Ayah 33:1630 موت سے بھاگنے کا کوئی فائدہ نہیں : کہ موت تو بہرحال آنی ہی ہے۔ اس سے چھٹکارے کی کوئی صورت ممکن نہیں۔ اس نے تو اپنے وقت پر آ کر ہی رہنا ہے۔ تو پھر اس سے ڈرنے اور بھاگنے کا کیا فائدہ ؟ اگر تم لوگ میدان کارزار سے اسطرح کے حیلے و حوالے کر کے اور ایسی بہانہ بازیوں سے کام لیکر نکل بھی گئے تو ہمیشہ کے لئے تو موت کے منہ سے چھٹکارا نہیں پا سکو گے بلکہ اتنا ہی اس دنیا میں رہ سکو گے جتنی کہ تمہاری فرصت عمر باقی ہے۔ تو پھر تمہارا یہ حال کیوں ہے۔ سو موت یا قتل سے ڈر کر ادائے فرض سے گریز و فرار کی راہیں اختیار کرنا کوئی دانشمندانہ پالیسی نہیں بلکہ یہ ایک احمقانہ روش ہے۔ زندگی اور موت کا تمام معاملہ تو اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ اس لیے موت سے فرار کی کوششوں کی بجائے تمنا یہ ہونی چاہیئے کہ میری موت اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا کے حصول کی خاطر ہو ۔ وباللہ التوفیق ۔ یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ ۔ { وَاِذًا لاَّ تُمَتَّعُوْنَ اِلَّا قَلِیْلاً } ۔ کے کلمات کریمہ پر غور وفکر سے کام لینے سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اس طرح کے فراریوں کی عمر برکت سے بالکل محروم ہوجاتی ہے۔ وہ اس چند روزہ زندگی میں جو وقت گزارتے ہیں وہ بالکل محرومی کا وقت گزارتے ہیں۔ حالانکہ وہ اگر گریز و فرار کی یہ روش اختیار نہ کرتے جب وہ اپنی مدت حیات پوری کرلیتے اور اس چند روزہ زندگی کے بدلے میں حیات جاوداں کی بادشاہی حاصل کرتے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayah 33:1731 اللہ کے مقابلے میں کوئی کسی کا حامی اور مددگار نہیں ہوسکتا : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ایسے لوگ اللہ کے مقابلے میں اپنے لیے نہ کوئی حمایتی پاس کیں گے اور نہ کوئی مددگار جو انکے کچھ کام آسکے "۔ یہ اسی پچھلی بات کو ایک دوسرے انداز میں ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ جب اللہ پاک کی قضا و قدر کو روکنا کسی کے بس میں نہیں اور اس کے مقابلے میں نہ کوئی کسی کا حامی ہوسکتا ہے نہ مددگار تو پھر اس فرار کا فائدہ کیا ؟ کیونکہ موت کا وقت مقرر اگر نہیں آیا تو چمکتی برستی تلواروں اور تیروں، نیزوں کی بارش میں بھی کسی نے مرنا نہیں۔ اور وقت مقرر کے آجانے پر بند اور مضبوط قلعوں کے اندر بھی اس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہوسکتی۔ تو پھر خواہ مخواہ اس طرح کا خوف اور ڈر کیوں ؟ شاعر نے کیا خوب کیا ہے ۔ اَیّ یَوْمِیَّ منَ الْمَوْتِ اَفِرُّ ۔ یَوْمَ لا یقدر اَم یوم قدرِ ۔ یَوْم لا یقدر لا اَرْہَبْہ ۔ ومنَ الْمقْدُورِ لا یُنْجِیْ الْحذَر ۔ یعنی " میں اپنی زندگی کے دونوں میں سے کس دن موت سے بھاگوں ؟ جس دن موت مقدر نہیں یا جس دن وہ مقدر ہوچکی ہے۔ جس دن وہ مقدر نہیں اس دن سے ڈرنے کی مجھے کوئی ضرورت نہیں کہ اس دن تو بہرحال اس نے آنا نہیں۔ اور جس دن وہ مقدر ہوچکی ہے اس دن سے بھاگنے کا کوئی فائدہ نہیں کہ اس دن اس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں "۔ پس موت کے خوف سے میدان کا رزار اور معرکہ جہاد سے بھاگنا حماقت اور جہالت کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سبحان اللہ ! کتنی بڑی نعمت اور کس قدر عظیم دولت ہے یہ ایمان و یقین کی دولت کہ اس کی بنا پر انسان کا دل عین تلواروں کے سائے میں بھی مطمئن رہتا ہے۔ ورنہ ہر موقع پر وہ ڈرتا ہی رہتا ہے ۔ والعیاذ باللہ الّذِی لَا اِلٰہَ اِلَّا ہُوْ ۔ سو جب تک قدرت کی رحمت و عنایت سے ڈھیل ملی ہوئی ہے اپنی اصلاح کرلو، قبل اس سے کہ فرصت حیات تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اور تمہیں ہمیشہ کیلئے کف افسوس ملنا پڑے۔ اور جب وہ وقت مقدر آجائے گا تو تمہارے لیے نہ کوئی حمایتی ہوگا جو زبانی کلامی تمہاری حمایت کرسکے اور تمہارے لیے کسی طرح کی کوئی شفاعت اور سفارش کرسکے جیسا کہ مشرک لوگ اپنے معبودوں اور شرکاء و اولیاء سے توقع رکھتے تھے اور آج تک رکھتے ہیں کہ یہ ہمارے شفعاء و اولیاء بڑی پہنچی ہوئی " سرکاریں " ہیں۔ جو چاہیں کروا سکتے ہیں۔ یہ اڑ کے بیٹھ جائیں گے اور منوا کر چھوڑیں گے وغیرہ۔ اور دوسرا دھوکہ ایسے لوگوں کو اپنی جماعت و جمعیت اور ان کی حمایت و عصبیت سے لگتا ہے کہ ہم لوگ بڑی اکثریت اور بھاری جمعیت والے ہیں۔ (القصص :78، القمر : 45-44) اور اپنی جمعیت کی قوت و کثرت کی بنا پر یہ دھوکہ اور غرہ ہر صاحب جمعیت کو ہمیشہ لگتا رہا اور آج بھی لگتا ہے۔ اور اس کی بنا پر ایسے لوگ تکبر اور غرور میں مبتلا ہوتے ہیں کہ حق بات سننے اور ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس ارشاد ربانی میں " ولی " اور " نصیر " کی نفی سے ان دونوں سہاروں کی نفی فرما دی گئی کہ ان میں سے کوئی بھی سہارا اس دن کام نہیں آسکے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 33:1832 منافقوں کو سخت قسم کی تنبیہ : سو ایسے لوگوں کو تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ پوری طرح جانتا ہے رکاوٹیں ڈالنے والوں کو۔ اس لئے وہ ان کو پورا پورا بدلہ دے گا جس کے یہ مستحق ہیں اپنے کرتوتوں کے باعث۔ سو یہ منافقین کا ایک گروہ تھا جو خود لڑنے اور دفاع کرنے کی بجائے دوسروں کو بھی روکتا اور ان کی حوصلہ شکنی کرتا تھا۔ قتادہ ؓ کہتے ہیں کہ یہ منافقین مدینہ کا ایک گروہ تھا جو اپنے قومی اور نسبی بھائیوں یعنی انصار مدینہ کو جنگ سے روکتا تھا۔ اور یہ منافق لوگ ان سے کہتے تھے کہ محمد ﷺ اور انکے ساتھی تو بس ایک سر کھانے والے ہیں۔ اور یہ عربی زبان کا ایک محاورہ ہے جو کسی جماعت یا گروہ کی قلت کو بیان کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا تھا۔ نیز یہ منافق اس سے کہتے تھے کہ اگر محمد ﷺ اور انکے ساتھی گوشت ہوتے تو ابوسفیان اور انکے ساتھی ان سب کو کھا جاتے۔ سو ایسے میں تم لوگ انکے ساتھ جنگ میں جاکر کہاں اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہے ہو۔ (المراغی وغیرہ) ۔ سو ایسے منافقوں کو یہ سخت تنبیہ فرمائی گئی کہ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ کے علم سے باہر نہیں۔ وہ یہ سب کچھ دیکھتا اور جانتا ہے۔ اگر تم لوگ اپنی اس روش سے باز نہ آئے تو تم کو اس کا سخت بھگتان بھگتنا ہوگا۔ اس لیے اپنے بارے میں تم خود دیکھ اور سوچ لو۔ پھر نہ کہنا کہ ہمیں خبر نہ ہوئی تھی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین۔
