Ayah 7:3239 تحلیل و تحریم اللہ تعالیٰ ہی کا حق ہے : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کی پیدا کردہ پاکیزہ چیزوں کو حرام قرار دینے کا حق کسی کو نہیں۔ سو استفہام انکاری کے طور پر ارشاد فرمایا کہ کس نے حرام کیا اللہ کی پیدا کردہ زینت اور پاکیزہ چیزوں کو۔ یعنی کسی کو اس کا حق نہیں پہنچتا، کہ وہ اللہ کی پیدا کی ہوئی پاکیزہ چیزوں کو ازخود اپنی طرف سے حرام قرار دے۔ بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ پیدا کوئی کرے اور تحریم و تحلیل کا فیصلہ کوئی اور کرے ؟ پس از خود اللہ پاک کی پیدا کردہ ان پاکیزہ چیزوں کو حرام قرار دینا سخت جرم اور اللہ پاک پر افتراء باندھنا اور جھوٹ گھڑنا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بلکہ عقل سلیم اور نقل صحیح کا تقاضا یہ ہے کہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی پیدا کردہ اور عطاء فرمودہ ان طیبات اور پاکیزہ چیزوں کو استعمال کرکے اور ان سے صحیح طور پر فائدہ اٹھا کر اپنے خالق ومالک کا دل و جان سے شکر ادا کیا جائے کہ اس طرح یہ نعمتیں انسان کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ بن جاتی ہیں، جیسا کہ حضرت نبی معصوم نے فرمایا۔ یعنی " کھا کر شکر ادا کرنے والا ایسے ہوتا ہے جیسے روزہ رکھ کر صبر کرنے والا " ۔ سبحان اللہ ۔ کیسی انقلاب آفریں تعلیمات ہیں اس دین حنیف کی جو خالص دنیاوی اور مادی امور کو بھی دین اور نیکی بنا دیتی ہیں ۔ فالحمد للہ رب العالمین ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کی پیدا کردہ وہ زینت جو اس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا فرمائی ہے اور وہ پاکیزہ چیزیں جن کو اس نے اپنی رحمت و عنایت سے وجود بخشا ہے ان کو حرام قرار دینے کا حق کسی کو نہیں۔ یہ سب کچھ اس واہب مطلق نے اپنے فضل و کرم سے اپنے بندوں ہی کے لیے پیدا فرمایا ہے۔
40 پاکیزہ چیزیں دراصل اہل ایمان ہی کا حق ہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کہو کہ ایسی پاکیزہ چیزیں تو اس دنیاوی زندگی میں بھی اہل ایمان ہی کے لیے ہیں۔ یعنی اصل حق انہی کا ہے کہ وہ ان پاکیزہ چیزوں کو استعمال کریں اور ان سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور کافر و مشرک تو محض ان اہل ایمان کے طفیل میں ان سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جیسا کہ جانوروں کو انسانوں کے طفیل مل رہا ہے۔ اور کافر تو جانوروں سے بھی بدتر مخلوق ہیں { اُولٓئِکَ کَالاَنْعَامِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّ } اور جیسا کہ دوسرے مقام پر ان کو " شرُّ الْبَریّۃ " یعنی " بدترین مخلوق " فرمایا گیا۔ اور صاف وصریح طور پر اور حصر کے کلمات کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے { اُوْلٓئِکَ ھُمْ شَرُّالْبَرِیَّۃ } (البینتہ :6) ۔ سو دنیا کے اس دار الامتحان میں اگر ان کفار و مشرکین کو ان طیبات سے استفادے کا موقع ملتا ہے تو اہل ایمان کی برکت سے۔ ورنہ وہ خود اس کے حقدار نہیں کہ وہ اس واہب مطلق کے باغی اور سرکش ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی تمام نعمتیں اس دنیا میں بھی اصلاً اہل ایمان ہی کا حق ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے دنیا میں کافروں کو بھی ان میں شریک کردیا۔ کہ یہ سب کچھ عارضی اور فانی ہے۔
41 اخروی نعمتیں خالصتاً اہل ایمان کیلئے ہونگی : اور کافر وہاں طفیلی طور پر بھی ان چیزوں میں ان کے شریک نہیں ہو سکیں گے کہ وہ جہاں دنیا کی طرح " دارالعمل " اور " دارالامتحان " نہیں ہوگا بلکہ وہ دارالجزاء اور تفریق و امتیاز کا جہاں ہوگا۔ جہاں اہل کفر و شرک اپنے کفر و شرک کی بناء پر دوزخ کی آتش سوزاں کا ایندھن ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور وہاں اہل ایمان ہی ان نعمتوں سے سرفراز ہوں گے۔ سو آخرت میں تمام نعمتیں سو فیصد اہل ایمان ہی کا حصہ اور ان ہی کا حق ہونگی۔ کافروں کو وہاں پر ان میں سے کچھ بھی نہیں ملے گا۔ البتہ دنیا میں انہوں نے جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے طرح طرح کے فائدے اٹھائے تھے اور اپنے کفر و شرک اور بغاوت و سرکشی کے باوجود اٹھائے تھے اس کی جوابدہی بہرحال ان کو وہاں کے اس " دارالحساب " میں کرنا ہوگی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ایمان و یقین دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ ہے ۔ والحمد للہ -
Ayah 7:3342 شرک کیلئے کوئی سند ہو ہی نہیں سکتی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ میرے رب نے اس بات کو بھی حرام ٹھہرایا کہ تم لوگ اللہ کے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک ٹھہراؤ جس کے لیے اللہ نے کوئی سند نہیں اتاری۔ اور ایسی کوئی چیز ہے ہی نہیں جس کے لئے اس کا شریک بننے کی کوئی سند ممکن ہو سکے ۔ { وَمَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہاً اٰخَرَ لَا بُرْہَانَ لَہٗ بِہ } ۔ پس اللہ پاک کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک کرنا کسی بھی طرح جائز نہیں ہوسکتا۔ اور اس کیلئے جو لوگ کچھ حجت بازیاں کرتے ہیں وہ محض ان کے اوہام و ظنون اور خواہشات کے پلندے ہوتے ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَہْوَی الْاَنْفَسُ } ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جہاں تک خدائے واحد کو ماننے کا تعلق ہے وہ تو عقل و فطرت کا ایک بدیہی تقاضا ہے اور مشرک بھی اس کو مانتا ہے۔ یہ بات کہ خدا کا کوئی شریک بھی ہے تو اس کے لئے دلیل کی ضرورت ہے۔ اور دلیل بھی ایسی جو برھان اور حجت قاطع کی حیثیت رکھتی ہو۔ مگر وہ کہاں اور کیسے ؟ جب کہ اس وحدہ لاشریک کا کوئی شریک نہ واقع میں ہے اور نہ ممکن ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس لیے مشرک لوگوں کا ارتکاب شرک ایک نہایت سنگین جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -
Ayah 7:3443 ہر امت کیلئے ایک مدت مقرر ہے : سو اس ارشاد سے تصریح فرما دی گئی کہ ہر امت کے لیے ایک مدت مقرر ہے۔ یعنی عذاب کی اور موت کی مدت۔ پس کفار و مشرکین اور معاندین و منکرین پر اگر فوری عذاب نہیں آتا تو اس سے ان کو دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیئے کہ وہ اپنے وقت پر بہرحال آ کر رہے گا۔ اور ایسوں کی سلامتی کی راہ یہ ہے کہ اس عذاب کیلئے جلدی مچانے یا اس سے نڈر اور بےفکر ہونے کی بجائے اس سے بچنے کی فکر و کوشش کریں۔ ورنہ ہمیشہ کیلئے پچھتانا پڑے گا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اس ضمن میں یہ بنیادی اور اصولی بات یاد رکھنی چاہئے کہ افراد اوراقوام کے معاملے میں خداوند قدوس نے اجل کے پیمانے الگ الگ رکھے ہیں۔ اَفراد کے پیمانے تو سالوں، مہینوں، دنوں اور گھنٹوں منٹوں کے حساب سے پورے ہوتے ہیں۔ جب وہ پورے ہوجاتے ہیں تو فرد ختم ہوجاتا ہے۔ لیکن قوموں اور امتوں کا معاملہ اس سے مختلف ہے کہ ان کا حساب ان کے ایمانی اور اخلاقی زوال سے ہوتا ہے۔ سو جب کوئی قوم اخلاقی فساد وزوال کی اس خاص حد تک پہنچ جاتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جو قدرت کی طرف سے اس کے لئے مقرر ہوتی ہے، تو اس کے سفینے کو غرق کردیا جاتا ہے اور وہ اپنے کیے کرائے کے انجام کو پہنچ کر رہتی ہیں ۔ والعیاذ باللہ -
Ayahs 7:35–3644 اللہ کے رسولوں کی بعثت جنس بشر ہی سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اے آدم کی اولاد اگر تمہارے پاس ایسے رسول آئیں جو خود تم ہی میں سے ہوں۔ یعنی وہ جنس بشر میں سے اور بشر ہوں۔ تاکہ تم لوگ زندگی کے ہر دائرے میں انکی اتباع اور پیروی کرسکو۔ اور ان کے اسوئہ اور نمونہ کو اپنا سکو۔ سو رسول کا بشر اور جنس بشر میں سے ہونا عقل و فطرت کا تقاضا اور حکمت و عنایتِ الٰہی کا مظہر ہے کہ اسی سے انسانوں پر حجت قائم ہوسکتی ہے اور ان کو اسوئہ حسنہ اور قدوئہ مُثلیٰ میسر آسکتا ہے۔ اور ایسی ہی صورت میں وہ اللہ کے رسولوں کی اتباع اور پیروی کے شرف سے مشرف ہوسکتے ہیں۔ (المراغی وغیرہ) ۔ مگر اہل بدعت ہیں کہ بشریت رسول کی اس حقیقت واقعیہ کو ماننے اور تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں۔ اور اس کیلئے وہ قرآن و سنت کی نصوص کریمہ تک میں تحریف سے کام لیتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔
45 تقویٰ و اصلاح وسیلہ فوز و فلاح : سو اس سے غم اور اندیشہ سے بچنے کا بےمثال نسخہ پیش فرما دیا گیا ہے جو کہ عبارت ہے تقویٰ و اصلاح سے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ رسولوں کی بعثت و تشریف آوری کے بعد جس نے تقویٰ اختیار کیا اور اس نے اپنی اصلاح کرلی تو ایسوں پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔ پس رسولوں کی بات ماننے اور ان کی اتباع و اطاعت میں خود تمہارا اپنا ہی بھلا ہے کہ اس سے تمہیں غم اور اندیشہ سے رہائی اور حفاظت کا وہ نسخہ میسر آئے گا جسکی دوسری کوئی نظیر و مثال نہ کبھی ہوئی ہے نہ ہوسکتی ہے۔ اور غم و اندیشہ سے اس رہائی اور آزادی کا آخری اور کامل ظہور اگرچہ آخرت کے اس جہاں میں ہوگا جو کہ کشف حقائق اور ظہور نتائج کا جہاں ہوگا، لیکن مومن صادق اپنے ایمان و یقین کی برکت سے اس دنیا میں اس سے بڑی حد تک مستفید و فیضیاب ہوتا ہے کہ اس سے ایک طرف تو انسان سکون قلب کی دولت سے سرفراز و سرشار ہوتا ہے اور دوسری طرف اس کو اس سے حیات طیبہ " پاکیزہ زندگی " سے سرفرازی نصیب ہوتی ہے۔ سو اتباع رسول دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ پس شیطان اور اس کی ذریت کی فتنہ سامانیوں اور شر انگیزیوں سے بچنے اور محفوظ رہنے کا طریقہ یہی ہے کہ اللہ کے بھیجے ہوئے رسولوں کی صدق دل سے پیروی کی جائے۔ اور ان کی تعلیمات کو صدق دل سے اپنایا جائے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayahs 7:37–3846 دنیا میں اہل باطل کو بھی ان کا حصہ ملتا رہے گا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ظالموں کو نوشتہ تقدیر کے مطابق ان کا ملتا رہے گا۔ عمر اور رزق وغیرہ کا جو بھی حصہ ان کے مقدر میں لکھا ہے وہ ان کو ملتا رہے گا۔ ( صفوۃ، المراغی وغیرہ) ۔ کہ دنیا کے اس " دارالامتحان " کا متقضٰی یہی ہے۔ سو ایسے لوگ انہی مشاغل میں الجھے اور انہی بھول بھلیوں میں پھنسے رہیں گے۔ یہاں تک کہ فرصت عمر ختم ہوجائے گی اور فرشتے آکر ان کا رشتہ حیات کاٹ ڈالیں گے اور انکو انکے اپنے کفر و انکار اور تکذیب و افتراء کی بناء پر ہمیشہ کیلئے عذاب میں دھر لیا جائے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ پاک کسی کے کفر و انکار کی بناء پر اس کی زندگی کو چھین نہیں لیتا بلکہ دنیاوی زندگی کے جو دن ان کے نوشتہ تقدیر میں لکھے ہوئے ہیں وہ یہ پورے کریں گے۔ اور یہ اسی وحدہ لا شریک کا شان حلم وکرم ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔
47 کفار و مشرکین کا وقت نزع کا حال : سو نزع کے وقت فرشتوں کا اہل باطل سے یہ خطاب ان کی توبیخ و تقریع کیلئے اور ان کی تعجیز و تخجیل کے طور پر ہوگا۔ سو یہ خدائے رحمن و رحیم کی رحمت و عنایت کا ایک عظیم الشان مظہر ہے کہ موت کے وقت اور اس کے بعد کے ان تمام حالات کو اس نے اس قدر صراحت و وضاحت کے ساتھ پیشگی بیان فرما دیا۔ تاکہ جس نے بچنا ہو وہ بچ جائے ورنہ وہ اپنے ہولناک انجام کیلئے تیار ہوجائے { لِیَہْلِکَ مَنْ ھَلَکَ عَنْ بَّیِّنَۃٍ وَیَحْیٰی مَنْ حَیَّ عَنْ بَّیِّنَۃٍ }۔ سو اس وقت ایسے لوگوں کی یاس و حسرت کی نہ کوئی حد ہوگی نہ انتہا۔ مگر بےوقت کے اس پچھتاوے سے ان کو کوئی فائدہ نہ ہوگا سوائے انکی آتش یاس و حسرت میں اضافے کے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے کفار و مشرکین وغیرہ تمام اہل باطل کے عجز اور ان کے خجل کو واضح فرما دیا گیا تاکہ جس نے بچنا ہو بچ جائے ۔ وباللہ التوفیق ۔ یہاں پر یہ امر بھی واضح رہے کہ { رُسُلُنَا } کے صیغہ جمع سے صاف کردیا گیا کہ جان قبض کرنے والا فرشتہ ایک نہیں ہوتا بلکہ وہ کئی ہوتے ہیں۔ پس اس سے اہل بدعت کا ملک الموت کے ہر جگہ موجود ہونے سے حاضر و ناظر کے اپنے شرکیہ عقیدے پر استدلال کرنا باطل و مردود ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس سے کفار و مشرکین کے وقت نزع کے حال بد کو پیش فرمایا گیا۔
48 مشرکوں کے موت کے وقت کا عجز اور اقرار کفر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ موت کے وقت مشرکوں کے وہ تمام خودساختہ حاجت روا و مشکل کشا گم ہوجائیں گے جن کو وہ پکارا کرتے تھے۔ ان کو حاجت روا و مشکل کشا جان کر۔ اور کلمہ " ما " عام ہے جو ہر معبود ما سوی اللہ کو شامل ہے۔ خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ پس اہل بدعت اور ان کے بڑے تحریف پسندوں کا یہ کہنا باطل و مردود ہے کہ اس سے مراد صرف بت ہیں۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ موت اور آخرت کے اس ہولناک وقت میں مشرکوں کے ایسے تمام خودساختہ حاجت روا و مشکل کشا گم ہوجائیں گے اور ان میں سے کوئی بھی اس مشکل اور آڑے وقت میں ان کے کچھ بھی کام نہ آسکے گا کہ وہ سب کچھ ان لوگوں کا اپنا من گھڑت تھا۔ جس کی نہ کوئی اصل اور حقیقت تھی اور نہ کوئی اساس و بنیاد۔ سو اس موقع پر ایسے لوگ خود کہیں گے { ضَلُّوْا عَنَّا } کہ " وہ سب خود ساختہ اور من گھڑت معبود اور مشکل کشا وحاجت روا ہم سے کھو گئے "۔ سو اس سے ان کی یاس و حسرت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔
49 منکروں کا اپنے کفر کا اقرار و اعتراف : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اس وقت یہ لوگ اپنے کفر کا اس قدر صاف وصریح اور برملا اعلان و اقرار کریں گے مگر اس سے ان کو یاس و حسرت میں اضافہ کے سوا اور کچھ حاصل نہ ہوگا۔ پس ان کے لئے اس ارشاد ربانی میں بھاری درس ہے کہ وہ آج اس کی فکر کرلیں۔ اپنی روش کی اصلاح کرلیں اور کفر و انکار اور شرک کو ترک کر کے راہ حق و صواب کو اپنا لیں قبل اس سے کہ فرصت حیات ان کے ہاتھ سے نکل جائے اور ان کو ہمیشہ کیلئے پچھتانا پڑے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس کتاب حکیم کا دنیا پر کس قدر احسان ہے کہ جن عنایات اور تنبیہات سے یہ کتاب حکیم دنیا کو نوازتی ہے ان کے جاننے کا دوسرا کوئی ذریعہ ممکن ہی نہیں۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اس وقت وہ لوگ اپنے کفر و شرک کی گواہی خود اپنی زبان سے دیں گے اور صاف وصریح طور پر کہیں گے { اِنَّھُمْ کَانُوْا کٰفِرِیْنَ } کہ " وہ پکے کافر اور منکر تھے "۔ سو ان کی اپنی اس صاف وصریح گواہی کے بعد کسی اور گواہی کی ضرورت باقی نہیں رہے گی لیکن اس اقرار و اعتراف سے ان کو کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوگا کہ اس کا وقت گزر چکا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 7:3953 گروؤں کا اپنے چیلوں کو جواب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ دوزخ میں پڑے وہ گرو اپنے چیلوں سے کہیں گے کہ تمہارے اس مطالبے سے تمہیں کوئی فائدہ نہ ہوا بلکہ ہم تم برابر ہی ہوئے۔ پھر تم کو ہمارے خلاف اس شکایت سے کیا ملا ؟ اس طرح وہ بڑے گرو اپنے چیلوں کی تذلیل کریں گے اور ان کی تذلیل سے وہ خوش ہوں گے جنکی حمایت و ہمدردی کے وہ دم بھرا کرتے تھے۔ سو اس روز ان کے یہ تمام رشتے کٹ جائیں گے اور ان کی باہمی دوستیاں دشمنیوں میں بدل جائیں گی۔ بہرکیف اس طرح وہ گرو ان سے کہیں گے کہ اگر ہم نے تمہارے لئے بری مثال قائم کی تھی تو تم نے کونسی کوئی اچھی مثال قائم کی تھی ؟۔ تم بھی تو برائی میں ہمارے معاون و مددگار اور ہمارے چیلے چانٹے بنے ہوئے تھے۔ بلکہ تم لوگوں نے ہی ہمارے دماغ اس درجہ خراب کیے تھے۔
Ayah 7:4054 منکروں کے لئے دائمی محرومی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ منکروں کے لیے آسمان کے دروازے کبھی نہیں کھولے جائیں گے اور اس طرح یہ لوگ دائمی محرومی کا شکار ہوں گے۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کی آیتوں کو جھٹلانے والوں اور منکروں کیلئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے ان کے اعمال اور ان کی دعاء کے رفع و قبول کے لئے۔ ، کہ یہ موقوف ہے ایمان و اخلاص پر۔ اور اس سے یہ لوگ محروم ہیں۔ اور نہ کھولے جائیں گے ان کی روحوں کے لئے کہ ُ ان کا ٹھکانہ " علیین " نہیں " سجین " ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کامیابی کی بنیادی شرط اور اولین اساس ایمان و یقین کی دولت سے سرفرازی ہے۔ اور اس سے محرومی دارین کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ کمال ایمان سے سرفراز و سرشار فرمائے اور ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر مستقیم اور گامزن رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
55 منکروں کا جنت میں داخل ہونا ممکن نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اور تعلیق المحال کے اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگ جنت میں داخل نہیں ہو سکیں گے یہاں تک کہ اونٹ گھس جائے سوئی کے ناکے میں۔ اور ظاہر ہے کہ اونٹ کا سوئی کے ناکے میں داخل ہونا ناممکن ہے۔ پس ان بدبختوں کا جنت میں داخل ہونا بھی ناممکن و محال ہے کہ جو محال پر معلق ہوتا ہے وہ بھی ناممکن اور محال ہوتا ہے۔ سو ایسوں کو ہمیشہ کیلئے دوزخ میں رہنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو جس طرح ایمان و یقین دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے اسی طرح کفر و انکار دارین کی محرومی کا سبب اور باعث ہلاکت ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اسی حقیقت کو انجیل میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے " اور یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ اونٹ کا سوئی کے ناکے سے نکل جانا اس سے آسان ہے کہ دولتمند خدا کی بادشاہی میں داخل ہو "۔ (متی :91، 23 ۔ 24) ۔ سو کفر وانکار دارین کی ہلاکت و تباہی کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 7:4156 ظالموں کے لئے جہنم کا بچھونا اور اسی کا اوڑھنا ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے لیے جہنم کا بچھونا ہوگا اور اوپر سے اسی کا اوڑھنا۔ اور ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ظالموں کو۔ سو ظلم کا بدلہ دوزخ کا ہولناک عذاب ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے بھرپور طریقے سے پورے ہوں اور ہر کسی کو اس کے کئے کا پورا بدلہ ملے۔ اور آیات خداوندی کی تکذیب اور ان کے انکار کے سنگین جرم کی سنگینی کا تقاضا یہی ہے کہ ایسوں کو دوزخ کے ایسے ہولناک عذاب میں جھونکا جائے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے ظالموں کے لئے بچھونا بھی جہنم کا ہوگا اور اوڑھنا بھی جہنم کا۔ یعنی ان کے نیچے بھی دوزخ کی آگ ہوگی اور اوپر بھی دوزخ کی آگ ہوگی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو جن کفار و مشرکین اور باطل پرستوں کا انجام یہ ہونے والا ہے، ان کو اگر دنیا کی اس عارضی اور فانی زندگی میں دنیا بھر کی دولت بھی مل جائے اور ان کی اگر ساری عمر بھی کرسی اقتدار پر گزر جائے تو بھی ان کو کیا ملا ؟ اور ان سے بڑھ کر بدبخت اور کون ہوسکتا ہے کہ ان کا انجام یہ ہونے والا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اصل دولت ایمان و یقین کی دولت ہے ۔ اَللّٰھُمَّ زِدْنا مِنْہُ وَثَبِّتْنَا عَلَیْہِ ۔ اللہ تعالیٰ کفر وانکار کے ہر شائبہ سے محفوظ اور ہمیشہ راہ حق پر گامزن رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 7:4257 اللہ کسی پر بھی اسکی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا : سو ارشاد فرمایا گیا اور ایک قاعدئہ کلیہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ہم کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے۔ سو دین متین کا کوئی بھی حکم وارشاد ایسا نہیں ہوسکتا جو انسان کی طاقت اور اس کی قدرت سے باہر ہو۔ پس اپنی طرف سے پوری کوشش کے باوجود جو کمی اور کوتاہی کسی کے عمل میں رہ جائے گی اسے ہم اپنے کرم سے معاف کردیں گے۔ نیز یہ کہ ہم اپنے بندوں کو ان کی طاقت سے زیادہ کوئی حکم دیتے ہی نہیں۔ اس لئے ہمارا کوئی حکم ایسا ہو ہی نہیں سکتا جو انسانی طاقت سے باہر ہو۔ اس لیے کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ اسلام کے احکام اور دین متین کا کوئی بھی ارشاد اس کے بس سے باہر ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا کہ جو لوگ صدق دل سے ایمان لائے ہوں گے اور اس کے مطابق انہوں نے عمل بھی نیک کئے ہوں گے اور اپنے بس کی حد تک انہوں نے اس میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہوگی وہ جنت سے سرفراز ہوں گے جہاں ان کو ہمیشہ رہنا نصیب ہوگا ۔ وباللہ التوفیق -
Ayahs 7:43–4458 اہل جنت کے دلوں کی صفائی کے اہتمام کا ذکر وبیان : سو اس ارشاد میں تصریح فرما دی گئی کہ اہل جنت کے دلوں سے ہر طرح کی کدورت کو نکال دیا جائے گا۔ یعنی ہر ایسی رنجش و کدورت کو جو دنیا میں ان کے دلوں میں پیدا ہوئی ہوگی۔ سو وہ سب صاف کردی جائے گی تاکہ جنت کی اس آرام و راحت کی زندگی میں ان کے لئے کسی تنگی اور تکلیف کا کوئی شائبہ باقی نہ رہے۔ حضرت علی ۔ ؓ ۔ سے مروی ہے کہ آپ ؓ نے فرمایا کہ انشاء اللہ میں، عثمان اور طلحہ ۔ ؓ اجمعین ۔ انہی لوگوں میں سے ہوں گے (جامع البیان، مراغی وغیرہ) ۔ بعض روایات میں وارد ہے کہ اہل جنت جب جنت کی طرف جائیں گے تو جنت کے دروازے کے پاس ایک درخت پائیں گے جس کے نیچے دو چشمے جاری ہوں گے، جن میں سے ایک سے وہ پانی پئیں گے جس سے ان کے سینوں کی سب کدورت دور ہوجائے گی۔ اور یہی وہ شراب طہور ہے جس سے ان خوش نصیبوں کو نوازا جائے گا۔ اور اسی کا ذکر اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے۔ اور دوسرے چشمے سے وہ نہائیں گے جس سے ان کے چہروں پر خاص تروتازگی آجائے گی۔ (ابن کثیر، روح المعانی اور معارف القرآن وغیرہ) ۔ اللہ اپنے کرم سے نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔ سو اس کے نتیجے میں اہل جنت وہاں پر آپس میں ایک دوسرے سے پورے تپاک اور محبت سے ملیں گے۔ ایک دوسرے کا خیر مقدم کریں گے اور آمنے سامنے بیٹھ کر آپس میں تبادلہ مہر و محبت کریں گے۔ ان کے درمیان کسی طرح کی رنجش و کدورت کا کوئی شائبہ تک نہ ہوگا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { عَلٰی سُرُرٍمُّتَقَابِلِیْنَ } ۔ سو دوزخیوں کے درمیان لعنت بازی اور جو تم پیزاری کا عالم تو وہ ہوگا جس کا ذکر اوپر فرمایا گیا ہے اور جنتیوں کی شان یہ ہوگی کہ جس کا ذکر وبیان اب یہاں فرمایا جا رہا ہے ۔ والحمد للہ رب العالمین -
59 اہل جنت کی شان حمد و شکر کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جنت کی عظیم الشان نعمتوں سے سرفرازی کے بعد وہ کہیں گے کہ تعریف و شکر اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں یہاں تک پہنچایا۔ ورنہ ہم ایسے نہ تھے کہ خود یہاں پہنچ جاتے اگر اللہ ہماری راہنمائی نہ فرماتا۔ سو یہ خوش نصیب اپنے رب ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کی نعمتوں کے شکر اور تسلیم و رضا کی جس نعمت سے دنیا میں سرفراز و سرشار تھے وہ وہاں بھی انہیں نصیب ہوگی۔ اور علی وجہ التمام والکمال نصیب ہوگی۔ اس طرح وہاں پر یہ حضرات سرور بالائے سرور سے مشرف و محظوظ ہوں گے ۔ جَعَلَنَا اللّٰہُ مِنْہُمْ بِمَحْضِ مَنِّہٖ وَکَرمِہٖ وَھُوَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ وَاَکْرَمُ الاَکْرَمِیْنَ ۔ سو رب تعالیٰ کی حمد وثناء اور اس واہب مطلق کا شکر وسپاس اہل جنت کا خاص وصف و امتیاز ہوگا ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔ سو جس طرح کوئی مسافر طویل اور کٹھن سفر طے کر کے اپنی منزل مقصود پر پہنچ کر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے، اسی طرح یہ خوش نصیب جنت سے سرفرازی کے بعد اپنے خالق ومالک کے فضل و کرم اور اس کے انعام پر اس طرح اس کی حمد و ثنا سے رطب اللسان ہوجائیں گے کہ اسی کی ہدایت و توفیق اور فضل و کرم سے ہم یہاں پہنچ سکے۔ اور جنت کی ان عظیم الشان اور بےمثال نعمتوں سے سرفراز ہو سکے۔ ورنہ ہم اس قابل کہاں تھے کہ از خود یہاں پہنچ جاتے ۔ فالحمد للہ رب العالمین -
60 اہل جنت کیلئے جنت کے وارث بنا دیئے جانے کا مژدہ جانفزا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اہل جنت کو پکار کر اس عظیم الشان اور بےمثال خوشخبری سے نوازا جائے گا کہ (خوش نصیبو) تم کو وارث بنادیا گیا اس جنت کا تمہارے ان اعمال کی بنا پر تم لوگ کرتے رہے تھے اپنی دنیاوی زندگی میں۔ پس نہ تو تمہیں یہاں سے کبھی نکالا جائے گا اور نہ ہی تم سے یہ نعمتیں کبھی چھینی جائیں گی، جیسا کہ دنیا میں بالعموم ہوتا تھا ۔ سبحان اللہ العظیم وبحمدہ ۔ فَشَرِّفْنَا بِہَا یَا رَبَّنَا بِمَحْضِ مَنِّکَ وَکَرَمِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ۔ اور جنت کے وارث بنا دیئے جانے کے اس مژدہ جانفزا میں کئی اہم درس ہیں۔ ایک تو یہی کہ یہ تمہاری میراث بنادی گئی، تم سے اس کو کوئی چھین نہیں سکتا۔ یہ تمہارے پاس ایسے ہی پکے اور پختہ طور پر رہے گی جس طرح کسی کی میراث اس کے پاس رہتی ہے کہ ذرائعِ ملکیت میں سب سے مضبوط اور پختہ ذریعہ وراثت ہی ہے۔ دوسرا درس اس میں یہ ہے کہ یہ تمہارے باپ آدم کی میراث ہے جو اب تمہیں اپنے ایمان و عمل کے بدلے میں دی جارہی ہے۔ اور تیسرا درس یہ کہ جس طرح میراث انسان کو اپنے عمل کے بدلے میں نہیں ملتی اسی طرح یہ جنت تمہارے عمل کا بدلہ نہیں ہے بلکہ تمہارے رب مہربان کا عطیہ و احسان ہے۔ سو اس طرح اہل جنت کو دخول جنت کے بعد ابدی سعادت اور دائمی راحت کی خوشخبری سے نوازا جائے گا۔ اس حقیقت کو دوسری مختلف نصوص میں طرح طرح سے واضح فرمایا گیا ہے۔ چناچہ صحیح مسلم وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ۔ ؓ ۔ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے تو ایک پکارنے والا پکار کر کہے گا کہ اے جنت والو، تمہارے لئے یہ خوشخبری ہے کہ اب تم ہمیشہ زندہ رہو گے۔ کبھی تم کو موت نہیں آئے گی۔ اور اب تم ہمیشہ سے صحت سے رہو گے۔ کبھی تمہیں کوئی بیماری لاحق نہیں ہوگی۔ اور اب تم ہمیشہ جوان رہو گے۔ کبھی تمہیں بڑھاپا نہیں آئیگا۔ اور اب تم ہمیشہ عیش و آرام میں رہو گے۔ کبھی تم کو کوئی تکلیف پیش نہیں آئیگی۔ پھر آپ ﷺ نے اسی آیت کریمہ کا حوالہ دیا { وَنُوْدُوْا اَنْ تِلْکُمُ الْجَنَّۃُ } الآیہ (صحیح مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا و اہلھا، حدیث نمبر 22) ۔ سو یہ ہے اصل اور حقیقی کامیابی جس کو اصل مقصود اور زندگی کا نصب العین بنانا چاہیے ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔
61 انسان کا عمل جنت کا محض ذریعہ و سبب : سو ارشاد ہوگا کہ تم کو اس کا وارث بنادیا گیا تمہارے اعمال کے بدلے میں کہ تمہارے وہی اعمال اس کا سبب بنے۔ اور یہ بھی درحقیقت اس اکرم الاکرمین کے کرم کا ایک عظیم الشان مظہر ہوگا کہ وہ جنت اور اسکی ان سدا بہار نعمتوں کو اہل جنت کے عمل کا بدلہ قرار دے گا۔ ورنہ محدود عمر والے اس عاجز انسان کا محدودعمل ہے ہی کیا جو جنت کی ان دائمی اور ابدی نعمتوں کا بدلہ بن سکے۔ یہ تو سراسر اس واہب مطلق کا کرم اور احسان ہوگا جس سے وہ اپنے بندوں کو اپنی شان کریمی سے نوازے گا۔ البتہ اس کرم کا سبب بندوں کا وہ ایمان و عمل ہی ہوگا جس کو انہوں نے اپنی زندگیوں میں اپنے ارادہ واختیار سے اپنایا ہوگا۔ اس کی مثال یوں سمجھیں کہ جیسے ایک انسان کسی شخص کو کام پر لگائے اور مثلاً سو روپیہ اس کی مزدوری مقرر کرے۔ اور مزدور جب اس کام کو اچھی طرح نبھائے تو یہ شخص اس مزدور کو سو کی بجائے دو سو روپیہ دے دے تو یہ سو روپیہ جو اس نے مزدور کو بطور انعام دیا اس کے عمل کا بدلہ نہیں ہوگا کہ عمل کے بدلے کی مزدوری تو وہ لے چکا۔ بلکہ یہ دوسرا سو روپیہ محض ایک انعام ہے جو اس نے خوش ہو کر اس کو دیا ہے۔ مگر اس انعام کا سبب بہرحال اس کا وہ عمل ہی ہے جو اس نے اچھی طرح سے نبھایا اور اس پر اس کو یہ انعام ملا۔ تو یہ عمل اسکے اس انعام کا سبب اور ذریعہ ہے۔ سو ایسے ہی جنت انسان کے عمل کا بدلہ نہیں بلکہ وہ محض اللہ پاک کا انعام و احسان ہوگا لیکن اس انعام کا سبب اور ذریعہ بہرحال اس کا ایمان و عمل ہی ہوگا جس سے وہ مومن اس دنیا میں مشرف رہا ہوگا ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 7:4562 دین حق سے روکنا ظلم اور ایک سنگین جرم ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس موقع پر دوزخیوں کی تذلیل و تجریح کے لیے ایک پکارنے والا پکار کر کہے گا کہ اللہ کی لعنت اور پھٹکار ہو ان ظالموں پر جو روکتے تھے اللہ کے راستے سے روکنا۔ کہ یہ جرم بالائے جرم ہے۔ اور اس میں ضلال کے ساتھ ساتھ اضلال کا جرم بھی پایا جاتا ہے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ کی لعنت اور پھٹکار ہے ان ظالموں پر جو روکتے تھے اللہ کی راہ سے دوسروں کو اپنے عمل و کردار اور زبان وبیان سے۔ جیسا کہ آج بھی ہم اس کے مظاہر جا بجا دیکھتے ہیں کہ کفار اشرار طرح طرح کے حیلوں حوالوں اور ہتھکنڈوں سے دنیا کو نور حق و ہدایت سے روکنے اور محروم کرنے کے لئے زور لگاتے ہیں ۔ جَعَلَ اللّٰہُ کَیْدَہُمْ فِیْ نُحُوْرِہُمْ وَوَقَانَا مِنْ شُرُوْرِہِمْ ۔ سو دین حق سے روکنا ظلم اور ایک سنگین جرم ہے کہ ضلال کے ساتھ اضلال کو بھی جمع کرنا ہے اور اپنے ساتھ دوسروں کو بھی محروم کرنا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور { الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ } الخ کے اس ٹکڑے کے اندر ایک احتمال یہ بھی ہے کہ یہ منادی کے اعلان ہی کا ایک حصہ ہو، جیسا کہ ظاہر ومتبادر بھی ہے اور عام طور پر سمجھا بھی جاتا ہے۔ لیکن اس کے بارے میں ایک اور احتمال جو اس سے بھی لطیف اور وقیع ہے یہ بھی ہے کہ منادی کے اعلان کو ظالمین کے لفظ پر تمام مانا جائے اور اس کے بعد کا یہ ٹکڑا اللہ تعالیٰ نے اس کی وضاحت کے لیے بطورتضمین ارشاد فرمایا ہو، تاکہ یہ کلام محض مستقبل کی ایک حکایت بن کر نہ رہ جائے بلکہ حال پر بھی پوری طرح منطبق ہوجا سکے۔ سو اس سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ ظالمین سے مراد وہی لوگ ہیں جو آج حق کی راہ سے روکتے ہیں اور اس کے لیے وہ طرح طرح کے حیلوں اور ہتھکنڈوں سے کام لیتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اس کے برعکس آخرت کا ایمان و یقین اصلاح احوال کی اساس ہے ۔ وباللہ التوفیق -
63 راہ حق میں کجی تلاش کرنا اہل زیغ و ضلال کا قدیم ہتھکنڈا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اس میں کجی تلاش کرتے تھے طرح طرح کے شکوک و شبہات کے ذریعے۔ تاکہ کوئی دوسرا بھی اس راہ حق و صواب پر نہ چل سکے اور ان کو بھی شکوک و شبہات میں مبتلا کردیا جائے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اہل زیغ و ضلال، ملاحدہ و زنادقہ کا یہ قدیم ہتھکنڈا رہا کہ وہ راہ حق و ہدایت میں کجی تلاش کرتے اور سادہ لوح عوام کو ورغلانے کیلئے طرح طرح کے شکوک و شبہات ڈالتے ہیں۔ اور آخرت کو نہیں مانتے بلکہ دنیا کی اس عارضی اور فانی زندگی ہی کو سب کچھ سمجھتے اور اسی کیلئے جیتے اور اسی کیلئے مرتے ہیں۔ اور اس طرح خسارے پر خسارہ کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے ظالموں پر اللہ کی لعنت اور پھٹکار ہے جو اللہ کی راہ سے خود بھی رکتے اور محروم رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی روکتے اور محروم کرتے ہیں۔ اور جو اس میں کجی اور ٹیڑھ پیدا کرنے کی سعی و کوشش میں ہیں اور وہ آخرت کے منکر ہیں۔ سو انکار آخرت جڑ بنیاد ہے ہر خرابی اور فساد کی ۔ والعیاذ باللہ -
Ayahs 7:46–4764 جنت اور دوزخ کے درمیان ایک عظیم الشان آڑ : یعنی حجاب کی تنوین تعظیم و تفخیم کے لئے ہے۔ اور اس حجاب اور آڑ کی عظمت کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ وہ اس جنت کے لئے حجاب اور آڑ ہوگی جس کی چوڑائی نص قرآنی کے مطابق زمین و آسمان کے عرض کے برابر ہوگی ۔ { عَرْضُہَا کَعَرْضِ السَّمَآئِ وَالاَرْضِ } ۔ سو کیا کہنے اس خالق ومالک کی عظمت شان کے ۔ فَسُبْحَان اللّٰہِ مِنْ خَالِقٍ عَظِیْمٍ ۔ اور یہ آڑ اس لئے ہوگی کہ جنت کا کوئی اثر دوزخیوں تک پہنچ کر ان کے لئے راحت کا سبب نہ بننے پائے اور دوزخ کا کوئی اثر جنت تک پہنچ کر اہل جنت کے لئے تکلیف کا باعث نہ بن سکے۔ اور ہر ایک کو اس کا صلہ و بدلہ پورا پورا ملے۔ اور سورة حدید میں ارشاد فرمایا گیا { فَضُرِبَ بَیْنَہُمْ بِسُوْرٍ لَہٗ بَابٌ} (الحدید : 13) یعنی اس موقع پر ان کے درمیان ایک ایسی عظیم الشان دیوار حائل کردی جائے گے جس میں ایک دروازہ ہوگا جس کے اندر کی جانب رحمت ہی رحمت ہو کے اور اس کی باہر کی طرف عذاب ہی عذاب ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا ۔ سو ایسی دیوار کے طول و عرض اور اس کی حقیقت اور عظمت شان کا اندازہ کون کرسکتا ہے جو پورے عالم جنت اور سارے عالم دوزخ کے درمیان حدِّ فاصل کا کام دے گی، جبکہ انسان کے لئے اس دنیا میں رہتے ہوئے جنت اور دوزخ میں سے کسی کی بھی وسعت و پہنائی کا اندازہ کرنا ممکن نہیں ۔ فَسُبْحَان اللّٰہِ الَّذِیْ لاَ اِلٰہَ اِلَّا ہُوْ ۔ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل وکرم سے جنت کی سرفرازی نصیب فرمائے ۔ آمین۔
65 اصحاب اعراف سے مراد ؟: اَصحابِ اَعراف کے بارے میں مشہور قول یہی ہے کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جن کی نیکیاں اور بدیاں برابر ہوں گی۔ جس سے نہ تو ان کے بارے میں ابھی جنتی ہونے کا فیصلہ ہوا ہوگا نہ دوزخی ہونے کا۔ بعد میں اللہ پاک اپنے فضل و کرم سے ان کو جنت میں داخل فرما دے گا۔ اور بعض مرفوع روایات میں بھی اصحاب اعراف کے بارے یہی فرمایا گیا ہے۔ (روح، ابن کثیر، صفوۃ، المراغی اور الکبیر وغیرہ) ۔ جبکہ حضرات اہل علم کے ان کے بارے میں کچھ اوراقوال بھی ہیں جن کی تفصیل ہم اپنی مفصل تفسیر میں پیش کریں گے ۔ انشاء اللہ العزیز۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَہُوَ الْمُیْسِّرُ لِکُلِّ عَسِیْرٍ ۔ البتہ اتنا عرض ہے کہ جو بات دل کو زیادہ لگتی ہے اور جس کے لئے قرائن بھی یہاں پر موجود ہیں، وہ بات وہ ہے جو امام تفسیر حضرت مجاہد وغیرہ بعض اہل علم سے مروی ہے کہ اس سے مراد علماء و صلحاء کرام ہیں۔ (المدارک، المحاسن، اور المنار وغیرہ) ۔ کیونکہ یہی وہ حضرات ہیں جو دنیا میں حق کے علمبردار، خیر کے داعی، اور شرو منکر کے ناہی رہے۔ جنہوں نے حق کی حمایت میں اہل باطل کے چرکے سہے۔ جو ظالموں کے مقابلے میں مظلوموں کی حمایت پر سینہ سپر رہے۔ سو ان حضرات کو ان کی ان قربانیوں کے صلے میں اس روز حضرت حق ۔ جل مجدہٗ ۔ کی طرف سے اسی اعزازو اکرام سے نوازا جائے گا کہ ان کو اعراف کی بلندیوں سے جنت اور دوزخ دونوں کا مشاہدہ کرایا جائے گا۔ تاکہ یہ حق اور باطل دونوں کا نتیجہ اور انجام اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں اور اپنی زبان سے رفقائے حق کو مبارک باد دیں اور دشمنانِ حق کی سرزنش کریں تاکہ ان کو زندگی بھر کی اپنی محنت اور جدوجہد کے نتائج کو عملی طور پر ظہور پذیر دیکھ کر دل کا سرور اور آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب ہو۔ اور " اعراف " " عرف " کی جمع ہے، جس کے اصل معنیٰ گھوڑے کی پیشانی کی چوٹی اور مرغ کی کلغی کے ہیں۔ سو یہیں سے اس لفظ کا اطلاق بلند مقام پر ہونے لگا۔ جیسے کوئی مینار یا دیدبان وغیرہ۔ (ابن کثیر، مدارک التنزیل وغیرہ)
Ayahs 7:48–4966 متکبروں کے کبر و غرور پر اصحاب اعراف کی طرف سے ایک چوٹ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اعراف والے دوزخ میں بڑی کچھ ایسی بڑی شخصیتوں سے جن کو وہ پہچانتے ہوں گے ان کی نشانیوں سے ان سے کہیں گے کہ صاحب یہ کیا ہوا کہ نہ تم لوگوں کو تمہارے جتھے اور جماعتوں میں سے کچھ کام آسکا۔ اور نہ ہی تمہارے مال و دولت میں سے۔ سو اس طرح اصحاب اعراف ان دوزخیوں کی طرف متوجہ ہو کر ان کے کبر و غرور پر چوٹ لگاتے ہوئے اور ان کے بت پندار پر ٹھوکر مارتے ہوئے ان سے کہیں گے کہ صاحب یہ کیا ہوا کہ آج نہ تمہارا کوئی جتھا تمہارے کچھ کام آسکا اور نہ کوئی پارٹی اور قوم قبیلہ اور نہ ہی تمہارا وہ مال و دولت جس کا تمہیں بڑا دعویٰ اور گھمنڈ ہوا کرتا تھا کہ ہم ایسا اور اتنا بڑا جتھا اور ایسی اور اتنی بڑی اکثریت والی پارٹی رکھتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ سو وہ آج کہاں گئے ؟ آخر تمہارے کام کیوں نہیں آتے ؟ اور ان لوگوں سے یہ خطاب جیسا کہ ظاہر ہے ان کی تذلیل اور تحقیر کیلئے ہوگا اور ربِّ رحمان و رحیم نے اپنی کتاب حکیم میں اس کی اس طرح پیشگی خبر کردی تاکہ جو لوگ اس طرح کے کسی گھمنڈ میں مبتلا ہوں وہ اصلاح کرلیں قبل اس سے کہ فرصت حیات ان کے ہاتھ سے نکل جائے ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو ان الفاظ سے واضح ہوتا ہے کہ اصحاب اعراف کا یہ خطاب اہل دوزخ کے لیڈروں اور ان کے بڑوں سے ہوگا کہ اس گھمنڈ میں وہی مبتلا تھے۔ اور رجالا کی تنکیر و تنوین سے بھی یہی ظاہر ہو رہا ہے۔
67 مال و دولت اور جاہ و منصب وغیرہ کے گھمنڈ پر ضرب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اعراف والے ان سے کہیں گے کہ آج تم لوگوں کو کچھ کام نہ آسکا وہ کچھ جس کی بنا پر تم لوگ دنیا میں اپنی بڑائی کے زعم اور گھمنڈ میں مبتلا تھے۔ یعنی تمہارا وہ مال و دولت اور جاہ و منصب وغیرہ تمہارے کچھ کام آسکا جس کی بناء پر تم لوگ حق کو قبول کرنے سے اعراض و انکار کیا کرتے تھے اور جس کی بناء پر تم لوگ کہا کرتے تھے کہ اگر دنیا میں ہمیں یہ کچھ ملا ہوا ہے تو آخرت ۔ اگر وہ ہوئی بھی تو اس ۔ میں بھی ہمیں ہی ایسی ہی کامیابی ملے گی وغیرہ وغیرہ۔ یہاں پر { ما اغنی } میں جو کلمئہ " ما " ہے یہ نافیہ بھی ہوسکتا ہے، جیسا کہ ہم نے ترجمے میں اختیار کیا ہے، اور یہ استفہامیہ بھی ہوسکتا ہے۔ یعنی کس کام آئے تمہارے وہ جتھے اور تمہارے وہ مال و منال جن کی بناء پر تم لوگ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا تھے ؟ مآل دونوں صورتوں کا بہرحال ایک ہی ہے۔ اور { وَمَا کُنْتُمْ تَسْتَکْبِرُوْن } میں جو " ما " ہے یہ عام ہے جو ان کے مال و دولت وغیرہ کے علاوہ ان کے معبودان باطلہ کو بھی شامل ہے۔ ( روح المعانی وغیرہ) ۔ سو ان میں سے کچھ بھی تمہارے کام نہیں آسکا۔ سو جس چیز کے گھمنڈ سے انسان نور حق و ہدایت سے محروم ہو ۔ والعیاذ باللہ ۔ وہ باعث ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 7:5068 اہل دوزخ کی ایک اور تذلیل کا ذکر وبیان : کہ یہ لوگ دوزخ کی بھوک پیاس سے تنگ آ کر جنتیوں سے کھانے اور پانی کی بھیک مانگیں گے۔ سو یہ اہل دوزخ کی ایک اور تذلیل ہوگی کہ ان کو وہاں انہی ضعفاء و مساکین کے سامنے ہاتھ پھیلانے پڑیں گے جن کو یہ دنیا میں بےقدر و قیمت سمجھا کرتے تھے۔ اور جن کے بارے میں وہ قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ اللہ ان کو کسی بھی طرح کی رحمت سے نہیں نوازے گا۔ سو آج انہی کے سامنے یہ لوگ اس طرح ہاتھ پھیلا رہے ہوں گے مگر جواب انکار میں ملے گا یعنی " اللہ نے ان دونوں چیزوں کو کافروں پر حرام کر رکھا ہے "۔ سو اہل جنت کے اس جواب سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ ان کے پاس ان چیزوں کی کوئی کمی نہیں ہوگی بلکہ ان کے پاس ہر نعمت کی فراوانی ہوگی۔ مگر وہاں کی کسی نعمت سے اہل دوزخ کسی طرح کا کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے، کیونکہ جنت کی ان پاکیزہ اور عالی شان نعمتوں کو اہل دوزخ پر حرام کردیا گیا ہوگا۔ سو نہ وہ کسی طرح ان تک پہنچ سکیں گے اور نہ ہی وہ ان سے کسی طرح فائدہ اٹھا سکیں گے۔ سو کفر وانکار اور تمردو سرکشی کا نتیجہ وانجام بڑا ہی برا اور نہایت ہی ہولناک ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 7:5169 دنیاوی زندگی اور اس کا دھوکہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا دنیا کی زندگی اور اس کی چمک دمک نے کہ بس یہی دنیا سب کچھ ہے۔ جس نے یہاں مزے کر لئے اس نے سب کچھ پا لیا ورنہ کچھ نہیں وغیرہ وغیرہ۔ اور دنیاوی زندگی کی چہل پہل اور اسکی چمک دمک ہی سب کچھ ہے۔ اس لیے اسی کو انہوں نے اپنی زندگی کا مقصد اور نصب العین بنادیا اور وہ اسی کیلئے جینے اور اسی کیلئے مرنے لگے۔ جبکہ دنیاوی زندگی اصل میں آخرت کی کھیتی ہے۔ سو دنیاوی زندگی کی ریل پیل، چہل پہل، اور اس کی فانی لذتوں اور عیش پرستیوں نے ان کو آخرت کی حقیقی اور ابدی زندگی اور اس کے تقاضوں سے غافل کر رکھا تھا۔ اور انہوں نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ ہم یونہی مزے لوٹتے اور عیش کرتے رہیں گے۔ کوئی ہم سے باز پرس کرنے والا نہیں۔ سو اس سے ان کی زندگی کے انداز ہی بدل گئے تھے اور ان کا راستہ ہی غلط ہوگیا تھا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ فکر وعمل کی ہر کجی اور انحراف سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 7:5270 قرآن حکیم کا ہر حکم و ارشاد علم و حکمت پر مبنی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کتاب عظیم کی تفصیل ہم نے خود کی اور کمال علم کی بنا پر کی۔ اس لئے اس کتاب حکیم کا ہر ارشاد علم و حکمت پر مبنی اور عین حق اور صواب ہے۔ اور یہ صرف اور صرف اس کتاب الٰہی ہی کی شان ہے جو ازل سے ابد تک اور انسان کی پیدائش سے لے کر اس کی وفات تک زندگی کے تمام دوائر اور احوال و ظروف سے بحث کرتی اور راہنمائی فرماتی ہے۔ اور ٹھوس علم کی بنیاد پر کرتی ہے، جبکہ باقی ہر جگہ اوہام و ظنون کا دور دورہ ہے ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ، اَلَّذِیْ شَرَّفَنَا بِہٰذَا الْکِتَابِ الْمُبَارَکِ الْمَجِیْدِ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے اپنی اس عظیم الشان کتاب میں اپنے علم قطعی اور کامل کی بناء پر ان تمام امور کی تفصیل خود کردی، جن سے آگاہ ہونا دنیا و آخرت کی سعادت وفائز المرامی سے سرفراز ہونے کے لئے انسان کے لئے ضروری ہے۔ اور " عِلْمٍ " کی تنکیر تفحیم شان کے لئے ہے۔ سو اس کتاب حکیم کی تفصیل خداوند قدوس کے عظیم و وسیع اور محیط کل علم پر مبنی ہے۔ اس لئے اس کی ہر بات قطعی، محکم اور اٹل ہے اور اس میں کسی غلطی و قصور کا کوئی احتمال و امکان نہیں ۔ والحمد للہ رب العالمین ۔ اور یہ کتاب عین ہدایت اور سراسر رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہوں اور جو ایمان لانا چاہتے ہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 7:5371 حق کی توضیح و تشریح میں کوئی کسر باقی نہیں رہ گئی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا اب یہ لوگ اس کے بتائے ہوئے انجام ہی کے منتظر ہیں کہ اس کے علاوہ اور کوئی کسر تو اب باقی نہیں رہی۔ سو وہ وقت آنے پر ان کو خود پتہ لگ جائے گا، مگر اس وقت ان کو یاس و حسرت کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔ سو اس استفہامیہ ارشاد ربانی میں منکروں کیلئے تنبیہ بھی ہے اور حق کو اپنانے اور قبول کرنے کیلئے ترغیب وتحریض بھی کہ حق کی توضیح و تشریح میں اب کوئی کسر باقی نہیں رہ گئی۔ لہٰذا اب تم نے اس کو قبول کرنا ہے تو صدق دل سے قبول کرلو۔ نہیں تو ہمیشہ کیلئے پچھتانا پڑے گا۔ بہرکیف قرآن حکیم جن اٹل حقائق کی خبر دے رہا ہے وہ چونکہ ابھی تک مستقبل کے پردے میں مخفی ہیں، ابھی تک ان کا واقعات کی شکل میں ظہور نہیں ہوا، اس لئے منکرین و مکذبین ان کے وقوع کی خبر کو خالی خولی دھمکی سمجھتے اور ان کے بارے میں لاپرواہی برتتے ہیں۔ اور اس انتظار میں ہیں کہ جب وہ واقعات کی شکل میں ظہور پذیر ہوں گے تو ان پر ایمان لے آئیں گے مگر اس وقت کے ایمان کا کیا فائدہ ؟ وہ نہ معتبر ہے نہ مفید۔
72 قیامت کے روز منکرین کا حسرت بھرا اعتراف و اقرار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز یہ لوگ کہیں گے کہ بلاشبہ ہمارے رب کے رسول حق لے کر آئے تھے مگر ہم ان پر ایمان نہ لائے۔ مگر اس روز کے اس یاس و حسرت بھرے اس اقرار و اعتراف سے ان لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا سوائے افسوس و ندامت میں اضافہ کے۔ کہ وہ وقت ماننے کا نہیں بلکہ زندگی بھر کے اپنے کئے کرائے کے بھگتان کے بھگتنے کا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو قرآن حکیم اس یوم حسرت کے ان حسرت بھرے احوال کی تذکیر و یاددہانی سے انسان کو بار بار اس کی تنبیہ کررہا ہے کہ وہ آج آنکھیں کھول لے اور ایمان و یقین کی دولت کو اپنا کر اس یوم الحساب کیلئے تیاری کرلے۔ ورنہ اس کو رہ رہ کر افسوس کرنا پڑے گا اور اس طرح حسرت و ندامت کا اعلان و اقرار کرنا پڑے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ جس روز اس کتاب حکیم کا بتایا ہوا انجام حقیقت اور واقعے کی شکل میں ان کے سامنے آجائے گا تو اس روز ان لوگوں کی آنکھوں پر بندھی غفلت کی سیاہ پٹیاں کھل جائیں گی۔ اور ان کی نگاہ بہت تیز ہو جائیگی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا { لَقَدْ کُنْتَ فِیْ غَفْلَۃٍ مِّنْ ہٰذا فَکَشَفْنَا عَنْکَ غِطَائَکَ فَبَصُرُکَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ } (ق : 22) ۔ اور اس وقت یہ لوگ چیخ چیخ کر اور چلا چلا کر کہیں گے کہ یقینا ہمارے رب کے رسول حق لے کر آئے تھے اور جو کچھ انہوں نے ہمیں بتایا تھا وہ سب حق اور سچ تھا۔ اور جن باتوں سے انہوں نے ہمیں آگاہ کیا تھا وہ سب حقیقت ثابت ہوئیں۔ مگر بےوقت کے اس اقرار و اعتراف کا ان کو کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ سوائے آتش یاس و حسرت میں اضافہ مزید کے ۔ والعیاذ باللہ -
73 دنیاوی زندگی کی لاحاصل تمنا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ دوزخی وہاں پر بصد حسرت والتجاء کہیں گے کہ ہمیں لوٹا دیا جائے دنیا میں تو ہم وہاں اس کے خلاف عمل کریں جو ا سے پہلے کرتے رہے تھے۔ تاکہ اس طرح اس ہولناک انجام سے بچ سکیں مگر اب اس کا موقع کہاں { وَاَنّٰی لَہُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّکَانٍ بَعِیْدٍ } اب دنیا میں واپس آنے کا نہ کوئی امکان ہوگا نہ سوال۔ سو قرآن حکیم کا یہ کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے انسانوں کو آنے والے اس آخری اور ہولناک انجام سے اس قدر پیشگی اتنی صراحت و وضاحت کے ساتھ آگاہ فرما دیا۔ تاکہ وہ اس کے لئے تیاری کرسکیں۔ مگر وہ اس کے باوجود دنیا کے خواب غفلت سے چوکنے کا نام بھی نہیں لیتے ۔ الا ماشاء اللہ ۔ سو غفلت و لاپرواہی بیماریوں کی بیماری اور محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ جب غیب کے وہ مخفی حقائق سامنے آجائیں گے جن کی خبر قرآن دے رہا ہے، تو اس وقت یہ لوگ یاس و حسرت کے مارے کہیں گے کہ کیا ہے کوئی سفارشی جو ہماری سفارش کرے ؟ یا ممکن ہے کوئی صورت اس امر کی کہ ہم دوبارہ دنیا میں جاسکیں اور وہاں جا کر نئے سرے سے عمل کرسکیں اور اپنی اس حقیقی اور دائمی زندگی کے لئے کوئی کمائی کرسکیں ؟ مگر ایسا کچھ بھی نہ ہو سکے گا اور ان کی یہ حسرت حسرت ہی رہے گی ۔ والعیاذ باللہ ۔
74 دین حق سے محرومی سب سے بڑا خسارہ ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ سخت خسارے میں ڈال دیا ان لوگوں نے اپنے آپ کو کہ نور حق و ہدایت سے منہ موڑ کر اپنی متاع عمرکو انہوں نے دنیائے دوں کی عارضی اور فانی لذتوں کے پیچھے لگاکر ضائع کردیا۔ اور آخرت کی ابدی، حقیقی اور دائمی زندگی کے لئے انہوں نے کچھ سامان نہ کیا۔ سو یہ خسارہ ایسا خسارہ ہے کہ اب اس کی تلافی وتدارک کی بھی صورت ایسوں کیلئے ممکن نہ ہوگی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جو آسیں انہوں نے لگا رکھی تھیں اور جو افتراء انہوں نے ازخود باندھ رکھے تھے اور جو سہارے انہوں نے اپنے طور پر قائم کر رکھے تھے، اس روز وہ سب " ھَبَائً ا مَّنْثُورًا " ہوجائیں گے۔ اور کشف حقائق کے اس جہاں میں ان کا خسارہ پوری طرح آشکارا وعیاں ہوجائے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور یہ سب اس لئے کہ انہوں نے دنیاوی زندگی میں دین حق کو مان کر نہیں دیا تھا۔ اور اس کی روشنی اور ہدایت سے اعِراض اور روگردانی برتی تھی۔ سو دین حق سے اعراض و روگردانی اور اس سے محرومی خساروں کا خسارہ اور سب سے بڑا نقصان ہے ۔ والعیاذ باللہ -