26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayahs 26:41–42

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالُوْا لِفِرْعَوْنَ اَئِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:41 in the Quran reader

پھر جب آپہنچے وہ جادوگر تو انہوں نے چھوٹتے ہی فرعون سے کہا کہ اچھا صاحب کیا ہمارے لیے کوئی اجر و صلہ بھی ہوگا اگر ہم غالب رہے ؟

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ اِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ Open ayah 26:42 in the Quran reader

فرعون نے کہا جی ہاں (کیوں نہیں مالی انعام کے علاوہ) یہ بھی کہ اس صورت میں تم لوگ یقینا شامل ہوجاؤ گے مقرب لوگوں میں

27 جادوگروں کا پیشہ ورانہ مطالبہ اور فرعون کی طرف سے انعام کا وعدہ : یعنی تمہیں دربار میں کرسی ملے گی۔ آؤ بھگت ہوا کرے گی اور تم درباری لوگوں میں شامل ہوجاؤ گے وغیرہ وغیرہ۔ سو اس سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ ایمان و یقین کی دولت سے محروم لوگوں کے نزدیک اصل چیز دنیائے دوں کا متاع فانی اور اس کا حطام زائل ہی ہے۔ وہ اسی کیلئے جیتے اور اسی کیلئے مرتے ہیں۔ یہاں دیکھیے کہ ان لوگوں کا مقابلہ ان کے اپنے قول وقرار کے مطابق ان کے دین و ایمان اور ملک و ملت کا معاملہ ہے۔ اور ان کے اس مقابلے پر ایک لحاظ سے ان کے مستقبل کا دارومدار ہے۔ مگر اس سب کے باوجود جادوگر سب سے پہلے اپنے اسی مادی فائدے کا مطالبہ کرتے ہیں، اور فرعون انکو اس کی یقین دہانی کراتا ہے۔
Ayah 26:43

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 26:43 in the Quran reader

پھر عین مقابلہ کے موقع پر جادوگروں کے سوال پر موسیٰ نے ان سے کہا کہ ڈالو جو کچھ کہ تمہیں ڈالنا ہے

28 حضرت موسیٰ کے اعتماد و وثوق کا مظہر و نمونہ : کہ حضرت موسیٰ نے پورے اعتماد و وثوق سے کہا کہ " ڈال دو جو کچھ کہ تم لوگوں کو ڈالنا ہے " اور حضرت موسیٰ نے یہ بات جادوگروں کے پوچھنے پر ارشاد فرمائی کہ اس طرح حق کا غلبہ زیادہ نکھر کر سامنے آنے والا تھا۔ سو دیکھا آپ نے کہ حق پرستی انسان کو کس قدر قوت، ثابت قدمی اور اطمینان قلب سے بہرہ ور کردیتی ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) یکا و تنہا ہونے کے باوجود اتنے خوفناک اور رعب دار منظر میں بھی اپنے رب پر توکل کرتے ہوئے کامل اطمینان سے ان کو جواب دیتے ہیں ۔ { اَلْقُوْا مَا اَنْتُمْ مُلْقُوْنَ } ۔ " ڈال دو جو کچھ کہ تم کو ڈالنا ہے "۔ سو اس پر انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں وغیرہ جو کچھ ڈالنا تھا وہ ڈال دیا اور ایک بڑا ہی ہولناک اور خوفناک جادو پیش کردیا جس سے وہاں پر موجود سب لوگ خوف زدہ ہو کر رہ گئے۔ ان کی آنکھیں بند ہوگئیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی اس طرح تصریح فرمائی گئی ہے ۔ { فلما القوا سحروا اعین الناس واسترہبوہم وجاؤوا بسحر عظیم } ۔ (الاعراف : 116) ۔
Ayah 26:44

فَاَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَ عِصِیَّهُمْ وَ قَالُوْا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ اِنَّا لَنَحْنُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 26:44 in the Quran reader

اس پر انہوں نے پھینک دیں اپنی رسیاں اور لاٹھیاں اور بولے فرعون کے اقبال کی قسم ہم ہی نے بہرحال غالب آکر رہنا ہے

29 جادوگروں کی اپنے غلبے کے لیے ایک مشرکانہ قسم : سو جادوگروں نے فرعون کے اقبال کی قسم کھا کر کہا کہ " یقینا ہم ہی غالب رہیں گے "۔ کیونکہ فرعون ان لوگوں کے یہاں دیوتا کی حیثیت رکھتا تھا۔ سو یہ ہے مشرکوں کا طرہ امتیاز۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے کہ میدان میں اترتے وقت وہ اللہ کی بجائے اس کی کسی مخلوق ہی میں سے کسی کا سہارا لیں گے اور اس کا نام لیں گے۔ سو ان جادوگروں نے فرعون کی عزت اور اس کے اقبال کا نعرہ لگایا تو آج کا کلمہ گو مشرک " یا علی مدد "، " علی مشکل کشا "، " یا غوث دستگیر " وغیرہ کے نعرے لگاتا ہے۔ اور بدعتی ملاں اور مشرک پیر اس کی پیٹھ ٹھونکتا ہے کہ یہ سب ٹھیک ہے۔ اور یہ غیر اللہ سے مدد مانگنا نہیں کیونکہ خاصان خدا، خدا کے غیر نہیں ہوتے۔ مگر جب اہل توحید کی طرف سے پوچھا جاتا ہے کہ غیر کیوں نہیں ؟ جبکہ وہ خالق ہے اور یہ مخلوق ؟ تو ان مشرکوں سے آئیں بائیں شائیں کے سوا کوئی جواب نہیں بن پڑتا۔ اور یہ لوگ اتنی موٹی بات بھی نہیں سوچتے کہ جو خود موت کے گھاٹ اتر گئے وہ دوسروں کے حاجت روا اور مشکل کشا کس طرح ہوسکتے ہیں ؟ بہرکیف وہ لوگ چونکہ فرعون کو دیوتا بلکہ مہا دیوتا اور سورج دیوتا سمجھتے اور مانتے تھے اس لیے انہوں نے اس کے اقبال کی قسم کھائی اور یہی حال ہمیشہ رہا ہے مشرکوں کا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو انہوں نے قسم کھا کر کہا کہ فرعون کے اقبال کی قسم غلبہ یقینا ہمارا ہی ہوگا۔
Ayahs 26:45–46

