Ayah 16:34فاصابھم سیات ما عملوا وحاق بھم ما کانوا بہ یستھزء ون آخر ان کے اعمال بد کی ان کو سزائیں ملیں اور جس عذاب (کے بیان) پر وہ ہنستے تھے ‘ ان کو اسی نے آگھیرا۔ سَیِّاٰت سے پہلے مضاف محذوف ہے ‘ یعنی برے اعمال کی سزا ان پر آگئی۔ یا سَیِّاٰت سے مراد ہیں : سزائیں اور مَا عَمِلُوْا سے مراد ہے : کفر و معصیت ‘ یعنی کفر و معصیت کی سزائیں ان کو ملیں۔ حَاقَ بِھِمْ ان پر نازل ہوگیا یا ان کو گھیر لیا۔ مَا کَانُوْا میں مامصدری ہے ‘ یعنی استہزاء (کی سزا) نے ان کو گھیر لیا (اس وقت مضاف محذوف ہوگا) یا مَا موصولہ ہے اور اس سے مراد عذاب ہے۔ کفار بطور مذاق کہتے تھے : لَوْلاَ یُعَذِّبُنَا اللّٰہُ بِمَا تَقُوْلُ ہمارے کہنے پر اللہ ہم کو عذاب کیوں نہیں دیتا۔
Ayah 16:35وقال الذین اشرکوا لو شآء اللہ ما عبدنا من دونہ من شیء نحن ولا ابآء نا ولا حرمنا من دونہ من شیء اور مشرک کہتے ہیں کہ اگر اللہ کو منظور ہوتا تو اس کے سوا کسی چیز کی عبادت نہ ہم کرتے ‘ نہ ہمارے باپ دادا اور نہ اس کے (حکم کے) بغیر ہم کسی چیز کو حرام کہتے۔ مشرک بعثت انبیاء اور احکام تشریعی کے منکر تھے اور بطور استہزاء کہتے تھے کہ جب ہر کام اللہ کی مشیّت سے ہوتا ہے تو اگر اللہ چاہتا تو ہم اور ہمارے باپ دادا نہ شرک کرتے ‘ نہ اپنی طرف سے کسی چیز کو حرام قرار دیتے ‘ پھر بعثت پیغمبر اور احکام تکلیفیہ کا فائدہ ہی کیا ہے۔ یا یہ کلام سنجیدگی سے کہتے تھے اور مرضی و مشیّت میں ان کے نزدیک کوئی فرق نہ تھا۔ ہر کام چونکہ اللہ کی مشیّت سے ہونا مسلمہ حقیقت ہے ‘ اسلئے وہ سمجھے کہ ہمارا اور ہمارے باپ دادا کا شرک کرنا اور حلال کو حرام خود بنا لینا بھی اللہ کی مرضی ہے اور ہمارا یہ فعل اللہ کو ناپسند نہیں ہے۔
کذلک فعل الذین من قبلھم ان سے پہلے لوگوں نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔ شرک کرنے اور حلال کو ازخود حرام بنانے کی یہی علت بیان کی تھی۔
فھل علی الرسل الا البلغ المبین سو پیغمبروں کا فریضہ تو واضح طور پر اللہ کا پیام پہنچا دینا ہے ‘ اس کے سوا ان کا اور کوئی کام نہیں۔ ہدایت یاب کرنا تو اللہ کے قبضہ میں ہے اور اسی کی مشیّت پر موقوف ہے ‘ البتہ اللہ کی خوشنودی کا راستہ بتادینا پیغمبروں کا فریضہ ہے۔ اس سے آگے آیات ذیل میں بیان فرمایا ہے کہ پیغمبر کی بعثت کوئی نئی بات نہیں ‘ ہمیشہ سے دستور خداوندی یہی رہا ہے کہ ہر زمانہ میں مختلف اقوام کیلئے اس نے پیغمبر بھیجے ہیں اور بعثت انبیاء کو ذریعۂ ہدایت اور سبب خلافت قرار دیا ہے۔ جس کو اللہ نے ہدایت یاب بنانا چاہا ‘ پیغمبر کی بعثت اس کیلئے سبب ہدایت بن گئی اور جس کو اللہ نے گمراہ بنا دینا چاہا ‘ پیغمبر کی بعثت سے اس کی گمراہی میں مزید اضافہ ہوگیا۔ پیغمبر کی بعثت تو اعلیٰ ‘ نفیس غذا کی طرح ہے۔ مناسب مزاج والے کو نفیس غذاطاقت پہنچاتی ہے اور بگڑے ہوئے مزاج والے کے مزاج میں مزید بگاڑ کا سبب بن جاتی ہے۔
Ayah 16:36ولقد بعثنا فی کل امۃ رسولا ان اعبدوا اللہ واجتتنیبوا الطاغوت اور ہم نے ہر امت میں یہ پیام پہنچانے کیلئے پیغمبر کو بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور شیطان سے بچتے رہو۔ یعنی شیطان کی پیروی نہ کرو۔ وہ طاغوت ہے ‘ اللہ کی عبادت سے بہت بڑا طاغی (سرکش) ۔
فمنھم من ھدی اللہ پس ان میں سے بعض کو تو اللہ نے ہدایت یاب کردیا۔ جس کو ہدایت یاب کرنا چاہا ‘ اس کو پیغمبروں کی رہنمائی سے ایمان کی توفیق دے دی۔
ومنھم من حقت علیہ الضللۃ اور ان میں سے بعض لوگوں کیلئے (بقضائے ازلی حسب مشیّت الٰہی) گمراہی محقق ہوگئی (مضبوط ہوگئی) اللہ نے ان کو ایمان کی توفیق نہیں دی اور ان کو ہدایت یاب کرنا نہ چاہا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کفر کی ہی حالت میں ان کو ہلاک کردیا ‘ ان کی بستیوں کو اجاڑ دیا ‘ ان کے محل ویران ہوگئے اور ان کے (جاگیری) کنویں بغیر مالکوں کے خالی پڑے رہ گئے۔
فیسروا فی الارض فانظروا کیف کان عاقبۃ المکذبین (اے گروہ قریش ! ) ذرا ملک میں چل پھر کر دیکھو کہ پیغمبروں کو جھوٹا قرار دینے والوں کا کیسا (برا) انجام ہوا۔ عاد ‘ ثمود ‘ قوم لوط اور بن والوں (یعنی قوم شعیب) کی بستیاں دیکھو۔ کافروں نے اللہ کی مشیّت اور مرضی کو ایک سمجھ رکھا تھا۔ اس خیال کا ازالہ اس آیت میں کردیا کیونکہ ان اقوام کی طرف سے تکذیب کا ارتکاب تو بمشیت خدا تھا ‘ اب اگر تکذیب ہی میں اس کی مرضی ہوتی تو ان پر عذاب نازل نہ فرماتا۔
اس سے آگے رسول اللہ ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ کفار قریش پر گمراہی کی مہر اللہ کی طرف سے ثبت ہوچکی ہے ‘ آپ اپنے جی کو ہلکان نہ کریں اور ان کو ہدایت یاب بنانے کی حرص نہ کریں۔ فرمایا ہے :
Ayah 16:37ان تحرص علی ھدھم فان اللہ لا یھدی من یضل وما لھم من نصرین ان کے راہ راست پر آنے کی آپ کتنی ہی تمنا کریں ‘ اللہ ایسے لوگوں کو ہدایت یاب نہیں کرتا جن کو گمراہ کرنا اس کو مقصود ہوتا ہے اور ان کا کوئی حمایتی نہ ہوگا۔
یعنی اللہ جس کو گمراہ رکھنا ہی چاہے ‘ اس کو پھر ہدایت یاب نہ کرتا۔ آیت لِمَنْ حَقَّتْ عَلَیْہِ الضَّلٰلَۃُ کا جو مفہوم ہے ‘ وہ مَنْ یُّضِلُّ کا مفہوم ہے۔
مَا لَھُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ کا یہ مطلب ہے کہ جن کو اللہ ہی گمراہ کر دے ‘ ان کی مدد کرنے والا اور حکم خدا کو نافذ ہونے سے روکنے والا اور اللہ کے مقرر کردہ عذاب کو ٹالنے والا کوئی نہیں ہوسکتا۔
حاصل کلام یہ ہے کہ محمد ﷺ ! اگر آپ ان کو ہدایت یاب بنانے کی کتنی ہی حرض کریں اور ان کو ہدایت کرنے میں کتنی ہی تکلیف اٹھائیں ‘ جب ان کو اللہ نے ہی گمراہ کردیا ہے تو آپ کی اس حرص سے ان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا اور ان کو ہدایت یافتہ بنانے کی آپ کو قدرت نہ ہوگی۔ اللہ سب پر غالب اور قوی ہے۔ جس کو وہ گمراہ کر دے ‘ اس کو نہ کوئی ہدایت کرنے والا ہے نہ مددگار کہ عذاب کو دفع کرسکے۔
ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ کی روایت سے لکھا ہے کہ ایک مسلمان کا کسی مشرک پر کچھ قرض تھا۔ مسلمان ‘ مشرک کے پاس تقاضا کرنے گیا اور اپنے قرض کے متعلق کچھ گفتگو کی۔ اثناء کلام میں یہ بات بھی مسلمان نے کہہ دی کہ مرنے کے بعد مجھے اللہ سے یہ یہ امیدیں ہیں۔ مشرک بولا : اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تم کو مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کا یقین ہے۔ میں اللہ کی پختہ قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جو مرگیا ‘ اللہ اس کو دوبارہ زندہ کر کے نہیں اٹھائے گا۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 16:38واقسموا باللہ جھد ایمانھم لا یبعث اللہ من یموت اور انہوں نے اللہ کی پختہ قسمیں کھا کر کہا کہ جو مرجائے گا ‘ اللہ اس کو نہیں اٹھائے گا۔ اس جملہ کا عطف وَقَالَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا پر ہے اور یہ تنبیہ کرنی مقصود ہے کہ جس طرح یہ توحید کے منکر ہیں ‘ اسی طرح مضبوط قسمیں کھا کر مرنے کے بعد جی اٹھنے کا بھی انکار کرتے ہیں۔ اس کی تردید میں اللہ نے فرمایا :
بلی وعدا علیہ حقا ولکن اکثر الناس لا یعلمون کیوں نہیں (اٹھائے گا) اس نے اس کا پختہ وعدہ کرلیا ہے ‘ اس پر (وعدہ کو پورا کرنا) ضروری ہے (کیونکہ دوبارہ زندہ کر کے اٹھانا اس کی حکمت کا تقاضا ہے اور تقاضائے حکمت کے خلاف ہونا ممکن نہیں اور اس کے وعدہ کی خلاف ورزی محال ہے) اس نے (قیامت بپا کرنے کا) وعدہ بہت پختہ کیا ہے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے (کہ اللہ کے وعدہ کے خلاف ہونا ناممکن ہے) یا یہ مطلب ہے کہ اکثر لوگ قیامت کا یقین نہیں رکھتے کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ قیامت کا برپا ہونا اللہ کی حکمت کا تقاضا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی نظریں کوتاہ ہیں ‘ محسوسات سے عاری ہیں ‘ غیرمعمولی حادثہ کے واقع ہونے کو محال جانتی ہیں۔
Ayah 16:39لیبین لھم الذی یختلفون فیہ (وہ قیامت قائم کرے گا) تاکہ ان پر وہ امر (حق) واضح کر دے جس کے متعلق وہ (دنیا میں) اختلاف کرتے تھے۔
لَھُمْ کی ضمیر مرنے والوں کی طرف لوٹ رہی ہے خواہ کافر ہوں یا مؤمن۔
ولیعلم الذین کفروا انھم کانوا کذبین اور تاکہ (قیامت کے دن) کافر جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے۔
کافر کہتے تھے کہ جو مرگیا ‘ اللہ دوبارہ اس کو زندہ کر کے نہیں اٹھائے گا۔
لِیُبَیِّنَ اور لِیَعْلَمَ میں قیامت قائم کرنے کی علت اور حکمت بیان فرمائی ہے۔ حق و باطل اور حق پرست و باطل پرست میں تمیز کردینا اور ہر فریق کو سزا یا جزا دینا تقاضائے حکمت ہے جس کا ظہور قیامت کے دن ہوگا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لِیُبَیِّنَ کا تعلق آیت وَلَقَدْ بَعَثْنَا فیکُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلاً سے ہو ‘ یعنی ہر امت میں ہم نے پیغمبر بھیجا تاکہ پیغمبر وہ امر حق ظاہر کر دے جس کی بابت اس امت میں اختلاف ہے اور لوگوں کو بتادے کہ وہ گمراہی پر ہیں ‘ اللہ پر بہتان تراشی اور دروغ بندی کرتے ہیں (ا اللہ نے ان کو بت پرستی اور حلال کو حرام بنانے کا حکم نہیں دیا) ۔
Ayah 16:40انما قولنا لشیء اذا اردنہ ان نقول لہ کن فیکون ہم جس چیز کو پیدا کرنا چاہتے ہیں ‘ اس سے ہمارا اتنا ہی کہنا کافی ہوتا ہے کہ ہوجا ‘ پس وہ فوراً ہوجاتی ہے۔
اِذَآ اَرَدْنَاہٗ یعنی جب ہم کسی چیز کو موجود کرنا چاہتے ہیں خواہ پہلی بار یا دوبارہ۔ اس آیت میں دوسری زندگی کا امکان ثابت کیا گیا ہے۔ خلاصۂ بیان یہ ہے کہ اللہ مخلوق کو محض اپنی قدرت سے پیدا کرتا ہے ‘ کسی اور چیز پر کسی مخلوق کی ہستی موقوف نہیں ورنہ نتائج و اسباب کا تسلسل کہیں ختم نہ ہوگا اور کسی چیز کا وجود ہی نہ ہو سکے گا۔ پھر کسی چیز کی تخلیق وتکوین سے اللہ کو کوئی تھکان یا تکلیف نہیں ہوتی ورنہ اللہ کا عاجز ہونا لازم آئے گا __ اور عجز تقاضائے الوہیت کے خلاف ہے۔ پس جبکہ کوئی مادہ نہ تھا ‘ نہ سابق میں کوئی نظیر اور مثال تھی بلکہ اللہ نے تمام چیزوں (یہاں تک کہ خود مادہ) کو بغیر مادہ اور مثال کے پہلی مرتبہ پیدا کردیا تو (اب جبکہ ایک مثال موجود ہوچکی ہے) دوبارہ پیدا کرنا ناممکن نہیں ہوسکتا۔
حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : میرے بندہ نے میری تکذیب کی اور اس کیلئے یہ زیبا نہ تھا اور میرے بندے نے مجھے گالی دی اور یہ اس کیلئے مناسب نہ تھا۔ تکذیب تو یہ کی کہ اس نے کہا : اللہ نے جیسا شروع میں مجھے پیدا کردیا ‘ ایسا دوبارہ ہرگز مجھے پیدا نہیں کرے گا ‘ حالانکہ ابتدائی تخلیق میرے لئے دوبارہ تخلیق سے آسان نہ تھی اور گالی یہ دی کہ اس نے کہا : اللہ نے اپنے لئے اولاد اختیار کرلی ہے ‘ حالانکہ میں ایک ہوں ‘ بےنیاز ہوں۔ نہ میں کسی کا باپ ہوں ‘ نہ کسی کا بیٹا۔ میری مثل کوئی بھی نہیں ہے۔
حضرت ابن عباس کی روایت کے یہ الفاظ ہیں : اس کا گالی دینا تو یہ ہے کہ اس نے کہا : میری اولاد ہے ‘ حالانکہ میں پاک ہوں بی بی یا اولاد اختیار کرنے سے۔ رواہ البخاری
Ayah 16:41والذین ھاجروا فی اللہ من بعد ما ظلموا اور جن لوگوں نے اللہ کے واسطے اپنا وطن چھوڑ دیا بعد اس کے کہ ان پر ظلم کیا گیا۔
فِی اللہ یعنی اللہ کی راہ میں ‘ اللہ کے معاملہ میں ‘ اللہ (کو ماننے) کی وجہ سے۔ ظُلِمُوْا بعد اس کے کہ ان کو سخت دکھ دئیے گئے اور ایذائیں پہنچائی گئیں۔ عبدالرزاق اور ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس اور داؤد بن ہند کا قول نقل کیا ہے کہ اس آیت کا نزول حضرت ابو جندل بن سہیل کے متعلق ہوا۔ مشرکوں نے کہ میں آپ کو قید کر رکھا تھا اور دکھ پہنچائے تھے۔ ابن المنذر ‘ ابن ابی حاتم اور عبد بن حمید نے قتادہ کا قول نقل کیا ہے کہ اس آیت کا نزول چند صحابہ کے متعلق ہوا جن پر مکہ والوں نے مظالم کئے تھے اور گھروں سے نکال باہر کردیا تھا۔ انہی مظلوموں میں سے ایک گروہ ملک حبش کو چلا گیا تھا۔ پھر اللہ نے ان کو مدینہ میں ٹھکانا دے دیا ‘ مدینہ کو ان کیلئے دارالہجرت بنا دیا اور کچھ مؤمنوں (یعنی مدینہ والوں) کو ان کا مددگار کردیا۔
لنبوئنھم فی الدنیا حسنۃ ولاجر الاخرۃ اکبر ہم ضرور دنیا میں ان کو ٹھکانا دیں گے اچھی طرح اور آخرت کا اجر تو بہت ہی بڑا ہے۔ اچھے ٹھکانے سے مراد ہے مدینہ۔
بغوی نے لکھا ہے : روایت میں آیا ہے کہ حضرت عمر بن خطاب جب کسی مہاجر کو کچھ عطا فرماتے تھے تو کہتے تھے : یہ لے لو ‘ اللہ تم کو مبارک کرے۔ یہ چیز تو وہ ہے جس کے دینے کا اللہ نے تم سے دنیا میں وعدہ کیا تھا اور آخرت میں جو تمہارے لئے رکھ چھوڑا ہے ‘ وہ بہت بہتر ہے۔ پھر آپ یہی آیت تلاوت فرماتے تھے۔
بعض علماء کے نزدیک آیت کا معنی یہ ہے کہ ہم دنیا میں ان کے ساتھ بھلائی کریں گے۔ بعض نے کہا : دنیا میں بھلائی سے مراد ہے : ایمان کی توفیق اور نیکی کی ہدایت۔
لو کانوا یعلمون اگر (کفار) جانتے ہوتے (کہ اللہ ان مہاجروں کو دونوں جہان کی بھلائی عطا فرمائے گا تو ان پر ظلم نہ کرتے ‘ ان کی تائید کرتے) یا یہ مطلب ہے کہ اگر مہاجروں کو معلوم ہوتا (کہ ہمارے لئے اس دکھ کو پانے کا یہ اجر ہے) تو وہ اور زیادہ کوشش کرتے اور مزید صبر سے کام لیتے۔
Ayah 16:42الذین صبروا وعلی ربھم یتوکلون اور ایسے ہیں کہ صبر کرتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔
صَبَرُوْا کا مفعول محذوف ہے ‘ یعنی کافروں کی طرف سے ایذاء پانے اور وطن چھوڑنے اور دوسرے مصائب پر صبر کرتے ہیں۔
یَتَوَکَّلُوْنَ یعنی اپنے تمام معاملات اللہ کے سپرد کردیتے ہیں اور سب سے (دل کا) تعلق توڑ کر اللہ سے اپنا رابطہ جوڑ لیتے ہیں۔ جب کافروں نے رسول اللہ ﷺ کی نبوت کا انکار کردیا اور کہنے لگے : کوئی آدمی اللہ کا پیغامبر نہیں ہوسکتا۔ اللہ نے ہماری ہدایت کیلئے کسی فرشتہ کو کیوں نہیں بھیجا ؟ اس پر آیت ذیل کا نزول ہوا۔
Ayah 16:43وما ارسلنا من قبلک الا رجالا نوحی الیھم اور آپ سے پہلے بھی ہم نے (آدمیوں کے پاس) مردہی پیغمبر بنا کر بھیجے (ملائکہ کو نہیں بھیجا) ہم ان کے پاس (ملائکہ کے ذریعہ سے) وحی بھیجتے رہے۔
فسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون پس اگر تم نہیں جانتے ہو تو اہل علم سے پوچھ لو۔ یعنی اگر آدمیوں کے پیغمبرہونے میں تم کو شک ہے تو جن کو کتب سابقہ کا علم ہے ‘ یہودی ہوں یا عیسائی ‘ ان سے دریافت کرلو کہ اللہ نے بنی اسرائیل کے پاس حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ وغیرہ کو پیغمبر بنا کر بھیجا تھا اور ان سے پہلے حضرت ابراہیم اور حضرت نوح وغیرہ کو ان کی امتوں کی ہدایت کیلئے بھیجا تھا۔
آیت سے ثابت ہو رہا ہے کہ جن لوگوں کو علم نہ ہو ‘ ان کو علماء سے دریافت کرنا چاہئے اور اگر بتانے والا ثقہ ہو تو اس کی خبر مفیدعلم ہوتی ہے ‘ اس پر اعتماد کیا جاسکتا ہے۔
Ayah 16:44بالبنیت والزبر (ہم نے مردوں کو پیغمبر بنا کر بھیجا) کھلے معجزات اور کتابوں کے ساتھ۔
وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیھم اور ہم نے آپ پر بھی ایک نصیحت نامہ (یعنی قرآن مجید) اتارا تاکہ آپ لوگوں کے سامنے کھول کر اس کا اظہار کردیں جو (آپ کے ذریعہ سے) ان کے پاس بھیجا گیا ہے۔ مَا نُزِّلَ سے مراد ہے : ثواب کا وعدہ ‘ عذاب کی وعید ‘ احکام اور مجمل قوانین۔ بیان ( جس کا رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا ہے) قولی بھی تھا ‘ عملی بھی اور تقریری بھی ‘ اس کو تو بیان صریح کہا جاتا ہے۔ بیان کی دوسری قسم غیر صریحی ہے ‘ جیسے رسول اللہ ﷺ نے قیاس کرنے کا حکم دیا ہے (پس مقیس علیہ میں تو صریحی بیان ہوتا ہے اور مقیس میں غیر صریحی) ۔
ولعلھم یتفکرون اور تاکہ وہ غور کریں۔ غور کرنے سے مراد ہے : رفتار عبادت اوراقسام دلالت پر غور کرنا ‘ اس طرح کہ شارع کی طرف سے کسی بیان کی ضرورت نہ ہو۔ مثلاً آیت فَأتُوْا حَرْثَکُمْ میں لفظ حرث بتارہا ہے کہ اس سے مراد زنانہ شرمگاہ ہے ‘ مبرز مراد نہیں ہے کیونکہ مبرز کھیتی (تخم آفرینی) کا مقام نہیں ہے (مبرز میں تخم ریزی ضیاع تخم ہے) یا آیت ثلثۃ قروء میں قروء سے مراد حیض ہے ‘ طہر مراد نہیں ہے کیونکہ طلاق مسنون طہر کے زمانہ میں ہی ہوتی ہے۔ اب گر جس طہر کے زمانہ میں طلاق دی ہو ‘ اس کو پورا طہر محسوب کرلیا جائے تو تین طہر سے مدت کم ہوجائے گی اور محسوب نہ کیا جائے تو مدت تین سے بڑھ جائے گی ‘ بہرحال پورے تین طہر نہ ہوں گے۔ اس سے ثابت ہوا کہ قروء سے مراد طہر نہیں ہے بلکہ حیض مراد ہے۔
Ayah 16:45افامن الذین مکروا السیات ان یخسف اللہ بھم الارض جو لوگ بری بری تدبیریں کرتے ہیں ‘ کیا وہ اس بات سے بےفکر ہیں کہ اللہ ان کو زیر زمین دھنسا دے ؟
مشرکوں نے بری بری تدبیریں کی تھیں ‘ رسول اللہ ﷺ کو شہید کردینے ‘ یا بند رکھنے ‘ یا جلا وطن کرنے کے مشورے کئے تھے اور لوگوں کو ایمان سے روکنے کی بھی منصوبہ بندی کی تھی۔
او یاتیھم العذاب من حیث لا یشعرون یا (اچانک آسمان سے کوئی غیبی) عذاب ان پر ایسے طریقے سے آجائے کہ ان کے گمان میں بھی نہ ہو ‘ جیسے قوم لوط اور قوم شعیب پر آیا تھا۔
Ayah 16:46او یاخذھم فی تقلبھم فما ھم بمعجزین یا (سفر میں) آتے جاتے اللہ ان کو عذاب میں دھر پکڑے ‘ سو وہ لوگ اللہ کو ہرگز نہیں ہرا سکتے۔ حضرت ابن عباس نے تقلب کا ترجمہ کیا ہے : اختلاف اور ابن جریج نے ترجمہ کیا : اقبال و ادبار (دونوں ترجمے ہم معنی ہیں ‘ یعنی آمد و رفت)
Ayah 16:47او یاخذھم علی تخوف یا گھٹاتے گھٹاتے سب کو پکڑ لے۔ تَخَوُّفٍ کا معنی ہے : گھٹانا۔ تخوِفۃٌ میں نے اس کو کم کردیا۔ تخوفہ الدہر زمانے نے اس کو جسمانی و مالی نقصان پہنچایا۔ بغوی نے لکھا ہے : تَخَوُّفٍ کا یہ معنی قبیلۂ بنی ہذیل کے محاورہ میں آیا ہے۔ گھٹانے کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو آج ‘ کسی کو کل ‘ کسی کو پرسوں اللہ ہلاک کر دے اور اسی طرح سب کو ختم کر دے۔ ضحاک اور کلبی نے کہا : تَخَوُّفٍ کا معنی خوف ہی ہے۔ میں کہتا ہوں : اس صورت میں آیت کا مقصد یہ ہوگا کہ جب دوسرے ہلاک کر دئیے جائیں تو ان کی ہلاکت کو دیکھ کر لوگ خوف زدہ ہوجائیں اور اسی خوف کی حالت میں ان پر بھی ہلاکت آجائے۔ یا یہ مطلب ہے کہ پہلے ہلاکت کی نشانیاں ظاہر کردی جائیں جن سے وہ لوگ خوف زدہ ہوجائیں ‘ پھر ان کو ہلاک کردیا جائے ‘ جیسے قوم ثمود کو ہلاک کیا گیا تھا۔ پہلے روز ان کے چہرے زرد پڑگئے تھے ‘ دوسرے روز سرخ اور تیسرے روز سیاہ ہوگئے۔ اس کے بعد ان کو ہلاک کردیا گیا۔
فان ربکم لرء وف رحیم پس بلاشبہ تمہارا رب بڑا مہربان اور رحیم ہے۔ اسی وجہ سے وہ فوراً عذاب میں مبتلا نہیں کرتا اور فوری سزا نہ دینے کی وجہ سے لوگ بےخوف ہوگئے ہیں ‘ حالانکہ یہ بیباکی اور عذاب نہ ہونے کا یقین کسی طرح مناسب نہیں کیونکہ رحیم ہونے کے باوجود اللہ سخت منتقم بھی ہے ‘ اس کا انتقام بہت سخت ہے۔ کسی میں بھی اس کے مقابلے کی طاقت نہیں۔
اَفَامِنَ کا عطف آیت وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ الاَّ رِجَالاً پر ہے اور فاء تعقیب کیلئے ہے ‘ یعنی جب یہ بات معلوم ہوگئی کہ اللہ نے انسانوں کی ہدایت کیلئے آدمیوں کو ہی پیغمبر بنا کر بھیجا تو پھر محمد ﷺ کا انکار اور آپ کے مغلوب کرنے کی تدبیریں اور ان بری تدبیروں کے برے نتیجہ سے نڈر ہوجانا بالکل نازیبا اور ناروا ہے۔ یہ رسول بھی گزشتہ رسولوں کی طرح ہیں جن کی مخالفت گزشتہ امتوں کیلئے تباہ کن ثابت ہوچکی ہے۔
Ayah 16:48اولم یروا الی ما خلق اللہ من شیء کیا انہوں نے اللہ کی پیدا کی ہوئی ان چیزوں کو نہیں دیکھا ؟ اگر دیکھا ہے تو اللہ کی قدرت کاملہ اور ہمہ گیر غلبہ کا ادراک ان کو کیوں نہیں ہوا اور کیوں اس کے عذاب سے نڈر ہوگئے۔
یتفیو ظللہ عن الیمین والشمائل سجدا اللہ ھم واخرون جن کے سائے کبھی ایک طرف کو کبھی دوسری طرف کو جھکتے جاتے ہیں کہ (بالکل) اللہ کے حکم کے تابع ہیں اور وہ (چیزیں) بھی عاجز ہیں۔ یعنی کیا انہوں نے ان چیزوں کو نہیں دیکھا جن کے سائے سورج کے چڑھنے ‘ اترنے یا مشرق و مغرب کے اختلاف کی وجہ سے دائیں بائیں یعنی دونوں طرف بحکم الٰہی جھکتے ہیں۔ سُجَّدًا میں سجدہ سے مراد ہے : اطاعت ‘ اختیاری ہو یا فطری۔ سَجَدَت النخلۃُ کھجور کا درخت سجدہ کرنے لگا ‘ یعنی پھلوں کا زیادہ بار پڑنے سے جھک گیا۔ سَجَدَ البعیر اونٹ نے اپنے اوپر سوار کرنے کیلئے گردن جھکا دی۔ مطلب یہ ہے کہ سائے اللہ کے ضابطۂ فطرت کے تابع ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ سجدہ کی ہیئت کی طرح زمین پر گرتے اور چسپاں رہتے ہیں اور سایہ والی چیزیں بھی عاجز ‘ بےبس اور اللہ کے حکم کی تابع ہیں۔
Ayah 16:49واللہ یسجد ما فی السموات وما فی الارض من دآبۃ اور اللہ ہی کے مطیع ہیں جتنی چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جو چلنے والی چیزیں زمین میں ہیں۔
مَا فِی السَّمٰوٰتِ سے مراد ہے : چاند ‘ سورج ‘ ستارے اور مِنْ دَآبَّۃٍ- مَا فِی الْاَرْضِ کا بیان ہے یا مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ دونوں کا بیان مِنْ دَآبَّۃٍہے ‘ یعنی چلنے والی چیزیں ‘ آسمانوں میں ہوں یا زمین میں۔ دبیب جسمانی حرکت کو کہتے ہیں ‘ آسمان میں ہو یا زمین میں۔
والملئکۃ اور فرشتے بھی۔ وَالْمَلآءِکَۃ کا عطف مَا فِی السَّمٰوٰتِ پر ہے کیونکہ مَا فِی السَّمٰوٰتِ سے آسمانی چیزیں مراد ہیں چاند ‘ سورج ‘ ستارے اور مَا فِی الْاَرْضِ سے مراد زمین کی حرکت کرنے والی چیزیں ہیں اور ملائکہ کچھ زمین کے ہیں اور کچھ آسمان کے اور کچھ حاملین عرش ہیں جو نہ آسمانی ہیں نہ زمینی ‘ اسلئے ملائکہ نہ سماوی جنس سے ہیں نہ ارضی مخلوقات میں سے ‘ بلکہ سب سے الگ مخلوق ہیں (اور اگر ملائکہ کو موجودات سماوی و ارضی میں شامل مانا جائے تو پھر (ملائکہ کا عطف خصوصیت ظاہر کرنے کیلئے ہوگا ‘ جیسے آیت تَنَزَّلُ الْمَلآءِکَۃُ وَالرُّوْحُ میں روح (حضرت جبرئیل) کا عطف ملائکہ پر اظہار خصوصیت کیلئے ہے ‘ اس صورت میں الْمَلآءِکَۃُ کا ترجمہ ہوگا : ” اور بالخصوص ملائکہ بھی “۔
سجود سے مراد ہے : اطاعت وانقیاد ‘ خواہ طبعی تاثیر کی شکل میں ہو یا ارادہ اور قصد کے ساتھ احکام تکلیفیہ کی تعمیل کی صورت میں۔ انقیاد عمومی میں تمام مخلوق کی غیر ارادہ اطاعت یہاں تک کہ شر الدواب یعنی کفار کا طبعی انقیاد بھی شامل ہے۔ بعض علماء کے نزدیک سجود اشیاء سے مراد ہے : ہر چیز میں اللہ کی پر حکمت صنعت کا ظہور جو اہل عقل کو دعوت سجدہ دے رہا ہے۔ میرے نزدیک سجود اشیاء سے مراد اطاعت شعوری ہے ‘ جاندار ہو یا بےجان ‘ نامی ہو یا باجامد ‘ ہر چیز ایک خاص زندگی رکھتی ہے اور کوئی چیز بھی شعور سے خالی نہیں ‘ خواہ ہم بعض چیزوں کو بےجان اور بےشعور جانتے ہوں ‘ ہم کو ان کے باشعور اور زندہ ہونے کا علم نہ ہو مگر اللہ کے نزدیک وہ باشعور اور زندہ ہیں۔ اسی مضمون کی تائید مختلف آیات سے ہو رہی ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : وَاَذِنَتْ لِرَبِّھَا وَحُقَّتُ- قَالَتَآ اتَیْنَا طَآلِعَیْنَ- یَوْمَءِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَھَا بِاَنَّ رَبَّکَ اَوْحیٰ لَھَا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اَطَّتِ السَّمَآءُ وَحَقُّ لَھَا اَنْ تَأَطَّ آسمان (خوف سے) چرچرایا اور چرچرانا (یعنی اللہ سے دڑنا) ہی اس کیلئے مناسب تھا۔ اس توجیہ پر آیت مذکورہ میں کافروں کے علاوہ دوسری مخلوق مراد ہوگی ‘ کافر مستثنیٰ ہوں گے۔ اللہ نے سورة حج کی آیت سجدہ میں وَکَثِیْرٌ مِّنَ النَّاس فرمایا ہے جس سے کافروں کا استثناء ظاہر ہو رہا ہے۔ آئندہ آیت بھی اس تخصیص کو ظاہر کر رہی ہے۔
وھم لا یستکبرون اور (ا اللہ کی عبادت سے) تکبّر نہیں کرتے۔
Ayah 16:50یخافون ربھم من فوقھم وہ اپنے رب سے ڈرتے ہیں جو کہ ان سے بالا دست ہے یعنی غالب اور قاہر ہے۔
ا اللہ نے دوسری جگہ فرمایا ہے : وَھُوَ الْقَاھِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ ۔ یا یہ مطلب ہے کہ وہ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ کہیں عذاب ان کے اوپر سے نہ نازل ہوجائے۔
ویفعلون ما یؤمرون اور جو کچھ ان کو حکم دیا جاتا ہے ‘ اس کی تعمیل کرتے ہیں۔ یعنی جیسی تعمیل حکم ان کیلئے مناسب ہے وہی کرتے ہیں۔ یہ جملے بتا رہے ہیں کہ لللّٰہِ یَسْجدُ سے کفار مستثنیٰ ہیں۔ تکبر نہ کرنا ‘ ڈرنا اور تعمیل حکم کرنا تقاضائے کفر کے خلاف ہے۔ ہاں اگر سجود سے عمومی تکوینی اطاعت اور اللہ کی صنعت کا ظہور مراد لیا جائے تو پھر ہُمْ لاَ یَسْتَکْبَرُوْنَ اور یَخَافُوْنَ رَبَّھُمْ اور یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ ملائکہ کی صفات خصوصی ہوں گی (عام مخلوق کی صفات نہ ہوں گی) ۔
حضرت ابوذر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو کچھ میں دیکھتا ہوں ‘ تم نہیں دیکھتے اور جو کچھ میں سنتا ہوں ‘ تم نہیں سنتے۔ آسمان خوب چرچرایا اور اس کو خوب چرچرانا چاہئے ہی تھا۔ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ‘ آسمان میں کہیں بھی چار انگلی جگہ ایسی نہیں کہ اس میں کوئی فرشتہ سجدہ میں پیشانی رکھے ہوئے نہ ہو۔ خدا کی قسم ! جو کچھ میں جانتا ہوں ‘ اگر تم جانتے تو کم ہنستے اور زیادہ روتے اور بستروں پر عورتوں سے لذت اندوز نہ ہوتے اور میدانوں میں نکل کر اللہ کے سامنے چیختے چلاتے۔ (یہ سن کر) حضرت ابوذر بولے : کاش میں درخت ہوتا تاکہ اس کو کاٹ دیا جاتا۔ رواہ احمد والترمذی وابن ماجۃ والبغوی۔
