33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayahs 33:49–50

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَیْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَهَا١ۚ فَمَتِّعُوْهُنَّ وَ سَرِّحُوْهُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:49 in the Quran reader

اے وہ لوگو ! جو ایمان لائے ہو جب تم نکاح کرو مسلمان عورتوں سے پھر تم انھیں طلاق دے دو قبل اس سے کہ تم نے ان کو چھوا ہو تو تمہارے لئے ان پر کوئی عدت نہیں ہے جسے تم شمار کرو پھر (اس صورت میں) تم ان کو کچھ (مال و) متاع دے کر انھیں اچھی طرح سے رخصت کردیا کرو

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ الّٰتِیْۤ اٰتَیْتَ اُجُوْرَهُنَّ وَ مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ مِمَّاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلَیْكَ وَ بَنٰتِ عَمِّكَ وَ بَنٰتِ عَمّٰتِكَ وَ بَنٰتِ خَالِكَ وَ بَنٰتِ خٰلٰتِكَ الّٰتِیْ هَاجَرْنَ مَعَكَ١٘ وَ امْرَاَةً مُّؤْمِنَةً اِنْ وَّهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِیِّ اِنْ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْكِحَهَا١ۗ خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْهِمْ فِیْۤ اَزْوَاجِهِمْ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ لِكَیْلَا یَكُوْنَ عَلَیْكَ حَرَجٌ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:50 in the Quran reader

اے نبی ہم نے آپ کے لئے حلال کردیں آپ کی وہ بیویاں جن کے مہر آپ نے ادا کر دئیے اور وہ باندیاں بھی جو آپ کی ملکیت میں آچکی ہوں ان عورتوں میں سے جو اللہ نے آپ کو غنیمت میں عطا فرمائیں2 ہیں اور آپ کی وہ چچا زاد پھوپھی زاد ماموں زاد وخالہ زاد بہنیں بھی جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہو اور وہ مومن عورت بھی جو بلاعوض اپنے آپ کو نبی کو دے دے اگر نبی اس کو اپنے نکاح میں لانا چاہیں3 (یہ سب احکام) خاص آپ ﷺ کے کیلئے ہیں نہ کہ دوسرے مسلمانوں کے لئے ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ کہ ہم نے فرض کیا ہے ان (عام مومنوں) پر ان کی بیویوں اور ان کی ان باندیوں کے بارے میں جو کہ ان کی ملکیت میں ہوں (اور آپ کے لئے ایسا اس لئے کیا گیا کہ) تاکہ آپ پر کوئی تنگی نہ رہے اور اللہ بڑا ہی بخشنے والا نہایت ہی مہربان ہے

93 نکاح و طلاق کے بارے میں بعض خاص ہدایات کا ذکر : سو اس ارشاد سے ایمان والوں کیلئے نکاح و طلاق کے بارے میں بعض خصوصی ہدایات ارشاد فرمائی گئی ہیں اور اس بارے جو حکم مومن عورتوں کا ہے یہی حکم کتابیہ عورتوں کا بھی ہے مگر مومنہ کی قید لگا کر گویا اس طرف اشارہ فرما دیا گیا کہ مومن کے لئے اصل اور بہتر یہی ہے کہ وہ ایماندار عورت ہی سے نکاح کرے نہ کہ کتابیہ سے ۔ قولہ المؤمنات تحریض علی نکاحہن ۔ (جامع : ج 2 ص 170) ۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تم لوگوں میں سے جو کوئی نکاح کے بعد اپنی بیوی کو قبل ازمسیس یعنی رخصتی اور ملاقات سے پہلے ہی طلاق دے دے تو اس پر عدت کی کوئی پابندی نہیں۔ سو ایسی صورت میں مطلقہ عورت کو حسب استطاعت کچھ دے دلا کر باعزت طور پر رخصت کردیا جائے اور دینے دلانے کی تفصیل سورة بقرہ کی آیات 236، 237 میں گزر چکی ہے۔ 94 طلاق قبل المسیس کا حکم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تم انہیں طلاق دے دو قبل اس کے کہ تم نے انکو چھوا ہو "۔ مراد ہے " صحبت کرنا " اور علمائے کرام فرماتے ہیں کہ خلوت صحیحہ بھی صحبت و مباشرت ہی کے حکم میں ہے۔ لہذا مطلقہ پر ایسی صورت میں عدت نہیں ہوگی۔ لیکن متوفی عنہا زوجہا کو عدت وفات گزارنا پڑے گی۔ بہرکیف طلاق قبل الدخول کی صورت میں عورت پر کوئی عدت نہیں جسکو شمار کرنے کی ضرورت ہو۔ اس کو اختیار ہے جہاں چاہے چلی جائے اور جس سے چاہے نکاح کرلے۔ کسی کو اس سے روکنے کا کوئی حق نہیں۔ سو طلاق قبل المسیس کے بارے میں یہ حکم عقل و فطرت کے عین مطابق بھی ہے اور اس میں لوگوں کے لیے بڑی سہولت اور آسانی بھی ہے۔ اور یہ چیز دین حنیف کی خصوصیات اور اس کی امتیازی صفات میں سے ہے ۔ فالحمد للہ رب العالمین الذی شرفنا بہذا الدین الحنیف المبارک المجید ۔ 95 مطلقہ قبل المسیس کے لیے سراح جمیل کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسی عورتوں کو تم کچھ سامان دے کر اچھی طرح رخصت کردیا کرو۔ اگر مہر مقرر ہے تو اس کا نصف، ورنہ کچھ پوشاک وغیرہ دے کر خوشی اور اکرام کے ساتھ رخصت کردیا کرو ۔ سبحان اللہ !۔ کیا پاکیزہ تعلیم ہے کہ طلاق کے بعد بھی مطلقہ سے حسن سلوک کا معاملہ اپنایا جائے۔ بہرکیف ایسی عورت کو متعہ یعنی کچھ عطیہ وغیرہ دے کر اچھی طرح رخصت کردیا جائے جس میں کسی طرح کا ضرر نہ ہو۔ ان آیات کریمہ میں نکاح اور طلاق سے متعلق جو حکم بیان فرمایا گیا ہے اس کا تعلق عام مسلمانوں سے ہے۔ آگے ان احکام کا ذکر ہے جن کا تعلق حضور ﷺ سے ہے۔ سراح جمیل یعنی اچھے طریقے سے اور با عزت طور پر رخصت کرنے کی اس ہدایت سے متعلق ضروری تفصیل اس سے پہلے سورة بقرہ کی آیت نمبر 236 اور نمبر 237 کی تفسیر کے ضمن میں گزر چکی ہے۔ سو اس ہدایت سے مقصود یہ ہے کہ میاں بیوی کے درمیان اگر ناچاقی اور جدائی کی نوبت آجائے تو یہ حتی الامکان ایسے عمدہ طریقے سے ہو کہ فریقین میں سے کسی کے لیے فضیحت کا باعث نہ بنے ۔ سبحان اللہ ۔ کیسی عمدہ اور پاکیزہ تعلیمات سے اس دین حنیف نے دنیا کو نوازا ہے۔
Ayah 33:51

تُرْجِیْ مَنْ تَشَآءُ مِنْهُنَّ وَ تُئْوِیْۤ اِلَیْكَ مَنْ تَشَآءُ١ؕ وَ مَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكَ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ تَقَرَّ اَعْیُنُهُنَّ وَ لَا یَحْزَنَّ وَ یَرْضَیْنَ بِمَاۤ اٰتَیْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَلِیْمًا Open ayah 33:51 in the Quran reader

ان میں سے جس کو آپ چاہیں اپنے سے دور کرلیں اور جس کو چاہیں اپنے نزدیک رکھیں اور ان میں سے کہ جن کو آپ نے دور کردیا ہو جس کو آپ چاہیں پھر طلب کرلیں تو بھی آپ پر کوئی گناہ نہیں یہ اس کے زیادہ قریب ہے کہ اس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں وہ آزردہ خاطر نہ ہوں اور جو بھی کچھ آپ ان کو دیں اس پر وہ راضی رہیں سب کی سب اور اللہ (پوری طرح) جانتا ہے وہ سب کچھ جو کہ تمہارے دلوں کے اندر ہے اور اللہ بڑا ہی علم والا نہایت ہی بردبار ہے

101 حقوق زوجیت کے بارے میں پیغمبر کیلئے آزادی : یعنی زوجات کے درمیان عدل و برابری آپ پر فرض نہیں۔ مگر آپ ﷺ نے اس کے باوجود ہمیشہ عدل و مساوات ہی سے کام لیا ۔ صَلوات اللّہ وسلامُہ عَلَیْہ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ جس طرح ازواج کی تعداد کے بارے میں آپ ﷺ کو عام حکم سے مستثنی رکھا گیا، اسی طرح حقوق زوجین کے بارے میں بھی آپ ﷺ کو آزادی دی گئی ہے۔ کیونکہ حضور ﷺ کے ساری ہی نکاح اصل میں مصلحت دین کیلئے تھے۔ اس لیے اس بارے بھی معاملہ آپ ﷺ کی صوابدید پر رکھا گیا کہ آپ ﷺ اپنی ازواج مطہرات میں سے جسکو چاہیں اپنے پاس بلائیں اور جسکو چاہیں نہ بلائیں کہ آپ ﷺ پر اس بارے برابری کی کوئی پابندی نہیں۔ اور نہ ہی آپ کی ازواج مطہرات میں سے کسی کو اس پر اعتراض کا کوئی حق ہوگا کہ ان کے بارے میں آپ پر عدل و مساوات فرض و لازم ہے ہی نہیں۔ 102 اَزواج مطہرات کے لیے ایک خاص ہدایت : سو اس سے ازواج مطہرات کے لیے ایک خاص درس اور ہدایت کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ وہ پیغمبر کے ساتھ اپنے تعلق کو عام میاں بیوی کے تعلق کی کسوٹی پر نہ پرکھیں۔ بلکہ وہ راضی ہوجائیں اس پر جو پیغمبر ان کو دیں۔ کیونکہ جب ان کو معلوم ہوجائے گا کہ آپ ﷺ پر ان کے بارے میں عدل و تقسیم لازم نہیں اور یہ کہ یہ اللہ کا حکم ہے تو ان کو کوئی شکایت پیدا نہیں ہوگی۔ اور وہ سب ہر حال میں راضی رہیں گی۔ سو اس ارشاد ربانی میں ازواج مطہرات کیلئے تشویق و ترغیب ہے کہ وہ پیغمبر سے اپنے تعلقات کو عام میاں بیوی کے تعلقات کی کسوٹی پر نہ پرکھیں بلکہ پیغمبر کی اصل ذمہ داری اور اپنی اصل حیثیت کو سامنے رکھ کر جانچیں۔ اصل چیز زاویہ نگاہ ہے۔ اگر اس میں تبدیلی ہوجائے اور وہ یہ سمجھ لیں کہ پیغمبر کے ساتھ ان کا تعلق صرف میاں بیوی کا نہیں، بلکہ خدمت دین کا ہے تو پھر پیغمبر اپنے مصروف لمحات میں سے جو بھی ان کو بخش دیں گے وہ اسی پر قناعت کریں گی اور راضی ہوجائیں گی۔ سو جب وہ اپنے زاویہ نگاہ کو تبدیل کرلیں گی اور اس حقیقت کا ادراک کرلیں گی کہ ان کا تعلق پیغمبر سے محض میاں بیوی کا نہیں بلکہ خدمت دین کا تعلق ہے تو ان کے طور طریقے یکسر بدل جائیں گے۔ اس کے بعد حقوق کے معاملے میں نہ ان کے درمیان باہم کوئی رقابت پیدا ہوگی اور نہ ہی ان کو پیغمبر سے کوئی گلہ و شکوہ رہے گا اور نہ باہمی رشک و رقابت کی کوئی تلخی پیدا ہوگی ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید - 103 اللہ تعالیٰ کی صفت علم کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا " اور اللہ جانتا ہے وہ سب کچھ جو تمہارے دلوں میں ہے "۔ پس کبھی دل میں بھی کوئی برا خیال نہ لانا۔ خاص کر نبی (علیہ الصلوۃ والسلام) کی ان خصوصیات کے بارے میں جو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے آ پکو عطا فرمائی گئی ہیں اور جن کا ذکر اوپر فرمایا گیا ہے۔ سو پورا خیال رکھنا کہ ایسا کوئی خیال دل کے کسی گوشے میں بھی پیدا نہ ہونے پائے کہ خدانخواستہ کہیں متاع ایمان ہی کا صفایا نہ ہوجائے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ہر کسی کو یہ حقیقت اپنے پیش نظر رکھنی چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ جو دلوں کے رازوں اور بھیدوں تک کو جانتا ہے، اس سے کسی کی کوئی بھی بات چھپ نہیں سکتی۔ اس لیے ہمیشہ اس سے اپنا معاملہ صحیح رکھنے کی کوشش کرنی چاہیئے کہ اس سے کسی کی کوئی حالت اور کیفیت مخفی نہیں رہ سکتی ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر ثابت قدم رکھے ۔ آمین۔ 104 اللہ تعالیٰ کی صفت حلم کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا " اور اللہ بڑا حلم والا نہایت ہی بردبار ہے "۔ اسی لئے وہ تمہارے دلوں میں چھپی باتوں کے جاننے کے باوجود اور تمہاری دیگر خطاؤں اور لغزشوں کے باوصف فوری طور پر تمہاری گرفت نہیں فرماتا بلکہ حلم و درگزر سے کام لیتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو کسی کی کوئی بھی حیثیت اور کوئی بھی کیفیت اس سے کسی بھی طرح مخفی اور پوشیدہ نہیں رہ سکتی لیکن اس کے ساتھ ہی وہ انتہائی حلیم اور بردبار بھی ہے۔ اس لیے کسی کو اس کے جرم و قصور پر فوری طور پر پکڑتا نہیں۔ اس لیے جرم و قصور پر ڈھیل ملنے سے کسی کو مست و لاپروا اور بےفکر نہیں ہوجانا چاہیئے بلکہ ہمیشہ اس سے اپنا معاملہ صاف رکھنے کی اور اسی کی طرف رجوع رہنے کی کوشش کرتے رہنا چاہیئے۔ سو اللہ تعالیٰ کی صفت علم وحلم کو مستحضر رکھنے ہی سے خداوند قدوس کی خشیت اور اس کے عفو کا وہ صحیح تصور انسان کے اندر پیدا ہوتا ہے جو امید و بیم دونوں کے درمیان توازن پیدا کر کے انسان کی زندگی کو صحیح منہاج پر قائم رکھتا ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayah 33:52

لَا یَحِلُّ لَكَ النِّسَآءُ مِنْۢ بَعْدُ وَ لَاۤ اَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ اِلَّا مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ رَّقِیْبًا۠ Open ayah 33:52 in the Quran reader

آپ کے لئے (اے پیغمبر ! ) اس کے بعد اور عورتیں حلال نہیں اور نہ ہی یہ بات (جائز ہے) کہ آپ ان کی جگہ اور بیویاں لے آئیں اگرچہ آپ کو پسند ہو ان کا حسن مگر وہ لونڈیاں جو آپ کی ملکیت میں ہوں اور اللہ ہر چیز پر نگہبان ہے1

105 حضور ﷺ کے نکاح سے متعلق بعض پابندیوں کا ذکر وبیان : یعنی نہ تو آپ ﷺ کیلئے ان ازواج مطہرات پر کسی اور کا اضافہ کرنے کی اجازت ہے اور نہ ہی ان میں سے کسی کو طلاق دے کر اس کی جگہ کسی اور سے نکاح کرنے کی۔ کہ جب انہوں نے دنیا اور اس کی زینت کے مقابلے میں اللہ اور اس کے رسول ہی کو اختیار کیا تو اب آپ ﷺ کو بھی ان سے نظر نہیں ہٹانی چاہیئے ۔ " اَما من بعد ھؤلاء التسع فلا یجوز لک العشرۃ فما فوقہا " ۔ (الجامع : ج 2 ص 172) ۔ " من بعد ہؤلاء التسع الّٰتِی فی عصمتک " ۔ (صفوۃ : ج 2 ص 532) ۔ قال ابن عباس ؓ حبسہ اللّٰہ تعالیٰ علیہن کما حبہن علیہ ۔ (المراغی وغیرہ) ۔ روایات سے ثابت ہے کہ بعد میں یہ آیت کریمہ منسوخ ہوگئی اور آنحضرت ﷺ کو اس کی اجازت مل گئی کہ آپ جتنی شادیاں چاہیں کرسکتے ہیں۔ جیسا کہ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے مسند احمد، سنن ترمذی اور سنن نسائی وغیرہ میں مروی ہے۔ مگر اس کے باوجود آنحضرت ﷺ نے ان نو ازواج مطہرات کے بعد کوئی شادی نہ فرمائی۔ (جامع البیان وغیرہ) ۔ سو اس طرح اس میں بھی آپ ﷺ کے کمال اور عظمت شان کا ایک اور ثبوت اور نمونہ ملتا ہے کہ اباحت و اجازت کے باوجود آپ ﷺ نے ایسے نہیں کیا ۔ صلوات اللّہِ وسلامُہ علیہ ما تبقٰی ہٰذہ الأسطر والکلمات ۔ اور بعض نے کہا کہ من بعد سے مراد ہے کہ ان مذکورہ بالا چار قسم کی عورتوں کے بعد اور کوئی عورت جائز نہیں ۔ وعن بعض معناہ لا یَحِلُّ لَکَ النِّسَائُ مِن بَعْدِ ہٰذِہ الاجناس الاربعۃ الَّتی مرَّ ذکرہا ۔ (جامع البیان، القرطبی وغیرہ) ۔ اور ابن کثیر نے تو پورے ایک گروہ کی یہ بات نقل کی ہے کہ ان مذکورہ بالا خواتین کے سوا دوسری اقسام کی جو خواتین ہیں وہ تمہارے لیے جائز نہیں۔ اور اس گروہ میں حضرت ابی بن کعب ؓ ، مجاہد، عکرمہ، ضحاک، ابورزین، ابوصالح، قتادہ اور حضرت حسن جیسے اکابر مفسرین شامل ہیں۔ سو حضور ﷺ کیلئے نکاح کے سلسلے میں ایک خاص دائرئہ مخصوص فرما دیا گیا ہے جس کا ذکر اوپر آیت نمبر 105 میں ذکر فرمایا گیا ہے کہ اس سے باہر آپ کوئی نکاح نہیں فرما سکتے۔ اور یہ کہ آپکو اس کی اجازت بھی نہیں کہ آپ ﷺ اپنی ازواج میں سے کسی کو الگ کرکے اس کی جگہ کوئی دوسری بیوی لے آئیں اگرچہ اس کا حسن و جمال آپ ﷺ کو کتنا ہی پسند کیوں نہ آئے۔ اس کے بعد صرف ملک یمین کی اجازت باقی رہ گئی۔ چناچہ اسی کے تحت حضرت ماریہ قبطیہ ؓ آپ ﷺ کے قبضے میں آئیں جن کے بطن سے حضور ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم متولد ہوئے۔ بہرکیف اس ارشاد سے آنحضرت ﷺ کے لیے نکاح سے متعلق بعض خاص پابندیوں کا ذکر فرمایا گیا۔ 106 اور اللہ ہر چیز پر نگہبان ہے : پس ہمیشہ خیال رہے کہ اس وحدہ لاشریک کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہ ہونے پائے اور اس کی رضا کی فکر ہمیشہ اور ہر حال میں رہے کہ اس کی رضا ہی اصل مقصود ہے ۔ مالک ! ہمیشہ اپنا بنالے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ سو اللہ تعالیٰ کے یہاں ہر کوئی مسؤل اور جواب دہ ہے۔ اور جو جتنا بڑا ہوگا اتنی ہی اس کی مسؤلیت و جوابدہی اور ذمہ داری بڑی اور زیادہ اہم ہوگی۔ سو اس اعتبار سے یہ امر ضروری ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مواخذے سے پہلے ۔ والعیاذ بہ جل و علا ۔ انسان اپنا محاسبہ خود کرے اور اس یقین و احساس اور علم وشعور کی بنا پر کرے کہ اس کی زندگی کا کوئی بھی گوشہ اور اس کے عمل کی کوئی بھی شکل و صورت اس وحدہ لاشریک کی نگاہوں سے اوجھل اور مخفی نہیں ہوسکتی۔ سو آزادی اور پابندی پر جو حضور ﷺ کیلئے اوپر کی آیات کریمات میں بیان فرمائی گئی اگرچہ تعداد کے بارے میں آپ ﷺ کو چار کی قید سے آزاد کردیا گیا لیکن دوسری طرف آپ ﷺ پر نکاح اور طلاق دونوں ہی کے سلسلے میں جو پابندیاں عائد کی گئی ہیں وہ دوسرے عام مسلمانوں کے مقابلے میں زیادہ سخت ہیں۔ چناچہ ایک عام مسلمان کو یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ چار کی حد کو ملحوظ رکھتے ہوئے محرمان کے دائرے سے باہر جس عورت سے چاہے نکاح کرے اور اپنی منکوحات میں سے جس کو چاہے طلاق دے کر اس کی جگہ کوئی دوسری بیوی اپنی پسند کے مطابق نکاح میں لے آئے۔ مگر حضور ﷺ کو یہ آزادی حاصل نہیں تھی جیسا کہ اوپر گزرا کہ آپ ﷺ صرف تین قسم کی عورتوں سے نکاح کرسکتے ہیں اور بس۔ اور اس کے ساتھ ہی دوسری بات اس بارے میں یہ ہے کہ آپ ﷺ محض پسند اور ناپسند کی بنا پر اپنی ازواج میں کوئی رد و بدل نہیں کرسکتے ۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلی من تبعہ باحسان الی یوم الدین -
Ayah 33:53

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰىهُ١ۙ وَ لٰكِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَ لَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ١٘ وَ اللّٰهُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ١ؕ وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ١ؕ ذٰلِكُمْ اَطْهَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَ قُلُوْبِهِنَّ١ؕ وَ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَنْ تَنْكِحُوْۤا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمًا Open ayah 33:53 in the Quran reader

اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو تم نبی کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو مگر یہ کہ تم کو اجازت دی جایا کرے کسی کھانے (وغیرہ) کی اور وہ بھی اس طرح نہیں کہ تم اسکی تیاری کے انتظار میں لگے رہو لیکن جب تمہیں دعوت دی تو تم حاضر ہوجایا کرو پھر جب کھانا کھا چکو تو تم اٹھ کر چلے جایا کرو اور بیٹھ نہ جایا کرو باتوں میں دل لگا کر بیشک اس سے نبی کو (تکلیف اور) ناگواری ہوتی ہے مگر وہ تمہارا لحاظ کرتے ہیں اور اللہ حق بات کہنے میں لحاظ نہیں کرتا اور جب تمہیں ان (نبی کی بیویوں) سے کوئی چیز مانگنا (یا کچھ پوچھنا) ہو تو تم پردے کے پیچھے سے مانگا (اور پوچھا) کرو اس میں بڑی پاکیزگی ہے تمہارے دلوں کے لئے بھی اور ان کے دلوں کے لئے بھی اور تمہارے لئے نہ تو یہ بات کسی طرح جائز ہے کہ تم اللہ کے رسول کو کوئی تکلیف پہنچاؤ اور نہ ہی یہ کہ تم ان کی بیویوں سے نکاح کرو ان (کی وفات) کے بعد کبھی بھی بلاشبہ یہ اللہ کے نزدیک بھاری گناہ ہے

107 اہل ایمان کیلئے بعض خاص ہدایات وتعلیمات کا ذکر : یہاں سے اہل ایمان کے لئے بعض ان ہدایات کا ذکر فرمایا جا رہا ہے جن کا تعلق نبی (علیہ الصلوۃ والسلام) سے متعلق حقوق و آداب اور اصلاح معاشرہ سے ہے۔ اس آیت کریمہ کو " آیت حجاب " کہا جاتا ہے کہ اس میں پردے کا حکم نازل ہوا ہے۔ صحیحین یعنی صحیح بخاری و مسلم وغیرہ میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ۔ ﷺ ۔ نے حضرت زینب بنت حجش ؓ سے عقد نکاح فرمانے کے بعد جب دعوت ولیمہ پکائی تو اس موقع پر کچھ لوگ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد وہیں بیٹھ کر خوش گپیوں میں مشغول ہوگئے، جس سے رسول اللہ ﷺ کو تنگی اور کوفت ہو رہی تھی۔ حضرت زینب دیوار کی طرف منہ کر کے بیٹھی ہوئی تھیں اور حضور بار بار گھر کے اندر باہر تشریف لے جا رہے تھے۔ مگر کمال شرافت اور حسن خلق کی وجہ سے آپ ﷺ ان لوگوں کو کچھ فرماتے نہیں تھے۔ اور آپ ﷺ بعض دوسری ازواج مطہرات کے حجروں میں تشریف لے گئے یہاں تک کہ جب آپ ﷺ کو بتایا گیا کہ وہ لوگ چلے گئے ہیں تو آپ ﷺ گھر میں تشریف لائے۔ حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ حسب عادت میں بھی ساتھ ساتھ گھر میں داخل ہونے لگا تو آپ ﷺ نے میرے اور اپنے درمیان ایک چادر ڈال دی۔ کیونکہ پردے کا حکم نازل ہوچکا تھا۔ واضح رہے کہ یہ ۔ پردے کا حکم ۔ بھی منجملہ ان امور کے ہے جن میں اللہ پاک کی طرف سے حضرت عمر ؓ کی رائے کی تصدیق و تائید میں وحی نازل فرمائی گئی۔ چناچہ صحیح بخاری وغیرہ میں ام المومنین حضرت عائشہ ۔ ؓ ۔ سے مروی ہے کہ حضرت عمر ؓ نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ ﷺ کے پاس اچھے برے ہر طرح کے لوگ آتے ہیں۔ لہذا اگر آپ ﷺ اپنی ازواج مطہرات کو پردے کا حکم فرما دیں تو کیا ہی اچھا ہو۔ اس پر اللہ پاک نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی۔ (ابن جریر، ابن کثیر، قرطبی، صفوہ، خازن اور معارف و صفوہ وغیرہ) ۔ اور ان کو خطاب " الذین آمنو " یعنی " اے ایمان والو " کے ارشاد سے فرمایا گیا جس میں علاوہ دوسرے کئی اہم دروس کے ایک بڑا درس یہ بھی ہے کہ تمہارے ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ تم ان ہدایات پر دل و جان سے عمل کرو جو تمہیں اس بارے خاص طور پر دی جا رہی ہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی مایحب ویرید - 108 دوسروں کے آرام و راحت کے احسس کا درس : سو اس ارشاد سے دوسروں کے آرام وراحت کے احساس کے درس کے طور پر کھانے کے لیے لمبی دیر انتظار کی ممانعت فرما دی گئی۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اجازت ملنے پر گھر میں داخل تو ہوجاؤ لیکن وہ بھی اس طرح نہیں کہ کسی کھانے وغیرہ کی تیاری کے انتظار میں لگے رہو۔ اس کے دو مطلب بنتے ہیں اور وہ دونوں ہی صحیح اور دونوں ہی یہاں مراد ہیں۔ ایک یہ کہ اس انتظار میں رہیں کہ کھانا کا وقت کب آتا ہے تاکہ ہم بن بلائے اس موقع پر پہنچ جائیں۔ جس طرح کہ لالچی اور طفیلی قسم کے لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ بغیر دعوت کے ایسے موقع پر پہنچ جاتے ہیں۔ اور دوسرا مطلب یہ کہ دعوت ملنے پہ بھی کھانے کے تیار ہونے سے پہلے ہی جاکر وہاں بیٹھ گئے۔ سو ایسا مت کرو کہ یہ دونوں باتیں منع ہیں کہ ان میں خست طبع بھی پائی جاتی ہے اور میزبان کے لئے تکلیف بھی۔ لہذا جاؤ تو دعوت ملنے پر جاؤ۔ اس کے بغیر کسی کے لئے بوجھ نہ بنو۔ اور وہ بھی اس وقت جب کہ کھانا تیار ہوچکا ہو الا یہ کہ اگلے کے ساتھ کسی کے ایسے خاص تعلقات ہوں کہ وہ اس سے کوئی تکلیف یا کوفت محسوس نہ کرتا ہو ۔ روی انہم کانو یتحیتون فیدخلون بیت النبی فیجلسون و یتحدثون لیدرک الطَّعام فانزل اللّٰہُ ہٰذہ الآیۃ ۔ (تفسیر المراغی : ج 22 ص 29) ۔ ای غیر منتظرین ادراکہ او وقتہ ۔ (جامع البیان : ج 2 ص 27) ۔ پس نہ تو کسی کے گھر بلا اجازت داخل ہوا کرو اور نہ بن بلائے کسی کے مہمان بنا کرو اور نہ ہی کھانے کی تیاری کے انتظار میں کسی کے یہاں جاکر بیٹھ جایا کرو۔ سو یہ اساس اور بنیاد ہے اس بات کی کہ آپ کے کسی قول و فعل سے کسی کو کوئی تکلیف اور ایذا نہ پہنچے ۔ سبحان اللہ !۔ کیسی عظیم الشان، مقدس اور باریک تعلیمات ہیں جن سے دین حنیف نے دنیا کو نوازا ہے۔ اور آج سے پندرہ سو برس قبل نوازا ہے جبکہ تہ در تہ اندھیرے چاروں طرف پھیلے ہوئے تھے ۔ فالحمدللہ رب العالمین ۔ { ناظرین } کا لفظ یہاں پر " منتظرین " کے معنیٰ میں ہے۔ اور " انی " کے معنیٰ کسی چیز کی تیاری اور پکنے کے وقت کے ہیں۔ 109 حق سے آگہی کے اہم مطالب کا ذکر وبیان : سو حق سے آگہی کے اہم مطلب کو ذکر وبیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ حق کہنے اور بیان فرمانے سے نہیں شرماتا "۔ یعنی معاملہ چونکہ پیغمبر کی ذات شریفہ سے تعلق رکھتا ہے اس لئے وہ اپنی کمال درجہ کی شرافت کی وجہ سے لحاظ کرتے ہیں اور کچھ فرماتے نہیں۔ مگر اللہ پاک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ حق کے بیان و اظہار سے شرماتا نہیں اور کسی کے لحاظ سے اس کو ترک نہیں کرتا۔ بہرکیف کسی پر بوجھ نہیں بننا چاہیئے۔ حضرت سلیمٰن بن ارقم سے مروی ہے کہ یہ آیت کریمہ ایسے ہی ثقلاء ۔ بوجھ بننے والوں ۔ کے بارے میں نازل ہوئی۔ اسی لئے اس آیت کریمہ کو " آیۃ الثقلاء " بھی کہا گیا ہے۔ یعنی وہ آیت کریمہ جس میں ایسے ثقلاء کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ اسی لئے ابن کثیر فرماتے ہیں کہ اس سے طفیلی پن ۔ تطفیل ۔ کی حرمت ثابت ہوتی ہے۔ اور کہا کہ خطیب بغدادی نے ایسے طفیلیوں کی مذمت میں مستقل ایک کتاب لکھی ہے (ابن کثیر، المراغی وغیرہ) ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ یہ باتیں نبی کیلئے اذیت اور تکلیف کا باعث تھیں مگر وہ اپنی طبعی شرافت اور شرم و حیا کے باعث تم لوگوں کو روکتے ٹوکتے نہیں لیکن اللہ تعالیٰ حق کے اظہار وبیان کے سلسلے میں کسی کا لحاظ نہیں کرتا۔ اس لیے وہ تم لوگوں کو ان ہدایات اور تعلیمات سے نوازتا ہے اور ان تعلیمات میں ہر ایک کے حق کی پوری رعایت رکھی گئی ہے۔ لہذا تم لوگ ان کو صدق دل سے اپناؤ کہ اسی میں بھلا ہے سب کا۔ اور یہی تقاضا ہے تمہارے ایمان و عقیدہ کا کہ اپنے خالق ومالک کے ہر حکم کو صدق دل سے اپناؤ۔ اسی میں تمہارا بھلا ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ وباللہ التوفیق - 110 پردے کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا " اور جب تمہیں ان سے کچھ مانگنا یا پوچھنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگا اور پوچھا کرو "۔ پردے کے سلسلے میں اور ایک عمدہ، پاکیزہ اور مثالی معاشرے کے قیام کے لئے قرآن پاک کی ان مقدس تعلیمات کے ضمن میں سب سے پہلی پیش بندی تو یہ فرمائی گئی کہ خاتون اسلام کو اگر کسی غیر محرم سے بات کرنے کی ضرورت پڑجائے تو وہ کسی لوچ و لچک کے بغیر صاف اور کھری بات کہا کرے ۔ { فَلَا تَخْضَعْنَ بالْقَوْلِ } ۔ دوسرا ارشاد یہ فرمایا گیا کہ تمہارا اصل مقام گھر ہے۔ بلا ضرورت اس سے باہر نہ نکلو ۔ { وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ } ۔ اور اگر بامر مجبوری و ضرورت نکلنا بھی پڑے تو اپنے اوپر اپنی چادروں کے گھونگھٹ ڈال دیا کرو ۔ { یُدْنِیْنَ عَلَیْہِنِّ مِنْ جَلابِیْبِہِن } اور پھر مومنوں کو ارشاد فرمایا گیا کہ تمہیں ان سے کچھ پوچھنا یا مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگا اور پوچھاکرو ۔ سبحان اللہ !۔ کیسی عمدہ اور پاکیزہ تعلیم ہے جس سے اس کتاب حکیم نے اہل ایمان کو نوازا ہے۔ مگر افسوس کہ آج کا مسلمان اس سے غافل و بےبہرہ اور لاپروا ہے۔ اور وہ اس سے منہ موڑے ہوئے ہے ۔ اِلاّٰ ماشاء اللّٰہ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر قائم رکھے ۔ آمین۔ 111 قلب و نظر کی پاکیزگی کے لیے نہایت عمدہ ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس میں بڑی پاکیزگی ہے تمہارے دلوں کیلئے بھی اور ان عورتوں کے دلوں کیلئے بھی "۔ یعنی شیطانی وساوس اور شک و ریب سے محفوظ رہنے کا سامان ہے ۔ من وساوس الشیطٰین والشک۔ (جامع البیان : ج 2 ص 172) ۔ سو اس تعلیم و ہدایت کو تم لوگ کوئی معمولی چیز نہ سمجھو بلکہ یہ دلوں کو آفات سے محفوظ رکھنے کیلئے بڑی اہم تعلیم ہے کہ اس کی ہدایت تم کو دلوں کے خالق کی طرف سے دی جا رہی ہے۔ اور وہی بہتر جانتا ہے کہ دلوں کی کمزوریاں کیسی اور کیا ہوتی ہیں اور یہ کہ کن کن مخفی راستوں سے یہ دل برے اثرات قبول کرتے ہیں۔ اور دل ہی وہ چیز ہے جس پر انسان کی تمام اخلاقی صحت کا مدارو انحصار ہے۔ چناچہ نبی اکرم ۔ ﷺ ۔ نے اپنے مشہور ارشاد میں اس کی اس اہمیت کو اس طرح واضح فرمایا ہے ۔ " الا ان فی الجسد لمضغۃ اذا صلحت صلح الجسد کلہ و اذا فسدت فسد الجسد کلہ الا وہی القلب " ۔ یعنی " آگاہ رہو لوگو اس حقیقت سے کہ انسانی جسم کے اندر گوشت کا ایک ایسا اہم ٹکڑا ہے کہ وہ جب ٹھیک ہوتا ہے تو سارا جسم ٹھیک اور وہ اگر بگڑ جائے تو سارا جسم بگڑ گیا۔ آگاہ رہو کہ وہ اہم ٹکڑا انسان کا دل ہے "۔ اس لیے دل کی حفاظت اور اس کو تمام مضر اشیاء سے محفوظ رکھنا اشد ضروری قرار پاتا ہے۔ اور جس نے انسان کے دل کو پیدا فرمایا ہے وہی اس کی کمزوریوں سے پوری طرح واقف و آگاہ ہے اور وہی بہتر جانتا ہے کہ کن کن راستوں سے برائی اس پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔ اس لیے اس نے دل کی حفاظت کا سب سے زیادہ اہتمام فرمایا ہے ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر ثابت قدم رکھے ۔ آمین۔ 112 رسول کی ایذا رسانی ممنوع و حرام ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اور تمہارے لیے جائز نہیں کہ تم اللہ کے رسول کو کوئی تکلیف پہنچاؤ "۔ خواہ کسی بھی طرح کی ایذا و تکلیف ہو کہ آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کو ایذا اور تکلیف پہنچانا ممنوع اور حرام ہے۔ جس کی ایک صورت آپ ﷺ کے صحابہ کرام کو ایذا پہنچانا بھی ہے۔ کیونکہ آپ ﷺ نے خود فرمایا کہ جس نے میرے صحابہ کو ایذا پہنچائی اس نے خود مجھے ایذا پہنچائی ۔ " مَنْ اٰذاہَم فقد اٰذانی " ۔ سو اس سے وہ لوگ سبق لیں اور اپنا انجام خود دیکھ لیں جو حضرات صحابہ کرام ۔ علیھم الرحمۃ والرضوان ۔ کے بارے میں سب وشتم اور طرح طرح کی زبان درازی سے کام لیتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی سے تنبیہہ فرما دی گئی کہ پیغمبر کی ایذا کا معاملہ بڑا ہی سنگین اور انتہائی ہولناک ہے۔ اور اس کا نتیجہ و انجام بڑا ہی عبرتناک ہوتا ہے۔ کیونکہ پیغمبر کی ذات اللہ تعالیٰ کی عدالت کا مظہر اور اس کی رحمت یا پھر اس کے عذاب اور اس کی گرفت و پکڑ کا باعث ہوتی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو پیغمبر کی بعثت و تشریف آوری صرف وعظ سنانے کے لیے نہیں ہوتی بلکہ وہ نیکوں اور بروں کے درمیان تفریق اور ان کے درمیان فیصلہ کیلئے ہوتی ہے۔ سو جو لوگ پیغمبر کی تکذیب کرتے اور انکو ایذا پہنچاتے ہیں وہ آگ سے کھیلتے اور ایک بڑے ہی ہولناک انجام کی طرف بڑھتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 113 پیغمبر کی بیویوں سے نکاح کرنا کسی کے لیے جائز نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا " اور نہ ہی تمہارے لیے یہ جائز ہے کہ تم ان کی بیویوں سے نکاح کرو ان کے بعد کبھی بھی "۔ کہ یہ بھی آپ ﷺ کی ایذا رسانی میں داخل ہے۔ نیز اسلئے کہ وہ امت کی اور تمہاری مائیں ہیں۔ تو اپنی ماں سے نکاح کا سوچ بھی کون سکتا ہے ؟ اور ظاہر ہے کہ جس محسن اعظم ۔ صَلَوات اللّٰہ و سَلاَمہ عَلَیہ ۔ کے ہم پر احسانات کی کوئی حد نہیں۔ اس کی ایذ رسانی سے بڑھ کر گناہ اور کون سا ہوسکتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس ارشاد سے دراصل ان منافقوں کے چہروں سے نقاب اٹھایا گیا جو کہ اپنے کفر اور اسلام دشمنی کی بنا پر یہ اس طرح کے ارمان اپنے باطن میں رکھتے تھے۔ ورنہ ایک سچا مومن تو ایسا تصور بھی کبھی نہیں کرسکتا۔ سو ایسے منافقوں کو بتایا گیا کہ معاملہ اللہ کے رسول کا ہے۔ اس لیے وہاں کے بارے میں ایسا سوچنا بھی ہولناک انجام کا باعث ہے کہ ان کا درجہ و مقام اہل ایمان کے نزدیک ان کی حقیقی ماؤں سے بھی کہیں بڑھ کر ہے ۔ رضوان اللہ علیہن اجمعین - 114 پیغمبر کی جناب میں سوء ادبی بڑا ہولناک جرم و گناہ ہے ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمات تاکید کی ساتھ ارشاد فرمایا گیا " بلاشبہ یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی بات ہے "۔ پس نبی اکرم اور آپ کی زوجات مطہرات سے متعلق کسی سوء ادبی کا کوئی خیال بھی کبھی دل میں نہ لانا ورنہ مارے جاؤ گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم منِْ کُلِّ سُوْئٍ وَّزَیْغٍ وَ ضَلاَلٍ وَّفَسَادٍ ۔ یہاں اس وبال عظیم کی وضاحت نہیں فرمائی گئی کہ وہ کیسا اور کس شکل کا ہوگا۔ سو اس ابہام کے اندر اس کے بارے میں جو تہدید اور ہولناکی پائی جاتی ہے وہ بیان سے باہر ہے۔ اور مشہور حدیث میں ارشاد فرمایا گیا ۔ وَمَنْ اٰذَانِیْ فَقَدْ اٰذَی اللّٰہَ ۔ یعنی " جس نے مجھے ایذا پہنچائی اس نے اللہ کو ایذا پہنچائی "۔ " اور جس نے اللہ کو ایذاء پہنچائی اس کو اللہ دوزخ میں ڈالے گا " ۔ وَمَنْ اٰذَی اللّٰہَ یُوْشَکُ اَنْ تَاْخُذَہُ ۔ سو پیغمبر کی ایذا دراصل اللہ کو ایذا پہنچانا ہے اور اللہ کو ایذا پہنچانا کا انجام اللہ کی گرفت و پکڑ اور دوزخ کا ہولناک عذاب ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 33:54–55

اِنْ تُبْدُوْا شَیْئًا اَوْ تُخْفُوْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 33:54 in the Quran reader

تم کوئی چیز خواہ ظاہر کرو خواہ اسے چھپا کر رکھو تو اللہ (کو وہ بہرحال معلوم ہے کہ وہ) ہر چیز کو پوری طرح جانتا ہے1

لَا جُنَاحَ عَلَیْهِنَّ فِیْۤ اٰبَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اَخَوٰتِهِنَّ وَ لَا نِسَآئِهِنَّ وَ لَا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ١ۚ وَ اتَّقِیْنَ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا Open ayah 33:55 in the Quran reader

نبی کی بیویوں پر نہ اپنے باپوں (کے سامنے ہونے) میں کوئی گناہ ہے اور نہ اپنے بیٹوں میں نہ اپنے بھائیوں میں نہ اپنے بھتیجوں میں نہ اپنے بھانجوں میں نہ اپنی (میل جول کی) عورتوں میں اور نہ ہی اپنی لونڈیوں میں اور ڈرتی رہا کرو تم اللہ سے (اے نبی کی بیویو ! ) بیشک اللہ ہر چیز پر گواہ ہے2

115 اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ ہر چیز کو پوری طرح جانتا ہے "۔ اس لئے اس سے تمہاری کوئی حالت و کیفیت کبھی مخفی و مستور نہیں رہ سکتی۔ پس ہمیشہ فکر و کوشش اس امر کی کرو کہ اس کے ساتھ تمہارا معاملہ ظاہر اور باطن ہر اعتبار سے درست رہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ کہ وہی وحدہ لاشریک ہے جو تمہاری ہر بات کو جانتا ہے اور پوری طرح جانتا ہے۔ خواہ تم اس کو ظاہر کرو یا پوشیدہ رکھو کہ اس عالم الغیب والشہادۃ کے یہاں سب ایک برابر ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو صراط مستقیم پر گامزن ہونے اور گامزن رہنے کے لیے بنیادی چیز حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی معرفت ہے اور اللہ تعالیٰ کی صحیح معرفت اس کے اسمائِ حسنیٰ اور صفات علا کی معرفت پر موقوف ہے۔ اور وصول الی اللہ کا صحیح ذریعہ اور وسیلہ یہی ہے۔ اور اس راہ میں کجی اور انحراف ہی باعث زیغ و ضلال ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 33:56

اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓئِكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا Open ayah 33:56 in the Quran reader

بیشک اللہ اور اس کے فرشتے رحمت بھیجتے ہیں پیغمبر پر پس تم بھی اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو ان پر درود بھی بھیجتے رہا کرو اور خوب خوب سلام بھی3

118 پیغمبر پر اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں پیغمبر پر "۔ اللہ پاک کے درود بھیجنے سے مراد ہے آپ ﷺ پر رحمت بھیجنا۔ اور آپ کی تعریف و ثنا کرنا۔ اور فرشتوں کے درود سے مراد ہے ان کی دعا و استغفار جبکہ عام اہل ایمان کے درود سے مراد ہے آپ ﷺ کے لئے دعا اور آپکی تعظیم۔ جیسا کہ حضرات اہل علم نے اس کی تصریح فرمائی ہے ۔ الصّلٰوۃ من اللّٰہ رحمتُہ و رضوانُہ وَمِنَ الملئکَہِّ اَلدُّعَائُ والاسْتَغْفَارُ ومِنَ الاُمَّۃِ الدُّعَائُ وَ التَّعْظِیْمُ ۔ (قرطبی، ابن کثیر، خازن وغیرہ) ۔ پس پیغمبر کے لئے درود وسلام بہت بڑی نیکی اور عظیم سعادت ہے کہ جو کام خداوند قدوس اور اس کے فرشتے کریں اور جس کے لئے اللہ پاک کی طرف سے اہل ایمان کو حکم و ارشاد بھی فرمایا جا رہا ہو اس کی عظمتوں کے کیا کہنے ؟ ۔ فَصَلوات اللّٰہِ وَ سَلامُہٗ عَلَیْہِ وَ عَلٰی اٰلِہٖ وَ صَحْبِہٖ ومَنِ اتبع ہداہ ‘ ما تبقی ہذہ الاحرف والکلمات علی ہٰذہ الصفحات ۔ اور احادیث طیبہ میں درود وسلام کے فضائل بہت وارد ہوئے ہیں جن پر علمائے کرام نے مستقل کتابیں تالیف فرمائی ہیں۔ ہمارا بھی اس پر ایک مستقبل کتاب لکھنے کا ارادہ ہے ۔ وب اللہ التوفیق ۔ سو اس ارشاد عالی سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کے رسول کو ایذا اور آزار پہنچانے کی بجائے اہل ایمان کیلئے صحیح روش یہ ہے کہ وہ رسول کی بعثت و تشریف آوری کی اس نعمت عظمیٰ کی قدر پہچانیں جس سے قدرت نے انکو اپنی رحمت و عنایت بےپایاں سے نوازا ہے۔ اس رسول اعظم واکرم کی تعظیم و تکریم کریں اور اس کیلئے اللہ تعالیٰ سے رحمتوں، عنایتوں اور برکتوں کی دعائیں مانگیں تاکہ اس طرح اس نبی رحمت کے حق کی بھی کسی قدر ادائیگی ہوسکے اور خود ان لوگوں کا بھلا ہو کہ پیغمبر پر درود وسلام کے بہت بڑے اور عظیم الشان فضائل وارد ہوئے ہیں۔ 119 پیغمبر پر درود اور اس کی کیفیت کا ذکر وبیان : سو اس سے اہل ایمان کو پیغمبر پر درود وسلام بھیجنے کا حکم و ارشاد فرمایا گیا ہے۔ صحیح روایات میں وارد ہے کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو صحابہ کرام نے آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کی خدمت میں عرض کیا کہ سلام تو ہمیں معلوم ہے ۔ یَعْنِیْ السَّلامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَ بَرَکاتہ ۔ مگر درود کس طرح پڑھیں ؟ ۔ فَکَیْف نْصَلّی ۔ تو اس پر آپ ﷺ نے ان کو وہ درود بتایا جو کہ تشہد میں پڑھا جاتا ہے۔ اور جس کو درود ابراہیمی کہا جاتا ہے۔ لہذا سب سے افضل درود وہی ہے جو پیغمبر نے خود بتایا اور علمائے کرام نے فرمایا ہے کہ اس کے علاوہ درود شریف کے ایسے تمام الفاظ وصیغ بھی اسی میں داخل اور شامل ہیں جو اپنے معانی کے اعتبار سے درود ابراہیمی کی طرح ہوں کہ ایک تو ان میں اللہ پاک کی طرف استناد پایا جاتا ہو، جیسا کہ درود ابراہیمی میں " اللھم " موجود ہے۔ دوسرے اس میں " آل " کا ذکر بھی ہو جیسے درود ابراہیمی میں ہے۔ تیسرے اس میں " صلوٰۃ " کے ساتھ " سلام " کا بھی ذکر بھی ہو کہ آیت کریمہ میں صلوۃ وسلام دونوں کا حکم ہے۔ اور درود ابراہیمی سے پہلے بھی تشہد میں سلام موجود ہے۔ اور یہ کہ اس میں کوئی بدعی اور خلاف سنت چیز شامل نہ ہو کیونکہ " ہر بدعت گمراہی اور مردود ہے "۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں فرمایا گیا ۔ " کُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلالَۃٌ وَکّلُ ضَلالَۃٍ فِی النَّارِ " ۔ " ہر بدعت گمراہی اور ہر گمراہی کا انجام دوزخ ہے " ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس جس درود شریف میں بھی ان چاروں باتوں کا لحاظ رکھا جائے گا اس کا پڑھنا جائز اور کار ثواب ہوگا۔ جیسا کہ " صَلّٰی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی اٰلِہٖ وَ صَحْبِہٖ وَسَلّٰم " میں ان چاروں چیزوں کی رعایت بھی موجود ہے اور اس کے الفاظ بھی بہت مختصر ہیں یا اس طرح کے اور جو بھی الفاظ و کلمات ہوں وہ سب اسی ذیل میں آتے ہیں اور ان کا پڑھناذریعہ اجر وثواب ہے ۔ انشاء اللہ العزیز۔ تنبیہ نمبر 1 : درود وسلام کے بارے میں ایک وضاحت : آج کل کے بعض اہل بدعت کا کہنا ہے کہ چونکہ درود ابرہیمی میں سلام کا ذکر نہیں لہذا یہ ناقص ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور یہ کہ کامل اور صحیح درود وہ ہے جو ہم پڑھتے ہیں۔ یعنی ۔ الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اللّٰہ ۔ کہ آیت کریمہ میں صلوۃ وسلام اور عَلَیہْ کا جو ذکر پایا جاتا ہے وہ سب اس میں موجود ہے وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ ۔ پیغمبر کے بتائے ہوئے درود کو ناقص بتانا تو کفر تک پہنچا دینے والی گستاخی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور پھر دوسری بات یہ ہے کہ اس میں تو التحیات میں سلام موجود ہے جو کہ درود ابراہیمی سے پہلے پڑھا جاتا ہے۔ پھر اس کے ناقص ہونے کا کیا سوال ؟ اور تیسری بات یہ ہے کہ آیت میں تو " عَلَیْہِ " آیا ہے نہ کہ " عَلَیْکَ " پھر تمہاری بات کس طرح بن سکتی ہے ؟ لہذا صلوۃ وسلام کو ملا کر اگر کوئی درود کہتا ہے تو اس کے صحیح الفاظ وہ ہیں جو کہ ہم نے اوپر نقل کئے ہیں۔ یعنی " صَلَّی اللّٰہُ عَلَیہ وعلٰی اٰلِہ وَ صَحبْہ وَ سَلّم " نہ کہ وہ جو تم نے خود اپنے طور پر اور کتاب و سنت کی تعلیمات کے برعکس بنا رکھے ہیں۔ تنبیہ نمبر 2: صلوٰۃ وسلام اور مروجہ بدعی طریقہ : یہ بھی واضح رہے کہ اہل بدعت نے خاص حلقہ بنا کر اور کھڑے ہو کر درود پڑھنے کا جو طریقہ ہمارے برصغیر کے بعض ملکوں اور بعض علاقوں میں شروع کر رکھا ہے وہ خالص ایجاد بندہ ہے۔ قرآن و سنت اور سلف صالحین، خیر القرون میں اس کا نہ کہیں کوئی ثبوت ہے نہ وجود۔ نہ اتہ نہ پتہ۔ اور حرمین شریفیں ۔ مکہ و مدینہ ۔ اور ان کے جوار میں واقع بلاد عربیہ میں آج تک بھی اس کا کوئی نام و نشان نہیں ہے۔ راقم آثم کو کم و بیش کوئی تیس بتیس برس کا طویل عرصہ بلاد عربیہ میں رہتے ہوئے ہوگیا ہے ۔ والحمد للہ ۔ اور اس وقت بھی یہ سطور دبی میں تحریر کر رہا ہوں مگر ایسی کوئی صورت یہاں کے لوگوں میں آج تک بھی کبھی اور کہیں دیکھنے میں نہیں آئی۔ یہ صرف برصغیر کے بعض ملکوں کی ایجاد اور ان کی بدعت ہے۔ اور صحیح حدیث میں آنحضرت ﷺ کا صاف وصریح اور واضح ارشاد موجود ہے کہ جس نے ہمارے دین میں کوئی بدعت شامل کی وہ سراسر مردود ہے۔ ارشاد ہوتا ہے " مَنْ اَحدَثَ فِیْ اَمْرِنا ہٰذا مَا لَیْسَ مِنْہْ فہُوَ ردٌّ " پھر اس پر مزید یہ کہ ایسے لوگ آنحضرت ﷺ کے حاضر و ناظر ہونے اور ان محفلوں میں تشریف لانے کا عقیدہ بھی رکھتے ہیں۔ اور اسی لئے وہ ایسی محفلوں میں بعض اوقات کھڑے بھی ہوجاتے ہیں کہ پیغمبر تشریف لے آئے ہیں۔ تو اس اعتبار سے اس طریقے کی شناعت و خطورت اور بھی بڑھ جاتی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اس طرح کا عقیدہ خالص شرکیہ عقیدہ ہے جس سے توبہ کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ قرآن و سنت کی بیشمار نصوص اور تصریحات کے مطابق شرک کا گناہ وہ گناہ ہے جس کی بخشش کبھی نہیں ہوگی ۔ والعیاذ باللہ العظیم - تنبیہہ نمبر 3: لفظ " آل " کے بارے میں : لفظ " آل " کے بارے میں حضرات اہل علم کے دو قول ہیں۔ ایک یہ کہ اس کی اصل " اھل " ہے۔ جیسے کہتے ہیں " اہل بیت "، " اہل علم "، " اہل ذوق " وغیرہ۔ حسب ضابطہ اس لفظ میں تسہیل سے کام لیا گیا تو یہ " اھل " سے " آل " بن گیا۔ مگر فرق یہ ہے کہ اس کی نسبت و اضافت کسی صاحب شرف و فضل ہی کی طرف ہوتی ہے اگرچہ وہ شرف دنیاوی اعتبار ہی سے کیوں نہ ہو۔ جیسے " آل فرعون " وغیرہ۔ اور اس اصل کی دلیل یہ ہے کہ " آل " کی تصغیر " اُھیل " آتی ہے جبکہ دوسرے قول کے مطابق اس کی اصل " اول " ہے جس کے معنی لوٹنے اور رجوع کرنے کے آتے ہیں " اُلَ یَؤل اَوْلاً " بمعنی " لوٹنا "، " واپس آنا " وغیرہ ہے۔ اور اس کا اطلاق آدمی کے اہل و عیال اور اس کے اتباع و خواص ان سب لوگوں پر ہوتا ہے جو اس سے تعلق رکھتے ہوں کہ ان کے معاملات کا رجوع اسی کی طرف ہوتا ہے اور اس کی سیاست و رائے ان سب کو شامل ہوتی ہے۔ اسی لئے سیاست کو " ایالہ " کہا جاتا ہے۔ (جلاء الافہام لابن القیم الجوزیۃ : ج ص 110) ۔ تنبیہہ نمبر 4: صلوٰۃ وسلام سے متعلق ایک اعتراض کا جواب : سو بعض اہل زیغ کے اعتراض کے جواب کے بارے میں مختصرا عرض ہے کہ پیغمبر کا مقام چونکہ ساری مخلوق میں سب سے بڑھ کرہوتا ہے اس لئے حضرت خالق ۔ جل و علا ۔ کے سوا دوسرا خواہ کوئی بھی ہو وہ پیغمبر کے مرتبہ و مقام کو سمجھنے سے عاجز اور قاصر ہے۔ اس لئے اہل ایمان حضرت نبی اکرم ﷺ پر درود وسلام کے ضمن میں اللہ پاک ہی کے حضور عرض کرتے ہیں کہ اے مالک ! تو ہی پیغمبر پر وہ رحمتیں اور عنایتیں فرما جو آنجناب ﷺ کے مقام بلند اور شان رفیع کے لائق اور مناسب ہوں۔ اور یہی مطلب ہے " اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّد " الخ کے درود شریف کا۔ پس بعض اہل زیغ و ضلال کا یہ اعتراض لغو اور باطل ہے کہ اللہ تم کو درود وسلام کا حکم دیتا ہے اور تم اللہ کو کہتے ہو کہ تو ہی نبی پر درود بھیج۔ کیونکہ اللہ پاک کے حضور درود وسلام کے لئے درخواست پیش کرنا ہی دراصل اہل ایمان کا درود وسلام ہے کہ اللہ پاک ہی اپنے پیغمبر کے درجہ و مقام اور ان کی شان کو جان اور پہچان سکتا ہے۔ اور وہی آپکی شان رفیع کے مطابق آپ پر رحمت بھیج سکتا ہے ﷺ سو اللہ کے پیغمبر پر درود بھیجنا اور اس میں تکبر سے کام لینا کوئی ان پر احسان نہیں کہ وہ ایسے ہر احسان سے بےنیاز ہیں۔ بلکہ ایسا کرنا ایک طرف تو اس شان رحمت و عنایت کا تقاضا ہے جس سے قدرت نے پیغمبر کی بعثت کے ذریعے اپنے بندوں کو نوازا ہے اور دوسری طرف اس میں خود بندوں کا اپنا بھلا اور فائدہ ہے کہ اس طرح ایک طرف تو وہ اللہ پاک اور اس کے فرشتوں کی ہمنوائی کے اس شرف عظیم سے مشرف ہوتے ہیں جس جیسا دوسرا کوئی شرف ہو ہی نہیں سکتا۔ اور دوسری طرف اس سے وہ اس اجر وثواب سے سرفراز ومالا مال ہوتے ہیں جو اس عمل خیر پر ان کو ملتا ہے۔ ورنہ پیغمبر کو جب اللہ کی رحمتیں اور فرشتوں کی دعائیں حاصل ہیں تو انکو کسی اور کی دعاؤں کی کیا ضرورت ہے ؟
Ayah 33:57

اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 33:57 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایذاء پہنچاتے ہیں اللہ کو اور اس کے رسول کو ان پر اللہ کی لعنت (اور پھٹکار) ہے اس دنیا میں بھی اور آخرت (کے اس ابدی جہاں) میں بھی اور اس نے تیار کر رکھا ہے ان کے لئے ایک بڑا ہی رسواکن عذاب

120 اللہ کو ایذا پہنچانے کا جرم اور اس کی سنگینی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو لوگ ایذا پہنچاتے ہیں اللہ کو "۔ اس وحدہ لاشریک کے ساتھ کفر و شرک اور معاصی کا ارتکاب کر کے۔ اور اس کی طرف اولاد کی نسبت کر کے، جیسا کہ یہود نے کہا کہ " عزیر اللہ کے بیٹے ہیں " اور نصاریٰ نے کہا کہ " حضرت مسیح اللہ کے بیٹے ہیں " اور مشرکین مکہ نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیا وغیرہ۔ (ابن کثیر، مراغی، صفوہ وغیرہ) ۔ اور صحیحین یعنی صحیح بخاری و مسلم وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ وغیرہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ " ابن آدم مجھے ایذا پہنچاتا ہے۔ وہ زمانے کو گالی دیتا ہے حالانکہ زمانے میں جو کچھ ہوتا ہے وہ میرے ہی حکم سے ہوتا ہے "۔ اسی طرح اس کی شان اقدس و اعلیٰ میں وہ باتیں کہنا جو اس کے خلاف ہیں وہ بھی سب اسی میں داخل ہیں، جیسا کہ یہود بےبہبود نے کہا کہ اللہ فقیر اور محتاج ہے اور ہم غنی و مالدار۔ یا یہ کہ " اللہ کے ہاتھ نہیں " ۔ والعیاذ باللہ ۔ اسی طرح اللہ کے رسول کو اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ کو اور اللہ کے ولیوں کو ایذا پہنچانا بھی اسی میں داخل ہے۔ سو یہ سب ہی صورتیں اللہ پاک کو ایذا پہنچانے کی ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ (روح، قرطبی، مدارک، معارف اور جامع وغیرہ) ۔ سو اللہ پاک ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ کی جناب اقدس و اعلیٰ میں ایذا رسانی کا جرم سب سے بڑا اور نہایت سنگین جرم ہے جس پر ایسے مجرموں کے لیے نہایت سنگین سزا ہے کہ ان کے لیے اللہ کی لعنت اور پھٹکار ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک بڑا رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل شائبۃ من شوائب ہذہ المعصیۃ والجریمۃ ومن سائر المعاصی والجرائم، بہ العصمۃ وہو المسؤول ۔ سبحانہ وتعالیٰ - 121 ایذاء رسول کی سنگینی اور اس کے انجام کا ذکر : سو اس سے اللہ کے رسول کی ایذا رسانی کے جرم کی سنگینی اور اس کے انجام کا ذکر فرمایا گیا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو لوگ ایذا پہنچاتے ہیں اللہ کے رسول کو تو ان کے لیے اللہ کی لعنت ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور اللہ نے ان کے لیے بھی بڑا رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے "۔ سو بڑے ہی سنگین اور ہولناک جرم کا ارتکاب کرتے ہیں وہ لوگ جو پیغمبر کی دلآزاری اور آپ کی ایذا رسانی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ جو آپ ﷺ کی تکذیب اور طعن وتشنیع سے، نیز آپ ﷺ کے صحابہ کرام کو برا کہہ کر۔ کیونکہ آپ ﷺ کا صاف وصریح ارشاد ہے کہ جس نے ان کو ایذا پہنچائی اور تکلیف دی، اس نے مجھے ایذا پہنچائی اور تکلیف دی ۔ " مَنْ اٰذَاہُمْ فَقَدْ اٰذَانِی " ۔ تو پھر کیا خیال ہے آپ کا ان منحوس اور بدبخت لوگوں کے بارے میں جو کہ حضرات صحابہ کرام کے ایمان کو بھی تسلیم نہیں کرتے ۔ والعیاذ باللہ ۔ چناچہ علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ اللہ پاک کو ایذا پہچانے والوں کا سب سے بڑا مصداق کفار و مشرکین اور روا فض و شیعہ ہیں جو کہ حضرات صحابہ کرام کی تنقیص کرتے اور ان کے سب وشتم کا ارتکاب کرتے اور ان کی طرف ایسی باتوں کی نسبت کرتے ہیں جن سے اللہ نے ان کو بری قرار دیا۔ اور ان سب حضرات کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا و خوشنودی کی صاف وصریح طور پر سند عطا فرما دی۔ (ملاحظہ ہو تفسیر ابن کثیر) اسی طرح جن لوگوں نے آپ ﷺ کو " ساحر "، " مجنوں " اور " شاعر " کہا وغیرہ کہ یہ سب ہی صورتیں ایذائے رسول میں داخل اور حرام ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ اپنی حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 122 ایذاء رسول کے مرتکبوں کے لیے رسوا کن عذاب ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ ایسوں کے لیے نہایت ہولناک انجام اور رسوا کن عذاب ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ایسے لوگوں کیلئے اللہ کی لعنت اور پھٹکار ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور اللہ نے ان کے لیے بڑا رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے "۔ سو ایسے لوگ دنیا میں راہ حق و صواب سے محروم اور دورتر ہوتے چلے جائیں گے جس کے نتیجے میں ان کو آخرت میں دوزخ کے اس ہولناک عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا جس کا یہاں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ سو اللہ کی مار اور اس کی لعنت و پھٹکار بہت بڑی اور بہت بری شی ہے۔ اس سے ہمیشہ بچنے کی فکر کرتے رہنا چاہیئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ایسے لوگ دنیا میں بھی رسوا اور ذلیل و خوار ہوں گے اور آخرت میں بھی۔ اور یہ بڑے ہی رسوا کن عذاب سے دوچار ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو رسول خدا کا محبوب اور اس کا نمائندہ ہوتا ہے۔ پس رسول کو ایذا پہنچانا خود اللہ کو ایذا پہنچانا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ایسوں کے لیے دنیا و آخرت دونوں میں اللہ کی لعنت اور پھٹکار ہے۔ سو ایسے لوگ دنیا میں بھی ذلیل و خوار ہوں گے اور اللہ نے ان کے لیے آخرت میں بھی ایک بڑا ہی ہولناک اور رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 33:58

وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 33:58 in the Quran reader

اور جو لوگ ایذاء پہنچاتے ہیں ایماندار مردوں اور ایماندر عورتوں کو بغیر کسی ایسے (جرم و) گناہ کے جس کا ارتکاب انہوں نے کیا ہو تو بلاشبہ انہوں نے بوجھ اٹھایا ایک بہت بڑے بہتان کا اور ارتکاب کیا کھلے (جرم اور) گناہ کا

123 اہل ایمان کی ایذا رسانی حرام ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے اہل ایمان کی ایذا رسانی کے جرم اور اس کی سنگینی کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو لوگ ایماندار مردوں اور ایماندار عورتوں کو بغیر کسی جرم و قصور کے ایذا پہنچاتے ہیں تو یقینا انہوں نے ایک بہت بڑے بہتان کا بوجھ اٹھایا اور کھلے جرم و گناہ کا ارتکاب کیا "۔ سو اہل ایمان کی ایذا رسانی کا جرم نہایت سنگین جرم ہے اور اس کا انجام بڑا ہی ہولناک ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ یعنی ان کی طرف کوئی ایسا جرم اور گناہ منسوب کرنا جو انہوں نے کیا نہ ہو۔ (المراغی وغیرہ) ۔ بہرکیف مسلمان کو ایذا اور تکلیف پہنچانا حرام ہے۔ اور اس کی حرمت کتنی بڑی اور کس قدر سنگین جرم ہے اس کا اندازہ آپ حضرت عبداللہ بن عمر۔ ؓ ۔ کی اس روایت سے کرسکتے ہیں کہ میں نے آنحصرت ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ کعبۃ اللہ کا طواف کر رہے تھے اور کعبہ کو خطاب کرکے یوں فرما رہے تھے۔ کعبہ تو کس قدر پاکیزہ ہے۔ تیری ہوا کتنی پاکیزہ ہے۔ تو کتنا بڑا ہے اور تیری عظمت کتنی بڑی ہے۔ مگر قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے کہ مومن کی عزت و حرمت اللہ تعالیٰ کے یہاں تیری عظمت و حرمت سے بھی کہیں بڑھ کر ہے۔ اس کا مال بھی حرام اور خون بھی حرام۔ (ابن ماجہ وغیرہ، الترغیب و التریب : ج 3 ص 294) ۔ سبحان اللہ !۔ کیا کہنے مومن صادق کی شان عالی کے۔ مگر افسوس صد افسوس کہ آج دنیا ساری میں مسلمان کا خون ہی سب سے زیادہ ارزاں ہے۔ جگہ جگہ بہایا جا رہا ہے اور طرح طرح سے۔ اور پوری شقاوت و بیدردی سے بہایا جا رہا ہے۔ خواہ وہ بوسنیا و ہر زگوینا ہو یا کشمیر و فلسطین۔ البانیہ و الجزائر ہو یا کو سوو اور افغانستان وغیرہ وغیرہ ۔ فَاِلَی اللّٰہِ الْمُشْتَکٰی وَہَوَ الْمُسْتَعَانُ ۔ بہرکیف اوپر اللہ اور اس کے رسول کی ایذا رسانی اور اس کی سنگینی کا ذکر وبیان تھا اور اب اس کے بعد عام اہل ایمان مردوں اور عورتوں کی ایذا رسانی کے جرم کی سنگینی اور اس کی ہولناکی کو بیان فرمایا گیا ہے کہ ایمان باللہ کی دولت سے سرفرازی کے بعد انسان کی شان بہت بڑی ہوجاتی ہے۔
Ayah 33:59

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:59 in the Quran reader

اے پیغمبر ! کہو اپنی بیویوں بیٹیوں اور عام مسلمانوں کی عورتوں سے کہ وہ لٹکا دیا کریں اپنے (چہروں کے) اوپر کچھ حصہ اپنی چادروں کا یہ طریقہ اس کے زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچان لی جایا کریں پھر ان کو کوئی ایذاء نہ پہنچنے پائے اور اللہ تو بہرحال بڑا ہی بخشنے والا نہایت مہربان ہے1

124 حجاب سے متعلق بعض خاص ہدایات کا ذکر وبیان : سو اس سے اہل ایمان کی عورتوں کے لیے حجاب اور پردے سے متعلق بعض خاص ہدایات کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اے پیغمبر کہو اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہ وہ ان ہدایات کی پابندی کریں "۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کی بیٹیاں کئی تھیں۔ کیونکہ یہاں پر جمع کا لفظ " بنات " استعمال فرمایا گیا ہے۔ اور علمائے تاریخ و سیر اس پر متفق ہیں کہ آپ ﷺ کی صاحبزادیاں چار تھیں۔ زینب ؓ ‘ رقیہ ؓ ‘ ام کلثوم ؓ ‘ اور فاطمہ ؓ ۔ اور خود شیعوں کی معتبر کتابوں میں بھی اس کا ثبوت موجود ہے۔ ( جیسا کہ اصول کافی : ج 1 ص 339، حیات القلوب : ج 2 ص 588 طبع طہران وغیرہ میں موجود ہے بحوالہ الجواہر : ج 3 ص 947) ۔ بہرکیف پیغمبر کو ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اپنی بیویوں، بیٹیوں اور عام مسلمان خواتین سے کہو کہ وہ جب کسی ضرورت کیلئے گھر سے باہر نکلیں تو اپنی بڑی چادروں کا کچھ حصہ اپنے چہروں پر ڈال دیا کریں تاکہ اس طرح ان کے اور دوسری غیر مسلم عورتوں اور لونڈیوں کے درمیان امتیاز ہوجائے۔ اور کوئی ان سے تعرض اور چھیڑ خانی نہ کرنے پائے۔ سورة نور میں ارشاد فرمایا گیا تھا یعنی جب انکے اعزا و اقرباء اجازت لینے کے بعد گھروں میں داخل ہوں تو گھر کی خواتین گھر کے اندر سمٹ سمٹا کر رہا کریں۔ اپنی زیب وزینت کی چیزوں کا اظہار نہ کیا کریں اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے بکل مار لیا کریں۔ سو اس ہدایت کا تعلق گھر کے اندر سے ہے جبکہ یہاں ارشاد فرمائی جانے والی اس ہدایت کا تعلق گھر سے باہر نکلنے کی صورت میں ہے کہ ایسی صورت میں مومن خواتین اپنی بڑی چادروں کا کچھ حصہ اپنے اوپر لٹکا لیا کریں۔ یعنی اپنی بڑی چادروں کے گھونگٹ لٹکا لیا کریں۔ اور اس کے دو قرینے پائے جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ یہاں پر ارشاد فرمایا گیا ہے { ذلک ادنی ان یعرفن فلا یؤذین } یعنی " یہ اس کے زیادہ قریب ہے کہ ان عورتوں کو پہچان لیا جائے پھر انکو کوئی ایذا اور تکلیف نہ پہنچنے پائے "۔ اور ظاہر ہے کہ اس کا تعلق گھر سے باہر کی صورت سے ہی ہوسکتا ہے نہ کہ گھر کے اندر سے۔ اور دوسرا قرینہ اس بارے یہاں پر یہ موجود ہے کہ یہاں پر " خمار " نہیں " جلباب " کا لفظ استعمال فرمایا گیا ہے۔ اور لغت میں " جلباب " اس بڑی چادر کو کہتے ہیں جو اوڑھنی کے اوپر لی جاتی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ ایسی بڑی چادر کے لینے کی ضرورت گھروں کے اندر نہیں ہوتی بلکہ گھروں سے باہر نکلنے کی صورت میں پیش آتی ہے۔ 125 ایماندار عورتوں کے لیے ایک خاص ہدایت : سو اس سے ایماندار عورتوں کو اپنی چادروں کا کچھ حصہ اپنے چہروں پر ڈال دینے کا حکم وارشاد فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اپنی بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہیں کہ وہ لٹکا لیا کریں اپنی بڑی چادروں کا کچھ حصہ اپنے چہروں پر "۔ یعنی گھونگھٹ ڈال دیا کریں۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ کے نزول کے بعد مسلمان عورتیں اپنی چادریں اس طرح اپنے چہروں پر لپیٹ کر باہر نکلتی تھیں کہ صرف ایک آنکھ دیکھنے کے لئے کھلی رہتی تھی۔ اور حضرت عبیدہ سلمانی سے جب اس بارے میں پوچھا گیا تو آپ ؓ نے پورا چہرہ ڈھانک کر اور صرف بائیں آنکھ کھلی رکھ کر اس کی عملی تفسیر بتائی ۔ سبحان اللہ !۔ کیسی عظیم الشان تعلیمات ہیں جن سے اسلام نے دنیا کو نوازا ہے۔ مگر کہاں اسلام کی یہ تعلیمات مقدسہ اور خاتون اسلام کی عزت و عظمت اور عصمت و پاکدامنی کی حفاظت کے لئے یہ پابندیاں اور ایسے انتظامات اور کہاں مسلمان کہلانے والی آج کی وہ ماڈرن عورت جو جامے سے باہر اور ننگی ہوگئی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور صرف ننگی نہیں بلکہ وہ ننگے ہونے کے ایسے نت نئے طور طریقے اپناتی ہے کہ پناہ بخدا۔ اور ایسے نت نیے کہ غیرت سر پیٹ کر رہ جائے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 126 اس طریقہ حجاب کے فائدے کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ طریقہ زیادہ قریب ہے اس کے کہ انکو پہچان لیا جائے اور اس کے نتیجے میں ان کو کوئی ایذا نہ پہنچنے پائے "۔ یعنی پہچان لی جایا کریں کہ یہ شریف خاتون ہیں پھر کوئی ان کو چھیڑنے کی جرات نہ کرسکے گا۔ جیسا کہ روایات میں بھی موجود ہے " لِمعرفتہن بالعفَّۃ فَلا یتعرض لہن " (المراغی : ج 2 ص 301) ۔ سو اسلام کی مقدس تعلیمات خاتون اسلام کی عزت و عظمت میں اضافے کا باعث اور اس کو دارین کی سعادت سے سرخروئی سے بہرہ ور و ہمکنار کرنے کا ذریعہ ہیں۔ پس اس قرینے سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ اس کا تعلق گھر سے باہر نکلنے کی صورت سے ہے جبکہ سورة نور والے ارشاد کا تعلق اندرون خانہ سے ہے۔ جیسا کہ ابھی گزرا۔ اور شرفائے عرب کی خواتین جب کسی ضرورت کے لیے گھر سے باہر نکلا کرتی تھیں تو اس وقت وہ ایسی چادریں اپنے اوپر لے لیا کرتی تھیں۔