9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 9:94

یَعْتَذِرُوْنَ اِلَیْكُمْ اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَیْهِمْ١ؕ قُلْ لَّا تَعْتَذِرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّاَنَا اللّٰهُ مِنْ اَخْبَارِكُمْ١ؕ وَ سَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:94 in the Quran reader

یہ لوگ تمہارے (سب کے) سامنے عذر پیش کریں گے جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے آپ کہہ دیجئے کہ بہانے نہ بناؤ ہم ہرگز تمہاری بات نہ مانیں گے۔ بیشک ہم کو اللہ تمہاری خبریں دے چکا ہے،169۔ اور عنقریب اللہ اور اس کا رسول تمہارا عمل دیکھ لیں گے پھر تم پوشیدہ اور ظاہر کے جاننے والے کے پاس واپس کئے جاؤ گے، تو وہ تمہیں جتلادے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے تھے،170۔

169۔ (اور ہمیں وحی الہی کے ذریعہ سے معلوم ہوچکا ہے کہ تمہارا کوئی عذر بھی صحیح نہ تھا) (آیت) ” یعتذرون الیکم “۔ خطاب میں اب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مومنین بھی شریک ہیں اور ذکر انہی منافقین مخلفین کا چل رہا ہے۔ (آیت) ” اذا رجعتم الیھم “۔ نزول آیت کا زمانہ سفر تبوک کا زمانہ ہے۔ یہ بات بہ طور پیشگوئی فرمائی جارہی ہے کہ جب لشکر اسلام مدینہ واپس پہنچے گا تو منافقین اپنے اپنے عذرات پیش کریں گے۔ (آیت) ” قل “۔ یعنی اے رسول اللہ ﷺ آپ سب مومنین کی طرف سے کہہ دیجئے (آیت) ” لاتعتذورا “۔ اعتذار یہاں بہانہ بنانے کے معنی میں ہے۔ یعنی انہ لاعذرلھم والمعاذیر یشوبھا الکذب (لسان) (آیت) ” لن نؤمن لکم “۔ فعل ایمان کا صلہ ل کے ساتھ آنے سے معنی یہ ہوگئے کہ ہم تمہاری تصدیق نہ کریں گے، تمہاری بات کو صحیح باور نہ کریں گے۔ اے لن نصدقکم (قرطبی) (آیت) ” اخبارکم “۔ یعنی تمہاری وہ خبریں جنہیں تم چھپانا چاہتے تھے، اے اخبرنا بسرائرکم (قرطبی) 170۔ منافقوں کو جتلا دیا گیا ہے کہ تمہاری نیت کا کھوٹ اللہ پر تو سب روشن ہی ہے اور آخرت میں تم سب پر بھی روشن ہو کر رہے گا لیکن اس کے علاوہ اس وقت دنیا میں بھی اللہ اپنی وحی خاص سے اپنے رسول اللہ ﷺ اور ان کے ذریعہ سے مومنوں کو تمہاری حرکتوں پر مطلع کیے دیتا ہے۔ (آیت) ” سیری اللہ عملکم ورسولہ “۔ یعنی یہ معلوم ہی ہو کر رہے گا کہ تم اخلاص و اطاعت کے دعو وں میں کہاں تک صادق ہو اور ہنوز نفاق پر قائم ہو، یا اب نادم ہو کر توبہ کررہے ہو۔ (آیت) ” الی علم الغیب “۔ یہ لفظ لا کر ادھر اشارہ کردیا کہ اس حاکم مطلق سے تمہارے نہ کوئی اعتقاد مخفی ہے نہ کوئی عمل۔ نفاق واخلاص دونوں کا امور غیب سے ہونا ظاہر ہے۔
Ayah 9:95

سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَیْهِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ رِجْسٌ١٘ وَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 9:95 in the Quran reader

عنقریب یہ لوگ تمہارے سامنے جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے اللہ کی قسم کھا جائیں گے تاکہ تم ان کو ان کی حالت پر چھوڑے رہو،171۔ سو تم ان کو ان کی حالت پر چھوڑے رہو،172۔ بیشک یہ گندے ہیں،173۔ اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے بدلہ میں اس کے جو کچھ وہ کرتے رہے

171۔ (اور کسی قسم کی ملامت ومؤاخذہ ان سے نہ کرو) (آیت) ” سیحلفون “۔ یہ حلف اس مضمون کا ہوگا کہ ہم کو فلاں فلاں مجبوریاں اور معذوریاں لاحق رہیں۔ (آیت) ” اذا انقلبتم الیھم “۔ یعنی جب تم معرکہ جہاد سے مدینہ واپس ہوگے ، (آیت) ” لتعرضوا عنھم “۔ اعراض یہاں عفو و درگزر اور چشم پوشی کے معنی میں ہے۔ اے لتصحفوا من لومھم (قرطبی) 172۔ (اور اس دنیا میں ان کی اصلاح کی امید نہ رکھو) یعنی اچھی بات ہے ان کی خواہش پوری کردو اور ان کی طرف التفات بھی نہ کرو۔ تعرض سے مقصود تو اصلاح ہوتی ہے، سو اس کی کوئی توقع ہی ان کے خبث کی بنا پر نہیں۔ (آیت) ” فاعرضوا “۔ اعراض یہاں ردوترک اور قطع تعلق کے مفہوم میں ہے۔ 173۔ (اپنے عقاید کفر ونفاق کے اعتبار سے اور اس خبث کا علاج آتش جہنم ہی سے ہوسکے گا، تمہارا التفات ہی ان کی طرف بےکار ہے) (آیت) ” انھم رجس “۔ تقدیر کلام یہاں ذو رجس کی سمجھی گئی ہے اور معنی یہ لیے گئے ہیں کہ ان کے عمل گندے ہیں۔ تعلیل لترک معاتبتھم اے ان المعاتبۃ لاتنفع فیھم (مدارک) اے عملھم رجس والتقدیر انھم ذورجس (قرطبی) ففہاء امت نے ان الفاظ سے کافروں سے ترک موالات وترک مخالطت وغیرہ کا حکم مستنبط کیا ہے۔ ھذا یدل علی وجوب مجانبۃ الکفار وترک موالاتھم ومخالطتھم وایناسھم وتقویتھم (جصاص) المعنی ان خبث باطنھم رجس روحانی فکما یجب الاحتراز عن الارجاس الجسمانیۃ فوجوب الاحتراز عن الارجاس الروحانیۃ اولی خوفا من سریانھا الی الانسان (کبیر)
Ayah 9:96

یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ١ۚ فَاِنْ تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَرْضٰى عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 9:96 in the Quran reader

یہ تمہارے سامنے قسمیں اس لئے کھائیں گے کہ تم ان سے راضی ہوجاؤ سو تم اگر ان سے راضی ہو (بھی) جاؤ تو اللہ (تو) نافرمان لوگوں سے راضی نہیں ہوتا،174۔

174۔ (سو تمہاری رضا مندی سے ان دشمنان دین کو نفع ہی کیا پہنچ سکتا ہے) منافقین کی ایک خاص شناخت یہ ہے کہ اللہ کے بجائے اس کے بندوں کی رضا جوئی میں لگے رہتے ہیں، قرآن مجید کی اس صراحت نے واضح کردیا کہ مومنین کی رضا مندی اللہ کی رضا مندی کو مستلزم نہیں۔ انما قیل ذلک لئلا یتوھم ان رضا المومنین یقتضی رضا اللہ عنھم (مدارک) فقہاء نے آیت سے یہ نکالا ہے کہ حلف کے بعد قبول عذر لازمی نہیں۔ یدل علی ان الحلف علی الاعتذار ممن کان متھما لا یوجب الرضاعنہ و قبول عذرہ لان الایۃ قد اقتضت النھی عن الرضا عن ھؤلآء مع ایمانھم (جصاص) (آیت) ” لترضوا عنھم “۔ یعنی تمہارے سامنے یہ جو قسمیں کھا کھا کر تمہیں راضی کرلینا چاہتے ہیں تو اس سے بھی ان کی غرض صرف اس قدر ہے کہ یہ دنیا میں تمہارے ہاتھ سے گزند پہنچنے سے محفوظ رہیں۔
Ayah 9:97

اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ كُفْرًا وَّ نِفَاقًا وَّ اَجْدَرُ اَلَّا یَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:97 in the Quran reader

دیہاتی (منافقین) کفر ونفاق میں بہت ہی سخت ہیں،175۔ اور ایسے ہی ہیں کہ ان احکام کا علم نہ رکھیں (جو) اللہ نے اپنے رسول پر نازل کئے ہیں،176۔ اور اللہ بڑا علم والا ہے، بڑا حکمت والا ہے،177۔

175۔ (اپنی سخت مزاجی اور تند خوئی کی بنا پر) ذکر اب دیہاتی عربوں کا شروع ہوا ہے ان میں سے جو منافق تھے وہ اپنی منافقت میں مدینہ کے شہری منافقوں سے بھی بڑھے ہوئے تھے۔ (آیت) ” الاعران “۔ اعرابی کی جمع ہے۔ اردو میں بھی انہیں اعرابی ہی کہتے ہیں۔ وجمع الاعرابی اعراب واعاریب (قرطبی) یجمع الاعرابی علی الاعراب والاعاریب (کبیر) اور اعراب کا اطلاق بدوی یا دیہاتی اہل عرب پر ہوتا ہے۔ الاعراب سکان البادیۃ خاصۃ (قرطبی) صار ذلک اسما لسکان البادیۃ (راغب) فمن استوطن القری العربیۃ فھم عرب ومن نزل البادیۃ فھم اعراب (کبیر) ان میں کثرت سے منافقین تھے۔ مرادہ الاعم الاکثر منھم (جصاص) 176۔ اور اسی جہل، بعدو بےگانگی کی بنا پر اسلام سے بعید تر ہیں (آیت) ” اجدر “۔ یعنی اسی قابل، اسی لائق ہیں۔ اے اولی واحق (کبیر) (آیت) ” اجدر “۔ الخ، اعراب کا یہ جہل، صحبت علماء وعقلاء سے بعد رکھنے کی بنا پر اشد تھا۔ ذلک لقلۃ سماعھم للقران ومجالستھم للنبی ﷺ فھم اجھل من المنافقین الذین کانوا بحضرۃ النبی ﷺ جصاص) عارفوں نے کہا ہے کہ صحبت صالحین سے بعید ہونے سے طریق خیر کے ساتھ مناسبت میں کمی ہوجاتی ہے اور اسی لئے اہل طریق صحبت کا بڑا اہتمام رکھتے ہیں۔ (آیت) ” حدود ما انزل اللہ “ ‘۔ حدود یہاں احکام کے معنی میں ہے۔ اے فرائض ماانزل اللہ (ابن عباس ؓ اے حدود الدین وما انزل اللہ من الشرائع والاحکام (کشاف) اے فرائض الشرع (قرطبی) بعض فقہاء نے اعرابی کی امامت جو شہریوں کے لئے ناجائز قرار دی ہے اس کی بنا بھی یہی ہے کہ دیہاتیوں کو مجالست علماء اور سمع احکام کے مواقع کم تر ملتے ہیں۔ ولذلک کرہ اصحابنا امامۃ الاعرابی فی الصلاۃ (جصاص) 177۔ چناچہ صفت علم کے تقاضہ سے وہ واقف بھی ان تمام امور خفی وجلی پر ہے اور صفت حکمت کے تقاضہ سے سب کو سزا بھی وقت مناسب ہی پردے گا۔
Ayah 9:98

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یَّتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ مَغْرَمًا وَّ یَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَآئِرَ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 9:98 in the Quran reader

اور دیہاتیوں میں کوئی کوئی ایسا بھی ہے جو کچھ وہ خرچ کرتا ہے اسے جرمانہ سمجھتا ہے اور رتمہارے لئے گردشوں کا منتظر رہتا ہے،178۔ بری گردش خود انہی (منافقین) کے لئے ہے،179۔ اور اللہ خوب سننے والا ہے خوب جاننے والا ہے،180۔

178۔ (کہ تمہیں مصائب ناگہانی سے دو چار ہونا پڑے) (آیت) ” ماینفق “۔ یعنی زکوٰۃ، جہاد وغیرہ امور خیر میں جو کچھ خرچ کرتا ہے، انفاق کے معنی تو مطلق خرچ کرنے کے ہیں خواہ وہ خرچ کسی نوعیت کا بھی ہو، لیکن قرآن مجید نے اسے عموما موقع مدح ہی پر استعمال کیا ہے اور مطلق انفاق سے مراد کار خیر میں خرچ ہی لی ہے، جیسے مطلق قتال بول کر قرآن مجید نے عموما مراد جہاد فی سبیل اللہ لی ہے۔ برے اور بےجا موقعوں پر خرچ کے لیے قرآن مجید نے عموما لفظ ” اسراف “ کا استعمال کیا ہے۔ (آیت) ” یتخذمغرما “۔ یعنی ایسے موقعوں پر یہ منافقین مسلمانوں کی شرما شرمی خرچ تو کر گزرتے ہیں، لیکن اسے جرمانہ ہی کی رقم کی طرح اپنے لیے گراں سمجھتے ہیں۔ یہ نمونہ ہے ان کے بخل کا، محققین نے لکھا ہے کہ مصارف شرعی کو تکلیف وجبر تصور کرنا علامات نفاق میں سے ہے۔ (آیت) ” یتربص بکم الدوآئر “۔ یعنی مسلمانوں کے حق میں منتظر یہی رہا کرتے ہیں، کہ کب یہ زمانہ کی گردش کا شکار ہوتے ہیں، یہ نمونہ ہے ان کے حسد وعداوت اسلام کا (آیت) ” الدوآئر “ دائرۃ وہ مصیبت ہے جس سے نجات نہ ہوسکے اور جو دائرہ کی طرح انسان کو گھیرلے۔ الدوائرھی المصائب التی لا مخلص منھا تحیط بہ کما تحیط الدائرۃ (بحر) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ جو شخص اپنے کو روپیہ کا مالک سمجھے گا، اسے خرچ کرنا یقیناً گراں گزرے گا اور جو کئی مالک اللہ کو سمجھے گا اور اپنے کو محض امین یا متولی، اسے تو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا بہت غنیمت معلوم ہوگا۔ 179۔ جیسا کہ قرآن مجید کا عام اسلوب بیان ہے اس نے منافقوں اور مجرموں والے الفاظ انہیں پر الٹ دیئے اور عملا یہ پیش گوئی لفظ بہ لفظ پوری ہو کر رہی۔ اسلام کی فتح مندیوں میں وسعت ہوتی گئی۔ منافقین کی حسرتیں دل ہی میں رہیں، ہر طرح ذلیل و خوار ہوئے۔ آیت سے یہ پہلو بھی نکلتا ہے کہ حاسد وبدبین خود ہی گرفتار بلاہوتے ہیں۔ 180۔ چناچہ وہ منافقین کی گفتگوئے نفاق بھی خوب سن رہا ہے اور مسلمانوں کے ساتھ ان کی چالبازیوں، سازشوں اور منصوبوں سے بھی خوب واقف ہے۔
Ayah 9:99

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِنْدَ اللّٰهِ وَ صَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّهُمْ١ؕ سَیُدْخِلُهُمُ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 9:99 in the Quran reader

اور دیہاتیوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اسے اللہ کے ہاں قرب کا ذریعہ اور رسول ﷺ کی دعائیں (لینے) کا ذریعہ بناتے ہیں سو بیشک یہ (خرچ کرنا) ان کے حق میں قرب ہی کا ذریعہ ہے، ضرور ان کو اللہ اپنی رحمت میں داخل کرے گا، یقیناً اللہ بڑا مغفرت والا ہے بڑا رحمت والا ہے،181۔

181۔ (سو وہ کیوں نہ ان مومنین صادقین پر رحمت ومغفرت کی بارش کردے گا) اعرابی سب کے سب منافق نہ تھے۔ بہت سے ان میں سے اچھے مخلص مسلمان بھی تھے، آیت میں ذکر ان کا ہورہا ہے (آیت) ” یتخذ ما۔۔۔۔۔ الرسول “۔ یعنی ان کا یہ امور خیر میں خرچ نمایشی اور شرما شرمی میں نہیں ہوتا، اخلاص وحسن نیت کے ساتھ ہوتا ہے۔ (آیت) ” انھا “۔ ضمیر ھا خرچ یا نفقہ کی طرف ہے۔ یعنی النفقۃ (ابن عباس ؓ یعنی نفقاتھم (قرطبی) (آیت) ’ ’ قربت عند اللہ “۔ یعنی رضائے الہی ان کا اصلی اور آخری مقصود ہوگیا ہے اور (آیت) ” صلوت الرسول “۔ یعنی رسول کی دعائیں اس کا ذریعہ ہیں۔ لانھا غایۃ القصوی وصلوۃ الرسول من ذرائعھا (روح) (آیت) ” ماینفق “۔ یعنی دین کی راہ میں خرچ کرتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” الا انھا قربۃ لھم “۔ اعرابی مومنین مخلصین کو اطمینان دلایا گیا ہے کہ ان کا یہ خرچ کرنا بےکار نہ جائے گا۔ واقعی اس سے قرب الہی ومقبولیت حاصل ہو کر رہے گی۔ (آیت) ” سیدخلھم “۔ س تاکید وتحقیق وعد کیلئے ہے۔ وما فی السین من تحقیق الوعد (کشاف) السین للتحقیق والتاکید (روح)
Ayah 9:100

وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ١ۙ رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:100 in the Quran reader

اور (جو) مہاجرین وانصار میں سے سابق ومقدم (ہیں) ،182۔ اور جتنے لوگوں نے نیک کرداری میں ان کی پیروی کی،183۔ اللہ ان (سب) سے راضی ہوا اور وہ (سب) اس سے راضی ہوئے،184۔ اور اس نے ان کیلئے ایسے باغ تیار کر رکھے ہیں کہ ان کے نیچے ندیاں بہہ رہی ہوں گی ان میں یہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے یہی بڑی کامیابی ہے،185۔

182۔ (ساری امت سے، ایمان لانے کے لحاظ سے اور وہ سارے ہی کے سارے مہاجروانصار ہیں) (آیت) ” السبقون۔ اور الاولون “۔ دونوں میں ال استغراق وجنس کا ہے۔ اور من تبعیض کا نہیں، تبیین کیلئے ہے، اس لئے آیت میں جو مدح آئی ہے، اس کے مصداق سارے ہی صحابہ کرام ؓ ہیں نہ کہ ان کا کوئی مخصوص طبقہ۔ (آیت) ” المھجرین “۔ مہاجر وہ مسلمان کہلائے جو اپنا وطن مکہ چھوڑ کر رسول اللہ ﷺ کی اطاعت و متابعت کے لئے ہجرت کرکے مدینہ آئے (آیت) ” الانصار “۔ انصار وہ مسلمان اہل مدینہ کہلائے جنہوں نے مہاجرین مکہ کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور رسول اللہ ﷺ اور دین اسلام کی ہر طرح خدمت ونصرت کی۔ 183۔ (اور اس امت کے سارے طبقات قیامت تک کے لئے آگئے) (آیت) ” اتبعوھم باحسان “۔ باحسان کی قید بہت قابل غور ہے۔ مہاجرین ہوں یا انصار، صحابہ کی کوئی سی بھی قسم ہو، بہرحال یہ حضرات معصوم نہ تھے۔ عصمت صرف خاصہ نبوت ہے۔ اس لئے حکم ان حضرات کے اتباع مطلق کا نہیں، بلکہ قید یہ لگی ہوئی ہے کہ ” نیک کرداری میں ان کا اتباع کیا جائے “ باحسان اے ما یتبعون فیہ من افعالھم وقوالھم لا فی ماصدر عنھم من الھفوات والزلامات اذلم یکونوا معصومین (قرطبی) وھو ان یقتدوا بھم فی الاعمال الحسنۃ ولا یقتدوا بھم فی غیر ذلک (کبیر۔ عن محمد بن کعب القرظی) محققین اہل سنت نے یہیں سے یہ نکالا ہے کہ اصحاب نبی ﷺ مقتدایان امت ہیں اور تمام صالحین ان کے تابع۔ انہیں محققین نے ایک نکتہ اور بھی پیدا کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ باہمی مشاجرات صحابہ کی جو روایتیں ہم تک پہنچی ہیں۔ ان سے ہمارے لئے یہ روا نہیں ہوجاتا کہ ایک کے اتباع کے زور میں ہم دوسرے کی عیب جوئی کرنے لگیں، پس امیر المومنین حضرت علی ؓ تو خیر اجل اصحاب نبی اور خلفائے راشدین میں ہیں۔ امیر معاویہ جو یہ مرتبہ نہیں رکھتے وہ بھی بہرحال صحابی ہیں، ان تک کے حق میں زبان طعن کھولنا درست نہیں۔ (آیت) ” والذین اتبعوھم “۔ فقہاء نے اس سے یہ بھی نکالا ہے کہ سابق کو متاخر پر فضیلت ہے اس لئے کہ پہلا شخص نیکی کا داعی ہوتا ہے اور دوسرا اس کا تابع ومقلد، اور سابق کو دہرا اجر ملتا ہے۔ فیہ الدلالۃ علی تفضیل السابق الی الخیر علی التالی لانہ داع الیہ بسبقہ والتالی تابع لہ فھو امام لہ ولہ مثل اجرہ (جصاص) 184۔ (اللہ کی طرف سے رضا تو یہ کہ اس نے ان سب کا ایمان مقبول فرمایا اور سب کو صلہ وجزا سے سرفراز کیا اور بندوں کی طرف سے رضا یہ کہ انہوں نے دل سے طاعت و اطاعت اختیار کی) رضا العبد عن اللہ ان لا یکرہ ما یجری بہ قضاۂ ورضا اللہ عن العبد ھو ان یراہ مؤتمرا لامرہ ومنتھیا عن نھیہ (راغب) بہرحال آیت نے مہاجرین سابقین اور ان کے تابعین سب کی مدح صاف صاٖ کردی بشرطیکہ اتباع نیک کرداری میں پوراپورا ہو بھی۔ بین ان منھم السابقین الی الھجرۃ وان منھم التابعین واثنی علیھم (قرطبی) دلت علی ان من اتبعھم انما یستحقون الرضوان والثواب بشرط کو نھم متبعین لھم باحسان (کبیر) (آیت) ” رضواعنہ “۔ کے تحت میں عارفین ومشائخ طریق نے بندہ کی رضا مندی کے تین طبقہ قرار دیئے ہیں :۔ (1) دل مانے یا نہ مامانے مگر اتباع احکام لازم ومقدم جانے، یہ مبتدی صاحب تقوی کا مقام ہے۔ (2) تقدیر الہی اور احکام حضرت حق ایسے بامزہ ومحبوب ہوجائیں کہ نفسانی خواہشوں کی طرف التفات ہی نہ ہو، یہ متوسطین کا طبقہ ہے جن کا مقام (آیت) ” لاخوف علیھم ولا ھم یحزنون “۔ ہوتا ہے۔ (3) کمال توحید وعرفان میں ایسا مستغرق ہو کہ یہ تمام کائنات ذاتی وصفاتی عین فعل وامر حضرت حق ہی دکھائی دے اسباب کا حجاب اور وسائط ووسائل کا دخل ہی نہ رہ جائے، یہ مقام کاملین کا ہوتا ہے۔ امام غزالی (رح) کا قول ہے مقام رضا سے فائق و افضل کوئی مقام نہیں۔ 185۔ خوب خیال رہے کہ قرآن مجید نے بار بار اور صریح الفاظ میں، تکرار اور تصریح دونون کے ساتھ اصلی و حقیقی کامیابی اخروی ہی کامیابی کو قرار دیا ہے نہ کہ دنیا کے کسی انعام کو۔۔۔ مسلمان کا منتہائے مقصود فلاح آخرت ہے نہ کہ دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا اعزاز یا مرتبہ۔
Ayah 9:101

وَ مِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ١ۛؕ وَ مِنْ اَهْلِ الْمَدِیْنَةِ١ؔۛ۫ مَرَدُوْا عَلَى النِّفَاقِ١۫ لَا تَعْلَمُهُمْ١ؕ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ١ؕ سَنُعَذِّبُهُمْ مَّرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِیْمٍۚ Open ayah 9:101 in the Quran reader

اور کچھ تمہارے گردوپیش والے دیہاتیوں میں سے اور کچھ مدینہ والوں میں سے (ایسے) منافق ہیں (کہ) نفاق میں اڑ گئے ہیں،186۔ آپ (بھی) انہیں نہیں جانتے ہیں ہم انہیں دہری سزا دیں گے پھر وہ عذاب عظیم کی طرف بھیجے جائیں گے،187۔

186۔ ( اور اے حدکمال تک پہنچا دیا ہے) اے اقاموا علیہ ولم یتوبوا (ابن جریر۔ عن ابن زید) اے ثبتوا واستمروا فیہ ولم یتوبوا عنہ (کبیر) اے تمھروافیہ (کشاف) (آیت) ” ممن حولکم “۔ تمہارے گردو پیش “ یعنی تمہارے شہر کے گردو پیش، یعنی حول بلدتکم وھی المدینۃ (کشاف۔ مدارک) 187۔ (آیت) ” لا تعلمھم “ یعنی ان کا نفاق اس حد کمال کو پہنچا ہوا ہے، اس قدر خفی ہے کہ آپ ﷺ کو بھی، بایں فطانت وذکاوت و کمال باخبری، ان کے منافق ہونے کا علم نہیں، اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کے علم غیب کی صریح نفی موجود ہے۔ جس کا دعوی ہمارے زمانہ کے بعض عالم نما جاہلوں نے کیا ہے۔ ووردت الایۃ فی نفی علم الغیب عن رسول اللہ ﷺ صریحا (تھانوی) کشف کے مدعیوں کو بھی آیت سے سبق لینا چاہیے۔ لاینبغی الاقدام علی دعوی الامور الخفیۃ من اعمال القلب ونحوھا (روح) یہ اور اسی قسم کی متعدد آیات قرآنی اس شخص کے خیال کی تردید میں ہیں جو صفائے قلب واشراقیت وغیرہ کی بنا پر کشف صدور واطلاع غیوب کا دعوی کرنے لگتا ہے اور یہ مرض علامہ محمود آلوسی تیرھویں صدی میں لکھتے ہیں کہ ہمارے زمانہ میں سفہاء کے اندر شدت سے پھیلا ہوا ہے۔ وھذہ الایات ونحوھا اقوی دلیل فی الرد علی من بزعم الکشف والاطلاع علی المغیات بمجرد صفاء القلب وتجرد النفس عن الشواغل وبعضھم یتساھلون فی ھذا الباب جدا (روح) امام ابن جریر نے آیت کے ذیل میں قتادہ تابعی (61 ھ ؁ تا 116 ھ۔ ) کا طویل قول نقل کہ ہمارے زمانہ میں بعض لوگوں کی جسارتیں کیسی بڑھ گئی ہیں کہ فلاں کے جنتی اور فلاں کے جہنمی ہونے کا حکم لگادیتے ہیں حالانکہ غیب کی خبر انبیاء (علیہ السلام) بھی نہیں دے سکتے تھے۔ اور پھر کئی آیات قرآنی نقل کی ہیں۔ قتادہ بھی پہلی صدی کے آخر اور دوسری صدی کے اول کے آدمی تھے، علامہ ابن حیان غرناطی (654 ؁ تا 754 ؁ھ) ان کا یہ قول نقل کرکے کہتے ہیں کہ یہ حال اس زمانہ کا ہے جو عہد صحابہ سے اس قدر متصل تھا اور کثرت خیر کے لئے ممتاز تھا لیکن شیاطین انس کے وجو دے وہ بھی خالی نہ رہا تو اب ہماری آٹھویں صدی ہجری کا کیا حال بیان کیا جائے جب بہت سے مدعیان تصوف کی زبان ایسے ہی دعو وں پر کھل گئی ہے، یہ لوگ نہ کتاب اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور نہ سنت رسول ﷺ کی طرف اور غیب دانی کے خرافات پر اتنے دلیر ہیں ! (بحر) یہ حال جب آٹھویں صدی کا تھا تو چودھویں صدی ہجری کا غیر رہنے والا اپنے وقت کا حال بیان کرنے کے لئے الفاظ کہاں سے لائے اور یہیں سے اکابر علماء سنت نے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ کسی پر قطعی طور پر جنتی یا دوزخی ہونے کا حکم لگا دینا درست نہیں۔ ھذا یمنع ان یحکم علی احد بجنۃ اونار (قرطبی) (آیت) ” نحن نعلمھم “۔ یہیں سے ظاہر ہے کہ کسی انسان پر جنتی یا جہنمی ہونے کا قطعی حکم کوئی انسان نہیں لگا سکتا یہ صرف علم خداوندی ہونے کا خاصا ہے۔ وھذا یمنع ان یحکم علی احد بجنۃ اونار (قرطبی) (آیت) ” سنعذبھم مرتین “۔ (یہ دوہری سزا قبل آخرت ہوگی، ایک سزا نفاق کی، دوسری سزا کمال نفاق کی) لعل تکریر عذابھم لما فیہ من الکفر المشفوع بالنفاق اوالنفاق الموکد بالتمرد فیہ (روح) (آیت) ” ثم یردون الی عذاب عظیم “۔ یہ عذاب عظیم ظاہر ہے کہ عذاب آخرت ہے۔ دو عذاب اس کے قبل کے جس پر لفظ (آیت) ” ثم “۔ دلالت کرتا ہے۔ ممکن ہے کہ ان میں سے ایک سزا اسی دنیا کی ہو، اور دوسرا عذاب قبر ہو، قبل آخرت کے عموم میں، دنیا اور برزخ دونوں داخل ہیں۔ احدھما فی الدنیا والاخری فی القبر (ابن جریر) اے عذاب الدنیا و عذاب القبر (قرطبی، عن الحسن، قتادہ) اکثر الناس علی ان عذاب الثانی ھو عذاب القبر (بحر) ھما القتل و عذاب القبر او الفضیحۃ و عذاب القبر (مدارک)
Ayah 9:102

وَ اٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِهِمْ خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّ اٰخَرَ سَیِّئًا١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:102 in the Quran reader

اور کچھ اور لوگ ہیں جنہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کرلیا انہوں نے ملے جلے عمل کئے تھے (کچھ) بھلے اور کچھ،188۔ برے، توقع ہے کہ اللہ ان پر توجہ کرے بیشک اللہ بڑا مغفرت والا ہے، بڑا رحمت والا ہے،189۔

188۔ غزوۂ تبوک میں ساتھ نہ جانے والوں میں علاوہ منافقین کے کچھ مومنین بھی تے جو محض کاہلی کی بنا پر پیچھے رہ گئے تھے۔ اب یہاں سے بیان ان کا شروع ہورہا ہے۔ ان میں بھی کچھ ایسے تھے جنہیں ندامت اس درجہ قوی تھی کہ انہوں نے جب آپ ﷺ کی واپسی کی خبر سنی تو اپنے کو مسجد کے ستونوں سے باندھ دیا کہ آپ ﷺ کھولیں تو خیر ورنہ یوں ہی ختم ہوجائیں گے، پہلے ذکر اسی قسم کے نادمین تائبین کا شروع ہوتا ہے، یہ وہ لوگ تھے جن میں گناہ کا ملکہ راسخ نہ تھا بلکہ نوراستعداد پوری طرح باقی تھا۔ (آیت) ” عملا صالحا “۔ مثلا سابق کے غزوات میں شرکت یا خود اسی موقع پر یہ احساس ندامت۔ (آیت) ” اخر سیئا “۔ جیسے بلاعذر معقول اسی غزوہ میں پیچھے رہ جانا۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ جہاد عام حالت میں صرف فرض کفایہ ہے اس لئے اگر کچھ لوگ نہ شریک ہوں تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن جب امام المسلمین (چہ جائیکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حکم عام دے دیں تو اب فرض عین ہوجائے گا اور یہی صورت یہاں تھی۔ (آیت) ” واخر “۔ میں و علاوہ عطف وجمع کے بائے الصاق کے معنی میں بھی لیا گیا ہے۔ قالوا وبمعنی الباء لان الواو للجمع والباء للالصاق (مدارک) مرشد تھانوی (رح) نے کہا ہے یہ لوگ تھے جو نفس لوامہ کے مرتبہ میں تھے۔ جو کبھی نفس مطمئنہ کا منقاد ہو کر اعمال صالح کرنے لگتا اور کبھی اس سے بھاگنے لگتا ہے۔ 189۔ چناچہ اسی شان غفر و رحمت کے تقاضہ سے ان لوگوں کا قصور معاف ہوگیا اور رسول اللہ ﷺ نے خود آکر ان کے ہاتھ ستونوں سے کھول دیئے (آیت) ” عسی اللہ ان یتوب علیھم “۔ یعنی توجہ رحمت کے ساتھ کرے اور ان کی توبہ قبول کرے، عسی جیسا کہ پہلے بھی گزر چکا ہے جب اللہ کی طرف سے آتا ہے تو شک کیلئے نہیں بلکہ یقین دلانے کے لئے آتا ہے۔ قال الحسن عسی من اللہ واجب (جصاص) آیت سے محققین نے یہ نکالا ہے کہ گنگار کیلئے توبہ سے یاس جائز ہی نہیں۔ اور امید قبول وعفو کی برابر اس وقت تک قائم ہے جب تک بندہ بدی کے ساتھ نیکی کی آمیزش بھی کچھ کئے جاتا ہے۔ فی ھذہ الایۃ دلالۃ علی ان المذنب لایجوز لہ الیاس من التوبۃ وانما یعرض ما دام یعمل مع الشر خیر (جصاص)
Ayah 9:103

خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّیْهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 9:103 in the Quran reader

آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لیجیے، اس کے ذریعہ سے آپ انہیں پاک صاف کردیں گے،190۔ اور آپ ان کیلئے دعا کیجیے بلاشبہ آپ کی دعا ان کے حق میں (باعث) تسکین ہے، اور اللہ خوب سننے والا ہے، خوب جاننے والا ہے،191۔

190۔ (ہر ظلمت و کدورت سے) ” جب توبہ سے گناہ معاف ہوگیا تو صدقہ کے آلہ تطہیروتزکیہ کے کیا معنی۔ سو وجہ اس کی یہ ہے کہ توبہ سے گناہ معاف ہوجاتا ہے لیکن گاہے اس کی ظلمت و کدورت کا عموما مندفع ہوجاتی ہے “ (تھانوی (رح) (آیت) ” تطھرو تزکی “۔ کو صدقہ کی صفت بھی سمجھا گیا ہے، اور حال بھی قرار دیا گیا ہے۔ لیکن بہترین ترکیب یہ ہے کہ ضمیرین مخاطب یعنی رسول اللہ ﷺ کی طرف سمجھی جائیں۔ والاجود ان تکون المخاطبۃ للنبی ﷺ اے فانک تطھر وتزکیھم بھا (قرطبی۔ عن الزجاج) گناہوں سے صفائی تو تطھیر میں خود ہی آگئی، اب اس کے بعدتزکیہ لانا معنی میں مزید ترقی کے لئے ہے۔ التزکیۃ مبالغۃ فی التطھیر وزیادۃ فیہ (کشاف، مدارک) (آیت) ” تطھرھم تزکیھم بھا “۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ انفاق مال سے خواہشیں ضعیف ہوتی ہیں اور قوائے نفس منکسر ہوتے ہیں اور مادۂ شہوات کی اصلاح ہوتی ہے۔ (آیت) ” خذ من اموالھم صدقۃ “۔ یہ حضرات بندش سے رہائی پانے کے بعد طرط اخلاص سے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کچھ مال لے کر آئے اور درخواست کی کہ اس کو اللہ کی راہ میں صرف کیا جائے ، (آیت) ” خذ “۔ امروجوبی ہے، فقہاء نے لکھا ہے کہ امام کو قبول صدقات میں توقف وتردوجائز نہیں، صدقہ سے یہاں مراد زکوٰۃ فرض ہے یا کفارہ گناہ والا صدقہ ؟ قول دونوں ہی نقل ہوئے ہیں۔ لیکن ترجیح دوسرے قول کو ہے۔ لیس المراد الصدقۃ الواجبۃ وانماھی صدقۃ کفارۃ الذنب الذی صدر منھم (کبیر۔ عن الحسن) روی عن الحسن انھا لیست بالزکوۃ والمفروضۃ وانماھی کفارۃ الذنوب التی اصابوھا (جصاص) (آیت) ” خذ من اموالھم صدقۃ “۔ صدقہ وصول کرنے کا یہ حکم جو رسول اللہ ﷺ کو مل رہا ہے، اس سے فقہاء نے یہ بھی نکالا ہے کہ تقسیم صدقات امام مسلمین کا حق ہے، اس لئے کسی شخص کا بہ طور خود صدقہ ادا کردینا جائز نہیں کہ اس سے حق امام کا اتلاف لازم آتا ہے۔ یدل علی ان اخذ الصدقات الی الامام وانہ متی ادا ھا من وجبت علیہ الی المساکین لم یجزہ لان حق الامام قائم فی اخذھا فلاسبیل لہ الی اسقاطہ (جصاص) 191۔ سو اس نے ان کے توبہ و استغفار کو اور ان کے الفاظ اعتراف کو خوب سن بھی لیا اور ان کے احساس ندامت کو خوب جان بھی لیا۔ (آیت) ” وصل علیھم “۔ علماء نے یہاں سے یہ نکالا ہے کہ صدقہ جس کو دیا جائے وہ اور امام جس کی خدمت میں صدقہ تقسیم کے لئے پیش کیا جائے ان دونوں کے لئے صدقہ دینے والے کو دعادینا مستحب ہے بلکہ بعض نے تو یہ کہا ہے کہ امام جو اپنے لئے صدقہ نہیں لیتا بلکہ تقسیم صدقات کا صرف امین ومنتظم ہے جب وہ دعائے خیر پر مامور ہوا تو مسکین و محتاج تو بدرجہ اولی دعائے خیروادائے شکر پر مامور ہوگا مشائخ صوفیہ نے اور ترقی کرکے بعدفراغ ضیافت صاحب ضیافت کے حق میں دعائے خیر و برکت اختیار کی ہے اور مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت سے امداد ہمت اور افاضہ انوار صحبت کا حکم نکل رہا ہے (آیت) ” ان صلوتک سکن لھم “۔ اس میں اثبات ہے ان اشخاص کے کمال اخلاص کا، فقہاء صوفیہ نے کہا ہے کہ آیت سے بہ قاعدۂ عبارۃ النص ظاہر ہورہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ مومنین کے تزکیہ اخلاق وتصفیہ قلوب اور عطائے مقام تسکین ورضا پر مامور تھے اور بہ قاعدۂ اشارۃ النص یہ کہ برزگوں کی خدمت بہ غرض حصول دعائے خیر کرنی چاہیے۔ یہ بھی کہا ہے کہ رسول کی دعا امت کے حق میں، امام کی رعایا کے حق میں، مشائخ کی شاگردوں اور مریدوں کے حق میں، مشائخ کی شاگردوں اور مریدوں کے حق میں اور بڑوں کی چھوٹوں کے حق میں وعدۂ قبول رکھتی ہے۔ مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت سے متعدد مسائل صوفیہ کا اثبات ہوتا ہے، مثلا اعتراف ذنوب کی فضیلت، معترف کا قبول عذر، بعض اعمال (مثلا صدقہ) کی برکات، شیخ کی برکات (جیسا کہ تزکیہ کو آپ ﷺ کی طرف منسوب کیا گیا) وقس علی ہذا۔
Ayah 9:104

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ هُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 9:104 in the Quran reader

کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور وہی صدقات کو قبول کرتا ہے اور وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور بڑا رحمت والا ہے،192۔

192۔ (چنانچہ اس تو اب نے ان گنہگاروں کی توبہ قبول کرلی اور اس رحیم نے ان لوگوں کا مال قبول کرنے اور ان کے حق میں دعا کرنے کا حکم دے دیا) (آیت) ” یاخذالصدقت “۔ اخذ یہاں لفظی معنی میں نہیں بلکہ قبول کرلینے کے مفہوم میں ہے۔ الاخذھنا استعارۃ للقبول (روح) (آیت) ” الم یعلموا ان اللہ ھو یقبل التوبۃ “۔ یہاں پر زور دے کر بتایا ہے کہ توبہ قبول کرنے کا تعلق تو خدائے تو اب رحیم سے ہے نہ کہ رسول کریم ﷺ سے۔ اے ان ذلک لیس الی رسول اللہ ﷺ انما اللہ ھو الذی یقبل التوبۃ (مدارک) ھذا نص صریح فی ان اللہ تعالیٰ ھو الا خذلھا والمثیب علیھا وان الحق لہ عزوجل والنبی ﷺ واسطۃ (قرطبی) الفائدۃ الثانیۃ فی ھذا التخصیص ھو ان قبول التوبۃ لیس الی رسول اللہ ﷺ انما الی اللہ الذی ھو یقبل التوبۃ تارۃ ویردھا اخری فاقصدوا اللہ بھا ووجھوھا الیہ (کبیر) عن عبادۃ۔ فعل قبول کا صلہ عن کے ساتھ آیا ہے تو تجاوز عن الذنوب کے مفہوم کے لئے۔ تعدیۃ بعن لتضمن معنی التجاوز (بیضاوی) اے یقبل ذلک متجاوزا عن ذنوبھم التی تابوا عنھا (روح)
Ayah 9:105

وَ قُلِ اعْمَلُوْا فَسَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ وَ سَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 9:105 in the Quran reader

اور آپ کہہ دیجیے کہ عمل کئے جاؤ، سو تمہارے عمل کو اللہ اور اس کا رسول اور مومنین ابھی دیکھے لیتے ہیں، اور تمہیں ضرور ہی غیب وشہادۃ کے جاننے والے کے پاس واپس جانا ہے تو وہ تم کو بتلا دے گا کہ تم اب کیا کرتے رہے ہو،193۔

193۔ نفا ق قلب اور ضعف ایمان کا علاج اس سے بڑھ کر اور کوئی نہیں کہ آخرت وجزائے اعمال کا استحضار پوری پوری طرح رہے اور قرآن مجید ہر ایسے موقع پر اسی علاج سے کام لیتا ہے۔ (آیت) ” فسیری اللہ عملکم “۔ س عنقریب یا ابھی کے معنی میں ہے۔ مراد یہ ہے کہ اسی دنیا میں تمہارے اعمال سے تمہارے اخلاص یا نفاق کا امتحان ہوجائے گا۔ (آیت) ” اعملوا “۔ اس صیغہ جمع کے مخاطب کل لوگ ہیں۔ خطاب للجمیع (قرطبی)
Ayah 9:106

وَ اٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ اِمَّا یُعَذِّبُهُمْ وَ اِمَّا یَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:106 in the Quran reader

اور کچھ اور لوگ (بھی) ہیں (ان کا معاملہ) اللہ کا حکم آنے تک ملتوی خواہ وہ انہیں سزا دے اور خواہ وہ ان کی توبہ قبول کرے،194۔ اور اللہ بڑا علم والا ہے بڑا حکمت والا ہے،195۔

194۔ (شرائط قبول توبہ کے نہ موجود اور موجود ہونے کی بنا پر۔ عدم اخلاص واخلاص کی بنا پر) ملاحظہ ہو حاشیہ 188 ؁۔ اب بیان مومنین کے ایک دوسرے طبقے کا ہورہا ہے۔ یہ لوگ بھی کاہلی اور سہل انگاری ہی کی بنا پر غزوۂ تبوک میں شرکت سے محروم رہ گئے تھے، ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کی واپسی پر نہ تو ایک طرف منافقین کی طرف کچھ عذرات تراشے، لیکن دوسری طرف تابئین صادقین کی طرح یہ بھی نہ کیا کہ اپنے کو ستون سے باندھ دیتے یا کوئی اور سزا اپنے کو دینے لگتے، انہوں نے خدمت اقدس میں حاضری دے کر محض سیدھی اور سچی بات عرض کردی، انہوں جواب ملا کہ وحی الہی کا انتظار کرو، جیسا بھی حکم تمہارے باب میں نازل ہو۔ ان لوگوں کا اپنی کوتاہی پر نادم ہونا تو ظاہر ہی ہے، لیکن آیت سے یہ بھی ظاہر ہوجاتا ہے کہ قبول توبہ کے لئے محض ندامت کافی نہیں جب تک کہ امکانی تدارک کا بھی سامان نہ ہو، ذلک یدل علی ان الندم وحدہ لایکون کافیا فی صحۃ التوبۃ (کبیر) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ مرید کے معاملہ کو بعض اوقات خوف وامید کے درمیان معلق ہی چھوڑ دینا قرین مصلحت ہوتا ہے اس کے عذر کو نہ صریحا قبول کیا جاتا ہے کہ اس سے نصیحت کا اثر ضعیف ہوجاتا ہے اور نہ صریحا رد کیا جاتا ہے کہ اس سے پہلے تو حش پھر مایوس پھر بعد پیدا ہوجاتا ہے اور یہ سب اس کے لئے مضر ہیں، کچھ روز تک معلق رہنے میں اسی کی بہت سی مصلحتیں ہوتی ہیں۔ (آیت) ” اما “۔ کلمہ تردد ہے لیکن ظاہر ہے کہ یہ تردد حق تعالیٰ کی طرف سے نہیں، وہاں تو ہر فیصلہ قطعی ہے، لفظ کا استعمال محاورۂ انسانی کے مطابق ہے اور بندوں کو یہ تعلیم ملی ہے کہ وہ صرف حالت امید میں رہیں۔ واللہ عالم بمصیر الاشیاء ولکن المخاطبۃ للعباد علی ما یعرفون اے لیکن امرھم عندکم علی الرجاء لانہ لیس للعباد اکثر من ھذا (قرطبی) 195۔ چناچہ وہ سب کے اخلاص، درجہ اخلاص وعدم اخلاص سے بھی خوب واقف ہے اور جیسا بھی مقتضاء حکمت ہو، وہ بلاتوبہ یا بعد توبہ معاف بھی کرتا رہتا ہے۔
Ayah 9:107

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّ كُفْرًا وَّ تَفْرِیْقًۢا بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّا الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 9:107 in the Quran reader

اور ان میں ایسے بھی ہیں جنہوں نے ایک مسجد ضرر پہنچانے کو بنائی ہے اور کفر کی غرض سے اور مومنوں کے درمیان تفرقہ ڈالنے کی غرض سے اور اسی غرض کیلئے جو اس کے قبل اللہ اور اس کے رسول سے لڑچکا ہے اسے ایک کمین گاہ مل جائے،196۔ اور یہ لوگ قسم کھاجائیں گے کہ ہماری غرض بجز بھلائی کے کچھ نہیں،197۔ اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ لوگ (بالکل) جھوٹے ہیں

196۔ مومنین کا تذکرہ یہاں روک کر اب ذکر پھر منافقین کا شروع ہوگیا، الذین کی تقدیر کلام ومنھم الذین ہے اور جملہ کا عطف جملہ سابق پر ہے۔ اے ومنھم الذین اتخذوا (کبیر) اے ومنہم الذین (روح) عطف جملۃ علی جملۃ (قرطبی) رسول اللہ ﷺ جب مکہ معظمہ سے ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے تو پہلے مضافات شہر کی آبادی محلہ، قبا میں قیام فرمایا، اور وہیں ایک جگہ نماز کے لئے مقرر کرلی، پھر جب آپ ﷺ شہر میں آگئے تو مومنین مخلصین نے محلہ قبا میں آپ نے نماز پڑھنے کی جگہ پر ایک مسجد تعمیر کرلی۔ اور وہی نماز باجماعت ہونے لگی۔ اب منافقین نے سازش کرکے ایک دوسری جگہ سوچی کہ یہاں مسجد کی شکل کی ایک عمارت تیار ہوجائے تو اس میں بیٹھ کر خوب اسلام کے خلاف کمیٹیاں، جلسہ اور منصوبہ بازیاں ہوا کریں، مسجد ضرار اس کا نام اسی لئے مشہور ہوا کہ اس کا مقصد ہی مسلمانوں کو ضرر پہنچانا تھا (آیت) ” ضرارا “۔ یعنی مقاصد اسلام ومسلمین کو ضرر پہنچانے کو (آیت) ” کفرا “۔ یعنی عداوت رسول کا چرچا کرنے کو (آیت) ” تفریقا بین ال مومنین “۔ جب ایک مسجد خاص شہر میں بن جاتی تو اہل شہر کی ایک جماعت تو شہر سے باہر جانے کے بجائے وہاں ضرور ہی آجاتی۔ انما کان مرادھم التفریق بین المومنین وان یتحزبوا فیصلی حزب فی المسجدوحزب فی مسجد اخر لتختلف الکلمۃ وتبطل الالفۃ والحال الجامعۃ وارادوابہ ایضا لیکفروا فیہ بالطعن علی النبی ﷺ والاسلام (جصاص) (آیت) ” ارصادا لمن حارب اللہ ورسولہ “۔ اشارہ ہے ایک مسیحی راہب ابوعامر کی جانب، منافقین میں طے ہوگیا تھا کہ اب جوہ جب مدینہ آیا کرے گا تو اس کو اسی میں ٹھیرایا کریں گے، یہ راہب اسلام کا شدید دشمن تھا۔ ہرقل مسیحی شہنشاہ روم سے دوستی کا مدعی تھا، کہتا تھا وہاں سے باقاعدہ فوج لاکر اسلام کو نیست ونابود کردوں گا۔ قال ابن عباس و مجاھد ارادبہ اباعامر الفاسق وکان شدید العداوۃ للنبی ﷺ عنادا وحسدا لذھاب ریاستہ التی کانت فی الاوس قبل ھجرۃ النبی ﷺ الی المدینۃ فقال للمنافقین سیاتی قیصر واتیکم بجند فاخرج بہ محمدا و اصحابہ (جصاص) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت سے کمال شناعت اس شخص کے فعل کی معلوم ہوئی جو دین کو اپنی غرض فاسد کا آلہ بنائے۔ فقہاء نے یہیں سے یہ نکالا ہے کہ فعل پر حسن وقبح کا حکم ارادۂ فاعل کے لحاظ سے لگایا جائے گا۔ انہ دلت ھذہ الایۃ علی ترتیب الفعل فی الحسن اوالقبح بالارادۃ (جصاص) 197۔ منافقین کا دعوی یہ تھا کہ ہمیں تو امت اسلامیہ کی عین آسایش اور اس کے لئے مزید گنجائش ہی مقصود ہے بجائے ایک کے دو مسجدیں ہوگئیں، قریب والوں کو کتنی آسانی ہوگئی۔ وقس علی ھذا “۔ آہ، کہ آج بھی کتنے الاالحسنی کہنے والے اسی طرح مسلمانوں کے ایمان پر چھاپے مار رہے ہیں !
Ayah 9:108

لَا تَقُمْ فِیْهِ اَبَدًا١ؕ لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْهِ١ؕ فِیْهِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَهَّرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُطَّهِّرِیْنَ Open ayah 9:108 in the Quran reader

آپ اس میں کبھی بھی نہ کھڑے ہوں،198۔ (البتہ جس) مسجد کی بنیاد تقوی پر اول روز سے پڑی ہے وہ (واقعی) اس لائق ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں،199۔ اس میں (ایسے) آدمی ہیں کہ وہ خوب پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں، اور اللہ خوب پاک ہونے والوں کو پسند کرتا ہے،200۔

198۔ (نماز کے لیے) اے لا تقم فیہ للصلاۃ (قرطبی) یہ مسجد ضرار تو صرف صورۃ مسجد تھی ورنہ حقیقۃ تو عداوت اسلام کے لیے ایک کمین گاہ تھی جیسے کہ ابھی قرآن مجید تصریح کرچکا ہے، فقہاء نے اس سے یہ نکالا ہے کہ ہر ایسی مسجد جس کی بنیاد معصیت اور مخالفت مومنین پر ہو گرا دینے کے قابل ہے۔ فیہ الدلالۃ علی ان المسجد المبنی لضرار المو منین والمعاصی لایجوز القیام فیہ وانہ یجب ھدمہ (جصاص) بعض نے لاتقم سے مجاز مراد لی ہے۔ یعنی کسی قسم کا التاف ونصرت اس عمارت اور اس کے بانیوں کی جانب نہ کریں۔ اے لاتنصرہ ولا تلتفت الیہ ولا تکن معھم (جصاص) محض نام یانیت جبکہ حقیقت سے خالی ہو ہرگز کسی حکم شرعی پر مؤثر نہیں ہوسکتا، چناچہ نام اس عمارت کا بھی مسجد ہی تھا تاہم چونکہ حقیقت مسجدی سے بالکل خالی تھی اس لیے قابل توقیر واحترام تو کیا سمجھی جاتی الٹے گرا دیئے جانے اور جلا دیئے جانے کے قابل سمجھی گئی، چناچہ احادیث میں بہ تصریح آتا ہے کہ آپ ﷺ نے صحابہ کو بھیج کر اسے منہدم کرا دیا اور اس میں آگ لگوا دی۔ اور یہی حکم ہر خلاف شریعت رسم کا ہے۔ خواہ اس کا انتساب اسمی کسی ولی یا کسی نبی کی جانب ہو۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس دلیل ہے کہ امر مکروہ شرعی کے لیے سبب بننے سے بھی تحرز ضروری ہے۔ 199۔ (اور نماز پڑھا کریں) (آیت) ” لمسجد “۔ الخ یعنی مسجد قبا۔ لام ابتداء کا ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ل قسم کا ہے۔ اللام لام الابتداء (معالم) وقیل لام القسم تقدیرہ واللہ مسجد اسس (معالم) (آیت) ” احق ان تقوم فیہ “۔ مرشدی تھانوی (رح) نے فرمایا کہ ایسی عمارت سے جس کی بنیاد تقوی پر ہوصفائے وقت وطیب حال وذوق وجدان کا اثر پیدا ہوتا ہے برخلاف اس کے جو خلاف تقوی پر مبنی ہوگی اس میں کدورت اور تفرقہ اور قبض کا اثر نفس میں پیدا ہوتا ہے۔ ” مسجد ضرار “۔ کے لیے منافقین نے حضور ﷺ سے درخواست کی تھی کہ غزوۂ تبوک سے واپسی پر آپ ایک بار یہاں نماز پڑھ لیں تو بڑی برکت حاصل ہوجائے اس کا جواب اوپر مل چکا اور مسجد قبا کے لیے یہ مدح بلادرخواست ارشاد ہوگئی۔ فقہاء نے آیت سے متعدد مسئلے نکالے ہیں۔ مثلا یہ کہ بعض عمارتیں نماز کے لیے دوسری عمارتوں سے افضل ہوتی ہیں۔ اور بعض میں نماز پڑھنا ممنوع ہوتا ہے ھذا یدل علی ان بعض الاماکن قدیکون اولی بفعل الصلوۃ من بعض وان الصلوۃ قد تکون منھیۃ عنھا فی بعضھا ویدل علی فضیلۃ الصلوۃ فی المسجد بحسب ما بنی علیہ فی الاصل (جصاص) 200۔ (پس مسجد قبا والے تو عین مقام محبوبیت پر ٹھیرے) فقہاء مفسرین نے لکھا ہے کہ اہل مسجد کی فضیلت خود مسجد کی اور اس میں نماز کی فضیلت کی دلیل ہے۔ فیہ الدلالۃ علی ان فضیلۃ اھل المسجد فضیلۃ للمسجد واللصلاۃ فیھا (جصاص) بعض حدیثوں میں آیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اس سے مراد مسجد نبوی ہے تو یہ ارشاد نبوی ﷺ اس تفسیر قرآنی کے منافی ذرا بھی نہیں۔ مسجد قبا کا مدلول ہونا تو بہ عبارت النص ہے اور مسجد نبوی کا مدلول ہونا بدلالۃ النص ہے یعنی جب صحابہ متقین کے بانی ہونے سے مسجد قباء اتنی مقبول ٹھیری تو مسجد نبوی کے بانی امام المتقین خود حضور ﷺ سرور عالم تھے وہ ظاہر ہے کہ اس کی مصداق بدرجہ اولی ہوگی، فقہاء مفسرین نے آیت کے عموم الفاظ سے یہ مطلب نکالا ہے کہ ہر وہ مسجد جو جائز طور پر بنائی جائے اور ہر وہ نمازی جو طہارت کو لازم ومحبوب بنائے، اس خطاب کے تحت میں شامل ہیں اس لیے کہ حکم وصف پر لگایا گیا ہے نہ کہ ذات پر۔۔۔ اور رجال سے بھی مرد ہی مخصوص نہیں، مرد عورت سب اس حکم میں داخل ہیں۔ (آیت) ” فیہ رجال یحبون ان یتطھروا “۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس میں اشارہ ہے کہ صالحین کی صحبت کو بھی اثر عظیم ہے (جیسا کہ اس مسجد میں قیام کی ترجیح کی علت کے موقع میں اس کو فرمادیا گیا) غرض یہ کہ حصول جمعیت میں مکان اور اخوان کی رعایت ضروری ہے اور اہل طریق سے منقول ہے کہ اس کے ساتھ زمانہ کی رعایت کو بھی دخل ہے۔
Ayah 9:109

اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى تَقْوٰى مِنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٍ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهٖ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:109 in the Quran reader

سوآیا وہ شخص جس نے اپنی عمارت کی بنیاد اللہ کے تقوی اور رضامندی پر رکھی وہ بہتر ہے یا وہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد کسی گھاٹی کے کنارہ پر رکھی جو گرنے ہی کو ہے،201۔ پھر وہ (عمارت) اس کو لے کر آتش دوزخ میں گر پڑی اور اللہ ظالم لوگوں کو راہ نہیں دکھاتا،202۔

201۔ مراد اس سے اغراض باطلہ کفریہ ہیں۔ تشبیہ ناپائداری بےثباتی، کمزوری میں دی گئی ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ دو عمارتیں ہیں ایک کی بنیاد تقوی اور رضائے الہی پر ہے اور دوسری کی معصیت وکفر پر ہے۔ پہلی معزز ہے اور باقی رکھنے کے قابل، دوسری ذلیل ہے اور گرادیئے جانے کے قابل ہے۔ وحاصل الکلام ان احد البنائین قصد بانیہ ببناۂ تقوی اللہ ورضوانہ والبناء الثانی قصد بانیہ ببناۂ المعصیۃ والکفر فکان البناء الاول شریفا واجب الابقاء وکان الثانی خبیثا واجب الھدم (کبیر) 202۔ یعنی ان کو جو نام دین کا لے کر طرح طرح کے مفسدہ دین ہی میں برپا کرتے رہتے ہیں۔ فانھار بہ۔ ضمیر بانی عمارت کی طرف سے جو اس میں رہا کرتا تھا۔ اے بالبانی (معالم) اے الموسس البانی (بحر) مفسرین کا ایک گروہ اس طرف گیا ہے کہ یہ بعینہ حقیقت کا بیان ہے یعنی وہ مسجد ضرار واقعۃ اسی طرح دوزخ میں گرا دی گئی، لیکن بہتوں نے یہ بھی کہا ہے یہ بیان صرف مثال و تشبیہ کے طور پر ہے کہ ہر ایسے کام کا جس کی بنیاد اخلاص پر نہیں بلکہ کفر ونفاق پر ہوتی ہے، خاتمہ جہنم وہلاکت ہی پر ہوتا ہے۔ قیل ھذا ضرب مثل اے من اسس بنیانہ علی الاسلام خیر ام من اسس بنیانہ علی الشرک والنفاق وبین ان بناء الکافر کبناء علی شفا جرف ھار یتھور اھلہ فی جھنم (بحر) واختار غیر واحد ان معنی الایۃ افمن اسس بنیان دینہ علی قاعدۃ محکمۃ ھی التقوی وطلب الرضا بالطاعۃ خیر ام من اسس علی قاعدۃ ھی اضعف القواعد وارخاھا فادی بہ ذلک لخورہ وقلۃ استمسا کہ الی السقوط فی النار (روح) فقہاء مفسرین نے آیت سے یہ بھی نکالا ہے کہ جس کام کی ابتداء اللہ کی رضا جوئی اور اخلاص نیت سے کی جاتی ہے اسے پایداری نصیب ہوتی ہے۔ اور اس میں برکت ہوتی ہے۔ فی ھذہ الایۃ دلیل علی ان کل شئی ابتدیء بنیۃ تقوی اللہ والقصد لوجھہ الکریم فھو الذی یبقی ویسعدبہ صاحبہ ویصعد الی اللہ ویرفع الی (قرطبی)
Ayah 9:110

لَا یَزَالُ بُنْیَانُهُمُ الَّذِیْ بَنَوْا رِیْبَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلَّاۤ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 9:110 in the Quran reader

ہمیشہ ان کی یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے ان کے دلوں میں کھٹکتی رہے گی سوا اس کے کہ ان کے دل ہی فنا ہوجائیں،203۔ اور اللہ بڑا علم والا ہے، بڑا حکمت والا ہے،204۔

203۔ (توالبتہ ان دلوں کے فنا ہونے ساتھ ہی وہ دل کی حسرتیں بھی ختم ہوجائیں۔ (آیت) ” لایزال بنیانھم الذی بنوا ریبۃ فی قلوبھم “۔ یعنی ہمیشہ موجب حسرت و حرمان ہی رہے گی کہ جن اغراض سے بنائی تھی، وہ کوئی بھی پوری نہ ہوئیں، اور رسوائی جو ہوئی وہ الگ۔ (آیت) ” الا ان تقطع قولبھم “۔ کنایہ ہے دوام حسرت سے، یہ مراد نہیں کہ موت وفنا کے بعد انہیں راحت نصیب ہوجائے گی۔ ھذا کنایۃ عن تمکن الریبۃ فی قولبھم التیھی محل الادراک واضمار الشرک بحیث لایزول منھا ماداموا احیاء (روح) والمقصود ان ھذہ الریبۃ فی قلوبھم ابدا ویموتون علی ھذا النفاق (کبیر) 204۔ وہ سب کی ایک ایک حالت سے واقف ہے۔ اور ایک ایک سے اسی کے حال کے مطابق ومناسب معاملہ کرے گا۔
Ayah 9:111

اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ١ؕ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیَقْتُلُوْنَ وَ یُقْتَلُوْنَ١۫ وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ وَ الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ مِنَ اللّٰهِ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْعِكُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِهٖ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:111 in the Quran reader

بلاشبہ اللہ نے مومنین سے خرید لیا ہے ان کی جانوں اور ان کے مالوں کو اس کے عوض میں کہ انہیں جنت ملے گی یہ لوگ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں سو (کبھی) مار ڈالتے ہیں اور (کبھی) وہ مار ڈالے جاتے ہیں،205۔ اس پر (ہماری طرف سے) سچا وعدہ ہے توریت اور انجیل اور قرآن میں،206۔ اور اللہ سے بڑھ کر کون اپنے عہد کا پورا کرنے والا ہے ؟ سو تم خوشی مناؤ اپنی بیع پر جس کا تم نے سودا کیا ہے اور یہی بڑی کامیابی ہے،207۔

205۔ (اور وہ معاملہ بیع دونوں صورتوں میں قائم رہتا ہے) اصل معاملہ بیع صرف اس قدر ہے کہ مومنین اپنے جان ومال کو بلاشرط قید وحجت کے اللہ کے حضور میں نذر کررہے ہیں اور ادھر سے اس نذرانہ کے عوض میں جنت مل رہی ہے۔ یخبر تعالیٰ انہ عاوض من عبادہ المومنین عن انفسھم واموالھم اذ بذلوھا فی سبیلہ بالجنۃ (ابن کثیر) جہاد قتال اسی اصل کی ایک اہم فرع ہے۔ (آیت) ” اشتری “۔ لفظ اشتراء کا اس موقع پر استعمال غایت شفقت وکرم ہی سے ہے ورنہ کسی بندہ کی جان اور مال اس کی اپنی ملک ہے کب ؟ یہ ملک تو تماتر اللہ ہی کی ہے اور وہ جو چاہے بلا کسی معاوضہ یا انعام کا سوال درمیان لائے حکم دے دے، اپنی ہی ملک کو دوسرے سے ” خرید کر “ لینا اور اس کی قیمت ادا کرنا بجز احسان بےغایت کے اور کیا ہے ؟ وھذا من فضلہ وکرمہ واحسانہ فانہ قبل العوض عما یمل کہ (ابن کثیر) وھو عوض عظیم لایدانیہ المعوض ولا یق اس بہ فاجری ذلک علی مجاز مایتعارفونہ فی البیع والشراء فسمی ھذا شراء (قرطبی) روایتوں میں آتا ہے کہ 13 ق ھ ؁ ستر شرفاء مدینہ نے مکہ میں آکر رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی (اور اس بیعت کا نام بیعت عقبہ ثانیہ ہے) اور ان کے ایک لیڈر عبداللہ بن رواحہ ؓ نے عرض کی کہ آپ اپنے اور اپنے رب کی طرف سے شرطیں بیان فرمائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے رب کی طرف سے تو یہ ہے کہ اس کی عبادت کرو، اور کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ اور میری طرف سے شرط یہ ہے کہ جس طرح اپنے جان ومال کی حفاظت کرتے ہو، میری بھی حفاظت کرو، وہ بولے کہ اچھا تو پھر ہمیں کیا ملے گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔” جنۃ “۔ وہ لوگ بول اٹھے ربح البیع لانقیل ولا نستقیل یہ سودا تو بڑے نفع کا ہوا۔ ہم نہ اس بیع کو توڑیں نہ اس کے توڑنے کی درخواست کریں ! تو غرض یہ کہ اصل بیع اسی بذل نفوس واموال کا تھا۔ قتال ومقاتلہ اسی کی فرع ہے۔ اللہ کا یہ وعدہ ظاہر ہے کہ اس خاص واقعہ کے بعد سے امت محمدی ﷺ کے ایک ایک مجاہد سے قیامت تک کے لئے ہے۔ ثمھی بعد ذلک عامۃ فی کل مجاھد فی سبیل اللہ من امۃ محمد ﷺ الی یوم القیامۃ (قرطبی) فقہاء نے یہاں سے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ مالک اور غلام کے درمیان معاملت جائز ہے۔ ھذہ الایۃ۔ دلیل علی جواز معاملۃ السید مع عبدہ وان کان الکل للسید (قرطبی) (آیت) ” فیقتلون ویقتلون “۔ اس ٹکڑے نے صاف کردیا کہ وہ انعام بےبدل یعنی جنت، مقتول ہونے یا شہادت پانے ہی پر منحصر نہیں۔ محض اپنی طرف سے جان پیش کردینے پر ہے۔ دنیا میں انجام اس کا خواہ کچھ بھی ہو۔ ولم یجعل المعقود علیہ کو نھم مقتولین فقط بل کو نھم قاتلین ایضا لاعلاء کلمۃ اللہ تعالیٰ ونصرۃ دینہ سبحانہ (روح) 206۔ قرآن تو اس مضمون کی تکرار سے بھرا پڑا ہے۔ اور قرآن کے ساتھ توریت وانجیل کے ناموں کا اضافہ تاکید بیان کے لئے ہے کہ یہ مضمون اتنا اہم ہے کہ سب ہی کتب آسمانی میں درج ہوچکا ہے۔ (آیت) ” علیہ “۔ یعنی اسی بذل نفوس واموال پر، ایثار جان ومال پر۔ (آیت) ” وعدا “۔ ” حقا “۔ سچا وعدہ جنت کا۔ (آیت) ” فی التورۃ “۔ توریت جس کی تحریفات دوست دشمن سب کو مسلم ہیں، اب اس میں اگر کوئی مضمون اس قسم کا نہ ملے، جب بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ لیکن یہ بھی شاید قرآن ہی کا اعجاز ہے کہ اللہ کی محبت ورضاجوئی کی اہمیت کے مضمون سے موجودہ توریت بھی خالی نہیں :۔ ” سن لے اے اسرائیل خداوند ہمارا اکیلا خداوند ہے۔ تو اپنے سارے دل اور اپنے ساے جی اور اپنے سارے زور سے خداوند اپنے خدا کو دوست رکھ۔ “ (استثناء 6: 4، 5) اور خداوند تیرا خدا تیرے دل اور تیری نسل کے دل کا ختنہ کرے گا تاکہ تو خداوند اپنے خدا کو اپنے سارے دل اور سارے جی سے دوست رکھے۔ “ (استثناء 30: 6) (آیت) ” والانجیل “۔ انجیل تو توریت سے بھی محرف تر اور اس سے کہیں زیادہ مسخ شدہ ہے۔ تاہم یہ خدا کی رضاجوئی کی اہمیت کا مضمون اس سے بھی ابھی تک محو نہیں ہوسکتا ہے :۔ ” جس کسی نے گھروں، یا بھائیوں یا بہنوں یا باپ یا ماں یا بچوں یا کھیتوں کو میرے نام کی خاطر چھوڑ دیا ہے اس کو سو گناملے گا اور ہمیشہ کی زندگی کا وراث ہوگا۔ “ (متی 19: 29) 207۔ یعنی یہی آخرت کا اطمینان اور جنت کا یقین۔ (آیت) ” ومن اوفی بعھدہ من اللہ “۔ انتہائی تاکید وتنبیہ کے طور پر یاد دلادیا ہے کہ وعدہ کسی اور کا نہیں، جس میں احتمال بھی خلف وعدہ کا ہو، وعدہ اس کا ہے جس کے وعدہ میں اس کا امکان ہی نہیں (آیت) ” فاستبشروا “۔ اوپر سے صیغہ غائب چلا آرہا تھا۔ ؛ اب معا بہ قاعدہ صفت التفات صیغہ مخاطب شروع ہوگیا۔ جو دلیل ہے مخاطبین کے کمال شرف واکرام کی۔ ہر مومن جب توحید و رسالت کا اقرار کرتا ہے، تو اس خاص بیع کا اقرار بھی ضمنا کسی درجہ میں کر ہی لیتا ہے۔ اور شاید اسی لئے حسن بصری نے قسم کے ساتھ کہا ہے کہ یہ بشارت امت محمدی ﷺ کے ایک ایک فرد کے لئے ہے۔ وقال الحسن واللہ ماعلی الارض مومن الا یدخل فی ھذہ البیعۃ (قرطبی) امام رازی (رح) نے لکھا ہے کہ اس آیت میں دس دس تاکیدیں اکٹھی ہوگئی ہیں۔ مثلا لفظ وعدا اور پھر علیہ اور پھر حقا وغیرہا۔
Ayah 9:112

اَلتَّآئِبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآئِحُوْنَ الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ النَّاهُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ الْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:112 in the Quran reader

(وہ مجاہدین) توبہ کرتے رہنے والے ہیں عبادت کرتے رہنے والے ہیں، حمد کرتے رہنے والے ہیں، روز رکھنے والے ہیں رکوع کرتے رہنے والے ہیں، سجدہ کرتے رہنے والے ہیں، نیک باتوں کا حکم کرتے رہنے والے ہیں اور بری باتوں سے روکتے رہنے والے ہیں اور اللہ کی حدوں کا خیال رکھنے والے ہیں، اور مومنین کو خوشخبری سنا دیجیے،208۔

208۔ (اسی جنت کی) (آیت) ” ال مومنین “۔ مراد وہی مسلمان ہیں جن میں جہاد کرنے کے ساتھ ساتھ صفات بالا بھی موجود ہوں جن پر جنت کا وعدہ ہے۔ (آیت) ” التآئبون۔۔۔ اللہ “۔ مطلب یہ ہے کہ وہ مجاہدین ایسے ہیں جو علاوہ جہاد کے ان صفات کمال کے ساتھ بھی موصوف ہیں۔ یہ صفات اجر جہاد کی شرط نہیں، البتہ ان کے اجتماع پر ثواب وفضیلت میں کثرت وقوت پیدا ہوجاتی ہے۔ گویا مجاہدین کو ترغیب ہے کہ محض جہاد پر نہ بیٹھے رہیں بلکہ ان عبادات کو بھی ہمیشہ بجا لاتے رہیں۔ (آیت) ” السآئحون “۔ حدیث نبوی میں اس کی شرح الصائمون (روزہ داروں) سے آئی ہے اور صحابہ وتابعین سے بھی یہی منقول ہے۔ الصائمون عن ابن مسعود وابن عباس وغیرھما (قرطبی) رواہ ابوہریرہ مرفوعا عن النبی ﷺ انہ قال سیاحۃ امتی الصیام (قرطبی) عن ابن مسعود ؓ وابی ہریرہ ؓ ان النبی ﷺ سئل عن ذلک فاجاب بما ذکروا الیہ ذھب جلۃ من الصحابۃ والتابعین (روح) ایک معنی طلبہ علم کے بھی لئے گئے ہیں جو علم کی تلاش میں ایک شہر سے دوسرے شہر کی سیاحت کرتے رہتے ہیں۔ المراد طلاب العلم ینتقلون من بلد الی بلد فی طلب العلم (کبیر۔ عن عکرمۃ) قیل ھم الذین یسافرون لطلب الحدیث والعلم (قرطبی) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ یہاں جنتیوں کی جن صفات کا ذکر اس تصریح کے ساتھ ہے یہ صاف ان جاہل صوفیہ کے رد میں ہے شریعت کے خلاف چلنا اور احکام شریعت کو توڑنا کوئی دلیل کمال سمجھتے ہیں۔
Ayah 9:113

مَا كَانَ لِلنَّبِیِّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِیْنَ وَ لَوْ كَانُوْۤا اُولِیْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 9:113 in the Quran reader

نبی اور جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کیلئے جائز نہیں کہ وہ مشرکوں کے لئے مغفرت کی دعا کریں اگرچہ وہ (مشرکین) رشتہ دار ہی ہوں جب ان پر یہ ظاہر ہوچکے کہ وہ (اموات) اہل دوزخ ہیں،209۔

209۔ (اور اس کے ظہور کی صورت یہی ہے کہ وہ لوگ حالت کفر میں مرے ہوں یعنی وقت نزع تک اقرار انہوں نے نہ کیا ہو) حکم اسی ظاہر پر لگایا جائے گا باقی اصل حال تو عالم الغیب ہی کو معلوم ہوتا ہے، ظاھر حال المرء عند الموت یحکم علیہ بھا فان مات علی الایمان حکم لہ بہ وان مات علی الکفر حکم لہ بہ وربک اعلم بباطن حالہ (قرطبی) (آیت) ” ان یستغفروا للمشرکین “۔ مرنے کے بعد اس کے دعائے مغفرت کرنا ایک بڑا حق ہے جو میت کا زندوں پر رہ جاتا ہے سورة بھر میں برابر کافروں سے ترک تعلقات کے احکام ہیں۔ اب حکم یہ مل رہا ہے کہ جہاں تک کافروں کا تعلق ہے۔ اس بڑے حق سے بھی دست بردار ہوجائیں۔ جرم شرک وکفران کے حق کو بالکل مٹا دیتا ہے۔ (آیت) ” ولو کانوا اولی قربی “۔ یہ قرابت کا تعلق خواہ مومنین کے ساتھ ہو یا خود نبی کے ساتھ۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کسی بزرگ کے ساتھ کوئی نسبت قائم ہوجانا (یہاں تک کہ نسبت کسبی بھی) نجات کیلئے بالکل کافی ہے۔ وہ ذرا سوچیں کہ جب رسول اللہ ﷺ تک سے مجرد نسبت (بلاایمان) اس آیت کی رو سے کافی نہیں تو پھر کسی اور بزرگ کا ذکر ہی کیا۔
Ayah 9:114

وَ مَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ١ؕ اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِیْمٌ Open ayah 9:114 in the Quran reader

اور ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے باپ کے حق میں دعائے مغفرت کرنا تو محض وعدہ کے سبب تھا جو انہوں نے اس سے کرلیا تھا،210۔ پھر جب ان پر ظاہر ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو اس سے بےتعلق ہوگئے،211۔ بیشک ابراہیم (علیہ السلام) بڑے ہی نزم دل (اور) بردبار تھے،212۔

210۔ (اس کی حالت حیات میں، جبکہ آپ کو یہ علم ہی نہیں ہوسکتا تھا کہ اس کی موت کفر پر ہوگی اور اس لئے وہ مثال اب کسی کے لئے حجت وسند نہیں) اس وعدہ کا ذکر سورة مریم کی اس آیت میں ہے۔ ساستغفرلک ربی انہ کان بی حفیا (آیت) ” ماکان “۔ قرآن مجید میں اس کا استعمال دو مختلف مفہوموں کے لئے ہوا ہے کہیں تو تکوینی حیثیت سے کسی واقعہ کی نفی مراد ہوتی ہے مثلا اس آیت میں ماکان لنفس ان تموت الا باذن اللہ “۔ اور کہیں تشریعی طور پر نہی یا ممانعت مثلا اسی آیت میں۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت اس امر کی دلیل ہے کہ شیخ جس فعل سے مرید کو منع کرے اور خود اس کو کسی عارض سے کرنا پڑجائے تو چاہئے کہ مرید کے سامنے اسے کھول کر بیان کردے تاکہ وہ اس کی تقلید میں نہ مبتلا ہوجائے۔ 211۔ (اور اس کے حق میں دعائے مغفرت چھوڑ دی) جب موت کفر پر واقع ہوجائے جب تو مغفرت کا احتمال ہی نہیں، لیکن زندگی بھر تو یہ امید قوی یا ضعیف بہر حال لگی رہتی ہے کہ شاید اب اسے توفیق ہدایت ہوجائے اور مغفرت ہدایت سے لازم آجاتی ہے چناچہ زندہ کافر والدین کے حق میں دعائے مغفرت مطلق ممنوع نہیں۔ وقد قال کثیر من العلماء لا باس ان یدعوا الرجل لابویہ الکافرین ویستغفر لھما ما داما حیین (قرطبی) بلکہ حضرات صحابہ کا عمل ہی یہی تھا۔ قال ابن عباس کانوا یستغفرون لموتاھم فنزلت فافسکوا عن الاستغفارولم ینھھم ان یستغفروا للاحیاء حتی یموتوا (قرطبی) 212۔ (چنانچہ باوجود اس کے کہ باپ نے کیسی کیسی سختیاں کیں آپ برابر حلم ہی سے کام لیتے گئے، یہاں تک کہ جوش شفقت سے طلب مغفرت کا وعدہ بھی کرلیا) مفسر تھانوی (رح) نے یہ نکتہ لکھا ہے کہ کسی کی زندگی میں اس کے لئے طلب مغفرت کرنے کے معنی ہی یہ ہیں کہ اس کے حق میں طلب ہدایت کی جائے۔ اور یہ جو حدیث بخاری میں آیا ہے کہ آخرت میں حضرت ابراھیم (علیہ السلام) آزر کو دوزخ میں دیکھ کر دعا کریں گے کہ مجھے حسب وعدہ رسوائی سے بچایا جائے اور اس پر آزر کی شکل انسان سے جانور میں تبدیل ہوجائے گی کہ کوئی دیکھ کر پہچان ہی نہ سکے، اس پر بہترین تقریر مفسر تھانوی (رح) کی بیان القرآن میں موجود ہے۔ اسی کو ملاحظہ فرما لیا جائے۔ (آیت) ” عدو للہ “۔ یعنی اللہ کے دین کا دشمن، اللہ کے قانون کا باغی، ورنہ براہ راست اللہ سے دشمنی کوئی بندہ کر ہی کیسے سکتا ہے۔ (آیت) ” اواہ “۔ کہتے ہیں خشیت الہی سے مغلوب کو۔ یعبر بالاواہ عمن یظھر خشیۃ اللہ (راغب) حدیث نبوی ﷺ میں اس کی شرح الخاشع المتضرع سے آئی ہے۔ رواہ عبداللہ بن شداد بن الھاد عن النبی ﷺ (قرطبی)
Ayah 9:115

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِلَّ قَوْمًۢا بَعْدَ اِذْ هَدٰىهُمْ حَتّٰى یُبَیِّنَ لَهُمْ مَّا یَتَّقُوْنَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 9:115 in the Quran reader

اور اللہ یہ نہیں کرتا کہ کسی قوم کو اس کے ہدایت کئے پیچھے گمراہ کردے جب تک ان لوگوں صاف صاف نہ بتادے کہ وہ ان چیزوں سے بچتے رہیں،213۔ بیشک اللہ ہر چیز کا پورا علم رکھتا ہے،214۔

213۔ (پس اس قاعدہ کے مطابق جب تک تم کو استغفار مشرکین سے ممانعت کی نہیں کی گئی تھی اس استغفار کی یہ سزا تمہیں مل نہیں سکتی کہ تم میں گمراہی کا مادہ پیدا کردیا جائے) ” ناجائز افعال کا خاصہ ہے کہ ان کے کرنے سے قلب میں ایک ظلمت پیدا ہوجاتی ہے جس سے گمراہی کا مادہ غیریبہ پیدا ہوجاتا ہے۔ اور اس پر نظر کرکے مومن خائف کو توھم ہوسکتا ہے کہ ہم کو اس استغفار ناجائز سے کہیں یہ ضرر مذکور نہ پہنچا ہو۔ اس کے متعلق تسلی فرماتے ہیں کہ یہ اثر کسی فعل میں اس کے ممنوع ہونے کے بعد ہے نہ کہ قبل ممنوع ہونے، کیونکہ عدم جواز بعد نہیں کے حادث ہے۔ “ (تھانوی (رح) (آیت) ” لیضل “۔ حق تعالیٰ کی طرف یہ اضلال یا گمراہ کرنے کی نسبت محض تکوینی حیثیت سے مسبب الاسباب ہونے کی بنا پر ہے ورنہ حقیقۃ اللہ تعالیٰ کسی کو کسی حال میں بھی گمراہی کی طرف نہیں لے جاتے، بلکہ آیت پر پورے غور کرنے سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ بندے کی ارادی نافرمانی ہی اسے اضلال کی طرف لے جاتی ہے جب بندہ حکم (آیت) ” ما یتقون “۔ کی پروا نہیں کرتا اور اس کی ” تبیین “ ہوچکنے کے بعد بھی اس کی خلاف ورزی کیے جاتا ہے، جب جاکر اس کا عمل اضلال شروع ہوتا ہے۔ ففی ھذا ادل دلیل علی ان المعاصی اذا ارتکبت وانتھک حجابھاکانت سببا الی الضلالۃ والردی وسلم ا الی ترک الرشاد والھدی (قرطبی) 214۔ (چنانچہ اس کا بھی علم رکھتا ہے کہ بغیر اس کے بتائے ہوئے کوئی بھی ایسے احکام کو سمجھ نہیں سکتا اور اسی لئے قبل حکم ممانعت ان افعال سے مضرت نہیں پہنچنے دیتا، اور اس سے بھی خوب واقف ہے کہ مستحق ہدایت کون ہے اور مستحق اضلال کون)
Ayah 9:116

اِنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 9:116 in the Quran reader

بیشک وہ اللہ ہی ہے جس کی حکومت آسمانوں اور زمین میں ہے (وہی) جلاتا ہے اور مارتا ہے اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی بھی یارو مددگار نہیں،215۔

215۔ وہی قبل ممانعت ضرر سے بچاتا ہے اور وہی بعد ممانعت عدم تعمیل پر سزا بھی دینے والا ہے۔ (آیت) ” ان اللہ۔۔۔ یمیت “۔ یہاں یہ بتلا دیا کہ ہر طرح کی قدرت، حکومت، اختیار اسی کا ہے، وہی جو چاہے حکم دے اور جس ضرر سے چاہے بچالے۔ کسی شے میں فی نفسہ کوئی خاصیت موجود نہیں، مضرت ومنفعت کی جو بھی خاصیت پیدا ہوتی ہے، اسی مسبب الاسباب اور فاعل حقیقی کی مشیت و ارادہ سے پیدا ہوتی ہے۔