Ayahs 26:146–15377 پیغمبر کو ان کی قوم کی طرف سے نہایت گستاخانہ اور دلآزار جواب : سو حضرت صالح کو ان کی اس متکبر اور سرکش قوم نے یہ جواب دیا کہ " تم تو محض جادو کے مارے ہوئے شخص ہو "۔ " مسحور " نہیں " مسحّر " قرار دیا۔ جس میں مبالغہ اور زیادتی کے معنیٰ پائے جاتے ہیں۔ یعنی تم پر ایسا سخت جادو کردیا گیا کہ تمہاری عقل ہی مار دی گئی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ لہذا تم اس قابل ہی نہیں ہو کہ تمہاری بات پر کان دھرا جائے ۔ والعیاذ باللہ ۔ (مدارک، ابن کثیر، جامع البیان، المراغی، صفوۃ وغیرہ وغیرہ) سو ان بدبختوں نے اللہ کے نبی کی دردمندانہ تنبیہ پر کان دھرنے اور اس کی طرف متوجہ ہونے کی بجائے الٹا ان کو ایسا بیہودہ اور اس قدر دلآزارجواب دیا کہ تم تو ایک ایسے جادو زدہ شخص ہو جس پر سخت جادو کردیا گیا ہو۔ جس سے اس کی عقل خراب ہوگئی ہے۔ اور اس کے نتیجے میں تم کو ہماری تہذیب و تمدن اور ترقی و عروج میں ہر طرف خطرے ہی خطرے محسوس ہوتے اور خرابیاں ہی خرابیاں نظر آتی ہیں۔ سو یہی حال ہوتا ہے ایسی قوم کا جو نور حق و ہدایت سے منہ موڑ لیتی ہے کہ اس کی مت مار دی جاتی ہے اور وہ ناصح مشفق یہاں تک کہ حضرات انبیائے کرام کی ہدایت و تلقین پر بھی کان دھرنے کو تیار نہیں ہوتے۔ اور ان کی بات کو سننے اور ماننے کی بجائے وہ الٹا ان کی توہین کرتے اور ان کو ایسی اور ایسی دلآزار باتیں کہتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 26:15478 پیغمبر کی نبوت کا انکار ان کی بشریت کی بنا پر۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے کہا کہ تم تو ہم ہی جیسے ایک بشر ہو۔ تو پھر تم نبی اور رسول کس طرح ہوسکتے ہو ؟۔ یعنی ان کے یہاں نبوت اور بشریت میں منافات تھی کہ یہ دونوں صفتیں یکجا نہیں ہوسکتیں۔ پس جو بشر ہوگا وہ نبی نہیں ہوسکتا اور جو نبی ہوگا وہ بشر نہیں ہوسکتا۔ اور یہی غلط فہمی آج بھی بہت سے لوگوں میں موجود ہے۔ اور بہت سے جاہل مسلمان بھی یہی سمجھتے اور ایسا کہتے ہیں۔ اور ان کے نزدیک بھی رسالت اور بشریت دونوں صفتیں یکجا نہیں ہوسکتیں۔ فرق اگر ہے تو یہ کہ کل کے ان لوگوں نے بشریت کو دیکھتے ہوئے انبیائے کرام کی نبوت و رسالت کا انکار کیا اور آج کے یہ لوگ نبوت و رسالت کے ماننے کے دعویدار بن کر ان کی بشریت کے منکر ہو رہے ہیں۔ جبکہ حق اور حقیقت یہ ہے کہ حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ بیک وقت نبی و رسول بھی ہوتے ہیں اور بندے و بشر بھی۔ اور ان میں یہ دونوں وصف یکجا ہوتے ہیں۔ بلکہ وہ بشر اور انسان پہلے ہوتے ہیں اور نبی و رسول بعد میں بنتے ہیں۔ اسی لئے ہر مسلمان اپنی التحیات میں دن رات میں کتنی ہی بار۔ " عَبْدُہ وَرَسُوْلُہٗ " ۔ کے الفاظ سے اس حقیقت کا اعادہ و تکرار کرتا ہے۔ اور فقہ و عقائد کی کتابوں میں جہاں بھی نبی و رسول کی تعریف کی گئی ہے وہاں یہی بتایا گیا ہے کہ وہ ایسے انسان ہوتے ہیں جن کو اللہ پاک اپنے احکام کی تبلیغ اور پیغام رسانی کے لئے چن لیتا ہے ۔ " ہُوَ اِنْسَانٌ بَعَثَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی لتبلیغ احکامہ " ۔ جمہور اہل علم اور حضرات اسلاف کرام سے ایسے ہی منقول ہوتا آیا ہے۔ مگر اس کے باوجود اہل بدعت کے بعض بڑے تحریف پسندوں کا کہنا ہے کہ " خیال رہے کہ انبیائے کرام کو بشر یا تو رب نے فرمایا ہے یا خود پیغمبر نے یا کفار نے۔ اب جو انہیں بشر کہے وہ رب تو ہے نہیں نہ رسول لہذا کافر ہی ہوگا " ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کیسی بکواس ہے جو اس ظالم بدعتی ملاں نے بکی اور کیسی تحریف و سینہ زوری ہے جس کا ارتکاب اس محرف نے کیا۔ اور وہ بھی قرآن پاک کے حواشی پر۔ خذلہم اللہ وقاتلہم انی یؤفکون ۔ اتنا بڑا ظلم اور اس قدر مکابرہ اور اہل حق سے اس قدر بغض وعناد ؟۔ ناطقہ سربگریباں ہے اسے کیا کہئیے ؟۔ یہود کو شرما دینے والی ایسی تحریف کا ارتکاب اور پھر بھی دعویٰ و زعم بڑے عالم اور مفسر ہونے کا ؟ اتنا بڑا ظلم اور اس قدر مکاری و سینہ زوری ؟ اور وہ بھی قرآن حکیم کے حواشی پر ؟ ۔ فالی اللہ المشتکیٰ ۔ بھلا اس بدعتی ملاں سے کوئی پوچھے کہ جس حقیقت کا ذکر وبیان حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ خود فرمائے۔ حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ بھی واضح اور صریح طور پر اس کا اقرار و اعتراف کریں اور اس کو طرح طرح سے اس حد تک واضح کردیں کہ اس میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہ رہ جائے۔ اور ایسی واضح حقیقت جسکے ماننے پر کفار بھی مجبور ہوں۔ سو ایسی حقیقت صادقہ کے انکار کی آخر کیا گنجائش ہوسکتی ہے ؟ اور جو کوئی ایسی حقیقت واقعیہ کا انکار کرے وہ خود دیکھ لے کہ وہ کہاں اور کس جگہ کھڑا ہے ؟ اور اس پر کون سا فتویٰ چسپاں ہوتا ہے ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 26:15579 ناقہ صالح کا ذکر وبیان : سو اس بدبخت قوم نے جب ایمان لانے کی بجائے حضرت صالح سے نشانی کا مطالبہ کیا تو آپ نے اس کے جواب میں ارشاد فرمایا کہ یہ اونٹنی ایک نشانی ہے تمہارے لیے۔ قرآن پاک میں اس اونٹنی کی پیدائش کے بارے میں کچھ نہیں فرمایا گیا۔ مگر تفسیری روایات کے مطابق وہ خرق عادت اور معجزے کے طور پر ایک پہاڑی سے پیدا ہوئی تھی جس کا ان لوگوں نے مطالبہ کیا تھا۔ تو اس پر حضرت صالح نے حضرت جبریل امین سے اشارہ پاکر دو رکعت نماز پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اسی پہاڑی سے جس کیلئے ان لوگوں نے کہا تھا دس ماہ کی گابھن اونٹنی نکل آئی۔ جس نے ان کے سامنے بچہ دیا۔ (روح المعانی، ابن کثیر، صفوۃ التفاسیر، حاشیہ بیضاوی وغیرہ) ۔ مگر ایسی روایات کے بارے میں جیسا کہ محقق مراغی (رح) وغیرہ نے کہا یقین کرنا اس وقت تک ضروری نہیں جب تک کہ ان کا ثبوت کسی صحیح روایت سے نہ مل جائے۔ اور آیت کریمہ کے ظاہر سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک عام اونٹنی تھی جو کہ ہوسکتا ہے کہ حضرت صالح کی اپنی ہی اونٹنی ہو۔ بہرکیف حضرت صالح نے ایک عام اونٹنی کو ان لوگوں کے عذاب کیلئے ایک نشانی کے طور پر مقرر فرما دیا کہ یہ اونٹنی تمہارے لیے عذاب سے بچاؤ کیلئے ایک بند کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس لیے خبردار اس کو چھیڑنا نہیں ورنہ تم کو پہنچ کر رہے گا بہت بڑا عذاب۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت اور اس کا دستور یہی ہے کہ جب کوئی قوم رسول کے مقابلے میں طغیانی و سرکشی کی اس حد تک پہنچ جاتی ہے کہ اس کی مقرر کردہ نشانیوں پر بھی ہاتھ ڈالنے لگتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ہولناک عذاب میں گرفتار ہو کر رہتی ہے۔ سو اس طرح اس بدبخت قوم نے اپنے خود مصیب مانگ لی ۔ والعیاذ باللہ -
Ayahs 26:156–15780 ناقہ صالح کی ہلاکت کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے پھر بھی اس اونٹنی کو ہلاک کردیا۔ یعنی رسول کی تنبیہ وتحذیر کے باوجود انہوں نے اس اونٹنی کو ہلاک کردیا۔ یہ کام کیا تو اگرچہ ان میں سے ایک شخص نے تھا مگر باقیوں کی رضا چونکہ اس میں شامل تھی۔ اس لئے اس کی نسبت سب کی طرف کی گئی ہے کہ کسی فعل پر رضا مندی اس کے ارتکاب کے مترادف ہوتی ہے۔ سو اس کے نتیجے میں وہ لوگ سخت نادم ہوئے کہ برائی بہرحال برائی ہے اور اس کا نتیجہ وانجام بہرحال برا ہوتا ہے۔ مگر پھر ان لوگوں کی یہ ندامت و شرمندگی توبہ کے لئے نہیں بلکہ اپنے کئے کے وبال و انجام کے خیال سے تھی۔ اس لئے اس کا ان کو کوئی فائدہ نہیں تھا۔ اور یوں بھی عذاب آجانے کے بعد توبہ قبول نہیں ہوتی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ یعنی بالآخر ان کو اپنے کیے پر پچھتانا پڑا۔ قرآن حکیم کی دوسرے مقامات پر فرمائی گئی تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو اس جرم کے ارتکاب کے بعد تین دن کی مہلت ملی۔ جس کا مطلب ظاہر ہے یہی تھا کہ اگر اب بھی ان کو اپنے جرم کا احساس ہوجائے اور یہ سچے دل سے توبہ کرکے حق کی طرف رجوع کرلیں تو ان کی جان بخشی ہوسکتی ہے۔ اور سچی توبہ و استغفار سے یہ اپنے بچاؤ کا سامان کرسکتے ہیں۔ مگر انہوں نے اس مہلت سے بھی کوئی فائدہ نہ اٹھایا کہ جن کے مقدر پھوٹ جاتے ہیں ان کی مت اسی طرح مار دی جاتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 26:158–16581 قوم لوط کے اوندھے پن کا نمونہ و مظہر : سو حضرت لوط نے ان سے فرمایا کہ تم لوگ مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو۔ یعنی یہ کام تم سے پہلے کسی قوم نے نہیں کیا۔ یعنی اس سے پہلے کوئی قوم من حیث القوم اس فعل قبیح اور جرم شنیع کی مرتکب نہیں ہوئی۔ سو تم لوگ حدود انسانیت سے نکل کر حضیض حیوانیت میں گرگئے ہو۔ بلکہ اس سے بھی کہیں نیچے پہنچ گئے ہو۔ کیونکہ تم اس فعل خبیث کا ارتکاب کرتے ہو جس کا ارتکاب کوئی حیوان بھی نہیں کرتا کہ تم لوگ ایسے بگڑ گئے ہو کہ تم اس مخلوق کو جو کہ اس غرض کے لئے پیدا کی گئی ہے ۔ یعنی عورت ۔ اس کو چھوڑ کر تم مردوں کو اختیار کرتے ہو جو کہ تمہارے ممسوخ الفطرت ہونے کی دلیل ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ وہ لوگ امرد پرستی کے مرض میں ایسے مبتلا ہوگئے تھے کہ یہ چیز ان کے معاشرے کا ایک اجتماعی روگ اور قومی فیشن بن گئی تھی۔ اور کوئی قوم اگر دیوثی کے اس روگ میں من حیث الجماعت مبتلا ہوجائے تو وہ گندگی اور غلاظت کا ایک ڈھیر بن کر رہ جاتی ہے۔ جسکے بعد اللہ تعالیٰ اپنی دھرتی کو ان لوگوں کے وجود اور اس اجتماعی گندگی اور غلاظت سے پاک فرما دیتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو قوم لوط مجموعی طور پر اور قومی حیثیت سے اس مرض میں مبتلا ہو کر اپنے اندھے اور اوندھے پن کی انتہا کو پہنچ گئی تھی۔ تو حضرت لوط نے ان کو تنبیہ فرمائی اور اس سے خبردار کیا مگر انہوں نے پرواہ نہ کی۔ یہاں تک کہ وہ پوری قوم اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہی۔ اور وہ ایسے ہولناک عذاب میں مبتلا ہوئی جس کی دوسری کوئی نظیر نہیں مل سکتی ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 26:166–16782 قوم لوط کی طرف سے اپنے پیغمبر کو دھمکی : سو ان لوگوں نے اس طرح اپنے آخری انجام کو دعوت دے دی۔ سو پیغمبر کی آواز پر کان دھرنے اور اس سے سبق لینے کی بجائے الٹا اس بدبخت قوم نے اپنے پیغمبر کو دیس نکالا دینے کی دھمکی دے دی۔ اور ان سے صاف اور صریح طور پر کہہ دیا کہ اگر تم اپنی ان باتوں سے باز نہ آئے تو تم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو کر رہو گے جن کو نکال باہر کیا گیا۔ سو اس تنبیہ و تذکیر پر قوم لوط کی طرف سے حضرت لوط کو اپنی بستی سے نکال باہر کرنے کی دھمکی دی گئی۔ کہ ایسے پاکباز بننے والوں کو ہمارے شہر میں رہنے کا حق نہیں۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا ۔ { اِنَّہُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَہَّرُوْنَ } ۔ " نکال باہر کرو اپنی بستی سے ان لوگوں کو کہ یہ بڑے پاکباز بنتے ہیں "۔ سو اپنے اس بیہودہ جواب سے ان لوگوں نے یہ واضح کردیا کہ ان کا یہ معاشرہ گندگی کے ایسے کیڑوں کا معاشرہ بن گیا ہے جس میں کسی نیک اور پاکیزہ شخص اور کسی صالح عنصر کی اب کوئی گنجائش نہیں۔ لہذا اب وہ اس لائق ہیں کہ ان کے خبیث وجود سے اللہ کی دھرتی کو اسی طرح پاک اور صاف کردیا جائے جس طرح کہ کسی جگہ کو کوئی کیڑے مار دوائی چھڑک کر گندگی کے کیڑوں سے صاف کردیا جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 26:16883 قوم کی فیصلہ کن دھمکی پر حضرت لوط کا بھرپور جواب : سو قوم کی طرف سے اس فیصلہ کن دھمکی کے جواب میں حضرت لوط نے اپنے جواب میں بھرپور انداز بیان میں بدبختوں سے فرمایا کہ " میں تمہارے اس عمل سے شدید بغض اور نفرت رکھتا ہوں "۔ یعنی تمہاری ان دھمکیوں سے۔ نہ میں راہ حق سے ہٹنے والا ہوں اور نہ حق کو چھوڑ سکتا ہوں۔ اور تمہارے کرتوتوت ایسے بد اور برے ہیں کہ مجھے ان کی بنا پر بہرحال سخت کڑھن اور گھٹن ہے۔ اور یہ ایسے برے ہیں کہ ہر اس شخص کو ان سے نفرت ہوگی جسکی فطرت سلیم اور اس کی عقل مستقیم ہوگی۔ اور میں ایسے ہی بغض رکھنے والوں میں سے ہوں۔ " قلی " کے معنیٰ شدید نفرت اور بغض کے ہیں۔ سو حضرت لوط نے اپنے اس پرزور جواب سے ان لوگوں پر واضح فرما دیا کہ اگر تم لوگوں کو مجھ سے عناد اور بیزاری کا سبب یہ ہے کہ میں تمہارے اس عمل پر تمہیں ملامت کرتا ہوں تو تم لوگ یاد رکھو کہ تمہاری یہ دھمکی مجھے نہ اس سے روک سکتی ہے اور نہ ہی مجھے اس بارے ذرہ برابر نرم کرسکتی ہے۔ تم لوگ کان کھول کر سن لو کہ میں تمہارے اس عمل سے شدید بغض رکھتا ہوں۔ پس تم لوگ میرے خلاف جو کچھ کرنا چاہو کرلو مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ میرا بھروسہ اپنے رب پر ہے۔
Ayahs 26:169–17185 حضرات انبیاء و رسل کے نجات دہندہ بھی اللہ تعالیٰ ہی ہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر ہم نے بچا لیا لوط کو بھی اور ان کے تمام متعلقین کو بھی سوائے ایک بڑھیا کے "۔ یعنی حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی کے کہ وہ کافرہ تھی۔ اور وہ کافروں ہی کے ساتھ ہلاک ہوگئی۔ معلوم ہوا کہ ہدایت اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہء قدرت و اختیار میں ہے نہ کہ پیغمبر کے اختیار میں۔ ورنہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی کا یہ حشر اور انجام کیوں ہوتا ؟۔ نیز اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ اپنا ایمان و عقیدہ اگر صحیح نہ ہو تو کسی کی قرابت و رشتہ داری کوئی کام نہیں دے سکتی۔ خواہ وہ کسی پیغمبر کی قرابت ہی کیوں نہ ہو۔ اور دوسری طرف اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ حاجت روا و مشکل کشا سب کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ حضرات انبیائے کرام بھی اسی کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے محتاج ہیں۔ اور جب حضرت لوط جیسے پیغمبر بھی کسی کے حاجت روا و مشکل کشا نہیں ہوسکتے تو پھر اور کون ایسا ہوسکتا ہے جو مافوق الاسباب کسی کی حاجت روائی و مشکل کشائی کرسکے ؟ سو مشکل کشا اور حاجت روا سب کا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ حضرات انبیاء و رسل بھی اسی کے محتاج ہیں۔ سو بڑے ہی بہکے اور بھٹکے ہوئے ہیں وہ لوگ جنہوں نے طرح طرح کی مخلوق کو بغیر کسی سند اور دلیل کے از خود اپنا حاجت روا و مشکل کشا قرار دے رکھا ہے اور اس طرح وہ اپنی ہلاکت و تباہی کا سامان اپنے ہاتھوں خود کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 26:172–17686 اصحاب الایکۃ کا ذکر اور ان سے مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بن والوں نے بھی جھٹلایا رسولوں کو "۔ " ایکہ " درخت کو یا درختوں کے ایک جھنڈ کو کہتے ہیں۔ جن کی یہ لوگ پوجا کرتے تھے۔ ان لوگوں کی طرف حضرت شعیب (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا گیا تھا۔ یہ اصحاب مدین ہی ہیں۔ یا کوئی دوسری قوم ؟ اس بارے میں مفسرین کرام کے اقوال مختلف ہیں۔ بعض نے ان کو دو علیحدہ قومیں قرار دیا۔ مگر بعض محققین کے نزدیک یہ دونوں ایک ہی قوم تھے۔ مگر یہاں چونکہ ان کی نسبت ایکہ کی طرف کی گئی ہے جس کی یہ لوگ پوجا کرتے تھے اور اس لحاظ سے حضرت شعیب (علیہ السلام) کا چونکہ ان سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس لئے یہاں " اخوھم " نہیں فرمایا گیا۔ اور جہاں ان کو مدین کی نسبت سے ذکر فرمایا گیا ہے وہاں " اخوھم " کی نسبت بھی ذکر فرما دی گئی ہے کہ قومی لحاظ سے حضرت شعیب (علیہ السلام) ان کے بھائی اور انہی میں سے ایک تھے۔ بہرکیف حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ایمان و توحید کی دعوت دی اور ان کے خاص قومی مرض یعنی ناپ تول میں کمی پر آپ نے ان کو بطور خاص ٹوکا۔ (طبری، ابن کثیر، مدارک، محاسن، مراغی، جامع، صفوۃ وغیرہ) ۔ یہ قوم ایک تجارت پیشہ قوم تھی اور اس میدان میں انہوں نے بڑا نام کمایا تھا۔ پھر ان کا محل وقوع بھی خاص اہمیت کا حامل تھا۔ یہ لوگ اپنے دور کی ان دو بڑی شاہراہوں پر آباد تھے جو بین الاقوامی تجارت کا بڑا اہم ذریعہ تھیں۔ جن میں سے ایک یمن سے شام کی طرف جاتی تھی اور دوسری خلیج فارس سے مصر کی طرف۔ ان دو عظیم الشان تجارتی شاہراہوں کے سنگم پر واقع ہونے کے باعث یہ لوگ خوب کمائی کرتے۔ ایک طرف یہ ان تجارتی قافلوں سے مرضی کے مطابق بھاری ٹیکس وصول کرتے اور دوسری طرف یہ لوگ راہزنی اور ڈاکہ زنی کرتے۔ اور تیسری طرف یہ لوگ ناپ تول میں کمی کرتے۔ اس طرح ہوس زر نے ان لوگوں کو ہلاکت و تباہی کی راہ پر ڈال دیا تھا۔ جس سے ایسے معاشرے میں بےایمانی اور چور بازاری وغیرہ کے طرح طرح کے امراض پھیل رہے تھے۔ اور اخلاقی اعتبار سے یہ تباہی کے دھانے پر پہنچ گئی تھی ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 26:177–17987 حضرت شعیب کی دعوت و تبلیغِ حق کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت شعیب نے بھی اپنی قوم کو یہی دعوت دی کہ تم " اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو "۔ یہ ارشاد ہر پیغمبر کی تقریر میں بطور قدر مشترک خاص طور پر شامل رہا ہے۔ کیونکہ یہ درحقیقت پورے دین کا خلاصہ اور نچوڑ ہے۔ اس میں اصول و فروع سب آگئے۔ اللہ سے ڈرنا اور تقویٰ اختیار کرنا اصل الاصول اور دین کی سب سے اہم بنیاد ہے۔ اور اس کے تقاضے پورے کرنے کی صرف ایک ہی صورت ہوسکتی ہے کہ پیغمبر کی تعلیمات کی پیروی کی جائے۔ اسی سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ حضرات انبیائے کرام کی مخالفت فساد فی الارض اور ہلاکت و بربادی کا پیش خیمہ ہے۔ اسی لئے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان کو اس بارے تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ اللہ کی زمین میں فساد مچاتے مت پھرو۔ یعنی اللہ کے احکام کے خلاف ورزی نہ کرو کہ یہی فساد فی الارض ہے۔ اور اس کے احکام کی پیروی دین دنیا کی اصلاح ہے کہ اسی سے خالق کے حقوق بھی ادا ہوتے ہیں اور مخلوق کے حقوق بھی ۔ وباللہ التوفیق -