33 منافقوں کا اپنے بھائی بندوں کو منافقانہ مشورہ : سو ایسے لوگوں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ خود بھی جہاد میں شریک نہیں ہوتے اور دوسروں کو بھی روکنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے بھائی بندوں سے کہتے ہیں کہ تم ہمارے پاس آجاؤ اور ہمارے پاس آ کر ہماری طرح آرام و عیش کرو۔ کہاں مسلمانوں کے ساتھ مل کر جان کھپانے جا رہے ہو۔ اور یہی حال ہوتا ہے ایمان سے محروم لوگوں کا کہ ان کے نزدیک دنیا اور اس کا عیش و عشرت ہی سب کچھ ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس طرح یہ لوگ ان دوسرے مخلصین کو بھی راہ حق اور شرف جہاد سے روکتے تھے اور اپنی محرومی کے ساتھ ساتھ ان کی محرومی کے لیے بھی کوشش کرتے تھے۔ اور اس طرح محرومی در محرومی اور جرم بالائے جرم کے مرتکب ہوتے اور یہ سمجھتے کہ ان کی ان شرارتوں اور شرانگیزیوں سے کوئی آگاہ نہیں۔ حالانکہ اللہ ان سے برابر اور پوری طرح آگاہ ہے۔ وہ ان کے ظاہر اور باطن کو ایک برابر جانتا ہے۔ اس لیے اس کے یہاں ان کو عدل و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق اپنے کیے کرائے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ کفر ونفاق کے ہر شائبے سے محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 33:1934 منافقوں کے بخل اور لالچ کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ لوگ تمہارے بارے میں سخت بخل سے کام لیتے ہوئے " " اَشِحَّہ " جمع ہے " شحیح " کی جس کے معنیٰ " کنجوس " اور " بخیل " کے بھی آتے ہیں اور حریص و لالچی کے بھی۔ اس آیت کریمہ میں یہ لفظ دو جگہ استعمال ہوا ہے۔ شروع میں { اَشِحَّۃً عَلَیْکُمْ } اور آخر میں { اَشِحَّۃً عَلَی الخْیر } فرمایا گیا ہے۔ سو شروع میں اس لفظ کا پہلا معنیٰ مراد ہے اور آخر میں دوسرا۔ یعنی تمہارے بارے میں یہ لوگ ایسے بخیل اور کنجوس ہیں کہ جان لڑانا اور خطرات کو انگیز کرنا تو بڑی بات ہے یہ کسی بھی طرح کی بہتری اور بھلائی کے سلسلے میں تمہارے لئے کسی خیر کے روادار نہیں۔ اور یہ حریص اور لالچی اس قدر ہیں کہ سب تعلقات قطع کرنے اور بالکل الگ ہوجانے کے باوجود مال غنیمت وغیرہ کے ملنے کی صورت میں یہ سب سے آگے بڑھ بڑھ کر اپنے حق دار ہونے کے دعوے پیش کرتے اور پرزور مطالبے کرنے لگتے ہیں۔ اور یہی حال ہوتا ہے ایمان و یقین کی دولت سے محروم ابنائے دنیا کا کہ یہ لوگ متاع دنیا ہی کیلئے جیتے اور اسی کیلئے مرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ جبکہ مومن صادق کے نزدیک اصل چیز ایمان اور آخرت ہی ہے۔ جس کے مقابلے میں دنیا ساری کی دولت کی بھی کوئی حقیقت اور حیثیت نہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
35 ان موقع پرستوں کی چرب لسانی کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " خطرے کا وقت گزر جانے پر یہ لوگ تیز زبانوں سے تمہارا استقبال کرتے ہیں "۔ کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے ؟ اور کیا ہم نے لڑائی میں حصہ نہیں لیا ؟ ہم اگر شریک معرکہ نہ ہوتے تو تمہیں معلوم ہوجاتا کہ جیت کس طرح ہوتی ہے ؟ وغیرہ وغیرہ۔ " سلق " کے معنیٰ چرب لسانی اور تیز زبانی کے آتے ہیں۔ اسی لئے تیز طرار اور چرب لسان خطیب کو عربی زبان میں خطیب سلاق کہا جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ { سَلَقُوْکُمْ } کی تشریح و تفسیر میں کہتے ہیں " اِسْتَقْبَلُوکُمْ " (ابن کثیر، صفوۃ التفاسیر، جامع البیان وغیرہ) ۔ سو یہ لوگ جنگ میں سب سے بزدل اور تقسیم غنیمت کے موقع پر سب سے بڑے حریص لوگ تھے۔ (ابن کثیر وغیرہ) اور ابنائے دنیا کا یہی حال ہمیشہ رہا۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے کہ دنیائے فانی اور اسکا حطام زائل ہی ان کے نزدیک سب کچھ ہوتا ہے ۔ الا ماشاء اللہ ۔ سو ایسے لوگوں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ اول تو دفاع میں حصہ لیتے ہی نہیں اور اگر کبھی کچھ حص لیتے بھی ہیں تو محض دنیاوی مال کے لالچ میں۔ تمہارے لیے یہ کسی خیر کے روادار نہیں اور تمہارے لیے جان یا مال کی کوئی قربانی دینے کے معاملے میں یہ نہایت بخیل ہیں۔ ان کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ راہ حق میں خون کا قطرہ بہائے بغیر یہ مجاہد اور غازی بھی سمجھے جائیں اور مال غنیمت میں ان کو پورا پورا حصہ ملے کہ اصل چیز ان کے نزدیک دنیا ہی ہے۔ یہ اسی کے لیے جیتے اور اسی کے لیے مرتے ہیں جبکہ مومن صادق کے نزدیک اصل چیز آخرت ہے۔
36 یہ سخت حریص ہوتے ہیں دنیاوی فوائد کے : یعنی " الخیر " سے یہاں پر وہ فوائد اور ثمرات مراد ہیں جو جنگ کے خاتمے پر اور فتح کی صورت میں ملتے ہیں۔ جیسے مال غنیمت اور دوسرے تمغے اور اعزازات وغیرہ۔ یعنی یہ لوگ انتہائی بزدل ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی حریص اور طماع بھی ہیں۔ لڑائی کے وقت انتہائی بزدل اور فوائد کی تقسیم کے وقت انتہائی حریص اور لالچی ۔ " اَجْبَنُ قَوْمٍ عِنْدَ الْبَأسِ وَ اَشحُّ قوم عند الغنیمۃ " ۔ (ابن کثیر، صفوۃ التفاسیر، جامع البیان وغیرہ وغیرہ) ۔ سو ان لوگوں کا تمہارے بارے میں بخالت اور تنگ دلی کا یہ عالم ہے کہ تمہاری خاطر یہ خون کا ایک قطرہ بہانے کو تیار نہیں اور تمہارے لیے ایک پائی پیسہ بھی خرچ کرنے کیلئے راضی نہیں لیکن اگر مال غنیمت ہاتھ لگے تو اس میں شرکت اور اس کا زیادہ سے زیادہ حصہ مارنے کی غرض سے زبان کے یہ غازی اپنی چرب لسانی کے نت نئے جوہر دکھلاتے ہیں۔ اور یوں منظر کشی کرتے ہیں کہ گویا کہ یہ سب کچھ انہی کی مساعی کا رہین منت ہے۔ اور اس ضمن میں یہ سب کو ہدف مطاعن بنا ڈالتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
37 دولت ایمان سے محرومی، ہر خیر سے محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو ان لوگوں کے اس منافقانہ کردار کے اصل سبب کے ذکر وبیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ ایمان لائے ہی نہیں۔ یعنی یہ لوگ بلند بانگ دعوے بیشک کریں مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سچے دل سے ایمان لائے ہی نہیں۔ اور جب ایمان کی دولت سے محروم ہوئے تو ہر خیر سے محروم ہوگئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اس بےایمانی اور نور یقین سے محرومی کے سبب ان کے کسی عمل کا کوئی اعتبار ہی نہیں۔ جہاد وغیرہ جن اعمال کا یہ دم بھرتے ہیں وہ سب ختم اور کالعدم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو حقیقی ایمان کی دولت تو ان کو نصیب نہیں ہوئی اور ظاہری اور نمائشی ایمان جسکے یہ لوگ دعویدار ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے یہاں کام آنے والا نہیں۔ اسکا اس کے یہاں کوئی وزن اور اعتبار نہیں۔ سو دولت ایمان سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔
38 منافقوں کے سب اعمال اکارت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ نے اکارت کردیا انکے سب اعمال کو "۔ انکے یہ اعمال ضائع اور اکارت تو ایمان نہ ہونے کی وجہ سے پہلے ہی ہوچکے تھے مگر دوسروں کے سامنے اس امر کا ظہور اب ہوا ہے۔ اور یہ ضیاع بھی ایمان کے فقدان کے باعث خود ہوا کہ ایمان ہی اصل بنیاد ہے صلاح و اصلاح اور دارین کی فوز و فلاح کی۔ اور اس سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ مگر چونکہ یہ اس وحدہ لا شریک کے قانون عدل و انصاف کی بنا پر ہوا اور اس کے ملک یعنی اس کی بادشاہی میں اس کی مشیت کے بغیر کچھ بھی وقوع پذیر نہیں ہوسکتا۔ اس لئے اس کی نسبت اللہ پاک کی طرف فرمائی جا رہی ہے کہ اس نے ان کے اعمال کو اکارت کردیا کہ یہ بات اس کی اس سنت و دستور کے مطابق ہے جو اس کی اس کائنات میں قائم اور جاری وساری ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو کسی کو اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیئے کہ اللہ تو بڑا ہی مہربان اور کریم ہے۔ وہ کسی کے عمل کو ضائع کس طرح فرمائے گا۔ اس لیے کہ وہ مہربان اور کریم تو بلاشبہ ہے اور بڑا ہی مہربان اور کریم ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ بڑا ہی غیور اور انتہائی غنی اور بےنیاز بھی ہے۔ اس لیے وہ انہی اعمال کو شرف قبولیت سے نوازتا ہے جو خالص اس کی رضا و خوشنودی کیلئے ہوں۔ اور جو اس کی شان غیرت و بےنیازی کیخلاف ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو وہ انکو اکارت کردیتا ہے۔
Ayah 33:2039 منافقوں کی انتہائی بزدلی کا ایک نمونہ اور مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ سمجھتے ہیں کہ حملہ آور ابھی تک گئے نہیں اور وہ لشکر اگر ان پر دوبارہ حملہ کردیں تو ان کی خواہش یہ ہوگی کہ یہ کہیں باہر جا کر کسی گاؤں میں دیہاتیوں کے بیچ میں رہیں اور وہیں سے ہو کر یہ تمہارے حالات کے بارے میں پوچھتے رہیں۔ سو یہ ان کی بزدلی کی انتہاء ہے۔ نیز یہاں سے قرآن پاک کا ایک اور معجزہ بھی سامنے آیا کہ قرآن پاک ان کے دلوں کے احوال کی خبر اس طرح دے رہا ہے اور ان کے اندر کی کیفیات کو اس صراحت و وضاحت سے بیان فرما رہا ہے جس سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ یہ کلام کسی بشر کا کلام نہیں ہوسکتا۔ بلکہ یہ اس ذات اقدس و اعلیٰ کا کلام صدق نظام ہے جو کہ علیْمٌ بِذَات الصُّدوُر ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف یہ منافقوں کی بزدلی کا ایک نمونہ اور مظہر ہے کہ دشمنوں کی جماعتیں تو پسپا ہو کر اپنے اپنے ٹھکانوں پر واپس پہنچ گئیں لیکن ان لوگوں کے دلوں پر انکا خوف بدستور مسلط ہے۔ اور یہی نتیجہ ہوتا ہے نور ایمان و یقین سے محرومی کا۔ جبکہ مومن صادق اپنی قوت ایمانی کی بنا پر ہمیشہ مطمئن رہتا ہے اور وہ اپنے ایمان و یقین کی بنا پر اپنے لیے ہر حالت کو بہتر ہی سمجھتا ہے ۔ والحمد للہ جل وعلا -
Ayah 33:2140 پیغمبر کے اسوئہ حسنہ کو اپنانے کی ہدایت و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ تمہارے لیے اے لوگو ایک بڑا ہی عمدہ نمونہ تھا رسول اللہ ۔ کی زندگی ۔ میں "۔ اور جب رسول اس جنگ کے دوران ہر محاذ پر پیش پیش تھے تو پھر تمہارے لئے پیچھے رہنا اور حیلے بازیاں کرنا کس طرح روا ہوسکتا ہے ؟ یہ آیت کریمہ اگرچہ نازل اس خاص سیاق وسباق اور پس منظر میں ہوئی مگر اس کا مفہوم عام ہے اور الفاظ و کلمات کے عموم کے ساتھ یہ زندگی کے تمام ادوار کو شامل اور عام ہے۔ اور یہ ایک اہم اصولی اور جامع ہدایت ہے کہ اہل ایمان کو زندگی کے ہر موقع و مقام اور ہر موڑ پر پیغمبر کے اسوئہ حسنہ کو اپنے سامنے رکھنا چاہیئے کہ یہی وہ کامل اور عمدہ نمونہ ہے جس میں کسی غلطی اور قصور کا کوئی خدشہ و اندیشہ نہیں۔ لیکن اللہ کے رسول کی پیروی کرنا اور آپ ﷺ کے اسوئہ حسنہ کو اپنانا اور اختیار کرنا ہر کسی کے بس کا روگ نہیں بلکہ اس سے وہی لوگ مشرف ہوسکتے ہیں جن کے اندر یہ تین بنیادی صفات پائی جاتی ہوں۔ ایک یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ملنے کی امید رکھتے ہوں۔ اور دوسرے یہ کہ وہ قیامت کے دن کی حاضری اور اس کی پیشی سے ڈرتے ہوں۔ اور تیسرے یہ کہ وہ اللہ کی یاد دلشاد سے اپنے دلوں کی دنیا کو آباد و شاداب رکھتے ہوں۔ سو ایسے ہی لوگ اس راہ کی آزمائشوں سے عہدہ برآ ہوسکتے ہیں اور ایسوں ہی کو راہ حق میں عزیمت و استقامت نصیب ہوسکتی ہے۔ سو اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ ان منافقین کے اندر نہ خدا اور آخرت پر ایمان تھا اور نہ ہی یہ خدا کو یاد رکھنے والے تھے۔ اسی لیے ان کے خوف اور ڈر کا یہ عالم تھا کہ دشمنوں کے پسپا ہوجانے کے باوجود ان کے دلوں سے ان کی ہیبت نہیں گئی تھی اور یہ ابھی تک یہی سمجھتے تھے کہ وہ واپس نہیں گئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 33:2241 منافقوں کے مقابلے میں سچے مسلمانوں کا رویہ و نمونہ : سو منافقوں کے مقابلے میں سچے اہل ایمان کا رویہ و نمونہ اور ان کا ایمان افروز اعلان وبیان یہ تھا کہ انہوں نے حملہ آور لشکروں کو دیکھتے ہی کہا کہ " اسی کا وعدہ فرمایا تھا ہم سے اللہ اور اس کے رسول نے۔ بالکل سچا اور درست وعدہ فرمایا تھا "۔ اور اس سے ان کے جذبہ تسلیم و رضا میں اور بھی اضافہ ہوا۔ یعنی یہ کہ راہ حق میں تمہاری آزمائش ضرور ہوگی مگر غلبہ بہرحال تمہارا ہی ہوگا اور اگر تم نے ثابت قدمی دکھائی تو اللہ پاک ضرور تمہاری نصرت و امداد فرمائے گا۔ جیسا کہ سورة بقرہ آیت نمبر 214 اور عنکبوت آیت نمبر 322 وغیرہ مختلف مقامات پر فرمایا گیا ہے۔ نیز بعض روایات کے مطابق آنحضرت ﷺ نے صحابہ کرام ۔ رضوان اللہ علیہم اجمعین ۔ سے ان احزاب کی حملہ آوری سے پہلے یہ بھی فرمایا تھا کہ آئندہ چند ہی دنوں میں دشمن کی فوجیں تم پر حملہ آور ہوں گی مگر اللہ پاک ایک آندھی بھیج کر اور ان پر رعب ڈال کر ان کو بھگا دے گا۔ سو یہ سب کچھ اس وعدے کے عموم میں داخل ہے۔ بہرکیف منافقین کے مقابلے میں یہ سچے اور مخلص مسلمانوں کا تاثر اور ان کا نمونہ و رویہ بیان فرمایا گیا ہے کہ انہوں نے ان حملہ آور دشمنوں کو دیکھتے ہی اپنے ساتھیوں کو تسلی دیتے ہوئی کہا کہ یہ تو وہی امتحان ہمیں پیش آ رہا ہے جس کی خبر ہمیں اس سے پہلے اللہ اور اس کے رسول نے دی تھی اور اللہ اور اس کے رسول کا وعدہ بالکل سچا ثابت ہوا۔ پس جو لوگ اس مرحلے میں ثابت قدم رہیں گے وہ آئندہ ظہور میں آنے والے وعدوں کی صداقت بھی دیکھ لیں گے اور وقت آنے پر مسلمان قیصر و کسریٰ کے خزانوں کے بھی مالک ہوں گے۔ سو ایمان و یقین کی دولت دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرنے والی دولت ہے۔
42 مسلمانوں کے ایمان اور جذبہ تسلیم و رضا میں اضافے کا سامان : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اس واقعے سے سچے ایمانداروں اور منافقوں کا ایک ہی واقعہ پر تاثر اور ان کا رد عمل تھا جو اوپر گزرا کہ منافقوں نے مشکل اور آزمائش کے اس موقع پر کہا کہ اللہ اور اس کے رسول نے جو وعدے ہم سے کیے تھے وہ سب فریب تھے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور مومنوں کا یہ جواب یہاں بیان فرمایا جا رہا ہے کہ انہوں نے دشمنوں کے لشکروں کو دیکھتے ہی کہا کہ یہی تو وہی امتحان ہے جسکی خبر اللہ اور اس کے رسول نے ہمیں دی تھی اور سچ فرمایا تھا اللہ اور اس کے رسول نے۔ سچ ہے کہ ۔ باراں کہ درلطافت طبعش خلاف نیست ۔ درباغ لالہ روید و درشورہ بوم وخس ۔ سو ایک ہی واقعہ اہل ایمان کے ایمان و یقین میں اضافہ اور ترقی کا باعث بنا اور منافقوں کے نفاق اور ان کی محرومی میں اضافے کا باعث۔ سو صدق و اخلاص اور ایمان و یقین کی دولت دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ اور کفر و نفاق محرومی و ہلاکت کا ذریعہ ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ صدق و اخلاص اور ایمان و یقین کی دولت سے سرشار و سرفراز رکھے اور نفاق اور کھوٹ کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین -
Ayah 33:2343 مومنین صادقین کی اپنے عہد کو پورا کرنے کی تصریح : سو اس ارشاد میں تصریح فرمائی گئی کہ اہل ایمان کے مردانِ حق میں سے کچھ نے اپنے عہد کو پورا کردیا۔ یعنی اپنے اس عہد کو کہ ہم راہ حق میں ثابت رہیں گے۔ اور جیسا کہ بیعت عقبہ کے موقع پر انہوں نے آنحضرت ﷺ سے آپ ﷺ کی حمایت اور دفاع کا وعدہ کیا تھا۔ نیز اس سے مراد وہ عہد ہے جو غزوئہ بدر میں شریک نہ ہوسکنے والے صحابہ کرام نے کیا تھا۔ چناچہ انہوں نے اس کے بعد احد میں اور پھر احزاب میں اس کو پورا کر دکھایا ۔ { صَدَقُوْا مَا عَاہٰدُوْا اللّٰہَ عَلَیْہِ } ۔ کا عموم ان سب ہی عہود و وعود کو شامل ہے۔ (محاسن التاویل، فتح القدیر، ابن کثیر وغیرہ) ۔ سو اوپر آیت نمبر 15 میں منافقین کا حال بیان ہوا ہے کہ انہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اب اگر جنگ کا موقع آیا تو وہ پیٹھ نہیں دکھائیں گے۔ لیکن اب جب ان کو یہ موقع ملا تو یہ محاذ جنگ سے فرار کیلئے بہانے ڈھونڈنے لگے۔ اور انکے مقابلے میں یہ مردانِ حق ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے اپنے اس عہد کو اس کی راہ میں اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر پورا کر دکھایا۔ سو ایفائِ عہد صدق ایمان کا نتیجہ اور اس کا ثمرہ ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
44 " اور کچھ ابھی انتظار میں ہیں " : یعنی جن کو اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کا ابھی موقع نہیں ملا لیکن وہ اس کی انتظار میں ہیں۔ سو کچھ نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر دئیے جیسے حضرت حمزہ ؓ اور حضرت انس ؓ وغیرہ۔ اور کچھ شہادت کی امید و انتظار میں ہیں، جیسا کہ دوسرے جاں نثاران اسلام ۔ رضوَان اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنِ ۔ سو وہ پورے صدق و اخلاص کے ساتھ اپنے سر اپنی ہتھیلیوں پر لیے کھڑے ہیں کہ کب موقع آئے اور وہ اپنے اس فرض سے سبکدوش ہوں۔ سو انہوں نے اللہ سے باندھے ہوئے اپنے عہد میں ذرہ برابر کوئی تبدیلی نہیں کی۔ سو یہ دو نمونے ہیں اہل صدق و صفا میں مردان کار کے اور وہ نمونہ ہے منافقینِ اَشرار کا ۔ والعیاذ باللہ العزیز الغفار۔ سو صدق ایمان دارین کی سعادت و سرخروئی اور بہرہ مندی کا ذریعہ و وسیلہ ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 33:2445 کھرے کھوٹے کی تمیز کا انتظام : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے احزاب کا یہ طوفان کھرے کھوٹے کے درمیان تفریق وتمیز کے لیے اٹھنے دیا تاکہ اس طرح اللہ بدلہ دے سچوں کو اور سزا دے منافقوں کو اگر وہ چاہے۔ شان کرم ملاحظہ ہو کہ سچوں کے سچ کے بارے میں ایک ہی بات ارشاد فرمائی کہ اللہ پاک ان کو ان کے سچ کا بدلہ دے جبکہ منافقوں کے بارے میں عذاب کو حتمی نہیں فرمایا بلکہ ان کے لئے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا کہ اگر یہ لوگ اب بھی باز آگئے اور انہوں نے صحیح معنوں میں توبہ کرلی تو ان کی توبہ قبول اور گناہ معاف۔ اور اگر نہیں تو ان کو اپنے کئے کا بھگتان بھگتنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس ارشاد میں دراصل منافقوں کو توبہ و استغفار کی دعوت ہے کہ ان کیلئے اب بھی یہ گنجائش موجود ہے کہ اگر یہ لوگ سچی توبہ کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کریں گے تو اس کی رحمت انکو اب بھی اپنی آغوش میں لے سکتی ہے اور یہ لوگ اس کی رحمت و عنایت کے مستحق بن سکتے ہیں۔ نیز اس میں اس امر کی تذکیر و یاددہانی بھی ہے کہ تمام امور کا دارومدار اللہ وحدہ لاشریک کی مشیت پر ہے۔ اس لیے ایسے لوگوں کو چاہیئے کہ جھوٹے سہاروں پر تکیہ کرنے کی بجائے صدق دل سے اسی وحدہ لاشریک ہی کی طرف رجوع کریں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 33:2546 ایمان والوں کو اللہ کافی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اور اللہ کافی ہوگیا ایمان والوں کو اس لڑائی میں "۔ پس غلبہ و کامیابی اسی کے لئے ہے جس کے ساتھ اللہ پاک کی تائید و نصرت شامل ہو۔ اس لئے تم اللہ والے بن جاؤ تمہارے سب کام خود بن جائیں گے۔ کاش کہ یہ نسخہ آج کے مسلمان کو سوجھ جاتا تو اس کی حالت وہ نہ ہوتی جس سے وہ آج یہاں اور وہاں ہر جگہ دو چار ہے۔ سب کچھ موجود ہونے کے باوجود اور ہر طرح کے مادی وسائل و ذرائع سے بہرہ ور ہونے کے با وصف وہ اپنے اس مرتبہ و مقام سے محروم ہے جس کا وہ حقدار ہے۔ اور خرابیوں کی خرابی اور ناکامیوں کی اساس اور جڑ بنیاد یہی ہے کہ آج کا مسلمان وہ مسلمان نہیں جو کہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے یہاں مطلوب ہے۔ ورنہ غلبہ اور سربلندی تو بہرحال اسی کا حق اور اسی کی شان ہے۔ اور اللہ پاک کا صاف وصریح وعدہ و ارشاد ہے ۔ { اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ } ۔ (آل عمران : 139) ۔ بہرکیف یہاں پر ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ کافی ہوگیا ایمان والوں کو اس لڑائی میں یعنی دشمنوں کے اس خطرناک حملے کے دفاع کے لیے مسلمانوں کو خود کوئی لڑائی نہیں لڑنی پڑی بلکہ ان کی طرف سے لڑائی میں اللہ ہی ان کو کافی ہوگیا۔ اس نے اپنی طرف سے بھیجی ہوئی باد تند اور اپنے ملائکہ کی افواج قاہرہ کے ذریعے دشمنوں کے قدم اکھاڑ دیے اور ان کو مایوس اور نامراد ہو کر پسپا ہونا پڑا ۔ والحمد للہ جل وعلا -
