظلم بدلہ لیا جاسکتا ہے اور معاف کردینا بہتر ہے۔
مسئلہ باتفاق علماء مثلہ کرنا ناجائز ہے۔ ابن اسحاق نے حضرت سمرہ بن جندب کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ (تقریر فرمانے کیلئے) جس مقام پر بھی کھڑے ہوئے ‘ جب تک اسی جگہ صدقہ (خیر خیرات ‘ زکوٰۃ) دینے کا حکم نہیں دے دیا اور مثلہ کرنے کی ممانعت نہ کردی ‘ وہاں سے نہ ہٹے۔
مُثلہ کرنے کی ممانعت بکثرت احادیث میں آئی ہے۔
سورۂ نحل کی تفسیر 2/رجب 1402 ھ کو ختم ہوئی __ الحمد اللہ کہ سورة نحل کی تفسیر کا ترجمہ 16/ رمضان المبارک 1387 ھ کو بعونہ تعالیٰ ختم ہوا
رَبِّ اَوْزِعْنِیْٓ اَنْ اَشْکُرَ نِعْمَتَکَ