26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayahs 26:112–115

قَالَ وَ مَا عِلْمِیْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 26:112 in the Quran reader

نوح نے فرمایا مجھے کیا لگے کہ ذاتی طور پر یہ لوگ کیا کام کرتے ہیں

اِنْ حِسَابُهُمْ اِلَّا عَلٰى رَبِّیْ لَوْ تَشْعُرُوْنَۚ Open ayah 26:113 in the Quran reader

ان کا حساب تو میرے رب کے ذمے ہے کاش کہ تم لوگ سمجھتے،

وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 26:114 in the Quran reader

اور میں بہرحال اپنے سے دور نہیں کرسکتا ایسے سچے ایمانداروں کو

اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 26:115 in the Quran reader

میں تو صاف طور پر خبردار کرنے والا ہوں اور بس

64 پیغمبر کا اصل کام انذار اور بس : سو حضرت نوح نے ان لوگوں کے اس متکبرانہ مطالبے کو ٹھکراتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ میں ایسے ایمانداروں کو اپنے سے دور نہیں کرسکتا۔ میرا کام تو صرف خبردار کردینا ہے کھول کر یعنی حق اور حقیقت کو واضح کر کے۔ سو اس سے آنجناب نے واضح فرما دیا کہ رِ شرافت تقویٰ و طہارت اور عمل و کردار ہے نہ کہ دنیاوی مال و دولت اور جاہ و منصب۔ سو حضرت نوح نے اپنے جواب سے اپنی پوزیشن اور اپنے فرض منصبی کو بھی واضح فرما دیا اور یہ بھی بتادیا کہ شرافت اور رذالت کا مدار انسان کے عمل و کردار پر ہے نہ کہ دنیاوی مال و دولت پر۔ یعنی میرے یہاں تو اصل اعتبار دولت ایمان کا ہے اور وہ ان خوش نصیبوں کے پاس موجود ہے جن کو تم لوگ اراذل ۔ گھٹیا ترین ۔ قرار دیتے ہو۔ لہذا میں تو کسی قیمت پر بھی ان کو اپنے سے دور کرنے کو تیار نہیں ہوسکتا۔ رہ گئی بات ان کی نجی زندگی اور انکے شخصی اعمال کی تو میرا ان سے کوئی واسطہ نہیں کہ اس کا حساب کتاب تو اللہ تعالیٰ ہی کے ذمے ہے جو کہ ظاہر و باطن کی ہر چیز کو ایک برابر جانتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ ان کا ماضی کیا تھا ؟ ان کے خاندان کیسے تھے ؟ وغیرہ وغیرہ۔ تو اس سے مجھے کیا واسطہ ؟ ان کے ماضی کا حساب تو میرے رب کے ذمے ہے۔ میرے ساتھ تو ان کا حاضر اور حال ہے جو انکے ایمان و عقیدہ اور عمل و کردار پر مبنی اور اس کا عکاس و آئینہ دار ہے۔ اور کسی کی شرافت اور رذالت کا دارومدار اس کے عمل و کردار ہی پر ہوتا ہے نہ کہ ان کے نسب اور دنیاوی مال و دولت پر۔ لہذا میں انکو نہیں ہٹا سکتا۔
Ayahs 26:116–117

قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰنُوْحُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِیْنَؕ Open ayah 26:116 in the Quran reader

آخر اس پر وہ لوگ دھمکی پر اتر آئے اور کہنے لگے کہ اے نوح، اگر تم باز نہ آئے تو تم ضرور بالضرور سنگسار کر دئیے جاؤ گے،