Ayahs 26:180–18488 تاریخ سے سبق لینے کی تعلیم و تلقین : سو حضرت شعیب نے ان سے فرمایا " اور ڈرو تم لوگ اس سے جس نے پیدا فرمایا تم کو بھی اور پہلوں کو بھی "۔ یہ چیز بیک وقت اس کی عظیم الشان نعمت کی دلیل بھی ہے اور بےمثال قدرت کی نشانی بھی۔ اس لئے اس سے تم لوگ اس کی وحدانیت کی دلیل بھی پکڑو اور دل و جان سے اس کا شکر بھی ادا کرو کہ حقِّ شکر ادا کرنے سے نعمت بڑھتی ہے۔ جبکہ کفران نعمت عذاب کا پیش خیمہ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّکُمْ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لاَزِیْدَنَّکُمْ وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لِشَدِیْد } ۔ (ابراہیم :7) ۔ نیز اس سے حضرت شعیب نے ان کو تاریخ سے سبق حاصل کرنے کی طرف توجہ دلائی کہ جس خالق نے اگلوں کو پیدا کیا اسی کے تم کو بھی پیدا فرمایا ہے۔ اور اگر اس نے اگلوں کو ان کے فتنہ و فساد برپا کرنے پر اور تمدن و معاشرت کو خراب کرنے پر نیست و نابود کردیا تو کوئی وجہ نہیں کہ تمہارے معاملے میں اس کی یہ سنت بدل جائے اور تمہارے اس معاشی اور معاشرتی فساد پر وہ تم کو سزا نہ دے کہ اس کا قانون سب کیلئے ایک اور بےلاگ ہے۔ اس کے یہاں سب کیلئے ایک ہی ترازو اور ایک ہی باٹ ہے۔ پس تم اس سے ڈرو اور اپنی اس روش کی اصلاح کرو۔ تاکہ تم لوگ اللہ کی گرفت و پکڑ اور اس کے اس عذاب سے بچ سکو جو فساد بپا کرنے والوں کو پہنچ کر رہتا ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 26:18589 قوم کا اپنے پیغمبر کو بیہودہ اور متکبرانہ جواب : سو حضرت شعیب کی دردمندانہ تنبیہ و تذکیر پر قوم نے انکو بیہودہ اور متکبرانہ جواب دیا۔ سو ان لوگوں نے اس کے جواب میں شعیب سے کہا کہ " تم پر کسی نے بڑا جادو کردیا ہے "۔ جبھی تو تم ایسی بہکی بہکی باتیں کرتے ہو۔ لہذا ہم تمہاری کوئی بات ماننے کے نہیں۔ یعنی حضرت شعیب کی دردمندانہ تنبیہ پر کان دھرنے اور اپنی اصلاح کرنے کی بجائے ان لوگوں نے حضرت شعیب کو وہی جواب دیا جو دوسرے انبیائے کرام کی قوموں کے منکروں نے ان کو دیا کہ سوائے اس کے نہیں تم پر کسی نے بڑا جادو کردیا ہے جس کی وجہ سے تم کو ہماری ترقی میں کامیابی کی بجائے ہلاکت نظر آرہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہی حال ہوتا ہے ایسی بدبخت قوموں کا جن پر مادیت کی چکاچوند غالب آجاتی ہے اور وہ مادہ اور معدہ کے غلام بن کر رہ جاتے ہیں کہ ان کے تقاضوں کی تکمیل کو ہی وہ اصل مقصود اور بہت کچھ سمجھنے لگتی ہیں۔ اور وہ کسی ناصح مخلص کی دعوت کو قبول کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتیں۔ یہاں تک کہ وہ اپنے آخری اور ہولناک انجام کو پہنچ کر رہتی ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -