9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 9:117

لَقَدْ تَّابَ اللّٰهُ عَلَى النَّبِیِّ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ فِیْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْۢ بَعْدِ مَا كَادَ یَزِیْغُ قُلُوْبُ فَرِیْقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّهٗ بِهِمْ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 9:117 in the Quran reader

بیشک اللہ نے نبی پر اور مہاجرین اور انصار پر رحمت کے ساتھ توجہ فرمائی جنہوں نے نبی کا ساتھ تنگی کے وقت میں دیا،216۔ بعد اس کے کہ ان میں سے ایک گروہ کے دلوں میں کچھ تزلزل ہوچلا تھا،217۔ پھر (اللہ نے) ان لوگوں پر رحمت کے ساتھ توجہ فرمادی،218۔ بیشک وہ ان کے حق میں بڑا شفیق ہے بڑا رحمت والا ہے،219۔

216۔ ذکر اب پھر غزوۂ تبوک کا چلا جو اوپر بھی دور تک آچکا ہے۔ (آیت) ” تاب اللہ علی النبی “۔ نبی پر توجہ بہ رحمت یہ کہ آپ ﷺ کو نبوت سے اور امامت جہاد سے اور تمام کمالات سے سرفراز فرمایا۔ (آیت) ” والمھجرین والانصار “۔ ان انصار ومہاجرین پر توجہ بہ رحمت یہ کہ انہیں ایسے کلفت ومشقت کے جہاد میں ثابت قدم رکھا۔ (آیت) ” فی ساعۃ العسرۃ “۔ اس غزوہ کے خصوصیات جن کی بنا پر یہاں ساعۃ العسرۃ لایا گیا ہے، حسب ذیل تھے :۔ (1) شدید گرمی کا موسم، (2) باغات کی فصل تیار ہونے کا زمانہ۔ (3) مسافت دوردراز کا سفر۔ (4) مقابلہ میں منتشر ومتفرق قبائل نہیں بلکہ اعلی درجہ کی تربیت یافتہ وقواعد دان رومی شہنشاہی فوج ہر طرح کے سامان جنگ سے آراستہ۔ (5) سواری کی اتنی کمی کی ایک اونٹ دس دس آدمیوں کے حصہ میں آیا۔ (6) سامان رسد کی اتنی کمی کہ ایک ایک خرما دو دو شخصوں میں تقسیم ہوا ہے اور آخر میں اتنا بھی نہ رہ گیا، ان مصائب کی تفصیل حدیث وسیر کی کتابوں میں ملے گی۔ (آیت) ” لقد تاب۔۔۔۔ الانصار “۔ آیت مدح صحابہ کے باب میں بالکل شافی ووافی ہے۔ اور جن فرقوں نے اصحاب نبی ﷺ پر زبان طعن دراز کی ہے ان کے لئے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی ہے۔ فیہ مدح لاصحاب النبی ﷺ الذین غزوا معہ من المھاجرین والانصار واخبار بصحۃ بواطن ضمائرھم وطھارتھم لان اللہ تعالیٰ لایخبربانہ قد تاب علیھم الا وقد رضی عنھم افعالھم (جصاص) 217۔ (اور قریب تھا کہ وہ گروہ جہاد پر جانے سے ہمت ہارجائے) اے کادوالایثبتون علی اتباع الرسول (کبیر) لفظ ماکاد ”(قریب تھا) “ خود اس پر دلیل ہے کہ یہ عمل وقوع میں آیا نہیں تھا صرف آنے کے قریب تھا۔ 218۔ (کہ اس گروہ کو بھی سنبھال لیا، اور یہ لوگ ساتھ ہولئے) 219۔ (چنانچہ ہر ایک کے حال پر رحمت ہی کے ساتھ توجہ فرمائی)
Ayah 9:118

وَّ عَلَى الثَّلٰثَةِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ضَاقَتْ عَلَیْهِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَ ضَاقَتْ عَلَیْهِمْ اَنْفُسُهُمْ وَ ظَنُّوْۤا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللّٰهِ اِلَّاۤ اِلَیْهِ١ؕ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ لِیَتُوْبُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 9:118 in the Quran reader

اور ان تینوں پر بھی (توجہ فرمائی) جن کا معاملہ ملتوی چھوڑ دیا گیا تھا،220۔ یہاں تک کہ جب زمین ان پر باوجود اپنی فراخی کے تنگی کرنے لگی اور وہ خود اپنی جانوں سے تنگ آگئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اللہ سے کہیں پناہ نہیں مل سکتی بجز اسی کی طرف کے،221۔ پھر اس نے ان پر رحمت سے توجہ فرمائی،222۔ تاکہ وہ رجوع کرتے رہا کریں،223۔ بیشک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا بڑا رحمت والا ہے

