7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 7:54

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١۫ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ یَطْلُبُهٗ حَثِیْثًا١ۙ وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمْرِهٖ١ؕ اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ١ؕ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:54 in the Quran reader

بیشک تمہارا رب وہی اللہ ہے جس نے پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین (کی اس عظیم الشان کائنات) کو چھ دنوں میں، پھر وہ جلوہ فرما ہوا عرش پر، وہ ڈھانک دیتا ہے رات کو دن پر، پھر دن رات کے پیچھے آتا دوڑتا ہوا1 اور اسی نے پیدا فرمایا سورج چاند اور ستاروں کو، اس حال میں کہ یہ سب تابع ہیں اس کے فرمان کے، آگاہ رہو کہ اسی کے لیے ہے خلق بھی اور امر بھی2 (سو) بڑا ہی برکت والا ہے اللہ جو پروردگار ہے سارے جہانوں کا،

75 تخلیقِ کائنات کے چھ دنوں سے مقصود و مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ تمہارا رب وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کی اس عظیم الشان کائنات کو چھ دنوں میں پیدا فرمایا۔ اور اللہ تعالیٰ کے ان چھ دنوں کی حقیقت و مقدار کو وہی جانتا ہے کہ اس کے یہاں تو ایک دن ایک ہزار سال کا ہوتا ہے ۔ { وَاِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّکَ کَاَلْف سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ } ۔ (الحج : 47) ۔ دنیا کے یہ معروف دن جو ہمارے یہاں کے حساب سے شب و روز کے سلسلے میں سمجھے جاتے ہیں یہ تو بہرحال اس سے مراد نہیں ہوسکتے کہ یہ تو سورج کے طلوع و غروب سے ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ جبکہ یہاں قصہ ان کے وجود میں آنے سے بھی پہلے کا بیان ہو رہا ہے۔ پھر اس قادر مطلق ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کی شان تو " کُنْ فَیَکُوْن " کی شان ہے کہ جو کچھ کرنا چاہا اس کا حکم دیا اور وہ ہوگیا۔ مگر اس کے باوجود زمین و آسمان کے اس کارخانہء ہست و بود کو جو اس نے چھ دنوں میں پیدا فرمایا تو اس میں اس کی دوسری کئی حکمتیں کارفرما ہیں جن کا احاطہ بھی وہی وحدہ لاشریک کرسکتا ہے۔ جن میں سے ایک یہ ہے کہ ِاس سے انسان کو تدریج وَتَانّی کا درس دیا گیا ہے " وَفِیْہِ حَثٌّ عَلَی التَّأَنِّیْ فِی الاُمُوْرِ " (محاسن التاویل) بہرکیف ان چھ دنوں سے مراد وہ معروف چھ دن نہیں جو ہمارے ہاں سورج کے طلوع و غروب سے بنتے ہیں بلکہ ان سے مراد وہ خدائی چھ دن ہیں جن کی اصل حقیقت وہی وحدہ لاشریک جانتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ - 76 کائنات پر حاکم و متصرف بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اس کائنات کا خالق ومالک بھی اللہ تعالیٰ ہے اور اس میں حاکم و متصرف بھی وہی وحدہ لاشریک ہے۔ پس وہ عرش پر مستوی ہوا تاکہ وہ اپنی تخلیق فرمودہ اس عظیم الشان کائنات پر حکومت و تصرف فرمائے اور اس کا نظام چلائے کہ جس طرح اس ساری کائنات کا خالق اور موجد بلا شرکت غیرے وہی وحدہ لاشریک ہے اسی طرح اس کا مالک و کارساز اور اس میں حاکم و متصرف بھی وہی ہے { الَا لَہُ الْخَلْقُ وَالْامر } یہ نہیں کہ اس کو پیدا کر کے اس نے اس کو یونہی چھوڑ دیا ہو یا کچھ دوسری ہستیوں کے حوالے کردیا ہو، جیسا کہ بہت سے گمراہوں کا خیال ہے۔ رہ گئی یہ بات کہ عرش پر اس کا یہ استواء کیسا ہے ؟ اور اس کی کنہ اور حقیقت کیا ہے ؟ تو اس کو وہی وحدہ لاشریک جان سکتا ہے۔ ہم تو بس یہی کہتے ہیں کہ اس سے وہی معنیٰ مراد ہوسکتا ہے جو اسکی شان اقدس و اعلی کے لائق ہو۔ یہی طریقہ ہے حضرات سلف صالحین کا اور یہی راستہ ہے صحت و سلامتی کا۔ بہرکیف اس ارشاد سے مشرکین کے شرک اور ان کی مشرکانہ میتھالوجی کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی کہ مشرک لوگوں کا کہنا ماننا یہ تھا، اور یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق فرما کر اس کے مختلف شعبوں کے انتظام و انصرام کو اپنے دوسرے کارندوں میں تقسیم کردیا ہے۔ اب ان کے کرتا دھرتا اور اصل ذمہ دار وہی ہیں۔ اسی لئے ان کی عبادت ضروری ہے۔ اگر ان کو راضی نہ کیا گیا تو ہمارا کام نہیں بنے گا۔ اور وہ اوروں کی سنتا نہیں ان کی رد نہیں کرتا۔ اس لئے ایسے لوگ انہی شرکاء کو واسطہ و وسیلہ اور حاجت روا و مشکل کشا سمجھ کر پوجتے پکارتے ان کے لئے نذریں مانتے، نیازیں دیتے، ان کے آستانوں پر چڑھا وے چڑہاتے، ان کے طواف کرتے، ان کے لئے پھیرے مانتے اور انکے لیے سجدے تک کرتے ہیں۔ اور اس غلط مفروضے اور شرکیہ میتھالوجی کی بناء پر ایسے لوگ طرح طرح کی شرکیات کا ارتکاب کرتے ہیں۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ سب کچھ غلط اور بےبنیاد ہے۔ اور اس پوری کائنات پر حکم و تصرف اللہ ہی کا ہے۔ 77 رات اور دن قدرت کے دو عظیم الشان نشان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ڈھانک دیتا ہے رات کو دن پر۔ پھر دن اس کے پیچھے دوڑتا ہوا چلا آتا ہے۔ سو رات کی سیاہ چادر اور دن کا آنکھیں کھولتا اجالا قدرت کے دو عظیم الشان نشان ہیں : سو وہ اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے رات کی سیاہ چادر کو دن کے اجالے پر اس طرح ڈھانک دیتا ہے کہ جہاں رات آئی دن وہاں سے غائب۔ لیکن ایسا نہیں ہوتا کہ دن ہمیشہ کے لئے غائب ہوجائے اور تمہاری زندگی دوبھر ہوجائے، بلکہ اس وحدہ لاشریک کی قدرت کاملہ، رحمت شاملہ اور عنایت بالغہ سے وہ اس کے پیچھے پیچھے ہی ایسا دوڑتا چلا آتا ہے کہ جہاں جہاں سے شب تاریک کی ظلمت و سیاہی کی چادر سرکتی گئی، اجالائے دن کی کرنیں وہاں پھیلتی گئیں۔ سو دیکھو تو سہی اے دیدئہ بینا رکھنے والو ! کہ دن رات کے اس حیرت انگیز ہیر پھیر اور ادل بدل میں کس قدر عظیم الشان نشانات ہیں اس کی قدرت کاملہ، رحمت شاملہ، حکمت بالغہ اور عنایت بےغایت کے۔ تاکہ دن رات کی ان حالتوں سے متعلق و وابستہ اس کے بندوں کی ضرورتیں اور مصلحتیں نہایت سہولت اور پوری باقاعدگی سے پوری ہوتی رہیں ۔ { فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ } ۔ سو یہ اس کی قدرت و حکمت اور وحدانیت ویکتائی کے ایسے عظیم الشان نشان ہیں جو ہر وقت تمہارے ساتھ رہتے ہیں اور اپنی زبان حال سے پکار پکار کر تمہیں دعوت غور و فکر دے رہے ہیں کہ نہ یہ کارخانہ قدرت بیکار و بےمقصد ہوسکتا ہے اور نہ اس سے مستفید و فیضیاب ہونے والا یہ انسان بیکار و بےمقصد ہوسکتا ہے۔ نیز جب اس خالق ومالک نے تمہاری جسمانی اور مادی ضرورتوں کی تکمیل کیلئے ایسا محیر العقول انتظام فرمایا ہے تو کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ تمہاری معنوی اور روحانی ضرورتوں کی تکمیل کیلئے کوئی انتظام نہ فرمائے ؟ جبکہ ان میں اصل تو روحانی ضرورتیں ہی ہیں۔ اور جب اس کی ان رحمتوں اور عنایتوں کی عطاء و بخشش میں کوئی اسکا شریک وسہیم نہیں تو پھر اسکی عبادت و بندگی میں کوئی اسکا شریک کیسے ہوسکتا ہے ؟ نیز اس سے یہ عظیم الشان حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ دن رات کے اس ادل بدل اور ہیر پھیر کا یہ سلسلہ اس کائنات ہست و بود اور اس جہاں رنگ و بو میں ہر وقت اور ہر لمحہ و لحظہ مسلسل و لگاتار جاری وساری ہے۔ کہیں رات ہے کہیں دن۔ کہیں صبح ہے کہیں شام۔ کہیں سورج ڈوب رہا ہے اور کہیں طلوع ہو رہا ہے۔ اور رات دن کے ہیر پھیر کا یہ عمل نہایت پابندی اور پر حکمت طریقے سے اور ایسا لگاتار چلا جا رہا ہے کہ پوری مخلوق میں سے کسی کا بھی اس میں ذرہ برابر کوئی عمل دخل نہیں۔ تو پھر کس قدر احمق اور کتنے ظالم ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق فرما کر اس کے نظام کو دوسرے مختلف خود ساختہ معبودوں اور شریکوں کے حوالے کردیا ہے اور اب وہی اس کو چلا رہے ہیں۔ اور یہ کہ ہمارا اصل واسطہ اور تعلق اب انہی کے ساتھ ہے۔ ہماری ان کے آگے اور ان کی اس کے آگے وغیرہ وغیرہ ۔ { فَتْعَالَی اللّٰہ عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا کَبیْراً } سو ایسے لوگ اس طرح کی مشرکانہ باتوں سے بہت بڑے جھوٹ کا ارتکاب کرتے ہیں اور اس طرح یہ خود اپنی تذلیل و تحقیر اور ہلاکت و تباہی کا سامان کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ { اِنْ یَقُوْلُوْنَ اِلَّا کَذِبًا } -
Ayah 7:55

اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَۚ Open ayah 7:55 in the Quran reader

پکارو تم لوگ (اپنی ہر ضرورت کے لئے، اور ہر حال میں) اپنے رب ہی کو، عاجزی کے ساتھ اور پوشیدہ طور پر، بیشک وہ پسند نہیں کرتا حد سے بڑھنے والوں،

78 دعا کے دو اہم آداب کی تعلیم و تلقین یعنی تضرع اور اخفا : سو یہ دعا کے دو اہم آداب ہیں جو اس آیت کریمہ میں ارشاد فرمائے گئے ہیں کہ دعاء عاجزی وزاری کے ساتھ ہو تاکہ ربِّ رحمن کی رحمت کو کھینچے اور متوجہ کرے۔ اور دوسرے یہ کہ دعاء خفیہ و پوشیدہ ہو تاکہ اس میں ریارء و نمود اور دکھلاوا نہ پیدا ہوجائے۔ اور نبی اکرم ۔ ﷺ ۔ نے اپنے ارشادات عالیہ سے دعاء کے ان دونوں ادبوں کو طرح طرح سے واضح فرمایا ہے۔ چناچہ تضرع و انکساری کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ " اپنی دعاؤں میں رویا کرو اور اگر رونا نہ آئے تو رونے کی کوشش کیا کرو اور رونے کی شکل ہی بنا لیا کرو " جبکہ دوسرے ادب یعنی پوشیدہ دعاء کے بارے میں بھی آپ ﷺ نے طرح طرح سے تعلیم و تلقین فرمائی۔ مثلاً صحیحین میں حضرت ابو موسیٰ اشعری ۔ ؓ ۔ سے مروی ہے کہ ایک موقع پر جب ذکر و دعاء کے دوران حضرات صحابہء کرام ۔ علیہم الرحمۃ والرضوان ۔ میں سے بعض حضرات کی آوازیں بلند ہوگئیں تو آنحضرت ۔ ﷺ ۔ نے ان کو تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ " لوگو، اپنی جانوں پر رحم کرو، تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے، بلکہ جس کو تم لوگ پکار رہے ہو وہ تمہارے ساتھ ہے، اور وہ ہر کسی کی سنتا اور نہایت قریب ہے " (بخاری، کتاب الجہاد، باب مایکرہ من رفع الصوت فی التکبیر، مسلم، کتاب الذکر و الدعا والتوبۃ والاستغفار) ۔ نیز آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ " سب سے اچھا ذکر وہ ہے جو پوشیدہ ہو اور سب سے اچھی روزی وہ ہے جو بدرجہ کفایت ہو " " خَیْرُ الذِّکْرِ الْخَفِیُّ وَخَیْرُ الرِّزْقِ مَا یَکْفِیْ "۔ نیز آپ ﷺ نے فرمایا کہ پوشیدہ دعا ستر علانیہ دعاؤں کے برابر ہوتی ہے " دَعْوَۃُ السِّرِّ تَعْدِلُ سَبْعِیْنَ دَعْوَۃً فِی الْعَلانِیَۃ "۔ مگر افسوس کہ اس سب کے باجود اور ان تمام تعلیمات مقدسہ کے برعکس آج امت کا معاملہ اس سے یکسر مختلف ہے۔ ان میں کتنی ہی تعداد ایسوں کی ہے جن کا عمل ان دونوں امور میں ان تعلیمات مقدسہ کے خلاف اور اس کے برعکس ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اخفاء دعا کے آداب میں سے ایک اہم ادب ہے۔ اور سلف سے خلف تک اللہ والے ہمیشہ اس کا خاص اہتمام کرتے رہے۔ چناچہ حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ ہم نے کتنے ہی ایسے اللہ والوں کو دیکھا ہے جو دعاء کا بہت اہتمام کرتے تھے اور اس کیلئے وہ بہت مشقت اٹھاتے تھے، مگر اس کے باوجود ان کی دعاء کی آواز کوئی سن نہیں سکتا تھا، بلکہ ان کی دعاء درحقیقت ایک سرگوشی ہوتی تھی جو ان کے اور ان کے رب کے درمیان ہوتی تھی۔ (المراغی وغیرہ) ۔ دعاء کے بارے میں مزید اہم آداب ہم نے کتاب و سنت کی روشنی میں اپنی کتابوں " تحفہ علم و حکمت " اور " قرآن و سنت کی مقدس دعائیں " میں ذکر کردیئے ہیں، جن کے کئی ایڈیشن چھپ کر تقسیم ہوچکے ہیں ۔ والحمداللہ ۔ تفصیل کے طالب حضرات انہی کی طرف رجوع کریں ۔ وبِاللّٰہِ التَّوْفِیِقْ لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ ۔ وَھُوَا الْہَادِیْ اِلٰی سَوَا ئِ السَّبِیْل ۔ جَلَّ جَلَالُہ وَعَمَّ نَوَالُہٗ ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
Ayah 7:56

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١ؕ اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 7:56 in the Quran reader

اور زمین میں فساد مت پھیلاؤ تم لوگ اس کی درستی کے بعد،1 اور اسی (وحدہ لاشریک کو پکارو خوف اور امید سے، بیشک اللہ کی رحمت قریب ہے نیکوکاروں کے،

79 زمین میں فساد مت پھیلاؤ : نہ ظاہری طور پر اس کو اس طرح خراب کردو کہ اس سے ان مقاصد کی تکمیل نہ ہو سکے جن کے لئے خالق نے اس کو پیدا فرمایا ہے اور نہ باطنی طور پر کہ کفر و شرک اور معاصی وذنوب کا ارتکاب کر کے اس کے لئے عذاب اور تباہی سامان کرو ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ جس خالق ومالک نے تم لوگوں کو فرش زمین کی اس عظیم الشان نعمت سے نوازا ہے، اس نے اسکو تمہاری معیشت و گزران کیلئے ایسا صالح اور مناسب بنایا ہے کہ اس میں نہایت ہی پر حکمت طریقے سے تمہارے لیے طرح طرح کے سامانہائے زیست ودیعت فرما دیئے اور خود تمہارے اندر ایسی صلاحیتیں رکھیں کہ تم زمین کے ان بےحساب خزانوں سے دن رات مستفید ہوتے رہتے ہو۔ پس عقل و خرد اور عدل و انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس احسان خداوندی کی قدر کرو اور اس کی خرابی و فساد کی ہر شکل و صورت سے بچو ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو کفر و شرک اور اپنے رب سے انحراف اس کائنات کے فساد اور اس کی ہلاکت و تباہی کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ آسمان و زمین کا یہ سارا سلسلہ قائم ہی اس بناء پر ہے کہ ان کے اندر اللہ وحدہٗ لاشریک کے سوا اور کسی کے ارادے کی کوئی کارفرمائی نہیں۔ اسی لئے فرمایا گیا کہ اگر آسمان و زمین کے اندر اللہ کے سوا کچھ اور معبود بھی ہوتے تو یہ دونوں قطعی طور پر درہم برہم ہو کر رہ جاتے { لَوْ کَانَ فِیْہِمَا آلِہَۃٌ اِلَّا اللّٰہُ لَفَسَدَتَا } الآیۃ (الانبیائ : 22) ۔ سو اس تکوینی توحید کا لازمی تقاضا ہے کہ اس کے بندے اپنے دائرئہ اختیار میں بھی اس کی وحدانیت ویکتائی کا اقرار کریں اور اس کی عبادت و بندگی اور اطاعت و فرمانبرداری میں کسی کو بھی اس کا شریک نہ ٹھہرائیں۔ ورنہ زمین کا سارا نظام عدل و شریعت درہم برہم ہو کر رہ جائے گا ۔ والعیاذ باللہ -
Ayahs 7:57–58

وَ هُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰهُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَآءَ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ كَذٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 7:57 in the Quran reader

اور وہ (اللہ) وہی تو ہے جو ہوائیں بھیجتا ہے خوشخبری دینے کو اپنی (باران) رحمت سے پہلے، یہاں تک کہ جب وہ اٹھا لیتی ہیں (پانی سے لدے ہوئے) بھاری بھرکم بادلوں کو، تو ہم اس بادل کو ہانک دیتے ہیں کسی مردہ زمین کی طرف، جہاں اس سے ہم بارش برساتے ہیں، پھر اس کے ذریعے ہم نکالتے ہیں طرح طرح کی پیداواریں، اسی طرح ہم نکالیں گے مردوں کو، (سو تمہیں یہ سب کچھ ہم دکھاتے ہیں) تاکہ تم سبق لو،2