Ayah 16:51وقال اللہ لا تتخذوا الھین اثین انما ھو الٰہ واحد اور اللہ نے فرمایا ہے کہ دو معبود نہ قرار دو ‘ بس اللہ ہی ایک معبود ہے۔ یعنی دوئی الوہیت کے منافی ہے (دو اِلٰہ ہو ہی نہیں سکتے) آخری آیت دلالت کر رہی ہے کہ اس جگہ وحدانیت کو ثابت کرنا مقصود ہے ‘ الوہیت کا اثبات مقصود نہیں۔ الوہیت کے لوازم میں سے وحدانیت ہے۔
فایای فارھبون پس خصوصیت کے ساتھ مجھ ہی سے ڈرا کرو۔ (اِیَّای فعل محذوف کا مفعول ہے اور فارْھَبُوْا کا مفعول محذوف ہے۔ اصل کلام اس طرح تھا : اِیَّایَ اِرْھَبُوْا فَارْھَبُوْنِی تکرار جملہ تاکید حکم کو ظاہر کر رہی ہے) ۔
Ayah 16:52ولہ ما فی السموت والارض اور اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے۔ یعنی اللہ ہی ہر چیز کا خالق اور مالک ہے ‘ اس کی شان میں ظلم کا تصور بھی نہیں ہوسکتا (وہ اپنی ملک میں ہر طرح کا تصرف کرسکتا ہے ‘ اس کیلئے کسی قسم کا تصرف ظلم نہیں ہوسکتا) ظلم تو دوسرے کی ملک میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف کرنے کا نام ہے۔ بغیر اجازت کے دوسرے کی چیز میں تصرف جائز نہیں (اپنی ملک میں تصرف تو کسی صورت میں اور کسی بھی حالت میں ظلم ہو ہی نہیں سکتا) فرقۂ معتزلہ انسان کو اپنے افعال کا خالق کہتا ہے ‘ اس کے مسلک کی تردید اس آیت سے ہوتی ہے۔
ولہ الدین واصبا اور اسی کو حق ہے کہ اس کی اطاعت لازمی طور پر اور ہمیشہ کی جائے۔ اس کی اطاعت کا حکم کبھی ساقط نہیں ہوسکتا۔ وہی الٰہٌ واحد ہے اور اسی سے خوف کرنا ضروری ہے۔ فرشتوں کی طرح انسانوں کو بھی ہمیشہ ہر حال میں اسی کی اطاعت کرنی چاہئے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے : خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت نہیں۔ رواہ احمد والحاکم بسند صحیح عن عمران والحکیم بن عمرو الغفاری۔
صحیحین اور نسائی اور سنن ابو داؤد میں حضرت علی کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت جائز نہیں۔ اطاعت (کا حکم) تو نیکی میں ہے (امر ممنوع کا ارتکاب کسی کے حکم سے درست نہیں) لہٗ الدین ذا کلفۃ کا بھی یہی مطلب ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کسی کی اطاعت جائز نہیں ‘ کیونکہ اس کے سوا کوئی مالک نہیں۔ مالک اپنی ملک میں جیسا چاہے تصرف کرسکتا ہے۔ غیر مالک ‘ مالک کی اجازت کے بغیر تصرف نہیں کرسکتا۔
بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ اس جگہ دین سے مراد ہے : بدلہ ‘ یعنی سزا و جزا۔ مطلب یہ ہے کہ دوامی سز جزا اسی کو زیبا ہے۔ وہی مؤمنوں کو دوامی ثواب دے گا اور کافروں کو لازوال عذاب۔
بعض نے کہا کہ دین سے مراد عذاب ہے ‘ یعنی کافروں کو دوامی عذاب دینے کا اسی کو حق ہے۔ اصل میں واصب بیماری کو کہتے ہیں۔ وَصَبَ زیدٌ زید دکھی ہوگیا۔ اللہ نے عذاب کی صفت واصب فرمائی ہے۔ ایک آیت میں فرمایا ہے : وَلَھُمْ عَذَابٌ وٌّاصِبٌ۔ حضرت عائشہ نے فرمایا تھا : انَا وَصَّبتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ میں نے رسول اللہ ﷺ کی تیمارداری کی تھی۔ نہایہ میں ہے : وصب دوامی دکھ ہونا۔ توصیب تیمارداری۔ قاموس میں ہے : وصب بمعنی مرض اَوْصَبَہُ اللّٰہُ اس کو اللہ نے بیمار کردیا۔ وَصَبَ یَصْبُ وَصوبا مرض جم گیا ‘ لازم ہوگیا۔ اَوْصَبَ کا بھی یہ معنی آتا ہے۔ وَصَبَ علی الامر کسی کی پابندی سے نگرانی کی اور اچھی طرح اس کا انتظام کیا۔ آیت میں دو معبود ماننے والوں کیلئے اللہ کی طرف سے سخت اور دوامی عذاب کی وعید ہے۔
افغیر اللہ تتقون کیا تم اللہ کے سوا دوسروں سے ڈرتے ہو ؟ یعنی کسی دوسرے سے نہ ڈرو ‘ سوائے اللہ کے کوئی نفع و نقصان نہیں پہنچا سکتا۔
Ayah 16:53وما بکم من نعمۃ فمن اللہ اور تم کو جو نعمت بھی حاصل ہے ‘ وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ نعمت سے مراد ہے : صحت ‘ عافیت ‘ دولت ‘ خوش حالی ‘ ارزانی وغیرہ۔
ثم اذا مسکم الضر فالیہ تجرون پھر جب تم پر (بیماری ناداری ‘ قحط وغیرہ کی کوئی) مصیبت آتی ہے تو عاجزی اور زاری کے ساتھ اللہ ہی کی طرف تم رجوع کرتے ہو۔ یعنی سوائے اس کے کسی سے دفع مصیبت کیلئے زاری نہیں کرتے۔ جوار اونچی آوازی سے دعا کرنا اور فریاد کرنا۔
Ayah 16:54ثم اذا کشف الضر عنکم اذا فریق منکم بربھم یشرکون پھر جب اللہ مصیبت کو تم سے دور کردیتا ہے تو تم میں سے کچھ لوگ یکدم (ا اللہ کی عبادت میں) دوسروں کو شریک کرنے لگتے ہیں۔ اگر خطاب تمام انسانوں کو مانا جائے ‘ مؤمن ہوں یا کافر تو مِنّکُم (تم میں کچھ) سے مراد ہوگا : فریق کفار اور اگر خطاب صرف کافروں کو قرار دیا جائے تب کافروں میں سے کچھ لوگوں کا مشرک ہوجانا صحیح ہے کیونکہ مصیبت دور ہونے کے بعد کچھ کافر بھی نصیحت پذیر ہوجاتے ہیں۔ دوسری آیت میں آیا ہے : فَلَمَّا نَجَّا ھُمْ اِلَی الْبَرِّ فَمِنْھُمْ مُقْتَصِدٌ پھر جب سمندری طوفان سے بچا کر اللہ ان کو خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو ان میں سے کچھ لوگ سیدھی چال اختیار کرلیتے ہیں۔
Ayah 16:55لیکفروا بما اتینھم جس کا حاصل یہ ہے کہ جو نعمتیں ہم نے ان کو دی ہیں ‘ ان کی ناشکری کرتے ہیں۔ خصوصاً دفع مصیبت کی نعمت۔ لِیَکْفُرُوْا میں لام نتیجہ کا ہے ‘ یعنی ان کے شرک کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کی ناشکری کی۔ دوسروں کی عبادت کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے خداداد نعمتوں کا منعم دوسروں کو قرار دے لیا۔
فتمتعوا فسوف تعلمون خیر (چند روز) عیش اڑا لو ‘ اب جلد ہی خبر ہوجائے گی۔ تَمَتَّعُوْا امر کا صیغہ ہے لیکن مراد ڈرانا ہے (حکم دینا مقصود نہیں ہے) فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ سے تہدید کی مزید شدّت ہوگئی۔
Ayah 16:56ویجعلون لما لا یعلمون نصیبا مما رزقنھم اور یہ لوگ ہماری دی ہوئی چیزوں میں ان (جھوٹے معبودوں) کا حصہ لگاتے ہیں جن کے متعلق ان کو کچھ علم نہیں۔ یعنی جن معبودوں کا حصہ لگایا جا رہا ہے ‘ وہ عبادت کے مستحق ہیں اور نفع یا ضرر پنچانے والے ہیں۔ یہ کافر ان کو ایسا نہیں خیال کرتے ‘ فقط اپنی نادانی کی وجہ سے ان کو معبود اور نفع و نقصان پہنچانے والے کہہ دیتے ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ کافر ان معبودوں کو حق نہیں سمجھتے ‘ یونہی حصہ لگا دیتے ہیں۔ یا مَا لاَ یَعْلَمُوْنَ سے مراد بت ہیں اور یَعْلَمُوْن کا فاعل بت ہیں۔ یعنی بت بےعلم ہیں ‘ جماد ہیں اور کافر ایسے پتھروں کا حصہ لگا دیتے ہیں۔ مَا رَزَقْنٰھُمْ سے مراد ہے : کھیتی ‘ مویشی ‘ پھل۔ مشرک کہا کرتے تھے : ھٰذَا لِلّٰہِ بَزَعْمِھِمْ وَھٰذَا لِشُرَکَآءِنَا۔
تا اللہ لتسئلن عما کنتم تفترون اللہ کی قسم ! تم سے تمہاری ان دروغ تراشیوں کی ضرور بازپرس ہوگی۔ یعنی تم جو ان کو معبود بنا رہے ہو ‘ قیامت کے دن اس کی بازپرس ہوگی تم سے ضرور۔
Ayah 16:57ویجعلون اللہ البنات سبحٰنہ ولھم ما یشتھون اور اللہ کیلئے تو بیٹیاں تجویز کرتے ہیں۔ سبحان اللہ اور اپنے لئے چاہتی چیز (یعنی بیٹے) بنی خزاعہ اور بنی کنانہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے۔ سُبْحَانَہٗ تنزیہ ذات ہے ‘ یعنی اللہ کو میں نسبت اولاد سے پاک سمجھتا ہوں اور اس کی پاکی کا اقرار کرتا ہوں۔ یا سُبْحَانَہٗ صرف اظہار تعجب کیلئے ہے۔
Ayah 16:58واذا بشر احدھم بالانثی ظل وجھہ مسودا وھو کظیم اور ان میں سے کسی کو بیٹی ہونے کی خبر دی جاتی ہے تو سارے دن اس کا چہرہ بدرونق رہتا ہے اور وہ دل ہی دل میں گھٹتا ہے۔
مُسْوَدًّا سیاہ ‘ بدرونق یعنی شرم ‘ رنج اور غم کی وجہ سے اس کا چہرہ بدرونق ہوجاتا ہے اور دن بھر بدرونق رہتا ہے۔ باوجودیکہ دن ایسی چیز ہے کہ اس میں خوشی بھی ہوتی ہے اور غم بھی ‘ مگر اس پر رنج ہی سوار رہتا ہے۔ کَظِیْم دل میں غم ‘ رنج گھٹا ہوا کہ اس کو اندر ہی اندر روکے رکھتا ہے ‘ ظاہر نہیں کرتا۔
Ayah 16:59یتواری من القوم من سوء ما بشر بہ اور جس چیز (لڑکی) کی اس کو اطلاع دی جاتی ہے ‘ اس کی عار سے لوگوں سے چھپا چھپا پھرتا ہے۔ الْقَوْم سے مراد ہے : اپنے لوگ۔
ایمسکہ علی ھون ام یدسہ فی التراب (تردد میں پڑجاتا ہے) کہ اس کو ذلت کی حالت میں (اپنے پاس) روکے رکھے یا مٹی میں اس کو (زندہ) گاڑ دے۔
یَدُسُّ چھپا دے ‘ دفن کر دے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ قبیلۂ مضر اور بنی خزاعہ اور بنی تمیم لڑکیوں کو زندہ دفن کردیا کرتے تھے۔ ایک تو ان کو ناداری کا اندیشہ ہوتا تھا (کہ لڑکیاں تو صرف کھانے پہننے کی ہیں ‘ لوٹ مار کر کے کہیں سے کچھ لا نہیں سکتیں) دوسرے یہ کہ (ناداری کو دیکھ کر) غیر کفو کہیں ان سے نکاح کرنے کا لالچ نہ کرنے لگیں۔ عرب کے بعض لوگوں کا دستور تھا کہ جب لڑکی پیدا ہوتی اور وہ اس کو زندہ رکھنا چاہتا تو ان کو اون کا یا بالوں کا کرتہ پہنا کر جانور چرانے کی خدمت پر لگا دیتا تھا اور اگر قتل کردینا چاہتا تو چھ سال کی عمر تک اس کو چھوڑے رکھتا۔ جب وہ چھ سال کی ہوجاتی تو اس کی ماں کو کہتا : اس کو بنا سنوار کر تیار کر دے۔ پھر اس کو کہیں جنگل میں لے جاتا ‘ وہاں پہلے سے ایک گہرا گڑھا کھود کر تیار رکھتا۔ جب لڑکی کو لے کر وہاں پہنچتا تو لڑکی سے کہتا : دیکھ تو اس گڑھے میں کیا ہے۔ لڑکی دیکھنے کو جونہی جھکتی ‘ یہ سنگدل باپ پیچھے سے اس کو دھکادے دیتا اور اوپر سے مٹی ڈال کر زندہ دفن کردیتا اور گڑھے کو ہموار کردیتا۔
فرزوق کے دادا صعصعہ کو اگر کہیں اس کی سن گن مل جاتی تو لڑکی کے باپ کے پاس لڑکی کے عوض کچھ اونٹ بھیج دیتا اور اس طرح لڑکی کی گلوخلاصی ہوجاتی۔ فرزوق نے بطور فخر اسی واقعہ کی طرف ذیل کے شعر میں اشارہ کیا ہے :
میرا دادا وہ تھا جس نے زندہ دفن کرنے والوں کو زندہ دفن کرنے سے روکا اور زندہ درگور ہونے والی کو زندگی عطا کی۔
الا سآء ما یحکمون خوب سن لو ‘ ان کی یہ تجویز بہت ہی بری ہے۔ اللہ جو ہر طرح کی اولاد سے پاک ہے ‘ اس کیلئے تو ایسی اولاد تجویز کرتے ہیں جو صنف ادنیٰ ہے اور اپنے لئے لڑکوں کو پسند کرتے ہیں۔ دوسری آیت میں اس کو ناانصافی کی تقسیم قرار دیا ہے۔ فرمایا ہے : اَلَکُمُ الذَّکَرُ وَلَہُ الْاُنْثٰی تِلْکَ اِذًا قِسْمَۃٌ ضِیْزٰی۔
Ayah 16:60للذین لا یؤمنون بالاخرۃ مثل السوء جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے ‘ ان کی بری حالت ہے۔ مرنے کے بعد بقائے نسل کے محتاج ہیں ‘ اپنی قوت بازو بنانے کیلئے لڑکوں کے ضرورت مند ہیں ‘ لڑکیوں کو برا جانتے ہیں ‘ لڑکیوں کو زندہ دفن کردیتے ہیں۔ یہ سب ان کی بری حالت ہے۔
و اللہ المثل الاعلی اور اللہ کی شان سب سے اونچی ہے۔ وہ واجب الوجود ہے ‘ ہر چیز سے بےنیاز ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ علم ‘ قدرت ‘ بقاء اور تمام جلالی اور جمالی صفات سے متصف ہے۔ مخلوق کی صفات سے پاک ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : مَثَلْ السَّوْٓءِ دوزخ ہے اور مَثَلُ الْاَعَلٰی لا الٰہ الا اللہ کی شہادت ہے۔
وھو العزیز الحکیم اور وہ (سب پر) غالب اور (اس کا ہر کام) پُرحکمت ہے۔ یعنی قدرت و حکمت میں یگانہ و بےمثال ہے۔
Ayah 16:61ولو یؤاخذ اللہ الناس بظلمھم ما ترک علیھا من دآبۃ اگر اللہ لوگوں کی بےجا حرکتوں کے سبب ان کی (فوری) گرفت کرتا تو زمین پر کسی (حس و) حرکت کرنے والے کو نہ چھوڑتا۔
مواخذہ کرنے سے مراد ہے : فوری سزا دینا۔ النَّاس سے مراد کفار ہیں۔ لفظ مواخذہ اور ظلم اسی کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ ظلم سے مراد ہے : کفر اور معصیت۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ النَّاس سے مراد سب لوگ ہیں (مؤمن ہوں یا کافر) عبارت کی رفتار اسی کی غمازی کر رہی ہے لیکن اس سے یہ نہ سمجھ لینا چاہئے کہ سب ہی لوگ یہاں تک کہ انبیاء بھی ظالم قرار پاجائیں گے کیونکہ گروہ انسانی کے اکثر افراد سے چونکہ کفر و معصیت کا صدور ہو رہا ہے ‘ اسلئے جماعت کی طرف ظلم کی نسبت کردی گئی اور جماعت کی طرف نسبت کرنے سے ہر ہر شخص کی طرف نسبت ضروری نہیں۔ (حضرت مفسر نے کہا ‘ میں کہتا ہوں :) اس صورت میں (مَّا تَرَکَ عَلَیْھَا مِنْ دَآبَّۃٍ کے لفظ سے) ظاہر ہوتا ہے کہ اکثر افراد کے ارتکاب جرم کا بدلہ پوری جماعت سے لیا جاتا اور یہ بدلہ قطعاً غلط ہوگا کیونکہ لاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزُرَ اُخْرٰی صریحی نص ہے (مجرم کی سزا میں غیر مجرم کو شریک نہیں کیا جاسکتا) ۔
دَآبَّۃٍ سے مراد ہے : گناہگار دابہ۔ مفسر مدارک نے حضرت ابن عباس کی طرف اس تشریح کی نسبت کی ہے۔ یا دابہ سے مراد ہے : جاندار ‘ رینگنے والا جانور۔ اس صورت میں مؤمنین صالحین مستثنیٰ ہوں گے ‘ یعنی نیکوکار مؤمنوں کے علاوہ ہر جاندار کو ہلاک کردیتا ‘ کسی کو نہ چھوڑتا ‘ کیونکہ کافروں اور گناہگاروں کی بےجا حرکتوں پر نیکوں کی پکڑ نہیں ہوسکتی ‘ ہاں اگر نیک لوگ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو چھوڑ دیں تو گناہ پر راضی ہونے یا فرض کو ادا نہ کرنے کے سبب ان کو بھی عذاب میں شریک کیا جاسکتا ہے۔ ابن ماجہ اور ترمذی نے حضرت ابوبکر صدیق کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لوگ جب کسی بری بات کو دیکھیں اور اس کو نہ بدلیں (یعنی بدلنے کی کوشش نہ کریں) تو ہوسکتا ہے کہ اللہ سب کو عموماً اپنے عذاب کی لپیٹ میں لے لے۔ ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ ابو داؤد نے حضرت جریر بن عبد اللہ کی روایت سے بھی اسی مضمون کی حدیث نقل کی ہے۔
صالح مؤمنوں کے علاوہ باقی جانداروں کا ظالم اور کافر انسانوں کے ظلم کے بدلہ میں پکڑا جانا ناجائز ہے۔ ہر جانور کی تخلیق انسان کی تخلیق کے تابع ہے۔ جانوروں کی پیدائش آدمیوں کے فائدہ ہی کیلئے ہوئی ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : خَلَقَ لَکُمْ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا زمین کی سب چیزیں اللہ نے تمہارے ہی فائدے کیلئے پیدا کی ہیں۔
قتادہ نے اس آیت کی تفسیر کے ذیل میں بیان کیا : ایسا حضرت نوح کے زمانہ میں ہوچکا ہے۔ حضرت نوح کی کشتی میں جو جاندار چڑھ گئے ‘ وہ بچ گئے اور باقی ہلاک کر دئیے گئے۔ بیہقی کی روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ نے سنا کہ ایک شخص کہہ رہا ہے : ظالم صرف اپنے نفس کو ہی ضرر پہنچاتا ہے (اس کے ظلم کی سزا کسی دوسرے پر نہیں پڑتی) حضرت ابوہریرہ نے فرمایا : کیوں نہیں ‘ خدا کی قسم ! (ضرور ایسا ہوتا ہے) یہاں تک کہ ظالم کے ظلم کی پاداش میں چڑیاں اپنے آشیانوں میں بھوکی مرجاتی ہیں۔
ابن ابی شیبہ ‘ عبد بن حمید ‘ ابن جریر ‘ ابن المنذر ‘ ابن ابی حاتم اور بیہقی نے (شعب الایمان میں) حضرت ابن مسعود کا قول نقل کیا ہے کہ ابن آدم کے گناہ کی وجہ سے جَعْل (ایک خاص کیڑا) اپنے سوراخ میں عذاب میں گرفتار ہوجاتا ہے۔
بعض اہل تفسیر نے آیت کا مطلب اس طرح بیان کیا ہے کہ اگر کافروں کے آباؤ و اجداد کو ان کے ظلم کی پاداش میں فوراً پکڑ لیتا تو نسل ہی منقطع ہوجاتی۔ ان کی اولاد بھی زندہ نہ بچتی اور زمین پر کوئی باقی نہ رہتا۔ اسی لئے حضرت نوح نے اپنی قوم کیلئے اس وقت تک بددعا نہیں کی جب تک وحی کے ذریعہ سے ان کو معلوم نہ ہوگیا کہ موجودہ کافروں کی نسل بھی کافر ہی پیدا ہوگی۔
ولکن یؤخرھم الی اجل مسمی فاذا جآء اجلھم لا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون : لیکن (اپنے حلم کی وجہ سے) ظالموں کو ایک میعاد معین تک اللہ مہلت دے رہا ہے (یعنی توبہ کیلئے اس نے عذاب ٹال رکھا ہے) پھر جب ان کا وقت معین آپہنچے گا ‘ اس وقت منٹ بھر نہ پیچھے ہٹ سکیں گے نہ (مقررہ وقت سے) آگے بڑھ سکیں گے (یعنی وقت معین سے تھوڑی دیر کی تاخیر بھی نہ ہوگی) ۔
Ayah 16:62ویجعلون اللہ ما یکرھون وتصف السنتھم الکذب ان لھم الحسنٰی لا جرم ان لھم النار وانھم مفرطون اور اللہ کیلئے وہ باتیں تجویز کرتے ہیں جن کو خود اپنے لئے ناپسند کرتے ہیں اور اپنی زبانوں سے جھوٹے وعدے کرتے ہیں کہ ان کے (یعنی ہمارے) لئے ہر طرح کی بھلائی ہے۔ لازمی بات ہے کہ ان کیلئے دوزخ ہے اور بلاشبہ وہ لوگ سب سے پہلے (دوزخ میں) بھیجے جائیں گے۔
مَا یَکْرَھُوْنَ جو خود پسند نہیں کرتے۔ جیسے لڑکیاں ‘ ریاست اور سرداری میں کسی کی شرکت ‘ حقیر ترین مال میں بھی کسی کا ساجھا وغیرہ۔ الْحُسْنٰی ‘ یمان نے کہا : الْحُسْنٰی سے مراد ہے : جنت۔ کافر کہتے تھے کہ محمد ﷺ کے قول کے مطابق اگر قیامت ہوئی بھی تو ہمارے لئے جنت ہوگی۔ لاَ جَرَمَ کا ترجمہ ہے : یقینا ‘ قطعاً ۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس نے اس کا ترجمہ کیا : کیوں نہیں۔
میں کہتا ہوں : اس ترجمہ کی بناء اس امر پر ہے کہ لاَ جَرَمَ کے لَا کو نافیہ قرار دیا جائے اور اس سے گزشتہ خیال کی تردید مقصود ہو۔ پہلے بیان کیا تھا کہ کافروں کا خیال ہے کہ ان کیلئے جنت ہوگی ‘ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم دوزخ میں نہیں جائیں گے۔ اللہ نے اس کی تردید فرما دی اور پھر ان کے دوزخی ہونے کی صراحت فرما دی۔
مُفْرَطُوْنَ (افراط سے اسم مفعول) قاموس میں ہے : دوزخ میں چھوڑے ہوئے ‘ گویا دوزخ میں ڈال کر بھلا دئیے گئے ‘ یا سب سے پہلے دوزخ میں بھیجے گئے (ہم نے یہی ترجہ کیا ہے۔ مترجم) بغوی نے لکھا ہے : حضرت ابن عباس نے اس کا ترجمہ کیا ہے : دوزخ میں ڈال کر بھلا دئیے گئے۔ مقاتل نے کہا : دوزخ میں چھوڑ دئیے گئے۔ قتادہ نے کہا : دوزخ میں جلد بھیج دئیے گئے۔ فراء نے کہا : دوزخ میں سب سے پہلے بھیجے گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اَنَا فَرَطُکُمْ میں تمہارا پیش رو ہوں گا اور حوض پر سب سے پہلے پہنچوں گا۔ سعید بن جبیر نے ترجمہ کیا : وہ (نجات و رحمت سے) دور کر دئیے جائیں گے۔
Ayah 16:63تا اللہ لقد ارسلنا الی امم من قبلک فزین لھم الشیطن اعمالھم بخدا ! آپ سے پہلے جو امتیں ہو گذری ہیں ‘ ان کے پاس بھی ہم نے رسولوں کو بھیجا تھا ‘ سو ان کو بھی شیطان نے ان کے (کفریہ) اعمال خوبصورت (پسندیدہ) بنا کر دکھائے۔ لَھُمْ یعنی اکثر امتوں کو۔ اعمال سے مراد ہیں : کفریہ اعمال ‘ شرک باللہ اور پیغمبروں کی تکذیب۔ شیطان نے اعمال کفر کو ان کی نظر میں پسندیدہ بنا دیا ‘ اسلئے وہ اپنے برے اعمال پر جمے رہے۔