220۔ (اور جن کا ذکر آیت نمبر 106 میں گزر چکا ہے) احادیث میں ان تین صحابیوں کے نام حسب ذیل ملتے ہیں۔ کعب بن مالک، مرارہ بن ربیعۃ الانصاری، ہلال بن امیہ الواقفی ؓ “۔ (آیت) ” خلفوا “۔ یعنی ان کا معاملہ چھوڑ رکھا گیا تھا، وحی الہی پر موقوف رکھا گیا تھا۔ اے خلفوا امرھم (بیضاوی) خود صاحب معاملہ حضرت کعب بن مالک ؓ سے یہی تفسیر مروی ہے۔ لیس الذی ذکر اللہ مما خلفنا تخلفنا عن الغزو وانماھو تخلیفہ ایانا وارجاء ہ امرنا عمن حلف لہ واعتذر الیہ فقبل منہ (قرطبی) 221۔ قرآن مجید مبالغہ بیانی سے آشنا نہیں جو سختیاں ان تین صاحبوں کو پیش آرہی تھیں وہ حقیقۃ ناقابل برداشت ہوچلی تھیں، ساری اسلامی سوسائٹی نے ان کا کامل مقاطعہ کر رکھا تھا مدینہ کی اتنی بڑی آبادی میں اب نہ ان کا کوئی دوست آشنا تھا نہ کوئی عزیز و قریب۔ حدیہ ہے کہ ان کی بیویوں تک نے (جن کا کام ہی ہمدردی وغمگساری تھا) ان سے بولنا چھوڑ دیا تھا چناچہ انہی میں سے ایک صاحب کعب بن مالک ؓ کی زبان سے جو طویل روایت بخاری ومسلم وغیرہ میں نقل ہوئی ہے خود اس میں یہ الفاظ ہیں :۔ فاجتنبنا الناس وتغیروالنا حتی تنکرت لی فی نفسی الارض فماھی بالارض التی کنت اعرف (لوگ ہم سے پرہیز کرنے لگے اور ہمارے حق میں اجنبی بن گئے، چناچہ مجھے اپنا وطن وہ معلوم ہی نہیں ہوتا تھا جس سے میں واقف تھا (یعنی وطن پردیس بن گیا تھا) اور پھر آگے چل کر قرآن ہی کے لفظ اختیار کرلئے ہیں :۔ قد ضاقت علی نفسی وضاقت علی الارض بما رحبت (میں اپنی جان سے تنگ آگیا اور زمین باوجود اپنی فراخی کے میرے اوپر تنگ ہوگئی) اور پھر یہ خیال رہے کہ یہ مصیبت کوئی ایک دو دن کی نہ تھی۔ سات سات ہفتہ یا پورے 80 دن قائم رہی ! ان تین صحابیوں میں سے دو بدری تھے۔ (اور اصحاب بدر کا شرف کسی تعارف کا محتاج نہیں) اور تیسرے صحاب بھی بجز بدر کے اور غزوات میں برابر شریک رہ چکے تھے !۔۔۔ یہ سزا ایسے ایسے اکابر کو مل رہی ہے ! یہ معنی ہیں نظام اسلامی میں ڈسپلن یا اطاعت کے ! یہیں سے فقہاء نے استنباط کیا کہ دینی مجرم سے ترک سلام و کلام تین دن سے زیادہ نہ کرے تو اس سے وہ موقع مراد ہے جب کوئی دنیوی رنج ہو (تھانوی (رح ) 222۔ (آیت) ” ثم تاب علیھم۔۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ حق تعالیٰ کی عادت اپنے محبین کے ساتھ یہ جاری ہے کہ جب ان سے کوئی امران کے منافی صادر ہوجاتا ہے تو ایک نوع کے حجاب سے ان کی تادیب کی جاتی ہے اور جب وہ اس کی تلخی چکھ چکتے ہیں تو پھر ان پر کرم کی بارش کی جاتی ہے یعنی انہیں توفیق نیک دی اور پھر ان کا قصور معاف کردیا، اے وقفھم للتوبۃ (قرطبی) 223۔ یعنی آیندہ بھی ہر موقع مصیبت ومعصیت میں اسی طرح اللہ کی طرف رجوع کرتے رہیں اور اللہ کی رحمت ومغفرت سے مایوس نہ ہوں، قبل توبتھم من التخلف لیتوبوا فی المستقبل اذ صدرت منھم ھفوۃ ولا یقنطوا من کرمہ سبحانہ (روح)
Ayah 9:119