فَاَلْقٰى مُوْسٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚۖ Open ayah 26:45 in the Quran reader

پھر موسیٰ نے بھی ڈال دیا اپنی لاٹھی کو تو اس نے یکایک نگلنا شروع کردیا اس سارے سوانگ کو جو ان لوگوں نے بڑے طمطراق سے رچایا تھا

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۙ Open ayah 26:46 in the Quran reader

اس پر وہ سب جادوگر بےساختہ اپنے رب کے حضور سجدے میں گرپڑے

30 حق کا غلبہ اور باطل کی بےمثال شکست : سو غلبہ حق سب کے سامنے آگیا " اور بےساختہ سجدے میں گرگئے وہ سب جادوگر "۔ یہاں پر یوں نہیں فرمایا کہ جادوگر سجدے میں گرگئے بلکہ " القی " کا صیغہ استعمال فرمایا گیا ہے کہ وہ سجدے میں ڈال دئیے گئے۔ یعنی ان کے اندر سے ہی کوئی ایسی زبردست تحریک پیدا ہوئی اور یکدم ایسا جذبہ ابھرا کہ وہ سب کے سب بلا اختیار اور بےساختہ طور پر سجدے میں گرپڑے۔ جیسا کہ ترجمہ بھی اسی طرح کیا گیا ہے۔ اور اس طرح فرعون اور اس کے حواریوں کی ساری دوڑ دھوپ خود ان کی توقعات کے بالکل برعکس حق کے غلبہ و اظہار کا ذریعہ بن گئی ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ سو جادو اور معجزہ کے درمیان فرق کو سب سے زیادہ ایک جادوگر ہی سمجھ سکتا ہے۔ سو اگر اس کے اندر حق کی رمق موجود ہو تو وہ معجزے کی صداقت کو جان کر اس کو اپنا سکتا ہے اور ان جادوگروں کے اندر وہ رمق چونکہ موجود تھی اس لیے وہ عصائے موسیٰ کے معجزے کو دیکھتے ہی اس کے آگے سر تسلیم خم ہو گیے۔ فورا اپنے خالق ومالک کے آگے سجدہ ریز ہوگئے اور علی رؤس الاشہاد اپنے ایمان کا اعلان کردیا اور اس تصریح کے ساتھ کہ ہم رب العالمین پر ایمان لے آئے یعنی اس مالک اور ربِّ حقیقی پر جو کہ موسیٰ اور ہارون کا رب ہے۔
Ayahs 26:47–50

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:47 in the Quran reader

اور پکار اٹھے کہ ہم سب ایمان لے آئے پروردگار عالم پر

رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 26:48 in the Quran reader

یعنی موسیٰ اور ہارون کے رب پر2

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ؕ۬ لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُوصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَۚ Open ayah 26:49 in the Quran reader

فرعون سیخ پا ہو کر بولا کیا تم لوگ اس شخص کے کہنے پر ایمان لے آئے قبل اس سے کہ میں تم کو اس کی اجازت دیتا ؟ یقینا یہ تمہارا استاد ہے جس نے تم کو جادوگری کا یہ کاروبار سکھایا ہے سو تمہیں اپنے کیے کا انجام ابھی معلوم ہوجاتا میں ضرور بالضرور کٹوا کر رہوں گا تمہارے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے اور میں ضرور بالضرور پھانسی پر لٹکا کر چھوڑوں گا تم سب کو ایک ساتھ ہے

قَالُوْا لَا ضَیْرَ١٘ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ Open ayah 26:50 in the Quran reader

مگر ایمان و یقین کی دولت سے مشرف ہوجانے والے ان جادوگروں نے بڑے اطمینان کے ساتھ جواب دیا کہ کوئی پرواہ نہیں ہمیں تو بہرحال اپنے رب ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے3

32 قوت ایمان و یقین کی انقلاب آفرینی کا ایک مظہر و نمونہ : سو ان سچے ایمانداروں نے فرعون کی اس ہولناک دھمکی کے جواب میں پورے اطمینان سے کہا کہ تجھے جو کرنا ہے کرلے۔ ہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ ہمیں تو بہرحال اپنے رب ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ سو جب جانا بہرطور اسی کے پاس ہے تو اگر شہادت کے ذریعے جانا نصیب ہوجائے تو پھر اور کیا چاہیئے ۔ سبحان اللہ ۔ ایمان کی قوت انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتی ہے۔ کہاں کفر کی حالت میں پہلے ہی قدم پر یہی جادوگر یہ سوال کرتے تھے کہ جیتنے پر ہمیں کیا صلہ و انعام ملے گا ؟ اور کہاں ایمان و یقین کی دولت سے سرفرازی کے بعد اب یہی لوگ اپنی جانوں کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرتے اور موت کے پھندے کو گلے لگانے کے لئے بخوشی تیار ہوجاتے ہیں۔ کسی خوف و اندیشے کا کوئی سوال ہی نہیں ۔ فَارْزُقْنَا اَللّٰہُمَّ حَلاوَۃَ الاِیْمَانِ وَقُوَّۃَ الْیَقِیْنِ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ۔ سو فرعون نے تو ان کو اتنی سخت دھمکی دی کہ اس طرح یہ لوگ ڈر کر اپنے اس قول وقرار سے لوٹ آئیں گے۔ مگر لذت ایمان اور قوت یقین سے محروم اس بندئہ مادہ و معدہ کو کیا خبر تھی کہ نور ایمان و یقین سے سرفرازی کے بعد یہ لوگ ایک ہی جست میں کہاں سے کہاں پہنچ گئے اور نور ایمان کی ایک ہی جھلک نے ان کو عزت و عظمت کے اس مقام پر پہنچا دیا جہاں اس کی سلطنت کی حیثیت ان کی نگاہوں میں بال مگس کے برابر بھی نہیں رہ گئی تھی۔ سو انہوں نے پوری بےخوفی اور کامل اطمینان کے ساتھ فرعون کی اس سخت دھمکی کا جواب دیا کہ اگر تو نے یہ سزا ہم لوگوں کو دی جسکی دھمکی تو ہمیں دے رہا ہے تو نہ ہمیں اس کی کوئی پرواہ ہے اور نہ ہی اس میں ہمارا کوئی نقصان کہ ہم نے تو بہرحال اپنے رب ہی کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔ عام طبعی موت کی بجائے اگر شہادت کے ذریعے جائیں تو ہمیں اور کیا چاہیے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayah 26:51

اِنَّا نَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَاۤ اَنْ كُنَّاۤ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِیْنَؕ۠ Open ayah 26:51 in the Quran reader

ہم تو اس امید سے پوری طرح سرشار ہیں کہ ہمارا رب بخش دے گا اپنے رحم و کرم سے ہماری خطاؤں کو کہ اس بھرے مجمع میں سب سے پہلے ایمان لانے کی سعادت ہم ہی کو نصیب ہوئی ہے۔1

33 نور ایمان و یقین سے بعد پر جواب : سو ان مومنین صادقین نے فرعون کی اس دھمکی کے جواب میں اس سے کہا کہ ہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ ہمیں تو اپنے رب سے اپنی خطاؤں کی معافی کی امید ہے۔ اور حسن ادب ملاحظہ ہو کر کوئی شوخی یا تکبر نہیں بلکہ نہایت متواضعانہ انداز میں کہتے ہیں کہ ہمیں تو اپنے رب کی رحمت و ربوبیت سے قوی امید ہے کہ وہ ایمان میں پہل کرنے کی اس سعادت کے باعث جو ہمیں نصیب ہوئی ہے ہمارے گناہ معاف فرما دے گا ۔ فَسُبْحَان اللّٰہِ مِنْ عَظَمَۃِ الاِیْمَانِ و ہَدَایِتَہ ۔ بہرکیف انہوں نے کہا کہ چونکہ ہم اپنی قوم یعنی قبط میں سے سب سے پہلے ایمان لانے کے شرف سے مشرف ہوئے ہیں۔ اس لیے اس سبق فی الایمان کی بنا پر اپنے رب سے امید ہے کہ ہمارا رب ہماری خطائیں معاف فرما دے گا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو تیرے نزدیک تو اے فرعون یہ ہمارا سب سے بڑا جرم ہے کہ ہم سب سے پہلے ایمان لے آئے۔
Ayahs 26:52–56

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْۤ اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَ Open ayah 26:52 in the Quran reader

اور ادھر جب فرعون بنی اسرائیل کی آزادی پر آمادہ نہ ہوا تو ہم نے وحی بھیجی موسیٰ کو کہ راتوں رات نکل جاؤ میرے بندوں کو لے کر، بیشک تمہارا پوری طرح پیچھا کیا جائے گا

فَاَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۚ Open ayah 26:53 in the Quran reader

چناچہ فرعون نے غیظ و غضب کے عالم میں بھیج دیے ہر کارے سب بڑے بڑے شہروں میں

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِیْلُوْنَۙ Open ayah 26:54 in the Quran reader

کہ یہ لوگ ایک چھوٹی سی جماعت ہیں تھوڑے سے لوگوں

وَ اِنَّهُمْ لَنَا لَغَآئِظُوْنَۙ Open ayah 26:55 in the Quran reader

اور انہوں نے سخت غصہ دلایا ہے مابدولت کو

وَ اِنَّا لَجَمِیْعٌ حٰذِرُوْنَؕ Open ayah 26:56 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہماری بھاری جمعیت کو بہرحال چوکنا رہنا ہے

