20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 20:41

وَ اصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِیْۚ Open ayah 20:41 in the Quran reader

اور میں نے تم کو اپنے لئے منتخب کرلیا،40۔

40۔” اپنے لئے “ یعنی اپنا نبی بنانے کے لیے۔ اے لوحی ورسالتی (ابن عباس ؓ اخترتک لاقامۃ حجتی (روح۔ عن الزجاج) الاصطناع الاخلاص بالالطاف ومعنی لنفسی لنصرف علی ارادتی وحجتی (جصاص)
Ayah 20:42

اِذْهَبْ اَنْتَ وَ اَخُوْكَ بِاٰیٰتِیْ وَ لَا تَنِیَا فِیْ ذِكْرِیْۚ Open ayah 20:42 in the Quran reader

(سو اب) تم اور تمہارے بھائی میری نشانیوں کے ساتھ جاؤ اور میری یاد میں سستی نہ کرنا،41۔

41۔ اہل حق کا اصلی مشغلہ وفریضہ یہی یاد الہی ہے جس کی تاکید سے قرآن بھرا پڑا ہے۔ پیغمبر بھیجے ہی جاتے ہیں تذکر وتذکیر کے لیے دنیوی نظام حکومت قائم کرنے کی حیثیت ثانوی اور ضمنی ہوتی ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ تعلیم میں برکت جب ہی پیدا ہوتی ہے جب معلم خود بھی ذکر میں مشغول ہو۔ (آیت) ” ایتی “۔ سے مراد وہ معجزات ہیں، جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وحضرت ہارون (علیہما السلام) کو عطا ہوچکے تھے۔
Ayah 20:43

اِذْهَبَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰىۚۖ Open ayah 20:43 in the Quran reader

فرعون کے پاس تم دونوں جاؤ بیشک وہ حد سے تجاوز کرگیا ہے،42۔

42۔ ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 24۔
Ayah 20:44

فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهٗ یَتَذَكَّرُ اَوْ یَخْشٰى Open ayah 20:44 in the Quran reader

پھر اس سے گفتگو نرم کرنا،43۔ شاید کہ وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر ہی جائے،44۔

43۔ (کہ یہ مؤثر ترین طریق تبلیغ ہے اور شروع میں خشونت ودرشتی کو باوجود اشتعال طبع اپنے قریب نہ آنے دینا) فقہاء نے اس سے مسئلہ یہ نکالا ہے کہ قوت ونصرت کے یقین کے باوجود بھی (جیسا کہ یہاں حضرت موسیٰ کو نصرت غیبی کا پورا یقین تھا) مبلغ کے لیے پوری طرح جائز ہے کہ انداز تبلیغ نرم رکھے۔ فی ھذا جواز الامر بالمعروف والنھی عن المنکر باللین لمن معہ القوۃ وضمنت لہ العصمۃ (ابن العربی) محققین نے یہ بھی کہا ہے کہ آیت کے اندر اخلاق کا بہت بڑا سبق موجود ہے کہ باوجود اس نے کہ فرعون کے طغیان وتمرد کا ذکر ابھی ابھی ہوچکا ہے۔ اس پر بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جیسے مقبول و برگزیدہ بندہ کو حکم اسی کا ملتا ہے کہ اس سے لطف وملائمت ہی سے پیش آئیں۔ ھذہ الایۃ فیھا عبرۃ عظیمۃ وھو ان فرعون فی غایۃ العتو والاستکبار وموسی صفوۃ اللہ من خلقہ اذذاک ومع ھذا امران لایخاطب فرعون الا بالملاطفۃ واللین (ابن کثیر) 44۔ مقصود تو بہرحال ایمان لانا اور سچی تعلیم کو سچ تسلیم کرلینا ہے، خواہ یہ صورت بہ طوع ورغبت، ذوق وشوق سے حاصل ہو، خواہ خوف خدا سے یا خوف عاقبت سے۔ آیت پر یہ اعتراض بالکل مہمل ہے کہ جب علم الہی میں فرعون کا ایمان نہ لانا ہی تھا تو یہاں یہ کیوں کہا گیا۔ یہاں تو مقصود صرف ان بندوں کو یہ ہدایت دینا ہے کہ تم اپنی تبلیغی کوششیں اسی امید پر جاری رکھو، علم الہی وقضائے الہی کی صورت بالکل الگ ہے۔ اس کو بندوں کی کوشش سے کیا واسطہ۔ معناہ اذھبا علی رجاء منکما وطمع وقضاء اللہ وراء امر کما (معالم)
Ayah 20:45

قَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیْنَاۤ اَوْ اَنْ یَّطْغٰى Open ayah 20:45 in the Quran reader

دونوں بولے اے ہمارے پروردگار ہم کو یہ اندیشہ ہے کہ وہ ہم پر زیادتی نہ کربیٹھے یا یہ کہ زیادہ سرکشی نہ کرنے لگے،45۔

45۔ (کہ اول الذکر صورت میں ہماری تبلغ دھری کی دھری رہ جائے، وہ ہمیں اس کا موقع ہی نہ دے، اور آخری صورت میں کہیں اس کا جرم اور بڑھ نہ جائے)
Ayah 20:46

قَالَ لَا تَخَافَاۤ اِنَّنِیْ مَعَكُمَاۤ اَسْمَعُ وَ اَرٰى Open ayah 20:46 in the Quran reader

اللہ نے کہا تم ڈرو نہیں تم دونوں کے ساتھ تو میں ہوں میں (سب) سنتا اور دیکھتا ہوں،46۔

46۔ کسی کا نسٹیبل سے اگر وائسرائے کہہ دیں کہ ” فلاں ڈاکو سے مقابلہ کرنے میں تم اندشیہ نہ کرو، ہم خود مع اپنی ساری قوت کے تمہارے ساتھ ہوں گے “۔ تو وہ کیسا باغ باغ ہوجائے گا، اور اسے کیسا زبردست سہارا ہاتھ آجائے گا۔ پھر یہاں تو بندہ کو خدا کا سہارا ہاتھ آ رہا تھا ! تسکین تشفی وتقویت قلب کی اس سے بڑھ کر صورت خیال میں بھی نہیں آسکتی۔ (آیت) ’ ’ معکما “۔ معیت سے مراد کمال حفظ ونصرت الہی ہے۔ معکما بالحفظ والنصر (بیضاوی) والمراد بمعیتہ سبحانہ کمال الحفظ والنصرۃ (روح) توریت میں اس موقع پر ہے :۔” وہ بولا یقیناً میں تیرے ساتھ ہوں گا “ (خروج۔ 30: 12) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ (آیت) ” اسمع واری “۔ اگر (آیت) ” اننی معکما “۔ کی تفسیر ہے تو دلیل ہے قرب صفاتی پر اور اگر مستقل ہے تو (آیت) ” اننی معکما “۔ دلیل ہے قرب ذاتی پر۔
Ayah 20:47

فَاْتِیٰهُ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ وَ لَا تُعَذِّبْهُمْ١ؕ قَدْ جِئْنٰكَ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ السَّلٰمُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى Open ayah 20:47 in the Quran reader

تم اس کے پاس جاؤ پھر اس سے کہو ہم دونوں تیرے پروردگار کے قاصد ہیں سو تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو جانے دے اور انہیں دکھ نہ دے،47۔ ہم تیرے پاس تیرے پروردگار کی طرف سے نشان لے کر آئے ہیں اور سلامتی ہے اس کے لئے جو سیدھی راہ پر چلے،48۔

47۔ (بےقصور وبے خطا جب تک وہ تیرے ملک میں مقیم ہیں) فرعون کے مظالم اب حد سے بڑھ گئے تھے۔ اور بنی اسرائیل کی طرف سے مطالبہ یہ تھا کہ ہمارے وطن کنعان (صوبہ شام) واپس چلے جانے کی اجازت دے دی جائے، فرعون حکومت ان لوگوں سے بیگار کا اور ادنی قسم کی مزدوری کا کام لیتی رہتی تھی، اس لیے اس مطالبہ کو بھی نہیں مان رہی تھی، آج ہمارے ہاں کا بھی کون ظالم زمیندار یہ گوارا کرتا ہے کہ اس کی ادنی رعایا بھی اس کی زمین سے نکل جائے، توریت میں ہے :۔” بعد اس کے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) آئے اور فرعون کو کہا کہ خداوند اسرائیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ میرے لوگوں کو جانے دے تاکہ وہ بیابان میں میرے لیے عہد کریں “۔ (خروج۔ 5: 1) (آیت) ” رسولا ربک “۔ پروردگار کے قاصد یا رسول مرسل۔ 48۔ یعنی جو کوئی دین حنیف کو اختیار کرے اور سیدھی راہ چلنے لگے، اسے تھوڑے ہی قہر و عذاب کا ڈر رہ سکتا ہے ؟ اسے کھٹکا نہ دنیا میں نہ آخرت میں ! اے السلام ۃ من العذاب فی الدارین لمن اتبع ذلک بتصدیق ایت اللہ (روح) یہاں اسلام کی ایک عام خصوصیت بیان کردی گئی کہ اس کا قانون اس کا آئین، اس کا نظام دنیا اور آخرت دونوں کے لیے بہترین دستور حیات ہے فرد کے لیے بھی، جماعت کے لیے بھی۔ (آیت) ” بایۃ من ربک “۔ ایت بہ معنی نشان یا معجزہ، یعنی جس سے تجھے بھی ہماری صداقت کا یقین آجائے، (آیت) ” ایۃ “۔ کی تنوین سے مراد جنس معجزہ ہے نہ کہ کوئی مفرد معجزہ۔
Ayah 20:48

اِنَّا قَدْ اُوْحِیَ اِلَیْنَاۤ اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰى مَنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰى Open ayah 20:48 in the Quran reader

ہمارے پاس تو وحی یہ آچکی ہے کہ عذاب (قہری) اسی کے لئے جو جھٹلائے اور روگردانی کرے،49۔

49۔ (حق سے) توریت میں یہ واقعات تو خیرتھوڑے بہت درج ہیں، لیکن قرآن مجید بیچ بیچ میں اخلاق و عقائد سے متعلق جو تعلیمات دینا چاہتا ہے ان سے توریت کے صفحات یکسر خالی ہیں ! حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو وہ جو حکم ” قول لین “۔ (نرم بولی) کاملا تھا یہ اسی کی تعمیل ہورہی ہے کہ آپ نے براہ راست یہ نہ فرمادیا کہ عذاب تیرے اوپر ہوگا، بلکہ اسے ایک کلیہ اور قانون کی صورت میں پیش کیا۔
Ayah 20:49

قَالَ فَمَنْ رَّبُّكُمَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:49 in the Quran reader

(فرعون نے) کہا تو پھر اسے موسیٰ (علیہ السلام) تم دونوں کا پروردگار ہے کون ؟ ،50۔

50۔ یہ دونوں حضرات فرعون کے دربار تک پہنچ چکے ہیں اور یہ گفتگو وہیں ہو رہیں ہے۔ مصر میں فرعون سب سے بڑے دیوتا یعنی سورج دیوتا کا اوتار سمجھا جاتا تھا، اور عملاتمام اختیارات خدائی کا مظہر۔ اب تک وہ اپنے ہی کو سب سے بڑے یعنی سورج دیوتا کے مظہر یا اوتار سنتے رہنے یا سمجھتے رہنے کا عادی رہا تھا۔ اب جو یہ نئی اور نامانوس آواز اس کے کان میں پڑی تو حیرت سے پوچھتا ہے کہ اچھا یہ بتاؤ تو سہی آخر تمہار اترا شا ہورب کون سا ہے ؟ توریت میں اسی مقام پر ہے :۔” فرعون نے کہا کہ خداوند کون ہے کہ میں اس کی آواز کو سنوں کو بنی اسرائیل کو جانے دوں ؟ میں خداوند کو نہیں جانتا اور نہ میں بنی اسرائیل کو جانے دوں گا “۔ (خروج۔ 5: 2)
Ayah 20:50

قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْۤ اَعْطٰى كُلَّ شَیْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى Open ayah 20:50 in the Quran reader

(موسی (علیہ السلام) نے) کہا ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی بناوٹ عطا کی پھر (اس کی) رہنمائی کی،51۔

51۔ (ان کی اسی خلقت کی جانب) حضرت موسیٰ اپنے رب کا تعارف کرا رہے ہیں۔ ارے تو اس کو نہیں جانتا۔ وہ تو وہ ذات ہے جس نے ساری مخلوقات کو شرف وجود سے مشرف کیا ہے، پھر جیسی جس کی فطرت وساخت رکھی، اور جو کام اس سے لینا چاہا، اس کے مطابق اس کے آلات وقوی، ہئیت و ترکیب بھی رکھی گویا تخلیق اور ترتیب دونوں کا مبداء وہ ہی تو ہے۔ (آیت) ” اعطی کل شیء خلقہ “۔ سے مراد ہے کہ ہر ہستی کی ساخت وخلقت موزون ومناسب رکھی، اور (آیت) ” ھدی “۔ سے مراد ہے کہ جس مقصد وغرض کے لئے اس ہستی کو مخلوق کیا، اسی طرف اسے لگا بھی دیا، خیال رہے کہ گفتگو مسئلہ ربوبیت پر چل رہی ہے نہ کہ الوہیت پر۔ مرشد تھانوی (رح) نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس جواب سے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ معرفت بالکنہ ممتنع ہے اور بالصفات والا فعال جائز ہے۔
Ayah 20:51

قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰى Open ayah 20:51 in the Quran reader

(فرعون نے) کہا، اچھا تو پہلی نسلوں کا کیا حال ہوا ہے ؟ ،52۔

52۔ (جن کا دین تمہارے دین توحید سے یقیناً مختلف تھا) یعنی اب وہ کس حال کس عالم میں ہیں ؟ مصریوں کے اس بارے میں عجیب عجیب نظریات تھے۔ ہندی مشرکوں کے عقائد سے ملتے ہوئے۔ ایک خیال یہ تھا کہ ہر روح جزئی قید ہستی سے چھوٹنے کے بعد، روح کلی سے جاملتی ہے۔
Ayah 20:52

قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ كِتٰبٍ١ۚ لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَ لَا یَنْسَى٘ Open ayah 20:52 in the Quran reader

(موسی (علیہ السلام) نے) کہا ان کا علم میرے پروردگار کے پاس دفتر میں (محفوظ) ہے میرا پروردگار نہ بھٹک سکتا ہے نہ بھول سکتا ہے،53۔

53۔ (بہ خلاف تمہارے معبودوں کے جن کے لئے غلطیاں کر جانا، سہو ونسیان کا شکار ہوجانا سب ہی کچھ ممکن ہے) حضرت کا جواب بہت بلیغ ہے۔ آپ نے فرمایا، مجھے پچھلوں کے حشر کی کیا خبر ؟ البتہ اتنا یقین کے ساتھ جانتا ہوں کہ بہرحال ان کے ساتھ انصاف ہی ہوا ہوگا، اور میرے علیم وخبیر، ہمہ بین وہمہ دان خدا نے ان کے ساتھ معاملہ وہی کیا ہوگا جس کے مستحق وہ اپنے عمل اور نامہ اعمال کے لحاظ سے ہوں گے۔ وہاں غلطی یا بھول چوک کا کیا امکان !
Ayah 20:53

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ سَلَكَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ؕ فَاَخْرَجْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْ نَّبَاتٍ شَتّٰى Open ayah 20:53 in the Quran reader

وہ وہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش بنا دیا،54۔ اور تمہارے لئے اس میں راستے بنادیئے اور آسمان سے پانی اتارا پھر ہم نے اس کے ذریعہ سے مختلف قسم کے طرح طرح کے نباتات پیدا کئے،55۔

54۔ (جس پر تم آرام واستراحت کرتے ہو) خطاب اب موسیٰ (علیہ السلام) وفرعون کے مکالمہ سے الگ۔ براہ راست رب العالمین کانوع انسان سے ہے، اور یہ طرز بلاغت قرآنی کے خصوصیات میں سے ہے۔ 55۔ (جن پر تم چلو پھرو) یعنی زمین پر تمہیں پیدا ہی نہیں کیا بلکہ تمہارے لئے ہر قسم کے سامان آسائش بھی مہیا کردیئے۔
Ayah 20:54

كُلُوْا وَ ارْعَوْا اَنْعَامَكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ Open ayah 20:54 in the Quran reader

کھاؤ اور اپنے مویشوں کو چراؤ بیشک اس (سارے نظام) میں دلیلیں موجود ہیں اہل عقل کے لئے،56۔

56۔ (اس کے کمال ربوبیت کی) مصریوں میں چوپانی، گلہ بانی کا خاصررواج تھا، اور مصری تمدن میں مویشیوں کو ایک خاص اہمیت حاصل تھی، اس لئے ان سے مخاطبت کرنے میں انعام کا نام لینا عین مقتضائے مقام ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا (آیت) ” اخرجنا “۔ میں اشارہ ہے اس جانب کہ مؤثر حقیقی حق تعالیٰ ہی ہے۔ لیکن (آیت) ” بہ “۔ سے اثبات توسط اسباب کا بھی ہو رہا ہے۔
Ayah 20:55

مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِیْهَا نُعِیْدُكُمْ وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى Open ayah 20:55 in the Quran reader

اسی (زمین) میں سے ہم نے تمہیں پیدا کیا تھا اور اس ی میں ہم تمہیں واپس لے جائیں گے اور اسی میں سے تمہیں دوبارہ پھر نکالیں گے،57۔

57۔ (بعد موت) انسان کی آفرنیش اجزائے ارضی ہی سے ہوگئی ہے، اور موت کے بعد بہرصورت وہ اجزائے ارضی ہی میں ملایا جانا ہے، اور قیامت کے دن اس کی آفرنیش ثانی بھی انہیں اجزاء رضیہ ہی سے ہوگی۔ بائبل میں ایک آیت اسی سے ملتی جلتی موجود ہے۔” تو خاک ہے اور پھر خاک بن جائے گا۔ “ (پیدائش۔ 3: 19) لیکن حشر وبعثت کا اس میں کوئی ذکر نہیں۔ حدیث رسول کی تعمیل میں مسلمان اپنی میت کو قبر میں اتارتے ہوئے اس آیت کو پڑھتے جاتے ہیں۔
Ayah 20:56

وَ لَقَدْ اَرَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَ اَبٰى Open ayah 20:56 in the Quran reader

اور ہم نے اسے ساری ہی نشانیاں دکھلادیں،58۔ لیکن وہ جھٹلایا ہی کیا اور انکار ہی کرتا رہا

58۔ (جو حضرت موسیٰ کو عطا ہوئی تھیں) (آیت) ” ایت “۔ کے مفہوم میں معجزات و دلائل دونوں شامل ہیں، توریت کتاب خروج میں ان معجزات کا ذکر بڑی تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔
Ayah 20:57

قَالَ اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:57 in the Quran reader

(فرعون نے) کہا تو (شاید) تم اس لئے ہمارے پاس آئے ہو کہ ہمیں ہماری سرزمین سے اپنے سحر (کے زور) سے نکال دو اے موسیٰ (علیہ السلام) ،59۔

59۔ سب کچھ دیکھنے اور سننے کے بعد، آخر میں فرعون بولا تو یہ بولا ! کیا خوب زور کی اس نے ساحری کی ! انسان اپنے ہی پر دوسرے کا بھی قیاس کرتا ہے۔ بیچارہ خود سحر وکہانت میں مبتلا، ان اعمال سفلیہ کا ماہر، اس بدبخت کی سمجھ ہی میں نہیں آیا کہ کوئی درجہ علوم عالیہ کا، مراتب روحانیہ کا، ان سفلیات سے بلند تر بھی ہے ...... یہ تشخیص بھی کس قدر مشابہ ہے اس رائے کے جو آج بڑے بڑے فرنگی ” حکماء “ وفرنگیت زدہ ” محققین “ سیرت نبوی پڑھ کر، کمالات و کرامات محمدی سے بہ قدر اپنے ظرف کے واقف ہو کر آخر میں گردن کی جنبش کے ساتھ فرماتے ہیں کہ ” بیشک محمد ﷺ بڑے خوش تدبیر، بڑے خوش فکر، بڑے خوش انتظام، مصلح ومدبر گزرے ہیں “ !
Ayah 20:58

فَلَنَاْتِیَنَّكَ بِسِحْرٍ مِّثْلِهٖ فَاجْعَلْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكَ مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُهٗ نَحْنُ وَ لَاۤ اَنْتَ مَكَانًا سُوًى Open ayah 20:58 in the Quran reader

سو تو خیر اب ہم بھی تمہارے مقابلہ میں ویسا ہی سحر لاتے ہیں تو اب ہمارے اور اپنے درمیان ایک وعدہ گاہ بدلو جس کی نہ ہم خلاف کریں اور نہ تم ایک ہموار میدان میں،60۔

60۔ یعنی کھلے ہوئے مقام میں، جہاں ساری پبلک جمع ہو کر ہماری تمہاری ساحری کا مقابلہ وتماشا دیکھ سکے،” سوی “۔ کے معنی بھی کئے گئے ہیں کہ وہ میدان، ہم دونوں فریقوں سے نصف نصف مسافت پر واقع ہو۔ اے منصفابیننا وبینک (روح۔ عن مجاھد وقتادۃ) فرعون کے سحر پر ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن کا حاشیہ۔
Ayah 20:59

قَالَ مَوْعِدُكُمْ یَوْمُ الزِّیْنَةِ وَ اَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى Open ayah 20:59 in the Quran reader

(موسی (علیہ السلام) نے) کہا تم سے وعدہ میلہ کے دن کا رہا اور (ہاں یہ بھی) کہ لوگ دن چڑھے جمع ہوجائیں،61۔

61۔ مصر میں قومی تہوار یا جشن سال میں دو بار بڑے پیمانہ پر منائے جاتے تھے۔ ایک بار ماہ مارچ میں، دوسری بارماہ اگست میں۔ اور تیسرا جشن ان دونوں سے بھی بڑھ چڑھ کر ہوتا تھا۔ انہیں میں سے کوئی جشن یہاں مراد ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔
Ayah 20:60

فَتَوَلّٰى فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَیْدَهٗ ثُمَّ اَتٰى Open ayah 20:60 in the Quran reader

عرض فرعون واپس ہوگیا پھر اپنے مکر کا سامان جمع کرنا شروع کیا اور پھر آیا،62۔

62۔ (یوم ووقت مقررہ پر میدان جشن میں) ” واپس ہوگیا “ سے مراد ہے کہ دربار سے اپنے محل کو واپس گیا۔ مکرکے سامان، سے مراد ساحر اور ان کے آلات سحر ہیں۔ قرآن حسب معمول درمیان کی ساری غیرضروری تفصیلات کو چھوڑ کر توجہ قصہ کے صرف ضروری اجزاء پر رکھتا ہے۔
Ayah 20:61

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰى وَیْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَیُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ١ۚ وَ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى Open ayah 20:61 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے کہا اے کم بختی مارو خدا پر جھوٹ افتر نہ کرو ورنہ وہ تمہیں عذاب سے نیست ونابود کردے گا اور جو کوئی جھوٹ باندھتا ہے وہ ناکام ہی رہتا ہے،63۔

63۔ (انجام کار میں) توریت میں بھی اس معرکہ کا ذکر ہے لیکن بالکل مختصر اور پھیکا۔ جس سے نہ کوئی اخلاقی سبق ملتا ہے اور نہ پوری تفصیل ہی واقعہ کی معلوم ہوتی ہے۔ (آیت) ” قال لھم “۔ ضمیر جمع غائب اب ساحروں کی طرف ہے۔ اب سب حسب قرارداد میدان میں اکٹھے ہوگئے ہیں، اور موسیٰ (علیہ السلام) پیغمبر آخری بار بطور اتمام حجت کے ساحروں سے تبلیغی گفتگو کررہے ہیں۔ (آیت) ” ویلکم لا تفتروا “ مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس لب و لہجہ میں کلام فرعون سے نہ فرمایا گیا۔ اس میں تعلیم ہے حفظ مراتب کی۔
Ayah 20:62

فَتَنَازَعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ وَ اَسَرُّوا النَّجْوٰى Open ayah 20:62 in the Quran reader

پھر وہ لوگ اپنی رائے میں آپس میں اختلاف کرنے لگے اور خفیہ مشورہ کرنے لگے،64۔

64۔ جیسا کہ اکثر ایسے موقع پر ہوتا ہے، ساحروں کی جماعت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان سے مقابلہ کے معاملہ میں خود مختلف الرائے ہوگئی۔ ساحروں کی جماعت میں ترودو انتشار بہت ممکن ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی مؤثر تبلیغی تقریر کا نتیجہ ہو۔
Ayah 20:63

قَالُوْۤا اِنْ هٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ یُرِیْدٰنِ اَنْ یُّخْرِجٰكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا وَ یَذْهَبَا بِطَرِیْقَتِكُمُ الْمُثْلٰى Open ayah 20:63 in the Quran reader

(پھر) بولے کہ بیشک یہ دونوں بھی جادوگر ہی ہیں، (اور) یہ چاہتے ہیں کہ تمہیں تمہاری سرزمین سے اپنے جادو (کے زور) سے نکال دیں اور تمہارا بہتر (واعلی) طور و طریق ہی مٹا دیں،65۔

65۔ یعنی آپس میں سرگوشی اور مشورت کے بعد یہ ٹھہری کہ یہ دونوں کہیں باہر سے یہ فن سیکھ ساکھ کر آئے ہیں، اور چاہتے ہیں کہ ہم پر غالب آکرہماری اس وطنی فن بلکہ ہماری ساری قومی تہذیب و تمدن ہی کو مٹا بھی ڈالیں، اور خود ایک نظام نو کی بنیاد ڈالیں۔ (آیت) ” مثلی “۔ صیغہ مؤنث ہے امثل کا اور امثل کے معنی ہیں خوب روشن وخوب واضح کے۔ الامثل الاظھر والاوضح (کبیر) یعنی ہمارا یہ نظام جس سے ہم خوب روشناس ہیں۔ غرض حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے باب میں جو سرکاری تشخیص، فرعون اور اس کی گورنمنٹ کی جانب سے پہلے ہی ہوچکی تھی، ساحروں نے بھی اسی سے اتفاق کیا۔
Ayah 20:64

فَاَجْمِعُوْا كَیْدَكُمْ ثُمَّ ائْتُوْا صَفًّا١ۚ وَ قَدْ اَفْلَحَ الْیَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰى Open ayah 20:64 in the Quran reader

سو اب سب مل کر اپنے فن کا انتظام کرو،66۔ اور صف بہ صف آجاؤ کہ آج فلاح اسی کی ہے جو غالب آئے،67۔

66۔ (اور کوئی بات اٹھا نہ رکھو) یعنی لاتدعوا شیئا الاجئتم بہ (کبیر) (آیت) ” اجمعوا “۔ سے ایک مراد تو وہی ہے جو اردو میں جمع ہوکر، مل کر سب کے اکھٹے ہونے سے ہوتی ہے، اور یہی معنی زجاج لغوی نے لئے ہیں۔ لیکن عزمکم کلکم کالید مجمعا علیہ لاتختلفوا (کبیر۔ عن الزجاج) اور دوسرے معنی یہ کہ خوب مضبوط ہو کر نکلو، اور یہ معنی فراء لغوی سے منقول ہیں الاجماع الاحکام والعزیمۃ علی الشیء (کبیر۔ عن الفراء) 67۔ (آج ہی تو ہماری قوم اور ہمارے دین وتہذیب کی موت وزیست کا مسئلہ طے ہونا ہے) صف بہ صف، یعنی سب مل کر۔ آپس میں ایک دوسرے کو غیرت دلائی کہ آج تو ہمارے فن پر حملہ ہے، فن کی عزت کا سوال ہے، اس کا تحفظ ہم سب پر واجب ہے۔ دوسرا پہلو صفا میں بھی یہی ہے کہ خوب شان و شوکت کے ساتھ آج اس جدید مدعی وحریف پر حملہ کرو،
Ayah 20:65

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰى Open ayah 20:65 in the Quran reader

(پھر) بولے کہ اے موسیٰ (پہلے) آپ (اپنا عصا) ڈالیں گے یا ہمیں پہلے ڈالنے والے بنیں ؟ ،68۔

68۔ ساحر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے دریافت کررہے ہیں (جیسا کہ آج بھی کھلاڑی مقابلہ کے وقت دریافت کرتے ہیں) کہ کہیے پہلی بازی کس کی رہے گی ؟ یا دوسری اصطلاح میں پہلا وار کس کا ہوگا ؟ ظاہر ہے کہ ساحر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے القاء سحر کی اجازت نہیں طلب کررہے ہیں، اجازت دینے کے قابل وہ انہیں سمجھتے ہی کیا تھے۔ القاء سحر پر تو وہ کمر بستہ تھے ہی، دریافت صرف اتنا کررہے ہیں کہ پہلی بازی کس کی ہوگی ،
Ayah 20:66

قَالَ بَلْ اَلْقُوْا١ۚ فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَ عِصِیُّهُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰى Open ayah 20:66 in the Quran reader

(موسی (علیہ السلام) نے) کہا نہیں تم ہی ڈال چلو،69۔ پس یکایک ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں موسیٰ کے خیال میں ان کے جادو کے زور سے ایسی نظر آنے لگیں کہ گویا وہ دوڑ پھر رہی ہیں،70۔

69۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بےنیازی سے جواب دیتے ہیں کہ تمہیں پہلا وار کر دیکھو، پہل دیکھو، اپنے حوصلے پہلے ہی نکال۔ ظاہر ہے کہ یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے اجازت یا حکم کا کوئی موقع ہی نہیں۔ سوال تو صرف تخییر کا تھا۔ اور آپ نے دونوں پہلوؤں میں سے وہ شق اختیار کرلی، جو حق کے واضح کرنے میں زیادہ معین ہونے والی تھی اور بالفرض اگر آپ القاء سحر کی اجازت ہی دے دیتے، جب بھی مقصود تو آپ کا احقاق حق ہی تھا۔ اور یہ القاء سحر اس کا ایک مقدمہ تھا۔ ایسی صورت میں اگر آپ اپنی طرف سے اس امر بھی کردیتے جب بھی مطلق کوئی مضائقہ نہ تھا ......... یہاں سے یہ سبق بھی حاصل ہوا کہ احقاق حق کی غرض ومقصد سے اگر کچھ دیر کے لئے باطل کے ظہور وشیوع کو انگیز بھی کرنا پڑے تو جائز ہی نہیں بلکہ ایک خدمت دین بھی ہے۔ اہل باطل سے مناظرہ میں یہ کرنا ہی پڑتا ہے۔ 70۔ (سانپ کی طرح) توریت میں ہے :۔” ہارون نے اپنا عصا فرعون اور اس کے خادموں کے آگے پھینکا، اور وہ سانپ ہوگیا، تب فرعون نے بھی داناؤں اور جادوگروں کو طلب کیا۔ چناچہ مصر کے جادوگروں نے بھی اپنے جاددؤں سے ایسا ہی کیا کہ ان میں سے ہر ایک نے اپنا اپنا عصاپھینکا اور وہ سانپ ہوگیا۔ “ (خروج۔ 7: 10۔ 11) اس سے قطع نظر کہ توریت میں عصا بجائے موسیٰ (علیہ السلام) کے ہارون (علیہ السلام) کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے۔ توریت و قرآن مجید کے بیان میں بڑا فرق یہ ہے کہ توریت میں سحر کے اثر سے رسیوں اور لاٹھیوں کا سانپ بن جانا مذکور ہے، بہ خلاف اس کے قرآن میں صرف اتنا ہے کہ ساحرون کی نظر بندی کے اثر سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو (یا اور دیکھنے والوں کو بھی) وہ رسیاں اور لاٹھیاں دوڑتی پھرتی نظرآئیں، ان کے واقعۃ سانپ بن جانے کا قرآن مدعی نہیں۔
Ayah 20:67

فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِهٖ خِیْفَةً مُّوْسٰى Open ayah 20:67 in the Quran reader

اس سے موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے دل میں کچھ اندیشہ محسوس کیا،71۔

71۔ (کہ یہ بات ہی کیا ہوئی۔ جب انہوں نے بھی سانپ بنالئے اور میرا عصا بھی سانپ ہی بہرحال بنے گا، تو دیکھنے والے معاملہ اور مقابلہ برابر سمجھیں گے، حق کا غلبہ کیسے ثابت ہوگا) (آیت) ” خیفۃ “۔ کا نکرہ ہونا دلیل ہے اس کی کہ یہ اندیشہ کچھ بہت زیادہ نہیں، تھوڑا ہی ساپیدا ہوا تھا۔ التنکیر للتقلیل (تھانوی) مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس میں اثبات ہے اس کا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے کمال کے مدعی نہ تھے۔ مدعی کمال کو خوف نہیں ہوتا۔
Ayah 20:68

قُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰى Open ayah 20:68 in the Quran reader

ہم نے کہا ڈرو نہیں، غالب تو یقیناً تم ہی رہوگے،72۔

72۔ معا تسکین غیب سے دی گئی کہ نہیں، تم کچھ پروانہ کرو، فتح تمہاری اور حق ہی کی ہوگی، اور تسکین بھی کس تاکید اور قطعیت کے ساتھ، ایک تو حرف (آیت) ” ان “۔ تاکید کا، پھر ضمیر مخاطب کی تکرار، پھر اعلی پر لام معرفہ کا۔ اور پھر خود لفظ اعلی کہ ’ علو ‘ غلبہ نمایاں ہی کو ظاہر کرنے والا ہے ، (کبیر)
Ayah 20:69

وَ اَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوْا كَیْدُ سٰحِرٍ١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰى Open ayah 20:69 in the Quran reader

یہ تمہارے داہنے ہاتھ میں جو (عصا) ہے اسے ڈال دو اس (سوانگ) کو وہ بالکل نگل جائے گا جو انہوں نے بنا کھڑا کیا ہے یہ انہوں نے تو بس جادو کا سوانگ بنا کھڑا کیا ہے اور جادو گر کہیں جائے کامیاب نہیں ہوتا،73۔

73۔ (معجزہ کے مقابلہ میں) ارشاد ہوا کہ تمہارے مقابل میں جو کچھ ہے، دھوکے کی ٹٹی ہے، نمائش ہے، گڑھا ہوا سوانگ ہے۔ اس کی بساط ہی کیا حق کی ٹھوس چٹان کے مقابلہ میں یہ کہیں ٹھہر سکتا ہے۔ والمعنی ان الذی معک یا موسیٰ معجزۃ الھیۃ والذی معھم تمویھات باطلۃ فیکف یحصل التعارض (کبیر) (آیت) ” صنعوا “ یہاں بنا کر کھڑا کرنے کے معنی میں ہے۔ صنعوا اے زوروا (بیضاوی) ساحر اور (آیت) ” الساحر “ دونوں سے آیت میں مراد عدد نہیں، جنس ساحر ہے، اسی لئے لفظ قصدا صیغہ مفرد میں لایا گیا۔ انما وحد ساحر ولم یجمع لان القصد فی ھذالکلام الی معنی الجنسیۃ لاالی معنی العدد فلو جمع لخیل ان المقصود ھو العدد (کشاف۔ مدارک) (آیت) ” کید سحر “۔ کے ساتھ ساحر نکرہ آیا ہے، مراد وہ خاص سحر ہے جس سے ان فرعونی ساحروں نے کام لیا تھا۔ اور (آیت) ” لایفلح الساحر “۔ میں (آیت) ” الساحر “۔ معرفہ ہے۔ مراد یہ ہے کہ جنس سحر یا جمیع اقسام سحر بےحاصل ہیں۔ (کبیر)
Ayah 20:70

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ هٰرُوْنَ وَ مُوْسٰى Open ayah 20:70 in the Quran reader

پھر تو جادوگر سجدہ میں گرگئے،74۔ (اور) بول اٹھے ہم تو ایمان لے آئے ہارون اور موسیٰ (علیہ السلام) کے پروردگار پر

74۔ (جب انہوں نے دیکھ لیا کہ ان کا سارا سوانگ اکارت ہی گیا، اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اژدہا ان کے سارے سانپوں کو نگل گیا، اور سمجھ گئے کہ یہ کرامت واعجاز مافوق السحر ہے) مرشد تھانوی (رح) نے ان الفاظ سے یہ نکالا کہ عمل اختیاری موقوف ہے توفیق الہی پر۔ اور اس میں اس امر پر تنبیہ ہے کہ حق تعالیٰ کے الطاف جس بندہ کو چاہیں غایت کفر وعناد سے نہایت ایمان تک پہنچا دیں۔
Ayah 20:71

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ فِیْ جُذُوْعِ النَّخْلِ١٘ وَ لَتَعْلَمُنَّ اَیُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:71 in the Quran reader

(فرعون نے) کہا تم اس پر ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں۔ بیشک وہ تمہارا بھی بڑا (اور استاد) ہے جس نے تمہیں بھی جادو سکھایا ہے، سو (اب) میں تمہارے ہاتھ پیرکٹواتا ہوں الٹی طرف سے،75۔ اور تمہیں کھجور کے درختوں پر سولی چڑھاتا ہوں،76۔ اور یہ بھی تمہیں معلوم ہوا جاتا ہے کہ ہم دونوں میں کس کا عذاب سخت اور دیرپا ہے،77۔

75۔ یعنی ایک طرف کا ہاتھ اور دوسری طرف کا پاؤں۔ حاشیہ سورة اعراف (پ 9) میں گزر چکا۔ (آیت) ” قبل “ سے یہ مفہوم نہیں نکلتا کہ اجازت مانگنے کے بعد وہ اجازت ایمان لانے کی دے دیتا۔ معنی صرف ” بدون “ یا ” بغیر “ کے ہیں۔ جیسے سورة کہف کی آیت قبل (آیت) ” قبل ان تنفد کلمت ربی “۔ الخ کا یہ مفہوم نہیں کہ کلمات رب کبھی ختم بھی ہوچکیں گے، بلکہ وہاں بھی ” قبل “ کے معنی بدون یا بغیر ہی کے ہیں۔ 76۔ (تاکہ دوسرے بھی عبرت حاصل کریں) سولی کی سزا دنیا کی قدیم ترین سزاؤں میں سے ہے۔ اور یہ ہاتھ پیرالٹے طرف سے کاٹنے کی سزا گوآج ” وحشیانہ “ معلوم ہو، لیکن قدیم قوموں کا معمول عام رہی ہے۔ ملاحظہ ہو سورة اعراف، پ 9 کے حاشیے۔ 77۔ یعنی ایک طرف میری حکومت کا عذاب اور دوسری طرف موسیٰ ، ان کی جماعت اور ان کے خدا کا عذاب۔
Ayah 20:72

قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الَّذِیْ فَطَرَنَا فَاقْضِ مَاۤ اَنْتَ قَاضٍ١ؕ اِنَّمَا تَقْضِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 20:72 in the Quran reader

(جادوگر) بولے کہ ہم تجھ کو کبھی ترجیح نہ دیں گے ان شواہد کے مقابلہ میں جو ہم کو مل چکے ہیں اور اس ہستی کے جس نے ہمیں پیدا کیا تو کر ڈال جو کچھ تجھے کرنا ہے تو تو بس اس دنیا ہی کی زندگی میں (جو کچھ کرنا ہے) کرسکتا ہے،78۔

78۔ (جو بہرحال آنی وفانی ہے) ساحر اتنے ہی دیر میں ایمان کی برکتوں سے پوری طرح مشرف اور عزم و ارادہ کے پختہ ہوچکے ہیں، ایمان کی حلاوت ان کے رگ وپے میں نفوذوسرایت کرچکی ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ استعداد کا کامل ہونا مبتدی کو منتہی کے مقام پر پہنچا دیتا ہے۔ چناچہ یہ جواب ساحروں کے منتہی ہونے پر دال ہے۔
Ayah 20:73

اِنَّاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِیَغْفِرَ لَنَا خَطٰیٰنَا وَ مَاۤ اَكْرَهْتَنَا عَلَیْهِ مِنَ السِّحْرِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:73 in the Quran reader

ہم تو اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے تاکہ وہ ہمارے گناہ معاف کرے اور جو زور تو نے ہم پر جادو کے باب میں ڈالا (اس کو بھی) ،79۔ اور اللہ ہی بہتر ہے اور پائندہ ہے،80۔

79۔ وہ ساحر ظاہر ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ پر از خود اور اپنی مرضی سے نہیں آئے تھے، سرکار کی دعوت پر آئے تھے، گویا سرکار کی طرف سے بھیجے گئے تھے۔ 80۔ (اور تجھ میں نہ بذات خود خیر و خوبی، اور نہ تیری سزا وانعام کو بقاء) اللہ بہتر ہے اپنی ذات وصفات کے لحاظ سے، اور پایندہ ہے عذاب وثواب دینے کے لحاظ سے۔
Ayah 20:74

اِنَّهٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَهٗ جَهَنَّمَ١ؕ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰى Open ayah 20:74 in the Quran reader

ہے یہ کہ جو کوئی بھی اپنے پروردگار کے پاس مجرم ہو کر حاضر ہوگا تو اس کے لئے دوزخ ہے اس میں وہ نہ مرے گا اور نہ جئے گا،81۔

81۔ نہ جیے گا، یعنی شدت عذاب وفرط آلام سے اس دوزخ کی زندگی پر زندگی کا بھی اطلاق نہیں ہوسکتا۔ (آیت) ” مجرما “۔ مجرم یہاں مومن کے مقابلہ میں آیا ہے۔ یعنی جرم بغاوت کا مجرم یا کافر۔ مجرما اے کافرا (مدارک) اے کافرا (جلالین) اے مشرکا (معالم)
Ayah 20:75

وَ مَنْ یَّاْتِهٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰىۙ Open ayah 20:75 in the Quran reader

اور جو کوئی اس کے پاس مومن ہو کر حاضر ہوگا جس نے نیک کام بھی کئے ہوں، سوایسوں کے لئے بڑے اونچے درجے ہیں،82۔

82۔ امام رازی (رح) نے یہاں یہ نکتہ خوب پیدا کیا ہے کہ یہ درجات عالیہ (الدرجت العلی) تو انہیں لوگوں کے لیے ہیں جو مومن کامل اور اعمال صالحہ میں راسخ ہیں۔ باقی ان درجات عالیہ سے اتر کر جو مرتبہ محض نجات وعفو کا ہے، وہ ان کلمہ گویوں کو حاصل ہوگا جو اتنے اونچے معیار پر پورے نہیں اترتے۔ بلکہ صاحب کبائر ہیں :۔ وفی الایۃ تنبیۃ علی حصول العفو لاصحب الکبائر لانہ تعالیٰ جعل الدرجات العلی من الجنۃ لمن اتی ربہ بالایمان والاعمال الصالحۃ فسائر الدرجات التیھی غیرعالیۃ لابدوان تکون لغیرھم وما ھم الا الصاۃ من اھل الایمان (کبیر)
Ayah 20:76

جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا مَنْ تَزَكّٰى۠ Open ayah 20:76 in the Quran reader

(یعنی) ہمیشہ رہنے کے باغ جن کے نیچے نہریں پڑی بہ رہی ہوں گی ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہی ہے انعام اس کا جو پاک ہوا،83۔

83۔ (چنانچہ ہم نے بھی اسی قانون الہی کے ماتحت کفر کو چھوڑ کر ایمان اختیار کیا) (آیت) ” تزکی “۔ یعنی کفر ومعصیت سے پاک ہوا۔
Ayah 20:77

وَ لَقَدْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى١ۙ۬ اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْ فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِیْقًا فِی الْبَحْرِ یَبَسًا١ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَكًا وَّ لَا تَخْشٰى Open ayah 20:77 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس وحی بھیجی کہ میرے بندوں کو راتوں رات لے جاؤ،84۔ پھر ان کے لئے سمندر میں (عصا مار کر) خشک راستہ بنالینا تم کو نہ پالئے جانے کا اندیشہ ہوگا اور نہ تم کو (اور کوئی) خوف ہوگا،85۔

84۔ (مصر سے باہر شام وملسطین کیلئے) اب یہ اس وقت کا ذکر ہے جب گزشتہ واقعات، ساحروں کے مقابلہ وغیرہ کو ایک عرصہ ہوچکا ہے، اور فرعون اور حکومت فرعون پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وہارون (علیہ السلام) کی ساری تبلیغی کوششیں بےاثر رہ چکی ہیں۔ (آیت) ” بعبادی “۔ میرے بندوں، سے سیاق عبارت میں مراد ظاہر ہے کہ بنی اسرائیل ہیں۔ 85۔ یعنی پانی پر عصا مارنا، بہ طور اعجاز اس میں خشک راستہ تمہاری قوم کے عبور کے قابل بن جائے گا۔ (آیت) ” البحر “۔ سمندر سے مراد بحراحمر کا شمالی خلیج ہے۔ مفصل حواشی اس پر سورة بقرہ پ 1 رکوع 6 کے تحت میں گزرچکے۔
Ayah 20:78

فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِهٖ فَغَشِیَهُمْ مِّنَ الْیَمِّ مَا غَشِیَهُمْؕ Open ayah 20:78 in the Quran reader

پھر فرعون نے اپنے لشکروں سمیت انکا پیچھا کیا،86۔ تو دریا جیسا ان پر آملنے کو تھا آملا،87۔

86۔ (اور ساحل بحر پر اس وقت پہنچا، جب بنی اسرائیل حسب وعدۂ الہی پار ہوچکے تھے، اور راستے ہنوز اسی حالت میں تھے) تفصیلات توریت میں درج ہیں۔ (خروج۔ 14: 6، 7، 8، 23) 87۔ یعنی دریا کا رکا ہوا اور بیٹھا ہوا پانی ہر طرف سے سمٹ کر آگیا اور سارے فرعونی غرق ہو کر رہ گئے، تفصیل توریت میں درج ہے۔ (خروج۔ 14: 28) نیز ملاحظہ ہوں سورة بقرہ پ 1 رکوع 6 کے حاشیے۔
Ayah 20:79

وَ اَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهٗ وَ مَا هَدٰى Open ayah 20:79 in the Quran reader

اور فرعون نے تو اپنی قوم کو گمراہ ہی کیا تھا اور سیدھی راہ پر نہ لایا،88۔

88۔ (سو ایسے باغی طاغی کا ڈوب مرنا ہی خوب ہوا) فرعون کی رہنمائی دینی حیثیت سے جس قدر غلط تھی وہ تو تھی ہی، دنیوی حیثیت سے بھی اس کا انجام سب نے دیکھ لیا کہ آخر ہلاکت ہی پر ہوا۔
Ayah 20:80

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ قَدْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَ وٰعَدْنٰكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنَ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى Open ayah 20:80 in the Quran reader

اے بنی اسرائیل (دیکھو) ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دی اور تم سے وعدہ کیا طور کی داہنی جانب سے متعلق اور تمہارے اوپر من وسلوی اتارا،89۔

89۔ (دشت تیہ میں) من وسلوی پر حاشیے سورة بقرہ پ 1 رکوع 6 میں گزر چکے، اور طور پر سورة بقرہ کے رکوع 8 میں اور (آیت) ” اطور الایمن “۔ پر سورة مریم کا حاشیہ نمبر 79۔ (آیت) ” وعدنا “۔ وعدہ یہ ہے کہ تمہارے پیغمبر اور تمہارے اکابر یہاں آئیں، اور تمہارے لئے احکام ہدایات یہاں سے لے جائیں۔