20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 20:81

كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ لَا تَطْغَوْا فِیْهِ فَیَحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبِیْ١ۚ وَ مَنْ یَّحْلِلْ عَلَیْهِ غَضَبِیْ فَقَدْ هَوٰى Open ayah 20:81 in the Quran reader

ان نفیس چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تم کو دی ہیں اور اس باب میں حد سے مت گزرجاؤ،90۔ ورنہ تم پر میرا غضب واقع ہوجائے گا اور جس پر میرا غضب واقع ہوا وہ یقیناً گر کررہا،91۔

90۔ حد سے مراد حد شرعی ہے۔ اور اس سے گزرنے کی ایک صورت تو یہی ہے کہ حرام چیزیں استعمال میں لائی جائیں، دوسری یہ کہ اللہ کی نعمتیں کھا کھا کر اس کی معصیت کی جائے، (آیت) ” الطیبت “ سے مراد وہ کل چیزیں ہیں جو شرعا حلال ہیں اور طبعا لذیذ ہیں۔ (آیت) ” کلوا “۔ یہاں بطور حکم نہیں، بطور اجازت ہے۔ لیس امر ایجاب بل امر اباحۃ (کبیر) 91۔ یعنی بالکل گیا گزرا ہوا۔ (آیت) ” ھو ی “۔ کے لفظی معنی تو یہ ہیں کہ پہاڑ سے گرا اور ہلاک ہوگیا۔ اصلہ ان یسقط من جبل فیھلک (کشاف) یہاں مراد ہلاک وبرباد ہوجانے سے ہے۔ اے تردی وھلک (بیضاوی)
Ayah 20:82

وَ اِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى Open ayah 20:82 in the Quran reader

اور میں تو بڑا بخشنے والا ہوں اس کا جو توبہ کرے اور ایمان لے آئے اور نیک عمل کرنے لگے اور پھر راہ پر قائم (بھی) رہے،92۔

92۔ توبہ اور ایمان اور عمل صالح تو اس کے متعلق ہوسکتے ہیں جو پہلے ہدایت پا چکا اس لیے (آیت) ’ ثم اھتدی “۔ سے مراد ہدایت پانا نہیں، بلکہ ہدایت پر قائم رہنا ہے اور اھتداء کے ایک معنی یہ بھی ہیں۔ الا ھتداء ھو الاستقامۃ والثبات علی الھدی (کشاف) اے یعنی مستعینا باللہ فی ادامۃ ذلک من غیر تقصیر (کبیر۔ عن ابن عباس ؓ امام رازی (رح) نے یہاں یہ نکتہ تحریر فرمایا ہے کہ جس طرح بندہ کے لیے اس کی کثرت ذنوب کی بناء پر تین درجے ہوسکتے ہیں، ایک ظالم، دوسرے ظلوم، تیسرے ظلام، حق تعالیٰ نے بھی اس کے مقابل اپنے تین نام رکھے ہیں۔ ایک غافر، دوسرے غفور، تیسرے غفار “۔ ھھنا نکتۃ ھی ان العبد لہ اسماء ثلثۃ الظالم والظلوم والظلام وللہ فی مقابلۃ کل واحد من ھذا الاسماء اسم فکانہ تعالیٰ یقول ان کنت ظالما فاناغافر وان کنت ظلوما فانا غفور وان کنت ظلاما فانا غفار (کبیر)
Ayah 20:83

وَ مَاۤ اَعْجَلَكَ عَنْ قَوْمِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:83 in the Quran reader

اور اے موسیٰ (علیہ السلام) آپ کو اپنی قوم سے آگے جلدی آنے کا کیا سبب ہوا ؟ ،93۔

93۔ اس مکالمہ کا وقت وہ ہے جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مع منتخب سرداران اسرائیلی طور پر حاضری کا حکم ملا ہے۔ آپ خود تو فرط اشتیاق سے پہلے پہنچ گئے ہیں، اور وہ لوگ پیچھے رہ گئے ہیں، قوم سے یہاں مراد وہی ستر نقباء قوم ہیں۔ المراد بالقوم النقباء (کشاف) توریت میں ان ستر منتخب سرداروں کا قصہ موجود ہے (خروج۔ 24: 9، 13، 14) اہل اشارات نے کہا ہے کہ اس میں اشارہ ہے حضرت کلیم اللہ (علیہ السلام) کے وفور شوق و اضطراب کی جانب۔
Ayah 20:84

قَالَ هُمْ اُولَآءِ عَلٰۤى اَثَرِیْ وَ عَجِلْتُ اِلَیْكَ رَبِّ لِتَرْضٰى Open ayah 20:84 in the Quran reader

(موسی (علیہ السلام) نے) عرض کیا، کہ وہ لوگ تو یہ کیا میرے پیچھے (پیچھے آرہے) ہیں،94۔ اور میں تو تیرے پاس اے میرے پروردگار اس لیے جلدی چلاآیا کہ تو خوش ہوجائے گا،95۔

94۔ (اور کچھ دور نہیں ہیں) یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رفیقوں کی گویا سفارش میں اور ان کا جرم ہلکا کرنے کو کہا۔ 95۔ (اور زیادہ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے اجتہاد سے یہ خیال کیا کہ وعدہ گاہ پر حاضری میں پیش قدمی کرنا اور زیادہ خوشنودی کا سبب ہوگا۔ اللہ اللہ ! اہل اللہ رضائے الہی کی دولت کے سمیٹنے اور جمع کرنے میں کتنے حریص ہوتے ہیں ! (آیت) ” الیک “۔ (تیرے پاس) سے مراد ہے تجھ سے مکالمت ومخاطبت کے وعدہ کی جگہ، فقہاء نے آیت میں جو از اجتہاد کا استنباط کیا ہے۔ وھذا دلیل علی جواز الاجتھاد (مدارک)
Ayah 20:85

قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنْۢ بَعْدِكَ وَ اَضَلَّهُمُ السَّامِرِیُّ Open ayah 20:85 in the Quran reader

(اللہ نے) کہا کہ تمہاری قوم کو تو ہم نے تمہارے بعد ایک آزمائش میں ڈال ہے،96۔ انہیں سامری نے گمراہ کردیا ہے،97۔

96۔ (بہ طور مسبب الاسباب کے، بطور فاعل تکوینی کے) اس آزمائش میں ڈالنے کو مرضی حق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ بالکل اسی طرح اور اسی معنی میں صحیح ہے جس طرح اور جس معنی میں اللہ ہر بیماری، ہر دکھ، ہر زہر کا بھی خالق ہے۔ یعنی محض اسباب تکوینی کا محرک اول ہے، توریت میں ہے :۔” تب خداوند نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کہا کہ اتر جا، کیونکہ تیرے لوگ جنہیں تو مصر کے ملک سے چھڑا لایا خراب ہوگئے ہیں وہ اس راہ سے جو میں نے فرمائی جلد پھرگئے ہیں انہوں نے اپنا ڈھالا ہوا بچھڑا بنایا اور اسے پوجا اور اس کے لیے قربانی ذبح کرکے کہا کہ اے اسرائیل یہ تمہارا معبود ہے جو تمہارا معبود ہے جو تمہیں مصر کے ملک سے چھڑا لایا “۔ (خروج۔ 32: 7، 8) 97۔ (نہ کہ معاذ اللہ ہارون نبی (علیہ السلام) نے) سامری شخص کا نام نہیں لقب ہے۔ منسوب ہے ہماری قدیم مفسرین کی تحقیق کے بہ موجب قریہ سامرہ کی طرف، یعنی وہاں کا باشندہ۔ ممکن ہے کہ اس کا باپ دادا سامرہ سے آکر بنی اسرائیل میں آبسا ہو اور بعد الحاق انہیں میں شمار کیا جاتا ہو “۔ (تھانوی (رح) بعض جدید محققین کا خیال ہے کہ قدیم مصری زبان میں سمر کہتے ہیں۔ پردیسی، غیر ملکی، بیرونی کو، سامری سے مراد ہے کوئی شخص جو غیر اسرائیلی تھا اور مصر سے اسرائیلیوں کے ساتھ ہوگیا تھا۔ یہود ہاں کے ایک مستقل فرقہ کا نام بھی سامریہ (SAmAritAns) ہے، ان کی توریت اور سارے مذہبی صحیفے یہود کی مسلم و متعارف توریت اور دوسرے صحیفوں سے کسی قدر مختلف ہے اور انہیں ناز اپنی توحید خالص پر ہے۔ ہوسکتا ہے کہ قرآن کے السامری اور اس فرقہ کے درمیان بھی کوئی علاقہ ہو، لیکن یہ فرقہ جہاں تک تاریخ یہود سے پتہ چلتا ہے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا معاصر نہیں، بہت بعد کے زمانہ کی پیدوار ہے۔ (ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی) قرآن مجید کو سامری کی تصریح کی ضرورت اس لیے بھی پڑی کہ اہل توریت نے خواہ مخواہ اس واقعہ اضلال کی ساری ذمہ داری حضرت ہارون (علیہ السلام) پر ڈال دی اور اللہ کے اس نبی محترم کو (نعوذ باللہ) اتنے بڑے شرک اور صنم پرستی کا مجرم بنادیا ! الفاظ توریت ملاحظہ ہوں :۔” اور جب لوگوں نے دیکھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) پہاڑ سے اترنے میں دیری کرتا ہے تو وہ ہارون (علیہ السلام) کے پاس جمع ہوئے اور اسے کہا کہ اٹھ ہمارے لئے معبود بنا کہ ہمارے آگے چلیں کیونکہ یہ مرد موسیٰ (علیہ السلام) جو ہمیں مصر کے ملک سے نکال لایا ہم نہیں جانتے کہ اسے کیا ہوا۔ ہارون (علیہ السلام) نے انہیں کہا کہ زیور سونے کے جو تمہارے جوروؤں اور تمہاری بیٹیوں کے اور تمہارے بیٹوں کے کانوں میں تھے توڑ توڑ کے مجھ پاس لاؤ۔ چناچہ سب لوگ سونے زیور جو ان کے کانوں میں تھے توڑ توڑ کے ہارون (علیہ السلام) کے پاس لائے اور اس نے ان کے ہاتھوں سے لے لیا اور ایک بچھڑا ڈھال کر اس کی صورت کو حکا کی کے ہتھیار سے درست کیا اور انہوں نے کہا کہ اے اسرائیل یہ تمہارا معبود ہے جو تمہیں مصر کے ملک سے نکال لایا اور جب ہارون (علیہ السلام) نے یہ دیکھا کہ تو اس کے آگے ایک قربان گاہ بنائی اور ہارون (علیہ السلام) نے یہ کہہ کر منادی کی کہ کل خدا خداوند کے لئے عید ہے اور وہ صبح کو اٹھے اور سوختنی قربانیاں چڑھائیں اور سلامتی کی قربانیاں گزارنیں “ (خروج۔ 32: 1۔ 6) لیکن اکابر یہود کی روایتوں میں بھی پایا جاتا ہے کہ اس گوسالہ پرستی کی طرف لانے والا شخص حضرت ہارون (علیہ السلام) کیا معنی کوئی بھی اسرائیلی نہ تھا۔ بلکہ ایک مصری شخص تھا، جو اسرائیلیوں کے ساتھ مصر سے باہر نکل آیا تھا۔ (ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی)
Ayah 20:86

فَرَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۚ۬ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَمْ یَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا١ؕ۬ اَفَطَالَ عَلَیْكُمُ الْعَهْدُ اَمْ اَرَدْتُّمْ اَنْ یَّحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَخْلَفْتُمْ مَّوْعِدِیْ Open ayah 20:86 in the Quran reader

غرض موسیٰ اپنی قوم کے پاس آئے غصہ اور رنج سے بھرے ہوئے،98۔ (اور) بولے اے میری قوم والو کیا تم سے تمہارے پروردگار نے ایک اچھا وعدہ نہیں کیا ؟ ،99۔ سو کیا تم پر (وعدہ سے) زیادہ زمانہ گزر گیا تھا یا تم نے یہ چاہا کہ تم پر تمہارے پروردگار کا غضب واقع ہو کر رہے اس لئے تم نے جو مجھ سے وعدہ کیا تھا اسی کی خلاف وزری کرنے لگے،100۔

98۔ (جیسا کہ غیرت دینی سے ہونا ہی چاہیے تھا) توریت میں ہے :۔” اور یوں ہوا کہ جب وہ لشکر گاہ کے پاس آیا اور بچھڑا اور ناچ رنگ دیکھا تب موسیٰ کا غضب بھڑکا “۔ (خروج۔ 32: 19) 99۔ ( جو یقیناً پورا ہونے والا تھا) وہ وعدہ نزول شریعت کا تھا، جس کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر طلب ہوئے تھے۔ 100۔ وہ وعدہ بھی دین توحید پر قائم رہنے کا تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ناگواری اور حیرانی کے لہجہ میں اپنی قوم سے خطاب کر رہے ہیں کہ آخریہ حرکت کیا تھی ؟ تمہیں سوجھی کیا ؟ کیا مجھے گئے ہوئے اتنا زمانہ گزر گیا تھا کہ تم میری واپسی سے بالکل مایوس ہوگئے تھے ؟ یا یوں ہی بلاکسی وجہ کے تم پر خود ہی شامت سوار ہوئی کہ عتاب الہی کو دعوت دے کر اپنے ہاں بلاوا دیا۔
Ayah 20:87

قَالُوْا مَاۤ اَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَ لٰكِنَّا حُمِّلْنَاۤ اَوْزَارًا مِّنْ زِیْنَةِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنٰهَا فَكَذٰلِكَ اَلْقَى السَّامِرِیُّۙ Open ayah 20:87 in the Quran reader

وہ بولے ہم نے آپ سے جو وعدہ کیا اس کی خلاف ورزی اپنی خوشی سے نہیں کی البتہ ہوا یہ کہ ہم پر قوم (قبط) کے زیوروں سے بوجھ لد رہا تھا سو ہم نے اسے ڈال دیا،101۔ پھر اسی طرح سامری نے بھی ڈال دیا،102۔

101۔ (آگ میں۔ سامری کے کہنے کے مطابق) یہ زیور وہی تھے جو بنی اسرائیل مصر سے نکلتے وقت اہل مصر سے مانگ کر لائے تھے، توریت میں ہے :۔” اور انہوں نے مصریوں سے روپے کے برتن اور سونے کے برتن اور گھڑے عاریت لیے اور خداوند نے ان لوگوں کو مصریوں کی نگاہ میں ایسی عزت بخشی کہ انہوں نے انہیں عاریت دی “۔ (خروج۔ 23: 35) 102۔ (اپنے پاس کا زیور) فرعون اور فرعونیوں کی غرقابی کے بعد شریعت اسرائیلی کی رو سے یقیناً بنی اسرائیلی ان زیوروں کے مالک ہوگئے ہوں گے۔
Ayah 20:88

فَاَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ فَقَالُوْا هٰذَاۤ اِلٰهُكُمْ وَ اِلٰهُ مُوْسٰى١۬ فَنَسِیَؕ Open ayah 20:88 in the Quran reader

پھر (سامری نے) ان لوگوں کے لئے ایک گوسالہ ظاہر کردیا کہ وہ ایک قالب تھا جس میں ایک آواز تھی سو وہ لوگ (آپس میں) کہنے لگے کہ یہی تو ہے تمہارا (بھی) دیوتا اور موسیٰ کا (بھی) سو وہ تو (اسے) بھول گئے،103۔

103۔ (کہ اسے چھوڑ چھاڑ کر طور پر خواہ مخواہ توریت لینے چلے گئے) اہل زیغ اپنی گمراہی کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تک کے سرچپیکنے سے نہیں چوکتے۔ اور کہتے ہیں کہ غلط فہمی کچھ انہیں کو ہوگئی، رونہ ہمارا دین اور طریقہ تو یہی ہے ! والمعنی ان الھکم الہ موسیٰ فنسی موسیٰ ان ھذا ھوالالہ فذھب یطلبہ فی موضع وھو اکثرین (کبیر)
Ayah 20:89

اَفَلَا یَرَوْنَ اَلَّا یَرْجِعُ اِلَیْهِمْ قَوْلًا١ۙ۬ وَّ لَا یَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا۠ Open ayah 20:89 in the Quran reader

کیا وہ لوگ اتنا بھی نہیں سمجھتے تھے کہ وہ نہ تو ان کی کسی بات کا جواب دے سکتا ہے اور نہ ان کے کسی نقصان یا نفع پر قدرت رکھتا ہے،104۔

104۔ اس گوسالہ پر حاشیے سورة بقرہ پارۂ اول میں گزر چکے۔
Ayah 20:90

وَ لَقَدْ قَالَ لَهُمْ هٰرُوْنُ مِنْ قَبْلُ یٰقَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِهٖ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمٰنُ فَاتَّبِعُوْنِیْ وَ اَطِیْعُوْۤا اَمْرِیْ Open ayah 20:90 in the Quran reader

اور ان لوگوں سے ہارون (علیہ السلام) نے قبل ہی کہا تھا کہ اے میری قوم والو تم اس کے باعث گمراہی میں پھنس گئے ہو اور بیشک تمہارا پروردگار خدائے رحمن ہے سو تم میری پیروی کرو۔ اور میرا مانو،105۔

105۔ توریت موجودہ کے اتہامات کے مقابلہ میں قرآن مجید کے لیے ضروری ہوگیا تھا کہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کی طرف سے ایسی کھلی ہوئی تبری اور صفائی پیش کیا جائے۔ (آیت) ” ان ربکم الرحمن “۔ تمہارا پروردگار تو وہ خدائے رحمن ہے نہ کہ یہ گوسالہ۔ تمہیں اس خرافات پرستی سے کیا واسطہ۔
Ayah 20:91

قَالُوْا لَنْ نَّبْرَحَ عَلَیْهِ عٰكِفِیْنَ حَتّٰى یَرْجِعَ اِلَیْنَا مُوْسٰى Open ayah 20:91 in the Quran reader

وہ لوگ بولے ہم تو اسی (کی عبادت) پر جمے رہیں گے تاآنکہ موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے پاس لوٹ آئیں،106۔

106۔ (اس وقت دیکھا جائے گا کہ وہ کیا کہتے ہیں اور کیا کرتے ہیں)
Ayah 20:92

قَالَ یٰهٰرُوْنُ مَا مَنَعَكَ اِذْ رَاَیْتَهُمْ ضَلُّوْۤاۙ Open ayah 20:92 in the Quran reader

(موسی (علیہ السلام) نے) کہا اے ہارون (علیہ السلام) ،107۔ تمہیں کون سا امر مانع ہوا اس سے کہ میرے پاس چلے آتے جب تم لیا تھا کہ یہ بھٹک گئے ہیں ؟

107۔ پہاڑ سے واپس آتے ہی پہلے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حالت اشتعال میں اپنی گمراہ قوم کی طرف متوجہ ہوئے اور اب حضرت ہارون (علیہ السلام) کی طرف مخاطب ہورہے ہیں، جنہیں وہ ذمہ دار اور اپنا نائب و جانشین چھوڑ کر طور پر گئے تھے۔
Ayah 20:93

اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَیْتَ اَمْرِیْ Open ayah 20:93 in the Quran reader

تو کیا تم نے بھی میرے کہے کے خلاف کیا ؟ ،108۔

108۔ (کہ ایسے سخت مجرموں سے پورا قطع نہ کرلیا) (آیت) ” الاتتبعن “۔ میں لا زائد ہے۔ ولا مزیدۃ (بیضاوی) (آیت) ” تتبعن “۔ کے لفظی معنی ہیں کہ ” میری پیروی کرتے “۔ مطلب یہ کہ میری راہ اختیار کرتے۔ جو میں کرتا وہی تم کرتے، بعض نے مراد مقاتلہ لیا ہے۔ ان تتبعنی فی الغضب للہ والمقاتلۃ مع من کفربہ (بیضاوی) (آیت) ” الا تتبعن “۔ یعنی رجوع کرتے اور میرے پاس طور پر چلے آتے۔ مامنعک من ان تلحقنی الی جبل الطور (بحر) ان تاتی عقبی وتلحقنی (بیضاوی)
Ayah 20:94

قَالَ یَبْنَؤُمَّ لَا تَاْخُذْ بِلِحْیَتِیْ وَ لَا بِرَاْسِیْ١ۚ اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَیْنَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ لَمْ تَرْقُبْ قَوْلِیْ Open ayah 20:94 in the Quran reader

ہارون (علیہ السلام) نے) کہا اے میرے ماں جائے (بھائی) میری داڑھی اور میرا سر نہ پکڑیے،109۔ مجھے تو یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں تم یہ نہ کہنے لگو کہ تم نے بنی اسرائیل کے درمیان تفریق ڈال دی اور میری بات کا انتظار نہ کیا ؟ ،110۔

109۔ (بلکہ میرا عذر تو سن لیجئے) براسی “۔ سے مراد ہے سرکے بال پکڑ کر گھسٹینا۔ جیسا کہ شدید اشتعال وغضبنا کی کی حالت میں انسان اضطرارا کر گزرتا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ غصہ تمامتر غیرت دین سے تھا، اس لیے مباح ہی نہیں، داخل عبادت تھا، ملاحظہ ہو سورة الاعراف، پ 9 کا حاشیہ۔ (آیت) ” یبنؤم “ حضرت ہارون (علیہ السلام) کا یا ابن ام کہہ کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مخاطب کرنا جلب شفقت ورأفت کے لیے ہے۔ اسرائیلیوں میں دستور بھی اسی طرز تخاطب کا تھا۔ (ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگیزیزی) 110۔ (بلکہ مفسدین کی آزادی عمل کے لیے میدان خالی چھوڑ دیا) ” حاصل مقام کا یہ ہے کہ یہاں دو اجتہاد ہیں ایک یہ کہ ترک مساکنت زیادہ نافع تھی، دوسرا یہ کہ ترک مساکنت زیادہ مضر تھی، موسیٰ (علیہ السلام) کا ذہن اجتہاد اول کی طرف گیا اور ہارون (علیہ السلام) کا ذہن دوسرے اجتہاد کی طرف گیا “۔ (تھانوی (رح) آیت سے یہ بھی نکل رہا ہے کہ تفریق امت کے ڈر سے عارضی طور پر اسے بھی برداشت کیے ہوئے ہیں، فقہاء نے یہاں سے دو مسئلہ اور بھی نکالے ہیں، ایک یہ کہ خطاء اجتہادی قابل گرفت نہیں۔ چناچہ حضرت ہارون (علیہ السلام) اپنے اجتہاد کو اپنی برأت کی دلیل بتا رہے ہیں، دوسرا یہ کہ مامور ونائب کو اختیار حاصل ہے کہ حسب مصلحت اپنے فرائض منصبی کے انجام آخر میں امیر کے حکم کا انتظام کرے۔
Ayah 20:95

قَالَ فَمَا خَطْبُكَ یٰسَامِرِیُّ Open ayah 20:95 in the Quran reader

(موسی (علیہ السلام) نے) کہا اے سامری تیرا کیا معاملہ ہے ؟ ،111۔

111۔ (تو نے یہ کیا حرکت کرڈالی، تجھے یہ سوجھی کیا ؟ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حضرت ہارون (علیہ السلام) کی صفائی سے مطمئن ہو کر اب اصل مجرم سامری کی طرف مخاطب ہوتے ہیں۔ ماعلیک لہ (کشاف)
Ayah 20:96

قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ یَبْصُرُوْا بِهٖ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ فَنَبَذْتُهَا وَ كَذٰلِكَ سَوَّلَتْ لِیْ نَفْسِیْ Open ayah 20:96 in the Quran reader

وہ بولا مجھے ایسی چیز نظر آئی جو اوروں کو نظر نہ آئی تھی سو میں نے (اس) فرستادہ (خداوندی) کے نقش قدم سے ایک مٹھی (خاک) اٹھالی تھی میں نے وہ (مٹی اسی قالب کے اندر) ڈال دی تھی۔ ،112۔ اور میرے جی کو تو یہی بات بھائی تھی،113۔

112۔ (جس کے اثر سے اس بچھڑے کے بےجان قالب سے وہ بےمعنی آواز نکلنے لگی) (آیت) ’ ’ من اثرالرسول “۔ سے مراد من اثر فرس الرسول ہے اور مضاف محذوف ہے۔ کماعلیہ اکثر المفسرین (روح) اور رسول سے مراد باتفاق مفسرین حضرت جبرئیل ہیں، اور یہی تفسیر تابعین و صحابہ سے بھی مروی ہے۔ ھو الماثور عند الصحابۃ والتابعین ؓ وینبعھم جل اجلۃ المفسرین (روح) اختلاف صرف ایک ابومسلم اصفہانی سے منقول ہے، ان کے اقوال تفسیر کبیر میں درج ملیں گے، بعض اہل باطل بھی بڑے مرتاض ہوتے ہیں۔ اور ریاضتوں سے کشف حاصل ہوجاتا ہے اسی طرح کا یہ شخص سامری معلوم ہوتا ہے۔ روایتوں میں آتا ہے کہ اس نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو گھوڑے پر سوار دیکھ لیا تھا کہ جہاں جان کے گھوڑے کا سم پڑتا ہے گھاس تروتازہ ہوجاتی ہے اپنی فراست سے کام لے کر اس نے نتیجہ یہ نکالا تھا کہ ان کی سواری کے نقش قدم کی مٹی میں تازہ حیات بخشی کی تاثیر ہے۔ محققین صوفیہ کہتے ہیں کہ کشف و تصرف پر ناز کرنے کی کیسی ممانعت اس آیت سے نکل رہی ہے۔ 113۔ یعنی میرے پاس اپنے اس فعل کے لیے کوئی دلیل عقلی یا شرعی نہیں، میں نے سب اپنی خواہش نفس سے کیا، کشف واشراقیت برابر اور بےتکلف عقائد باطلہ اور کفر وشرک کے ساتھ جمع ہوسکتی ہے۔ اس وقت بھی اس کا مشاہدہ ہندو جو گیوں، سنیاسیوں اور فرنگی طرز کے اسپرٹسٹ (Spiritists) گروہ اور مسمریزم، ہپنا ٹزم اور کلیرو وانیس والوں میں بآسانی کیا جاسکتا ہے۔
Ayah 20:97

قَالَ فَاذْهَبْ فَاِنَّ لَكَ فِی الْحَیٰوةِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَ١۪ وَ اِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَهٗ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰۤى اِلٰهِكَ الَّذِیْ ظَلْتَ عَلَیْهِ عَاكِفًا١ؕ لَنُحَرِّقَنَّهٗ ثُمَّ لَنَنْسِفَنَّهٗ فِی الْیَمِّ نَسْفًا Open ayah 20:97 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے) کہا تو بس تو جا تیرے لئے (اس) زندگی میں (یہ سزا) ہے کہ تو یہ کہتا پھرے کہ مجھے کوئی ہاتھ نہ لگائے،114۔ اور تیرے لئے ایک (اور) وعید ہے جو تجھ سے ٹلنے والی نہیں،115۔ اور تو اپنے اس معبود کو دیکھ جس پر تو جما ہوا بیٹھا ہے ہم ابھی اسے جلائے ڈالتے ہیں پھر اس (کی راکھ) کو دریا میں بہائے دیتے ہیں،116۔

114۔ گویا اسے دنیا میں یہ سزا ملی کہ اسے حکما ” اچھوت “ قرار دے دیا گیا اور ہمارے ہندوستان میں یہ جو چھوت چھات کا ملعون دستور چل پڑا ہے بہ قول فاضل گرامی مولانا مناظر احسن صاحب گیلانی زاد مجدہ عجب نہیں کہ اس کی اصل بھی اسی سامری کی ” لامساسیت “ سے نکلے فقہاء نے یہاں سے دو مسئلہ اخذ کیے ہیں ایک یہ کہ مجرم کے لئے سزائے حبس دوام جائز ہے (لامساس کا مضمون جس میں آچکا) دوسرے یہ کہ مجرم سے اختلاط وملاقات کا منع کردینا جائز ہے، اہل اشارات نے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ جو خطائیں بدون خبث وعدم بغاوت صادر ہوجاتی ہیں ان سے توبہ کی توفیق بھی اکثر نصیب ہوجاتی ہے۔ جیسے یہاں سامری کو پوری سزا ملی اور عام اسرائیلیوں کی خطا توبہ کے بعد معاف ہوگئی۔ 115۔ (آخرت میں) ایک سزا تو دنیا میں مل گئی دوسرے عذاب کے لئے ارشاد ہوا کہ اس کا ظہور آخرت میں ہوگا۔ 116۔ (کہ اس کا کہیں نام ونشان تک نہ باقی رہ جائے) فقہاء نے لکھا ہے کہ آثار کفر وشرک کو مٹانا اور ان کی توہین مستحب ہے اور کسی نسبت باطل یا ادائے فاسد کی رعایت ہرگز ضروری نہیں جس طرح گوسالہ میں اثر رسول کی اور مسجد ضرار میں اسم مسجد کی کچھ رعایت نہ کی گئی۔ تعزیہ وضریح والے اور عرس میلے والے کاش ان حقائق پر بھی غور کریں !
Ayah 20:98

اِنَّمَاۤ اِلٰهُكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَسِعَ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا Open ayah 20:98 in the Quran reader

تمہارا معبود تو بس وہی (ایک) اللہ ہے، جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اس نے ہر شے کو (اپنے) علم سے گھیررکھا ہے،117۔

117۔ (اور وہی اپنے بندوں میں سے جس کو جتنا چاہے علم عطا فرمادے) گوسالہ کی عبودیت کی تردید کرتے کرتے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی تقریر کو خاص سے عام کردیا ہے۔ گویا آپ یہ فرما رہے ہیں کہ اس بےجان گوسالہ کی تو کیا بساط ہے، دنیا کی کوئی چیز بھی معبود بننے کے قابل نہیں اور صفات قدرت وغیرہ الگ رہیں۔ ایک علم ہی کو لو، اس صفت میں بھی تو کوئی اس کا ہمسر نہیں، کامل علم تو صرف اسی کا ہے۔
Ayah 20:99

كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ مَا قَدْ سَبَقَ١ۚ وَ قَدْ اٰتَیْنٰكَ مِنْ لَّدُنَّا ذِكْرًاۖۚ Open ayah 20:99 in the Quran reader

اس طرح ہم آپ سے اور گزرے ہوئے (واقعات) کی خبریں بیان کرتے ہیں، اور ہم نے اپنے پاس سے آپ کو ایک نصیحت نامہ دیا ہے،118۔

118۔ (جس میں علاوہ اخلاقی ہدایات وقانونی دفعات، معاشری آداب کے وہ خبریں بھی درج ہیں) (آیت) ” کذلک “۔ یعنی اسی طرح جس طرح ابھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور سامری کا قصہ بیان ہوچکا۔ (آیت) ” نقص ...... سبق “۔ یعنی ہم ماضی کے ان واقعات و حالات پر آپ کو اس لیے مطلع کرنا چاہتے ہیں کہ آپ کی نبوت و رسالت وصداقت پر دلیلیں اور بڑھتی جائیں۔
Ayahs 20:100–101

مَنْ اَعْرَضَ عَنْهُ فَاِنَّهٗ یَحْمِلُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وِزْرًاۙ Open ayah 20:100 in the Quran reader

جو کوئی اس سے روگرانی کرے گا وہ قیامت کے دن (بڑا) بوجھ اٹھائے ہوگا۔

خٰلِدِیْنَ فِیْهِ١ؕ وَ سَآءَ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ حِمْلًاۙ Open ayah 20:101 in the Quran reader

وہ لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ قیامت کے دن ان کے لئے بڑا بوجھ ہوگا،119۔

119۔ اور یہ بڑا بوجھ ظاہر ہے کہ عذاب الہی کا ہوگا۔ (آیت) ” فیہ “۔ یعنی اسی عذاب الہی کے بوجھ ظاہر ہے کہ عذاب الہی کا ہوگا۔ (آیت) ” فیہ یعنی اسی عذاب الہی کے بوجھ کے اند ر۔
Ayah 20:102

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ وَ نَحْشُرُ الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ زُرْقًاۚۖ Open ayah 20:102 in the Quran reader

جس روز صور پھونکا جائے گا اور مجرموں کو ہم اسی روزیوں جمع کریں گے کہ وہ نیلی آنکھوں والے ہوں گے،120۔

120۔ (فرط دہشت وخوف سے) قرآن کے مخاطبین اول قوم عرب میں نیلی آنکھ خاص طور پر مبغوض ومکروہ سمجھی جاتی تھی اس لیے کہ ان کے دشمن بنی احمر یا اہل روم (یورپ والے) نیلی آنکھیں رکھتے تھے، اور اسی سے ” ازرق العین “ ان کے ہاں دشمن کا عام لقب ہی پڑگیا تھا (کشاف) زرق کے دوسرے معنی (عمیا) اندھے کے بھی کیے گئے ہیں (راغب، کشاف، ابن جریر) اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ حشر کی کسی منزل میں اہل کفر کی آنکھیں نہ ہوں گی، (آیت) ” المجرمین “۔ مجرمین سے مراد اہل کفر ہیں۔ المجرمین اے المشرکین (معالم) اھل الکفر باللہ (ابن جریر) الذین اتخذوا مع اللہ الھا اخر (کبیر عن ابن عباس ؓ
Ayah 20:103

یَّتَخَافَتُوْنَ بَیْنَهُمْ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا عَشْرًا Open ayah 20:103 in the Quran reader

آپس میں چپکے چپکے باتیں کررہے ہوں گے کہ تم لوگ تو بس دس (ہی دن) رہے ہوگے،121۔

121۔ (قبر میں) المراد منہ اللبث فی القبر (کبیر) مالبثتم فی القبور (روح) مطلب یہ کہ کافر اس روز فرط ہیبت ووحشت سے آہستہ آہستہ یہ آپس میں کہہ رہے ہوں گے کہ ہمارا اندازہ تو یہ تھا کہ مرنے کے بعد زندہ ہی نہ ہوں گے۔ خیر وہ خیال تو تمامتر باطل تھا ہی، زندہ بھی ہوئے تو اس طرح کہ قبر میں بھی دیر تک نہ رہنے پائے۔ بس رہے ہوں گے بھی کوئی دس دن، اس مدت کا یہ مختصر معلوم ہونا یوم قیامت کے شدائد اور ہولناکیوں کی بناء پر ہوگا۔ اور دوسرے معنی مدت قیام دنیا کے بھی کیے گئے ہیں۔ اے مالبثتم فی الدنیا (معالم) اے فی الدار الدنیا (ابن کثیر عن ابن عباس ؓ مالبثتم فی الدنیا (ابن جریر) قوم ارادبہ اللبث فی الدنیا (کبیر عن الحسن والقتادۃ والضحاک) (آیت) ” عشرا “۔ کے مطلق عدد سے مراد دنوں کی تعداد لی گئی ہے۔ الاکثرون علی ان قولہ عشرا اے عشرۃ ایام (کبیر)
Ayah 20:104

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ اِذْ یَقُوْلُ اَمْثَلُهُمْ طَرِیْقَةً اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا یَوْمًا۠ Open ayah 20:104 in the Quran reader

ہم ہی خوب جانتے ہیں (اس مدت کو) جس کی نسبت وہ باتیں کررہے ہیں جب کہ ان میں کا سب سے زیادہ صائب الرائے یہ کہتا ہوگا کہ تم تو بس ایک دن رہے ! ،122۔

122۔ اس کو صائب الرائے اس لیے فرمایا کہ اس یوم کے طول اور ہول کے اعتبار سے یہی نسبت اقرب ہے بس اس شخص کو حقیقت شدت کا زیادہ ادراک ہوا اس لیے اس کی رائے پہلے شخص کے اعتبار سے اصوب ہے اور یہ مقصود نہیں کہ یہ شخص مدت کی مقدار کی تحدید کرنے میں مصیب ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ دونوں مقداریں تحدیدا صحیح نہیں۔ اور نہ ان قائلین کا یہ مقصود تھا “۔ (تھانوی (رح)
Ayah 20:105

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُهَا رَبِّیْ نَسْفًاۙ Open ayah 20:105 in the Quran reader

اور آپ سے پہاڑوں کی بابت پوچھتے ہیں،123۔ آپ کہہ دیجیے کہ میرا پروردگار بالکل ان کو اڑا دے گا

123۔ (کہ قیامت کے وقت ان کا کیا حشر ہوتا ہے ؟ )
Ayahs 20:106–107

فَیَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًاۙ Open ayah 20:106 in the Quran reader

پھر زمین کو چٹیل میدان چھوڑے رکھے گا

لَّا تَرٰى فِیْهَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمْتًاؕ Open ayah 20:107 in the Quran reader

کہ اس میں تو نہ کوئی ناہمواری دیکھے گا اور نہ کوئی بلندی،124۔

124۔ (مثل ٹیلہ، پہاڑ وغیرہ کے) خطاب اب یہاں عام ہے صرف رسول اللہ ﷺ سے نہیں۔ (آیت) ” ینسفھا ....... نفسا “۔ یعنی انہیں ریزہ ریزہ کرکے اڑا دے گا۔
Ayah 20:108

یَوْمَئِذٍ یَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَهٗ١ۚ وَ خَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْمٰنِ فَلَا تَسْمَعُ اِلَّا هَمْسًا Open ayah 20:108 in the Quran reader

اس روز (سب) بلانے والے کے پیچھے ہولیں گے کہ اس کے سامنے کوئی کجی نہ رہے گی،125۔ اور (ساری) آوازیں ندائے رحمن کے سامنے دب جائیں گی سو تو بجز پیر کی چاپ کے اور کچھ نہ سنے گا،126۔

125۔ یعنی کسی کا ٹیڑھا پن اس کے سامنے نہ چل سکے گا، کسی کی مجال نہ ہوگی کہ اس کے حکم میں توقف کرے۔ اے لایعوج لہ مدعوبل یستوؤن الیہ من غیر انحراف متبعین لصوتہ (کشاف) الداعی سے مراد ہے خدائی بلانے والا، یعنی صور پھونکنے والا فرشتہ۔ سب مردے اپنی قبروں سے نکل نکل اس کے پیچھے ہولیں گے۔ 126۔ (فرط ہیبت سے) کمال ہیبت وخوف کے موقعہ پر جیسے اردو محاورہ میں کہتے ہیں کہ مارے ڈر کے گھگی بندھ گئی، عربی محاورہ میں اسی کنایہ سے ادا کرتے ہیں۔ (آیت) ” ھمسا “۔ ھمس کے لغوی معنی ہیں پست اور کھس پھس والی آواز کے۔ الھمس وھو الرکز الخفی (کشاف) یہاں مراد پیر کی چاپ ہے۔ اے لاتسمع الا خفق الاقدام ونقلھا الی المحشر (کشاف)
Ayah 20:109

یَوْمَئِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِیَ لَهٗ قَوْلًا Open ayah 20:109 in the Quran reader

اس روز شفاعت (کسی کو) نفع نہ دے گی مگر اس شخص کو جس کے حق میں خدائے رحمن نے اجازت دے دی ہو اور اس کے حق میں بولنا اس نے پسند کرلیا ہو،127۔

127۔ مشرک قوموں نے اپنے دیوی دیوتاؤں اور اپنے آباؤ اجداد کو اپنا شافع گڑھ رکھا ہی تھا، خود مسیحیت کا سارا دارومدار ہی عقیدہ شفاعت وکفارہ پر ہے۔ قرآن نے ہر جگہ اسی مشرکانہ عقیدۂ شفاعت مطلقہ پر ضرب لگائی ہے اور کسی مستقل مطلق شافع کے وجود سے بار بار انکار کیا ہے۔ (آیت) ” الا من اذن لہ الرحمن “۔ اسلام جس شفاعت کا قائل ہے، اس کی پہلی اور سب سے بڑی شرط خود حق تعالیٰ کی اجازت ہے۔ شفاعت کوئی اپنے ارادہ واختیار سے کر ہی نہیں سکتا، صرف وہی کرسکے گا جس کو خود حق تعالیٰ ایما فرمائیں گے، گویا یہ شفاعت ہی صرف ظاہری ورسمی ہوگی، ورنہ حقیقۃ تو اللہ ہی کا حکم ہوگا۔ (آیت) ” رضی لہ قولا “۔ یعنی کسی شافع کا بولنا اس شخص کے حق میں جو منظور کرلیا گیا ہو یعنی اس شخص کے حق میں کلمہ خیر کہنے کی گنجائش ہو اور گنجائش ظاہر ہے کہ مومن ہی کے لیے نکل سکتی ہے۔ یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ حق تعالیٰ نے اس کے کسی قول کو پسند کرلیا ہو۔ ؛ اور یہیں سے امام رازی (رح) نے شفاعت کی گنجائش فساق امت کے حق میں بڑے زور سے نکالی ہے کہ بڑے سے بڑا فاسق کلمہ گو بھی کلمہ شہادت کی حدتک قول پسندیدہ ومقبولہ کہہ ہی لیتا ہے۔ واعلم ان ھذہ الایۃ من اقوی الدلائل علی ثبوت الشفاعۃ فی حق الفساق لان قولہ ورضی لہ قولا یکفی فی صدقہ ان یکون اللہ تعالیٰ قد رضی لہ قولا واحدا من اقوالہ والفاسق قدرا ؓ قولا واحدا من اقوالہ وھو شھادۃ ان لاالہ الا اللہ فوجب ان تکون الشفاعۃ نافعۃ لہ (کبیر)
Ayah 20:110

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا Open ayah 20:110 in the Quran reader

اور وہ جانتا ہے سب کے اگلے اور پچھلے حالات کو اور (لوگ) اس کا (اپنے) علم سے احاطہ نہیں کرسکتے،128۔

128۔” اس کا احاطہ نہیں کرسکتے “۔ یعنی اس کے علوم ومعلومات کا احاطہ نہیں کرسکتے۔ مضاف یعنی معلومات یہاں محذوف ہے۔ اے ولا یحیطون بمعلوماتہ علما (بحر) یعنی ایسا تو کوئی امر نہیں جو خلق کو معلوم ہو اور اللہ تعالیٰ کو معلوم نہ ہو، اور ایسے بہت سے امور ہیں جو اللہ تعالیٰ کو معلوم ہیں اور خلق کو معلوم نہیں۔ پس مخلوقات کے وہ سب احوال بھی اس کو معلوم ہیں جن پر شفاعت کی قابلیت یا عدم قابلیت مرتب ہے۔ سو جو اس کا اہل ہوگا اس کے واسطے سفارش کرنے کی شافعین کو اجازت ہوگی اور جو اہل نہ ہوگا اس کے لیے اجازت نہ ہوگی “۔ (تھانوی (رح)
Ayah 20:111

وَ عَنَتِ الْوُجُوْهُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِ١ؕ وَ قَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا Open ayah 20:111 in the Quran reader

اور چہرے جھکے ہوئے ہوں گے حی وقیوم کے سامنے،129۔ اور قطعی ناکام رہے گا وہ جو ظلم لے کر آئے گا،130۔

129۔ ذکر روز حشر کا چل رہا ہے کہ اس روز بڑے بڑے متکبرین اور سرکش منکرین کا غرور و انکار ختم ہوچکے گا، اور کسی کو ہمت سراٹھانے کی نہ ہوگی۔ 130۔ ظلم کے عام ووسیع معنی بھی مراد ہوسکتے ہیں لیکن یہاں بمعنی شرک آیا ہے۔ اے حمل شرکا (ابن جریر، عن قتادۃ) الظلم ھھنا الشرک (ابن جریر۔ عن ابن زید) والظلم ھو الشرک (معالم۔ عن ابن عباس ؓ الظلم الشرک (روح)
Ayah 20:112

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا Open ayah 20:112 in the Quran reader

اور جس کسی نے نیک کام کئے ہوں گے اور وہ ایمان والا بھی ہوگا سو اسے اندیشہ نہ زیادتی کا ہوگا نہ کمی کا،131۔

131۔ یعنی مومن صالح کو ثواب کامل ملے گا۔ یہ نہ ہوگا کہ کوئی نیکی لکھنے سے رہ جائے، یا کوئی بدی خواہ مخواہ لکھ لی جائے، غیر مومن ظاہر ہے کہ اس طبقہ ہی سے سرے سے خارج ہیں، قید وشرط (آیت) ” وھو مومن “۔ کی لگی ہوئی ہے۔
Ayah 20:113

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا وَّ صَرَّفْنَا فِیْهِ مِنَ الْوَعِیْدِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ اَوْ یُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا Open ayah 20:113 in the Quran reader

اور اسی طرح اسے (قرآن) واضح کرکے نازل کیا ہے اور اس میں ہم نے ہر طرح کی وعید بیان کی ہے،132۔ تاکہ (لوگ) ڈریں یا یہ کہ یہ (قرآن) ان کے لئے سمجھ پیدا کرے،133۔

132۔ (قیامت کی، عذاب کی جہنم کی) (آیت) ” کذلک “۔ یعنی اس طرح جس طرح اوپر کے مضامین صاف صاف ارشاد ہوئے ہیں۔ (آیت) ” انزلنہ “۔ ضمیر مذکر غائب سارے قرآن کی جانب ہے۔ (آیت) ” قرانا عرب یا ‘۔ یعنی قرآن واضح، قرآن مفصح، (آیت) ” عرب یا “۔ پر حاشیہ سورة یوسف کے شروع میں گزر چکا۔ 133۔ راہ حق قبول کرنے کے دو ہی واسطے ہیں، یا بہ واسطہ جذبات یا بہ واسطہ تعقل، دونوں آیت کے اس ٹکڑے میں جمع ہوگئے۔ یا یہ مراد ہو کہ بدیوں سے بچنے لگیں اور نیکیوں کی طرف بڑھنے لگیں۔ لاجل ان یصیروا متقین اے محترزین ممالا ینبغی وھو یدعوھم الی الطاعات وفعل ماینبغی (کبیر) یہ بھی مراد ہوسکتی ہے۔ کہ منکر تخویف وترہیب سے ایمان لائے اور جو مومن ہے اس کا مرتبہ فہم وتذکر قرآن سے اور دوبالا ہوجائے۔
Ayah 20:114

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ وَ لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰۤى اِلَیْكَ وَحْیُهٗ١٘ وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا Open ayah 20:114 in the Quran reader

سو بڑا عالی شان ہے اللہ جو بادشاہ حقیقی ہے،134۔ اور آپ قرآن (کے پڑھنے میں) جلدی نہ کیا کیجیے قبل اس کے کہ آپ پر اس کی وحی پوری نازل ہوچکے،135۔ اور آپ کہ ہے کہ اے میرے پروردگار بڑھا دے میرے علم کو،136۔

134۔ (اور جس نے ایسا جامع، ایسا نافع، ایسا بلیغ دستور حیات اپنے بندوں کے ہاتھ میں دے دیا ہے) ۔ 135۔ (کہ ایسی صورت میں آپ پر قرآن سننے اور ساتھ ہی ساتھ اس کے پڑھنے کا بار خواہ مخواہ پڑتا ہے) بعض روایتوں میں یہ بھی آیا ہے کہ آپ نے قبل نزول وحی بعض مسائل میں حکم صادر فرما دیا تھا۔ آیت اس پر نازل ہوئی اس صورت میں مراد ہوگی کہ ” آپ قبل نزول وحی (احکام میں) تعجیل نہ کیا کیجئے۔ 136۔ اس میں یہ ارشاد ہوا کہ بجائے فی الفور سعی حفظ تدبیر کے، اس تدبیر دعا کو اختیار کیجئے۔ اور اس میں علم قرآن کی تحصیل، حفظ، فہم سب ہی کچھ آگیا۔” اس میں علم حاصل کے یاد رہنے کی اور غیر حاصل کے حصول کی اور جو حاصل ہونے والا نہیں اس میں عدم حصول کے خیرسمجھنے کی اور سب علوم میں خوش فہمی کی، یہ سب دعائیں داخل ہیں “۔ (تھانوی (رح) بعض اہل لطائف نے کہا ہے کہ علم بھی انہیں نعمتوں میں سے ہے جن کا حصول محض فضل پر موقوف ہے، اس لیے کہ قرآن میں جو دعائیں ہیں وہ ایسے ہی امور سے متعلق ہیں جو کسبی واختیاری نہ ہوں جیسے ہدایت، مغفرت وغیرہ۔
Ayah 20:115

وَ لَقَدْ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا۠ Open ayah 20:115 in the Quran reader

اور (بہت زمانہ) قبل ہم آدم کو ایک حکم دے چکے تھے سو ان سے غفلت ہوگئی اور ہم نے ان میں پختگی نہ پائی،137۔

137۔ یہ پختگی نہ ہونا، اور عدم ثبات وعزم دانستہ نافرمانی اور ارادی سرکشی سے بالکل مختلف ہے۔ بعض اہل لطائف نے یہ معنی بھی کہے ہیں کہ ” ہمنے ان میں ارادہ ہی نہ پایا “ یعنی گناہ کا قصد انہوں نے کیا ہی نہیں محض ایک بدخیالی اور بد احتیاطی ان سے سرزد ہو کر رہی۔ ؛ یحتمل ولم نجد لہ عزما علی المقام علی المعصیۃ (کبیر) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس میں دلالت ہے اس پر کہ ضعف طبعی اور کمال میں منافات نہیں۔
Ayah 20:116

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى Open ayah 20:116 in the Quran reader

اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کے روبرو سجدہ کرو سو (سب نے) سجدہ کیا، مگر ابلیس نے نہ کیا،138۔

138۔ اس سجدہ کے حکم اور ابلیس کے انکار وغیرہ پر حاشیہ سورة بقرہ میں گزر چکے پ 1 رکوع 4۔
Ayah 20:117

فَقُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَ لِزَوْجِكَ فَلَا یُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰى Open ayah 20:117 in the Quran reader

وہ انکار کرگیا پھر ہم نے کہا کہ اے آدم یقیناً یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے،139۔ سو کہیں یہ تم دونوں کو جنت سے نکلوا نہ دے پھر تم مصیبت میں پڑجاؤ،140۔

139۔ (کہ تمہیں دونوں کے معاملہ میں اسے مردود ہونا پڑا تھا) 140۔ یعنی ایسا نہ ہو کہ اس کے کہے میں آکر کوئی ایسا کام کر بیٹھو کہ جنت سے ہاتھ دھونا پڑے۔
Ayahs 20:118–119

اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِیْهَا وَ لَا تَعْرٰىۙ Open ayah 20:118 in the Quran reader

(یہاں اس) کی جنت میں تو یہ ہے کہ تم نہ کبھی بھوکے ہوگے اور نہ ننگے

وَ اَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا فِیْهَا وَ لَا تَضْحٰى Open ayah 20:119 in the Quran reader

اور یہ بھی ہے کہ نہ اس میں پیاسے ہوگے اور نہ دھوپ میں تپوگے،141۔

141۔ (اور جنت سے باہر ان سب مصیبتوں سے دو چار ہونا پڑے گا، اس لیے ان امور کو پیش نظر رکھ کر اپنے اس موذی دشمن کی طرف سے خوب ہوشیار اور خبردار رہنا)
Ayah 20:120

فَوَسْوَسَ اِلَیْهِ الشَّیْطٰنُ قَالَ یٰۤاٰدَمُ هَلْ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَ مُلْكٍ لَّا یَبْلٰى Open ayah 20:120 in the Quran reader

پھر شیطان نے انہیں وسوسہ دلایا کہا کہ اے آدم میں تمہیں بتلا نہ دوں ہمیشگی کا درخت اور بادشاہی جس میں کبھی ضعف نہ آوے،142۔

142۔ شیطان کا دام فریب یہی تھا اس نے حضرت آدم (علیہ السلام) سے قسم کھاکرکہا کہ میں آپ کو ایسے درخت کا پتہ بتائے دیتا ہوں جس کے پھل پتی میں یہ تاثیر ہے کہ آپ غیرفانی ہوجائیں گے ،۔ اور ہمیشہ یہی جنت میں مقیم رہیں گے، حضرت آدم (علیہ السلام) سے بڑھ کر مقام قرب حق میں قیام کا حریص اور کون ہوسکتا تھا اور اس کا تو آپ تصور ہی نہیں فرما سکتے ہیں کہ جھوٹی قسم کھا کر کوئی اللہ کے نام کی بےوقعتی بھی کرسکتا ہے۔ جھٹ آپ اس کے کہے میں آگئے اور اس کے مشورہ کو رضاء حق ہی کی راہ کا ایک مشورہ سمجھے۔ (ملاحظہ ہوضمیمہ سورة الاعراف) مرشد تھانوی (رح) نے یہاں ایک نکتہ بہت خوب پیدا کیا ہے۔ فرمایا کہ آیت میں مذکور ہے ثمرات غیر مقصودہ کی طلب کا سالک کے حق میں مضر ہونا، کیونکہ یہ خلد جس کی تحصیل کا حکم نہیں کیا گیا تھا نیز ملکیت ایسی ہی غیرمطلوب تھی۔