35 اور ہماری بھاری جمعیت کو بہرحال چوکنا رہنا ہے : سو ایسا فرعون نے اپنی خفت کو مٹانے اور حواس باختگی پر پردہ ڈالنے کے لئے کہا کہ جمعیت تو ہماری بلاشبہ بہت بڑی ہے مگر ہمیں چوکنا رہنے کی ضرورت بہرحال ہے۔ سو ہم ایک بھاری جمعیت ہیں جو ہر طرح کے ذرائع و وسائل اور اسباب قوت رکھتے ہیں۔ لہذا ہم اس " شرذمہ قلیلہ " یعنی چھوٹے سے گروہ سے نمٹنے کیلئے پوری طرح چوکس اور تیار ہیں۔ ہم ان کو کبھی یہ موقع نہیں دے سکتے کہ یہ ہمارے اس ملک میں گڑبڑ پھیلائیں اور ہمارے امن وامان کیلئے خطرہ بنیں اور ہمارے قابو سے باہر نکل جائیں۔ سو یہ تو اس طاغیہ کی بڑھکیں تھیں جو وہ اپنے اندر کے خوف کو چھپانے اور اپنی قول کے مورال کو اپ کرنے کیلئے مار رہا تھا۔ لیکن اس کو نہیں پتہ تھا کہ اس طرح وہ اب آخری انجام کے قریب پہنچ گیا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حق کی ضرب کتنی سخت اور کس قدر کاری ہوتی ہے۔
Ayahs 26:57–58

فَاَخْرَجْنٰهُمْ مِّنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 26:57 in the Quran reader

سو وہ سب اپنے لاؤ لشکر سمیت بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکل پڑے اس طرح ہم نے ان کو نکال باہر کیا باغوں اور چشموں سے

وَّ كُنُوْزٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 26:58 in the Quran reader

اور خزانوں و عمدہ مکانوں سے یونہی کیا2

36 خداوند قدوس کے دست غیب کی کارستانی کا ایک نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی طرح نکال باہر کیا ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے اور خزانوں و عمدہ مکانوں سے۔ خداوند قدوس کو اپنے احکام و فرامین کی تنفیذ کے لئے دنیاوی بادشاہوں کی طرح ظاہری فوجوں اور پولیس وغیرہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ اس طرح کام کرتا ہے کہ اگلوں کو اس کا احساس تک نہیں ہوتا ۔ { فَاٰتٰہُمُ اللّٰہُ مِنْ حَیْثُ لَمْ یَحْتَسِبْ } ۔ (الحشر : 2) اور اس کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ { وَمَا یَعْلَمُ جُلُوْدَ رَبِّک اِلَّا ھُو } ۔ (المدثر : 31) ۔ ذرا سوچیئے کہ کیا دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی حکومت بھی اس طرح کرسکتی ہے کہ اتنے بڑے لاؤ لشکر کو ان کے گھروں سے نکال کر اس طرح یکبارگی موت کے گھاٹ اتار دے ؟ دنیاوی حکومتیں تو اپنے مخالفوں کو کچلنے اور ان کو زیر کرنے کیلئے اندھا دھند بمباری اور وحشیانہ فائرنگ سے شہروں کے شہروں کو اجاڑ کر رکھ دیتی ہیں جس میں بےگناہ اور معصوم لوگوں کی جانیں جاتی ہیں۔ عصمتیں لٹتی ہیں۔ گھر اور عبادت گاہیں اجاڑ اور ویراں ہوجاتی ہیں اور گیہوں کے ساتھ گھن بھی پس جاتے ہیں۔ جیسا کہ آج جمہوریہ چیچنیا، بوسنیا، مقدونیہ اور کشمیر وغیرہ کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ لیکن اس کی کوئی مثال پوری تاریخ انسانیت میں کہیں نہیں مل سکے گی کہ کسی باغی اور سرکش حکومت کے باغی اور سرکش عناصر کو اس طرح چن چن کر ان کے کیفر کردار تک پہنچایا گیا ہو کہ ظالموں کے سوا اور کسی کو کوئی گزند نہ پہنچی ہو۔ اور کسی کا نہ کوئی مکان ٹوٹا ہو اور نہ کسی کا کوئی مال لوٹا گیا ہو۔ سو یہ خدائے عزیز وقہار کی قدرت قاہرہ اور عدالت و حکمت باہرہ کا ایک زبردست اور منفرد نمونہ ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
Ayah 26:59

كَذٰلِكَ١ؕ وَ اَوْرَثْنٰهَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:59 in the Quran reader

اور ہم نے وارث بنادیا ایسی چیزوں کا بنی اسرائیل3 جیسی لٹی پٹی قوم کو

37 بنی اسرائیل کی آزادی اور ان کی نعمتوں سے سرفرازی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے وارث بنادیا بنی اسرائیل کو ایسی ہی چیزوں کا "۔ یعنی انہی جیسی چیزوں کا جبکہ ان کو ایک آزاد قوم کی طرح فلسطین کی ارض مقدسہ میں آباد ہونے کا موقعہ ملا۔ اور یہ ہم نے اس لئے کہا کہ تاریخی اعتبار سے ان لوگوں کی مصر واپسی کے لئے کوئی قطعی ثبوت نہیں ملتا اگرچہ عام طور پر مفسرین کرام اس آیت کریمہ کے ظاہر مفہوم کے اعتبار سے یہی کہتے ہیں کہ یہ فلسطینی فرعونیوں کی ہلاکت کے بعد واپس آ کر مصر میں ان چیزوں کے مالک بن گئے تھے۔ اور قرطبی وغیرہ نے اس بارے میں حضرت حسن ؓ سے ایک روایت بھی نقل کی ہے۔ لیکن محققین کا کہنا یہ ہے کہ چونکہ ان کا تاریخی اعتبار سے واپس مصر لوٹنا کسی قطعی دلیل سے پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتا اس لئے یہاں پر { اَوْرثنْٰہٰا } کی ضمیر سے مراد انہی جیسی اشیاء اور ایسی ہی نعمتیں ہیں جن سے ان لوگوں کو ارض فلسطین میں نوازا گیا تھا جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا ۔ " اَیْ مُمَاثِلَۃً لَہا فِیْ اَرْضِ المِیْعَاد الّتی صارُوْا اِلَیْہا " ۔ (المراغی وغیرہ) اور قرآنی ارشادات سے بھی اسی کی تائید و تصدیق ہوتی ہے۔ مثلاً سورة اعراف میں ارشاد ہوتا ہے۔ { وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ کَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَہََا الَّتِیْ بَارَکْنَا فِیْھَا } ۔ (الاعراف : 137) یعنی " ہم نے ۔ اپنی قدرت و عنایت سے ۔ مالک و وارث بنادیا ان کمزور ۔ اور گھسٹے پٹے ۔ لوگوں کو اس سرزمین کے مشارق و مغارب کا جس میں ہم نے طرح طرح کی برکتیں رکھی تھیں " ۔ اور ارض مقدس اور ارض مبارک کے کلمات کریمہ سے قرآن حکیم میں ارض فلسطین ہی کو ذکر و موسوم فرمایا گیا ہے۔ اسی کو ارض میعاد کہا جاتا ہے اور اسی کا ان لوگوں سے وعدہ بھی فرمایا گیا تھا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { وَنُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَی الَّذِیْنِ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَنَجْعَلَہُمْ اَئِمّۃً وَّنَجْعَلُھُمُ الْوَارِثِیْنَ } ۔ (القصص : 5) اس لئے محققین کے نزدیک سورة شعراء کی اس آیت کریمہ میں وارد { اَوْرثْنٰہا } کی ضمیر سے مراد بعینہ یہی اشیاء اور نعمتیں نہیں ہیں بلکہ اس سے مراد ان جیسی اور ان سے ملتی جلتی وہ نعمتیں ہیں جن سے ان کو فلسطین کی مبارک و مقدس سرزمین میں نوازا گیا تھا اور جہاں بعد میں حضرت داؤد اور حضرت سلیٰمن ۔ علی نبینا وعلیہما الصلوۃ والسلام ۔ کی عظیم الشان حکومتیں قائم ہوئیں۔ اور جو مصر وغیرہ تک قرب و جوار کے مختلف علاقوں تک پھیل گئی تھیں ۔ وَالْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰہِ سُبْحَانَہ وَتَعَالٰی وَھُوَ اَعَلَمُ بِمْرادِ کَلَامِہٖ وَاَسْرَارِہٖ وَغَوَامِضِہٖ جَلّ وَعَلا ۔ سو { و اور ثناھا } کی اس ضمیر منصوب کا مرجع ایسے ہی ہے جیسا کہ سورة مائدہ کی اس آیت کریمہ کا ہے ۔ { قَدْ سَاَلَہَا قَوْمٌ مِنْ قَبْلِکُمْ } ۔ (المائدۃ : 102) ۔
Ayahs 26:60–65

فَاَتْبَعُوْهُمْ مُّشْرِقِیْنَ Open ayah 26:60 in the Quran reader

بہرکیف فرعونی لوگ آپہنچے ان کے پیچھے سورج نکلے کے وقت

فَلَمَّا تَرَآءَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰۤى اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَۚ Open ayah 26:61 in the Quran reader

پھر جب آمنا سامنا ہوا ان دونوں گروہوں کا تو چیخ اٹھے موسیٰ کے ساتھی کہ ہم تو بالکل پکڑے ہی گئے

قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 26:62 in the Quran reader

موسیٰ نے فرمایا ہرگز نہیں، بیشک میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور میرے لیے نجات کی کوئی راہ نکالے گا

فَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ١ؕ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 26:63 in the Quran reader

چناچہ ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ مار دو اپنا عصا سمندر پر پس عصا کا مارنا تھا کہ پھٹ پڑا سمندر اور ہوگیا اس کا ہر ٹکڑا ایک عظیم الشان پہاڑ کی طرح

وَ اَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِیْنَۚ Open ayah 26:64 in the Quran reader

اور قریب لے آئے ہم اسی جگہ دوسرے گروہ کو

وَ اَنْجَیْنَا مُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۚ Open ayah 26:65 in the Quran reader