قَالَ رَبِّ اِنَّ قَوْمِیْ كَذَّبُوْنِۚۖ Open ayah 26:117 in the Quran reader

آخرکار نوح نے دعا کی کہ اے میرے رب میری قوم نے مجھے قطعی طور پر جھٹلا دیا

65 حضرت نوح کی دعا اپنے رب کے حضور : سو آخرکار حضرت نوح نے اپنے رب کے حضور فیصلے کی دعا و درخواست کی۔ یعنی یہ مطلب نہیں کہ ان کی دھمکی پر فوراً ہی حضرت نوح نے یہ دعا کردی۔ جیسا کہ ایجاز کلام کی وجہ سے بادی النظر میں ایسا محسوس ہوتا ہے۔ بلکہ یہ دراصل صدیوں پر محیط اس طویل قصے کا اجمال و اختصار ہے۔ جیسا کہ دو سرے مقام پر اس کی تفصیل و تصریح موجود ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان کے درمیان ساڑھے نو سو برس تک تبلیغِ حق فرمائی۔ اور ان لوگوں کو ہر طرح سے سمجھایا۔ اس طویل جدوجہد کے بعد جب یہ امر واضح ہوگیا کہ اب یہ لوگ راہ راست پر آنے والے نہیں اور وحی کے ذریعے آپ کو بتادیا گیا کہ اب ان میں سے کوئی ایمان لانے والا نہیں۔ پس جو ایمان لا چکے وہ لا چکے۔ تب آپ (علیہ السلام) نے یہ دعا فرمائی تاکہ جسد انسانیت سے یہ عضو مسموم ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے اور اللہ پاک کی زمین ایسی بدبخت اور ناہنجار قوم کے بوجھ سے ہمیشہ کیلئے پاک اور صاف ہوجائے۔ کیونکہ اب ان کے اندر خیر کی کوئی رمق باقی نہیں رہی۔ اور اب ان کے باقی رہنے کی صورت میں مزید فاسق اور بدکار لوگ پیدا ہوں گے اور خدا کی دھرتی پر ایسے فسادی عناصر کا مزید بوجھ پڑے گا۔ لہذا اب ان کو مٹا دے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا کہ نوح نے عرض کیا کہ " اے میرے رب اب زمین پر ان کافروں سے کوئی زندہ نہ چھوڑ۔ کیونکہ اب اگر تو نے ان کو زندہ چھوڑ دیا تو ان سے فاجر اور کافر لوگ ہی جنم لیں گے "۔ (نوح :26-27) ۔
Ayah 26:118

فَافْتَحْ بَیْنِیْ وَ بَیْنَهُمْ فَتْحًا وَّ نَجِّنِیْ وَ مَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:118 in the Quran reader

پس اب تو فیصلہ فرما دے میرے اور ان لوگوں کے درمیان کھلا فیصلہ اور نجات دے دے مجھے بھی اور ان ایمان والوں کو بھی جو میرے ساتھ ہیں،4

66 حضرت نوح کی دعا اپنی قوم کے بارے میں : سو حضرت نوح نے اپنی دعا میں اپنے رب کے حضور کہا کہ " ان لوگوں نے مجھے جھٹلا دیا۔ پس تو فیصلہ فرما دے اے میرے مالک میرے اور ان کے درمیان "۔ یعنی عملی طور پر دو ٹوک فیصلہ فرما دے جسکے مطابق یہ لوگ اپنے آخری انجام اور اپنے کیفر کردار کو پہنچ کر رہیں۔ ورنہ دلائل کی حد تک فیصلہ تو پہلے ہی ہوچکا ہے۔ اور معاملہ روز روشن کی طرح پہلے ہی واضح ہوچکا ہے۔ اور نجات دے دے مجھے بھی اور ان ایمان والوں کو بھی جو میرے ساتھ ہیں۔ سو یہاں سے پھر یہ امر واضح ہوگیا کہ پیغمبر بھی مشکل وقت میں اللہ ہی کو پکارتے ہیں کہ مجبور و بیکس کی پکار کو سننا صرف اور صرف اسی وحدہ لاشریک کا کام ہے۔ اور مشکل کشا وہی ہوسکتا ہے جو خود مشکل میں نہ پھنسے۔ اور حاجت روا بھی وہی ہوسکتا ہے جو خود ہر حاجت و ضرورت سے پاک ہو۔ اور وہ اللہ اور صرف اللہ ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس اس کے سوا کسی اور کو حاجت روا و مشکل کشا ماننا شرک ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ غَیْرُہ وَلاَ مَعْبُوْدَ بِحَقٍّ سِوَاہُ فَلَا نَعْبُدُ الَّا اِیَّاہُ جَلَّ وَ عَلَا شاْنَہٗ ۔ بہرکیف قوم کی ہٹ دھرمی اور اس کے اس آخری اور فیصلہ کن اعلان اور دھمکی کے بعد کہ اگر تم باز نہ آئے تو یقینا تم کو سنگسار کردیا جائے گا، حضرت نوح نے ان سے مایوس ہو کر حضرات انبیاء و رسل کی معروف سنت کے مطابق اپنے رب کے حضور یہ دعا کی کہ اے میرے رب چونکہ انہوں نے مجھے جھٹلا دیا ہے اور یہ اپنی ہٹ دھرمی پر اڑ گئے ہیں۔ اور اب انہوں نے ایمان نہیں لانا۔ لہذا اب تو میرے اور ان کے درمیان اپنا آخری اور قطعی فیصلہ صادر فرما دے۔ ان کو اپنے آخری اور منطقی انجام تک پہنچا دے اور مجھے اور میرے ایماندار ساتھیوں کو نجات سے سرفراز فرما دے کہ سب کچھ تیرے ہی قبضہ قدرت واختیار میں ہے۔
Ayahs 26:119–121

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۚ Open ayah 26:119 in the Quran reader

سو ہم نے ان کی دعا کو قبول کرتے ہوئے نجات دے دی ان کو بھی اور ان سب لوگوں کو بھی جو ان کے ساتھ تھے اس بھری کشتی میں،

ثُمَّ اَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبٰقِیْنَؕ Open ayah 26:120 in the Quran reader

پھر اس کے بعد ہم نے غرق کردیا سب باقی رہنے والوں کو،

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:121 in the Quran reader

بلاشبہ اس میں بڑی بھاری نشانی ہے مگر اکثر لوگ پھر بھی ایمان والے نہیں

68 نشانی عبرت میں دعوت غور وفکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ اس میں بڑی بھاری نشانی ہے۔ اس پر کہ کفر و باطل کا آخری انجام بہرحال تباہی اور ہلاکت ہے۔ خواہ اس کے لئے ان کو کتنی ہی ڈھیل اور مہلت کیوں نہ ملے۔ اور آخری غلبہ اور کامیابی حق اور اہل حق ہی کے لئے ہے خواہ اس کے لئے ان کو ابتلاء و آزمائش کی کتنی ہی بھٹیوں سے کیوں نہ گزرنا پڑے۔ جیسا کہ فرمایا گیا ۔ { وَالْعَاقِبَۃُ لِلَّتْقٰوی } ۔ نیز فرمایا گیا ۔ { وَالْعَاقِبَۃُ للْمُتََّقِیْنَ } ۔ پس مومن کی شان اور اس کا کام یہ اور صرف یہ ہے کہ وہ راہ حق و صواب پر ثابت قدم و مستقیم رہے۔ اور بھروسہ ہمیشہ اپنے رب ہی پر رکھے کہ حق کہتا پکارتا اور حق و ہدایت کی دعوت دیتا رہے۔ آخرِکار کامیابی بہرحال اسی کی اور صرف اسی کی ہوگی ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ ۔ مگر لوگوں کی اکثریت پھر بھی ایمان لانے والی نہیں۔ اور تیرے رب کی شان ہے کہ وہ انتہائی زبردست ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت ہی مہربان بھی ہے۔ اسی لیے اس نے انکو ڈھیل دے رکھی ہے ورنہ انکو کبھی کا ختم کردیا گیا ہوتا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس میں اس بات کی نشانی ہے کہ دعوت الی اللہ کے لیے کس قدر صبر و استقامت کی ضرورت ہے۔ اور حضرت نوح نے اس راہ میں کس قدر صبر و استقامت سے کام لیا ۔ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام -
Ayahs 26:122–123

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:122 in the Quran reader

اور بلاشبہ تمہارا رب بڑا ہی زبردست انتہائی مہربان ہے۔

كَذَّبَتْ عَادُ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:123 in the Quran reader

قوم عاد نے بھی جھٹلایا رسولوں کو1

69 ایک رسول کی تکذیب سب کی تکذیب ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " قوم عاد نے بھی جھٹلایا رسولوں کو "۔ سو جھٹلایا تو ان لوگوں نے اصل میں اپنے رسول حضرت ہود (علیہ السلام) ہی کو تھا مگر حضرات انبیائے کرام کی بعثت اور تشریف آوری کا اصل مقصد چونکہ ایک ہی اور مشترک مقصد ہوتا ہے۔ یعنی توحید اور عبودیت خداوندی کی دعوت۔ اس لئے ایک پیغمبر کی تکذیب دراصل سب ہی انبیاء ورسل کی تکذیب قرار پاتی ہے۔ اس لئے یہاں پر ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے سب رسولوں کی تکذیب کی تھی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ حضرت ہود کے تذکرہ کے ضمن میں یہاں پر فرمایا گیا۔ سو اس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ حضرت ہود ان کیلئے کوئی اجنبی شخص نہ تھے جو کہیں باہر سے یا اچانک ان کے اندر آگئے ہوں۔ اور یہ لوگ ان کی شخصیت سے واقف نہ ہوں۔ نہیں ایسی کوئی بات نہیں تھی۔ بلکہ وہ ان کے اندر بھی اور ان کے اپنے قومی اور نسبی بھائی تھے جن کی زندگی اور ان کا پاکیزہ اور بےداغ ماضی ان لوگوں کے سامنے تھا۔ اس کے باوجود ان کی تکذیب کو ان لوگوں کی بدبختی کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے۔ اور یہ لوگوں کی بدبختی ہے کہ وہ اللہ کی نعمت کو نقمت اور اس کی رحمت کو عذاب سمجھنے لگتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 26:124–127

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ هُوْدٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:124 in the Quran reader

جب کہ کہا ان سے ان کے بھائی ہود نے ان کو جھنجھوڑتے ہوئے کہ کیا تم لوگ ڈرتے نہیں ہو ؟2

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:125 in the Quran reader

بلاشبہ میں تمہارے لیے رسول ہوں اللہ کا امانت دار

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:126 in the Quran reader

پس تم ڈرو اللہ سے اور میرا کہا مانو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:127 in the Quran reader

اور میں تبلیغ حق کے اس کام پر تم لوگوں سے کوئی مزدوری نہیں مانگتا، میری مزدوری تو بس میرے رب العالمین کے ذمے ہے،

70 پیغمبر کی دعوت بےغرضانہ اور ہر قسم کے لوچ سے پاک :ـسو حضرت ہود نے ان لوگوں سے کہا کہ " میں تم سے دعوت و تبلیغ کے اس کام پر کوئی اجر نہیں مانگتا۔ اجر تو میرے رب ہی کے ذمے ہے "۔ کہ میری یہ سب کوشش و محنت اسی کی رضا کے لئے ہے۔ سو اس میں ہر داعی ٔحق کے لئے یہ ایک اہم اور بنیادی تعلیم و درس ہے کہ وہ اپنی دعوت و تبلیغ کے کام پر کسی دنیاوی مفاد کی طمع نہ رکھے۔ اس طرح ایک تو اس کا اجر وثواب محفوظ رہے گا اور دوسرے اس سے دنیاوی مشکلات اس کے لئے حوصلہ شکنی کا باعث نہیں بنیں گی۔ کیونکہ اس نے مخلوق سے ایسی کوئی توقع رکھی ہی نہیں ہوتی۔ اس لئے ایسی مشکلات اور مصائب اس کے لئے نئے نہیں ہوتے۔ اور تیسرے اس طرح اسے لوگوں کے درمیان ایک خاص عزت و عظمت بھی نصیب ہوگی۔ جیسا کہ حدیث پاک میں بھی ارشاد فرمایا گیا کہ دنیا سے آس توڑ دو تو اللہ پاک کے یہاں سب سے محبوب اور پیارے بن جاؤ گے۔ اور لوگوں کے پاس جو کچھ ہے اس سے آس توڑ دو تو لوگوں کے یہاں بھی سب سے محبوب ہوجاؤ گے ۔ سبحان اللہ ۔ " زُہْد فی الدّنیا " اور " زُہْدعمَّا فی اَیْدِی النّاس " کیا عمدہ نسخہ اور کتنی عظیم دولت ہے جس کی نبی امی نے تعلیم و تلقین فرمائی ہے۔ کہ یہ انسان کو خدائے ذوالجلال کی بارگاہ اقدس و اعلیٰ میں بھی محبوب بنا دیتی ہے اور لوگوں کی نظروں میں بھی۔ اور خدا کی کروڑوں رحمتیں ہوں اس نبی امی ۔ فداہ روحی و جسدی ۔ پر جنہوں نے ایسی مقدس و بےمثال تعلیم سے اپنی امت کو مالا مال فرما دیا ۔ فِایَّاکَ نَسْأَلُ اللّٰہُمَّ التَّوفِیْقَ لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی یَا رَبَّ الْعَالَمِیْنَ عِلْمًا وَّفَہْمًا وَّعَمَلًا وَّتَطْبِیْقًا ۔ اس ضمن میں اسی سورة کریمہ کے حاشیہ نمبر 62 پر بھی ایک مرتبہ پھر نظر ڈال لی جائے جہاں پر حضرت نوح کے اسی طرح کے ارشاد پر کچھ روشنی ڈالی گئی ہے ۔ والحمد للہ جل وعلا -
Ayahs 26:128–135

اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِیْعٍ اٰیَةً تَعْبَثُوْنَ Open ayah 26:128 in the Quran reader

کیا تم لوگ محض اپنی دولت و شوکت کی نمود کے لیے ہر اونچی جگہ پر ایک یادگار بنا ڈالتے ہو

وَ تَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَۚ Open ayah 26:129 in the Quran reader

بغیر کسی ضرورت و مقصد کے اور طرح طرح کے محل بناتے چلے جاتے ہو گویا تم نے اس دنیا میں ہمیشہ کے لیے رہنا ہے

وَ اِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَۚ Open ayah 26:130 in the Quran reader

اور سختی و بےرحمی کا یہ عالم ہے کہ جب تم گرفت کرتے ہو تو بڑے سنگ دل و بےرحم بن کر گرفت کرتے ہو،

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:131 in the Quran reader

پس ڈرو تم لوگ اللہ سے اور میرا کہنا مانو

وَ اتَّقُوا الَّذِیْۤ اَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُوْنَۚ Open ayah 26:132 in the Quran reader

اور تم ڈرو اس ذات اقدس و اعلیٰ سے جس نے نوازا ہے تم کو طرح طرح کی ان نعمتوں سے جن کو تم خود جانتے ہو،

اَمَدَّكُمْ بِاَنْعَامٍ وَّ بَنِیْنَۚۙ Open ayah 26:133 in the Quran reader

یعنی طرح طرح کے چوپایوں اور بیٹوں سے،

وَ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۚ Open ayah 26:134 in the Quran reader

اور قسما قسم کے باغوں اور چشموں سے،

اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍؕ Open ayah 26:135 in the Quran reader

مجھے سخت ڈر ہے تمہارے بارے میں ایک بڑے ہی ہولناک دن کے عذاب کا

73 کفر و انکار پر سخت عذاب کا خدشہ ۔ والعیاذ باللہ : سو حضرت ہود نے ان لوگوں کو تنبیہ و تذکیر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اگر تم لوگ اپنے کفر و انکار ہی پر اڑے رہے تو مجھے تمہارے بارے میں ایک بڑے ہی ہولناک دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔ جس کا بھگتان تم لوگوں کو بہرحال بھگتنا پڑے گا۔ اگر تم لوگ اڑے رہے اپنے کفر و انکار پر اور تم نے حقِّ شکر ادا نہ کیا اللہ پاک کی بخشی ہوئی ان عظیم الشان نعمتوں کا۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، المراغی وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کفر و انکار پر سخت عذاب کا آنا ایک طبعی امر ہے۔ کیونکہ رسول کی تکذیب کی بنا پر ایسے عذاب کا آنا اللہ پاک کی سنت کا مقتضیٰ ہے۔ سو حضرت ہود نے ان لوگوں کو اس اہم اور بنیادی حقیقت سے آگاہ فرمایا کہ جس مالک الملک نے تم لوگوں کو طرح طرح کی ان عظیم الشان نعمتوں سے نوازا اور سرفراز فرمایا ہے اس نے یہ نعمتیں تمہیں اس لیے نہیں دیں کہ تم آخرت اور وہاں کی جوابدہی کے تقاضوں کو پس پشت ڈال کر اللہ کی زمین میں جبار اور سرکش بن کر پھرو۔ بلکہ اس نے تم لوگوں کو ان نعمتوں سے اس لیے نوازا ہے کہ ان کے شکر میں تم اس کے فرمانبردار بندے بن کر رہو۔ ورنہ یاد رکھو کہ ایک بڑے ہی ہولناک دن کا عذاب تم پر آیا چاہتا ہے۔
Ayahs 26:136–145

قَالُوْا سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَوَ عَظْتَ اَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوٰعِظِیْنَۙ Open ayah 26:136 in the Quran reader

ان لوگوں نے اس کے جواب میں کہا کہ ہمارے لیے سب یکساں ہے خواہ تم نصیحت کرو یا تم واعظ نہ بنو،

اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 26:137 in the Quran reader

یہ تو محض گھسی پٹی کہانیاں ہیں پہلے لوگوں کی

وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَۚ Open ayah 26:138 in the Quran reader

اور ہمیں بہرحال کوئی عذاب نہیں ہونا،

فَكَذَّبُوْهُ فَاَهْلَكْنٰهُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:139 in the Quran reader

سو جب انہوں نے پیغمبر کی تکذیب ہی پر کمر باندھ لی تو آخرکار ہم نے ہلاک کردیا ان سب کو بلاشبہ اس میں بڑی بھاری نشانی ہے مگر اکثر لوگ پھر بھی ماننے والے نہیں۔3

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:140 in the Quran reader

اور بیشک تمہارا رب بڑا ہی زبردست نہایت ہی مہربان ہے۔

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:141 in the Quran reader

قوم ثمود نے بھی جھٹلایا رسولوں کو

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ صٰلِحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:142 in the Quran reader

جب کہ ان کے بھائی صالح نے ان سے کہا کہ کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:143 in the Quran reader

بلاشبہ میں تمہارے لیے رسول ہوں تمہارے رب کی طرف سے امانت دار

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:144 in the Quran reader

پس تم لوگ ڈرو اللہ سے اور میرا کہا مانو1

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:145 in the Quran reader

اور میں اس کام پر تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگتا میری مزدوری تو بس رب العالمین ہی کے ذمے ہے،

75 حضرت صالح کی مخلصانہ دعوت کا ذکر وبیان : سو اس سے حضرت صالح کی اپنی قوم کے سامنے اپنی دعوت میں بےغرضی کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے۔ سو حضرت صالح نے ان لوگوں سے کہا کہ میں دعوت و تبلیغ کے اس کام پر تم لوگوں سے کسی طرح کا کوئی اجر اور بدلہ نہیں مانگتا۔ میرا صلہ وبدلہ تو رب العالمین ہی کے ذمے ہے۔ سو حضرات انبیائے کرام کی دعوت بھی ایک اور انکا اسلوب اور طریق کار بھی ایک۔ یہاں آپ دیکھتے جائیے کہ ان تمام انبیائے کرام کی دعوت بھی ایک ہی ہے اور طریق کار اور انداز تخاطب بھی ایک ہی۔ کہ حق بہرحال ایک ہی ہے۔ توحید، رسالت اور آخرت کے تینوں بنیادی عقیدے سب ہی پیش فرما رہے ہیں کہ بندگی اللہ کی کرو۔ میرا کہنا مانو۔ یعنی رسالت پر ایمان و یقین لاؤ۔ اور اپنے انجام و آخرت کی باز پرس سے ڈرو۔ اور یہ کہ ہم یہ کام خالص اللہ کے لئے کر رہے ہیں۔ تم سے اس پر کسی بھی قسم کا کوئی بدلہ نہیں مانگتے۔ اس کے مقابلے میں اہل کفر و باطل کا رویہ بھی سب انبیائے کرام کے ساتھ ایک ہی رہا ہے کہ کھڑپینچ اور دنیا دار قسم کے لوگ ہر جگہ حق کو قبول کرنے کی بجائے اس کی تکذیب کرتے اور اس پر ایک ہی طرح کے اعتراضات و شبہات پیش کرتے ہیں۔ اس طرح اہل حق اور اہل باطل کے یہ دونوں رنگ اور دونوں نمونے بار بار دہرا کر یہ درس دیا جا رہا ہے کہ راہ حق کے قافلے کو کن حالات سے سابقہ پڑتا ہے۔ اور ان کا مقابلہ کس طرح کیا جاسکتا ہے ؟ اور اہل حق کی راہ میں کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -