26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 26:186

وَ مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَ اِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۚ Open ayah 26:186 in the Quran reader

اور تم بھی تو ہم ہی جیسے ایک بشر اور انسان ہو پھر تم نبی کیونکر ؟ اور ہم تو تمہیں بالکل جھوٹا سمجھتے ہیں،

90 بشریت پیغمبر کی بنا پر ان کی نبوت کا انکار۔ والعیاذ باللہ : سو ان لوگوں نے اپنے پیغمبر کی بشریت کی بنا پر ان کی نبوت کا صاف اور صریح طور پر انکار کردیا اور ان سے کہا کہ " تم تو ایک بشر۔ اور انسان ۔ ہی ہو "۔ پھر تم کو ہم رسول کیسے مانیں۔ یعنی وہی غلط فہمی جو ٹیڑھی سمجھ کے لوگوں کی ہمیشہ رہی اور جس کا ذکر بار بار ہوچکا ہے۔ اور جو اہل بدعت وغیرہ کو آج بھی لاحق ہے کہ نبوت اور بشریت دونوں چیزیں یکجا نہیں ہوسکتیں۔ حالانکہ یہ دونوں چیزیں یکجا ہوتی بھی ہیں اور ان کا یکجا ہونا عین مطابق عقل و فطرت اور قرین قیاس بھی ہے۔ اس لئے ہر مسلمان اپنی ہر نماز میں بار بار۔ " عبدہ و رسولہ " ۔ کہہ کر اپنے اس عقیدے کی تجدید اور اس بنیادی حقیقت کا اظہار کرتا ہے جس میں پہلے آنحضرت ﷺ کی عبدیت و بشریت کا اقرار ہے اور پھر آپ ﷺ کی رسالت و نبوت کا بعد میں۔ اور اللہ پاک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ نے قرآن حکیم میں حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ کی عبدیت و بشریت کا ذکر جا بجا اور طرح طرح سے فرمایا ہے۔ اور حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ نے خود بھی اپنی بشریت کا بار بار اور صراحت و تاکید کے ساتھ اظہار و اقرار فرمایا ہے۔ اور زندگی کے ہر موڑ پر انہوں نے اس کا عملاً ثبوت دیا۔ آپ کے اصحاب و رفقاء نے بھی ہمیشہ اسی حقیقت پر ایمان و یقین رکھا اور اس کا ذکر و اعلان فرمایا ہے۔ مگر اس سب کے باوجود اہل بدعت کو اس حقیقت صادقہ کا انکار ہے۔ اور ان کے ایک بڑے صاحب نے تو اس کے اقرار کو کفر کا کام بتایا ہے۔ سو اس سے بڑھ کر ظلم اور تحریف کی مثال اور کیا ہوگی ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ زیغ وضلال کی ہر شکل سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 26:187

فَاَسْقِطْ عَلَیْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَؕ Open ayah 26:187 in the Quran reader

پس تم گرا دو ہم پر کوئی ٹکڑا آسمان کا اگر تم سچے ہو اپنے دعوے میں،

91 قوم شعیب کی طرف سے عذاب کا مطالبہ : سو انہوں نے حضرت شعیب کی دعوت پر کان دھرنے اور اس کو قبول کرنے کی بجائے ان سے کہا کہ " تم ہم پر آسمان کے کچھ ٹکڑے گرا دو اگر تم سچے ہو اپنے دعوے میں "۔ یعنی ہم نے تمہاری دعوت کو بہرحال نہیں ماننا۔ پس تم آسمان کے کچھ ٹکڑے ہم پر گرا دو اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔ جیسا کہ کفار مکہ نے کہا تھا ۔ { اَللّٰہُمَّ اِنْ کَانَ ہٰذَا ہُوَ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِکَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَائِٓ اَوْئْتِنَا بَعَذَابٍ اَلِیْمٍ } ۔ (الانفال :32 ) ۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ایمان سے محروم انسان کس قدر اندھا اور اوندھا ہوجاتا ہے کہ وہ عافیت کی بجائے ہلاکت اور تباہی کی دعا مانگنے لگتا ہے۔ جیسا کہ اہل مکہ نے کہا تھا اور جیسا کہ اس سے پہلے ان لوگوں نے حضرت شعیب سے کہا۔ " کسف " جمع ہے " کسفہ " کی۔ جس کے معنیٰ ٹکڑے کے ہیں۔ یعنی اگر تم سچ مچ اللہ کے رسول ہو، جیسا کہ تمہارا دعویٰ ہے، اور اگر ہم نے تمہاری بات نہ مانی تو ہم پر آسمان گرپڑے گا۔ تو پھر تم آسمان کے کچھ ٹکڑے ہم پر گرا کر دکھاؤ۔ جیسا کہ دوسرے مقامات پر ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت شعیب نے اپنی قوم کو خبردار فرمایا تھا کہ اگر تم لوگوں نے میری بات نہ مانی تو تم پر بھی اسی طرح کا کوئی عذاب آکر رہے گا جیسا کہ عاد، ثمود اور قوم لوط وغیرہ پر آچکا ہے۔ تو آپ (علیہ السلام) کے اس انذار کے جواب میں قوم نے آپ (علیہ السلام) سے یہ مطالبہ کردیا ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 26:188

قَالَ رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 26:188 in the Quran reader

شعیب نے کہا میرا رب خوب جانتا ہے وہ سب کچھ جو تم لوگ کر رہے ہو۔3

92 تفویض الی اللہ کا درس عظیم : حضرت شعیب کی طرف سے تفویض الی اللہ کے درس عظیم کا عمدہ اور پاکیزہ نمونہ سامنے آتا ہے۔ سو ان لوگوں کی طرف سے مطالبہ عذاب کے جواب میں تفویض الی اللہ سے کام لیتے ہوئے حضرت شعیب نے فرمایا کہ آسمان سے ٹکڑے گرا دینا نہ میرا کام ہے اور نہ میرے اختیار میں۔ بلکہ یہ میرے رب ہی کے اختیار میں ہے اور میرا رب خوب جانتا ہے وہ سب کام جو تم لوگ کر رہے ہو۔ یعنی عذاب لانا یا آسمان کے ٹکڑے گرا دینا نہ تو میرے بس میں ہے اور نہ ہی میں نے کبھی اس کا کوئی دعویٰ ہی کیا ہے۔ میرا کام تو بس اتنا ہے کہ اللہ کا پیغام بلا کم وکاست تمہیں پہنچا دوں۔ مانو گے تو تمہارا اپنا فائدہ، نہیں تو تمہارا اپنا نقصان۔ باقی رہ گئی یہ بات کہ تم پر وہ عذاب کب اور کس شکل میں آئے گا جس کے تم اپنے کئے کی پاداش میں مستحق ہوچکے ہو ؟ تو اس کا علم میرے رب ہی کے پاس ہے۔ وہی ہے جو پوری طرح اس کا علم بھی رکھتا ہے اور اس پر قدرت بھی۔ اور وہی جانتا ہے کہ تم پر عذاب کب آئے ؟ کس شکل میں آئے ؟ اور تم کو کتنی اور کیسی سزا دی جائے ؟ کیونکہ وہی ہے جو تمہارے ان تمام کرتوتوں سے پوری طرح واقف و آگاہ ہے جو تم لوگ کر رہے ہو۔ اور وہی ہے مالک مطلق اور مختار کل ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ آخرکار تم لوگوں کو وہ عذاب بہرحال بھگتنا ہوگا اگر تم باز نہ آئے اپنی اس روش سے۔ وہ تمہاری کارستانیوں سے پوری طرح واقف و آگاہ ہے اور وہی جانتا ہے کہ تم کو کب تک ڈھیل دے۔ اس کی حکمت کا جو بھی تقاضا ہوگا وہ ظاہر ہو کر رہے گا اور ٹھیک وقت پر ظاہر ہوگا۔ سو عقل و نقل کا تقاضا اس عذاب سے بچنے کی فکر کرنا ہے نہ کہ اس کا مطالبہ کرنا کہ عذاب الہیکا مطالبہ اندھے اور اوندھے پن کا ثبوت ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 26:189

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمْ عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّةِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 26:189 in the Quran reader

پس جب وہ لوگ شعیب کی تکذیب ہی کرتے گئے تو آخرکار آپکڑا ان کو سائبان والے دن کے عذاب نے، بیشک وہ عذاب تھا ایک بڑے ہی ہولناک دن کا

93 قوم شعیب پر یوم الظلہ کا عذاب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آخرکار آپکڑا ان کو سائبان والے دن کے عذاب نے "۔ روایات کے مطابق ان لوگوں پر سخت گرمی مسلط کردی گئی جس سے یہ لوگ بلبلا اٹھے۔ اس کے بعد ان کے اس جنگل پر ابر کا ایک سائبان قدرت کی طرف سے تن دیا گیا جس کے درختوں کی وہ پوجا کیا کرتے تھے۔ اور اس کے سائبان کے نیچے ایک ٹھنڈی ہوا چلا دی گئی جس سے یہ سب کے سب گھروں سے نکل نکل کر وہاں جمع ہوگئے۔ تب اس بادل سے ان پر ایک ایسی خوفناک آگ برسائی گئی جس نے ان سب کو ان کے ان باطل معبودوں سمیت بھسم کردیا اور ان کو جلا کر راکھ کا ڈھیر بنادیا۔ (روح المعانی، ابن کثیر، جامع، محاسن، مدارک، مراغی اور صفوہ وغیرہ) ۔ سو اس سے پھر صاف اور واضح ہوگیا کہ حضرات انبیائے کرام و رسل اور ان کی دعوت کی تکذیب اور انکار کا آخری نتیجہ بہرحال ہلاکت اور دائمی تباہی ہے۔ پس اس سلسلے میں ملنے والی ڈھیل اور عذاب کی تاخیر سے کبھی کسی کو دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ فکر وعمل کی ہر کجی اور ہر طرح کے عذاب اور گرفت و پکڑ سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور ہمیشہ صراط مستقیم پر گامزن رہنے کی توفیق بخشے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 26:190

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:190 in the Quran reader

بلاشبہ اس میں بڑی بھاری نشانی ہے، مگر لوگوں کی اکثریت پھر بھی ایمان لانے والی نہیں1

94 نشانی عبرت میں غور وفکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ اس میں بڑی بھاری نشانی ہے اس پر کہ حق اور اہل حق کی مخالفت اور دشمنی کا انجام کیا ہوتا ہے۔ اور اس پر کہ اللہ پاک جب کسی قوم پر عذاب نازل کرنے کا فیصلہ فرما دیتا ہے تو اس کے لئے وہ کس طرح ایسے اسباب پیدا کردیتا ہے کہ وہ قوم بغیر کسی ظاہری فوج اور پولیس کے خود بخود چل کر وہاں پہنچ جاتی ہے جہاں ان لوگوں کے لئے عذاب طے کیا گیا ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اللہ پاک کے لشکروں اور اس کے عذاب کے طریقوں کو کوئی نہیں جان سکتا سوائے اس وحدہ لاشریک کے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو ۔ { وَمَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّکَ الا ہُوَ } ۔ (المدثر : 31) ۔ نیز اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ ظاہر پرست و ظاہر بیں انسان اور قاصر و محدود اور خطا کار نگاہیں کس طرح بعض اوقات ایک چیز کو اپنے لئے نعمت سمجھ کر اس کی طرف لپکتی ہیں۔ مگر وہ نہیں دیکھتیں اور جانتیں کہ اس کے نیچے اور اس کے پیچھے ان کے لئے اللہ پاک کی کیسی گرفت اور اس کا کیا عذاب پوشیدہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اس لئے صرف ظاہر پر اکتفاء کرنے کی بجائے ان اصل اور بنیادی حقائق پر نظر رکھی جائے جو اس کے پیچھے کار فرما ہوتے ہیں۔ اور جن کی صحیح طور پر نشاندہی اللہ اور اس کے رسول کے ارشادات ہی سے ہوسکتی ہے۔ اس لیے بندے کو ہمیشہ ہر حال میں اور ہر موقعہ پر اللہ پاک سے اس کی پناہ کی درخواست ہی کرتے رہنا چاہیئے کہ ہر چیز کا نفع و نقصان اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayahs 26:191–192

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:191 in the Quran reader

اور بیشک تمہارا رب بڑا ہی زبردست انتہائی مہربان ہے،

وَ اِنَّهٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:192 in the Quran reader

اور بلاشبہ یہ قرآن اتارا ہوا ہے رب العالمین کا

95 قرآن حکیم رب العالمین کا کلام : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ یہ قرآن مجید اتارا گیا ہے رب العالمین کی طرف سے۔ یہاں پر " منزل " نہیں " تنزیل " فرمایا گیا ہے جو کہ مصدر ہے یعنی یہ کتاب حکیم ۔ زَادَنَا اللّٰہِ بِہ حُبًّا وَ اِیْمَانًا ۔ ایسی منزل من اللہ کتاب ہے جس میں تنزیل کے سوا دوسرے کسی حرف یا حرکت یا شوشہ و شائبہ تک کا کوئی دخل و احتمال نہیں۔ اور مصدر بھی انزال کی بجائے تنزیل لایا گیا ہے کہ اس کے اتارے جانے کی تکمیل بھی بتدریج تیئس (23) سال کے طویل عرصے میں ہوئی۔ سو اس کلام مجید میں کسی کہانت یا شیطانی مداخلت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جیسا کہ منکرین و مخالفین کا کہنا ہے۔ بلکہ یہ خالصتاً رب العالمین کی طرف سے اتارا جانے والا کلام مجید ہے۔ جس کو خاص اہتمام سے اتارا گیا ہے۔ لہذا لوگوں کو چاہیئے کہ اس نعمت بےمثال کی صدق دل سے قدر کرکے اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کریں۔ اور اس کی تکذیب کرکے اپنی شامت کو دعوت نہ دیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 26:193

نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُۙ Open ayah 26:193 in the Quran reader

اس کو روح الامین جیسا عظیم الشان فرشتہ لے کر اترا ہے،

96 قرآن حکیم کا نزل روح الامین کے ذریعے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کو روح الامین لے کر اترے ہیں "۔ مراد ہیں جبریل امین جو ہمیشہ اللہ پاک کی طرف سے اس کے بندوں کے لئے نور وحی لانے کی خدمت انجام دیتے رہے ہیں۔ اور قرآن حکیم میں متعدد مقامات پر آپ کو ان دونوں وصفوں " روح " اور " امین " کے ساتھ ذکر فرمایا گیا ہے۔ اس لئے کہ وحی روح کی غذا ہے۔ چناچہ دوسرے مقام پر اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَکَذَالِکَ اَوْحَیْنَا اِلَیْکَ رُوْحًا مِنْ اَمْرِنَا } ۔ (الشوری : 52) ۔ سو اسی لئے اس کو لانے والے فرشتے ۔ جبریل ۔ کو بھی " روح " سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ اور " امین " اس لئے کہ آپ (علیہ السلام) نے وحی خداوندی کی اس امانت کے لانے میں پوری دیانت و امانت سے کام لیا۔ اس میں کسی طرح کی کوئی خیانت نہیں کی۔ سو یہاں سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ جو لوگ وحی کے نور سے محروم ہیں وہ دراصل زندہ نہیں مردہ ہیں۔ اگرچہ وہ فضاؤں میں اڑتے اور سمندروں کی تہوں میں اترتے ہوں۔ بہرکیف اس کلام مجید کو " روح الامین " لیکر اترے ہیں۔ اس لیے اس میں کسی طرح کی کسی مداخلت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن یہود اور روافض نے ۔ نعوذ باللہ ۔ حضرت جبریل پر خیانت کا الزام لگایا۔ (تدبر قرآن) ۔
Ayah 26:194

عَلٰى قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ Open ayah 26:194 in the Quran reader

آپ کے دل پر اے پیغمبر تاکہ آپ ہوجائیں خبردار کرنے والوں میں سے

97 قرآن حکیم کا نزول پیغمبر کے قلب مطہر پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس کو اتارا ہے آپ ﷺ کے دل پر " ۔ سبحان اللہ ۔ دنیا والوں کے یہاں تو برس ہا برس کی تعلیم و محنت کے بعد جا کر کوئی چیز دل میں اترتی اور رسوخ حاصل کرتی ہے۔ مگر تعلیم نبوت کا آغاز ہی دل کے رسوخ سے ہوتا ہے۔ یہاں سے پھر وہ حقیقت واضح ہوتی ہے جس کا اظہار ہم نے بارہا کیا ہے کہ عقل اور اہل عقل کی پرواز جہاں ختم ہوجاتی ہے وحی اور نبوت کی حدود کا وہاں سے آغاز ہوتا ہے۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ نور وحی کا مہبط قلب پیغمبر ہے۔ جو کہ انسانی وجود کا سب سے اعلیٰ اور اشرف حصہ ہے۔ بس اس میں کسی وسوسہ شیطانی یا دغدغہ انسانی کا کوئی امکان نہیں۔ سو یہ کلام حکیم نہایت پاکیزہ اور بےمثال مصدر فیض سے نکلا اور نہایت پاکیزہ اور امانتدار ذریعے نازل ہوا۔ اور یہ پاکیزہ ترین محل میں مستفر ہوا۔ اور ایسی پاکیزہ اور بےمثال شان سے کتاب حکیم کے سوا دوسری کوئی بھی کتاب نہ کبھی نازل ہوئی ہے نہ قیامت تک کبھی ہونا ممکن ہے۔ سو کتنے بڑے بدبخت اور کس قدر ظالم ہیں وہ لوگ جو اس کی تکذیب کرتے اور اس سے اعراض و روگردانی سے کام لیتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ اعراض و انکار کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔ 98 قرآن پاک کے اتارنے کا اصل مقصد انذار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تاکہ آپ ﷺ ۔ اے پیغمبر۔ ہوجائیں خبردار کرنے والوں میں سے "۔ پوری قوت اور اطمینان کے ساتھ۔ کیونکہ دل ہی سلطنت جسم کی پوری قلمرو کا حاکم و بادشاہ ہے۔ اس کی ہر اچھی بری حالت، خوبی خرابی اور قوت و ضعف کا اثر دوسرے تمام اعضاء وجوارح پر پڑتا ہے ۔ فَنَوِّرْ اَللّٰہُمَّ قُلُوْبَنَا بِنُوْرِ الْمَعْرِفَۃِ وَالاِیْمَانِ ۔ بہرکیف یہ قرآن حکیم کے نازل فرمائے جانے اور اس اہتمام و شان کے ساتھ اتارے جانے کا مقصد اور اس کی غرض وغایت بیان فرمائی گئی تاکہ اس طرح آپ ان لوگوں کو خبردار کرسکیں جو اپنے خالق ومالک کے حقِّ معرفت و بندگی اور اپنی عاقبت و انجام سے غفلت و لاپرواہی میں زندگی گزار رہے ہیں۔ تاکہ وہ غفلت سے چونک کر اپنے انجام کی فکر اور اس کیلئے تیاری کریں قبل اس سے کہ فرصت حیات کی یہ مدت محدود ان کے ہاتھ سے نکل جائے اور ان کو ہمیشہ کیلئے پچھتانا پڑے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ غفلت و لاپرواہی کی ہر شکل سے محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 26:195

بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍؕ Open ayah 26:195 in the Quran reader

فصاحت و بلاغت سے لبریز ایک واضح اور روشن عربی زبان میں

99 روشن ۔ و واضح۔ عربی زبان میں : جس میں نہ کوئی اونچ نیچ ہے نہ کجی و ٹیڑھ اور نہ کسی طرح کا کوئی زیغ و ابہام۔ اور عربی زبان کے سوا دوسری کوئی زبان ایسی تھی ہی نہیں اور ہے ہی نہیں جو قرآن حکیم کے معانی و مطالب اور اس کے مضامین و معارف کو اپنے الفاظ و تراکیب اور محاورے و زبان میں ادا کرسکے۔ یہ عربی زبان ہی کی عظیم الشان وسعتیں اور حیرت انگیز باریکیاں اور وجد آفریں لطافتیں اور نزاکتیں ہیں جو قرآنی علوم و معارف کو سمیٹ سکتی ہیں۔ مگر افسوس کے آج کا مسلمان اس زبان کی ان عظمتوں اور باریکیوں سے غافل و بیخبر ہے ۔ اِلا مَا شَائَ اللّٰہُ ۔ بہرکیف یہ اہل عرب پر قدرت کا ایک عظیم الشان احسان ہے کہ اس کتاب حکیم کو انہی کی لغت اور زبان میں اتارا گیا۔ سو یہ چیز ان کیلئے باعث شرف بھی ہے اور اس میں ان پر اتمام حجت بھی ہے۔ اب ان کیلئے اس عذر کی کوئی گنجائش نہیں رہی کہ یہ اس کے سمجھنے سے قاصر تھے۔ سو اس کے باوجود اگر انہوں نے اس کی قدر نہ کی تو اس کی ذمہ داری انہی لوگوں پر ہوگی۔ اور اس کا نتیجہ وانجام بڑا سخت اور ہولناک ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 26:196

وَ اِنَّهٗ لَفِیْ زُبُرِ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 26:196 in the Quran reader

اور بلاشبہ یہ قرآن پہلی کتابوں میں بھی ہے

100 اور بلاشبہ یہ ۔ قرآن ۔ پہلی کتابوں میں بھی ہے : یعنی اس کی خبر اور اس کا ذکر پہلی آسمانی کتابوں میں موجود و مذکور ہے۔ (روح، ابن کثیر، مدارک، کشاف وغیرہ) ۔ نیز اس کے اہم مطالب اور بنیادی مضامین بھی وہی ہیں جو پہلی کتابوں میں پائے جاتے تھے۔ اس لئے کہ آسمانی کتابوں کی بنیادی تعلیمات ایک ہی تھیں۔ کیونکہ توحید کی دعوت، آخرت پر ایمان اور سزا و جزاء وغیرہ کی تعلیم و تلقین سب ہی میں موجود تھی۔ (روح، ابن کثیر، مدارک، مراغی اور معارف وغیرہ) ۔ اسی لئے ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ہے ۔ { اِنَّ ہٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الاُوْلٰی } ۔ (الاعلیٰ : 18) ۔ پس نہ یہ کتاب کوئی نئی اور انوکھی چیز ہے اور نہ اس کو لانے والے پیغمبر۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { قُلْ مَاکُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ } ۔ (الاحقاف : 9) ۔ تو پھر اس پر بدکنے اور اچنبھا کرنے کی کیا وجہ ؟ سو پہلی آسمانی کتابوں میں اس کے بارے میں جو پیشینگوئیاں موجود تھیں ان کی بناء پر اہل کتاب آخری پیغمبر اور اس پر نازل فرمائی جانے والی کتاب کے منتظر تھے۔ اور مشرکین مکہ ان کے پاس اس بارے جاننے اور معلومات حاصل کرنے کیلئے جایا کرتے تھے۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ مشرکین مکہ نے اس بارے معلومات حاصل کرنے کیلئے ایک وفد یثرب کے اہل کتاب کے پاس بھیجا تو انہوں نے اس کی کچھ نشانیاں ذکر کیں اور کہا کہ انکا وقت آگیا ہے۔ (المراغی وغیرہ) ۔ لیکن جب وہ نور مبین ان کے پاس پہنچ گیا تو یہ ظالم اس کے منکر اور دشمن ہوگئے اور اس کے نتیجے میں یہ اللہ کے غضب اور محرومی کے ساتھ لوٹے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayahs 26:197–199

اَوَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ اٰیَةً اَنْ یَّعْلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:197 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کے لیے یہ کوئی نشانی نہیں ہے کہ اس کو بنی اسرائیل کے علماء بھی جانتے ہیں ؟2

وَ لَوْ نَزَّلْنٰهُ عَلٰى بَعْضِ الْاَعْجَمِیْنَۙ Open ayah 26:198 in the Quran reader

اور ان لوگوں کی ہٹ دھرمی کا یہ عالم ہے کہ اگر ہم اتار دیتے اس قرآن کو کسی عجمی پر

فَقَرَاَهٗ عَلَیْهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ مُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 26:199 in the Quran reader

پھر وہ اسے ان کے سامنے پڑھ کر سنا بھی دیتا تب بھی انہوں نے اس پر ایمان نہیں لانا تھا،

102 ہٹ دھرمی کا کوئی علاج نہیں : سو اس ارشاد سے اس مضمون کو واضح فرمایا گیا کہ اب تو ان لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ قرآن بھی عربی اور قرآن کو پیش کرنے والا بھی عربی۔ ہمیں کیا پتہ یہ خود بنا کر لاتا ہو لیکن اگر ہم اس قرآن کو کسی عجمی شخص پر بھی اتار دیتے تو انہوں نے پھر بھی نہیں ماننا تھا۔ یعنی اب تو یہ منکر لوگ یوں کہتے ہیں کہ نبی بھی عربی اور قرآن بھی عربی۔ کیا پتہ یہ خود ہی لکھ کر لا رہا ہو لیکن اگر ہم اسے کسی غیر عربی پر نازل کردیتے اور وہ ان کو پڑھ کر سنا بھی دیتا تو انہوں نے پھر بھی نہیں ماننا تھا۔ اس صورت میں یہ لوگ ماننے کی بجائے دوسرے شکوک و شبہات پیش کردیتے۔ کیونکہ ان کا انکار کسی دلیل کی بنا پر نہیں بلکہ محض ضد وعناد اور ہٹ دھرمی پر مبنی ہے۔ اور اس کا کوئی علاج نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا (حم السجدۃ : 44) سو اس میں پیغمبر کیلئے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے کہ قصور آپ کا نہیں بلکہ جو چیز مانع ہے وہ ان لوگوں کا عناد اور ان کی ہٹ دھرمی ہے۔ (المعارف، المراغی وغیرہ) ۔ سو عناد اور ہٹ دھرمی محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 26:200

كَذٰلِكَ سَلَكْنٰهُ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَؕ Open ayah 26:200 in the Quran reader

اسی طرح ہم نے ڈال دیا اس کو مجرم لوگوں کے دلوں میں،

103 منکروں کے دلوں کے فساد و بگاڑ کی نشاندہی ۔ والعیاذ باللہ -: سو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی طرح ہم نے اس کو ڈال دیا مجرموں کے دلوں میں۔ یعنی ان کے کفر و انکار کو یعنی ہمارا قانون یہی ہے کہ جو ضد اور ہٹ دھرمی پر اتر آئے وہ صدق و صواب سے محروم ہوجاتا ہے۔ سو ان کے عناد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے یہ کفر و انکار ان کے دلوں میں پکا ہوگیا جو ان کی جان نہیں چھوڑے گا۔ یہاں تک کہ یہ دیکھ لیں دردناک عذاب کو۔ اور دوسرا احتمال اس میں یہ بھی ہے کہ ضمیر منصوب کا مرجع قرآن حکیم ہو۔ یعنی یہ لوگ قرآن حکیم کی صداقت اور حقانیت کو اچھی طرح جانتے ہیں مگر ضد اور ہٹ دھرمی اور دنیائے دوں کے کچھ وقتی اور عارضی فائدوں کی وجہ سے یہ اس کا انکار کر رہے ہیں ۔ { وَجَحَدُوْا بِہَا وَاسْتَیْقَنَتْہَا انفسہم ظُلْمًا وَّعُلُوًّا } ۔ (النمل : 14) اور اس طرح یہ قرآن کانٹا بن کر ان کے دلوں میں کھٹک رہا ہے ۔ { فَہُمْ فِیْ رَیْبٍ یَّتَرَدَّدُوْنَ } ۔ (التوبۃ : 45) ۔ پس ایسے ہٹ دھرموں کے ایمان نہ لانے پر کوئی افسوس نہیں کرنا چاہیئے کہ ایسوں کا کوئی علاج نہیں اور یہ اپنے کئے کی سزا خود بھگت رہے ہیں اور بھگتیں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف { سلکناہ } کی ضمیر منصوب منفصل کے مرجمع میں یہ دونوں احتمال موجود ہیں کہ اس کا مرجع تکذیب و انکار ہو یا قران حکیم۔ حضرات مفسرین کرام سے یہ دونوں قول مروی و منقول ہیں۔ اور معنیٰ و مطلب دونوں صورتوں میں واضح ہے ۔ کَمَا بَیَّنْا وَالاَوّْلُ اَظْہَر۔ (روح، ابن کثیر، معالم، مدارک، محاسن، مراغی اور صفوۃ وغیرہ) ۔ اللہ تعالیٰ عناد اور ہٹ دھرمی کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے کہ یہ محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 26:201–203

لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَۙ Open ayah 26:201 in the Quran reader

یہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ یہ خود دیکھ لیں اس دردناک عذاب کو،

فَیَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 26:202 in the Quran reader

سو وہ ان پر ایسے اچانک آپڑے گا کہ ان کو خبر بھی نہ ہوگی،

فَیَقُوْلُوْا هَلْ نَحْنُ مُنْظَرُوْنَؕ Open ayah 26:203 in the Quran reader

اس وقت یہ کہیں گے کہ کیا ہمیں کچھ مہلت مل سکتی ہے ؟

104 منکروں کی حسرت اور بےوقت کی آرزو کا ذکر : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ " ان لوگوں نے چونکہ اپنے عناد اور ہٹ دھرمی سے اپنی فطرت کو مسخ کردیا ہے۔ اس لیے اب یہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے "۔ یہاں تک کہ یہ اس دردناک عذاب کو دیکھ لیں جو بالآخر ایسے ہٹ دھرموں پر آ کر رہتا ہے۔ تو اس وقت یہ لوگ نہایت حسرت سے کہیں گے کہ کیا ہمیں کوئی مہلت مل سکتی ہے تاکہ ہم اپنی اپنی اصلاح کرلیں۔ مگر اس وقت ایسی کوئی مہلت کہاں اور کیونکر ؟ اس کا وقت تو بہرحال گزر چکا ہوگا۔ اور یہ لوگ ہمیشہ کے خسارے میں مبتلا ہوچکے ہوں گے۔ جس سے گلو خلاصی اور رہائی کی پھر کوئی صورت ان کے لیے ممکن نہ ہوگی۔ اور یہی ہے سب سے بڑا اور انتہائی ہولناک خسارہ ۔ ذالک ہو الخسران المبین ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ تب یہ لوگ کہیں گے کہ کیا ہمیں کچھ مہلت مل سکتی ہے۔ مگر فرصت عمر ختم ہوجانے کے بعد نہ ایمان لانے کا کوئی فائدہ اور نہ ہی کسی مہلت کے ملنے کا کوئی سوال۔ بھلا چڑیوں کے کھیت چگ لینے کے بعد اس پر آنسو بہانے سے کیا فائدہ ہوسکتا ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ تب ان کا یہ افسوس ان کیلئے مزید کڑھن جلن اور عذاب میں اضافے کا باعث ہوگا۔ اور اس سے نکلنے اور بچنے کی کوئی صورت ان کیلئے ممکن نہ ہوگی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ زیغ وضلال کی ہر شکل اور اس کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 26:204

اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 26:204 in the Quran reader

کیا یہ لوگ ہمارے عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں ؟

105 عذاب کے لیے جلدی مچانے والوں کو جواب : سو ارشاد فرمایا گیا اور استفہامیہ انداز میں ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا یہ لوگ ہمارے عذاب کیلئے جلدی مچاتے ہیں ؟ "۔ جیسا کہ ان کا مطالبہ تھا ۔ { رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْل یَوْمِ الْحِسَابِ } ۔ (صٓ: 15) ۔ سو ایسا کرنا ان کی حماقت اور بدبختی ہے کہ یہ عافیت کی بجائے عذاب مانگ رہے ہیں۔ اور وہ عذاب ان پر اپنے وقت پر بہرحال آکر رہے گا۔ اور جب آجائیگا تو پھر اس سے بچنے کی کوئی صورت ان کیلئے ممکن نہ ہوگی۔ اس لیے دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ یہ اس کیلئے جلدی مچانے کی بجائے اس سے بچنے کی فکر کریں۔ بہرکیف ایسے غافل اور بدبخت لوگوں کی تنبیہ و تذکیر کے لیے ارشاد فرمایا گیا کہ بھلا دیکھو تو سہی اور سوچو اور غور تو کرو کہ جب ان پر وہ عذاب آجائے گا جس سے ان کو خبردار کیا جا رہا ہے اور برسوں کی مہلت اور عیش و عشرت کے بعد آجائے گا تو اس وقت ان کا یہ مال و متاع اور دنیاوی جاہ و اقتدار کس کام آئے گا ؟ جس پر آج یہ لوگ بدمست ومگن ہیں ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 26:205–207

اَفَرَءَیْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰهُمْ سِنِیْنَۙ Open ayah 26:205 in the Quran reader

بھلا تم دیکھو تو اور غور تو کرو اگر ہم انھیں برسوں عیش کرنے کی مہلت بھی دے دیں

ثُمَّ جَآءَهُمْ مَّا كَانُوْا یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 26:206 in the Quran reader

پھر آپہنچے ان پر وہ عذاب جس سے انھیں ڈرایا جاتا ہے

مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یُمَتَّعُوْنَؕ Open ayah 26:207 in the Quran reader

تو ان کے کس کام آسکتا ہے وہ سامان عیش جو ان کو دیا جاتا رہا ہے

106 متاع دنیا عذاب الہی کے مقابلے میں کچھ کام نہیں آسکے گا : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ دنیاوی مال و متاع عذاب الہی کے مقابلے میں کچھ بھی کام نہیں آسکتا۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " جب ان پر وہ عذاب آجائے گا تو ان کے کچھ کام نہیں آسکے گا وہ سامان عیش جو ان کو دیا جا رہا ہے "۔ سو اس وقت کچھ بھی انکے کام نہیں آسکے گا۔ نہ مال و دولت نہ جاہ و جلال اور نہ ہی پارٹی و اولاد۔ اس لئے ان فانی چیزوں پر فخر کرنے کی بجائے اس عذاب سے بچنے کی فکر و کوشش کرو۔ قبل اس سے کہ فرصت عمر تمام ہوجائے اور وہ عذاب الیم تمہیں آدبوچے جس نے آنے کے بعد پھر ٹلنا نہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اس سلسلے میں جو ڈھیل تم لوگوں کو مل رہی ہے اس سے کبھی دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیئے۔ وہ بہرحال ایک ڈھیل ہے جس نے اپنے وقت مقررہ پر بہرحال ختم ہو کر رہنا ہے۔ سو اس تاخیر سے جو کہ اس کی حکمت کا تقاضا ہے، نچنت اور بےفکر ہوجانا اور اس عذاب سے بچنے کی فکر کرنے کی بجائے اسکا مذاق اڑانا اور اس کیلئے جلدی کا مطالبہ کرنا پرلے درجے کی حماقت اور نہایت بدبختی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ زیغ و ضلال کی ہر شکل اور اس کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Ayahs 26:208–210

وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا لَهَا مُنْذِرُوْنَ٥ۗۛۖ Open ayah 26:208 in the Quran reader

اور ہمارا دستور عام یہ ہے کہ اس سے پہلے ہم نے کسی بھی بستی کو ہلاک نہیں کیا مگر اس حال میں کہ اس کے لیے خبردار کرنے والے رہے ہوں،

ذِكْرٰى١ۛ۫ وَ مَا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 26:209 in the Quran reader

نصیحت کرنے کے لیے اور ہم ظالم نہیں ہیں1

وَ مَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّیٰطِیْنُ Open ayah 26:210 in the Quran reader

اور اس قرآن کو شیاطین لے کر نہیں اترتے،

107 شیاطین کا اس کتاب حکیم سے کچھ تعلق نہیں ہوسکتا : سو ارشاد فرمایا گیا اور اس ۔ کتاب حکیم ۔ کو شیاطین لے کر نہیں اترے "۔ جیسا کہ ان لوگوں کا کہنا تھا۔ چناچہ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق ایک مرتبہ جب کچھ عرصہ کے لئے وحی رک گئی تو کفار قریش کی ایک عورت نے آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کے لئے کہا ۔ " قَدْ وَدَّعَہٗ شَیْطَانُہٗ " ۔ " اس کو اس کے شیطان نے چھوڑ دیا " کہ اب وحی کا آنا بند ہوگیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو جو بات اوپر مثبت انداز میں ارشاد فرمائی گئی تھی اسی کو اب منفی انداز میں ارشاد فرمایا جارہا ہے تاکہ مضمون مزید موکد اور پختہ ہوجائے۔ یعنی پہلے مثبت انداز میں ارشاد فرمایا گیا تھا کہ یہ کلام رب العالمین کا نازل فرمودہ ہے جس کو کہ جبریل امین نے آپ کے قلب مبارک و امین پہ نازل فرمایا۔ اب ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ اس کلام حکیم کو شیاطین لے کر نہیں اترے جیسا کہ ان منکرین و مکذبین کا کہنا ہے۔ جو کہتے ہیں کہ یہ قرآن جن اور شیاطین کے القاء کا نتیجہ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ یعنی جس طرح شیاطین کا ہنوں پر القاء کرتے ہیں یہ بھی اسی طرح کا کلام ہے۔ (المعارف، المراغی وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے زیغ و ضلال سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 26:211

وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهُمْ وَ مَا یَسْتَطِیْعُوْنَؕ Open ayah 26:211 in the Quran reader

نہ تو وہ اس کام کے لائق ہیں اور نہ ہی وہ ایسا کرسکتے ہیں،

108 قرآن حکیم کی عظمت شان اور علو مرتبہ و مقام کا تقاضا : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ قرآن حکیم ایک ایسی عظیم الشان اور عالی مرتبت کتاب ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہوسکتا ہے۔ شیاطین نہ تو اس کام کے لائق ہیں اور نہ ہی وہ ایسا کرسکتے ہیں۔ بھلا شیطان جن کے کام کا طرہ امتیاز ہی اغواء واضلال ہے ان کو ایسا کلام ہدایت نظام لانے اور پیش کرنے سے مناسبت ہی کیا ہوسکتی ہے ؟ اور وہ اس قابل ہی کہاں کہ ایسا کرسکیں ؟ کہ شیاطین تو منبع شر و فساد ہے۔ اور یہ کلام حکیم مصدر خیر و برکت اور نور و ہدایت۔ اور یہ آیا دنیا میں خیر پھیلانے اور شر مٹانے کیلئے۔ تو پھر اس کو شیاطین سے نسبت ہی کیا ہوسکتی ہے ؟ اور جب یہ ایسا کلام معجز نظام ہے کہ اس کے چیلنج، اور زوردار اور مکرر چیلنج کے باوجود دنیا ساری اس کی ایک چھوٹی سے چھوٹی سورت بھی بنالانے سے عاجز ہے تو پھر شیطانوں کیلئے کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ ازخود اس کو گھڑل اس کیں۔ سو کتنے ظالم اور کس قدر بےانصاف ہیں وہ لوگ جو اس کلام حکیم کو شیطانوں کا کلام قرار دیتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ قرآن حکیم کا یہ کلام معجز نظام نہ اس لائق ہے کہ یہ شیاطین کا کلام ہو نہ شیطان ایسا کرسکتے ہیں اور نہ ہی یہ ان کے لائق ہوسکتا ہے۔ یہ ایسے تمام تصورات سے پاک اور اس سے کہیں اعلیٰ وبالا ہے۔ اور یہ خالص اللہ تعالیٰ کا کلام معجز نظام ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 26:212

اِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَؕ Open ayah 26:212 in the Quran reader

ان کو تو اس کے سننے سے بھی قطعی طور پر دور کردیا گیا ہے،

109 شیاطین کے سماع قرآن سے عزل و طرح کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ شیطانوں کو تو اس کے سننے سے بھی معزول و مطرود اور بےبہرہ کردیا گیا ہے کہ اس کلام مقدس کے اترنے کے وقت ان کو شہابوں سے مار کر عالم بالا سے ہی بھگا دیا گیا۔ اور اس دنیا میں بھی قرآن پاک کی تلاوت سے قبل ان کو ۔ اعوذ باللہ ۔ کے ذریعے بھگا دیا جاتا ہے۔ اور یوں بھی ایمان اور اعمال صالحہ کی دولت رکھنے والوں پر شیاطین کا کوئی زور نہیں چل سکتا۔ ان کا کوئی زور اگر چلتا بھی ہے تو انہی لوگوں پر چلتا ہے جو کہ ان سے دوستی کی پینگیں بڑھاتے ہیں ۔ { اِنَّہٗ لَیْسَ لَہٗ سُلْطَانٌ عَلَی الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ ، اِنَّمَا سُلْطَانُہٗ عَلَی الَّذِیْنَ یَتَوَلَّوْنَہٗ وَالَّذِیْنَ ہُمْ بِہْ مُشْرِکُوْن } (النحل : 99-10) ۔ سنن ترمذی (رح) وغیرہ میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ پہلے جن اور شیاطین آسمان پر جایا کرتے تھے اور وہاں سے کوئی بات سن گن لیتے تو اس میں سو جھوٹ اور ملا کر اس کو اپنے کاہنوں وغیرہ کو بتاتے اور اس کو چلتا کردیتے۔ مگر بعد میں جب حضور ﷺ کو مبعوث فرمایا گیا اور آپ ﷺ پر قرآن مجید نازل ہونا شروع ہوا تو ان کا آسمان پر جانا بند ہوگیا اور اس کے بعد ان میں سے جو آسمان پر جاتا تو اس کو شہابوں کے ذریعے مار بھگایا جاتا۔ جیسا کہ سورة جن کی آیت نمبر 8 اور 9 میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ تو ایسے میں ان منکروں کا اس کلام حکیم کو شیطانوں کا کلام قرار دینا کتنا بڑا ظلم اور کس قدر ناانصافی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ایسا کہنا ان لوگوں کی اپنی ہی حماقت کا ثبوت ہے ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -
Ayah 26:213

فَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَكُوْنَ مِنَ الْمُعَذَّبِیْنَۚ Open ayah 26:213 in the Quran reader

پس کبھی پوجنا پکارنا نہیں اللہ وحدہ، لاشریک کے ساتھ کسی بھی اور من گھڑت معبود کو کہ اس کے نتیجے میں تم شامل ہوجاؤ ان لوگوں میں جن کو عذاب ہوتا ہے

110 اللہ کے سوا کسی اور معبود کو پکارنے کی ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا پس اللہ کے ساتھ کسی بھی اور معبود کو نہیں پکارنا "۔ یعنی جب یہ اتنی عظیم الشان کتاب آپ ﷺ کو خداوند قدوس کی طرف سے بذریعہ وحی عطا فرمائی گئی ہے تو اس کے شکرانے میں اس کو دل و جان سے اپناؤ۔ ایمان کے اعتبار سے بھی کہ اس پر سچے دل سے ایمان لاؤ اور علم و عمل کے لحاظ سے بھی کہ تمہارا ہر عمل اس کی تعلیمات مقدسہ کے مطابق ہو۔ اور اللہ ۔ جل جلالہ ۔ کے سوا کسی بھی اور معبود کو کسی بھی قیمت پر کبھی پکارنا پوچنا نہیں کہ یہ اس کتاب عظیم کی سب سے بڑی سب سے اہم اور سب سے بنیادی تعلیم ہے۔ ورنہ تم عذاب پانے والوں میں سے ہوجاؤ گے۔ یہاں پر خطاب اگرچہ بظاہر رسول اللہ ﷺ کو ہے لیکن سنانا دراصل دوسروں کو مطلوب ہے۔ جیسا کہ بلاغت کا تقاضا ہے۔ (مدارک، معالم، صفوۃ وغیرہ) ۔ اور اس میں یہ عظیم الشان درس بھی ہے کہ جب آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کو بھی باوجود اس قدر عظمت شان کے یہ ہدایت فرمائی جا رہی ہے تو پھر دوسروں کو اس کی کتنی زیادہ ضرورت ہوگی ؟ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اصل حقیقت یہی ہے جو تم پر واضح فرما دی گئی کہ معبود برحق بہرحال ایک اور صرف ایک ہے۔ یعنی اللہ ۔ جل جلالہ ۔ اس لیے تم مخالفوں کے علی الرغم اس موقف حق پر جمے اور ڈٹے رہنا۔ اور کبھی بھی اور کسی بھی حال میں اور کسی بھی قیمت پر اللہ کے ساتھ کسی بھی اور معبود کو نہیں پکارنا کہ اس کے نتیجے میں تم عذاب پانے والوں میں سے ہوجاؤ ۔ والعیاذ باللہ ۔ مگر افسوس کہ ان صاف وصریح تعلیمات کے باوجود آج کا جاہل مسلمان اللہ کے ساتھ بلکہ اللہ کو چھوڑ کر طرح طرح کی فرضی اور من گھڑت " سرکاروں " وغیرہ کو پکارتا اور طرح طرح کے شرکیہ نعرے لگاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ زیغ وضلال کی ہر قسم اور ہر شکل سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین -
Ayah 26:214

وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْرَبِیْنَۙ Open ayah 26:214 in the Quran reader

اور خبردار کرو سب سے پہلے اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو اے پیغمبر

111 اپنے قریبی رشتہ داروں کے انذار کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا " اور خبردار کرو اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو "۔ یعنی اس دعوت حق کا آغاز سب سے پہلے اپنے گھرانے سے کرو تاکہ یہ امر دوسروں کے لئے نمونہ اور درس ہو۔ چناچہ صحیح حدیث کے مطابق اس حکم کے بعد آنحضرت ﷺ نے سب کو ایک ایک کر کے پکارا اور خبردار فرمایا۔ چناچہ آپ ﷺ نے فرمایا " اے قریش والو، بچاؤ اپنے آپ کو اللہ پاک کے عذاب سے۔ میں تمہارے کچھ کام نہیں آسکوں گا۔ اے عبد مناف کی اولاد، اے عباس بن عبد المطلب، اے اللہ کے رسول کی پھوپھی صفیہ، اپنے آپ کو اللہ کے عذاب سے بچانے کی فکر کرو، میں تمہارے کچھ بھی کام نہیں آسکوں گا "۔ یہاں تک کہ اپنی لخت جگر حضرت فاطمۃ الزہرائ ؓ کو فرمایا کہ دنیاوی مال و دولت میں سے جو چاہو مجھ سے مانگو ۔ جہاں تک ہوسکا میں تم کو دوں گا ۔ لیکن آخرت میں میں تمہارے کچھ کام نہیں آسکوں گا۔ لہذا اپنے آپ کو دوزخ کی آگ سے بچانے کی خود فکر کرو ۔ سبحان اللہ ! ۔ کیا پیاری اور کیسی ستھری اور کس قدر صاف و شفاف، نکھری نکھری اور بےغبار تعلیم ہے جو اللہ کے نبی ﷺ نے اپنی امت کو دی۔ مگر اس کے باوجود آج کا کلمہ گو مشرک کہتا ہے کہ مجھے فلاں فلاں ہستیاں چھڑا دیں گی۔ نماز روزے کی کوئی ضرورت نہیں کہ میں نے اس کا دامن تھام لیا ہے۔ اس کا لڑ پکڑ لیا ہے۔ پس وہ مجھے کافی ہے۔ میں اسی کی نذر و نیاز دیتا رہوں گا وغیرہ وغیرہ۔ اور بدعت پرست ملاں اور پیٹ کا پجاری پیر اس پر اس جاہل کی پیٹھ ٹھونکے جا رہا ہے۔ بہرکیف اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حکم فرمایا کہ تم اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو خبردار کرو ان کے انجام سے تاکہ وہ اپنی اصلاح کرلیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 26:215

وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 26:215 in the Quran reader

اور جھکائے رکھو اپنا بازوئے شفقت و فروتنی ان ایمانداروں کے لیے جو آپ کی پیروی کرتے ہیں2

112 ایمان والوں کے لیے خاص شفقت و عنایت کا حکم و ارشاد : سو اس سے ایمان والوں کے لیے بازوئے شفقت جھکائے رکھنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اور جھکائے رکھو اپنے بازوؤے شفقت ان ایمانداروں کیلئے جو آپکی پیروی کریں "۔ یعنی اپنے پرائے کا معیار و امتیاز ایمان و اتباع پر ہے اور بس۔ جس نے ایمان لا کر میری اطاعت و اتباع کی وہ اپنا۔ خواہ کوئی بھی ہو اور کہیں کا بھی ہو۔ حبشہ کا بلال ؓ ہو یا روم کا صہیب ؓ ۔ عرب کا خباب ؓ ہو یا فارس کا سلمان ؓ ۔ اور جس نے اس کے خلاف کیا وہ پرایا اور بیگانہ ہے۔ خواہ وہ قریش کا سردار ابوجہل اور خود اپنا چچا ابولہب ہی کیوں نہ ہو۔ مگر افسوس کہ اس کے باوجود آج مسلمان طرح طرح کے فرقوں، ٹکڑوں اور گروہوں اور گروپوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ اور اس حد تک اور اس قدر شدت کے ساتھ کہ ان کے درمیان جگہ جگہ اور طرح طرح سے سرپھٹول ہو رہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ جس طرح مرغی اپنے بچوں کو اپنے پروں کے نیچے چھپائے رکھتی ہے اس طرح آپ ان لوگوں کو اپنے بازوئے شفقت کے نیچے چھپائے رکھو کہ ان میں سے کوئی غفلت و بیخبر ی کے سبب اس عذاب کی زد میں نہ آجائے جس کی خبر ان کو دی جارہی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر گامزن رکھے ۔ آمین۔
Ayahs 26:216–217

فَاِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 26:216 in the Quran reader

پھر اگر یہ لوگ نافرمانی ہی کیے جائیں تو ان سے صاف طور پر کہہ دو کہ بیشک میں قطعی طور پر بری اور بےزار ہوں ان تمام کاموں سے جو تم لوگ کرتے ہو

وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 26:217 in the Quran reader

اور بھروسہ ہمیشہ اسی ذات واحد پر رکھو جو انتہائی زبردست نہایت مہربان ہے3

113 اللہ ہی پر بھروسہ رکھنے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا " اور بھروسہ ہمیشہ اسی پر رکھو جو انتہائی زبردست نہایت مہربان ہے "۔ لہذا اس کی کوئی پرواہ نہ کرو کہ کون ساتھ دیتا ہے اور کون مخالف بنتا ہے۔ اور بھروسہ اسی وحدہ لاشریک پر رکھو کہ اس عزیز و رحیم کی حمایت ہر لحاظ سے کافی ہے ۔ جَلَّ شَانُہٗ وَعَزَّ بُرْھَانُہٗ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تم بھروسہ ہمیشہ اسی عزیز و رحیم ذات پر رکھو کہ اس عزیز و زبردست کی نصرت و حمایت اور مدد جب شامل حال رہے گی تو پھر کوئی تمہارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکے گا۔ اور وہی رحیم و مہربان ہے جو اپنے بندوں کو اپنی رحمت و عنایت سے نوازتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ مگر افسوس کہ آج کے جاہل مسلمان کا بھروسہ طرح طرح کے خودساختہ سرکاروں اور فرضی و وہمی سہاروں پر ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے زیغ و ضلال سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 26:218

الَّذِیْ یَرٰىكَ حِیْنَ تَقُوْمُۙ Open ayah 26:218 in the Quran reader

جو دیکھتی ہے آپ کو اس وقت بھی کہ جب آپ کھڑے ہوتے ہیں اور جو نگاہ رکھے ہوئے ہے

114 اللہ تعالیٰ کی عنایت و نگرانی کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بھروسہ ہمیشہ اسی عزیز و رحیم خدائے مہربان پر رکھو " جو دیکھتا ہے آپ کو جب آپ کھڑے ہوتے ہیں "۔ یعنی جب آپ رات کو اٹھتے ہیں یا دن کو سو کر اٹھتے ہیں۔ یا کسی مجلس سے دعوت الی اللہ کی غرض سے اٹھیں۔ یا اور کسی کام کے لئے۔ اس کی عنایت و رحمت بھری نظریں بہرحال آپ ﷺ پر ہوتی ہیں کہ { حِیْنَ تُقُوْمُ } کا عموم ان سب ہی صورتوں کو شامل ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { فَاِنَّکَ بِاَعْیُنِنَا } ۔ (الطور : 48) ۔ کہ بیشک آپ ﷺ ہماری نگاہ عنایت میں ہوتے ہیں۔ اور جب اس عزیز و رحیم کی نگاہ آپ پر اور آپ کے ساتھ ہے تو پھر آپ کو کسی کی کیا پرواہ ہوسکتی ہے ؟ سو تم بھروسہ ہمیشہ اسی خدائے عزیز و رحیم پر رکھو جسکی نگاہ کرم و عنایت ہمیشہ اور ہر حال میں تم پر رہتی ہے اور خاص کر جب تم رات کے اندھیروں میں اٹھ کر اس کے حضور دعا والتجا کرتے اور اسی کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہو۔ وہ یقینا تمہاری تمام دعاؤں کو سنتا اور تمہاری جملہ اداؤں کو دیکھتا اور تمہارے اعمال و افعال کو جانتا ہے۔ پس تم بھروسہ و اعتماد ہمیشہ اور ہر حال میں اسی وحدہ لاشریک پر رکھو۔ اور وہی بھروسہ و اعتماد کے لائق ہے کہ سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
Ayah 26:219

وَ تَقَلُّبَكَ فِی السّٰجِدِیْنَ Open ayah 26:219 in the Quran reader

آپ کی نقل و حرکت پر سجدہ ریزوں میں

115{ تقلّب فی الساجدین } کا معنی و مطلب ؟ : سو ارشاد فرمایا " اور جو نگاہ رکھے ہوئے ہے آپ کی نقل و حرکت پر سجدہ کرنے والوں کے درمیان "۔ خواہ یہ نقل و حرکت دوسرے نمازیوں کے ساتھ نماز پڑھنے اور رکوع و سجود وغیرہ کرنے کی شکل میں ہو یا ان کی نگرانی اور ان کے حالات معلوم کرنے کی غرض سے۔ سو آپ ﷺ کا رب اور آپ ﷺ کا خالق ومالک آپ کو ہر وقت اور ہر حال میں دیکھتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو یہ ارشاد ربانی ایسے ہی ہے جیسا کہ صحیح بخاری و مسلم وغیرہ کی مشہور حدیث میں فرمایا گیا۔ " اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَانَکَ تَرَاہُ فَاِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہٗ یَرٰکَ " ۔ یعنی " احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی بندگی ایسے کرو جیسے تم اس کو دیکھ رہے ہو۔ سو اگر تم اس کو نہیں دیکھ سکتے تو وہ یقینا تمہیں دیکھ رہا ہے " (تفسیر المراغی (رح) وغیرہ) ۔ یہی مطلب اس آیت کریمہ کا تمام ثقہ اہل علم اور جمہور مفسرین کرام نے بیان فرمایا ہے۔ ملاحظہ ہو تفسیر طبری، ابن کثیر، قرطبی، صفوۃ التفاسیر، روح المعانی اور المراغی وغیرہ وغیرہ۔ اور بعض نے اس کا مطلب یہ بھی بیان کیا ہے کہ اس سے مراد آپ ﷺ کا اصلاب آبا و اُمہات میں منتقل ہوتے رہنا ہے۔ اور ہمارے اہل بدعت جو علم صحیح کی روشنی سے محروم اور ایسی ہی گری پڑی اور شاذ و نادر قسم کی روایات کی تلاش میں رہتے ہیں انہوں نے اسی قول کو اپنایا ہے۔ اور اس کو اپنے مزعومات کے مطابق خوب مرچ مسالہ لگا کر پیش کرتے ہیں۔ حالانکہ اگر یہ روایت صحیح بھی ہو تو یہ اللہ پاک کے اسی وسیع اور بےمثال علم کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ آپ کو ہر حال میں دیکھتا اور جانتا ہے اور بس۔ مگر یہ روایت سند کے لحاظ سے پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتی۔ اور خود لفظ تقلب میں بھی اس کے ضعف پر دلالت پائی جاتی ہے۔ کیونکہ تقلب اصل میں اس نقل و حرکت کو کہا جاتا ہے جو انسان اپنے ارادئہ و اختیار سے کرتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اصلاب آباء و اُمہات میں کی جانے والی نقل و حرکت میں انسان کے اپنے ارادئہ و اختیار کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ اسی لئے علامہ آلوسی (رح) جیسے محققین اس روایت کو اس آیت کریمہ کا مصداق قرار دینے کیلئے تیار نہیں اور وہ کہتے ہیں کہ میں اس روایت اور اس پر مبنی اس تفسیر پر اعتماد نہیں کرسکتا۔ (روح المعانی : ج 19 ص 138) ۔ نیز اس تفسیر کے اختیار کرنے پر کچھ اور تکلفات بھی کرنے پڑتے ہیں جو لوگوں کیلئے کئی اور مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ چناچہ اسی بنا پر ایسے لوگوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ آزر کے آپ (علیہ السلام) کا باپ ہونے سے انکار کیا کہ وہ مشرک تھا۔ اس لئے ان کو یہ کہنا پڑا کہ اس سے مراد ابراہیم کے باپ نہیں انکے چچا ہیں۔ حالانکہ یہ بلاوجہ کا تکلیف اور خروج عن الظاہر ہے جس کا ارتکاب ایسے لوگوں کو خواہ مخواہ اور اسی روایت کی بنا پر کرنا پڑا ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرحال آیت کریمہ کا مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ آپ کو ہر حال میں دیکھتا ہے اور آپ ہمیشہ اس کی نظر عنایت کے زیر سایہ رہتے ہیں تو بھروسہ ہمیشہ اسی وحدہ لاشریک پر رکھئے۔ اس کا بھروسہ آپ کے لئے ہر لحاظ سے کافی ہے۔ پھر آپ کو کسی کی کیا پرواہ ؟ وہ ہر حال میں آپ کو دیکھتا اور آپ کی نگرانی فرماتا ہے۔ جیسا کہ سورة طور میں ارشاد فرمایا گیا { فَاِنَّکَ بِاَعْیُنِنَا } (طور : 48) یعنی " آپ یقینا ہماری نگاہوں کے سامنے ہیں "۔ (محاسن التاویل وغیرہ) ۔
Ayahs 26:220–221

اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 26:220 in the Quran reader

بلاشبہ وہی ہے ہر کسی کی سنتا سب کچھ جانتا

هَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلٰى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیٰطِیْنُؕ Open ayah 26:221 in the Quran reader

لوگو ! کیا میں تم کو یہ بات نہ بتادوں کہ شیطان کس پر اترا کرتے ہیں ؟

116 شیاطین کن لوگوں پر اترتے ہیں ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا " کیا میں تم لوگوں کو نہ بتادوں کہ شیطان کس پر اترتے ہیں ؟ "۔ اوپر فرمایا گیا تھا کہ اس کتاب مبارک کو نہ شیطان لاسکتے ہیں اور نہ ہی وہ اس قابل ہیں۔ اب یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ آؤہم تمہیں بتائیں کہ شیطان کس قماش کے لوگوں پر اترا کرتے ہیں۔ وہ کیسے لوگ ہوتے ہیں اور ان کی امتیازی صفات کیا ہوتی ہیں ؟ کافر لوگ حضور ﷺ کیخلاف یہ پروپیگنڈہ کرتے تھے کہ آپ ﷺ ۔ نعوذ باللہ ۔ کاہن ہیں۔ اور جس طرح کاہنوں پر ان کے شیاطین غیب کی باتیں القاء کرتے ہیں اسی طرح آپ ﷺ پر بھی یہ شیاطین اس کلام کا القاء کرتے ہیں جس کو یہ صاحب وحی کے نام سے ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں۔ تو اس پر ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ اگر تم لوگ یہ جاننا چاہتے ہو کہ شیاطین کس طرح کے لوگوں پر اترتے ہیں تو آؤ میں تم کو بتاتا ہوں کہ وہ کون اور کیسے لوگ ہوتے ہیں۔ سو وہ ان لوگوں پر اترتے ہیں جو جھوٹے، دھوکے باز اور گناہوں میں لتھڑے ہوتے ہیں کہ مکھی گند ہی پر بیٹھتی ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 26:222

تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 26:222 in the Quran reader

وہ اترا کرتے ہیں ہر بہتان باز اور جعل ساز و بدکردار پر

117 اَفَّاکٍ کا معنی و مطلب ؟ : " اَفَّاکٍ "، " اِفَّکَ " سے مبالغے کا صیغہ ہے۔ اور " افک " کے اصل معنیٰ پلٹنے اور الٹا کردینے کے آتے ہیں۔ پس " افّاک " وہ شخص ہے جو سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ کر دکھائے۔ اور جب شیطان اس قسم کے جعل ساز لوگوں پر اترتے ہیں تو پھر سید الاولین والاخرین اور ازکی الازکیا فی العالمین ۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ ۔ پر ان کے اترنے کی تک ہی کیا ہوسکتی ہے ؟ بس یہ الزام سراسر افتراء و بہتان اور ان افتراء پردازوں کی خرد باختگی کا ثبوت و نشان ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو " اَفَّاکٍ " ایسے دروغ باز، جعل ساز اور مکار شخص کو کہا جاتا ہے جو سادہ لوح عوام کو بیوقوف بنانے کیلئے طرح طرح کے جھوٹ گھڑتا ہے اور اس کو طرح طرح کی ملمع سازیوں اور تلبیسات کے ذریعے ان کے سامنے پیش کرتا ہے۔ اور خاص کر ان کو رام کرنے کیلئے یہ انکو انکے سامنے اس دعوے کے ساتھ پیش کرتا ہے کہ یہ سب باتیں غیب کی ہیں۔ جو پر دئہ غیب سے اس پر القاء ہوئی ہیں۔ سو یہ ایسے لوگوں کی جن پر شیاطین اترتے اور ان پر وحی کرتے ہیں پہلی صفت بیان ہوئی کہ یہ لوگ " اَفَّاکٍ " اور جعل ساز لوگ ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ان کی دوسری صفت یہ بیان ہوئی کہ یہ " اثیم " و بدکار ہوتے ہیں۔ یعنی اخلاقی لحاظ سے یہ لوگ بہت گرے ہوئے اور ہر قسم کے گناہوں سے آلودہ اور ان کی میل سے بری طرح ملوث ہوتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ مردار خور جانور وہیں اکٹھے ہوتے ہیں جہاں ان کو مردار ملتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 26:223

یُّلْقُوْنَ السَّمْعَ وَ اَكْثَرُهُمْ كٰذِبُوْنَؕ Open ayah 26:223 in the Quran reader

وہ سنی سنائی باتین ان کے کانوں میں پھونکتے ہیں اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں۔

118ٰجعل سازوں اور ان کے کام کی نشاندھی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ جعل سازوں کا کام سنی سنائی باتوں کو آگے پھیلانا اور جعل سازی ہی کے لیے کان لگائے رکھنا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ سنی سنائی باتیں ان کے کانوں میں پھونکتے ہیں "۔ یعنی " سمع " کو یہاں پر " مسموع " کے معنیٰ میں لیا گیا ہے۔ اور دوسرا احتمال اس میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " سمع " یہاں پر آلہ سمع ۔ کان ۔ کے معنیٰ میں ہو کہ شیاطین آسمان سے عالم بالا کی خبریں سننے کے لئے کان لگاتے ہیں۔ مگر مار بھگائے جاتے ہیں۔ اور حدیث صحیح کے مطابق جب وہ اس طرح کی کوئی ایک آدھ بات سن لیتے ہیں تو اس کے ساتھ سو جھوٹ ملا کر اپنے چیلوں کو سناتے ہیں۔ اور اس طرح جھوٹ کی ترویج کی جاتی ہے۔ نیز اس کا ایک اور مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ جھوٹ سننے کے رسیا اور عادی ہوتے ہیں۔ اور وہ اسی کو سننے اور پانے کیلئے کان لگائے رکھتے ہیں۔ جیسا کہ ان کے دوسرے ہم مشرب یہود اور منافقین کے بارے میں دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { سَمَّاعُوْنَ لِلْکَذِبِ } ۔ نیز اس کا ایک اور مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے اور یہی زیادہ واضح اور یہاں پر چسپاں ہوتا ہے کہ ان لوگوں کا طریقہ واردات یہ ہوتا ہے کہ احمق لوگ جب ان کے پاس کسی معاملے میں غیب کی خبر معلوم کرنے کیلئے جاتے ہیں تو ایسے لوگ کچھ سفلی عملیات کیلئے مراقبہ کرتے ہیں۔ اور پھر کوئی مقفٰی و مسجع قسم کی عبارت ان کے سامنے بجالاتے ہیں جو کہ بالکل بےمعنیٰ یا ذومعنیٰ قسم کی ہوتی ہے۔ اور اس کو یہ لوگ ان کے سامنے اپنے الہام کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ ان پر یہ بات غیب سے فلاں جن نے القاء کی ہے۔ اور اپنے اس کاروبار کے سلسلے میں لوگوں کو دکھانے اور ان کو اپنا معتقد اور گرویدہ بنانے کیلئے ایسے جعل ساز اپنے مراقبے میں اس طرح بیٹھتے ہیں کہ گویا ہاتف غیبی سے کوئی بات سننے کیلئے کان لگائے ہوئے ہیں۔ اسی کو یہاں پر القائِ سمع سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ اور مراقبہ کا یہ طریقہ مشرک قوموں کے اندر قدر مشترک کے طور پر ہمیشہ موجود رہا۔ انکے کاہن، پروہت، جوگی، عامل اور قبروں کے مجاور لوگ اسی طرح کی نمائش کرتے ہیں۔ پہلے بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ سو { یُلْقَوْنَ السَّمْعَ } کے کلمات کریمہ کا عموم ان سب ہی مطالب و مفاہیم کو شامل ہے ۔ سبحان اللہ ۔ کیا کہنے اس جامعیت اور وسعت کے ۔ فالحمدللہ رب العالمین ۔ اللہ تعالیٰ اپنے کلام حکیم کے معانی و مطالب اور اسرار و رموز سے مزید از مزید آگہی سے مشرف فرمائے اور ہر قسم کے شرور و فتن سے اپنے فضل و کرم سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین یارب العالمین۔
Ayah 26:224

وَ الشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَؕ Open ayah 26:224 in the Quran reader

رہے شاعر تو ان کے پیچھے تو گمراہ لوگ ہی چلا کرتے ہیں۔

119 بےدین شعراء کے پیچھے چلنا گمراہوں کا کام ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " شعراء کے پیچھے گمراہ لوگ ہی چلتے ہیں "۔ جب کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے پیروکاروں اور آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کی تربیت وتعلیم سے فیضیاب ہونے والے پاکیزہ نفوس کی کوئی مثال انبیائے کرام کے بعد چشم فلک نے نہ اس سے پہلے کبھی دیکھی اور نہ آئندہ قیامت تک کبھی دیکھ سکے گی۔ تو پھر اس کلام معجز نظام سے کسی شیطانی تاثیر کا آخر تعلق ہی کیا ہوسکتا ہے ؟ ۔ چہ نسبت خاک را بہ عالم پاک۔ یہاں پر شعراء کی تعریف اور ان کا تعارف ان کے پیروکاروں سے کرایا گیا ہے۔ معلوم ہوا کہ کسی کے بارے میں معلوم کرنا ہو کہ وہ کیسا ہے تو اس کے رفقاء اور پیرو کاروں کو دیکھ لیا جائے کہ جیسے وہ ہوں گے ایسا ہی وہ شخص ہوگا۔ جیسا کہ کسی شاعر نے کہا اور خوب کہا ۔ لاتَسْأَلُ عَنِ الْمَرْئِ وَاسْئَل عَنْ قَرِیْنِہ ۔ فَکُلُّ قَرِیْنٍ بالْمُقَارِنِ یَقْتَدِی ۔ یعنی جب تمہیں کسی آدمی کے بارے میں جاننا ہو کہ وہ کیسا ہے تو اس کے بارے میں مت پوچھو بلکہ اس کے ساتھیوں کے بارے میں پوچھو کہ اس کے ساتھی کون اور کیسے لوگ ہیں ؟ اور اسکا بیٹھنا کن اور کیسے لوگوں کے ساتھ ہے ؟ کیونکہ ہر شخص اپنے ساتھی کے طریقہ ہی کی اقتداء و پیروی کرتا ہے۔
Ayah 26:225

اَلَمْ تَرَ اَنَّهُمْ فِیْ كُلِّ وَادٍ یَّهِیْمُوْنَۙ Open ayah 26:225 in the Quran reader

کیا تم دیکھتے نہیں کہ وہ کس طرح بھٹکتے پھرتے ہیں ہر وادی میں

120 شعراء کا کام ہر وادی میں بھٹکنا ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں "۔ وادی سے یہاں پر مراد وادی کلام ہے ۔ " اَیْ مِنْ اوَدیۃ الکلام " ۔ (جامع البیان : ج 2 ص 107) ۔ یعنی ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ کبھی وہ کلام کی کسی وادی میں بھٹک رہے ہوتے ہیں اور کبھی کسی وادی میں۔ سو کبھی وہ کسی کی تعریف کر کے اس کو آسمان پر چڑھا دیں گے اور سورج و چاند کی صفات اس میں ثابت کردیں گے۔ اور پھر موڈ بدلا تو اس کو نقائص و معائب کے ایسے گڑھے میں ڈال دیں گے کہ دنیا بھر کے عیوب اس میں جمع کردیں گے۔ کہ شعر کی خاصیت ہی یہ ہے کہ اس میں جتنا جھوٹ اور مبالغہ زیادہ ہوگا اتنا ہی اس کو عمدہ تصور کیا جائے گا۔ سو معلوم ہوا کہ شاعر لوگوں کے سامنے نہ کوئی پاکیزہ مقصد ہوتا ہے نہ کوئی متعین راستہ۔ بلکہ وہ ہمیشہ خواہشات اور اہوا و اَغراض نفس کے پیچھے بہتے چلے جاتے ہیں۔ جبکہ محمد رسول اللہ ﷺ کا مقصد و نصب العین سب سے اعلیٰ وارفع اور اس کا طریق بھی واضح و متعین اور نہایت صاف و ستھرا اور مقدس و پاکیزہ ایسا اور اس قدر کہ اس کی دوسری کوئی نظیر و مثال ممکن ہی نہیں۔ یعنی حق و صدق کی خود پیروی کرنا اور دوسروں کو اس کی دعوت دینا۔ اللہ کی طرف بلانا۔ آخرت کی ترغیب دینا اور دنیا سے بےرغبتی سکھانا اور اس کی حقیقت کو واضح کرنا۔ تاکہ راہ حق کا کوئی راہرو دھوکے کا شکار نہ ہوجائے۔ انسان کو حیوانیت محضہ کے قعر مذلت سے نکال کر شرف انسانیت کے منصب عالی پر بٹھانا اور اس کو اس کے خدا سے ملانا۔ تو ایسے میں آپ کے پیش فرمودہ اس کلام حق ترجمان کو بھلا شاعری سے کوئی نسبت ہی کس طرح ہوسکتی ہے ؟۔