Ayah 7:80109 پیغمبر کی زندگی میں اصل چیز ان کی دعوت ہوتی ہے : یعنی یہاں بھی آغاز کلام دعوت و تبلیغ کے عمل اور اس کے ذکر سے کیا گیا ہے نہ کہ ولادت ومیلاد کے تذکرے سے۔ کہ اصل چیز دعوت و تبلیغ ہی ہے نہ کہ میلاد وغیرہ رسوم و رواج کی پابندی کرنا۔ جیسا کہ آج کل کے اہل ھویٰ کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو پیغمبر کی اصل میلاد ان کی روحانی میلاد ہوتی ہے جو کہ ان کی بعثت و نبوت سے شروع ہوتی ہے، نہ کہ محض جسمانی میلاد۔ اسی لئے قرآن حکیم میں حضرات انبیاء و رسل کے قصوں کے ذکر وبیان کے سلسلے میں کسی ایک پیغمبر کی بھی ولادت سے ان کے قصے کو شروع نہیں فرمایا گیا، بلکہ ان کی نبوت و رسالت اور ان کی دعوت و تبلیغ سے آغاز فرمایا گیا سوائے ایک دو قصوں کے۔ ان کی خاص اور استثنائی شان کی وجہ سے۔
110 قوم لوط خلاف وضع فطری فعل کی موجد : لوط نے ان سے کہا کہ تم لوگ ایسے فعل کا ارتکاب کرتے ہو جس کا ارتکاب تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا۔ یعنی اس فعل خبیث کے موجد اور بانی تم ہی لوگ ہو۔ (جامع البیان) ۔ تم سے پہلے مِنْ حیثْ الْقوم اس کا ارتکاب کسی نے نہیں کیا۔ مگر دور حاضر میں ترقی اور دانشوری کا دعویٰ رکھنے والے برطانیہ نے ابھی کچھ ہی سال قبل باضابطہ طور پر اور تالیوں کی گونج میں اپنی پارلیمنٹ میں بھاری اکثریت سے اس خلاف فطرت فعل کے حق میں قرار داد پاس کر کے اس کو قانونی جواز دے دیا کہ مرد مرد سے بدکاری کرسکتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف قوم لوط سے پہلے اس فعل خبیث کا ارتکاب دنیا بھر میں کسی نے نہیں کیا تھا، بلکہ یہی بدبخت قوم اس منحوس فعل کی موجد تھی۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، صنوہ التفاسیر اور المنار وغیرہ) ۔
Ayah 7:81111 قوم لوط کے قومی اور اجتماعی بگاڑ کا مظہر : جن کو حضرت حق ۔ جل شانہ ۔ نے پیدا ہی اسی غرض کے لئے فرمایا ہے اور جو عقل و فطرت کا عین مقتضٰی ہے۔ تو تمہاری عقل و فطرت کس درجہ مسنح ہوچکی ہے کہ تم لوگ فطری طریقے کو چھوڑ کر اس خلاف فطرت فعل کا ارتکاب کرتے ہو، جس کا ارتکاب کوئی حیوان اور جانور بھی نہیں کرتا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو یہ فساد مزاج اور خرابی عقل کا ایک کھلا ثبوت ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو { من دُوْنِ النِسَائِ } یعنی تم لوگ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو کے یہ الفاظ اس قلب ماہیت کو ظاہر کرتے ہیں جو ایسے لوگوں کی طبیعتوں کے فساد و بگاڑ کا لازمی نتیجہ ہے۔ سو ایسے مفسد لوگوں کی طبیعتیں الٹی اور اوندھی ہوجاتی ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔
112 " اِسراف " یعنی حد سے بڑھنا خرابی اور فساد کی جڑ بنیاد : اور یہی جڑ بنیاد ہے خرابی اور تباہی کی کہ انسان حد سے نکل جائے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اپنے خالق ومالک کی قائم فرمودہ حدوں کے اندر رہنے اور ان کی حفاظت و پاسداری کرنے ہی میں امن و عافیت اور سلامتی دارین ہے۔ اور اسی میں بھلا اور فائدہ ہے انسان کا، اَفراد کی صورت میں بھی اور پورے اجتماعی معاشرے کیلئے بھی ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ اپنی حدوں سے بڑھنے والے اور مسرف لوگ ہو اور تمہارے اس اسراف اور فساد طبیعت کے باعث اور اس کے نتیجے میں تمہاری تخلیقی قوت بےمحل صرف ہو کر ضائع ہو رہی ہے۔ اور اس طرح بنجر اور کلر زمین کو پانی دیا جا رہا ہے اور کھیتیاں خشک ہو رہی ہیں۔
Ayahs 7:82–83113 اِعراض و استکبار باعث ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ ۔ : سو اعراض و استکبار یعنی اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں حق سے منہ موڑنا دائمی ہلاکت و تباہی کا پیش خیمہ ہے۔ اسی بناء پر قوم لوط نے ایسے کہا اور یہ وہی متکبرانہ جواب ہے جو اس طرح کی شامت زدہ قوموں اور ان کے گمراہ لیڈروں کا وطیرہ ہوتا ہے اور اس طرح کے جواب سے وہ گویا کہ اپنے آخری اور حتمی فیصلے کے مطالبے پر آخری دستخط کرلیتے ہیں اور اپنے قول و فعل سے واضح کردیتے ہیں کہ اب ان کے اندر خیر کی کوئی رمق باقی نہیں رہی اور اب ان لوگوں کا وجود اللہ کی دھرتی پر ایک نارو ا بوجھ بن گیا ہے جس کو کچرے کے ڈھیر کی طرح ہمیشہ کیلئے دفن کردیا جانا چاہیئے کہ اب ان سے آگے مزید فاسد عناصر جنم لیں گے، جنکی نجاست سے اللہ کی دھرتی اور ناپاک ہوگی۔ سو جن لوگوں کی مت مار دی جاتی ہے اور ان کی فطرت مسخ اور عقلیں اوندھی اور الٹی ہوجاتی ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ ان کا حال یہی ہوجاتا ہے کہ کسی ناصح کی نصیحت اور حق و ہدایت کی کوئی بات ان میں اثر نہیں کرتی، خواہ وہ کوئی پیغمبر ہی کیوں نہ ہو۔ اور ایسے لوگ ایسے پاکیزہ صفت انسانوں کے وجود کو بھی اپنے درمیان برداشت کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔ اور وہ اس طرح اعلانیہ اور کھلم کھلا ایسے پاکیزہ عناصر کو اپنے اندر سے نکال باہر کرنے کا اعلان کردیتے ہیں تاکہ پیچھے صرف گند رہ جائے جس کو دہکتی بھڑکتی آگ کے الاؤ میں جھونک کر بھسم کردیا جائے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 7:84114 مکافات عمل قدرت کا ایک اٹل قانون و دستور : سو مکافات عمل قدرت کا اٹل قانون ہے۔ اس لئے ہر شخص نے اپنے کیے کرائے کا بدلہ بہرحال پانا ہے خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ اور یہ خداوند قدوس کے اٹل قانون اور بےلاگ فیصلے کا ایک اور مظہر ہے کہ مجرم اپنے کئے کا بدلہ بہرحال پا کر رہے گا، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ اور اپنے ایمان و عمل سے محرومی کی صورت میں اس کو نہ کسی کی کوئی دوستی کام آئے گی نہ کسی کی قرابت و رشتہ داری۔ اگرچہ وہ کسی نبی کی بیوی ہی کیوں نہ ہو۔ جیسے لوط اور نوح کی بیوی یا کسی پیغمبر کا باپ ہی کیوں نہ ہو جیسے آزر حضرت ابراہیم کے والد۔ یا کسی کا حقیقی بیٹا ہی کیوں نہ ہو، جیسے کنعان بیٹا نوح کا۔ یا کسی کا سگا چچا ہی کیوں نہ ہو، جیسے ابوطالب عم رسول اللہ ﷺ نیز یہ واقعات کھلا اور قطعی ثبوت ہیں اس بات کا کہ حضرات انبیائے کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ مختار کل نہیں ہوتے کہ جو چاہیں کریں۔ جیسا کہ دور حاضر کے کلمہ گو مشرکوں کا شرکیہ عقیدہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ ورنہ اگر حضرات انبیائے کرام مختار کل ہوتے تو نہ ان کے ایسے قریبی رشتہ دار حق و ہدایت کی دولت سے محروم رہتے اور نہ وہ اپنے کفر و انکار کے نتیجے میں نار جہنم کا ایندھن بننے والے بدبختوں میں شامل ہوتے۔ اور نہ ہی حضرت لوط کی بیوی جس کی ہلاکت و تباہی کا یہاں پر ذکر وبیان فرمایا جا رہا ہے وہ کافروں سے مل کر ان کی ایجنٹی اور مخبری کرتی۔ اور اس سب کے نتیجے میں بالآخر وہ اس ہولناک انجام سے دو چار ہوئی۔ سو مختار کل اللہ وحدہٗ لاشریک ہی ہے جس کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہر چیز کی باگ ڈور ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
Ayah 7:85115 پیغمبر کی زندگی کا اصل مرحلہ دعوت و تبلیغِ حق : یہ اسی حقیقت کا اعادہ و تکرار ہے جو کئی بار بیان ہوچکی ہے کہ اصل چیز دعوت و تبلیغ کا کام ہے نہ کہ ولادت و میلاد کا ذکر وبیان۔ اور اس نام سے ان حضرات کے ایام ولادت پر جشن منانا۔ اسی لیے ہر پیغمبر کا ذکر اس کی بعثت اور دعوت کے مرحلے سے ہی شروع ہوتا ہے اور ان کی ولادت و میلاد وغیرہ کا کہیں کوئی ذکر نہیں کیا جاتا۔ نیز یہ کہ پیغمبر کو اپنی امت کا بھائی کہنامنع نہیں۔ جیسا کہ بعض برخود غلط لوگوں کا کہنا ہے۔ کہ اس آیت کریمہ میں اور اس جیسی متعدد آیات کریمہ میں حضرات انبیائے کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ کو ان کی قوموں کا بھائی فرمایا گیا ہے کہ پیغمبر اپنی قوم کا اس اعتبار سے بھائی ہی ہوتا ہے۔ اور اگر وہ قوم ایمان لے آئے تو پھر اس قومی اخوت کے ساتھ دینی اور ایمانی اخوت بھی جمع ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد پیغمبر اپنی قوم کا دینی اور ایمانی بھائی بھی بن جاتا ہے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے قوم مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو رسول بنا کر بھیجا "۔ اور مدین کے یہ لوگ ایک اہم تجارتی سنگم پر واقع تھے۔ اس لئے انہوں نے تجارت میں بہت ترقی کی اور بڑا نام کمایا۔ اور پھر دوسری مختلف بیماریوں کے علاوہ یہ لوگ ناپ تول میں کمی کے روگ میں مبتلا ہوگئے۔
116 پیغمبر کا وجود ایک دلیل روشن : پیغمبر کا وجود بذات خود ایک " بینہ " اور " روشن دلیل " کی حیثیت رکھتا ہے کہ وہ اپنی پاکیزہ زندگی کے علاوہ اللہ پاک کی طرف سے ایسی ٹھوس اور واضح تعلیمات لے کر آتا ہے جو حق کو باطل سے اور صحیح کو غلط سے بالکل الگ کر کے اور نکھار کر رکھ دیتی ہیں۔ نیز ان کی نبوت و رسالت بھی معجزات و دلائل کے ذریعے قطعی طور پر واضح ہوجاتی ہے۔ اس لیے بعض نے کہا کہ یہاں پر " بینہ " سے مراد خود پیغمبر کی ذات اور ان کی بعثت اور تشریف آوری ہے۔ کیونکہ اس کے سوا کسی اور معجزے کا اس بارے کوئی ذکر موجود نہیں۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت شعیب کو اور کوئی معجزہ دیا گیا ہو لیکن اس کا ذکر نہ فرمایا گیا ہو۔ آخر قرآن پاک میں سب انبیائے کرام کے تمام معجزات تھوڑے ہی ذکر فرمائے گئے ہیں۔ (المراغی، المحاسن وغیرہ) ۔
117 اللہ کی زمین میں فساد مت پھیلاؤ : کفر و شرک کا ارتکاب کر کے اور اللہ کی مقرر کردہ حدوں کو توڑ کر کہ اللہ پاک کی مقرر فرمودہ حدود کو توڑنا اور ان کو پھلانگنا اور اللہ کے دین سے منہ موڑ کر کفر و شرک میں مبتلا ہونا، فتنہ و فساد اور خرابی و دمار کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جبکہ اللہ پاک نے اس زمین کو ایسا بنایا کہ یہ مخلوق کی تمام ضرورتوں کی کفیل اور ان کی بود و باش کیلئے نہایت صالح اور عین مناسب ہے۔ سو ایسے میں اس میں فساد و بگاڑ بہت برا اور عدل و انصاف کے تقاضوں کے یکسر منافی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اللہ تعالیٰ جب قائم بالقسط ہے اور اس نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے آسمان و زمین کی اس عظیم الشان اور حکمتوں بھری کائنات کو نہایت پر حکمت توازن اور ایک عظیم الشان میزان پر قائم فرمایا ہے تو وہ اپنے بندوں سے بھی یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے دائرئہ اختیار میں اپنا نظام عمل اور اپنا تعامل باہمی عدل و انصاف اور وزن و قسط پر قائم کریں اور اس کے تقاضوں کی پوری رعایت رکھیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { وَوَضَعَ الْمِیْزَانَ ، اَنْ لَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِ ، وَاَقِیْمُوْا الْوَزْنَ بالقِسْطَ وَلَا تُخْسِرُو الْمِیْزَان } (الرحمن : 7-9) سو جس طرح آسمان و زمین کے میزان میں اگر پل بھر کے لئے خلل آجائے تو زمین و آسمان کی یہ ساری کائنات درہم برہم ہوجائے، تو اسی طرح اگر بندے اپنے دائرئہ اختیار میں ناپ تول میں خلل اور کمی بیشی سے کام لیں گے تو پورا نظام عدل و انصاف مختل ہوجائے گا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اسی حقیقت کی تذکیر و یاد دہانی کراتے ہوئے ناپ تول میں کمی سے منع فرمایا اور ان کو بتایا کہ یہ چیز زمین کے لئے فساد و بگاڑ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔
118 زمین کی صلاح سے مراد ؟ : یہ کہ حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ نے ایک طرف تو اس کرئہ ارضی کو پیدا ہی ایسے حکیمانہ اصولوں پر فرمایا ہے جو کہ اس پر زندگی گزارنے والی گوناگوں مخلوق کی طبیعت و فطرت کے عین مطابق ہیں۔ اور دوسری طرف اس نے اپنے انبیاء و رسل کی بعثت و رسالت اور ان پر اتاری جانیوالی تعلیمات مقدسہ کے ذریعے اس پر بود و باش کے ایسے صحیح اور مستحکم طور طریقوں کی تعلیم دی جو کہ امن و سلامتی کے ضامن و کفیل ہیں۔ (المراغی، المحاسن، الصفوۃ وغیرہ) ۔ سو دین حق کی تعلیمات مقدسہ سے منہ موڑنا فساد اور خرابی ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے، تسلیم کرے یا نہ کرے، حق اور حقیقت بہرحال یہی ہے۔ اور امن و سلامتی کی راہ اس دین حق سے وابستگی ہی میں مضمر ہے، جس کو اللہ پاک نے لوگوں کی ہدایت و اصلاح کیلئے نازل فرمایا ہے۔ سو جیسا کہ ابھی اوپر کے حاشیے میں گزرا، آسمان و زمین کی اس کائنات کا نظام عدل و قسط اور میزان پر قائم ہے، اسی طرح اس زمین کا نظام معیشت و معاشرت عدل و انصاف پر قائم ہے۔
119 ایمان و یقین کا تقاضا، پیغمبر کی پیروی و اتباع : کہ ایمان و عقیدہ کا تقاضا یہی ہے۔ نیز تمہارے ایمان کی بدولت اس کا فائدہ تمہیں دنیا میں بھی ملے گا اور آخرت میں بھی۔ جبکہ کافر کے لئے صرف یہ دنیا ہی دنیا ہے اور بس۔ سو ایمان و یقین کے دعوے کا تقاضا یہ ہے کہ پیغمبر کے ارشادات اور ان کی تعلیمات کو صدق دل سے اپنایا جائے اور ہر حال میں ان کی پیروی اور اتباع کی جائے ۔ وباللہ التوفیق ۔ پس تم لوگ اگر اپنے دعویٰ ایمان میں سچے ہو تو فساد و بگاڑ کی روش کو چھوڑ کر اصلاح احوال کے اس طریقے کو اپناؤ جس کی دعوت میں تمہیں دیتا ہوں۔
Ayah 7:86120 راہ حق سے روکنا اہل باطل کا پرانا طریقہ و وطیرہ : روایات کے مطابق وہ لوگ راستوں پر بیٹھ کر دوسروں کو حضرت شعیب تک پہنچنے سے روکتے اور انہیں طرح طرح کی دھمکیاں دیتے تھے۔ اس لئے ان کو اس فعل شنیع سے روکا اور منع کیا گیا۔ (جامع البیان، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ سو دین حق اور دعاۃِ حق سے روکنا اہل کفر و باطل کا پرانا طریقہ ہے جو جب سے اب تک جوں کا توں موجود ہے۔ اور اس کے مظاہر آج بھی جگہ جگہ اور طرح طرح سے نظر آتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف حضرت شعیب نے اپنی قوم کے ان کھڑپنچوں اور متکبر سرداروں کے ضمیروں کو دستک دیتے ہوئے ان سے فرمایا کہ تم لوگ اپنی اس طرح کی معاندانہ اور سرکشانہ سرگرمیوں کو ترک کر کے راہ حق و ہدایت کو اپناؤ۔ غنڈہ گردی کے ان طور طریقوں سے باز آجاؤ اور ایمان کے نور سے منور ہوجانے والے ان سچے اور مخلص مسلمانوں کو ڈرانے دھمکانے کی روش کو چھوڑ دو اور ان بندگان صدق و صفا کے درپے آزار ہو کر اپنی محرومی اور بدبختی کی سیاہی کو اور پکا مت کرو ۔ والعیاذ باللہ ۔
121 راہ حق میں کجی تلاش کرنا اہل باطل کا ایک اور قدیم حربہ ۔ والعیاذ باللہ ۔ : طرح طرح کے شکوک و شبہات ڈال کر۔ اور یہی طریقہ واردات اہل باطل کا ہمیشہ رہا ہے۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ اور وہ اہل حق کے خلاف انہی ہتھیاروں سے کام لیتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اس طرح ایسے لوگ دوسروں کو راہ حق سے محروم کرکے ضلال اور اضلال کے دونوں جرموں کا ارتکاب کرتے اور اپنے لیے دوہری اور ڈبل محرومی کا سامان کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اللہ کی راہ سے مراد توحید کی راہ ہے کہ یہی انسان کی فطرت ہے۔ یہی راہ انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرنے والی راہ ہے اور اسی پر چل کر انسان اپنے خالق ومالک کی جانب اقدس و اعلیٰ تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔ اور اس راہ میں کجی تلاش کرنے کا مطلب اس کو شرک کی پگڈنڈیوں کی طرف موڑنا اور لوگوں کو توحید خداوندی کی راہ راست سے ہٹا کر گمراہی کے راستوں پر ڈالنا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
122 شکر نعمت کی تعلیم و تلقین : یعنی اللہ تعالیٰ کی اس طرح کی ان عظیم الشان نعمتوں کو تم لوگ یاد کرو تاکہ تمہیں اس کے حضور جھکنے کی اور ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرنے کی توفیق وسعادت نصیب ہو۔ کہ شکر نعمت سے نعمت میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کو دوام ملتا ہے۔ جبکہ کفران نعمت عذاب الیم کا باعث بنتا ہے، جیسا کہ ارشاد ربانی ہے { لَئِنْ شَکَرْتُمْ لاَزِیْدَنَّکُمْ وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ } سو یہ ہے نعمتوں کی یاد دہانی سے اصل مقصود و مدعا۔ نہ کہ وہ جو اہل بدعت پیش کرتے ہیں کہ اس سے جشن میلاد کے ثبوت و جواز پر استدلال کرتے ہیں جو کہ صحابہ وتابعین کرام اور خیر القرون کے دور میں کسی کو بھی نہیں سوجھا۔ بہرکیف حضرت شعیب نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی تذکیر و یاد دہانی کراتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ اس وقت کو یاد کرو کہ جب تم اس علاقے میں ایک چھوٹے سے خاندان کی شکل میں آ کر بسے تھے اور اب تم ایک طاقتور قوم کی شکل میں موجود ہو۔ اس نے تمہاری تعداد کو بھی بڑھایا اور تمہیں کثرت ذرائع و وسائل سے بھی نوازا۔ اور اس طرح طرح کے اسباب معیشت و معاشرت سے سرفراز فرمایا۔ پس تم لوگ صدق دل سے اس کا شکر اداء کرو اور مفسد لوگوں کے انجام سے عبرت پکڑو۔
Ayahs 7:87–91123 صبر و ثبات کی تعلیم و تلقین : سو اس ارشاد سے ضدی اور ہٹ دھرم لوگوں کے مقابلے میں صبر و برداشت سے کام لینے کی ہدایت و تلقین فرمائی گئی کہ جن کے اندر خیر و صلاح کی کوئی رمق موجود ہو وہ ایمان لے آئیں۔ اور جو اس سے محروم ہوں وہ اپنے آخری انجام کو پہنچ جائیں۔ پس ایمان امن و سلامتی کا باعث وضامن ہے اور کفر ہلاکت و تباہی کا سبب ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس ضدی اور ہٹ دھرم لوگوں کے مقابلے میں صبر و برداشت سے کام لینے ہی میں سلامتی و عافیت ہے۔ بہرکیف حضرت شعیب نے ان سے فرمایا کہ اگر ایک گروہ نے میری دعوت کو قبول نہیں کیا اور وہ لوگ مجھ پر ایمان نہیں لائے تو تم صبر و برداشت اور ثبات و استقامت ہی سے کام لو اور یقین رکھو کہ ایسے لوگ جنہوں نے حق سے اعراض کیا اور منہ موڑا وہ اپنے انجام کو بہرحال پہنچ کر رہیں گے۔ اس سے کبھی بچ نہیں سکیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں دیر تو ہے، اندھیر نہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
124 اللہ ہی سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے : اور بلا شبہ سب سے بہتر اور صحیح فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کا ہوسکتا ہے کہ اس کا علم بھی کامل ہے اور رحمت و عدل بھی کامل۔ اور وہ ہر غرض کے شائبے سے بھی پاک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس لیے آپ ایسے ضدی اور ہٹ دھرم لوگوں کے مقابلے میں صبر و برداشت ہی سے کام لیں اور ان کا معاملہ اسی احکم الحاکمین پر چھوڑ دیں۔ وہ ان کے درمیان کسی لاگ لپٹ کے بغیر ایسا صحیح اور درست فیصلہ فرمائے گا کہ ہر کسی کو اس کے کیے کرائے کا پورا بدلہ ملے جائے گا کہ اس کا دستور عدل و انصاف یہی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو جو ڈھیل دے رہا ہے تو وہ اس لئے دے رہا ہے کہ ان میں سے جن کے اندر قبول حق کی کوئی صلاحیت ہو وہ ایمان لے آئیں اور چھٹ کر دوسروں سے الگ ہوجائیں۔ سو تم لوگ اس بارے انتظار کرو۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ حق اور باطل والوں کے درمیان آخری اور عملی فیصلہ فرما دے گا اور وہی ہے سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا۔
Ayah 7:92130 تکذیب انبیاء و رسل کا انجام نہایت برا ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخرکار آپکڑا ان لوگوں کو ایک ایسے ہولناک عذاب نے جس کے نتیجے میں وہ اپنے گھروں میں اوندھے کے اوندھے پڑے رہ گئے تھے۔ اور جس اوندھے پن کو انہوں نے زندگی بھر اپنائے رکھا تھا، آخر کار وہ سب اسی کی آغوش میں پہنچ گئے اور وہ ایسے ہوگئے کہ گویا کہ وہ وہاں پر کبھی رہے بسے ہی نہ تھے ۔ والعیاذ باللہ ۔ حضرات انبیاء و رسل اور ان کے پیغام حق کی تکذیب و عداوت کا نتیجہ و انجام نہایت ہی ہولناک ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس طرح شعیب (علیہ الصلوۃ والسلام) اور ان کے ساتھیوں کو نکال باہر کرنے کی دھمکیاں دینے والے خود ہمیشہ کے لئے مٹ گئے۔ اور یہی انجام ہوتا ہے حضرات انبیاء و رسل اور ان کے پیام حق اور اہل حق سے عداوت و دشمنی رکھنے کا۔ کہ ایسے لوگ بالآخر صفحہ ہستی سے مٹ کر اور اپنے آخری انجام کو پہنچ کر رہتے ہیں۔ مگر ابنائے کفر و باطل کی مت ایسی مار دی جاتی ہے کہ ان کو یہ بات سمجھ نہیں آتی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کوئی مانے یا نہ مانے، تسلیم کرے یا نہ کرے، حق اور حقیقت بہرحال یہی ہے کہ حق کی تکذیب و مخالفت اور اس سے دشمنی و عداوت کا نتیجہ و انجام بڑا ہی ہولناک ہوتا ہے۔ اور ایسا کہ اس سے پھر نکلنے اور بچنے کی کوئی صورت ممکن نہیں رہتی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو وہی لوگ جو کل اپنے غرور اور تکبر میں مبتلا ہو کر حضرت شعیب کو یہ دھمکی دے رہے تھے کہ اگر تم ہمارے دین میں واپس نہ آئے تو ہم تمہیں اس ملک سے نکال باہر کریں گے، وہی آج ایسے مرمٹ چکے تھے جیسے کہ وہ کبھی اس ملک میں رہے بسے ہی نہیں تھے۔ سو اللہ کا عذاب بڑا ہی سخت اور نہایت ہی ہولناک ہوتا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جن لوگوں نے جھٹلایا تھا شعیب کو وہی تھے خسارے والے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 7:93131 تکذیب و انکارِ حق کا نتیجہ، ہولناک تباہی ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ : سو اس سے واضح فرمایا دیا گیا کہ تکذیب و انکار حق اور کفر و باطل پر اصرار دائمی ہلاکت و تباہی کا پیش خیمہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو حضرت شعیب نے فرمایا کہ میں ان لوگوں پر کیسے غم کروں کہ انہوں نے حق کو مان کے نہ دیا اور بالآخر یہ اپنے اس آخری اور حتمی انجام کو پہنچ کر رہے جو ان کے لئے مقدر ہوچکا تھا ان کے کفر و انکار اور تکذیبِ حق کی پاداش میں۔ اور جس کا سزا وار انہوں نے اپنے آپ کو خود بنا لیا تھا۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کے اس خطاب میں اظہار تاسف بھی ہے اور سبب عذاب کا بیان بھی جو آپ نے ان مردودوں کو خطاب کر کے فرمایا تھا۔ جیسے کوئی کہیں اجڑے دیار کو خطاب کر کے اظہار افسوس کرے ۔ پس اس سے سماع موتی پر استدلال صحیح نہیں، جیسا کہ اہل بدعت کے بعض بڑوں نے اس موقع پر کیا ہے۔ اللہ پاک اپنے پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرماتا ہے { وَمَا اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ } باقی رہ گیا مسئلہ سماع موتی کا تو وہ ایک اختلافی مسئلہ ہے۔ سلف سے اس میں دو قول چلے آتے ہیں۔ اِثبات کا بھی اور نفی و انکار کا بھی۔ حضرات اہل علم میں سے کچھ نے اثبات کو ترجیح دی اور کچھ نے نفی کو۔ علامہ امین شنقیطی نے اپنی تفسیر " اضواء البیان " میں پہلے مسلک کو اپنایا ہے اور تفصیلی دلائل سے اس کو ترجیح دی ہے۔ اور وسط اور سلامتی والا قول جس کو ہم راجح سمجھتے ہیں یہ ہے کہ جہاں جہاں نصوص و روایات میں ثابت و وارد ہے وہاں انکار کی گنجائش نہیں اور جہاں ایسا نہیں وہاں خواہ مخواہ زور لگانے کی ضرورت نہیں کہ ایسے غیبی حقائق و مسائل میں محض قیاس آرائی کام نہیں دے سکتی ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقِ للصِّدْقِ وَالصَّوَابِ ۔ اللہ تعالیٰ ہر طرح کے زیغ و ضلال سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 7:94–95132 مصائب ذریعہ ابتلاء و آزمائش : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ مصائب کے ذریعے قدرت کی طرف سے تنبیہ وتحذیر اور ابتلاء و آزمائش کا سامان کیا جاتا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے جس بستی میں بھی کوئی پیغمبر بھیجا اس کے باشندوں کو ہم نے سختی اور تنگی میں پکڑا تاکہ وہ دب جائیں، ان کی اکڑی ہوئی گردنوں میں خم آجائے اور وہ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کر کے حق قبول کرلیں اور اس طرح یہ دوزخ سے بچ جائیں۔ سو اس طرح عبرت پذیر شخص کے لئے دنیا کی یہ مصیبتیں بھی ہدایت و رحمت کا ذریعہ بن کر باعث خیر بن جاتی ہیں۔ مگر غافل و مدہوش لوگوں کو اس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے اس سنت الٰہی کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے جو حضرات انبیاء و رسل کے بارے میں اس کی اس کائنات میں جاری وساری رہی۔ وہ یہ کہ جب بھی اللہ تعالیٰ نے کسی بستی میں اور کسی قوم کے اندر اپنا کوئی نبی و رسول بھیجا اور اس نے لوگوں کو رجوع الی اللہ اور توبہ و استغفار کی دعوت دی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی تائید وتقویت کے محرکات اس کائنات میں ظاہر ہونا شروع ہوگئے۔ سو ایک طرف تو پیغمبر ان لوگوں کو غفلت اور خدا فراموشی کے انجام سے ڈراتا اور خبردار کرتا اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو قحط، سیلاب، طوفان اور طرح طرح کی وباؤں اور بیماریوں میں مبتلا کرتا تاکہ یہ لوگ دبیں اور ان کی اکڑی ہوئی گردنیں دعوت حق کے سامنے جھکیں۔ اور وہ اس کے قبول کرنے پر آمادہ و تیار ہوں۔ تاکہ ان کا دنیا و آخرت میں بھلا ہو اور ان مصیبتوں اور سختیوں سے یہ لوگ اس حقیقت کو جان لیں کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب کہیں بھی اور کبھی بھی اور کسی بھی شکل و صورت میں آسکتا ہے۔ اور اللہ جب چاہے اور جہاں اور جیسا چاہے کرسکتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 7:96–97134 متاع ایمان وتقویٰ سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ان بستیوں والے ایمان لے آتے اور تقویٰ و پرہیزگاری کو اپناتے اور اختیار کرتے تو ہم یقینا ان پر آسمانوں اور زمین کی برکات کے دروازے کھول دیتے مگر انہوں نے اس کے برعکس کفر و انکار اور تکذیب حق و اہل حق کی روش ہی کو اپنائے رکھا یہاں تک کہ وہ اپنے آخری اور ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ ایمان اور تقویٰ کے یہ دو وصف آخرت کی دائمی سعادت اور حقیقی کامیابی سے پہلے اس دنیا میں بھی انسان کیلئے موجب خیر و برکت بنتے ہیں ۔ فَاِیَّاکَ نَسْاَلُ التَّوْفِیْقَ وَالسِّدَادَ یَا مَنْ لَّا حَدَّ لِجُوْدِہٖ وَ لَا نِہَایَۃَ لِکَرَمِہٖ ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور ان دونوں میں سے پہلا وصف یعنی ایمان تو اس نور سے عبارت ہے جو انسان کے دل میں جاگزین ہوتا ہے اور اسکے باطن کو منور و معمور کرکے اس کو کچھ کا کچھ بنا دیتا ہے۔ اور اس کو کہیں سے کہیں پہنچا دیتا ہے۔ اور تقویٰ و پرہیزگاری سے مراد ہے ہر اس چیز سے بچنا اور پرہیز کرنا جو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی ناراضگی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کا باعث ہو۔ جس میں سب سے پہلے کفر و شرک اور باطل کی ہر شکل سے بچنا ہے اور پھر اسکی ہر قسم کی معصیت و نافرمانی سے بچنا ہے۔ سو ایمان وتقویٰ کے ان دونوں وصفوں اور دونوں لائنوں میں انسان جس قدر ترقی کرتا اور جتنا آگے بڑھتا جائے گا اتنا ہی وہ خداوند قدوس کی رضاء و رحمت سے سرفراز و فیضیاب ہوتا اور ترقی کرتا جائے گا ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ان بستیوں والے ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ضرور ان پر خیرات و برکات کے دروازے کھول دیتے۔ ان کے سروں پر تنی ہوئی آسمان کی اس عظیم الشان چھت سے بھی اور ان کے پاؤں کے نیچے بچھی خیرات و خزائن سے بھری اپنی اس زمین سے بھی لیکن انہوں نے اس کے برعکس محرومی ہی کا راستہ اپنایا ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقِ لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدَ وعلی ما یحب ویرید وَھُوَا الْہَادِیْ اِلٰی سَوَائِ السَّبِیْلِ ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
135 اَعمال کا بدلہ آخرت سے پہلے اس دنیا میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اس کے برعکس اپنی تکذیب ہی بر کمربستہ رہے۔ تو آخرکار ہم نے ان کو آپکڑا ان کے ان اعمال بد کی پاداش میں جو وہ کماتے رہے تھے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ اعمال کا پورا بدلہ تو اگرچہ آخرت ہی میں ملے گا مگر ان کا کچھ نہ کچھ بدلہ وثمرہ انسان کو اس سے پہلے اس دنیا میں بھی ملتا ہے۔ خیر کا خیر اور شرکا شر ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایمان صحیح اور عمل صالح اور تقویٰ و پرہیزگاری سے انسان کو اس دنیا میں حیات طیبہ (پاکیزہ زندگی) کی عظیم الشان سعادت اور جلیل القدر نعمت سے سرفرازی نصیب ہوتی ہے۔ جیسا کہ یہاں پر بھی اس بارے تصریح فرمائی گئی کہ اگر یہ لوگ ایمان وتقویٰ کی روش اپناتے تو ان پر آسمان اور زمین کی خیرات و برکات کے دہانے کھول دیئے جاتے۔ اس کے برعکس کفر و بغاوت پر ایسے لوگوں کو ہولناک عذابوں میں دھر لیا گیا، جیسا کہ یہاں پر اس کی تصریح فرمائی گئی کہ ایسوں کو ہم نے بالآخر ان کی زندگی بھر کی کمائی پر پکڑا، لیکن اعمال کا پورا بدلہ ان کو آخرت کے اس جہاں ہی میں مل سکے گا جو کہ " دارالجزاء " ہے جبکہ دنیا " دارالعمل " اور ابتلاء و آزمائش کی جگہ ہے۔ اس میں کامل اور فیصلہ کن جزا و سزا نہ ملتی ہے نہ مل سکتی ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 7:98136 اللہ کے عذاب سے کبھی نڈر اور بےخوف نہیں ہونا چاہیے ۔ والعیاذ باللہ : کہ اللہ کا عذاب کبھی بھی اور کسی بھی شکل و صورت میں آسکتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ یعنی اللہ پاک کا عذاب ان پر بےفکری اور بےخوفی کے کسی بھی ایسے موقع پر آسکتا ہے جبکہ یہ لوگ آرام و راحت کے مزے لوٹ رہے ہوں اور تعیش و تفریح کے سامان سے لطف اندوز ہو رہے ہوں۔ اور تاریخ قانون وقدرت کے اس عظیم اور اٹل ضابطے کی ہمیشہ تصدیق و تائید کرتی چلی آئی ہے۔ اور آج تک اس کے مظاہر جابجا سامنے آتے رہتے ہیں۔ ابھی کچھ ہی عرصہ قبل امریکی ریاست میکسیکو میں جو تباہ کن زلزلہ آیا تھا اس سے چند ہی منٹوں کے اندر چار ہزار انسان لقمئہ اجل بن گئے اور کروڑوں بلکہ اربوں کھربوں روپے کی مالیت کی فلک بوس عمارتیں وغیرہ پیوند خاک ہو کر رہ گئیں۔ اور ترقی و کمال کے دعویدار اور تسخیرِ کائنات کا گھمنڈ رکھنے والے اسی امریکہ بہادر کی ایک اور ریاست کو لمبیا میں گزشتہ سال طوفان باد و باراں اور زلزلے نے جو تباہی مچائی اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہاں کے پچاس ہزار آبادی والے ایک پورے شہر کو اجتماعی قبرستان قرار دے دیا گیا۔ اسی طرح گزشتہ سال ہی دوسری شیطانی سپر پاور روس کے شہر آزربائیجان میں زلزلے کے کچھ ہی جھٹکوں نے چند ہی سیکنڈوں میں اسی ہزار انسانوں کو لقمہ اجل بنادیا۔ اور تسخیرِ کائنات کا دعویٰ اور گھمنڈ رکھنے والی اس سپر پاور سے اتنا بھی نہ ہوسکا کہ وہ اپنے نت نئے ترقی یافتہ ذرائع و وسائل سے اس تباہ کاری سے ان لوگوں کو قبل ازوقت خبردار ہی کردیتی۔ اور اسی روس میں دو سال قبل چرنوبل کے ایٹمی توانائی گھر سے گیس خارج ہونے سے جو ہولناک تباہی آئی وہ لوگوں کے سامنے ہے۔ اور تین سال قبل ہندوستان کی ریاست بھوپال میں ایک کارخانے سے زہریلی گیس لیک ہونے سے ہولناک حادثہ پیش آیا جس سے پچاس ہزار انسان اور بیشمار دوسرے جانور اس بری طرح متاثر ہوئے کہ بیان سے باہر ہے۔ سو وہ بھی اسی تازیانہ عبرت کا ایک نمونہ ہے وغیرہ وغیرہ۔ سو یہ سب کچھ اسی قانون خداوندی اور دستورِ الٰہی کا ایک مظہر اور ثبوت ہے جس کو یہاں اس آیت کریمہ میں ذکر فرمایا گیا ہے۔ اور دیگر کتنے ہی ایسے حوادث و واقعات ہیں جو جگہ جگہ اور طرح طرح سے وقتاً فوقتاً رونما ہوتے رہتے ہیں اور اپنی زبان حال سے پکار پکار کر دنیا کو درس عبرت اور دعوت غور و فکر دیتے ہیں۔ لیکن غافل انسان پھر بھی نہ آنکھ کھولتا ہے نہ اس سے کوئی سبق لیتا ہے ۔ الا ماشاء اللہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو غفلت و لاپرواہی بیماریوں کی بیماری اور محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو عقل و نقل کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی گرفت و پکڑ سے کبھی بےخوفی اور لاپرواہی نہ برتی جائے ۔ اللہ تعالیٰ ہر طرح کے شرور و فتن اور مصائب و آلام سے ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ۔ اللہم فخذنا بنواصینا الی ما فیہ حبک والرضا -
Ayahs 7:99–101137 اللہ کی گرفت و پکڑ سے غفلت و لاپرواہی خساروں کا خسارہ ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا یہ لوگ بےخوف اور نڈر ہوگئے اس کی چال اور گرفت و پکڑ سے ؟ سو واضح رہے کہ اللہ کی چال اور اس کی گرفت وپگڑ سے بےخوف و نڈر نہیں ہوتے مگر وہی لوگ جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس سرکشوں کی ان سرکشیوں اور بدمستیوں پر اس قادر مطلق کی طرف سے جو برابر مہلت اور ڈھیل مل رہی ہے تو یہ دراصل اس کی طرف سے ایک ایسی کریمانہ روش ہے جس سے وہ ان کو اپنے کرم بےپایاں اور حلم بےنہایت کی بناء پر نوازتا ہے۔ تاکہ جس نے سنبھلنا سدھرنا ہو وہ سنبھل اور سدھر جائے۔ قبل اس سے کہ فرصت عمل اس کے ہاتھ سے نکل جائے۔ نہیں تو اپنا پیمانہ جرم لبریز کر کے وہ اپنے آخری انجام کو پہنچ جائے ۔ والعیاذ باللہ ۔ دراصل یہی وہ دھوکہ ہے جو ایسے برخود غلط لوگوں کو اس اکرم الاکرمین کی طرف سے اس کے اس قانون امہال کی بناء پر لگتا ہے۔ اسی لئے اس کو " مَکْرُ اللّٰہ " (اللہ کی چال) سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ سو اللہ تعالیٰ کی گرفت و پکڑ اور اسکے عذاب سے نڈر اور بےخوف ہونے کی بجائے ہمیشہ اس سے بچنے اور محفوظ رہنے کی فکر و کوشش میں رہنا چاہیئے کہ اسکی گرفت و پکڑ سے بےخوفی و لاپرواہی بڑا ہی ہولناک خسارہ ہے۔ اور اس کے مرتکب وہی لوگ ہوتے ہیں جو سخت خسارے والے ہوتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ عقل ونقل کا تقاضا ہے کہ بندہ ہمیشہ عذاب اور اس کے اسباب سے بچنے اور محفوظ رہنے کی فکر و کوشش میں رہے اور اپنے خالق ومالک سے اپنا تعلق صحیح رکھے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayah 7:102140 لوگوں کی اکثریت ہمیشہ بدکاروں ہی کی رہی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان کی اکثریت کو بدکار ہی پایا۔ پس عوام کی اکثریت کو معیارِ حق و صداقت نہیں قرار دیا جاسکتا جس طرح کہ نور حق و ہدایت سے محروم لوگوں کا کہنا اور ماننا ہے۔ اور اسی بناء پر دور حاضر میں جمہوریت کے بت کو پوجا جا رہا ہے کہ عوام کالانعام کی اکثریت کا ووٹ جس کو مل جائے وہی صحیح اور درست ہے۔ جو چاہے کرے خواہ اس کے فیصلے حق و صدق کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اسی بناء پر اہل بدعت جہلاء سادہ لوح عوام کی تائید کو اپنی حقانیت کی دلیل قرار دیتے ہیں، جبکہ قرآن و سنت کی تعلیمات مقدسہ اور نصوص کریمہ کی روشنی میں عوام الناس کی اکثریت سرے سے حق و صداقت کا کوئی معیار ہے ہی نہیں کہ عوام کی اکثریت جاہل ہے، فاسق ہے، بدکار ہے، بےعلم ہے، حق و ہدایت کے نور سے محروم و بےبہرہ ہے وغیرہ وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگوں کی ان کے اعراض اور ہٹ دھرمی کی بناء پر مت ایسی مار دی جاتی ہے کہ یہ حق و ہدایت کی سیدھی اور صاف بات کو ماننے اور قبول کرنے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتے اور ان کی اکثریت فاسقوں بدکاروں اور عہد شکنوں ہی کی رہتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 7:103141 اللہ کی نشانیوں سے منہ موڑنا ظلم ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان انبیاء و رسل کے بعد حضرت موسیٰ کو بھیجا اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف مگر انہوں نے بھی ان کے ساتھ ظلم ہی کیا کہ انہوں نے ان پر ایمان لانے کی بجائے ان کی تکذیب کی اور کفر و سرکشی کی راہ اپنائی ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اللہ تعالیٰ کی آیات اور اسکی نشانیوں سے انکار و اعراض کرنا ان کے ساتھ ظلم کرنا ہے۔ نیز ان سے منہ موڑنا اور انکی تکذیب کرنا خود اپنی جانوں پر ظلم کرنا ہے کہ ان کی تکذیب سے انسان نور حق و ہدایت سے محروم ہو کر گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوب جاتا ہے اور جگہ جگہ اوندھے منہ گرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان انبیاء و رسل کے بعد موسیٰ کو بھیجا اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔ مگر ان لوگوں نے ہماری ان نشانیوں سے اعراض و روگردانی برت کر اور ان کی تکذیب کر کے ان کے ساتھ ظلم کیا جس کے نتیجے میں وہ آخرکار غرقاب ہو کر ہمیشہ ہمیش کے عذاب میں مبتلا ہوگئے۔ سو تم دیکھ لو فساد مچانے والے آخر کار کیسے ہولناک انجام سے دو چار ہو کر رہے۔ اور ان نشانیوں سے مراد وہ معجزات بھی ہیں جو حضرت موسیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کو دکھائے اور توحید و رسالت اور آخرت کے بارے میں وہ فطری اور عقلی دلائل بھی جو حضرت موسیٰ و ہارون نے فرعون اور اس کے درباریوں کے سامنے پیش کئے جس سے مقصود حق کو واضح کرنا تھا۔
Ayah 7:104142 رسالت و پیغمبری کا شرف و اعزاز سب سے بڑا شرف واعزاز : سو حضرت موسیٰ نے فرعون کے سامنے اپنے تعارف کے طور پر یہی فرمایا کہ میں رسول ہوں پروردگار عالم کا۔ سو پیغمبر کی عظمت شان کا سب سے بڑا تعارف یہی ہے کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔ پس موسیٰ نے کہا کہ میں اسی خالق ومالک وحدہ لاشریک کا پیغام تمہیں پہنچا رہا ہوں۔ نہ اپنی طرف سے کچھ کہتا ہوں اور نہ ہی تم سے کسی طرح کا کوئی دنیوی مفاد چاہتا ہوں۔ سو پیغمبر کی عظمت شان کا سب سے بڑا پہلو اور اصل تعارف یہ ہے کہ وہ اللہ کا رسول اور اس کا فرستادہ ہوتا ہے۔ اس کی اطاعت و فرمانبرداری اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری ہی ہوتی ہے اور اس کی نافرمانی اللہ کی نافرمانی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اسی لیے حضرت موسیٰ نے فرعون کے سامنے اپنا یہی تعارف کرایا کہ میں پروردگار عالم کا رسول ہوں۔ " حقیق " کے اصل معنیٰ " لائق " کے ہیں۔ لیکن جب اس کا صلہ " علیٰ " آجائے، جیسا کہ یہاں ہے، تو اس وقت یہ لفظ حریص کے معنی کو بھی متضمن ہوجاتا ہے۔ سو اس اعتبار سے اس لفظ کے یہاں پر معنیٰ ہوں گے کہ میں اس بات کا اہل اور اس کا حریص ہوں کہ اللہ کے ذمے کوئی بات نہ لگاؤں مگر وہی جو کہ حق ہے۔ اور ظاہر ہے کہ جو خدا کا رسول اور سفیر ہوگا وہی سب سے زیادہ اس کا اہل اور اس کا حریص ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے پیغامات کی صحیح صحیح ترجمانی کرے اور کوئی من گھڑت بات اس کی طرف منسوب نہ کرے۔ کیونکہ اس کا علم ظن وتخمین پر نہیں بلکہ براہ راست وحی خداوندی اور اس کے خطاب پر مبنی ہوتا ہے۔ رسولوں کا کام تو پیغام خداوندی کو جوں کا توں پہنچانا ہوتا ہے اور بس ۔ علی نبینا وعلیہم الصلاۃ والسلام -
Ayahs 7:105–106143 معجزہ رسول کی صداقت کا ثبوت : سو موسیٰ نے ان سے کہا یقینا میں تمہارے پاس ایک روشن دلیل لے کر آیا ہوں تمہارے رب کی طرف سے۔ یعنی عصا و ید بیضاء کا وہ معجزہ جس سے قدرت نے آپ کو نوازا تھا اور جو آنجناب کی صداقت و حقانیت کو واضح کرنے کے لئے ایک عظیم الشان معجزئہ اور کافی و وافی نشانی اور دلیل تھی۔ سو معجزہ پیغمبر کی حقانیت و صداقت کی روشن دلیل اور واضح نشان ہوتا ہے لیکن معجزہ پیغمبر کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہوتا ہے۔ وہی اپنی مشیت ومرضی سے جس پیغمبر کے ہاتھ پر جو معجزہ جب اور جیسے چاہے ظاہر فرمائے۔ اسی لیے حضرت موسیٰ نے اس کی تصریح فرما دی۔ یعنی میں تمہارے اس رب کی طرف سے ایک روشن دلیل اور کھلا معجزہ لے کر آیا ہوں اور یہ ایک کھلا اور واضح ثبوت ہے اس بات کا کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور جو کچھ میں تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں وہ سب اس اللہ کی طرف سے ہے۔ اور اللہ کے پیغام کو ماننے میں خود تم ہی لوگوں کا بھلا اور فائدہ ہے اور اس سے اعراض اور روگردانی میں خود تمہارا ہی نقصان ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور میں تم لوگوں کا سچا اور حقیقی خیر خواہ ہوں کہ میں تمہیں ہلاکت و تباہی سے بچا کر دارین کی سعادت و سرخروئی کی راہ پر ڈالنا چاہتا ہوں۔ اس لیے تم لوگ میری بات مانو کہ اسی میں تمہارا بھلا ہے۔
144 موسیٰ کی طرف سے بنی اسرائیل کی رہائی کا مطالبہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت موسیٰ نے فرعون سے کہا کہ تو بھیج دے میرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔ سو حضرت موسیٰ کے مشن کا ایک اہم حصہ بنی اسرائیل کی فرعون کی غلامی سے آزادی و رہائی دلانا بھی تھا کہ وہ ان کو آزاد کردے اپنی غلامی سے۔ سو دعوت توحید کے علاوہ حضرت موسیٰ کے مشن کا یہ بھی ایک اہم حصہ تھا کہ صدیوں سے غلامی میں جکڑی ہوئی قوم بنی اسرائیل کو فرعون سے آزادی دلائی جائے، تاکہ وہ اس کی غلامی سے نجات پاکر واپس اپنے ملک میں جائیں اور وہاں جاکر آزادانہ طور پر اپنے رب کی عبادت و بندگی کریں۔ بہرکیف حضرت موسیٰ نے فرعون سے کہا کہ تو بنی اسرائیل کو اپنی قید اور غلامی سے رہا کر دے اور ان کو آزادی دے دے تاکہ یہ لوگ اپنی آبائی سرزمین ارض مقدسہ میں جابسیں۔ (ابن کثیر، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ اور دوسرا قول اس بارے میں یہ بھی ہے کہ تو ان کو آزادی دے دے تاکہ یہ تین دن کی مسافت کے فاصلے پر صحرا میں جا کر اپنے رب کی عبادت کریں۔ (محاسن التاویل وغیرہ) ۔
Ayahs 7:107–109145 عصائے موسیٰ کا سچ مچ کا ایک اژدہا بن جانا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب حضرت موسیٰ نے جب اللہ کے حکم سے اپنے عصا کو زمین پر ڈالا تو وہ یکایک ایک اژدہا بن گیا۔ یعنی سچ مچ کا اژدہا جیسا کہ معجزہ کی شان ہوتی ہے نہ کہ جادو اور شعبدہ کی طرح محض نظر بندی اور چابکدستی کا مظاہرہ۔ پھر وہ سانپ بھی ایسا تھا کہ جسامت کے لحاظ سے تو وہ ایک کھلم کھلا اژدہا { ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌ} تھا لیکن حرکت اور پھرتی کے اعتبار سے ایک باریک سانپ { جَآنٌّ }۔ بہرحال تھا وہ سانپ ہی جو کہ چلتا پھرتا تھا { حَیَّۃٌ تَسْعٰی }۔ بہرکیف وہ سچ مچ اور حقیقی معنوں میں سانپ بن گیا تھا جو سب کی آنکھوں کے سامنے دوڑتا پھرتا تھا۔ نظربندی وغیرہ نوعیت کی کسی چیز کا اس میں کوئی دخل نہیں تھا۔ اور ظاہر ہے کہ اس کھلے معجزے کو دیکھ کر فرعون کی پاؤں تلے سے زمین نکل گئی ہوگی۔ اور وہ حواس باختہ ہوگیا ہوگا۔ پھر اس کے بعد حضرت موسیٰ نے فرعون کو ید بیضا کا معجزہ دکھایا۔
Ayahs 7:110–112146 فرعون کی بوکھلاہٹ کا ایک نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب حضرت موسیٰ کے ان معجزوں کو دیکھنے کے بعد فرعون نے اپنے سرداروں اور درباریوں سے کہا کہ یقینا یہ شخص ایک بڑا ماہر جادوگر ہے جو اپنے جادو کے زور سے تم لوگوں کو تمہاری اس سرزمین سے نکال باہر کرنا چاہتا ہے۔ تو تم لوگ مجھے کیا حکم دیتے ہو ؟ اس بات سے فرعون کی بزدلی اور اس کی بوکھلاہٹ ملاحظہ ہو کہ کہاں تو وہ اپنے تئیں رب اعلیٰ ہونے کا دعویٰ کرتا تھا اور کہاں یہ کیفیت کہ وہ اپنے درباریوں سے کہتا ہے تم کیا حکم دیتے ہو ؟ اور یہ سب خوف اور ڈر اس موسیٰ (علیہ السلام) سے ہے جو کہ تنہا اور بظاہر بےیارو مددگار تھا۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حق کی قوت کتنی زبردست قوت ہوتی ہے اور نصرت و عنایت خداوندی کس قدر عظیم الشان عنایت ہوتی ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے اور ہمیشہ ہر حال میں اس سے سرشار رکھے ۔ آمین۔ بہرکیف حضرت موسیٰ کے معجزات دیکھنے کے بعد فرعون اور اس کے سرداروں کی حالت غیر ہوگئی۔ اس لئے اب وہ لوگ آپس میں موسیٰ کے مقابلے کے لئے مشورے کرنے لگے۔
Ayahs 7:113–115147 ابنائے دنیا کے نزدیک دنیا کا متاع فانی ہی سب کچھ : سو ان جادو گروں کی خست و دناءت ملاحظہ ہو کہ ایک طرف تو ان کے اپنے دین و مذہب اور ملک و ملت کے تحفظ و بقا کا مسئلہ ہے اور دوسری طرف اس نازک موقع پر بھی وہ سب سے پہلے اپنے ذاتی اور دنیوی مفاد کا مطالبہ کرتے ہیں۔ سو یہی حال ہوتا ہے ابنائے دنیا کا کہ ان کے نزدیک دنیا اور اس کا متاع فانی اور حطام زائل ہی سب کچھ ہوتا ہے۔ وہ اسی کیلئے جیتے اور اسی کیلئے مرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جبکہ مومن صادق کے نزدیک اصل چیز متاع ایمان و یقین اور فوز و فلاح آخرت ہے۔ دنیا تو ساری بھی اس کے سامنے ایک پرکاہ کی حیثیت بھی نہیں رکھتی۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ایمان و یقین کی یہ دولت انسان کو کیسی عظمتوں اور رفعتوں سے نوازتی ہے کہ جس متاع دنیا کی ایمان و یقین کی دولت سے محروم لوگ پوجا کرتے ہیں وہ اس مومن صادق کے نزدیک پرکاہ کی حیثیت بھی نہیں رکھتی ۔ اللہم فزدنا منہ وثبتنا علیہ یا ذا الجلال والاکرام ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ حب وہ جادوگر فرعون کی دعوت پر اس کے دربار میں پہنچ گئے تو وہ چھوٹتی ہی بولے کہ کیا ہمیں کوئی اجر بھی ملے گا اگر ہم غالب آگئے ؟ تو فرعون نے کہا کہ ہاں اور مزید یہ کہ تم لوگ ہمارے مقربین میں شامل ہوجاؤ گے۔
Ayah 7:116148 جادوگری فریب نظرکا سامان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے مسحور کردیا لوگوں کی نگاہوں کو۔ یعنی ان رسیوں اور لاٹھیوں کی حقیقت و ماہیت تبدیل نہیں ہوگئی تھی بلکہ ان لوگوں نے جادو کے زور سے صرف نظربندی کردی تھی جو کہ ضرب حق سے جاتی رہی۔ سو جادوگری محض ایک فریب نظر ہوتا ہے جو جادوگر اپنی چابکدستی سے دکھاتے ہیں ورنہ اصل میں اس میں کسی شئے کی حقیقت تبدیل نہیں ہوتی۔ سو ۔ { سَحَرُوْا اَعْیُنَ النَّاسِ } ۔ سے یہ بات نکلتی ہے کہ جادو خواہ کتنا ہی بڑا ہو اس سے کسی شئے کی حقیقت اور ماہیت نہیں بدلتی۔ بلکہ اس سے محض دیکھنے والوں کی آنکھوں اور ان کی قوت متخیلہ پر اثر پڑتا ہے جس سے انسان کو یوں خیال گزرنے لگتا ہے اور اس کو یوں محسوس ہونے اور دکھنے لگتا ہے کہ یہ چیز اسی طرح ہے جس طرح کہ جادوگر اس کو دکھانا چاہتا ہے۔ ورنہ وہ چیز حقیقت میں ویسی ہوتی نہیں۔ سو جادو کا تعلق صرف انسان کی نظر اور اس کے خیال سے ہوتا ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے فرمایا ۔ { یُخَیَّلُ اِلَیْہِ مِنْ سِحْرِھِمْ اَنَّہَا تَسْعٰی } ۔ (طٰہٓ: 66) ۔ یعنی ان لوگوں کی جادوگری کے زور سے موسیٰ کو یوں خیال ہونے لگا کہ وہ رسیاں اور لاٹھیاں ہلتی اور چلتی ہیں۔
149 جادوگری کا بڑا خوفناک مظاہرہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے مسحور کردیا لوگوں کی نگاہوں کو اور واقعۃ وہ ایک بڑا ہی ہولناک جادو لائے تھے۔ سو وہ جادوگری کا بڑا خوفناک مظاہرہ تھا جس سے انہوں نے خوفزدہ کردیا عام لوگوں کو اپنی جادوگری کے زور اور اپنی نظر بندی کی چابکدستی سے۔ اور ظاہر ہے جہاں تیس ہزار جادوگر جمع ہوں اور ان میں سے ہر ایک کے پاس ایک لاٹھی بھی ہو اور رسی بھی۔ (معارف وغیرہ) ۔ اور ان کے جادو کے کرشمے سے وہ سب رسیاں اور لاٹھیاں سانپ بن کر ایک پورے علاقے کو بھر دیں تو اس کی ہولناکی کا کیا کہنا۔ سو اس سے لوگوں نے خوفزدہ ہونا ہی تھا کہ اس جادو کا مقابلہ آخر کون کرسکے گا ؟ اور باطل کا حال یہی ہوتا ہے کہ وہ پانی کے جھاگ کی طرح اٹھتا اور ابھرتا ہے اور پانی کے جوہر حیات آفرین پر چھا کر اس کو اپنے نیچے لے لیتا ہے۔ لیکن پھر کچھ ہی بعد وہ بیٹھ کر اور مٹ کر نیست و نابود ہوجاتا ہے اور پانی کا جوہر حیات آفریں لوگوں کی نفع رسانی کے لئے جوں کا توں باقی رہتا ہے اور دنیا کو طرح طرح کے حیات آفریں اور سدا بہار فائدوں سے نوازتا ہے۔ سو اصل اور حقیقی غلبہ حق ہی کا مقدر ہے اور اس کے مقابلے میں باطل ہے ہی مٹنے والی چیز۔ والحمد للہ جل وعلا -
Ayahs 7:117–119150 غلبہ حق اور شکست باطل کا ظہور : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے موسیٰ سے بذریعہ وحی کہا کہ ڈال دو تم اپنے عصا کو زمین پر۔ سو عصائے موسیٰ نے زمین پر پڑتے ہی نگلنا اور ہڑپ کرنا شروع کردیا اس سارے سو انگ کو جو ان لوگوں نے اپنے جادو کے کرشمے اور کرتب سے رچایا تھا اور اس طرح وہ ذلت آمیز شکست سے دو چار ہوئے اور ان کو منہ کی کھانی پڑی اور ان کی دوڑ دھوپ اور تگ و دو کا نتیجہ خود ان ہی کے خلاف نکلا۔ حق غالب آیا اور باطل مغلوب ہوا۔ اور غلبہ حق سب کے سامنے ظاہر اور واضح ہوگیا۔ اور حق کیخلاف قائم کیا جانے والا وہ محاذ حق کی سربلندی کیلئے ایسا بڑا عظیم الشان ذریعہ بن گیا ۔ فالحمد للہ رب العالمین ۔ عصائے موسیٰ کے جادوگروں کے اس سو انگ کو نگلنے کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اس نے واقعتا اور بالفعل ان کو نگل لیا۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان سے جادوگری کا اثر ختم ہوگیا اور وہ سب چیزیں اپنی اصل حالت میں آگئیں۔ اور اس طرح اصل حقیقت سب لوگوں کے سامنے پوری طرح واضح ہوگئی ۔ والحمد للہ جل وعلا -