33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 33:34

وَ اذْكُرْنَ مَا یُتْلٰى فِیْ بُیُوْتِكُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ وَ الْحِكْمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا۠ Open ayah 33:34 in the Quran reader

اور یاد رکھو اللہ کی ان آیتوں اور حکمت کی ان باتوں کو جو (صبح و شام) پڑھی جاتی ہیں تمہارے گھروں میں بلاشبہ اللہ بڑا ہی باریک بیں نہایت ہی باخبر ہے

65 اَزواج پیغمبر کو ان کے اصل مقصد اور منصب کی تذکیر و یاددہانی : سو اس سے ازواج مطہرات کو ان کے اصل مقصد و منصب کی تذکیر و یاددہانی کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کی آیتیں پڑھنے اور حکمت کی باتیں یاد رکھنے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی۔ تاکہ ان کے مطابق خود عمل کرنے کے علاوہ ان کو تم دوسروں تک بھی پہنچا سکو کہ مہبط وحی کے پاس رہتے ہوئے تمہاری ذمہ داریاں بھی بہت بڑی اور اہم ہیں۔ سو اس سے رسول اللہ ۔ ﷺ ۔ کی کثرت ازواج کے مقصد پر بھی روشنی پڑتی ہے کہ اس میں دوسرے مختلف اجتماعی اور اہم مقاصد کے علاوہ ایک بڑا مقصد علوم نبوت کی تعلیم و تبلیغ بھی تھا۔ جیسا کہ ہوا بھی۔ ورنہ جس ذات اقدس ﷺ نے جوانی کی پچیس سال کی عمر بےمثال طور پر اور بےداغ تجرد کی زندگی گزاری پھر پہلی شادی جو آپ ﷺ نے اپنے شباب کے عالم میں فرمائی وہ ایک ایسی سن رسیدہ خاتون سے فرمائی جو اس سے پہلے بیوہ اور وہ بھی دو خاوندوں سے بیوہ ہوچکی تھیں۔ پھر پچاس سال کی عمر شریف تک آپ ﷺ نے انہی کے ساتھ نباہ فرمایا یہاں تک کہ ان کا انتقال ہوگیا۔ تو اس کے بعد بھی آپ ﷺ نے ایک بیوہ ہی سے عقد فرمایا اور باقی تمام شادیاں آپ ﷺ نے چون سال کی عمر شریف کے بعد فرمائیں جو کہ عموماً شادی کی عمر رہتی ہی نہیں۔ اور جس ذات اقدس کے نکاح میں صرف ایک ہی کنواری خاتون آئی ہوں باقی سب کی سب یا تو بیوہ ہوں یا مطلقہ تو پھر کس قدر بدبخت ہوگا وہ شخص جو آپ ﷺ پر نفس پرستی اور خواہش پرستی کا الزام لگائے۔ سو آنحضرت ﷺ کی یہ تمام شادیاں دوسرے متعدد اجتماعی اور دینی مقاصد کے لئے تھیں جن میں سب سے اہم مقصد علوم نبوت کو پوری امت کے لئے پہنچانا تھا تاکہ وہ ہر شعبہ زندگی میں راہنمائی حاصل کرسکے ۔ صَلَوات اللہ وَسَلَامُہُ عَلَیْہ ۔ اس مسئلہ پر مزید اور تفصیلی بحث انشاء اللہ اپنی مفصل تفسیر میں عرض کریں گے اگر حیات مستعار نے وفا کی اور توفیق خداوندی شامل حال رہی ۔ وَہَوَ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَیْہِ الَتکلان ۔ بہرکیف یہ حقیقت اپنی جگہ ایک قطعی اور واضح حقیقت ہے کہ جس طرح حضرات صحابہ کرام نے حضور ﷺ کی جلوت کی زندگی کو محفوظ کیا، اسی طرح آپکی ازواج مطہرات نے آپکی خلوت کی زندگی کو محفوظ کرکے دنیا کے سامنے پیش فرمایا کہ آپ ﷺ کی زندگی کا ہر لمحہ امت کیلئے نمونہ ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید - 66 اللہ بڑا ہی باریک بیں نہایت ہی باخبر ہے : اس لئے اس کے ارشاد وتعلیم فرمودہ احکام و فرامین کا کوئی بدل ممکن ہی نہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اس نے مردوں اور عورتوں کیلئے جو الگ الگ دائرہ ہائے کار رکھا ہے وہ اپنے اسی لطف کامل اور علم و خبر کی بنا پر رکھا ہے۔ اور وہی ان میں سے ہر ایک کی فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ اور اپنے اس دائرئہ فطرت کی حدود کی پابندی ہی میں انکا بھلا اور فائد ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور یہ بھی یاد رکھو کہ اس نے عورتوں کی کارگزاری کو جو ان کے گھروں کے اندر تک محدود رکھا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کی کوئی خدمت اس سے مخفی رہ سکتی ہے۔ نہیں بلکہ وہ ان کی ہر خدمت اور ہر عمل سے پوری طرح باخبر ہے کہ وہ بڑا ہی باریک بیں انتہائی باخبر ہے۔ پس تم اس کے بھروسے پہ اپنا فرض صدق دل سے انجام دیئے چلے جاؤ۔ وہ تمہاری جملہ ضروریات کی کفالت خود فرمائے گا ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
Ayah 33:35

اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآئِمِیْنَ وَ الصّٰٓئِمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِ١ۙ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:35 in the Quran reader

بیشک مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں ایماندار مردوں اور ایماندار عورتوں اور فرمانبرداری کرنے والے مردوں اور فرمانبرداری کرنے والی عورتوں راستباز مردوں اور راستباز عورتوں صبر کرنے والے مردوں اور صبر کرنے والی عورتوں (اللہ کے آگے) عاجزی کرنے والے مردوں اور عاجزی کرنے والے عورتوں صدقہ کرنے والے مردوں اور صدقہ کرنے والی عورتوں روزہ رکھنے والے مردوں اور روزہ رکھنے والی عورتوں اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے مردوں اور حفاظت کرنے والی عورتوں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے مردوں اور بہت یاد کرنے والی عورتوں کے لئے اللہ (پاک) نے تیار فرما رکھی ہے ایک عظیم الشان بخشش بھی اور بہت بڑا اجر بھی (اپنے کرم و احسان سے)1

67 مسلمان مردوں اور عورتوں کیلئے اَخلاق و کردار کا آئینہ : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ان اور ان اخلاق و کردار کے مالک اور ایسے اور ایسے مسلمان مردوں اور عورتوں کیلئے اللہ تعالیٰ نے بڑی بخشش اور اجر عظیم تیار فرما رکھا ہے۔ اور وہ اپنے کرم سے ان لوگوں کی ان نیکیوں کی بنا پر ان کے ان گناہوں اور لغزشوں اور کوتاہیوں کی بخشش فرما دے گا جو بشری تقاضوں کی بنا پر صغائر کی صورت میں ان سے سرزد ہوئے ہوں گے اور ان کو وہ اپنے فضل و کرم سے جنت کی عظیم الشان اور سدا بہار نعمتوں سے نواز دے گا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کہ اس کی شان ہی نوازنا اور کرم فرمانا ہے۔ مسلسل و لگاتار نوازنا اور کرم ہی کرم فرمانا۔ اور اس قدر کہ ایک ایک لمحے میں اس کے جو خزانے تقسیم ہوتے ہیں ان کا حساب لگانا بھی کسی کے بس میں نہیں۔ اور حساب لگانا تو درکنار اس کی نعمتوں کے ان بےحد وحساب خزانوں کو جاننا اور ان کا احاطہ اور علم و ادراک بھی کسی کے بس میں نہیں۔ اور اس کی ان رحمتوں عنایتوں اور نوازشوں کا بدرجہ تمام و کمال و ظہور آخرت میں اور جنت ہی میں ہوگا ۔ اللہم فخذ بنواصینا الی ما فیہ حُبّک ورضاک فی کل موطن من المواطن و بکل حالٍ من الاحوال یا عزیز یا غفار ۔ بہرکیف اس آیت کریمہ میں مسلمان مردوں اور عورتوں کیلئے اعلیٰ اَخلاق و کردار کا آئینہ پیش فرمایا گیا ہے۔ اور اس میں جن صفات کا ذکر فرمایا گیا ہے وہ کل دس ہیں۔ اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اسلامی اخلاق و کردار کے تمام پہلو انہی دس صفات کے اندر سمٹ آئے ہیں۔ یعنی اسلام، ایمان، قنوت، صدق، صبر، خشوع، صدقہ، روزہ، عفت و حیا اور ذکر خداوندی۔ پھر انکا ذکر چونکہ صفت کے صیغوں کے ساتھ ہوا ہے، اس لیے انکا انسان کے اندر بطور صفت اور عادت کے پایا جانا مطلوب و مقصود ہے۔ سو مسلمان مردوں اور عورتوں کے سامنے ان اعلیٰ اخلاق و کردار کا یہ آئینہ رکھ کر واضح فرما دیا گیا ہے کہ مسلمان معاشرے کے ہر فرد پر خواہ وہ کوئی مرد ہو یا عورت ان کا رنگ چھایا ہوا ہونا چاہیئے۔ اور یہ کہ پھر ان صفات میں سے کچھ کا تعلق حقوق اللہ سے ہے اور کچھ کا حقوق العباد سے۔ اور کچھ کا اصلاً اصلاح نفس سے۔ اور اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ انسان کی اصل قدر و قیمت اس کے اخلاق و کردار ہی سے ہے۔ جتنے اخلاق اونچے اور پاکیزہ ہو نگے اتنا ہی انسان کا درجہ و مرتبہ بلند وبالا ہوگا ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 33:36

وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًاؕ Open ayah 33:36 in the Quran reader

اور روا نہیں کسی مومن مرد اور مومن عورت کے لئے جب کہ فیصلہ فرما دے اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے میں یہ بات کہ ان کو اس کے بعد بھی اختیار حاصل رہے اپنے اس معاملے میں اور جس نے نافرمانی کی اللہ اور اس کے رسول کی تو یقینا (اس نے اپنا ہی نقصان کیا کہ یقینی طور پر) وہ پڑگیا کھلی گمراہی میں

68 مومن کے ایمان کا اصل اور اہم تقاضا : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کے بعد کسی مومن کے لیے کسی اختیار کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کسی مسلمان مرد یا عورت کی یہ شان نہیں کہ اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کے بعد اس کیلئے کوئی اختیار باقی رہ جائے "۔ یہ آیت کریمہ حضرت زینب بنت حجش ۔ ؓ ۔ کے بارے میں نازل ہوئی جبکہ آنحصرت ﷺ نے اپنے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہ کے لئے حضرت زینب کو منگنی کا پیغام بھیجا تو انہوں نے انکار کردیا کہ ان کا تعلق قریش کے اونچے خاندان سے تھا۔ وہ رسول اللہ کی پھوپھی حضرت امیمہ بنت عبد المطلب کی بیٹی تھیں جبکہ حضرت زید ؓ کو غلامی کا داغ لگ چکا تھا۔ مگر آنحضرت ۔ ﷺ ۔ چاہتے تھے کہ یہ نکاح ہوجائے تاکہ اسطرح اسلامی عدل و مساوات کا عملی ثبوت مہیا ہو اور آزاد کردہ غلاموں کو حقیر سمجھنے کی رسم عملاً ٹوٹے اور مٹے۔ تو اس موقع پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس میں یہ ایک اصولی اور بنیادی ہدایت فرمائی گی کہ کسی مومن مرد اور عورت کو اپنے اس معاملے کے بارے میں کوئی اختیار باقی نہیں رہتا جبکہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان کے اس معاملے سے متعلق کوئی حکم وارشاد صادر ہوجائے۔ تو اس پر حضرت زینب ؓ اور آپ ؓ کے بھائی وغیرہ فوراً اس نکاح کے لئے تیار ہوگئے اور آنحضرت ۔ ﷺ ۔ نے حضرت زینب ؓ کا نکاح حضرت زید بن حارثہ ؓ سے کرا دیا۔ اور اس کے مہر کے لئے دس دینار اور ساٹھ درہم نقد کچھ کپڑے اور کھانے پینے کا کچھ سامان بھی آپ ﷺ نے خود عطا فرمایا۔ یہاں پر یہ امر بھی واضح رہے کہ یہ آیت کریمہ نازل اگرچہ اس خاص واقعہ میں ہوئی مگر اس کا حکم عام ہے اور یہ اسلامی قانون اور اسلامی نظام حیات کے لئے ایک بہت بڑی اور اہم بنیاد ہے کہ کسی بھی مسلمان فرد یا جماعت یا حکومت یا پارلیمنٹ وغیرہ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے مقابلے میں اپنی آزادیِ ٔرائے برتے اور اپنی مرضی چلائے۔ مسلمان ہونے کے معنیٰ ہی یہ ہیں کہ انسان اپنی آزادی رائے سے دستبردار ہو کہ من چاہی کی بجائے خدا چاہی ہی زندگی گزارے۔ اور ہر جگہ اور ہر موقع پر یہ دیکھے کہ میرے خالق ومالک کا حکم وارشاد کیا ہے ؟ اور میرا دین مجھ سے کیا چاہتا اور کیا کہتا ہے ؟ مگر افسوس کہ اس سب کے باوجود آج مسلمان کا حال اس سے یکسر مختلف اور دگرگوں ہے ۔ اِلاّ مَاشَآئَ اللّٰہُ والعیاذ باللّٰہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی سے بطور قاعدئہ کلیہ کے یہ بات واضح فرما دی گئی کہ کسی مومن اور عورت کیلئے یہ بات جائز نہیں اور نہ ہی یہ ان کی شان کے شایاں ہوسکتی ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے کسی فیصلے اور حکم کی خلاف ورزی کریں۔ یہ بات ایمان کے تقاضوں کیخلاف ہے اور جو اس کا ارتکاب کرے گا وہ سراسر ضلالت و گمراہی کا مرتکب قرار پائے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 33:37–38

وَ اِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْۤ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِ اَمْسِكْ عَلَیْكَ زَوْجَكَ وَ اتَّقِ اللّٰهَ وَ تُخْفِیْ فِیْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِیْهِ وَ تَخْشَى النَّاسَ١ۚ وَ اللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰىهُ١ؕ فَلَمَّا قَضٰى زَیْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا لِكَیْ لَا یَكُوْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْۤ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآئِهِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا Open ayah 33:37 in the Quran reader

(اور وہ بھی یاد کرو کہ) جب آپ کہہ رہے تھے (اے پیغمبر ! ) اس شخص سے جس پر احسان فرمایا تھا اللہ نے اور آپ نے بھی اس پر احسان کیا تھا کہ اپنے عقد زوجیت میں رکھو تم اپنی بیوی کو اور ڈرو اللہ سے اور آپ چھپا رہے تھے اپنے دل میں وہ کچھ جس کو ظاہر کرنا تھا اللہ نے اور آپ ﷺ ڈر رہے تھے لوگوں سے حالانکہ اللہ زیادہ حقدار ہے اس بات کا کہ آپ ﷺ اسی سے ڈرتے پھر جب پوری کرچکا زید اپنی حاجت اس خاتون سے تو (طلاق و عدت کے بعد) ہم نے اس کا نکاح آپ سے کردیا تاکہ کوئی حرج (اور تنگی) باقی نہ رہے ایمان والوں پر ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں جب کہ وہ پوری کر چکیں ان سے اپنی حاجت اور اللہ کے اس حکم نے تو بہرحال ہو کر ہی رہنا ہوتا ہے

مَا كَانَ عَلَى النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗ١ؕ سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَا٘ۙ Open ayah 33:38 in the Quran reader

پیغمبر پر کوئی تنگی (اور الزام) نہیں اس بات میں جو کہ اللہ نے مقرر فرما دی ہو ان کے لئے اللہ کے اس دستور (اور سنت) کے مطابق جو کہ رائج (اور مقرر) رہا ان پیغمبروں میں بھی جو کہ گزر چکے ہیں اس سے پہلے اور اللہ کا حکم تو بہرحال ایک مقرر (اور طے شدہ) امر ہوتا ہے

