16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 16:90

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰى وَ یَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْیِ١ۚ یَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 16:90 in the Quran reader

خدا تم کو انصاف اور احسان کرنے اور رشتہ داروں کو (خرچ سے مدد) دینے کا حکم دیتا ہے۔ اور بےحیائی اور نامعقول کاموں سے اور سرکشی سے منع کرتا ہے (اور) تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاد رکھو

ان اللہ یامر بالعدل والاحسان بیشک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔ عدل کا لفظ مساوات کا مقتضی ہے۔ ا اللہ نے اسی لئے فرمایا ہے : اَوْ عَدْلُ ذٰلِکَ صِیَامًا یا اس کے برابر روزے۔ وَاَنْ تَعْدِلُوْا بَیْنَ النِّسَآء اور یہ کہ عورتوں میں ہر طرح سے برابری رکھو۔ فدیہ اور بدلہ کو عدل اسی وجہ سے کہا جاتا ہے۔ اس صورت میں آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ عدل کا حکم دیتا ‘ یعنی بدلہ میں مساوات رکھنے کا۔ خیر کا بدلہ خیر اور شر کا بدلہ شر اور اللہ حکم دیتا ہے کہ حاکم ‘ مدعی اور مدعی علیہ کے درمیان مساوات کا سلوک کرے ‘ کسی ایک کی طرف مائل نہ ہوجائے۔ جو کچھ فیصلہ کرے ‘ اللہ کے حکم کے مطابق کرے۔ اگر عدل کا معنی بدلہ دینے میں مساوات لیا جائے گا تو احسان کا یہ مطلب ہوگا کہ خیر کا بدلہ زیادہ اور بہتر بھلائی کی شکل میں دے اور شر کا بدلہ کم شر سے دے۔ خیر کے مقابلہ میں زیادہ بھلائی کرے اور برائی کے مقابلے میں کم برائی۔ (اور اگر عدل سے مراد مدعی اور مدعی علیہ کے درمیان مساوات ہو تو احسان کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کرے) میں کہتا ہوں : عدل سے مراد استقامت علی الحق بھی ہوسکتی ہے ‘ یعنی کج روی اور جور کا مخالف مفہوم بھی مراد ہوسکتا ہے۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے : عدل ‘ جور (کج روی) کی ضد ہے اور طبیعت کے اندر کسی چیز کے مستقیم ہونے کے خیال کے جماؤ کو بھی کہتے ہیں۔ بعض علماء نے عدل کو بمعنی اعتدال کہا ہے ‘ یعنی ہر چیز میں توسط ‘ جیسے تعطل (ا اللہ کا تمام صفات سے خالی ہونا) اور شرک (ا اللہ کی صفات میں مخلوق کو شریک قرار دینا) کے درمیان توحید (صفاتی) کا درجہ ہے (یعنی اللہ نہ صفات سے خالی ہے نہ اس کی صفات مخلوق میں پائی جاتی ہیں ‘ بلکہ وہ اپنی صفات کے لحاظ سے واحد لاشریک ہے) یا جیسے جبر و قدر کے درمیان کسب کا درجہ ہے (بندہ بالکل نہ مجبور ہے نہ اپنے افعال کا خود خالق اور قادر ‘ بلکہ کا سب ہے۔ خالق افعال اللہ ہے اور افعال کو کرنے والا بندہ) یا جیسے اللہ اور بندوں کے حقوق ادا کرنے کا درمیانی درجہ کہ نہ عبادت خدا میں اتنا غرق ہوجائے کہ بندوں کے حقوق کی ادائیگی ترک کر دے اور دنیا کو چھوڑ بیٹھے نہ دنیا میں اتنا منہمک ہوجائے کہ اللہ کے حقوق کی ادائیگی چھوڑ دے واجب ‘ نفل کچھ ادا نہ کرے ‘ یا جیسے سخاوت کہ بخل و فضول خرچی کے درمیانی درجہ کا نام ہے ‘ یا شجاعت جو احمقانہ ‘ بےجا دلیری کے درمیانی وصف کا نام ہے ‘ یا جیسے عفت کہ پاکدامنی کو کہتے ہیں۔ زناکاری ‘ بےحیائی اور جائز قربت صنفی کے ترک کے درمیان عفت کا درجہ ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : عدل (سے مراد) توحید ہے اور احسان (سے مراد) ادائے فرائض۔ دوسری روایت میں حضرت ابن عباس کا قول آیا ہے : خالص توحید کا نام احسان ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : احسان یہ ہے کہ تم اپنے رب کی اس طرح عبادت کرو گویا اس کو دیکھ رہے ہو ‘ اگر تم اس کو نہیں دیکھتے ہو تو وہ یقیناً تم کو دیکھتا ہے (یعنی عبادت میں مشاہدۂ رب کا درجہ حاصل نہ ہو تو کم از کم اتنا تو سمجھتے رہنا ہی چاہئے کہ وہ تم کو دیکھ رہا ہے) رواہ عمر بن الخطاب۔ کذا فی الصحیحین۔ مقاتل نے کہا : عدل ‘ توحید ہے اور لوگوں سے درگذر کرنا احسان ہے۔ بعض علماء نے کہا : عدل سے مراد فرض ہے اور احسان سے مراد نفل۔ اگر فرض میں کوئی قصور آجاتا ہے تو نفل سے اس کی اصلاح ہوجاتی ہے (گویا نفل ‘ فرض ناقص کو حسین یعنی کامل بنا دینے والی چیز ہے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا : اللہ نہ اس کے صرف کو قبول کرے گا نہ عدل کو ‘ یعنی نہ نفل کو نہ فرض کو۔ وایتآیء ذی القربی وینھی عن الفحشاء والمنکر والبغی اور (حکم دیتا ہے) قرابتداروں کو دینے کا اور بےحیائی سے اور بری باتوں سے اور ظلم سے منع کرتا ہے قرابتداروں کو دینے سے مراد ہے : حاجت روائی کرنا ‘ ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کرنا ‘ یعنی کنبہ پروری کرنا۔ فَحْشَاء حد سے بڑھی ہوی برائی (کھلی برائی) قولی ہو یا فعلی (سخت بری بات ‘ سخت برا کام) حضرت ابن عباس نے فرمایا : الْفَحْشَاء یعنی زنا۔ الْمُنْکَر ہر برا کام جس کو شریعت نے برا قرار دیا ہو اور عقل سلیم بھی اس کو برا جانتی ہو۔ الْبَغْی تکبر اور ظلم۔ بیضاوی نے لکھا ہے : فَحْشَاء سے مراد ہے : قوت شہوانیہ کے استعمال میں حد (اعتدال) سے آگے بڑھ جانا ‘ جیسے زنا۔ انسانی احوال میں حد سے بڑھی ہوئی شہوانیت ‘ یعنی زنا بہت ہی بری حالت ہے۔ مُنْکَر قوت غضبیہ کے ہیجان سے مغلوب ہو کر ایسا کام کرنا جو (عقلاً و نقلاً ) برا ہے۔ الْبَغْی غرور ‘ تکبر ‘ لوگوں پر جبر اور زبردستی ‘ سب سے اونچا ہوجانا۔ یہ شیطنت قوت وہمیہ کا کرشمہ ہے۔ انسان کی ہر برائی اور شر انہی تینوں اقسام میں سے کسی نہ کسی قسم کے ذیل میں داخل ہے ‘ اسی لئے حضرت ابن مسعود نے فرمایا : قرآن مجید میں سب سے زیادہ جامع آیت یہی ہے۔ حضرت ابن مسعود کا یہ قول سعید بن منصور نے ‘ الادب میں بخاری نے ‘ محمد بن منصور اور ابن جریر نے ‘ ابن المنذر ‘ ابن ابی حاتم اور حاکم نے اور شعب الایمان میں بیہقی نے نقل کیا ہے اور حاکم نے اس کو صحیح بھی قرار دیا ہے۔ الادب میں بخاری نے اور امام احمد و ابن ابی حاتم و طبرانی وابن مردویہ نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ یہی آیت حضرت عثمان بن مظعون کے مسلمان ہوجانے کا سبب ہوئی۔ بغوی نے لکھا ہے کہ سفیان بن عیینہ نے کہا : ظاہر و باطن برابر ہوجانا عدل ہے ‘ باطن کا ظاہر سے اچھا ہونا احسان ہے اور ظاہر بہ نسبت باطن کے اچھا ہو تو یہ فحشاء و منکر ہے۔ یعظکم لعلکم تذکرون اللہ تم کو اسلئے نصیحت کر رہا ہے کہ تم نصیحت قبول کرو۔ یعنی امر و نہی (کی پابندی) اور اچھائی برائی میں تمیز کرنے کی نصیحت اللہ تم کو کرتا ہے تاکہ تم اس کو مانو اور اس پر کاربند ہو۔ بیضاوی نے لکھا ہے : اگر قرآن میں اس آیت کے سوا کوئی اور آیت ہی نہ ہوتی تب بھی قرآن کو تِبْیَانًا لِکُلِّ شَیْءٍ وَھُدًی وَرَحْمَۃً وَبُشْرٰی لِلْمُسْلِمِیْنَ کہنا صحیح ہوتا۔ بغوی نے ایوب کا قول نقل کیا ہے کہ عکرمہ نے بیان کیا : رسول اللہ ﷺ نے جب یہ آیت ولید کو سنائی تو ولید بولا : بھتیجے ! ذرا اس کو دوبارہ پڑھو۔ حضور ﷺ نے دوبارہ تلاوت فرمائی۔ ولید کہنے لگا : خدا کی قسم ! اس میں عجیب شیرینی اور ایک خاص حسن ہے (یہ کھجور کے درخت کی طرح ہے) اس کا بالائی حصہ (یعنی ظاہر) ثمر آفریں اور نچلا حصہ (یعنی باطن) خوشوں سے بھرا ہوا ہے۔ یہ انسان کا کلام نہیں ہے۔
Ayah 16:91

وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّمْ وَ لَا تَنْقُضُوا الْاَیْمَانَ بَعْدَ تَوْكِیْدِهَا وَ قَدْ جَعَلْتُمُ اللّٰهَ عَلَیْكُمْ كَفِیْلًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 16:91 in the Quran reader

اور جب خدا سے عہد واثق کرو تو اس کو پورا کرو اور جب پکی قسمیں کھاؤ تو اُن کو مت توڑو کہ تم خدا کو اپنا ضامن مقرر کرچکے ہو۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو جانتا ہے

واوفوا بعھد اللہ اذا عاھدتم ولا تنقضوا الایمان بعد توکیدھا وقد جعلتم اللہ علیکم کفیلا اور تم اللہ کے عہد کو پورا کرو جبکہ تم اس عہد کو (خصوصاً یا عموماً ) اپنے ذمے لے لو اور قسموں کو مضبوط کرنے کے بعد مت توڑو اور تم تو خود (اپنی قسموں) پر اللہ کو گواہ بنا چکے ہو۔ عَھْد پختہ اقرار۔ ابن جریر نے حضرت بریدہ کی روایت سے لکھا ہے کہ یہ آیت رسول اللہ ﷺ کے بیعت لینے (اور رسول اللہ ﷺ سے بیعت کرنے) کے متعلق نازل ہوئی۔ بغوی نے لکھا ہے : عہد اس جگہ بمعنی قسم ہے۔ شعبی نے کہا : (اس جگہ) عہد بمعنی قسم ہے اور اس کو توڑنے کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۔ اَلْاِیْمَان یعنی بیعت کے عہد یا عام قسمیں۔ بَعْدَ تَوْکِیْدِھَا یعنی اللہ کا نام لے کر قسموں کو پختہ کرنے کے بعد۔ کَفِیْلا یعنی بیعت کا گواہ۔ کفیل جس چیز کی کفالت کرتا ہے ‘ اس کی نگرانی رکھتا ہے۔ ان اللہ یعلم ما تفعلون جو کچھ تم کرتے ہو ‘ اللہ اس سے یقیناً واقف ہے۔ یعنی عہد پورا کرو یا توڑو ‘ اللہ سب سے واقف ہے۔ مجاہد نے کہا : اس آیت کا نزول حلف جاہلیت کے متعلق ہوا (یعنی اسلام کے دور سے پہلے جو لوگ باہم محالفے کرتے تھے ‘ اس کے سلسلہ میں یہ آیت نازل ہوئی) اس کے بعد آیت ذیل میں عہد شکنی کو مثال دے کر سمجھایا ہے۔ فرمایا ہے :
Ayah 16:92

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًا١ؕ تَتَّخِذُوْنَ اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ اَنْ تَكُوْنَ اُمَّةٌ هِیَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍ١ؕ اِنَّمَا یَبْلُوْكُمُ اللّٰهُ بِهٖ١ؕ وَ لَیُبَیِّنَنَّ لَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 16:92 in the Quran reader

اور اُس عورت کی طرح نہ ہونا جس نے محنت سے تو سوت کاتا۔ پھر اس کو توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ کہ تم اپنی قسموں کو آپس میں اس بات کا ذریعہ بنانے لگو کہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے زیادہ غالب رہے۔ بات یہ ہے کہ خدا تمہیں اس سے آزماتا ہے۔ اور جن باتوں میں تم اختلاف کرتے ہو قیامت کو اس کی حقیقت تم پر ظاہر کر دے گا

ولا تکونوا کالتی نقضت غزلھا من بعد قوت انکاثا اور تم (مکہ کی) اس (بیوقوف) عورت کی طرح نہ ہوجاؤ جس نے اپنا سوت کاتنے کے بعد ریزہ ریزہ کر کے نوچ ڈالا۔ غَزْل بٹنا ‘ کاتنا ‘ مضبوط کرنا۔ انکاث ‘ نِکُث کی جمع ہے ‘ ریزہ ریزہ ‘ سارے بل کھلے ہوئے۔ ابن ابی حاتم نے ابوبکر بن ابی حفص کا بیان نقل کیا ہے کہ (مکہ کی ایک عورت) سعیدہ اسدیہ پاگل تھی۔ بال اور کھجور کی چھال کے ریشے جمع کرتی تھی۔ اسی کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔ بغوی نے لکھا ہے کہ کلبی اور مقاتل نے کہا کہ ربطہ بنت عمر بن سعد بن کعب بن زید بن مناۃ بن تمیم ایک الھڑ ‘ بیوقوف عورت تھی۔ اس کا لقب جعر تھا۔ اس کے دماغ میں کچھ خرابی تھی۔ اس نے ایک چرخہ ہاتھ بھر کا اور اس میں ایک میخ انگل بھر کی اور دمر کہ بہت بڑا بنا رکھا تھا۔ (روز) وہ اون ‘ روئیں اور بالوں کی کتائی کرتی تھی اور اپنی باندیوں سے بھی کتواتی تھی۔ سب مل کر دوپہر تک کا تتی تھیں ‘ دوپہر کو وہ سب کا کاتا ہوا دھاگہ کھول ڈالتی تھی (اور ریزہ ریزہ کردیتی تھی) یہی اس کا روزانہ کا معمول تھا۔ اس پس منظر میں آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ عورت جو کاتنے کا کام برابر کرتی تھی ‘ کاتنا ترک نہیں کرتی تھی اور کاتنے کے بعد کتے ہوئے سوت کو توڑنے سے بھی باز نہیں رہتی تھی ‘ تم اس کی طرح نہ ہوجاؤ۔ یا تو عہد ہی نہ کرو اور کرو تو اس کو پورا بھی کرو۔ ہر مرتبہ معاہدہ کر کے اس کو نہ توڑو۔ تتخذون ایمانکم دخلا بینکم ان تکون امۃ ھی اربی من امۃ (کہ اس طرح) تم بھی اپنی قسموں کو آپس میں فساد ڈالنے کا ذریعہ بنانے لگو ‘ محض اس وجہ سے کہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے بڑھ جائے۔ دَخَلَ بگاڑ ‘ دھوکہ ‘ فریب ‘ خیانت۔ دَخَلْ لغوی (ساخت کے) اعتبار سے اس چیز کو کہتے ہیں جس کو کسی دوسری چیز کے اندر اس کو خراب کرنے اور بگاڑنے کیلئے داخل کیا جائے __ بعض علماء نے کہا : دخل اور دغل یہ ہے کہ ظاہر میں تو وفائے عہد کرے اور باطن میں اس کو توڑ دے۔ اَرْبٰی تعداد افرادی اور مال میں زیادہ۔ مجاہد نے کہا : (دور جاہلیت میں) عرب کا دستور تھا کہ ایک قبیلہ یا ایک جماعت دوسری جماعت سے باہمی امداد کا بقسم معاہدہ کرلیتی تھی (یعنی ایک جماعت دوسری جماعت کی حلیف ہوجاتی تھی __ دونوں کا معاہدہ بحلف ہوجاتا تھا) لیکن جب ان دونوں قبیلوں میں سے کسی کو اپنے حلیفوں کی دشمن جماعت زیادہ طاقتور یا مالدار نظر آتی تھی تو اپنے حلیفوں سے غداری کر کے حلیفوں کے دشمنوں سے جا کر مل جاتے تھے اور ان سے محالفہ کرلیتے تھے۔ مجاہد کی تشریح کی بناء پر آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ کمزوروں سے عہدشکنی کر کے طاقتوروں سے تم معاہدے کرلیتے ہو ‘ محض اسلئے کہ تم کو غلبہ اور طاقت حاصل ہوجائے ‘ ایسا نہ کرنا چاہئے۔ یا آیت کا یہ مطلب ہے کہ تم اپنی قسموں کو فساد کا ذریعہ صرف اس وجہ سے بنا لیتے ہو کہ تمہارا ایک گروہ دوسرے ہم معاہدہ گروہ سے تعداد اور مال میں زیادہ ہوتا ہے ‘ اسلئے طاقتور گروہ کو معاہدہ شکنی کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ جس طرح قریش نے حدیبیہ کے مقام پر مسلمانوں سے دس سال تک جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کرلیا تھا لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ مسلمانوں کی جماعت سے قریش کی تعداد زیادہ ہے اور مالی طاقت بھی بڑھ کر ہے ‘ اسلئے دو ہی سال میں معاہدہ توڑ دیا۔ انما یبلوکم اللہ بہ ولیبینن لکم یوم القمیۃ ما کنتم فیہ تختلفون پس اس سے اللہ تمہاری آزمائش کرتا ہے اور جن چیزوں میں تم اختلاف کرتے رہے ‘ قیامت کے دن ان سب کو تمہارے سامنے (عملاً ) ظاہر کر دے گا۔ یعنی ایک جماعت کو دوسری جماعت سے بڑا اور برتر کر کے اللہ جانچ کرتا ہے کہ یہ جماعتیں اللہ سے کئے ہوئے عہد اور رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ پکڑے رہتی ہیں یا مؤمنوں کی قلت اور قریش کی کثرت و شوکت دیکھ کر توڑ دیتی ہیں اور دنیا میں کئے ہوئے اختلافی امور کا فیصلہ جب قیامت کے دن اللہ کرے گا اور ہر ایک کو اعمال کا بدلہ دے گا تو جن لوگوں نے عہد کو پورا کیا ہوگا ‘ ان کو ثواب اور جن لوگوں نے وعدہ شکنی کی ہوگی ‘ ان کو عذاب دے کر حقیقت کو ظاہر کر دے گا۔
Ayah 16:93

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ لَتُسْئَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:93 in the Quran reader

اور اگر خدا چاہتا تو تم (سب) کو ایک ہی جماعت بنا دیتا۔ لیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور جو عمل تم کرتے ہو (اُس دن) اُن کے بارے میں تم سے ضرور پوچھا جائے گا

ولو شآء اللہ لجعلکم امۃ واحدۃ ولکن یضل من یشآء ویھدی من یشآء ولتسئلن عما کنتم تعملون اور اگر اللہ کو منظور ہوتا تو سب کو ایک ہی طریقہ کا بنا دیتا ‘ لیکن (اس کی مشیّت ہے) وہ جس کو چاہتا ہے ‘ بےراہ کردیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ‘ راہ پر ڈال دیتا ہے اور (قیامت کے دن) تم سے تمہارے اعمال کی ضرور بازپرس ہوگی۔ ایک ہی طریقہ کا بنا دینے کا مطلب یہ ہے کہ سب کو اسلام پر متفق کردیتا اور سب وفائے عہد کرنے والے ہوجاتے ‘ آپس میں اختلاف نہ رہتا۔ بےراہ کردینے کا یہ مطلب ہے کہ اس کو بےمدد چھوڑ دیتا __ مدد نہ کرتا اور راہ پر ڈالنے کا معنی یہ ہے کہ اس کو ایمان و خیر کی توفیق دے دیتا __ ہر شخص سے بازپرس لاجواب بنانے اور سزا و جزا دینے کیلئے ہوگی۔
Ayah 16:94

وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌۢ بَعْدَ ثُبُوْتِهَا وَ تَذُوْقُوا السُّوْٓءَ بِمَا صَدَدْتُّمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَكُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 16:94 in the Quran reader

اور اپنی قسموں کو آپس میں اس بات کا ذریعہ نہ بناؤ کہ (لوگوں کے) قدم جم چکنے کے بعد لڑ کھڑا جائیں اور اس وجہ سے کہ تم نے لوگوں کو خدا کے رستے سے روکا تم کو عقوبت کا مزہ چکھنا پڑے۔ اور بڑا سخت عذاب ملے

ولا تتخذوا ایمانکم دخلا بینکم فترزل قدم بعد ثبوتھا وتذوقوا السوء بما صددتم عن سبیل اللہ ولکم عذاب عظیم اور تم اپنی قسموں کو آپس میں فساد ڈالنے کا ذریعہ مت بناؤ۔ کہیں (اس کو دیکھ کر کسی اور کا) قدم جمنے کے بعد نہ پھسل جائے اور اللہ کی راہ سے روکنے کی وجہ سے پھر تم کو تکلیف بھگتنا پڑجائے اور (آخرت میں) تمہارے لئے بڑا عذاب ہوجائے۔ دَخَل فساد ‘ دھوکہ۔ یعنی قسموں کو فریب دہی اور فساد انگیزی کا ذریعہ نہ بناؤ کہ لوگ تمہارے معاہدات پر اعتماد کرلیں اور تمہاری طرف سے مطمئن ہوجائیں اور تم ان کو فریب دے کر قسمیں اور معاہدے توڑ دو ۔ قدم جمنے کے بعد پھسل جانے کا مطلب یہ ہے کہ بےخوف اور مطمئن ہوجانے کے بعد تم ہلاک ہوجاؤ۔ عرب کا محاورہ ہے کہ عافیت کے بعد اگر کوئی شخص کسی مصیبت میں گرفتار ہوجاتا ہے ‘ یا سلامتی کے بعد کسی گڑھے میں گرپڑتا ہے تو کہتے ہیں : اس کا قدم پھسل گیا۔ رسول اللہ ﷺ کی بیعت اسلام کی شاہراہ تھی۔ بیعت پر قائم رہنا اور اس کو نہ توڑنا راہ اسلام پر برابر چلتے رہنے اور استقامت رکھنے کا نام تھا اور بیعت توڑ دینا لغزش قدم تھی۔ تکلیف کا مزہ چکھنے سے مراد ہے : دنیا میں تکلیف بھگتنا اور عذاب عظیم سے مراد ہے : آخرت کا بڑا عذاب۔
Ayah 16:95

وَ لَا تَشْتَرُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ اِنَّمَا عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:95 in the Quran reader

اور خدا سے جو تم نے عہد کیا ہے (اس کو مت بیچو اور) اس کے بدلے تھوڑی سی قیمت نہ لو۔ (کیونکہ ایفائے عہد کا) جو صلہ خدا کے ہاں مقرر ہے وہ اگر سمجھو تو تمہارے لیے بہتر ہے

ولا تشتروا بعھد اللہ ثمنا قلیلا اور تم لوگ عہد خداوندی (اور بیعت رسول) کے عوض (دنیا کا) تھوڑا سا فائدہ مت حاصل کرو۔ یعنی اللہ سے کیا ہوا عہد اور رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر کی ہوئی بیعت اور معاہدات اس لالچ میں نہ توڑ دو کہ دنیا کا کچھ مال تم کو مل جائے۔ انما عند اللہ ھو خیر لکم ان کنتم تعلمون : باق جو کچھ (دنیوی اور اخروی نعمتیں) اللہ کے پاس ہیں ‘ وہ (اس دنیا سے جس کے تم طلبگار ہو) تمہارے لئے بدرجہا بہتر ہیں ‘ اگر تم سمجھو
Ayah 16:96

مَا عِنْدَكُمْ یَنْفَدُ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ١ؕ وَ لَنَجْزِیَنَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْۤا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:96 in the Quran reader

جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہو جاتا ہے اور جو خدا کے پاس ہے وہ باقی ہے کہ (کبھی ختم نہیں ہوگا) اور جن لوگوں نے صبر کیا ہم اُن کو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دیں گے

ما عند کم ینفد وما عند اللہ جو کچھ تمہارے پاس ہے ‘ وہ ختم ہوجائے گا اور جو اللہ کے پاس ہے ‘ وہ باقی رہے گا۔ یعنی جو کچھ دنیوی مال و متاع تمہارے پاس ہے ‘ وہ فنا ہوجائے گا اور اللہ کی رحمت کے خزانے کبھی فنا نہیں ہوں گے۔ یہ جملہ لاَ تَشْتَرُوْا بِعَھْدِ اللّٰہِالخ کی علت ہے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص اپنی دنیا کو پسند کرتا ہے ‘ وہ اپنی آخرت کو نقصان پہنچاتا ہے اور جو آخرت کو پسند کرتا ہے ‘ وہ اپنی دنیا کا ضرر کرتا ہے۔ تم باقی رہنے والی چیز کو فنا ہونے والی (دنیا) پر ترجیح دو (آخرت کو پسند کرو ‘ دنیا کی پرواہ مت کرو) رواہ الحاکم بسند صحیح واحمد۔ ولنجزین الذین صبروا اجرھم باحسن ما کانوا یعملون اور جو لوگ ثابت قدم ہیں ‘ ان کے اچھے کاموں کے عوض میں ہم ان کا اجر ان کو ضرور دیں گے۔ یعنی جن لوگوں نے بیماری ‘ افلاس ‘ کفار کی ایذاء ‘ پابندئ احکام کی مشقت اور جہاد میں ڈٹے رہنے کی مصیبتوں پر صبر کیا ‘ اللہ ان کے صبر کا ان کو ثواب عطا فرمائے گا اور اتنا ثواب دے گا کہ ان کے اعمال کے مقررہ اجر سے بہت اچھا ہوگا۔ ہر نیکی کو سات سو گنا تک بڑھا دے گا اور اس سے بھی زیادہ جتنی اللہ کی مشیّت ہوگی۔ بعض علماء نے کہا : اَحْسَنِ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ سے مراد فرائض اور مستحبات ہیں۔ ممنوعات اور مباحات سے فرائض و مستحبات بہرحال بدرجہا بہتر ہوتے ہیں۔
Ayah 16:97