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 9:119 in the Quran reader

اے ایمان والو، اللہ سے ڈرتے رہو اور راستبازوں کے ساتھ رہا کرو،224۔

224۔ یعنی صادقوں کی راہ پر چلو، انہی کی طرح صدق اختیار کرو، فقہاء نے لکھا ہے کہ اجماع امت کے حجت شرعی ہونے پر یہ آیت ایک مستقل دلیل ہے۔ دل علی قیام الحجۃ علینا باجماعھم (جصاص) والایۃ تدل علی ان الاجماع حجۃ لانہ امر بالکون مع الصادقین فلزم قبول قولھم (مدارک) یدل علی ان اجماع الامۃ حجۃ (کبیر) عارفین نے شیوخ کا مل وائمہ مجتہدین کی اقتداء وصحبت کا اشارہ بھی اس سے سمجھا ہے۔ (آیت) ” الصدقین “۔ یعنی وہ لوگ جو دین میں نیت اور قول اور عمل کے لحاظ سے صادق ہیں۔ الذین صدقوا فی الدین نیۃ وقولا وعملا (مدارک) (آیت) ” مع الصدقین “۔ بعض نے معیت کی تفسیر قرب وقرین رہنے سے کی ہے، اس صورت میں صالحین کی ترغیب آیت سے نکلے گی۔
Ayah 9:120

مَا كَانَ لِاَهْلِ الْمَدِیْنَةِ وَ مَنْ حَوْلَهُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ یَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِهِمْ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ لَا یُصِیْبُهُمْ ظَمَاٌ وَّ لَا نَصَبٌ وَّ لَا مَخْمَصَةٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَطَئُوْنَ مَوْطِئًا یَّغِیْظُ الْكُفَّارَ وَ لَا یَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّ نَّیْلًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 9:120 in the Quran reader

مدینہ والوں اور ان کے اردگرد جو دیہاتی ہیں انہیں نہ چاہیے تھا کہ رسول اللہ کو چھوڑ کر پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو ان کی جان سے عزیز رکھیں،225۔ یہ (رفاقت ضروری) اس لئے تھی کہ ان (مجاہدین) کو اللہ کی راہ میں جو پیاس لگی اور جو ماندگی پہنچی اور جو بھوک لگی اور جو چلنا وہ چلے کافروں کو غیظ میں لانے والا اور دشمن سے انہیں جو کچھ حاصل ہوا ان سب پر ان کے نام (ایک ایک) نیک عمل لکھا گیا،226۔ بیشک اللہ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا،227۔

225۔ یعنی یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ لوگ خود تو آرام سے گھر بیٹھے رہیں اور مشقتیں اور صعوبتیں رسول اللہ ﷺ جھیلتے رہیں۔ فقہاء مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ معیت ونصرت صرف عرب تک محدود یا شان رسالت کے ساتھ مخصوص نہیں۔ بلکہ نصرت دین مقصود ہے۔ اس لئے ہر مسلم پر ہر زمانہ میں واجب ہے کہ امام وقت کی اطاعت و حفاظت میں مستعد رہے۔ آیت کا صیغہ ظاہری خبر کا ہے۔ حالانکہ مراد نہی یا امر امتناعی ہے۔ یعنی مقصود کسی خبر یا واقعہ کا ذکر نہیں بلکہ اس امر کا اظہار ہے کہ ایسا ہرگز نہ ہونا تھا۔ 226۔ (سو یہ لوگ بھی اگر اخلاص کے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جاتے تو ان کے لئے بھی اسی طرح بات بات پر اجر اور قدم قدم پر ثواب تھا) یہ مقتضائے مقبولیت و محبوبیت ہے کہ امور اضطرار یہ بھی مثل اعمال اختیار یہ کہ موجب ثواب قرار دیئے گئے (تھانوی (رح) لیکن یہ اعمال و کیفیات اضطراری تو ہیں بھی نہیں، جہاد میں چلنا تو بہرحال تمام تر اختیاری تھا، تھکن جو کچھ حاصل ہوئی وہ اسی عمل اختیاری کا ایک لازمی نتیجہ تھا۔ یہ پیاس، بھوک وغیرہ کا ذکر محض بہ طور نظیر ہے، یہ مراد نہیں کہ اجر صرف انہی چند اعمال و کیفیات پر محدود ہے۔ (آیت) ” لا نصب ولا مخمصۃ “۔ لا دونوں جگہ تاکید کلام کے لئے ہے۔ لا زائد للتوکید (قرطبی) (آیت) ” لا ینالون من عدونیلا “۔ غنیم سے مسلمانوں کو حاصل کیا ہوسکتا تھا ؟ ظاہر ہے کہ دونوں قسم کی چیزیں۔ یعنی ایک طرف مال غنیمت اور دشمن کی ہزیمت۔ دوسری طرف زخم، قتل، گرفتاری وغیرہ مفسرین نے دونوں پہلو اختیار کئے ہیں۔ اے لایصیبون من عدوھم قتلا او اسرا او غنیمۃ او ھزیمۃ (معالم) اے قتلا او ھزیمۃ (قرطبی) وھو قتلھم اواخذ اموالھم اواخراجھم عن دیارھم ھذا کلہ نیل منھم (جصاص) 227۔ (سو اس کے وعدہ میں کسی تخلف کا احتمال ہی نہیں)
Ayah 9:121

وَ لَا یُنْفِقُوْنَ نَفَقَةً صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً وَّ لَا یَقْطَعُوْنَ وَادِیًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:121 in the Quran reader

اور جو کچھ چھوٹا بڑا خرچ انہوں نے کیا اور جو میدان انہوں نے طے کئے یہ سب ان کے نام لکھا گیا، تاکہ اللہ انہیں ان کے کاموں کا اچھے سے اچھا بدلہ دے،228۔

228۔ یعنی ان میں ہی سے ہر عمل پر ان کے نام نیکی لکھ لی گئی، اللہ کی راہ میں ہر قدم اٹھانے کے لئے بےحساب اجروانعام کا اگر استحضار رہے تو اس کے بعد پھر جہاد و قتال کی سخت سے سخت کلفتوں کے پتھر بھی پانی ہوجاتی ہیں۔
Ayah 9:122

وَ مَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا كَآفَّةً١ؕ فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآئِفَةٌ لِّیَتَفَقَّهُوْا فِی الدِّیْنِ وَ لِیُنْذِرُوْا قَوْمَهُمْ اِذَا رَجَعُوْۤا اِلَیْهِمْ لَعَلَّهُمْ یَحْذَرُوْنَ۠ Open ayah 9:122 in the Quran reader

اور مومنوں کو نہ چاہیے کہ (آیندہ) سب کے سب نکل کھڑے ہوں،229۔ یہ کیوں نہ ہو کہ ہر گروہ میں سے ایک حصہ نکل کھڑا ہوا کرے تاکہ (یہ باقی لوگ) دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرتے رہیں،230۔ اور تاکہ یہ اپنی قوم والوں کو جب وہ ان کے پاس واپس آجائیں ڈراتے رہیں عجب کیا کہ وہ محتاط رہی،231۔

229۔ غزوۂ تبوک کی صورت خاص تھی اس کے بعد آیندہ کے لئے مستقل ہدایت ہوگئی کہ سارے مسلمان شہر خالی کرکے ہرگز اکبارگی نہ نکل کھڑے ہوں، بجز اس حال کے کہ امام ہی نفیر عام کا حکم دے دے، اور جہاد ہر فرد پر فرض عین ہوجائے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ دینی مہم کا انتظام ایسا کرنا چاہیے کہ دوسری ضروریات جن میں امر معاش بھی داخل ہے مختل نہ ہونے پائیں۔ 230۔ (تعلیم و تعلم کے ذریعہ سے) (آیت) ” من کل فرقۃ “۔ یعنی شہر کی کل آبادی سے فرقۃ کا استعمال یہاں گروہ کثیر کے لئے ہوا ہے۔ کا ھل بلدۃ اوقبیلۃ عظیمۃ (روح) فرقۃ اے جماعۃ کثیرۃ (کشاف۔ مدارک) (آیت) ” منھم طآئفۃ۔۔ طآئفۃ “۔ کا لفظ یہاں چھوٹی جماعت کے لئے آیا ہے اور فرقۃ کے مقابل ہے۔ اے جماعۃ قلیلۃ (کشاف۔ مدارک) (آیت) ” فلولا نفر من کل فرقۃ منھم طآئفۃ “۔ یعنی انتظام یہ رہنا چاہیے کہ آبادی کا ایک حصہ جہاد کے لئے باہر جائے، جنگ اور دوسری فوجی ضروریات (ملٹری ڈیپارٹمنٹ) کے لئے اور دوسرا حصہ عام ملکی وشہری ضروریات (سول ڈیپارٹمنٹ) کے لئے شہر اور ملک ہی میں رہے۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ اسلامی حکومت میں ہر قسم کا سازو سامان تیار اور آدمی ہر قسم کی ہر ضرورت کے لئے مستعد رہنے چاہئیں تاکہ رفاہ خلق صحت نفوس نظم امت و شوکت اسلام میں کسی طرح کا فتورنہ پڑنے پائے، سپاہی، اہل قلم، اہل حرفہ، تاجر، کاشتکار وغیرہ سب ہی ملت اسلامی کے ضروری عناصر ہیں۔ (آیت) ” لیتفقوا فی الدین “۔ فقہاء مفسرین نے یہیں سے طلب علم دین کا وجوب نکالا ہے۔ ھذہ الایۃ اصل فی وجوب طلب العلم (قرطبی) وفی ھذا ایجاب التفقہ فی الکتاب والسنۃ (قرطبی) فقہاء نے لکھا ہے کہ تحصیل علم دین فرض کفایہ ہے، پس ہر شہر اور ہر گروہ میں سے ایک تعداد کا علم دین کی طلب میں لگے رہنا واجب ہے ورنہ سب عاصی ہوں گے، وفی ھذہ الایۃ دلالۃ علی وجوب طلب العلم وانہ مع ذلک فرض علی الکفایۃ (جصاص) اذا قام بہ بعضھم سقط عن الباقین (جصاص) فقہاء صوفیہ نے لکھا ہے کہ طالب علم کی غرض وغایت تفقہ فی الدین اور امر بالعروف رہنی چاہیے نہ کہ حصول جاہ جمع مال یا بحث وجدال، فقہاء مفسرین نے لکھا ہے کہ جب جہاد سے پیچھے رہ جانے والوں پر وعیدیں نازل ہونے لگیں تو اس خوف سے سارے کے سارے مسلمان جہاد کے لئے نکل کھڑے ہوئے اس پر یہ احکام نازل ہوئے کہ ضروریات دین کی تعلیم و تعلم کے لئے بھی کچھ لوگوں کو ضرور لگے رہنا چاہیے۔ ایسا نہ ہونے پائے کہ ادھر سے غفلت ہوجائے۔ جہاد بالدلائل تو جہاد بالاسلحہ سے بھی زیادہ اہم ہے۔ استبق المومنین عن اخرھم الی النفیر وانقطعوا جمیعا عن التفقہ فی الدین فامروا ان ینفر من کل فرقۃ منھم طائفۃ الی الجھاد ویبقی سائرھم یتفقھون حتی لا ینقطعوا عن التفقہ الذی ھو الجھاد الاکبر اذ الجھاد بالحجاج اعظم اثرا من الجھاد بالنصال (مدارک) 231۔ (ہر بدی اور بدکاری سے۔ اس طرح ساری قوم میں نیک کرداری کا دور دوراہ برابر قائم رہے) آج ” مہذب “ و ” شائستہ “ قوموں کی فوجیں ہر قسم کے اخلاق کی جن ناگفتہ بہ پستیوں تک پہنچ جاتی ہیں۔ (اور یہی دستور شروع سے تمام جاہلی قوموں کی فوجوں کا رہا ہے) اس کا حال کس سے مخفی ہے ؟ امت اسلامی کو اس قسم کے تمام خطرات سے مستقل نجات میں رکھنا دین کے مہمات امور میں سے ہے۔ قرآن مجید کی مستقل ہدایت ہے کہ مجاہدین وغیر مجاہدین کو برابر علماحقانی اور فقہا ربانی کی تربیت اور ٹریننگ ملتی رہنی چاہیے۔ لیتفقھوا۔ ولینذروا “۔ دونوں میں جمع غائب ان لوگون کی طرف ہے جنہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس ٹھیرا رہنا تھا۔ الضمیر للمقیمین مع النبی ﷺ قالہ قتادۃ و مجاھد (قرطبی) ضمیر یتفقھوا وینذروا عائد الی الفرقۃ الباقیۃ المفھومۃ من الکلام (روح) (آیت) ” اذا رجعوا الیھم “۔ یعنی یہ مجاھدین جب جہاد و قتال سے اپنے والوں کی طرف واپس آجائیں۔ (آیت) ” ولینذروا “۔ یعنی احکام الہی سنا سنا کر اور بتا بتا کر انہیں ہر معصیت، بدکرداری، خدا فراموشی سے ڈرتے رہیں۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ جس آبادی میں علماحقانی کا وجود نہ رہے یا وہ موجود تو ہوں لیکن ہدایت خلق کے کام سے غافل ہوں، وہ ساری آبادی گنہگار ہوگی، بدکرداری سے روکنا اور نیک کرداری کو پھیلانا فرض کفایہ ہے۔ علماء حق اس کے خصوصا ذمہ دار ہیں، گوحکم کے مخاطب سب مسلمان ہیں۔
Ayah 9:123

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِیْنَ یَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ وَ لْیَجِدُوْا فِیْكُمْ غِلْظَةً١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:123 in the Quran reader

اے ایمان والو ان کافروں سے جنگ کرو جو تمہارے آس پاس ہیں اور ان کو تمہارے اندر سختی پانا چاہیے،232۔ اور جانے رہو کہ اللہ تو پرہیزگاروں کے ساتھ ہے،233۔

232۔ یعنی تم ہمیشہ اپنی جگہ پر مضبوط، آمادۂ جہاد، مستعد اور کیل کانٹے سے درست رہو کہ دشمن کی ہمت ہی تمہاری طرف نظر بد ڈالنے کی نہ پڑے۔ گویا موجودہ جنگی اصطلاح میں ملت کو ایک مستقل لام بندی (Perpetual Mobilisation) کی حالت میں رہنا چاہیے۔ (آیت) ” غلظلۃ “۔ یہاں خشونت کے معنی اس قدر نہیں جس قدر شدت، مضبوطی اور پختگی کے معنی میں ہے۔ جس سے ان کا رعب ہم پر نہ پڑنے پائے بلکہ الٹا ہمارا رعب ان کے دلوں میں بیٹھ جائے، غلظۃ اے شدۃ وقوۃ وحمیۃ (قرطبی) اذا کان ذلک یوقع المھابۃ لنا فی صدورھم والرعب فی قلوبھم (جصاص) شدۃ وحمیۃ (معالم) (آیت) ” قاتلوا الذین یلونکم من الکفار “۔ یہ حکم جہاد میں خاص ترتیب کامل رہا ہے اور اس کے مصالح بالکل ظاہر ہیں۔ چانچہ سیرت نبوی کے مطالعہ سے واضح ہے کہ آنحضرت ﷺ نے نیز خلفاء راشدین نے بہ اختیار خود جتنے بھی جہاد کئے، یہی ترتیب ملحوظ رکھی، ولھذا بدأ رسول اللہ ﷺ بالعرب فلما فرغ قصد الروم وکانوا بالشام (قرطبی) اے ابدء و ا بقتال الاقرب فالاقرب الیکم دارا دون الابعد فالابعد وکان الذین یلون المخاطبین بھذہ الایۃ یومئذ الروم لانھم کانوا سکان الشام یومئذ والشام کانت اقرب الی المدینۃ من العراق (ابن جریر) محدث ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں اس پر بہت تفصیل سے لکھا ہے۔ (آیت) ” یلونکم من الکفار “۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ یہ ترتیب یا تو قرب ملک کے لحاظ سے رکھنا چاہیے اور یا پھر شدت کفر کے لحاظ سے۔ مشرکین کے ہوتے ہوئے اہل کتاب کا رخ نہ کریں اور قریب کو چھوڑ کر بعید پر تاخت نہ کریں، بجز اس کے کہ کوئی مصلحت خاص اس کی مقتضی ہو، فقہاء مفسرین نے یہ تصریح بھی کردی ہے کہ جہاد واجب نفس کفار کے مقابلہ میں واجب تر ہے۔ القتال واجب مع جمیع الکفرۃ قریبھم وبعیدھم ولکن الاقرب فالاقرب واجب (مدارک) فاوجب قتال جمیع الکفار ولکنہ خص بالذکرالذین یلوننا من الکفار اذا کان معلوم انہ لا یمکننا قتال جمیع الکفار فی وقت واحد وان الممکن منہ ھو قتال طائفۃ فکان من قرب منھم اولی بالقتال ممن بعد (جصاص) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت سے یہ بھی مستنبط ہوتا ہے کہ سب سے پہلا مجاہدہ اپنے نفس سے کرنا چاہیے کہ یہی سب سے قریب تر ہے۔ نفس اگر کافر (لغوی معنی میں) ہے تو ان مجاہدات سے وہ مطیع اور مومن اور مطمنہ ہوجائے گا۔ 233۔ (سوجہاد و قتال کی بنیاد بھی تقوی ہی پر رہنا چاہیے) یہاں اگر ایک طرف لفظ متقین لاکر جہاد و قتال میں اخلاص کامل کی تعلیم دے دی اور طمع مال اور حصول شہرت وغیرہ کے راستہ بند کردیئے تو دوسری طرف ان لوگوں کا علاقہ معیت اللہ تعالیٰ سے جوڑ کر یہ بتلا دیا کہ تمہیں اب خوف وہراس کی بات ہی کیا ہے، تمہاری نصرت کے لئے تو ہر قوی سے قوی تر ناصر وحافظ موجود ہے۔ اے ایقنوا عند قتالکم ایاھم ان اللہ معکم وھو ناصر کم علیھم (ابن جریر) فان اللہ ناصر من اتقاہ ومعینہ (ابن جریر) واعلموا ان اللہ معکم اذا اتقیتموہ واطعتموہ (ابن کثیر) ابن کثیر نے لکھا ہے کہ جن مسلمان سلاطین نے یہ تقوی کی شرط پوری رکھی اور احکام شریعت پر عمل جاری رکھا۔ ان کے زمانہ میں فتوحات بھی برابر ہوتی رہیں اور جوں جوں وہ شرائط تقوی سے ہٹتے گئے، فتح مندی بھی ان سے کنارہ کرتی گئی
Ayah 9:124

وَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ اَیُّكُمْ زَادَتْهُ هٰذِهٖۤ اِیْمَانًا١ۚ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَزَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 9:124 in the Quran reader

اور جب کوئی ٹکڑا قرآن کا نازل ہوتا ہے تو ان (منافقین) میں سے بعض کہتے ہیں کہ اس نے تم میں سے کس کے ایمان میں ترقی دی ؟ سو جو لوگ ایمان والے ہیں اس نے ان کے ایمان میں ترقی دی اور وہ خوش ہو رہے ہیں،234۔

234۔ (اپنی اس ترقی ایمانی کے ادراک سے) مومن کا دل انوار تصدیق ویقین سے لبریز ہوتا ہے۔ ضرور تھا کہ ہر تازہ نزول قرآنی سے اس کے ایمانی کی نورانیت، حلاوت وتازگی میں اضافہ ہو۔ پہلے تو وہ اپنے ایمان میں ترقی محسوس کرے اور پھر اپنی اس ترقی ایمان ادراک سے خوش بھی ہو۔ (آیت) ” فمنھم من یقول۔۔۔ ایمانا “۔ منافقین یہ سوال عوام مومنین سے بہ طور طنز وتعریض کرتے تھے۔ کہ بھلا بتاؤ تو اس نئی سورة کے نزول سے کس کے ایمان میں اضافہ ہوا ؟ جواب اس کا کھلا ہوا یہی چاہتے تھے کہ کسی کے نہیں۔ لیکن برعکس اس کے واقعۃ انہیں جواب مومنین کی زبان سے یہ ملتا تھا کہ ” ہمارے ایمان میں “ !
Ayah 9:125

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا اِلٰى رِجْسِهِمْ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:125 in the Quran reader

اور جن لوگوں کے دلوں میں روگ ہے سو اس (سورت) نے ان کی گندگی میں ایک اور گندگی بڑھا دی،235۔ اور وہ مرگئے اس حال میں کہ وہ کافر ہی تھے،236۔

235۔ (کہ پہلے جتنے حصہ قرآن سے انکار تھا، اب اس پر ایک اور حصہ کا اضافہ ہوا) منافق کا دل انکار ونفاق کی گندگی سے پہلے ہی لبریز ہوتا ہے۔ لازمی ہے کہ ہر نئے انکار سے اس گندگی میں اور اضافہ ہو۔ 236۔ یعنی ان میں سے جو مرچکے وہ کافر مرے اور جو اسی اصرار پر مریں گے وہ کافر مریں گے۔
Ayah 9:126

اَوَ لَا یَرَوْنَ اَنَّهُمْ یُفْتَنُوْنَ فِیْ كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً اَوْ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ لَا یَتُوْبُوْنَ وَ لَا هُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 9:126 in the Quran reader

کیا یہ نہیں دیکھتے کہ یہ لوگ ہر سال ایک بار یا دو بار کسی آفت میں پھنستے ہی رہتے ہیں پھر بھی نہ توبہ کرتے ہیں اور نہ وہ نصیحت حاصل کرتے ہیں،237۔

237۔ یعنی یہ کہ اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہوں۔ آیت سے ضمنا حکمت ابتلاء پر بھی روشنی پڑگئی۔ بلائیں اور مصیبتیں تکوینی طور تازیانہ غیبی ہوتی ہیں جن کا کام انسان کو اللہ کی طرف لانا ہی ہوتا ہے۔ وفی الاثر البلاء سوط من سیاط اللہ تعالیٰ بسوق بہ عبادہ الیہ (روح) (آیت) ” مرۃ او مرتین “۔ کسی عدد متعین کا بیان مقصود نہیں۔ مراد صرف یہ ہے کہ ایسا بار بار ہوتا رہتا ہے۔ والمراد من المرۃ والمرتین علی ما صرح بہ بعضھم مجرد التکثیر لا بیان الوقوع علی حسب العدد المزبور (روح) (آیت) ” یفتنون “۔ یعنی یہ منافق اتنی موٹی بات بھی نہیں سمجھتے کہ ہر سال انہیں منافقت کی بنا پر آفتوں ہی سے دو چار ہونا پڑتا ہے کبھی یہ کہ ان کی سازشیں کھل گئیں اور انہیں سزا مل کر رہی اور تفضیح جو ہوئی سو الگ کبھی یہ کہ ان کے حلیف مشرکوں کو شکست ہوگئی اور ان کے سارے سہارے ٹوٹ گئے۔ اے یفضحون باظھار نفاقھم (بحرعن مقاتل)
Ayah 9:127

وَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ نَّظَرَ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ١ؕ هَلْ یَرٰىكُمْ مِّنْ اَحَدٍ ثُمَّ انْصَرَفُوْا١ؕ صَرَفَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:127 in the Quran reader

اور جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو ایک دوسرے کو دیکھنے لگتے ہیں کہ تم کو کوئی دیکھتا تو نہیں، پھر چل دیتے ہیں،238۔ اللہ نے ان کا دل ہی پھیر دیا ہے اس وجہ سے کہ یہ سمجھ سے کام نہ لینے والے لوگ ہیں،239۔

238۔ (مجلس نبوی سے) منظر ایسے وقت کا ہے کہ منافقین بھی مجلس نبوی میں حاضر ہیں اور کسی سورت کا نزول رسول اللہ ﷺ پر ہوا۔ (آیت) ” ھل یرکم من احد “۔ یعنی اٹھتے ہوئے یہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگتے ہیں کہ کوئی مومن تو ہمیں اٹھتا ہوا نہیں دیکھ رہا ہے جو رسول اللہ ﷺ سے جا لگائے، اوپر ذکر منافقین کے تمسخر کا تھا جو وہ اپنی مجلسوں میں کرتے رہتے تھے، اب ذکر ان کے اس تنفر کا ہے جو انہیں مجلس نبوی سے تھا۔ 239۔ یعنی ایسے لوگ جو خود اپنے نفع سے بھاگتے ہیں اور جتنی سمجھ انہیں عطا ہوئی ہے، اس سے کام نہیں لیتے۔ (آیت) ” صرف اللہ قلوبھم “۔ یعنی یہ لوگ مجلس نبوی سے کیا پھرے، ان کا دل ہی اللہ نے ایمان سے بلکہ ہر خیر و اطاعت سے پھیر دیا، عن الایمان بسبب انصرافھم عن ذلک مجلس (روح) قال ابن عباس عن کل خیر ورشد وھدی (بحر) (آیت) ” بانھم “۔ میں باسببیہ ہے۔ الباء للسببیۃ اے بسبب انھم (روح)
Ayah 9:128

لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:128 in the Quran reader

بیشک تمہارے پاس ایک پیغمبر آئے ہیں تمہاری ہی جنس میں سے جو چیز تمہیں مضرت پہنچاتی ہے انہیں بہت گراں گزرتی ہے تمہاری (بھلائی) کے حریص ہیں،240۔ ایمان والوں کے حق میں تو بڑے ہی شفیق ہیں مہربان ہیں،241۔

240۔ (یعنی تمہارے دکھ سے یہ خود دکھ محسوس کرتے ہیں اور تمہارے ہر نفع کے بڑے آرزو مندرہتے ہیں ! یہ تھی شفقت رسول خدا کی خلق خدا کے ساتھ ! (لقد جآء کم رسول من انفسکم “۔ سوال پیدا ہوا ہے کہ ” کم “ کی ضمیر جمع مخاطب دونوں جگہ کس کی جانب ہے ؟ یعنی رسول اللہ کس کے درمیان آئے ہیں ؟ بعض نے کہا ہے کہ مخاطب عرب میں کہ آپ ﷺ اہل عرب کے درمیان بھیجے گئے تھے۔ لیکن قول محقق یہ ہے کہ خطاب ساری نوع انسان سے ہے۔ آپ ﷺ کی بعثت تنہا عرب کی جانب نہیں، سارے عالم کی جانب تھی، قال الزجاجھی مخاطبۃ لجمیع العالم والمعنی لقد اجاء کم رسول من البشر (قرطبی) یرید انہ بشرمثلکم (کبیر) قیل الخطاب للبشر علی الاطلاق (روح) یحتمل ان یکون خطابا لبنی خطابا لبنی ادم (بحر) مشرک قوموں اور مشرک مزاج گروہوں کی سمجھ ہی میں نہیں آتا تھا کہ منصب رسالت پر کوئی بشر کیسے مامور ہوسکتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی بشریت پر بار بار زور دینا اسی عام گمراہی کے رد میں ہے۔ (آیت) ” عزیز علیہ “ الخ۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ یہ صفات ہیں جناب رسول اللہ ﷺ کے۔ اور چونکہ شیخ مربی بھی رسول ہی کا نائب ہوتا ہے۔ اس لیے یہ صفات شفقت علی الخلق اس میں بھی ہونے ضروری ہیں۔ 241۔ جب آپ ﷺ کی شفقت ساری خلق اللہ کے لیے تھی اور آپ ﷺ کے دل میں درد نوع انسانی کے لیے تھا تو خاص مومنین کے ساتھ آپ ﷺ کے درجہ رافت وکرم اور شفقت وتعلق قلب کا کہنا ہی کیا !
Ayah 9:129

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللّٰهُ١ۖۗ٘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 9:129 in the Quran reader

پھر اگر (وہ لوگ) روگردانی کرتے رہیں تو آپ کہہ دیجیے کہ میرے لئے تو اللہ کافی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اسی پر میں نے بھروسہ کرلیا اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے،242۔

242۔ (اور عرش عظیم موجودات میں سب سے اعظم ہے تو جو اس کا مالک ہے، اس کی تحت اور ملک کامل میں اور سارے موجودات عالم کا ہونا بالکل ظاہر ہے) فیدخل فیہ مادونہ اذا ذکرہ (قرطبی) خص العرش لانہ اعظم المخلوقات (بحر) (آیت) ” فان تولوا “۔ یعنی یہ لوگ یہ سب کچھ جاننے، سمجھنے اور سننے کے بعد بھی اگر انکار پر قائم رہیں۔ (آیت) ” حسبی اللہ “۔ یعنی میرا حافظ وناصر تو وہی مولی حقیقی ہے مجھے تمہارے اعراض و انکار سے ضرر کیا ؟ (آیت) ” علیہ توکلت “۔ یعنی میرا تکیہ اسی ذات عظیم پر ہے نہ کہ اپنے نفس پر یا کسی اور ذات کے اوپر۔