وَ الْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ۚ وَ الَّذِیْ خَبُثَ لَا یَخْرُجُ اِلَّا نَكِدًا١ؕ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:58 in the Quran reader

اور عمدہ زمین سے خوب پیداوار نکلتی ہے اس کے رب کے حکم سے، اور جو زمین خراب ہوتی ہے، اس سے ناقص پیداوار کے سوا کچھ نہیں نکلتا، اسی طرح پھیر پھر کر بیان کرتے ہیں ہم اپنی آیتوں کو، ان لوگوں کے لئے جو شکر ادا کرتے ہیں،

80 اللہ ہی زمین سے طرح طرح کی پیداواریں نکالتا ہے : سو زمین سے اس کی طرح طرح کی پیداواریں نکالنا قدرت کا ایک عظیم الشان انعام و احسان ہے۔ سو فرمایا گیا کہ بارش سے یہ طرح طرح کی پیداواریں ازخود نہیں نکل جاتیں بلکہ ان کو ہم ہی نکالتے ہیں تاکہ تم طرح طرح کی ان پیداواروں سے بھرپور طریقے سے اور قسما قسم کے فائدے اٹھا سکو۔ سو جب اس وحدہٗ لاشریک نے تمہاری ان ظاہری اور حسی ضروریات کی تکمیل کے لئے اتنے اتنے اور ایسے ایسے عظیم الشان انتظامات کئے تو پھر یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ تمہاری روحانی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے کوئی انتظام نہ فرمائے۔ حالانکہ روحانی ضرورتوں کی تکمیل کا سامان جسمانی ضرورتوں کی تکمیل سے بھی کہیں بڑھ کر اہم ہے۔ سو اس نے تمہاری روحانی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے وحی کی وہ مقدس بارش نازل فرمائی جو کہ دلوں کی زمین پر برستی ہے اور اپنی حیات آفرینی سے دلوں کی دنیا کو بدل کر کچھ کا کچھ کردیتی ہے اور انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ ور کردیتی ہے ۔ فَلِلّہِ الْحَمْدُ ربِّ الْعَالَمِیْنَ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے اللہ پاک ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ نے اپنی قدرت و حکمت اور رحمت و عنایت کے ان بعض مظاہر کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ ذرا دیکھو تو سہی کہ کس طرح ہوائیں بوجھل بادلوں کو اٹھاتی ہیں۔ اور ایسا اٹھاتی ہیں گویا کہ وہ روئی کے گالے ہیں۔ پھر ہم اپنی مشیت اور مرضی کے مطابق ان کو جدھر چاہتے ہیں ہانک کرلے جاتے ہیں۔ اور جہاں چاہتے ہیں جل تھل کردیتے ہیں۔ کسی کی طاقت نہیں کہ وہ اپنی پسند اور مرضی کے مطابق ان کا رخ موڑ دے۔ پس امید و بیم کے ہر حال میں تم ہمیشہ اسی سے لو لگاؤ۔ وہی حاکم و متصرف ہے اپنی اس کائنات میں۔ سو معاملہ سب کا سب اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
Ayah 7:59

لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:59 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے بھیجا نوح کو ان کی قوم کی طرف (رسول بنا کر) تو آپ نے (ان سے) کہا کہ اے میری قوم کے لوگو، تم بندگی کرو اللہ ہی کی، کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، بیشک میں ڈرتا ہوں تمہارے بارے میں ایک بڑے ہی ہولناک دن کے عذاب سے،

81 حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت و رسالت کا ذکر : ان کو پیغام حق پہنچانے کے لئے۔ اور یہی قرآن حکیم کا طریقہ و اسلوب ہے کہ انبیائے کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ کے قصوں کے ضمن میں کلام کا آغاز ان کی بعثت و رسالت ہی سے کیا جاتا ہے نہ کہ ان کے جسمانی میلاد اور دنیا میں ان کی تشریف آوری کے بیان سے۔ کہ اصل چیز وہ پیغام ہی ہوتا ہے جو یہ حضرات اپنے رب کی طرف سے لے کر آتے ہیں نہ کہ جسمانی ولادت و میلاد سے متعلق قصہ گوئی۔ اسی لئے پورے قرآن حکیم میں کسی ایک بھی پیغمبر کی ولادت و میلاد کا ذکر نہیں فرمایا گیا ماسوائے حضرت عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) کے۔ کہ ان کی ولادت خلاف عادت بغیر باپ کے قدرت کے ایک عظیم کرشمے کے طور پر محض ان کی والدہ مطہرہ سے ہوئی تھی۔ یا حضرت آدم کہ ان کی پیدائش ماں اور باپ دونوں کے بغیر ہوئی تھی۔ یا حضرت یحییٰ کہ ان کی ولادت بھی عام حالات کے خلاف ہوئی تھی۔ غرضیکہ اس طرح کی ان دو تین استثنائی صورتوں کے سوا کسی بھی پیغمبر کی جسمانی ولادت کا ذکر قرآن حکیم میں کہیں نہیں فرمایا گیا۔ مگر اس کے باوجود آج کے اہل بدعت کا پورا زور میلاد منانے ہی پر صرف ہو رہا ہے اور اس کو انہوں نے محض اپنی ہٹ دھرمی اور سینہ زوری کی بناء پر ایک مستقل اور تیسری عید بنادیا ہے۔ حالانکہ کتاب و سنت کی روشنی میں سلف سے لے کر خلف تک اور فقہ و حدیث کی تمام چھوٹی بڑی کتابوں میں عیدین یعنی صرف دو ہی عیدوں کا ذکر آیا ہے اور آتا ہے اور بس۔ یعنی " عید الفطر " اور " عید الاضحی "۔ ان دو کے سوا تیسری کسی بھی عید کا کہیں کوئی ذکر نہیں۔ اور ستم بالائے ستم یہ کہ اہل بدعت اپنے اس بدعی اضافے کے اثبات کے لئے طرح طرح سے نصوص کے اندر تحریف کرتے اور ان کو ایسے من مانے اور نت نئے معانی پہناتے ہیں جو پوری امت کے ثقہ اور معتمد علمائے کرام میں سے آج تک کسی نے نہیں کئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ ۔ وَاِلَی اللّٰہِ الْمُثْتَکٰی وَھُوَ الْمَسْئُوْلُ الْمُسْتَعَانُ فِیْ وَجْہِ کُلِّ شَرٍّ وَّطُغْیَانٍ ، بکُلِّ حَالٍ مِّنَ الْاَحْوَالِ ، وَفِیْ کُلِّ حِیْنٍ مِّنَ الْاَحْیَانِ ۔ بہرکیف یہاں سے اس سورة کریمہ میں حضرات انبیاء و رسل کے قصوں کا ذکر وبیان شروع ہوتا ہے کہ ان کے اندر عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ 82 پیغمبرانہ دعوت کا ایک نمونہ و مظہر : یہ ہے پیغمبرانہ دعوت کے مخلصانہ اور پر مغز اسلوب اور انداز کا ایک نمونہ و مظہر۔ کہ نہایت مختصر الفاظ میں اپنی دعوت کا لبِّ لباب اور مرکزی اور بنیادی پیغام بھی دے دیا کہ عبادت و بندگی اللہ وحدہ لاشریک ہی کی کرو کہ معبود برحق صرف وہی ہے۔ اس کی ایک واضح اور ٹھوس دلیل بھی پیش فرما دی کہ اس وحدہٗ لاشریک کے سوا تمہارا کوئی معبود ہے ہی نہیں۔ مجھے تم لوگوں کے بارے میں ایک بڑے ہی ہولناک دن کے عذاب کا خدشہ ہے اور اس کی تکذیب کے انجام سے بھی ان لوگوں کو خبردار کردیا اور اپنے لئے کسی قسم کی تعلّی اور بڑائی کا کوئی اظہار بلکہ اس کا کوئی شائبہ تک نہیں۔ اور حق و حقیقت کا اظہار وبیان صاف اور صریح طور پر فرما دیا ۔ علی نبینا وعلیھم الصلوۃ والسلام ۔ بہرکیف حضرت نوح نے اپنی قوم کو سب سے پہلے توحید کی دعوت دی۔ کیونکہ یہی چیز تمامتر صلاح و اصلاح اور فوز و فلاح کی اصل اساس و بنیاد ہے جب کہ اس کے مقابلے میں شرک، جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا ہے، تمام فساد فی الأرض کی جڑ بنیاد ہے۔ کیونکہ کسی قوم کے شرک میں مبتلا ہوجانے کے معنیٰ یہ ہیں کہ وہ عقائد و نظریات اور ان کے نتائج وثمرات، ہر اعتبار سے فطرت کے صراط مستقیم سے منحرف ہوگئی اور اب اس کا وجود خیر و صلاح کی بجائے شر و فساد کا وجود بن گیا ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 7:60

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 7:60 in the Quran reader

اس پر آپ کی قوم کے سرداروں نے کہا کہ ہم تو یقیناً دیکھتے ہیں تم کو پڑا ہوا کھلی گمراہی میں،

83 قوم نوح کا حضرت نوح کو گستاخانہ اور کافرانہ جواب : کہ ہم تمہیں کھلی گمراہی میں دیکھتے ہیں۔ اس لئے کہ تم اپنے بڑوں اور بزرگوں کے طریقے سے ہٹ کر اور ان کے طور طریقوں کو چھوڑ کر، اور ان کے دین و مذہب کے خلاف ایک ہی خدا کی بندگی کی دعوت دیتے ہو اور ہمیں اپنے ماضی سے کاٹ کر اور اپنے آباؤ اجداد کے طریقوں سے ہٹا کر تم ہماری تہذیب و ثقافت کو تباہ کرنا چاہتے ہو۔ پس یقینی طور پر تم کھلی گمراہی میں پڑے ہو ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو وہ تھا پیغمبر کی دعوت حق کا نمونہ صادقہ، جس کا ذکر ابھی اوپر ہوا اور اس کے مقابلے میں یہ ہے ان کی اس ناہنجار قوم کے دکھ دہ اور دلآزار جواب کا نمونہ۔ اور اس پر بھی حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ کا صبر اور ان کی یہ استقامت کہ نہ کوئی جوابی حملہ اور نہ کسی طرح کا کوئی جذباتی ردعمل۔ بلکہ کامل صبر و استقامت ہی سے کام لیتے رہے۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ کا ظرف کس قدر وسیع ہوتا ہے اور ان کا صدق و اخلاص اور صبر و استقامت کس قدر عظیم الشان اور جلیل القدر ہوتا ہے۔ بہرکیف حضرت نوح کی قوم کے کافر سرداروں نے آپ کی دعوت کے جواب میں کہا کہ ہم تم کو کھلی گمراہی میں مبتلا دیکھتے ہیں کہ ایک تو تم ہمارے باپ دادا کے دین کی توہین و تحقیر کرتے ہو۔ دوسرے تم ان کے معبودوں کا انکار کرتے ہو۔ اور تیسرے تم ہم پر عذاب الٰہی کے نزول کی دھمکی دے رہے ہو۔ حالانکہ ہمارے حالات تم سے اور تمہارے نام لیواؤں کے حالات سے ہر لحاظ سے اچھے ہیں۔
Ayahs 7:61–62

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ ضَلٰلَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:61 in the Quran reader

آپ نے فرمایا اے میری قوم ! مجھ میں (کسی طرح کی) کوئی گمراہی نہیں،1 بلکہ میں تو پیغمبر ہوں اس ذات (اقدس) کی طرف سے، جو پروردگار رہے سب جہانوں کی،

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنْصَحُ لَكُمْ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:62 in the Quran reader

تمہیں پیغامات پہنچاتا ہوں اپنے رب کے، اور خیر خواہی کرتا ہوں تم سب کی، اور میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے،

84 پیغمبر کی وسعت قلبی اور تحمل مزاجی کا ایک نمونہ و مظہر : سو آنجناب کے اس جواب سے پیغمبر کی وسعت قلبی، تحمل اور کشادہ ظرفی کا نمونہ ملاحظہ ہو کہ ان لوگوں کی اس قدر بےہودہ گفتگو اور یا وہ گوئی کے جواب میں آنجناب نے ذرہ برابر بھی کسی اشتعال یا جذباتیت کا کوئی اظہار نہیں فرمایا۔ بلکہ سادہ اور مختصر لفظوں میں اتنا فرمایا کہ لوگو ! مجھ میں ضلالت و گمراہی کی کوئی بات نہیں۔ بلکہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ اسکا پیغام تمہیں پہنچا رہا ہوں اور بس۔ سو یہ کمال عبدیت اور للہیت و بےنفسی کا ایک ایسا عظیم الشان مظہر و نمونہ ہے جو حضرات انبیائے کرام کے سوا اور کہیں نہیں مل سکتا ۔ صَلَوَات اللّٰہِ وَسَلاَمُہ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنَ ۔ بہرکیف حضرت نے اپنے اس جواب سے ان لوگوں کے سامنے اپنی اصل حیثیت کو واضح فرما دیا کہ میرے اندر گمراہی کی کوئی بات نہیں بلکہ میں پروردگار عالم کا رسول ہوں اور اسی کا پیغام تم لوگوں کو پہنچا رہا ہوں۔
Ayahs 7:63–64

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ وَ لِتَتَّقُوْا وَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 7:63 in the Quran reader

کیا تم لوگوں کو اس پر تعجب ہو رہا ہے کہ تمہارے پاس ایک عظیم الشان نصیحت آگئی تمہارے رب کی جانب سے، خود تم ہی میں سے ایک شخص کے ذریعے ؟ تاکہ وہ تمہیں خبردار کرے، (تمہارے انجام سے) اور تاکہ تم پرہیزگار بن سکو، اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے،2

فَكَذَّبُوْهُ فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا عَمِیْنَ۠ Open ayah 7:64 in the Quran reader

مگر انہوں نے پھر بھی اس کی تکذیب ہی کی، آخرکار ہم نے بچا لیا نوح کو بھی، اور ان سب کو بھی جو کہ آپ کے ساتھ تھے، اس (عظیم الشان) کشتی میں، اور غرق کردیا ہم نے ان سب کو جو جھٹلاتے تھے ہماری آیتوں کو، کہ وہ لوگ قطعی طور پر پر اندھے بن گئے تھے،3

85 پیغمبر کا ہر حکم و ارشاد علم پر مبنی ہوتا ہے : کہ اس نے مجھے وحی و نبوت سے نوازا ہے جبکہ تم سب لوگ محض ظن و گمان اور خیال وتخمین کے پیچھے چلتے ہو۔ سو یہ پیغمبر کی ایک امتیازی شان ہوتی ہے کہ ان کا ہر قول و فعل اور حکم و ارشاد علم صحیح کی ٹھوس بنیاد پر قائم و استوار ہوتا ہے۔ کیونکہ ان کے پاس اس خالق ومالک کی طرف سے وحی آتی ہے جو اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف ہے۔ اور ایسا خالق ومالک اور اس شان کا حاکم و متصرف کہ نہ اسکی اس تخلیق میں کوئی اس کا شریک ہے اور نہ اسکے اس حکم و تصرف میں جبکہ وحی کے نور سے محروم دنیا کا سارا کام محض ظن وتخمین اور اندازہ و قیاس پر چلتا ہے۔ سو پیغمبر کے حکم و ارشاد کا کوئی بدلہ اور مقابلہ کسی سے ممکن ہی نہیں ہوسکتا۔ سو یہیں سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جو لوگ نور وحی پر ایمان سے محروم ہیں وہ کس قدر محروم اور بدنصیب لوگ ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف حضرت نوح نے اپنی قوم سے کہا کہ میں خداوند قدوس کے پیغام تم لوگوں کو پہنچا رہا ہوں۔ اگر تم لوگ ناقدری کر کے ان سے منہ موڑو گے اور ان کے جواب میں اعراض اور روگردانی برتو گے تو اس کے نتیجے میں تمہیں بڑا ہولناک بھگتان بھگتنا پڑیگا۔ اور تم لوگ حق و ہدایت کی سب سے بڑی دولت سے محروم ہو کر دنیا و آخرت کے سب سے بڑے نقصان اور انتہائی ہولناک خسارے میں مبتلا ہوجاؤ گے۔ اور تمہارے لئے اندھیرے ہی اندھیرے ہوں گے۔ اور میں تمہارے لئے سچی خیر خواہی کرتا ہوں۔ تم لوگ چونکہ صرف ظاہر اور مادیت و محسوسات کو دیکھنے کے عادی ہو اور انہی پر تکیہ و آسرا کئے ہو اس لئے تم کو عذاب کا ڈراوا عجیب لگتا ہے، لیکن میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ تم لوگ اگر اپنی ظاہری چمک دمک کے ساتھ اپنے ان روگوں اور عیبوں کو بھی دیکھ لیتے جو تم نے اپنے سفید کپڑوں کے نیچے چھپا رکھے ہیں تو تمہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ میں کتنی سچی بات کہتا ہوں اور تمہارا کس قدر خیر خواہ ہوں۔ 86 پیغمبر کا بشر اور جنس بشر سے ہونا قدرت کا ایک مستقل انعام و احسان ہے : یعنی یہ تو عقل و فطرت کے عین مطابق اور خداوند قدوس کی رحمت بےکراں اور عنایت بےنہایت کا عظیم الشان مظہر و مقتضٰی ہے۔ کہ اس نے اس عظیم الشان طریقے سے تمہارے لئے دارین کی ابدی سعادت و سرخروئی اور دائمی فوزو فلاح کا انتظام فرمایا۔ کہ تمہیں نور ہدایت کی دولت سے نوازا اور تمہارے اپنے اندر ہی سے ایک شخص کو نبوت و رسالت کے شرف سے سرفراز فرما کر نوازا۔ تاکہ تم اس سے حق بات کو صحیح طور پر اور آسانی سے سمجھ کر اپنا سکو۔ آخر اس میں تعجب یا انکار کی کون سی بات ہوسکتی ہے ؟ سو تم لوگ کتنے ناشکرے اور کس قدر بےانصاف ہو جو اپنے خالق ومالک کی ان عظیم الشان عنایات کی اسطرح بےقدری اور ناشکری کرتے ہو ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ پیغمبر کا بشر اور نوع انسانی میں سے ہونا قدرت کا مستقل انعام و احسان ہے جس سے حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے دنیا کو نوازا اور سرفراز فرمایا ہے۔ لیکن انسان کی ناشکری اور بےانصافی ہمیشہ یہی رہی کہ اس نے قدرت کے اس احسان کو پہچاننے اور اسکی قدر کرنے کی بجائے الٹا اسی کو مورد الزام و اعتراض بنایا۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے ۔ الا ماشاء اللہ ۔ اور اسی کا ایک نمونہ و مظہر یہ ہے کہ ہمارے دور کے بہت سے اہل بدعت بھی ایسے ہیں جو پیغمبر کو بشر ماننے ہی کیلئے تیار نہیں۔ اور ایسے لوگ حضرات انبیاء و رسل کے بارے میں وحی خداوندی میں وارد " مِنْہُمْ " " مِنْکُمْ " " مِنْ اَنْفُسِہِمْ " " مِنْ اَنْفُسِکُمْ " وغیرہ جیسے کلمات میں طرح طرح کی تاویلات سے کام لیتے ہیں۔
Ayahs 7:65–67

