33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayahs 33:60–61

لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَةِ لَنُغْرِیَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوْنَكَ فِیْهَاۤ اِلَّا قَلِیْلًا٤ۖۛۚ Open ayah 33:60 in the Quran reader

اگر باز نہ آئے منافق لوگ (اپنی بری حرکتوں سے) اور وہ لوگ جن کے دل میں روگ ہے (شہوت پرستی اور چھیڑ خانی کا) اور ہیجان انگیز افواہیں پھیلانے والے مدینے میں (اگر یہ لوگ باز نہ آئے اپنی ان حرکتوں سے) تو ہم آپ کو ان پر ایسی سختی سے مسلط کردیں گے کہ پھر یہ لوگ آپ کے ساتھ مدینہ میں رہنے بھی نہ پائیں گے مگر بہت کم

مَّلْعُوْنِیْنَ١ۛۚ اَیْنَمَا ثُقِفُوْۤا اُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا Open ayah 33:61 in the Quran reader

اور وہ بھی ایسے پھٹکارے ہوئے کہ (مدت مہلت ختم ہونے پر) جہاں کہیں پائے جائیں گے پکڑے جائیں گے اور چن چن کر قتل کئے جائیں گے

127 اَشرار و منافقین کو آخری اور کھلی تنبیہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر باز نہ آئے یہ منافق اور وہ لوگ جنکے دلوں کے اندر روگ ہے تو ہم آپ کو ان پر ایسا مسلط کردیں گے کہ اس کے بعد یہ لوگ آپ کے ساتھ مدینے میں نہیں رہ سکیں گے مگر بہت تھوڑا "۔ اور مرض سے یہاں پر مراد زنا اور بدکاری کا مرض ہے جو کہ معاشرے کے امن و استقرار کو تباہ کردینے والا مرض اور خطرناک روگ ہے ۔ " وہم الزناۃ " ۔ (المراغی، الصفوۃ، ابن کثیر) ۔ اَہْلُ الرَّیْبِ الذِیْنَ غَلَبَتْہُمْ شَہْوَاتُہُمْ وَرَکَنُوْا اِلَي الْخَلاعَۃ والفجور۔ (جامع البیان) ۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ زنا کاری اور شہوت پرستی دلوں کا روگ اور فتنہ و فساد کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور جب دل روگی اور مریض ہوگیا تو باقی کیا رہ گیا کہ سلطنت جسم کا حاکم و بادشاہ تو دل ہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور بعض اہل علم کے نزدیک مرض سے یہاں پر مراد حسد، کینہ اور بغض وعناد کا مرض ہے۔ سو منافقین کا یہ گروہ صرف نفاق اور ضعف عزم و ارادہ ہی کا مریض نہیں تھا بلکہ ان لوگوں کو پیغمبر اور اسلام اور مسلمانوں پر سخت حسد بھی تھا۔ مگر اپنی معروف بزدلی کے باعث یہ لوگ دوسرے کفار کی طرح کھلم کھلا مخالفت کرنے کی بجائے مسلمانوں کے اندر گھس کر اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہے تھے۔ مرض کا عموم بہرکیف ان سب ہی معانی و مفاہیم کو عام اور ان کو شامل ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔ 128 افواہ طرازوں کو بھی تنبیہ : سو منافقوں اور دل کے روگیوں کے ساتھ ساتھ افواہ طرازوں کا بھی اس تنبیہ میں ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا " اور ہیجان انگیز افواہیں پھیلانے والے بھی "۔ یعنی وہ لوگ جو مسلمانوں کو پریشان کرنے، ان میں افراتفری پھیلانے اور ان کے عزائم کو پست کرنے اور حوصلے توڑنے کے لئے طرح طرح کی افواہیں گھڑتے، اڑاتے، اور جھوٹی خبریں پھیلاتے رہتے ہیں۔ اور یہ لفظ " رجفۃ " سے ماخوذ ہے جس کے معنیٰ " زلزلہ " کے ہیں۔ چونکہ ایسی خبریں بےبنیاد ہوتی ہیں اور وہ لوگوں کے درمیان اضطراب اور بےچینی پیدا کرتی ہیں اس لئے ان کو " اَرَاجِیْف " کہا گیا ہے ۔ اَیْ الذین ینشرون الأراجیف والاکاذیب لِبَلْبَلَۃ الافْکَارِ وخَلْخَلَۃِ الصُّفُوْفُ و نَشْرِ اَخْبَار السُّوء ۔ (صفوہ، مدارک، محاسن، ابن کثیر، اور مراغی وغیرہ) ۔ سو اس سے افواہیں پھیلانے کی خطورت و سنگینی کی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اسی لئے صحیح حدیث میں ہر سنی سنائی بات کو آگے چلانے اور پھیلانے سے سختی سے منع فرمایا گیا ہے۔ بہرکیف اس سے ایسے اشرار و منافقین کو خبردار فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ اپنی شرارتوں سے باز نہ آئے تو آئندہ انکے بارے میں مسامحت اور چشم پوشی کا وہ رویہ جو اب تک رہا ہے یکسر بدل دیا جائے گا۔ اور آپ کو ۔ اے پیغمبر !۔ ہر قدم پر انکے تعاقب اور محاسبے کا حکم دے دیں گے۔ پھر ان کو اس شہر میں بہت کم رہنا نصیب ہوگا۔ اور اس کے بعد یہ لوگ جتنا بھی جییں گے ملعون ہو کر جییں گے۔ ہر قدم اور ہر موقع پر ان کو پکڑا جائے گا اور انکو عبرتناک طریقوں سے قتل کیا جائے گا۔ چناچہ بعد میں ان منافقوں کو ایسے ہی حشر سے دوچار ہونا پڑا۔ سو کفر ونفاق محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 33:62

سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 33:62 in the Quran reader

جیسا کہ اللہ کا دستور رہا ہے ان لوگوں میں جو گزر چکے ہیں اس سے پہلے اور تم اللہ کے دستور میں ہرگز کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے

129 اللہ کی سنت ناقابل تبدیل : سو اس واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور تم اللہ کی سنت ۔ اور اس کے دستور۔ میں ہرگز کوئی تبدیلی نہیں پاؤ گے "۔ یعنی اس طرح کے فسادی لوگوں کو سزا دینا اللہ پاک کا پرانا دستور اور قدیم سنت ہے۔ اور اللہ کی سنت اور اس کا طریقہ سب کے ساتھ ایک ہی ہوتا ہے اور ایک ہی رہتا ہے۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ۔ اَیْ سُنَّۃُ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ فِیْ مَنْ اَرْجَفَ بالانْبِیاء وَاَظْہَرَ نِفَاقَہٗ اَنْ یُّوْخَذَ وَیُقْتَلَ- (قرطبی، مراغی، ابن کثیر وغیرہ) ۔ سو حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ کی مخالفت کرنے والے جو کفار و منافقین گزر چکے ہیں، انکے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ نے یہی معاملہ فرمایا۔ تو یہی معاملہ وہ تمہارے ساتھ بھی کرے گا کہ اس کا دستور اور معاملہ سب کیلئے ایک اور یکساں ہے۔ اور اللہ کی سنت میں تم کبھی تبدیلی نہیں پاؤ گے۔ اور وہ جیسی پہلوں کے ساتھ رہی، آئندہ بھی ایسے ہی رہے گی ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayahs 33:63–66

یَسْئَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَرِیْبًا Open ayah 33:63 in the Quran reader

یہ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں (قیامت کی) اس گھڑی کے بارے میں تو کہو کہ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے اور تمہیں کیا پتہ کہ قریب ہی آلگی ہو وہ گھڑی

اِنَّ اللّٰهَ لَعَنَ الْكٰفِرِیْنَ وَ اَعَدَّ لَهُمْ سَعِیْرًاۙ Open ayah 33:64 in the Quran reader

بیشک اللہ نے لعنت فرما دی کافروں پر اور اس نے تیار کر رکھی ہے ان کے لئے ایک بڑی (ہی ہولناک اور دہکتی) بھڑکتی آگ

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ۚ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۚ Open ayah 33:65 in the Quran reader

اس میں ان کو ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہوگا اور یہ اپنے لئے نہ کوئی حمایتی پاسکیں گے نہ مددگار

یَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ یَقُوْلُوْنَ یٰلَیْتَنَاۤ اَطَعْنَا اللّٰهَ وَ اَطَعْنَا الرَّسُوْلَا Open ayah 33:66 in the Quran reader

جس روز الٹ پلٹ کیا جائے گا ان کے چہروں کو (دوزخ کی دہکتی بھڑکتی) اس آگ میں (اس وقت یہ انتہائی حسرت سے) کہیں گے کہ اے کاش کہ ہم نے کہا مانا ہوتا اللہ کا اور اس کے رسول کا

130 قیامت ایک اٹل حقیقت : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ کوئی مانے نہ مانے قیامت بہرحال ایک اٹل حقیقت ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پوچھتے ہیں یہ لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں "۔ اس سوال سے مقصود ان کا واقعۃً پوچھنا اور جاننا نہیں تھا بلکہ اس سے ان لوگون کا مقصود استعجاب واستبعاد اور وقوع قیامت کی حقیقت کبریٰ کی تکذیب اور اس کا استہزا اور مذاق اڑانا تھا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو یہ لوگ مذاق اور استہزاء کے طور پر کہتے تھے کہ آخر قیامت آتی کیوں نہیں۔ کب سے اس کے بارے میں سنتے چلے آرہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ بہرکیف اشرار و مفسدین کو جب قیامت کے بارے میں ڈرایا اور خبردار کیا جاتا تو وہ اس کا مذاق اڑاتے کہ ہم نہ جانے کب سے اس طرح کے ڈراوے سن رہے ہیں لیکن قیامت نہ اب تک آئی اور نہ ہی اس نے کبھی آنا ہے بلکہ یہ محض ایک دھونس اور دھمکی ہے جس سے ہم ڈرنے والے نہیں وغیرہ۔ سو عقل کے ایسے اندھوں کو بتایا جا رہا ہے کہ یہ محض ایک دھونس و دھمکی نہیں بلکہ یہ کائنات کی ایک اٹل حقیقت ہے۔ اور محض اس بنا پر اس کا انکار کرنا کہ اس کا صحیح وقت نہیں بتایا جاسکتا نری حماقت ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 131 قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے کہو کہ اسکا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے "۔ کلمہ حصر " اِنَّمَا " کے ساتھ فرمایا گیا کہ قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے۔ اس کے سوا اس کو کوئی نہیں جان سکتا۔ کسی نبی ولی یا فرشتہ کو اس کا علم نہیں ہوسکتا۔ لہذا اللہ کے سوا کسی اور کو عالم غیب جاننا اور ماننا اس طرح کی صریح نصوص کی مخالفت اور ان کے معارضے کے زمرے میں آئے گا جو کہ بڑا ہی سنگین جرم اور انتہائی ہولناک امر ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور حق اور حقیقت بہرحال یہی ہے کہ علم غیب خاصہ خداوندی ہے۔ اور عالم غیب صرف اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف قیامت کے وقوع اور اس کے علم کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ جہاں تک قیامت کے آنے اور اس کے وقوع کے علم کا تعلق ہے تو اللہ کے سوا اور کسی کو اس کا پتہ نہ ہے نہ ہوسکتا ہے۔ اس کو اللہ ہی جانتا ہے۔ مجھے بھی اس کے وقوع کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ البتہ یہ بات قطعی ہے کہ وہ کائنات کی ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جس نے اپنے وقت مقرر پر بہرحال آ کر اور واقع ہو کر رہنا ہے۔ سو محض اس بنا پر اس کا انکار کرنا کہ اس کا وقت اللہ کے سوا کسی کے علم میں نہیں محض ایک حماقت اور سخت خسارے کا سودا ہے ۔ والعیاذ باللہ - 132 قیامت کے ظہور میں اب زیادہ دیر نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تمہیں کیا پتہ کہ شاید قریب ہی آلگی ہو وہ گھڑی جس کا تم لوگ اس طرح مذاق اڑا رہے ہو "۔ پس تم لوگ اس کا وقت پوچھنے کی بجائے اس کے لیے تیاری کرو اور ہر وقت اس کا دھیان رکھو قبل اس سے کہ حیات مستعار اور عمر رواں کی یہ فرصت محدود تمہارے ہاتھ سے نکل جائے کہ پھر اس کے ملنے کی کوئی صورت ممکن نہ ہوگی۔ اور ہر شخص کی انفرادی قیامت تو اس کی اپنی موت ہے جس کے بارے میں کوئی نہیں جانتا کہ وہ کب کہاں اور کیسے پہنچ جائے۔ جیسا کہ فرمایا گیا " مَنْ مَّاتَ فَقَدْ قَامَتْ قِیَامَتُہٗ " لہذا بےمقصد سوالات پوچھنے کی بجائے آخرت کے لئے کمائی اور سعی و عمل کی ضرورت ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو اس ارشاد میں پیغمبر کیلئے تسلی اور قیامت کا مذاق اڑانے والوں کیلئے سخت انذار اور تنبیہ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور یہ اسلوب بیان کسی چیز کی عظمت، اہمیت اور اس کی ہولناکی کو بیان کرنے کے لیے ہوتا ہے اور اس میں مخالفین کے طنز و استہزاء کا جواب اور اس پر رد بھی ہے کہ تم لوگ اس لاپرواہی سے اس کا مذاق اڑا رہے ہو۔ تمہیں کیا پتہ کہ وہ شاید قریب ہی آ لگی ہو اور آخری پیغمبر کی بعثت و تشریف آوری کے بعد اب آخری مرحلہ وقوع قیامت ہی کا رہ گیا ہے۔
Ayah 33:67

