20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 20:121

فَاَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١٘ وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى۪ۖ Open ayah 20:121 in the Quran reader

سو دونوں نے اس (درخت) سے کھالیا ان پر ان کے پردہ کے مقامات ظاہر ہوگئے اور،143۔ دونوں لگے اپنے اوپر جنت کے پتے چپکانے،144۔ اور آدم (علیہ السلام) سے اپنے پروردگار کا قصور ہوگیا، سو وہ غلطی میں پڑگئے،145۔

143۔ یہ درخت وہی تھا جس کے قریب جانے کی بھی ممانعت ہوچکی تھی اور اس کے پھل ہی کھالینے کا یہ طبعی اثر تھا جو فورا ظاہر ہو کررہا۔ 144۔ اس سے ظاہر ہے کہ ستر پوشی امر طبعی اور داخل فطرت بشری ہے اور جو قومیں برہنہ یا نیم برہنہ رہنے میں کوئی عیب نہیں سمجھتیں ان کی فطرت مسخ ہوچکی ہے۔ 145۔ (تحصیل مقصود خلود کے باب میں) اے ضل عن مطلوبہ الذی ھو الخلود وعن الرشد حیث اغتربقول العدو (روح) مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس میں ذکر ہے خطاء اجتہادی کے صدور کا کاملین سے، نیز اس پر مواخذہ کا، برخلاف عوام کے کہ انہیں اس پر احیانا اجر ملجاتا ہے۔
Ayah 20:122

ثُمَّ اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَیْهِ وَ هَدٰى Open ayah 20:122 in the Quran reader

پھر انہیں ان کے پروردگار نے مقبول بنالیا چناچہ ان کی توبہ قبول کرلی اور ہدایت دکھا دی،146۔

146۔ (جس پر وہ ہمیشہ قائم رہے) اجلب بالعفو والمغفرۃ وھداہ لرشدہ حتی رجع الی الندم والاستغفار (کبیر) مرشد تھانوی (رح) کا ارشاد ہے کہ اجتہاد جذب ہے اور ہدایت سلوک ہے۔ اس لیے آیت میں تقدیم ہے جذب کی سلوک پر۔
Ayah 20:123

قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِیْعًۢا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى١ۙ۬ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَ لَا یَشْقٰى Open ayah 20:123 in the Quran reader

(اللہ نے) کہا تم سب (اب) جنت سے اترو،147۔ ایک کے دشمن ہوکر،148۔ پھر اگر تم کو میری طرف سے کوئی ہدایت پہنچے،149۔ تو جو کوئی میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ بھٹکے گا اور نہ محروم رہے گا،150۔

147۔ (اور زمین پر جاؤ) حضرت آدم (علیہ السلام) کی لغزش تو معاف ہی ہوچکی تھی، تاہم طبعی اثرات اس ممنوع غذا کے استعمال سے مرتب ہورہے تھے وہ جنتی ماحول کے بالکل منافی تھے۔ 148۔ اس عالم عنصری کا تقاضائے طبعی ہی یہ ہے کہ آپس میں کشمکش اور پھر دشمنی پیدا ہو۔ اس زہر کا تریاق جہاں سے ممکن ہے اسی کا نام وحی الہی ہے۔ (آیت) ” بعضکم لبعض عدو “۔ میں خطاب ذریت آدم سے ہے۔ والمراد الذریۃ (کبیر) 149۔ (رسول یا کتاب کے ذریعہ سے) (آیت) ” ھدی “ کے معنی کسی نے رسول کے لیے ہیں کسی نے آیات کے، کسی نے دلائل کے، کسی نے قرآن کے۔ امام رازی (رح) کا فیصلہ ہے کہ (آیت) ” ھدی “۔ یہاں مرادف ہے دلالۃ کے اور اس کے مفہوم میں یہ سب چیزیں شامل ہیں۔ والتحقیق الی الھدی عبارۃ من الدلالۃ فیہ کل ذلک (کبیر) 150۔ نہ بھٹکے گا دنیا میں اور نہ محروم اجر رہے گا آخرت میں، بلکہ اپنی مدت حیات کے بعد سیدھا اپنے وطن اصلی جنت میں پہنچ جائے گا۔
Ayah 20:124

وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِیْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِیْشَةً ضَنْكًا وَّ نَحْشُرُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَعْمٰى Open ayah 20:124 in the Quran reader

اور جو کوئی میری نصیحت سے اعراض رکھے گا سو اس کے لئے تنگی کا جینا ہوگا،151۔ اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا اٹھائیں گے،152۔

151۔ (اسی دنیا میں) قال بہ جمع من المفسرین (کبیر) آخرت کی طرف سے بیخبر اور بےفکر اور عالم حکومت الہیہ سے منکر قناعت و توکل کے مفہوم سے ناآشنا رہنے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ انسان ساری عمر مال کی طلب میں، جاہ کی حرص میں، ” ترقی “ کی فکروہوس میں، نقصان اور کمی کے غم واندیشہ میں گھل گھل کرگزارے، اور اس لیے آیت میں تنگی کا تعلق قلب سے ہے، بڑے بڑے دولتمندوں، خوشحالوں کی خود کشی کرلینے کی خبریں جو آئے دن اخباروں میں چھپتی رہتی ہیں، سب اسی تنگی قلب کے شواہد ہیں۔ ذکر سے مراد قرآن ہی لیا گیا ہے (معالم) لیکن بہتر یہی ہے کہ اس کو عام ووسیع معنی میں رکھا جائے اور مادی کسب وہدایات آسمان اس کے مفہوم میں شامل رکھا جائے (روح) 152۔ یہ جسمانی بےبصری عکس ہوگی اس کی روحانی بےبصری کی، جو دنیا میں اس نے اپنے اوپر طاری رکھی تھی ،
Ayah 20:125

قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْۤ اَعْمٰى وَ قَدْ كُنْتُ بَصِیْرًا Open ayah 20:125 in the Quran reader

وہ کہے گا اے میرے پروردگار تو نے مجھے اندھا کیوں اٹھایا درآنحالیکہ میں آنکھوں والا تھا،153۔

153۔ (دنیا میں) ” یعنی میں تو میں بڑا زباں آور تھا یہاں بالکل گنگ ولال ہوگیا کوئی بات نہ سوجھتی ہے اور نہ بولا جاتا ہے “۔ (تھانوی (رح) اے لاحجۃ لی وقد کنت عالما بحجتی بصیرا بھا (بحر۔ عن مجاہد) اعمی عن حجتہ لا حجۃ لہ یھتدی بھا (بحر عن ابن عباس ؓ اقبل اعمی عن کل شیء الاجھنم (بحر)
Ayah 20:126

قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیْتَهَا١ۚ وَ كَذٰلِكَ الْیَوْمَ تُنْسٰى Open ayah 20:126 in the Quran reader

(اللہ) کہے گا اسی طرح تیرے پاس ہماری نشانیاں پہنچی تھی سو تو نے ان کا خیال نہ کیا اسی طرح آج تیرے خیال نہ کیا جائے گا،154۔

154۔ (اور تجھے عذاب میں پڑا رہنے دیا جائے گا) نسی تھا۔ ننسی۔ نسیان۔ یہاں بھول اور ذہول کے معنی میں نہیں، ارادی ترک توجہ واغماض کے معنی میں ہے۔ النسیان ھنا بمعنی الترک لا بمعنی الذھول (بحر) یعنی تیرے پاس ہمارے احکام انبیاء وعلماء کے ذریعہ سے پہنچے تھے مع سارے واضح و روشن دلائل کے، اور تو باوجود بصیرت و بصارت ان کی طرف سے اندھا بنا رہا، اس لیے آج تیری ارادی اندھا پن نمایاں کردیا گیا۔ رحمت الہی جسے پھٹکارے جس کی طرف سے اپنے کو غافل کرے اس سے بڑھ کر محرومی کسی کی ممکن ہی کیا ہے ؟ اللھم احفظنا۔ (آیت) ” کذلک “۔ جملہ کے شروع میں لا کر گویا عام قانون بتادیا گیا کہ جیسا جرم ہوتا ہے اسی کے متناسب ومناسب حال سزا بھی ملتی ہے۔ ومثل ذلک الجزاء الموافق للجنایۃ (روح)
Ayah 20:127

وَ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ اَسْرَفَ وَ لَمْ یُؤْمِنْۢ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَدُّ وَ اَبْقٰى Open ayah 20:127 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم ہر اس شخص کو سزا دیں گے جو حد سے نکل جائے اور اپنے پروردگار کی نشانیوں پر ایمان نہ لائے اور واقعی آخرت کا عذاب ہے بڑا سخت اور بڑا دیرپا،155۔

155۔ سخت اس قدر کہ اس کے آگے سختی کا کوئی درجہ انسان کے لیے متصور ہی نہیں، اور دیرپا ایسا کہ کبھی ختم ہی نہ ہوگا ! (آیت) ” اسرف “۔ سے مراد ہے کہ حد عبودیت سے نکل گیا۔ یا اپنے مرتبہ عبودیت کو دوسرے محل میں صرف کرنے لگا۔
Ayah 20:128

اَفَلَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ Open ayah 20:128 in the Quran reader

کیا ان کو اس سے بھی ہدایت نہ ہوئی کہ ہم (اب تک) ان کے پیش رو کتنے گروہوں کو ہلاک کرچکے ہیں جن کے مسکنوں میں (اب) یہ لوگ چل پھر رہے ہیں،157۔

156۔ اب روئے سخن ہر قرآن کے معاصر منکروں اور کافروں کی جانب ہے کہ ان کی آنکھیں اب بھی نہیں کھلتیں۔ تاریخ کی زبان سے یہ کتنی گردن کش قوموں کی تباہی و بربادی وہلاکت کے قصے سن چکے ہیں۔ آج انہیں مردود، مغضوب قوموں کے وطن میں خود آباد ہیں، ان کے کھنڈروں پر سے سفر میں آتے جاتے رہتے ہیں، پھر انہیں کے انجام سے عبرت حاصل نہیں کرتے ! 157۔ نشانیاں یعنی مذہبی و ایمانی زندگی کے برحق ہونے اور شرک وبے دینی کی زندگی کے ناحق ہونے کے دلائل و شواہد ، (آیت) ” فی ذلک “۔ ” اس امر میں “ یعنی اس مضمون میں جو ابھی بیان کیا گیا ہے۔ ذلک اشارۃ الی مضمون قولہ تعالیٰ کم اھلکنا قبلھم الخ (روح)
Ayah 20:129

وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَّ اَجَلٌ مُّسَمًّىؕ Open ayah 20:129 in the Quran reader

اور آپ کے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے سے نہ ہوچکی ہوتی اور ایک میعاد معین نہ ہوتی تو (ان پر عذاب) لازمی طور پر آجاتا،158۔

158۔ یعنی ان کے کفر، شرک، بےدینی کا اقتضاء تو یہی ہے کہ ان پر عذاب فی الفور آجائے لیکن دوسری حکمتوں اور مصلحتوں سے اس کے لیے ایک خاص وقت مقرر ہوچکا ہے، اس لیے اس وقت موعود کے قبل نہ آئے گا، (آیت) ” لولا کلمۃ سبقت من ربک “۔ اور وہ خدا کی بات یہی کہ تکوینی مصلحتوں کی بناء پر انہیں مہلت ملتی رہے گی۔
Ayah 20:130

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوْبِهَا١ۚ وَ مِنْ اٰنَآئِ الَّیْلِ فَسَبِّحْ وَ اَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضٰى Open ayah 20:130 in the Quran reader

سو آپ صبر کیجیے ان کی باتوں پر،159۔ اور اپنے پروردگار کی تسبیح کرتے رہیے حمد کے ساتھ آفتاب کے طلوع سے قبل اور اس کے غروب سے قبل اور اوقات شب میں بھی تسبیح کیجیے اور دن کے بھی اول وآکر میں تاکہ آپ خوش رہیں،160۔