69 حضرت زید ؓ پر خصوصی انعام و احسان کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب آپ کہہ رہے تھے اس شخص سے جس پر اللہ نے بھی احسان فرمایا اور آپ نے بھی " یعنی حضرت زید بن حارثہ جن پر اللہ تعالیٰ نے اسلام و ایمان کی نعمت سے نوازنے کا انعام فرمایا تھا اور حضور نے ان پر عتق و آزادی بخشنے اور اتنے اونچے رشتے کا احسان فرمایا تھا۔ حضرت زید ؓ اور زینب ؓ کی یہ شادی ہو تو اگرچہ گئی تھی مگر دونوں کی طبیعتوں میں موافقت نہ ہونے کی وجہ سے ان دونوں کا نباہ نہ ہوسکا، یہاں تک کہ حضرت زید طلاق دینے کو تیار ہوگئے۔ تو حضور کو یہ شاق ہوا کہ زینب پہلے تو اس رشتے کے لئے سرے سے راضی ہی نہ تھیں اور میرے کہنے پر رضا مندی ظاہر کی اور اب ان کو طلاق ملنے کی نوبت بھی آگئی۔ اس لئے آپ ﷺ حضرت زید کو سمجھا رہے تھے کہ اللہ سے ڈرو، بیوی کو طلاق نہ دو ، بلکہ اس کو اپنے عقد ہی میں رکھو۔ لیکن منافق مردوں اور عورتوں نے اپنے سوئِ باطن کی بنا پر ایک طرف تو حضرت زید ؓ کو غلامی کے طعنے دے دے کر اذیت پہنچائی۔ جس پر صبر و برداشت سے کام لینے پر حضرت زید ؓ کو اللہ پاک کی طرف سے یہ صلہ دیا گیا کہ ان کا ذکر اللہ پاک کے کلام مجید میں اس طرح فرمایا گیا۔ اور دوسری طرف ان لوگوں نے حضرت زینب ؓ کو بھی طرح طرح کے طعنے دیئے جس پر انہوں نے بھی صبر و برداشت ہی سے کام لیا۔ تو اس پر انکو ایک طرف تو زوجیت رسول ﷺ کے شرف عظیم سے نوازا گیا، جس سے وہ ام المومنین قرار پائیں۔ اور دوسری طرف ان کو یہ منفرد اعزاز ملا کہ ان کا نکاح آسمان میں ہوا۔ اور جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا کہ " ہم نے انکو آپ ﷺ کے نکاح میں دے دیا "۔ اسی لیے روایات میں آتا ہے کہ حضرت زینب ؓ دوسری ازواج مطہرات پر فخر جتاتے ہوئے کہا کرتی تھیں کہ میرا نکاح آسمان میں ہوا۔ سو ایمان واستقامت اور صدق و اخلاص سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے ۔ وباللہ التوفیق - 70 حضرت زینب ؓ کو ان کے صدق و اخلاص کا صلہ : کہ آپ اس کے بعد زوجیت رسول کے شرف سے مشرف ہوگئیں۔ بہرکیف یہاں سے حضرت زینب کی طلاق اور پھر آپکے حضور ﷺ سے نکاح کا معاملہ اور اس بارے بعض خرافات کی تردید کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ یعنی ادھر حضرت زینب ؓ کو طلاق ہوگئی، ادھر اللہ پاک کو یہ منظور تھا کہ طلاق کے بعد حضرت زینب ؓ کا نکاح آنحضرت ۔ ﷺ ۔ سے ہو۔ تاکہ ایک طرف تو اس سے حضرت زینب کی اس صدمے میں دلجوئی بھی ہوجائے جو کہ آپ ؓ کو حضرت زید کی طلاق کی وجہ سے لاحق ہوا تھا اور دوسری طرف زمانہ جاہلیت کی وہ رسم بھی عملی طور پر ٹوٹے جس کے مطابق متبنیٰ ۔ لے پالک بیٹے ۔ کی بیوی سے نکاح کرنا جائز نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اور اللہ پاک نے وحی کے ذریعے آپ ﷺ کو اپنے اس ارادے سے باخبر بھی فرما دیا۔ جیسا کہ کتب تفسیر و حدیث اور سیرت و تاریخ میں اس کی تصریح موجود ہے ۔ " اَعلم اللّٰہ نَبِیَّہٗ انَّہا ستکون من ازواجہ قبل اَن یتزوجہا " ۔ (ابن کثیر، ابن جریر، المراغی، المحاسن، الجامع، صفوہ، روح، خازن، ابوالسعود، فتح القدیر اور معارف وغیرہ) ۔ مگر آنحضرت ﷺ اپنے اس طبعی شرم وحیا کی بنا پر جو کہ قدرت کی طرف سے آپ ﷺ کی طبع مبارک میں بطور خاص ودیعت فرمایا گیا تھا، نیز کفار اشرار کے اس طعن وتشنیع اور مخالفانہ پروپیگنڈے کے پیش نظر جو کہ اس نکاح کے بعد انہوں نے کرنا تھا کہ لو جی محمد نے تو اپنے بیٹے کی مطلقہ بیوی سے شادی رچا لی وغیرہ وغیرہ۔ تو اس بنا پر آپ ﷺ طبعی طور پر اس سے ڈرتے تھے۔ اس پر یہاں آپ ﷺ سے یہ فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ کو معلوم تھا وہ کچھ جو آپ ﷺ نے اپنے دل میں چھپا رکھا تھا۔ اور اللہ کو ظاہر کرنا تھا وہ کچھ جو آپ ﷺ نے اپنے دل میں چھپا رکھا تھا۔ اور یہ کہ آپ ﷺ لوگوں سے ڈر رہے تھے حالانکہ اس کا حق دار اللہ تعالیٰ ہی ہے کہ آپ ﷺ اسی سے ڈرتے۔ سو یہاں پر دل میں جس بات کے چھپانے کا ذکر ہے اس سے مراد یہی نکاح زینب کا ارادئہ و خیال ہے۔ جیسا کہ کتب تفسیر و حدیث میں اس کی تصریح موجود ہے اور جمہور علماء و مفسرین کرام کا کہنا اور ماننا ہے۔ اور خود حضرت زینب۔ ؓ ۔ فخریہ طور پر کہا کرتی تھیں۔ اور دوسری ازواج مطہرات پر فخر جتایا کرتی تھیں کہ تمہارے نکاح تو تمہارے اولیاء نے کئے لیکن میرا نکاح اللہ نے۔ مزید تفصیلات کے لئے محولہ بالا تفسیروں کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے ۔ وباللّٰہ التوفیق الی سبیل الرشد والصواب وہو الہادی الی سواء الصِّراط بکل حال من الأحوال - تنبیہ نمبر 1: حضرت زینب ؓ کے نکاح سے متعلق بعض خرافات کی تردید : یہاں پر بعض روایات میں اس طرح کے بعض بےسروپا قصے لکھے ہوئے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کو حضرت زینب ؓ سے محبت ہوگئی تھی جس کو آپ ﷺ نے اپنے دل میں چھپالیا تھا۔ اور یہ کہ اسی پر یہاں آپ ﷺ کی گرفت فرمائی گئی تھی وغیرہ۔ اور انہی واہی تباہی اور من گھڑت روایات کو لے کر مستشرقین اور دوسرے دشمنان اسلام نے خرافات کے طومار کھڑے کر دئیے۔ مگر یہ سب کچھ بےہودہ اور نرا بکواس ہے۔ اللہ کے رسول اکرم ﷺ کی ذات پاک اس سے بری اور وراء الوراء ہے کہ کسی کی منکوحہ بیوی پر عاشق ہوجائے ۔ والعیاذ باللہ ۔ یہ بات تو ایک عام شریف انسان سے بھی بعید ہے چہ جائیکہ اس ذات اکرم کے بارے میں اس کا تصور کیا جائے جو نصِّ قطعی کے مطابق اخلاق کریمہ کے درجہ عالی پر فائز تھی۔ جیسا کہ قرآن حکیم میں اس بارے آپ ﷺ کو خطاب کر کے ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَاِنَّکَ لَعَلیٰ خُلُقٍ عظیم } ۔ پھر آپ ﷺ کے دل میں ایسی کوئی بات ہوتی تو آپ ﷺ پہلے ہی ایسا کیوں نہ کرلیتے ؟ اور حضرت زینب ؓ سے شروع ہی میں نکاح کیوں نہ فرما لیتے ؟ اور ان پر حضرت زید سے نکاح کرلینے کیلئے اس طرح دباؤ کیوں ڈالتے ؟ حضرت زینب ؓ تو آپ ﷺ کی اپنی پھوپھی امیمہ بنت عبد المطلب کی بیٹی تھیں۔ آپ ﷺ نے خود بمشکل ان کو زید سے نکاح پر آمادہ فرمایا اور مہر بھی اپنی طرف سے دیا۔ تو پھر یہ سب کچھ کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی ؟ پھر اللہ پاک تو فرماتا ہے کہ جو کچھ تم نے اپنے دل میں چھپا رکھا تھا ہم اس کو ظاہر کردیں گے۔ اور اللہ نے جو کچھ ظاہر فرمایا وہ نکاح زینب ہی ہے جیسا کہ ۔ { زَوَّجْنٰکَہَا } ۔ کی تصریح سے ظاہر اور واضح ہے۔ اس کے علاوہ اور کوئی بات آخر کہاں ظاہر فرمائی ؟ اس لئے ایسی تمام روایات بےبنیاد اور واہیات اور من گھڑت ہیں۔ تمام محققین نے ان کو سختی سے رد فرما دیا ہے۔ اور یہ شان پیغمبر کے خلاف اور اس سے متصادم ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ تنبیہ نمبر 2: پیغمبر نہ عالم غیب ہوتے ہیں نہ مختار کل : یہاں سے یہ بات بھی آشکارا ہوگئی کہ پیغمبر نہ تو عالم غیب ہوتے ہیں اور نہ ہی مختار کل جیسا کہ اہل بدعت کا کہنا ہے اور ماننا ہے۔ کیونکہ اگر ایسے ہوتا تو اول تو یہ قصہ سرے سے پیش ہی نہ آتا۔ اور پھر اس ضمن میں آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کو اس بارے اس طرح تنبیہہ نہ فرمائی جاتی۔ سو اللہ کے سوا کسی کے لئے بھی اس طرح کا عقیدہ رکھنا عقل و نقل دونوں کے خلاف اور محض ایجاد بندہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سب غیبوں کو جاننا اور ہر چیز پر پورا اختیار رکھنا یعنی عالم غیب اور مختار کل ہونا صرف اللہ وحدہ لاشریک کی صفت اور اسی کی شان ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس میں کسی بھی دوسری ہستی کو شریک جاننا شرک ہوگا جو کہ سب سے بڑا جرم و گناہ اور ظلم عظیم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس کی کسی بھی صفت میں کوئی بھی اس کا شریک وسہیم نہیں ہوگا ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ 71 حضرت زینب کا نکاح آسمانوں میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب زید اس خاتون سے اپنی حاجت پوری کرچکا " یعنی اس کو طلاق دے کر اپنے عقد زوجیت سے فارغ کردیا۔ تو ہم نے اسکا نکاح آپ ﷺ سے کردیا۔ یہی ہے وہ چیز جو آپ ﷺ نے اپنے دل میں چھپا رکھی تھی اور جس کو اللہ پاک نے ظاہر کرنے کے لئے فرمایا تھا۔ اسی لئے حضرت زینب ؓ دوسری زوجات مطہرات سے فرمایا کرتی تھیں کہ تمہارے نکاح تو زمین پر ہوئے لیکن میرا نکاح آسمان میں ہوا۔ مگر واضح رہے کہ ۔ { زَوَّجْنٰکَہَا } ۔ کا اطلاق اس پر بھی ہوسکتا ہے کہ زمین پر سرے سے نکاح ہوا ہی نہ ہو۔ اور اس پر بھی کہ نکاح تو یہاں ہی ہوا ہو مگر اس کا حکم آسمان سے ملا ہو۔ اور یہ فیصلہ چونکہ وہیں ہوا اس لئے اس کے بارے میں یوں ارشاد فرمایا گیا۔ سو اس بارے یہ دونوں ہی احتمال موجود ہیں اور دونوں ہی حضرات اہل علم سے مروی و منقول ہیں۔ عام اور مشہور قول جو زیادہ تر حضرات اہل علم نے اختیار کیا یہی ہے کہ آنحضرت ﷺ کا حضرت زینب ؓ سے یہ نکاح آسمان ہی پر ہوا تھا زمین پر نہیں۔ اور بدوں مہر وغیرہ آپ ﷺ نے دخول فرمایا۔ اور یہ کہ یہ آنحضرت ﷺ کی خصوصیات میں سے ہے۔ (ابن کثیر، ابن جریر، صفوۃ التفا سیر، جامع البیان اور مراغی وغیرہ) لیکن دوسرا قول اس میں بعض حضرات اہل علم کا اس کے برعکس یہ بھی ہے کہ آسمان پر اور اللہ کی طرف سے نکاح کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہاں سے اس کا فیصلہ اور حکم ارشاد فرمایا گیا، ورنہ یہ نکاح بھی دنیا میں اسی طرح ہوا جس طرح کے آپ کے دوسرے نکاح ہوئے۔ چناچہ ابن ہشام وغیرہ اصحاب نے اس نکاح کی تفصیلات بھی اپنی اپنی کتابوں میں درج کی ہیں جن کے مطابق حضرت زینب کا آنحضرت ﷺ سے یہ نکاح ان کے بھائی ابو احمد بن حجش ؓ نے پڑھایا اور آنحضرت ﷺ نے اس پر چار سو درہم مہر مقرر فرمایا۔ اور اس کے لئے نہایت اہتمام کے ساتھ دعوت ولیمہ کا اہتمام بھی فرمایا ۔ صلوات اللہ وَسَلَامُہْ علیہ وعلی اٰلہ وصحبہ و من اھتدی بہدیہ و انتہج منہجہ وسار علی دربہ الی یوم العرض علی اللّٰہ واللقائ۔ بہرکیف حضرت زینب کا نکاح ایک خصوصی اور امتیازی شان کا نکاح تھا جو اور کسی کو نصیب نہیں ہوسکتی ۔ ؓ وارضاہ -72 اور اللہ کے حکم نے تو بہرحال ہو کر ہی رہنا ہوتا ہے : وہ کسی کے ٹالے نہیں ٹل سکتا۔ البتہ اس کا ظہور و وقوع اپنے وقت مقرر و مقدر ہی پر ہوتا ہے۔ چناچہ حضرت زینب کے اس نکاح سے جاہلیت کی اس رسم کو توڑ دیا گیا۔ اور یہ واضح کردیا گیا کہ متبنیٰ حقیقی بیٹا ہرگز نہیں ہوتا اور نہیں ہوسکتا۔ بیٹا انسان کا اسی کا ہوتا ہے جس کے نطفے سے اس کی تخلیق ہوتی ہے اور بس۔ سو اللہ پاک کے طے کردہ اور مقرر فرمودہ اس حکم کا وقت اب آپہنچا تھا جسکے مطابق زمانہ جاہلیت کی ان جاہلانہ رسوم کی اصلاح کرنا مطلوب تھی جو اس سے پہلے اس معاشرے پر مسلط تھیں اور جن کے مطابق متبنیٰ یعنی لے پالک بیٹے کو حقیقی بیٹے کی طرح سمجھا جاتا تھا۔ سو اللہ تعالیٰ کے اس طے شدہ حکم کے ظہور اور پیغمبر کے عملی اقدام سے زمانہ جاہلیت کی ان تمام رسوم کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ کردیا گیا اور واضح فرما دیا گیا کہ متبنیٰ یعنی لے پالک بیٹا نہ انسان کا حقیقی بیٹا ہوتا ہے اور نہ ہی اس کیلئے حقیقی بیٹے کے احکام جاری ہوسکتے ہیں۔ سو اس حکم خداوندی کے ذریعے یہ واضح فرما دیا گیا کہ اہل ایمان کیلئے اپنے لے پاک بیٹوں کی بیویوں سے جبکہ انکو طلاق کے ذریعے فارغ کردیا جائے نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اور دشمنوں کی طرف سے اس حکم کی راہ میں ڈالی جانے والی رکاوٹوں میں سے کوئی بھی رکاوٹ اس حکم کی راہ نہیں روک سکتی۔ اللہ تعالیٰ نے جاہلیت کی اس رسم کے خاتمے کے لیے جو وقت اور جو طریقہ مقرر فرما رکھا تھا وہ بہرحال پورا ہو کر رہا ۔ اللہم فکن لنا ولاتکن علینا یا من بیدہ ازمۃ الامور۔
Ayah 33:39

