Ayah 9:60108 ۔ یعنی صدقات کی آمدنی انہی مدوں میں خرچ ہونی چاہیے۔ (آیت) ’ ’ انما “۔ کلمہ حصر کا ہے۔ یعنی صرف انہیں مدوں میں، کسی اور مد میں نہیں۔ (آیت) ” الصدقت “۔ صدقۃ سے یہاں مراد صدقہ واجب ہے یعنی زکوٰۃ (آیت) ’ ’ للفقرآء والمسکین “۔ دونوں لفظوں کی تعبیر و تفسیر میں متعدد اقوال نقل ہوئے ہیں۔ محققین نے یہ معنی لئے ہیں کہ فقیر وہ نادار ہے جو سوال نہ کرے اور مسکین وہ نادار ہے جو سوال کرے۔ اور ابن عباس ؓ صحابی اور حسن بصری اور جابر بن زید اور مجاہد اور زہری تابعین سے بھی یہی منقول ہے۔ قال الزھری الفقیر الذی لایسئل والمسکین الذی یسئل وروی ابن سماعۃ عن ابی یوسف عن ابی حنیفۃ فی حد الفقیر والمسکین مثل ھذا (جصاص) وروی عن ابن عباس ؓ والحسن و جابر بن زید والزھری و مجاھد قالوا الفقیر المتعفف الذی لایسال والمسکین الذی یسال فکان قول ابی حنیفۃ موافقا لقول ھولاء السلف (جصاص) فقراء و مساکین کی تفسریں جتنی بھی مختلف ہوں لیکن حکم زکوٰۃ کی حد تک یہ اختلاف کچھ بھی اثر انداز نہیں البتہ حکم وصیت میں یہ بحث چلتی ہے کہ وصیت اگر فقراء کے لئے ہے تو کیسے لوگ مراد ہیں اور اگر مساکین کے لئے ہے تو کیسے لوگ (آیت) ” والعملین علیھا ‘۔ یعنی جو ان صدقات کی تحصیل وصول کرنے پر مامور ہیں۔ ان کی تخواہوں میں۔
109 ۔ مؤلفۃ القولب سے مراد ایسے غیر مسلم ہیں جن کے مسلمان ہوجانے کی امید ہو۔ یا ان کے شروفتنہ سے بچنا مقصود ہو۔ اور پھر ایسے مسلمان جو اگرچہ اور حیثیتوں سے غیر مستحق ہوں لیکن مالی امداد سے توقع نہ ہو کہ انہیں اسلام سے مزید محبت پیدا ہوجائے گی غرض یہ کہ انسانوں کا ہر وہ گروہ جس کی طرف سے کسی نہ کسی حیثیت سے اسلامی حکومت کو کوئی نہ کوئی خطرہ درپیش ہو۔ جمہور کا قول ہے کہ یہ حکم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ کے لئے مخصوص تھا۔” صحابہ کے وقت میں اجماع ہوگیا ان کے عدم استحقاق پر جو علامت ہے حکم سابق کے منسوخ ہوجانے کی “ (تھانوی (رح) لیکن بعض علماء نے یہ بھی کہا ہے کہ تعامل صحابہ سے یہ حکم منسوخ نہیں ہوگیا بلکہ محض وقتی رفع حکم تھا بہ سبب عدم ضرورت واستغناء کے۔ فاضل گرامی مولنا گیلانی مدظلہ، کی تحقیق حسب ذیل ہے۔ انہی مصارف میں ایک مد ان لوگوں کی بھی ہے جو محض مالی کمزوریوں کی وجہ سے اسلامی حکومت اور اسلام کی مخالفت کرتے ہیں جیسا کہ اس زمانہ میں سیاسی شورش پسندوں کے ایک گروہ کی یہی حالت ہے۔ ان لوگوں کے چپ کرنے کے لئے بھی الصدقات کے مصارف میں قرآن نے مؤلفۃ القلوب کی ایک مد رکھی ہے۔ اگرچہ عام طور پر فقہاء کہتے ہیں کہ یہ مصرف صرف ابتداء اسلام کی حد تک محدود تھا اور اب ساقط ہوگیا، دلیل میں حضرت عمر ؓ کا یہ اثر پیش کیا جاتا ہے کہ آپ نے مؤلفۃ القلوب کے بعض افراد کو دینے سے اس بناء پر انکار کردیا کہ اب اسلام اتنا قوی ہوچکا ہے کہ ان لوگوں کی تالیف قلب کی ضرورت نہ رہی۔ حالانکہ قصہ صرف اس قدر ہے کہ چند خاص لوگوں کو حضرت عمر ؓ نے دینے سے یہ فرماتے ہوئے انکار کردیا تھال ان اللہ اعز الاسلام فاذھبا (اب خدا اسلام کو عزت و شوکت عطا کرچکا، پس تو دونوں جاؤ (کچھ نہ ملے گا) لیکن اس کا یہ مطلب قرار دینا کہ ہر شخص کے لئے حضرت عمر ؓ نے اس مد کو ساقط کردیا میری کچھ سمجھ میں نہ آیا قرآن نے جس مصرف کو منصوص کیا ہے اس کو اوالا حضرت عمر ؓ منسوخ ہی کیسے کرسکتے ہیں، نیز ایک ایسی واحد خبر سے قرآن کے ایک قانون پر خط نسخ نہیں پھیراجاسکتا بلکہ اس کا صاف مطلب یہی ہے یہ امام اور حکومت وقت کے صوابد ید پر ہے جس وقت جن لوگوں کے لئے ان کی ضرورت سمجھے، دے جن کے لئے ضرورت نہ سمجھے نہ دے “۔ (اسلامی معاشیات از فاضل گیلانی)
110 ۔ یعنی غلاموں کے آزاد کرانے کی مد میں ” گردن چھڑانے کا مطلب یہ ہے کہ کسی غلام کو اس کے آقا نے کہہ دیا ہو کہ تو اتنا روپیہ دے دے تو آزاد ہے اس غلام کو زکوٰۃ دی جائے تاکہ اپنے آقا کو دے کر آزاد ہوجائے “۔ (تھانوی (رح )
1 1 1 ۔ (خواہ وہ قرضدار بجائے خود غنی ومتمول ہی ہو) جس کے پاس دس ہزار روپیہ موجود ہو اور گیارہ ہزار کا مثلا قرضدار ہے، اس کو زکوٰۃ دینا درست ہے۔ (تھانوی (رح) دنیا میں شاید اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس نے مقروضوں کے ساتھ عملی ہمدردی کا سبق دیا ہے اور اس گروہ کو بھی فقراء و مساکین ہی کی طرح حاجت مند سمجھا ہے۔ فاضل گرامی مولنا گیلانی لکھتے ہیں۔” یہ دنیا کا وہ مظلوم گروہ ہے جس کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک تو بڑی بات ہے اس وقت تک دنیا کی حکومتوں نے ان کے ستانے والوں اور ان پر ظلم وتشدد کے بہاؤ توڑنے والوں کو صرف زبانی نہیں بلکہ قانونی امداد واعانت کو اپنا فریضہ قرار دے رکھا ہے ہر حکومت کی فوجی اور عسکری قوت اس کے لئے تیاررہتی ہے کہ مقروضوں کے ذمہ قرض خواہوں کا جو دین ومطالبہ ہے صرف اصل ہی نہیں۔ بلکہ سوددر سود کے ساتھ اس سے وصول کرا دیا جائے خواہ اس راہ میں اس کی ساری جائداد گھر کا سارار اثاثہ ہی کیوں نہ نیلام ہوجائے یہ ایک واقعہ ہے اور تہذیب و تمدن کی برقی روشنیوں میں سے یہ اندھیر کھلم کھلا اودھم مچائے ہوئے ہے۔ (اسلامی معاشیات)
112 ۔ یعنی مجاہدین کی امداد میں، بعض نے حاجیوں کو بھی اس میں شامل کیا ہے۔ بعض نے دینی طالب علموں کو بھی۔ وقیل المراد طلبۃ العلم واقتصر علیہ فی الفتاوی الظھیریہ (روح) اور بعض فقہاء نے یہاں تک توسیع سے کام لیا ہے کہ طاعت الہی میں ہر قسم کے جدوجہد کرنے والوں کو اس میں داخل کردیا ہے۔ وفسرہ فی البدائع بجمیع القرب قیدخل فیہ کل من سعی فی طاعۃ اللہ تعالیٰ وسبل الخیرات (روح)
113 ۔ وہ ہر مناسب نامناسب کو جانتا ہے اور اس کے احکام ہمیشہ مناسب حال اور مصلحتوں سے لبریز ہوتے ہیں۔ (آیت) ” فریضۃ من اللہ “۔ یہ تاکید ہے ان احکام کے واجب العمل ہونے کی۔
Ayah 9:61114 ۔ (اور اس لئے انہیں دھوکے میں لے آنا ان کے سامنے بات بنا جانا کوئی بڑی بات نہیں) منھم ضمیر ظاہر ہے کہ منافقین کی طرف سے۔ (آیت) ” یقولون “۔ یعنی یہ منافقین آپس میں ایسی باتیں کہتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” اذن “۔ کہتے ہیں ایسے شخص کو جو کان ہی کان ہو اور اپنی ساگدتی سے جو بات بھی سنے اس کا یقین کرلے۔ الاذن الرجل الذی یصدق ویقبل قول کل واحد (کشاف) اے یقبل کل ما قیل لہ (ابن قتیبہ) (آیت) ” یؤذون النبی “۔ یعنی ایسی باتیں کرتے رہتے ہیں جو نبی کریم ﷺ کے لئے باعث اذیت ہیں۔
115 ۔ قرآن مجید نے منافقین ہی کے لفظ کو ان پر دہرا کر اسے ایک بالکل دوسرے پہلو سے پیش کردیا ہے۔ اذن خیر کے درمیان کی اضافت فی کے معنی میں ہے۔ یعنی تمہارے حق میں جو بات خیر کی ہے اسی کو وہ کان دھر کر سنتے ہیں۔ ای ھو اذن فی الحق والخیر (کشاف)
116 ۔ یعنی اللہ کی وحی کی ہوئی ساری اطلاعوں پر یقین رکھتے ہیں۔ ایمان یہاں اپنے شرعی اصطلاحی معنی میں ہے جو کفر کی ضد ہے اور اسی لئے اس کا صلہ ” ب “ کے ساتھ آیا ہے۔ اے التصدیق باللہ الذی ھو نقیض الکفر فعدی بالباء (کشاف)
117 ۔ یعنی مومنین مخلصین کی باتوں کا ” رسول اللہ ﷺ کا کسی بات کو سن لینا دو طور پر ہے ایک تصدیق کے طور پر کہ دل سے بھی اس کو صحیح سمجھیں۔ دوسرا خوش خلقی اور کریم النفسی کے طور پر کہ باوجود اس سمجھ جانے کے کہ یہ بات محض غلط ہے خلق وکرم جبلی سے اس کو ٹال دیں اور راوی پر داروگیر سے اس کی صریح تکذیب نہ کریں۔ غرض کان دے کر اور سچا سمجھ کر تو صرف اللہ کی اور مخلصین کی باتیں سنتے ہیں “۔ (تھانوی (رح) ایمان یہاں لغوی معنی میں ہے یعنی مومنین کی بات کی تصدیق اور اسی لئے اس کا صلہ ل کے ساتھ آیا ہے۔ قصد السماع من المومنین وان یسلم لھم مایقولونہ فعدی باللام (کشاف) معناہ الاستماع منھم والستلیم لقولھم فیتعدی باللام (کبیر) قیل انما ادخلت اللام للفرق بین ایمان التصدیق و ایمان الامان (جصاص)
118 ۔ (گو وہ ایمان دل میں نہ ہو اور اسی شفقت وخوش خلقی کی بنا پر تمہاری باتیں بھی سن لیتے ہیں باوجودیکہ اس کی حقیقت خوب سمجھ چکے ہوتے ہیں۔ غرض یہ کہ تم یہ سمجھتے ہو کہ حضرت حقیقت کو نہیں سمجھتے اور حقیقت یہ ہے کہ حقیقت کو تم ہی نہیں سمجھتے (آیت) ” للذین امنوا “۔ دلوں کا حال بجز عالم الغیب کے کسے معلوم، رسول اللہ ﷺ تو تمہارے اظہار ایمان ہی کو ایمان سمجھ کر تم پر شفقت کرتے ہیں۔ اے اظھروا ایمان (کشاف) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ (آیت) ” رحمۃ للذین امنوا منکم “۔ سے آپ کا کمال کرم ظاہر ہوتا ہے کہ محض اظہار ایمان پر ہی آپ ﷺ کو شفقت مرتب ہوجاتی ہے۔
119 ۔ (آخرت میں یقیناً اور دنیا میں اغلبا) (آیت) ” الذین یؤذون رسول اللہ “۔ اس ایذا کے عموم کے تحت میں سب کچھ آگیا یعنی لفظ اذن کے استعمال سے بھی اور ہر دوسرے طریقہ سے۔
Ayah 9:62120 ۔ اور اس طرح ہمارے انتقام وتعزیر سے اپنے جان ومال کو بچالے جائیں) لکم یعنی تم مسلمانوں کے سامنے، تمہیں سنا سنا کر۔ (آیت) ” یحلفون باللہ “۔ قسمیں اس امر پرکھاتے ہیں کہ ہم نے فلاں بات نہیں کی، یا فلاں الزام میں ہم بالکل بےقصور ہیں۔
121 ۔ یعنی اگر یہ لوگ واقعی اہل ایمان ہیں تو انہیں جاننا چاہیے تھا کہ مومنین کی رضا جوئی پر اللہ اور اس کے رسول کی رضا جوئی کہیں مقدم ہے۔ (آیت) ” یرضوہ “ میں ضمیر رسول کی جانب بھی ہوسکتی ہے جو مرجع قریب ہے اور اللہ کی جانب بھی جو مرجع بعید ہے اور ایک ہی ضمیر سے دونوں کام نکالنے میں نکتہ بلاغت یہ ہے کہ رسول کی رضا اللہ کی رضا سے منضم ہے اور یہ کمال قرب و قبول رسول اللہ ﷺ کا ہے۔ انما وحد الضمیر لانہ لاتفاوت بین رضاء اللہ ورضا رسولہ ﷺ فکانا فی حکم مرضی واحد (کشاف) (آیت) ” ان کانوا مومنین “۔ اس پر اشارہ ادھر آگیا کہ اللہ کی رضا تو موقوف ہے ان لوگوں کے اخلاص و ایمان پر۔
Ayah 9:63122 ۔ (آیت) ” الم یعلبوا “۔ اس طرز خطاب میں اشارہ یہ ہے کہ اتنے دنوں سے رسول اللہ ﷺ انہیں تعلیم دے رہے ہیں اور اتنی سی بات بھی یہ لوگ اب تک نہ سمجھے۔ قال اھل المعانی قولہ الم تعلم خطاب لمن حاول الانسان تعلیمہ مدہ وبالغ فی ذلک التعلیم ثم انہ لم یعلم فیقال لہ الم تعلم بعد ھذہ الساعات الطویلۃ والمدۃ المدیدۃ (کبیر) (آیت) ” من یحاد اللہ ورسولہ “۔ جو کوئی اللہ اور رسول کی مخالفت کرے گا جیسا کہ یہ لوگ اس وقت کررہے ہیں۔ (آیت) ” فان لہ “۔ خبر محذوف ہے۔ اے فحق ان لہ “۔ (کشاف)
Ayah 9:64123 ۔ مثلا یہی کہ جو باتیں اپنے جلسہ میں دین کے ساتھ استہزاء کی کرتے رہتے ہیں، مسلمانوں پر وہ ظاہر ہوجائیں ، (آیت) ” قولبھم “۔ ضمیر ظاہر ہے کہ منافقین کی جانب ہے۔ الضمیر فی قلوبھم لمفنافقین (کشاف) (آیت) ” علیھم سورة تنبءھم “۔ ضمیر دونوں جگہ مومنین کی جانب ہے۔ (آیت) ” یحذر المنفقون “۔ ایک ترکیب یہ بھی جائز سمجھی گئی ہے۔ کہ خبر امر کے معنی میں ہو اور مراد لیحذر المنافقون ہو۔ خبر بمعنی الامر اے لیحذر المنافقون (مدارک) قال الحسن و مجاھد کانوا یحذورن فحملاہ علی معنی الاخبار عنھم بانھم یحذورن وقال غیرھم صورتہ صورۃ الخبر ومعناہ الامر تقدیرہ لیحذر المنافقون (جصاص)
Ayah 9:65124 ۔ (اور کچھ واقعی برائی یا عیب چینی ہمیں تھوڑے ہی مقصود تھی) یہ عذر آج بھی کتنا چلا ہوا ہے۔ شعر وادب کے پردہ میں کون سی گستاخی اللہ اور اس کی شریعت اور اس کے فرشتوں اور حوروں کے ساتھ اٹھ رہی ہے۔ اور جواب ہر مرتبہ یہی ملتا ہے کہ یہ تو محض ادبی دلچسپیوں کے لئے تھا کہیں واقعی مذہب پر تعریض تھوڑے ہی مقصود تھی !
125 ۔ یعنی بالفرض تمہاری غرض تھوڑی دیر کیلئے خوش طبعی ہی تھی جب بھی یہ تو سوچا ہوتا کہ استہزاء کن چیزوں سے کر رہے ہو ! اللہ سے ؟ اس کے احکام سے ؟ اس کے رسول سے ؟ یہ چیزیں محل استہزاء کسی صورت میں بھی ہوسکتی ہیں ؟ آج کے ادیب اور شاعر (ایک دو نہیں صدہا کی تعداد میں) ذرا ان پہلوؤں کو بھی سوچ رکھیں، فقہاء نے یہ بھی لکھا دیا ہے کہ حکم شرعی کے اعتبار سے استہزاء کی یہ تینوں قسمیں (استہزاء باللہ، استہزاء بایات اللہ و استہزاء برسول اللہ) برابر ہیں۔ دل علی ان الاستہزاء بایات اللہ وبشیء من شرائع دینہ کفر فاعلہ (جصاص) فقہاء نے یہ مسئلہ بھی مستنبط کیا ہے کہ کلمہ کفر خواہ ارادہ وسنجیدگی سے ادا کیا جائے خواہ محض ایک لطیفہ وخوش طبعی کے طور پر حکم شرعی کے اعتبار سے دونوں برابر ہیں۔ اس لئے کہ قرآن نے ان کے عذر لہو ولعب کو بالکل مسترد کردیا اور حکم کفران پر باقی رکھا، ہاں حالت جبرواکراہ کا حکم اس سے الگ ہے۔ فیہ الدلالۃ علی ان الاعب والجاد سواء فی اظھار کلمۃ الکفر علی غیر وجہ الاکراہ (جصاص) فاخبر ان ھذالقول کفر منھم علی ای وجہ قالوہ من جد اوھزل فدل ذلک علی استواء حکم الجاد والھازل فی اظہار کلمۃ الکفر (جصاص) اور امام رازی (رح) نے اس بات کو عقلی پہلو سے بیان کیا ہے۔ انہ تعالیٰ بین ان ذالک الاستھزاء کان کفرا والعقل یقتضی ان الاقدام علی الکفر لاجل اللعب غیر جائز (کبیر) (آیت) ” باللہ “۔ امام رازی (رح) نے لکھا ہے کہ عمل استہزاء کا وقوع اللہ تعالیٰ پر تو ہو ہی نہیں سکتا۔ لامحالہ مراد یا تو احکام شرعی سے ہوگی یا اسماء الہی سے اور یا قدرت الہی سے۔ المراد بالاستھزاء باللہ ھو الاستھزاء بتکالیف اللہ تعالیٰ (کبیر) یحتمل ان یکون المراد الاستھزاء بذکر اللہ فان اسماء اللہ قد یستھزیء الکافر بھا (کبیر) ثم ان بعض الجھال من المنافقین ذکر کلاما معشرا بالقدح فی قدرۃ اللہ کماھو عادات الجھال والملحدۃ (کبیر)
Ayah 9:66126 ۔ (اس لئے اب بات بنانے کی کوششیں سب بےکار ہیں) (آیت) ” بعد ایمانکم “۔ بعد اظہار ایمانکم کے معنی میں ہے ورنہ اصل ایمان ظاہر ہے کہ منافقوں میں سرے سے تھا ہی نہیں۔ اے بعد اظھارکم الایمان (کشاف) اے کفرتم بعد ایمانکم الذی اظھرتموہ (کبیر عن الحسن) دین کے ساتھ استہزاء فقہاء نے تصریح کردی ہے اگر قصدا ہے تو خواہ بداعتقادی سے نہ ہو جب بھی کفر ہے (آیت) ” قد کفرتم “۔ یعنی اس استہزاء کے بعد تمہارا کفر ظاہر ہی ہوگیا ورنہ موجود تو وہ پہلے ہی سے تھا۔ اے قد اظھرتم کفرکم باستھزاء کم (مدارک) قال الحسن المراد کفرتم بعد ایمانکم الذی اظھرتموہ وقال اخرون ظھرکفرکم للمومنین بعد ان کنتم عندھم مسلمین (کبیر) (آیت) ” لا تعتذروا “۔ یعنی بہانے نہ بناؤ۔ اے لاتشتغلوا باعتذاراتکم الکاذبۃ (مدارک)
127 ۔ (اور آخر وقت تک انہیں توفیق توبہ نصیب نہ ہوگی) (آیت) ” ان نعف عن ظائفۃ منکم “۔ یہ معافی انہیں تائب ہوجانے اور مومن مخلص بن جانے پر حاصل ہوگی۔
Ayah 9:67128 ۔ (اور سب دائرہ ایمان سے خارج ہیں) (آیت) ” بعضھم من بعض “۔ یعنی ایک دوسرے کی جنس کے ہیں صفت نفاق میں سب شریک ومتحد اور مومنین کے دائرہ سے یکسر خارج۔ اے فی صفۃ النفاق کما یقول الانسان انت منی وانا منک اے امرنا واحد ولا مباینۃ فیہ (کبیر) وفیہ نفی ان یکونوا من لمومنین (مدارک) اضاف بعضہم الی بعض باجتماعھم علی النفاق فھم متشاکلون متشابھون فی تعاضدھم علی النفاق (جصاص) (آیت) ” یامرون بالمنکر “۔ یعنی فسق وکفر وعداوت اسلام کی طرف بلانے اور دعوت دینے میں سب شریک ہیں۔ (آیت) ” ینھون عن المعروف “۔ یعنی ایمان واتباع نبوی سے سب ایک دوسرے کو روکتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” ویقبضون ایدیھم “۔ یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے اپنے ہاتھ روکے رہتے ہیں۔ (آیت) ” نسیھم “۔ اللہ کا انہیں بھلانا یہ ہے کہ اس نے اپنی رحمت خاصہ ان پر سے ہٹالی۔ قاعدۂ مشاکلت دیباچہ میں ملاحظہ ہو۔ اے مجاز اھم بان صیرھم بمنزلۃ المنسی من ثوابہ ورحمتہ (کبیر) قاعدۂ مشاکلت کے لئے ملاحظہ ہو اس تفسیر کا دیباچہ۔ (آیت) ” ھم الفسقون “۔ یہ ترکیب فسق پر زور وتاکید کے لئے ہے یعنی بڑے ہی فاسق ہیں۔ اے ھم الکاملون فی الفسق الذی ھو التمرد فی الکفر والانسلاخ عن کل خیر (مدارک)
Ayah 9:68129 ۔ یعنی ایسا عذاب جو آکر جائے گا نہیں، قائم ہو کر اور جم کر رہ جائے گا۔ (آیت) ” ھی حسبھم “۔ یعنی اس آتش دوزخ سے بڑھ کر کوئی سزا متصور ہی نہیں۔ ؛ اور وہی ان کے لئے ہوگی۔ فیہ دلالۃ علی عظم عذابھا وانہ بحیث لایزاد علیہ (مدارک) والمعنی ان تلک العقوبۃ کافیۃ لھم ولا شیء ابلغ منھا ولا یمکن الزیادۃ علیھا (کبیر) (آیت) ” لعنھم اللہ “۔ اللہ کی لعنت کے معنی جیسا کہ کئی بار اوپر آچکا ہے، اللہ کی رحمت خاصہ سے دور کردینے کے ہیں۔
Ayah 9:69130 ۔ یعنی جیسا پرانی جاہلی مشرک قوموں کو اپنے جاہ و ثروت اور دنیوی ترقیوں پر ناز اور ناز بےجارہ چکا ہے اسی طرح تم بھی آج ظاہری دلفریبیوں اور مادی چمک دمک پر مٹے ہوئے ہو۔ خطاب منافقین ہی سے چل رہا ہے۔ (آیت) ” کالذین من قبلکم “۔ یہ تمثیل جس طرح کفر مشترک میں ہے اسی طرح جزائے کفر مشترک میں بھی ہے۔
131 ۔ (کہ دونوں جہانوں میں مسرت و راحت سے محروم ہوگئے) مطلب یہ ہوا کہ جب حبط اعمال اور سزائے شدید اخروی سے وہ قدیم قومیں بہ ای جاہ و شوکت نہ بچ سکیں تو تم ان سے کہیں کم ہو، تم کیسے بچ سکتے ہو۔ (آیت) ” خضتم کالذی خاضوا “۔ خوض کے معنی گھسنے یا دآنے کے ہیں۔ اور اس کا استعمال موقع ذم پر ہوتا ہے۔ الخوض الدخول فی الباطل واللھو (مدارک) ظاہری ٹیم ٹام کے ساتھ بری عادتوں اور ناپاک خصلتوں میں گھسنے اور در آنے کی مثالیں دیکھنا ہوں تو آج بھی ” مہذب “ قوموں کے شفاخانوں، محتاج خانوں، ڈاک خانوں، درسگاہوں، کے پہلو بہ پہلو ان کے نشاط خانے، شراب خانے، قمار خانے، ناچ گھر، ان کے تھیڑ اور ان کے سنیما دیکھ لئے جائیں۔
Ayah 9:70132 ۔ (سو انہیں قدیم قوموں کی طرح یہ معاصر معاندین بھی اپنے ہاتھون کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں) (آیت) ” نبا الذین “۔ ان لوگوں کی خبر یعنی ان لوگوں کی ہلاکت و بربادی کی خبر۔ (آیت) ” اصحب مدین “۔ مراد قوم شعیب ہے۔ (آیت) ” المؤتفکت “۔ الٹی ہوئی بستیاں، یعنی قوم لوط کے اجڑے ہوئے، برباد شدہ شہر۔ (آیت) ” اتتھم رسلھم بالبینت “۔ یعنی ان قوموں کے پیغمبر تو کھلے کھلے نشانات لے کر آتے رہے۔ پر ان لوگوں کی طرف سے انکار بھی اسی شدت سے جاری رہا۔ (آیت) ” ماکان اللہ لیظلمھم “۔ خدائے اسلام دوسری قوموں کے دیوی دیوتاؤں کی طرح ظالم نہیں وہ حکیم بھی ہے اور عادل بھی۔ بلاوجہ وسبب کسی پر سختی کرنا اس کی شان عدل و حکمت دونوں کے منافی ہے لانہ حکیم لایعاقبھم بغیر جرم (مدارک)
Ayah 9:71133 ۔ ابھی اوپر ذکر آچکا ہے کہ منافقین اور منافقات سب ایک گروہ ہیں۔ المنافقون والمنافقات بعضھم من بعض اب اس کے بالمقابل ارشاد ہورہا ہے کہ مومنین ومومنات بھی سب ایک گروہ ہیں ایک دوسرے کے دوست، رفیق، ہوا خواہ اور اس گروہ مومن کے صفات و خصوصیات ٹھیک اس کے برعکس بیان ہورہے ہیں جو ابھی گروہ منافق کے بیان ہوئے تھے (آیت) ” یطیعون اللہ ورسولہ “۔ رسول کی اطاعت آنحضور ﷺ کی وفات کے بعد حضور ﷺ کی شریعت کی اطاعت ہے۔ (آیت) ” سیرحمھم اللہ “۔ س یہاں وعدہ کی تاکید کے لئے ہے۔ السین مفیدۃ وجود الرحمۃ لا محالۃ فھی تاکد الموعد (کشاف) لامحالۃ فان السین موکدۃ للوقوع (بیضاوی) والسین علی ما قال الزمخشری وتبعہ غیر واحد لتاکید الوعد (روح) فقہاء نے لکھا ہے کہ آیت کی رو سے ایک مستقل گروہ کافروں اور منافقوں کا قرار پا گیا اور دوسرا مستقل طبقہ اہل ایمان کا۔ اس لئے جو سلوک و محبت باہمی مومنین کے لئے ثابت و لازم ہے وہ کفار ومنافقین سے نہ رکھنی چاہیے اور جو تشدد اور غلظت کفار کے مقابلہ میں مقتضائے دین ہے وہ مسلمان کے حق میں جائز نہیں، اور یہیں سے فقہاء نے یہ بھی نکالا ہے کہ کسی مومن کیلئے جائز نہیں کہ کسی دوسرے مسلمان کو قول یا عمل یا مجرد قصد سے بھی ضرر پہنچائے۔ یطیعون سے صوفیہ عارفین نے یہ نکتہ نکالا ہے کہ جب اطاعت ایمان کی علامت ہے تو عدم اطاعت یا معصیت سلب ایمان کی طرف لے جانے والی ہوگی، (آیت) ” بعضھم اولیآء بعض ‘۔ امام رازی (رح) نے لکھا ہے کہ منافقین ومنافقات کے ذکر میں یہی مضمون بعضھم من بعض سے ادا ہوا ہے اور مومنین ومومنات کے ذکر میں بجائے من بعض کے اولیاء بعض سے، تو اس کی وجہ سے یہ ہے کہ اہل کفر ونفاق ایک دوسرے کا اتباع محض تقلید جامد اور مناسبت طبعی کی راہ سے کرتے ہیں۔ بہ خلاف اس کے اہل ایمان میں جو اشتراک پایا جاتا ہے وہ استدلال عقلی وتوفیق الہی سے حاصل ہوتا ہے۔
134 ۔ یعنی ہر جزاوصلہ پر قادر اور ہر ایک کو اس کے مناسب حال جزاوصلہ دینے والا۔ اے غالب علی کل شیء قادر علیہ وواضع کلا موضعہ (مدارک)
Ayah 9:72135 ۔ (اور یہ اہل جنت کو تمام تر نصیب رہے گی) (آیت) ” رضوان من اللہ اکبر “۔ یعنی رضائے الہی ساری نعمتوں سے بڑھ کر ہے اور وہ تعمیل احکام سے ہر ایک کو حاصل ہوسکتی ہے۔ صوفیہ عارفین نے لکھا ہے کہ جنت میں دیدار الہی گو ایک عظیم الشان نعمت ہے، لیکن یہ لذت تو صرف عاشقوں اور دیدار کرنے والوں کے نقطہ خیال سے ہے، عاشق کے لئے بیشک دیدار محبوب سے بڑھ کر لذیذ نعمت اور کیا ہوسکتی ہے لیکن محبوب کی رضا تو اس سے بھی بڑھ کر لطیف ولذیذ ہے اور محبوب حقیقی کی رضا صرف تعمیل احکام اور ادائے فرائض میں ہے مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ خود جنت میں جانے اور ہر قسم نعمت پانے کا سبب بھی تو یہی رضائے الہی ہے اور عاشقوں کا منتہائے مقصود بھی یہی رضا ہے۔
Ayah 9:73136 ۔ (ہر ایک کے حسب حال) لفظ جہاد، قتال کے مرادف نہیں، قتال اس کی صرف ایک فرد ہے، محققین نے تصریح کردی ہے کہ کافروں سے جہاد کی شکل ایک ہوگی، اور منافقوں سے جہاد کی شکل دوسری۔ (آیت) ” جاھد الکفار “۔ کافروں کے مقابلہ میں جہاد جنگ و قتال سے ہوگا۔ امر بالجھاد مع الکفار بالسیف (قرطبی عن ابن عباس ؓ دلت الدلائل المنفصلۃ علی ان المجاھدۃ مع الکفار یجب ان تکون بالسیف (کبیر) (آیت) ” والمنفقین “۔ منافقوں کے مقابلہ میں جہاد قول ولفظ اور عملی برتاؤ سے ہوگا۔ امر بالجھاد مع المنافقین باللسان وشدۃ الزجر والتغلیظ (قرطبی۔ عن ابن عباس) باقامۃ الحدود علیھم وباللسان (قرطبی عن الحسن وقتادۃ) باظھار الحجۃ تارۃ وبترک الرفق ثانیا وبالانتھار ثالثا (کبیر)
137 ۔ (جس کے وہ مستحق ہیں) (آیت) ” غلظۃ “۔ کا حکم کافروں اور منافقوں دونوں کے حق میں مشترک ہے۔ اور غلظ لغت میں رافت یا نرمی کی ضد ہے، مراد یہ ہے کہ انکے مقابلہ میں نرم نہ پڑئیے مضبوطی سے قائم رہیے۔ الغلظ نقیض الرافۃ وھی شدۃ القلب (قرطبی) آج کے دور دجل وتلبیس میں لفظ ” رواداری “۔ جس معنی میں چلا ہوا ہے، اسلام اس کا ہرگز قائل نہیں، دوستان حق سے وہ اس برتاؤ کا حکم دیتا ہے جس کے وہ مستحق ہیں اسی طرح دشمنان حق سے بھی اسی سلوک کا جس کے وہ لائق ہیں انسان مرغیوں اور بکریوں کو اپنے پاس سے کھلا کھلا کر پالتا ہے اور محنت اٹھا اٹھا کر انہیں زندہ رکھتا اور بڑھاتا ہے اور سانپوں، بچھوؤں کو بلاتامل مارڈالتا ہے، عقل کی تعلیم یہ ہرگز ہرگز نہیں کہ جانور جانور سب برابر ہیں اور یکساں ” رواداری “ سے سب کے ساتھ پیش آنا چاہیے، فقہاء مفسرین نے لکھا ہے کہ جس کسی کے متعلق فساد عقیدہ کی اطلاع مل جائے اس پر جہاد دلائل سے کیا جائے گا اور اس کے مقابلہ میں سختی بھی حسب طاقت و ضرورت استعمال کی جائے گی، کل من وقف منہ علی فساد فی العقیدۃ فھذا الحکم ثابت فیہ یجاھد بالحجۃ وتستعمل معہ الغلظۃ ما امکن منھا (مدارک)
Ayah 9:74138 ۔ تبوک سے واپسی کے موقع پر چند منافقوں نے حضور اکرم ﷺ سے متعلق سازش کی کہ فلاں گھاٹی سے آپ ﷺ شب میں گزریں گے سب مل کر آپ ﷺ پر ہاتھ چلائیں اور ہو سکے تو زندگی ہی کا خاتمہ کردیں چناچہ راستہ میں ایک جگہ چھپ کر اور اپنے چہروں کو چھپا کر بیٹھ گئے آپ ﷺ کے ہمراہ صحابیوں میں سے حضرت حذیفہ ؓ اور حضرت عمار ؓ تھے عمار ؓ کو تو ان لوگوں نے گھیر لیا، لیکن حذیفہ ؓ کی شجاعت کام آئی اور یہ بزدل منتشر ہوگئے۔ رات کے اندھیرے اور چہرے کے چھپے ہونے کے باعث پہچانے نہ گئے۔ حذیفہ ؓ نے جب رسول اللہ ﷺ تک خبر پہنچائی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ بارہ آدمی فلاں اور فلاں تھے، ان لوگوں سے جب سوال کیا گیا تو وہ حلف کے ساتھ انکار کرگئے۔ آیت میں انہی واقعات کی طرف اشارہ ہے۔ (آیت) ” کفروا بعد اسلامھم “۔ سے فقہاء مفسرین نے استدلال کیا ہے کہ اسلام ایمان کے مرادف ہے، اس لیے کفر کے مقابلہ میں آیا ہے فیہ دلالۃ علی ان الایمان والاسلام واحد لانہ قال وکفروا بعدا سلامہم (مدارک) (آیت) ” کلمۃ الکفر “۔ ہر وہ بات ہے جس میں اللہ کی نعمتوں کی ناشکری ہو، یا پائی جائے، وکلمۃ الکفر کل کلمۃ فیھا جحد لنعمۃ اللہ اوبلغت منزل تھا فی العظم (جصاص)
139 ۔ یہ ایک طنز لطیف ان منافقوں کی کمینہ فطرتی پر ہے، منافقین مدینہ عموما غریب تھے، اسلام ہی کی بدولت انہیں مال غنیمت میں کچھ حصہ ملنے لگا تھا اور اسی سے ان میں کچھ خوشحالی آگئی تھی، پھر سازشیوں کا ایک خاص سرغنہ جلاس (جو بعد کو بحمد اللہ پختہ مسلمان ہوگیا تھا) تو خاص طور پر رسول اللہ ﷺ کا ممنون کرم تھا کہ آپ ﷺ نے ایک بار اس کا ایک بڑا قرضہ اتار دیا تھا۔ ایسے طنزیہ محاورہ ہر زبان میں ہیں۔ اردو میں بھی تو کہتے کہ ” جی ہاں مجھ سے یہ خطا تو ضرور ہوئی تھی کہ وقت پر اس شخص کے کام آگیا تھا “۔
140 ۔ (کہ انہیں اس سزائے درد ناک سے بچالے اور جب دنیا ہی میں انہیں کوئی یارمددگار نہیں ملتا تو آخرت میں تو بدرجہ اولی منفی ہوگا) (آیت) ” فان یتوبو ایک خیرالھم “۔ یعنی اگر اپنے نفاق سے توبہ کرلیں تو دنیا وآخرت دونوں کی سزاؤں سے بچ جائیں گے، بلکہ دارین میں نفع ہی میں رہیں گے، فقہاء نے آیت سے استدلال کیا ہے کہ اظہار ایمان کرنے والے اور باطنا کفر میں پڑے رہنے والے زندیق کی توبہ قبول ہوسکتی ہے۔ فی ما قص اللہ علینا من شان المنافقین دلالۃ علی قبول توبۃ الزندیق المسر للکفر والمظھر للایمان (جصاص) (آیت) ” یک خیرالھم “۔ اس بہتری کا تعلق دنیا وآخرت دونوں سے ہے۔
Ayah 9:75141 ۔ (اسی مال و دولت کے ذریعہ سے) شان نزول کی روایتوں میں یہ اں ایک، خاص شخص ثعلبہ بن حاطب کا نام لیا گیا ہے لیکن روایات شان نزول کا حاصل صرف اس قدر ہوتا ہے کہ آیت کا سبب نزول وہ مخصوص واقعہ تھا یہ مقصود ہرگز نہیں ہوتا کہ آیت کا حکم یا آیت صرف اس شخص یا واقعہ تک محدود ہے۔ فقہاء نے یہاں سے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ نذر ماننے والے پر اس کا ادا کرنا واجب ہے۔ فیہ الدلالۃ علی ان من نذر نذرا فیہ قربۃ لزمہ الوفاء بہ (جصاص)
Ayah 9:76142 ۔ (یعنی ایمان ان کے دلوں سے مفقود تو پیشتر ہی سے تھا۔ فکر پر و اعمال ایمانی کی پہلے بھی نہ تھی، اب عمل بھی ترک کردیا۔ اے وھم قوم عادتھم الاعراض عن الطاعات فلاینکر منھم ھذا (روح)
Ayah 9:77143 ۔ (شروع ہی سے) ” یعنی نیت ایفاء کی اس وقت بھی نہ تھی، پس نفاق تو اس وقت بھی دل میں تھا جس کی فرع یہ کذب واخلاف ہے۔ پھر اس کذب واخلاف کے وقوع سے اور زیادہ مستحق غضب ہوئے اور اس زیادت غضب کا اثر یہ ہوا کہ وہ نفاق سابق اب دائم وغیرزائل ہوگیا کہ توبہ بھی نصیب نہ ہوگی، اسی حالت پر مر کر ابد الآباد جہنم میں رہنا نصیب ہوگا “۔ (تھانوی (رح) (آیت) ” فاعقبھم “۔ الخ یعنی چونکہ انہوں نے اپنے ارادہ سے گمراہی اختیار کرلی، اللہ بھی ان کے ارادہ کے خلاف ان کی گمراہی کو ہدایت سے نہ بدلے گا، اور انہوں بدستور اسی حال میں پڑا رہنے دے گا۔ قال الزجاج ان معناہ انھم لما ضلوا فی الماضی فھو تعالیٰ اضلھم عن الدین فی المستقبل (کبیر) مفسر تھانوی (رح) نے فرمایا کہ جس طرح طاعتوں سے ایمان کی نورانیت بڑھتی ہے اسی طرح سے معصیتوں سے کفر کی ظلمت بھی بڑھتی ہے۔
Ayah 9:78144 ۔ (تو ان کا ظاہری اسلام اور نقلی اظہار اطاعت ان کے کیا کام آسکتا ہے ؟ ) روایات میں آتا ہے کہ ان آیات کے نزول کے بعد ثعلبہ بن حاطب زکوٰۃ لے کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آیا لیکن آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تیری زکوٰۃ قبول کرنے سے منع کردیا ہے۔ اس نے بہت ہائے واویلا کی مگر آپ ﷺ نے قبول نہ فرمائی، اس کے بعد وہ حضرت ابوبکر ؓ حضرت عمر ؓ حضرت عثمان ؓ تینوں کی خلافت میں زکوٰۃ پیش کرتا رہا اور ہر دفعہ وہ رد ہوتی رہی یہاں تک کہ وہ مرگیا۔ ” احقر کہتا ہے کہ اس کا زکوٰۃ لانا اور نہ لینے پر واویلا کرنا خلوص سے نہ تھا۔ بلکہ دفع عار وبدنامی کے لئے تھا۔ کیونکہ (آیت) ’ اعقبھم “۔ الخ سے اس کا دائما کافر رہنا معلوم ہوگیا پھر خلوص کا احتمال کب ہے اور شاید ممانعت قبول سے مراد حضور ﷺ کی یہی ہو، اس طرح کہ قبول صدقہ کے لئے ایمان شرط ہے اور شرط کا انتفاء مخصوص ہے پس مشروط بھی منہی عنہا ہوگا۔ اور ممکن ہے کہ مستقل وحی بھی اس میں نازل ہوئی ہو۔ اور خلفائے راشدین ؓ کا قبول نہ کرنا آپ ﷺ کے قبول نہ فرمانے کی وجہ سے تھا۔ “ (تھانوی (رح) (آیت) ” الم یعلموا “۔ ہمزہ یا تو انکار تو بیخ وتہدید کے موقع پر آتا ہے کہ ان کی جرأتیں اتنی بڑھتی گئیں کہ نوبت یہاں تک پہنچ گئی اور یا پھر اس تنبیہ کے لئے کہ اللہ اس امر پر ان سے مواخذہ شدید کرنے والا ہے۔ والھمزۃ اماللانکار والتوبیخ والتھدید اے الم یعلموا ذلک حتی اجترؤا علی ما اجترء وا علیہ من العظائم او للتقریر والتنبیہ علی ان اللہ سبحانہ مؤاخذھم ومجازیھم بما علم من اعمالھم (روح) (آیت) ” ان اللہ یعلم سرھم ونجوھم “۔ ان لوگوں کی سرگوشیاں اور ان کی راز داریاں چونکہ وقتی چیزیں اور حادث تھیں اس لیے یہاں علم کا ذکر صیغہ فعل (مضارع) کے ساتھ فرمایا گیا۔ وفی ایراد العلم المتعلق بسرھم ونجوھم الحادثین شیئا فشیئا بصیغۃ الفعل الدال علی الحدوث والتجدد (روح) (آیت) ” ان اللہ علام الغیوب “۔ یہاں علم کا تعلق چونکہ بندوں سے نہیں بلکہ براہ راست اللہ سے ہے، اس لئے صیغہ بھی اسم کا لایا گیا دوام کے ظاہر کرنے کو اور پھر اسم بھی صیغہ مبالغہ کا ؟ والعلم المتعلق بالغیوب الکثیرۃ بصیغۃ الاسم الدال علی الدوام والمبالغۃ من الفخامۃ والجزالۃ مالایخفی (روح)
Ayah 9:79145 ۔ (اور تمسخر کا درجہ مطلق طعن سے بڑھا ہوا ہے) (آیت) ” الذین “۔ ھم الذین کے مرادف ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ منکرین اولیاء کا بھی یہی حال ہے۔ وہ بھی ان کے ہر عمل اور ہر حال پر عیب گری کرتے رہتے ہیں۔
146 ۔ (خواہ دنیا خواہ آخرت میں) (آیت) ” سخر اللہ منہم “۔ یعنی ان کے تمسخر کی خوب سزا انہیں دے کر رہے گا۔ عربی میں بہ طریق مجازات ومشاکلت اسی لفظ کو الٹ دینے کا دستور عام ہے جیسا کہ دیباچہ میں ذکر آچکا ہے اور محاورۂ قرآنی میں بار بار یہ استعمال ہوا ہے اے جازھم جزاء الخریۃ (ابن قتیبہ) مفسر تھانوی (رح) نے فرمایا کہ تمسخر سے دل چونکہ اور زیادہ دکھتا ہے۔ اس لئے اس کا ذکر وقوع اور جزاء دونوں میں خصوصیت کے ساتھ کیا گیا۔
Ayah 9:80147 ۔ (اس لئے کہ مغفرت کی بنیاد یعنی ایمان ہی سرے سے مفقود ہے اور منافقین کے حق میں دعا اور عدم دعادونوں عدم نفع کے لحاظ سے یکساں ہیں) (آیت) ” سبعین مرۃ “۔ ستر سے مراد یہاں عدد کامل یا کثرت استغفار ہے اور ستر تحدید کے لئے نہیں صرف تکثیر کے لئے آیا ہے جیسا کہ محاورۂ عرب میں اکثرآتا ہے۔ والسبعون جار مجری المثل فی کلامھم للتکثیر (کشاف) ذکر السبعین علی وجہ المبالغۃ فی الیاس من المغفرۃ (جصاص) لان العرب فی اسالیب کلامھم تذکر السبعین فی مبالغۃ کلامھا ولا ترید التحدید بھا (ابن کثیر) روایتوں میں آتا ہے کہ عبداللہ بن ابی بن سلول منافقین مدینہ کا رئیس وسردار تھا۔ اس کا لڑکا مومن مخلص تھا۔ باپ کے مرنے پر آکر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں درخواست جنازہ پڑھانے کی کی۔ آپ کھڑے ہوگئے حضرت عمر ؓ نے دامن پکڑا کہ آپ تو نماز سے منع کردیئے گئے ہیں۔ آپ ﷺ نے کہ مجسمہ رحمت و شفقت تھے اور منافقین ومنکرین کی تالیف قلوب کی مصلحت بھی آپ کی نگاہ دور رس میں تھی، باوجود اہل زبان ہونے کے آیت میں تاویل فرمالی اور لفظی گنجائش نکال کر ارشاد فرمایا کہ مجھے تو اختیار دیا گیا ہے چاہوں استغفار کروں چاہوں نہ کروں ستر بار تک مغفرت نہ ہوگی میں اس سے زیادہ استغفار کروں گا چناچہ آپ ﷺ نے نماز پڑھا دی۔ آیت (آیت) ” ولا تصل علی احد منہم مات ابدا “۔ اس کے بعد اتری۔ آیت پر سوال یہ ہوا کہ آپ ﷺ نے منافق کے کفر کے باوجود اس کیلئے استغفار کیسے کردیا، جواب یہ دیا گیا کہ اس کے کفر کا علم قطعی تو آپ ﷺ کو اس آیت کے نزول کے بعد ہی ہوا نہ کہ اس کے قبل سے تھا محققین نے آیت اور اس کے شان نزول دونوں سے یہ مستنبط کیا ہے کہ مجتہد کو چاہیے کہ آیات عذاب میں تاویل اور وعدہ ہائے انعام میں توسیع کرتا رہے۔ (آیت) ” استغفرلھم “۔ آپ ﷺ کا یہ استغفار اگر ہوتا تو فرط رحمت و شفقت کی بنا پر ہوتا، (آیت) ” اولا تستغفرلھم “۔ آپ ﷺ کا یہ عدم استغفار اصل ضابطہ شریعت اور استغفار کی عدم نافعیت کی بنا پر ہوتا۔ کفر ایسی سخت چیز ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے پیغمبر برحق ﷺ تک کی سفارش بےاثر رہتی ہے۔ اعاذنا اللہ منہ۔ فیہ اخبار بان استغفار النبی ﷺ لھم لا یوجب لھم المغفرۃ (جصاص)
148 ۔ چناچہ یہ لوگ کفر ہی پر قائم رہے اور کفر ہی پر ختم رہے۔ (آیت) ” ذلک بانھم کفروا باللہ ورسولہ “۔ فقہاء نے یہیں سے یہ مسئلہ مستنبط کیا ہے کہ کافر کے لئے استغفار اور اس کی نماز جنازہ درست نہیں، آیت میں استغفار رسول ﷺ کی عدم نافعیت کی وجہ بیان کردی کہ وہ کفر ہے اور اس مانع کا دفعیہ عدد استغفار کی کمی زیادتی سے نہیں ہوسکتا۔ بین ان العلۃ التی لاجلھا لاینفعھم استغفار الرسول وان بلغ سبعین مرۃ کفرھم وفسقھم وھذا المعنی قائم فی الزیادۃ علی السبعین (کبیر) (آیت) ” الفسقین “۔ یہ وہ نافرمان لوگ ہیں جو ایمان وحق کی طلب ہی نہیں کرتے، محض گنہگار ہونا مراد نہیں، بلکہ ایمان سے خارج ہونا مراد ہے۔ اے الخارجین من الایمان (مدارک) (آیت) ” ذلک “۔ یعنی یہ مغفرت کی طرف سے قطعی محرومی ومایوسی۔ اشارۃ الی الیاس من المغفرۃ (مدارک)
Ayah 9:81149 ۔ (جب کہ آپ ﷺ غزوہ تبوک پر روانہ ہوچکے) حاشیہ اوپر گزر چکا۔ (آیت) ” المخلفون “۔ اس کے لفظی معنی ہیں ” وہ جو پیچھے چھوڑ دیئے گئے “ رہ جانے والے وہ منافقین ہیں جنہوں نے طرح طرح کے جھوٹے عذر تراش کر کے پیچھے رہ جانے کی اجازت حاصل کرلی تھی، (آیت) ” خلف “۔ کے معنی بعد کے ہیں۔ اے خلفہ (کشاف) بمعنی بعد وخلف “۔ (روح) قال الاخفش ان خلاف بمعنی خلف وان یونس رواہ عن عیسیٰ بن عمر ومعناہ بعد رسول اللہ (کبیر) لیکن دوسرے معنی ” مخالفت میں “ کے بھی ہیں۔ قیل ھو بمعنی المخالفۃ (کشاف وروح) یعنی مخالفۃ لرسول اللہ ﷺ (کبیر عن قطرب والزجاج)
150 ۔ یہ منافقین آپس میں ایک دوسرے سے کہتے تھے۔ غزوۂ تبوک کا زمانہ شدید گرمی کا موسم تھا۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس سے مشابہ ان اہل باطل کا حال ہے جو سلوک کے شداید اور لذائد دنیوی کے فوت ہونے کو بڑے شدومد سے بیان کرکے سالکین وطالبین کو راہ سلوک سے روکتے ہی۔
151 ۔ (لیکن اس آگ سے نہ ڈرتے ہو نہ اس سے بچنے کا کوئی سامان کرتے ہو)
Ayah 9:82152 ۔ (اس دنیا میں جس کی عمر چند روزہ ہے) (آیت) ” فلیضحکوا قلیلا ولیبکوا کثیر ا “۔ ہنسنے کا تعلق اسی دنیا سے ہے اور رونے کا عالم آخرت سے جس کی مدت ختم ہونے والی نہیں۔ فلیضحکوا اور ولیبکوا گو صورۃ امر ہیں لیکن مراد یہاں صیغہ امر سے بھی محض خبر ہی ہے جو اپنے وقوع میں تمامتر یقینی ہے۔ والامر بالضحک والبکاء فی معنی الخبر (بحر) اخرجہ علی صیغۃ الامر للدلالۃ علی نہ حتم واجب (بیضاوی) (آیت) ” قلیلا وکثیرا “۔ قلیل میں اشارہ اس دنیا کی عارضی حیثیت کی جانب ہے اور کثیر میں آخرت کے دوام کی جانب، قلیلا اشارۃ الی مدۃ العمر فی الدنیا وکثیرا اشارۃ الی تابید الخلود (بحر) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ بعض لوگ (آیت) ” ولیبکوا کثیر ا “۔ کو جو خبر بہ صورت انشاء اور آخرت سے متعلق ہے، صیغہ امر سمجھ کر اپنے مرشدوں سے شکایت کرتے ہیں کہ ہمیں رونا نہیں آتا حالانکہ گریہ خشیت و محبت سے ہے تو محمود ضرور ہے لیکن محمود ہونا کسی فعل کے واجب ہونے کو مستلزم نہیں، احکام تو صرف امور اختیاری میں ہیں اور گریہ امر غیر اختیاری ہے۔ ؛
Ayah 9:83153 ۔ (تمہارے دل کا خبث اللہ نے مجھ پر روشن کردیا۔ اسی وحی الہی کے بھروسہ پر میں یہ وثوق سے کہہ رہا ہوں) (آیت) ” فاستاذنوک “۔ یہ ان کا اجازت طلب کرنا خوشامد وتملق کی راہ سے ہوگا۔
154 ۔ (اس لئے کہ دل میں عزم بھی تمہارے اب بھی یہی ہے) الخالفین۔ یعنی وہ کل لوگ جو کسی عذر حقیقی کی بنا پر پیچھے رہ گئے، مثلا بیمار یا بوڑھے یا بچے یا عورتیں۔ اے المتخلفین لعدم لیاقتھم کالنساء والصبیان والرجال العاجزین وجمع المذکر للتغلب (روح) و تفسیر الخالف بالمتخلف ھو الماثور عن اکثر المفسرین السلف (روح)
Ayah 9:84155 ۔ (دفن وغیرہ کے واسطے تعظیما) ” قیام علی القبر سے مراد وہ ہے جو بہ طور اکرام کے ہو، خواہ غرض زیارت ہو یا بہ غرض دفن اور اگر عبرت اور تذکر موت کے لئے ہو، یا ضرورت کے لئے ہو تو اس طرح قیام علی القبر درست ہے لیکن اگر زیارت بہ غرض عبرت میں کوئی مفسدہ دینیہ ہو تو جائز نہیں۔ “ (تھانوی) (آیت) ” ولا تصل علی احد “۔ مراد نماز جنازہ ہے۔ منافقین کی نماز جنازہ پڑھنا ممنوع ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ قبر پر حاضر ہو کر دعا وغیرہ کرنے کا نفع اس سے زاید ہے جتنا غیبت میں دعا کرنے سے ہوتا، آیت سے فقہاء نے کئی مسائل نکالے ہیں، مثلا ایک یہ کہ ہر مسلمان کی میت پر نماز جنازہ ضروری ہے۔ اور کفار کی میت کے لئے اس کی ممانعت ہے۔ فیہ الدلالۃ علی معان احدھا فعل الصلوۃ علی موتی المسلمین وحظرھا علی موتی الکفار (جصاص) کان ھذا یصنع من اکبر القربات فی حق المومنین فشرع ذلک وفی فعلہ الاجر الجزیل کما ثبت فی الصحاح وغیرھا (کبیر) دوسری بات یہ کہ قبر مسلم پر اہتمام دفن کے لئے کھڑا ہوجائے، چناچہ اس پر رسول اللہ ﷺ کا عمل بھی تھا۔ ویدل ایضا علی القیام علی القبر الی ان یدفن وعلی ان النبی ﷺ قد کان یفعلہ (جصاص) عن عثمان ؓ کان رسول اللہ ﷺ اذا فرغ من دفن المیت وقف علی وقال استغفروا لاخیکم واسألوا لہ التثبیت فانہ الان یسئل (ابوداؤد)
156 ۔ فاسقون یہاں کافرون کے معنی میں ہے اے متمردون فی الکفر خارجون عن حدودہ (روح) فاسقون اے کافرون (جلالین) اور جو کافر مرے اس کے لئے دعا و استغفار یا اس کے کف ودفن میں شرکت درست نہیں، (آیت) ” وھم فسقون “۔ یہ گویا ممانعت نماز جنازہ وغیرہ کی علت بیان کردی گئی یعنی جب وہ ایمان سے خالی ہیں ان میں اس کی اہلیت ہی نہیں کہ ان پر نماز جنازہ پڑھی جائے۔ تعلیل للنھی اے انھم لیسوا باھل للصلوۃ علیھم لانھم کفروا باللہ ورسولہ (مدارک)
Ayah 9:85157 ۔ (کہ جب یہ مبغوض ومردود ہیں تو ان پر یہ نعمتیں کیسی ؟ ) ملاحظہ ہو حاشیہ 102 بالا۔
158 ۔ (جس سے آخرت میں بھی وہ مبتلائے عذاب ہی رہیں) (آیت) ” یریداللہ “۔ اللہ کے اس ارادہ سے ظاہر ہے کہ اس کی مشیت تکوینی ہی مراد ہے۔ آیت ابھی چند سطریں قبل اوپر آچکی تھی، تکرار سے مقصود اور زور دینا ہے۔ التکریر للمبالغۃ والتاکید (مدارک)
Ayah 9:86159 ۔ (محض زبان سے نہیں، دل سے بھی) سورة ۔ سورت سے یہاں اصطلاحی سورت مراد نہیں، لفظی معنی مراد ہیں، یعنی قرآن مجید کا چھوٹا بڑا کوئی سا بھی ٹکڑا خواہ وہ پوری سورت ہو یا اس کا کوئی جزء۔ یجوزان یراد سورة بتمامھا اوان یراد بعضھا (مدارک) اے طائفۃ من القرآن (جلالین) لفظ قرآن سے بھی تو اسی طرح پورا قرآن ہی مراد ہوتا ہے اور قرآن کا ہر حصہ بھی۔ اور لفظ الکتاب سے بھی اسی طرح کل کتاب بھی مراد ہوتی ہے اور ہر حصہ کتاب بھی۔ (آیت) ” اولوا الطول “۔ یعنی وسعت ومقدرت والے لوگ۔ اے اصحب الفضل والسعۃ (کشاف) (آیت) ’ ’ اولو الطول “ کے ذکر سے یہ مراد نہیں کہ صرف اہل مقدرت رخصت مانگتے تھے بلکہ اس سے غیر اہل مقدرت پر بھی روشنی پڑگئی کہ جب مقدرت والوں کا یہ حال تھا تو غیر اہل مقدرت کا حال ضرور ہی یہ ہوتا۔ (آیت) ” وقالوا “۔ ویہاں عاطفہ نہیں، تفسیری ہے یعنی پچھلے فقرہ کے (آیت) ” استاذنک “ کی شرح فقرہ میں کررہا ہے۔ عطف تفسیری (ابو السعود)
Ayah 9:87160 ۔ (اور ان سے احساس ہی اپنی دون فطرتی کارخصت ہوگیا ہے) (آیت) ” الخوالف “۔ سے مراد یہاں عورتیں ہیں۔ ابن عباس ؓ صحابی اور متعدد تابعین سے یہی منقول ہے۔ عورتیں چونکہ گھر میں بیٹھی رہ جانے والیاں ہیں اسی لئے انہیں خوالف کہتے ہیں۔ الخوالف اے النساء (ابن جریر، عن ابن عباس وقتادہ ومجاہد والضحاک والحسن وابن زید) الخوالف النساء قالہ الجمھور کا بن عباس و مجاھد وقتادہ وشمربن عطیہ وابن زید والفراء (بحر) اے النساء اللاتی تخلفن فی البیوت (جلالین) (آیت) ” رضوا بان یکونوا مع الخوالف “۔ شریعت اسلام نے جو مشاغل حیات مرد کے ساتھ مخصوص کر رکھے ہیں، اور عورت کو ان سے الگ کر رکھا ہے، ان میں سے ایک شغل جہاد کا بھی ہے۔ آیت میں جہاد سے جی چرانے والوں پر طنز ہے کہ مرد ہو کر اچھے خاصہ عورت بنے جارہے ہیں۔ تھجین لھم ومبالغۃ فی الذم والخوالف النساء قالہ الجمھور۔۔۔۔ وذلک ابلغ فی الذم لانھم نزلوا انفسھم منزلۃ النساء (بحر) (آیت) ” طبع علی قلوبھم “۔ یعنی ان کی مسلسل شرارتوں اور خباثتوں اور کفر ونفاق اختیار کی بنا پر توفیق خیر ہی ان سے سلب ہوگئی ہے۔ لاختیارھم الکفر والنفاق (مدارک) (آیت) ” فھم لایفقھون “۔ کے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ یہ مہرزدہ لوگ احکام جہاد کی مصلحتوں کو سمجھ ہی نہیں سکتے اے لا یفھمون اسرارحکمۃ اللہ فی الامفر بالجھاد (کبیر)
Ayah 9:88161 ۔ (دنیا وآخرت دونوں میں) (آیت) ” المفلحون “۔ فلاح کی وسعت وعموم مفہوم پر حاشیہ شروع پارۂ اول میں (آیت) ” اولئک ھم المفلحون “۔ کے تحت میں گزر چکا۔ (آیت) ” الرسول والذین امنوا معہ “۔ محقق تھانوی (رح) نے یہاں یہ نکتہ لکھا ہے کہ مومنین کے ساتھ یہاں ذکر رسول لے آنا مومنین کی ہمت افزائی وقدر افزائی کے لئے ہے کہ جہاد میں ان کا اخلاص بھی کامل ہے جیسا کہ رسول کا اخلاص اکمل ہے۔ (آیت) ” الخیرت “۔ یہ دنیوی واخروی دونوں عالموں کی خوبیوں کا جامع ہے۔ وظاھر اللفظ عمومھا ھنا لمنافع الدارین کالنصر والغنیمۃ فی الدنیا والجنۃ ونعیمھا فی الاخری (روح) تناول منافع الدارین لاطلاق اللفظ (مدارک)
Ayahs 9:89–90162 ۔ منافقین کا دائرہ شہری آبادیوں تک محدود نہ تھا، شہر مدینہ کے باہر بعض دیہاتی قبیلہ بھی منافق تھے۔ اب ذکران کا آرہا ہے، اور ان کی بھی دو قسمیں بیان ہوں گی ، (آیت) ” الاعراب “۔ عرب کہتے ہیں نسل حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کو اور اعراب اسی کی جمع ہے لیکن اعراب کا اطلاق صرف دیہاتی آبادی کے لئے مخصوص رہ گیا ہے۔ صار ذلک اسما لسکان البادیۃ (راغب) ھم سکان البادیۃ خاصۃ (تاج) (آیت) ” المعذرون “ َ معذر ایسے عذرظاہر کرنے والے کو کہتے ہیں جس کے پاس حقیقۃ کوئی عذر نہ ہو اور ہو محض بہانہ کررہے ہوں، ازہری لغوی نے ابن عباس ؓ سے یہ قول نقل کیا ہے کہ معذرین وہ لوگ ہیں جو عذر نہ رکھتے ہوں اور عذر پیش کریں، المعذر ھو المظھر للعذر اعتلالا من غیر حقیقۃ لہ فی العذر وھو لا عذر لہ۔۔۔۔ والمعذرین الذین یعتذرون بلاعذر (لسان) ھم الذین لاعذر لھم ولکن یتکلفون عذرا (تاج) المعذر الذی محق والمعذر الذی لیس بمحق یعتذر بلاعذر (لسان) قال الازھری قدیکون لامعذر غیر محق وھو الذین یعتذرون بلاعذر (تاج)
163 ۔ (اور ایسے باک نکلے کہ ظاہر داری بھی نہ برتی اور جھوٹا عذر کرنے بھی نہ آئے) کذبوا اللہ ورسولہ “۔ یہ کذب دعوی ایمان میں تھا۔ یعنی ان کا دعوی ایمان کذب خالص تھا۔ (آیت) ” قعدالذین “۔ ذکر انہی دیہاتیوں کا چل رہا ہے۔
164 ۔ (دنیا میں قتل سے اور آخرت میں دوزخ سے) اے فی الدنیا بالقتل وفی الاخرۃ بالنار (کبیر) (آیت) ” منھم “۔ من تبعیض کے لئے ہے۔ عالم الغیب کو علم تھا کہ بعض ان میں سے ایمان لے آئیں گے اور عذاب سے مخلصی حاصل کرلیں گے، انما قال منھم لانہ تعالیٰ کان عالما بان بعضھم یومن ویتخلص عن ھذا العقاب (کبیر)
Ayah 9:91165 ۔ (کہ یہ سب عذر واقعی رکھنے والے (آیت) ” لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا “۔ کے قاعدۂ کلیہ کے تحت میں آجاتے ہیں) اس آیت میں صفائی ان اعراب کی طرف سے پیش ہوگئی جو کوئی حقیقی عذر رکھتے تھے۔ (آیت) ” نصحواللہ ورسولہ “۔ یعنی دوسرے احکام میں اللہ اور رسول کے احکام کی اطاعت دل سے کرتے رہتے ہیں۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ جو شخص کسی عذر کی بنا پر کسی عمل سے قاصر ہو مگر نیت یہ رکھتا ہو کہ اگر مجھے قدرت حاصل ہوتی تو ضرور یہ عمل کرتا تو وہ اس عمل کی برکتوں سے محروم نہیں رہتا۔
166 ۔ کسی پر خواہ مخواہ گرفت اور سختی کا تو اس کے ہاں امکان ہی نہیں۔
Ayah 9:92167 ۔ (سامان جہاد میں) آیت میں ان مخلص، معذور دیہاتیوں کے مزید اخلاص پر گواہی مل رہی ہے۔ (آیت) ” لتحملھم “ محاورہ میں اس کے معنی یہی ہیں کہ آپ ان کے لئے سواری کا انتظام کردیں۔ احملنی اے اعطنی ظھرا ارکبہ (تاج) (آیت) ” اعینھم تفیض من الدمع “۔ یہ طرز ادا بلیغ تر ہے۔ یفیض دمعھا سے، کہ اس میں آنکھ ہی کو بہتا ہوا آنسو بنادیا گیا ہے۔ ھو ابلغ من یفیض دمعھا لان العین فعلت کان کلھا دمع فائض (کشاف)
Ayah 9:93168 ۔ (کہ گناہ وثواب کیا ہے، اور حمیت وبے حمیتی کیا ہے) (آیت) ” یستاذنونک “ یعنی جہاد سے جی چرا کر گھر پر رہ جانے کی اجازت مانگتے ہیں۔ (آیت) ” رضوا بان یکونوا مع الخوالف “۔ اور (آیت) ” طبع اللہ علی قلوبھم “ کے لئے ملاحظہ ہو حاشیہ 160 بلا