159۔ (یہ یقیناً ہر دیندار کے لیے اشتعال انگیز اور صبر آزما ہیں) 160۔ (کہ دنیا کے آلام و افکار سے بچنے کا راستہ یہی عبادت میں مشغولیت کا ہے) (آیت) ” فسبح بحمد ربک “۔ حمد وتسبیح سے مراد یہاں نماز لی گئی ہے۔ (آیت) ” قبل طلوع الشمس “۔ میں فجر کی نماز آگئی، اور قبل غروب میں ظہر وعصر کی نمازیں۔ اور (آیت) ” انآیء الیل “۔ میں مغرب و عشاء کی نمازیں۔ (آیت) ” اطراف النھا ر “ سے نماز فجرومغرب کی مکرر تاکید ہوگئی۔ تکریر لصلاتی الصبح والمغرب ارادۃ الاختصاص (بیضاوی) بعض نے اس سے مراد نماز ظہر وعصر لی ہے اور بعض نے محض ظہر۔ امر بصلاۃ الظھر فانہ نھایۃ النصف الاول من النھار وبدایۃ النصف الاخر وجمعہ باعتبار النصفین (بیضاوی)
Ayah 20:131

وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ۬ لِنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:131 in the Quran reader

اور ہرگز آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھئے ان چیزوں کی طرف جن سے ہم نے ان کے گروہوں کو متمتع کر رکھا ہے ان کی آزمائش کے لئے،161۔ کہ وہ محض دنیوی زندگی کی رونق ہے اور آپ کے پروردگار کا عطیہ کہیں بہتر اور دیرپا ہے،162۔

161۔ (آیت) ” ازواجا منھم “۔ مراد کافروں کی مختلف قسمیں ہیں۔ مثلا یہود، نصاری، مشرکین وغیرہا اے اصنافامن الکفرۃ (کشاف) تقدیر کلام یوں ہے متعنا بہ بعضا منھم ازواجا۔ (آیت) ” لنفتنھم فیہ “۔ آزمائش سے مراد یہی ہے کہ کون ان نعمتوں کے حقوق ادا کرتا ہے اور کون ان کی ناقدری کرتا ہے۔ 162۔ آیت کے اس مختصر سے ٹکڑے میں اس مادی دنیا، اس کی آرائشوں، زینتوں، تکلفات کی کل کائنات بیان کردی کہ پورے تسلسل حیات سے جو یہاں سے لے کر آخرت تک ہے قطع نظر کرکے صرف اس مادی زندگی پر قناعت کرلینا کس درجہ حمق اور خام خیالی ہے۔ مال و دولت صرف وہی قابل قدر ہے جو آئندہ دور کی زندگی میں بھی کام آنے والا ہے۔ (آیت) ” زھرۃ الحیوۃ الدنیا “۔ زھرہ کے معنی لغت میں تازگی اور شادابی کے ہیں۔ حدیث کی کتابیں ابواب الزہد وغیرہ کے ماتحت اس قسم کے مضامین سے بھری پڑی ہیں۔ بخاری کی مشہور حدیث ہے کن فی الدنیا کانک غریب او عابر سبیل۔ دنیا میں اس طرح رہ کہ گویا تو غریب الوطن ہے یا مسافر راہ رو۔
Ayah 20:132

وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَیْهَا١ؕ لَا نَسْئَلُكَ رِزْقًا١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكَ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى Open ayah 20:132 in the Quran reader

اور اپنے گھروالوں کو نماز کا حکم دیتے رہئے اور خود بھی اس کے پابند رہیے،163۔ ہم آپ سے معاش نہیں چاہتے، معاش تو ہم خود آپ کو دیں گے،164۔ اور بہتر انجام پرہیزگاری ہی کا ہے،165۔

163۔ (کہ اصل توجہ کے قابل تو یہ امور ہیں) (آیت) ” اھلک “۔ اھل کے لفظ میں خاندان اور عا مومنین دونوں کا مفہوم شامل ہیں۔ فقہاء نے یہاں سے یہ استنباط کیا ہے کہ امر بالمعروف خصوصا تاکید نماز اپنے متعلقین پر واجب ہے۔ آج جو لوگ ظہر کی نماز کے لیے دفتروں، کچہریوں، وغیرہ کی مشغولیت کو اور عصر ومغرب و عشاء وغیرہ کے لیے دوسری مشغولیتوں کو عذر بنا کر پیش کرتے ہیں آیت میں ان سب کا رد آگیا۔ 164۔ یعنی مقصود اصلی اکتساب نہیں بلکہ دین اور طاعت ہیں، اکتساب کی اس حالت میں اجازت یا امر ہے کہ ضروری طاعت میں وہ مخل نہ ہوں “۔ (تھانوی (رح) (آیت) ” والعاقبۃ للتقوی “۔ عاقبۃ سے مراد ہے حسن عاقبت، اور تقوی سے مراد اہل تقوی ہیں۔ اے العاقبۃ المحمودۃ ولذوی التقوی (بیضاوی) فالمراد العاقبۃ الجمیلۃ لاھل التقوی (کبیر) 165۔ (اور تقوی ہی قابل التفات ہے)
Ayah 20:133

وَ قَالُوْا لَوْ لَا یَاْتِیْنَا بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اَوَ لَمْ تَاْتِهِمْ بَیِّنَةُ مَا فِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰى Open ayah 20:133 in the Quran reader

اور (یہ لوگ) کہتے ہیں کہ یہ ہمارے پاس کوئی نشان اپنے پروردگار کے پاس سے کیوں نہیں لاتے کیا ان کے پاس اس کا ظہور نہیں پہنچا جو کچھ اگلے صحیفوں میں ہے،166۔

166۔ یعنی خود قرآن جو ظہور ہے اگلی پیشینگوئیوں کا، اس سے نمایاں تر معجزہ اور کیا چاہیے ؟ (آیت) ” بینۃ “۔ سے مراد قرآن بھی ہوسکتی ہے اور رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارک بھی ماحصل دونوں صورتوں کا ایک ہی ہے۔ (آیت) ” وقالوا “۔ یہ کہنے والے کفار ومعاندین تھے۔
Ayah 20:134

وَ لَوْ اَنَّاۤ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِهٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَ نَخْزٰى Open ayah 20:134 in the Quran reader

اور اگر ہم انہیں عذاب سے ہلاک کردیتے اس (قرآن) کے قبل ہی تو (یہ لوگ) کہتے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہمارے پاس کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیرے احکام کی پیروی کرنے لگتے بجائے اس کے کہ ہم بےقدر اور رسوا ہوں،167۔

167۔ یعنی آج جب قرآن اور رسول آچکے ہیں، جب تو یہ ان کا یوں انکار کررہے ہیں، اور اگر کہیں قرآن اور رسول نہ آئے ہوتے تو قیامت کے روز یہ عذر پیش کردیتے کہ ہمارے پاس رسول ہی کہاں آیا وہ آتا تو ہم اس کے مطیع ہو نہ جاتے ؟ (آیت) ” من قبل “۔ عربی محاورہ میں یہ نفی کے معنی میں بھی آتا ہے یعنی بجائے اس کے کہ ہم حقیر ورسوا ہوتے یا ہم حقیر ورسوا نہ ہونے پاتے اور ہم رسول ﷺ کی پیروی کرلیتے۔ (آیت) ” نذل “۔ یعنی بےقدر خود اپنی نظر میں ہوں۔ (آیت) ” نخزی “۔ یعنی رسوا دوسروں کی نگاہ میں ہوں (تھانوی (رح) الذل الھوان والخزی الافتضاح (بحر) (آیت) ” من قبلہ “۔ میں ضمیر رسول اللہ ﷺ کی طرف بھی لی گئی اور بینہ وتذکیر (بہ معنی برہان) کی طرف بھی اور قرآن کی طرف بھی۔ الضمیر الراجع الی البینۃ ھنا فی معنی البرھان (کشاف) والظاھر عودہ علی الرسول (بحر)
Ayah 20:135

قُلْ كُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوْا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ اَصْحٰبُ الصِّرَاطِ السَّوِیِّ وَ مَنِ اهْتَدٰى۠ Open ayah 20:135 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ سب ہی انتظار کررہے ہیں سو تم بھی انتظار کرلو اب عنقریب ہی تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کون راہ راست والے ہیں اور کون (منزل) مقصود تک پہنچے ہوئے ہیں،168۔

168۔ آیت کا انداز بیان ایک بلیغ انداز میں مضمون کے زور وتاکید کے لیے ہے۔ یہ مراد نہیں کہ متکلم یا قائل کو اس میں کچھ ضعف یا تردد ہے۔ ولیس ھو بمعنی الشک والتردید بل ھو علی سبیل التھدید والزجر للکفار (کبیر) (آیت) ” فستعلمون “۔ میں س بہ معنی عنقریب ہے، یعنی موت پر یا حشر میں۔