وَ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَ كُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا Open ayah 33:67 in the Quran reader

اور کہیں گے اے ہمارے رب ہم تو اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کے کہنے پر چلتے رہے تو ان لوگوں نے (اپنی اغراض و اہواء کی خاطر) ہمیں بہکا دیا سیدھی راہ سے

135 منکروں کے اپنے بڑوں پر الزام کا ذکر : سو اس سے منکروں کے اپنے بڑوں کے جرم اضلال کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز یہ کہیں گے کہ ہمیں بہکا اور بھٹکا دیا ہمارے بڑوں نے سیدھی راہ سے "۔ اور راہ حق وصواب سے ہٹا کر اور بہکا کر انہوں نے ہمیں کفر و شرک اور معاصی وذنوب کی راہ ہلاکت پر ڈال دیا۔ جس کے نتیجے میں آج ہمیں یہ روز بد دیکھنا پڑا۔ سو علمائے سو پیران باطل اور لیڈران ضلالت کا طریقہ و وطیرہ ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ وہ اپنی اہواء و اَغراض کی خاطر عام لوگوں کو راہ حق و صواب سے ہٹانے اور محروم کرنے کے لئے طرح طرح کے طور طریقے اپناتے اور قسماقسم کے ہتھکنڈے اختیار کرتے ہیں۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ اور جس کے مظاہر یہاں اور وہاں جگہ جگہ اور طرح طرح سے نظر آتے ہیں ۔ " اَیْ القادۃُ والاَشراف فِیْنا ۔ " (صفوۃ : ج 10 ص 539) ۔ " اَیْ اَئِمَّتُنَا فی الضَّلالَۃ وکبرائنا فی الشر والشرک والمراد بہم العلماء الذین لقنوہم الکفر و الشرک۔ وعن قتادۃ رؤسائہم فی الشرّ و الشّرک ۔ " (روح : ج 22 ص 93) ۔ اہل بدعت کے بعض بڑوں نے یہاں پر لکھا ہے کہ اولیاء اللہ اور بزرگان دین کو اس میں داخل ماننا صریح بےدینی ہے۔ تو واضح رہے کہ جو لوگ صحیح معنوں میں اولیاء اللہ اور بزرگان دین ہیں، خواہ وہ گزر چکے ہوں یا آج موجود ہوں، وہ نہ تو اس میں داخل ہیں اور نہ ہی انہیں کوئی اس میں داخل مانتا ہے کہ انہوں نے تو ہمیشہ دین حق ہی کی تبلیغ فرمائی اور دنیا کو توحید کی ہی دعوت دی جو کہ دین متین کی سب سے بڑی اساس و بنیاد اور اصل الاصول ہے۔ اور انہوں نے شرک و بدعت کی ہمیشہ تردید کی۔ آگے ان کے مرنے کے بعد ان کی قبروں اور مزاروں پر شرک و بدعت اور میلوں ٹھیلوں کے جو کاروبار چلائے گئے اور آج تک چلائے جا رہے ہیں تو ان کا اس میں نہ کوئی قصور ہے نہ دخل۔ پس وہ تو اس سے بہرحال پاک اور بری ہیں لیکن اس کے برعکس وہ علمائے سو اور پیران باطل جنہوں نے اپنی اہوا و اَغراض کی خاطر عوام الناس اور سادہ لوح لوگوں کو دین متین کی تعلیمات مقدسہ کے خلاف چلایا اور ان کو حق اور اہل حق کے خلاف اٹھایا بھڑکایا تو وہ یقیناً اس میں داخل اور اس کا اصل مصداق ہیں۔ جیسا کہ جمہور مفسرین کرام اور ثقہ اہل علم نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ اور ان کی ان تصریحات کے کچھ نمونے ابھی اوپر اسی حاشیے میں بھی گزرچکے ہیں ۔ والعیاذ باللّٰہِ العظیم ۔ عَلَیْہِ نَتَوّکَّلُ وبِہٖ نَسْتَعِیْن ۔ بہرکیف ایسے ہی غلط کار اور گمراہ کن علماء اور پیر اس کے مصداق ہیں اور انہی پر " سادتنا " اور " کبراءنا " کے الفاظ چسپاں ہوتے ہیں۔ اور انہی کے بارے میں حضرات مفسرین کرام کہتے ہیں ۔ " قال طاؤس سادتنا یعنی الاشراف وکبراء نا یعنی العلماء " ورواہ ابن ابی حاتم ای اتبعنا السادۃ وہم الامراء والکبراء من المشیخۃ ۔ (ابن کثیر، جامع البیان، المراغی) ۔ اللہ ہمیشہ اور ہر طرح اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 33:68

رَبَّنَاۤ اٰتِهِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَ الْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 33:68 in the Quran reader

اے ہمارے رب ان کو دوہرا عذاب دے اور ان پر لعنت فرما بہت بڑی لعنت1

136 گمراہ کن لیڈروں کے لیے دوہرے عذاب کا مطالبہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس وقت ایسے گمراہ پیروکار اپنے ان گمراہ کن لیڈروں کے بارے میں کہیں گے اور ہمارے رب انکو دوہرا عذاب دے "۔ ایک عذاب انکو خود گمراہ ہونے کا اور ایک دوسروں کو گمراہ کرنے کا ۔ " مِثْلًاعَلٰی ضَلاَلِہم وَ مِثْلَا عَلي اٍضْلالہم " ۔ (المراغی وغیرہ) ۔ " سو وہ کہیں گے کہ ان بڑوں کو ہمارے عذاب کے مقابلے میں دوہرا عذاب دیا جائے۔ ایک گمراہ ہونے کا دوسرا گمراہ کرنے کا "۔ " سادۃ "، " سید " کی جمع ہے جسکے معنیٰ " سردار " کے آتے ہیں اور " کبرا " جمع ہے " کبیر " کی جسکے معنیٰ بڑے کے آتے ہیں۔ سو ان سے مراد ان کی قوم قبیلہ کے وہ بڑے لوگ ہیں جن کے کہنے پر یہ لوگ چلا کرتے تھے۔ طاؤس کہتے ہیں کہ " سادۃ " سے مراد انکے اشراف اور سردار ہیں۔ " کبراء " سے مراد انکے علماء و مشائخ ہیں۔ (ابن کثیر وغیرہ) ۔ سو جو بھی لوگ اپنے ماتحتوں اور اپنے پیروکاروں کو راہ حق و ہدایت سے روکتے ہیں وہ سب اس کے عموم میں داخل ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اپنے بڑوں اور اپنے خاندانی اور مذہبی پیشواؤں کی آنکھیں بند کرکے اطاعت اور پیروی نہیں کرنی چاہیئے، بلکہ حق و صواب کی حدود کے اندر ان کی اطاعت کی جائے اور ان کی بات مانی جائے۔ کیونکہ مطلق اور غیر مشروط اطاعت صرف اللہ اور اس کے رسول کا حق ہے۔ باقی ہر کسی کی اطاعت مشروط ہے۔
Ayah 33:69

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا١ؕ وَ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِیْهًاؕ Open ayah 33:69 in the Quran reader

اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو کہیں تم ان لوگوں کی طرح نہیں ہوجانا جنہوں نے ایذاء (و تکلیف) پہنچائی موسیٰ کو پھر اللہ نے ان کو بری فرما دیا ان تمام باتوں سے جو ان لوگوں نے (ان کے خلاف) بنائی تھیں اور موسیٰ تو اللہ کے یہاں بڑی آبرو والے تھے

137 ایمان والوں کو آداب پیغمبر کے بارے میں خاص ہدایت : سو اس سے ایمان والوں کو اپنے پیغمبر کی ایذا رسانی سے پرہیز و اجتناب کی تنبیہ و تذکیر فرمائی گئی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور اہل ایمان کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ " ایمان والو، کہیں تم ان لوگوں کی طرح نہیں ہوجانا جنہوں نے حضرت موسیٰ کو ایذا پہنچائی تھی "۔ کہ تم بھی اپنے پیغمبر کو اسی طرح ستانے لگو جس طرح کہ حضرت موسیٰ کی امت نے ان کو ستایا۔ اور اس طرح تم بھی انہی کی طرح اپنی تباہی کا سامان کرلو ۔ والعیاذ باللہ ۔ روایات میں وارد ہے کہ ایک مرتبہ آنحضرت ۔ ﷺ ۔ مال غنیمت تقسیم فرما رہے تھے تو ایک شخص نے اعتراض کیا کہ یہ تقسیم صحیح نہیں۔ اس میں عدل وانصاف سے کام نہیں لیا گیا۔ تو اس پر آپ ﷺ نے فرمایا ۔ " رَحِمَ اللّٰہُ مُوْسٰی لَقَدْ اُوْذِیَ اَکْثَرَ مِنْ ہٰذَا فَصَبَر " ۔ " اللہ کی رحمتیں ہوں حضرت موسیٰ پر کہ ان کو اس سے بھی زیادہ ستایا گیا مگر انہوں نے صبر ہی سے کام لیا "۔ سو یہاں سے یہ درس بھی ملتا ہے کہ جب اللہ کی ایسی پاکیزہ اور مقدس ہستیاں بھی لوگوں کے طعن وتشنیع اور اعتراضات سے نہیں بچ سکیں تو پھر اور کون ہے جو اس سے بچ سکے ؟ پس اس کی کوشش اور فکر کرنے کی ضرورت نہیں کہ سب لوگ مجھے اچھا کہیں کہ ایسا نہ کبھی ہوا نہ ہوسکتا ہے۔ بلکہ کوشش اس امر کی ہو کہ میرا اپنا راستہ صحیح اور میرا اپنا عمل درست ہو۔ اور یہ کہ میرا معاملہ میرے خالق ومالک سے ہمیشہ درست رہے۔ اس کے بعد کوئی اچھا کہے یا برا اس کی پروا نہیں ہونی چاہیئے ۔ وباللہ التوفیق - 138 قوم موسیٰ کی بدبختی کے ایک نمونے کا ذکر : سو قوم موسیٰ کی طرف سے حضرت موسیٰ کی ایذا رسانی اور اللہ کی طرف سے ان کی براءت کے انتظام کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ نے بری فرما دیا انکو لوگوں کی سب باتوں سے "۔ حضرت موسیٰ کو ان کی قوم کی طرف سے طرح طرح سے ستایا گیا۔ " ساحر "، " مجنون " اور " کذاب " وغیرہ کے ان عمومی مطاعن کے علاوہ جن سے سب ہی انبیائے کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ کو واسطہ پڑا۔ آپ (علیہ السلام) پر ایک فاحشہ عورت کے ذریعے بھرے مجمع میں تہمت لگوائی گئی۔ آپ (علیہ السلام) پر اپنے بھائی حضرت ہارون کو قتل کرنے تک کا الزام لگایا گیا۔ اور اس نا شکری اور بےانصاف قوم کو جب بھی کوئی آزمائش پیش آئی تو انہوں نے حضرت موسیٰ ہی کو مطعون کیا اور ہر بات کا الزام آپ (علیہ السلام) ہی پر رکھا۔ چناچہ مصر سے نکل کر جب یہ لوگ سمندر کے کنارے پہنچے اور پیچھے سے فرعون بھی اپنے لشکروں سمیت ان کے تعاقب میں وہاں پہنچ گیا تو یہ چیخ پڑے کہ موسیٰ نے ہمیں کہاں مروا دیا۔ اور سب کو اکٹھا کرکے اس طرح موت کے منہ میں دھکیل دیا۔ پھر جب فرعون اپنے لشکر سمیت ان کے سامنے غرقاب ہوا تو حضرت موسیٰ کے ہاتھ پر اتنے بڑے معجزے کے ظاہرہونے کے باوجود اپنی اس بدتمیزی پر کسی افسوس اور معذرت کرنے کی بجائے سمندر سے پار ہوکر صحرائے سینا میں پہنچنے پر انہوں نے کہا کہ موسیٰ کیا مصر میں ہمارے دفن کے لئے قبروں کی جگہ نہیں تھی جو تم نے ہمیں یہاں لا کر اس لق و دق صحرا میں اس طرح مروا دیا ؟ پھر حضرت موسیٰ کی دعا و درخواست پر ان کے لیے قدرت کی طرف سے بادلوں کے سایوں اور پانی کے لئے بارہ چشموں کے پھوٹ نکلنے جیسے کھلے معجزات کو دیکھ لینے کے باوجود جب حضرت موسیٰ تورات لینے کوہ طور پر گئے تو انہوں نے کہا کہ یہ شخص ہمیں اس صحرا میں چھوڑ کر پتہ نہیں کہاں گم ہوگیا۔ تو انہوں نے اپنے زیوارت کا سامری سے ایک بچھڑا بنوایا اور اس کو خدا مان کر اس کی پوجا شروع کردی۔ پھر جب ان کو من وسلویٰ جیسی قدرتی نعمتوں سے نوازا گیا تو انہوں نے کہا کہ ایک ہی طرح کا کھانا کھاتے کھاتے ہم لوگ تنگ آگئے ہیں۔ اور اس سے ہمارے جسم سو کھ گئے ہیں۔ ہمیں وہی مصر والی ساگ، سبزی، کھیرے، ککڑی اور دال روٹی جیسی چیزیں چاہئیں۔ پھر جب حضرت موسیٰ نے ان سے کہا کہ تم جہاد کے لئے نکلو تاکہ عمالقہ سے اپنی سرزمین کو آزاد کرا سکو تو انہوں نے صاف طور پر کہہ دیا کہ ہم ایسا نہیں کرسکتے کہ وہ بڑے سخت اور طاقتور لوگ ہیں۔ اس لئے ہم تو وہاں نہیں جاسکتے بلکہ یہیں بیٹھے رہیں گے۔ تم خود اور تمہارا رب جا کر ان کے ساتھ لڑو وغیرہ وغیرہ۔ اس کے علاوہ انہوں نے حضرت موسیٰ پر جسمانی عیبوں کی تہمت لگا کر آپکوبدنام کیا۔ جیسا کہ صحیح روایات میں وارد ہے۔ مگر اللہ پاک نے اس قسم کے تمام مواقع پر خرق عادت کے طور پر آپ (علیہ السلام) کی براءت کا انتظام فرمایا اور حضرت موسیٰ کو ہر موقع پر سرخرو کرنے کا انتظام فرمایا۔ قرآن پاک نے چونکہ ان مواقع میں سے کسی کی تعیین و تصریح نہیں فرمائی اس لئے " اَبْہِمُوْا مَا اَبْہَمَہُ الْقُرْآنُ " کے اصول کے مطابق ہمیں اس کی تعیین و تخصیص پر زور لگانے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ اس کو اپنے ظاہر اور عموم ہی پر رکھا جائے۔ اور اس طرح یہ سب ہی صورتیں اس ایذارسانی میں داخل ہیں " ولم یعین لنا الکتاب الکریم ما قالوا فی موسیٰ فمن الخیر أن لا نعینہ حتٰی لا یکون ذاک رجما بالغیب " (المراغی، القرطبی، الکبیر، المحاسن للقاسمی وغیرہ) ۔ 139 وجاہت موسوی کا ذکر وبیان : سو اس سے حضرت موسیٰ کی اللہ تعالیٰ کے یہاں وجاہت کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور موسیٰ اللہ تعالیٰ کے یہاں بڑے ہی وجیہ اور آبرومند تھے "۔ اور نہ صرف یہ کہ آپ (علیہ السلام) نبی و رسول تھے اور بس۔ بلکہ اولوا العزم رسول تھے۔ اور جو دعا آپ اللہ سے مانگتے تھے وہ پوری ہوتی تھی۔ (ابن کثیر وغیرہ) اور یہ آپ کی بیمثال وجاہت ہی تھی کہ آپ (علیہ السلام) نے کہ تن تنہا اپنے عصا یعنی عصائے موسوی کے سہارے فرعون جیسے بڑے کافر کو للکارا۔ ڈنکے کی چوٹ اس کے سامنے کلمہ حق بلند کیا اور بالآخر وہ اپنے لاؤ لشکر سمیت غرق قلزم ہوا۔ اور اللہ تعالیٰ کے یہاں آپ (علیہ السلام) کی وجاہت کا ایک اور پہلو یہ تھا کہ آپ (علیہ السلام) کی دعا و درخواست سے حضرت ہارون (علیہ السلام) کو منصب نبوت سے سرفرازی نصیب ہوئی۔ جس کی دوسری کوئی مثال نہیں ملتی۔ نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد۔ سو اللہ پاک نے حضرت موسیٰ کو معاندین و منکرین کی ہر تہمت سے بری فرمایا اور اس طور پر کہ ہر تہمت کے مقابلے میں آپ (علیہ السلام) کی صداقت و سچائی اور نیک نیتی و راست بازی پہلے سے بھی زیادہ نکھر کر سامنے آئی۔ آپ (علیہ السلام) کی صداقت و حقانیت مزید آشکارا ہوئی اور آپ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے یہاں بڑے باوقار، آبرو مند اور سرخرو ٹھہرے۔ اور آپ (علیہ السلام) کی وجاہت دنیا میں بھی چمکی اور آخرت میں بھی روشن ہوگئی۔ سو اس میں بالواسطہ طور پر حضور ﷺ کیلئے بڑی بشارت اور خوشخبری ہے۔ اور آپ (علیہ السلام) کے توسط سے آپکی امت کے ہر داعی حق کیلئے یہ بشارت بھی ہے اور درس بھی کہ جتنا کسی کا معاملہ اپنے خالق ومالک کے ساتھ صحیح اور مستحکم و مضبوط ہوگا اتنا ہی وہ کامیاب اور سرخرو ہوگا اور اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت اس کی پشت پر رہے گی ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayahs 33:70–71

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ Open ayah 33:70 in the Quran reader

اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو ڈرتے رہا کرو تم اللہ سے اور بات ہمیشہ ٹھیک کیا کرو

یُّصْلِحْ لَكُمْ اَعْمَالَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا Open ayah 33:71 in the Quran reader

(اس کے صلے میں) اللہ درست فرما دے گا تمہارے اعمال کو اور بخشش فرما دے گا تمہارے گناہوں کی اور جس نے اطاعت (و فرمانبرداری) کی اللہ کی اور اس کے رسول کی تو وہ یقینا سرفراز ہوگیا بہت بڑی کامیابی سے

140 تقویٰ اور قول سدید کو اپنانے کی ہدایت : سو اس سے ایمان والوں کو تقویٰ اور قول سدید کو اپنانے کی ہدایت فرمائی گئی ہے۔ سو ایمان والوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ " ایمان والو، ڈرتے رہا کرو تم اللہ سے اور بات کہا کرو درست "۔ یعنی ایسی بات جو کہ حق و صداقت اور عدل و انصاف پر مبنی ہو ۔ " قولا قاصدا غیر جائر، حقا غیر باطل " ۔ (المراغی، الصفوۃ، ابن کثیر وغیرہ) ۔ سو ایذائے رسول کی یہودی روش سے احتراز و اجتناب کی تعلیم و تلقین کے بعد اب یہ اس صحیح روش کو اپنانے اور اختیار کرنے کی تعلیم و تلقین فرمائی جا رہی ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان کا تقاضا ہے۔ جس میں سب سے پہلے اس بات کی ہدایت فرمائی گئی کہ اللہ سے ڈرو اور ہر اس بات سے بچو جو اس وحدہ لاشریک کی ناراضگی کا باعث بنے ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس تم لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا پہنچانے والے نہ بنو۔ اور بات وہ کہو جو ایمان کا تقاضا اور حق کے مطابق ہو ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 33:72

اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًاۙ Open ayah 33:72 in the Quran reader

بیشک ہم نے پیش (اپنی) اس امانت کو آسمانوں زمین اور پہاڑوں پر تو انہوں نے انکار کردیا اس کے اٹھانے سے اور وہ ڈر گئے اس (کی ذمہ داریوں کو نبھانے) سے مگر اس کو اٹھا لیا اس انسان (ضعیف البنیان) نے بیشک یہ بڑا ہی ظالم اور جاہل ہے