اِ۟لَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ وَ یَخْشَوْنَهٗ وَ لَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا Open ayah 33:39 in the Quran reader

(جو کہ اس وصف اور شان کے مالک ہوتے ہیں کہ وہ) پہنچاتے ہیں اللہ کے پیغامات کو (بغیر کسی کمی بیشی کے) اور وہ اسی سے ڈرتے رہتے ہیں اور وہ کسی سے نہیں ڈرتے سوائے ایک اللہ کے اور اللہ کافی ہے حساب لینے کے لئے

73 اللہ تعالیٰ کے محاسبے کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور کافی ہے اللہ حساب لینے کو۔ پس اس کے ساتھ اپنا معاملہ صاف رکھنے کی ضرورت ہے۔ کسی اور سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ فَاِیَّاہ نسأل التوفیق لذالک۔ اور ابن کثیر اور کشاف نے " حسیب " کی تفسیر و تشریح " ناصر " اور " معین " سے کی ہے۔ یعنی اللہ کافی ہے بندے کی نصرت و امداد اور تمام خطرات سے اس کی حفاظت کیلئے۔ لہذا دل کا بھروسہ اور اعتماد ہمیشہ اسی وحدہ لاشریک پر رکھا جائے لیکن حسیب کے عام اور مشہور معنیٰ حساب کرنے والے ہی کے آتے ہیں۔ جیسا کہ ترجمہ میں اسی معنیٰ کو اختیار کیا گیا ہے۔ سو اس صورت میں یہ ارشاد تنبیہہ و تذکیر کے مفہوم میں ہوگا۔ جیسا کہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم و ارشاد کی تعلیم و تبلیغ میں کسی قسم کے خوف یا لالچ کی بنا پر کوئی کوتاہی برتی گئی تو وہ اس کا حساب لے گا ۔ والعیاذ باللہ ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید بکل حال من الأحوال -
Ayah 33:40

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ Open ayah 33:40 in the Quran reader

(لوگو ! ) محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں مگر وہ اللہ کے رسول اور سب نبیوں کے خاتم ہیں اور اللہ ہر چیز کو پوری طرح جانتا ہے1

74 پیغمبر ﷺ کی کوئی نرینہ بالغ اولاد نہیں تھی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " محمد[ ﷺ ] تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں "۔ اور جب وہ مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں تو پھر بیٹے کی بیوی سے نکاح کرنے کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے ؟ کہ آپ ﷺ کے صلبی بیٹوں میں سے کوئی شادی کی عمر کو پہنچا ہی نہیں تھا۔ طیب، طاہر، قاسم اور ابراہیم چاروں صاحبزادے بچپن ہی میں اللہ کو پیارے ہوگئے تھے۔ حضرت زید ؓ آپ کے حقیقی اور صلبی بیٹے نہیں تھے بلکہ وہ آپ کے متبنیٰ اور لے پالک تھے جو حقیقی اور صلبی بیٹے کی طرح نہیں ہوتا۔ اور اس پر حقیقی بیٹے کے احکام جاری نہیں ہوتے۔ اور اس کی بیوی حقیقی بیٹے کی بیوی کی طرح نہیں ہوتی۔ تو پھر ان کی مطلقہ یعنی حضرت زینب کے ساتھ آپ کے اس نکاح پر اس شور و غوغا کی گنجائش ہی کیا ہوسکتی ہے جو اشرار و اعداء نے اس بارے بپا کیا ؟ پس اس ارشاد سے اس تمام شور و شر کی جڑ نکال دی گئی ۔ والحمد للہ جل وعلا ۔ 75 حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں : سو ارشاد فرمایا گیا " لیکن آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں "۔ پس آپ ﷺ کی روحانی اولاد جو لاکھوں کروڑوں سے بھی کہیں متجاوز ہوگی وہ قیامت تک موجود اور باقی رہے گی۔ اور آپ ﷺ کے دین کے لئے ہر قربانی دینے کو اپنی سعادت سمجھے گی۔ پس تمہارے لئے اے حق کے دشمنو ! اس میں خوشی کا کوئی مقام نہیں کہ جب محمد کی صلبی اولاد نہیں رہی تو ان کا دین بھی نہیں رہے گا کہ آپ ﷺ کا دین تو آپ ﷺ کی روحانی اولاد کے ذریعے قیامت تک قائم و دائم اور ہمیشہ پھلتا پھولتا ہی رہے گا۔ جیسا کہ واقعۃً ہوا اور لگاتار ہو رہا ہے۔ اور انشاء اللہ تا قیام قیامت ہوتا رہے گا ۔ والحمد للہ رب العالمین ۔ بہرکیف رسول اپنی امت کا روحانی باپ ہوتا ہے جبکہ پیچھے ۔ { اَلنَّبِیّٰ اَوْلٰی بالْمُوْمِنِیْنِ مِنْ اَنْفُسِہِمْ } ۔ کے ارشاد ربانی میں گزرا۔ جہاں پر ایک قراءت میں ۔ { وھو اب لہم } ۔ کی تصریح بھی فرمائی گئی ہے اور روحانی ابوت و بنوت کا رشتہ نسبی اور صلبی ابوت و بنوت سے کہیں بڑھ کر ہوتا ہے۔ روحانی باپ کی محبت و شفقت اپنی اولاد سے نسبی اور صلبی باپ کی محبت و شفقت سے کہیں بڑھ کر ہوتی ہے اور صلبی اولاد غلط اور اپنے باپ کی نافرمان بھی ہوسکتی ہے اور ہوتی ہے۔ بلکہ باپ کے برعکس وہ کفر پر بھی اڑ جاتی ہے، جیسا کہ حضرت نوح کے بیٹے کی مثال قرآن حکیم میں بیان فرمائی گئی ہے، جبکہ روحانی اولاد اپنے باپ اور اس کے مشن کیلئے اپنی جان بھی نچھاور کردیتی ہے۔ 76 حضرت محمد ﷺ سب نبیوں اور رسولوں کے خاتم : سو ارشاد فرمایا گیا " اور وہ سب نبیوں کے خاتم ہیں "۔ " خَاتَم " کے معنیٰ آتے ہیں " مَا یُخْتَمُ بِہ الشَّیْئُ " ۔ " جس سے کسی چیز پر مہر لگا دی جائے " ۔ کہ جس طرح مہر لگ جانے کے بعد نہ کوئی اور چیز اس میں داخل کی جاسکتی ہے اور نہ ہی اس کے اندر سے کوئی چیز باہر نکالی جاسکتی ہے۔ سو اسی طرح آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کے بعد کوئی اور نبی نہیں آسکے گا۔ قیامت تک آپ ہی کی نبوت جاری وساری رہے گی۔ آپ ﷺ کے بعد اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرے گا تو وہ دائرئہ اسلام سے خارج دجال و کذاب اور مفتری علی اللہ ہوگا۔ اور ختم نبوت کا یہی وہ واضح اور صریح مفہوم ہے جو دوسری نصوص قرآن و سنت سے ثابت اور معروف ہے۔ اور آج تک جمہور امت کا اس پر اجماع رہا ہے اور مختلف قرآنی نصوص و تصریحات کے علاوہ خود آنحضرت ۔ ﷺ ۔ نے اپنی احادیث کریمہ کے ذریعے بھی اس کی طرح طرح سے توضیح و تشریح فرمائی ہے۔ مثلاً صحیح بخاری و مسلم وغیرہ کتب حدیث میں حضرت ابوہریرہ ۔ ؓ ۔ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میری مثال اور انبیائے سابقین کی مثال ایسے ہے جیسے کسی نے ایک بڑا عمدہ اور خوبصورت محل بنایا ہو۔ مگر اس میں ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑی دی گئی ہو۔ لوگ اس محل کی عظمت اور عمدگی کو دیکھ کر اس کی تعریفیں کرتے ہوں۔ مگر اس اینٹ کی جگہ کو خالی دیکھ کر اس پر تعجب کرتے ہوں۔ تو فرمایا ۔ " اَنَا اللِّبْنَۃُ " ۔ یعنی میں ہی وہ اینٹ ہوں جس سے نبوت کے اس عظیم الشان قصر اور بےمثل عمارت کی تکمیل کردی گئی ہے۔ اب میرے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اور ظاہر ہے کہ جب قصر نبوت میں اس کے لئے کوئی جگہ ہی باقی نہیں رہی تو اب کوئی نبی آئے گا ہی کیو نکر ؟ اور کس طرح ؟ اب قیامت تک آپ ﷺ ہی کی نبوت رہے گی ۔ صَلَوَات اللّٰہِ وَ سَلَامُہَ عَلَیْہ ما تبقی ہذہ الأسطر والکلمات ۔ 77 اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ ہر چیز کو پوری طرح جانتا ہے "۔ پس وہی ٹھیک ٹھیک اور پوری طرح جانتا ہے کہ نبوت کا سلسلہ کب ختم کیا جائے اور ختم نبوت کا تاج کس کے سر پر رکھا جائے۔ چناچہ اس نے اس سلسلہ کو امام الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ۔ ﷺ ۔ پر ہمیشہ کے لئے بند اور ختم فرما دیا۔ اور ختم نبوت کا تاج آ پکے سر پر رکھ دیا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور یہی اس کے علم کامل اور حکمت شاملہ کا مقتضیٰ اور مظہر ہے۔ اور وہی جانتا ہے کہ شرف نبوت و رسالت سے کس کو سرفراز کرے اور کب اور کس طرح مشرف فرمائے۔ اور جب آپ ﷺ سلسلہ نبوت کے خاتم ہیں تو سلسلہ رسالت کے بدرجہ اولیٰ خاتم ہوں گے۔ کیونکہ نبی کا مقام رسول کے مقام سے عام ہوتا ہے۔ اور عام کی نفی سے خاص کی نفی لازم اور ضروری ہے۔ بہرکیف یہ آیت کریمہ نصِّ قطعی ہے اس بارے میں کہ حضور ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آسکتا۔ پس آپ کے بعد جو کوئی نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ دجال ہوگا ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -
Ayah 33:41

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِیْرًاۙ Open ayah 33:41 in the Quran reader

اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو یاد کرتے رہا کرو تم اللہ کو بہت کثرت سے

78 ذکر اللہ کی کثرت کا حکم وارشاد : سو ایمان والوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ " اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو یاد کرتے رہا کرو تم لوگ اللہ کو بہت کثرت سے "۔ ہر حال میں اور دل و جان سے۔ کہ اس کی یاد دلشاد ہی اصل مقصود اور تمام احکام و عبادات کی اصل روح و جان ہے۔ واضح رہے کہ ذکر خداوندی کے سوا اور کسی بھی عبادت و عمل کے لئے کثرت سے کرنے کا حکم نہیں دیا گیا کہ ایسے کرنا مشکل تھا۔ کیونکہ ہر عبادت کے لئے خاص شرائط و آداب کا پایا جانا ضروری ہوتا ہے بخلاف ذکر الہی کے۔ کہ اس میں نہ کسی خاص وقت اور جگہ کی پابندی ہے اور نہ کسی خاص طریقہ کی۔ نہ اس میں کچھ خرچ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے نہ کسی مشقت و کلفت کا کوئی سوال۔ بلکہ لذت ہی لذت اور فائدہ ہی فائدہ ہے۔ لہذا چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، لیٹے بیٹھے ہر حال میں اس کی یاد دلشاد سے اپنے باطن کی آبادی اور اپنے قلب و روح کی قوت و تازگی کا سامان کرسکتے ہیں۔ لہذا ایسے ہی کرتے رہنا چاہیئے ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف ذکر خداوندی کی اور اس کی کثرت کی یہ تعلیم و تلقین مفسدین و اَشرار کے معاملے میں استقامت و ثابت قدمی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ سو شیطان اور اس کی ذریت کے مقابلے میں مومن کی اصل سپر اور ڈھال یاد خداوندی ہی ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 33:42

وَّ سَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 33:42 in the Quran reader

اور اس کی تسبیح (و تقدیس) کرتے رہا کرو صبح و شام2

79 صبح وشام اللہ کی تسبیح کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا " اور اس کی تسبیح کرتے رہا کرو صبح و شام "۔ کہ صبح و شام کے ان دونوں وقتوں میں ایک طرف تو دن رات کے ادلنے بدلنے میں قدرت کے عظیم الشان مظہر سامنے آتے ہیں اور نہایت واضح ثبوت ملتا ہے کہ وہ اپنی مخلوق میں طرح طرح سے تبدیلی فرماتا ہے مگر وہ خود نہیں بدلتا ۔ فسبحان اللّٰہِ الَّذَیْ یُغِیّرُ وَلَا یَتّغَیَّرُ ۔ اور دوسری طرف یہ دونوں وقت فرشتوں کے اجتماع و حضور کے اور بڑے مبارک وقت ہوتے ہیں۔ اور تیسری طرف شب و روز کے دونوں کناروں کے ذکر سے باقی تمام اوقات اس میں خود بخود آجاتے ہیں۔ اور یہ عموم و دوام سے کنایہ قرار پا جاتا ہے۔ (کبیر، صفوہ، کشاف وغیرہ) اور اس وحدہ لاشریک کی تسبیح و تقدیس کی سب سے بڑی صورت نماز ہے جس میں انسان اپنے ظاہر و باطن اور قلب و قالب ہر اعتبار سے اپنے خالق ومالک کی عبادت و بندگی میں مشغول ہوتا ہے۔ اس لیے یہاں پر تسبیح سے بعض اہل علم کے نزدیک نماز ہی مراد لی گئی ہے۔ اور یہ عام کے بعد خاص کے ذکر کے قبیل سے ہے کہ ذکر خداوندی تو سانس کی طرح ہر وقت مطلوب ہے لیکن نماز کے لیے اللہ اور اس کے رسول نے خاص خاص اوقات مقرر فرما دیے ہیں جنکی جامع تعبیر صبح و شام ہے۔ اس صبح و شام کے اندر تمام نمازوں کے اوقات منضبط کردیے گئے ہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 33:43

هُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْكُمْ وَ مَلٰٓئِكَتُهٗ لِیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا Open ayah 33:43 in the Quran reader

وہ (ایسا مہربان ہے کہ) تم پر خود بھی رحمت بھیجتا ہے اور اسکے فرشتے بھی تاکہ وہ نکال لائے تم کو (کفر و باطل کے) طرح طرح کے اندھیروں سے (حق و ہدایت کے) نور کی طرف اور وہ بڑا ہی مہربان ہے ایمان والوں پر

80 ذکر خداوندی نزول رحمت کا ذریعہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ رحمت بھیجتا ہے تم پر اور اس کے فرشتے بھی "۔ یعنی وہ رحمت کی دعا کرتے ہیں ۔ اَی بالدُّعَائِ والاسْتِغْفَارِ- (جامع، صفوہ وغیرہ) ۔ اور فعل کی نسبت کے بدلنے سے اس کے معنیٰ کی تبدیلی ایک مشہور و معروف اصول و ضابطہ ہے۔ سو یہ اللہ تعالیٰ کو زیادہ یاد کرنے کی برکت اور اس کے اثر و نتیجہ کو بیان فرمایا گیا ہے کہ اس سے تم کو اس کی رحمتیں نصیب ہوتی ہیں اور اس کے فرشتوں کی دعائیں بھی۔ اور اسی کی بنا پر وہ تم کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے۔ سو ذکر الہی اور یاد خداوندی سے انسان کا تعلق اپنے خالق ومالک اور عالم بالا سے قائم ہوجاتا ہے اور اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا نزول ہوتا ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید - 81 رحمت خداوندی کی برکت اندھیروں سے رہائی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تاکہ وہ نکال لائے تم کو اندھیروں سے روشنی کی طرف "۔ یعنی کفر و شرک، الحادو بےدینی، معاصی وذنوب اور فسق و فجور کی گھٹا ٹوپ تاریکیوں اور اندھیروں سے نکال کر ایمان و توحید اور سنت و عمل صالح کی روشنی کی طرف لائے ۔ اَی مِنْ ظُلمَاتِ اْلکفر والمعَاصِی الَیِ نُور الایمان والطاعۃ ۔ (جامع البیان : ج 2 ص 170) ۔ سو تم لوگ ذرا سوچو کہ تمہارا رب تم پر کتنا مہربان ہے۔ وہ اپنی رحمت و عنایت اور کرم و احسان سے تم کو کفر و شرک کے ان مہیب اندھیروں سے اس طرح نکالتا ہے جو کہ ظاہری اور حسی اندھیروں سے کہیں بڑھ کر خطرناک اور ہلاکت خیز ہیں۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ تم لوگ اس کے حکم و ارشاد کے آگے صدق دل سے جھک جاؤ کہ اسی میں تمہارا بھلا اور فائدہ ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، کہ دنیا میں اس سے تم کو حیات طیبہ ۔ پاکیزہ زندگی ۔ کی سعادت نصیب ہوگی اور آخرت میں جنت کی ابدی زندگی میں وہاں کی نعیم مقیم سے سرفراز ہوؤ گے ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف اس ارشاد سے رحمت خداوندی کی برکت کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " تاکہ وہ تم لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آئے "۔ 82 اللہ بڑا ہی مہربان ہے ایمان والوں پر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور وہ بڑا ہی مہربان ہے ایمان والوں پر "۔ اسی لئے اس نے ان کو دنیا میں ایمان و توحید اور اتباع حق کی توفیق بخشی اور طرح طرح کی عنایتوں سے نوازا۔ اور پھر آخرت کی اس حقیقی اور ابدی زندگی میں وہ انکو وہ کچھ بخشے گا جو کسی کے تصور میں بھی نہیں آسکتا۔ پس تم کو چاہیئے کہ ایسے مہربان خالق ومالک کو ہر حال میں ہمیشہ اور دل و جان سے یاد رکھو کہ یہ اس کا تم پر حق اور خود تمہارے اپنے لئے دارین کی سعادت و سر خروئی کی ضمانت ہے۔ اور یہ اس کی رحمت بےپایاں ہی کا ایک مظہر اور نمونہ ہے کہ وہ خود بھی تم پر رحمتیں بھیجتا ہے اور فرشتوں سے بھی تمہارے لیے دعائیں کراتا ہے۔ سو ایمان کی دولت ایک ایسی عظیم الشان اور بےمثال دولت ہے جو انسان کی اس مشت خاک کو عالم بالا سے ملا دیتی ہے اور اس کے لیے حاملین عرش فرشتے اس کی مغفرت و بخشش کے لیے دعائیں کرنے لگتے ہیں۔ جیسا کہ سورة مومن کی آیت نمبر 7 میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے ۔ فالحمد للہ الذی شرفنا بہذہ النعمۃ، نعمۃ الایمان اللہم فزدنا منہ وثبتنا علیہ -
Ayah 33:44

تَحِیَّتُهُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ١ۚۖ وَ اَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِیْمًا Open ayah 33:44 in the Quran reader

(اور دنیا کی ان رحمتوں کے علاوہ آخرت میں بھی) جس روز وہ اس سے ملیں گے تو ان کا استقبال سلام سے ہوگا اور اس نے تیار کر رکھا ہے ان (خوش نصیبوں) کے لئے بہت بڑا اجر (وثواب)

83 اہل ایمان کے اکرام و اعزاز کی بشارت و خوشخبری : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جس روز وہ اس سے ملیں گے تو ان کا استقبال سلام سے ہوگا "۔ سو ان خوش نصیبوں کو اس روز اس ربِّ رحیم کی طرف سے بھی سلام ہوگا جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { سَلامٌ قَوْلاً مِّنْ رَّبِّ رِّحِیْمً } ۔ (یٰٰس ٓنمبر : 58) اور اس کے نوری فرشتوں کی طرف سے بھی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { سَلامٌ عَلَیْکُمْ ادْخُلُوْا الْجَنَّۃٖ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ } ۔ (النحل : آیت نمبر 32) ۔ اور آپس میں اہل جنت کی طرف سے بھی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { تَحِیُّتُہُمْ فِیْہَا سَلامٌ } ۔ (یونس :10) ۔ پس اس دار السلام میں ہر طرف سے سلامتی ہی سلامتی کی ندا و صدا ہوگی۔ سو مومن کا نام و پیام امن و سلامتی والا، اس کا دین و ایمان امن و سلامتی والا، اس کا آغاز و انجام امن و سلامتی والا، اس کا دل و دماغ اور ظاہر و باطن امن و سلامتی والا ۔ فالحَمْدُ اللّہِ الذی شَرَّفَنَا بہذا الدین المبارک المجید ۔ اور آخرت کے اس گھر میں پہنچنے سے پہلے ان کو موت کے وقت اس دنیا میں بھی فرشتے سلام کرتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت براء بن عازب ؓ اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ ملک الموت مومن کی جان قبض کرنے سے پہلے اسے سلام کرتا ہے اور اس کو رب کا سلام پہنچاتا ہے "۔ (روح المعانی، قرطبی اور معارف وغیرہ) ۔ اللہ محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے اور ہمیشہ راہ حق و صواب پر ثابت و مستقیم رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 84 اہل ایمان کے لیے بڑے عمدہ اجر کی بشارت : سو ارشاد فرمایا گیا " اور اللہ تعالیٰ نے ان کیلئے ایک بڑا ہی عمدہ اجر تیار فرما رکھا ہے "۔ یعنی جنت اور اس کی سدا بہار نعمتیں ۔ الْجَنَّۃُ وَنِعِیْمہَا ۔ (جامع البیان : ج 2 ص 170) ۔ الْجَنَّۃُ وَمَا فِیْہَا مِنَ النَّعِیْمَ الْمُقِیْم -( ِ صفوۃ : ج 2 ص 529) کہ وہاں پر وہ وہ اور ایسی ایسی عظیم الشان اور بےمثال نعمتیں ہونگی جن کا یہاں کوئی تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین۔ جیسا کہ مشہور حدیث قدسی میں فرمایا گیا " ۔ اعددت لعبادی الصالحین ما لا عین رات ولا اذن سمعت ولا خطر علی قلب بشر ۔ " یعنی " میں نے اپنے نیک بندوں کیلئے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی دل پر اس کا گزر ہی ہوا "۔ پھر حضور ﷺ نے اس کی تائید و تصدیق کیلئے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی ۔ { فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا اُخْفِیَ لَہُمْ مِنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ جَزَائً ا بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ } ۔ (السجدۃ : 17) ۔
Ayah 33:45

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ Open ayah 33:45 in the Quran reader

اے پیغمبر ! ہم نے آپ کو بھیجا ہے گواہ بنا کر خوشخبری دینے والا اور خبردار کرنے والا

85 پیغمبر کے " شاہد " ہونے کا معنیٰ و مطلب ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا " اے پیغمبر ہم نے آپکو گواہ بناکر بھیجا ہے "۔ یعنی حق و صداقت کا گواہ بنا کر۔ پس حق اور صدق وہی ہے جس کو آپ ﷺ نے حق اور صدق بتایا اور اپنے قول و فعل اور عمل و کردار سے اس کو واضح فرمایا ہے۔ جس میں سب سے بڑا حق اور تمام صداقتوں کی اساس و بنیاد اللہ پاک کی توحید و وحدانیت کی صداقت کبریٰ ہے۔ اور اس کی تعریف و توضیح میں وہی بات معتبر ہے جس کی تعلیم و تلقین آپ ﷺ نے فرمائی۔ اور اس کے علاوہ دنیا کی ہر حقیقت اور ہر صداقت کے بارے میں وہی بیان معتبر ہے جو آپ ﷺ کے لائے ہوئے قرآن اور آپ ﷺ کی چھوڑی ہوئی سنت کے مطابق ہوگا۔ اور حق و صداقت کی گواہی دینے والا آپکی ان تعلیمات مقدسہ کا یہ بےمثال خزانہ جو اب تک موجود ہے اور قیامت تک موجود رہے گا۔ حق و صداقت کی گواہی اسی طرح دیتا رہے گا۔ یہاں تک کہ قیامت کے روز بھی سابقہ امتوں اور ان کے نبیوں کے بارے میں آخری اور معتبر شہادت آپ ﷺ ہی کی شہادت ہوگی جیسا کہ صحیح احادیث و روایات میں اس کی پوری تفصیل مروی و منقول اور مصرح و موجود ہے۔ اہل بدعت نے " شاھد " کے لفظ سے حاضر وناظر کے اپنے مشہور و معروف شرکیہ عقیدے پر جو استدلال کیا ہے اور ان کے بڑوں نے اپنی اس تحریف کو قرآن پاک کے ترجمے تک میں داخل کرنے اور اس کو گھسیڑنے کی جس جسارت کا ارتکاب کیا ہے وہ سب بےاصل و مردود اور ایک ایسا ظلم اور زیادتی ہے جسکی دوسری کوئی نظیر و مثال نہیں ہوسکتی۔ اور جو جمہور امت اور تمام ثقہ اہل علم کی تصریحات کے خلاف ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو لفظ " شاہد " سے حاضر و ناظر ہونا ثابت نہیں ہوسکتا کیونکہ گواہ کے لئے اور کسی حقیقت کی خبر دینے والے کے لئے موقع پر موجود ہونا اور اپنی آنکھوں سے دیکھنا ضروری نہیں ہوتا۔ ورنہ امت محمدیہ ساری کی ساری کو حاضر و ناظر ماننا پڑے گا کہ یہی لفظ دوسرے مقام پر ان سب کے لئے بھی استعمال فرمایا گیا ہے ۔ { لِتَکُوْنُوْا شُہَدَآئَ عَلٰی النَّاسِ وَ یَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا } ۔ (البقرۃ : 143) ۔ پھر کلمہ شہادت پر ایمان رکھنے والا ہر مومن خدا، رسول، جنت، دوزخ اور آخرت وغیرہ تمام غیبی حقائق پر ایمان رکھتا اور ان کی گواہی دیتا ہے حالانکہ ان کو اس نے بچشم خود نہ دیکھا اور نہ ہی اس دنیا میں ان غیبی حقائق کو کوئی اپنی آنکھوں سے دیکھ ہی سکتا ہے۔ اور دیکھ کر ایمان لانا معتبر بھی نہیں کہ مطلوب و محمود تو وہ ایمان ہے جو کہ ایمان بالغیب ہو نہ کہ ایمان بالشہود و المشاھدۃ۔ اور ہم میں سے کتنے ہی ایسے ہیں جنہوں نے امریکہ، افریقہ اور یورپ وغیرہ کے بیشمار ملکوں کو نہیں دیکھا مگر ہم سب ان ملکوں کو مانتے اور ان کے وجود کی گواہی دیتے ہیں۔ سو اس سب سے معلوم ہوا کہ گواہی دینے کے لئے علم یقینی کی ضرورت ہوتی ہے نہ کہ ذاتی معاینہ و مشاہدہ کی۔ اور علم یقینی کے حصول کے طریقے اور ذرائع مختلف ہوسکتے ہیں اور ہوتے ہیں۔ جن میں سب سے بڑا اور قطعی ذریعہ وحی خداوندی ہے جو پیغمبر کو عطا فرمائی جاتی ہے۔ پس اس سے پیغمبر کا حاضر و ناظر ہونا لازم نہیں آتا۔ اسی لئے تمام ثقہ علمائے کرام اور جمہور مفسرین عظام " شاہد " کا مفہوم اس طرح بیان کرتے ہیں ۔ " اَیْ شَاہِدًا لِلّٰہِ بالوحْدَانیَّۃِ اَوْ علی الناس باعمالہم فی القیمۃ " ۔ (جامع البیان : ج 2 ص 170) ۔ " اَیْ شَاہِدَ اعلی اُمَّتِّکَ وَعَلٰی جِمِیْعِ الْاُمَمِ بِاَنَّ انبیاء ہم قد بلَّغوہم رسالۃ ربہم " ۔ (صفوۃ التفاسیر : ج 2 ص 530) ۔ " شاہداً بان لا الہ الّا اللّٰہُ " ۔ (روح : ج 22 ص 45، محاسن التاویل وغیرہ وغیرہ) سو ان حضرات میں سے کسی نے بھی " شاہد " کے معنیٰ حاضر و ناظر کے نہیں کیے بلکہ حق کی گواہی دینے والا ہی کیے ہیں۔ اور یہی بات پیغمبر کے لائق ہے۔ 86 پیغمبر کا اصل کام انذار و تبلیغ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے آپ کو خوشخبری دینے والا اور خبردار کرنے والا بنا کر بھیجا ہے "۔ یعنی ماننے والوں کے لئے خوشخبری دینے والے کہ ان کے لئے دارین کے سعادت و سرخروئی کا سامان ہے۔ اور انکار کرنے والوں کے لئے خبردار کرنے والے ان کے ہولناک انجام سے ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس آپ کی اصل صفت و شان انذار وتبشیر ہے اور بس ۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ ۔ پیغام حق و ہدایت کو بلا کم وکاست لوگوں تک پہنچا دینے سے پیغمبر کی ذمہ داری پوری ہوگئی۔ اس سے آگے لوگوں کو راہ حق و ہدایت پر ڈال دینا اور ان سے پیغام حق کو منوا لینا نہ آپ کے ذمے ہے اور نہ ہی یہ آپ ﷺ کے بس میں ہے۔ اس کا معاملہ اللہ وحدہ لاشریک ہی کے حوالے اور یہ اسی کی شان اور اسی کا کام ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پیغمبر کا کام صرف ابلاغ اور تبلیغ ہے۔ جیسا کہ دوسرے مختلف مقامات پر اس کی مختلف اسالیب میں تصریح فرمائی گئی ہے۔ مثلا سورة مائدہ میں ارشاد فرمایا گیا کہ " فرمانبرداری کرو تم اللہ کی اور فرمانبرداری کرو اس کے رسول کی اور ڈرتے اور بچتے رہو تم لوگ ان کی نافرمانی سے۔ پھر اگر تم لوگ پھرے ہی رہے تو یقین جان لو کہ رسول کے ذمے تو بس پیغام پہنچادینا ہے کھول کر اور بس " (المائدۃ : 92) ۔ یعنی تبلیغِ حق کے بعد ان کی کوئی ذمہ داری نہیں۔ اس کے بعد اگر تم لوگوں نے اعراض و انکار ہی سے کام لیا تو اس کی ذمہ داری خود تم پر ہوگی جس کا بھگتان تم لوگوں کو بہرحال بھگتنا ہوگا۔ پس تم لوگ اپنے معاملے میں خود دیکھ اور سوچ لو۔ سو پیغمبر کا کام صرف انذار و تبلیغ ہے اور بس۔
Ayahs 33:46–47

وَّ دَاعِیًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا Open ayah 33:46 in the Quran reader

اور بلانے والا اللہ کی طرف اسی کے حکم سے اور ایک عظیم الشان روشن کرنے والا چراغ بنا کر

وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَضْلًا كَبِیْرًا Open ayah 33:47 in the Quran reader

اور خوشخبری سنا دو ایمان والوں کو اس بات کی کہ ان کے لئے اللہ کی طرف سے ایک بڑا ہی عظیم الشان فضل ہے

87 پیغمبر کی صفت و شان داعی الی اللہ : یعنی اس کی توحید وصفات اور اس پر ایمان و اطاعت اور عبادت و بندگی کی طرف۔ کیونکہ یہ وہ اہم حقائق اور بنیادی امور ہیں جن پر سارے معاملے کا مدارو انحصار ہے۔ اور یہی وہ بنیادی حقائق ہیں جن کی تعلیم و تبلیغ نور وحی کے بغیر ممکن نہیں۔ سو پیغمبر کی صفت و شان دعوت الی اللہ کی صفت و شان ہے۔ یعنی مخلوق کو اس کے خالق کی طرف بلانا اور دعوت دینا۔ سو { داعیاً الی اللہ } کے اسی ایک کلمہ کریمہ سے کئی اہم اور عظیم الشان حقائق واضح اور آشکارا ہوجاتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ پیغمبر کا مشن اور ان کا منصب و مقام سب سے بڑا اور سب سے اعلیٰ و افضل ہوتا ہے کہ ان کا مشن و مقام اور ان کا نصب العین مخلوق کو خالق کی طرف بلانا اور اس کی عبادت و بندگی کی دعوت دینا ہوتا ہے جو کہ انسان کے ذمے عائد ہونے والا سب سے بڑا، سب سے اہم اور سب سے مقدم فریضہ ہوتا ہے۔ اور خالق کی معرفت، اس کی وحی اور اس کے پیغمبر کی تعلیم و تلقین کے بغیر ممکن نہیں۔ اسی طرح اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ پیغمبر کا کام صرف بلانا اور دعوت دینا ہوتا ہے اور بس۔ اس سے آگے بڑھ کر اس دعوت کو منوا لینا اور لوگوں کو راہ حق پر ڈال دینا نہ پیغمبر کے بس میں ہوتا ہے اور نہ ہی یہ اس کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ دعوت و تبلیغِ حق کے بعد وہ اپنے ذمے سے سبکدوش ہوجاتے ہیں۔ اس کے بعد لوگ اپنے کیے کے ذمہ دار خود ہوتے ہیں۔ 88 سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے : پس سب کچھ اللہ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں اور اسی کے اذن پر موقوف ہے ۔ سبحانہ وتعالی ۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اللہ ہی کے اذن و حکم سے " نہ کہ اپنی طرف سے۔ کہ آپ ﷺ کا ہر کام وحی خداوندی کی بنا پر اور اسی کے مطابق ہوتا ہے کہ آپ ﷺ وحی کے بغیر بولتے بھی نہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا ہے اور حصر و تاکید کے ساتھ فرمایا گیا ہے ۔ { وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَویٰ اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی } ۔ ( النجم : 3-4) اور جب یہ سب کچھ اسی وحدہ لاشریک کی طرف سے اور اسی کے حکم و ارشاد سے ہے تو اس کی عظمت شان بھی بہت بڑی ہے اور اس کے اپنانے ہی میں دارین کی فوز و فلاح کا راز مضمر ہے۔ سو پیغمبر کی دعوت کو قبول کرنا اللہ کی دعوت کو قبول کرنا ہے اور اس سے اعراض کرنا اور منہ موڑنا اللہ کی دعوت سے اعراض کرنا اور منہ موڑنا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ نیز { بِاِذْنِہ } کی اس قید میں پیغمبر کے لیے تسلیہ و تسکین کا بڑا سامان ہے کہ دعوت الی اللہ کے اس عظیم الشان کام پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو خود مامور کیا ہے۔ اس لیے وہ آپ کو اس راہ میں تنہا نہیں چھوڑے گا بلکہ ہر مرحلہ و موڑ میں اور ہر قدم پر آپ کی مدد فرمائے گا۔ سو آپ اس کی نصرت و امداد اور اس کی توفیق و عنایت سے مخالفوں کی مخالفانہ سرگرمیوں کے علی الرغم اپنے مشن میں کامیاب ہوں گے۔ پس آپ اللہ کے بھروسے پر اور ان لوگوں کی ان مخالفتوں اور ایذا رسانیوں کی پروا کیے بغیر جادئہ حق پر مستقیم رہیں اور تبلیغِ حق کا فریضہ انجام دیتے رہیں ۔ { وَدَعْ اَذَاہُمْ وَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ } - 89 پیغمبر ایک سراج منیر : سو ارشاد فرمایا کہ " ہم نے اپ کو سراج منیر یعنی ایک عظیم الشان روشن کرنے والا چراغ بناکر بھیجا "۔ یعنی ہدایت و ایمان کی اس عظیم الشان روشنی کے ساتھ جس سے لاکھوں کروڑوں بلکہ اربوں کھربوں دلوں کو منور فرمایا گیا۔ اور آج تک بےحد و حساب دنیا اس سے مستفید ہو رہی ہے اور قیامت تک ہوتی رہیگی ۔ انشاء اللہ العزیز۔ اور ظاہر ہے کہ اس حقیقی اور دائمی روشنی کے مقابلے میں آسمان کے سورج کی اس ظاہری اور فانی روشنی کی بھی کچھ حقیقت نہیں۔ یہاں پر قرآن حکیم میں آپ ﷺ کو " شمس " ۔ سورج۔ کی بجائے لفظ " سراج " ۔ چراغ۔ فرمایا گیا ہے جس کے بارے میں علمائے کرام نے بہت سے اسرار و رموز کا ذکر فرمایا ہے۔ مثلاً یہ کہ چراغ تک ہر کسی کی رسائی ممکن اور آسان ہوتی ہے سورج تک نہیں۔ اس سے استفادہ ہر وقت کیا جاسکتا ہے جبکہ سورج سے صرف خاص اوقات میں۔ اس سے استفادہ اپنے ارادہ و اکتساب پر موقوف ہوتا ہے جبکہ سورج کا معا ملہ اس سے مختلف ہوتا ہے۔ صحیح مزاج والے اور صحت مند انسان کو اس سے کسی وقت ناگواری اور تکلیف نہیں ہوتی جبکہ سورج کی تمازت اور اس کی گرمی سے انسان کو بعض اوقات بچنا اور بھاگناپڑتا ہے۔ اور اس میں یعنی چراغ میں انیس ہونے کی شان پائی جاتی ہے جبکہ سورج میں یہ بات نہیں ہوتی وغیرہ وغیرہ۔ اور سب حکم و مصالح کا علم اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے ۔ وہو اعلم باسرار کلامہ سبحانہ وتعالی ۔ یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ جس طرح آفتاب نصف النہار کے بعد کسی ستارے وغیرہ کی روشنی کی ضرورت نہیں ہوتی، اسی طرح نبوت محمدیہ کے سراج منیر کے طلوع کے بعد کسی اور نبوت کی کوئی ضرورت نہیں ہوسکتی ۔ فصلوات اللّٰہِ وسَلَامہ عَلَیْہِ وعَلٰی اٰلہ وصَحْبہْ ومن والاہ ودعا بدعوتہ وبہداہ اہتدی الی یوم العرض علی اللّٰہِ واللقاء ۔ بہرکیف پیغمبر کو ایک ایسا عظیم الشان اور روشن چراغ بنا کر بھیجا گیا ہے جسکی روشنی سب دنیا جہاں کو روشن اور منور کرنے والی ہے۔ پس جو اس سے منہ موڑے گا ۔ والعیاذ باللہ ۔ وہ خود اپنی ہی ہلاکت اور تباہی کا سامان کرے گا کہ اس کے نتیجے میں وہ دنیا میں طرح طرح کے اندھیروں میں بھٹکے گا اور آخرت میں عذاب جحیم کے ہولناک ابدی انجام سے دوچار ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 33:48

وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ دَعْ اَذٰىهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 33:48 in the Quran reader

اور (دین کے بارے میں) کبھی بات نہ ماننا کافروں اور منافقوں کی اور خاطر میں نہیں لانا ان کی ایذاء رسانیوں کو اور بھروسہ ہمیشہ اللہ ہی پر رکھنا اور اللہ کافی ہے کارسازی کے لئے1

91 حضور کے " نذیر " ہونے کے پہلو کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور خاطر میں نہیں لانا ان لوگوں کی ایذا رسانیوں کو اور بھروسہ اللہ ہی پر رکھنا کہ اللہ کافی ہے کارسازی کے لیے " کہ ان لوگوں کی ایذا رسانیوں کو خاطر میں لانے سے آپ کو تشویش بھی ہوگی اور اپنے فرائض کی ادائیگی پر اثر بھی پڑے گا۔ اور اعدائے حق یہی چاہتے ہیں۔ پس ان کی ان شرانگیزیوں اور ایذا رسانیوں کو خاطر میں نہ لائیں اور اپنے عظیم الشان مشن کو جاری رکھیں اور بھروسہ ہمیشہ اللہ وحدہ لاشریک ہی پر رکھیں کہ وہی سب کا مالک اور کارساز ہے۔ اور سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ پس ان کفار اور منافقین کی نہ کوئی بات ماننی ہے اور نہ ان کی کسی بات کی طرف کوئی توجہ کرنی اور ان پر کان دھرنا ہے۔ اور نہ ہی ان کی ایذا رسانیوں کو خاطر میں لانا ہے۔ آپ ﷺ کے ساتھ تو اپنے اس خالق ومالک کی نصرت و حمایت اور تایید ہے جو سب کا کارساز ہے۔ وہ ان سے خود ہی نپٹ لے گا اور حق و انصاف اور عدل و حکمت کے تقاضوں کے عین مطابق نپٹے گا۔ لہذا آپ ﷺ اپنے تمام امور و معاملات اسی کے حوالے کردیں اور پھر بھروسہ و اعتماد اسی پر رکھیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس ارشاد سے آپ کے " نذیر " ہونے کے پہلو کا اظہار فرمایا گیا ہے اور یہاں پر مخالفوں کو براہ راست خطاب کر کے کچھ کہنے کی بجائے پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ان مخالفوں کے ساتھ آئندہ کیا رویہ اختیار کرنا ہے اور اس رویے کے اندر ہی وہ انذار مضمر ہے جو پتہ دے رہا ہے کہ یہ منکرین حق مستقبل قریب میں کس انجام سے دوچار ہونے والے ہیں۔ سو اس آیت کریمہ میں حضور کے لیے تسکین وتسلیہ کا جو سامان ہے وہ بھی اس کے لفظ لفظ سے نمایاں ہے اور مخالفین کے لیے جو قہر و غضب مخفی و مستور ہے وہ بھی اس کے حرف حرف سے ابلا پڑ رہا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 92 اللہ تعالیٰ کی کارسازی پر اعتماد کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا " اور کافی ہے اللہ کارسازی کیلئے " کہ سب کچھ اسی کے قبضہء قدرت و اختیار میں ہے۔ اور کارساز حقیقی سب کا وہی وحدہ لاشریک ہے۔ سو کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ قرآن تو جگہ جگہ کہتا اور سکھاتا ہے کہ بھروسہ اللہ ہی پر رکھو کہ کارسازی کے لئے وہی وحدہ لاشریک سب کو کافی ہے۔ حضرت امام الانبیاء ۔ علیہ وعلیہم الصلوۃ والسلام ۔ تک سب اسی کے محتاج ہیں۔ مگر اس کے باوجود آج کا کلمہ گو مشرک کہتا ہے کہ نہیں بلکہ " سہارا پنجتن کا "، " آسرا بری امام کا "، " بہاؤ الحق بیڑا دھک "، " معین الدین اجمیری پار لگا دے کشتی میری "، " یا علی مدد " اور " شیئا للہ یا شیخ عبد القادر " وغیرہ وغیرہ۔ سو اس سے بڑھ کر شرک، غیر اللہ پر آسرے اور قرآنی ارشادات کی خلاف ورزی کی مثال اور کیا ہوگی ؟ ۔ والعیاذ باللہ الذی لا الہ الا ہو ۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی کے ذریعے پیغمبر کو اور پیغمبر کے واسطے سے آپ ﷺ کی امت کے ہر فرد کو یہ ہدایت فرمائی گئی ہے کہ بھروسہ ہمیشہ اور ہر حال میں اللہ ہی پر رکھو۔ اور اللہ کافی ہے کارسازی کیلئے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو جو اس کے در کو چھوڑ کر اوروں کے آگے جھکے گا وہ ذلت و رسوائی کے سوا کچھ نہ پائے گا ۔ والعیاذ باللہ من کل زیغ و ضلال وسوئٍ وانحراف۔