Ayah 7:148197 کفر و شرک سے انسان کی مت مار دی جاتی ہے ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے اپنے زیوروں سے ایک بچھڑا بنا لیا۔ یعنی محض ایک دھڑ اور پتلا جس میں گائے کی سی ایک آواز تھی اور بس۔ سو وہ بچھڑا بھی سچ مچ کا بچھڑا نہ تھا۔ بلکہ محض ایک خود ساختہ دھڑ تھا جس سے ایک بےمعنیٰ سی آواز نکلتی تھی اور بس۔ اس پر یہ لوگ لٹو ہوگئے اور اس کو انہوں نے معبود قرار دے دیا۔ اور جن کا معبود یہ ہوگا وہ خود کیا ہوں گے { ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوْبُ } سو اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ کفر و شرک سے انسان کی مت کس قدر مار دی جاتی ہے اور وہ ایسی حرکات کا ارتکاب کرنے لگتا ہے کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ان لوگوں کا ظلم اور ان کی بےانصافی ملاحظہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو راہ حق و ہدایت سے نوازنے کے لئے کیسے کیسے عظیم الشان انتظامات فرمائے اور ان لوگوں نے کیسی حماقت اور کتنی ناشکری اور بدتمیزی کا مظاہرہ کیا کہ حضرت موسیٰ کے کوہ طور پر جانے کے بعد ایک خود ساختہ اور مصنوعی بچھڑے کو اپنا معبود بنا لیا اور اس کی پوجا پاٹ میں لگ گئے اور اپنے لئے ہولناک ذلت و رسوائی اور ہلاکت و تباہی کا سامان کیا۔ سو اس سے کفر و شرک کی نحوست اور اس کی مت ماری کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
198 مشرکوں کی مت ماری کا ایک نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے اتنا بھی نہ سوچا کہ نہ وہ ان سے بول سکتا ہے اور نہ ان کو کوئی راہ دکھا سکتا ہے۔ مگر پھر بھی انہوں نے اس بچھڑے کو اپنا معبود ٹھہرا لیا۔ بیشک وہ بڑے ہی ظالم لوگ تھے۔ سو اس سے کفر و شرک کی مت ماری کا یہ کھلا نمونہ سامنے آتا ہے کہ کفر و شرک کی مت ماری سے انسان اتنی موٹی بات کے سمجھنے سے بھی قاصر ہوجاتا ہے۔ تو جب وہ نہ بول سکتا ہے اور نہ کوئی راہنمائی کرسکتا ہے تو پھر وہ معبود کیسے ہوسکتا ہے ؟ مگر شرک و بت پرستی کی نحوست اور اس کی مار اتنی سخت ہوتی ہے کہ انسان کی عقل مسخ ہو کر رہ جاتی ہے جس سے وہ اتنی موٹی بات اور اس قدر جلی اور واضح حقیقت کو سمجھنے سے بھی قاصر ہوجاتا ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ من کل زیغ و ضلال ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ان لوگوں نے اتنا بھی نہ سوچا کہ جو نہ کوئی بات کرسکتا ہے اور نہ کسی طرح کی کوئی ہدایت و راہنمائی کرسکتا ہے وہ اس لائق کہاں اور کیسے ہوسکتا ہے کہ اس کو معبود مان کر اس کی پوجا و پرستش کی جائے ؟ مگر مشرک کی مت ایسے مار دی جاتی ہے کہ اس کو اتنی موٹی اور اس قدر واضح بات بھی سمجھ نہیں آتی ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 7:149199 شرک اور بت پرستی ایک ظلم عظیم ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تنبیہ ہونے پر ان لوگوں نے کہا کہ یقینا ہم نے بڑے ظلم کا ارتکاب کیا کہ ہم نے ایک بےحقیقت چیز کو معبود بنا لینے کے سنگین جرم کا ارتکاب کیا۔ اور شرک و بت پرستی ایک ظلم اور ہولناک ظلم ہے اس خالق ومالک کے حق میں جو کہ معبود برحق ہے۔ اور خود اپنی جان کے حق میں ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف بنی اسرائیل سامری اور اس کے ساتھیوں کے پروپیگنڈے سے مسحور ہو کر بچھڑے کی پوجا کی اس حماقت کا ارتکاب کر تو بیٹھے لیکن بعد میں جب ان کی آنکھیں کھلیں اور ان کو تنبہ ہوا تو وہ پکار اٹھے کہ " اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ فرمایا اور ہمارے اس جرم کو معاف نہ فرمایا تو ہم یقینا سخت خسارہ اٹھانے والوں سے ہوجائیں گے "۔ اور ظاہر ہے کہ کفر و شرک سے بڑھ کر ظلم اور خسارہ اور کیا ہوسکتا ہے جس سے انسان اپنی دنیا و آخرت دونوں کھو بیٹھتا ہے اور ظلم عظیم اور خسران مبین کی انتہائی ہولناک گہری کھائی میں جا گرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 7:150200 حضرت موسیٰ کے صدمے کی شدت کا بیان : سو حضرت موسیٰ نے صدمے اور غصے کی شدت کی بناء پر پھینک دیا ان تختیوں کو جن میں تورات لکھی ہوئی تھی۔ جذبہ ایمانی کے جوش اور غیرت حق کے وفور کے باعث بےاختیار طور پر ۔ صَلَواَتُ اللّٰہِ وَسَلامُہَ عَلَیْہِ وَعَلٰی سَائرِ الاَنْبِیْائِ وَالْمُرْسَلِین ۔ سو شرک و بت پرستی کی ہولناکی کی بناء پر حضرت موسیٰ کو اس قدر صدمہ لاحق ہوا اور اتنا غصہ آیا۔ اور یہی شان ہوتی ہے حضرات انبیائے کرام کی قدسی صفت ہستیوں کی کہ وہ ذاتی نوعیت کی کسی بات پر کبھی غصہ نہیں ہوتے، لیکن جہاں دین کے کسی حکم کی خلاف ورزی یا کسی دینی حرمت کے ٹوٹنے کی بات ہوتی ہو تو وہ سب سے زیادہ غصہ ہوتے ہیں، جیسا کہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں احادیث و سیرت کی کتابوں میں وارد و منقول ہے (علیہ الصلوۃ والسلام) بہرکیف اس سے حضرت موسیٰ کے غلبہ حال اور جوش حمیت کو بیان فرمایا گیا ہے اور اس بارے میں واقعے کی تصویر پیش فرمائی گئی ہے کہ انہوں نے ان تختیوں کو ہاتھ سے ڈال دیا اور حضرت ہارون کا سر اور ان کا شانہ پکڑ کر ان کو جھنجھوڑنے لگے ۔ عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ ۔ سو یہی تقاضا اور نتیجہ ہوتا ہے حمیت ایمانی اور غیرت دینی کا۔
Ayah 7:151201 حضرات انبیائے کرام کی شان عبدیت و رجوع الی اللہ : یعنی جب آپ کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا اور یہ امر واضح ہوگیا کہ حضرت ہارون کا اس معاملے میں کوئی قصور نہیں تھا تو آپ فوراً اپنے خالق ومالک کی طرف متوجہ ہوگئے تاکہ اس طرح اپنے بھائی کو بھی راضی کرسکیں اور اعداء کو شماتت کا موقع بھی نہ ملنے پائے۔ اور ان کے بارے میں جس سوئِ ادب کا ارتکاب کیا تھا اس کی معافی بھی ہوجائے۔ سو آپ نے اپنے رب کے حضور عرض کیا کہ " میری بھی بخشش فرما دے اور میرے بھائی کی بھی " اگر ان سے کوئی لغزش و کوتاہی سرزد ہوگئی ہو۔ اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما دے۔ سو یہی شان ہوتی ہے حضرات انبیائے کرام کی کہ وہ ایسے موقع پر فوراً اپنے رب کی طرف رجوع کرلیتے ہیں۔ سو صورت معاملہ کے ظاہر اور حضرت ہارون کی بےقصوری کے واضح ہوجانے کے بعد حضرت موسیٰ نے اپنے لئے اور اپنے بھائی کیلئے بخشش کی دعا کی ۔ علی نبینا وعلیہما الصلاۃ والسلام -
202 رحمت خداوندی میں داخلے کی دعا : سو آنجناب نے حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی بارگہ اقدس و اعلیٰ میں مزید عرض کیا " اور داخل فرما دے ہمیں اپنی رحمت میں کہ تو ہی ہے ارحم الراحمین " اور ہم سب تیری ہی رحمت کے محتاج ہیں۔ اور دنیا میں جہاں بھی کہیں رحمت کا کوئی نمونہ و مظہر پایا جاتا ہے وہ درحقیقت تیری ہی طرف سے ہوتا ہے اے ہمارے مالک۔ پس ہمیں ہمیشہ اپنی رحمتوں اور عنایتوں کے سائے میں رکھنا کہ تیری رحمت و عنایت کے ظل ظلیل کے ہم ہمیشہ اور ہر حال میں محتاج ہیں۔ سو یہ ہوتی ہے حضرات انبیائے کرام کی شان عبدیت۔ اور رجوع الی اللہ۔ کہ وہ ہر موقع پر اس کے حضور اپنے دست دعاء وسوال دراز کردیتے ہیں ۔ (علیہ السلام) ۔ سو اس آیت کریمہ نے معاملہ کو پوری طرح واضح کردیا کہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کا دامن ہر طرح سے پاک تھا۔ اور اس پر کوئی شائبہ اور داغ دھبہ اس بارے موجود نہیں تھا۔ انہوں نے اپنے بس کی حد تک گوسالہ پرستی کے اس جرم کی تردید و انکار میں کوئی کوتاہی نہیں برتی۔ جبکہ بائبل کے مصنفوں نے اس کا الزام حضرت ہارون ہی پر رکھا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ قرآن حکیم کے دنیا پر کتنے احسانات ہیں اور اس نے گزشتہ انبیاء و رسل کی بھی کس کس طرح صفائی پیش فرمائی ہے ۔ والحمد للہ جل وعلا بکل حال من الاحوال -
Ayah 7:152203 مشرکوں کیلئے ہولناک عذاب اور ذلت و خواری کا اعلان وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک جن لوگوں نے معبود ٹھہرایا اس بچھڑے کو ان کو ضرور پہنچ کر رہے گا ایک ہولناک عذاب و غضب ان کے رب کی جانب سے اور سخت ذلت و رسوائی اس دنیاوی زندگی میں۔ چناچہ ان کو بتایا گیا کہ ان کی توبہ اس کے بغیر قبول نہیں ہوگی کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کو قتل کریں۔ اور یہ کہ وہ جہاں بھی پائے جائیں گے ذلیل و خوار ہی ہوں گے۔ سو اس سے یہ امر بھی واضح ہوجاتا ہے کہ دین میں نئی چیز پیدا کرنے والا بدعتی شخص ذلیل ہوگا۔ جیسا کہ علامہ ابن کثیر وغیرہ حضرات نے فرمایا۔ اور حضرت سفیان بن عیینہ فرماتے ہیں کہ ہر بدعتی شخص ذلیل و خوار ہوتا ہے " وَکُل صَاحب بدعَۃٍ ذِلِیْل " (ابن کثیر، صفوہ وغیرہ) ۔ سو اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ گناہوں کی سزا آخرت سے پہلے اس دنیا میں بھی ملتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ جن لوگوں نے گوسالہ پرستی کے اس سنگین جرم کا ارتکاب کیا ان کو ان کے رب کی طرف سے سخت غصہ اور ذلت پہنچ کر رہے گی اس دنیا میں۔ کیونکہ انہوں نے اللہ پر افتراء باندھا اور افتراء باندھنے والوں کو ہم یونہی سزا دیتے ہیں کہ یہ جرم بڑا ہی سنگین ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 7:153204 توبہ کرنے والوں کیلئے معافی کا مژدہ جانفزا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جن لوگوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا پھر انہوں نے اس کے بعد صدق دل سے توبہ کرلی ان برائیوں پر نادم ہو کر جن کا ارتکاب وہ اس سے پہلے کرتے رہے۔ ان کو پکے ارادے کے ساتھ ترک کر کے اپنے رب ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کی طرف سچے دل سے رجوع ہو کر۔ کہ یہ باتیں سچی اور حقیقی توبہ کے اہم اور بنیادی عناصر ہیں۔ سو ایسی سچی اور حقیقی توبہ کرنے والوں کیلئے مغفرت و بخشش کا مژدہ ہے نہ کہ صرف زبانی طور پر توبہ توبہ کے الفاظ کہہ دینے والوں کیلئے۔ پس جو لوگ گوسالہ پرستی کے اس سنگین جرم سے سچی توبہ کر کے اپنے ایمان کی تجدید کریں گے اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو معاف فرما دے گا کہ وہ بڑا معاف فرمانے والا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو یہ اس کے کرم واحسان اور اس کی شان مغفرت و بخشش ہی کا ایک ثبوت و مظہر ہے کہ اس نے اپنے بندوں کے لیے توبہ و استغفار اور انابت ورجوع الی اللہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے ۔ فلہ الحمد ولہ الشکر فاغفر لی وارحمنی یا رب العالمین -
205 اللہ تعالیٰ کی صفت مغفرت و رحمت کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ بڑا ہی غفور و رحیم ہے۔ اتنا بڑا کہ نہ اس کی مغفرت و بخشش کا کوئی ٹھکانہ اور نہ اس کی رحمت و عنایت کا کوئی کنارہ۔ پس گناہ جتنے بھی زیادہ ہوں بخش دئے جائیں گے کہ اس کی بخشش کا کوئی کنارہ نہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور وہ صرف بخشتا ہی نہیں بلکہ رحم بھی فرماتا ہے کہ وہ غفور کے ساتھ رحیم بھی ہے ۔ جَلّ جَلَالُہ وَعَمّ نَوَالُہ ۔ توبہ البتہ سچی ہونی چاہیئے ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین۔ یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ یہاں توبہ کے ساتھ ایمان کی شرط بھی مذکور ہے { ثُمَّ تَابُوْا مِنْ بَعْدھَا وَاٰمَنُوْا } سو اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض گناہ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے ساتھ انسان کا ایمان بھی سلب ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور بنی اسرائیل کا یہ گناہ انہی گناہوں میں سے تھا جس سے انسان کا ایمان رخصت ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اس لئے یہاں پر توبہ کے ساتھ تجدید ایمان کی شرط لگا دی گئی۔ اگر گناہ کی نوعیت یہ نہ ہو تو اس میں توجہ کے ساتھ رویئے کی اصلاح کافی ہوتی ہے۔
Ayah 7:154206 تقویٰ و پرہیزگاری ذریعہ نجات و سرفرازی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان تختیوں کی تحریر میں بڑی ہدایت اور عین رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں کہ رجوع الی اللہ کی توفیق وسعادت ایسے ہی خوش نصیبوں کو ملتی ہے جو اپنے رب سے ڈرتے اور اس کی گرفت و پکڑ اور ناراضگی سے بچنے کی فکر و کوشش کرتے ہیں۔ انہی کو وہ وحدہ لاشریک اپنی رحمتوں اور عنایتوں سے نوازتا ہے کہ اس کی شان ہی نوازنا اور لگاتار اور ہمیشہ نوازنا ہے۔ نہ اس کی رحمتوں کا کوئی کنارہ اور نہ اس کی عنایتوں کی کوئی انتہائ۔ سو ان تختیوں کی تحریر میں نری ہدایت اور عین رحمت تھی ان لوگوں کے لئے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ پس جو اس بارے لاپرواہی برتیں گے وہ محروم ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ تعالیٰ کا ڈر اور تقویٰ و پرہیزگاری کی روش ذریعہ نجات و فلاح ہے ۔ وباللّٰہِ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayah 7:155207 حضرت موسیٰ کا اپنی قوم کے ستر آدمیوں کا انتخاب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ موسیٰ نے اپنی قوم کے ستر آدمیوں کو چن لیا ہمارے وعدے کے وقت ہمارے حضور حاضر ہونے کے لیے۔ یعنی ان کو جنہوں نے بچھڑے کی پوجا نہیں کی تھی تاکہ یہ اپنی قوم کے اس عظیم اور سنگین جرم پر اپنے رب کے حضور معذرت پیش کرسکیں۔ (صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے۔ روایات کے مطابق حضرت موسیٰ نے ہر قبیلے سے چھ چھ آدمیوں کا انتخاب کیا۔ (الکشاف وغیرہ) ۔ سو ان سب کو لیکر حضرت موسیٰ کوہ طور پر پہنچے۔ سو اس میں حضرت موسیٰ کے دوبارہ کوہ طور پر جانے کا ذکر ہے۔ گو سالہ پرستی کے جرم سے توبہ کے لئے کوہ طور پر جانے کا یہ واقعہ دو مرتبہ ہوا۔ سو اس سے معلوم کہ گناہوں کی بخشش کے لیے خاص اوقات اور خاص مقامات کو خاص دخل اور اثر ہوتا ہے ۔ جیسا کہ نصوص کتاب و سنت میں اس بارے تصریح موجود ہے ۔ اور راقم آثم نے اپنی کتاب قرآن وسنت کی مقدس دعائیں میں اس کو باحوالہ اور تفصیل سے ذکر کیا ہے جو کم وبیش کوئی بیس سال قبل چھپ کر تقسیم ہوگئی ہے ۔ والحمد للہ جل وعلا -
208 اصحاب موسیٰ کی ہلاکت اور آنجناب کی پریشانی کا ذکر : سو اس سے حضرت موسیٰ کے ساتھیوں کی ہلاکت اور آنجناب کی اس سے پریشانی کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے کہ انہوں نے وہاں پر یہ مطالبہ کیا تھا کہ ہمیں وہ کچھ دے جو کسی کو نہیں دیا۔ یا یہ کہ " ہم اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ ہم اللہ تعالیٰ کو کھلم کھلا اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں " { لَنْ نُّوْمِنَ لَکَ حَتّٰی نَرَی اللّٰہَ جَہَرَۃً } (جامع البیان وغیرہ) ۔ سو اس کے نتیجے میں ان لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔ بہرکیف ان کے اس غلط مطالبے پر ان سب کو بجلی کے ایک کڑکے کے ذریعے ہلاک کردیا گیا جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { فَاَخَذَتْکُمُ الصَّاعِقَۃُ وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ } ۔ (البقرۃ : 55) ۔ سو ایسا مطالبہ اس بارگہ اقدس واعلیٰ کے آداب کے خلاف اور ان کے منافی تھا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اس لیے حضرت موسیٰ پریشان ہوگئے کہ اب کیا کروں گا اور قوم کو اس برے کیا جواب دوں گا۔ معلوم ہوا کہ پیغمبر نہ عالم غیب ہوتے ہیں نہ مختار کل ۔ علیہم الصلاۃ والسلام -
209 حضرت موسیٰ کی کی دعا والتجا کا ذکر وبیان : سو اس پر حضرت موسیٰ نے اپنے رب کے حضور عاجزانہ عرض والتجا کی کہ میرے رب اگر آپ چاہتے تو اس سے پہلی ہی ہلاک کردیتے ان سب کو بھی اور ان کے ساتھ مجھے بھی۔ ہم سب آپ کی مخلوق اور آپ ہی کے بندے ہیں۔ پس آپ ہمارے متعلق جو فیصلہ چاہیں فرما سکتے ہیں۔ سو یہ حضرت موسیٰ کی طرف سے موت کی تمنا تھی اس امر کی شدت اور سختی کی بناء پر جو انہوں نے دیکھا۔ جیسا کہ کوئی شخص کسی ناگوار شئے کو دیکھنے کے موقع پر کہتا ہے کہ " کاش میں اس سے پہلے ہی مرگیا ہوتا " (الکشاف وغیرہ) ۔ کیونکہ وہ ستر آدمی جن کو حضرت موسیٰ اپنے ساتھ لے گئے تھے وہ قوم میں سے چنے ہوئے لوگ تھے۔ اگر وہ سب اس طرح ہلاک ہوگئے تو میں واپس جا کر اپنی قوم کو کیا جواب دونگا۔ وہ تو سب میرے پیچھے لگ جائیں گے کہ ہمارے آدمیوں کو وہاں لے جا کر مروا دیا اور اس طرح حضرت موسیٰ کو ان سے جان چھڑانا مشکل ہوجائے گی۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ پیغمبر نہ عالم غیب ہوتے ہیں نہ مختار کل۔
210 آزمائش اور اس کا متقضیٰ : سو حضرت موسیٰ نے اس موقع پر مزید عرض کیا کہ مالک یہ تو آپ کی طرف سے محض ایک آزمائش ہے جس کے ذریعے آپ جس کو چاہیں گمراہی کے گڑھے میں ڈال دیں اور جس کو چاہیں نور حق و ہدایت سے سرفراز فرما دیں۔ آزمائش کا مآل و مقتٰضی یہی ہوتا ہے کہ کھرے کھوٹے میں تمیز ہوجائے اور ہر کسی کی حیثیت اور پوزیشن واضح ہوجائے۔ اور آزمائش میں کامیاب ہونا اور پورا اترنا بھی تیری ہی توفیق پر منحصر ہے۔ سو تیری آزمائش سے عہدہ برا وہی ہوسکتا ہے جس کو تیری طرف سے توفیق حاصل ہو۔ تو ہی جن کو توفیق بخشتا ہے وہ تیرے امتحان میں کامیاب ہوتے ہیں اور ہدایت سے سرفراز ہوتے ہیں۔ اور جن کو تو اپنی توفیق سے محروم کر دے ۔ والعیاذ باللہ ۔ وہ گمراہ ہوجاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
211 حضرت موسیٰ کی دعائے مغفرت و رحمت : سو حضرت موسیٰ نے اس موقع پر اپنی دعا میں عرض کیا کہ مالک ہماری بخشش فرما دے اور ہم پر رحم فرما دے کہ تیری رحمت کا اے میرے مالک ! اور تیری مغفرت و بخشش کا کوئی کنارہ نہیں۔ تیری بخشش کسی عوض و معاوضہ کے بغیر ہوتی ہے۔ تیری بخشش ایسی ہوتی ہے کہ گناہ کا کوئی اثر ونشان تک باقی نہیں رہنے دیتی۔ اور تیری بخشش و رحمت بیکراں کا یہ عالم ہے کہ سچی توبہ پر برائیوں کو بھی نیکیوں سے بدل دیا جاتا ہے ۔ تَبَارَکْتَ وَ تَعَالَیْتَ ۔ پس اپنی اس شان کرم و عنایت کی بناء پر اے ہمارے مالک ہماری بخشش فرما دے اور ہم پر رحم فرما دے۔ اور جو لغزش ہم میں سے بعض سے ہوگئی اس کو معاف فرما دے کہ تو ہی ہے سب سے بہتر بخشنے والا۔ سو یہ ہوتی ہے حضرات انبیاء ورسل کی شان عبدیت و اوابیت جس سے وہ ہر وقت اور ہر حال میں اپنے خالق ومالک کی طرف رجوع رہتے ہیں۔