143 اصل مطلوب اطاعت اختیاری ہے : سو اس سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت بالاختیار کی عظمت شان کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے کہ بندے سے اصل مطلوب اطاعت اختیاری ہی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ ہم نے پیش کیا اس امانت کو ۔ یعنی اطاعت بالاختیار کی امانت کو ۔ آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر، مگر انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کردیا "۔ یعنی ارادئہ و اختیار کی آزادی اور فطرت سلیمہ کی وہ امانت جس پر تمام تکالیف شرعیہ کا دارومدار ہے۔ اور جس سے اس پوری کائنات میں صرف حضرت انسان ہی کو مشرف فرمایا گیا ہے۔ اور اسی پر اس کے ثواب و عقاب کا دار و مدار ہے۔ ورنہ باقی تمام کائنات کی ہر چیز ہر وقت اللہ کی بندگی اور اس کی اطاعت میں مصروف ہونے کے باوجود نہ کسی اجر وثواب کی مستحق ہے اور نہ کسی صلہ و بدلہ کی۔ کیونکہ اس کی یہ تمام عبادت و بندگی اپنی مرضی کی اور تشریعی نہیں بلکہ غیر اختیاری اور تکو ینی ہے۔ جس میں اس کے کسی ارادئہ و اختیار کا کوئی عمل دخل نہیں بلکہ اس کو تکوینی طور پر بنایا ہی اس طرح گیا ہے کہ یہ اپنا فریضہ انجام دیتی رہے۔ اور یہ طبعی طور پر اس کے حکم کی پابند ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { کُلُّ لَّہٗ قَانِتُوْنَ } ۔ بخلاف حضرت انسان کے کہ یہ اگر اپنی فطرت سلیمہ کی حفاظت کرتے ہوئے اپنے ارادئہ و اختیار سے اللہ پاک کی عبادت و بندگی کو اپنائے گا اور اس کے احکام و فرائض کو ادا کریگا تو اس کے لئے جنت کی بےمثل اور سدا بہار نعمتیں ہوں گی۔ اور اگر اس نے اپنے اندر ودیعت فرمودہ فطرت سلیمہ کو ضائع کرتے ہوئے اپنے ارادئہ و اختیار سے سرکشی اور معصیت و نافرمانی کا راستہ اپنایا ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو اس کے لئے ہمیشہ کی ناکامی اور دوزخ کا دائمی عذاب ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو یہ اس امانت کی اصل اور اس کا خلاصہ ہے۔ چناچہ روایات میں وارد ہے کہ جب آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر یہ امانت پیش کی گئی تو انہوں نے عرض کیا کہ اس امانت کے اٹھانے کا نتیجہ اور انجام کیا ہوگا تو ان کو جواب ملا کہ اگر تم نے اس کو نبھایا اور اس کا حق صحیح طور پر حق ادا کیا تو تم کو اجر وثواب اور جنت کی سدا بہار نعمتوں سے نوازا جائیگا۔ اور اگر اس کے بر عکس کیا تو تمہیں سخت عذاب بھگتنا ہوگا تو اس پر ان سب نے اپنی معذوری اور کمزوری کا اظہار و اقرار کرتے ہوئے اس کے اٹھانے سے انکار کردیا۔ (الو جیز، حاشیہ جامع البیان، ابن کثیر وغیرہ ) ۔ سو یہ ہے امانت اور اس کی اصل اور مفسرین کرام سے اس موقع پر جو مختلف اقوال مروی و منقول ہیں وہ سب یا تو اسی پر متفرع ہیں یا اسی کی مختلف انواع ہیں ۔ وکل ہذہ الاقوال لا تنافی بینہا بل ہی متفقۃ وراجعۃ الی انہا التکلیف و قبول الاوامر و النواہي۔ (ابن کثیر، قرطبی، روح، محاسن، جامع، صفوۃ البیان اور معارف وغیرہ) ۔ 144 تحمل امانت کا ذکر وبیان : سو اس سے آسمانوں اور زمین کی طرف سے تحمل امانت سے اظہار معذوری کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے اس امانت کو آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا مگر وہ اس سے ڈر گئے اور انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کردیا "۔ سو ان کا یہ انکار نافرمانی اور حکم عدولی کے طور پر نہیں تھا بلکہ اپنی کمزوری اور مجبوری کی بنا پر۔ اور اس عظمت شان اور مسؤلیت و ذمہ داری کے پیش نظر تھا۔ کیونکہ ان کو حکم نہیں فرمایا گیا تھا بلکہ اختیار دیا گیا تھا۔ سو آسمانوں، زمین اور پہاڑوں کی یہ تمام عظیم الشان مخلوق حمل امانت کی اس عظیم الشان ذمہ داری سے ڈر گئی اور انہوں نے اس کے اٹھانے سے اپنی معذرت پیش کردی کہ ہمیں اس بار گراں کے اٹھانے سے معاف رکھا جائے۔ خواہ ان کی یہ معذرت زبان حال سے ہوئی ہو یا زبان قال سے۔ اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی زبان حال اور زبان قال دونوں کو سمجھتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور قرآن پاک میں اس بات کی تصریح موجود ہے کہ کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے لیکن تم لوگ اس کی تسبیح نہیں سمجھ سکتے۔ مگر اللہ تعالیٰ ہر چیز کی تسبیح کو سمجھتا ہے۔ چناچہ اس بارے ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَاِنْ مِنْ شَیْئٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہ وَلٰکِنْ لَّا تفْقَہُوْنَ تَسْبِیْحَہُمْ اِنَّہُ کَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا } ۔ (بنی اسرائیل : 44) ۔ یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ ہر ذمہ داری کے تحمل کے لیے ایک خاص درجے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ اگر وہ صلاحیت موجود نہ ہو تو اس کا تحمل ممکن نہیں رہتا۔ اس کے لیے آپ زمین کی مثال ہی لے لیجئے کہ زمین کا ہر حصہ ہر چیز کی کاشت اور تخم ریزی کے لیے موزوں نہیں ہوتا۔ زرخیز زمین کا ایک معمولی سا ٹکڑا اس میں ڈالے گئے تخم کا امین بن جاتا ہے۔ وہ بیج کی اس امانت کو محفوظ رکھتا ہے اور صرف محفوظ ہی نہیں رکھتا بلکہ وہ اس کو مناسب نشو و نما سے فروغ دیتا اور پروان چڑھاتا ہے۔ اور ایک دانے کے عوض کتنے ہی دانے دیتا ہے۔ لیکن اگر وہی تخم ایک کھلے سمندر یا کسی چٹیل میدان یا کسی وسیع ریگستان میں ڈال دیا جائے تو وہ یقینا ضائع ہوجائے گا۔ اسی طرح ایک اور حقیقت یہ بھی ہے کہ جس چیز کے اندر ایک چیز کو قبول کرنے کی صلاحیت نہ ہو تو وہ یقینا اور لازما اس کے قبول کرنے سے انکار کر دے گی۔ مثلا ہماری آنکھ ایک خاص درجے تک روشنی کا تحمل کرسکتی ہے۔ اگر روشنی کی مقدار اس سے بڑھ جائے تو نگاہ خیرہ ہوجائے گی۔ اسی طرح ہمارا جسم سردی اور گرمی کو ایک خاص حد تک برداشت کرسکتا ہے۔ اگر سردی یا گرمی اس خاص حد سے بڑھ جائے تو یقینا ہمارا جسم اس کے قبول کرنے سے انکار بھی کرے گا اور اس سے ڈرے گا بھی۔ یا مثلا ہمارے معدے میں ایک خاص طرح کی چیزوں کے قبول کرنے کی اہلیت و صلاحیت موجود ہے۔ اگر ہم اس کے خلاف کوئی دوسری چیز اس کے اندر ڈالنے کی کوشش کریں گے تو وہ چیز خواہ کتنی ہی قیمتی اور مفید کیوں نہ ہو معدہ اس کا متحمل نہیں ہو سکے گا۔ سو یہی حال آسمانوں، زمین اور پہاڑوں کا اس امانت کے بارے میں سمجھا جائے کہ ان کے اندر اس کے اٹھانے کا ظرف نہیں تھا۔ اس لیے انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کردیا اور وہ اس سے ڈر گیے۔ مگر انسان نے اس کو اٹھا لیا۔ 145 تحمل امانت انسانی شرف کی اصل بنیاد : سو جس امانت کو آسمان و زمین اور سمندر و پہاڑ نہیں اٹھا سکے اس کو اس انسان نے اٹھا لیا بیشک یہ انسان بڑا ہی ظالم اور بڑا ہی جاہل ہے۔ کہ اتنی بڑی ذمہ داری اٹھانے اور اس قدر شرف سے مشرف ہونے کے باوجودیہ اس کے تقاضوں سے غافل و بیخبر اور اس کے نتیجہ و انجام سے لاپروا و بےفکر ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور عمر رواں کی اس محدود و مختصر فرصت میں جو کہ برف کی ایک ڈلی کی طرح برابر پگھلی جا رہی ہے یہ اپنے فرض کی ادائیگی اور اس عظیم الشان ذمہ داری کو پورا کرنے اور اس عہد کے نبھانے کے لئے وہ کوشش نہیں کرتا جو کہ اس کو کرنی چاہیئے تھی۔ اپنی شہوات اور خواہشات کے پیچھے لگ کر اور انہی کی تحصیل و تکمیل کو سب کچھ سمجھ کر اس نے اپنے مقصد حیات کو بھلا دیا۔ اور یہ اپنے نتیجہ و انجام سے غافل و بےفکر ہوگیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ حیث حمل الامانۃ ثم لم یف بہا ۔ (الکشاف، المراغی، القرطبی، المعارف وغیرہ) ۔ اس امانت کو آسمانوں اور زمین پر پیش کرنے کا جو قصہ یہاں پر بیان فرمایا گیا ہے تو ہوسکتا ہے کہ یہ اپنے ظاہر پر محمول ہو کہ اللہ پاک نے آسمان و زمین اور پہاڑوں میں ایسی قوت و صلاحیت رکھ دی ہو جس سے وہ ادراک و احساس اور تخاطب و کلام کے قابل ہوگئے ہوں۔ اور اس طرح اللہ پاک نے اس امانت کو واقعتہً ان پر پیش فرما کر ان سے یہ پوچھا ہو۔ اور اللہ ایسے کرسکتا ہے کہ وہ جو چاہے کرے کہ اس کی شان ہے ۔ { فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ } ۔ اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے ۔ { اِنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیئٍ قَدِیْرٍ } ۔ اور دوسرا احتمال اس میں یہ بھی موجود ہے اور ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ یہ تمثیل کے طور پر فرمایا گیا ہو۔ یعنی یہ کہ حمل امانت کا یہ کام اتنا بڑا اور اس قدر عظیم الشان ہے کہ اس کے تحمل کے لئے آسمان و زمین کے ان عظیم الشان کروں پر بھی اگر اس کو پیش کیا جاتا اور ان سے اس بارے پوچھا جاتا اور ان فلک بوس پہاڑوں سے بھی اگر اس بارے رائے لی جاتی جو کہ اپنی صلابت اور استقامت میں ضرب المثل ہیں تو ان سب نے بھی اس کے تحمل سے انکار کردینا تھا۔ اور اس سے ڈر جانا تھا کہ یہ ذمہ داری بہت بڑی اور عظیم الشان ذمہ داری ہے۔ تو عرض امانت سے متعلق اس ارشاد ربانی ۔ جل و علا شانہ ۔ میں یہ دونوں احتمال ہوسکتے ہیں۔ اور حضرات اہل علم نے ان دونوں کو ذکر فرمایا ہے ۔ وَہُوَ اَعْلَم بِمُرَادِ کَلَامِہٖ سُبْحَاَنَہْ وَ تَعَالی ۔ بہرکیف آسمانوں، زمین اور پہاڑوں کی یہ معذرت زبان حال سے بھی ہوسکتی ہے اور زبان قال سے بھی۔ سو ۔ { وَحَمَلَہَا الْاِنْسَانُ } ۔ کے ارشاد سے انسان کے عظیم الشان اور بےمثال شرف کو واضح فرما دیا گیا کہ جس بار امانت کو آسمان و زمین اور سمندر و پہاڑ نہ اٹھا سکے اس کو اس انسان نے اٹھا لیا۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ انسان اگرچہ اپنے مادی وجود کے اعتبار سے اس کائنات کی ایک حقیر سی ہستی ہے لیکن اپنی معنوی قوتوں اور صلاحیتوں کے اعتبار سے یہ ان بلند وبالا آسمانوں سے بھی اونچا اور ہر طرف پھیلی بکھری اس زمین سے زیادہ وسعت رکھنے والا اور ان بلند وبالا پہاڑوں سے بھی سربلند ہے کہ جب ہی تو جس بوجھ سے یہ سب ڈر گئے اس کو انسان نے اٹھا لیا۔ اور یہی وجہ ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز کو انسان کے لیے مسخر کیا گیا ہے لیکن اس انسان کو کسی کے لیے مسخر نہیں کیا گیا بلکہ ربِّ کائنات کے سوا اور کسی کے آگے جھکنا اس کے لیے باعث ننگ قرار پایا ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 33:73

لِّیُعَذِّبَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ وَ یَتُوْبَ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 33:73 in the Quran reader

تاکہ انجام کار اللہ عذاب دے منافق مردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو اور اپنی توجہ (اور عنایت) سے نوازے ایماندار مردوں اور ایماندار عورتوں کو اور اللہ بڑا ہی بخشنے والا انتہائی مہربان ہے

146 تحمل امانت کے نتیجہ و انجام کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تاکہ انجام کار اللہ عذاب دے منافق مردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو "۔ یعنی { لِیُعَذِّبَ } کا لام لام تعلیل نہیں لام عاقبت ہے۔ جیسا کہ سورة قصص کی اس آیت کریمہ میں ہے ۔ { فَالْتَقَطَہُ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَکُوْنَ لَہُمْ عَدُوًّا وَّحَزَنًا } ۔ (القصص : 8) ۔ یعنی آل فرعون کے اس عمل و اختیار کا انجام اور نتیجہ یہی نکلنا تھا کہ وہ بچہ بالآخر ان کا دشمن اور ان کیلئے غم کا باعث بن جائے۔ جیسا کہ بعد میں امر واقع سے ثابت ہوگیا۔ سو ایسے ہی یہاں پر ہے کہ حمل امانت کے اس عمل و اختیارکا نتیجہ یہی ہونا ہے اور یہی ہوگا کہ جو لوگ سچے ایمان اور اس کے نتیجے میں صدق عمل کی دولت سے سرشار ہوں گے وہ اللہ پاک ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کی خاص توجہ اور عنایت سے مشرف ہوں گے۔ اور ابدی فوز و فلاح اور حقیقی و دائمی کامیابی سے بہرہ ور و سرفراز ہوں گے۔ اور جنہوں نے اس کے مقابلے میں کفر وعناد اور بغاوت و سرکشی سے کام لیا ہوگا اور منافقت برتی ہوگی وہ دائمی خسارے میں پڑیں گے اور ہولناک عذاب میں مبتلا ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اس امانت اور اس کے تحمل کا لازمی نتیجہ یہ ہونا تھا اور یہی ہوگا کہ ایک دن ایسا آئے جس میں اس کے بارے میں پوچھ ہو۔ اور یہ ظاہر ہو کہ کس نے اسکا حق ادا کیا۔ تاکہ ان لوگوں کو جنہوں نے اس بارے منافقت کا رویہ اپنایا ہوگا یا جو شرک کے مرتکب ہوئے ہوں گے ان کو اپنے اس جرم کی سزا ملے اور وہ اپنے کیے کرائے کا بھگتان بھگتیں، خواہ وہ مرد ہوں یا عورتیں۔ اور جنہوں نے دولت ایمان سے مشرف ہو کر اس کا حق ادا کیا ہوگا وہ اپنے رب کی رحمتوں اور عنایتوں سے مشرف و سرفراز ہوں، خواہ وہ مرد ہوں یا عورتیں۔ تاکہ ہر حقدار کو اس کے کیے کرائے کا پورا پورا حق ملے۔ اور اس طرح اس عدل و حکمت کے تقاضے پورے ہوں جو حکمتوں بھری اس کائنات کے وجود اور اس کی تخلیق کا مقتضیٰ ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل - 147 اللہ تعالیٰ کی صفات بخشش و رحمت کا حوالہ : سو ارشاد فرمایا گیا " اور اللہ بڑا ہی بخشنے والا انتہائی مہربان ہے "۔ یعنی اس کے یہاں کا معاملہ اس کے اپنے بندوں سے خوردہ گیری کا معاملہ نہیں ہوگا کہ وہ ان کو ہر خطا و لغزش پر پکڑے بلکہ وہاں پر فضل و کرم اور بخشش اور مغفرت کا معاملہ ہوگا کہ وہ ان کے گناہوں کو بخشتا ہی جائے گا کہ وہ " غفور " یعنی بڑا ہی بخشنے والا ہے۔ بشرطیکہ بندہ تمردو سرکشی کا رویہ نہ اپنائے بلکہ ہمیشہ اسی کی طرف رجوع رہے اور صدق و اخلاص اور توبہ و استغفار سے کام لیتا رہے۔ اور صرف یہی نہیں کہ وہ عفو و درگز سے کام لیتا ہے اور بس۔ نہیں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہ اپنی رحمتوں اور عنایتوں سے بھی نوازتا ہے کہ وہ " غفور " کے ساتھ ساتھ " رحیم " بھی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ فَاِیَّاکَ نَسْال اللّٰہُمَّ اَنْ تَتْوْبَ عَلَیْنَا فِیْ کُلِّ حال مِنَ الأحوال وتغفرلَنَا جَمِیْعَ الْمَعَاصِی والْخَطَایا والذنوب والزَّلات مَا صَدَرَ مِنَّا عَمَدًا أوْخَطَائً اَو نِسْیَانا وَاَنْ تُشَرِّفَنَا بالنَّعِیْمِ الْمُقِیْمِ فی جنّات الخلد والنعیم بِمَحْضِ مَنِّکَ وَکَرَمِکَ فَانک انْتَ اَرْحَمُ الرَّاحِمْیِنَ وَاَکرَمُ اْلاَکْرَمِینْ وانت الذی لا حد لجودک وکرمک واحسانک، تبارک وتعالیت، نستغفرک ونتوب الیک۔