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 7:65 in the Quran reader

اور عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھی (ہم نے رسول بنا کر بھیجا)4 تو اس نے بھی یہی کہا کہ اے میری قوم تم بندگی کرو اللہ کی، کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تو کیا تم لوگ ڈرتے نہیں ؟

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ سَفَاهَةٍ وَّ اِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 7:66 in the Quran reader

ان کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا کہ ہم تو تمہیں نری بےعقلی میں مبتلا دیکھتے ہیں، اور ہم یقیناً تمہیں جھوٹوں میں سے سمجھتے ہیں،

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ سَفَاهَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:67 in the Quran reader

انہوں نے کہا، اے میری قوم مجھ میں بےوقوفی کی کوئی بات نہیں، بلکہ میں تو یقینی طور پر پیغمبر ہوں اس ذات (اقدس) کی طرف سے جو پروردگار ہے سب جہانوں کی،

89 پیغمبر کے اپنی قوم کے بھائی ہونے کی تصریح : یعنی انکے قومی بھائی کہ آپ (علیہ السلام) تھے تو اسی قوم میں سے۔ پس معلوم ہوا کہ اس طرح کے اعتبارات سے پیغمبر کو بھائی کہنا نہ صرف یہ کہ جائز ہے بلکہ قرآن و سنت کی نصوص صریحہ سے ثابت ہے۔ سو ایسا کہنا اور ماننا نہ برا ہے نہ ممنوع۔ اور قرآن و سنت کی دوسری بہت سی نصوص بھی اس کی شاہد و موید ہیں، جیسا کہ ہمارے حضور۔ (علیہ الصلوۃ والسلام) ۔ نے اپنے لئے خود یہ لفظ استعمال فرمایا ہے۔ اور کئی مواقع پر فرمایا ہے۔ جیسا کہ مختلف احادیث میں موجود ہے۔ پس ایسی ہی ایک حدیث کے ترجمہ و تشریح کرنے پر اہل بدعت نے حضرت شاہ اسماعیل شہید ۔ (رح) ۔ پر جو بہتان طرازی کی اور جس یا وہ گوئی سے انہوں نے کام لیا ہے وہ باطل و مردود اور ان لوگوں کی جہالت و ہٹ دھرمی کا شاخسانہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف پیغمبر کے اپنی قوم میں سے ہونے میں اس قوم کیلئے اللہ تعالیٰ کا خاص انعام و احسان ہے تاکہ وہ لوگ اس کی بات کو سمجھ سکیں اور اس سے پوری طرح استفادہ کرسکیں۔ (تفسیر المراغی وغیرہ) ۔ اسی لیے قرآن حکیم میں قدرت کے اسی انعام و احسان کو جابجا " مِنْکُمْ " " تم ہی سے " اور " مِنْہُمْ " ’ ’ انہی میں سے " وغیرہ جیسے کلمات کریمہ سے واضح فرمایا گیا ہے لیکن اس کے باوجود کتنے ہی اہل زیغ ایسے ہیں جو اس حقیقت صادقہ کو ماننے اور تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں۔ اور وہ اس طرح کی نصوص صریحہ اور کلمات کریمہ میں طرح طرح کی تاویلات اور تحریفات سے کام لیتے ہیں۔ اور اس طرح وہ اپنے ساتھ ساتھ اور بھی بہت سے جاہلوں کی گمراہی اور ان کے انحراف کا سامان کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ 90 معبود برحق اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے : اور جب اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کوئی معبود سرے سے ہے ہی نہیں تو پھر اس کے سوا کسی اور کے لئے عبادت و بندگی کی کسی بھی شکل و صورت کے جائز اور روا ہونے کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے ؟ پس عبادت و بندگی کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل و صورت اسی معبود برحق کا خاصہ اور اسی کا حق ہے۔ خواہ وہ بدنی ہو یا مالی یا کوئی اور قسم۔ لہذا قیام و رکوع اسی وحدہ لاشریک کے لئے، سجدہ و طواف اسی کے لئے، نذر و نیاز اسی کے لئے اور غائبانہ صدا و پکار اسی کے لئے کہ حاجت روائی و مشکل کشائی اسی کی شان اور اسی کا اختصاص ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ ان میں سے کسی بھی قسم کو اور کسی بھی شکل و صورت میں کسی اور ہستی کو شریک ماننا شرک اور ظلم ہوگا جو کہ نہایت سنگین و ہولناک گناہ اور ناقابل معافی جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اسی لئے حضرات انبیائے کرام میں سے ہر ایک نے اپنی اپنی امت کو سب سے پہلے توحید کے اسی عقیدئہ صافیہ کی دعوت دی۔ اور حضرت امام الانبیاء ۔ علیہ وعلیہم الصلوۃ والسلام ۔ نے تو توحید کی اس دعوت کو کمال توضیح اور بِمَا لَا مَزِیْدَ عَلَیْہ صراحت و وضاحت کے ساتھ پیش فرمایا۔ مگر افسوس کہ اس کے باوجود آج کتنے ہی جاہل مسلمان ایسے ہیں جو طرح طرح کی شرکیات میں پڑے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ انہوں نے کتنی ہی خودساختہ سرکاریں بنا رکھی ہیں، جہاں وہ سجدے کرتے، سر ٹیکتے، جھک جھک کر سلام کرتے، ان کو مافوق الاسباب طور پر اپنی حاجت روائی اور مشکل کشائی کیلئے پکارتے، ان کے نام کی نذریں مانتے، نیازیں دیتے، چڑھاوے چڑھاتے، دیگیں پکاتے، پھیرے مانتے اور چکر لگاتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اور پھر بھی دعویٰ ہے کہ ہم مسلمان اور پکے توحیدی ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اگر ایسے کھلے شرکیہ امور کا ارتکاب بھی شرک نہیں تو پھر شرک اور کس بلا کا نام ہے ؟ کیا اس کے سر پر کوئی سینگ ہوتے ہیں ؟ ۔ والعیاذ باللہ -
Ayahs 7:68–70

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ Open ayah 7:68 in the Quran reader

میں تمہیں پیغامات پہنچاتا ہوں اپنے رب کے، اور میں تمہارا قابل اعتماد خیر خواہ ہوں1

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ١ؕ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ زَادَكُمْ فِی الْخَلْقِ بَصْۜطَةً١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 7:69 in the Quran reader

تو کہا تمہیں اس پر تعجب ہو رہا ہے کہ تمہارے پاس ایک عظیم الشان نصیحت آگئی تمہارے رب کی جانب سے خود تم ہی میں سے ایک آدمی کے ذریعے ؟ تاکہ وہ تم کو خبردار کرے (تمہارے انجام سے) اور یاد کرو کہ جب تمہارے رب نے تم کو جانشین بنایا قوم نوح کے بعد، اور اس نے تمہیں خوب پھیلاؤ دیا تمہارے ڈیل ڈول میں، پس تم لوگ یاد کرو اللہ کی (ان عظیم الشان) نعمتوں کو، تاکہ تم فلاح پاسکو،2

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّٰهَ وَحْدَهٗ وَ نَذَرَ مَا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:70 in the Quran reader

انہوں نے کہا کیا تم ہمارے پاس اسی لئے آئے ہو کہ ہم صرف ایک اللہ کی بندگی کریں، اور ان سب کو چھوڑ دیں جن کو پوجتے چلے آئے ہیں، ہمارے باپ دادا ؟ پس لے آؤ تم ہم پر وہ عذاب جس کی دھمکی تم ہمیں دے رہے ہو، اگر تم سچے ہو،

91 پیغمبر کی دعوت خالص خیرخواہی پر مبنی ہوتی ہے : نہ تو تمہارے ساتھ اس خیر خواہی میں کسی ذاتی غرض کا کوئی شائبہ ہے اور نہ ہی اس پیغام ربانی میں کسی آمیزش کا کوئی سوال۔ جس کے ساتھ مجھے تمہاری طرف بھیجا گیا ہے۔ پس اس کو قبول کرنے اور صدق دل سے اپنانے میں خود تمہارا اپنا ہی بھلا اور فائدہ ہے، دنیا کی اس عارضی اور فانی زندگی میں بھی اور اس کے بعد آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی۔ سو پیغمبر کی دعوت خالص خیرخواہی اور صدق و اخلاص پر مبنی ہوتی ہے۔ اس میں ذاتی اغراض یا نفسانی خواہشات کا کوئی شائبہ نہیں پایا جاتا۔ حضرت ھود (علیہ السلام) کے اس جواب میں بھی وہی پیغمبرانہ ادب عالی پایا جاتا ہے جو حضرت نوح کے جواب میں اوپر ذکر ہوچکا ہے کہ آپ نے بھی اپنی قوم کی بدتمیزی اور سوء ادبی کا کوئی نوٹس تک نہیں لیا۔ بلکہ اس سے چشم پوشی کرتے ہوئے اصل حقیقت کو ان کے سامنے رکھ دیا۔ سو یہ پیغمبر ہی کی شان اور انہی کا ظرف ہوسکتا ہے کہ وہ ایسی باتوں کے جواب میں ایسے اغماض اور چشم پوشی سے کام لیں ۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں بھی اس کا کوئی حصہ نصیب فرما دے ۔ آمین۔ اور حضرت ہود (علیہ السلام) کے اس جواب سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ امانت رسول کی ایک نمایاں صفت ہوتی ہے۔ سو پیغمبر ایسا امین ہوتا ہے کہ خداوند قدوس کی طرف سے جو پیغام ان کے حوالے کیا جاتا ہے اس میں وہ سرمو کوئی کمی بیشی نہیں کرتا۔ بلکہ وہ اس کو پوری دیانتداری کے ساتھ جوں کا توں آگے پہنچاتا ہے ۔ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْھِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ-
Ayah 7:71

قَالَ قَدْ وَ قَعَ عَلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَّ غَضَبٌ١ؕ اَتُجَادِلُوْنَنِیْ فِیْۤ اَسْمَآءٍ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 7:71 in the Quran reader

کہا بیشک واقع ہوچکا ہے تم پر تمہارے رب کی طرف سے ایک سخت عذاب اور بڑا غضب، کیا تم لوگ مجھ سے جھگڑتے ہو ان (بےحقیقت) ناموں کے بارے میں، جن کو گھڑا ہے خود تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے ؟ نہیں اتاری اللہ نے ان کے بارتے میں کوئی سند، پس تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار میں ہوں،3

94 انکار و تکذیبِ حق کا نتیجہ و انجام، ہلاکت و تباہی : سو قوم کے اس مطالبے کے جواب میں حضرت ھود (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ بیشک واقع ہوچکا تم پر تمہارے رب کی جانب سے ایک ہولناک عذاب اور سخت غضب۔ کیونکہ کفر و شرک کی جس غلاظت و نجاست میں تم لوگ غرق ہو وہ اس عذاب کو کھینچ لانے والی ہے۔ اور اس کا نتیجہ اور آخری انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے۔ سو عاد کی اس بدبخت قوم پر ایک ایسی ہولناک آندھی کا عذاب بھیجا گیا جو ان پر سات راتوں اور آٹھ دنوں تک مسلسل لگاتار مسلط رہا۔ ( سورة الحاقۃ آیت نمبر 6 اور 7) ۔ وہ آندھی ان لوگوں کو اس طرح اٹھا اٹھا کر پھینک رہی تھی جیسے وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہوں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف حضرت ھود نے اپنے اس جواب میں ان لوگوں سے فرمایا کہ جس عذاب کا مطالبہ تم لوگ کر رہے ہو اس میں اب کچھ دیر نہیں۔ تم اس کو آیا ہی سمجھو۔ کیونکہ جس گندگی اور ناپاکی سے خدا کا عذاب بھڑکتا ہے اس کی بہت بڑی کھیپ تم لوگوں نے اپنے اوپر لادلی ہے۔ اور " رجس " کا اتنا بڑا انبار جمع کرلینے کے بعد اب تم لوگ خدا کے صاعقہ عذاب کو دور نہ سمجھو ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 95 معبودان باطلہ محض من گھڑت نام ہیں، جن کی کوئی حقیقت نہیں : سو ایسے خودساختہ اور بےسند معبودوں کی پوجا محض حماقت ہے۔ سو ان میں سے کسی کا نام تم نے لات رکھ دیا اور کسی کا عزی و منات وغیرہ۔ اور ان کی ان لوگوں نے مختلف شکلیں اور مورتیاں بنا رکھی تھیں جیسے ہندوؤں نے گنیش، ہنومان وغیرہ مختلف ناموں سے کئی قسم کی مورتیاں تراش رکھی ہیں۔ یا جیسے اہل بدعت نے " بلیوں والی سرکار "، " کانواں والی سرکار " وغیرہ ناموں سے کئی سرکاریں بنا رکھی ہیں۔ اور " داتا گنج بخش " اور " غریب نواز " جیسے اسماء و اَلقاب ازخود گھڑ کر اللہ پاک کی کچھ مقدس ہستیوں کے لئے تجویز کر رکھے ہیں۔ اور کئی طرح کے آستانے بنا اور سجا رکھے ہیں۔ جہاں طرح طرح کی شرکیات کا ارتکاب کیا جاتا ہے۔ اور اس طرح کے کاروبار چلانے کے لئے ان لوگوں نے طرح طرح کے من گھڑت قصے اور افسانے بنا اور پھیلا رکھے ہیں ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 7:72

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ قَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ مَا كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 7:72 in the Quran reader

آخرکار (عذاب آنے پر) ہم نے بچا لیا، ہود کو بھی، اور ان سب کو بھی جو ان کے ساتھ تھے، اپنی رحمت سے، اور جڑ کاٹ کر رکھ دی ہم نے ان سب کی جو جھٹلاتے تھے ہماری آیتوں کو، اور وہ ایمان لانے والے نہیں تھے،1

96 حاجت روا و مشکل کشا سب کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے : سو عذاب آنے پر ہم نے بچا لیا ہود کو بھی اور آپ کے ساتھیوں کو بھی کہ بچانے والے اور حاجت روا و مشکل کشا سب کے ہم اور صرف ہم ہی ہیں۔ اور جب ہود جیسے پیغمبر اور ان کے ساتھی بھی اپنی حاجت روائی اور مشکل کشائی وغیرہ میں ہمارے ہی محتاج ہیں تو پھر اور کون ہوسکتا ہے جو مافوق الاسباب طور پر کسی کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کرسکے ؟ سو حاجت روا و مشکل کشا سب کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس جن لوگوں نے اپنے طور پر طرح طرح کے حاجت روا و مشکل کشا بنا رکھے ہیں وہ شرک کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 97 حق کی تکذیب و انکار کا نتیجہ و انجام، ہلاکت و تباہی : پس تکذیبِ حق و بےایمانی، عذاب اور غضب الہٰی کو کھینچ لانے والی چیزیں ہیں۔ اور حق کی تکذیب اور انکار کا نتیجہ و انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو حضرت ھود کے ان منکرین و مکذبین کی آخر کار جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 7:73

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 7:73 in the Quran reader

اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھی (ہم نے پیغمبر بنا کر بھیجا) انہوں نے بھی یہی کہا کہ اے میری قوم، اللہ کی بندگی کرو تم سب، کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، بلاشبہ آچکی تمہارے پاس روشن دلیل تمہارے رب کی جانب سے، یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لئے ایک عظیم نشانی کے طور پر (تمہارے سامنے موجود ہے) پس تم اسے کھلا چھوڑ دو کہ یہ کھاتی (چرتی) رہے، اللہ کی زمین میں، اور اس کو چھونا بھی نہیں کسی برے ارادے سے، کہ اس کے نتیجے میں آپکڑے تم کو ایک دردناک عذاب،2

98 پیغمبر اپنی قوم کا بھائی ہوتا ہے : " اور قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو پیغمبر بنا کر بھیجا گیا " یعنی ان کے قومی بھائی۔ سو پیغمبر اپنی قوم کا قومی بھائی ہوتا ہے۔ اور اگر قوم ایمان لے آئے تو اس قومی اخوت کے ساتھ دینی اور ایمانی اخوت بھی شامل ہوجاتی ہے۔ قرآن حکیم نے جابجا { اَخَاہُمْ } کی تصریح فرما کر اس حقیقت کو پوری طرح اجاگر فرمایا کہ پیغمبر اپنی قوم کا بھائی ہوتا ہے۔ مگر اہل بدعت پھر بھی اس کو ماننے کیلئے تیار نہیں۔ اور اس بناء پر وہ اس طرح کی نصوص کریمہ میں طرح طرح کی تاویلات و تحریفات سے کام لیتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہو اسی سورة کریمہ کا حاشیہ نمبر 89 ۔ قوم ثمود قوم عاد کے بقایا میں سے تھی۔ ان کو عاد ثانی بھی کہا جاتا ہے اور ان کا مسکن عرب کا شمال مغرب کا وہ علاقہ تھا جس کو " حجر " بھی کہا جاتا ہے ۔ اور اسی بناء پر " سورة حجر " اس نام سے موسوم ہوئی کہ اس میں ارشاد فرمایا گیا { وَلَقَدْ کَذَّبَ اَصْحَابُ الْحِجْرالْمُرْسَلِیْنَ } (الحِجْر : 80) اور آج کل یہ علاقہ " مدائنِ صالح " کے نام سے مشہور ہے اور خیبر سے آگے واقع ہے۔ راقم نے اپنے قیام مدینہ کے دوران 1974 ـ؁ء میں اس علاقے کا سفر کیا تھا ۔ والحمدُ لِلّٰہِ جَلَّ وَعَلَا - 99{ ناقۃُ اللہ } کی اضافت سے مراد ؟: { ناقۃُ اللہ } کی یہ اضافت تشریف کے لئے ہے۔ جیسا کہ مسجد کو " بیت اللہ " کہا جاتا ہے کہ وہ اونٹنی بھی معجزئہ و نشانی کے طور پر مقرر کی گئی تھی۔ اس کی پیدائش کے بارے میں قرآن و سنت کی نصوص میں کوئی تصریح نہیں۔ البتہ تفسیری روایات میں ہے کہ وہ سب کے سامنے ایک پہاڑی سے برآمد ہوئی تھی۔ (جامع البیان وغیرہ) ۔ اور اسی بناء پر اس کو { ناقۃ اللہ } " اللہ کی اونٹنی " کہا گیا۔ کیونکہ اس کی پیدائش عام معروف طریقے پر نہیں ہوئی۔ اسی لیے وہ اللہ کی نشانی قرار پائی۔ (المراغی، المنار المحاسن وغیرہ) ۔ والعلم عنداللہ تعالیٰ ۔ اور علامہ ابن کثیر جیسے بعض بڑے اور ثقہ مفسرین کرام نے اس بارے روایات کو تفصیل سے بیان فرمایا ہے جن کا خلاصہ یہ ہے کہ صالح کی قوم نے آپ سے مطالبہ کیا کہ اگر آپ فلاں پہاڑی سے دس ماہ کی گابھن اونٹنی نکال دکھائیں تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ حضرت صالح نے ان سے اس کا پختہ عہد لیا کہ اگر اللہ ایسے کر دے تو وہ ضرور ان پر ایمان لے آئیں گے۔ تو جب انہوں نے اس کا پختہ قول وقرار کرلیا تو حضرت صالح نے نماز پڑھ کر اللہ کے حضور دعاء کی۔ تو اس پہاڑی سے دیکھتے ہی دیکھتے دس ماہ کی گابھن اونٹنی نکل آئی جس پر اس قوم کے سردار جندع ابن عمرو اور ان کے ساتھی ایمان لے آئے، دوسرے نہ لائے۔ (ابن کثیر، ابن جریر اور قرطبی وغیرہ) ۔ 100 اللہ کی مقرر فرمودہ نشانی کی توہین باعث عذاب۔ والعیاذ باللہ : پس تم اس کو برے ارادے سے چھونا بھی نہیں کہ اس کے نتیجے میں تم کو آپکڑے ایک درد ناک عذاب۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ نشانی کی اہانت و توہین کے باعث۔ اہل بدعت کے ایک بڑے صاحب کا اس پر قیاس کرتے ہوئے یہ ردا لگانا کہ بزرگوں کے جنگل کی کوئی چیز استعمال کرنا نقصان دیتا ہے، قیاس مع الفارق اور محض توہم پرستی ہے۔ جسے موصوف نے قرآن پاک کے حواشی میں لکھ کر جہاں اپنی بدعت پرستانہ ذہنیت کا ثبوت دیا وہاں ایک سنگین تحریف کا بھی ارتکاب کیا۔ کہ ناقہ صالح کو چھیڑنے اور تکلیف پہنچانے سے ممانعت تو نصوص قرآن پاک میں صریح طور پر مذکور ہے، تو کیا کسی بزرگ کے جنگل وغیرہ کی چیزوں کے بارے میں بھی ایسی کوئی نص کہیں وارد ہوئی ہے ؟ پھر جنگل کی پاکیزہ چیزوں اور وہاں کے پرندوں وغیرہ کا استعمال کرنا توہین کس طرح قرار دیا جاسکتا ہے جبکہ یہ چیزیں تو خالق نے پیدا ہی اپنے بندوں کے لئے فرمائی ہیں ؟ ، پس ایسی تاویل دراصل تفسیر نہیں بلکہ ایک ایسی تحریف ہے جو حق ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کے اس ارشاد سے ٹکراتی ہیں { قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیٓ اَخْرَجَ لِعَبَادِہ وَ الطَّیِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ } " پوچھو ان سے کہ کس نے حرام کیا ہے، اللہ کی اس زینت کو جس کو اس نے نکالا ہے اپنے بندوں کے لئے اور کھانے پینے کی ان پاکیزہ چیزوں کو جن کو اس نے پیدا فرمایا ہے (اپنے کرم بےپایاں سے) " ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف حضرت صالح نے ان سے فرمایا کہ اللہ کی یہ اونٹنی تمہارے لئے ایک عظیم الشان نشانی ہے اگر تم نے اس کو کوئی گزند پہنچائی، تو اس کے نتیجے میں ایک درد ناک عذاب تم کو آپکڑے گا۔
Ayah 7:74

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ وَّ بَوَّاَكُمْ فِی الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُهُوْلِهَا قُصُوْرًا وَّ تَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیُوْتًا١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:74 in the Quran reader

اور یاد کرو جب اللہ نے تمہیں جانشین بنایا قوم عاد کے بعد، اور تمہیں زمین میں اس شان سے بسایا کہ تم اس کے ہموار میدانوں میں عالی شان حل تعمیر کرتے ہو، اور اس کے پہاڑوں کو تراش تراش کر تم مضبوط مکان بناتے ہو، پس یاد کرو تم لوگ اللہ کی نعمتوں کو، اور مت پھرو تم اس کی زمین میں فساد مجاتے ہوئے،

101 اللہ کی نعمتوں کی تذکیر و یاد دہانی : سو تم یاد کرو اس کی نعمتوں کو۔ اور یہ بھی یاد رکھو کہ اللہ کی بخشی ہوئی نعمتوں کا شکر اور ان کی قدردانی باعث سرفرازی وفائز المرامی ہے۔ اسی نے تم کو خلیفہ بنایا اس میں پنے کرم بےپایاں سے طرح طرح کی نعمتوں اور سہولتوں سے نوازا۔ تاکہ تم لوگ آرام و سکون سے رہو۔ سو اللہ کی اس زمین میں اور اپنے منعم حقیقی ۔ جل جلالہ ۔ کے انعامات کو پہچان کر دل وجان سے اس کے حضور جھک جاؤ، تاکہ اس طرح تم خود اپنے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرسکو۔ اور دنیا کی اس عارضی اور فانی زندگی کو آخرت کی حقیقی اور ابدی زندگی کی کامیابی کا ذریعہ بناس کو، جو کہ اصل مقصد ہے۔ یہاں پر یہ نکتہ بھی واضح رہے کہ یہاں پر " بَعْدَ عَادٍ " " عاد کے بعد " نہیں فرمایا { مِنْ بَعْدِ عَادٍ } فرمایا۔ جس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ ان دونوں کے درمیان بڑا لمبا زمانہ اور طویل فاصلہ حائل تھا۔ (محاسن التاویل) ۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی میں یہ درس عظیم ہے کہ اللہ پاک کی بخشی ہوئی نعمتوں کا شکر اور ان کی قدردانی دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی اور فائز المرامی کا ذریعہ ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو جو لوگ اس حقیقت سے غافل و بےبہرہ ہیں وہ بڑے محروم اور بدنصیب ہیں۔ اور جو اس واہب مطلق کی بجائے اوروں کا شکر ادا کرتے ہیں اور ان کو خداوند قدوس کی اس عطاء و بخشش میں شریک جانتے ہیں وہ بڑے ظالم اور بےانصاف لوگ ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 102 زمین میں فساد مت مچاتے پھرو : اس کی عبادت و بندگی سے منہ موڑ کر اور کفر و شرک اور معاصی وذنوب کا اقتراف و ارتکاب کر کے۔ کہ یہی چیز اصل میں فتنہ و فساد اور خرابی و بگاڑ کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کے حقِّ عبادت کی ادائیگی اور اس کی بےچون و چرا اطاعت و فرمانبرداری اس زمین کی آبادی اور اس کی خیر و برکت کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ اور اس سے اعراض و روگردانی فساد اور خرابی کا باعث ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف حضرت صالح نے اپنی قوم کو شکر نعمت کی تلقین کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کو یاد کرو کہ اس نے تمہیں قوم عاد کی ہلاکت و تباہی کے بعد اپنی اس زمین میں جانشین بنایا اور تمہیں اس شان و اہتمام سے اس میں بسایا کہ تم اس کے ہموار میدانوں میں طرح طرح کے محل بناتے ہو اور اس کے پہاڑوں کو تراش تراش کر ان میں گھر بناتے ہو۔ سو اس واہب مطلق کی بخشی ہوئی ان عظیم الشان نعمتوں کو یاد کر کے اس کے لئے سراپا شکر وسپاس بن جاؤ اور اس کے بھیجے ہوئے دین کو صدق دل سے قبول کر کے تم اس کی اطاعت و بندگی کرو۔ اور اس سے منہ موڑ کر اس کی زمین میں فساد مچاتے مت پھرو۔
Ayahs 7:75–76

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:75 in the Quran reader

(مگر اس کے باوجود) آپ کی قوم کے ان سرداروں نے جو اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا تھے، ان میں کے کمزور سمجھے جانے والے ان لوگوں سے جو کہ ایمان لا چکے تھے کہا کیا واقعی تم لوگ یقین رکھتے ہو کہ صالح کو بھیجا گیا ہے ان کے رب کی طرف سے ؟ انہوں نے جواب میں کہا کہ بیشک ہم ایمان رکھتے ہیں اس پر جس کے ساتھ ان کو بھیجا گیا ہے،1

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا بِالَّذِیْۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 7:76 in the Quran reader

اس پر اپنی بڑائی کا گھمنڈ رکھنے والے ان لوگوں نے کہا کہ ہم تو قطعی طور پر منکر ہیں اس کے جس پر تم لوگ ایمان رکھتے ہو،

103 منکرین کا اہل حق سے تمسخر و استہزائ : سو یہ ان منکرین و مکذبین کا حضرت صالح کے ایماندار ساتھیوں سے تمسخر و استہزا یعنی ان لوگوں کا اہل ایمان سے یہ سوال تمسخر و استہزاء کے طور پر تھا، نہ کہ جاننے اور معلوم کرنے کے لئے۔ کیونکہ ان کو اس کا بخوبی علم تھا کہ یہ لوگ سچا پکا ایمان رکھتے ہیں۔ اسی لئے اہل ایمان نے ان کے جواب میں " نعم " یا اس طرح کا کوئی اور لفظ نہیں بولا، حالانکہ یہ مختصر تھا۔ بلکہ ان کو جملہ اسمیہ کی صورت میں اور حرف تاکید کے ساتھ موکد جواب دیا کہ ہم تو قطعی طور پر ان پر ایمان رکھتے ہیں کہ وہ اللہ کے بھیجے ہوئے اور اس کے سچے رسول ہیں۔ پس پوچھنے کی بات یہ نہیں کہ وہ رسول ہیں یا نہیں، کہ یہ امر تو قطعی اور یقینی ہے۔ بلکہ پوچھنے کے لائق بات یہ ہے کہ ان پر ایمان کیوں نہ لایا جائے ؟ تو سوال تم سے کیا جانا چاہیئے کہ تم ان پر ایمان نہیں لاتے نہ کہ ہم سے جو کہ اس ایمان و یقین سے مشرف و سرشار ہیں ۔ سبحان اللہ ! ۔ ایمان کی قوت انسان کو کیسا فولاد بنا دیتی ہے اور اس سے وہ کیسے سکون و اطمینان سے سرشار ہوجاتا ہے ؟۔ اور اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے دین اور دین والوں کا مذاق اور ان سے تمسخر و استہزاء محرومی کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ان منکرین و متکبرین کا اہل ایمان سے یہ سوال بطور تعجب و استنکار تھا کہ تم کیسے کم عقل اور بدھو لوگ ہو جو اس شخص کو خدا کا رسول سمجھ بیٹھے ہو۔ لیکن اہل ایمان کا جواب اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر تھا کہ یہی نہیں ہم حضرت صالح (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت پر ایمان رکھتے ہیں، بلکہ ہم اس سے آگے بڑھ کر ہم ان کی اس دعوت اور پیغام پر بھی ایمان رکھتے ہیں جس کے ساتھ ان کو بھیجا گیا ہے۔ اور جس سے تم جیسے منکروں کو اصل چڑ ہے۔ سو انہوں نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر صاف اور صریح طور پر اس طرح حق کا اعلان کردیا اور اینٹ کا جواب پتھر سے دے کر واضح کردیا کہ اب وہ حق کے معاملے میں کسی سے ڈرنے والے نہیں اور نہ ہی اس ضمن میں کسی کے آگے دبنے اور جھکنے والے ہیں۔ اور یہی نتیجہ ہوتا ہے قوت اور لذت ایمانی سے سرشاری کا ۔ والحمدُ للّٰہ رب العالمین - 104 فراست ایمانی قدرت کا ایک عظیم الشان اور بےمثل عطیہ و احسان ہے : اہل ایمان کے اس جواب سے ایک طرف تو ان کی فراست ایمانی کا پتہ چلتا ہے اور دوسری طرف اس جواب کے کمال جامعیت و ایجاز کا کہ حضرت صالح (علیہ الصلوۃ والسلام) اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے۔ بلکہ وہ تو اس پیغام کو پہنچا رہے ہیں جس کو دے کر انہیں انکے رب کی طرف سے بھیجا گیا ہے۔ اور جب وہ پیغام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو اس پر ایمان لانا تو عقل و فطرت کا بدیہی تقاضا ہے۔ اور پھر اگرچہ تمہیں چڑ دراصل اسی پیغام سے ہے لیکن ہم اس کے علی الرغم کہتے ہیں کہ ہم اس پر دل و جان سے ایمان رکھتے ہیں۔ تم اگر اس پر جلتے ہو تو جلتے رہو { مُوْتُوْا بِغَیْظِکُمْ } سو قوت اور فراست ایمانی قدرت کی ایک عظیم الشان اور بےمثال عنایت ہے جس سے وہ مومن صادق کو اپنے کرم بےپایاں سے نوازتا ہے اور جس سے اس کیلئے فوز و فلاح کی راہیں ہموار ہوجاتی ہیں۔ اور نشان راہ واضح ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اور اس کے دل و دماغ ایسے روشن ہوجاتے ہیں کہ اس کی زبان سے حق بات ہی نکلتی ہے اور اس سے حکمت و دانش کی کرنیں پھوٹتی ہیں ۔ اللہ نصیب فرمائے اور راہ حق و ہدایت پر ہمیشہ مستقیم و ثابت قدم رکھے ۔ آمین۔
Ayah 7:77

فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَ عَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ وَ قَالُوْا یٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 7:77 in the Quran reader

پھر (اپنی اصلاح کرنے کی بجائے) انہوں نے ہلاک کر ڈالا اس اونٹنی کو، اور سرکشی کی انہوں نے اپنے رب کے حکم سے، اور وہ (نہایت بےباکی سے) کہنے لگے کہ اے صالح ! لے آؤ تم ہم پر وہ عذاب جس کی دھمکی تم ہمیں دے رہے ہو، اگر تم واقعی رسولوں میں سے ہو،2

106 قوم صالح کے منکروں کی طرف سے عذاب کا مطالبہ : یہ ضد وعناد اور ہٹ دھرمی اور بدبختی کی وہ آخری انتہاء ہے جس کے بعد ایسے لوگوں کو ان کا وہ آخری انجام آپکڑتا ہے جس کا مستحق انہوں نے اپنے آپ کو اپنے عمل و کردار کی بناء پر بنا لیا ہوتا ہے۔ اور ایسا کہ پھر ان کیلئے اس گرفت و پکڑ سے بچ نکلنے کی کوئی صورت ممکن نہیں رہتی۔ سو عناد اور ہٹ دھرمی ایک ایسا ہولناک مرض ہے جو انسان کو لاپرواہ اور اندھا اور اوندھا بنا دیتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اس طرح کے لوگ عذاب سے بچنے کی فکر و کوشش کی بجائے اس کے لانے کا مطالبہ کرنے لگتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ اپنے آخری اور ہولناک انجام کو پہنچ کر رہتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو قوم صالح کے ان منکر متکبروں نے اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ کر اس کو ہلاک کر ڈالا اور حضرت صالح سے کہا کہ لے آؤ ہم پر وہ عذاب جس کی دھمکی تم ہمیں دے رہے تھے۔ سو ان پر اس کے تین ہی دن بعد وہ عذاب آ کر رہا جس نے ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دی اور ان کو قصہ پارینہ بنا کر رکھ دیا گیا ۔ ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 7:78

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ Open ayah 7:78 in the Quran reader

آخرکار آپکڑا ان لوگوں کو اس (ہولناک) زلزلے نے جس سے یہ لوگ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے3

107 قوم صالح کے عذاب کی حقیقت اور نوعیت ؟ : سو دعوت حق کے انکار اور اس کی تکذیب کا نتیجہ و انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے۔ اس لئے اس بدبخت قوم پر آخر کار عذاب آ کر رہا۔ سو اس حرف " فاء " کے نیچے گویا کہ ان کی پوری داستان سمٹی ہوئی موجود ہے کہ حضرت صالح (علیہ الصلوۃ والسلام) کی عمر بھر کی تعلیم و تلقین کے باوجود جب وہ بدبخت اور ناہنجار قوم نہ مانی اور وہ اپنے کفر و انکار اور تکذیب و ہٹ دھرمی ہی پر اڑی رہی تو آخرکار ان پر وہ آخری عذاب آ کر رہا جو ان کے لئے مقدر ہوچکا تھا۔ اور جس سے ان کے وجود کو ہمیشہ کے لئے صفحہء ہستی سے مٹا دیا گیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو دعوت حق کی تکذیب اور انکار کا آخری نتیجہ و انجام بہرحال ہلاکت و تباہی اور دائمی خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اس بدبخت قوم کے عذاب کے لئے یہاں پر { رُجْفہ } کا لفظ آیا ہے جس کے معنیٰ " شدت کی حرکت "، " تھرتھراہٹ " اور " کپکپی " کے آتے ہیں۔ اسی لئے عام طور پر اس کا ترجمہ " زلزلہ " ہی کیا جاتا ہے۔ لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ عذاب زلزلے ہی کا ہو، بلکہ یہ محض اس عذاب کی شدت اور ہولناکی کی ایک تعبیر ہے۔ کیونکہ اس عذاب میں شدت اور ہولناکی کے کئی پہلو تھے۔ اسی لئے دوسرے مقام پر اس کے لئے { صَیْحَہ } کا لفظ آیا ہے جسکے معنیٰ " سخت ڈانٹ " اور " انتہائی ہولناک آواز " کے آتے ہیں۔ ایک اور جگہ اس کے لئے " صَاعِقہ " کا لفظ آیا ہے جس کے معنی " کڑکے " کے آتے ہیں۔ ایک اور جگہ اس کو { طاغیہ } کے لفظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ سو یہ اس عذاب کی شدت اور ہولناکی کا بیان و اظہار ہے۔
Ayah 7:79

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 7:79 in the Quran reader

پھر صالح ان سے منہ موڑ کر چلے گئے اور کہا اے میری قوم میں نے تو پہنچا دیا تھا تم کو پیغام اپنے رب کا، اور پوری خیر خواہی کی تھی تمہارے لئے، مگر تم لوگ ہو کہ تم پسند ہی نہیں کرتے اپنے خیر خواہوں کو،4

108 تکذیب و انکار حق کا نتیجہ دائمی ہلاکت و تباہی ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ : حضرات انبیاء و رسل کی تکذیب عذاب خداوندی کو دعوت دینا ہے۔ سو حضرت صالح کے اس خطاب میں اظہار افسوس بھی ہے اور اس حقیقت کا بیان بھی کہ ان سچے خیر خواہوں کی بات کو نہ ماننا جو اللہ پاک کی وحی والہام کی بنیاد پر خیر خواہی کا یہ فربضہ انجام دیتے ہیں، اپنی تباہی کو دعوت دینا ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور ان کی دعوت کی تصدیق اور اس کے اپنانے میں دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا سامان ہے ۔ وَباللّٰہِ التوفیق لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ ۔ وَھُوَ الْہَادِیْ اِلٰی سَوائِ السَّبِیْل -