26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayahs 26:75–81

قَالَ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 26:75 in the Quran reader

اس پر ابراہیم نے فرمایا کیا تم لوگوں نے کبھی آنکھیں کھول کر ان چیزوں کو دیکھا بھی جن کی پوجا تم لوگ کیے جا رہے ہو ؟

اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمُ الْاَقْدَمُوْنَ٘ۖ Open ayah 26:76 in the Quran reader

تم بھی اور تمہارے اگلے باپ دادا بھی ؟

فَاِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّیْۤ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:77 in the Quran reader

سو یہ سب قطعی طور پر دشمن ہیں میرے سوائے اس رب العالمین کے

الَّذِیْ خَلَقَنِیْ فَهُوَ یَهْدِیْنِۙ Open ayah 26:78 in the Quran reader

جس نے مجھے پیدا کیا پھر وہی میری راہنمائی فرماتا ہے

وَ الَّذِیْ هُوَ یُطْعِمُنِیْ وَ یَسْقِیْنِۙ Open ayah 26:79 in the Quran reader

جو مجھے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے

وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ یَشْفِیْنِ۪ۙ Open ayah 26:80 in the Quran reader

اور جب میں بیمار ہوجاتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔

وَ الَّذِیْ یُمِیْتُنِیْ ثُمَّ یُحْیِیْنِۙ Open ayah 26:81 in the Quran reader

جو مجھے موت دے گا پھر وہی مجھے زندہ کرے گا2

45 حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی بعض اہم صفات کا ذکر اور ان کا مقتضیٰ : سو حضرت ابراہیم نے ان لوگوں اور ان کے شرک اور شرکاء سے اظہار بیزاری کا اعلان کرتے ہوئے اپنے خالق ومالک کی بعض ایسی اہم صفات کا ذکر فرمایا جو سب دنیا کے سامنے موجود ہیں مگر دنیا توجہ نہیں کرتی۔ سو حضرت ابراہیم نے ان کو ذکر کر کے مشرکوں کے شرک کی جڑ نکال دی اور ان کے سامنے ضمیروں کو جھنجھوڑنے والا یہ سوال رکھ دیا کہ جب ان صفات میں سے کسی میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک کس طرح ہوسکتا ہے ؟ معلوم ہوا کہ ان صفات میں سے کسی صفت کو بھی مخلوق میں سے کسی کے لئے ماننا شرک ہے مگر افسوس صد افسوس کہ آج جہالت کے مارے کتنے ہی نام نہاد مسلمان ایسے ہیں جو ایسی شرکیات میں طرح طرح سے مبتلا ہیں۔ کوئی کسی قبر سے امید لگائے بیٹھا ہے اور کوئی کسی اور شئی سے۔ کوئی کسی آستانے پر سر نیاز جھکاتا ہے کوئی کسی اور پر۔ غیر اللہ کے نام کی نذریں مانی جا رہی ہیں۔ نیازیں دی جا رہی ہیں۔ چڑھاوے چڑھائے جا رہے ہیں۔ مرادیں مانگی جا رہی ہیں۔ اور " شیئا للہ یا شیخ عبد القادر جیلانی " جیسے وظیفے پڑھے جا رہے ہیں۔ ان کے نام کے نعرے لگائے جا رہے ہیں اور طواف تک کئے جا رہے ہیں۔ اور مارنے جلانے کے اختیار تک ان میں مانے جا رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور ظالموں نے یہاں تک مان رکھا ہے کہ حضرت شیخ جیلانی (رح) نے بارہ سال کے ڈوبے ہوئے بیڑے کو نکال کر باہر کیا تھا۔ اور اہل بدعت کے ایک بڑے نے تو اس جھوٹے اور من گھڑت قصے کو تفسیر قرآن کے نام سے قرآن حکیم کے حواشی میں لکھ دیا ہے۔ سو اس سے بڑی تحریف اور کیا ہوگی ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 26:82

وَ الَّذِیْۤ اَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لِیْ خَطِیْٓئَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِؕ Open ayah 26:82 in the Quran reader

اور جس سے میں یہ امید رکھتا ہوں کہ وہ معاف فرما دے گا میری خطاؤں کو بدلے کے دن،

46 قیامت کے یوم حساب کی تذکیر و یاددہانی : سو حضرت ابراہیم نے قیامت کے یوم حساب کی تذکیر و یاددہانی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا " اور جس سے میں طمع رکھتا ہوں کہ وہ معاف فرما دیگا میری خطاؤں کو قیامت کے دن "۔ پیغمبرانہ شان ادب و تواضع ملاحظہ ہو کہ ذرہ برابر اور دور دور تک کہیں اپنی کسی بڑائی کا کوئی واہمہ و شائبہ تک نہیں۔ بلکہ اللہ رب العلمین کی بارگہ صمدیت میں نہایت عجز و انکسار کے ساتھ اپنی طمع وامید کا ذکر فرماتے ہیں۔ اور { خطیئہ } سے مراد حقیقتا گناہ نہیں کہ انبیا تو معصوم ہوتے ہیں۔ بلکہ اس سے مراد وہ خلاف اولیٰ قسم کے امور ہیں جن کو وہ اپنی شان رفیع کے مقابلے میں " خطیئہ " اور گناہ سمجھتے ہیں۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے ۔ " حَسَنَات الاَبْرَارِ سَیِّئَاتُ الْمُقَرَّبِیْنَ " ۔ کہ نیکوں کی نیکیاں بھی مقربین کی برائیاں سمجھتی جاتی ہیں کہ ان کی شان بڑی اور بلند ہوتی ہے۔ سو حضرت ابراہیم نے اپنی طرف سے صادر ہونے والی خلاف اولیٰ قسم کی چیزوں کو خطا قرار دیا۔ (المراغی وغیرہ) ۔ یہاں پر حضرت ابراہیم نے آخرت کے اس یوم جزا کے ظہور کی خبر دیے بغیر اپنی خطاؤں کی بخشش کی طمع اور امید کا ذکر و اظہار فرمایا۔ جس میں یہ درس ہے کہ آخرت کے اس یوم جزاء کا پیش آنا تو ایک قطعی اور بدیہی حقیقت ہے جسکو اپنے پیش نظر رکھ کر اپنے رب کی مغفرت و بخشش کی توقع اور امید رکھنی چاہیے۔ اور اس سے اس کی دعا کرتے رہنا چاہیے۔ کیونکہ گناہوں کی بخشش اس کے سوا اور کوئی نہیں کرسکتا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَمَنْ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ الاَّ اللّٰہُ } ۔ (آل عمران : 135) ۔
Ayah 26:83

رَبِّ هَبْ لِیْ حُكْمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَۙ Open ayah 26:83 in the Quran reader

پھر حضرت ابراہیم غلبہ حضور میں اس طرح دعا میں لگ گئے کہ میرے رب مجھے حکم عطا فرما اور مجھے ملا دے اپنے قرب خاص کے سزاواروں کے ساتھ،

47 رب سے قوت فیصلہ سے سرفرازی کی دعا و درخواست : سو حضرت ابراہیم نے اپنے رب کے حضور عرض کیا کہ " اے میرے رب مجھے حکم یعنی قوت فیصلہ سے سرفراز فرما دے "۔ یعنی علم و حکمت میں زیادتی اور ترقی و اضافہ اور قوت فیصلہ۔ تاکہ حق و باطل اور صحیح و غلط کی تمیز میں کبھی کوئی گنجلک پیش نہ آئے۔ اور تاکہ اس طرح میں معرفت و بندگی میں کمال کو پہنچ سکوں۔ (المراغی، الصفوۃ وغیرہ) ۔ اور اس کے نتیجے میں مجھے ہر فیصلہ کن موڑ پر صحیح فیصلہ کرنے اور صحیح سمت میں قدم اٹھانے کی توفیق نصیب ہوجائے۔ اور میں نے چونکہ تیری رضا و خوشنودی کی خاطر اپنی قوم اور قبیلے وغیرہ سب کو چھوڑ دیا ہے اور ان سے علیحدگی اختیار کرلی ہے اور ان سے اعلان براءت کرلی ہے اس لیے تو اپنی شان کرم سے مجھے ان بروں کی جگہ اچھوں کی معیت ورفاقت نصیب فرما۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور مجھے اپنی خاص توفیق و عنایت سے ایسے اعمال و اخلاق کی توفیق وسعادت نصیب فرما جنکی بناء پر ایسے نیک اور صالح لوگوں کے ساتھ اور ان سے منسلک رہوں۔
Ayah 26:84

وَ اجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 26:84 in the Quran reader

اور نواز دے مجھے سچی ناموری سے پچھلوں میں،

48 سچی ناموری سے سرفرازی کی دعا و درخواست اور اس کی بےمثال قبولیت : سو حضرت ابراہیم نے اپنے رب سے اپنی دعا و درخواست کے ضمن میں مزید عرض کیا اور مجھے سچی ناموری عطا فرما پچھلوں میں۔ یعنی ایسے کمال علم و عمل سے سرفراز فرما جس کی بنا پر پچھلے میری اتباع و پیروی کریں۔ اور اس طرح میرے درجات و مراتب میں ترقی اور اضافہ ہوتا جائے۔ سو اللہ پاک نے اپنے خلیل کی اس دعا کو ایسے امتیازی طور پر شرف قبولیت عطا فرمایا جسکی پوری تاریخ انسانیت میں دوسری کوئی مثال نہیں ملتی۔ اور آپ کو اس لسان صدق ۔ سچی ناموری ۔ سے نوازا گیا جس سے نہ کسی کو اس سے پہلے نوازا گیا نہ اس کے بعد۔ یہود و نصاریٰ اور مشرکین عرب تک سب ہی ابراہیمی ہونے کے دعویدار ہیں اور ان سے انتساب کو اپنے لئے ذریعہ فخر و نجات سمجھتے ہیں۔ اور خود کو ابراہیمی کہلاتے ہیں۔ جبکہ مسلمانوں کے دین و مذہب کی اساس و بنیاد ہی ملت ابراہیمی پر ہے۔ اور امام الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو صاف وصریح طور پر ملت ابراہمی کی پیروی کا حکم دیا گیا۔ ارشاد ہوتا ہے ۔ { اَنِ اتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفًا } ۔ (النحل : 123) ۔ اور خود آنحضرت ۔ ﷺ ۔ نے اپنے آپ کو فخریہ طور پر دعائے ابراہیمی کا ثمرہ قرار دیا۔ اور ہر مسلمان اپنی دن رات کی ہر نماز میں درود ابراہیمی جو کہ سب سے افضل و اعلیٰ درود ہے کی صورت میں کتنی ہی بار حضرت ابراہیم اور آل ابراہیم کا نام لیتا ہے اور ان کیلئے دعاء کرتا ہے۔ اور نماز جیسی مقدس عبادت کے اندر یہ دعا کرتا ہے۔ پھر آپ کے تعمیر کردہ بیت اللہ کی زیارت اور اس کے طواف کے علاوہ دیگر مناسک حج کی ادائیگی کے ضمن میں آپ (علیہ السلام) کی جن یادگاروں کو ملحوظ رکھا گیا ہے ان کے کہنے ہی کیا۔ اور اس طرح جو اجر وثواب حضرت ابراہیم کو ملتا ہے اور لگاتار ملتا جا رہا ہے اس کا اندازہ ہی کون کرسکتا ہے سوائے حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے۔ پھر قرآن حکیم میں آپ کا ذکر جگہ جگہ اور طرح طرح سے فرمایا گیا۔ اور صرف یہی نہیں بلکہ { اذکر } جیسے صاف وصریح اوامر اور ارشادات کے ذریعے حضرت امام الانبیائ ﷺ کو اور آپ کے توسط سے آپکی امت کے ہر داعی اور ہر فرد کو حضرت ابراہیم کے تذکرے اور ذکر خیر کی ہدایت فرمائی گئی ہے۔ سو اس طرح دن رات کے چوبیس گھنٹوں میں کوئی لمحہ اور لحظہ ایسا نہیں گزرتا کہ پورے کرہ ارض پر حضرت ابراہیم کا ذکر خیر کسی نہ کسی شکل میں نہ ہو رہا ہو۔ تو کیا اس ذکر خیر اور لسان صدق کی کوئی اور مثال کہیں پائی جاتی ہے ؟ یا پائی جانی ممکن بھی ہوسکتی ہے ؟ نہیں اور ہرگز نہیں ۔ سبحان اللہ ۔ کیا کہنے حضرت حق کی شان نوازش و عطا کے ؟ ۔ اللہ ہمیں بھی محض اپنے فضل و کرم اور اپنی خاص عنایت سے نواز دے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 26:85

وَ اجْعَلْنِیْ مِنْ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِیْمِۙ Open ayah 26:85 in the Quran reader

اور شامل فرما دے مجھے اس نعمتوں بھری جنت کے وارثوں میں۔

49 جنت کے وارثوں میں شمولیت کی دعا و درخواست : سو حضرت ابراہیم نے اپنے رب کے حضور اپنی دعا میں مزید عرضا کیا اور شامل فرما دے مجھے نعمتوں بھری جنت کے وارثوں میں۔ " وراثت " کے لفظ سے تعبیر بھی اپنے اندر بڑے وسیع مفاہیم رکھتی ہے۔ مثلًا یہ کہ وہاں سدا رہنا نصیب ہوگا کہ وراثت کی ملکیت قطعی اور دائمی ہوتی ہے۔ لہذا وہاں سے نکالے جانے کا کوئی خوف و خطرہ نہ ہوگا۔ نیز وراثت اپنے کسی عمل کے بدلے میں نہیں ملا کرتی اسی طرح جنت بھی اپنے عمل کے بل بوتے پر نہیں بلکہ محض اللہ پاک کے فضل و کرم سے ملے گی۔ جیسا کہ حدیث پاک میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ کیونکہ ہم اگر ساری زندگی بھی نیک عمل کریں اور مسلسل نیکیاں ہی کرتے اور کماتے رہیں تو اس سے ہم اللہ پاک کی ان بیشمار اور بےحد و حساب نعمتوں میں سے بھی کسی کا حقِّ شکر نہیں ادا کرسکتے جو اس دنیا میں ہمیں میسر ہیں۔ تو پھر جنت کے کہنے ہی کیا۔ سو جنت محض اس واہب مطلق کا کرم و احسان ہوگا جس سے وہ اپنے بندوں کو نوازے گا۔ اسی طرح اس لفظ میں اس طرف بھی اشارہ پایا جاتا ہے کہ مومن کو کفار کے بدلے میں جنت کی یہ نعمتیں ملتی جائیں گی اور وہ اس کی جگہ جہنم کی آگ میں جلتا رہے گا۔ ظاہر ہے کہ اس احساس و ادارک کے بعد جنت کی ان نعمتوں کا لطف اور بھی دوبالا ہوجائے گا ۔ فَشَرِّفْنَا بِہَا یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ وَیَا اَکْرَمَ الاَکْرَمِیْنَ بِمَحْضِ مَنِّکَ وَکَرَمِکَ وَاِحْسَانِکَ ۔ نیز یہ کہ جنت انسانوں کے جدِّ امجد حضرت آدم کی جگہ تھی جو اب ان کی اولاد کو انکے ایمان اور اعمال کی بناء پر ملے گی۔ اور وہ اپنے باپ کی میراث سے بھی مشرف ہوجائیں گے۔
Ayah 26:86

وَ اغْفِرْ لِاَبِیْۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّیْنَۙ Open ayah 26:86 in the Quran reader

اور بخشش فرما دے میرے باپ کی، کہ بیشک وہ بڑے بھٹکے ہوئے اور گمراہ لوگوں میں سے تھا

50 حضرت ابراہیم کی اپنے باپ کی بخشش کے لیے دعا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " حضرت ابراہیم نے اپنی دعا کے دوران اپنے رب سے مزید عرض کیا " اور بخشش فرما دے میرے باپ کی کہ بیشک وہ گمراہوں میں سے تھا "۔ یہ دعا حضرت ابراہیم نے اس وقت کی تھی جب کہ آپ کو اپنے والد کے ہدایت پانے کی امید تھی۔ ورنہ بعد میں جب آپ (علیہ السلام) کو یقین ہوگیا کہ وہ ایمان لانے والا نہیں تو آپ نے اس سے اعلان بیزاری فرما دیا تھا۔ جیسا کہ دوسری جگہ اس کی تصریح موجود ہے ۔ { فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗ اَنَّہٗ عَدُوٌّ لِّلّٰہِ تَبَرَّأَ مِنْہُ } ۔ (التوبۃ :114) سو حضرت ابراہیم نے نہایت دلسوزی کے ساتھ اپنے باپ کیلئے دعا کرکے اس کا حقِّ وفا ادا کردیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا قانون چونکہ بےلاگ اور سب کیلئے یکساں ہے اس لیے حضرت ابراہیم کی اس دعا کو قبول نہیں فرمایا گیا۔ بلکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس سے منع فرما دیا گیا۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے خود بھی اس سے اعلان براءت کردیا۔ جیسا کہ سورة توبہ کی آیت کریمہ میں تصریح فرمائی گئی۔ سو اس سے ایک بات تو یہ واضح ہوجاتی ہے کہ حضرت ابراہیم کا باپ کافر اور مشرک تھا۔ اور وہ کفر و شرک ہی پر مرا۔ اس لیے وہ دوزخ کے دائمی عذاب کا مستحق ہوا۔ پس کفر و شرک پر مرنے والوں کے لیے نجات اور دوزخ کے عذاب سے رہائی ممکن نہیں۔ خواہ وہ حضرت ابراہیم ۔ (علیہ السلام) ۔ جیسی عظیم الشان اور جلیل القدر ہستی کا باپ ہی کیوں نہ ہو۔ اور دوسری بات اس سے یہ واضح ہوجاتی ہے کہ دین و ایمان کا رشتہ سب سے بڑا اور سب سے مقدم اور فائق رشتہ ہے۔ اسی لیے حضرت ابراہیم کے سامنے جب یہ امر واضح ہوگیا کہ ان کا باپ اللہ کا دشمن ہے تو آپ نے صاف اور صریح طور پر اس سے اپنی علیحدگی اور بیزاری کا اعلان فرما دیا۔ جیسا کہ سورة توبہ کی آیت نمبر 114 میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ اور تیسری بات اس سے یہ واضح ہوجاتی ہے کہ پیغمبر مختار کل نہیں ہوتے۔ جیسا کہ اہل بدعت کا کہنا ماننا ہے۔ ورنہ ابو الانبیاء حضرت ابراہیم کا حقیقی باپ اس طرح دوزخ میں نہ جاتا۔ سو ہدایت وغوایت اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ اور اختیار کلی اسی وحدہ لاشریک کی صفت وشان ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayahs 26:87–89

وَ لَا تُخْزِنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَۙ Open ayah 26:87 in the Quran reader

اور مجھے رسوا نہیں کرنا اس دن جس دن کہ لوگوں کو زندہ کر کے اٹھایا جائے گا،

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَۙ Open ayah 26:88 in the Quran reader

جس دن نہ کوئی مال کام آئے گا نہ اولاد،

اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍؕ Open ayah 26:89 in the Quran reader

سوائے اس کے جو حاضر ہو اللہ کی بارگاہ اقدس میں سلامتی والے دل کے ساتھ1

51 قلب سلیم سے مراد ؟ اور اس کی عظمت و اہمیت : یعنی جو سلامتی والا ہو کفر و شرک سے، زیغ و ضلال سے، الحادو انحراف سے اور شک و ارتیاب سے۔ اور بدعت و معصیت کی ظلمت سے ۔ والعیاذ باللہ ۔ (ابن کثیر، مدارک، معالم، خازن اور صفوۃ وغیرہ) ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ قیامت کے روز کسی کو نہ اس کا مال و دولت کچھ کام آسکے گا اور نہ ہی اس کی اولاد۔ صرف وہی لوگ اللہ تعالیٰ کے یہاں باریاب ہوسکیں گے جو قلب سلیم کے ساتھ حاضر ہوں گے۔ اس کے بغیر اگر کسی کو اس کی اولاد کچھ نفع پہنچا سکتی تو ابراہیم کا باپ آزر دوزخ میں نہ جاتا۔ اور جب ابراہیم جیسا بےمثال بیٹا بھی اپنے باپ کے کچھ کام نہ آسکا تو پھر اور کون کام آسکتا ہے ؟۔ سو جب تک اپنا ایمان و عقیدہ صحیح نہ ہو تو اس روز کسی کا کوئی رشتہ و قرابت کچھ کام نہیں آسکے گا۔ پس غلط کہتے اور سمجھتے ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ہم چونکہ " صاحبزادے " اور " سید زادے " ہیں۔ اور فلاں ہستی کی آل اور اولاد ہیں۔ لہذا ہمیں کچھ پرواہ نہیں جو چاہیں کریں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو یہ شیطان کا دھوکہ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور جب امام الانبیاء حضرت محمد ﷺ اپنی لخت جگر حضرت فاطمہ الزہراء سے صاف اور صریح طور پر فرماتے ہیں کہ تم دنیاوی مال و دولت سے جو چاہو مجھ سے مانگ لو لیکن اللہ تعالیٰ کے یہاں میں تمہارے کچھ کام نہیں آسکتا۔ تو پھر اور کون ہوسکتا ہے جس کے بارے میں اس طرح کا عقیدئہ قائم کیا جاسکے ؟۔
Ayah 26:90

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 26:90 in the Quran reader

اور قریب کردیا جائے گا اس روز جنت کو پرہیزگاروں کے لیے

52 متقی اور پرہیزگار لوگوں کیلئے انعام و اکرام کا ذکر : سو متقی اور پرہیزگار لوگوں کے لیے اللہ کی طرف سے تکریم و تشریف کے طور پر جنت کو ان کے قریب کردیا جائے گا ۔ سبحان اللہ ۔ اکرم الاکرمین کا اکرام و اعزاز ملاحظہ ہو کہ خود جنت کو اہل جنت کے قریب کردیا جائے گا۔ ورنہ اس دنیائے دوں میں تو یہی ہوتا ہے کہ مہمان خود چل کر مہمان خانے میں جاتا ہے۔ " اِزلاف " کے معنیٰ قریب لانے اور نزدیک کرنے کے ہیں۔ سو اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے متقی اور پرہیزگار لوگوں کیلئے خاص تکریم و تشریف ہے کہ جنت کو ان کے سامنے ایک پیشکش کے طور پر پیش کیا جائے گا اور دنیا میں ان حضرات نے نیکی کی جو کمائی کی تھی اس کے صلے میں جنت کو ان کے لیے پہلے ہی سے آراستہ و پیراستہ کرلیا ہوگا ۔ اللہ محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ جنت کو اس روز متقی لوگوں کے قریب کردیا جائے گا۔ اس کے لیے ان کو وہاں پر کوئی سفر نہیں کرنا پڑے گا۔ اور یہ عنایت متقی اور پرہیزگار لوگوں کے لیے ہوگی خواہ وہ کوئی بھی ہوں اور کہیں کے بھی ہوں۔ سو تقویٰ و پرہیزگاری دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 26:91

وَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِلْغٰوِیْنَۙ Open ayah 26:91 in the Quran reader

اور ظاہر کردیا جائے گا دوزخ کو بھٹکے ہوئے لوگوں کے لیے

53 دوزخیوں کے برے انجام کا ذکر۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ظاہر کردیا جائے گا اس روز دوزخ کو گمراہوں کیلئے " ۔ والعیاذ باللہ ۔ معلوم ہوا کہ دوزخ تیار و موجود ہے اور پاس ہی موجود ہے۔ صرف اتنی بات ہے کہ آج اس پر پردہ پڑا ہوا ہے اور اس روز یہ پردہ ہٹا کر اس کو ظاہر کردیا جائے گا۔ یعنی یہ برے اعمال خود ہی دوزخ کا عذاب ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو جس طرح جنت متقی اور پرہیزگار لوگوں کیلئے تیار ہے اسی طرح دوزخ بھی گمراہوں کیلئے تیار ہے۔ صرف پردہ ہٹانے کی دیر ہے بس۔ قیامت کے اس ہولناک دن میں جو کہ کشف حقائق اور ظہور نتائج کا دن ہوگا یہ پردہ اس سے ہٹا دیا جائے گا جس سے وہ اپنی تمام ہولناکیوں کے ساتھ سب کے سامنے موجود ہوگی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { وَبُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِمَنْ یَّرٰی } ۔ (النازعات :36) تب منکروں کو معلوم ہوجائیگا کہ جسکو وہ بعید سمجھ کر اس سے بالکل نچنت اور بیخبر تھے وہ اس طرح تیار اور ان کے اسقدر قریب موجود تھی۔ صرف پردہ اٹھنے کی دیر تھی ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے ارشاد فرمایا گیا ۔ { اِنَّہُمْ یَرَوْنَہُ بَعِیْدًا وَّ نَرَاہُ قَرِیْبًا } ۔ ( المعارج :6-7) ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 26:92

وَ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَمَا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 26:92 in the Quran reader

اور کہا جائے گا اس روز ان سے ان کی حسرت کی آگ کو اور بھڑکانے کے لیے کہ کہاں ہیں تمہارے وہ معبود جن کی پوجا تم لوگ دنیا میں کیا کرتے تھے ؟

54 مشرکوں کی تذلیل و توبیخ کا ایک منظر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز کہا جائیگا ان سے کہ کہاں ہیں تمہارے وہ معبود جن کی تم لوگ پوجا کیا کرتے تھے اللہ کے سوا ؟ "۔ کیا وہ تمہاری کوئی مدد کرسکتے ہیں یا وہ خود اپنی ہی کوئی مدافعت کرسکتے ہیں۔ اس سے مراد صرف لکڑی پتھر کے بت ہی نہیں جس طرح کہ اہل بدعت نے سمجھ رکھا ہے بلکہ اس میں ہر وہ معبود باطل داخل ہے جس کی دنیا میں پوجا کی گئی ہو۔ خواہ وہ لکڑی پتھر وغیرہ کے مصنوعی اور بےجان بت ہوں یا انسانوں وغیرہ کی شکل میں وہ ہستیاں جن کو حاجت روا و مشکل کشا سمجھ کر پوجا گیا ہو۔ اس امید پر کہ کل یہ ہستیاں ہمارا کام بنادیں گی۔ کیونکہ ایک تو کلمہ { ما } عام ہے۔ جو تمام معبودان مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ کو شامل ہے۔ خواہ وہ کوئی بھی ہوں اور کسی بھی نام و شکل کے ہوں۔ اور دوسرے اس لئے کہ من دون اللہ ۔ اللہ کے سوا ۔ کے عموم کا تقاضا بھی یہی ہے۔ اور تیسرا اس لئے کہ آگے آنے والا { الْمُجْرِمُونَ } کا لفظ بھی اسی پر دال ہے۔ اس لئے اس کا اصل مصداق وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو اپنے ارادئہ و اختیار سے جرم کرا اور کرسکتے ہوں۔ نہ کہ لکڑی پتھر کے وہ بےجان بت جو کچھ بھی نہیں کرسکتے۔ البتہ اللہ کے جن بندوں کی پوجا ان کی مرضی کے خلاف ہوئی ہوگی وہ یقیناً اس انجام سے مستثنیٰ اور بری ہیں۔ کہ ان کا تو اس شرک میں کوئی قصور نہیں جو بعد کے لوگوں نے ان کے نام سے کیا۔ جیسے حضرت عیسیٰ و عزیر۔ (علیہما السلام) ۔ اور حضرت شیخ عبد القادر جیلانی (رح) اور دوسرے بزرگان دین کہ ان کا اس شرک سے کوئی تعلق نہیں جو ان کی وفات کے بعد ان کے نام پر کیا گیا کہ وہ ایسی شرکیات سے قطعی بری اور بےقصور ہیں کہ وہ تو زندگی بھر اسی معبود برحق کی عبادت و بندگی کرتے رہے اور اسی کی عبادت و بندگی کی دعوت دوسروں کو دیتے رہے جو کہ ایک ہی معبود ہے۔ اور وہ اپنے قول و فعل اور ہر امکانی طریقے سے توحید خداوندی ہی کی دعوت دیتے اور تبلیغ فرماتے رہے۔ اس لئے ان کا معاملہ تو الگ ہے۔ جیسا کہ خود قرآن حکیم میں دوسرے مقام پر اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ۔ { اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَہُمْ مِنَّا الْحُسْنٰٓی اُوْلٰٓئِکَ عَنْہَا مُبْعَدُوْنَ } ۔ (الانبیائ : 101) مگر جن لوگوں نے اپنے پیرؤوں، چیلوں، چانٹوں اور معتقدوں سے خود اپنی پوجا پاٹ کرائی ہوگی ان کے سامنے ان کے مریدوں اور چیلوں نے ان کو سجدے کئے ہوں گے۔ ان کے آگے جھک جھک کر رکوع کئے ہوں گے اور انہوں نے اس پر اپنی رضا اور خوشی کا اظہار کیا ہوگا۔ نہ ان کو روکا ٹوکا اور نہ منع کیا ہوگا تو ان کا انجام بہرحال یہی ہوگا جو یہاں پر اس آیت کریمہ میں بیان فرمایا جا رہا ہے۔ اور ان کے چیلے چانٹوں اور پیرؤوں معتقدوں کے سامنے جب مشاہدئہ و ظہور کے اس جہاں میں حقیقت حال پوری طرح کھل کر واضح ہوجائے گی اور ان کو خود معلوم ہوجائے گا کہ ہمیں اپنے بڑوں نے کہاں پہنچا دیا اور یہ خود کس انجام سے دوچار ہوئے ہیں ؟ تو یہی پیرو اور معتقد ان کو مجرم ٹھہرائیں گے اور ان پر لعنت برسائیں گے۔ اور خود اپنی حماقت پر وہ رہ رہ کر افسوس کریں گے مگر اس وقت کے اس پچھتاوے کا نہ کوئی فائدہ ہوگا نہ کوئی اثر و نتیجہ۔ سوائے ان کی یاس و حسرت میں اضافے کے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ قرآن حکیم میں عالم آخرت کا یہ عبرتناک منظر کئی مقامات پر مختلف انداز میں پیش فرمایا گیا ہے تاکہ اندھی تقلید میں مبتلاء لوگوں کی آنکھیں کھل سکیں اور وہ آخرت کے اس ہولناک انجام سے پہلے ہی راہ حق و صواب کو اپنا کر اپنے بخشنے کا سامان کرلیں اور اپنا قبلہ درست کرلیں۔ مثلاً سورة اعراف آیت نمبر 38، سورة احزاب آیت نمبر 67، 68 اور سورة حم السجدہ آیت نمبر 29 وغیرہ میں۔ سو اس موقع پر چیلے اپنے بڑوں اور اپنے گرؤوں کے بارے میں صاف اور صریح طور پر اور چیخ اور چلا کر کہیں گی کہ اے ہمارے رب ہمارے ان بڑوں نے ہمیں گمراہ کیا اور انہوں نے ہمیں سیدھی راہ سے محروم کیا۔ پس تو اے ہمارے مالک ان کو دوہرا عذاب دے ۔ { ربنا ہؤلاء اضلونا فآتہم عذابا ضعفا من النار } ۔ مگر افسوس کہ دنیا کی اکثریت اس کے باوجود قرآن حکیم کی ان نعمتوں بھری تعلیمات سے غافل اور اپنی انہی غلط اور ٹیڑھی راہوں پر چلی جا رہی ہے جو ان کو اس ہولناک انجام سے دو چار کرنے والی ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ والی اللہ المشتکی وہو المستعان فی کل حین وآن -
Ayahs 26:93–94

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ هَلْ یَنْصُرُوْنَكُمْ اَوْ یَنْتَصِرُوْنَؕ Open ayah 26:93 in the Quran reader

اللہ کے سوا کیا وہ تمہاری کچھ مدد کرسکتے ہیں ؟ یا اپنا ہی کوئی بچاؤ کرسکتے ہیں ؟

فَكُبْكِبُوْا فِیْهَا هُمْ وَ الْغَاوٗنَۙ Open ayah 26:94 in the Quran reader

پھر ڈال دیا جائے گا اس دوزخ میں اوندھے منہ ان معبودان باطلہ کو بھی اور ان گمراہوں کو بھی

55 مشرکوں کے نہایت ہولناک انجام کا ذکر ۔ والعیاذ باللہ -: سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر اوندھے منہ دوزخ میں ڈال دیا جائے گا ان کو بھی اور ان گمراہوں کو بھی اور ابلیس کے سب لشکروں کو بھی "۔ کیونکہ یہ سب مجرم تھے۔ پوجا پاٹ کرنے والے بھی اور کرانے والے بھی۔ اس لئے ان سب کا ٹھکانا دوزخ ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور معبودوں کو ان عابدوں سے پہلے اس میں اس لئے ڈالا جائے گا کہ ایک تو وہ ضلال کے ساتھ ساتھ اضلال کے بھی مرتکب ہوئے تھے اور وہ اس ضلال و فساد کا اصل منبع ومصدر تھے۔ اور دوسرے اس لئے کہ اس طرح عابدوں کی وہ سب آرزوئیں اور تمام امیدیں ختم ہو کر رہ جائیں گی جو انہوں نے اپنے ان خودساختہ معبودوں سے وابستہ کر رکھی تھیں کہ یہ ہمارے کام آئیں گے۔ سو اس طرح ان کو وہاں دوہرے صدمے سے دوچار ہونا پڑے گا۔ (المراغی وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ لفظِ " کب " کے اصل معنی بچھاڑنے اور منہ کے بل گرا دینے کے ہیں۔ اسی سے " کبکب " بنا ہے جس میں تکریر اور حروف کی زیادتی سے مبالغہ کے معنیٰ پیدا ہوگئے۔ سو اس تفضیح اور رسوائی کے بعد ان شرک کے پجاریوں کو اور ان کے خودساختہ معبودان باطلہ اور ان کے لیڈروں پلیڈروں کو ایک دوسرے کے ساتھ دوزخ کی اس دہکتی بھڑکتی آگ میں جھونک دیا جائے گا۔ جس سے ایک طرف ان کی آتش یاس و حسرت اور تیز ہوگی کہ جن کو ہم لوگ اپنا حاجت روا و مشکل کشا سمجھ کر پوجا پکارا کرتے تھے کہ ایسے مشکل وقت میں وہ ہمیں کام آئیں گے آج ان کو ہم سے بھی پہلے دوزخ کی اس دہکتی بھڑکتی آگ میں ڈال دیا گیا۔ اور دوسری طرف یہ لوگ سب کے سب اکٹھے دوزخ کا ایندھن بن کر ایک دوسرے کی آگ کو بڑھکانے اور مزید تیز کرنے کا ذریعہ بنیں گے کہ دنیا میں یہ سب مل کر کفر و شرک اور ضلال واضلال کے کاروبار کو چلانے اور پکا کرنے کا ذریعہ بنا کرتے تھے ۔ { وَیَجْعَلُ الْخَبِیْثَ بَعْضَہُ عَلٰی بَعْضٍ فَیَرْکُمَہُ جَمِیْعًا فَیَجْعَلَہ فِیْ جَہَنَّمَ اُولٓئِکَ ہُمُ الْخَاسِرُوْنَ } ۔ (الانفال :37) ۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 26:95–97

وَ جُنُوْدُ اِبْلِیْسَ اَجْمَعُوْنَؕ Open ayah 26:95 in the Quran reader

اور ابلیس کے لشکروں کو سب کو یکجا کر کے2

قَالُوْا وَ هُمْ فِیْهَا یَخْتَصِمُوْنَۙ Open ayah 26:96 in the Quran reader

وہاں یہ سب آپس میں جھگڑتے ہوئے حسرت و یاس کے علام میں کہہ رہے ہوں گے

تَاللّٰهِ اِنْ كُنَّا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 26:97 in the Quran reader

اللہ کی قسم ہم سب قطعی طور پر کھلی گمراہی میں پڑے تھے

56 دوزخ میں بڑے لیڈروں اور ان کے پیرؤوں کا باہمی جھگڑا : سو گمراہوں کے چیلے اس موقع پر قسمیں کھا کر کہیں گے کہ یقینا ہم کھلی گمراہی میں پڑے تھے۔ یعنی ایسی گمراہی میں جس کے گمراہی ہونے میں کسی لبس و خفاء اور شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ مگر بےوقت کے اس اعتراف و اقرار سے ان کو وہاں کوئی فائدہ نہ ہوگا سوائے افسوس و صدمے میں اضافے کے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف یہ گمراہ اور مشرک پیرو اپنے لیڈروں سے کہیں گے کہ ہمیں تمہاری پیروی میں یہ روز بد دیکھنا پڑا تو کیا تم لوگ آج کے اس مشکل وقت میں ہمارے کچھ کام آسکو گے ؟ تو اس پر ان کے وہ لیڈر ان سے کہیں گے کہ ہم تو جیسے خود تھے ایسا ہی تم کو بنایا۔ تم تو خود شامت زدہ تھے جو تم نے ہماری پیروی کی۔ تم ایسا کیوں کرتے تھے۔ سو قصور خود تمہارا اپنا ہے۔ تب پیرو اپنے سر پیٹ کر رہ جائیں گے اور اپنے لیڈروں سے کہیں گے کہ یقینا ہم کھلی گمراہی میں پڑے تھے جو ہم نے تم کو رب العالمین کے برابر ٹھہرا رکھا تھا اور تمہارے احکام واوامر کی ہم بلاچوں چرا اسی طرح اطاعت کرتے تھے جیسا کہ رب العالمین کے اوامرو ارشادات کی کی جاتی ہے۔ علامہ ابن کثیر۔ { اِذْ نُسَوِّیْکُمْ بِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ } ۔ کی تفسیر میں لکھتے ہیں ۔ " ای نجعل امرکم مطاعا کما یطاع امر رب العالمین " ۔ یعنی ہم لوگ تمہارے حکم کی اسی طرح بلاچون وچرا اطاعت کیا کرتے تھے جس طرح کہ رب العالمین کے حکم وارشاد کی اطاعت کی جاتی ہے۔ سو اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے خلاف کسی کی اطاعت کرنا دراصل اس کو رب اور رب العالمین کے مساوی قرار دینا ہے (ابن کثیر وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق پر گامزن رکھے ۔ آمین۔
Ayah 26:98

اِذْ نُسَوِّیْكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 26:98 in the Quran reader

جب کہ ہم تمہیں برابر ٹھہراتے تھے رب العالمین کے ساتھ

57 پیرؤوں کا اپنی گمراہی کا کھلا اور صاف اقرار و اعتراف : سو اس سے تصریح فرما دی گئی کہ ایسے پیروکار وہاں پر اپنی گمراہی کا کھلا اقرار و اعتراف کریں گے مگر وہ بےسود اور لا حاصل ہوگا۔ بہرکیف اس سے تصریح فرما دی گئی کہ اس موقع وہ مشرک پیرو کہیں گے کہ ہم کھلی گمراہی میں تھے جبکہ ہم نے تم لوگوں کو رب العالمین کے برابر ٹھہرا رکھا تھا۔ یعنی اس کے حقِّ عبادت و بندگی میں۔ سو ہم تمہاری اسی طرح تعظیم و تکریم کیا کرتے تھے جیسے اس معبود برحق کی کی جاتی ہے جو کہ اصل اور حقیقی حقدار ہے ہر قسم کی عبادت کا۔ یعنی اللہ وحدہ لاشریک ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور تمہاری اطاعت بھی ہم لوگ بےچون و چرا اسی طرح کیا کرتے تھے جیسا کہ اس وحدہ لاشریک کی کی جاتی ہے۔ سو یہی مراد ہے رب العالمین کے ساتھ اس تسویہ اور برابری سے۔ جیسا کہ ابھی اوپر والے حاشیے میں بھی اس بارے قدرے تفصیل سے گزرا۔ ورنہ وہ لوگ زمین و آسمان کی اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور مدبر و کار فرما، روزی رساں اور بارش برسانے والا وغیرہ وغیرہ اللہ وحدہ لاشریک ہی کو جانتے اور مانتے تھے۔ جیسا کہ قرآن حکیم میں دوسرے مختلف مقامات پر اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ سو مخلوق میں سے کسی کی ایسی تعظیم و تکریم کرنا جو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے ساتھ خاص ہے دراصل اس کو خدا کے ساتھ شریک کرنا اور اس کے برابر ٹھہرانا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ (ابن کثیر، المراغی، الصفوۃ وغیرہ) ۔ سو اطاعت مطلقہ صرف اللہ تعالیٰ کی ہے جو کہ معبود برحق ہے اور اطاعت و بندگی کی ہر قسم اور ہر شکل کا اصل حق دار وہی وحدہ لا شریک ہے۔ اور اس کے بعد اطاعت مطلقہ اللہ کے رسول کا حق ہے جن کے پاس اللہ کی وحی آتی ہے اور جن کی صفت وشان قرآن حکیم میں مطاع باذن اللہ بیان فرمائی گئی ہے۔ اس کے سوا اطاعت مطلقہ کسی کی بھی جائز نہیں۔ ورنہ ایسا کرنے والا ان کو رب کے برابر قرار دینے کے جرم کا مرتکب قرار پائے گا۔ اللہ اور اس کے رسول کے بعد ہر کسی کی اطاعت اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی خلاف نہ ہو بلکہ اس کے ماتحت اور اس کے مطابق ہو ورنہ شرک ہوگا۔ جیسا کہ قاعدئہ کلیہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا " لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق " یعنی " کسی مخلوق کے لیے ایسی اطاعت جائز نہیں جس میں حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کی معصیت اور نافرمانی پائی جاتی ہو ۔ والعیاذ باللہ -
Ayahs 26:99–103

وَ مَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 26:99 in the Quran reader

اور ہمیں گمراہی کے اس گڑھے میں نہیں ڈالا مگر ان بڑے مجرموں نے،3

فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِیْنَۙ Open ayah 26:100 in the Quran reader

سو اب نہ تو کوئی ہمارا سفارشی ہے کہ ہمیں چھڑا سکے

وَ لَا صَدِیْقٍ حَمِیْمٍ Open ayah 26:101 in the Quran reader

اور نہ ہی کوئی مخلص دوست جو کہ خالی اظہار ہمدردی ہی کر دے

فَلَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:102 in the Quran reader

اب اگر ہمیں ایک مرتبہ پھر دنیا میں لوٹ جانے کا موقع مل جائے تو ہم ضرور شامل ہوجائیں ایمانداروں میں

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:103 in the Quran reader

واقعی اس میں بڑی بھاری نشانی ہے مگر اکثر لوگ پھر بھی ایمان نہیں لاتے،

58 نشانی عبرت میں غور وفکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا بلاشبہ اس میں بڑی بھاری نشانی ہے۔ یعنی حضرت ابراہیم کی اس سرگزشت اور ان کی اپنی قوم کے ساتھ اس مدلل کلام میں بڑی بھاری نشانی ہے جس میں عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ مثلا یہ کہ معبود برحق اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اس کے ساتھ کوئی بھی اس کا شریک نہیں۔ اور یہ ایسی ٹھوس اور واضح حقیقت ہے جو عقل و نقل اور فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ (ابن کثیر، مراغی، صفوۃ وغیرہ) ۔ سو اس قصہ میں عقل و فکر کے دریچوں کو وا کرنے والی بڑی بھاری نشان ہے جو واضح کرتی ہے کہ توحید خداوندی ہی اصل دین ہے جو عقل و فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ اور اس کائنات کی ہر چیز اور خود انسان کا اپنا وجود اسی کی گواہی دیتا ہے۔ اور یہ کہ شرک کیلئے نہ کوئی دلیل ہے نہ اساس۔ اور یہ کہ مشرکوں اور منکروں کا انجام بڑا ہی برا اور نہایت ہی ہولناک ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 26:104–106

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:104 in the Quran reader

بلاشبہ تمہارا رب ہی ہے جو بڑا زبردست ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مہربان بھی ہے

كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:105 in the Quran reader

نوح کی قوم نے بھی جھٹلایا رسولوں کو

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ نُوْحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:106 in the Quran reader

جب کہ ان سے ان کے بھائی نوح نے ان کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا کہ کیا تم لوگ ڈرتے نہیں ہو ؟

59 پیغمبر اپنی قوم اور اپنی امت کا بھائی ہوتا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ بھی یاد کرو کہ جب قوم نوح سے انکے بھائی نوح نے کہا " یعنی وہ انکے بھائی تھے قومی اور نسبی اعتبار سے۔ کہ اس اعتبار سے عموماً ہر نبی اپنی قوم کا بھائی ہی ہوا ہے۔ جیسا کہ قرآن حکیم میں جابجا ارشاد فرمایا گیا ہے ۔ { وَاِلٰی عَادٍ اَخَاہُمْ ہُوْدًا } ۔ (الاعراف :65) ۔ { وَاِلٰی ثَمُوْدَ اَخَاہُمْ صَالِحًا } ۔ (الاعراف : 73) ۔ { وَاِلٰی مَدْیَنَ اَخَاہُمْ شُعَیْبًا } ۔ (الاعراف : 85) ۔ { وَاِخْوَانُ لُوطٍ } ۔ (ق : 13) وغیرہ۔ اور صحیح مسلم وغیرہ کی حدیث میں ہے کہ آنحضرت ۔ ﷺ ۔ نے ارشاد فرمایا ۔ " وَدِدْتُّ لَوْ اَنَّا قَدْ رَأَینا اِخْوَانَنَا " ۔ الی آخر الحدیث۔ یعنی " کاش کہ ہم نے اپنے بھائیوں کو دیکھا ہوتا " یعنی اپنے بعد کے امتیوں کو وغیرہ۔ اور مشکوٰۃ کی روایت کے مطابق آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا ۔ " اُعْبُدُوْا رَبَّکُمْ وَاَکْرِمُوْا اَخَاکُمْ " ۔ یعنی " تم لوگ عبادت و بندگی اپنے رب کی کرو اور اپنے بھائی کی ۔ یعنی میری ۔ عزت کرو "۔ اور صحیح بخاری کی روایت کے مطابق آپ ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق ۔ ؓ ۔ کو فرمایا " اَنْتَ اَخِیْ فِی اللّٰہِ " ۔ " یعنی آپ میرے دینی بھائی ہیں "۔ اور حضرت عمر فاروق کو فرمایا " لا تَنْسَ اَخَاکَ فِی دُعَائِکَ " ۔ " اپنے بھائی کو ۔ یعنی مجھے ۔ اپنی دعا میں فراموش نہیں کرنا "۔ اس کے علاوہ سورة حجرات میں ارشاد ہے ۔ { اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃ } اور ظاہر ہے کہ آنحضرت ۔ ﷺ ۔ اس میں بطریق اولیٰ داخل ہیں کہ اول المومنین اور اکمل المومنین تو آپ ہی ہیں ﷺ لہذا برصغیر پاک و ہند کے اہل بدعت کا اس لفظ سے بدکنا اور شہید اسلام حضرت شاہ اسماعیل شہید ۔ (رح) ۔ پر اس وجہ سے طرح طرح کی بہتان تراشی کرنا ان لوگوں کی اپنی حماقت و جہالت کا ثبوت اور بدنیتی کی دلیل ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ پیغمبر اپنی قوم اور اپنی امت کا بھائی ہوتا ہے۔ جو اس پر ایمان لے آئیں گے وہ تو پیغمبر کے دینی اور ایمانی بھائی ہوں گے اور جو ایمان نہیں لاتے وہ قومی اور نسلی اعتبار سے ان کے بھائی ہوتے ہیں۔ اور یہ ایک ایسی واضح حقیقت ہے جو عقل و نقل دونوں کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ اور جو لوگ اس سے بدکتے اور چڑتے ہیں وہ ان کی اپنی جہالت اور حماقت کا ثبوت خود دیتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے زیغ و ضلال سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔ بہرکیف یہاں ارشاد فرمایا گیا کہ قوم نوح نے بھی جھٹلایا رسولوں کو جبکہ ان کے بھائی نوح نے ان سے کہا کہ تم لوگ ڈرتے نہیں۔
Ayahs 26:107–108

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:107 in the Quran reader

بلاشبہ میں تمہارے لیے اللہ کا رسول ہوں امانت دار1

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:108 in the Quran reader

پس تم لوگ ڈرو اللہ سے اور میرا کہا مانو

61 اصلاح کی اولین اساس : تقوی و پرہیزگاری : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ تقویٰ و پرہیزگاری اور اطاعت و فرمانبرداری اصلاح احوال کی سب سے اہم اور اولین اساس ہے۔ اسی لیے حضرت نوح نے اپنی قوم سے یہ ارشاد فرمایا کہ " پس تم لوگ اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو "۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ اللہ پاک کا تقویٰ اور خوف خداوندی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی اور فوزو فلاح کی اصل اساس اور بنیاد ہے۔ اور تقویٰ و خوف خداوندی اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری پیغمبر کی اطاعت و فرمانبرداری کے بغیر ممکن نہیں۔ اس لیے حضرت نوح نے ان لوگوں سے فرمایا کہ تم لوگ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت و فرمانبرداری کرو۔ بلکہ پیغمبر کی اطاعت ہی دراصل اللہ کی اطاعت کا معیار و مدار ہے۔ اسی لئے دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { مَنْ یُّطِعِ الرَّّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاع اللّٰہَ } ۔ (النسائ : 80) " جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی "۔ اسی لئے حضرت نوح اپنی قوم کو بتاکید و تکرار اللہ سے ڈرنے کی اور اپنی اطاعت و فرمانبرداری کی تعلیم و تلقین فرماتے ہیں۔ اور عام طور پر حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ نے اپنی قوموں کو سب سے پہلے اسی بات کی دعوت دی۔ کیونکہ خوف خداوندی کے بغیر انسان کے اندر سنجیدگی نہیں پیدا ہوتی۔ اور وہ پیغام حق پر کان دھرنے اور اس کو غور سے سننے کیلئے تیار ہی نہیں ہوتا۔ تو پھر اس کو حق و ہدایت کی دولت کیسے اور کیونکر نصیب ہوسکتی ہے ؟۔ سو تقویٰ اور خوف خداوندی اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت مطلقہ اصلاح احوال کی اصل اساس اور بنیاد ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 26:109

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 26:109 in the Quran reader

اور میں تبلیغ حق کے اس کام پر تم سے کوئی صلہ و بدلہ نہیں مانگتا، میرا صلہ و بدلہ تو بس رب العالمین ہی کے ذمے ہے

62 پیغمبر کی دعوت خالص اللہ کے لیے : اس میں دنیاوی مفاد کا کوئی شائبہ شامل نہیں ہوتا بلکہ وہ خالص اللہ کے لیے ہوتی ہے۔ اس لیے حضرت نوح نے اپنی قوم سے فرمایا " اور میں تم لوگوں سے اس کام پر کوئی اجر نہیں مانگتا "۔ { مِنْ اَجْرٍ } فرمایا گیا ہے۔ جس میں نکرہ تحت النفی کے عموم کے علاوہ من جارہ کا اضافہ بھی فرما دیا گیا ہے۔ جس سے مزید تعمیم آگئی۔ کیونکہ عربی میں " رجل " اور " من رجل " کے درمیان معنوی اعتبار سے بڑا فرق ہے۔ اس لئے اب اس کے معنیٰ یہ ہوجائیں گے کہ " میں تم سے کسی بھی قسم کا اجر اور کوئی صلہ و معاوضہ اور بدلہ نہیں مانگتا " نہ ووٹ نہ نوٹ۔ نہ صلہ نہ ستائش وغیرہ وغیرہ۔ میں تو بس تمہاری بھلائی و خیر خواہی اور اپنے اللہ کی رضا چاہتا ہوں۔ اور دعوت حق کی دولت اتنی عظیم الشان دولت اور اس قدر بڑی نعمت وسعادت ہے کہ اس کا اجر و صلہ تو بس اللّٰہ رَبُّ الْعٰلَمِیْن ہی دے سکتا ہے جس کی عطاء و بخشش لامحدود اور جس کا فضل و کرم بےانتہاء ہے۔ ورنہ دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا بادشاہ بھی اس کا صلہ نہیں دے سکتا۔ کیونکہ وہ جو بھی کچھ دے گا اس کا تعلق اسی دنیائے فانی اور اس کے حطام زائل ہی سے ہوگا اور بس۔ اور یہ دنیا تو بہرحال زائل وفانی اور ایک آنی جانی چیز ہے۔ سو اس میں داعی حق کے لئے ایک بہت بڑا اور بنیادی درس ہے کہ وہ دعوت حق پر کسی دنیاوی اجر و صلہ کی کوئی توقع اہل دنیا سے نہ رکھے۔ بلکہ رب العلمین ہی سے اس کا طالب ہو جو اس کو اس کے وہم و گمان سے بھی کہیں بڑھ کر عطا فرمائے گا۔ اس دنیا میں بھی قلبی راحت و سکون، حقیقی عزت و آبرو اور سچی ناموری اور حیات طیبہ ۔ پاکیزہ زندگی ۔ کی صورت میں اور آخرت کی اس حقیقی زندگی اور وہاں کے اس ابدی جہان میں بھی حقیقی اور ابدی کامیابی کی صورت میں ۔ اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے نصیب فرمائے اور ہمیشہ اپنی خاص رحمت و عنایت کے سائے میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 26:110–111

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِؕ Open ayah 26:110 in the Quran reader

پس تم لوگ ڈرو اللہ سے اور میرا کہا مانو2

قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَ اتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَؕ Open ayah 26:111 in the Quran reader

حضرت نوح کی اس حکمت بھری اور پرسوز تقریر کے جواب میں ان لوگوں نے کہا کہ کیا ہم تجھ پر ایمان لے آئیں جبکہ تیری پیروی ان ہی لوگوں نے اختیار کر رکھی ہے جو کہ سب سے گھٹیاں ہیں ؟3

63 ابنائے دنیا کی مادہ پرستانہ ذہنیت کا ایک نمونہ و مظہر : سو قوم نوح کے ان متکبر منکروں نے اپنے متکبرانہ انداز میں حضرت نوح کی اس مخلصانہ اور پرسوز دعوت کے جواب میں کہا کہ ہم آپ کی پیروی کیسے کرسکتے ہیں جبکہ آپ کی پیروی کرنے والے ایسے گھٹیا لوگ ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ابنائے دنیا کا کل کی طرح آج بھی یہی حال اور یہی شیوہ ہے کہ وہ سعادت و شقاوت کو دنیاوی دولت و ثروت کے مادی معیار پر جانچتے پرکھتے ہیں۔ اور محنت و عمل کو وہ باعث رذالت سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اللہ پاک کے یہاں اس کا مدارو معیار تقویٰ و کردار ہے۔ سو اس بارے اس کا اصولی ارشاد اپنی کتاب حکیم میں اس طرح صاف وصریح طور پر موجود ہے ۔ { اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ } ۔ (الحجرات : 13) ۔ پس مدار تقویٰ ہے نہ کہ دنیاوی مال و دولت کہ اس سب کی تو اللہ کے یہاں مچھر کے پر کے برابر بھی کوئی حیثیت نہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ تو پھر اس کے معیار فضیلت قرار پانے کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے۔ سو حضرت نوح کی دعوت حق کے جواب اور اس کی تردید کیلئے قوم نوح کے ان متمرد اور سرکش لوگوں کے پاس تو کوئی بات نہ تھی اور حق کے مقابلے کیلئے کسی کے پاس کوئی دلیل یا کوئی تردید ممکن ہی کس طرح ہوسکتی ہے۔ تو ان لوگوں نے یہ بات نکالی کہ ہم لوگ جو اعیان و اَشراف ہیں، ان لوگوں کے ساتھ کیسے بیٹھ سکتے ہیں جو نوح پر ایمان لاتے ہیں کہ یہ اراذل اور گھٹیا لوگ ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ لہذا نوح کو اگر ہماری تائید کی ضرورت ہے تو وہ اپنے ان پیروکاروں کو اپنے پاس سے ہٹا دے کہ ان کے ساتھ اور انکے برابر بیٹھنا ہماری توہین ہے وغیرہ وغیرہ۔ اور اسی طرح کا مطالبہ مشرکین مکہ حضرت امام الانبیاء ۔ ﷺ ۔ سے کرتے تھے۔