16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 16:67

وَ مِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِیْلِ وَ الْاَعْنَابِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْهُ سَكَرًا وَّ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 16:67 in the Quran reader

اور کھجور اور انگور کے میووں سے بھی (تم پینے کی چیزیں تیار کرتے ہو کہ ان سے شراب بناتے ہو) اور عمدہ رزق (کھاتے ہو) جو لوگ سمجھ رکھتے ہیں ان کے لیے ان (چیزوں) میں (قدرت خدا کی) نشانی ہے

ومن ثمرٰت النخیل والاعناب تتخذون منہ سکرا ورزقا حسنا اور (نیز) کھجور اور انگوروں کے پھلوں سے تم لوگ نشہ کی چیز اور عمدہ کھانے کی چیزیں بناتے ہو۔ (حضرت مفسر نے لکھا ہے) نسقی فعل محذوف ہے اور ثمرات سے مراد ہے : کھجور و انگور کا شیرہ عرق ‘ یعنی ہم تم کو پینے کیلئے شیرۂ کھجور و انگور دیتے ہیں۔ تَتَّخِذُوْنَ مِنْہُ سے جملہ علیحدہ ہے۔ یا مِنْ ثَمَرَات کا تعلق تَتَّخِذُوْنَ سے ہے (اسی کے موافق ترجمہ کیا گیا ہے) سَکَرَ نشہ آور چیز ‘ یا مصدر ہے بمعنی صفت یعنی شراب۔ قاموس میں ہے : سَکِرَ (بیہوش ہوگیا) ہوش کی ضد ہے۔ سُکْر ‘ سُکُر ‘ سَکْر ‘ سَکَر ‘ سکران یہ سب مصدر ہیں۔ سُکُر بضمتین شراب اور اس نبیذ کو بھی کہتے ہیں جو کھجوروں اور کشوث سے اور ہر نشہ آور چیز سے بنایا جاتا ہے اور سرکہ اور طعام کو بھی سُکُر کہا جاتا ہے۔ صاحب ہدایہ نے لکھا ہے : سَکَر وہ ہوتا ہے جو کھجوروں کے عرق سے بنایا جاتا ہے۔ شریک بن عبد اللہ نے کہا : اس آیت کی وجہ سے سَکَر کی اباحت ثابت ہو رہی ہے کیونکہ اللہ نے بطور احسان و منت نہی سَکَر تیار کرنے کا ذکر کیا ہے اور حرام چیز کا ذکر بطور احسان نہیں کیا جاسکتا۔ ہماری دلیل یہ ہے کہ سَکَرکی حرمت پر صحابہ کا اجماع ہے۔ رہا آیت کا جواب تو (یہ آیت مکی ہے) اس کا نزول اس وقت ہوا جب ہر طرح کی پینے کی چیز حلال تھی۔ انتہیٰ کلامہ۔ بغوی نے لکھا ہے : کچھ لوگوں کا قول ہے کہ سَکَر شراب ہے اور رزق حسن سرکہ ‘ رُب چھوارے اور کشمش اور یہ حکم تحریم خمر سے پہلے کا ہے (یعنی اس آیت کا نزول حرمت شراب سے پہلے ہوا تھا) یہ قول حضرت ابن مسعود ‘ حضرت ابن عمر ‘ سعید بن جبیر ‘ حسن اور مجاہد کا ہے۔ بغوی نے یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس کا قول ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ سَکَر وہ پھل ہیں جو حرام کر دئیے گئے اور رزق حسن سے مراد حلال پھل ہیں (شاید حضرت ابن عباس کے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ جو عرق یا نبیذ پھلوں کو حرام کردیا گیا ہے ‘ وہ سَکَر ہے اور جو عرق یا نبیذ حلال رکھا گیا ‘ وہ رزق حسن ہے۔ مترجم) ابو عبیدہ نے کہا : سَکَر سے مراد ہے : کھانا۔ عرب بولتے ہیں : ھٰذَا سَکَرٌ لَکَ یہ آپ کا کھانا ہے۔ شعبی نے کہا : سَکَر سے پینے کی چیز مراد ہے اور رزق حسن سے کھانے کی چیز۔ عوفی نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ حبشی زبان میں سَکَر سرکہ کو کہتے ہیں۔ ضحاک اور نخعی کا قول ہے کہ حبشی زبان میں نشہ آور نبیذ کو سَکَر کہتے ہیں اور سَکَر چھواروں اور کشمش کے گاڑھے خیسانیدہ اور پکائے ہوئے عرق کا نام تھا۔ سب سے زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ آیت تَتَّخِذُوْنَ مِنْہُ سَکَرًا منسوخ ہے۔ انتہیٰ کلام البغوی ایک اور مقام پر بغوی نے لکھا ہے : خلاصۂ کلام یہ ہے کہ شراب کے متعلق چار آیات نازل ہوئی تھیں۔ آیت وَمِنْ ثَمَرَات النَّخِیْلِ وَالْاَعْنَابِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْہُ سَکَرًا وَّرِزْقًا حَسَنًاط مکہ میں نازل ہوئی۔ اس کے نزول کے بعد مسلمان شراب پیتے رہے۔ شراب اس زمانہ میں حلال تھی۔ اس کے بعد مدینہ میں آیت یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْخََمْرِ وَالْمَیْسِرِ نازل ہوئی۔ اس کے کچھ زمانہ کے بعد آیت یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَقْرَبُوا الصَّلٰوۃ وَاَنْتُمْ سُکَارٰی نازل ہوئی اور سب سے آخر میں سورة مائدہ والی آیت نازل ہوئی (جس میں شراب کی قطعی ابدی حرمت ہوگئی) چاروں آیات کے نزول کی تفصیل سورة بقرہ کی آیت یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْخََمْرِ وَالْمَیْسِر کی تفسیر کے ذیل میں ہم نے ذکر کردی ہے۔ ان فی ذلک لایۃ لقوم یعقلون بلاشبہ اس میں بڑی نشانی ہے ان لوگوں کیلئے جو سمجھتے ہیں۔ یعنی آیات میں غور و فکر کرنے کا کام اپنی عقلوں سے لیتے ہیں۔
Ayah 16:68

وَ اَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِیْ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا وَّ مِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّا یَعْرِشُوْنَۙ Open ayah 16:68 in the Quran reader

اور تمہارے پروردگار نے شہد کی مکھیوں کو ارشاد فرمایا کہ پہاڑوں میں اور درختوں میں اور اونچی اونچی چھتریوں میں جو لوگ بناتے ہیں گھر بنا

و اوحی ربک الی النحل ان اتخذی من الجبال بیوتا ومن الشجر ومما یعرشون : اور آپ کے رب نے شہد کی مکھی کے جی میں یہ بات ڈالی کہ تو بعض پہاڑوں میں گھر بنا لے اور بعض درختوں میں بھی اور لوگ جو چھتیں بناتے ہیں ‘ ان میں بھی۔ وحی کرنے سے مراد ہے : الہام کرنا اور دل میں ڈالنا۔ یَعْرِشُوْنَ سایہ کے گھروں کی چھتیں بناتے ہیں۔ یا عرش سے مراد ہے : انگوروں کی ٹٹیاں۔ عرش کا لغوی معنی ہے : چھت۔ مِنَ الْجِبَال اور مِنَ الشَّجَر اور مِمَّا یعرشون میں مِنْ تبعیضیہ ہے کیونکہ سب پہاڑوں میں اور سب درختوں میں اور سب چھتوں میں اور انگوروں کی ٹٹیوں میں شہد کی مکھی کے چھتے نہیں لگتے ہیں ‘ نہ ہر جگہ چھتا ہوتا ہے۔ بعض پہاڑوں اور بعض درختوں وغیرہ میں بعض جگہ چھتے لگتے ہیں۔ شہد کی مکھیوں کے چھتے کو مکان کہنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ انسانی مکان کی طرح مکھیوں کے چھتوں میں بھی تمام ضروری حصے ہوتے ہیں۔ ان میں بھی متعدد کمرے ‘ چھتیں اور دروازے ہوتے ہیں اور وہ بھی حسن صنعت کا ایسا اعلیٰ نمونہ ہوتے ہیں کہ سوائے کسی ماہر انجینئر کے اور کوئی انسان بھی نہ ایسا نقشہ بنا سکتا ہے ‘ نہ ایسی تعمیر کرسکتا ہے۔
Ayah 16:69

ثُمَّ كُلِیْ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسْلُكِیْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا١ؕ یَخْرُجُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ فِیْهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:69 in the Quran reader

اور ہر قسم کے میوے کھا۔ اور اپنے پروردگار کے صاف رستوں پر چلی جا۔ اس کے پیٹ سے پینے کی چیز نکلتی ہے جس کے مختلف رنگ ہوتے ہیں اس میں لوگوں (کے کئی امراض) کی شفا ہے۔ بےشک سوچنے والوں کے لیے اس میں بھی نشانی ہے

ثم کلی من کلی الثمرات فاسلکی سبل ربک ذللا پھر ہر قسم (یعنی ہر ضروری اور مناسب قسم) کے پھلوں کو چوس اور پھر اپنے رب کے راستوں پر چل جو آسان ہیں۔ الثَّمَرَات میں الف لام جنسی ہے اور لفظ کُلِّ استغراقی نہیں ہے بلکہ ہر مرغوب اور مناسب پھل مراد ہے۔ یعنی ہر قسم کے مناسب ‘ پسندیدہ اور میسر آجانے والے پھلوں کا عرق چوس لے ‘ خواہ میٹھے ہوں یا کڑوے۔ سُبُلَ رَبِّکِ یعنی ان راستوں پر چل کر شہد تیار کر جو تیرے رب نے تجھے بتا دئیے ہیں اور فطری طور پر تجھے سکھا دئیے ہیں اور جب دور دور کے پھلوں کا رس چوس کر اپنے گھر کو لوٹے تو اپنے رب کے بتائے ہوئے راستوں پر لوٹنا ‘ راستہ نہ بھول جانا۔ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ کے بتائے ہوئے ایسے راستوں پر چلنا کہ تیرے پیٹ کے اندر پھلوں اور پھولوں سے چوسا ہوا عرق شہد بن جائے۔ ذُلُلاً یعنی وہ راستے اللہ نے تیرے لئے آسان کر دئیے ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ کے حکم کی اطاعت میں لگی رہنا اور حکم کے زیراثر راستوں پر چلنا۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ مکھیوں کے سردار تمام مکھیوں کو ساتھ لے کر ایک جگہ سے دوسری جگہ پر منتقل ہوجاتے ہیں اور سب مکھیوں کا ایک بادشاہ ہوتا ہے جس کو یعسوب کہا جاتا ہے۔ جب وہ کہیں سے چل دیتا ہے تو سب مکھیاں چل دیتی ہیں اور جہاں کہیں وہ رک جاتا ہے تو سب ٹھہر جاتی ہیں۔ یخرج من بطونھا شراب مختلف الوانہ اس کے پیٹ میں سے ایک پینے کی چیز نکلتی ہے جس کے رنگ مختلف ہوتے ہیں۔ یعنی سرخ بھی ہوتا ہے ‘ سفید بھی ‘ زرد بھی اور سبز بھی۔ فیہ شفآء للناس کہ اس میں لوگوں کیلئے شفاء ہے۔ مجاہد نے فِیْہِ کی ضمیر قرآن کی طرف راجع کی ہے ‘ یعنی قرآن میں لوگوں کیلئے شفاء ہے۔ لیکن آیت کی رفتار بتارہی ہے کہ شہد کی طرف ضمیر راجع ہے ‘ یعنی شہد میں شفاء ہے۔ یعنی بعض امراض کیلئے ‘ بعض حالات میں شہد کے اندر شفاء ہے۔ شِفَآءٌ نکرہ ہے۔ کلام موجب ہے ‘ اسلئے تعمیم فی الجملہ ہے ‘ یعنی بعض امراض کے بعض حالات میں شفاء ہے۔ ایک شبہ بعض حالات میں امراض کیلئے شفاء تو ہر چیز میں ہے ‘ یہاں تک کہ زہر میں بھی بعض امراض کیلئے شفاء ہے ‘ شہد ہی کی کیا خصوصیت ہے ؟ ازالہ شِفَآءٌ میں تنوین عظمت کو ظاہر کر رہی ہے ‘ یعنی شہد میں اکثر امراض کیلئے شفائے عظیم ہے۔ حضرت ابن مسعود راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دو شفاؤں کو اختیار کرو ‘ شہد اور قرآن (اوّل میں شفائے جسمانی ہے اور دوسرے میں شفائے اخلاقی و روحانی) رواہ ابن ماجۃ والحاکم بسند صحیح۔ یہ حدیث بتارہی ہے کہ شہد میں شفاء غالب ہے۔ بغوی نے حضرت ابن مسعود کا قول نقل کیا ہے کہ شہد ہر مرض کی شفاء ہے اور دلوں کی بیماریوں کی قرآن شفاء ہے۔ غالباً حضرت ابن مسعود نے حدیث مرفوع (مذکورۂ بالا) سے ہر مرض کی شفاء ہونے کا مفہوم سمجھ لیا ‘ اسی لئے شہد کو ہر مرض کی شفاء قرار دیا۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ بعض امراض کیلئے تو شہد تنہا شفاء ہے ‘ اکثر بلغمی امراض میں مفید ہے اور بعض امراض کے علاج میں دوسری دواؤں کے ساتھ ملا کر شہد مفید صحت ہے۔ ہر معجون کا جزء اعظم شہد ہوتا ہے۔ صحیحین میں حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کیا : میرے بھائی کو اسہال کی شکایت ہے۔ فرمایا : شہد پلاؤ۔ حسب الحکم اس شخص نے شہد پلایا (کچھ فائدہ نہ ہوا) وہ پھر خدمت گرامی میں حاضر ہو اور عرض کیا : حضور ﷺ ! میں نے اپنے بھائی کو شہد پلایا تھا مگر شہد سے اسہال میں اور اضافہ ہوگیا۔ فرمایا : اللہ سچا ہے اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا۔ اس نے جا کر پھر شہد پلایا اور مریض اچھا ہوگیا۔ اس حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ (پیٹ کے) بعض امراض کیلئے تنہا شہد شفاء ہے ‘ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ خلوص اور حسن نیت سے جو شخص تنہا شہد کا استعمال کرے گا ‘ اللہ اس کو شفاء دے گا ‘ خواہ کوئی مرض ہو۔ کذا قال السیوطی۔ (صحیح بات یہ ہے کہ ہر قسم کے شہد کا ہر مرض کیلئے شفاء ہونا نہ قرآن میں مذکور ہے نہ حدیث میں۔ ہر فصل کے شہد کی خاصیت جدا ہوتی ہے۔ کس قسم کے پھلوں اور پھولوں کے عرق سے شہد تیار ہوا ہے ‘ اس کا لحاظ بھی موسم کے مطابق ضروری ہے۔ شہد کے علاوہ کوئی شفاء بخش دوا ایسی نہیں کہ ہر قسم کے پھلوں اور پھولوں کا خلاصہ کھنچ کر اس میں آگیا ہو۔ ہر دوا کا ایک خاص مزاج اور خاصیت ہے۔ شہد ہی ایک ایسی چیز ہے جو فصل کے اختلاف اور پھلوں ‘ پھولوں کے تنوع کے لحاظ سے اپنے اندر مختلف خاصیات رکھتا ہے ‘ پس شہد کا ہر مرض کیلئے شفاء ہونا بجائے خود صحیح ہے۔ لیکن مرض کی نوعیت کے لحاظ سے شہد کی نوعیت اور جن پھلوں اور پھولوں سے شہد بنا ہوا ‘ ان کی دریافت لازم ہے۔ پھر شہد کے طریق استعمال اور مقدار استعمال کا بھی بڑا فرق ہے۔ اگر طریق استعمال اور مقدار ضروری کا علم نہ ہو تو اس سے شہد کے شفاء بخش ہونے کی نفی نہیں کی جاسکتی۔ ہر شہد ایک کیفیت کا بھی حامل نہیں ہوتا ‘ کسی میں گرمی زیادہ ہوتی ہے ‘ کسی میں کم۔ بعض شہد فالج ‘ لقوہ اور بڑے بڑے اعصابی امراض میں بہت مفید ہوتے ہیں اور بعض کم مفید اور بعض بالکل فائدہ نہیں دیتے۔ اسہال کو روکنے کیلئے بھی شہد مفیدہوتا ہے اور جاری کرنے کیلئے بھی۔ فاسد مادہ کو باہر نکال کر پھینک دیتا ہے اور فاسد غذائی مادہ کو نکال کر پھینکنے کے بعد قبض بھی کردیتا ہے۔ غرض شہد مقوی بھی ہے ‘ مفرح بھی۔ اچھی غذا بھی ہے اور عمدہ دوا بھی۔ جو اور جتنے فوائد شہد کے اندر ہیں ‘ وہ دنیا کی کسی چیز کے اندر نہیں ہیں۔ حقیقت میں شہد مجمع الاضداد ہے) ۔ ان فی ذلک لایۃ لقوم یتفکرون اس میں بھی ان لوگوں کیلئے (ا اللہ کی قدرت ‘ حکمت اور وحدانیت و الوہیت کی) بڑی دلیل ہے جو غور کرتے ہیں۔ جو شخص مکھیوں کی اس صنعتی مہارت اور عجیب پر حکمت نظم پر غور کرے گا ‘ اس کو صاف نظر آجائے گا کہ یہ سب کارفرمائی اور اعجوبہ زائی درپردہ کسی قادر حکیم کی ہے ‘ وہی مکھیوں کے دل میں یہ تدبیریں ڈالتا اور ترکیبیں بتاتا ہے۔
Ayah 16:70

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۙ۫ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْ لَا یَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 16:70 in the Quran reader

اور خدا ہی نے تم کو پیدا کیا۔ پھر وہی تم کو موت دیتا ہے اور تم میں بعض ایسے ہوتے ہیں کہ نہایت خراب عمر کو پہنچ جاتے ہیں اور (بہت کچھ) جاننے کے بعد ہر چیز سے بےعلم ہوجاتے ہیں۔ بےشک خدا (سب کچھ) جاننے والا (اور) قدرت والا ہے

وا اللہ خلقکم ثم یتوفکم ومکن من یرد الی ارذل العمر لکی لا یعلم بعد علم شیئا ان اللہ علیم قدیر اور اللہ ہی نے تم کو پیدا کیا اور وہی تمہاری جانیں قبض کرتا ہے (بچپن میں ‘ یا جوانی میں ‘ یا متوسط عمر میں ‘ یا بڑھاپے میں) اور بعض تم میں سے وہ ہیں جو ناکارہ عمر تک پہنچائے جاتے ہیں جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ ایک چیز سے باخبر ہونے کے بعد پھر بیخبر ہوجاتا ہے۔ بیشک اللہ بڑے علم اور بڑی قدرت والا ہے۔ اَرْذَلِ الْعُمُرِ بدترین عمر ‘ ناکارہ عمر ‘ انتہائی بڑھاپا۔ قتادہ نے کہا : ارذل عمر نوے سال ہے۔ حضرت علی نے فرمایا : پچھتر برس ارذل عمر ہے۔ بعض نے اسّی برس کی عمر کو ارذل عمر کہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ اپنی دعا میں فرماتے تھے : اے اللہ ! میں بڑی عمر سے تیری پناہ لیتا ہوں۔ دوسری روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ اے اللہ ! میں تیری پناہ کا طالب ہوں کہ مجھے ارذل عمر تک پہنچایا جائے۔ صحیحین وغیرہ میں بھی ایسی ہی روایت آئی ہے۔ باخبر ہونے کے بعد بیخبر ہوجانے کا یہ مطلب ہے کہ تمام معلومات کو بھول جائے اور بچوں کی طرح نادان اور ضعیف الفہم ہوجائے۔ عکرمہ نے کہا : جو قرآن (ہمیشہ) پڑھتا ہے ‘ وہ اس حالت پر نہیں پہنچتا۔ اِنَّ اللّہَ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ یعنی اللہ لوگوں کی عمروں کی مقداروں سے خوب واقف ہے اور ہر چیز پر قادر ہے۔ پیر فرتوت کو کبھی نہیں چھوڑتا اور جوان قوی کی جان قبض کرلیتا ہے۔ اس آیت سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ لوگوں کے احوال کا اختلاف و تفاوت اللہ حکیم وعلیم کے اندازے کے مطابق اور اس کی مشیّت کے موافق ہے ‘ طبعی اور خودبخود نہیں ہے۔ اگر طبعی اقتضاء ہوتا تو اس حد تک نہ ہوتا (کہ عالم صغیر ہونے کے بعد آدمی قطعاً بیخبر ہوجائے کہ باوجود بیماری نہ ہونے کے محض ترقی عمر کی وجہ سے بچہ کی طرح ہوجائے اور علم و عمل سے بیخبر ہوجائے) ۔
Ayah 16:71

وَ اللّٰهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ فِی الرِّزْقِ١ۚ فَمَا الَّذِیْنَ فُضِّلُوْا بِرَآدِّیْ رِزْقِهِمْ عَلٰى مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَهُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ١ؕ اَفَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 16:71 in the Quran reader

اور خدا نے رزق (ودولت) میں بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے تو جن لوگوں کو فضیلت دی ہے وہ اپنا رزق اپنے مملوکوں کو تو دے ڈالنے والے ہیں نہیں کہ سب اس میں برابر ہوجائیں۔ تو کیا یہ لوگ نعمت الہیٰ کے منکر ہیں

وا اللہ فضل بعضکم علی بعض فی الرزق اور اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں برتری عطا کی ہے۔ کوئی مالدار ہے ‘ مالک ہے ‘ بادشاہ ہے ‘ ہزاروں لاکھوں روپیہ خرچ کرتا ہے۔ کوئی نادار ‘ فقیر ‘ غلام اور ادنیٰ فوجی ہے ‘ ایک روپیہ بھی صرف نہیں کرسکتا۔ فما الذین فضلوا برآدی رزقھم علی ما ملکت ایمانھم فھم فیہ سوآء سو وہ اپنے حصہ کا مال اپنے غلاموں کو اس طرح کبھی دینے والے نہیں کہ وہ (مالک و مملوک) سب اس مال میں برابر ہوجائیں۔ یعنی مالداروں اور بادشاہوں کو اللہ نے جو زیادہ مال عطا کیا ہے ‘ وہ اپنا زائد مال اپنے غلاموں اور خادموں کو اتنا دینے والے نہیں کہ آقا اور غلام اور بادشاہ و فقیر ‘ سب مال میں برابر ہوجائیں۔ اس آیت سے مشرکوں کے شرک کی تردید مقصود ہے۔ مشرک ‘ اللہ کے ساتھ مخلوق کو الوہیت و معبودیت میں شریک قرار دیتے تھے باوجودیکہ ان کے فرضی معبود کسی چیز میں اللہ کے شریک نہیں بن سکتے تھے (ا اللہ خالق ہے اور اس کے سوا ہر چیز مخلوق ‘ اللہ مالک ہے اور ہر چیز اس کی مملوک ‘ اللہ حاکم ہے اور ہر چیز اس کی محکوم۔ کوئی مخلوق اس کی ہم جنس نہیں ‘ اس کے مشابہ نہیں نہ ذات میں ‘ نہ صفات میں ‘ نہ کسی کیفیت و حالت میں۔ مترجم) مشرک خود تو اس بات کو پسند نہیں کرتے تھے کہ اپنے مال میں اپنے غلاموں کو مساویانہ شریک کرلیں باوجودیکہ غلام و آقا دونوں ہم جنس ہوتے ہیں اور آقا کے پاس خداداد مال ہوتا ہے اور آقا اپنے غلام کا رازق نہیں ہوتا ‘ رزق اس کو بھی اللہ دیتا ہے۔ آیت کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ جن لوگو کو اللہ زائد رزق عطا فرما دیتا ہے ‘ وہ اپنا رزق غلاموں کو نہیں دیتے بلکہ غلام اپنا رزق کھاتے ہیں جو اللہ نے ان کو عطا فرمایا ہے۔ پس اس رزق میں مالک و مملوک سب برابر ہیں ‘ سب خداداد رزق کھاتے ہیں۔ افبنعمۃ اللہ یجحدون کیا پھر بھی اللہ کی نعمت کا انکار کرتے ہیں کہ اللہ کے شریک قرار دیتے ہیں۔ شرک کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کی دی ہوئی بعض نعمتوں کا انکار کیا جائے اور ان کو شریکوں کی عطا کردہ قرار دیا جائے۔ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ ایسے واضح دلائل وبراہین سے اپنی توحید و الوہیت کو ثابت کر رہا ہے اور یہ دلائل توحید اللہ کی نعمت ہیں تو کیا یہ اللہ کی نعمت کے منکر ہیں۔
Ayah 16:72

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ بَنِیْنَ وَ حَفَدَةً وَّ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ هُمْ یَكْفُرُوْنَۙ Open ayah 16:72 in the Quran reader

اور خدا ہی نے تم میں سے تمہارے لیے عورتیں پیدا کیں اور عورتوں سے تمہارے بیٹے اور پوتے پیدا کیے اور کھانے کو تمہیں پاکیزہ چیزیں دیں۔ تو کیا بےاصل چیزوں پر اعتقاد رکھتے اور خدا کی نعمتوں سے انکار کرتے ہیں

وا اللہ جعل لکم من انفکسم ازواجا جعل لکم من ازواجکم بنین وحفدۃ اور اللہ ہی نے تم میں سے (یعنی تمہاری جنس میں سے) تمہارے لئے تمہاری بیبیاں بنائیں اور بیبیوں سے تم کو بیٹے پوتے عنایت کئے۔ تمہاری جنس سے تمہاری بیبیاں بنائیں تاکہ تم کو ان سے انس خاطر حاصل ہو اور تمہاری اولاد تمہاری جنس کی ہو (یعنی آدمی ہو) ۔ بعض علماء نے جَعَلَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اللہ نے حضرت حواء کو حضرت آدم سے پیدا کیا ‘ پھر باقی تمام عورتوں کو مردوں اور عورتوں کے نطفہ سے بنایا۔ حَفَدَۃً اولاد کی اولاد اور تیز دست خادم۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے : حَفَدَ (ماضی) یَحْفِدُ (مضارع) حَفْدًا اور حفدانًا (مصدر) کام میں تیزی کی ‘ سبکدستی سے کام کیا۔ اِحْتَفَدَ (باب افتعال) کا بھی یہی معنی ہے۔ حَفَدَ کا معنی خَدَمَ بھی ہے (خدمت کی) ۔ حَفَدَۃً ‘ حَافِدٌ کی جمع ہے : خادم ‘ کارگزار۔ حَفَدَۃً اور حَفِیْدٌ اولاد ‘ اولاد کی اولاد ‘ خسر اور لڑکیاں۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن مسعود اور نخعی نے فرمایا : (آیت میں) حَفَدَۃً سے مراد ہیں : داماد۔ دوسری روایت میں حضرت ابن مسعود کا قول آیا ہے کہ حَفَدَۃً سے مراد ہیں : خسر۔ اس قول پر آیت کا یہ مطلب ہوگا کہ اللہ نے تمہاری بیبیوں سے تم کو نر ‘ مادہ اولاد عطا کی اور ان کے نکاح کردینے سے خسر اور داماد تمہارے لئے مقرر کئے۔ عکرمہ ‘ حسن اور ضحاک نے کہا : آیت میں خادم مراد ہیں۔ مجاہد نے کہا : کارگذار کارندے مراد ہیں۔ عطاء نے کہا : وہ اولاد مراد ہے جو مددگار اور خادم ہوتی ہے۔ میں کہتا ہوں : ان تمام اقوال کی بناء پر آیت میں حَفَدَۃً سے مراد ہیں : بیٹے اور بَنِیْنَ پر حَفَدَۃً کا عطف وصفی تغایر کی وجہ سے کیا گیا (بَنِیْنَ میں نسبی حالت اور حَفَدَۃً میں خدمت کی حالت ملحوظ رکھی گئی) بیضاوی نے متعدد توجیہات میں سے ایک توجیہ (حسب مذکور بالا) لکھی ہے۔ مقاتل اور کلبی نے کہا : بَنِیْنَ سے چھوٹے بچے اور حَفَدَۃً سے بڑی اولاد مراد ہے جو چھوٹے بچوں کی خدمت کرتی اور ان کی مدد کرتی ہے۔ قتادہ نے کہا : وہ اولاد مراد ہے جو تمہاری خدمت اور کام کاج کرتی ہے۔ مجاہد اور سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ حَفَدَۃً سے مراد اولاد کی اولاد ہے۔ عوفی کی روایت میں حضرت ابن عباس کا قول آیا ہے کہ اپنی بیوی کے بچے مراد ہیں جو پہلے شوہر سے ہوں۔ میں کہتا ہوں : شاید حَفَدَۃً کہنے کی وجہ تسمیہ اس صورت میں یہ ہو کہ (حَفَدَۃً لغت میں خادموں کو کہتے ہیں اور) بیوی کے بچوں سے آدمی وہ کام لیتا ہے جو اپنی اولاد سے نہیں لیتا ‘ اسلئے بیوی کے بچوں کو حَفَدَۃً کہا گیا۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ منجملہ دوسرے معانی کے آیت میں ایک مرادی معنی یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ حَفَدَۃً سے مراد ہیں : بیٹیاں ‘ گھروں کے اندر بیٹیاں ہی (زیادہ) کام کاج کرتی ہیں۔ ورزقکم من الطیبت اور تم کو اچھی اچھی چیزیں کھانے پینے کو دیں۔ طَیِّبَات لذیذ چیزیں ‘ یا حلال چیزیں۔ مِنْ تبعیضیہ ہے۔ دنیا کی نعمتیں ‘ آخرت کی نعمتوں کا نمونہ ہیں ‘ یہاں کل نعمتیں موجود نہیں ہیں۔ افبالباطل یؤمنون وبنعمت اللہ ھم یکفرون کیا پھر بھی وہ بےبنیاد بات کو مانتے رہیں گے اور اللہ کی نعمت سے ناشکری کرتے رہیں گے ؟ یعنی بتوں کو نفع رساں سمجھتے رہیں گے اور ان کی دی ہوئی نعمتوں کی نسبت بتوں کی طرف کرتے رہیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ نے ارشاد فرمایا : میرا اور (کافر) جن و انس کا ایک عظیم واقعہ (یعنی عجیب معاملہ) ہے۔ پیدا میں کرتا ہوں اور پوجا دوسروں کی کی جاتی ہے ‘ رزق میں دیتا ہوں اور شکر دوسروں کا کیا جاتا ہے۔ بعض علماء کا قول ہے کہ باطل سے مراد ہے : بحیرہ ‘ سائبہ اور وصیلہ کی ازخود باغواء شیطانی تحریم (یہ تینوں قسمیں بحار اونٹوں یا سانڈھوں کے عرب میں ہوتی تھیں۔ بعض کا گوشت کھانا اور سواری لینا اور بوجھ لادنا مشرکوں نے حرام کر رکھا تھا) ۔ یعنی بحیرہ وغیرہ کی حرمت کا تو یہ لوگ عقیدہ رکھتے ہیں اور اللہ کے حلال و پاکیزہ رزق کی حلت کا انکار کرتے ہیں۔ بعض نے کہا : باطل شیطان ہے اور اللہ کی نعمت رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارک۔
Ayah 16:73

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ شَیْئًا وَّ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَۚ Open ayah 16:73 in the Quran reader

اور خدا کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں جو ان کو آسمانوں اور زمین میں روزی دینے کا ذرا بھی اختیار نہیں رکھتے اور نہ کسی اور طرح کا مقدور رکھتے ہیں

ویعبدون من دون اللہ ما لا یملک لھم رزقا من السموات والارض شیئا ولا یستطیعون اور اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی عبادت کرتے رہیں گے جو ان کو نہ آسمان میں سے رزق پہنچانے کا اختیار رکھتی ہیں اور نہ زمین میں سے اور نہ (کسی قسم کی) قدرت رکھتی ہیں۔ آسمان سے رزق یعنی بارش اور زمین سے رزق یعنی سبزی (غلہ ‘ پھل ‘ ترکاری وغیرہ) اخفش کے نزدیک شَیْءًا بدل ہے اور رِزْقًا مبدل منہ اور رزق سے مراد ہے : مرزوق (کھانے ‘ پینے ‘ پہننے کی چیز) یعنی وہ کسی چیز کے مالک نہیں ‘ نہ قلیل کے نہ کثیر کے ‘ ان کے اختیار میں کچھ بھی نہیں۔ فراء نے رِزْقًا کو مفعول مطلق کہا ہے اور شَیْءًا کو مفعول بہ۔ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ کا یہ مطلب ہے کہ مالک بننے کی بتوں میں طاقت ہی نہیں ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ بتوں کو کسی قسم کی بھی طاقت حاصل نہیں ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ کی ضمیر راجع کی جائے کافروں کی طرف ‘ یعنی کافروں میں باوجود زندہ ہونے کے مالک بننے کی طاقت نہیں ہے اور بت تو بےجان پتھر ہیں ‘ ان میں طاقت کیسے ہوسکتی ہے۔
Ayah 16:74

فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰهِ الْاَمْثَالَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:74 in the Quran reader

تو (لوگو) خدا کے بارے میں (غلط) مثالیں نہ بناؤ۔ (صحیح مثالوں کا طریقہ) خدا ہی جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

فلا تضربوا اللہ الامثال ان اللہ یعلم وانتم لا تعلمون پس تم اللہ کی مثالیں مت گھڑو۔ اللہ بلاشبہ (اشیاء کی حقیقت اور ضرب امثال کو) خوب جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ ا اللہ کی مثال بیان کرنے کی ممانعت اس وجہ سے کی کہ ضرب المثل نام ہے ایک حال کو دوسرے حال سے تشبیہ دینے کا اور اللہ کی ذات وصفات کا کسی کو (کامل) علم نہیں ‘ نہ کوئی یہ جانتا ہے کہ کون کون سی صفات کا اطلاق اللہ پر ہونا درست ہے اور کن کن صفات کے ساتھ اللہ کا متصف ہونا محال ہے۔ ایسی حالت میں اللہ کو کسی چیز پر کیسے قیاس کیا جاسکتا ہے۔ غالب کو حاضر کے سانچے میں ڈھالنا کس طرح زیبا ہے۔ کوئی علت جامع اور وصف مشترک موجود نہیں ہے۔ اَللّٰہُ یَعْلَمُ وَانْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ کا یہ مطلب ہے کہ اللہ حقائق اشیاء سے واقف ہے اور تم ناواقف ہو۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم جو اللہ کی مثالیں بیان کرتے ہو اور قیاس چلاتے ہو۔ اللہ کو اس کی غلطی کا علم ہے۔ وہ جانتا ہے کہ تمہاری تمثیلات فاسد ہیں اور تم کو اس کا علم نہیں۔ اگر تم کو اپنے قول کی غلطی کا علم ہوتا تو تمثیلات بیان کرنے کی جرأت ہی نہ کرتے۔
Ayah 16:75

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْكًا لَّا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ مَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَهُوَ یُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَّ جَهْرًا١ؕ هَلْ یَسْتَوٗنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:75 in the Quran reader

خدا ایک اور مثال بیان فرماتا ہے کہ ایک غلام ہے جو (بالکل) دوسرے کے اختیار میں ہے اور کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور ایک ایسا شخص ہے جس کو ہم نے اپنے ہاں سے (بہت سا) مال طیب عطا فرمایا ہے اور وہ اس میں سے (رات دن) پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتا رہتا ہے تو کیا یہ دونوں شخص برابر ہیں؟ (ہرگز نہیں) الحمدلله لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں سمجھ رکھتے

ضرب اللہ مثلا عبدًا مملوکًا یقدر علی شیء اللہ ایک مثال بیان کرتا ہے (فرض کرو) ایک شخص تو غلام ہے جو کسی کا مملوک ہے ‘ خود کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا۔ ا اللہ نے یہ مثال اپنی ذات اور دوسرے باطل معبودوں (کا فرق واضح کرنے) کیلئے بیان کی ہے۔ مَمْلُوْکًا سے مراد یہ ہے کہ وہ بندہ آزاد نہیں۔ یوں تو سبھی لوگ ‘ آزاد ہوں یا غلام ‘ اللہ کے بندے ہیں۔ لاَّ یَقْدِرُ عَلیٰ شَیْءٍ کہنے سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ غلام مکاتب نہیں ہے اور نہ اس کا لین دین کی آقا کی طرف سے اجازت دی گئی ہے (مکاتب اس غلام کو کہتے ہیں جس نے آقا سے معاہدہ کرلیا ہو کہ اتنا روپیہ کما کر جب میں تم کو دے دوں گا تو آزاد ہوجاؤں گا اور آقا نے اس معاہدہ کو تسلیم کرلیا ہو) ۔ ومن رزقنہ منا رزقا حسنا فھو ینفق منہ سرًا وجھرًا ھل یستون اور ایک شخص وہ ہے جس کو ہم نے اپنے پاس سے خوب روزی دے رکھی ہے ‘ سو وہ اس میں سے پوشیدہ اور علانیہ (جس طرح اور جتنا چاہتا ہے) خرچ کرتا ہے۔ کیا یہ دونوں آپس میں برابر ہوسکتے ہیں ؟ ا اللہ نے اس مثال میں باطل معبودوں کو اس غلام سے تشبیہ دی جو بےبس اور ہر قسم کا تصرف کرنے سے عاجز ہے ‘ کچھ بھی اس کو اختیار نہیں اور اپنی ذات کو آزاد ‘ مالدار ‘ سخی آدمی سے تمثیل دی جو جیسا اور جتنا چاہتا ہے ‘ صرف کرتا ہے۔ ظاہر صرف سے اس کو کوئی نہیں روک سکتا اور پوشیدہ خرچ سے کوئی مانع نہیں ہوسکتا۔ اس تمثیل سے شرک کے باطل ہونے پر استدلال کیا ہے کیونکہ جن بتوں کو اللہ کی الوہیت میں شریک قرار دیا جاتا ہے ‘ وہ تو بےاختیار غلام سے زیادہ عاجز ہیں اور اللہ ہر آزاد ‘ غنی ‘ سخی سے زیادہ مالک مال اور عطاکنندہ اور قوی و مختار ہے۔ الحمد اللہ بل اکثر ھم لا یعلمون ساری تعریفیں اللہ کے لائق ہیں (اور یہ لوگ اس کے منکر ہیں) بلکہ ان میں سے اکثر جانتے ہی نہیں ہیں۔ یعنی اللہ ہی تمام نعمتوں کا عطا کرنے والا ہے ‘ لہٰذا وہی ہر ستائش کا مستحق ہے ‘ اس کے سوا اور کوئی نعمت دینے والا نہیں ‘ اسلئے کوئی دوسرا قابل ستائش نہیں ‘ معبودیت کا استحقاق تو بجائے خود رہا۔ اکثر لوگ چونکہ جانتے نہیں ‘ نادانی کی وجہ سے اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو دوسروں کی طرف منسوب کردیتے ہیں اور غلط انتساب کی وجہ سے باطل معبودوں کی عبادت کرتے ہیں۔ بعض اہل تفسیر کا خیال ہے کہ عَبْدًا مَّمْلُوْکًا کافر کی مثال ہے۔ اللہ نے اس کو توفیق ہی نہیں دی کہ کوئی بھلائی کرسکے یا راہ خدا میں کچھ صرف کرے ‘ ہر نقطۂ خیر سے عاجز ہے اور مَنْ رَّزَقْنَا ہُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًاالخ مؤمن کی مثال ہے جو اللہ کی راہ میں جس طرح چاہتا ہے ‘ خرچ کرتا ہے۔ ابن جریج نے عطاء کا قول نقل کیا ہے کہ عَبْدًا مَّمْلُوْکسے مراد ابوجہل ہے اور مَنْ رَّزَقْنَا ہُ سے مراد حضرت ابوبکر صدیق ہیں۔
Ayah 16:76

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلَیْنِ اَحَدُهُمَاۤ اَبْكَمُ لَا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ هُوَ كَلٌّ عَلٰى مَوْلٰىهُ١ۙ اَیْنَمَا یُوَجِّهْهُّ لَا یَاْتِ بِخَیْرٍ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیْ هُوَ١ۙ وَ مَنْ یَّاْمُرُ بِالْعَدْلِ١ۙ وَ هُوَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۠ Open ayah 16:76 in the Quran reader

اور خدا ایک اور مثال بیان فرماتا ہے کہ دو آدمی ہیں ایک اُن میں سے گونگا (اور دوسرے کی ملک) ہے (بےاختیار وناتوان) کہ کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا۔ اور اپنے مالک کو دوبھر ہو رہا ہے وہ جہاں اُسے بھیجتا ہے (خیر سے کبھی) بھلائی نہیں لاتا۔ کیا ایسا (گونگا بہرا) اور وہ شخص جو (سنتا بولتا اور) لوگوں کو انصاف کرنے کا حکم دیتا ہے اور خود سیدھے راستے پر چل رہا ہے دونوں برابر ہیں؟

وضرب اللہ مثلا رجلین احدھما ابکم لا یقدر علی شییء وھو کل علی مولہ اینما یوجھہ لایات بخیر اور اللہ ایک (اور) مثال بیان کرتا ہے۔ دو آدمی ہیں ‘ ایک تو ان میں گونگا جو کوئی کام نہیں کرسکتا ‘ اپنے سرپرست کیلئے وبال جان ہے۔ اس کو جہاں بھیجتا ہے ‘ کوئی کام ٹھیک کر کے نہیں لاتا۔ اَبْکَمُ پیدائشی گونگا ‘ جو نہ کچھ سمجھتا ہو نہ بول سکتا ہو۔ لاَ یَقْدِرُ عَلٰی شَیْءٍ کم فہمی کی وجہ سے وہ نہ کسی صنعت پر قادر ہے نہ کسی کام کی تدبیر پر۔ کُلٌّ بار ہے ‘ وبال ہے۔ مُوْلٰہُ یعنی اپنے سرپرست کیلئے (آقا مراد نہیں ہے) لاَیَأتِ بِخَیْرٍ یعنی کسی معمولی کام کو بھی ٹھیک کر کے نہیں لاتا۔ یہ تشبیہ بتوں کی ہے جو نہ سنتے ہیں ‘ نہ دیکھتے ہیں ‘ نہ کچھ سمجھتے ہیں۔ پوجنے والوں پر خواہ مخواہ کا بار ہیں۔ پجاری خود ان کو اٹھاتے اور رکھتے ہیں اور سب بےسود۔ بت ان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔ ھل یستوی ھو ومن یامر بالعدل وھو علی صراط مستقیم کیا یہ شخص اور ایسا شخص باہم برابر ہوسکتے ہیں جو اچھی باتوں کی تعلیم دیتا ہو اور خود بھی سیدھے راستے پر چلتا ہو ؟ یعنی جو شخص حلیم الطبع اور سمجھدار ہو ‘ خوب رواں ‘ سلیس گفتگو کرسکتا ہو ‘ ہر کام ٹھیک اور پورا پورا کرتا ہو ‘ لوگوں کو تمام اچھی باتیں سکھاتا ہو۔ غرض یہ کہ عدل (جو عفت ‘ شجاعت اور حکمت کا مجموعہ ہے) کی تعلیم دیتا ہو ‘ اس گونگے ‘ ناکارہ ‘ بیوقوف کی طرح ہوسکتا ہے جس کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ پر ہونے کا یہ معنی ہے کہ ہر مقصد کو سیدھے ‘ چھوٹے راستے پر چل کر حاصل کرلیتا ہو۔ مَنْ یَّأمُرُ بالْعَدْلِ سے اللہ نے اپنی ذات کی تمثیل دی ہے۔ بعض علماء نے کہا : اس سے رسول اللہ ﷺ کی ذات مراد ہے۔ عطاء نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ اَبْکَمُ سے کافر اور مَنْ یَّأمُرُ بالْعَدْلِ سے مؤمن مراد ہیں۔ یہ تمثیل کافر و مؤمن کی ہے۔ عطاء نے اس آیت کے (سبب نزول کے) ذیل میں بیان کیا کہ اَبْکَمُ سے مراد ابی بن خلف ہے اور مَنْ یَّأمُرُ بالْعَدْلِ سے مراد حضرت حمزہ ‘ حضرت عثمان بن عفان اور حضرت عثمان بن مظعون ہیں۔ مقاتل نے کہا : قبیلہ ربیعہ کا ایک شخص تھا جس کا نام ہاشم بن عمرو بن حارث تھا۔ یہ رسول اللہ ﷺ کا سخت دشمن تھا اور بہت ہی شریر تھا ‘ اسی کے متعلق اس آیت کا نزول ہوا۔ ابن جریر نے حضرت ابن عباس کا قول بیان کیا ہے کہ آیت ضرَبَ اللّٰہ مَثَلاً عَبْدًا مَّمْلُوْکًا ایک قریشی آدمی اور اس کے غلام کے متعلق نازل ہوئی اور آیت رَجُلْیْنَ اَحَدُھُمَآ اَبْکَمُ حضرت عثمان اور ان کے کافر غلام اسید بن ابو العیص کے متعلق نازل ہوئی۔ اسید کو اسلام سے سخت نفرت تھی۔ خود بھی کافر تھا اور دوسروں کو بھی اسلام سے اور ہر بھلائی ‘ حسن سلوک اور خیر خیرات سے روکتا تھا۔
Ayah 16:77

وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَاۤ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 16:77 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کا علم خدا ہی کو ہے اور (خدا کے نزدیک) قیامت کا آنا یوں ہے جیسے آنکھ کا جھپکنا بلکہ اس سے بھی جلد تر۔ کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے

واللہ غیب السموات والارض اور آسمانوں اور زمین کی تمام پوشیدہ باتیں اللہ ہی کیلئے مخصوص ہیں۔ یعنی ان سے واقف اللہ ہی ہے ‘ بغیر اس کے بتائے کسی کو معلوم نہیں ہوسکتیں۔ غیب و شہادت کے معنی کی تشریح ہم نے سورة جن میں ذکر کی ہے۔ وما امر الساعۃ الا کلمح البصر وھو اقرب اور قیامت کا معاملہ بس پلک جھپکنے کی طرح ہے بلکہ اس سے بھی جلدی۔ یعنی وقوع قیامت کی سرعت اور سہولت پلک جھپکنے کی طرح ہے۔ قاموس میں لمح کا معنی نظر جھپکنا بیان کیا گیا ہے۔ میں کہتا ہوں : اس معنی پر آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ قیامت بس ایسی ہے جیسے بجلی نظر کو جھپک لے۔ بیضاوی نے لکھا ہے : لمح کا معنی ہے : نظر کا حدقۂ چشم کے بالائی حصہ سے نچلے حصہ کی طرف لوٹنا۔ پلک جھپکنے سے کم وقت کو ظاہر کرنے کیلئے عرف عام میں کوئی لفظ نہیں ‘ اسلئے قیامت کے جلد اور بسہولت آجانے کی تشبیہ پلک جھپکنے سے دی گئی۔ اَوْھُوَ اَقْرَبُ کا یہ مطلب ہے کہ وقوع قیامت اس سے بھی جلدی ہے۔ اللہ ساری مخلوق کو یکدم زندہ کر کے اٹھا دے گا۔ کُن کہتے ہی ہر چیز موجود ہوجائے گی۔ دم کی کوئی مدت نہیں بیان کی جاسکتی۔ بغوی نے لکھا ہے : اس آیت کا نزول منکرین کے متعلق ہوا جو قیامت کے منکر تھے اور قیامت کا مذاق اڑاتے ہوئے جلد سے جلد آجانے کے خواہشمند تھے۔ ان اللہ علی کل شیء قدیر بلاشبہ اللہ ہر چیز پر قابو رکھتا ہے۔ دنیا میں اس نے مخلوق کو رفتہ رفتہ زندگی عطا فرمائی اور قیامت کے دن سب کو یکدم زندہ کر دے گا۔ دیکھو ! یہ اس کی قدرت ہی کا کرشمہ ہے کہ
Ayah 16:78

وَ اللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَیْئًا١ۙ وَّ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 16:78 in the Quran reader

اور خدا ہی نے تم کو تمہاری ماؤں کے شکم سے پیدا کیا کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے۔ اور اس نے تم کو کان اور آنکھیں اور دل (اور اُن کے علاوہ اور) اعضا بخشے تاکہ تم شکر کرو

وا اللہ اخرجکم من بطون امھتکم لا تعلمون شیءًا وجعل لکم السمع والابصار والافئدۃ اللہ نے ہی تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹ سے ایسی حالت میں نکالا کہ تم (بےجان جمادات کی طرح) کچھ بھی نہیں جانتے تھے اور اسی نے تم کو کان دئیے اور آنکھیں اور دل۔ سمع سے مراد ہیں : اسماع (اسم جنس بمعنی جمع) یعنی اللہ نے تم کو آلات علم عطا کئے۔ اوّل حواس کے ذریعہ سے تم جزئیات کا علم حاصل کرتے ہو ‘ پھر بار بار اور پے در پے احساس کرنے کے بعد تم دل سے اشیاء میں امتیاز کرتے ہو ‘ اشیائے مشترکہ کے اشتراک اور جداجدا چیزوں کے اختلاف کو جان لیتے ہو۔ اس طرح تم کو کچھ بدیہی علوم حاصل ہوجاتے ہیں اور ان بدیہی علوم پر غور کرنے کے بعد تم کو نظری اور فکری علوم حاصل کرنے کی قدرت پیدا ہوجاتی ہے۔ لعلکم تشکرون تاکہ تم شکر کرو۔ یعنی آلات علم اسلئے عطا کئے کہ تم اللہ کی نعمتوں کو پہچانو اور شکر ادا کرو۔
Ayah 16:79

اَلَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِیْ جَوِّ السَّمَآءِ١ؕ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 16:79 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا کہ آسمان کی ہوا میں گھرے ہوئے (اُڑتے رہتے) ہیں۔ ان کو خدا ہی تھامے رکھتا ہے۔ ایمان والوں کے لیے اس میں (بہت سی) نشانیاں ہیں

الم یروا الی الطیر مسخرات فی جو السماء ما یمسکھن الا اللہ کیا لوگوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا کہ آسمان کے نیچے فضاء میں مسخرہو رہے ہیں ‘ ان کو اللہ کے سوا (اس خلا میں) کوئی نہیں تھامتا۔ مُسَخَّرٰتٍ یعنی بازو ‘ پر وغیرہ۔ اڑنے کے آلات اللہ نے ان کو عطا کئے جن کے ذریعہ سے وہ اللہ کے زیرفرمان اڑتے ہیں۔ جَوِّ السَّمَآء آسمان و زمین کی درمیانی ہوا۔ بغوی نے کعب الاحبار کا قول نقل کیا ہے کہ پرندے بارہ میل بلندی تک اڑ سکتے ہیں ‘ اس سے اوپر نہیں اڑ سکتے (یعنی مسخر ہونے کا یہ مطلب ہے کہ صرف بارہ میل کی بلندی تک اڑنے کی ان میں طاقت ہے ‘ اس سے اونچا اڑنا ان کیلئے ممکن نہیں) ۔ ان فی ذلک ایت لقوم یؤمنون ایمان لانے والے لوگوں کیلئے اس میں بلاشبہ (ا اللہ کی قدرت ‘ حکمت اور الوہیت کی) بڑی نشانیاں ہیں۔ یعنی اللہ نے پرندوں کی پیدائش ہی ایسی کی ہے کہ وہ ہوا میں اڑتے ہیں۔ ان کے جسم بھاری ہوتے ہیں ‘ نیچے کچھ سہارا اور ستون نہیں ہوتا ‘ اوپر کسی چیز سے بندھے نہیں ہوتے ‘ پھر بھی ہوا میں رکے رہتے ہیں۔ طبعی تقاضا ہے کہ نیچے گرپڑیں۔ بیچ میں کوئی ثقیل مانع بھی نہیں ‘ پھر بھی نہیں گرتے ‘ بس اللہ ہی ان کو تھامے رہتا ہے اور کون ایسا کرسکتا ہے۔ ایمان والے اس پر غور کی نگاہ ڈالیں تو انہی کو اس عمل تسخیر میں اللہ کی قدرت نظر آئے گی اور وہ فائدہ اندوز بھی ہوں گے۔
Ayah 16:80

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْۢ بُیُوْتِكُمْ سَكَنًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ جُلُوْدِ الْاَنْعَامِ بُیُوْتًا تَسْتَخِفُّوْنَهَا یَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَ یَوْمَ اِقَامَتِكُمْ١ۙ وَ مِنْ اَصْوَافِهَا وَ اَوْبَارِهَا وَ اَشْعَارِهَاۤ اَثَاثًا وَّ مَتَاعًا اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 16:80 in the Quran reader

اور خدا ہی نے تمہارے لیے گھروں کو رہنے کی جگہ بنایا اور اُسی نے چوپایوں کی کھالوں سے تمہارے لیے ڈیرے بنائے۔ جن کو تم سبک دیکھ کر سفر اور حضر میں کام میں لاتے ہو اور اُن کی اون، پشم اور بالوں سے تم اسباب اور برتنے کی چیزیں (بناتے ہو جو) مدت تک (کام دیتی ہیں)

وا اللہ جعل لکم من بیوتکم سکنا وجعل لکم من جلود الانعام بیوتا تستخفونھا یوم ظعنکم ویوم اقامتکم اور اللہ ہی نے تمہارے واسطے گھروں میں رہنے کی جگہ بنائی اور تمہارے واسطے جانوروں کی کھال کے گھر (یعنی چرمی خیمے) بنائے جن کو تم اپنے سفر اور قیام کے زمانے میں ہلکا پھلکا پاتے ہو۔ کھالوں کے گھروں سے مراد ہیں : چرمی ڈیرے ‘ خیمے ‘ چھولداریاں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اون اور بالوں سے بنے ہوئے ڈیرے ‘ خیمے بھی اس لفظ کے اندر شامل ہوں کیونکہ بال اور اون ‘ کھال کی پیداوار ہے ‘ لہٰذا چمڑے ہی کے حکم میں ہے۔ یوم ظعن کوچ کا دن ‘ یعنی سفر کا زمانہ۔ یوم اقامت ٹھہرنے یا کہیں اترنے کا وقت۔ ومن اصوافھا واوبارھا واشعارھا اثاثا ومتاعا الی حین اور ان کے اون او ان کے روئیں اور ان کے بالوں سے گھر کا سامان اور ایک وقت تک فائدے کی چیزیں بنائیں۔ صوف (اون) بھیڑوں ‘ دنبوں کا ہوتا ہے اور وبر اونٹوں سے حاصل کیا جاتا ہے اور بال بکری سے۔ اثاث گھر کا سامان ‘ فرش ‘ بستر ‘ چادر ‘ کمبل ‘ لباس۔ اثاث کا مفرد نہیں آتا۔ اثاث ہر طرح کے مال کو بھی کہتے ہیں۔ کذا فی القاموس۔ متاع سامان تجارت۔ اِلٰی حِیْنٍ یعنی اس مدت تک جب تک اللہ اس کو باقی رکھنا چاہتا ہے۔
Ayah 16:81

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ اَكْنَانًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمُ الْحَرَّ وَ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمْ بَاْسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُوْنَ Open ayah 16:81 in the Quran reader

اور خدا ہی نے تمہارے (آرام کے) لیے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں کے سائے بنائے اور پہاڑوں میں غاریں بنائیں اور کُرتے بنائے جو تم کو گرمی سے بچائیں۔ اور (ایسے) کُرتے (بھی) جو تم کو اسلحہ جنگ (کے ضرر) سے محفوظ رکھیں۔ اسی طرح خدا اپنا احسان تم پر پورا کرتا ہے تاکہ تم فرمانبردار بنو

وا اللہ جعل لکم مما خلق ظللا وجعل لکم من الجبال اکنانا اور تمہارے لئے اللہ ہی نے اپنی پیداوار کی ہوئی بعض چیزوں کے سائے بنائے اور تمہارے لئے پہاڑوں میں پناہ کی جگہیں بنائیں۔ یعنی درختوں ‘ پہاڑوں اور مکانوں کے سائے بنائے جو دھوپ کی تپش سے بچاتے ہیں اور پہاڑوں میں چھپنے اور محفوظ رہنے کے مقامات مثلاً غار اور غاروں کے اندر پتھروں کو تراش کر بنائے ہوئے مکان بنائے۔ اَکْنَان ‘ کِنٌّ کی جمع ہے۔ کِنٌّ چھپنے کا مقام ‘ مکان وغیرہ۔ وجعل لکم سرابیل تقیکم الحر وسرابیل تقیکم باسکم اور تمہارے لئے (سوت ‘ اون ‘ کنان ‘ ریشم وغیرہ کے کچھ) ایسے کرتے بنائے جو تم کو گرمی سے محفوظ رکھتے ہیں اور (لوہے ‘ ریشم وغیرہ کے کچھ) ایسے کرتے بنائے جو لڑائی میں تمہاری حفاظت کرتے ہیں۔ صرف گرمی سے بچانے کا ذکر کیا ‘ مراد سردی گرمی دونوں ہیں۔ ایک ضد کا ذکر کرنے کے بعد دوسرے کا ذکر ضروری نہ تھا (خود ہی سمجھ میں آسکتا تھا ‘ اسلئے ذکر نہیں کیا گیا) ۔ کذلک یتم نعمتہ علیکم لعلکم تسلمون اللہ تعالیٰ اسی طرح (کی) نعمتیں تم کو پوری پوری عطا فرماتا ہے تاکہ تم فرمانبردار رہو۔ یعنی جس طرح اس نے مذکورہ نعمتیں تم کو عطا فرمائیں ‘ اسی طرح تم پر اپنی نعمتیں پوری کرتا ہے۔ تمہارے ہی لئے اس نے اپنے رسول ﷺ کو بھیجا اور رسول ﷺ کی تصدیق کیلئے اس کو معجزات عطا کئے اور اپنی کتاب نازل کی اور واضح دلائل قائم کیں اور اسلام کی عزت دی۔ یہ سب کچھ اسلئے کیا کہ اکثر لوگ فرمانبردار ہوجائیں اور خالص اللہ کی اطاعت کریں۔ عطاء خراسانی نے کہا : اللہ نے انسانوں کی سمجھ کے موافق قرآن نازل فرمایا۔ دیکھو ! پہاڑوں میں پناہ گاہیں پیدا کرنے کا ذکر کیا اور میدان و صحراء جو پہاڑوں سے بڑے ہیں ‘ ان کا ذکر نہیں کیا۔ وجہ یہ ہے کہ ان کے چاروں طرف پہاڑ تھے ‘ پہاڑ ان کے سامنے تھے۔ اسی طرح اون ‘ روئیں اور بالوں کے خیموں ‘ ڈیروں کا تذکرہ اسلئے کیا کہ وہ مویشی پالا کرتے تھے ‘ ان کے پاس اون ‘ بال وغیرہ ہی تھے۔ اسی طرح ایک اور آیت میں فرمایا : وَیُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِیْھَا مِنْم بَرَدٍ اللہ آسمانی پہاڑوں سے اولے اتارتا ہے۔ ثلج (آسمانی برف) کا ذکر نہیں کیا ‘ حالانکہ ژالہ باری سے برفباری کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ برفباری سے واقف ہی نہ تھے۔ اسی طرح آیات مذکورۂ بالا میں گرمی سے حفاظت کو لباس کا فائدہ قرار دیا ہے۔ سردی کا ذکر نہیں کیا کیونکہ ان لوگوں کو گرمی سے ہی زیادہ واسطہ پڑتا تھا۔
Ayah 16:82

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 16:82 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ اعتراض کریں تو (اے پیغمبر) تمہارا کام فقط کھول کر سنا دینا ہے

فان تولوا فانما علیک البلغ المبین پھر بھی یہ لوگ اگر (ایمان سے) منہ پھیریں (تو آپ سے اس کا کوئی مؤاخذہ نہ ہوگا ‘ کوئی پرواہ نہ کیجئے) آپ کے ذمے تو صاف صاف (ا اللہ کا پیام) پہنچا دینا ہے۔ یعنی اتنے دلائل اور نشانات قدرت کے بعد بھی اگر یہ ایمان سے گریز کریں تو آپ ان کی پرواہ نہ کریں ‘ رنجیدہ اور تنگ دل نہ ہوں ‘ آپ کا کام صرف پیام پہنچا دینا ہے (ان کے ماننے نہ ماننے سے آپ کا کچھ تعلق نہیں ہے) ۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد کا قول بیان کیا ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضور ﷺ نے اس کے سامنے پڑھا : وَاللّٰہُ جَعَلَ لَکُمْ منم بُیُوْتِکُمْ سَکَنًا۔ اس نے کہا : جی ہاں۔ پھر حضور ﷺ نے پڑھا : وَجَعَلَ لَکُمْ مِّنْ جَلُوْدِ الْاَنْعَامِ بُیُوْتًا تَسْتَخِفُّوْنَھا یَوْمَ ظَعْنِکُمْ وَیَوْمَ اِقَامَتِکُمْ ۔ اعرابی نے کہا : جی ہیں۔ اس کے بعد اگلی آیات پڑھیں اور اعرابی ہر آیت پر کہتا رہا : ٹھیک ہے ‘ جی ہاں۔ آخر میں جب حضور ﷺ نے پڑھا : کَذٰلِکَ یُتِمُّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکُمْ لَعَلَّکُمْ تُسْلِمُوْنَ ۔ یہ سنتے ہی اعرابی منہ پھیر کر چل دیا۔ اس پر اللہ نے نازل فرمائی : فَاِنْ تَوَلَّوْا افَاِنَّمَا عَلَیْکَ الْبَلٰغُ الْمُبِیْنَ ۔
Ayah 16:83

یَعْرِفُوْنَ نِعْمَتَ اللّٰهِ ثُمَّ یُنْكِرُوْنَهَا وَ اَكْثَرُهُمُ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 16:83 in the Quran reader

یہ خدا کی نعمتوں سے واقف ہیں۔ مگر (واقف ہو کر) اُن سے انکار کرتے ہیں اور یہ اکثر ناشکرے ہیں

یعرفون نعمت اللہ ثم ینکرونھا و اکثر ھم الکفرون یہ اللہ کی نعمت کو پہچانتے تو ہیں ‘ پھر اَن جان ہوجاتے ہیں (منکر ہوجاتے ہیں) اور ان میں سے اکثر ناشکرے ہیں۔ یعنی اللہ کی نعمتوں کو دیکھ کر ان کا اقرار کرتے ہیں اور ان کو اللہ کی طرف سے عطا کردہ جانتے ہیں ‘ پھر اللہ کی خالص عبادت سے روگرداں ہوجاتے ہیں ‘ اللہ کی عبادت میں دوسروں کو شریک بنا لیتے ہیں (اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کو منعم سمجھتے ہیں ‘ اللہ کو منعم نہیں سمجھتے۔ یا اللہ کے ساتھ دوسروں کو بھی منعم جانتے ہیں۔ یہ حقیقت میں اللہ کی نعمت کا انکار ہے۔ مترجم) سدی کے نزدیک اللہ کی نعمت سے رسول اللہ ﷺ کی نبوت مراد ہے ‘ یعنی وہ نبوت محمدیہ ﷺ کو معجزات کے سبب جانتے پہچانتے ہیں ‘ پھر محض ضد وعناد سے ماننے سے انکار کردیتے ہیں۔ ایک شبہ جس کا وہم کیا جاسکتا تھا مشرک تو پہلے ہی سے منکر تھے اور ثُمَّ یُنْکُرُوْنَ میں ثُمَّ کا لفظ بتارہا ہے کہ اعتراف و اقرار کے بعد وہ منکر ہوئے ‘ حالانکہ ایسا نہ تھا۔ ازالۂ شبہ ثُمَّ بُعد زمان کو ظاہر کرتا ہے ‘ لیکن کبھی بعد مرتبہ کیلئے بھی آتا ہے۔ پہچان لینے کے بعد انکار کرنا عقل سے بہت بعید تھا ‘ اسلئے ثُمَّ کا لفظ استعمال کیا گیا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ مجاہد و قتادہ نے کہا : اللہ نے اس سورت میں جن نعمتوں کی تفصیل کی ہے ‘ کافر ان کو پہچانتے تھے۔ پھر جب ان سے کہا گیا کہ اس بات کی تصدیق بھی کرو ‘ ان نعمتوں کو خداداد تسلیم کر کے اللہ کے احکام کی تعمیل کرو تو اس کا انکار کرنے لگے اور کہنے لگے : ہم کو تو یہ نعمتیں باپ دادا سے وراثت میں ملی ہیں۔ کلبی نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ کی نعمتوں کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے اقرار کیا اور کہا : ہاں ‘ یہ نعمتیں اللہ ہی نے دی ہیں لیکن ہمارے معبودوں کی سفارش سے ملی ہیں۔ عون بن عبد اللہ نے کہا : نعمتوں کے انکار کا مطلب ہے : ظاہری اسباب کی طرف نعمتوں کی حقیقی نسبت کردینا۔ مثلاً کوئی کہتا ہے : اگر فلاں بات ہوتی (یا فلاں شخص ‘ یا فلاں تدبیر ہوتی) تو یہ کام ہوجاتا ‘ یا یہ کام نہ ہونے پاتا (یہ الفاظ بظاہر مشرکانہ ہیں جن کی ممانعت ہے۔ مترجم) اکثر ناشکرے ہیں ‘ نعمتوں کے اعتراف کے بعد محض ضد وعناد سے انکار کرتے ہیں۔ اکثر سے مراد یا تو کل کافر ہیں یا اکثر ہی مراد ہیں۔ بعض ناقص العقل ہیں ‘ اسلئے حق کو پہچانتے ہی نہیں ‘ یا کوتاہ نظر ہیں غور نہیں کرتے ‘ یا مکلف ہی نہیں ہیں (نابالغ یا مجنون ہیں) اسلئے ان پر کوئی حجت ہی قائم نہیں ہوئی۔ بہرحال بعض لوگ ناسپاس نہیں ہیں ‘ حکم مذکور سے مستثنیٰ ہیں۔
Ayah 16:84

وَ یَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا ثُمَّ لَا یُؤْذَنُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 16:84 in the Quran reader

اور جس دن ہم ہر اُمت میں سے گواہ (یعنی پیغمبر) کھڑا کریں گے تو نہ تو کفار کو (بولنے کی) اجازت ملے گی اور نہ اُن کے عذر قبول کئے جائیں گے

ویوم نبعث من کل امۃ شھیدا ثم لا یؤدون للذین کفروا ولا ھم یستعتبون اور جس دن ہر ہر امت میں سے ہم ایک ایک گواہ قائم کریں گے ‘ پھر ان کافروں کو اجازت نہ دی جائے گی اور نہ ان سے اللہ کو راضی کرنے کی فرمائش کی جائے گی۔ شَھِیْد سے مراد پیغمبر ہے جو اپنی امت کے کفر و ایمان کی شہادت دے گا۔ اجازت نہ دی جانے سے مراد ہے : عذر پیش کرنے کی اجازت نہ ملنا کیونکہ ان کے پاس کوئی عذر موجود ہی نہ ہوگا۔ یا یہ مطلب ہے کہ بولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ بعض نے کہا کہ دنیا میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وَلاَ ھُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ یعنی ان سے یہ نہیں کہا جائے گا کہ اپنے رب کو راضی کرلو۔ روزآخرت تو عمل کا دن ہی نہ ہوگا اور دنیا میں واپس جا کر توبہ و عمل کی اجازت نہ ہوگی۔ غرض یہ کہ ان کیلئے اللہ کی رضامندی کا حصول ناممکن ہوگا۔
Ayah 16:85

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الْعَذَابَ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 16:85 in the Quran reader

اور جب ظالم لوگ عذاب دیکھ لیں گے تو پھر نہ تو اُن کے عذاب ہی میں تخفیف کی جائے گی اور نہ اُن کو مہلت ہی دی جائے گی

واذارا الذین ظلموا العذاب فلا یخفف عنھم ولا ھم ینظرون اور جب ظالم (یعنی کافر) عذاب جہنم کو دیکھیں گے تو وہ عذاب (اندر داخل ہونے کے بعد) ان سے ہلکا نہیں کیا جائے گا اور نہ (داخل ہونے سے پہلے) ان کو مطلق مہلت دی جائے گی۔
Ayah 16:86

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا شُرَكَآءَهُمْ قَالُوْا رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ شُرَكَآؤُنَا الَّذِیْنَ كُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِكَ١ۚ فَاَلْقَوْا اِلَیْهِمُ الْقَوْلَ اِنَّكُمْ لَكٰذِبُوْنَۚ Open ayah 16:86 in the Quran reader

اور جب مشرک (اپنے بنائے ہوئے) شریکوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے کہ پروردگار یہ وہی ہمارے شریک ہیں جن کو ہم تیرے سوا پُکارا کرتے تھے۔ تو وہ (اُن کے کلام کو مسترد کردیں گے اور) اُن سے کہیں گے کہ تم تو جھوٹے ہو

واذارا الذین اشرکوا شرکاء ھم قالوا ربنا ھولاء شرکاؤنا الذین کنا ندعو من دونک : اور جب مشرک اپنے (بنائے ہوئے) شریکوں (یعنی بتوں) کو دیکھیں گے تو کہیں گے : وہ ہمارے (مفروضہ ‘ بنائے ہوئے) شریک یہی ہیں جن کو ہم تیرے سوا پوجتے تھے۔ یعنی یہ وہی معبود ہیں جن کی عبادت ہم کرتے تھے ‘ یا جن کی اطاعت ہم کرتے تھے۔ یہ مشرکوں کی طرف سے اپنی غلطی کا اعتراف ہوگا ‘ یا اس درخواست کا یہ مقصد ہوگا کہ ہمارا عذاب آدھا کردیا جائے۔ فالقوا الیھم القول انکم لکذبون سو وہ (بت) ان (مشرکوں) کی طرف کلام کا رخ کریں گے اور کہیں گے : تم قطعاً جھوٹے ہو۔ یعنی اللہ بتوں کو گویا بنا دے گا اور کلام کرنے کی قدرت عطا کر دے گا اور بت اپنے کلام کا رخ مشرکوں کی طرف کر کے کہیں گے : تم جھوٹے ہو کہ ہم کو اللہ کا شریک کہتے تھے ‘ یا اس دعوے میں جھوٹے ہو کہ حقیقت میں تم ہماری پوجا کرتے تھے ‘ واقع میں تم اپنی خواہشات کے پجاری تھے (تم نے خود ہی اپنی خواہشات کے مطابق ہماری پوجا کی تھی) ہم نے تم کو اپنی عبادت کرنے کی دعوت نہیں دی تھی۔ دوسری آیت سے اسی مفہوم کی تائید ہوتی ہے ‘ فرمایا : سَیَکْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِھِمْ وہ بت مشرکوں کے معبود ہونے کا انکار کردیں گے (اور کہیں گے : تم ہماری عبادت نہیں کرتے تھے) یا یہ مطلب ہے کہ تم اس دعوے میں جھوٹے ہو کہ ہم نے تم کو اپنی پوجا پر آمادہ کیا تھا اور کفر کی ترغیب دی تھی اور تم پر اپنی عبادت کرانے پر زبردستی کی تھی۔ (ابلیس کہے گا) وَمَا کَانَ لِیَ عَلَیْکُمْ مِّنْ سُلْطَانٍ الاّآ اَنْ دَعَوْتُکُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْ میری تم پر کوئی زبردستی نہ تھی ‘ صرف اتنی بات تھی کہ میں نے تم کو دعوت دی تھی اور تم نے میری دعوت مان لی۔
Ayah 16:87

وَ اَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ یَوْمَئِذِ اِ۟لسَّلَمَ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 16:87 in the Quran reader

اور اس دن خدا کے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے اور جو طوفان وہ باندھا کرتے تھے سب اُن سے جاتا رہے گا

والقوا الی اللہ یومئذ السلم وضل عنھم ما کانوا یفترون اور مشرک لوگ اس روز اللہ کے سامنے اطاعت کی باتیں کرنے لگیں گے اور جو کچھ دورغ بندیاں کرتے تھے ‘ سب گم ہوجائیں گی۔ یعنی دنیا میں تو اللہ کی اطاعت سے تکبر کرتے تھے مگر قیامت کے دن اطاعت کا اظہار کریں گے اور جو جو دروغ تراشیاں کرتے اور کہتے تھے کہ ان کے معبود اللہ کے دربار میں سفارش کردیں گے ‘ وہ سب افترا پردازیاں بیکار ثابت ہوں گی۔
Ayah 16:88

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یُفْسِدُوْنَ Open ayah 16:88 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) خدا کے رستے سے روکا ہم اُن کو عذاب پر عذاب دیں گے۔ اس لیے کہ شرارت کیا کرتے تھے

الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ زدنھم عذابا فوق العذاب بما کانوا یفسدون جو لوگ کفر کرتے تھے اور اللہ کی راہ سے روکتے تھے ‘ ہم ان کی فساد انگیزی کی پاداش میں سزا پر اور سزا کا اضافہ کردیں گے۔ ا اللہ کی راہ یعنی اسلام سے لوگوں کو روکتے اور کفر پر آمادہ کرتے تھے۔ عذاب کی زیادتی کا یہ مطلب ہے کہ کفر کی جس سزا کے مستحق ہوں گے ‘ اس میں کافر گری اور راہ خدا سے روکنے کا مزید اضافہ ہوجائے گا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود نے عَذَابًا کی تشریح میں فرمایا : بچھو ہوں گے جن کے ڈنک کھجور کے لمبے درختوں کے برابر ہوں گے۔ ابن مردویہ نے حضرت براء کی روایت سے اسی معنی کی حدیث مرفوع بھی نقل کی ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا : سانپ ہوں گے بختی اونٹوں کی طرح اور بچھو ہوں گے خچروں کی مثل جن کے ایک مرتبہ کاٹنے کا اثر چالیس خریف (سال) تک ڈسا ہوا آدمی محسوس کرتا رہے گا۔ حضرت ابن عباس اور مقاتل کا قول ہے : عرش کے نیچے سے پگھلے ہوئے تانبے ‘ پیتل کے پانچ دریا نکلتے ہیں جو آگ کی طرح ہیں۔ ان دریاؤں (میں ڈالنے اور ڈبونے) کی سزا ان کو دی جائے گی۔ تین دریاؤں میں سے ایک رات کی مدت کے برابر اور دو دریاؤں میں دن کی مدت کے برابر (ہمیشہ) سزا پاتے رہیں گے۔ بعض نے کہا کہ گرمی کے عذاب سے سردی کے عذاب کی طرف ان کو نکال کر لایا جائے گا۔ سردی کی شدت کی وجہ سے وہ چیخیں گے ‘ فریاد کریں گے اور دوزخ کی گرمی میں جانا چاہیں گے۔ فساد انگیزی سے مراد ہے : دنیا میں کفر کرنا اور راہ خدا سے روکنا۔
Ayah 16:89

وَ یَوْمَ نَبْعَثُ فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا عَلَیْهِمْ مِّنْ اَنْفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِیْدًا عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ١ؕ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 16:89 in the Quran reader

اور (اس دن کو یاد کرو) جس دن ہم ہر اُمت میں سے خود اُن پر گواہ کھڑے کریں گے۔ اور (اے پیغمبر) تم کو ان لوگوں پر گواہ لائیں گے۔ اور ہم نے تم پر (ایسی) کتاب نازل کی ہے کہ (اس میں) ہر چیز کا بیان (مفصل) ہے اور مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت اور بشارت ہے

ویوم نبعث فی کل امۃ شھیدا علیھم من انفسھم وجئنا بک شھیدا علی ھولاء ونزلنا علیک الکتب تبیانا لکل شیء وھدی ورحمۃ وبشری للمسلمین اور جس دن ہم ہر ہر امت میں ایک ایک گواہ جو ان ہی میں کا ہوگا ‘ ان کے مقابلہ میں قائم کردیں گے اور ان لوگوں کے مقابلہ میں آپ کو گواہ بنا کر لائیں گے اور ہم نے آپ پر قرآن اتارا ہے کہ تمام (دین کی ضروری) باتوں کو بیان کرنے والا ہے اور (خاص) مسلمانوں کے واسطے بڑی ہدایت اور بڑی رحمت اور خوشخبری سنانے والا ہے۔ شَھِیْد سے مراد ہے : ہر امت کا پیغمبر۔ ہر امت کی ہدایت کیلئے اللہ نے انہی میں کا پیغمبر مبعوث فرمایا۔ ھآؤُلآءِ سے مراد ہے : امت اسلامیہ۔ تِبْیَانًا یعنی واضح ‘ بلیغ بیان۔ لِکُلِّ شَیْءٍ یعنی ہر دینی ضروری مسئلہ کا واضح بیان ‘ مفصل ہو یا مجمل۔ جس طرح کہ ان آیات میں آیا ہے : مَآ اٰتَاکَمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَھَا کُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوْا۔ وَمَنْ تَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی۔ فَاعْتَبِرُوْا یَآ اُولِی الْاَبْصَارِ ۔ ھُدًی یعنی گمراہی سے نکال کر سیدھا راستہ دکھانے والا ہے۔ رَحْمَۃً یعنی سب لوگوں کیلئے رحمت ہے۔ اگر کوئی اس رحمت سے محروم رہا تو اپنی کوتاہی کی وجہ سے (حضرت مفسر کی یہ تفسیر ہمارے ذکر کئے ہوئے ترجمہ کے خلاف ہے۔ ترجمہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی (رح) کے ترجمہ سے ماخوذ ہے جس میں قرآن کو ہدایت اور رحمت اور خوشخبری خصوصیت کے ساتھ مسلمانوں کیلئے بتایا گیا ہے اور حضرت مفسر نے ہدایت و رحمت کو عمومی قرار دیا ہے اور بشارت کو صرف مسلمانوں کیلئے بتایا ہے ‘ وا اللہ اعلم۔ مترجم)