9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 9:30

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ عُزَیْرُ اِ۟بْنُ اللّٰهِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ١ۚ یُضَاهِئُوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ۚ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 9:30 in the Quran reader

اور یہود کہتے ہیں کہ عزیر خدا کے فرزند (مجازی) ہیں،51 ۔ اور نصاری کہتے ہیں کہ مسیح خدا کے فرزند (مجازی) ہیں،52 ۔ یہ ان کا قول ہے (محض) ان کے منہ سے (بک دینے کا) ،53 ۔ یہ بھی انہیں لوگوں کی ریس کرنے لگے جو ان سے پہلے کافر ہوچکے ہیں،54 ۔ اللہ انہیں ہلاک کرے یہ کدھر بہکے جارہے ہیں،55 ۔

51 ۔ عزیر یا تو ریت کے تلفظ میں عزرا (متوفی غالبا 458 ؁ ق، م) یہود کے مذہبی نوشتوں میں زیادہ ” کاتب “ کی حیثیت سے مشہور ہیں۔ بخت نصر (متوفی 56 1 ؁ ق، م) کے حملہ اور کامل تباہی اور بربادی کے بعد جب توریت کے نسخہ یہود کے پاس سے بالکل غائب ہوگئے تو انہی عزیر (عزرا) نے توریت کو ازسر نو اپنی یادداشت سے لکھ دیا اور اس لئے انہیں یہود مثیل موسیٰ تسلیم کرتے ہیں بلکہ بعض نے غلو کرکے اس مرتبہ سے بھی بڑھا دیا ہے۔ (آیت) ” ابن اللہ “۔ عربی میں ابن اور ولد دو الگ الگ مفہوم رکھنے والے لڑکے اور بیٹے کے مرادف لفظ ہیں اور انگریزی میں بھی ان کے مقابلہ میں دو اصطلاحین Son of god اور Child of god کی الگ الگ ہیں۔ ابن اللہ جو ترجمہ ہے۔ Child of god کا اس سے مراد صلبی یا حقیقی فرزند کے نہیں، بلکہ خدا کا لاڈلا یا چہیتا یا فرزند معنوی ومجازی ہے۔ جیسے قرآن ہی میں ایک دوسری جگہ اہل کتاب ہی کی زبان سے استعمال ہوا ہے۔ قالوا نحن ابنؤا اللہ واحباء ہ یہاں پر ابناء اللہ کے کھلے ہوئے یہی مجازی معنی ہیں۔ یہود اس معنی میں حضرت عزیر کو اپنا مطاع کل اور بارگاہ حق میں محبوب مطلق مانتے تھے، مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن کا حاشیہ۔ 52 ۔ مسیحیت کی دوگمراہیاں ایک شدید، دوسری شدید تر الگ الگ ہیں، ایک حضرت مسیح (علیہ السلام) کا اللہ کا ولد Son of god قرار دینا، اس کا ذکر قرآن مجید میں جہاں آیا ہے، اکثر بہت سخت وعید کے ساتھ آیا ہے (آیت) ” تکاد السموت یتفطرن منہ “۔ وغیرھا دوسری گمراہی حضرت مسیح (علیہ السلام) کو خدا کافرزند مجازی (Child of god) قرار دینا ہے۔ قرآن مجید نے اس عقیدہ کو ابن اللہیت سے تعبیر کیا ہے اور گویہ بھی بجائے خود شدید ہے پھر بھی ولد اللہیت کا عقیدہ اس سے اشد ہے۔ ملاحظہ وہ انگریزی تفسیر القرآن کا حاشیہ۔ ہمارے بعض پرانے مفسرین بھی اس نکتہ تک پہنچ گئے تھے کہ یہاں ابنیت سے مراد ابنیت نسبی ونسلی نہیں بلکہ لاڈ پیار والی ابنیت ہے اور یہ بھی کفر ہے۔ قال ابن عطیۃ ویقال ان بعضھم یعتقدھا بنوۃ حنو ورحمۃ وھذا المعنی ایضا لایحل ان تطلق البنوۃ علیہ وھو کفر (قرطبی) یقال ان بعضھم یعتقدھا بنوۃ حنو ورحمۃ (بحر) 53 ۔ (جس کا حقیقت اور واقعیت سے کوئی بھی تعلق نہیں) یہ فقرہ تاکید کلام کے طور رپر لایا گیا ہے۔ قیل معناہ التاکید (قرطبی) فقہاء نے یہاں سے یہ مسئلہ بھی خوب نکالا ہے کہ جس قول کو ابتداء زبان سے ادا کرنا کفر ہے، اسے تردید کی غرض سے دہرانا اور نقل کرنا بالکل درست ہے۔ فی ھذا من قول ربنادلیل علی ان من اخبر عن کفر غیرہ الذی لا یجوز لا حدان یبتدی بہ لاحرج علیہ لانہ انما ینطق بہ علی معنی الاستظام لہ والرد علیہ فلایمنع ذلک منہ (ابن العربی) 54 ۔ یعنی ان مہمل عقاید پر ان کے پاس نہ دلیل عقلی نہ نقلی۔ یہ تو محض ان جاہلی مشرک قوموں کی نقالی ہے جو باری تعالیٰ کی تجسیم کی قائل تھیں۔ اور عقیدۂ حلول یا اوتار کو ماننے والی تھیں۔ اشارہ خاص مشرکین یونان کی جانب ہے کہ انہیں کے ” حکماء فلاسفہ “ کے اقوال سے پہلی صدی عیسوی کے یہود ونصاری دونوں میں متاثر ہوگئے تھے، اور ان کی مشرکانہ تعلیمات کو برابر اپنے عقائد کا جزء بناتے چلے گئے تھے، مسیحت پر یونانی اور رومی مذہبوں کے گہرے اثر کی دریافت انیسویں صدی کے نصف آخر کے محققین وفضلاء کا خاص کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔ قرآن کا یہ اعجاز ہے کہ اس نے صدیوں قبل جبکہ کوئی نام بھی Higher Criticsm. کا نہیں جانتا تھا، ایک امی کی زبان سے دنیا کو اس حقیقت سے آشنا کردیا، ملاحظہ ہو، انگریزی تفسیر القرآن۔ 55 ۔ (کہ صاحب کتاب ہونے کی دولت سے مشرف ہوکر، انبیاء کی تعلیمات سے بہرہ اندوز ہونے کے باوجود، ایسے ایسے افتراء اللہ پر باندھتے چلے ہیں) (آیت) ” قتلھم اللہ “۔ فطرت بشری ہے کہ ایسے موقعوں پر سخت بیزاری اور غصہ ونفرت کی حالت میں زبان پر بےاختیار ایسے فقرے آجاتے ہیں کہ خدا انہیں غارت کرے۔ قرآن نے فطرت بشری کا لحاظ کرکے گویا یہ فقرے پڑھنے والے کی زبان سے ادا کرکے اس کے جذبات کی ترجمانی کا حق ادا کردیا۔
Ayah 9:31

اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ١ۚ وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوْۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ سُبْحٰنَهٗ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:31 in the Quran reader

انہوں نے اللہ کے ہوتے ہوئے اپنے علماء اور اپنے مشائخ کو (بھی) اپنا پروردگار بنارکھا ہے،56 ۔ اور مسیح ابن مریم (علیہ السلام) کو (بھی) ،57 ۔ حالانکہ انہیں حکم صرف یہ دیا گیا تھا کہ ایک ہی معبود (برحق) کی عبادت کریں،58 ۔ کوئی معبود نہیں اس کے سوا، وہ اس سے پاک ہے جو یہ (اس کے ساتھ) شریک کرتے رہتے ہیں،59 ۔

56 ۔ یعنی انہیں مستقلا ایسا صاحب اختیار مان رکھا ہے کہ گویا وہی معبود اور رب ہیں، جو چاہیں وہ جائز کردیں، جو چاہیں، وہ حرام ٹھہرا دیں۔ سارے اختیارات چرچ (کلیسا) کو دے رکھے ہیں۔ یہود کے ہاں بھی ربیون کے احکام، خود توریت کی تعلیمات پر غالب آگئے تھے، الاکثرون من المفسرین قالوا لیس المراد من الارباب انھم اعتقدوا الھھم انھم الھۃ العالم بل المراد انھم اطاعوھم فی اوامرھم ونواھیھم (کبیر) آیت کی تفسیر ماثور بھی یہی ہے۔ عدی بن حاتم نومسلم عیسائی کی روایت کتب حدیث میں درج ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ ہم لوگ اپنے مقتداؤں اور پیشواؤں کو خدا کب مانتے ہیں ؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ حلال و حرام کے اختیارات ان میں مان لینا، عملا انہیں خدائی اختیارات دے دینا اور رب کے مرتبہ پر پہنچا دینا ہے۔ آیت میں مسلمانوں کے لئے بھی بڑی عبرت ہے۔ انہوں نے بھی مختلف اماموں اور مشائخ کو مستقل مطاع قرار دے کر عملا انہیں معصومیت بلکہ خدائی کے مرتبہ پر پہنچا دیا ہے۔ قرآن کی صریح آیت کو، اپنے ضمیر کی صریح شہادت کو، کھلے ہوئے مشاہدہ کو سب کو چھوڑدیں گے لیکن اپنے شیخ کے قول کو نہ چھوڑیں گے ! امام رازی (رح) نے اس موقع پر اپنے استاد (رح) کا قول نقل کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ میری نظر سے ایسے مقلدین جامد گزرے ہیں جن کے سامنے ان کے مسلک کے خلاف میں نے قرآن مجید کی آیتیں پڑھ کر سنائیں۔ انہوں نے آیات کے آگے سرتسلیم خم نہ کیا، ان کی طرف التفات نہ کیا، الٹے حیرت سے میری طرف دیکھتے رہے کہ ان کے اسلاف کے مسلک کے خلاف یہ آیات قرآنی ہوکیونکر سکتی ہیں۔ اور تاویل بجائے ان کے اقوال کے خود ان آیات میں کرنا چاہیے۔ یہ قول نقل کرکے امام موصوف خود لکھتے ہیں کہ :۔ لوتاملت حق التامل وجدت ھذا الداء ساریا فی عروق الاکثرین من اھل الدنیا ! کہ غور کرکے دیکھا جائے تو اکثر اہل دنیا اسی بیماری میں مبتلا نظر آئیں گے۔ (آیت) ” من دون اللہ “۔ یعنی اللہ کی توحید فی الطاعت چھوڑ کر۔ 57 ۔ مسیحت کی گمراہیوں میں سے ایک گمراہی یہ تھی کہ مسیح (علیہ السلام) کو علاوہ ولد الہ اور ابن اللہ سمجھنے کے مطاع مطلق بھی سمجھتے تھے، اور مطاع مطلق بھی، بالکل اور براہ راست حق تعالیٰ کے مساوی اور ہم رتبہ کی حیثیت سے، اور ان کی مطاعیت چونکہ پوپ اور کلیسا کی مطاعیت کے برخلاف اصلا ومستقلا ہے اس لئے قرآن مجید نے اس کا ذکر بھی احبارھم ورھبانھم سے الگ کرکے کیا۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں نصوص کے مقابلہ میں تقلید کرنے کی مذمت ہے جیسے جاہلوں کی عادت ہے کہ جب انہیں بدعات ومنکرات سے منع کیا جاتا ہے تو اپنے مشائخ سے تمسک کرنے لگتے ہیں۔ 58 ۔ (اور یہ حکم انہیں اپنے پیغمبروں کے ذریعہ سے ان کے آسمانی نوشتوں میں دیا گیا تھا جو کسی حد تک آج بھی موجود و محفوظ ہے) چناچہ توریت میں ہے :۔ ” میرے حضور تیرے لئے دوسرا خدا نہ ہو وے “ (خروج 20:2) نیز (استثناء 5:6) اور انجیل میں ہے :۔” سب حکموں میں اول کون سا ہے ؟ یسوع نے جواب دیا کہ اول یہ ہے، اے اسرائیل سن۔ خدواند ہمارا خدا ایک ہی خداوند ہے “۔ (مرقس، 12:29) 59 ۔ یہاں ذکر قریش اور عرب کے جاہلی مشرکوں کا نہیں، اہل کتاب یہود ونصاری کا ہے جو توحید کی دولت سے بار بار مشرف کئے جاچکے تھے۔
Ayah 9:32

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ یَاْبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 9:32 in the Quran reader

چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھا دیں حالانکہ اللہ کو نامنظور ہے (ہرصورت) بجز اس کے کہ اپنے نورک کو کمال تک پہنچائے خواہ کافروں کو (کیسا ہی) ناگوار گزرے،60 ۔

60 ۔ آیت کی صداقت پر امت کی ساڑھے تیرہ سو سال کی پوری تاریخ گواہ ہے، یہود نصاری، مشرکین غرض ہر مخالفت ومعاند مکروحیلہ زوروجبر کے ہر ممکن طریقہ سے اسلام کی بیخ کنی میں لگا ہوا ہے لیکن اس کے باوجود اسلام ہے کہ پھیلاتا ہی جاتا ہے اور پیروان اسلام کی تعداد میں اضافہ ہی روز افزوں ہے، یہاں تک کہ مسیحی مشنریوں کو اعتراف ہے کہ یہ بےدریغ روپیہ خرچ کرنے اور نہایت درجہ مستحکم نظام کے باوجود مسلمانوں کے مقابلہ میں ان کے مشن افریقہ وغیرہ میں ناکام ہورہے ہیں۔ ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن کا حاشیہ۔ (آیت) ” نور اللہ “ یعنی دین اسلام (آیت) ” یطفؤا بافواھم “۔ جس طرح پھونک مار کر بجھایا جاتا ہے یہ مخالفین ومعاندین چاہتے ہیں کہ اسی طرح اسلام کا چراغ بھی گل کردیں، (آیت) ” الکفرون “۔ اشارہ خاص یہود ونصاری کی جانب ہے اور کافر انہیں ان کے منکر نبوت محمدی ﷺ ہونے کی حیثیت سے کہا گیا ہے۔
Ayah 9:33

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ۙ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:33 in the Quran reader

وہ اللہ وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اسے وہ غالب کردے سارے بقیہ دینوں پر خواہ مشرکوں کو (کیسا ہی) ناگوار ہو،61 ۔

61 ۔ (آیت) ” لیظھرہ علی الدین کلہ “۔ یہ غلبہ دین بہ لحاظ قوت دلائل کے ہے کہ یہی نور اللہ کا اتمام ہے۔ اے بالحجۃ والبراھین (قرطبی) محققین نے کہا ہے کہ اسلام کا غلبہ سارے ادیان پر عقل و استدلال کی رو سے تو مطلق ہے اور کسی وقت وزمانہ کے ساتھ مخصوص نہیں، البتہ مادی غلبہ اہل اسلام کی صلاحیت واہلیت کے ساتھ مخصوص ومشروط ہے (آیت) ” المشرکون “۔ اشارہ خاص یہود ونصاری کی جانب ہے۔ اور مشرک انہیں ان کے شرک فی التوحید کے اعتبار سے کہا گیا ہے۔
Ayah 9:34

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَ الرُّهْبَانِ لَیَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 9:34 in the Quran reader

اے ایمان والواہل کتاب کے اکثر علماء ومشائخ لوگوں کے مال باطل طریقوں پر کھاتے (اڑاتے) رہتے ہیں اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے رہتے ہیں،62 ۔ اور جو لوگ کہ سونا اور چاندی جمع کرکے رکھتے ہیں اور اس کو خرچ نہیں کرتے اللہ کی راہ میں،63 ۔ آپ انہیں ایک درد ناک عذاب کی خبر سنا دیجیے

62 ۔ اور خود حق کی تلاش وطلب رکھنا تو الگ رہا، اسے قبول تک نہیں کرتے) یاکلون اموال الناس بالباطل۔ سلیس وعام فہم اردو میں لوگوں کو ٹھگتے رہتے ہیں۔ مثلا یہ کہ معقتدین کی مرضی دیکھ کر انہیں ان کے موافق فتوی دے دیا اور ان سے نذارنہ وصول کرلیا، ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن کا حاشیہ۔ (آیت) ” الباطل “۔ کے تحت میں رشوت اور ناجائز نذرانوں کی ہر صورت آگئی۔ (آیت) ” یصدون عن سبیل اللہ “۔ عوام ان کے انہی جھوٹے سچے فتو وں میں آکر عمر بھر گمراہی میں پھنسے رہتے ہیں۔ 63 ۔ یعنی شریعت کے واجب کئے ہوئے مصارف خیر میں۔ (آیت) ” یکنزون “۔ کنز کے لغوی معنی اس مال کے ہیں جو کسی ظرف میں محفوظ کرکے رکھا گیا ہو یا زیر زمین دفن کردیا گیا ہو۔ الکنز اسم للمال اذا احرز فی وعاء ولما یحرز فیہ وقیل الکنز المال المدفون (لسان) اور (آیت) ” یکنزون “۔ یدخرون کے مرادف ہے لیکن حدیث نبوی اور اصطلاح شرعی میں کنز سے مراد وہ مال لیا گیا ہے جس کی زکوٰۃ ادا نہ کی جائے اور جس کی زکوٰۃ ادا ہوتی رہے اس پر اطلاق کنز کا نہ ہوگا۔ محدث بیہقی نے نافع مولی، ابن عمر ؓ صحابی سے روایت کی ہے کہ جس مال کی زکوٰۃ ادا ہوچکی وہ کنز نہیں، چاہے زمین کے سات پردوں میں گڑاہو، اور جس کی زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی وہ کنز ہے چاہے سطح زمین پر کھلا پڑا ہو۔ ماادی زکاتہ فلیس بکنز (بخاری۔ کتاب الزکوۃ) کل ما ادیت زکاتہ وان کان تحت سبع ارضین فلیس بکنز وکل ما لاتؤدی زکاتہ فھو کنزو ان کان ظاھرا علی وجہ الارض (فتح الباری۔ کتاب الزکاۃ) اذا اخرج منہ الواجب علیہ لم یبق کنزا وان کان مکنوزاوھو حکم شرعی تجوز فیہ عن الاصل (لسان) ھو فی الشرع مالم یؤدزکاتہ (جصاص) روی عن عمر وابن عباس وابن عمر والحسن وعامر والسدی قالوا مالم یؤد زکاتہ فھو کنز (جصاص) (آیت) ” ولا ینفقونھا فی سبیل اللہ “۔ یہ قید خوب ذہن نشین رہے وعید انہیں لوگوں کے حق میں ہے جو غایت حرص کی بنا پر مال کے حقوق واجب ادا نہیں کرتے۔ فالمراد منھا مالم یؤد حقھا (بیضاوی) مرادہ من الزکاۃ (جصاص) اس سے ظاہر ہے کہ قرآن مجید نے جس جمع مال کو مذموم قرار دیا ہے وہ مطلق جمع نہیں بلکہ صرف وہ جمع ہے جس میں ضروری مصارف خیر کی گنجائش نہ رکھی جائے اور اس مفہوم پر بجز ایک صحابی ابوذر ؓ اور چند اہل زہد کے باقی اکابر صحابہ تابعین اور جمہور علماء امت کا اتفاق ہے۔ قال ابن عبدالبر الجمھور علی ان الکنز المذموم مالم تؤد زکاتہ۔۔۔ لم یخالف فی ذلک الا طائفۃ من اھل الذھد کا بی ذر (فتح الباری۔ کتاب الزکوۃ) وکان ابوذر یحمل الحدیث علی اطلاقہ فلایری بادخار شیء اصلا۔۔ خالفہ جمھور الصحابۃ ومن بعدھم (ایضا) مطلق جمع مال کی ممانعت قرآن میں نہیں، موجودہ انجیل محرف میں ملے گی :۔ ” اپنے واسطہ زمین پر مال جمع نہ کرو جہاں کیڑا اور زنگ خراب کرتا ہے اور جہاں چور نقب لگاتے اور چراتے ہیں بلکہ اپنے لئے آسمان پر مال جمع کرو “۔ (متی۔ 6: 19، 20) اصحاب نبی ﷺ میں جہاں بہت سے فقراء تھے وہاں بہت سے امیر کبیر بھی تھے مثلا حضرت عثمان غنی ؓ عبد الرحمن بن عوف ؓ وغیرھم۔ ولقد کان کثیر من الصحابۃ ؓ کعبد الرحمن بن عوف وطلحۃ یقتنون الاموال ویتصرفون فیھا وما عابھم احد (مدارک) (آیت) ” الذھب والفضۃ “۔ سونے اور چاندی کا نام بہ طور مثال اور نمونہ کے لے دیا گیا کہ عموما مال وجائداد کے بڑے ذریعہ یہی ہیں۔ یہ مراد نہیں کہ حصول دولت وجمع دولت کا عموما وجائداد کے بڑے ذریعہ یہی ہیں۔ یہ مراد نہیں کہ حصول دولت وجمع دولت کا حصر انہیں دو چیزوں میں ہے۔ خاص بالذکر من بین سائر الاموال لانھما قانون التمول واثمان الاشیاء وذکر کنزھما دلیل علی ما سواھما (مدارک) الحکم عام وتخصیصھما بالذکر لانھمنا قانون التمول (بیضاوی)
Ayah 9:35

یَّوْمَ یُحْمٰى عَلَیْهَا فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَ جُنُوْبُهُمْ وَ ظُهُوْرُهُمْ١ؕ هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ Open ayah 9:35 in the Quran reader

(جو) اس روز (واقع ہوگا) جب کہ اس (سونے چاندی) کو دوزخ کی آگ میں تپایا جائے گا پھر اس سے ان کی پیشیانیوں کو اور ان کے پہلوؤں کو اور ان کی پشتوں کو داغا جائے گا یہی ہے وہ جسے تم اپنے واسطے جمع کرتے رہے تھے سو اب مزہ چکھو اپنے جمع کرنے گا،64 ۔

64 ۔ اتنی صریح، شدید، مؤکدوعید عذاب سے ظاہر ہے کہ بڑے بڑے کوٹھی وال مہاجنوں بینکروں کی طرح سونے چاندی کے ڈھیر پر ڈھیر جمع کرتے رہنے کی گنجائش اسلام میں نہیں۔ (آیت) ‘’ ماکنتم تکنزون “۔ سے قبل لفظ عذاب محذوف ہے۔ اے عذاب ما کنتم تکنزون (قرطبی)
Ayah 9:36

اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙ۬ فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِكِیْنَ كَآفَّةً كَمَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ كَآفَّةً١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:36 in the Quran reader

بیشک مہینوں کا شمار اللہ کے نزدیک بارہ ہی مہینہ ہیں کتاب الہی میں (اس روز سے) جس روز کہ اس نے آسمان اور زمین پیدا کئے،65 ۔ اور ان میں سے چار (مہینہ) حرمت والے ہیں،66 ۔ یہی دین مستقیم ہے سو تم ان (مہینوں) کے باب میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو،67 ۔ اور لڑو مشرکوں سے سب سے جیسا کہ وہ لڑتے ہیں تم سب سے اور جانے رہو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے،68 ۔

65 ۔ یعنی شریعت الہی میں معتبر قمری سنہ کے بارہ ہی مہینہ ہیں، نہ اس سے زیادہ نہ اس سے کم، اور یہ کچھ آج سے نہیں، روز آفرنیش سے، (آیت) ” فی کتب اللہ “۔ یعنی شریعت خداوندی میں، اے فی ما اثبتہ واوجبہ من حکمہ (مدارک) یالوح محفوظ میں، فی اللوح (مدارک) (آیت) ’ یوم خلق السموت الارض “۔ اس تصریح سے مقصود زور وتاکید پیدا کرنا ہے۔ والمقصود بیان ان ھذا الحکم حکم محکوم بہ من اول خلق العالم وذلک یدل علی المبالغۃ والتاکید (کبیرا) 66 ۔ اور وہ بھی متعین ومعروف یعنی محرم، رجب، ذی قعدہ، ذی الحجہ، یہ نہیں کہ اہل جاہلیت کی طرح اپنی وقتی مصلحتیں دیکھ کر جس مہینہ کو چاہا ادب والا قرار دیدیا۔ اور سال کے مہینہ جب چاہا بڑھا دیے۔ (آیت) ” حرم “۔ حرمت والے مہینہ وہ جن میں قتال ممنوع تھا۔ یہ توفقہی پہلو ہوا، باقی یہ مہینہ وہ ہیں جن میں طاعت مقبول تر اور معصیت قبیح تر قرار دی گئی ہے۔ معنی الحرم ان المعصیۃ فیھا اشد عقابا والطاعۃ فیھا اکثر ثوابا (کبیر) لایبعدان ان یعلم اللہ تعالیٰ ان وقوع الطاعۃ فی ھذہ الاوقات اکثر تاثیرا فی طھارۃ النفس ووقوع المعاصی فیھا اقوی تاثیرا فی خبث النفس وھذا غیر مستبعد عند الحکماء (کبیر) 67 ۔ (عادت جاہلیت کا اتباع اور دستور الہی سے انحراف کرکے) (آیت) ” ذلک الدین القیم “۔ یعنی مذہب کی بتلائی ہوئی سیدھی راہ یہی ہے۔ اس کے خلاف روش اختیار کرنا بددینی ہے۔ لیکن دین کے معنی ” حساب “ کے بھی آئے ہیں۔ اس صورت میں مراد یہ ہوگی کہ سیدھا اور صحیح حساب یہی ہے گو ترجیح اسی پہلے معنی کو ہے۔ الدین قد یراد بہ الحساب فتفسیر الایۃ علی ھذا التقدیر ذلک الحساب المستقیم الصحیح (کبیر) اے الحساب الصحیح والعدد المستوفی۔۔۔ والاصوب عندی ان یکون الدین ھھنا علی اشھر وجوھہ اے ذلک الشرع والطاعۃ (قرطبی) (آیت) ” فیھن “۔ یہ ضمیر جمع مونث کس کی طرف ہے۔ ہوسکتا ہے کہ (آیت) ” اثنا عشرا شھرا “۔ کی جانب ہو یعنی ان بارہ مہینوں کے باب میں گڑبڑ کرکے اپنے اوپر ظلم نہ کرو۔ اے فلاتظلموا فی الشھور الاثنی عشر انفسکم (ابن عباس ؓ علی قول ابن عباس ؓ راجع الی جمیع الشھور (قرطبی) اور یہ بھی درست ہے کہ اربعۃ حرم کی جانب ہو، جیسا کہ اکثر مفسرین کا خیال ہے یعنی ان چاروں ادب والے مہینوں میں گڑبڑ کرکے گنہگار نہ بنو۔ قول الاکثرین ان الضمیرفی قولہ فیھن عائد الی الاربعۃ الحرم (کبیر) علی قول بعضھم راجع الی الشھر الحرم خاصۃ (قرطبی) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ متبرک اوقات میں معصیت کی برائی شدید ترہوتی ہے اور اسی پر متبرک مقامات کو بھی قیاس کیا جاسکتا ہے۔ تو وائے برحال ان لوگوں کے جو اولیاء صالحین کے مزارات ومقابر پر اور وہ بھی زمانہ عرس میں فجور وبدعات کا ارتکاب کیا کرتے ہیں۔ امام رازی (رح) نے حسب معمول اس پر تفصیل وتحقیق سے گفتگو کی ہے اور کہا ہے کہ عربوں کے ہاں تو حضرت ابراہیم واسمعیل (علیہما السلام) کے وقت سے سنہ قمری چلا آتا تھا،۔ جس میں ماہ حج کبھی کسی موسم میں پڑتا تھا کبھی کسی میں۔ لیکن عربوں نے دیکھا کہ اس سے تجارت وغیرہ میں نقصان ہوتا ہے تو انہوں نے مصالح دین کا خیال نہ کرکے اور ان پر مصالح دنیوی کو ترجیح دے کر یہود ونصاری سے حساب کبیسہ سیکھ لیا اور اپنے مہینوں میں کچھ کچھ روز کے بعد ایک مہینہ بڑھا کر حج وغیرہ کا زمانہ بہ حساب شمسی متعین کردیا اور یہ صریح مصالح شریعت میں دست اندازی ہے۔ متعدد علماء نے آیت سے یہ حکم بھی مستنبط کیا ہے کہ مسلمانوں پر اپنے معاملات و عبادات میں سنہ قمری عربی کی پابندی واجب ہے اور سنہ عجمی وسنہ رومی شمسی کی پابندی جائز نہیں،۔ قال اھل العلم الواجب علی المسلمین بحکم ھذہ الایۃ ان یعتبروا فی بیوعھم ومدد دیونھم واحوال زکوتھم وسائر احکامھم السنۃ العربیۃ بالاھلۃ ولایجوز لھم اعتبار السنۃ العجمیۃ والرومیۃ (کبیر) 68 ۔ (بہ لحاظ اپنی نصرت کے) مطلب یہ ہوا کہ مشرکوں یا ان کے سامان و جمعیت سے ڈرنا ہی کیا، ایمان وتقوی پر قائم رہو تو نصرت الہی تو تمہارے ہی ساتھ رہے گی، (آیت) ” المشرکین “۔ مراد مشرکین عرب ہیں۔ جزیہ ان کے حق میں نہ تھا، انہیں لازمی طور پر مسلمان ہی ہونا تھا۔ (آیت) ” کآفۃ “۔ یعنی ان سے ہر موسم میں، سال کے ہر مہینہ لڑسکتے ہو، جس طرح یہ تم سے لڑتے رہتے ہیں۔
Ayah 9:37

اِنَّمَا النَّسِیْٓءُ زِیَادَةٌ فِی الْكُفْرِ یُضَلُّ بِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُحِلُّوْنَهٗ عَامًا وَّ یُحَرِّمُوْنَهٗ عَامًا لِّیُوَاطِئُوْا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ فَیُحِلُّوْا مَا حَرَّمَ اللّٰهُ١ؕ زُیِّنَ لَهُمْ سُوْٓءُ اَعْمَالِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 9:37 in the Quran reader

مہینوں کا ہٹا دینا کفر میں اور ترقی کرنا ہے،69 ۔ اس سے (عام) کفار گمراہ کئے جاتے ہیں وہ کسی سال حرام مہینہ کو حلال کرلیتے ہیں اور کسی سال اسے حرام سمجھتے ہیں تاکہ ان (مہینوں) کی جنہیں اللہ نے حرام قرار دیا ہے گنتی پوری کرلیں،70 ۔ پھر اللہ کے حرام کئے ہوئے مہینہ کو حلال کرلیتے ہیں، ان کی بدعملیاں انہیں اچھی معلوم ہوتی ہیں، اور اللہ کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا،71 ۔