فھو ولیھم الیوم ولھم عذاب الیم پس وہی شیطان آج (اس دنیا میں) ان (کفار قریش) کا (بھی) رفیق ہے اور قیامت کے دن ان کیلئے دردناک عذاب ہوگا۔ وَلِیُّھُم کی ضمیر کفار قریش کی طرف لوٹ رہی ہے۔ کلام کی رفتار کا یہی تقاضا ہے۔ کفار قریش کے متعلق کلام کیا جا رہا ہے۔ وَلِی کا معنی ہے : مددگار ‘ رفیق ‘ ساتھی ‘ جو قریش کے برے اعمال کو اچھی شکل میں بنا کر دکھا رہا ہے۔ مسلمانوں کی دشمنی میں ان کا ساتھی اور مددگار ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وَلِیُّھُم کی ضمیر امم سابقہ کی طرف لوٹائی جائے اور گزشتہ حال کی حکایت قرار دی جائے ‘ یعنی شیطان امم سابقہ کا اس دنیا میں رفیق تھا ‘ اعمال کفریہ کو پسندیدہ بنا کر دکھاتا تھا۔
یہ بھی ممکن ہے کہ الیوم سے مراد قیامت کا دن ہو اور آنے والے واقعہ کا بیان ہو ‘ قیامت کے دن شیطان ان کافروں کا ساتھی ہوگا اور طوق و زنجیر میں انکا ساتھ بندھا ہوا ہوگا۔ یا یہ مطلب ہے کہ قیامت کے دن بس شیطان ہی ان کا رفیق ہوگا ‘ کوئی اور رفیق نہ ہوگا اور ظاہر ہے کہ شیطان اس روز خود اپنی مدد نہیں کرسکے گا تو ان کی مدد کیا کرے گا۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مضاف محذوف ہو ‘ یعنی گزشتہ اقوام جیسے لوگوں کو رفیق یہاں شیطان ہی ہے۔ مطلب یہ کہ کفار قریش گزشتہ امتوں کی طرح ہیں اور ان کا رفیق شیطان ہے۔
Ayah 16:64وما انزلنا علیک الکتب الا لتبین لھم الذی اختلفوا فیہ وھدی ورحمۃ لقوم یؤمنون : اور ہم نے یہ کتاب آپ پر صرف اسلئے نازل کی ہے کہ جن امور (دین) میں لوگ اختلاف کر رہے ہیں ‘ آپ عام لوگوں پر اس کو ظاہر فرما دیں اور خاص طور پر ایمان والوں کیلئے ہدایت اور رحمت (بنا کر ہم نے یہ قرآن نازل کیا ہے) ۔
اخْتَلَفُوْا فِیْہِ یعنی توحید ‘ اللہ کی صفات ‘ تقدیر ‘ احوال قیامت ‘ انسانی افعال (کی تخلیق) اور اللہ کے احکام کے بارے میں لوگوں کے جو مختلف خیالات ہیں۔
Ayah 16:65وا اللہ انزل من السماء ماء فاحیا بہ الارض بعد موتھا اور اللہ ہی نے آسمان سے پانی برسایا ‘ پھر اس زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ کیا۔ الْاَرْض سے مراد ہے : زمین کا سبزہ۔ زمین کو زندہ کیا ‘ یعنی اس کو سرسبز اور نامی بنایا۔ زمین کی موت سے مراد ہے : زمین کا خشک ہوجانا ‘ روح نباتی سے خالی ہوجانا۔
ان فی ذلک لایۃ لقوم یسمعون اس میں ایسے لوگوں کیلئے بڑی دلیل ہے جو سنتے ہیں۔ یعنی غور و فکر کے کانوں سے سننے والوں کیلئے خشک ‘ بےجان زمین کا پانی سے سرسبز و شاداب ہوجانا ‘ امکان قیامت کی بڑی دلیل ہے۔
Ayah 16:66وان لکم فی الانعام لعبرۃ اور (نیز) تمہارے لئے مویشیوں میں بھی غور درکار ہے۔ عبرت سے مراد ہے : ایسا غور جو جہالت سے نکال کر علم کی طرف لے جائے۔
نسقیکم مم فی بطونہ من بین فرث ودم لبنا خالصا سائغا للشربین (دیکھو) ان کے پیٹ میں جو گوبر اور خون (کا مادہ) ہے ‘ اس کے درمیان میں سے صاف اور گلے میں آسانی سے اترنے والا دودھ (بنا کر) ہم تم کو پینے کو دیتے ہیں۔ بُطُوْنِہٖ میں واحد مذکر کی ضمیر الْاَنْعَام کی طرف لوٹ رہی ہے۔ الْاَنْعَام اسم جمع ہے ‘ لفظ کے اعتبار سے مفرد ہے۔ سیبویہ نے اس لفظ کا شمار ان مفرد الفاظ میں کیا ہے جو بروزن افعال آتے ہیں ‘ جیسے اخلاق اور اکباش وغیرہ۔ فراء ‘ ابو عبیدہ اور اخفش کا بھی یہی قول ہے۔ نعم اور انعام دونوں مفرد کے صیغے ہیں ‘ مذکر و مؤنث دونوں طرح سے ان کا استعمال آیا ہے۔ جس نے مؤنث استعمال کیا ‘ اس نے ان کے جمعیتی معنی کا لحاظ کیا ہے اور جس نے مذکر قرار دیا ہے ‘ اس نے لفظ کا لحاظ کیا ہے۔
کسائی نے بُطُوْنِہٖ کی ضمیر کو مَا کی طرف راجع کیا ہے ‘ یعنی اس چیز کے پیٹ کے اندر سے جس کا ذکر اوپر کردیا گیا۔ مؤرخ نے کہا : سب انعام کے پیٹ سے تو دودھ نہیں نکلتا ‘ اسلئے بعض مراد ہیں اور بعض ہی کی طرف بطور کنایہ ضمیر کا رجوع ہے۔ بعض کے نزدیک جنس انعام مراد ہے اور جنس کی طرف ضمیر راجع ہے۔
فَرْث وہ گوبر جو اوجھ کے اندر ہو۔ جب باہر آجاتا ہے تو اس کو فَرْث نہیں کہا جاتا۔ خَالِصًا سے یہ مراد ہے کہ خون اور گوبر کے اثرات سے خالص ہوتا ہے۔ نہ اس میں خون کا رنگ ہوتا ہے نہ گوبر کی بو ‘ باوجودیکہ دودھ کی پیداوار انہی دونوں چیزوں سے ہوتی ہے۔ سَاءِغ حلق میں آسانی سے اتر جانے والا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : جانور چارہ گھاس کھاتا ہے تو کھایا ہوا چارہ انتڑیوں میں جا کر ٹھہرتا ہے ‘ پھر وہاں اس کی پسائی ہوتی ہے ‘ پسنے کے بعد اس کا نچلا حصہ تو گوبر ہوجاتا ہے اور بالائی حصہ خون اور درمیانی حصہ دودھ (دونوں کے درمیان سے دودھ پیدا ہونے کا یہی مطلب ہے) اور یہ سب کام جگر کے زیر تسلط ہوتا ہے۔ جگر ‘ خون کو رگوں میں بہاتا ہے اور دودھ کو تھنوں میں اور گوبر کو وہیں باقی رکھتا ہے جہاں وہ ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے : شاید حضرت ابن عباس کے کلام کی مراد یہ ہے کہ درمیانی حصہ دودھ کا مادہ ہوجاتا ہے اور بالائی حصہ خون کا مادہ جو بدن کی غذا بنتا ہے اور جگر اس غذا کو جو انتڑیوں میں ہوتی ہے ‘ اس کا ہضم شدہ خلاصہ (کیلوس) اپنی طرف کھینچ لیتا اور فضلہ وہیں رہتا ہے جہاں ہوتا ہے (یعنی انتڑیوں میں) پھر کیلوس کو روک کر دوبارہ اس کو ہضم کرتا ہے (جس کے جوہر کو کیموس کہتے ہیں) پھر چار اخلاط تیار کرتا ہے جن کے اندر مائیت ہوتی ہے ‘ پھر جگر کی قوت ممیزہ (مائیت کو چھانٹ کر الگ کرنے والی قوت) قدر ضرورت سے زیادہ پانی کو اخلاط سے الگ کر کے گردوں اور پتے اور طحال کی طرف روانہ کردیتی ہے ‘ پھر باقی اخلاط کو تمام اعضاء کی طرف حسب ضرورت تقسیم کردیتی ہے ‘ اس طرح ہر عضو کو قادر ‘ حکیم ‘ علیم کے زیر انتظام اس کا حق مل جاتا ہے۔ پھر اگر حیوان مادہ ہے تو چونکہ اس کے مزاج میں برودت و رطوبت کا غلبہ ہوتا ہے ‘ اسلئے اس کے اخلاط غذائی ضرورت سے زائد ہوتے ہیں اور زائد حصہ جنین کی پرورش کیلئے رحم کی طرف چلا جاتا ہے اور بچہ پیدا ہوجاتا ہے تو ماں کے بدن کی غذائی ضرورت سے تمام زائد حصہ یا اس کا کچھ حصہ تھنوں کی طرف چلا جاتا ہے اور سفید شیریں گوشت کے قرب کی وجہ سے سفید ہو کر دودھ بن جاتا ہے۔ اخلاط اور دودھ کی پیدائش کیسے ہوتی ہے ‘ کن راستوں سے ‘ کس طرح ‘ کہاں جا کر یہ ٹھہرتے ہیں ‘ ان کو پیدا کرنے والے اسباب کیا کیا ہیں ‘ مناسب طور پر ہر وقت ان کی حالت کی تبدیلی کو نسی قوتوں کی ممنون ہے ‘ جو شخص ان امور پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرے گا ‘ اس کو صانع حکیم کی حکمت کاملہ اور قدرت تامہ کا اعتراف کرنا پڑے گا اور رحمت شاملہ کو ماننا پڑے گا۔