اور بچا لیا ہم نے اپنی قدرت و عنایت سے موسیٰ کو اور ان سب کو جو ان کے ساتھ تھے

39 نجات دہندہ سب کا اللہ ہی ہے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حاجت روا و مشکل کشا اور سب کے نجات دہندہ اللہ تعالیٰ ہی ہیں۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے بچا لیا موسیٰ کو بھی اور ان سب کو بھی جو انکے ساتھ تھے کہ نجات دہندہ اور سب کے حاجت روا و مشکل کشا ہم ہی ہیں۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ بچانا اور نجات دینا صرف اور صرف اللہ پاک کا کام اور اسی کی صفت و شان ہے۔ نہ کہ کسی مخلوق کی۔ حضرات انبیاء و رسل کی پاکیزہ اور مقدس ہستیاں بھی اسی کی محتاج ہیں اور جب انبیاء و رسل اور موسیٰ جیسے جلیل القدر پیغمبر بھی اسی نجات دہندہ کے محتاج و منتظر ہیں تو پھر اور کون ہے جو دوسروں کا حاجت روا و مشکل کشا ہو سکے ؟ ۔ اَعَاذَنَا اللّٰہُ مِنْ اَدْنَاس الشِّرْکِ وَالْاَوْھَامِ ۔ سو حاجت روا و مشکل کشا سب کے یہاں تک کہ حضرات انبیائے کرام کے بھی اللہ وحدہ لاشریک ہی ہیں۔ پس بڑے گمراہ اور بڑے اندھے اور اوندھے ہیں وہ لوگ جو اس وحدہ لا شریک کے سوا مختلف فانی ہستیوں کو حاجت روا و مشکل کشا قرار دیکر پوجتے پکارتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کو شرک کے شائبہ سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 26:66–67

ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَؕ Open ayah 26:66 in the Quran reader

پھر وہیں غرق کردیا ہم نے دوسروں کو

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:67 in the Quran reader

بیشک اس میں بڑی بھاری نشانی ہے مگر اکثر لوگ پھر بھی ماننے والے نہیں

40 بیشک اس میں بڑی بھاری نشانی ہے : اللہ پاک کی قدرت و عنایت کی اور اس بات کی کہ فتح آخر کار حق اور اہل حق ہی کی ہوتی ہے۔ اور حق کا مقابلہ کرنے والوں کا انجام آخر کار تباہی اور ہلاکت ہی ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ مگر ایسے درسہائے عبرت و بصیرت انہی لوگوں کو مل سکتے ہیں جو صحیح طور پر غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔ اور جو ایسا نہیں کرتے وہ اندھے کے اندھے اور اوندھے کے اوندھے ہی رہتے ہیں۔ ان کو راہ حق و ہدایت سوجھ کے نہیں دیتی۔ یہاں تک کہ وہ اپنے آخری انجام کو پہنچ کر رہتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور عقل کے ایسے اندھے ایسی بصیرت افروز نشانیوں میں غور و فکر سے کام لیتے اور درس عبرت حاصل کرنے کی بجائے اپنی من پسند نشانیوں کے مطالبے ہی کرتے رہ جاتے ہیں اور بڑی سے بڑی نشانیاں دیکھنے کے باوجود انکو متکبر و ہٹ دھرم فرعونیوں کی طرح ایمان لانے توفیق نہیں ملتی۔ یہاں تک کہ وہ اپنے آخری اور ہولناک انجام کو پہنچ کر رہتے ہیں۔ سو عناد و ہٹ دھرمی اور غفلت و لاپرواہی محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 26:68

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:68 in the Quran reader

اس کے باوجود ان لوگوں کو یہ مہلت ؟ واقعی تمہارا رب بڑا ہی زبردست ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مہربان بھی ہے

41 رب کی صفت ِ عزت و رحمت کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک تمہارا رب بڑا ہی زبردست انتہائی مہربان ہے۔ اور زبردست اتنا کہ کوئی بھی اس کی گرفت و پکڑ سے بچ نہیں سکتا۔ مگر مہربان اتنا کہ بڑے سے بڑے مجرموں کو بھی مہلت پر مہلت دئے جاتا ہے۔ اور اس کی رحمت کا دروازہ ہر ایک کے لئے کھلا ہے ۔ فَلَکَ الْحَمْدُ یَارَبّیْ کَمَا یَلِیْقُ بِجَلَالِ وَجْھِکَ وَعَظِیْمِ سُلطانک۔ سو اس کی قوت وقدرت سب پر فائق اور سب سے اعلیٰ وبالا ہے۔ ذرا دیکھو تو سہی کہ کہاں فرعون کا وہ طمطراق تھا اور وہ ۔ { اَنَا رَبُّکُمُ الاَعْلیٰ } ۔ کے دعوے کرتا اور اپنی خدائی کے نعرے بلند کرتا تھا۔ اور کہاں آج اس کا یہ انجام ہے کہ اس کو کوڑے کرکٹ کی طرح اپنے لاؤ لشکر سمیت غرق دریا کردیا گیا۔ سو یہ اسی قادر مطلق و عزیز وقہار کی قدرت و کارستانی کا ایک نمونہ و مظہر ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی وہ مہربان بھی اتنا بڑا ہے کہ سچی توبہ پر زندگی بھر کے گناہ یکسر معاف فرما دیتا ہے اور ان کو توبہ و رجوع الی اللہ کی مہلت دیتا ہے تاکہ وہ اپنے ہولناک انجام سے بچ جائیں۔ بہرکیف یہ اس سرگزشت کے آخر میں ترجیع کی آیت کریمہ ہے جس کو اس سورة کریمہ میں بار بار دوہرایا گیا۔ سو اس میں بندوں کے لیے یہ درس عظیم ہے کہ ان کو اس ربِّ عزیز و قدیر کی گرفت و پکڑ سے ہمیشہ ڈرتے رہنا چاہیے کہ اس کی گرفت و پکڑ بڑی ہی سخت ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { اِنَّ اَخْذَہ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ } ۔ نیز اس کی رحمت و عنایت کی امید سے بھی ہمیشہ سرشار رہنا چاہیے کہ اس کی رحمت بڑی ہی وسیع ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { رَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئٍ } ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رحمت و عنایت کے سائے میں رکھے اور نفس و شیطان کے ہر شر سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayahs 26:69–70

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ اِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 26:69 in the Quran reader

اور ان کو ابراہیم کا حکمتوں و عبرتوں بھرا قصہ بھی سنا دو

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا تَعْبُدُوْنَ Open ayah 26:70 in the Quran reader

خاص کر اس وقت کہ جب انہوں نے کہا اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہ کیا ہیں یہ چیزیں جن کی پوجا تم لوگ کر رہے ہو ؟1

42 قصہ ابراہیم کی تذکیر و یاددہانی کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا " ان کو ابراہیم کا قصہ بھی پڑھ کر سناؤ خاص کر ان کا اس وقت کا حال جبکہ انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے خطاب کیا "۔ معلوم ہوا کہ اصل کام انبیائے کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ کا ان کی دعوت و تبلیغ کا وہ کام ہوتا ہے جس کیلئے ان کو مبعوث فرمایا جاتا ہے۔ اسی کو یاد رکھنے اور اپنانے کی اصل ضرورت ہوتی ہے نہ کہ یوم پیدائش اور یوم وفات منا نے کی۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی دنیا کی طرف سے جاری کردہ ان رسموں میں سے کوئی رسم بھی خیر القرون میں نہیں اپنائی گئی۔ صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کے ادوار مشہود لہا بالخیر میں ایسے جشن منانے کی کہیں کوئی مثال نہیں ملتی۔ یہ کام ان قوموں کا تو ہوسکتا ہے جن کے پاس کوئی پیغام و پروگرام نہ ہو مگر جس قوم کے پاس اسلام جیسا عالمی دین اور جامع نظام اور مقدس تعلیمات اور اصلاح احوال کا عظیم الشان پروگرام ہو اس کو ایسے خود ساختہ جشن منانے کی فرصت و فراغت ہی کہاں ہوسکتی ہے ؟ اسی لئے قرآن حکیم میں کسی بھی پیغمبر کی پیدائش اور اس کے بچپن کے حالات کا تذکرہ نہیں فرمایا گیا سو ائے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور یحییٰ (علیہ السلام) کے کہ ان دونوں کی پیدائش معجزانہ طور پر اور عام حالات کیخلاف ہوئی تھی۔ اس لئے ان دونوں حضرات کے سوا کس بھی پیغمبر کی میلاد اور پیدائش کا ذکر قرآن حکیم میں نہیں فرمایا گیا۔ اسی طرح حضرت آدم کی پیدائش کا بھی ذکر فرمایا گیا ہے کہ وہ بغیر ماں اور باپ کے پیدا ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ باقی جتنے بھی انبیائے کرام عام ضابطہ و قانون کے مطابق پیدا ہوئے ان میں سے کسی کی بھی میلاد وغیرہ کا قرآن حکیم میں کہیں کوئی ذکر و تذکرہ نہیں ہے۔ اسی لئے مسلمانوں کی تاریخ بھی میلا دی نہیں، ہجری ہے۔ جو حضرت عمر۔ ؓ ۔ کے عہد خلافت میں صحابہ کرام کے مشورے اور ان کے اجماع و اتفاق سے مقرر فرمائی گئی تھی۔ اور اس طرح اگر پیدائش و وفات کے دن منانے لگ جائیں تو کم و بیش سوا لاکھ انبیائے کرام، پھر اتنے ہی صحابہ کرام اور ان کے بعد کے بیشمار بزرگان دین اور محسنان ملت کے دن منانے پر ایک ایک منٹ میں کئی کئی جشن منانے کی ضرورت ہوگی۔ اور ظاہر ہے کہ یہ نہ تو ممکن ہے اور نہ ہی اس کا کوئی قائل ہوسکتا ہے۔ اور جشن تو درکنار یہاں قصہ یہ ہے کہ معدودے چند انبیائے کرام کے سوا باقیوں کی زندگیوں اور ان کی قبروں کے بارے میں بھی کوئی اتہ پتہ نہیں۔ ہم ان پر محض اجمالی ایمان رکھتے ہیں کہ جتنے بھی انبیاء ورسل اللہ پاک نے مبعوث فرمائے وہ سب سچے اور برحق تھے۔ اسی طرح صحابہ کرام میں سے بھی ایک تھوڑی سی تعداد کے سوا باقیوں کی قبروں تک کوئی پتہ نہیں کیونکہ شخصیات تو بہرحال فانی ہوتی ہیں۔ اصل اور باقی رہنے والی چیز تو حق اور صرف حق ہے۔ لہذا اسی کے احیاء اور بقا اور تبلیغ و اشاعت کی کوشش کرنی چاہیئے نہ کہ فانی شخصیات کے دن منانے کی۔ لیکن آج امت مسلمہ کا ایک بڑا طبقہ ہے جو دین حنیف کی اصل اور حقیقی تعلیمات سے غافل ہو کر ایسی ایسی خرافات میں لگ گیا کہ جن کا نہ کوئی ثبوت ہے نہ وجود۔ اور دین کے اصل تقاضوں کی اس کو کوئی پرواہ نہیں ۔ الا ماشاء اللہ ۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے زیغ وضلال سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Ayah 26:71

قَالُوْا نَعْبُدُ اَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِیْنَ Open ayah 26:71 in the Quran reader

کہنے لگے ہم پوجا کرتے ہیں اپنی پسند کے کچھ بتوں کی پھر ہم انہی کے مجاور بنے رہتے ہیں

43 مشرکوں کا حضرت ابراہیم کو مشرکانہ جواب : یعنی وہ لوگ تیوری چڑھا کر بولے کہ تم ہمارے بتوں کا نام اس توہین آمیز طریقے سے لیتے ہو۔ ہم تو اپنی پسند کے ان ٹھاکروں کی پوجا پاٹ کرتے اور ان کے حضور آسن مارے بیٹھے رہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسے ہی کرتے پایا۔ بالکل اسی طرح جس طرح آج کل کے کلمہ گو قبر پرستوں کو ان کی اس قبر پرستی اور شرک پر اگر ٹوکا جائے تو وہ سیخ پا ہو کر واہی تباہی بکنے اور اہل حق کے خلاف طرح طرح کے جھوٹ گھڑنے لگتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو قوم ابراہیم کے ان مشرکوں اور بت پرستوں نے حضرت ابراہیم کو اپنی حمیت جاہلیت کے جوش اور غرور میں ڈوبا ہوا یہ مشرکانہ جواب دیا کہ یہ بت تو ہمارے اپنے خودساختہ اور محبوب بت ہیں جن کو ہم پوجتے ہیں اور تمہارے علی الرغم پوجتے رہیں گے۔ تم خواہ کتنا ہی زور لگالو ان کو بہرحال کبھی اور کسی قیمت پر چھوڑنے والے نہیں۔ سو جاہلیت اولیٰ کے یہ مظاہر آج بھی برابر موجود ہیں اور آج تو ان کی حفاظت آرٹ اور فنون لطیفہ جیسے دلربا اور خوشنما ناموں سے کی جاتی ہے اور اس کو تہذیب کا تقاضا قرار دیا جاتا ہے۔ چناچہ آج کل اس کی تازہ مثال افغانستان میں قائم طالبان کی اسلامی حکومت کی بت شکنی کی شاندار روایت کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے کہ انہوں نے بامیان میں موجود صدیوں پرانے اور دیوہیکل بت کو پاش پاش کرکے اپنی جس غیرت ایمانی، قوت القانی اور دین حق سے سچی لگن اور دلی وابستگی کا ثبوت دیا اس پر پوری دنیائے کفر کے ساتھ ساتھ کئی اسلامی ملکوں میں بھی ایک ہنگامہ اور شور بپا ہے کہ انہوں نے اس قدیم بت کو پاش پاش کرکے تہذیب و ثقافت کے ایک بڑے نشان کو مٹا دیا وغیرہ وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 26:72–74

قَالَ هَلْ یَسْمَعُوْنَكُمْ اِذْ تَدْعُوْنَۙ Open ayah 26:72 in the Quran reader

ابراہیم نے ان سے پوچھا کہ کیا یہ تمہاری پکار کو سن سکتے ہیں جب تم ان کو پکارو ؟

اَوْ یَنْفَعُوْنَكُمْ اَوْ یَضُرُّوْنَ Open ayah 26:73 in the Quran reader

یا یہ تمہیں کوئی نفع یا نقصان پہنچا سکتے ہیں ؟

قَالُوْا بَلْ وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ Open ayah 26:74 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسے ہی کرتے ہوئے پیا تو ہم بھی اسی راہ پر چل پڑے

44 باپ دادا کی اندھی تقلید کا قدیم مرض : سو حضرت ابراہیم کے سوال کے جواب میں ان لوگوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسے ہی کرتے پایا۔ اس لیے ہم بھی ایسے ہی کیے جا رہے ہیں۔ یعنی ہم تو لکیر کے فقیر ہیں اور بس۔ اپنے بڑے بزرگوں کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ جہاں انہوں نے کبھی کوئی مکھی ماری تھی ہم بھی وہاں پر مکھی مارے چلے جا رہے ہیں۔ عقل و خرد کو اس میں دخل دینے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے۔ یعنی بڑوں کی وہی اندھی تقلید جس میں آج کا کلمہ گو مشرک بھی گرفتار اور پوری اور بری طرح گرفتار ہے اور پوچھنے پر اس کا جواب بھی یہی ہوتا ہے کہ بڑوں نے ایسے کیا تھا اور بس ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کل کے ان کھلے مشرکوں کا کہنا اور ماننا بھی یہی کچھ تھا کہ ہمارے بڑے اور باپ دادا ایسے کرتے چلے آئے۔ لہذا ہم بھی ایسے ہی کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے کہ یہ ہماری تہذیب و ثقافت اور قدیم روایت اور ماضی کا ورثہ ہے۔ اور آج کا جاہل مسلمان اور کلمہ گو مشرک بھی یہی کچھ کہتا ہے۔ اور اسی بنا پر وہ طرح طرح کی خرافات بلکہ شرکیات تک کو گلے لگائے ہوئے ہے۔ اور اس کو اس کی کوئی پرواہ تک نہیں کہ اس کا دین کیا کہتا ہے اور یہ لوگ کیا کر رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -