Ayahs 7:120–121151 معجزئہ موسوی کی اثر آفرینی کا ایک نمونہ و مظہر : سو اس سے عصائے موسوی کے معجزے کی اثر آفرینی کا نمونہ و مظہر سامنے آگیا اور یہ حق و صداقت اور قوت ایمان و یقین کی انقلاب آفرینی کا ایک عظیم الشان نمونہ و مظہر تھا کہ عصائے موسوی کے اس معجزے کو دیکھتے ہی وہ سب جادوگر بلا اختیار سجدے میں گرپڑے۔ سو اس سے ایمان و یقین کی قوت اور اس کی انقلاب آفرینی کا ایک عظیم الشان مظہر و نمونہ سامنے آگیا۔ وہ جادوگر یکایک اور بےساختہ سجدے میں گرگئے اپنے اندر کی آواز اور ضمیر کی پکار سے۔ اور یکدم وہ کچھ سے کچھ ہوگئے اور کہیں سے کہیں پہنچ گئے۔ کہاں ان کی کیفیت یہ تھی کہ چند ہی لمحے پہلے یہ لوگ مقابلے میں جیتنے کی صورت میں اپنے لئے خصوصی اجر و انعام کا مطالبہ کررہے تھے اور کہاں یہ کہ اب وہی لوگ علی الاعلان اپنے ایمان و یقین کا اقرار واظہار کر کے ہر قسم کی قربانی کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔ سو یہی شان ہوتی ہے نور حق اور قوت یقین کی کہ وہ انسان کو بدل کر کچھ کا کچھ کردیتی ہے اور اس کو کہیں سے کہیں پہنچا دیتی ہے۔ سو یہ قوت ایمانی ایسی قوت ہے جو مٹی کو خالص سونا بنا دیتی ہے۔ دنیا ساری بھی انسان کی نگاہ میں ہیچ ہو کر رہ جاتی ہے اور وہ سراپا عجز و نیاز بن کر رب کے حضور جھک جاتا ہے۔ بہرکیف جادوگر حضرت موسیٰ کا معجزہ دیکھتے ہی بےساختہ سجدے میں گرگئے اور وہ جان گئے کہ یہ جادوگری نہیں بلکہ معجزہ ہے جو ان کے فن جادوگری سے ماوراء ہے اور اس کا مقابلہ ان کے بس سے باہر ہے۔ اس لئے انہوں نے فوراً اور واضح طور پر سب کے سامنے اپنی شکست اور موسیٰ کی فتح کا اعلان کردیا اور دل و جان سے حق کے آگے جھک گئے۔ اور سب کے سامنے اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوگئے ۔ والحمد للہ جل وعلا -
Ayah 7:122152 معبود برحق اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ سب کے سب علی الاعلان پکار اٹھے کہ ہم ایمان لے آئے پروردگار عالم پر جو کہ خالق ومالک اور ربِّ حقیقی ہے اس ساری کائنات کا اور جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا۔ نہ کہ فرعون جو کہ جھوٹا رب بنا ہوا تھا۔ اور جب سارے جہانوں کا خالق ومالک اور رب و رازق اللہ وحدہ لاشریک ہے تو معبود برحق بھی وہی ہے اور عبادت و بندگی کی ہر قسم اور ہر شکل اسی کا حق اور اسی کے ساتھ مختص ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس کے سوا کسی بھی اور ہستی کو رب ماننا سراسر ظلم اور بےانصافی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو جنہوں نے اس وحدہ لا شریک کے سوا اوروں کو اپنا معبود مانا اور ان کی پوچا پاٹ کی انہوں نے بڑے ہی ظلم کا ارتکاب کیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 7:123–124153 فرعون کی سٹنٹ بازی کا ایک نمونہ و مظہر : سو اس سے فرعون کی بوکھلاہٹ، حواس باختگی اور اس کی سٹنٹ بازی کا ایک مظہر و نمونہ سامنے آتا ہے۔ سو اس پر فرعون نے سخت جھنجلاہٹ کے عالم میں کہا کہ یہ ایک بہت بڑی سازش تھی جو تم لوگوں نے مل کر اس شہر میں پکائی تھی۔ تاکہ اس طرح تم لوگ نکال باہر کرو اس ملک سے اس کے اصل باشندوں کو۔ سو ابھی تم لوگوں کو معلوم ہوا چاہتا ہے انجام اپنے کیے کرائے کا۔ سو یہ ایک صریح جھوٹ تھا جو اس ملعون نے سب کے روبروبکا تھا اور ایک سیاسی سٹنٹ تھا جو اس نے لوگوں کو ورغلانے کے لیے چھوڑا تھا۔ ورنہ اس کی لغویت مخفی اور محتاج بیان نہیں۔ سو اس سے ایک طرف تو اس کی بوکھلاہٹ کا پتہ چلتا ہے اور دوسری طرف اس سے اس کے مکر و فریب اور اس کی اس سٹنٹ بازی کا ایک نمونہ بھی سامنے آتا ہے جو آج تک کے سیاستدانوں میں بالعموم قدرمشترک کے طور پر پائی جاتی ہے ۔ الا ماشاء اللہ ۔ چناچہ ایسے لوگ سادہ لوح عوام کو بھڑکانے اور ان کے جذبات سے کھیلنے کیلئے اسی طرح کی چکربازیوں اور سٹنٹ بازیوں سے کام لیتے اور اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف سٹنٹ بازی کی یہ فرعونی سیاست پہلے بھی قائم و رائج تھی اور آج بھی موجود ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 7:125155 قوت ایمان و یقین ایک بےمثال قوت : سو فرعون کی اس خوفناک دھمکی کے جواب میں ان مومنان صدق و صفا نے کہا کہ کوئی پروا نہیں کہ ہم نے تو بہرحال لوٹ کر اسی خالق ومالک کے حضور جانا اور حاضر ہونا ہے۔ اگر شہادت کے راستے سے جائین تو اور کہا چاہیے ؟ سو اس سے قوت ایمان و یقین کی انقلاب آفرینی کا یہ مظہر و نمونہ ملاحظہ ہو کہ یہ انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتی ہے ۔ سبحان اللہ ۔ انقلاب ملاحظہ ہو کہ کہاں وہ کیفیت کہ مقابلہ پر آنے سے پہلے یہ لوگ فرعون سے اجر و عوض کا مطالبہ کر رہے تھے اور کہاں اب دولت ایمان سے سرفرازی کے بعد ان کا یہ حال ہے کہ جان تک کی بازی لگانے کے لئے بھی برضا ورغبت تیار ہیں کہ ہم نے جانا تو بہرحال اللہ ہی کے پاس ہے۔ اگر شہادت کے شرف سے مشرف ہو کر گئے تو اور کیا چاہیئے۔ سو اس سے ایمان و یقین کی انقلاب آفرینی اور عقیدئہ و ایمان کی عظمت و قوت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ شَرَّفَنَا بِہٰذِہِ النَّعْمَۃِ الْعُظْمٰی، نِعْمَۃِ الْاِیْمَان والْیَقِیْنَ ۔ اللہم فزدنا منہ وثبتنا علیہ -
Ayah 7:126156 جرم ایمان پر ہر سزا قبول و منظور : سو ان مومنان صدق و صفا نے فرعون سے کہا کہ تو ہم سے اسی بات کا انتقام لے رہا ہے کہ ہم اپنے رب کی آیتوں پر ایمان لے آئے جبکہ وہ ہمارے پاس پہنچ گئیں۔ اس کے سوا اور کسی جرم کا ارتکاب تو ہم نے کیا نہیں۔ اور اپنے رب کی آیتوں پر ایمان لانا اگر جرم ہے تو اس کے بدلے ہم سزا بھگتنے کے لئے بخوشی تیار ہیں۔ مطلب یہ کہ اپنے رب کی آیتوں پر ایمان لانا تو کوئی جرم نہیں بلکہ یہ تو عقل و نقل اور انصاف و فطرت کا تقاضا ہے۔ اور اسی پر انسان کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا دارومدار ہے۔ لیکن اس کے باوجود اگر تم لوگ ہمیں اس جرم ایمان پر یہ سزا دینا چاہتے ہو تو ہم اس کے لیے برضا ورغبت تیار ہیں اور اس کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنا ہم اپنی سعادت سمجھتے ہیں کہ ایمان و یقین کی دولت بہرحال ہر چیز سے مقدم اور سب پر فائق ہے۔ سو ایمان و یقین کی دولت دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے اور اس سر سرفرازی کے بعد مومن کی ہر حالت خیر ہی خیر ہے جبکہ اس سے محرومی ۔ والعیاذ باللہ ۔ ہر خیر سے محرومی ہے۔ اور ایسے میں انسان کا وجود اللہ کی دھرتی پر ایک ناروا بوجھ بن کر رہ جاتا ہے اور یہ اس کچرے سے گیا گزرا اور بیکار ہوجاتا ہے جس کو آگ میں جلا کر راکھ کردیا جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اصل دولت ایمان و یقین کی دولت ہے۔