69 ۔ یعنی کافرانہ دستوروں میں ایک اور دستور کا اضافہ ہے۔ (آیت) ” النسی ٓء “۔ ہندوستان میں جو سنہ فصلی شمسی حساب سے رائج ہے، اس کے مہینوں میں حساب کو پورا کرنے کو ہندو پنڈت کبھی کبھی ایک مہینہ کو دہرا دیتے ہیں۔ اور اسے اصطلاح میں لوند لگانا کہتے ہیں۔ مثلا اب کی سال اساڑھ میں لوند لگا یعنی اساڑھ کی مدت بجائے ایک مہینہ کے دو مہینہ قائم رہی۔ یہ تو محض حسابی ضرورتوں سے ہوتا ہے۔ عرب جاہلی کے روساء یہ کرتے تھے کہ محض ان مصلحتوں کے تابع سنہ قمری کے جس ماہ کو چاہتے مقدس قرار دے دیتے جس مہینہ کو چاہتے دہرادیا کرتے اور سال کو جب چاہتے بجائے بارہ کے تیرہ چودہ ماہ کا کردیا کرتے۔ اس سے سارے نظام تقویمی میں خلل پڑجاتا۔ 70 ۔ یعنی شریعت الہی نے تو چار مخصوص و متعین مہینوں کو محترم ٹھہرایا ہے۔ یہ لوگ جب چاہتے ہیں، اپنی ذاتی ونفسانی اغراض کو پورا کرتے کبھی اس مہینہ کو محترم قرار دے لیا اور کبھی اس مہینہ کو، اور اسی طرح چار کی گنتی بلاتحصیص وتعیین پوری کرلی۔ (آیت) ” یضل بہ الذین کفروا “۔ گمراہ جو کئے جاتے ہیں وہ تو عوام کفار ہوتے ہیں اور گمراہ کرنے والے ان کے سردار اور روساء ہوتے ہیں۔ محققین نے کہا ہے کہ احکام عبادات میں معتبر صرف سنہ قمری ہے۔ رومی، ایرانی، مصری کسی اور سنہ کو اسلام معتبر نہیں قرار دیتا۔ ھذہ الایۃ تدل علی ان الواجب تعلیق الاحکام من العبادات وغیرھا انھا یکون بالشھور والسنین التی تعرفھا العرب دون الشھور التی تعتبرھا العجم والروم والقبط وان لم تزد علی اثنی عشر شھرا (قرطبی) 71 ۔ (وہ اس لئے کہ یہ لوگ خود راہ پر نہیں آنا چاہتے اور ہدایت کی کوئی طلب نہیں رکھتے) (آیت) ” سوء اعمالھم “۔ ” لوند کا مہینہ جو تصحیح حساب موسم کے لئے بارہ پر بڑھا لیا جاتا ہے ہو اس آیت کی مخالفت نہیں، اسی طرح دوسرے حسابوں کی اس میں نفی نہیں ہے، جیسا بعض اہل زمانہ سے غلط فہمی ہوئی ہے۔ کیونکہ ان حسابوں سے احکام شرعیہ میں تو فرق وخلل نہیں پڑتا اور مقصود آیت میں اس حساب کا ابطال ہے جس سے احکام شرعیہ میں اختلال یا غلطی ہونے لگے۔ جیسا اہل جاہلیت کی عادت کا بیان کیا گیا۔ البتہ چونکہ احکام شرعیہ کا مدار حساب قمری پر ہے اس لئے اس کی حفاظت فرض علی الکفایہ ہے پس اگر ساری امت دوسری اصطلاح کو اپنا معمول بنالیوے جس سے حساب قمری ضائع ہوجائے۔ سب گناہگار ہوں گے۔ اور اگر وہ محفوظ رہے تو دوسرے حساب کا استعمال بھی مباح ہے لیکن خلاف سنت سلف ضرور ہے۔ اور حساب قمری کا برتنا بوجہ اس کے فرض کفایہ ہونے کے افضل واحسن ہے۔ “ (تھانوی (رح) (آیت) ” زین لھم سوٓء اعمالھم “۔ شیطان کا بڑا دھوکا یہی ہے کہ معصیت اور بدعملی کو انسان کی نظر میں ایک عمل نیک کر دکھاتا ہے۔ اہل طریق نے اس سے بچنے کے لئے خاص طور پر دعائیں اور منا جاتیں کی ہیں۔ آنچہ درکون ست زاشیا آنچہ ہست دائما جاں رابہر حالت کہ ہست گرسگی کردیم اے شیر آفرین شریر رامگمار برمازیں ک میں ، آب خوش راصورت آتش مدہ اندر آتش صورت آبے منہ از شراب قہر چوں مستی دہد نیستہارا صورت ہستی دہی۔
Ayah 9:38

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَا لَكُمْ اِذَا قِیْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَى الْاَرْضِ١ؕ اَرَضِیْتُمْ بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا مِنَ الْاٰخِرَةِ١ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 9:38 in the Quran reader

اے ایمان والو تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ نکلو اللہ کی راہ میں تو تم زمین سے لگے جاتے ہو،72 ۔ کیا تم دنیا کی زندگی پر بہ مقابلہ آخرت کے راضی ہوگئے ؟ سو دنیا کی زندگی کا سامان تو آخرت کے مقابلہ میں بہت ہی قلیل ہے،73 ۔

72 ۔ یعنی مستعدی کے ساتھ اٹھتے اور چلتے نہیں۔ اشارہ رجب 9 ھ ؁ 620 ء ؁ کے غزوہ تبوک کی جانب ہے، تبوک مدینہ کے شمال میں سرحد شام پر ایک مقام کا نام ہے۔ شام اس وقت مسیحیوں کی رومن امپائر کا ایک صوبہ تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ غزوۂ حنین سے فارغ ہو کر مدینہ منورہ آئے تو آپ کو اطلاع ملی کہ مسیحی فوجیں تبوک پر جمع ہورہی ہیں۔ اور عنقریب مدینہ پر حملہ کرنے والی ہیں۔ آپ ﷺ نے خود ہی بڑھ کر مقابلہ کرنا چاہا۔ چناچہ 30 ہزار کی جمعیت آپ ﷺ کے ہمراہ ہوگئی۔ تاہم اب کے ایک طرف مقابلہ کسی قبیلہ سے نہیں ایک باضابطہ قواعد دان شاہی فوج سے کرنا تھا پھر موسم بھی شدید گرمی کا، فصل کے پکنے اور کٹنے کا زمانہ بھی قریب اور سفر خاصہ دور دراز قدرۃ بہتوں کی ہمتیں جواب دے گئیں اور منافقیں تو خوب خوب رنگ لائے۔ لشکر نصاری کو جب لشکر اسلام کی اس مستعدی کی اطلاع ملی تو خود ہی ان کے حوصلے پست ہوگئے۔ اور ان کی ہمت فوج کشی کی نہ پڑی۔ لشکر اسلام ایک مدت کے انتظار کے بعد بلامقابلہ واپس آیا۔ (آیت) ” مالکم “۔ کلمہ ملامت وتوبیخ ہے یعنی آخر تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ معناہ التقریر والتوبیخ التقدیر ای شیء یمنعکم عن کذا (قرطبی) (آیت) ” فی سبیل اللہ “۔ یعنی جہاد و قتال کے لئے، فقہاء نے آیت سے یہ بھی نکالا ہے کہ جب جہاد کی نفیر (پکار) ہوجائے تو ہر شخص پر جو بلا عذر ہو، جہاد واجب ہوجاتا ہے۔ اقتضی ظاہر الایۃ وجوب النفیر علی من لم یستنفر (جصاص) 73 ۔ امت کے لئے اصلی اور قوی ترین محرک اور داعیہ عمل یہی اجر آخرت ہے جیسا کہ قرآن مجید کی بہ کثرت آیتوں سے ظاہر و روشن ہے۔” روشن خیالی “ نے افسوس ہے کہ اسی قوی ترین محرک اور موثر ترین داعیہ کو سب سے زیادہ کمزور کردیا ہے۔ اب مسلمان کو لالچ اور ترغیب ہر قسم کی دی جائے گی، دنیوی ترقی کی، فلاح کی، مالی خوشحالی کی، وغیرہ وغیرہ اور زبان پر نام نہ آئے گا تو ایک وہی اجر آخرت کا۔ (آیت) ” من الاخرۃ “۔ یعنی آخرت اور وہاں کی نعمتوں کے بدلہ میں۔ اے بدل الاخرۃ ونعیمھا (بیضاوی) (آیت) ” فی الاخرۃ “۔ یعنی آخرت کے مقابلہ میں، اے فی جنب الاخرۃ (بیضاوی) ۔
Ayah 9:39

اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ۬ وَّ یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ وَ لَا تَضُرُّوْهُ شَیْئًا١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 9:39 in the Quran reader

اگر تم نہ نکلو گے تو اللہ تمہیں ایک دردناک سزا دے گا اور تمہارے بدلہ ایک دوسری قوم پیدا کردے گا اور تم اسے کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکوگے، اور اللہ پر شے پر قادر ہے،74 ۔

74 ۔ (آیت) ” عذابا الیما “۔ یہ عذاب الیم اسی دنیا میں نمودار ہوگا۔ یعنی تمہارے اوپر موت وہلاکت مسلط کردی جائے گی ، (آیت) ” ویستبدل قوما غیرکم “۔ اور اللہ اپنا کام اسی دوسری قوم سے لے گا، (آیت) ’ لا تضروہ “۔ ضمیر غائب اللہ کے دین کی طرف ہے، خود اللہ اور اللہ کے رسول کی طرف بھی ضمیر جاسکتی ہے۔ قیل الھاء للہ تعالیٰ وقیل للنبی ﷺ (قرطبی)
Ayah 9:40

اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا١ۚ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلَیْهِ وَ اَیَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَ جَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِیْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى١ؕ وَ كَلِمَةُ اللّٰهِ هِیَ الْعُلْیَا١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:40 in the Quran reader

اگر تم لوگ ان کی (یعنی رسول اللہ کی) مدد نہ کرو گے تو ان کی مدد تو (خو د) اللہ کرچکا ہے جب کہ ان کو کافروں نے (وطن سے) نکال دیا تھا،75 ۔ جب کہ دو میں سے ایک وہ تھے دونوں غار میں (موجود) تھے جب کہ وہ اپنے رفیق سے کہہ رہے تھے کہ غم نہ کرو بیشک اللہ ہم لوگوں کے ساتھ ہے،76 ۔ سو اللہ نے اپنی تسلی ان (رسول) کے اوپر نازل کی، اور ان کی تائید ایسے لشکروں سے کی جنہیں تم لوگوں نے نہ دیکھا،77 ۔ اور اللہ نے کافروں کی بات نیچی کردی اور اللہ کی بات اونچی رہی، اور اللہ بڑا قوت والا ہے بڑا حکمت والا ہے،78 ۔