Ayah 7:156212 رحمت خداوندی کی شان عمومیت : سو حضرت موسیٰ کی دعا و درخواست کے جواب میں حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ عذاب تو میں جس کو چاہتا ہوں دیتا ہوں لیکن میری رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے۔ یہاں پر اس ارشاد ربانی کا یہ اسلوب بھی قابل غور ہے کہ عذاب پہنچانے سے متعلق تو مضارع کا صیغہ استعمال فرمایا گیا یعنی { اُصِیْبُ } مگر رحمت کے لئے ماضی کا۔ یعنی وسعت کیونکہ رحمت اصل ہے جو کسی سبب کے بغیر محض اس کی شان کریمی اور رحیمی سے ملتی ہے اور وہ بالفعل اور فی الواقع ہر چیز پر اور ہمیشہ چھائی ہوئی ہے، جبکہ عذاب بندوں کے اپنے اختیار کردہ اسباب پر مرتب ہوتا ہے وہ اس کی طرف سے اور ہمیشہ کیلئے نہیں ہوتا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بلکہ کبھی کبھی ہوتا ہے جبکہ انسان کے گناہ ۔ والعیاذ باللہ ۔ اس خاص لیول پر پہنچ جاتے ہیں جس پر عذاب طبعی طور پر مرتب ہوجاتا ہے، جبکہ اس کی رحمت کا یہ عالم ہے کہ ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے اور خاص کر انسان تو سر سے پاؤں تک اس کی رحمتوں میں ڈوبا ہوا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف حضرت موسیٰ کی اس دعاء کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت اور عذاب سے متعلق اپنا ضابطہ عام بیان فرما دیا کہ رحمت تو میری ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے، البتہ عذاب میں انہی کو دیتا ہوں جن کے لئے میں چاہتا ہوں اپنی حکمت اور اپنے قانون عدل و انصاف کے مطابق۔ سو رحمت سب کے لئے ہے۔ لیکن عذاب سب کے لئے نہیں۔ بلکہ صرف اس کے مستحقوں کے لیے ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
213 امت محمدیہ کی بعض خاص صفات کا ذکر : سو حضرت موسیٰ کی دعا و درخواست کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ میں اس کو رکھ دوں گا یعنی اس کے درجہ تمام و کمال میں ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور وہ زکاۃ دیتے ہیں اور جو صدق دل سے میری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ یعنی امت محمدیہ کے اہل ایمان کے لیے جو کہ ان صفات سے بدرجہ تمام و کمال موصوف ہوں گے، جن میں پہلی اہم صفت تقویٰ و پرہیزگاری ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بچتے اور ڈرتے رہتے ہیں ہر اس چیز سے جو ان کے رب کی ناراضگی اور گرفت و پکڑ کا باعث بنتی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جس میں سب سے پہلے کفر و شرک اور الحادو بےدینی سے بچنا ہے۔ اس کے بعد ہر معصیت و گناہ سے بچنا بھی اس میں شامل ہے۔ اور دوسری بڑی صفت ان کی یہ ہے کہ وہ اپنے نفوس کا تزکیہ کرتے ہیں۔ اور اسی ضمن میں وہ اپنے مالوں کی زکوٰۃ بھی ادا کرتے ہیں جس سے ان کے مال بھی پاک ہوجاتے ہیں اور ان پاکیزہ مالوں کے کھانے سے ان کے باطن بھی پاکیزہ ہوتے رہتے ہیں۔ اور سب سے بڑی اور اہم صفت جو ان تمام صفات کی اساس اور بنیاد ہے یہ ہے کہ وہ اللہ کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ سو ارشاد فرمایا گیا میری خاص رحمت کے مستحق یہی لوگ ہوں گے ۔ جَعَلَنَا اللّٰہُ مِنْہُمْ ۔ سو ایمان صادق اور عمل صالح اس امت کی خاص صفت وشان ہے۔
Ayah 7:157214 صفت " اُمِّیَّت " اور اس کی عظمت شان : سو امیت نبی اکرم ﷺ کی وہ امتیازی صفت ہے جو معجزوں کا معجزہ ہونے کی شان رکھتی ہے۔ سو اس اشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اس پیغمبر کا امی ہونا ہی اس کا ایک عظیم الشان اور منفرد معجزہ ہوگا کہ جس امی نے اگرچہ لکھنا پڑھنا کسی سے نہیں سیکھا ہوگا لیکن وہ اپنے خالق ومالک کے فضل و کرم اور اس کی وحی و عنایت سے دنیا جہاں والوں کو ایسے علوم و معارف سے سرفراز فرمائے گا کہ دنیا بھر کے علوم اس کے سامنے بےحقیقت ہو کر رہ جائیں گے۔ اور اس طرح اس کی یہ امیت ہی اس کا ایک عظیم الشان معجزہ بن جائے گی ۔ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلی آلہ وصحبہ وسلم ۔ چناچہ اس نبیٔ اُمی نے باوجود اس کے کہ کسی انسان و بشر سے کبھی ایک حرف تک نہیں پڑھا، دنیا کو ایسے بےمثال اور عظیم الشان علوم و معارف سے نوازا کہ دنیا ساری کے علوم و معارف ان کے سامنے صفر اور ہیچ ہو کر رہ گئے۔ بقول شاعر۔ یتیمے کہ ناکردہ قرآن درست ۔ کتب خانہ ملت چند بشست ۔ یعنی " ایک ایسا یتیم جس نے کبھی کسی سے پڑھنا لکھنا نہیں سیکھا، اس نے دنیا کو ان علوم و معارف سے نوازا کہ کتنی ہی ملتوں کے کتب خانوں کو دھو ڈالا " اور وہ بھی صرف تئیس (23) سال کے قلیل عرصے میں۔ اور دنیا اس کے پیش فرمودہ ان علوم و معارف کے خزانوں سے آج تک برابر مستفید ہو رہی ہے اور قیامت تک مسلسل اور لگاتار مستفید و فیضیاب ہوتی رہے گی۔ سو پوری بنی نوع انسان میں دوسری ایسی کوئی ہستی نہ آج تک کبھی ہوئی اور نہ قیامت تک کبھی ہوسکے گی جو دنیا کو اس طرح نواز سکے۔ سو اس پس منظر میں اگر سوچا اور غور کیا جائے تو نبی امی ﷺ کی صفت امیت ایسی بےمثل صفت ہے جو معجزوں کا معجزہ ہے۔ سو رسول، نبی اور امی کے یہ تینوں الفاظ یہاں پر آنحضرت ﷺ کی تعریف اور تعارف کے طور پر وارد ہوئے ہیں۔ کہ وہ آخری پیغمبر جو انبیاء ورسل کے امام و پیشوا ہوں گے ان اور ان خاص صفات سے موصوف و متصف ہوں گے ۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلی آلہ الطیبین واصحابہ الطاہرین ومن اہتدی بہدیہ ودعا بدعوتہ الی یوم الدین -
215 پاکیزہ چیزوں کی حلت اور ناپاک چیزوں کی حرمت کا بیان : " سو ارشاد فرمایا کہ وہ پیغمبر ان کے پاکیزہ چیزوں کی حلت بیان فرمائے گا اور ناپاک چیزوں کی حرمت "۔ یعنی وہ تحلیل اور تحریم کا اختیار نہیں رکھے گا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی شان اور اسی کی صفت خاصہ ہے۔ کہ وہی وحدہ لاشریک خالق بھی ہے اور وہی مالک بھی۔ اور اسی کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ جس چیز کو چاہے حلال فرمائے اور جس کو چاہے حرام فرمائے۔ اور وہی بہتر جانتا ہے کہ کون سی چیز اس کے بندوں کے لئے مفید ہے اور کون سی مضر { وَاللّٰہُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ }۔ سو پیغمبر کی طرف تحلیل و تحریم کی نسبت مجازی ہوتی ہے کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کی تحلیل و تحریم کو بیان فرماتے ہیں۔ نہ کہ ازخود کسی چیز کو حلال یا حرام قرار دیتے ہیں کہ یہ صفت اللہ پاک ہی کی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ (روح، مدارک، معالم، اور ابن کثیر وغیرہ) ۔ سو بذات خود کسی چیز کو حلال یا حرام قرار دینے کا اختیار آپ کو نہیں ﷺ رب فرماتا ہے { یٰاَیُّہَا النَّبِیُّ لِمَ تُحِرّمُ مَا اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ } الآیۃ۔ یعنی " اے پیغمبر آپ نے اپنے لیے ایسی چیز کو کیوں حرام کردیا جسکو اللہ نے آپ کیلئے حلال کیا تھا "۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ پیغمبر ان کے لئے حلال و حرام کو واضح کریں گے "۔ تاکہ لوگ حلال کو اپنا کر اور حرام سے بچ کر پاکیزہ انسان بن سکیں اور اس طرح ان کی دنیا و آخرت دونوں کا بھلا ہوجائے کہ دنیا میں ان کو حیات طیبہ (پاکیزہ زندگی) کی سعادت نصیب ہوگی اور آخرت میں جنت کی نعیم مقیم سے سرفرازی ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید ۔ سبحانہ وتعالی -
216 " اصر " اور " اَغْلَال " سے مقصود و مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ پیغمبر اتار دے گا ان لوگوں کی گردنوں سے سخت احکام کے طوق اور مختلف پابندیوں کے وہ بوجھ جو ان پر لدے ہوئے تھے۔ جیسے توبہ کے لئے قتل کا حکم، نجاست سے پاکی کے لئے اس جگہ کو کاٹ دینے کا حکم یا قتل کے لئے قصاص کے لازم ہونے کا حکم یا یوم السبت میں کام کرنے والے کے لئے قتل کا حکم وغیرہ وغیرہ۔ (روح، صفوۃ، اور محاسن وغیرہ) ۔ سو " اصر " اور بوجھ سے مراد ایسے ہی سخت احکام ہیں جو ان لوگوں پر فرض کردیئے گئے تھے۔ جن میں سے کچھ ان پر بطور سزا نافذ کیے گئے تھے اور کچھ کو انکے اپنے علماء و فقہاء کی جکڑبندیوں کی بناء پر ان پر لاگو کردیا گیا تھا وغیرہ وغیرہ۔ سو یہود کے ان سخت احکام میں سے کچھ تو وہ تھے جو انہوں نے بہت سی خود ساختہ پابندیوں کی شکل میں اپنے اوپر از خود لاد رکھے تھے اور کچھ وہ تھے جو ان کی سرکشی کی بناء پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر عائد کئے گئے تھے۔ تو اس طرح کے تمام بوجھوں سے آزادی کا انحصار آنحضرت ﷺ کی بعثت اور تشریف آوری پر تھا۔ چناچہ آپ نے تشریف لا کر ان سے ایسی تمام زنجیریں کاٹ دیں اور ان کے اوپر سے وہ تمام بھاری بھرکم بوجھ اتار دیئے۔ مگر ان لوگوں نے اپنی شامت اعمال کے باعث اس نعمت کی قدر نہ کی اور انہوں نے اس دین حق سے منہ موڑ کر ہلاکت و محرومی کا راستہ اپنایا ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ
217 قرآن حکیم ایک عظیم الشان نور : یعنی نور سے یہاں پر مراد قرآن حکیم ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ لوگ پیروی کریں گے اس نور کی جو اتارا گیا ہوگا ان کے ساتھ "۔ یعنی قرآن حکیم کہ یہی وہ نور مبین ہے جو آپ ﷺ کے ساتھ اتارا گیا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { وَاَنْزَلْنَآ اِلَیْکُمْ نُوْرًا مُّبِیْنًا } (النساء :175) ۔ اور یہی وہ نور ہے جو انسان کے لئے دارین کی فوز و فلاح اور حقیقی سعادت و کامرانی کی راہیں روشن کرتا ہے۔ اور اس نور حق سے محروم انسان سراسر اندھیروں میں ہے اگرچہ وہ چاند پر ہی کمندیں کیوں نہ ڈالتا ہو۔ فضاؤں میں اڑتا اور سمندروں ہی کو کیوں نہ کھنگالتا ہو۔ اور ترقی و روشن خیالی کے کتنے ہی بلند بانگ دعوے کیوں نہ کرتا ہو کہ ِاس نور حق کی ہدایت و راہنمائی سے محروم انسان اپنے مقصد حیات سے غافل اور اپنے انجام سے بیخبر محض حیوانی زندگی گزارتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ نیز اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ سورة مائدہ کی آیت کریمہ { قَدْ جَٓائَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ وَّکِتَابٌ مُّبِیْنٌ } میں وارد کلمہ " نور " سے مراد بھی قرآن حکیم ہی ہے اور { وَکِتَابٌ مُّبِیَن } کا اس پر عطف عطف تفسیری ہے کہ " اَلْقُرْاٰنُ یُفَسِّرُ بَعْضُہٗ بَعْضًا " اصول و ضابطہ کا تقاضا بھی یہی ہے۔ پس اہل بدعت کا اس کو من مانے معنیٰ پہنانا اور اس سے اپنے خود ساختہ عقائد کے لیے دلیل کشید کرنے کی کوشش کرنا سراسر غلط ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ حق بہرحال وہی ہے جو دوسری نصوص کی روشنی میں واضح ہوتا ہے، بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ اس نبی امی پر ایمان لائیں گے، اس کی تعظیم کریں گے، ان کی نصرت کریں گے اور اس نور کی پیروی کریں گے جو ان کے ساتھ اتارا گیا ہوگا، وہی فلاح پانے والے ہوں گے۔ سو نجات و فلاح سے سرفرازی کے لیے قرآن حکیم کی تعلیمات مقدسہ کی اتباع و پیروی ضروری ہے۔ کیونکہ یہاں پر حصر وقصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے۔ سو ان کے سوا کوئی بھی حقیقی فوز و فلاح سے سرفراز نہیں ہو سکے گا۔
Ayahs 7:158–159218 زندگی و موت اللہ ہی کے اختیار میں ہے : سو { یحییٰ ویمیت } کے ان دونوں کلمات کریمہ سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ زندگی اور موت اسی وحدہ لا شریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہیں۔ پس اللہ کے سوا کسی اور کے لئے احیا و اماتت کی صفت ماننا شرک ہوگا، جیسا کہ اہل بدعت وغیرہ کچھ جہلاء کہتے رہتے ہیں کہ فلاں پیر صاحب نے فلاں انسان یا فلاں جانور کو مار دیا وغیرہ وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ زندگی کی نعمت سے نوازنا اور موت سے ہمکنار کرنا اللہ وحدہ لاشریک ہی کا کام اور اسی کی شان ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف پیغمبر کو حکم فرمایا گیا کہ آپ اعلان کریں کہ اے لوگو ! میں تم سب کی طرف رسول ہوں اس اللہ کا جس کے لئے آسمانوں اور زمین کی اس پوری کائنات کی بادشاہی ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہی زندگی بخشتا، اور موت دیتا ہے۔ پس تم لوگ صدق دل سے ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول نبی امی پر۔ اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پا جاؤ۔ سو اس میں آنحضرت ﷺ کی بعثت عامہ کا بھی ذکر ہے اور آپ کی بعض خصوصی اور امتیازی صفات کا بھی ۔ علیہ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَاَتَّمُ التَسْلِیْمَات ۔ ما تعاقب اللیل والنہار۔
219 اصل مقصود اتباع و پیروی ہے : سو حکم وارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ راست سے سرفراز ہو سکو۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اصل مقصود اتباع و پیروی ہے نہ کہ محض زبانی کلامی عشق و محبت کے دعوے کرنا۔ جیسا کہ بہت سے لوگوں کا حال رہا ہے۔ پہلے بھی تھا اور آج بھی ہے کہ عشق و محبت کے زبانی کلامی دعو وں بلکہ بلند بانگ دعو وں کے باوجود اتباع و پیروی کا عنصر ان کی زندگیوں میں غائب ہوتا ہے۔ بلکہ ان میں سے کتنے ہی ایسے ہیں جو اتباع اور پیروی کے برعکس طرح طرح کی بدعات میں ملوث ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف حکم واِرشاد فرمایا گیا کہ تم ان کی پیروی کرو تاکہ راہ راست پا سکو ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید
Ayah 7:160220 بنی اسرائیل کی بارہ مختلف گروہوں میں تقسیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان کو تقسیم کر کے بارہ خاندانوں کی شکل دے دی تاکہ ان کو نظم و نسق قائم رکھنے میں سہولت و آسانی ہو۔ " اسباط " جمع ہے " سبط " کی، جسکے معنی " اولاد " کے آتے ہیں۔ اور اس کا اطلاق گروہ، قبیلہ اور گروپ پر ہوتا ہے۔ سو بنی اسرائیل کو بارہ مختلف گروہوں میں تقسیم کردیا گیا تھا اور ہر قبیلے پر اس کا ایک سردار مقرر کردیا گیا تھا جو اس کی نگرانی کرتا تھا۔ اور اگر ان میں سے کسی گروہ کو حضرت موسیٰ تک اپنی بات پہنچانا ہوتی تو وہ انہی کے توسط سے پہنچاتا کہ وہی ان کے نگران اور ذمہ دار ہوتے تھے۔ جیسا کہ سورة مائدہ میں ارشاد فرمایا گیا ۔ { ولقد اخذ اللہ میثاق بنی اسرائیل وبعثنا منہم اثنی عشر نقیبا } ۔ (المائدۃ :30) سو بنی اسرائیل کی یہ تقسیم انتظامی نوعیت کی تھی۔ پس یہاں پر ان کے لئے تقطیع کا لفظ اچھے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی ایک ہی باپ کی اولاد بارہ خاندانوں کی شکل میں پھلی پھولی اور ہم نے ہر خاندان کو امتوں اور قوموں کی شکل میں بڑھایا اور پھیلایا۔ اور اسی اعتبار سے ان کو اپنی طرح طرح کی رحمتوں اور نعمتوں سے نوازا لیکن انہوں نے ہر نعمت کی ناقدری اور ناشکری کی اور ذلت و رسوائی کے مورد بنے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
221 بنی اسرائیل کیلئے سائے کا عظیم الشان اہتمام و انتظام : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا۔ سو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے بادلوں کے سائے کا خاص انتظام فرمایا ورنہ اتنی بڑی آبادی کے لئے ایسے لق و دق صحرا میں سائے کا انتظام کرنا کسی کے بس میں نہیں تھا۔ بلکہ صحرائے سینا اور وادی تیہ جیسے اس تپتے اور دہکتے ریگستان میں کم و بیش چھ لاکھ انسانوں کی اتنی بڑی تعداد کے لئے فوری طور پر اتنے بڑے اور وسیع پیمانے پر سایہ و پانی کا انتظام کرنا اور ان کو اس تمازت و گرمی سے بچانا تو آج بھی کسی بڑی سے بڑی دولت مند اور متمدن حکومت کے بس میں نہیں ہوسکتا۔ چہ جائے کہ ہزاروں سال پہلے کے اس دور میں جبکہ صورت ہی کچھ اور تھی ۔ فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ وَالْمِنَّۃُ ۔ سو ایسے عظیم الشان انعامات اور احسانات کا تقاضا یہ تھا کہ یہ لوگ صدق دل سے اللہ کے حضور جھک جاتے۔ مگر انہوں نے ناشکری ہی سے کام لیا اور ذلت و رسوائی کا شکار ہوئے۔ سو اللہ کی رحمتوں کی ناشکری باعث ذلت و رسوائی ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 7:161222 اطاعت و احسان ذریعہ سرفرازی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ احکام خداوندی کی اطاعت و پیروی باعث برکت و سرفرازی ہوتی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ ہمارے ان اور ان احکام کی اطاعت و پیروی کرو۔ ہم بخش دیں گے تمہاری خطاؤں کو۔ یعنی تمہاری ان خطاؤں کو جو اس سے قبل تم سے سرزد ہوچکی ہیں اور نیکو کاروں کو ہم مزید فضل سے نوازیں گے۔ اور اس طرح تم لوگ دوہرے فائدے سے بہرہ ور اور سرفراز ہوجاؤ گے۔ اور یہی شان ہوتی ہے اللہ پاک کے احکام پر صدق دل سے عمل پیرا ہونے کی۔ کہ اس سے انسان کو اللہ تعالیٰ کی رحمتوں، عنایتوں اور برکتوں سے سرفرازی و سرشاری نصیب ہوتی ہے۔ اس کی نعمتوں میں برکت و بڑھوتری حاصل ہوتی ہے۔ گناہوں اور خطاؤں کی آلائشوں سے صفائی اور پاکیزگی مرحمت ہوتی ہے اور امن و سکون کی دولت سے بہرہ مندی نصیب ہوتی ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرماں برداری دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayah 7:162223 احکام الہی سے استہزاء باعث ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان بدبختوں نے اللہ کی ارشاد فرمودہ بات کو بدل دیا کہ انہوں نے { حِطَّۃٌ } کی جگہ " حِنْطَۃٌ فِیْ شَعِیْرَۃٍ " کہا، جس کے معنیٰ ہیں " دانہ گندم جو کے اندر "، جبکہ " حطۃ " کے معنیٰ معافی اور گناہوں کے اتارنے کے ہیں جو دراصل معنیٰ ہے " مَغْفِرَتُکَ اَللّٰہُمَّ " کا۔ سو اس طرح انہوں نے اپنے گناہوں کے معانی مانگنے کی بجائے الٹا احکام خداوندی کا مذاق اڑایا اور اس کے نتیجے میں وہ اپنے انجام بد کو پہنچ کر رہے۔ اور یہی حال ہوتا ہے اس بدبخت قوم کا جس کی شامت آچکی ہوتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ پاک کے احکام کے ساتھ مذاق و استہزاء انسان کے لئے ہلاکت و تباہی کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
224 بنی اسرائیل پر ہولناک عذاب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے اس جرم کے نتیجے میں ہم نے ان پر بھیج دیا ایک سخت عذاب آسمان سے طاعون یا اسی طرح کی کسی اور بیماری کا۔ جس سے روایات کے مطابق ان کے ہزارہا آدمی آناً فآنًا لقمہ اجل بن گئے۔ (روح، ابن کثیر، صفوہ وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ انسان کو اس کے گناہوں اور اعمالِ بد کی کچھ سزا آخرت سے پہلے اس دنیا میں بھی ملتی ہے۔ مگر پوری اور حقیقی سزا و جزا انسان کو آخرت ہی میں ملے گی جو کہ " دارالجزاء " ہے جبکہ یہ دنیا " دارالعمل " ہے۔ پس بندے کی طرف سے کوشش ہمیشہ اسی کی ہونی چاہیے کہ اعمال صالحہ کا ذخیرہ جمع ہو اور زیادہ سے زیادہ جمع ہو اور اللہ اور اس کے رسول کی معصیت و نافرمانی سے بچا جائے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ بنی اسرائیل کو اپنے کیے کی پاداش میں ہولناک عذاب بھگتنا پڑا۔
225 احکام الٰہی کی خلاف ورزی ظلم ہے ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں پر آسمان سے ایسا ہولناک عذاب اس لیے نازل کیا گیا کہ وہ ظلم کرتے تھے اللہ تعالیٰ کے احکام کو توڑ کر اور ان کا مذاق اڑا کر۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ احکام خدا وندی کے توڑنے اور ظلم و فساد کا ارتکاب کرنے سے اللہ تعالیٰ کا عذاب آخرت کے اس حقیقی عذاب سے پہلے اس دنیا میں بھی آجاتا ہے۔ نیز یہ کہ احکام خداوندی کی خلاف ورزی ظلم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور یہ ظلم ہے حضرت حق ۔ جل مجدہٗ ۔ کے حق واجب کے بارے میں کہ اس کا حق یہ ہے کہ بندہ اس کے ہر حکم و ارشاد کو دل و جان سے قبول کرے اور اس کے آگے سرتسلیم خم ہوجائے۔ نیز یہ ظلم ہے خود ان کی اپنی جانوں کے حق میں کہ اس طرح وہ اپنے آپ کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے محروم کر کے ہلاکت و تباہی کی راہ پر ڈالتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور یہ ظلم ہے اس پوری کائنات کے حق میں کہ اس طرح انسان اس کائنات کی طرح طرح کی نعمتوں سے مستفید ہونے کے باوجود اس خالق ومالک کے حکم و ارشاد سے منہ موڑتا ہے جس نے اس کو ان گوناگوں نعمتوں سے نوازا ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 7:163226 " القریۃ " سے مقصود و مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے پوچھو اس بستی کے بارے میں جو کہ سمندر کے کنارے پر واقع تھی اور اس کی تعیین کے سلسلے میں " ایلہ " یا " مدین " یا " طبریہ " مختلف نام ذکر کئے گئے ہیں۔ علامہ ابن کثیر نے ایک ہی کا ذکر کیا ہے یعنی " ایلہ "، جس سے واضح ہوجاتا ہے کہ ان کے نزدیک اس بارے راحج قول یہی ہے۔ (ابن کثیر، محاسن وغیرہ) ۔ بہرکیف یہ بستی دریائے قلزم کے ساحل پر واقع تھی اور آج کل یہ " عقبہ " کے نام سے مشہور ہے۔ اور اسی کے نام سے " خلیج عقبہ " مشہور ہے۔ عام ساحلی بستیوں کی طرح اس بستی کے باشندوں کا گزر بسر بھی ماہی گیری پر تھا۔ انہی سے وہ کھاتے اور انہی کو بیچ کر وہ پیسہ کماتے۔ سو یہی چیز ان کیلئے آزمائش کا ذریعہ بن گئی جس میں یہ لوگ بری طرح ناکام ہوئے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اپنے دور کے ان یہودیوں سے جو کہ ایسے کرتوتوں کے باوجود اپنی بڑائی کے زعم میں مبتلا ہیں، اس بستی کے باشندوں کے بارے میں پوچھو، جنہوں نے قانون سبت کی بےحرمتی کی۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس کی پاداش میں ان کو ایسی سزا دی جو ان کے سوا اور کسی کو نہیں ملی۔ اور جس سے ان کو ہمیشہ کے لئے نمونہ عبرت بنادیا گیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس قصے کی یاد دہانی میں ان لوگوں کے لئے بڑے درس ہائے عبرت و بصیرت ہیں، جو ان کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں۔
227 اللہ تعالیٰ کی حدود کو توڑنا اور پھلانگنا باعث ہلاکت و تباہی ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس بستی کا قصہ یاد کرو جس کے باشندے حد سے بڑھ رہے تھے اللہ کے حکم کو توڑ کر۔ اور اس کی مقرر کردہ حدود کو پھلانگ کر کہ ان کو ہفتے کے دن شکار سے منع کیا گیا تھا۔ مگر انہوں نے اس کی خلاف ورزی کی۔ اور اس کے لئے انہوں نے طرح طرح کے حیلوں حوالوں کو اپنایا۔ اور ان کی آڑ میں انہوں نے اللہ کے حکموں کو توڑا۔ اور اس کے نتیجے میں ان کو بالآخر ایک عبرتناک عذاب سے دو چار ہونا پڑا۔ سو آج کے یہ یہود جو اپنے انہی بڑوں کی طرح اللہ کے حکموں کو توڑ رہے ہیں اور اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں، یہ اپنے ان بڑوں کے انجام سے درس عبرت لیں اور اپنی بڑائی اور صاحبزادگی کے زعم اور گھمنڈ کو اپنے دماغوں سے کھرچ کرنکال دیں۔ ورنہ اللہ کے قانون عدل کے مطابق اپنے ہولناک انجام کے لئے تیار ہوجائیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ اس کا قانون عدل وانصاف پر مبنی اور یکساں وبے لاگ ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
228 فسق و فجور باعث تنگی اور موجب ہلاکت و تباہی ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم اسی طرح تنگی اور آزمائش میں ڈالتے رہے ان لوگوں کو ان کی ان نافرمانیوں کی بنا پر جن کا ارتکاب وہ کرتے رہے تھے۔ معلوم ہوا کہ فسق و فجور اور بدکاری انسان کے لئے اس دنیا میں بھی کئی طرح کی تنگیوں کا باعث بن جاتی ہے اور اس سے انسان کے گرد ابتلاء و آزمائش کا دائرہ تنگ سے تنگ تر ہوتا جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ روایات کے مطابق اس ممانعمت کے بعد ان لوگوں نے یہ حیلہ اپنایا کہ ساحل سمندر کے قریب مختلف قسم کے حوض بنا لئے اور وہ سمندر سے مختلف کاریزوں کے ذریعے ان میں پانی چھوڑ دیتے، جس سے مچھلیاں وہاں پر جمع ہوجاتیں اور پھر ان کاریزوں کے راستے یہ لوگ بند کردیتے تاکہ وہ مچھلیاں واپس نہ جاسکیں۔ پھر دوسرے روز وہ ان کو بآسانی پکڑ لیتے اور کہتے کہ ہم نے ہفتے کے دن شکار نہیں کیا مگر یہ ایک بھول اور سخت دھوکہ تھا جس میں یہ لوگ مبتلا تھے۔ بھلا اس طرح اس ذات سے اپنے جرم کو چھپانا کیونکر ممکن ہوسکتا ہے جو کہ { عَلِیْمٌ بِذَات الصُّدُوْرِ } ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ بہرکیف وہ لوگ سنت الٰہی کے مطابق اپنے فسق و فجور کے باعث ابتلاء و آزمائش کے بھنور میں پھنس گئے اور ان کا دائرہ تنگ سے تنگ کردیا گیا۔ اور بالآخر وہ اپنے ہولناک انجام کو پہنچکر رہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 7:164229 وعظ و نصیحت برائے ازالہ عذر وقطع حجت : سو ان نصیحت کرنے والوں نے ان کی نصیحت کے بارے میں کہا کہ ہم ان کو یہ نصیحت اس لیے کرتے ہیں تاکہ رب تعالیٰ کے یہاں معذرت پیش کرسکیں یعنی تاکہ اس کے یہاں نہی عن المنکر میں کوتاہی کے مرتکب نہ قرار پائیں۔ اور اس کے نتیجے میں اس کی گرفت و پکڑ کے حق دار نہ بن جائیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ یعنی کل قیامت کے یوم حساب میں اگر مالک نے ہم سے پوچھا کہ جب تمہارے درمیان اور تمہارے سامنے برائی ہو رہی تھی تو تم نے اس کو روکا کیوں نہیں تو ہم اس کی بارگہ اقدس و اعلیٰ میں عرض کریں گے کہ ہم نے اپنا فرض ادا کردیا تھا مگر ان لوگوں نے نہیں مانا تھا۔ سو اس وقت یہ لوگ ایسا کوئی عذر اور بہانہ نہیں کرسکیں گے کہ ہمیں پتہ نہیں تھا اور ہمیں کسی نے روکا نہیں تھا۔ سو ۔ { مَعْذِرَۃً اِلٰی رَبِّکُمْ } ۔ کے عموم و شمول میں یہ دونوں ہی صورتیں داخل اور شامل ہیں۔ بہرحال نصیحت کرنے والے ان مخلصوں نے کہا کہ یہ لوگ مانیں یا نہ مانیں، ہم اپنے فرض سے سبکدوش ہوجائیں گے۔ اور ان کے لیے کسی عذر کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔ اس لیے انہوں نے ان بدبختوں کو نصیحت کی۔
Ayah 7:165230 فریضہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ادائیگی ذریعہ نجات : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخرکار ہم نے بچا لیا ان لوگوں کو جو روکتے تھے برائی سے کہ انہوں نے نہی عن المنکر کا فریضہ اداء کردیا تھا۔ اور خاموش رہنے والوں کے بارے میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ وہ بھی ہلاک ہوگئے تھے اور بعض کا کہنا ہے کہ وہ بچ گئے تھے۔ اور راحج یہی دوسرا قول ہے۔ ابن عباس ؓ پہلے تو اس بارے میں توقف فرماتے تھے مگر بعد میں انہوں نے اسی قول کو اختیار کیا۔ (جامع البیان وغیرہ) ۔ سو فریضہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی ادائیگی ذریعہ نجات اور باعث خیر و برکت ہے۔ اور اس کے مقابلے میں تذکیر و یاد دہانی اور مخلصوں کی طرف سے کی گئی نصیحت کو فراموش اور نظر انداز کردینا باعث ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
231 " عذاب بئیس " سے مقصود و مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخر کار ہم نے پکڑا ان ظالموں کو ایک بڑے ہی سخت عذاب میں ان کی ان نافرمانیوں کی بنا پر جن کا ارتکاب وہ لوگ کرتے چلے آ رہے تھے۔ یعنی مسنح کے عذاب میں کہ ان کے ظاہر و باطن مسنح ہوگئے۔ اور پھر تین دن کے بعد وہ لوگ ہمیشہ کے لئے ایسے مٹ گئے کہ ان میں سے کوئی باقی نہ رہا۔ (جامع البیان وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ظلم پر اصرار اور اڑنا باعث ہلاکت و تباہی ہے خواہ کتنی ڈھیل کیوں نہ ملے۔ اس کا آخری انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اپنے ظلم پر اصرار کے باعث آخرکار وہ لوگ اس قدر ہولناک اور عبرت انگیز انجام سے دو چار ہوئے اور لعنت و پھٹکار کے موردبنے اور ملعون قرار پائے۔ اور کسی قوم پر لعنت کا عذاب اس عذاب سے بھی کہیں بڑھ کر سخت ہوتا ہے جو کسی قوم کو فنا کردیتا ہے۔ ذلت و خواری کی ایک داستان عبرت ہوتی ہے جو کہ ان کے ملعون جسموں کی صورت میں چل پھر رہی ہوتی ہے اور اپنی زبان حال سے دنیا کو دعوت غور و فکر اور درس عبرت دے رہی ہوتی ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayahs 7:166–168232 ان ظالموں کے ذلیل بندر بن جانے کا حکم ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الْعَظِیْم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان سے کہا کہ تم ہوجاؤ بندر ذلیل۔ یعنی تکوینی طور پر ان سے یوں کہا گیا اور ان کو ذلیل بندر بنادیا گیا۔ پس یہ آیت پہلی آیت کے مضمون کی تقریر و تفصیل ہے۔ (جامع البیان وغیرہ) ۔ سو جس " عذاب بئیس " یعنی " سخت عذاب " کا ذکر اوپر فرمایا گیا تھا، اس سے مراد یہی عذاب تھا کہ ان لوگوں کو بندر اور خنزیر بنادیا گیا۔ سو احکام خداوندی کے توڑنے کا نتیجہ و انجام بہرحال بہت برا اور نہایت ہولناک ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ان لوگوں کو ان کی نافرمانی اور عہد شکنی کی بناء پر ایک سخت عذاب سے دو چار ہونا پڑا۔ اور اس سے محفوظ وہی رہے جو لوگوں کو برائی سے روکتے تھے۔ سو اس سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے کی عظمت و اہمیت واضح ہوجاتی ہے اور یہ کہ اس کے ترک واہمال کا نتیجہ وانجام بڑا سخت اور انتہائی ہولناک ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر موق پر اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین۔