Ayah 7:127157{ وَیَذَرَکَ وَاٰلِہَتَکَ } کا معنیٰ و مطلب ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ قوم فرعون کے سرداروں نے فرعون سے کہا کہ کیا آپ موسیٰ اور اس کی قوم کو یونہی کھلا چھوڑ دیں گے کہ یہ لوگ چھوڑ دیں آپ کو اور آپ کے ان بتوں کو جن کی جناب پوجا کرتے ہیں یا جو جناب کے نام سے لوگوں نے بنا رکھے ہیں۔ دونوں مطلب یہاں بن سکتے ہیں۔ اور مفسرین کرام میں سے بعض نے پہلے کو اختیار کیا ہے اور بعض نے دوسرے کو۔ سو فرعون کا بتوں کے پوجنے کے باوجود اپنے بارے میں یہ کہنا کہ میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں اس اعتبار سے تھا کہ میں اوتار بادشاہ (God King) ہوں۔ میرا حکم سب پر چلے گا اور میرے حکم سے کوئی سرتابی نہیں کرسکے گا کہ اس ملک کی سب سے بڑی قوت میں ہی ہوں۔ مجھ سے کوئی اعلی اور بالا نہیں ہوسکتا۔ ورنہ ربِّ اعلی کا مطلب یہ نہیں ہوسکتا کہ زمین و آسمان کی اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور اس کا حاکم و متصرف میں ہوں۔ وہ اتنا بیوقوف نہیں تھا کہ اس درجے کی حماقت کا ارتکاب کرتا جس کو کوئی بھی صاحب عقل و ہوش ماننے کے لیے تیار نہیں ہوسکتا۔ بلکہ اس معنی میں اگر وہ اپنے آپ کو رب کہتا تو سب لوگ اس کو مجنوں اور دیوانہ قرار دیتے کہ یہ ایک انہونی بات ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 7:128158 حاجت روا و مشکل کشا سب کا اللہ وحدہٗ لاشریک ہی ہے : اس لئے موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ تم لوگ اللہ ہی سے مدد مانگو کہ مدد دینے والا اور ہر کسی کی اور ہر حال میں نصرت و امداد فرمانے والا بہرحال وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اور حاجت روا و مشکل کشا سب کا وہی ہے۔ اور سب اسی کے محتاج ہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو جب پیغمبر اور حضرت موسیٰ جیسے اولو العزم اور جلیل القدر پیغمبر بھی کسی کے حاجت روا و مشکل کشا نہیں ہوسکتے، اور وہ بھی اپنی زندگی میں، تو پھر اور کون ایسا ہوسکتا ہے جو دوسروں کی مافوق الاسباب مدد کرے ؟ اور وہ بھی مر چکنے کے بعد ؟ سو بڑے گمراہ اور بھٹکے ہوئے ہیں راہ حق و صواب سے وہ لوگ جو اپنی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لئے مردوں کو پوجتے پکارتے ہیں اور انہوں نے طرح طرح کے من گھڑت ناموں سے مختلف حاجت روا اور مشکل کشا بنا رکھے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
159 اللہ جس کو چاہے زمین کا وارث بنا دے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت موسیٰ نے اپنی قوم سے ارشاد فرمایا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ یہ زمین اللہ ہی کی ہے وہ جس کو چاہے اس کا وارث بنائے۔ کہ مالک و مختار سب کا بہرحال وہی ہے اور سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے ۔ جَلَّ جَلَالُہٗ وَعَمَّ نَوَالُہ ۔ اور زمین و آسمان کی اس کائنات کی میراث اسی کے ہاتھ میں ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَلِلّٰہِ میرَاث السَّمٰوٰتِ والاَرْضِ } ۔ (آل عمران : 180) ۔ اس لیے موسیٰ نے ان لوگوں سے کہا کہ تم لوگ صبر و برداشت ہی سے کام لو۔ انشاء اللہ وہ وقت بھی آئے گا جب تم اس زمین کے وارث ہوؤ گے۔ سو دنیاوی زمین کی میراث ایمان وصلاح اور انعام و اکرام کی بنا پر نہیں ملتی بلکہ اس کی ملکیت و وراثت ابتلا و آزمائش کے قانون کے تحت ملتی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اپنے بندوں کی آزمائش کرتا ہے۔ ایمان وصلاح اور تقویٰ و پرہیزگاری کی بنا پر آخرت اور جنت کی زمین ملے گی جو بدلہ و انعام کے طور پر ملے گی ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔
160 انجام کار کامیابی پرہیزگاروں ہی کیلئے ہے : خواہ بیچ میں کیسے ہی احوال و ظروف سے گزرنا پڑے اور کیسی ہی مشکلات و صعوبات سدِّراہ بنیں۔ انجام بہرحال پرہیزگاروں ہی کے لئے ہے۔ پس تقویٰ و پرہیزگاری کا دامن کبھی ہاتھ سے چھوٹنے نہ پائے ۔ فَاِیَّاکَ نَسْأَلُ اللّٰہُمَّ التَّوْفِیْقَ وَ السَّدَادَ لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی مِنَ الْقَوْلِ وَ الْعَمَلِ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ۔ سو معاملہ اس طرح نہیں جس طرح فرعون نے سمجھ رکھا تھا کہ ہم سب پر غالب ہیں۔ جو چاہیں کریں۔ بلکہ معاملہ اللہ وحدہ لاشریک ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ وہ جسکو چاہے زمین کا وارث بنائے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ وہ ظالموں کو جو ڈھیل دیتا ہے وہ بہرحال ایک ڈھیل ہوتی ہے جس نے بہرحال اپنے وقت مقرر پر ختم ہو کر رہنا ہوتا ہے اور اس کے بعد ظالم بہرحال اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہتے ہیں جیسا کہ فرعون اور فرعونیوں کے ساتھ ہوا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 7:129161 دنیاوی مال و جاہ ذریعہ آزمائش و ابتلاء : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت موسیٰ نے ان لوگوں سے فرمایا کہ ہوسکتا ہے کہ تمہارا رب ہلاک کر دے تمہارے دشمن کو اور تم لوگوں کو جانشیں بنا دے اس ملک کا پھر وہ دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ دنیاوی جاہ و اقتدار کا ملنا دراصل ابتلاء و آزمائش ہی کے لئے ہوتا ہے کہ اس کے بعد انسان کیا طریقہ اور وطیرہ اپناتا ہے۔ اگر وہ اس سے مشرف ہونے کے بعد اس کو اللہ پاک کا انعام و احسان سمجھتے ہوئے اس کے آگے جھک گیا تو یہ جاہ و اقتدار اس کے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ بن گیا۔ اور اس کے برعکس اگر وہ اس کی بناء پر اکڑ گیا اور سرکش ہوگیا تو یہ اس کے لئے تباہی کا سامان بن گیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایسے لوگوں کو ڈھیل خواہ جتنی بھی ملے انجام ان کا برا ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الْعَظِیْمِ جَلّ و عَلَا ۔ بہرکیف حضرت موسیٰ نے بنی اسرائیل کی شکایت پر ان کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تمہارے دشمنوں کو ہلاک کر کے تم کو اس زمین میں جا نشیں بنا دے اور پھر وہ دیکھے کہ تم لوگ کیسا عمل کرتے ہو۔ سو اس کی آزمائش کبھی تکلیفوں میں ڈال کر ہوتی اور کبھی نعمتوں سے نواز کر ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 7:130162 مصائب و آلام ذریعہ تنبیہ و تذکیر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ مصائب و آلام ذریعہ تنبیہ و تذکیر کا ایک اہم پہلو رجوع الی اللہ کیلئے تنبیہ و تذکیر ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان کو ان طرح طرح کے مصائب میں پکڑا تاکہ وہ لوگ سبق لیں اور اپنی اصلاح کرلیں۔ سو یہ مصائب وآلام کا ایک اہم مقصد ہے کہ ان کے ذریعے بگڑے ہوئے انسان کی اکڑی ہوئی گردن نرم پڑے اور وہ حق کے آگے جھک کر دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوز و فلاح سے بہرہ ور ہوجائے۔ لیکن چونکہ انسان ضعیف اور کمزور مخلوق ہے، مصائب و آلام کا سہنا اور برداشت کرنا اس کے لئے بہت مشکل ہوتا ہے۔ اس لئے اس کو مصائب و آلام کی دعاء و طلب کبھی نہیں کرنی چاہیئے بلکہ اس ربِّ کریم سے ہمیشہ امن و عافیت کی دعاء و درخواست کرنی چاہیئے۔ لیکن اس کے باوجود جب مصائب آجائیں تو پھر صبر و برداشت ہی سے کام لینا چاہیئے۔ اور یہی طریقہ ہے صحت و سلامتی کا۔ اور اس سے وہ مصائب بھی اس کے لئے خیر و برکت اور دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ بن جائیں گے ۔ فَنَسْاَلُ اللّہُمَّ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ وَالْمُعَافَاۃَ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ وَیَا اَکْرَمَ الاَکْرَمِیْنَ ۔ بہرکیف مصائب و آلام کا یہ ایک اہم پہلو ہے۔ سو اس سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے فرعون والوں کو قحط سالی اور پیداوار کی کمی وغیرہ مصائب میں پکڑا تاکہ وہ سبق لیں اور باز آجائیں اپنی سرکشی سے تاکہ خود ان بھلا ہو۔
Ayah 7:131163 اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے بارے میں اہل باطل کا غلط نظریہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ فرعونیوں کو جب کوئی اچھی حالت نصیب ہوتی تو وہ کہتے کہ یہ تو ہمارے ہی لیے ہے کہ ہم ہی اس کے اہل اور مستحق ہیں۔ اور اس طرح یہ لوگ اس منعم حقیقی کے شکر کی توفیق سے محروم رہتے جو کہ بڑی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہ تھا اہل باطل کا اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے بارے میں غلط نظریہ اور ٹیڑھا زاویہ نگاہ کہ وہ اس کو اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم سمجھنے کی بجائے انکو اپنا حق سمجھنے لگتے۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور آج بھی ایسے لوگوں کا یہی کہنا اور ماننا ہے جو کہ نور ایمان و یقین سے محروم ہوتے ہیں۔ سو وہ آج بھی یہی منطق بگھارتے اور طرح طرح سے اس بات کا اظہار و اعلان کرتے ہیں کہ ہمیں جو کچھ ملا ہے وہ اپنی ہی قابلیت، محنت و مشقت کے نتیجے میں ملا ہے۔ اس طرح ان کو شکر منعم کی توفیق ہی نہیں ملتی جو کہ ایک بہت بڑی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو نعمتوں کے بارے میں صحیح رویہ یہ ہے کہ ان کو اپنی قابلیت کا نتیجہ قرار دینے کی بجائے اللہ تعالیٰ کا انعام واحسان سمجھ کر دل وجان سے اس کا شکر ادا کیا جائے اور ان کو اس کی رضا و خوشنودی کے حصول کے لیے خرچ کیا جائے۔ سو اس طرح اللہ تعالیٰ کی دی بخشی یہ نعمتین انسان کے لیے دراین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و ویلہ بن جاتی ہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
164 اہل باطل کا مصیبتوں کے بارے میں بھی غلط انداز فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ لوگ مصیبت کو موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کی نحوست قرار دیتے کہ انہی کی وجہ سے ہم اس مصیبت میں مبتلا ہوئے۔ ورنہ اگر یہ لوگ نہ ہوتے تو ہم پر ایسی مصیبتیں نہ آتیں وغیرہ وغیرہ۔ سو یہی اطوار ہوتے ہیں ان لوگوں کے جو ایمان و یقین کی روشنی سے محروم ہوتے ہیں کہ ان کا زاویہ نگاہ اور نکتہ نظر نعمت اور مصیبت دونوں کے بارے میں غلط اور ٹیڑھا ہوجاتا ہے۔ جس سے وہ نعمت اور مصیبت کی دونوں حالتوں میں خسارہ اٹھاتے ہیں۔ نعمت کو ایسے لوگ اپنا حق سمجھنے لگتے ہیں جس سے وہ شکر نعمت سے محروم ہوجاتے ہیں۔ اور مصیبت میں وہ حق کے آگے جھکنے اور دبنے کی بجائے اس کو دوسروں کی، خاص کر اللہ والوں کی نحوست قرار دیتے ہیں جس سے وہ سبق لینے کی بجائے الٹا دوہرے خسارے اور نقصان میں مبتلا ہوتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔
165 سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہوتا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کا طائر نحوست ہے تو اللہ ہی کے پاس کہ سب کچھ اسی کی قضا و قدر سے ہوتا ہے۔ اور اس کے مقرر کردہ ان قوانین فطرت کے مطابق ہوتا ہے جو کہ اس کی اس کائنات میں جاری وساری ہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اس خالق ومالک نے اس دنیا کو ایسے حکیمانہ اصولوں اور مستحکم سنتوں پر استوار فرمایا ہے کہ اس میں خیر و شر کی یہ مختلف صورتیں ابتلاء و آزمائش وغیرہ مختلف حکمتوں کے مطابق پیش آتی رہتی ہیں۔ سو ان بدبختوں کا طائرِ نحوست و قسمت ہے تو اللہ ہی کے پاس کہ سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے لیکن وہ ہے ان کی اپنی ہی بد عملیوں کا نتیجہ۔ لیکن ان کی اکثریت اس حقیقت سے ناواقف ہے۔ اس لئے یہ لوگ اپنی نحوست دوسروں کے کھاتے میں ڈالتے ہیں اور اپنے آپ کو اس سے بری اور بےقصور سمجھتے ہیں جس سے ان کی محرومی ہی میں اضافہ ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 7:132166 عناد و ہٹ دھرمی باعث ہلاکت و محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے موسیٰ سے صاف کہہ دیا کہ ہم نے تمہاری بات کو کسی بھی قیمت پر نہیں ماننا۔ یہ اس ضد اور ہٹ دھرمی کا ایک کھلا ہوا نمونہ ہے جس میں یہ ناہنجار قوم مبتلا تھی کہ اس طرح صاف صاف کہہ دیا تم خواہ کچھ بھی کرلو ہم نے ماننا نہیں۔ تو ایسے ضدی اور ہٹ دھرم ظالم لوگوں کو آخر حق و ہدایت کی دولت اور ایمان و یقین کا نور ملے تو کیونکر ملے ؟ سو عناد و ہٹ دھرمی باعث محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف یہ ان کا حتمی جواب نقل ہوا کہ تم ہم پر جادو چلانے کے لئے خواہ کتنی ہی کوششیں کرلو ہم تمہاری بات ماننے والے نہیں۔ اور جن بدبختوں کی ہٹ دھرمی اس حد تک پہنچ جائے ان کو کوئی خیر کس طرح مل سکتی ہے ؟۔ ہدایت اور خیر تو انہی خوش نصیبوں کو مل سکتی ہے جو سننے ماننے اور اس کو اپنانے اختیار کرنے کے لیے تیار ہوں۔ اور وہ اپنے دلوں میں اس کے لیے تڑپ اور طلب صادق رکھتے ہوں۔ سو انسان کے بناء بگاڑ کا اصل تعلق ان کے اپنے قلب وباطن سے ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 7:133167 اِعراض و استکبار محرومیوں کی محرومی ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر بھی وہ لوگ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں پڑے رہے اور وہ تھے ہی مجرم لوگ۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ استکبار یعنی اپنی بڑائی کا گھمنڈ اور اس کے نتیجے میں حق سے روگردانی محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اسی بناء پر ان عبرت انگیز نشانیوں سے بھی نہ وہ دبے اور نہ ہی انہوں نے اس سے کوئی سبق لیا۔ اور یہی اطوار ہوتے ہیں ان شامت زدہ قوموں کے جن کے لئے ان کے اپنے آخری انجام کو پہنچنا مقدر ہوچکا ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو استکبار یعنی اپنی بڑائی کا گھمنڈ محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اوپر آیت نمبر 130 میں جن آزمائشوں کا ذکر ہوا ہے وہ حق تعالیٰ کی اس عام سنت کے مطابق ظہور پذیر ہوئیں جو اللہ تعالیٰ ہر پیغمبر کی تائید وتقویت کے لئے اور لوگوں کے اندر تضرع اور تذکر پیدا کرنے کی غرض سے نازل فرماتا ہے۔ لیکن جب فرعونی ان سے اثر پذیر نہ ہوئے اور انہوں نے ان سے کوئی سبق نہ لیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کے ہاتھوں ان کو بہت سے معجزات دکھائے، جس میں سے چند ایک کا ذکر یہاں فرمایا گیا ہے۔ تاکہ ان لوگوں کی آنکھیں کھل جائیں اور وہ حق کی طرف رجوع کرسکیں۔ مگر وہ لوگ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا ہو کر ان سے منہ موڑے ہی رہے۔
Ayahs 7:134–135168 پیغمبر مختار کل نہیں ہوتے : سو ارشاد فرمایا گیا مصیبت کے موقع پر وہ لوگ حضرت موسیٰ سے کہتے کہ آپ اللہ سے دعاء کریں اس عہد کی بناء پر جو اس نے آپ سے کر رکھا ہے آپ کی دعاء کی قبولیت کے لئے۔ سو پیغمبر کا کام ہے دعاء کرنا اور بس۔ آگے قبول کرنا نہ کرنا اللہ پاک کی مشیت ومرضی پر موقوف ہے۔ وہ جس کی دعاء چاہے قبول فرمائے اور جس کی چاہے نہ قبول فرمائے۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم کی دعا ان کے باپ کے حق میں کہ حضرت ابراہیم کی پوری خواہش اور چاہت کے باوجود ان کی دعاء ان کے باپ کے حق میں قبول نہیں ہوئی۔ اور جیسے حضرت نوح کی دعاء ان کے بیٹے کے حق میں قبول نہیں ہوئی۔ اور جیسے حضرت امام الانبیاء کی دعاء آپ ﷺ کے چچا ابوطالب کے حق میں نہیں قبول فرمائی۔ سو معاملہ سب کا سب اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو معلوم ہوا کہ پیغمبر مختار کل نہیں ہوتا، جیسا کہ اہل بدعت کا کہنا ہے کہ دعاء اور اختیار کلی کے درمیان تضاد اور منافات ہے۔ جو مختار کل ہوتا ہے وہ مانگتا اور سوال نہیں کرتا بلکہ اس کا کام حکم دینا اور امر کرنا ہوتا ہے۔ اور جو مانگتا اور دعا کرتا ہے وہ محتاج ہوتا ہے۔ اس لئے وہ مختار کل نہیں ہوسکتا۔ ورنہ اس کو مانگنے کی کیا ضرورت ؟ اس لیے وہ لوگ حضرت موسیٰ سے اللہ تعالیٰ سے دعا و درخواست کے لیے کہتے تھے۔ یہ نہیں کہتے تھے کہ آپ اس مصیبت کو خود دور کردو۔
Ayah 7:136170 اللہ کی آیتوں کی تکذیب کا نتیجہ دائمی ہلاکت ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخرکار ہم نے ان کو غرق کردیا سمندر میں اس بنا پر کہ انہوں نے جھٹلایا تھا ہماری آیتوں کو اور وہ ان سے غفلت و لاپرواہی برتتے رہے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی تکذیب اور ان کو جھٹلانا اور ان سے غفلت برتنا آخرت سے پہلے اس دنیا میں بھی باعث ہلاکت اور موجب تباہی بن جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جبکہ ایمان و یقین کی دولت سے سرفرازی دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ اور امن و سلامتی کا سبب ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جب وہ لوگ اتمام حجت کے باوجود اور توضیحِ حق کے باوصف اپنے جرائم پر اڑے اور ڈٹے ہی رہے، انہوں نے اللہ کی آیات سے غفلت و لاپرواہی برتی اور ان پر ایمان لانے کی بجائے ان کو سحر اور شعبدہ قرار دیا تو آخرکار ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان کو سمندر میں غرق کردیا۔ اور وہ اپنے اس آخری انجام کو پہنچ کر رہے جس کا مستحق انہوں نے اپنے آپ کو بنادیا تھا۔ اور یہی نتیجہ ہوتا ہے تکذیب وانکار حق کا۔ اور یہی مقتضیٰ ہے عدل وانصاف کا۔ مگر غفلت کی ماری دنیا اس طرح متوجہ نہیں ہوتی الا ماشاء اللہ۔