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّهٗ حَیٰوةً طَیِّبَةً١ۚ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:97 in the Quran reader

جو شخص نیک اعمال کرے گا مرد ہو یا عورت وہ مومن بھی ہوگا تو ہم اس کو (دنیا میں) پاک (اور آرام کی) زندگی سے زندہ رکھیں گے اور (آخرت میں) اُن کے اعمال کا نہایت اچھا صلہ دیں گے

من عمل صالحا من ذکر او انثی وھو مؤمن فلنحیینہ حیوۃ طیبۃ جو شخص کوئی نیک کام کرے گا ‘ خواہ مرد ہو یا عورت ‘ بشرطیکہ صاحب ایمان ہو تو ہم اس شخص کو (دنیا میں) بالطف زندگی عطا کریں گے۔ ولنجزینھم اجرھم باحسن ما کانوا یعملون اور آخرت میں ان کے اچھے کاموں کے عوض ان کا اجر عطا کریں گے۔ وَھُوَ مُؤْمِنٌ بشرطیکہ وہ مؤمن ہو۔ ایمان کی شرط اسلئے لگائی کہ کافر کسی ثواب کے مستحق نہیں ‘ خواہ کیسے ہی اچھے اعمال کریں۔ زیادہ سے زیادہ عذاب کی تخفیف کی امید کی جاسکتی ہے ‘ کیونکہ اللہ کے نزدیک ثواب کا مدار خلوص اور حسن نیت پر ہے (یعنی محض خوشنودئ خدا کیلئے ہونا ضروری ہے) اور کافروں کی نیکیوں میں یہ چیز مفقود ہے۔ حیات طیبہ سے مراد سعید بن جبیر کے نزدیک رزق حلال ہے اور حسن کے نزدیک قناعت۔ مقاتل بن حبان نے کہا : طاعت میں زندگی گذارنا حیات طیبہ ہے۔ ابوبکر وارق نے کہا : طاعت کی شیرینی پاکیزہ زندگی ہے۔ بیضاوی نے کہا : پاکیزہ زندگی گذارنا حیات طیبہ ہے ‘ کیونکہ پاکیزہ زندگی گذارنے والا اگر مالدار اور فراخ حال ہے تو ظاہر ہے اس کی دنیوی زندگی پاکیزہ ہوگی اور اگر تنگدست ہے تو ظاہر ہے کہ قناعت کرے گا۔ تقسیم خداوندی پر راضی ہوگا اور آخرت میں اجر عظیم ملنے کا امیدوار ہوگا ‘ اس طرح اس کی زندگی خوش عیشی کے ساتھ گذرے گی۔ کافر کی زندگی اس کے برعکس ہوتی ہے۔ تنگدست ہے تو ظاہر ہے کہ اس کی زندگی تلخ ہوتی ہے اور مالدار ہے تب بھی اس کو موجودہ دولت کے زوال کا اندیشہ رہتا ہے اور ہر وقت حرص میں گرفتار رہتا ہے اور اس کی وجہ سے خوش عیش زندگی اطمینان کے ساتھ نہیں گذار سکتا۔ میں کہتا ہوں : آیت اِنَّ لَہٗ مَعِیْشَۃً ضَنْکًا کا بھی یہی مطلب ہے۔ میں کہتا ہوں : بندے کو جب اللہ سے محبت ہوتی ہے تو جو کچھ محبوب کی طرف سے اس کو پہنچتا ہے ‘ تلخی ہو یا شیرینی ‘ وہ سب سے لذت اندوز ہوتا ہے۔ حضرت مجدد نے فرمایا ہے : محبوب کی طرف سے جو دکھ پہنچتا ہے ‘ وہ محبوب کی طرف سے ملنے والے سکھ سے زیادہ لذیذ ہوتا ہے۔ دکھ میں تو صرف رضا محبوب ہوتی ہے اور سکھ میں (کچھ) ذاتی مقصد (بھی) ہوتا ہے اور (خالص) رضائے محبوب زیادہ لذت آفریں ہوتی ہے اور محب کو محبوب کی مرضی ہی سب سے پیاری ہوتی ہے۔ شیخ عارف رومیؔ قدس سرہٗ نے فرمایا ؂ عاشقم برلطف و بر قہرت بجد اے عجم من عاشقم بر ہر دو ضد ناخوش ازدے خوش بود درجان من جاں فدائے یار جاں رنجان من میں کہتا ہوں ‘ حیات طیبہ کی تشریح میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اللہ نے اپنے دوستوں کے حق میں فرمایا ہے : لَھُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ان کیلئے دنیوی زندگی میں بشارت ہے۔ اس آیت کی تفسیر سورة یونس میں گذر چکی ہے۔ جب مؤمن کو اس زندگی میں اللہ کی خوشنودی کے حصول اور بارگاہ قدس میں مرتبۂ قرب پر پہنچنے اور درجات بلند ہونے کی بشارت مل جاتی ہے تو دنیا میں ہی اس کو وہ نعمت و راحت مل جاتی ہے جس کی جنت کے اندر ملنے کی اس کو امید ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ اہل جنت سے فرمائے گا : کیا تم راضی ہوگئے ؟ جنتی عرض کریں گے : (اے ہمارے رب ! ) راضی نہ ہونے کی وجہ بھی کیا ہوسکتی ہے۔ تو نے تو ہم کو وہ نعمتیں عطا فرمائی ہیں جو کسی شخص کو نہیں دیں۔ اللہ فرمائے گا : کیا ان نعمتوں سے بھی بڑی نعمت تم کو دوں ؟ پھر فرمائے گا : (وہ سب سے اعلیٰ نعمت یہ ہے کہ) میں تم کو اپنی خوشنودی عطا کرتا ہوں ‘ آئندہ کبھی میں تم سے ناراض نہ ہوں گا۔ یہ حدیث حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے صحیحین میں مذکور ہے اور حضرت جابر کی روایت سے طبرانی نے الاوسط میں بھی ایسی ہی حدیث بیان کی ہے۔ اسی حدیث کے مضمون کو پڑھ کر ایک عارف نے کہا ہے : امروز چوں جمال تو بےپردہ ظاہر است در حیرتم کہ وعدۂ فردا برائے چیست شیخ محمد عابد مجددی فرماتے تھے : جو لذت و راحت دنیا میں اہل فقر کو حاصل ہے ‘ اگر بادشاہوں اور امیروں کو اس کا علم ہوجاتا تو وہ اہل فقر پر رشک کرنے لگتے اور جل جاتے۔ ایک شبہ اگر دنیا میں حسب بیان مذکور لذت و راحت کی وہ حالت حاصل ہوجاتی جس کا ذکر کیا گیا ہے تو پھر ایمان کہاں جاتا ؟ دنیا میں تو خوف وامید ‘ دونوں ایمان کے لوازم میں سے ہیں (ایمان بیم و رجا کی درمیانی حالت کا نام ہے) ۔ ازالہ حالت مذکورہ تو نتیجہ ہے انس و محبت کا۔ یہ خوف کے خلاف نہیں ‘ کیونکہ خوف ہوتا ہے اللہ کی عظمت اور کبریائی کو دیکھ کر۔ مؤمن کے دل سے خوف کبھی دور نہیں ہوتا۔ وہ انبیاء جن کو اللہ کی خوشنودی حاصل ہونے کا یقین ہوتا ہے اور اپنے حسن خاتمہ میں کوئی شک نہیں ہوتا ‘ ان کو دوسروں کے مقابلے میں اللہ کی عظمت و بزرگی کا زیادہ مشاہدہ ہوتا ہے ‘ اسلئے دوسرے مؤمنوں کے مقابلے میں ان کو اللہ کا خوف بھی زیادہ ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا : میں تم لوگوں سے زیادہ اللہ کو جانتا اور تم سے زیادہ اللہ کا خوف رکھتا ہوں۔ صحابہ کو قطعی وحی کے ذریعے سے حصول رضائے خداوندی اور داخلۂ جنت کی بشارت دے دی گئی تھی۔ اللہ نے صحابہ کرام کے متعلق فرمایا ہے : لَقَدْ رضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃٍ ۔ اس قطعی بشارت کے باوجود کامل طور پر اللہ سے ڈرتے تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کی یہ حالت تھی تو صحابہ کے بعد جن مؤمنوں کو کشف ظنی کے طور پر بشارت دے دی جاتی ہے ‘ ان کا تأثر بشارت ‘ خوف کے خلاف کیسے ہوسکتا ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حیات طیبہ سے مراد ایسی زندگی ہو جو بہرحال خیر و برکات سے پُر ہوتی ہے __ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا : مؤمن کا معاملہ بھی عجیب ہے ‘ اس کا ہر کام خیر ہی خیر ہے۔ سوائے مؤمن کے اور کسی کو یہ بات حاصل نہیں۔ مؤمن پر اگر راحت آتی ہے تو وہ شکر کرتا ہے اور یہ اس کیلئے خیر ہے۔ اگر اس پر کوئی بدحالی اور دکھ آتا ہے تو وہ صبر کرتا ہے اور یہ صبر اس کیلئے خیر ہوجاتا ہے۔ رواہ احمد فی المسند ومسلم فی الصحیح عن صہیب ؓ واحمد وابن حبان عن انس والبیہقی بسند صحیح عن سعیدٍ ۔ مجاہد و قتادہ کے نزدیک حیات طیبہ سے جنت کی زندگی مراد ہے۔ عوف نے حسن بصری کی طرف بھی اس قول کی نسبت کی ہے۔ حسن نے فرمایا : جنت کے علاوہ (دنیا میں) کسی کی زندگی طیب نہیں ہوتی۔ اوّل الذکر تفسیر (یعنی دنیا میں پاکیزہ زندگی مراد لینا) ظاہر ہے ‘ کلام کی رفتار سے یہی ظاہر ہو رہا ہے۔
Ayah 16:98

فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ Open ayah 16:98 in the Quran reader

اور جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے پناہ مانگ لیا کرو

فاذا قرات القران فاستعذ باللہ من الشیطن الرجیم جب آپ قرآن پڑھیں تو شیطان مردود سے بچنے کیلئے اللہ کی پناہ طلب کریں۔ یعنی جب قرآن پڑھنے کا ارادہ کریں تو شروع کرنے سے پہلے اللہ سے پناہ کی دعا کریں تاکہ شیطان مردود قراءت میں وسوسہ نہ پیدا کرسکے اور تلاوت میں کوئی غیر لفظ شامل نہ کر دے ‘ کیونکہ شیطان کی عادت ہے کہ اللہ نے جو بھی پیغمبر یا نبی بھیجا اور اس نے اللہ کا کلام پڑھا تو شیطان نے اس کی قراءت میں مداخلت ضرور کی۔ اس آیت میں قراءت کرنے سے مراد ہے : ارادۂ قراءت کرنا۔ ایجاز کلام کیلئے ارادہ کی تعبیر فعل سے کی ‘ اس سے اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ جو شخص عبادت کرنے کا ارادہ کرلے تو اس کے بعد عبادت ضرور کرے (ایسا نہ ہو کہ ارادہ کرلے اور عبادت نہ کرے) __ نخعی اور ابن سیرین نے ظاہر لفظ کو دیکھ کر (یعنی اِذَا قَرَأت کا ظاہری مطلب مراد لے کر) صراحت کی ہے کہ تلاوت کرنے کے بعد اعوذ باللہ پڑھی جائے۔ اس کے علاوہ تاخیر تعوذ کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عبادت اقرب الی الاجابت ہوجائے گی۔ ویسے شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ کی طلب تو ہمیشہ ہی کرنا چاہئے (آغاز قراءت پر ہی موقوف نہیں ہے) ۔ صحیح روایت سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ قراءت سے پہلے دعا کرتے (یعنی اعوذ باللہ پڑھا کرتے) تھے۔ جمہور سلف و خلف کا اسی پر اجماع ہے۔ لیکن جمہور کے نزدیک قراءت سے پہلے تعوذ سنت ہے اور عطاء نے اسی آیت کو استدلال میں پیش کرتے ہوئے واجب ہونے کی صراحت کی ہے ‘ کیونکہ اِسْتَعِذْ امر کا صیغہ ہے اور امر کا حقیقی مفہوم وجوب ہے اور یہ خیال نہ کرنا چاہئے کہ اعوذ باللہ پڑھنے کا حکم شیطانی وسوسہ کو دفع کرنے کیلئے دیا گیا ہے اور یہ مسنون ہونے کی علامت ہے (اگر اغواء شیطانی کا اندیشہ نہ ہو تو ترک تعوذ جائز ہے) یہ دلیل کمزور ہے۔ وجوب تعوذ اس کے باوجود بھی ہوسکتا ہے۔ جمہور علماء تعوذ کے واجب ہونے کے قائل نہیں کیونکہ بعض اوقات رسول اللہ ﷺ نے قراءت سے پہلے تعوذ کو ترک کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جمہور کے نزدیک بعض وقت ترک تعوذ جائز ہے۔ اگر بعض وقت تعوذ کو ترک کرنا رسول اللہ ﷺ کے عمل سے ثابت نہ ہوتا تو علماء بھی ترک تعوذ کو جائز نہ قرار دیتے۔ بکثرت احادیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اعوذ پڑھے بغیر بھی قرآن کی تلاوت فرمائی۔ صحیحین میں حضرت ابن عباس کا بیان منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ آخری تہائی رات میں اٹھ بیٹھے اور سورة آل عمران کی آخری دس آیات اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلاَفِ الَّیْلِ وَالنَّھَارِ لَاٰیٰتٍ لّاُِولِی الْاَلبَابِ سے پڑھیں ‘ پھر کھڑے ہو کر وضو کیا الٰی آخرہ ..... صحیح مسلم میں آیا ہے کہ حضرت انس نے بیان کیا : ہم ایک روز رسول اللہ ﷺ کی خدمت گرامی میں حاضر تھے کہ اچانک آپ کو غفلت سی ہوگئی ‘ پھر کچھ دیر کے بعد مسکراتے ہوئے سر اٹھایا۔ ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! آپ کے مسکرانے کی کیا وجہ ہے ؟ فرمایا : ابھی مجھ پر ایک سورت اتری ہے۔ اس کے بعد آپ نے تلاوت کی : بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ - اِنَّآ اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثرُ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ اِنَّ شَانِءَکَ ھُوَ الْاَبْتَرُ ۔ مسئلہ کیا نماز کے اندر ہر رکعت میں قراءت سے پہلے اعوذ پڑھنا چاہئے ‘ یہ مسئلہ اختلافی ہے۔ امام ابوحنیفہ اور امام احمد قائل ہیں کہ نماز کی صرف پہلی رکعت میں قراءت سے پہلے اعوذ پڑھی جائے۔ امام شافعی ہر رکعت میں تعوذ کے قائل ہیں۔ شیخ ابن حجر نے لکھا ہے کہ حسن اور عطاء اور ابن سیرین کے نزدیک ہر رکعت میں اعوذ پڑھنی مستحب ہے۔ امام مالک نے کہا : فرض نماز میں تعوذ نہ کیا جائے۔ بیضاوی نے امام شافعی کے قول کی تائید میں یہ دلیل پیش کی ہے کہ جو حکم کسی شرط پر مرتب ہو ‘ قیاس کا تقاضا ہے کہ تکرار شرط سے تکرار حکم ہوگی۔ پس جب بھی کسی رکعت میں کوئی شخص قراءت کرے گا ‘ اعوذ پڑھنا ہوگی خواہ پہلی رکعت ہو یا دوسری۔ امام مالک نے اپنے مسلک کے ثبوت میں حضرت انس کی روایت پیش کی ہے۔ حضرت انس نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی اور حضرت ابوبکر ‘ حضرت عمر اور حضرت عثمان کے پیچھے بھی اور سب جہری قراءت سورة فاتحہ سے شروع کرتے تھے۔ صحیحین کی دوسری روایت ان الفاظ کے ساتھ آئی ہے کہ یہ حضرات نماز کو اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ سے شروع کرتے تھے۔ ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں : جہراً اعوذ نہ پڑھنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ پوشیدہ ‘ چپکے سے بھی نہ پڑھی جائے۔ ہماری دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ پہلی رکعت میں ثناء (سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّالخ) پڑھنے کے بعد اعوذ پڑھا کرتے تھے۔ پہلی رکعت کے علاوہ کسی دوسری رکعت میں اعوذ پڑھنا کسی روایت میں نہیں آیا۔ ابن السنی اور ابن ماجہ نے حضرت جبیر بن مطعم کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز میں داخل ہوجاتے تھے تو تین بار اللہ اکبر کبیرًا اور تین بار الحمد اللہ کثیرًا اور تین بار سبحان اللہ بکرۃٌ وَّاصِیْلاً کہنے کے بعد اَعُوْذُ باللّٰہِ مِنَ الشّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ پڑھتے تھے۔ امام احمد اور امام ابن حبان اور ابو داؤد کی روایت میں مِنَ الشّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ کے بعد مِنْ نَّفْخِہٖ وَنَفْثِہٖ وَھَمْزِہٖ کے الفاظ بھی آئے ہیں (میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں شیطان مردود سے ‘ اس کی پھونک سے اور اس کے دم کرنے سے اور اس کے وسوسہ سے) حاکم نے بھی اسی طرح بیان کیا ہے۔ امام احمد اور حاکم اور اہل السنن نے حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب رات میں نماز کو کھڑے ہوتے تھے تو تکبر کے بعد پڑھتے : سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ تَبَارکَ اسْمُکَ وَتَعَالٰی جَدُّکَ وَلاآ اِلٰہَ غَیْرُکََ پھر تین بار لا الٰہ الا اللہ اور تین بار اللہ اکبر کہنے کے بعد پڑھتے : اَعُوْذُ باللّٰہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ مِنْنَّفْخِہٖ وَنَفْثِہٖ وَھَمْزِہٖ ۔ امام احمد نے حضرت ابو امامہ کی روایت سے بھی یہی حدیث نقل کی ہے ‘ اس روایت میں اَعُوْذُ باللّٰہِ مِنَ الشّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ آیا ہے ‘ مگر اس کی اسناد میں بعض راویوں کے نام ذکر نہیں کئے گئے ہیں۔ ابن ماجہ اور ابن خزیمہ نے حضرت ابن مسعود کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ پڑھتے تھے : اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الشّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہٖ نَّفْخِہٖ وَنَفْثِہٖ ۔ حاکم اور بیہقی کی روایت کے یہ الفاظ ہیں : جب نماز میں داخل ہوتے تھے۔ حضرت انس کی روایت سے دارقطنی نے بھی ایسا ہی لکھا ہے۔ اس اسناد میں ایک راوی حسین بن علی بن اسود ہے ‘ اس کے متعلق اہل علم نے کلام کیا ہے۔ مراسیل ابو داؤد میں حسن بصری کا قول (بغیر صحابی) کے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان الفاظ کے ساتھ تعوذ کرتے تھے : اَعُوْذُ باللّٰہِ مِنَ الشّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ۔ فائدہ صاحب ہدایہ نے لکھا ہے : اَسْتَعِیْذُ باللّٰہ کہنا افضل ہے ‘ اس لفظ سے آیت کے لفظ اَسْتَعِیْذُ کی موافقت ہوجاتی ہے۔ اَعُوْذُ باللّٰہِکہنا بھی اسی کے کے قریب ہے۔ میں کہتا ہوں : ماہر اہل تجوید اور فقہاء کے نزدیک اَعُوْذُ باللّٰہِ مِنَ الشّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ آیا ہے ‘ دوسرے الفاظ نہیں آئے۔ ثعلبی اور واحدی نے بیان کیا ہے کہ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے اَعُوْذُ باللّٰہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ پڑھی۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اَعُوْذُ باللّٰہِ مِنَ الشّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ پڑھو۔ مجھے حضرت جبرئیل نے قلم سے یعنی لوح محفوظ سے (نقل کر کے) ایسا ہی پڑھایا ہے۔ ابو عمر درانی نے الیتسیر میں لکھا ہے : میں نے بعینہٖ یہی لفظ (اعوذ) پڑھا اور اسی کو لیا اور قرآن کی تلاوت شروع کرتے وقت (یعنی نماز سے باہر) جہر کے ساتھ یہی لفظ پڑھا جاتا ہے۔ اہل تجوید میں کسی کی قراءت اس کے خلاف مجھے معلوم نہیں اور پاروں وغیرہ کے شروع میں اس کو پڑھنا اہل السنۃ والجماعۃ کا مسلک ہے۔ نص قرآنی کی تعمیل اور سنت کا اتباع اسی سے ہوتا ہے۔ امام القراء حمزہ صرف سورة فاتحہ کے شروع میں اعوذ کو جہر سے پڑھتے تھے ‘ باقی قرآن میں پوشیدہ پڑھتے تھے۔ خلف کی روایت یہی ہے لیکن خلاد نے حمزہ کا مسلک یہ نقل کیا ہے کہ آپ کے نزدیک جہر و اخفاء دونوں درست ہیں۔ جہر سے پڑھے یا اخفاء سے ‘ دونوں کا اختیار ہے۔ باقی قراء کا کوئی قول جہر و اخفاء کے متعلق منقول نہیں۔
Ayah 16:99

اِنَّهٗ لَیْسَ لَهٗ سُلْطٰنٌ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 16:99 in the Quran reader

کہ جو مومن ہیں اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں اُن پر اس کا کچھ زور نہیں چلتا

ان لیس لہ سلطن علی الذین امنوا وعلی ربھم یتوکلون یقیناً شیطان کا قابو ان لوگوں پر نہیں جو ایمان دار ہیں اور اپنے رب پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔ کیونکہ اللہ پر بھروسہ رکھنے والے مؤمن احکام شیطانی پر نہیں چلتے ‘ اللہ ان کی حفاظت کرتا ہے۔ ہاں ‘ کبھی غفلت کی حالت میں بعض معمولی حقیر وسوسے ان کے دلوں میں پیدا ہوجاتے ہیں اور وہ ان وسوسوں کو قبول بھی کرلیتے ہیں ‘ اسی لئے ان کو تعوذ کا حکم دیا گیا۔ آیت بالا میں تعوذ کا حکم دیا تھا جس سے یہ خیال پیدا ہوسکتا تھا کہ شیطان کو اہل ایمان پر کوئی تسلط حاصل ہے ‘ اس خیال کی نفی اس آیت میں کردی ہے۔ کذا قال البیضاوی۔ میں کہتا ہوں : یہ آیت گزشتہ آیت کی علت بھی ہوسکتی ہے۔ مؤمن اللہ ہی سے استعاذہ اسلئے کرتے ہیں کہ ان کا بھروسہ اپنے رب پر ہی ہوتا ہے ‘ اسی کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اپنے آپ کو اسی کی پناہ میں دے دیتے ہیں۔ اللہ کی طرف رجوع اور اسی پر بھروسہ رکھنا مؤمن مخلص کا خصوصی وصف ہے جو ہر مؤمن کے ساتھ ہر وقت رہتا ہے۔ زبان سے تعوذ کرنے کا حکم تو سنت دعا کی تکمیل کیلئے ہے تاکہ ظاہر بھی باطن کے موافق ہوجائے اور شیطان سے پوری پوری امان حاصل ہوجائے۔
Ayah 16:100

اِنَّمَا سُلْطٰنُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یَتَوَلَّوْنَهٗ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِهٖ مُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 16:100 in the Quran reader

اس کا زور ان ہی لوگوں پر چلتا ہے جو اس کو رفیق بناتے ہیں اور اس کے (وسوسے کے) سبب (خدا کے ساتھ) شریک مقرر کرتے ہیں

انما سلطنہ علی الذین یتولونہ والذین ھم بہ مشرکون شیطان کا تسلط تو صرف ان لوگوں پر ہے جو اس سے رفاقت کرتے ہیں اور ان لوگوں ر ہے جو اللہ کا کسی کو ساجھی قرار دیتے ہیں __ یعنی جو شیطان کے دوست ہیں ‘ اس کی اطاعت کرتے ہیں باوجودیکہ شیطان کا تسلط حاصل نہیں ہے لیکن وہ خود شیطان کو اپنے اوپر مسلط کرلیتے ہیں۔ ہماری اس تفسیر کی رو سے اس آیت میں اور آیت وَمَا کَانَ لِیَ عَلَیْکُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ الاّآ اَنْ دَعَوْتُکُمْ میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ھُمْ بِہٖ میں بِہٖ کی ضمیر اللہ کی طرف راجع ہے ‘ یعنی اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک قرار دیتے ہیں۔ یا شیطان کی طرف راجع ہے ‘ یعنی شیطان کی وجہ سے اس کے اغواء کے سبب شرک کرتے ہیں۔
Ayah 16:101

وَ اِذَا بَدَّلْنَاۤ اٰیَةً مَّكَانَ اٰیَةٍ١ۙ وَّ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُفْتَرٍ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:101 in the Quran reader

اور جب ہم کوئی آیت کسی آیت کی جگہ بدل دیتے ہیں۔ اور خدا جو کچھ نازل فرماتا ہے اسے خوب جانتا ہے تو (کافر) کہتے ہیں کہ تم یونہی اپنی طرف سے بنا لاتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں اکثر نادان ہیں

واذا بدلنا ایۃ مکان ایۃ وا اللہ اعلم بما ینزل قالوا انما انت مفتر بل اکثر ھم لا یعلمون : اور جب ہم ایک آیت کو بدل کر دوسری آیت کو اس کی جگہ رکھ دیتے ہیں اور اللہ جو حکم بھیجتا ہے ‘ اس کو وہی خوب جانتا ہے تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ از خود تراش لیتے ہیں (ا اللہ پر دروغ بندی کرتے ہیں۔ آپ مفتری نہیں بلکہ ان میں سے اکثر جاہل ہیں۔ تبدیل آیت سے مراد کسی آیت کی تلاوت کو منسوخ کرنا ہے یا کسی حکم کو منسوخ کر کے اس کی جگہ دوسرا حکم دینا۔ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ کا یہ مطلب ہے کہ اللہ جو کچھ نازل کرتا ہے ‘ وہی خوب جانتا ہے کہ پہلی آیت اس سے قبل ضرور مبنی بر مصلحت تھی لیکن اس کا اب باقی رکھنا غلط ہے یا اس سے پہلے وہ حکم بگاڑ کا سبب بن گیا تھا ‘ اسلئے اس کو بدل کر ایسا حکم نازل کردیا جو اصلاح خلق کرنے والا ہے۔ خلاصہ یہ کہ لوگوں کیلئے کب اور کونسا حکم مناسب ہے ‘ اس کو اللہ ہی خوب جانتا ہے۔ مفتری (ا اللہ پر) دروغ بندی کرنے والا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ مشرکوں نے کہا : محمد ﷺ اپنے ساتھیوں سے مذاق کرتے ہیں۔ آج ایک حکم دیتے ہیں اور کل اس کی ممانعت کردیتے ہیں۔ یہ ازخود تراش کر اللہ پر دورغ بندی کردیتے ہیں۔ اَکْثَرُھُمْ لاَ یَعْلَمُوْنَ یعنی اکثر کافر احکام کی مصلحت نہیں جانتے۔ یا یہ مطلب ہے کہ اکثر کافر اہل علم وتمیز نہیں ہیں ‘ اگر ان کو امتیاز ہوتا تو پہچان لیتے کہ قرآن ایسا کلام نہیں کہ کوئی انسان خود بنا سکے اور محمد ﷺ ایسے آدمی نہیں ہیں کہ ان کو دروغ باف اور بہتان تراش کہا جاسکے۔ تَبَارک اللّٰہُ مَا وَحْیٌّم بِمُکْتَسَبٍ وَلاَ نَبِیٌ عَلٰی غَیْبٍم بِمُتَّھُمٍ ا اللہ بزرگ ہے ! کوئی وحی دماغی تراشیدہ نہیں ہوسکتی اور نہ کوئی نبی ایسا ہوتا ہے کہ وحی کے معاملہ میں اس پر الزام لگایا جاسکے۔
Ayah 16:102

قُلْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِیُثَبِّتَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 16:102 in the Quran reader

کہہ دو کہ اس کو روح القدس تمہارے پروردگار کی طرف سے سچائی کے ساتھ لے کر نازل ہوئے ہیں تاکہ یہ (قرآن) مومنوں کو ثابت قدم رکھے اور حکم ماننے والوں کے لئے تو (یہ) ہدایت اور بشارت ہے

قل نزلہ روح القدس من ربک بالحق لیثبت الذین امنوا وھدی وبشری للمسلمین : آپ کہہ دیجئے کہ اس کو جبرئیل میرے رب کی طرف سے حکمت کے مطابق لے کر آئے ہیں تاکہ ایمان والوں کو ثابت قدم رکھے اور ان مسلمانوں کیلئے ہدایت اور خوشخبری (کا ذریعہ) ہوجائے۔ رُوْحُ الْقُدُس سے مراد حضرت جبرئیل ہیں۔ قدس کا معنی ہے : پاکی ‘ یعنی پاکی والی روح۔ نَزَّلَہٗ تنزیل (مصدر) تنزیل کا معنی ہے : تدریجاً ‘ تھوڑا تھوڑا نازل کرنا۔ یہ لفظ تنبیہ کر رہا ہے کہ قرآن کا مصالح کے مطابق تدریجی نزول تبدیل کا مقتضی ہے (اگر بعض احکام کو بدلنا نہ ہوتا تو یکدم سب قرآن نازل کردیا جاتا) الْحَقِّ حکمت کاملہ۔ لِیُثَبِّتَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یعنی تدریجاً اسلئے نزول ہوا کہ جو لوگ اس کے کلام اللہ ہونے پر ایمان رکھتے ہیں ‘ ان کے ایمان میں مزید استحکام ہوجائے اور ناسخ کو سننے کے بعد جب وہ غور کریں اور سمجھیں کہ حکمت و مصلحت کا تقاضا یہی تھا کہ پچھلا حکم اس وقت منسوخ کر کے یہ نیا حکم نازل کردیا جائے تو ان کے عقائد میں مزید پختگی پیدا ہوجائے اور اطمینان قلب حاصل ہوجائے۔ یا یہ مطلب ہے کہ ناسخ کو نازل کر کے ایمانداروں کی جانچ کرنی مقصود ہے۔ جب وہ قدیم حکم کی جگہ جدید حکم کو برحق یقین کرلیں اور سمجھ جائیں کہ اللہ حکمت والا ہے ‘ اس کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں تو اس سے ان کو مزید استحکام ایمانی حاصل ہوجائے۔ لِلْمُسْلِمِیْنَ مسلمین سے مراد ہیں : فرمانبردار ‘ مطیع حکم۔ صرف مسلمانوں کیلئے ہدایت و بشارت کا ذریعہ قرار دینے سے درپردہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ غیر مسلموں کیلئے یہ باعث ہدایت و بشارت نہیں ہے۔
Ayah 16:103

وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا یُعَلِّمُهٗ بَشَرٌ١ؕ لِسَانُ الَّذِیْ یُلْحِدُوْنَ اِلَیْهِ اَعْجَمِیٌّ وَّ هٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 16:103 in the Quran reader

اور ہمیں معلوم ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) کو ایک شخص سکھا جاتا ہے۔ مگر جس کی طرف (تعلیم کی) نسبت کرتے ہیں اس کی زبان تو عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے

ولقد نعلم انھم یقولون انما یعلمہ بشر اور ہم کو معلوم ہے کہ یہ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کو یہ کلام آدمی سکھا جاتا ہے ‘ یہ اللہ کی طرف سے نہیں ہے۔ بغوی نے لکھا ہے : جس شخص کے متعلق وہ قرآن سکھا جانے کی جھوٹی نسبت کرتے تھے ‘ وہ کون آدمی تھا ؟ اس کی تعیین میں علماء کا اختلاف ہے۔ ابن جریر نے مسند میں ضعیف سند سے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ مکہ میں ایک عیسائی عجمی غلام تھا جو لوہار تھا ‘ اس کا نام بلعام تھا۔ رسول اللہ ﷺ اس کے پاس آتے جاتے تھے۔ مشرکوں نے آپ کو بلعام کے پاس آتا جاتا دیکھ کر کہا : ان کو بلعام سکھا دیتا ہے۔ عکرمہ نے کہا : بنی مغیرہ کا ایک غلام تھا جس کا نام یعیش تھا۔ وہ کتابیں پڑھتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ اس کو قرآن سکھاتے تھے۔ قریش کہنے لگے : ان کو یعیش سکھا دیتا ہے۔ فراء نے کہا : حویطب بن عبدالعزی کا ایک غلام تھا جس کی زبان عجمی تھی ‘ اس کا نام عائش تھا۔ مشرک کہنے لگے : یہ عائش سے سیکھ لیتے ہیں۔ آخر میں عائش مسلمان ہوگیا تھا اور اسلام میں پختہ رہا۔ ابن اسحاق نے بیان کیا : رسول اللہ ﷺ مروہ پہاڑی کے قریب ایک رومی عیسائی غلام کے پاس بیٹھا کرتے تھے ‘ اس کا نام جبر تھا۔ جبر ‘ بنی الحضرم قبیلہ میں سے کسی کا غلام تھا اور کتابیں پڑھا کرتا تھا۔ عبدا اللہ بن مسلم حضرمی کا بیان ہے : ہمارے دو غلام تھے جو یمن کے تھے۔ ایک کا نام یسار اور دوسرے کا نام جبر تھا۔ یسار کی کنیت ابو فکیہہ تھی۔ دونوں مکہ میں تلواریں بنایا کرتے تھے اور توریت و انجیل پڑھا کرتے تھے۔ کبھی کبھی رسول اللہ ﷺ ان کی طرف سے گذرتے اور وہ (انجیل یا توریت) پڑھتے ہوتے تو حضور ﷺ ٹھہر کر سننے لگتے۔ ابن ابی حاتم نے حصین بن عبد اللہ کے طریق سے بھی ایسا ہی بیان کیا ہے۔ ضحاک کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جب کفار دکھ دیتے تو آپ ان دونوں غلاموں کے پاس جا کر بیٹھ جاتے اور ان کے کلام سے کچھ سکھ محسوس کرتے۔ مشرک کہنے لگے : محمد ﷺ انہی دونوں سے سیکھ لیتے ہیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اللہ نے مشرکوں کی تکذیب کرتے ہوئے فرمایا : لسان الذی یلحدون الیہ اعجمی وھذا لسان عربی مبین جس شخص کی طرف اس کی نسبت کرتے ہیں ‘ اس کی زبان تو عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے۔ قاموس میں ہے : لَحَدَ اَلیْہِ اس کی طرف مائل ہوا۔ اِلْتَحَدَ کا بھی یہی معنی ہے۔ اَلْحَدَ کا معنی بھی مائل ہوا ‘ مڑا ‘ ہے۔ جس کی طرف مائل ہوتے ہیں ‘ یعنی اشارہ کرتے ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ وہ لوگ اپنے قول کو سچائی اور استقامت سے موڑ کر اس شخص کی طرف پھیر دیتے ہیں۔ اَعْجَمِیٌّ صاف عربی نہ بولنے والا۔ قاموس میں ہے : لفظ اعجم قوم اور شخص دونوں کی صفت میں آتا ہے۔ اعجم اور اعجمی ‘ گونگا اور وہ شخص جو صاف (عربی) نہ بول سکے۔ عجمی ‘ عجم کا رہنے ولا جو جنس عجم سے ہو خواہ فیصح البیان ہو۔ غیر عرب کو عجم کہتے ہیں۔ بعض محققین لغت کا قول ہے کہ عجمہ کا معنی ایانت کے معنی کے مقابل ہے ‘ یعنی صاف زبان میں بات نہ کرنا۔ اعجام کا معنی ہے : ابہام۔ اِسْتَعْجَمَتِ الدار گھر گونگا ہوگیا ‘ یعنی سب گھر والے مرگئے ‘ کوئی جواب دینے والا بھی باقی نہ رہا۔ ھٰذَا یعنی یہ قرآن مبین ‘ واصف ‘ صاف ‘ فصیح۔ کافروں کی بہتان تراشی کا جواب اس آیت میں دیا گیا ہے جس کی تقریر دو طرح سے ہوسکتی ہے : (1) وہ شخص جس کی طرف قرآن کی نسبت کی جاتی ہے ‘ اس کی بولی عجمی ہے جس کو نہ رسول اللہ ﷺ سمجھتے ہیں نہ تم لوگ سمجھتے ہو اور قرآن کی زبان عربی فصیح ہے جس کو تم لوگ سمجھتے ہو ‘ پھر یہ قرآن اس شخص کا بتایا ہوا کیسے ہوسکتا ہے ؟ (2) قرآن کے معانی معجزہ ہیں اور معانی کی طرح الفاظ کی ترکیب بھی معجزہ ہے۔ وہ عجمی شخص توریت اور انجیل پڑھتا ہے۔ توریت و انجیل کے معانی سے قرآن کے معانی مطابقت ضرور رکھتے ہیں ‘ لیکن ان معانی کو معجز عربی عبارت میں ادا کرنا تو معجزہ ہے جو کسی انسان کی قدرت میں نہیں ہے۔ آیت فَأتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّنْ مِثْلِہٖ میں جو دعوت مقابلہ دی گئی ہے ‘ اس کے مقابلہ سے سب کا عاجز رہنا خود بتارہا ہے کہ قرآن کا مقابلہ بشری طاقت سے باہر ہے۔ پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ آسمانی کتابوں کے علوم حاصل کرنا اتنا آسان نہیں۔ جب تک کوئی ماہر اور قابل معلم نہ ہو جو تمام علوم سماویہ میں پوری دستگاہ رکھتا ہو اور ایک طویل مدت تک درس نہ دیتا رہے ‘ اس وقت تک ان علوم کا حصول ناممکن ہے۔ ایک معمولی غلام جو آسمانی علوم کا خود ہی ماہر نہ ہو ‘ کچھ شدبد رکھتا ہو اور اس کی زبان بھی عجمی ہو ‘ اس کے پاس کبھی کبھی کسی عربی شخص کا آنا جانا کس طرح عربی شخص کو علوم سماویہ کا اس حد تک ماہر بنا سکتا ہے کہ وہ عربی زبان میں تمام کتابوں کے علوم کو اعجازی طور پر منتقل کر دے جبکہ استاد کی زبان سے شاگرد واقف بھی نہ ہو۔
Ayah 16:104

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۙ لَا یَهْدِیْهِمُ اللّٰهُ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:104 in the Quran reader

یہ لوگ خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے ان کو خدا ہدایت نہیں دیتا اور ان کے لئے عذاب الیم ہے

ان الذین لا یؤمنون بایت اللہ لا یھدیھم اللہ ولھم عذاب الیم جو لوگ اللہ کی آیات پر ایمان نہیں رکھتے (اور ان کو اللہ کی طرف سے نازل شدہ نہیں مانتے) یقیناً اللہ ان کو کبھی راہ پر نہیں لائے گا اور ان کیلئے دردناک سزا ہوگی۔ یعنی راہ حق پر نہیں لائے گا یا نجات اور جنت کا راستہ نہیں دکھائے گا اور آخرت میں ان کو دکھ کی سزا دی جائے گی۔
Ayah 16:105

اِنَّمَا یَفْتَرِی الْكَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 16:105 in the Quran reader

جھوٹ افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے۔ اور وہی جھوٹے ہیں

انما یفتری الکذب الذین لا یؤمنون بایت اواولئک ھم الکذبون بس جھوٹ تراشنے والے تو یہی لوگ ہیں جو اللہ کی آیات پر ایمان نہیں لاتے اور یہی لوگ پورے جھوٹے ہیں۔ یعنی حقیقت میں یہی جھوٹے ہیں ‘ ایمان لانے والے جھوٹے نہیں ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے دور میں تمام صحابہ سچے اور عادل تھے۔ یا یہ مطلب ہے کہ کامل جھوٹے اور پورے پورے کاذب یہی لوگ ہیں کیونکہ ظہور معجزات کے بعد اللہ کے معصوم نبی اور اللہ کی آیات کا انکار اور اللہ کے رسول ﷺ پر تہمت تراشی سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ یا ھُمُ الْکٰذِبُوْن سے یہ مراد ہے کہ یہ لوگ جھوٹ بولنے کے عادی ہیں ‘ ان کو جھوٹ سے کوئی چیز نہیں روک سکتی نہ شرافت ‘ نہ دین۔ یا یہ مطلب ہے کہ یہ لوگ جو آپ کو مفتری قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کوئی آدمی آپ کو سکھا جاتا ہے ‘ اس قول میں یہ ہی جھوٹے ہیں۔ اِنَّمَا یَفْتَرِی الخ جملہ فعلیہ ہے جو بتارہا ہے کہ افتراء کرنے والے صرف یہی لوگ ہیں اور اُوْلٰٓءِکَ ھُمُْ الْکٰذِبُوْنَ جملہ اسمیہ ہے جو بتارہا ہے کہ جھوٹ بولنا ان کی عادت لازمہ ہے۔ بغوی نے اپنی سند سے لکھا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن حراد نے فرمایا : میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! کیا مؤمن زنا کرسکتا ہے ؟ فرمایا : کبھی ایسا ہوسکتا ہے۔ میں نے عرض کیا : کیا مؤمن چوری کرسکتا ہے ؟ فرمایا : کبھی ایسا ہوسکتا ہے۔ میں نے عرض کیا : کیا مؤمن جھوٹ بول سکتا ہے ؟ فرمایا : نہیں۔ اللہ نے فرما دیا ہے : اِنَّمَا یَفْتَرِی الْکَذِبَ الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ۔ امام احمد نے حضرت ابو امامہ کی روایت بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سوائے خیانت اور جھوٹ کے مؤمن کی سرشت میں تمام (اچھی ‘ بری) باتیں ہوسکتی ہیں۔ بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت سعد بن ابی وقاص کی روایت سے بھی یہ حدیث بیان کی ہے۔ بیہقی نے شعب الایمان میں اور امام مالک نے مرسلاً بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا : کیا مؤمن درپوک ہوسکتا ہے ؟ فرمایا : ہاں۔ عرض کیا گیا : کیا مؤمن بخیل ہوسکتا ہے ؟ فرمایا : ہاں۔ پوچھا گیا : کیا مؤمن بڑا جھوٹا ہوسکتا ہے ؟ فرمایا : نہیں۔ میں کہتا ہوں : ان احادیث میں جو مؤمن کا ذکر آیا ہے ‘ بظاہر اس سے مراد وہ مؤمن ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں موجود تھے (ورنہ بعد کے زمانہ میں تو بکثرت مؤمن جھوٹے تھے اور اب بھی ہیں) اسی لئے تمام صحابہ کے سچے اور عادل ہونے پر علماء کا اجماع ہے اور یہی وجہ ہے کہ کسی صحابی کی روایت قابل جرح نہیں ہے (بشرطیکہ صحابہ تک روایت کا سلسلہ غیر مجروح ہو) یا احادیث میں جس مؤمن کا ذکر ہے ‘ اس سے مراد کامل مؤمن ہے ‘ یعنی صوفی صافی عارف خدا فانی فی اللہ باقی باللہ۔