16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 16:106

مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِهٖۤ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَ قَلْبُهٗ مُطْمَئِنٌّۢ بِالْاِیْمَانِ وَ لٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَیْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 16:106 in the Quran reader

جو شخص ایمان لانے کے بعد خدا کے ساتھ کفر کرے وہ نہیں جو (کفر پر زبردستی) مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہو۔ بلکہ وہ جو (دل سے اور) دل کھول کر کفر کرے۔ تو ایسوں پر الله کا غضب ہے۔ اور ان کو بڑا سخت عذاب ہوگا

من کفر باللہ من بعد ایمانہ الا من اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان ولکن من شرح بالکفر صدرا فعلیھم غضب من اللہ ولھم عذاب عظیم جو لوگ ایمان لانے کے بعد (لوٹ کر) اللہ کے (یعنی اس کی ذات ‘ صفات یا قیامت و نبوت کے) ساتھ کفر کرنے لگیں اور جی کھول کر (دل کی خوشی کے ساتھ) کفر کریں تو ان پر اللہ کا غضب ہوگا اور ان کو بڑے دکھ کی سزا ہوگی۔ ہاں جو لوگ کفر کرنے پر مجبور کئے گئے ہوں اور ان کا دل ایمان پر مطمئن ہو (اور زبان سے کلمات کفر بمجبوری کہہ گذریں) وہ اس حکم سے مستثنیٰ ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس آیت کا نزول حضرت عمار بن یاسر کے حق میں ہوا۔ مشرکوں نے حضرت عمار کو ‘ ان کے باپ حضرت یاسر کو ‘ ان کی ماں حضرت سمیہ کو اور حضرت صہیب و حضرت بلالو حضرت خبیب و حضرت سالم کو پکڑ کر سخت ترین جسمانی دکھ دئیے۔ حضرت سمیہ کو دو اونٹوں کے درمیان باندھ دیا گیا (ایک ٹانگ ایک اونٹ سے ‘ دوسری ٹانگ دوسرے اونٹ سے) اور شرمگاہ میں نیزہ ڈال کر چیر دیا گیا۔ حضرت یاسر کو بھی قتل کردیا گیا۔ اسلام میں سب سے اوّل یہی دونوں شہید ہوئے۔ حضرت عمار نے بمجبوری وہ بات زبان سے نکال دی جو مشرک چاہتے تھے۔ قتادہ نے کہا : بنی مغیرہ نے حضرت عمار کو پکڑ کر چاہ میمون میں غوطے دئیے اور کہا : محمد ﷺ کا انکار کر۔ حضرت عمار نے وہی بات کہہ دی جو مشرک چاہتے تھے۔ مگر آپ کا دل اس بات سے نفرت کرتا تھا ‘ دل کو انکار رسالت گوارا نہ تھا۔ کسی نے جا کر رسول اللہ ﷺ کو اطلاع دے دی کہ عمار کافر ہوگیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : ہرگز نہیں۔ عمار کے اندر تو چوٹی سے قدم تک ایمان بھرا ہوا ہے ‘ اس کے خون اور گوشت میں ایمان سرایت کر گیا ہے۔ آخر حضرت عمار ‘ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں روتے ہوئے حاضر ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا بات ہے ؟ عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! بات بری ہے ‘ میں نے آپ کو برا کہہ دیا اور (انکار کے طور پر) آپ کا ذکر کیا۔ فرمایا : اس وقت تمہارے دل کی کیا حالت تم کو محسوس ہو رہی تھی ؟ عرض کیا : دل تو ایمان پر مطمئن تھا۔ یہ سن کر حضور ﷺ نے حضرت عمار کے آنسو پونچھتے ہوئے فرمایا : اگر وہ دوبارہ تمہارے ساتھ ایسی حرکت کریں تو تم دوبارہ (بھی یہی کفریہ الفاظ) لوٹا سکتے ہو۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ثعلبی اور واحدی نے بھی اسی طرح یہ واقعہ بیان کیا ہے۔ ابن ابی حاتم نے بیان کیا ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے جب مدینہ کو ہجرت کرنے کا ارادہ کیا تو مشرکوں نے حضرت بلال ‘ حضرت خبیب اور حضرت عمار کو پکڑ لیا۔ حضرت عمار نے تقیہ کر کے وہ بات کہہ دی جو مشرکوں کو پسند تھی۔ پھر جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو واقعہ بیان کردیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : (کلمات کفر) کہنے کے وقت تمہارے دل کی کیا حالت تھی ؟ عرض کیا : دل تو آپ کے قول پر مطمئن تھا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ بغوی نے لکھا ہے : ابن ابی حاتم نے مجاہد کا قول بیان کیا ہے کہ اس آیت کا نزول مکہ کے چند مسلمانوں کے حق میں ہوا تھا۔ بعض صحابہ نے (مدینہ سے) ان کو لکھا تھا کہ مکہ چھوڑ آؤ۔ جب تک ہجرت کر کے ہمارے پاس نہ آجاؤ گے ‘ ہم تم کو اپنے میں شمار نہیں کریں گے۔ اس تحریر پر وہ لوگ مکہ چھوڑ کر مدینہ کو چل دئیے۔ راستہ میں ان کو قریش نے پکڑ لیا اور سخت دکھ دئیے۔ مجبوراً بنفرت خاطر ناگواری کے ساتھ کلمات کہہ دئیے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ مقاتل نے بیان کیا کہ عامر بن حضرمی کے غلام جبر کے حق میں آیت کا نزول ہوا۔ ان کے آقا نے ان پر زبردستی کی تھی ‘ مجبوراً جبر نے کلمات کفر کہہ دیئے تھے۔ بغوی نے لکھا ہے : پھر جبر کا آقا بھی مسلمان ہوگیا اور اسلام میں پختہ رہا اور جبر کو ساتھ لے کر اس نے بھی مدینہ کو ہجرت کرلی۔ ایمان پر دل کے مطمئن ہونے کا یہ مطلب ہے کہ عقیدہ میں کوئی تغیر نہیں آیا ‘ دل ایمان پر قائم رہا۔ یہ جملہ بتارہا ہے کہ دل سے سچا جاننا ایمان کا رکن ضروری ہے (خالی شہادت ایمان بغیر دلی عقیدہ کے اللہ کے نزدیک ناقابل اعتبار ہے) ۔ کفر کیلئے سینہ کے کشادہ ہونے کا یہ مطلب ہے کہ دل نے کفر کو پسند کرلیا اور بخوشی کفر کو قبول کرلیا۔ اکراہ کی تحقیق کسی کو ایسے کام پر آمادہ کرنا جس کو وہ دل سے گوارا نہ کرتا ہو ‘ اکراہ ہے۔ اکراہ کی دو صورتیں ہیں : (1) کسی کو کسی ناگوار کام کے کرنے پر اس طرح آمادہ کرنا کہ اگر وہ انکار کرلے تو اس کو اذیت اور دکھ اٹھانا پڑجائے لیکن یہ ایذاء اور دکھ اس کو بےاختیار نہ بنا دے۔ مثلاً انکار کی صورت میں مارنا ‘ قید کردینا۔ ظاہر ہے کہ پٹنے اور قید ہوجانے کے بعد بھی مضروب اور قیدی بےاختیار نہیں ہوجاتا ‘ صرف جسمانی اذیت میں مبتلا ہوجاتاے۔ (2) انکار کی صورت میں مجبور آدمی اپنے اختیار کا مالک ہی نہ رہے۔ مثلاً ہاتھ پاؤں کاٹنا یا قتل کردینا۔ ان دونوں صورتوں میں اکراہ کا حکم اس وقت جاری ہوگا کہ مجوے ر کرنے والا ‘ اس اذیت دینے پر قدرت رکھتا ہو جس کی دھمکی دے رہا ہے اور جس کو محبور کیا جا رہا ہے ‘ اس کا بھی غالب خیال ہو کہ اگر میں انکار کر دوں گا تو اس شخص کی طرف سے مجھے یہ دکھ پہنچ جائے گا۔ آیت میں اکراہ کی اوّل صورت مراد نہیں ہے۔ ایسے اکراہ کا اثر تو صرف خریدو فروخت ‘ اقرار قرض ‘ کسی جائیداد کے ٹھیکہ کے لین دین وغیرہ پر ہی پڑتا ہے۔ اس صورت میں جب خوف اذیت نہ رہے اور ایذاء رساں طاقت سے آزادی مل جائے تو مجبوری کی حالت میں جو عقد ‘ اقرار ‘ ٹھیکہ وغیرہ کا لین دین کیا ہو ‘ اس کو فسخ کردینا جائز ہے۔ قائم رکھے ‘ چاہے منسوخ کر دے۔ تجارت ‘ لین دین وغیرہ ایسے عقود ہیں جن کیلئے فریقین کی رضامندی ضروری ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : اِلاّآ اَنْ تَکُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْکُمْ ۔ اکراہ کی شکل میں مجبور شخص کی رضامندی نہیں ہوتی ‘ اسلئے جبر ختم ہونے کے بعد اس کو اختیار ہے چاہے معاملے کو فسخ کر دے ‘ چاہے قائم رکھے۔ اگر قیمت پر بخوشی قبضہ کرلیا تو بیع کو نافذ قرار دیا جائے گا۔ قبول قیمت علامت رضامندی ہے۔ آیت مذکورہ میں اکراہ کی دوسری قسم مراد ہے۔ علماء کا اجماع ہے کہ جس شخص کو کفر پر مجبور کیا گیا ہو اور وہ بےبس ہوجائے تو ظاہری طو پر کفر اختیار کرلینا جائز ہے بشرطیکہ دل میں اطمینان ایمانی ہو۔ حضرت عمار کے متعلق اس آیت کا نزول اس مسئلے کے ثبوت کیلئے کافی ہے۔ حضرت عمار کو کافر نہیں قرار دیا گیا۔ ایسے ظاہری کافر کا نکاح بھی فسخ نہیں ہوگا۔ لیکن اگر کلمۂ کفر زبان پر لانے سے انکار کر دے اور جان کی قربانی دے دے تو افضل ہے ‘ جسے حضرت عمار کے والدین نے کیا۔ حضرت خبیب ‘ حضرت زید بن دثنہ اور حضرت عبد اللہ بن طارق نے بھی مرتد ہونا پسند نہیں کیا اور شہادت کو اختیار کیا۔ اصحاب سیر نے سریۂ رجیع کے بیان میں لکھا ہے کہ حضرت خبیب کو جب قتل کیا جانے لگا تو آپ نے قتل سے پہلے دو رکعت نماز پڑھی۔ بخاری نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت خبیب ہی نے سب سے پہلے قتل کے وقت دو رکعت نماز پڑھنے کا طریقہ قائم کیا۔ جب آپ نماز پڑھ چکے تو آپ کو ایک تختہ سے باندھ دیا ‘ پھر مدینہ کی طرف منہ کردیا اور بندش مضبوط کردی۔ پھر کہنے لگے : اسلام سے لوٹ جاؤ ‘ ہم تم کو چھوڑ دیں گے۔ حضرت خبیب نے فرمایا : خدا کی قسم ! مجھے یہ بھی پسند نہیں کہ اسلام سے مرتد ہونے کی شرط پر مجھے ساری دنیا کی دولت مل جائے۔ کافر کہنے لگے : اب تو چاہتے ہو گے کہ محمد ﷺ میری جگہ ہوتے اور میں اپنے گھر بیٹھا چین کرتا۔ حضرت خبیب نے فرمایا : نہیں ‘ خدا کی قسم ! مجھے تو یہ بھی پسند نہیں کہ محمد ﷺ کے کوئی کانٹا چبھ جائے اور میں گھر میں آرام سے بیٹھ رہوں۔ کافر برابر کہتے رہے : خبیب ! اسلام سے لوٹ جاؤ۔ حضرت خبیب نے فرمایا : نہیں ‘ میں کبھی اسلام سے نہیں پھرنے کا۔ کہنے لگے : اگر اسلام سے نہ پھرو گے تو ہم تم کو قتل کردیں گے۔ بولے : اللہ کی راہ میں مارا جانا ایک حقیر چیز ہے۔ بخاری نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت خبیب نے شہادت سے پہلے چند اشعار پڑھے تھے جن میں سے دو شعر یہ تھے : ” اگر مسلمان ہونے کی حالت میں مارا جاؤں تو مجھے پرواہ نہیں کہ کس بل سے اللہ کی راہ میں زمین پر گرتا ہوں۔ میرا یہ قتل ہونا اللہ کی خوشنودی کیلئے ہے۔ اگر اللہ چاہے گا تو پارہ پارہ جسم کے جوڑ جوڑ میں برکت عطا فرما دے گا “۔ ابن عقبہ کا بیان ہے کہ حضرت خبیب اور حضرت زید دونوں ایک ہی دن شہید کئے گئے اور جس روز ان کی شہادت ہوئی ‘ اسی روز لوگوں نے سنا کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے : وعلیکما السّلام۔ ابن ابی شیبہ نے حسن بصری کی مرسل روایت سے بیان کیا ہے اور عبدالرزاق نے اپنی تفسیر میں تفصیل کے ساتھ لکھا ہے کہ مسیلمہ کذاب نے دونوں مسلمانوں کو گرفتار کرلیا اور ایک سے کہا : محمد ﷺ کے متعلق تیرا کیا خیال ہے ؟ اس نے جواب دیا : وہ اللہ کے رسول ﷺ ہیں۔ مسیلمہ نے کہا : میرے متعلق تیرا کیا خیال ہے ؟ اس نے جواب دیا : آپ بھی۔ مسیلمہ نے دوسرے سے پوچھا : محمد ﷺ کے متعلق تو کیا کہتا ہے ؟ اس نے جواب دیا۔ وہ اللہ کے رسول ﷺ ہیں۔ مسیلمہ نے پوچھا : میرے متعلق تو کیا کہتا ہے ؟ اس نے جواب دیا : میں بہرا ہوں۔ مسیلمہ نے یہی بات تین بار دہرائی اور اس شخص نے بھی یہی جواب دہرا دیا۔ آخر مسیلمہ نے اس کو قتل کردیا۔ رسول اللہ ﷺ کو اس کی اطلاع پہنچی تو اوّل شخص کے متعلق فرمایا : اس نے اللہ کی دی ہوئی اجازت کو اختیار کرلیا اور دوسرے نے بلند آواز سے اعلان حق کیا ‘ اس کو مبارک ہو۔ مسئلہ اگر کسی مسلمان کا مال تلف کرنے پر کسی کو مجبور کیا جائے تو اس کا مال تلف کرنا اس کیلئے جائز ہے۔ ضرورت کے وقت غیر کا مال مباح ہوجاتا ہے ‘ جیسے سخت بھوک کے وقت کسی کا مال کھا لینا جائز ہے۔ لیکن صاحب مال مجبور کرنے والے سے اپنے مال کا تاوان وصول کرے گا کیونکہ مجبور شخص تو اس جابر کا آلۂ کار ہے اور جس صورت میں آلۂ کار بننا درست ہو ‘ اس میں تاوان آلۂ کار بنانے والے سے لیا جاتا ہے۔ مسئلہ اگر شراب پینے یا مردار کھانے پر مجبور کیا جائے تو ایسا کرلینا باتفاق علماء جائز ہے ‘ لیکن کیا نہ کھانا اور جان دے دینا جائز ہے ؟ امام ابوحنیفہ کے نزدیک حرام کو کھا پی لینا واجب ہے ‘ انکار کر کے جان دے دینا جائز نہیں۔ جیسے حلال چیز (یعنی پرائی حلال چیز کو) جان بچانے کیلئے کھا پی لینا واجب ہے ‘ ویسے ہی شراب اور مردار کا حکم ہے۔ اگر کھانے پینے سے انکار کر کے جان دے دے گا تو گنہگار ہوگا اور بلاضرورت اپنی جان کھو دینے میں اس جابر کا مددگار مانا جائے گا۔ امام ابو یوسف کے نزدیک اگر کھانے پینے سے انکار کر کے جان دے دے گا تو گناہگار نہ ہوگا۔ امام شافعی کا بھی صحیح ترین قول یہی ہے ‘ کیونکہ ایسی صورت میں جان کیلئے شراب پینے کی اجازت اور رخصت ہے ‘ اباحت نہیں ہے۔ شراب مباح نہیں ہوجاتی۔ اب اگر اس نے عزیمت کو اختیار کیا (اور شراب کی حرمت پر قائم رہ کر جان دے دی) تو گناہگار نہیں ہوسکتا۔ امام ابوحنیفہ نے فرمایا : یہ رخصت نہیں ‘ اباحت ہے۔ اضطرار کی حالت میں مردار بھی ذبیحہ کی طرح حلال ہوجاتا ہے۔ آیت میں حالت اضطرار مستثنیٰ ہے۔ فرمایا ہے : اِلاَّ مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَیْہِ ۔ استثناء کر کے حالت اضطرار کو عدم اضطرار کی حالت سے حکم میں علیحدہ کرلیا گیا ہے (اور ظاہر ہے کہ عدم اضطرار کی حالت میں حرمت کا حکم ہے تو اضطرار کی حالت میں اباحت ہوگی ‘ رخصت نہ ہوگی) ہاں ‘ اگر غیر کا مال کھانے پر مجبور کیا گیا اور انکار کرنے کی صورت میں مارا گیا تو باتفاق علماء ماجور ہوگا ‘ کیونکہ غیر کے مال کی حرمت ہر حال میں قائم ہے (کھا لینے کی صرف رخصت ہے) یہاں سے یہ بات بھی ظاہر ہوگئی کہ اکراہ سے خطاب نہیں بدلا کرتا کہ ایک ہی چیز ایک مرتبہ مباح اور فرض ہوجائے اور پھر کبھی وہی چیز حرام ہوجائے۔ اسی لئے امام ابوحنیفہ نے ایک عام ضابطہ قائم کردیا ہے کہ جس تصرف کا حکم الفاظ پر جاری ہوتا ہو ‘ دل کی رضا پر موقوف نہ ہو ‘ وہ حکم اس وقت بھی مرتب ہوگا جب وہ تصرف جبر کی حالت میں کیا جائے۔ اس قسم کے تصرفات (جو الفاظ پر مبنی ہوں اور ان میں دل کی رضامندی ضروری نہیں) دس ہیں : نکاح ‘ طلاق ‘ طلاق سے رجوع ‘ ایلاء رفء ‘ ظہار ‘ غلام کی آزادی ‘ قصاص کی معافی ‘ قسم ‘ نذر (ان سب کے احکام صرف زبان سے کہنے سے نافذ ہوجائیں گے ‘ زبانی ایجاب و قبول سے نکاح ہوجائے گا ‘ زبان سے لفظ طلاق کہہ دینے سے طلاق ہوجائے گی ‘ صرف زبان سے آزاد کرنے سے غلام آزاد ہوجائے گا وغیرہ وغیرہ ‘ ان احکام کے مرتب ہونے کیلئے دل کی رضامندی ضروری نہیں ‘ پس کسی نے جبراً اگر طلاق یا نکاح میں ایجاب و قبول یا معافی یا قسم وغیرہ کے الفاظ کہلوا لئے تو احکام مرتب ہوجائیں گے) شعبی ‘ نخعی اور ثوری کا بھی یہی مسلک ہے __ امام مالک ‘ امام شافعی اور امام احمد کے نزدیک کوئی جبری تصرف جاری نہیں ہوسکتا۔ جبر سے احکام مرتب نہیں ہوں گے۔ حضرت عائشہ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ‘ آپ فرما رہے تھے : اغلاق (جبر کی صورت) میں نہ طلاق ہے نہ باندی غلام کی آزادی۔ رواہ احمد وابو داؤد ‘ وابن ماجۃ والحاکم وابن الجوزی ‘ وابو یعلی والبیہقی من طریق صفیۃ بنت عثمان عن شیبۃ۔ اس سلسلے کو حاکم نے صحیح کہا ہے ‘ لیکن اس سند میں ایک راوی محمد بن عبیدہ مکی ہے جس کو ابو حاتم زاری نے ضعیف کہا ہے۔ ابن جوزی نے لکھا ہے کہ قتادہ نے کہا : اغلاق کا معنی ہے : اکراہ (جبر کرنا) یہ لفظ اَغْلَقتُ الْبَابَ سے ماخوذ ہے ‘ گویا مجبور آدمی کو جابر کی مرضی کے خلاف کرنے سے بند کردیا جاتا ہے۔ بعض علماء نے اغلاق کا ترجمہ شدت غصہ کیا ہے۔ سنن ابو داؤد میں یہ ترجمہ آیا ہے اور امام احمد نے بھی اس لفظ کی یہی تشریح کی ہے ‘ لیکن یہ تشریح اچھی نہیں ہے۔ ابن اسید نے اس کو پسند نہیں کیا ہے اور صراحت کی ہے : اگر اغلاق کا ترجمہ غضب کیا جائے گا تو کوئی طلاق ہی نہیں پڑے گی کیونکہ ہر شخص سخت غصہ کی حالت میں ہی طلاق دیتا ہے۔ حسن بصری کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ نے تمہارے لئے بھول چوک کو معاف کردیا اور اس کو بھی جس پر تم کو مجبور کیا گیا ہو۔ رواہ ابن الجوزی۔ اس حدیث سے اصل مدعا کا ثبوت نہیں ہوتا کیونکہ اس حدیث سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو گناہ کا کام جبراً کسی سے کرایا گیا ہو ‘ اللہ اس کا مواخذہ نہیں کرے گا۔ یہ مطلب نہیں کہ دنیوی احکام بھی مرتب نہ ہوں گے۔ اسی حدیث کی ہم معنی وہ حدیث بھی ہے جو طبرانی نے از روایت ثوبان نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میری امت سے بھول چوک (کی سزا) اٹھا لی گئی ہے اور وہ کام بھی جس پر لوگوں کو مجبور کیا گیا ہو۔ حضرت ابو درداء کی روایت سے بھی ایسا ہی آیا ہے ‘ لیکن حافظ ابن حجر نے لکھا ہے کہ ان دونوں حدیثوں کی سند میں ضعف ہے۔ اس مضمون کی حدیث مختلف روایات سے ابن ماجہ ‘ ابن حبان ‘ دارقطنی ‘ بیہقی اور حاکم وغیرہ نے بحوالۂ اوزاعی بانتساب ابن عباس بیان کی ہے ‘ لیکن اہل روایت نے ان روایات کو منکر قرار دیا ہے۔ حضرت ابوذر کی روایت سے بھی یہ حدیث ابن ماجہ نے بیان کی ہے۔ اس کے سلسلہ میں شہر بن حوشب واقع ہے اور سند میں انقطاع ہے ‘ لیکن اگر حدیث کو صحیح بھی مان لیا جائے تب بھی امام شافعی وغیرہ کا اس سے استدلال غلط ہے۔ بھول چوک اٹھا لئے جانے کا یہ معنی تو ہرگز نہیں کہ بھول چوک واقع نہ ہوگی ‘ یہ تو واقعہ کے خلاف ہے اسلئے تین ہی معنی ہوسکتے ہیں : (1) بھول چوک کا مواخذہ اخروی اٹھا لیا گیا ہے ‘ یعنی اللہ نے بھول چوک کی سزا معاف کردی ہے ‘ یہی مطلب صحیح ہے۔ (2) بھول چوک کا عمومی مطلب اٹھا لیا گیا ہے (نہ حکم دینا بھول چوک پر مرتب ہوتا ہے نہ آخرت کا حکم یعنی سزا) یہ مطلب غلط ہے۔ عموم حکم کسی لفظ سے نہیں معلوم ہوتا ‘ مقتضی النص میں عموم نہیں ہوتا۔ (3) احکام دینا اٹھا لئے گئے ہیں۔ یہ مطلب اجماع کے خلاف ہے۔ بالاتفاق حکم آخرت یعنی مواخذہ کا اٹھایا جانا اس جگہ مراد ہے ‘ اسلئے حکم دنیا مع حکم آخرت کے مراد نہیں ہوسکتا ورنہ عموم مقتضی لازم آئے گا۔ کذا قال ابن ہمام ابن جوزی نے شافعیہ کے مسلک کی تائید میں حضرت عمر کا ایک فیصلہ نقل کیا ہے۔ عہد فاروقی میں کوئی شخص کسی پہاڑی پر چڑھ گیا ‘ اس کی بیوی اور بلندی پر جا بیٹھی۔ بیوی نے کہا : یا تو مجھے تین طلاقیں تو دے دے ورنہ میں اوپر سے پتھر لڑھکا کر تجھے قتل کر دوں گی۔ اس شخص نے عورت کو ہرچند اللہ اور اسلام کا واسطہ دیا اور اللہ سے ڈرایا ‘ لیکن وہ نہ مانی۔ مجبوراً اس شخص نے تین طلاقیں دے دیں۔ پھر حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہو کر واقعہ عرض کیا۔ آپ نے فرمایا : لوٹ کر اپنی بیوی کے پاس چلا جا ‘ یہ طلاق نہیں ہے۔ امام ابوحنیفہ نے بھی اپنے مسلک کی تائید میں چند احادیث نقل کی ہیں جن میں سے ایک حدیث حضرت ابوہریرہ کی روایت سے آئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تین چیزیں ہیں جن میں سنجیدگی تو سنجیدگی ہی ہے اور ان میں مذاق بھی سنجیدگی (کا حکم رکھتی) ہے : نکاح ‘ طلاق ‘ رجعت۔ رواہ ابو داؤد والترمذی وابن ماجہ واحمد والحاکم والدارقطنی۔ ترمذی نے اس کو حسن اور حاکم نے صحیح کہا ہے۔ ابن جوزی نے کہا : اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن عجلان ہے جو متروک الحدیث ہے۔ حافظ ابن حجر نے لکھا ہے : ابن جوزی سے غلطی ہوگئی۔ انہوں نے عطاء کو عطاء بن عجلان سمجھ لیا حالانکہ عطاء بن عجلان نہیں ‘ عطا بن ابی ریاح ہے (جو قوی راوی ہے) ابوداؤد کی روایت میں اس کی صراحت آئی ہے اور حاکم نے بھی اسی کی صراحت کی ہے ‘ لیکن اس کی سند میں ایک شخص عبدالرحمن بن جبیر آیا ہے اور اس شخص کے متعلق اختلاف ہے۔ نسائی نے اس کو منکر الحدیث کہا ہے اور دوسرے علماء نے اس کو ثقہ قرار دیا ہے۔ اس اختلاف کی وجہ سے ہم اس حدیث کو حسن کہتے ہیں۔ ایک شبہ تصرف شرعی کیلئے صاحب تصرف کا بااختیار ہونا ضروری ہے۔ اگر بطور ہزل (یعنی مذاق کے طور پر) کوئی طلاق دے دے تو اس کا یہ کلام بھی اپنے اختیار سے ہی ہوتا ہے ‘ البتہ وہ کلام کے حکم (یعنی طلاق) پر راضی نہیں ہوتا ‘ مگر رضائے قلب کو وقوع طلاق میں کوئی دخل نہیں ہے۔ لہٰذا وہ شخص جس نے اپنے اختیار سے بطور ہزل طلاق دی ہو ‘ اس کی طلاق واقع ہوجائے گی۔ لیکن اکراہ میں تو متکلم کا اختیار نہیں ہوتا ‘ اس سے سرزد ہونے والی طلاق کو ہزل کی طلاق سے کیسے ثابت کیا جاسکتا ہے ؟ ازالہ ہم کہتے ہیں : جس شخص پر جبر کیا گیا ہو وہ بھی تو بااختیار ہوتا ہے ‘ اس کا کلام بھی اختیار ہی کے ساتھ ہوتا ہے اور کامل اختیار کے ساتھ ہوتا ہے اور ہزل کے طور پر طلاق دینے والے کی طرح وہ بھی حکم کلام (یعنی طلاق) کو پسند نہیں کرتا۔ وہ خوب واقف ہوتا ہے کہ جبر کرنے والے کی مخالفت بھی تکلیف دہ ہے اور وقوع طلاق بھی دکھ دینے والا ہے مگر دونوں میں آسان مصیبت کو وہ جان کر اختیار کرتا ہے ‘ لہٰذا مکرہ (مجبور) کی طلاق کا واقع ہونا ضروری ہے۔ ابن ہمام نے لکھا ہے : نفی حکم طلاق میں اکراہ کو کوئی دخل نہیں۔ جب حضرت حذیفہ اور ان کے والد سے کفار نے قسم لے لی تھی تو رسول اللہ ﷺ نے دونوں حضرات سے فرمایا : ہم کافروں کی طرف سے لئے ہوئے عہد کو پورا کریں گے اور اللہ سے ان کے خلاف مدد چاہیں گے۔ اس حدیث میں حضور ﷺ نے بتاد یا کہ قسم اپنی خوشی سے کھائی جائے یا کسی کے جبر سے ‘ دونوں برابر ہیں۔ محض لفظ پر جو حکم مرتب ہوتا ہے ‘ اس کی نفی میں اکراہ کو کوئی دخل نہیں (اختیار سے اس لفظ کا صدور ہو یا اکراہ سے ‘ دونوں برابر ہیں) بیع کی حالت اس سے جدا ہے۔ بیع کی صحت کا تعلق الفاظ یا قائم مقام الفاظ سے ضرور ہے مگر دل سے رضامندی ضروری ہے اور اکراہ کی صورت میں یہ رضامندی نہیں ہوتی۔ امام ابوحنیفہ کے قول کی تائید ایک اور حدیث سے بھی ہوتی ہے جس کے راوی حضرت ابوہریرہ ہیں (حضور ﷺ نے فرمایا :) ہر طلاق نافذ ہے سوائے پاگل ‘ مغلوب العقل کی طلاق کے۔ ترمذی نے کہا : ہم کو یہ حدیث صرف عکرمہ بن خالد کی وساطت سے بروایت حضرت ابوہریرہ معلوم ہوئی ہے۔ عطاء بن عجلان از عکرمہ کی روایت سے بھی یہ حدیث آئی ہے ‘ مگر عطاء ضعیف اور منکر الحدیث ہے (اسلئے عطاء کی وساطت سے اس حدیث کی روایت ناقابل اعتبار ہے) ۔ امام شافعی کے قول کی تائید میں صفوان بن اصم کی روایت کردہ حدیث بھی آئی ہے۔ صفوان نے ایک صحابی کی روایت سے بیان کیا کہ ایک شخص اپنی بیوی کے ساتھ سو رہا تھا۔ بیوی یکدم اٹھی اور چھری لے کر مرد کے سینہ پر بیٹھ گئی اور چھری اس کے حلق پر رکھ کر بولی : مجھے طلاق دے دو ورنہ تجھے ذبح کر دوں گی۔ مرد نے اس کو اللہ کا واسطہ دیا ‘ مگر وہ نہ مانی۔ آخر مرد نے اس کو تین طلاقیں دے دیں اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر واقعہ عرض کردیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : طلاق میں قیلولہ نہیں۔ ابن جوزی کا بیان ہے کہ بخاری نے کہا کہ طلاق مکرہ کے بارے میں صفوان بن اصم کی روایت کردہ حدیث منکر ہے ‘ اس کو نہیں مانا جائے گا۔ ابن ہمام نے حضرت عمر کا قول نقل کیا ہے کہ چار مسئلے مبہم ‘ ناقابل حل ہیں جن کی کوئی واپسی نہیں : نکاح ‘ طلاق ‘ غلاموں کی آزادی اور صدقہ (یعنی ان چاروں میں اکراہ اور جبر سے بھی حکم مرتب ہوجاتا ہے) ۔ میں کہتا ہوں : بظاہر امام ابوحنیفہ کا استدلال قوی ہے اور اگر احادیث میں تعارض تسلیم بھی کرلیا جائے تو قیاس کی طرف رجوع لازم ہے اور قیاس چاہتا ہے کہ (مکرہ کی) طلاق ‘ عتاق وغیرہ کا وقوع ہوجائے۔ وا اللہ اعلم
Ayah 16:107

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 16:107 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں عزیز رکھا۔ اور اس لئے خدا کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

ذلک بانھم استحبوا الحیوۃ الدنیا علی الاخرۃ وان اللہ لا یھدی القوم الکفرین یہ (ایمان کے بعد کفر یا وعید) اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے دنیوی زندگی کو اخروی زندگی پر ترجیح دے رکھی ہے اور یہ (سبب بھی ہے) کہ اللہ ان لوگوں کو راہ پر نہیں لاتا جو (اس کے علم میں) کافر ہیں۔ یعنی ایسا راستہ نہیں بتاتا کہ وہ ایمان پر جم جائیں اور نہ ان کو کج روی سے بچاتا ہے۔ اللہ نے اس آیت میں کافروں کے کفر کے دو سبب بیان فرمائے ہیں : ایک ظاہری ‘ دوسرا حقیقی۔ ظاہری سبب تو یہ تھا کہ انہوں نے خود کفر کو پسند کر رکھا تھا اور آیات الٰہی میں غور نہیں کرتے تھے اور حقیقی سبب یہ تھا کہ اللہ ان کو ہدایت یاب کرنا نہیں چاہتا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان کے اعمال جبر اور قدر کے درمیان ہیں (نہ انسان بالکل قادر ہے نہ محض مجبور اور بےاختیار) ۔
Ayah 16:108

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ سَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ Open ayah 16:108 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اور کانوں پر اور آنکھوں پر خدا نے مہر لگا رکھی ہے۔ اور یہی غفلت میں پڑے ہوئے ہیں

اولئک الذیہ طبع اللہ علی قلوبھم وسمعھم وابصارھم واولئک ھم الغفلون یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ نے ان کے دلوں پر اور کانوں پر اور آنکھوں پر مہر لگا دی ہے اور یہی لوگ (انجام سے) بالکل غافل ہیں۔ دلوں پر مہر لگنے کی وجہ سے حق کو نہیں جانتے اور کانوں پر مہر لگنے کی وجہ سے حق کو گوش قبول نہیں سنتے اور آنکھوں پر مہر لگنے کی وجہ سے چشم عبرت اندوز سے آیات خداوندی کو نہیں دیکھتے ‘ پس یہ بالکل غافل ہیں کہ صانع عالم کی طرف سے غافل ہیں باوجودیکہ جانور اور بےعقل پتھر بھی اپنے بنانے والے سے بیخبر نہیں ہیں۔
Ayah 16:109

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 16:109 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ یہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والے ہوں گے

لا جرم انھم فی الاخرۃ ھم الخٰسرون (اسلئے) لازمی بات ہے کہ آخرت میں یہی لوگ گھاٹے میں رہیں گے۔ کیونکہ انہوں نے اپنی زندگیاں بالکل بےکار کھو دیں۔ ایسے کاموں میں عمروں کو ضائع کیا جو دوامی عذاب میں ان کو لے جائیں گے اور کوئی ایسا عمل نہیں کیا جو عذاب سے بچا سکے اور منزل کامیابی تک پہنچا سکے۔ برخلاف گناہگار مسلمانوں کے کہ یہ بھی اپنی زندگیوں کا بیشتر حصہ نفسانی خواہشات اور گناہوں میں برباد کرتے ہیں۔ لیکن انہوں نے چونکہ توحید کا دامن پکڑ لیا ہے ‘ اسلئے کبھی نہ کبھی عذاب الٰہی سے ان کو نجات مل جائے گی اور توحید کا عقیدہ ان کو جنت میں لے جائے گا۔
Ayah 16:110

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ هَاجَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا فُتِنُوْا ثُمَّ جٰهَدُوْا وَ صَبَرُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 16:110 in the Quran reader

پھر جن لوگوں نے ایذائیں اٹھانے کے بعد ترک وطن کیا۔ پھر جہاد کئے اور ثابت قدم رہے تمہارا پروردگار ان کو بےشک ان (آزمائشوں) کے بعد بخشنے والا (اور ان پر) رحمت کرنے والا ہے

ثم ان ربک للذین ھاجروا من بعد ما فتنوا ثم جاھدوا وصبروا ان ربک من بعدھا لغفور رحیم پھر بیشک آپ کا رب ایسے لوگوں کیلئے جنہوں نے مبتلائے کفر ہونے کے بعد (ایمان لا کر) ہجرت کی ‘ پھر جہاد کیا اور (ایمان پر) قائم رہے تو آپ کا رب ان اعمال کے بعد ان کی بڑی مغفرت کرنے والا اور (ان پر) بڑی رحمت کرنے والا ہے۔ چونکہ مسلمانوں کے اور کفر پر قائم رہنے والوں کے حالات میں بڑا بعد تھا ‘ اسلئے لفظ ثُمَّ استعمال کیا۔ فُتِنُوْا یعنی ان کو اسلام سے روکا گیا اور بڑے بڑے دکھ دئیے گئے۔ ابن سعد نے طبقات کبریٰ میں عمر بن حاکم کی روایت سے لکھا ہے کہ حضرت عمار بن یاسر کو ایسے سخت دکھ دئیے جاتے تھے کہ وہ بالکل بدحواس ہوجاتے تھے اور ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کہیں (اور کیا کریں) حضرت صہیب ‘ حضرت ابوفکیہہ ‘ حضرت بلال ‘ حضرت عمار بن فہمیرہ اور کچھ دوسرے مسلمانوں کی بھی یہی حالت تھی اور ایسے ایسے سخت دکھ ان کو دئیے جاتے تھے کہ وہ حواس باختہ ہوجاتے تھے۔ ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کہیں اور کیا کریں) انہی حضرات کے متعلق اس آیت کا نزول ہوا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ اس آیت کا نزول ابو جہل کے رضاعی بھائی عیاش بن ابی ربیعہ ‘ ابو جندل بن سہیل بن عمرو ‘ ولید بن ولید بن مغیرہ ‘ سلمہ بن ہشام اور عبیدا اللہ بن اسید ثقفی کے متعلق ہوا۔ مشرکوں نے ان کو سخت اذیتیں دی تھیں۔ انہوں نے مشرکوں کی ایذاء سے بچنے کیلئے کچھ ایسے الفاظ کہہ دئیے جو مشرک کہلوانا چاہتے تھے ‘ پھر مکہ چھوڑ کر مدینہ کو چلے گئے۔ پھر انہوں نے جہاد کیا ‘ یعنی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہو کر کافروں سے لڑے اور صبر کیا یعنی ایمان ‘ طاعت الٰہی ‘ جہاد اور برداشت مصائب پر ثابت قدم رہے اور گناہوں سے اپنے آپ کو روکے رکھا (صَبَرَ کے بعد اگر عَلٰی لفظ آتا ہے تو جم جانے اور ثابت قدم رہنے کا معنی ہوتا ہے اور اگر صَبَرَ کے بعد عَنْ آتا ہے تو بچنے ‘ گریز کرنے اور باز رہنے کا معنی ہوتا ہے اور چونکہ آیت میں صبرُوْا کے بعد عَلٰیہے نہ عَنْ ‘ اسلئے دونوں معنی ہوسکتے ہیں۔ اسلئے تفسیر میں ثابت قدم رہنے اور گناہوں سے باز رہنے کے الفاظ سے مرادی مطلب بیان کیا گیا ہے۔ مترجم) حسن بصری اور عکرمہ نے کہا : اس آیت کا نزول عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح کے متعلق ہوا۔ عبدا اللہ ‘ رسول اللہ ﷺ کا کاتب تھا ‘ پھر مرتد ہو کر عیسائی ہوگیا اور کافروں سے جا ملا تھا۔ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ نے اس کو قتل کردینے کا حکم دے دیا تھا۔ عبد اللہ چونکہ حضرت عثمان بن عفان کا اخیافی بھائی تھا ‘ اسلئے اس نے حضرت عثمان سے پناہ کی درخواست کی۔ حضرت عثمان نے رسول اللہ ﷺ سے اس کی سفارش کردی اور حضور ﷺ نے اس کو پناہ دے دی (اور قتل کا حکم واپس لے لیا) اس کے بعد عبد اللہ پکا مسلمان ہوگیا اور اس کی اسلامی حالت بہت اچھی رہی۔ اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ابن عامر کی قراءت میں فُتِنُوْا آیا ہے ‘ یعنی کافر ہونے اور مسلمانوں کو دکھ پہنچانے کے بعد ایمان لا کر انہوں نے ہجرت کی اور جہاد کیا (اس صورت میں) اس آیت کا نزول عامر حضرمی اور اس کے غلام جبر کے متعلق قرار دیا جائے گا۔ جبر مسلمان ہوگئے تھے ‘ عامر ان کو طرح طرح کے دکھ دیتے تھے ‘ یہاں تک کہ حیر (بظاہر) مرتد ہوگئے تھے۔ کچھ مدت کے بعد عامر خود مسلمان اور پختہ مسلمان ہوگئے اور جبر کو جن کو زبردستی مرتد بنایا گیا تھا ‘ ساتھ لے کر ہجرت کر کے مدینہ میں آگئے اور رسول اللہ ﷺ کے ہمرکاب رہ کر کافروں سے جہاد کیا اور مصائب پر صبر کیا۔ مِنْ م بَعْدِھَا یعنی ہجرت ‘ جہاد اور صبر کے بعد۔ پچھلے گناہوں کو اللہ معاف کرنے والا اور آئندہ دنیا و آخرت میں ان کے اعمال کے موافق نعمت و راحت عطا کرنے والا ہے۔ مکرر اِنَّ رَبَّکَ کا ذکر محض لفظی تاکید ہے۔
Ayah 16:111

یَوْمَ تَاْتِیْ كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِهَا وَ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 16:111 in the Quran reader

جس دن ہر متنفس اپنی طرف سے جھگڑا کرنے آئے گا۔ اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اور کسی کا نقصان نہیں کیا جائے گا

یوم تانی کل نفس تجادل عن نفسھا وتوفی کل نفس مما عملت وھم یظلمون جس روز ہر شخص اپنی ہی طرفداری میں بات کرے گا اور ہر شخص کو اس کے کئے کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ یَوْمَ کا تعلق رحیمٌ سے ہے ‘ یعنی اس روز اللہ تم پر مہربان ہوگا جس روز ‘ یا اُذْکُرْ محذوف سے تعلق ہے ‘ یعنی یاد کرو اس دن کو جس دن ..... تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِھَا یعنی ہر شخص کو اپنی ہی پڑی ہوگی ‘ ہر شخص کو اپنے ہی بچاؤ کی فکر اور کوشش ہوگی ‘ دوسرے کا خیال بھی نہ ہوگا۔ کافر کہے گا : اے ہمارے مالک ! انہوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا ‘ اے ہمارے مالک ! ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کا کہا مانا۔ ہم اپنے رب کی قسم کھا کر کہتے ہیں جو معبود برحق ہے کہ ہم (خود) مشرک نہیں تھے۔ ہم کو دوبارہ دنیا میں لوٹا دے ‘ ہم نیک عمل کریں گے۔ مؤمن کہے گا : اے رب ! میں تجھ سے اپنی جان کی امان مانگتا ہوں ‘ مجھے کافر لوگوں کے ساتھ شامل نہ کردینا۔ ابن جریر نے اپنی تفسیر میں حضرت معاذ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا : قیامت کے دن جہنم کو کہاں سے لایا جائے گا ؟ فرمایا : ” ساتویں زمین سے لایا جائے گا۔ اس کی ایک ہزار لگامیں ہوں گی اور ہر لگام کو ستر ہزار فرشتے پکڑ کر کھینچتے ہوں گے۔ جب دوزخ انسانوں سے ایک ہزار سال کی مسافت پر رہ جائے گی تو ایک سانس کھینچے گی جس کی وجہ سے ہر مقرب فرشتہ اور ہر نبی مرسل دو زانو بیٹھ کر عرض کرے گا : اے میرے مالک ! میری جان (بچا دے) ۔ “ بغوی نے لکھا ہے : حضرت عمر بن خطاب نے کعب احبار سے فرمایا : (کچھ آخرت کا تذکرہ کر کے) ہمارے اندر (ا اللہ کا) خوف پیدا کر دو ۔ کعب احبار نے عرض کیا : امیر المؤمنین ! اگر ستّر پیغمبروں کے برابر عمل کر کے آپ قیامت کا دن پائیں گے تب بھی قیامت آپ پر بار بار ایسے حالات لائے گی کہ اس وقت آپ کو اپنی جان کے علاوہ کسی دوسرے کا خیال ہی نہیں رہے گا۔ جہنم ایک ایسا دم کھینچے گی کہ ہر مقرب فرشتہ اور ہر برگزیدہ نبی دو زانو بیٹھ جائے گا ‘ یہاں تک کہ حضرت ابراہیم بھی کہہ اٹھیں گے : میں تجھ سے صرف اپنی جان کی امان مانگتا ہوں۔ اس کی تصدیق اللہ کی بھیجی ہوئی آیت میں موجود ہے۔ ارشاد فرمایا ہے : یَوْمَ تَأتِیْ کُلُّ نَفْسِ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِھَا۔ عکرمہ نے اس آیت کے ذیل میں حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : قیامت کے دن لوگوں میں باہم جھگڑا برابر ہوتا رہے گا یہاں تک کہ روح اور بدن میں بھی باہم جھگڑا ہوگا۔ روح کہے گی : اے میرے رب ! نہ میرے ہاتھ تھے جن سے میں پکڑتی ‘ نہ میرے پاؤں تھے جن سے میں چلتی ‘ نہ میری آنکھ تھی کہ میں دیکھتی (جو کچھ بداعمالی ہے ‘ وہ اس بدن کی ہے) بدن کہے گا : تو نے مجھے لکڑی کی طرح (بےحس ‘ بےشعور ‘ بےجان) پیدا کیا تھا۔ میرے ہاتھ نہ تھے کہ میں پکڑتا ‘ میرے پاؤں نہ تھے کہ میں ان سے چلتا ‘ نہ میری آنکھیں تھیں کہ میں ان سے دیکھتا۔ جب یہ میرے اندر نور کی شعاع کی طرح آگئی تو میری زبان بولنے لگی ‘ میری آنکھ بینا ہوگئی اور میرے پاؤں رواں ہوگئے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اللہ نے روح اور جسم کو اس طرح بنایا ہے جیسے ایک اندھا اور ایک اپاہج کسی کے باغ میں پہنچ گئے ‘ باغ میں درختوں پر پھل لگے ہوئے تھے۔ اندھا تو پھلوں کو دیکھ ہی نہ سکتا تھا اور اپاہج (دیکھتا تو تھا) پھلوں تک پہنچ نہ سکتا تھا۔ آخر اندھے نے اپاہج کو اپنے اوپر سوار کرلیا ‘ اس طرح دونوں نے پھل حاصل کر لئے (اور دونوں چوری کے مجرم قرار پائے) روح اور بدن بھی دونوں اسی طرح عذاب میں پکڑے جائیں گے۔ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِھَا میں نفسٍ سے مراد ذات ہے۔ عین شیءٍ اور ذات شیءٍ کو نفس شیءٍ کہا جاتا ہے اور جو عین اور ذات نہ ہو ‘ اس کو غیر کہتے ہیں۔ یعنی ہر شخص اپنی ذات کی طرف سے دفاع کرے گا۔ لاَ یُظْلَمُوْنَ کا یہ مطلب ہے کہ کسی کا ثواب کم نہیں کیا جائے گا ‘ کسی کی حق تلفی نہیں کی جائے گی۔
Ayah 16:112

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْیَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَئِنَّةً یَّاْتِیْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَ الْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 16:112 in the Quran reader

اور خدا ایک بستی کی مثال بیان فرماتا ہے کہ (ہر طرح) امن چین سے بستی تھی ہر طرف سے رزق بافراغت چلا آتا تھا۔ مگر ان لوگوں نے خدا کی نعمتوں کی ناشکری کی تو خدا نے ان کے اعمال کے سبب ان کو بھوک اور خوف کا لباس پہنا کر (ناشکری کا) مزہ چکھا دیا

وضرب اللہ مثلا قریۃ کانت امنۃ مطمئنۃ یاتیھا رزقھا رغدا من کل مکان فکفرت بانعم اللہ اور اللہ ایک بستی والوں کی حالت عجیب بیان فرماتا ہے کہ وہ بڑے امن اور اطمینان سے رہتے تھے ‘ ان کے کھانے کی چیزیں بڑی فراغت سے ہر طرف سے ان کے پاس پہنچا کرتی تھیں ‘ پس انہوں نے اللہ کی نعمتوں کی ناقدری کی۔ یعنی اللہ نے ایک بستی کو جس کے اوصاف مندرجۂ آیات تھے۔ ہر اس قوم کی مثال کے طور پر بیان فرمایا جس کو اللہ نے اپنی نعمتوں سے نوازا ‘ پھر بجائے شکر کرنے کے وہ مغرور ہوگئے اور کفر کرنے لگے۔ آخر اللہ نے ان کو عذاب میں گرفتار کردیا۔ قَرْیَۃ سے مراد ایک مفروضہ بستی ہے جس کو بطور مثال ذکر کیا ہے اور ممکن ہے کوئی ایسی بستی گذری ہو جس کا ذکر اللہ نے مکہ کی تشبیہ دینے کیلئے کیا ہے تاکہ اہل مکہ کو ان کے برے انجام کا تذکرہ پڑھ کر عبرت حاصل ہو۔ بغوی نے لکھا ہے : قَرْیَۃ سے مراد مکہ ہی ہے۔ اس تفسیر پر مکہ کا ذکر دوسری بستیوں کو سبق سکھانے کیلئے ہوگا۔ (1) [ سلیم بن عمر کا بیان ہے : میں ام المؤمنین حضرت حفصہ کے ساتھ تھا۔ آپ مکہ سے نکل کر مدینہ کو جا رہی تھیں۔ راستہ میں اطلاع ملی کہ حضرت عثمان شہید کردیئے گئے۔ آپ فوراً لوٹ پڑیں اور فرمایا : تم بھی میرے ساتھ لوٹ آؤ۔ قسم ہے اس کی جس کے قبضے میں میری جان ہے ‘ یہ وہی بستی ہے جس کا ذکر اللہ نے آیت قَرْیَۃً کَانَتْ اٰمِنَۃً مُّطْمَءِنَّۃً میں کیا ہے۔ ازالۃ الخفاء۔] اٰمِنَۃً امن چین سے ‘ نہ ڈاکوؤں کا خوف نہ کسی کے حملے کا اندیشہ۔ مُّطْمَءِنَّۃً اپنی جگہ برقرار ‘ سکون سے رہنے والے ‘ تنگدستی یا دشمن کے خوف کی وجہ سے ترک سکونت نہ کرنے والے۔ عام عرب آبادی کو ہر وقت دشمنوں کے حملے کا خطرہ لگا رہتا تھا اور غذائی اشیاء کی بھی کمی تھی ‘ اسلئے بہت زیادہ خانہ بدوش رہتے تھے۔ لیکن مکہ والوں کی یہ کیفیت نہ تھی ‘ ان کو کھانے پینے کی رسد مِنْ کُلِّ مَکَانِ ہر طرف اور ہر جگہ سے پہنچتی تھی۔ خشکی کے راستہ سے بھی اور سمندر کے ذریعہ سے بھی۔ فَکَفَرَتْ اس بستی نے یعنی اس کے باشندوں نے ناشکری کی۔ بِاَنْعُمِ اللّٰہِ اللہ کی نعمتوں کی۔ اَنْعُمْ نعمت کی جمع ہے یا نُعْم کی۔ جیسے درع کی جمع اَدْرُع اور بُؤْس کی جمع اَبْؤْس آتی ہے۔ فاذا فھا اللہ لباس الجوع والخوف بما کانوا یصنعون اس پر اللہ نے ان کو ان کی حرکات کے سبب ایک محیط قحط اور خوف کا مزہ چکھایا۔ مزہ چکھانے سے مراد ہے : بھوک اور خوف کے ضرر کے اثر کا محسوس کرانا اور لباس سے مراد ہے : وہ اثر جو بھوک اور خوف کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے ‘ یعنی لاغری اور رنگ کا تغیر۔ مَا کَانُوْا یَصْنَعُوْنَ سے مراد ہے : کفر اور ناشکری۔ بغوی نے لکھا ہے : اہل مکہ سات برس تک کال میں مبتلا رہے۔ رسول اللہ ﷺ کے حکم سے تمام عرب نے مکہ کو کھانے پینے کا سامان بھیجنا بند کردیا۔ ہر طرف سے رسد کی بندش ہوگئی اور اس قدر فاقوں کی نوبت آگئی کہ لوگوں نے جلی ہوئی ہڈیاں ‘ مردار جانور ‘ مردہ کتے اور علز یعنی اونٹوں کے اون اور خون کا پکا ہوا مخلوط قوام تک کھالیا۔ فاقوں کی وجہ سے نظر کی یہ حالت ہوگئی کہ آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھتے تھے تو دھواں سا نظر آتا تھا۔ اس حالت سے مجبور ہو کر سرداران مکہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : دشمنی تو مردوں سے ہے ‘ عورتوں اور بچوں کا کیا قصور ہے ؟ آخر رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو غلہ کی رسد پہنچانے کی اجازت دے دی اور عرب ‘ مکہ کو خوردنی جنس بھیجنے لگے۔ اہل مکہ اس زمانے میں مشرک تھے۔ میں کہتا ہوں : یہ سورت تو مکی ہے اور مکہ والوں پر جو ہفت سالہ قحط پڑا اور رسول اللہ ﷺ کے فوجی دستوں کے حملہ کرنے کا خوف ہوا ‘ وہ ہجرت کے بعد ہوا۔ لامحالہ ان آیات کو یا تو مدنی تسلیم کیا جائے گا یا قریہ سے مراد مکہ نہ ہوگا ‘ کوئی اور بستی ہوگی جس کا ذکر اللہ نے بطور تمثیل کیا ہے تاکہ اس کی بدانجامی کو سن کر اہل مکہ کو بھی خوف پیدا ہو اور چونکہ اہل مکہ اس ذکر کے بعد بھی عبرت اندوز نہیں ہوئے ‘ اسلئے ان کا بھی وہی نتیجہ ہوا جو مذکورہ بستی کا ہوا تھا۔
Ayah 16:113

وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْهُمْ فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 16:113 in the Quran reader

اور ان کے پاس ان ہی میں سے ایک پیغمبر آیا تو انہوں نے اس کو جھٹلایا سو ان کو عذاب نے آپکڑا اور وہ ظالم تھے

ولقد جاء ھم رسول منھم فکذبوہ فاخذھم العذاب وھم ظلمون اور ان کے پاس انہیں میں سے ایک رسول (ا اللہ کی طرف سے) آیا ‘ سو اس رسول کو انہوں نے جھوٹا بتایا۔ آخر اللہ کے عذاب نے ان کو آپکڑا جبکہ وہ بالکل ہی ظلم پر کمرباندھنے لگے۔ ا اللہ نے قریہ کے ذکر کے بعد اہل مکہ کے ذکر کی طرف کلام کا رخ پھیر دیا۔ ھُمْ ضمیر اہل مکہ کی طرف راجع ہے اور رسول اللہ سے مراد محمد ﷺ ہیں اور عذاب سے مراد ہے : سخت کال یا بدر کا واقعہ۔ یہ آیت خود دلالت کر رہی ہے کہ اس کا نزول ہجرت کے بعد ہوا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وَھُمْ ظٰلِمُوْنَ ‘ کَفَرَتْ کی ضمیر سے حال ہو اور رَسُوْلٌ مِّنْھُمْ سے وہ پیغمبر مراد ہو جو اہل قریہ کی ہدایت کیلئے بھیجا گیا تھا۔
Ayah 16:114

فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا١۪ وَّ اشْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 16:114 in the Quran reader

پس خدا نے جو تم کو حلال طیّب رزق دیا ہے اسے کھاؤ۔ اور الله کی نعمتوں کا شکر کرو۔ اگر اسی کی عبادت کرتے ہو

فکلوا مما رزقکم اللہ حلالا طیبا واشکروا نعمت اللہ ان کنتم ایاہ تعبدون سو جو چیزیں اللہ نے تم کو حلال پاک کردی ہیں ‘ ان کو کھاؤ اور اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرو اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔ کُلُوْا سے مسلمانوں کو خطاب ہے جن کو اللہ نے کفر سے نکالا اور اسلام کی ہدایت کی۔ نِعْمَتَ اللّٰہِ سے مراد رسول اللہ ﷺ کی نبوت اور دوسری دنیوی نعمتیں ہیں جو اللہ نے مؤمنوں کو عطا فرمائی ہیں۔ پہلے اللہ نے کفر پر توبیخ کی اور ایک ناشکری قوم کی مثال دے کر ان کا نتیجۂ بد اور ان پر عذاب نازل ہونے کا ذکر کیا تاکہ مشرک اعمال جاہلیت سے کنارہ کش ہوجائیں اور باطل مذاہب چھوڑ کر ایمان لے آئیں۔ اس آیت میں اہل ایمان کو خطاب کر کے حلال چیزوں کو کھانے اور اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا۔ بعض علماء نے کہا : جن لوگوں کو سابق آیت میں خطاب کیا تھا ‘ انہیں کو اس آیت میں بھی خطاب کیا ہے۔ پہلی آیت میں کفر پر زجر کی تھی ‘ اس آیت میں نعمت کا شکر ادا کرنے اور حلال چیزوں کو کھانے کا حکم دیا۔ کفار کا دعویٰ تھا کہ ہم صرف اللہ واحد کی عبادت کرتے ہیں اور بتوں کی پوجا تو صرف اسلئے کرتے ہیں کہ یہ اللہ سے ہماری سفارش کریں گے (اس آیت کے آخری جملہ میں تنبیہ کے طور پر فرمایا کہ اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو تو اس کی نعمت کا شکر ادا کرو اور جو چیز اس نے حلال اور پاکیزہ قرار دی ہے ‘ اس کو کھاؤ ( اور جس چیز کو کھانے کی اس نے ممانعت کی ہے ‘ اس کو نہ کھاؤ) ۔
Ayah 16:115

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:115 in the Quran reader

اس نے تم پر مُردار اور لہو اور سور کا گوشت حرام کردیا ہے اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے (اس کو بھی) ہاں اگر کوئی ناچار ہوجائے تو بشرطیکہ گناہ کرنے والا نہ ہو اور نہ حد سے نکلنے والا تو خدا بخشنے والا مہربان ہے

انما حرم علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیر وما اھل لغیر اللہ بہ فمن اضطر غیر باغ ولا عاد فان اللہ غفور رحیم : تم پر تو صرف مردار کو حرام کیا ہے اور خون کو اور خنزیر کے گوشت (وغیرہ) کو اور اس چیز کو جو اللہ کے سوا کسی دوسرے کیلئے نامزد کردی گئی ہو۔ اس حکم کے بعد اگر کوئی بہت ہی سخت مجبور ہو بشرطیکہ طالب لذت نہ ہو اور نہ حد (ضرورت) سے آگے بڑھنے والا ہو (اور اس حالت میں ان چیزوں میں سے کچھ کھالے) تو اللہ معاف کرنے والا ‘ مہربان ہے
Ayah 16:116

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّ هٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 16:116 in the Quran reader

اور یوں ہی جھوٹ جو تمہاری زبان پر آجائے مت کہہ دیا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ خدا پر جھوٹ بہتان باندھنے لگو۔ جو لوگ خدا پر جھوٹ بہتان باندھتے ہیں ان کا بھلا نہیں ہوگا

ولا تقولوا لما تصف السنتکم الذکب ھذا حلال وھذا حرام لتفتروا علی اللہ الکذب ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون : اور جن چیزوں کے بارے میں محض تمہارا جھوٹا زبانی دعویٰ ہے ‘ ان کی نسبت یوں مت کہو کہ فلاں چیز حلال ہے اور فلاں چیز حرام ہے ‘ جس کا حاصل یہ ہوگا کہ اللہ پر جھوٹی تہمت باندھو گے۔ بلاشبہ جو لوگ اللہ پر خودتراشیدہ دروغ بندی کرتے ہیں ‘ وہ فلاح نہ پائیں گے۔ کفار از خود بعض چیزوں کو حلال اور بعض کو حرام کہتے تھے ‘ مثلاً کہتے تھے : مَا فِیْ بُطُوْنِ ھٰذَہِ الْاَنْعَام خالِصَۃٌ لِّذُکُوُرِنَاالخ یہ پیٹ کے اندر کے بچے صرف ہمارے مردوں کیلئے حلال ہیں الخیا بحیرہ اور سائبہ (جیسے بجاروں اور سانڈوں) کو حرام قرار دیتے تھے۔ ا اللہ نے صرف یہ چیزیں حرام کی ہیں ‘ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ باقی تمام درندے ‘ کیڑے مکوڑے حلال کر دئیے ہیں بلکہ یہ حصر اضافی ہے ‘ یعنی کافروں نے جن چیزوں کو از خود حرام بنا رکھا ہے ‘ وہ اللہ کی حرام کردہ نہیں ہیں ‘ اللہ نے تو صرف یہ چیزیں حرام کی ہیں۔ چونکہ حصر اضافی ہے ‘ اسلئے صحیح حدیث سے ان چیزوں کے علاوہ دوسری چیزوں کی جو حرمت ثابت ہے ‘ وہ قرآنی عبارت کے خلاف نہیں ہے۔ اس کی پوری تفصیل سورة مائدہ میں گزر چکی ہے۔ (1) [ حضرت ابو النضرہ نے فرمایا : میں نے جب سورة نحل کی آیت ولا تَقُوْلُوْا لمَِا تَصِفُ اَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ ھٰذَا حَلاَلٌ وَھٰذَا حَرَامٌ پڑھی ہے ‘ اس وقت سے آج تک (کسی چیز کی حرمت و حلت کا) فتویٰ دینے سے ڈرتا ہوں۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : آئندہ لوگ (ازخود) کہیں گے کہ اللہ نے اس کا حکم دیا ہے اور اس کی ممانعت کی ہے اور اللہ فرمائے گا : تو جھوٹا ہے۔ یا بعض لوگ کہیں گے : اس کو اللہ نے حلال کردیا ہے اور اس کو حرام کردیا ہے اور اللہ اس سے فرمائے گا : تو نے جھوٹ کہا۔ ازالۃ الخفاء (از مفسر (رح) ] اَلْکَذِبَ ‘ لاَ تَقُوْلُوْا کا مفعول ہے ‘ یعنی تم جو اپنی زبانوں سے جھوٹ کہتے ہو اور کسی کو ازخود حلال اور کسی کو حرام بناتے ہو ‘ اس کی حلت و حرمت کو اللہ پر مت باندھو اور اس کی تحریم و تحنیل کو اللہ کا حکم مت قرار دو اور صرف اپنی زبانوں سے اشیاء کی حرمت و حلت کا فیصلہ بغیر دلیل کے نہ کرو۔
Ayah 16:117

مَتَاعٌ قَلِیْلٌ١۪ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:117 in the Quran reader

(جھوٹ کا) فائدہ تو تھوڑا سا ہے مگر (اس کے بدلے) ان کو عذاب الیم بہت ہوگا

متاع قلیل ولھم عذاب الیم (دنیا میں ان کیلئے یہ) چندہ روزہ عیش ہے اور (آخرت میں) دردناک سزا ہے۔ یعنی جس عیش کیلئے یہ افتراء بندی کرتے ہیں ‘ وہ بہت ہی حقیر اور زوال پذیر ہے ‘ عنقریب فنا ہوجائے گا اور اس افتراء بندی کی سزا مرنے کے بعد بڑی دردناک ہوگی۔
Ayah 16:118

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 16:118 in the Quran reader

اور چیزیں ہم تم سے پہلے بیان کرچکے ہیں وہ ہم نے یہودیوں پر حرام کردی تھیں۔ اور ہم نے ان پر کچھ ظلم نہیں کیا بلکہ وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے

وعلی الذین ھادوا حرمنا ما قصصنا علیک من قبل وما ظلمنھم ولکن کانوا انفسھم یظلمون اور صرف یہودیوں پر ہم نے وہ چیزیں حرام کردی تھیں جن کا بیان ہم آپ سے اس سے پہلے کرچکے ہیں اور ہم نے ان پر کوئی زیادتی نہیں کی بلکہ وہ خود ہی اپنے اوپر زیادتی کیا کرتے تھے۔ سورة انعام میں پہلے اللہ بیان کرچکا تھا : وَعَلَی الَّذِیْنَ ھَادُوْا حَرَّمْنَا کُلَّ ذیْ ظُفُرِ الخ۔ مَا ظَلَمْنَاھُمْ یعنی بعض حلال چیزوں کو یہودیوں کیلئے ہم نے حرام کر کے ان پر زیادتی نہیں کی تھی بلکہ انہوں نے خود اپنے اوپر زیادتی کی تھی ‘ اس کی سزا کیلئے بعض حلال چیزیں حرام کردی گئی تھیں۔ آیت سے ثابت ہو رہا ہے کہ کسی چیز کی حرمت کبھی تو اسلئے ہوتی ہے کہ اس کے کرنے میں ضرر اور نہ کرنے میں فائدہ ہوتا ہے اور کبھی محض سزا کے طور پر بھی بعض حلال چیزوں کو حرام کردیا جاتا ہے۔
Ayah 16:119

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ عَمِلُوا السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 16:119 in the Quran reader

پھر جن لوگوں نے نادانی سے برا کام کیا۔ پھر اس کے بعد توبہ کی اور نیکوکار ہوگئے تو تمہارا پروردگار (ان کو) توبہ کرنے اور نیکوکار ہوجانے کے بعد بخشنے والا اور ان پر رحمت کرنے والا ہے

ثم ان ربک للذین عملوا السوء بجھالۃ ثم تابو من بعد ذلک واصلحوا ان ربک من بعدھا لغفور رحیم پھر آپ کا رب ایسے لوگوں کیلئے جنہوں نے نادانی کے سبب گناہ کرلیا ہو ‘ پھر اس کے بعد توبہ کر کے اعمال درست کر لئے ہوں ‘ بلاشبہ توبہ کے بعد آپ کا رب (ان کو) معاف کردینے والا ‘ بڑا مہربان ہے۔ عَمِلُوا السُّوْٓءَبدی کفر ہو یا گناہ۔ بِجَھَالَۃٍ نہ جاننے کے سبب یا جہالت کی حالت میں ‘ یعنی اللہ کو اور اس کے عذاب کو نہ جاننے کی حالت میں اور نتیجہ پر غور نہ کرنے کے سبب محض خواہش نفس کے زیر اثر کوئی گناہ کرلیا ہو۔ لْغَفُوْر اس گناہ کو معاف کردینے والا ہے۔ رَحِیْم بڑا مہربان ہے ‘ توبہ کرنے اور اللہ کی طرف رجوع ہوجانے کا ثواب عطا فرمائے گا۔
Ayah 16:120

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِیْفًا١ؕ وَ لَمْ یَكُ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 16:120 in the Quran reader

بےشک ابراہیم (لوگوں کے) امام اور خدا کے فرمانبردار تھے۔ جو ایک طرف کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے

ان ابراھیم کان امۃ قانتا اللہ حنیفا ولم یک من المشرکین : بیشک ابراہیم بڑے مقتدا تھے ‘ اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار تھے ‘ بالکل ایک طرف کے (یعنی اللہ کی طرف کے) ہو رہے تھے۔ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھے
Ayah 16:121

شَاكِرًا لِّاَنْعُمِهٖ١ؕ اِجْتَبٰىهُ وَ هَدٰىهُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 16:121 in the Quran reader

اس کی نعمتوں کے شکرگزار تھے۔ خدا نے ان کو برگزیدہ کیا تھا اور (اپنی) سیدھی راہ پر چلایا تھا

شاکرا لا نعمہ اجتباہ وھداہ الی صراط مستقیم ‘ اللہ کی نعمتوں کے شکرگذار تھے۔ اللہ نے ان کو منتخب کرلیا تھا اور ان کو سیدھے راستے پر ڈال دیا تھا۔ امت کے معنی صاحب قاموس نے حسب ذیل بیان کئے ہیں : وہ شخص جس میں ہر طرح کی اچھائی اور خوبی ہو۔ وہ شخص جو حق پر ہو اور تمام مذاہب (باطلہ) کا مخالف ہو۔ چستی ‘ طاعت ‘ عالم وغیرہ۔ حضرت ابراہیم کے اندر اتنے فضائل اور محاسن جمع تھے جو متعدد اشخاص میں بھی پائے جانے دشوار ہیں۔ آپ سب لوگوں کے مقتدا تھے ‘ حق پر قائم تھے ‘ تمام باطل مذاہب کے مخالف تھے (ا اللہ کی فرمانبرداری میں) مجسم نشاط وطاعت تھے ‘ اللہ اور اس کے احکام کو جانتے تھے۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : حضرت ابراہیم معلم خیر تھے۔ تمام دنیا کے لوگ آپ کی اقتداء (کا دعویٰ ) کرتے ہیں۔ اُمٌّ کا معنی ہے : قصد کرنا۔ اُمّتٌ بروزن فُعْلَۃٌ بمعنی اسم مفعول ہے ‘ یعنی مقصود کل۔ مجاہد نے کہا : تنہا آپ ہی مؤمن تھے ‘ باقی سب لوگ کافر تھے۔ قَانِت یعنی اللہ کے فرمانبردار ‘ احکام خداوندی پر قائم۔ حَنِیْف باطل سے پھرجانے والے ‘ حق کی جانب مڑ نے والے۔ بعض علماء نے حَنِیْف کا ترجمہ کیا ہے : دین اسلام پر قائم رہنے والے۔ بعض نے ترجمہ کیا ہے : مخلص۔ لَمْ یَکُ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ۔ قریش کا دعویٰ تھا کہ ہم حضرت ابراہیم کے دین پر ہیں۔ اللہ نے اس دعوے کی تردید کردی کہ ابراہیم مشرک نہ تھے (اور تم لوگ مشرک ہو) ۔ صِرَاطِ مُّسْتَقِیْمٍ سے مراد ہے : دین اسلام اور اللہ کی طرف آنے کی دعوت۔
Ayah 16:122

وَ اٰتَیْنٰهُ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً١ؕ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَؕ Open ayah 16:122 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو دنیا میں بھی خوبی دی تھی۔ اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں ہوں گے

واتینا فی الدنیا حسنۃ اور ہم نے ان کو دنیا میں بھی خوبیاں دی تھیں۔ حَسَنَۃ سے مراد ہے : پیغمبری اور خالص دوستی۔ حضرت مجدد نے فرمایا : حَسَنَۃ سے مراد خُلَّت (خالص دوستی) ہے۔ ہر شخص اپنے خلیل کو ان اسرار سے واقف کرتا ہے جو محب یا محبوب سے تعلق رکھتے ہیں ‘ اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے اپنے اور اپنی آل کیلئے اسی طرح کی رحمت نازل ہونے کی درخواست کی تھی جو حضرت ابراہیم اور ان کی آل پر نازل کی گئی تھی۔ آپ نے دعا کی تھی : اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰٓی اِبْرٰھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰل اِبْرٰھِیْمَ ۔ علامہ مفسر (رح) کی زبان قلم سے مجدد الف ثانی (رح) کی تعریف رسول اللہ ﷺ خالص محبوبیت کے مرتبہ پر فائز تھے۔ خُلَّت کا درجہ خالص محبوبیت کے درجہ سے نیچا ہے۔ مقام خلت محبوبیت خالصہ کے راستہ میں واقع ہے ‘ اسلئے حضور ﷺ مقام خلت پر نہیں ٹھہرے ‘ نہ ٹھہرنے کی اجازت تھی لیکن آپ کی خواہش تھی کہ مقام خلت میں بھی کچھ استقرار کریں اور استقرار کی اجازت مل نہیں سکی ‘ اسلئے اللہ نے حضور ﷺ کے متبعین میں سے ایک ہزار سال کے بعد ایک شخص کو مقام خلت میں استقرار عطا فرما دیا۔ تابع کا کمال متبوع کے کمال کا جزء ہوتا ہے اور جزء کل میں داخل ہوتا ہے ‘ پس حضرت مجدد کا کمال یعنی مقام خلت میں استقرار رسول اللہ ﷺ کے کمال محبوبیت کا ہی ایک حصہ تھا اور حضور ﷺ کے اتباع ہی سے حضرت مجدد کو یہ مرتبہ حاصل ہوا تھا۔ کسی گورنر ‘ کمانڈر یا شاہی ملازم کو کسی قلعہ کو سر کرنا یا کسی شہر پر قبضہ کرلینا اسی وجہ سے ہوتا ہے کہ اس فاتح کا تعلق مرکز سلطانی سے ہوتا ہے اور ملازم کی فتحیابی اور قبضہ سلطان معظم کی کامیابی اور فتح ہوتی ہے ‘ پس حضرت مجدد کو مقام خلت پر فائز کرنا اور استقرار عطا کرنا حقیقت میں رسول اللہ ﷺ کو ہی مقام خلت پر فائز کرنا ہے۔ وانہ فی الاخرۃ لمن الصلحین اور وہ آخرت میں بھی اچھے لوگوں میں ہوں گے۔ صالحین سے مراد ہیں : انبیاء معصومین۔ صلاح کی تکمیل بغیر عصمت (یعنی تمام گناہوں سے بچنے کی منجانب اللہ توفیق) کے نہیں ہوتی اور عصمت کا تقاضا ہے کہ آخرت میں ہر نیکی کا ثواب بغیر کمی کے پورا پورا ملے اور یہ خصوصیت صرف اہل عصمت ہی کی ہے کہ ہر نیکی کا پورا پورا ثواب حاصل ہو کیونکہ کسی صغیرہ یا کبیرہ کا ارتکاب کرنے سے توازن اعمال کے وقت نیکیوں کے وزن میں کچھ کمی آجانے کا احتمال ہے ‘ اسلئے اگر رحمت خداوندی شامل حال نہ ہو تو غیر معصوم کی نیکی کا ثواب مقابلۂ گناہ کے وقت کچھ کم ہوسکتا ہے۔ ہاں ‘ اگر کوئی گناہ ہی نہ ہو تو خفت حسنات کا کوئی احتمال ہی نہیں ہے۔ گویا یہ آیت جواب ہے اس دعا کا جو حضرت ابراہیم نے کی تھی اور کہا تھا : اَلْحِقْنِیْ بالصَّلِحِیْنَ ۔
Ayah 16:123

ثُمَّ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 16:123 in the Quran reader

پھر ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی کہ دین ابراہیم کی پیروی اختیار کرو جو ایک طرف کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے

ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراھیم حنیفا وما کان من المشرکین پھر ہم نے آپ کے پاس وحی بھیجی کہ آپ ابراہیم کے طریقہ پر چلیں جو (ا اللہ ہی کی طرف) یکسو ہوگئے تھے اور شرک کرنے والوں میں سے نہیں تھے۔ یعنی توحید میں نرمی کے ساتھ اللہ کی طرف لوگوں کو بلانے میں ‘ پے در پے دلیلیں پیش کرنے میں ‘ ہر شخص سے اس کی سمجھ کے مطابق مناظرہ کرنے میں ‘ قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے میں ‘ دین ابراہیمی کے اصول و شرائع اختیار کرنے میں ‘ حضرت ابراہیم کے طریقے پر چلو۔ یہ تمام چیزیں وہ نعمتیں تھیں جو اللہ نے حضرت ابراہیم کو عطا فرمائی تھیں اور حضرت ابراہیم نے اللہ کی ان نعمتوں کا شکر ادا کیا تھا۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ کو بھی ان نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا۔ طریق ابراہیم کی پیروی میں یہ تمام امور داخل ہیں۔ فائدہ رسول اللہ ﷺ کو ملت ابراہیم پر چلنے کا حکم دیا کیونکہ حضور ﷺ مرتبۂ خلت پر پہنچنے کے بڑے مشتاق تھے اور آپ کو حضرت ابراہیم سے بہت زیادہ محبت تھی۔ آیت قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْھِکَ فِی السَّمَآءِ اس محبت پر دلالت کر رہی ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ بھی شریعت ابراہیمی پر چلنے پر مامور تھے۔ ہاں ‘ جو احکام شریعت محمدی میں منسوخ کر دئیے گئے ‘ ان پر چلنے کا آپ کو حکم نہ تھا۔ باقی جو احکام منسوخ نہیں کئے گئے ‘ ان کی پابندی رسول اللہ ﷺ پر لازم تھی۔ مَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ یہ جملہ دوبارہ ذکر کرنے سے یہودیوں اور اہل مکہ اور عیسائیوں کی تردید مقصود ہے کیونکہ یہ سب ملت ابراہیمی پر چلنے کے مدعی تھے (مگر ان کے مسلک شرک آمیز تھے) ۔