Ayahs 7:137–138171 مظلوموں کی مدد اللہ ہی کرتا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان کمزوروں اور مظلوموں کو اس مبارک سرزمین کا وارث بنادیا جن کو دبا کر رکھا گیا تھا۔ یعنی بنی اسرائیل کو جو کہ غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی اور فرعونی مظالم کی چکی میں پسی ہوئی ایک مظلوم اور دبی ہوئی قوم تھی۔ سو اس کو ہم نے آزادی کی نعمت سے نواز کر زمین کا وارث بنایا۔ سو زمین و آسمان کی اس کائنات کی زمام اقتدار اللہ وحدہ لاشریک ہی کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جس کو چاہے اور جیسا اور جب چاہے عطاء فرمائے۔ سب کا حاجت روا و مشکل کشا وہی اور سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ سو وہی قوم جو غلامی اور محکومی کی زنجیروں میں بری طرح سے جکڑی ہوئی تھی، اللہ تعالیٰ نے اس کو حریت و آزادی کی نعمت سے نواز کر فلسطین کی ارض مبارکہ کی مشرقوں اور مغربوں کا وارث بنادیا۔ سو اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے وہ جو چاہے اور جیسا چاہے کرے اور اس کا کوئی بھی حکم وارشاد حکمت سے خالی نہیں ہوتا ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
172 ارض مبارکہ سے مقصود و مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان لوگوں کو اس مبارک و مقدس سرزمین کا وارث بنادیا اور اس کے مشارق و مغارب کو ان کے کنٹرول میں دے دیا جس کو ہم نے طرح طرح کی برکتوں سے مالا مال کر رکھا تھا اور مراد اس سے شام و فلسطین کی سرزمین ہے جو کہ ہر طرح کی برکتوں سے مالا مال ہے۔ ظاہری اور مادی برکتوں سے بھی کہ یہ سرزمین بڑی خوب صورت اور زرخیر ہے۔ اور اتنی کہ یہ دودھ و شہد کی سرزمین کہلاتی ہے۔ اور معنوی و روحانی برکتوں سے بھی کہ انبیائے کرام کی اکثریت کی بعثت و تشریف آوری بھی اسی سرزمین میں ہوئی۔ سو مراد اس ارض مبارک سے ارض شام و فلسطین ہے جس میں یہ دونوں قسم کی برکتیں ہمیشہ رہی ہیں۔ اور قرآن حکیم میں ارض مبارکہ اور ارض مقدسہ کا مصداق بالعموم یہی سرزمین ہوتی ہے۔
173 صبر و استقامت ذریعہ ظفر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس طرح پورا ہو کر رہا تمہارے رب کا وہ وعدہ جو اس نے بنی اسرائیل کے حق میں فرما رکھا تھا اس بنا پر کہ انہوں نے صبر و استقامت سے کام لیا۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ صبر و برداشت اور استقلال و استقامت کو کامیابی اور فائزالمرامی کے حصول میں بنیادی اہمیت حاصل ہے ۔ فَاِیَّاکَ نَسْاَلُ اللّٰہُمَّ الثَّبَاتَ وَالاِسْتَقَامَۃَ عَلٰی صِرَاطِکَ الْمُسْتَقِیْمَ فِیْ کُلِّ مَوْطنٍ مِّنَ الْمَوَاطِنِ وَ بِکُلِّ حالٍ مِّنَ الأحْوَالِ ۔ سو صبر و استقامت وسیلہ ظفر ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ تمہارے رب کا وہ عمدہ وعدہ بالآخر پورا ہو کر رہا جو اس نے بنی اسرائیل سے فرما رکھا تھا۔ اور اس سے اشارہ اس وعدے کی طرف ہے جس کا ذکر اس سے پہلے آیت نمبر 128 اور آیت نمبر 129 میں ہوچکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو وعدہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے آباؤ اَجداد سے کیا تھا اور جس کی تجدید آخر میں اس نے اپنے جلیل القدر پیغمبر حضرت موسیٰ کے ذریعے فرمائی، سو آخر کار وہ وعدہ پورا ہو کر رہا اور بنی اسرائیل کی اس گھسی پٹی، مظلوم و مقہور اور غلامی و محکومی کی زنجیروں میں بندھی جکڑی قوم کو اس ارض مبارکہ کا وارث بنادیا گیا۔ اور یہ سب اس بناء پر ہوا کہ بنی اسرائیل نے صبر و استقلال سے کام لیا۔ سو صبر و استقامت ذریعہ ظفر ہے ۔ والحمد للہ -
174 مادی ترقی ہی کو اصل چیز سمجھ لینا تباہی کی راہ ہے ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے تباہ کر کے رکھ دیا ان کی بلند وبالا عمارتوں کو جو وہ بنایا کرتے تھے اپنی دنیاوی عیش و عشرت کیلئے اور اپنی مادی ترقی کے زعم و گھمنڈ میں۔ وہ سمجھتے کہ یہی سب کچھ ہے۔ مگر وہ ان کے کچھ بھی کام نہ آسکا۔ سو وہ بلند وبالا عمارتیں اور بڑے بڑے محل اور کارخانے جو وہ لوگ بنایا کرتے تھے اور وہ عظیم الشان باغات جو وہ ٹٹیوں پر چڑھایا کرتے تھے، ان سب کو یکسر تہس نہس اور درہم برہم کرکے رکھ دیا گیا۔ سو تمہارے رب کی پکڑ ایسے ہی ہوتی ہے جبکہ وہ ظالم بستیوں کو پکڑنے پر آتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے { وَکَذَالِکَ اَخْذُ رَبّکَ اِذَا اَخَذَ الْقُرٰی وَھِیَ ظَالِمَۃٌ، اِنَّ اَخْذۃٗ اَلِیْمٌ شدِیدٌ } (ھود : 103) ۔ سو مادی ترقی ہی کو اصل چیز سمجھ لینا ہلاکت و تباہی اور خرابی کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو جس مادی ترقی اور دنیاوی مال و متاع پر فرعون اور اس کی قوم کو بڑا فخر و ناز تھا۔ اور جس کی بناء پر اس نے تکبر و غرور میں مبتلا ہو کر راہ حق و ہدایت سے انحراف برتا اور { اَنَا رَبُّکُمْ الْاَعْلٰی } کا نعرہ لگا دیا۔ اس کے نتیجے میں آخرکار وہ ہمیشہ ہمیش کے لئے فی النار والسقر ہوگیا۔ اور یہ سب کچھ یہیں چھوڑ کر اس کو یکہ و تنہا دنیا سے کوچ کرنا پڑا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا { کَمْ تَرَکُوْا مِنْ جَنَّاتٍ وَّعُیُوْنٍ وَّ زُرُوْعٍ وَّمَقَامٍ کَرِیْمٍ وَنِعْمَۃٍ کَانُوْا فِیْہَا فٰکِھِیْنَ } (الدخان : 25-27) ۔ سو اس میں بڑا سامان عبرت و بصیرت ہے ہر اس شخص کے لئے جو نصیحت پکڑنا چاہے۔ اور یہ درس ہے کہ اصل چیز مادی ترقی نہیں بلکہ روحانی اور باطنی ترقی ہے ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 7:139176 کفر و شرک کا انجام ہلاکت و بربادی ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت موسیٰ نے ان لوگوں کے اس بیہودہ مطالبے کے جواب میں ان سے کہا کہ بیشک تباہ ہو کر رہنے والا ہے وہ سب کچھ جس میں یہ لوگ محض اپنے وہم باطل کی وجہ سے پڑے ہیں۔ اور باطل ہیں وہ تمام اعمال جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔ تو پھر بھی تم لوگ مجھ سے اس کی درخواست کرتے ہو اور وہ بھی میرے سامنے، اور مجھ ہی سے۔ اور اس قدر صراحت اور ڈھیٹ پنے کے ساتھ ؟ واقعی تم بڑے ہی کوڑھ مغز اور ناشکرے لوگ ہو کہ توحید خداوندی کے عقیدئہ صافیہ سے آگہی و سرفرازی کے بعد ایسی حماقت کا ارتکاب کرتے اور اس قدر ڈھٹائی کے ساتھ شرک اور بت پرستی کا مطالبہ کرتے ہو۔ کفر و شرک کا انجام بہرحال تباہی ہے۔ بہرکیف حضرت موسیٰ نے ان لوگوں سے فرمایا کہ یہ لوگ جو کچھ کر رہے ہیں وہ سب بہرحال تباہ و برباد ہو کر رہنے والا ہے۔ اس لئے کہ یہ سب کچھ یکسر بےبنیاد اور سراسر باطل ہے۔ اور باطل کا انجام یہی ہے کہ اس نے بالآخر مٹ کر رہنا ہے۔ سو تم لوگ کیسی بےہودہ اور تباہ ہونے والی چیز کا مطالبہ کر رہے ہو ؟۔ آخر تمہاری عقلوں کو کیا ہوگیا اور تمہاری مت کہاں مار دی گئی ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 7:140177 معبود برحق اللہ وحدہٗ لاشریک کے سوا کوئی نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت موسیٰ نے ان لوگوں سے مزید کہا کہ کیا میں اللہ کے سوا تمہارے لیے کوئی اور معبود تلاش کرلوں حالانکہ اسی وحدہ لا شریک نے تم لوگوں کو فضیلت بخشی ہے سب جہانوں پر۔ یعنی جب معبود حقیقی اس وحدہ لاشریک کے سوا کوئی ہے ہی نہیں اور اس نے تم لوگوں کو طرح طرح کے انعامات اور احسانات سے بھی نوازا ہے تو پھر یہ کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ میں اس خالق ومالک حقیقی اور معبود برحق کے سوا تمہارے لئے کوئی اور معبود تلاش کروں ؟ کہ اس کے سوا کوئی معبود ہے ہی نہیں۔ سو تم لوگ ذرا سوچو کہ تمہارے رب نے اپنی ہدایت اور شریعت کے لئے تمہارا انتخاب کر کے تم کو کس قدر عظمت اور فضیلت سے نوازا ؟ تو کیا میں تمہارے لئے اس خدا کو چھوڑ کر کوئی اور معبود تلاش کروں ؟ سو ذرا تم لوگ سوچو کہ اس سے بڑھ کر ناشکری اور بےانصافی اور کیا ہوسکتی ہے ؟ تو پھر میں تمہارا یہ بیہودہ مطالبہ آخر کس طرح مان سکتا ہوں ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 7:141178 نجات دہندہ اور مشکل کشا سب کا اللہ ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ بھی یاد کرو کہ جب ہم نے تم کو نجات دی تھی فرعون والوں سے کہ نجات دہندہ اور حاجت روا و مشکل کشا سب کے ہم ہی ہیں۔ اور جب موسیٰ جیسے عظیم الشان اور جلیل القدر پیغمبر بھی حاجت روا ومشکل کشا نہیں، بلکہ وہ بھی مشکلات و مصائب سے رہائی پانے کے لیے ہمارے ہی محتاج ہیں تو پھر اور کون ہے جو کسی کا حاجت روا و مشکل کشا ہوسکے ؟ سو غلط کہتے اور شرک کا ارتکاب کرتے ہیں وہ لوگ جنہوں نے اللہ وحدہ لا شریک کے سوا بغیر کسی سند و دلیل کے طرح طرح کے حاجت روا و مشکل کشا ازخود گھڑ رکھے ہیں۔ سو اس ارشاد سے ان کو تذکیر و یاددہانی فرمائی گئی کہ جب تمہارے مشکل کشا اور حاجت روا ہم ہی ہیں اور فرعون کی غلامی سے نجات ہم ہی نے تم لوگوں کو دلائی تو پھر تم لوگ کسی اور خود ساختہ معبود کا مطالبہ آخر کس طرح کرتے ہو ؟۔ پس حاجت روا و مشکل کشا سب کا اللہ وحدہ لا شریک ہی ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 7:142179 بنی اسرائیل کے لئے دستور حیات کا انتظام : کہ دستور حیات اور کتاب شریعت کی ضرورت سب سے بڑھ کر ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے تمہارے لیے اس کا بھی انتظام کیا تاکہ تم کو دستور حیات اور کتاب شریعت یعنی تورات سے نوازیں، جس کی تعلیمات مقدسہ کی روشنی میں تم لوگ پاکیزہ زندگی گزار کر دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہو سکو کہ انسان کیلئے دستور حیات اور کتاب شریعت کی ضرورت کھانے پینے کی ظاہری اور مادی ضرورتوں سے بھی کہیں بڑھ کر ہے۔ اس لیے اللہ پاک نے اپنے بندوں کیلئے ہمیشہ اس کا بھی انتظام فرمایا ہے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت موسیٰ کو دستور و شریعت سے نوازنے کے لئے ہدایت ہوئی کہ تیس دن کے لئے کوہ طور کے ایک مخصوص مقام پر حاضر ہوں اور وہاں پر آپ ﷺ وقت مقرر سے بھی پہلے پہنچ گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی حکمت و تربیت کے تقاضوں کے مطابق اس مدت کو تیس دن سے بڑھا کر چالیس دن کردیا گیا۔ سو اس سے اس اہتمام کو بیان فرما دیا گیا جو حضرت موسیٰ کو کتاب دینے کے لئے کیا گیا تھا ۔ والحمد للہ جل وعلا -
180 حضرت ہارون (علیہ السلام) کی خلافت کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کوہ طور کے سفر پر روانہ ہوتے وقت حضرت موسیٰ نے حضرت ہارون سے فرمایا کہ آپ میرے پیچھے میری قوم میں میری جانشینی کرنا اور حضرت ہارون وہ ہیں جن کو آپ (علیہ السلام) کی درخواست ہی پر آپ (علیہ السلام) کی معاونت کے لئے آپ کا وزیر بنایا گیا تھا۔ تاکہ راہ حق میں دونوں ملکر کام کریں۔ چناچہ حضرت موسیٰ ان کو اپنی غیر موجودگی کے دوران اپنا خلیفہ و جانشین بناکرگئے اور ان کو اس موقع پر اہم اور بنیادی نصیحتیں فرمائیں ۔ عَلَیْہِمَا الصَّلوۃُ وَالسَّلام ۔ سو اس سے اس اہتمام کا پتہ چلتا ہے جو حضرت موسیٰ نے اپنی وقتی غیبت کے دوران بنی اسرائیل کی نگرانی اور ان کے دین و ایمان کی حفاظت کے لئے فرمایا۔ کیونکہ آنجناب (علیہ السلام) نے اس قوم کی ہدایت و اصلاح کے لئے بڑی محنت فرمائی اور اپنی محنت کی حفاظت کا خیال و اہتمام ایک طبعی اور فطری امر ہے۔ اس لئے حضرت موسیٰ نے اپنے وقت غیاب کے دوران حضرت ہارون کو اس ضمن میں اپنا خلیفہ اور نائب بنایا اور ان کو اس بارے خاص ہدایات فرمائیں ۔ عَلٰی نبینا وعلیہما الصلوٰۃ والسلام -
181 قوم کی اصلاح اور خیرخواہی کی سب سے اہم ذمہ داری کی تفویض : دسو حضرت موسیٰ نے ان سے فرمایا کہ آپ اصلاح کرتے رہنا ان لوگوں کی دعوت و تبلیغِ حق اور امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے ذریعے۔ تاکہ یہ لوگ کہیں راہ صدق و صواب سے پھسل نہ جائیں۔ سو اس سے پیغمبر کے اپنی امت کے بارے میں جذبہ خیرخواہی کا بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ بہرکیف حضرت موسیٰ نے اپنی اس وقتی غیبت کے دوران حضرت ہارون کو جو کہ آپ (علیہ السلام) سے عمر میں بڑے تھے اور جن کے بارے میں آپ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعاء کی تھی کہ ان کو میرا وزیر اور نائب بنادیا جائے اور ان کو میری قوت کا ذریعہ بنا کر میرے کام میں شریک بنادیا جائے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَاجْعَلْ لِیْ وَزِیْراً مِّنْ اَھْلِیْ ھٰرُوْنَ اَخِیْ اُشْدُدْ بِہٖ اَزْرِیْ وَاَشْرِکُہُ فِیْ اَمْرِیْ } (طٰہٓ: 29ـ ۔ 33) سو حضرت موسیٰ نے ان کو اپنی اس وقتی غیر حاضری کے عرصے کے لیے اپنا خلیفہ اور نائب بنادیا۔ اور ان کو قوم کی اصلاح کی اہم ذمہ داری تفویض فرمائی۔
182 مفسدوں کی پیروی سے ممانعت : سو حضرت موسیٰ نے اپنی ہدایات کے ضمن میں حضرت ہارون سے مزید فرمایا کہ آپ مفسدوں کی پیروی نہیں کرنا۔ جو کہ کفر و شرک اور معصیت و نافرمانی کا ارتکاب کرکے اللہ کی زمین میں خرابی و فسادبرپا کریں۔ سو ان کی پیروی نہیں کرنا کہ ان کی پیروی باعث ہلاکت و خرابی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو حضرت موسیٰ کے اس ارشاد سے کہ آپ مفسدوں کی پیروی نہیں کرنا یہ امر مترشح ہوتا ہے کہ قوم کے اندر کچھ ایسے فسادی عناصر موجود تھے جن سے حضرت موسیٰ آگاہ تھے۔ اور ان کی پچھلی کارستانیوں کی بناء پر حضرت موسیٰ کو ان کی طرف سے فساد کا اندیشہ تھا۔ اس لئے آپ نے حضرت ہارون کو خاص طور پر یہ ہدایت فرمائی کہ اگر یہ عناصر کوئی فتنہ اٹھانے کی کوشش کریں تو اس کو چلنے نہیں دینا۔ یہاں سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ پیغمبر نہ ہر جگہ حاضر و ناظر ہوتے ہیں اور نہ عالم غیب اور نہ مختار کل۔ جس طرح کہ ہمارے یہاں کے بعض لوگوں کا کہنا اور ماننا ہے۔ کیونکہ اگر ان میں سے کوئی بھی بات ہوتی تو نہ تو حضرت موسیٰ کو اپنی اس غیر حاضری کے پیچھے کسی کو اپنا خلیفہ بنانے کی ضرورت ہوتی اور نہ ہی آپ اپنے بعد اشرار و مفسدین کے بارے میں اس طرح فکرمند ہوتے۔
Ayahs 7:143–145183 حضرت موسیٰ کی اپنے رب سے دیدار کی درخواست : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب موسیٰ ہمارے مقرر کردہ وقت پر پہنچ گئے اور ان کے رب نے ان سے کلام فرمایا تو اس موقع پر موسیٰ نے یہ درخواست پیش کردی۔ سو کوہ طور پر اپنے رب سے ہم کلامی کے شرف سے مشرف ہونے کے بعد حضرت موسیٰ کے دل میں اپنے رب کی دید و زیارت کا بھی شوق پیدا ہوا۔ لذت تکلم ربّانی سے مخمور و سرشار اور فرط شوق و محبت سے متاثر و مغلوب ہو کر۔ اور ظاہر ہے کہ اپنے رب اور اپنے خالق ومالک کی دید و زیارت سے بڑھ کر محبوب چیز اور کیا ہوسکتی ہے ؟ اور حضرت موسیٰ کلیم اللہ سے بڑھ کر اس کا اشتیاق اور کس کو ہوسکتا ہے ؟ اس لئے آنجناب نے بےساختہ اپنی یہ درخواست حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی بارگہ اقد و اعلی میں پیش کردی۔
184 لذت دید سے سرفرازی کی التجا : سو آپ نے حق تعالیٰ کی بارگہ اقدس میں عرض کیا کہ اے میرے رب مجھے اپنا دیدار بھی کرا دیجیے تاکہ میں اپ کو دیکھ سکوں۔ تاکہ اس طرح حلاوت کلام و گفتار سے سرفراز ہونے کے ساتھ ساتھ لذت زیارت و دیدار سے بھی سرفرازی و شاد کامی نصیب ہو سکے۔ سو حضرت موسیٰ نے اس بناء پر کہ جس ذات اقدس و اعلیٰ کا کلام سامعہ نواز ہوا اس کا دیدار بھی باصرہ نواز ہوجائے، اپنی یہ عرض والتجاء پیش کردی کہ اے میرے رب مجھے اپنی ذات اقدس و اعلیٰ کا دیدار کرا دیجئے تاکہ میں دیکھ سکوں۔ اور ہم کلامی کے شرف کے ساتھ ساتھ شرف دید سے بھی مشرف ہو سکوں۔
185 مخلوق کا اس دنیا میں رویت باری سے عجز : سو اس درخواست کے جواب میں ارشاد ہوا کہ موسیٰ تم مجھے نہیں دیکھ سکو گے کہ مخلوق کے بس میں نہیں کہ وہ اپنی ان عاجز و قاصر اور محدود نگاہوں سے حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کا اس دنیا میں دیدار کرسکے۔ البتہ آخرت میں اس کو یہ شرف نصیب ہوگا کہ وہاں مومن کو ایک نئی زندگی اور نئی اٹھان ملے گی اور وہاں اس کے قوائے علم و ادراک اور ہوں گے۔ اور وہاں پر رویت باری جنت کی سب سے بڑی نعمت ہوگی، جیسا کہ آثار و روایات میں مفصلاً مذکور ہے۔ اس لئے وہاں یہ نعمت عظمیٰ نصیب ہوجائے گی ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔ بہرکیف حضرت موسیٰ کا یہ شوق چونکہ ایک فطری اور طبعی امر تھا، اس لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر حضرت موسیٰ کی ملامت نہیں فرمائی گئی۔ بلکہ یہ فرمایا گیا کہ ان ناسوتی آنکھوں سے اور اس دنیا میں انسان خداوند قدوس کی زیارت نہیں کرسکتا۔ صرف اس کی صفات کے مظاہر ہی دیکھ سکتا ہے کہ اس کی ذات اقدس و اعلی بہت ہی بلند ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہ اپنی عنایات سے زیادہ سے زیادہ سرفراز فرمائے ۔ آمین۔
186 تجلیِ ربّانی کی عظمت شان کا ذکر وبیان : سو حضرت موسیٰ سے ان کے تسلیہ و تسکین کے لیے ارشاد فرمایا گیا کہ آپ اس پہاڑ کو دیکھیں۔ اگر یہ ہماری تجلی کی ایک جھلک کو سہار گیا اور اپنی جگہ پر برقرار رہ سکا تو پھر تم مجھے دیکھ سکو گے۔ اور اگر پہاڑ جیسی ٹھوس اور سخت مخلوق بھی اس وحدہ لاشریک کی تجلی کی ایک کرن پڑنے سے اپنی جگہ برقرار نہ رہ سکے تو پھر انسان ضعیف البنیان کی کیا جان کہ وہ اپنی ان کمزور اور محدود نگاہوں سے اس کی دید و زیارت کا تحمل کرسکے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس سے تجلی ربانی کی عظمت شان کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ سو حضرت موسیٰ کو یہ مشاہدہ ان کے اطمینان کے لئے کرایا گیا کہ خداوند قدوس کی تجلی ذات کی تاب جب کوہ و جبل بھی نہیں لاسکتے، جو کہ ٹھوس اور جامد ہونے کے اعتبار سے ضرب المثل کی حیثیت رکھتے ہیں، تو پھر انسان ضعیف البنیان کی کیا جان کہ وہ اس کی تاب لاسکے ؟۔ سو حق تعالیٰ کی شان بہت ہی بلند اور اعلیٰ وبالا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس کو ویسا مانا جائے جیسا وہ اپنے بارے میں خود بتائے اور اس کا رسول بتائے۔
187 حضرت موسیٰ کی توبہ اور تنزیہہ ربانی کا اعلان : سو حضرت موسیٰ نے ہوش میں آنے کے بعد عرض کیا کہ پاک ہے تو اے میرے مالک ! ہر نقص و عیب اور ہر شائبہ محدودیت سے۔ اور اس سے کہ اس دنیا میں کوئی اپنی عاجز اور قاصر ناسوتی آنکھوں سے تیری زیارت و دید سے بہرہ مند ہوسکے۔ میں توبہ کرتا اور معافی کا خواستگار ہوں اور میں سب سے پہلے اس پر ایمان لانے والا ہوں۔ کیونکہ پیغمبر اپنی امت کا مقتداء و پیشوا ہوتا ہے اور اس کا ایمان و یقین اس کی امت کیلئے مشعل راہ اور مینارئہ نور ہوتا ہے۔ بہرکیف موسیٰ نے عرض کیا کہ میں سب سے پہلے اس پر ایمان لاتا ہوں کہ تیری ذات ہماری آنکھوں کی دید اور مشاہدہ سے اعلیٰ وبالا ہے ۔ تبارکتَ و تعالیتَ ۔ سو یہ حضرات انبیاء کرام کی شان عبدیت وانابت کا نمونہ ہے ۔ علیہم الصلاۃ والسلام -
Ayah 7:146192 کبر و غرور باعث خسران و محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ میں پھیر دوں گا اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو ناحق طور پر تکبر کرتے ہیں اللہ کی زمین میں۔ پس تکبر و استکبار سبب حرمان اور باعث محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اللہ پاک کے حضور عجز و انکسار، رفعت شان کا ذریعہ و وسیلہ ہے جیسا کہ ارشاد نبوی میں فرمایا گیا ہے " مَنْ تَوَاضَعَ لِلّٰہِ رَفَعَہُ اللّٰہُ " کہ عظمت وکبریائی اسی وحدہ لاشریک کا حق اور اسی کی شان ہے۔ بندہ کی عظمت اپنی عبدیت و بندگی میں کمال پیدا کرنا ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ اللہ کی زمین پر رہنے بسنے کے باوجود اس سے بےنیازی برتیں گے، وہ اللہ تعالیٰ کی ان ہدایات کو اپنانے کی توفیق سے محروم ہوں گے۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
193 ہٹ دھرمی موجب خزی و حرمان ۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ کبر و غرور اور عناد وہٹ دھرمی موجب خزی و رسوائی اور باعث ہلاکت و تباہی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں طلب و تلاشِ حق دارین کی سعادت سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ کیونکہ ایمان کی توفیق وسعادت انہی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جن کے دلوں میں حق کی طلب و تلاش ہوتی ہے۔ اور یہ لوگ اپنی شقاوت و بدبختی اور ضدو ہٹ دھرمی کی بناء پر اس سے بےبہرہ اور محروم ہوتے ہیں۔ تو پھر ان کو نور ایمان اور دولت ہدایت و یقین سے سرفرازی کس طرح اور کیونکر نصیب ہوسکتی ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو طلب و تلاشِ حق دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ اور اس سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس عناد و ہٹ دھرمی باعث محرومی و خسارہ اور موجب خزی و رسوائی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
194 غفلت و لاپرواہی خرابیوں کی خرابی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان منکر اور معاند لوگوں کا یہ حال و مآل اس لیے ہے کہ انہوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور یہ ان سے غفلت اور لاپرواہی برتنے والے لوگ تھے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی تکذیب یعنی ان کو جھٹلانا اور ان سے غفلت و لاپرواہی برتنا سب خرابیوں اور فتنوں کی جڑ بنیاد ہے۔ مگر افسوس کہ آج غیر تو غیر رہے خود مسلمان کہلانے والوں کا ایک بڑا طبقہ اسی مرض کا مریض اور اسی وباء کا شکار ہے جس کے مظاہر یہاں اور وہاں جگہ جگہ اور طرح طرح سے نظر آتے ہیں۔ مگر اس ام الامراض کا کسی کو احساس و شعور بھی نہیں ۔ اِلا مَا شَآئَ اللّٰہُ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں کی یہ حالت اور محرومی اس بات کا نتیجہ ہوتی ہے کہ یہ لوگ خدا تعالیٰ کی نشانیوں کو جھٹلاتے اور ان سے لاپرواہی برتتے ہیں۔ ان کے پاس اگر واضح سے واضح نشانی بھی آجائے تو یہ اس کو جھٹلا دیتے ہیں۔ اس وجہ سے یہ حق و ہدایت کی راہ سے دور بھاگتے ہیں۔ اور ان کو اگر گمراہی کی دعوت دی جائے تو اس کو یہ فوراً اپنا لیتے ہیں لیکن یہ حق کی دعوت کو ماننے اور قبول کرنے کے لیے تیارہ نہیں ہوتے ۔ الا ماشاء اللہ ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 7:147195 منکروں کے سب عمل حبط و اکارت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اکارت چلے گئے ان کے سب عمل یعنی ان کے وہ عمل جو ایسے لوگ نیکی اور بھلائی سمجھ کر کرتے رہے تھے، جیسے غریبوں کی مدد کرنا، رفاہی ادارے قائم کرنا اور عام لوگوں کے لئے ہسپتال اور سڑکیں وغیرہ بنانا کہ انہوں نے یہ کام سچے ایمان و یقین کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ کی رضاء و خوشنودی کے لئے سرے سے کئے ہی نہیں تھے۔ کہ اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ان کا صدق دل سے اور صحیح معنوں میں ایمان تھا ہی نہیں اور ہوتا ہی نہیں الا ماشاء اللہ ۔ انہوں نے جو بھی کچھ کیا وہ محض دنیاوی اغراض و مقاصد کے پیش نظر ہی کیا۔ اور دنیا میں ان کو ایسے کاموں کا بدلہ طرح طرح سے دیا جا چکا اور بس۔ آخرت میں ان کیلئے نہ کوئی صلہ نہ بدلہ سو ائے دوزخ کی دہکتی بھڑکتی آگ کے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ ایسے لوگ چونکہ اللہ کی آیتوں اور آخرت کی ملاقات اور پیشی کو جھٹلاتے ہیں اس لئے ان کی زندگی کا رخ ہی بدل جاتا ہے۔ اور اس صورت میں ان کا کوئی بھی عمل آخرت اور خدا تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے لئے ہو ہی نہیں سکتا۔ سو ایسے میں یہ لوگ جو بھی کوئی کام کریں گے وہ اسی دنیاوی زندگی اور اس کے فانی اور محدود مفادات ہی کے لئے کریں گے۔ اس لئے آخرت میں ان کے کسی عمل کی کوئی قدر و قیمت ہو ہی نہیں سکتی کہ وہاں پر قیمت اسی عمل کی ہوسکتی ہے جو اللہ کے لئے کیا جائے۔ اور ایمان و یقین اور صدق و اخلاص کے ساتھ کیا جائے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ سبحانہ وتعالی -
196 انسان کو اپنے کیے ہی کا بدلہ ملے گا : سو ارشاد فرمایا کہ ان لوگوں کو بدلہ نہیں ملے گا مگر ان کے انہی کاموں کا جو یہ خود کرتے رہے تھے۔ پس ایسے لوگ اپنے کئے کرائے کی سزا پانے پر اپنے سوا اور کسی کو ملامت نہ کریں، جیسا کہ مشہور حدیث قدسی میں فرمایا گیا کہ جو کوئی اپنے نامہ اعمال میں اچھے عمل اور نیکیاں پائے وہ اللہ کا شکر ادا کرے کہ اسی کی توفیق و عنایت سے اس کو یہ سعادت نصیب ہوئی۔ اور جس کا معاملہ اس کے برعکس ہو وہ اپنے سوا کسی کو برا نہ کہے کہ اسکا ذمہ دار وہ خود ہے " فَمَنْ وجَدَ خَیْرًا فَالْیَحْمَدِ اللّٰہَ ، وَمَنْ وَجَدَ غَیْرَ ذَالِکَ فَلَا یَلُوْمَنَّ الاّ نَفْسہ " سو منکرین آخرت کے جو اعمال اکارت چلے گئے اس کے ذمہ دار یہ لوگ خود ہیں کہ انکار آخرت کے جس جرم کی بناء پر ان کے اعمال اکارت چلے گئے اس کا ارتکاب انہوں نے خود کیا تھا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین۔