75 ۔ (اور وہ وقت اس سے بھی زیادہ سخت اور ان کی سخت تر بےبسی کا تھا) اشارہ ہے واقعہ ہجرت کی طرف جب مشرکین مکہ آپ کے قتل پر تل گئے تھے اور آپ حضرت علی ؓ کو اپنے بستر پر سلا کر شباشب تنہا حضرت ابوبکر ؓ کو اپنے ہمراہ لے کر غار میں چھپتے ہوئے مدینہ کی طرف روانہ ہوگئے تھے۔ 76 ۔ آپ دونوں صاحب غار ثور کے اندر چھپے ہوئے تھے کہ مشرکوں کی تلاش کرنے والی پارٹی نقش قدم کے نشانات کی مدد سے اس غار کے منہ تک پہنچ گئی، نشان شناس نے بتایا کہ نشان قدم یہیں تک ملتے ہیں اسی غار کے اندر ہوں گے۔ کون انسان تھا جو ایسے موقع پر اپنے کو جان کے دشمنوں کے ہاتھ میں گرفتار دیکھتے پریشان ومضطر نہ ہوجاتا ؟ حضرت ابوبکر ؓ اس خیال پر سخت مضطرب تھے کہ اگر خدانخواستہ دشمنان دین نے رسول اللہ ﷺ پر قابو پالیا تو اس کا کیا انجام ہوگا ؟ لیکن آپ اللہ کے فضل سے اس وقت بھی بالکل مطمئن تھے، آپ نے فرمایا کہ ابوبکر ؓ گھبرانے کی کیا بات ہے، ہم دو تنہا نہیں۔ ہمارے ساتھ تو اللہ کی تائید ونصرت ہے۔ (آیت) ” ان اللہ معنا “۔ یعنی اس کی نصرت و حفاظت ہماری رفیق ہے۔ اے بالنصر والرعایۃ والحفظ والکلاء ۃ (قرطبی) (آیت) ” معنا “۔ سے معیت نصرت ہی مراد ہے ورنہ معیت ذاتی تو ہر مخلوق کو ہر آن حاصل رہتی ہے۔ اے بالعصمۃ والمعونۃ فھی معونۃ مخصوصۃ والا فھو تعالیٰ مع کل واحد من خلقہ (روح) (آیت) ” فی الغار “۔ یہ غار غار ثور مضافات مکہ میں سے تھا، مکہ سے جنوب ومشرق میں۔ آپ ﷺ اس کے اندر تین دن تک قیام پذیر رہے۔ (آیت) ” ثانی اثنین۔ لصاحبہ “۔ دو سے مراد ایک ذات رسول ہے دوسرے آپ ﷺ کے مقرب ترین صحابی ابوبکر صدیق ؓ ، صاحب رسول اللہ ﷺ یا رفیق رسول کے اس تعین میں کوئی اختلاف نہیں، اور اس سے حضرت صدیق ؓ کی افضلیت واشرفیت پر جو روشنی پڑتی ہے۔ محتاج بیان نہیں۔ بعض علماء نے آیت سے حضرت صدیق ؓ کے خلیفہ اول ہونے کا بھی اشارہ سمجھا ہے۔ وقال بعض العلماء ما یدل علی ان الخلیفۃ بعد النبی ﷺ ابوبکر الصدیق لان الخلیفۃ لایکون ابدا الا ثانیا (قرطبی) علماء نے یہ بھی لکھا ہے کہ جو شخص ابوبکر الصدیق ؓ کی صحابیت سے انکار کرتا ہے وہ قرآن سے انکار کرتا ہے اور اس سے اس کا کفر لازم آجاتا ہے۔ وقالوا من ان کر صحبۃ ابی بکر فقد کفر لانکارہ کلام اللہ ولیس ذلک لسائر الصحابۃ (مدارک) 77 ۔ (آیت) ’ ’ بجنودلم تروھا “۔ سے مراد فرشتوں سے تو سب نے لی ہے اب ممکن ہے یہ وہ فرشتہ ہوں جو سکینہ قلب غیب سے لے کر آئے تھے۔ یا ممکن ہے مراد ان فرشتوں سے ہو جنہوں نے آگے چل کر بدر وغیرہ غزوات نبوی میں امداد کی۔ واللہ اعلم “۔ (آیت) ” انزل اللہ سکینتہ “۔ یعنی اللہ نے اپنی طرف سے تسکین نازل کی۔ 78 ۔ ہر تدبیر اس کے لئے حاضر بھی اور تدبیر پر قادر بھی (آیت) ” کلمۃ الذین کفروا السفلی “۔ چناچہ کافروں کا کوئی منصوبہ چلنے نہ پایا۔ (آیت) ” کلمۃ اللہھی العلیا “۔ چناچہ اسی کی تدبیر غالب رہی۔
Ayah 9:41

اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا وَّ جَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 9:41 in the Quran reader

نکل پڑو ہلکے اور بوجھل اور جہاد کرو اپنے مال سے اور اپنی جان سے اللہ کی راہ میں،79 ۔ یہ بہتر ہے تمہارے حق میں اگر تم علم رکھتے ہو،80 ۔

79 ۔ خفافا اور ثقالا دو مقابل کے لفظ ہیں، ان کی مختلف ومتعدد تفسریں آئی ہیں۔ مثلا تنگدست اور خوشحال، جوان تیز رو اور پیر سست رفتار، بیکار اور مشغول، بےسامان اور باسامان، خوشدلی سے اور بیدلی سے وغیرہا۔ اے شیباوشبانا (ابن جریر، عن الحسن) اے اغنیاء و مساکین (ابن جریر، عن قتادہ) اے مشاغیل وغیر مشاغیل (ابن جریر، عن الحکم) اے نشا طا وغیر نشاطا (ابن جریر عن ابن عباس وقتادۃ) مقصود بہر صورت عموم حکم ہے کہ جس حال میں بھی ہو جہاد کے لئے چل پڑو۔ نکل کھڑے ہو۔ ابن جریر نے متعدد تفسیریں نقل کرکے قول فیصل یہ لکھا ہے کہ خفاف کے تحت میں ہر وہ شخص داخل ہے جسے قوت، صحت، جوان عمری، خوشحالی، بےشغلی غرض کسی بنا پر آسانیاں حاصل ہوں اور ثقال کے ماتحت وہ سب آجاتے ہیں جنہیں اس کے برعکس مذکورہ بلابناؤں میں دشواریاں لاحق ہوں اور اسی کے قریب قریب ابن کثیر نے بھی لکھا ہے۔ حتم علی المومنین فی الخروج معہ علی کل حال فی المنشط والمکر والعسر والیسر (ابن کثیر) (آیت) ” فی سبیل اللہ “۔ جہاد خواہ اپنے عام ووسیع معنی میں ہو یا محدود واصطلاحی معنی میں قتال کا مترادف، فی سبیل اللہ کی قید ہر حال میں لگی ہوئی، فقہاء نے انفرواخفافا وثقالا سے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ جب جہاد واجب ہوجائے تو امیر جہاد اور لشکریوں کے فاسق ہونے کے ساتھ بھی واجب رہتا ہے۔ فان قیل ھل یجوزا الجھاد مع الفساق قیل لہ ان کل احد من المجاھدین فانما یقول بفرض نفسہ فجائز لہ ان یجاھد الکفار وان کان امیر الجیش وجنودۂ فساقا (جصاص) چناچہ اصحاب نبی ﷺ سے خلفائے راشدین کے بعد فاسق امیروں کی سرداری میں جہاد کرنا ثابت ہے۔ وقد کان اصحاب النبی ﷺ یغزون بعد الخلفاء الاربعۃ مع الامراء الفساق وغزا ابوایوب الانصاری مع یزید اللعین (جصاص) اور فقہاء نے یہ نکتہ بھی خوب لکھا ہے کہ فاسق جب جہاد میں شریک ہوگیا تو اس حیثیت سے وہ فاسق رہا کہاں، وہ تو خود اب مطیع ہوگیا۔ فان الفاق اذا جاھدوا فھم مطیعون فی ذلک (جصاص) 80 ۔ جہاد سے آخرت کی فلاح تو ظاہرا یقینی ہے یعنی وہاں کا اجروقرب۔ باقی دنیا کی فلاح بھی اکثر حاصل ہی ہوجاتی ہے یعنی فتح وعزت اور مال غنیمت وغیرہ۔
Ayah 9:42

لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِیْبًا وَّ سَفَرًا قَاصِدًا لَّاتَّبَعُوْكَ وَ لٰكِنْۢ بَعُدَتْ عَلَیْهِمُ الشُّقَّةُ١ؕ وَ سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ١ۚ یُهْلِكُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ۠ Open ayah 9:42 in the Quran reader

اگر کچھ مال لگے ہاتھ مل جانے والا ہوتا اور سفر بھی معمولی ہوتا تو یہ لوگ ضرور آپ کے ساتھ ہولیتے لیکن انہیں مسافت ہی دور دراز معلوم ہوئی،81 ۔ اور یہ لوگ عنقریب اللہ کی قسم کھا جائیں گے اگر ہم سے ہوسکتا تو ضرور تمہارے ساتھ چلتے یہ لوگ اپنی ہی جانوں کو ہلاک کررہے ہیں،82 ۔ حالانکہ اللہ جانتا ہے کہ یہ لوگ یقیناً جھوٹے ہیں،83 ۔

81 ۔ (اور اس لئے یہیں رہ گئے) ذکر منافقین کا ہو رہا ہے جنہوں نے غزوۂ تبوک میں ہمراہ جانے سے انکار کردیا تھا۔ تبوک کی مسافت مدینہ منورہ سے 12 منزلوں کی تھی۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں سالک کے لئے اپنے اخلاص کے امتحان کا طریقہ درج ہے یعنی وہ یہ دیکھے کہ جس امر میں کوئی نفع دنیوی نہیں بلکہ مشقت ہی ہے۔ اس میں نفس کا کیا رنگ ہے، نفع دنیوی والے ہی اعمال کا کرتے رہنا دلیل اخلاص نہیں۔ 82 ۔ (جھوٹی قسمیں کھاکھا کر) (آیت) ” سیحلفون “۔ میں س یعنی عنقریب سے مراد یہ ہے کہ جب تم لوگ جہاد سے واپس آجاؤ گے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس طرح سالک کو اس کا نفس جھوٹے دعو وں سے دھوکا دیتا رہتا ہے اور طاعات کی راہ میں طرح طرح کے باطل عذرات تراشتا رہتا ہے۔ 83 ۔ (چنانچہ ان کو استطاعت تھی اور پھر بھی یہ نہ گئے)
Ayah 9:43

عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ١ۚ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ تَعْلَمَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 9:43 in the Quran reader

اللہ نے آپ کو معاف کردیا (لیکن) آپ نے ان کو اجازت کیوں دے دی تھی جب تک کہ آپ پر سچے لوگ ظاہر نہ ہوجاتے اور آپ جھوٹوں کو جان نہ لیتے،84 ۔

84 ۔ ذکر ان منافقین کا ہے، جو رسول اللہ ﷺ سے اجازت لے کر وطن میں رہ گئے تھے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کی اجازت ملنے پر ان لوگوں کو جو گونہ بےفکری ہوگئی، یہ نہ ہوتی، بلکہ اگر آپ ﷺ کے بغیر اجازت یہ رہ جاتے تو ان کی خباثت اور زیادہ کھل کر رہتی (آیت) ” الذین صدقوا “۔ سے مراد مومنین صادقین ہیں جن کے پاس واقعی کوئی عذر تھا۔ (آیت) ” لم اذنت لھم “۔ اجازت سے مراد ہے جنگ میں شریک نہ ہونے اور وطن میں رہ جانے کی اجازت۔ یہ اجازت دے دینا کوئی معصیت نہ تھی، البتہ حالات وقت کے لحاظ سے اجازت نہ دنیا بہتر تھا۔ (آیت) ” عفا اللہ عنک “۔ لفظ عفو سے گناہ کا سرزد ہوچکنا لازم نہیں آتا۔ عفو جس طرح گناہ اور جرم کئے جاتے ہیں، اسی طرح معافی خلاف احتیاط اور خلاف اولی کارروائیوں پر بھی ملتی ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ جس طرح آیت میں حق تعالیٰ نے عفو کو شکایت پر مقدم فرمایا، یہی معاملہ حق تعالیٰ کا باطن میں مقبولین کے ساتھ رہا کرتا ہے کہ عین عتاب میں بھی اپنا لطف دکھاتے رہتے ہیں۔ مرشد تھانوی (رح) نے یہ بھی فرمایا کہ (آیت) ” لم اذنت لھم “۔ الخ میں یہ شیوخ کو یہ تعلیم ہے کہ مریدوں کے عذر قبول کرنے میں احتیاط وبیداری سے کام لیں کہ آیا وہ عذر واقعی و صحیح ہے بھی۔
Ayah 9:44

لَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:44 in the Quran reader

جو لوگ اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ (کبھی) آپ سے اجازت نہ مانگیں گے کہ اپنے مال وجان سے جہاد نہ کریں اور اللہ پرہیزگاروں سے خوف واقف ہے،85 ۔

85 ۔ (اور انہیں اجر بھی خوب اور پورا پورا دے گا) (آیت) ” لا یستاذنک “۔ الخ بلکہ یہ صاحب ایمان لوگ جہاد سے چرانا کیا، الٹاتعمیل الہی کے لئے اور دوڑیں گے، یہ مومنین سے جو نفی استیذان کی ہورہی ہے اس سے مراد استیذ ان بلاعذر ہے، ورنہ عذر واقعی کی بناء پر استیذان تو بڑے سے بڑے کمال ایمان وتقوی کے منافی نہیں مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ مومن جب خیر کو سنتا ہے تو بلا تامل اس کی طرف دوڑتا ہے اور یہ حالت شوق سے پیدا ہوتی ہے تو اس میں شوق کا اثبات ہوا،
Ayah 9:45

اِنَّمَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ ارْتَابَتْ قُلُوْبُهُمْ فَهُمْ فِیْ رَیْبِهِمْ یَتَرَدَّدُوْنَ Open ayah 9:45 in the Quran reader

آپ سے اجازت تو وہی لوگ مانگتے ہیں جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان ہی نہیں رکھتے اور ان کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں سو اپنے شک میں پڑے ہوئے حیران ہیں،86 ۔

86 ۔ (کہ نہ ایمان کا قصد کرتے ہیں اور نہ امت اسلامیہ کے دائرہ سے انہیں اپنے کو بالکل نکالتے ہی بن پڑتا ہے) (آیت) ” یترددون “۔ تردد کے معنی ہیں حیران وسرگردان ہونا، دل کا آگا پیچھا کرنا، واقتی منافقین کا یہی حال رہا کرتا ہے۔ (آیت) ” انما یستاذنک “۔ یعنی جہاد سے بلاعذر بچ جانے کی اجازت تو آپ سے وہی لوگ مانگتے ہیں۔ (آیت) ” وارتابت قلوبھم “۔ یہ شک ان کو اسلام کی صداقت وحقانیت کے بارے میں ہے۔
Ayah 9:46

وَ لَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَهٗ عُدَّةً وَّ لٰكِنْ كَرِهَ اللّٰهُ انْۢبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَ قِیْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِیْنَ Open ayah 9:46 in the Quran reader

اور اگر ان لوگوں نے چلنے کا ارادہ کیا ہوتا تو اس کا کچھ سامان تو کرتے،87 ۔ لیکن اللہ نے ان کے جانے کو پسند ہی نہ کیا اسی لئے انہیں جما رہنے دیا گیا کہ بیٹھنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو،88 ۔

87 ۔ یہ منافقین اب بعد کو عذر یہ کرنے لگے کہ چلنے کا ارادہ تو ہمارا پختہ تھا لیکن عین وقت پر فلاں فلاں ضرورتیں اور مجبوریاں پیش آگئیں۔ جرح ان کے اس بیان پر ہورہی ہے اور ارشاد ہوتا ہے کہ انہوں نے سفر کی تیاریاں بھی کچھ کی تھیں ؟ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ تعطل علامت ہے عدم ارادہ کی چناچہ بہت سے لوگ اپنے نفس کے دھوکے میں پڑے ہوئے طاعات کی رغبت کا دعوی کرتے ہیں۔ حالانکہ جھوٹے ہوتے ہیں۔ 88 ۔ سارے افعال کا حق تعالیٰ کا اپنی جانب منسوب کرنا اسی معلوم ومعروف قرآنی محاورہ واسلوب بیان کے مطابق ہے کہ بندہ کے ہر فعل تکوینی کی نسبت مسبب الاسباب کی جانب کردینی درست ہے۔ (آیت) ” لکن کرہ اللہ انبعاثھم “۔ اللہ کی طرف سے یہ ناپسندیدگی یاکراہت ان لوگوں کی کفر پر وری اور ایمان بیزاری ہی کی بنا پر ہے (آیت) ” فثبطھم “۔ یعنی انہیں ملنے کی ہمت وتوفیق ہی نہ دی، اس سے اشارۃ یہ بھی نکل آیا کہ اخلاص وارادت کے لئے توفیق الہی شرط ہے۔ (آیت) ” وقیل “۔ اس ” قول “ سے مراد حکم تکوینی ہے۔ (آیت) ” القعدین “۔ وہ پیچھے رہ جانے والے مراد ہیں، جنہیں کسی عذر صحیح کی بنا پر مجبور تھی۔ اے الرجال الذین یکون لھم عذر یمنعھم عن الخروج (روح)
Ayah 9:47

لَوْ خَرَجُوْا فِیْكُمْ مَّا زَادُوْكُمْ اِلَّا خَبَالًا وَّ لَاۡاَوْضَعُوْا خِلٰلَكُمْ یَبْغُوْنَكُمُ الْفِتْنَةَ١ۚ وَ فِیْكُمْ سَمّٰعُوْنَ لَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:47 in the Quran reader

اگر یہ لوگ تمہارے شامل ہو کر چلتے تو تمہارے درمیان فساد ہی بڑھاتے یعنی تمہارے درمیان فتنہ پردازی کی فکر میں دوڑے دوڑے پھرتے،89 ۔ اور تمہارے درمیان ان کے جاسوس (اب بھی) موجود ہیں اور اللہ ظالموں سے خوب واقف ہے،90 ۔

89 ۔ مطلب یہ ہوا کہ ان منافقین کا لشکر اسلام کے ساتھ نہ جانا مصالح تکوینی کے اعتبار سے بھی اچھا ہی ہوا، یہ ساتھ جاتے تو سوا اس کے اور کیا کرتے کہ لگائی بجھائی کرکے آپس میں تفریق ڈلواتے۔ جھوٹی خبریں اڑا کر پریشان کرتے، اور دشمن کا خوف ورعب دلوں میں بٹھاتے ، (آیت) ” فیکم “۔ یعنی تمہارے درمیان شامل ہوکر، اے فی جیشکم وفی جمعکم (جمل) قیل فی بمعنی مع اے معکم (جمل) ولا۔ میں وعطف تفسیری کے لئے ہے۔ 90 ۔ (چنانچہ اس سے بھی خوب واقف ہے کہ ان کے جو لوگ تمہارے ساتھ لگے ہوئے ہیں وہ چونکہ اہل الرائے نہیں، اس لئے ان کا شامل رہنا چنداں مضر بھی نہیں) (آیت) ” سمعون “۔ کے معنی اس سیاق میں جاسوس کے یا ٹوہ لینے والوں کے ہیں۔ اے جواسیس للکفار (ابن عباس ؓ المراد فیکم عیون لھم ینقلون الیھم ما یسمعون منکم (کبیر۔ عن مجاہد وابن زید) وفیکم مخبرون لھم یؤدون الیھم ما یسمعون منکم وھم الجواسیس (معالم عن مجاہد)
Ayah 9:48

لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ وَ قَلَّبُوْا لَكَ الْاُمُوْرَ حَتّٰى جَآءَ الْحَقُّ وَ ظَهَرَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:48 in the Quran reader

یہ تو پہلے بھی فتنہ پردازی کی فکر میں لگ چکے ہیں اور آپ کے لئے کاروائیوں کی الٹ پھیر کرتے رہے یہاں تک کہ سچا وعدہ آگیا اور اللہ کا حکم غالب آکر رہا اور ان کو ناگوار گزرتا رہا،91 ۔

91 ۔ (تو آیندہ بھی اسی طرح ہوگا۔ آپ فکر وتردد میں نہ پڑیں) (آیت) ” ابتغوا الفتنۃ من قبل “۔ اشارہ ہے جنگ احد وغیرہ کی جانب۔ (آیت) ” قلبوا لک الامور “۔ مثلا یہ کہ آپ کے شریک ہوئے اور پھر ہٹ گئے تاکہ مسلمان پراگندہ خاطر ودل شکستہ ہوجائیں۔
Ayah 9:49

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ ائْذَنْ لِّیْ وَ لَا تَفْتِنِّیْ١ؕ اَلَا فِی الْفِتْنَةِ سَقَطُوْا١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:49 in the Quran reader

اور ان میں کوئی کوئی ایسا بھی ہے جو کہتا ہے کہ مجھے رخصت دے دیجیے اور مجھے خرابی میں نہ ڈالیے،92 ۔ خوب سن لو کہ خرابی میں تو یہ پڑ ہی چکے ہیں، اور بیشک دوزخ کافروں کو گھیرے ہوئے،93 ۔

92 ۔ رومی مسیحی لیڈیاں بالکل آج کل کی فرنگنوں کی طرح اپنے گورے رنگ، اپنے بناؤسنگار اور اپنی بےحجابی وعشوہ طرازی کے لئے مشہور تھیں بعض چالاک منافقوں نے اس کو ایک عذر تراش لیا تھا اور رسول اللہ ﷺ سے آکر عرض کیا تھا کہ ہم تو یہیں رہ جانے دیجیے۔ ہمیں اپنی شرک سے الٹے اور ضرر کا اندیشہ ہے۔ (آیت) ” منھم “۔ یعنی انہیں مخالفین متخلفین میں سے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ نفس طاعات کی پابندی سے یہ بہانہ کرکے عذر کرنا ہے کہ طاعت میں فلاں فلاں مفسدے ہیں جن کا شرطاعت کی خیر سے بڑھا ہوا ہے۔ 93 ۔ (جس کا ظہور کامل تو گو آخرت میں ہوگا لیکن بہرحال اعمال کفریہ کی بنا پر اس احاطت جہنم کا آغاز تو ابھی ہوچکا ہے) (آیت) ” الا فی الفتنۃ سقطوا “۔ رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی اور آپ کی شریعت سے کفر سے بڑھ کر خرابی اور ہو کون سی سکتی ہے۔ اور اپنی اس نافرمانی وکفر کے دنیوی واخروی ثمرات ونتائج کو تو یہ اپنے ہاتھوں بلاچکے، دین کو مصیبت اور طاعت کو بلاسمجھنے والے کم از کم عہد رسول اللہ ﷺ اور دوران نزول قرآن میں امن میں نہ رہ سکے۔ صحابہ کرام سربکف سرگرم جہاد رہے۔ اور دنیا ہر طرح کامیاب ومنصور۔ منافقین نے جتنی تمنائیں احکام دین سے بچنے کی کیں اور زیادہ ہدف مصائب بنتے گئے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اہل اشارات کے نزدیک یہی اخلاق سیۂ و اعمال قبیحہ جو آج کفار اشرار کو گھیرے ہوئے ہیں، کل بہ صورت نار ظاہر ہوں گے۔
Ayah 9:50

اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْكَ مُصِیْبَةٌ یَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَاۤ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَ یَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 9:50 in the Quran reader

اگر آپ کو کوئی اچھی حالت پیش آتی ہے تو یہ انہیں غمگین کردیتی ہے اور اگ آپ پر کوئی حادثہ آپڑتا ہے تو یہ کہنے لگتے ہیں کہ ہم نے تو (اسی لئے) پہلے سے اپنا امر (احتیاط) اختیار کرلیا تھا اور خوش خوش منہ موڑے ہوئے چلے جاتے ہیں،94 ۔

94 ۔ (آیت) ” ھم “۔ اور سارے صیغہ جمع مذکر غائب کے منافقین کے لئے آئے ہیں۔ (آیت) ” حسنۃ۔ مصیبۃ “۔ دونوں لفظوں کا استعمال منافقین کے نقطہ نظر سے ہے یعنی اسی مادی دنیا کا نفع وضر۔ (آیت) ” قد اخذنا امرنا “۔ مثلا یہی کہ جنگ میں مسلمانوں کے ساتھ نہیں نکلے۔ امر یہاں احتیاط یا پیش بندی کے معنی میں ہے۔ امرنا اے حذرنا (ابن جریر۔ عن مجاہد)
Ayah 9:51

قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا١ۚ هُوَ مَوْلٰىنَا١ۚ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 9:51 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے ہم پر کچھ بھی پیش نہیں آسکتا مگر وہی جو اللہ نے ہمارے لئے لکھ دیا ہے وہ ہمارا مالک ہے اور اللہ ہی کا سہارا اہل ایمان کو رکھنا چاہیے،95 ۔

95 ۔ اس سے یہ معلوم ہوگیا کہ فضل خدا پر بھروسہ اور تقدیر الہی پر اعتماد اہل ایمان کا شیوہ اور ایمان کی علامت ہے۔ (آیت) ” قل “۔ یعنی آپ یہ ان منافقین سے کہہ دیجئے جو اہل ایمان سے حسد رکھتے ہیں۔ (آیت) ” لن۔۔۔ مولنا “۔ سو ہو جو کچھ بھی کرے گا ہمارے حق میں بہتر ہی کرے گا۔ ع : ہرچہ آن خسر وکند شریں بود “۔ سکون خاطر، یکسوئی قلب، اطمینان و فراغت کا یہ آسان، سستا اور مؤثر نسخہ کتنی بار کا آزمایا ہوا ہے بدنصیب ترین ہیں وہ لوگ جو اس کی طرف سے منہ پھیرے ہوئے ہیں۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں پہلے ایسے مراقبہ کی تعلیم ہے جو تو کل کو سہل کردے، اس کے بعد اصل توکل کا حکم ہے۔
Ayah 9:52

قُلْ هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحْدَى الْحُسْنَیَیْنِ١ؕ وَ نَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ اَنْ یُّصِیْبَكُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِهٖۤ اَوْ بِاَیْدِیْنَا١ۖ٘ فَتَرَبَّصُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ Open ayah 9:52 in the Quran reader

آپ یہ (بھی) کہہ دیجیے کہ تم تو ہمارے حق میں دو بھلائیوں میں سے ایک (بھلائی) کے منتظر رہتے ہو،96 ۔ درآنحالیکہ ہم تمہارے حق میں انتظار اس کا کرتے رہتے ہیں کہ اللہ تم پر کوئی عذاب واقع کرے گا اپنی طرف سے یا ہمارے ہاتھوں سے،97 ۔ سو تم انتظار کرو ہم بھی تمہارے ساتھ (اپنے طور پر) منتظر ہیں،98 ۔

96 ۔ مطلب یہ ہوا کہ تم ہمارے لئے جن دو باتوں کو فرض کرسکتے ہو یعنی فتح یا موت وشکست تو ہمارے لئے تو دونوں پہلوؤں میں خیر ہی خیر ہے فتح کا خیر ہونا تو اجر اخروی اور منافع دنیوں دونوں کے اعتبار سے ظاہر ہی ہے۔ رہی مصیبت تو مومن کے حق میں وہ بھی عین رحمت ہے، رفع درجات وکفارۂ سیئات کا بہترین ذریعہ ! 97 ۔ (آیت) ” عذاب من عندہ “۔ یعنی کوئی بلائے آسمانی، بلاتوسط دست انسانی۔ (آیت) ” بایدینا “۔ یعنی کوئی سزا ہمارے ہاتھوں سے۔ 98 ۔ آیت میں رسول اللہ ﷺ کو ہدایت، دو جوابوں کی ہوئی۔ “ پہلے جواب کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مالک وحاکم ہیں۔ حاکم ہونے کی حیثیت سے ان کو ہر تصرف کا اختیار ہے اس لئے ہم راضی ہیں۔ اور دوسرے جواب کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ حکیم ہیں۔ اس مصیبت میں بھی ہمارے فائدہ کی رعایت کرتے ہیں۔ اس لئے ہم ہر حال میں فائدہ میں ہیں، بخلاف تمہارے کہ تمہاری خوشحالی کا انجام بھی وبال ونکال ہے اگر دنیا میں نہیں تو آخرت میں ضرور ہے “۔ (تھانوی) حاصل یہ کہ مومن کسی صورت میں بھی نقصان میں نہیں رہتا۔ اگر تدبیر و کوشش میں کامیابی ہوگئی تو فوری مسرت ظاہر ہے۔ اگر ناکامی ہوئی تو اجر وثواب، حسرت وتاسف میں بھی ہے۔ صوفیہ نے نکتہ یہ پیدا کیا ہے کہ قبض وبسط دونوں صورتیں عنایت الہی کی ہیں۔ طالب عارف کو مستقل مزاج ہر صورت میں رہنا چاہیے۔
Ayah 9:53

قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا لَّنْ یُّتَقَبَّلَ مِنْكُمْ١ؕ اِنَّكُمْ كُنْتُمْ قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 9:53 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ تم خوشی سے خرچ کرو یا ناخوشی سے، تم سے کسی طرح نہ قبول کیا جائے گا کیونکہ تم تو نافرمان لوگ ہو،99 ۔

99 ۔ اور نافرمانی جو یہاں فقدان ایمان کے مرادف ہے تمہاری مالی اعانت کی مقبولیت سے مانع ہے۔ ایمان تو عنداللہ پہلی شرط قبول ہے اور عمل قبول کیسے ہوتا جبکہ خود ان لوگوں کو مقصود رضا وثواب وقرب تھا ہی نہیں۔ آیت کے اندر ہماری قوم کے امراء وروساء کے لئے بڑی عبرت پوشیدہ ہے جو پختگی ایمان اور حسن عمل کی طرف سے غافل، محض اپنے بھاری بھاری قومی چندوں پر نازاں اور انہی پر تکیہ کئے رہتے ہیں۔ مالی اعانت بھی بلاشبہ بہت بڑی خدمت ہے دین کی لیکن نفس ایمان اور ایمان صحیح کا وجود ان پر بھی مقدم ہے۔
Ayah 9:54

وَ مَا مَنَعَهُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقٰتُهُمْ اِلَّاۤ اَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ بِرَسُوْلِهٖ وَ لَا یَاْتُوْنَ الصَّلٰوةَ اِلَّا وَ هُمْ كُسَالٰى وَ لَا یُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:54 in the Quran reader

اور اس سے کہ ان کے چندے قبول کئے جائیں کوئی امر مانع نہیں بجز اس کے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا ہے،100 ۔ اور یہ لوگ نماز نہیں پڑھتے مگر ہارے جی کے ساتھ اور خرچ نہیں کرتے مگر ناگواری کے ساتھ،101 ۔

100 ۔ یہاں صاف تصریح کردی ہے کہ کفر کے ہوتے ہوئے کوئی سا بھی عمل قبول نہیں۔ ایمان تو پہلی اور سب سے بڑی شرط قبول اعمال کی ہے۔ 101 ۔ اور یہ دل سے ناگواری اور طیعت پر گراں باری خود دلیل ہیں، ان کے فقدان ایمان کی، ادائے طاعت سے طبیعت میں تازگی، بشاشت اور مستعدی تو جب ہی پیدا ہوسکتی ہے۔ جب ایمان پختہ ہو اور اجر وثواب کی امید قومی ہو۔ آیت میں ہم سب نام کے مسلمانوں کے لئے ڈرنے کی بات ہے۔ ظاہری اعمال منافقین کے بھی مسلمانوں ہی سے مشابہت رکھتے تھے، نمازیں بھی کسی نہ کسی طرح پڑھ لیتے تھے۔ خیر خیرات میں بھی کچھ نہ کچھ دے ہی نکلتے تھے، اس پر بھی حکم ان پر کفر اور فقدان ایمان ہی کا لگا ! خدا نہ کرے کہ ہم میں سے کسی کا یہ حشر ہو، علماء نے یہ بھی لکھا ہے کہ جب محض کسل نماز کی علامت قرار پائی تو ترک نماز پر ظاہر ہے کس درجہ کی چیز ہوگی۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ یہ لوگ لذت عبودیت سے محروم اور مشاہدۂ جمال معبود سے محروم ہیں۔ بعض عارفوں نے کہا ہے کہ جس کو آمر کی معرفت نہ ہوگی وہ امر کی طرف کسل سے اٹھے گا اور جس کے دل میں آمر کی معرفت ہوگی وہ امر کی طرف رحت سے اٹھے گا۔
Ayah 9:55

فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:55 in the Quran reader

سو ان کے مال اور ان کی اولاد آپ کو حیرت میں نہ ڈالیں،102 ۔ اللہ کو تو بس یہ منظور ہے کہ انہیں (نعمتوں) کے ذریعہ سے انہیں دنیا کی زندگی میں ہی عذاب دیتا رہے، اور ان کی جانیں ایسی حالت میں نکالے کہ وہ کافر ہوں،103 ۔

102 ۔ یعنی یہ خیال نہ گزرے کہ یہ جب مقبولین میں ہیں تو انہیں مال اور اولاد کی نعمتیں کیسے نصیب ہورہی ہیں۔ یہ سوال آج بھی کافر قوموں کی خوشحالی، کثرت آبادی، اقبال مندی کو دیکھ دیکھ بہ کثرت مسلمانوں کے دلوں میں ہوتا رہتا ہے۔ حالانکہ دنیوی نعمتوں کیلئے مقبولیت ذرا بھی شرط لازمی نہیں۔ (آیت) ” تعجبک “۔ بہ ظاہر خطاب صرف رسول اللہ ﷺ سے ہے لیکن جواب کی یہ تعلیم کل مسلمانوں کو ہے۔ ھذا الخطاب وان کان فی الظاہر مختصا بالرسول (علیہ السلام) الاان المراد منہ کل ال مومنین (کبیر) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس میں اہل ایمان کو تنبیہ ہے کہ اہل دنیا کے مال وزینت کو مستحسن نہ سمجھیں اور کہیں ان کے باعث آخرت کے عمل اور اس پر نظر کرنے سے محجوب نہ ہوجائیں۔ 103 ۔ (جس سے آخرت میں بھی مبتلائے عذاب رہیں) ” دنیا میں مال واولاد کا عذاب ہونا محب دنیا کے لئے لازم ہے۔ اول اس کی تحصیل و تمنا میں کیسی کیسی کوفت جسمانی وروحانی اٹھانی پڑتی ہے پھر حصول کے بعد ذرا نقصان ہوگیا ذرا مرض ہوگیا۔ بس ایک کوہ غم سر پر سوال ہے سب حالتیں طبیعت کے موافق بھی ہوں تو اس کا اندیشہ کہ کوئی امر ناگوار نہ پیش آجائے پھر مفارقت کے وقت کس بلا کی حسرت اور صدمہ کہ خدا کی پناہ اور آخرت میں تو ظاہر ہے کہ کافر پر جتنی دنیوی نعمتیں ہوں گی اس کا کفر دونا پڑے گا جس پر عذاب آخرت موعود ہے “۔ (تھانوی (رح) منافقوں پر ایک عذاب تو دنیا ہی میں مشاہد ہے کہ جن اہل ایمان سے وہ دل میں بغض رکھتے ہیں انہی کی خوشامد میں زبان سے لگے رہنا پڑتا ہے۔ انھم کانوا یبغضون محمدا (علیہ الصلوۃ والسلام) بقلوبھم ثم کانو یحتاجون الی بذل اموالھم واولادھم ونفوسھم فی خدمتہ ولا شک ان ھذہ الحالۃ شاقۃ شدیدۃ (کبیر) فقہاء نے اس آیت سے بہ عبارۃ النص (کیونکہ ”(آیت) ” لاتعجبک “۔ بمعنی نہی تحریمی ہے) یہ مسئلہ نکالا ہے کہ کافروں فاسقوں کی ظاہری نعمتوں کو دیکھ کر ان کے حال کو اچھا سمجھنا اور ویسی ہی کیفیت کی تمنا کرنا حرام ہے (آیت) ” لیعذبھم “۔ میں ل عاقبت کا ہے یعنی جو حرکتیں وہ لوگ کررہے ہیں۔ ان کا انجام یہی ہونا ہے کہ یہ نعمتیں ان کے حق میں عذاب بن کر رہیں۔ یہ مراد نہیں کہ انہیں یہ نعمتیں دینے سے اللہ کا مقصود یہی تھا۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس میں محجوبین کو تنبیہ ہے کہ جس سامان کو راحت کے لئے جمع کرتے رہتے ہیں۔ اس میں ان کو راحت نہیں محض جمع و حفاظت کی مشقتیں ہی ہیں۔ اور پھر چونکہ اعتقاد اجر اور تعلق مع اللہ سے محروم ہیں اس لئے ان مشقتوں میں تسہیل بھی نہیں ہوتی۔
Ayah 9:56

وَ یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لٰكِنَّهُمْ قَوْمٌ یَّفْرَقُوْنَ Open ayah 9:56 in the Quran reader

اور یہ لوگ اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ وہ تم میں سے ہیں، حالانکہ وہ تم میں سے نہیں، لیکن (ہے یہ کہ) وہ بزدل لوگ ہیں،104 ۔

104 ۔ (اور اس بزدلی کی بنا پر کہ اگر کہیں اپنے واقعی عقائد کا کھلم کھلا اظہار کردیں تو ان کے ساتھ بھی برتاؤ کافروں کا سا ہونے لگے، تقیہ کیے ہوئے ہیں، اور اپنے کو زبردستی مسلمان ظاہر کیے ہوئے ہیں) آج بھی ہمارے اندر کتنے لوگ ایسے ہیں جو محض سوسائٹی کے ڈر سے اور اس مجبوری کی بنا پر کہ کوئی دوسری سوسائٹی انہیں عزت کے ساتھ اپنے اندر جذب کرنے اور قبول کرنے پر تیار نہیں، محض سوشل حیثیت سے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیے ہوئے، اپنے آپ کو اسلامی سوسائٹی کا رکن بنائے ہوئے ہیں ! (آیت) ” انھم لمنکم “۔ یعنی قسمیں اس کی کھاتے رہتے ہیں۔ کہ ان کا شمار بھی تم مسلمانوں میں ہے۔ (آیت) ” یفرقون “۔ فرق کے معنی خوف سے اپنے اصلی عقیدہ کو چھپا ڈالنے کے ہیں۔ الفرق تفرق القلب من الخوف (راغب) اے یخافون القتل وما یفعل بالمشرکین فیتظاھرون بالاسلام تقیۃ (کشاف)
Ayah 9:57

لَوْ یَجِدُوْنَ مَلْجَاً اَوْ مَغٰرٰتٍ اَوْ مُدَّخَلًا لَّوَلَّوْا اِلَیْهِ وَ هُمْ یَجْمَحُوْنَ Open ayah 9:57 in the Quran reader

یہ اگر کوئی سی بھی پناہ کی جگہ پاتے یا کوئی غار یا کوئی (اور) جگہ گھس بیٹھنے کی تو یہ ضرور منہ اٹھا کر ادھر چل پڑتے،105 ۔

105 ۔ (اور اظہار اسلام کی کوئی ضرورت بھی نہ محسوس کرتے) یعنی یہ تو اظہار اسلام پر اپنے کو مجبور پا رہے ہیں جب ہی اتنی ظاہر داری بھی ہے۔ اگر انہیں کہیں پناہ گاہ مل گئی ہوتی تو یہ اتنی پروا بھی نہ کرتے۔
Ayah 9:58

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّلْمِزُكَ فِی الصَّدَقٰتِ١ۚ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْهَا رَضُوْا وَ اِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْهَاۤ اِذَا هُمْ یَسْخَطُوْنَ Open ayah 9:58 in the Quran reader

اور ان میں ایسے بھی ہیں جو آپ ﷺ پر صدقات کے بارے میں طعن کرتے ہیں لیکن اگر انہیں ان میں سے مل جاتا ہے تو راضی ہوجاتے ہیں اور اگر انہیں ان میں سے نہیں ملتا تو بس ناراض ہوجاتے ہیں،106 ۔

106 ۔ اسی سے ظاہر ہے کہ ان کے اغراض کی بنیاد تمام تر خود غرضی پر تھی۔ (آیت) ” منھم من یلمزک فی الصدقت “۔ یعنی یہ منافقین آپ ﷺ کی شکایت کرتے ہیں کہ تقسیم میں عدل کی رعایت نہیں کرتے۔ (آیت) ” فان اعطوا منھا “۔ یعنی اگر خود انہی کو ان کی حسب مرضی و خواہش مل جائے۔
Ayah 9:59

وَ لَوْ اَنَّهُمْ رَضُوْا مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١ۙ وَ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَ رَسُوْلُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِلَى اللّٰهِ رٰغِبُوْنَ۠ Open ayah 9:59 in the Quran reader

کاش ! یہ اس پر راضی ہوتے جو کچھ انہیں اللہ اور اس کے رسول نے دیا تھا، اور کہتے کہ ہم کو اللہ کافی ہے اللہ ہم کو اپنے فضل سے اور اس کے رسول (بھی اور) دے دیں گے ہم تو اللہ ہی کی طرف راغب ہیں ! ،107 ۔

107 ۔ (اور اسی سے سب امیدیں قائم کئے ہوئے ہیں) (آیت) ” ما اتھم اللہ ورسولہ “۔ یعنی جو کچھ اللہ نے انہیں اپنے رسول کے ذریعہ سے دلوائے ہیں۔ (آیت) ” حسبنا اللہ “۔ یعنی جتنا ہمیں اللہ نے دلوادیا وہی ہمارے حق میں مناسب تھا۔ مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ اہل رضا کی علامت یہ ہے کہ جو کچھ بھی حق تعالیٰ کی طرف سے پیش آجائے اس پر شاداں رہے اور بلا سے بھی لذت حاصل کرے۔