47 اللہ تعالیٰ کی بےمثال قوت و عزت کا حوالہ : سو ارشاد فرمایا گیا " اور اللہ بڑا ہی قوت والا انتہائی زبردست ہے "۔ اس لیے وہ جو چاہے، جب چاہے اور جیسے چاہے کرے۔ اس کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں۔ سو یہ اسی کی قدرت بےپایاں اور عزت و حکمت بےنہایت ہی کا ایک ثمرہ اور نتیجہ تھا کہ کفار قریش جو اتنی بڑی تعداد میں اور اس قدر طمطراق کے ساتھ مسلمانوں کو مٹانے آئے تھے اس طرح ذلیل و خوار ہو کر لوٹے۔ سو اللہ پاک کی ان دو عظیم الشان صفات یعنی اس کی بےمثال قوت اور اس کی بےنہایت عزت کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے بندے ہر حال میں اور اپنے ہر معاملے میں اسی پر بھروسہ رکھیں کہ وہی قوی اور غالب ومقتدر اس لائق ہے کہ دل کا بھروسہ اسی وحدہ لا شریک پر رکھا جائے۔ سو اللہ والے اگر اسی پر بھروسہ کر کے اس کی راہ میں اٹھیں گے تو وہ ان کو بےیارو مددگار نہیں چھوڑے گا بلکہ عناصرِ کائنات اور اپنے فرشتوں کے غیر مرئی لشکر کو ان کی مدد کے لیے بھیج دیا جائے گا ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید بکل حال من الاحوال -
Ayah 33:2648 یہودیوں کو ان کے مضبوط قلعے کچھ بھی کام نہ آسکے : سو ارشاد فرمایا گیا " اور اس نے اتار دیا ان اہل کتاب کو انکے مضبوط قلعوں سے جنہوں نے باہر سے آنے والے ان دشمنوں کی پشت پناہی کی تھی "۔ یعنی یہود بنو قریظہ کو جنہوں نے عین موقع پر غداری اور عہد شکنی کر کے مسلمانوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپا تھا۔ " صیاصی " جمع ہے " صیصہ " کی۔ بمعنی قلعہ، گڑھی وغیرہ۔ سو ان یہود بےبہود کے وہ مضبوط قلعے اور وہ پختہ گڑھیاں جن پر ان کو بڑا ناز تھا کہ ان کے اندر آ کر کون ہم پر حملہ آور ہوسکتا ہے، وہ اس موقع پر ان کے کچھ بھی کام نہ آسکیں ۔ { اَتَاہُمُ اللّٰہُ مِنْ حَیَثُ لَمْ یَحْتَسِبُوْا } ۔ (الحشر : 2) ۔ سو اپنے کیے کرائے کی پاداش اور اس کے نتیجے میں ان لوگوں کو اپنے ان قلعوں سے نیچے اترنا پڑا اور بےبسی اور بےکسی کی تصویر بن کر اپنے آپ کو مسلمانوں کے حوالے کرنا پڑا۔ اللہ نے ان کے دلوں میں ایسا رعب ڈال دیا کہ وہ اپنے گھروں کو خود اپنے ہاتھوں اور اہل ایمان کے ہاتھوں اکھاڑ اور اجاڑ رہے تھے۔ ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَقَذَفَ فِیْ قُلُوْبِہِمُ الرُّعْبَ یُخْرِبُوْنَ بُیُوْتَہُمْ بِاَیْدِیْہِمْ وَاَیْدِی الْمُوْمِنِیْنَ فَاعْتَبِرُوْا یٰا اُوْلِی الْاَبْصَارِ } ۔ (الحشر : 2 ) ۔ سو اصل حفاظت اللہ پاک کی حفاظت ہے جس سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ صدق ایمان و یقین ہے ورنہ محرومی ہی محرومی اور دھوکہ ہی دھوکہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
49 یہود بنوقریظہ کے عجز اور ان کی بےبسی کی تصویر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ تعالیٰ نے دلوں میں ایسا رعب ڈال دیا تھا کہ انمیں سے کچھ کو تم قتل کر رہے تھے اور کچھ کو قیدی بنا رہے تھے "۔ غزوئہ اَحزاب کے بعد جب آنحضرت ﷺ نے یہود بنو قریظہ پر لشکر کشی کا حکم فرما دیا تو یہ لوگ اس سے بچاؤ کے لئے اپنے ان مضبوط قلعوں میں بندہو گئے جن پر ان کو بڑا گھمنڈ اور ناز تھا۔ مسلمانوں نے ان کے قلعوں کا محاصرہ کرلیا جو کوئی بیس پچیس دن تک جاری رہا۔ آخر کار یہودیوں کے دلوں میں قدرت کی طرف سے ایسا رعب پڑا کہ انہوں نے ہتھیار ڈال دئے اور کہا کہ ہم قبیلہ اوس کے سردار حضرت سعد بن معاذ ؓ کو اپنا حاکم اور منصف تسلیم کرتے ہیں۔ جو فیصلہ وہ ہمارے بارے میں کریں گے وہ ہمیں منظور ہوگا۔ قبیلہ اوس چونکہ زمانہ جاہلیت میں ان یہودیوں کا حلیف تھا اس لئے انہوں نے اس قبیلے کے سردار کو اپنا حکم تجویز کیا۔ چناچہ حضرت سعد بن معاذ ؓ نے ان کے بارے میں یہ فیصلہ فرمایا کہ ان کے مقاتلہ ۔ لڑنے والوں کو ۔ تو قتل کردیا جائے اور ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا جائے اور ان کے اموال و اَملاک کو مسلمانوں کے درمیان تقسیم کردیا جائے۔ چناچہ ایسے ہی کیا گیا۔ اور اسطرح ان کے اسلحہ کے وہ تمام ذخائر بھی مسلمانوں کے ہاتھ لگ گئے جو انہوں نے ان کے خلاف لڑنے کے لئے جمع کر رکھے تھے اور وہ مال و دولت بھی جو انہوں نے سود خوری وغیرہ مختلف ذرائع سے جوڑ جوڑ کر رکھا تھا۔ اور اس کی تفصیلات سیرت و تفسیر کی کتابوں میں موجود ہیں۔ ان دونوں آیتوں میں اسی غزوئہ بنو قریظہ کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ اور اس عمدہ اور بےمثال طریقے سے کہ گویا پورے قصے کا عرق اور نچوڑ پیش فرما دیا گیا ۔ فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ والشَّکْرُ ۔ بہرکیف ان دونوں آیات کریمہ میں یہود بنوقریظہ کے عجز اور ان کی بےکسی اور بےبسی کی تصویر پیش فرما دی گئی کہ اپنے جن ذرائع و وسائل پر ان کو بڑا ناز تھا ان میں سے کچھ بھی انکے کام نہ آسکا اور قدرت نے انکے دلوں میں ایسا رعب ڈال دیا تھا کہ انکے اندر کسی طرح کے مقابلے اور مقاومت کی کوئی سکت باقی نہیں رہ گئی تھی۔ جس کے نتیجے میں تم لوگ ان میں سے کچھ کو قتل کر رہے تھے اور کچھ کو قیدی بنا رہے تھے۔ سو معاملہ سب کا سب اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ وہ جو چاہے اور جیسا چاہے کرے ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
Ayah 33:2750 یہود کی دولت مسلمانوں کی ملکیت و میراث : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ بنو قریظہ کی زمین اور ان کا مال و دولت مسلمانوں کی ملکیت و میراث میں آگیا۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور اس نے تم کو وارث بنادیا ان کی زمین ان کے گھروں اور ان کے مالوں کا اور اس کے علاوہ ایک اور ایسی سرزمین کا جس پر تم لوگوں نے ابھی تک قدم بھی نہیں رکھے "۔ اس زمین کے بارے میں مفسرین کرام کے مختلف اقوال ہیں کہ اس سے مراد ارض خیبر ہے یا ارض مکہ یا ارض فارس و روم۔ اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد ہر وہ سرزمین ہے جو قیامت تک مسلمانوں کے قبضے میں آئے گی اور ان کے زیر نگیں ہوگی ۔ " وقیل ہی کل ارض تفتح علی المسلمین الي یوم القیامۃ " ۔ اور اسی قول کو ابن جریر وغیرہ حضرات نے راحج قرار دیا ہے۔ اور الفاظ کے عموم و شمول کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اس کو عام ہی رکھا جائے۔ سو اس میں آئندہ کی ان تمام فتوحات کی طرف اشارہ ہوگیا۔ بلکہ ان کا وعدہ فرما دیا گیا جو اہل اسلام کو ان کے صدق و اخلاص کی برکت اور اس کے نتیجے میں قیامت تک حاصل ہوں گی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کا صریح طور پر وعدہ فرمایا گیا ۔ { وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَ عَمِلُوْ الصَّالِحَاتِ لَیْستَخْلِفَنَّہُمْ فِی الاَرْضِ } ۔ (ابن جریر، ابن کثیر، محاسن التاویل، مدارک، معالم، خازن اور معارف وغیرہ) ۔ سبحان اللہ !۔ کیا کہنے صدق و اخلاص اور ایمان و یقین کی برکتوں کے ۔ اللہ نصیب فرمائے اور اس پر ہمیشہ مستقیم و ثابت قدم رکھے ۔ آمین ثم آمین یارب العالمین۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی میں اہل ایمان کو مستقبل کی فتوحات سے متعلق ایک بڑی اہم بشارت سے سرفراز فرمایا گیا ہے کہ یہ نقد عاجل جو ہم نے تم کو بخشا ہے وہ تم نے دیکھ لیا لیکن آگے اور بھی ایسے علاقے ہیں جو تمہارے قبضے میں آئیں گے اور جنکی فتوحات سے تم لوگ سرشار ہوؤ گے۔ اور یہ اللہ کیلئے کچھ بھی مشکل نہیں کہ وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ کوئی اس کی مشیت اور اس کے ارادئہ وقدرت میں حائل اور مزاحم نہیں ہوسکتا۔ اس لیے اہل ایمان کو چاہیئے کہ وہ ہمیشہ اس سے اپنا تعلق صحیح رکھیں اور دل کا بھروسہ بہرحال اسی قادر مطلق پر رکھیں جس کے قبضہ قدرت میں زمین و آسمان کے خزانے ہیں ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 33:2851 ازواج مطہرات سے متعلق خطاب تخییر : سو پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ آپ اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زیب وزینت چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ دے دلا کر اچھے طریقے سے رخصت کر دوں۔ روایات کے مطابق غزوئہ احزاب کے بعد جب بنو قریظہ اور بنو نضیر وغیرہ کے اموال مسلمانوں میں تقسیم کر دئیے گئے اور ان میں خوشحالی آگئی تو اس موقع پر نبی اکرم ﷺ کی زوجات مطہرات نے اپنے نان و نفقہ میں اضافہ کا مطالبہ کیا جس کی تفصیلات حدیث اور سیرت کی کتابوں میں موجود ہیں۔ تو آنحضرت ﷺ کو یہ بات ناگوار گزری۔ آخر کار یہ آیات کریمات نازل ہوئیں جن کو آیات تخییر کہا جاتا ہے۔ جن میں ازواج مطہرات کو یہ اختیار دیا گیا کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زیب وزینت چاہتی ہو تو کچھ ساز و سامان لے کر پیغمبر سے علیحدہ ہوجاؤ۔ اور اگر تم اللہ، اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو چاہتی ہو تو یقین رکھو کہ اللہ پاک نے تمہارے لئے جنت کی بےمثال نعمتوں کی صورت میں بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے جب ازواج مطہرات کو یہ بات بتائی تو ان سب نے دنیا اور اس کی زیب وزینت کے مقابلے میں اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو ہی اختیار فرمایا جس کی تفصیلات بڑی کتابوں میں موجود ہیں ۔ والمزید من التفصیل فی المفصَّلِ انشاء اللہ تعالیٰ وہو الموفقُّ والمعینُ ۔ روایات کے مطابق اس آیت کریمہ کے نزول کے بعد حضور ﷺ نے سب سے پہلے اس بارے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا تو انہوں نے بغیر کسی تردد اور تامل کے فوری طور پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور آخرت ہی کو اختیار کیا۔ تو اس سے حضور ﷺ کا ملال جاتا رہا اور آپکے چہرئہ انور پر بشاشت آگئی۔ اس کے بعد باقی ازواج مطہرات نے بھی ایسے ہی کیا اور ایسے ہی کہا۔ اور سب نے دنیا کی رغبت کا تصور دل سے نکال دیا۔ (معارف وغیرہ) ۔ اور آخرت اور وہاں کی نعیم مقیم ہی کو اپنا اصل مقصد قرار دیا کہ اصل چیز آخرت ہی ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 33:2952 ازواج مطہرات کیلئے اجر عظیم کا وعدہ : سو اس آیت کریمہ میں ازواج مطہرات کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر عظیم کی بشارت و خوشخبری ہے جو اتنا بڑا اجر ہوگا کہ اس کی عظمت اور بڑائی کا کوئی کنارا نہیں۔ یہاں پر { منکن } میں " من " تبعیضیہ نہیں بیانیہ ہے کہ نبی کی ساری ہی بیویاں محسنات تھیں اور ہیں۔ کیونکہ قرآن کہتا ہے ۔ { اَلطَّیِّبٰتُ للطِّیِّبِیْن وَالطِّیِّبُوْنَ للطَّیِّبَات } ۔ پس نبی کی کسی بھی زوجہ مطہرہ پر جو کوئی زبان دراز کرے گا اور ان کے بارے میں یا وہ گوئی سے کام لے گا وہ بڑا ہی ملعون اور دجال ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ مگر انکو مطلقاً یہ خوشخبری دینے کی بجائے اس کو صفت احسان کے ساتھ مربوط کردیا گیا۔ جس میں سے ایک طرف تو یہ درس عظیم پایا جاتا ہے اور اس سے یہ حقیقت بھی واضح فرما دی گئی کہ ازواج مطہرات کیلئے بھی محض پیغمبر کے ساتھ نسبت کوئی کام آنے والی چیز نہیں جب تک کہ اس میں عمل و اطاعت کا عنصر مقصود نہ پایا جائے۔ اور وہ بھی صفت احسان کے ساتھ ہو۔ اور دوسری طرف اس میں یہ درس دیا گیا ہے کہ یہ بشارت اور خوشخبری احسان کے ساتھ مربوط ہے تاکہ ازواج مطہرات نڈر نہ ہوجائیں اور وہ حسن خاتمہ کے بارے میں برابر فکرمند رہیں۔ (معارف وغیرہ) ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayahs 33:30–3253 ازواج مطہرات سے خاص خطاب : سو اس میں ازواج مطہرات سے خطاب تکریم و تشریف فرمایا گیا ہے جو کہ متضمن ہے تنبیہ و تذکیر پر۔ { فَاحِشَۃٍ مَبَیِّنَۃٍ } سے یہاں مراد بدخلقی اور نافرمانی ہے۔ یعنی " النّشُوز و سُوْئُ الخلق " (صفوۃ : ج 2 ص 533) ۔ اور اہل علم نے تصریح فرمائی ہے کہ لفظ " فاحشہ " جب الف لام کے ساتھ معرفہ ہو کر آئے تو اس کے معنیٰ زنا اور لواط کے ہوتے ہیں۔ لیکن نکرہ استعمال ہو تو اس کے معنی مطلق معصیت و نافرمانی کے ہوتے ہیں۔ اور اگر موصوف ہو کر استعمال ہو جیسا کہ یہاں ہے ۔ کہ " مبینۃ " کی صفت لگی ہوئی ہے ۔ تو اس وقت اس سے مراد سوء معاشرت اور عدم ادائیگی حقوق زوجیت ہوتی ہے۔ اسی لئے حضرت ابن عباس نے اس کی تفسیر سوء الخلق ۔ بد خلقی ۔ سے کی ہے۔ نیز یہاں پر اس کا ذکر " من " کے کلمہ شرطیہ کے ساتھ ہوا ہے جسکے لئے تحقق اور وقوع ضروری نہیں ہوتا۔ سو یہ ایسے ہی ہے جیسے ۔ { لَئِنْ أَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ } ۔ (الزمر : 64) میں ہے۔ نیز جیسا کہ فرمایا گیا ۔ { لِلرَحْمٰن ولَدًا } ۔ (الزخرف :81) وغیرہ روح، قرطبی، ابن کثیر، معارف، جامع البیان وغیرہ) ۔ سو مطلب اس ارشاد کا یہ ہوگا کہ اگر تم میں سے کوئی بالفرض و التقدیر ایسی کسی فاحشہ مبینہ کا ارتکاب کریگی تو اس کو بنسبت دوسری عورتوں کے دوہرا عذاب دیا جائے گا کہ تمہارا مرتبہ اور مقام بہت بلند اور بےمثال ہے ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -
54 جتنا مرتبہ بڑا، اتنی ہی ذمہ داری بڑی : سو ازواج مطہرات کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم میں سے کسی نے بھی اگر کھلی بیحیائی کا ارتکاب کیا تو اس کو دوہرا عذاب دیا جائے گا کہ تمہارا مرتبہ اور مقام بہت بلند ہے۔ اور جتنا مرتبہ و مقام بڑا ہوتا ہے اتنی ہی ذمہ داری اور گرفت بھی سخت ہوتی ہے۔ اسی لئے کہا گیا ہے ۔ نزدیکاں رابیش بود حیرانی ۔ یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ اوپر کی بات تو ازواج مطہرات کو پیغمبر کے ذریعے کہلائی گئی کہ اس کا آپ ﷺ کی زبان مبارک ہی سے کہلایا جانا موزوں اور مناسب تھا۔ لیکن اب یہاں پر اس آیت کریمہ میں انکو براہ راست خطاب کرکے ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ پیغمبر کی بیویاں ہونے کی حیثیت سے ان کا مرتبہ و مقام اللہ تعالیٰ کے یہاں بہت اونچا ہے۔ اور اس مرتبہ کے اعتبار سے ان کی ذمہ داریاں بھی بہت بڑی ہیں۔ لہذا اگر خدانخواستہ ان سے کوئی جرم سرزد ہوگیا تو اس کی سزا بھی انکو دوسری عام عورتوں کی بنسبت دوہری دی جائے گی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ازواج مطہرات کو تنبیہ فرمائی گئی کہ وہ اس بات کو یاد رکھیں کہ اگر بالفرض ان سے کوئی جرم صادر ہوا تو اس کو اس ترازو سے نہیں تولا جائے گا جس سے دوسروں کے جرائم تولے جاتے ہیں بلکہ ان کے اعمال کو الگ باٹ اور الگ ترازو سے تولا جائے گا اور دوسروں کی نسبت ان کو دوہرا عذاب دیا جائے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔
55 اللہ کا قانون بےلاگ اور سب کے لیے یکساں : سو ارشاد فرمایا کہ " ایسا کرنا اللہ کیلئے بہت آسان ہے "۔ پس کبھی یہ خیال نہ کرنا کہ چونکہ ہم نبی کی بیویاں ہیں اس لئے کوئی پروا نہیں۔ اور جب نبی کی بیویوں کو بھی یہ فرمایا جا رہا ہے تو پھر دوسرے کس شمار و قطار میں ہوسکتے ہیں ؟ اور ان کیلئے کس قدر حزم و احتیاط کی ضرورت ہوسکتی ہے۔ سو محض پیغمبر کی بیویاں ہونے کے اعتبار سے تم میں سے کسی کو اس کے جرم و قصور کی سزا دینا اللہ کیلئے کچھ بھی مشکل نہیں کہ اسکا قانون سب کیلئے ایک اور بےلاگ ہے۔ محض کسی نسبت کی بنا پر وہ کسی سے کوئی رعایت نہیں کرتا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس تنبیہ سے یہ لازم نہیں آتا کہ ازواج مطہرات میں سے کسی کے بارے میں اس طرح کے کسی جرم کا کوئی خدشہ و اندیشہ تھا ۔ حاشا و کلا ۔ بلکہ اس ارشاد ربانی سے ایک طرف تو محض انکو ان کی ذمہ داریوں اور انکے مقام و مرتبہ کی عظمت شان کے بارے میں تنبیہ و تذکیر فرمانا ہے۔ اور دوسری طرف اس میں پوری امت کیلئے یہ درس عظیم ہے کہ جب نبی کی بیویوں کیلئے بھی ان کی اس قدر بےمثال عظمت شان کے باوجود کوئی استثنا نہیں تو پھر اور کسی کیلئے اس کا کیا سوال پیدا ہوسکتا ہے ؟ سو اسکا قانون سب کیلئے ایک اور یکساں ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف اس میں ازواج مطہرات کے لیے اور ان کے توسط سے پوری امت کے لیے تنبیہ و تذکیر ہے تاکہ وہ ایسی کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوں۔
Ayah 33:3361 عورت کا اصل مقام اس کا گھر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ٹک کر رہا کرو اپنے گھروں میں "۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ عورت کا اصل مقام اس کا گھر ہے۔ اور یہ اسلامی پردے کا دوسرا مرحلہ ہے کہ بلاضرورت گھر سے باہر نکلو ہی نہ کہ تمہارا اصل مقام تمہارا گھر ہے۔ جہاں تمہاری سچی اور حقیقی عزت ہے۔ اور یہ کوئی توہین یا زیادتی نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بلکہ یہ دین فطرت کی تعلیمات مقدسہ کا وہ لازمی تقاضا ہے جو فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق اور ایک صالح نظام حیات کے لئے اشد ضروری ہے کہ مرد کا دائرہ کار گھر سے باہر اور عورت کا گھر کے اندر ہے۔ خاتون خانہ کی سچی عزت اور اس کا اصل وقار اسی میں ہے کہ وہ گھر کی ملکہ بن کر رہے اور اپنی گود میں پلنے والی نسل کی تربیت کا حق ادا کرے جو کہ اس کی دنیا بھی ہے اور آخرت بھی۔ اور جس میں بھلا ہے اس کا، اس کے گھر، اس کے محلے، پورے معاشرے اور تمام ملک و ملت کا۔ نہ کہ اپنے اصل مرکز و مقام سے نکل کر وہ دوسروں کی تسکین طبع کا سامان کرنے لگے۔ اور اس طرح گھر کی تباہی اور معاشرے کی اتھل پتھل کا ذریعہ اور سبب بنے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس فطری نظام سے بغاوت کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ہر طرف افراتفری اور فتنے فساد کا دور دورہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
62 غیروں کے سامنے بناؤ سنگھار کی ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا " اور دکھاتی نہ پھرنا تم اپنا بناؤ سنگھار ۔ اور اپنی سج دھج۔ " : " تبرج " کے معنیٰ کھلنے اور واضح ہونے کے آتے ہیں۔ اسی لئے " برج " کو برج کہا جاتا ہے کیونکہ وہ اونچا اور ظاہر ہوتا ہے۔ اور اسی وجہ سے بادبانی کشتی کو " بارجہ " کہا جاتا ہے کہ اس کے بادبان دور سے نظر آنے لگتے ہیں۔ سو مطلب یہ ہوا کہ تم بن ٹھن کر سج دھج کے ساتھ اپنے حسن و زیبائش کو دکھاتی نہ پھرنا اور نہ ہی اپنی چال ڈھال میں کوئی خاص چٹک مٹک پیدا کرنا کہ یہ سب اسی جاہلیت اولیٰ کے طور طریقے ہیں جو اسلام سے پہلے رائج تھی اور اسلام کی روشنی کے بعد اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ مگر افسوس کہ آج فیشن اور تہذیب و ثقافت وغیرہ کے طرح طرح کے چمکیلے عنوانوں اور بھڑکیلے ناموں سے جاہلیت اولیٰ کے ان تمام اطوار کو نت نئے طریقوں سے اپنایا جا رہا ہے اور اس میں ایسی ترقی کرلی گئی ہے کہ موجودہ جاہلیت اخریٰ اسلام سے پہلے کی اس جاہلیت قدیمہ کو کہیں پیچھے چھوڑ گئی ہے۔ اور عورت نہ صرف یہ کہ ننگی ہوگئی بلکہ اس کے لئے اس نے نت نئے ایسے طور طریقے اپنا لئے اور اپناتی جا رہی ہے کہ اس نے دعوت گناہ میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی میں ازواج مطہرات کو اور انکے توسط سے امت کی تمام بہو بیٹیوں کو یہ مقدس تعلیم دی جا رہی ہے کہ تم اپنے گھروں میں ٹک کر بیٹھا کرو اور کہیں زمانہ جاہلیت کی عورتوں کی طرح اپنے بناؤ سنگھار کو دکھاتی نہ پھرنا کہ تمہارا دائرئہ کار جو فاطر فطرت نے مقرر فرمایا ہے وہ الگ ہے۔ سو اس ارشاد میں سنانا اور بتانا دراصل ان بیگمات کو ہے اور یہ ان پر تعریض اور ان کی تحقیر ہے جو اس تبرج کی علمبردار اور اس کی دلداہ ہوتی تھیں اور ہوتی ہیں۔ اور جو ہر زمانے میں رہی ہیں اور رہیں گی۔ سو یہ بالواسطہ طور پر انہی سے خطاب ہے ورنہ ازواج مطہرات کو جن کو قدرت نے افضل الخلائق کے رشتہ زوجیت کیلئے منتخب فرمایا ان کو ایسے تبرج سے کیا لگے۔ سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ عورت کا اصل مقام اس کا گھر ہے۔ اور اسی میں اس کی عزت و عظمت ہے ۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
63 پیغمبر کے اصل اہل بیت آپ کی زوجات مطہرات : سو ارشاد فرمایا گیا اور " انما " کے کلمہ حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ وہ دور فرما دے تم سے گندگی کو اے نبی کے گھر والو "۔ معلوم ہوا کہ نبی کی اصل اہل ان کی زوجات مطہرات ہی ہوتی ہیں۔ کہ یہاں پر سیاق وسباق کے اعتبار سے بھی یہ متعین اور طے شدہ امر ہے کہ یہاں اہل بیت سے اصل مراد اور اس کا حقیقی مصداق پیغمبر کی ازواج مطہرات ہی ہیں۔ اور یوں لغت اور استعمال کے اعتبار سے بھی کسی کے اہل بیت سے مراد اس کے گھر والے ہی ہوتے ہیں۔ اسی لئے حضرات اہل علم نے یہاں پر اس کی تصریح فرمائی ہے کہ یہاں اہل بیت سے مراد پیغمبر کی بیویاں ہی ہیں ۔ " نزلت فی نساء النبی ﷺ خاصۃ " ۔ (ابن جریر عن عکرمۃ) ۔ " ارید باہل البیت نساء النبی و نزلت فیہن خاصۃ " ۔ (ابن کثیر عن ابن عباس ؓ یعنی ازواج النبی ۔ ﷺ ۔ (روح عن عروہ) ۔ سو اسلاف کرام اور مفسرین عظام کے درمیان اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ یہاں پر اہل بیت سے مراد پیغمبر کی زوجات مطہرات ہی ہیں۔ پس ہمارے دور کے روا فض وغیرہ نے جو یہ مشہور کر رکھا ہے اور ہماری جہالت اور بےحسی سے فائدہ اٹھا کر وہ اس کو برابر رواج دئیے چلے جا رہے ہیں کہ اہل بیت سے فقط پنجتن مراد ہیں تو یہ کہنا بالکل باطل و مردود ہے۔ البتہ جمہور اہل السنت والجماعت کے نزدیک حضرت علی، حضرت فاطمہ اور حضرات حسنین کریمین ۔ رضوان اللہ علیھم اجمعین ۔ بھی اہل بیت میں داخل ہیں۔ اس لئے نہیں کہ یہ لفظ اپنے اصل اطلاق میں ان کو شامل ہے بلکہ اس لئے کہ آنحضرت ﷺ نے ان چاروں حضرات کو ایک چادر کے نیچے لے کر ان کے لئے بھی یہ دعا فرمائی تھی ۔ " اَللّٰہُمَّ ہٓؤلائِ اَہْلُ بیتی فاذْہِبْ عَنْہُمُ الرِّجْسَ و طَہّرہُمْ تطہیرا " ۔ " اے اللہ یہ لوگ بھی میرے اہل بیت میں سے ہیں۔ پس تو ان سے بھی گندگی دور فرما دے اور ان کو بھی پاک فرما دے " ۔ چناچہ اُمّ المؤمنین حضرت ام سلمہ ؓ جو کہ اس موقع پر موجود تھیں انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی مجھے بھی اپنی اس دعا میں شامل فرما لیجئے تو آپ ﷺ نے جواب دیا ۔ " اِنَّکَ الی الْخَیْرِ مَرتینِ " ۔ کہ " تم تو اس میں دو مرتبہ شامل اور مقدم ہو " ۔ یعنی ایک تو اس آیت کریمہ کی رو سے جو کہ اصل میں ازواج النبی ہی کے بارے میں ہے اور دوسرے میری دعا کے اعتبار سے بھی۔ (روح، قرطبی، جامع، معارف، صفوہ وغیرہ) ۔ یہاں پر " رجس " کے لفظ میں بیگمات کے سامان زینت پر تعریض ہے کہ یہ سامان زینت جسکی تم دلدادہ ہو اور اس پر فریفتہ ہو، یہ زینت نہیں بلکہ یہ دراصل گندگی کا ایک بوجھ ہے جسے تم اپنے اوپر لادے پھر رہی ہو۔ کیونکہ تمہارے اوپر لدا ہوا یہ سامان زینت گناہ کا باعث اور دوسروں کی للچائی ہوئی نگاہوں کو کھینچنے کا ذریعہ ہے جو کسی بھی ایماندار شریف زادی کی شان اور اس کے مرتبہ و مقام کے لائق نہیں ہوسکتا۔ سو بگڑی ہوئی مادہ پرست بیگمات کا سامان زیب وزینت عزت و عظمت کی چیز نہیں بلکہ " کاسیات عاریات " قسم کی ان بیگمات کے لیے یہ لعنت اور محرومی کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
64 پیغمبر کی اہل بیت کی تطہیر کے لیے انتظام خداوندی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ چاہتا ہے کہ تم کو پاک کر دے خوب اچھی طرح سے "۔ ہر قسم کے گناہ اور معصیت اور اس کی ہر آلائش و آمیزش اور ہر شائبہ سے۔ اور اس تطہیر سے مراد تزکیہ باطن اور تصضیہ قلوب کا وہ عالی مرتبہ و مقام ہے جو امہات المومنین کی شان کے لائق ہے۔ پس نبی اکرم ﷺ کی زوجات مطہرات میں سے کسی پر بھی کوئی عیب اور الزام لگانے والا بڑا ہی شقی اور بدبخت انسان ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی میں پیغمبر کے اہل بیت کو مخاطب کرکے نہایت شفقت و محبت کے انداز میں یہ تسلی دی گئی کہ یہ ہدایات جو تمہیں دی جارہی ہیں، ان سے مقصود کہیں تمہاری زندگی کو قید و بند میں جکڑنا نہیں، بلکہ اللہ یہ چاہتا ہے کہ اہل بیت نبوت سے ہر قسم کی آلائش کو دور رکھے۔ اور ان کی نہایت اعلیٰ تربیت فرما کر ان کو دنیا اور آخرت دونوں میں اس اعلیٰ مرتبہ و مقام سے مشرف و سرفراز فرمائے جو انکے لائق اور زوجیت رسول کے شرف و مرتبہ کا مقتضیٰ ہے۔ تاکہ ان کی شان ہر اعتبار سے اعلیٰ وبالا اور نمونہ و مثال ہو۔ بہرکیف اس آیت کریمہ سے ایک تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ عورت کا اصل مقام اس کا گھر ہے۔ اس کو بلا ضرورت اس سے نکل کر شمع محفل نہیں بننا چاہیے۔ اس کا اصل دائرئہ کار اس کا گھر ہے۔ اس کو اپنی سرگرمیاں اسی کے اندر محدود رکھنی چاہئیں۔ اور اگر کبھی گھر کے اپنے اس مخصوص دائرئہ کار سے باہر نکلنے کی ضرورت پیش آجائے تو اس کو ان حدود کی پابندی اور پاسداری کرنی چاہیے جو فاطر فطرت نے اس کے لیے مقرر کی ہیں۔ نیز اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ پیغمبر کے اہل بیت ہونے کا شرف اصل میں ان کی ازواج مطہرات ہی کے لیے ہے۔ یہ آیت کریمہ اس بارے میں نصِّ قطعی کی حیثیت رکھتی ہے۔ قرآن حکیم میں اس کی دوسری نظیریں بھی موجود ہیں۔ یہاں پر اہل بیت سے پیغمبر کی بیویاں مراد لینے کے علاوہ اور کسی احتمال کی گنجائش ہی نہیں۔ دوسروں کی اس میں شمولیت اصلا نہیں، صرف تبعا اور ضمنا ہی ہوسکتی ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ اس اصل کے منکر ہیں وہ بڑے ظالم، ہٹ دھرم اور اندھے اور اوندھے لوگ ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -