Ayahs 23:112–113125 منکرین سے ان کی تذلیل کے لیے ایک اور سوال : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ جو لوگ دنیاوی زندگی کی اس فرصت محدود کو بہت بڑی چیز اور لمبی فرصت سمجھتے تھے اس روز وہ ان سے پوچھے گا کہ تم لوگ کتنے برس رہے ہو زمین میں ؟۔ کیونکہ تم دنیا کی اس زندگی کو بہت بڑی چیز سمجھتے تھے اور تمہارا خیال تھا کہ ہم اسی میں ہمیشہ رہیں گے اور اسی طرح مزے لوٹتے اور عیش کرتے رہیں گے۔ اور جو لوگ تمہیں دنیا کی بےحقیقتی اور بےثباتی اور اس کے فنا وزوال کے بارے میں بتاتے تھے تم ان کا مذاق اڑاتے تھے اور کہتے تھے کہ اتنی دیر کے بعد آنے والی چیز کی بنا پر ہم اپنا عیش مکدر کیوں کریں۔ سو اب بتاؤ کہ تم دنیا میں کتنے برس رہے اور قبر و برزخ میں کتنا عرصہ تم نے گزارا ؟۔ سو یہ سوال ان لوگوں سے ان کی توبیخ اور تقریع و تذلیل کیلئے ہوگا۔ (المعارف، المراغی وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ فکر و عمل کی ہر کجی اور اس کے انجام سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔ اور ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 23:114128 دنیاوی زندگی آخرت کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر : سو ان کو جواب ملے گا واقعی تم لوگ دنیا میں بہت ٹھہرے تھے کہ دنیا کی زندگی بہرحال فانی اور محدود تھی جو کہ گزر چکی۔ جبکہ آخرت کی زندگی دائمی اور لامحدود ہے۔ اور محدود کی لامحدود کے مقابلے میں بہرحال کوئی نسبت ہی نہیں۔ مگر دنیا کے اس دارالامتحان میں جہاں کہ اصل حقائق پر پردہ پڑا ہوا ہے ان غفلت شعاروں کو نہ یہ بات سمجھ میں آتی ہے اور نہ ہی یہ اس کے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے نزدیک اصل چیز مادہ و معدہ کے تقاضوں کی تکمیل ہی ہے اور بس۔ اور اسی کو یہ لوگ مقصد حیات بنائے ہوئے اور خواب غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ ورنہ اگر وہ دنیا میں آنکھیں کھول لیتے اور غور و فکر سے کام لیتے تو حقیقت حال ان کے سامنے واضح ہوجاتی اور یہ دھوکے میں نہ پڑتے۔ اور حیات دنیا کی اس فرصت محدود کو دنیا کے عارضی فوائد اور مادی منافع کی تحصیل میں ضائع نہ کرتے بلکہ آخرت کی حقیقی اور ابدی زندگی کی آبادی اور وہاں کی کامیابی کے لیے کوشش کرتے۔ اور اسی کی کامیابی اور فائز المرامی کو اپنا اصل مقصد اور حقیقی نصب العین بناتے۔ سو عقیدئہ آخرت ایک انقلاب آفریں اور سعادت دارین سے سرفرازی کا کفیل وضامن عقیدہ ہے ۔ اللہم فزدنا ایمانا بالآخرۃ و یقینا بہا واستعدادا لہا یا ذا الجلال والاکرام بیدک الخیر وانت علی کل شی قدیر ۔ ـ
129 علم حق کی روشنی سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس وقت ان سے کہا جائے گا کاش کہ تم لوگ جان لیتے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو جبکہ تم دنیا کے دارالامتحان میں تھے اور تمہارے لئے کسب و عمل کا موقع موجود تھا۔ اگر ایسے ہوتا تو تم لوگ کبھی دنیا کی فانی زندگی اور وہاں کے وقتی اور عارضی فائدوں کو سمیٹنے کو ترجیح نہ دیتے اور آخرت کی اس حقیقی اور ابدی زندگی سے منہ موڑ کر اس دائمی خسارہ سے دوچار نہ ہوتے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو آشکارا فرما دیا گیا کہ علم حق کی روشنی دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز و بہرہ ور کرنے والی روشنی ہے کہ اسی سے انسان کو حق اور حقیقت کی صحیح راہ کی معرفت اور پہچان نصیب ہوتی ہے۔ اور اسی سے وہ حق اور حقیقت کو اپنانے اور اس کے تقاضے پورے کرنے کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ حضرت ایفع بن عبد الکلاعی سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک مرتبہ اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا کہ جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ اہل جنت سے خطاب کر کے ان سے فرمائے کا کہ تم لوگ دنیا میں کتنا عرصہ رہے ہو ؟ تو وہ عرض کریں گے کہ ایک دن یا اس کا بھی کچھ حصہ۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تم نے اس میں بڑی اچھی کمائی اور عمدہ تجارت کی کہ میری رضا اور جنت کے مستحق بن گئے۔ سو اب تم ہمیشہ اسی میں رہو ۔ جعلنا اللہ منہم ۔ اور پھر دوزخیوں سے یہی سوال کرے گا کہ تم لوگ دنیا میں کتنا عرصہ رہے ہو ؟ تو وہ کہیں گے ایک دن یا اس کا بھی کچھ حصہ۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تم لوگوں نے اس میں بڑی بری کمائی کی کہ میری ناراضگی اور دوزخ کے مستحق ٹھہرے۔ پس تم ہمیشہ اسی میں رہو۔ (ابن کثیر اور مراغی وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 23:115130 انسان کی تخلیق بےمقصد و بےکار نہیں ہوسکتی : سو ارشاد فرمایا گیا اور تنبیہ و تحضیض کے لیے بطور استفہام ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں یونہی بیکار پیدا کیا ہے ؟۔ اے غافل و بیخبر لوگو ! استفہام زجر و توبیخ اور تنبیہ و تذکیر کے لئے ہے۔ یعنی ایسا سمجھنا کہ ہم یونہی بےکار اور بےمقصد پیدا کئے گئے ہیں۔ سو ایسا سمجھنا بہت سنگین غلط فہمی اور ہولناک گمراہی ہے کہ اس سے پوری متاع زندگی ہی بےکار اور بےمقصد قرار پاتی ہے۔ اور اس کا انجام بڑا ہی بھیانک سخت اور انتہائی ہولناک ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ آخر یہ کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ اس کائنات کی ایک ایک چیز تو بامقصد اور انسان کی خدمت میں مصروف ہو مگر خود یہ انسان جو اس ساری کائنات کا مخدوم ومطاع ہے یہ ایسا بیکار ہو کہ اس کی زندگی کا کوئی مقصد ہی نہ ہو۔ سو اگر انسان صحیح طور سے اس بارے غور و فکر سے کام لے تو وہ پکار اٹھے اور دل کی گہرائیوں سے پکار اٹھے گا۔ مالک تو نے یہ سب کچھ یونہی بیکار اور بےمقصد نہیں پیدا فرمایا ۔ { رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلًا فَقِنَا عَذَاب النَّارِ } -
131 سب کا رجوع بہرحال اللہ ہی کی طرف : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ سب نے لوٹ کر اللہ ہی کے حضور حاضر ہونا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور تنبیہ و تحضیض کے لیے بطور استفہام ارشاد فرمایا گیا " اور کیا تو نے لوٹ کر ہمارے پاس نہیں آنا ؟ اور اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا حساب نہیں دینا اور بدلہ نہیں پانا ؟ اور تم یونہی کیڑوں مکوڑوں اور برسات کی مینڈکوں کی طرح مر کھپ کر ختم ہوجاؤ گے اور بس ؟ نہیں اور ہرگز نہیں۔ بلکہ دنیا کی اس زندگی میں تمہارا وجود دراصل امتحان اور آزمائش کے لئے ہے۔ جو اس میں کامیاب ہوگیا، اس کے لئے آخرت کی سدا بہار کامیابی اور دائمی نعمتیں ہیں ۔ اَللّٰہُمَّ اجْعَلْنَا مِنْہُمْ ۔ اور جو اس میں ناکام ہوگیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اس کے لئے دوزخ کا ابدی عذاب اور وہاں کا دائمی ٹھکانا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو جن لوگوں نے اپنی زندگیوں کے بارے میں یہ گمراہ کن تصور قائم کر رکھا ہے کہ ہمیں یونہی بیکار اور بےمقصد پیدا کیا گیا ہے اور ہم نے اپنے رب کے حضور حاضر ہو کر اپنے کیے کرائے کی جوابدہی نہیں کرنی اور اس کے یہاں سے کوئی بدلہ نہیں پانا تو وہ لوگ بڑے ہی ہولناک خسارے میں پڑے ہیں۔ اور ان کا یہ خسارہ کل قیامت کے اس یوم فصل میں جو کہ کشف حقائق اور ظہور حقائق کا دن ہوگا پوری طرح سامنے آجائے گا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { فَاِذَا جَائَ اَمْرُ اللّٰہِ قُضِیَ بالْحَقِّ وَخَسِرَ ہُنَالِکَ الْمُبْطِلُوْنَ } ۔ (المومن : 78) نیز فرمایا گیا { وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ یَوْمَئِذٍ یَّخْسِرُ الْمُبْطِلُوْنَ } (الجاثیۃ :27) ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 23:116132 عظمت خداوندی کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بڑا ہی بلند ہے اللہ یعنی ایسے تمام تصورات سے۔ یعنی اس سے کہ وہ اس کائنات کو یونہی بےمقصد و بیکار پیدا فرما دے اور انسان جیسی اشرف المخلوقات کو جو کہ اس ساری کائنات کا مخدوم ومطاع ہے اس کو یونہی بےمقصد اور بےکار چھوڑ دے۔ نہ اس کی زندگی کا کوئی مقصد ہو نہ کوئی مشن اور نصب العین۔ بلکہ یہ پوری کائنات سے زندگی بھر طرح طرح کے فائدے اٹھاتے رہنے کے بعد یونہی مرکھپ کر ختم ہوجائے۔ سو ایسا نہ ہے نہ ہوسکتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ایسے ہر تصور سے پاک اور اعلیٰ وبالا ہے کہ وہ کوئی ایسا کار عبث کرے اور حکمتوں بھری اس کائنات اور اس کے مخدوم ومطاع اس انسان کو یونہی بےمقصد اور بےکار پیدا کر دے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید من القول والعمل بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ یا ذا الجلال والاکرام -
133 بادشاہ حقیقی اللہ تعالیٰ ہی ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بڑا ہی بلند وبالا اور عظمت شان والا ہے اللہ جو کہ بادشاہ حقیقی ہے۔ اور جب ایک فانی اور مجازی بادشاہ بھی اس بات کو اپنی حکومت اور بادشاہی کے لوازم میں سے سمجھتا ہے کہ وہ اطاعت شعاروں اور فرمانبرداروں کو صلہ و انعام سے نوازے اور غداروں اور نافرمانوں کو قرار واقعی سزا سے تو پھر اس بادشاہ حقیقی ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کے بارے میں تم لوگ یہ گمان کس طرح کرسکتے ہو ؟ کہ وہ نیک و بد، صالح و طالح، متقی و ایماندار اور بےایمان و بدکردار سب کو ایک برابر رکھ دے گا۔ یہ اس کی شان اقدس و اعلیٰ کے خلاف ہے ۔ { اَ لَیْسَ اللّٰہُ بَاَحْکَمِ الْحَاکَمِیْنَ } ۔ بَلٰی یَا رَبَّنَا وَنَحْنُ عَلٰی ذَلِکَ لَمِنَ الشَّاہِدِیْنَ وَالشَّاکِرِیْنَ ۔ سو قیامت کے اس یوم فصل کا آنا عقل و نقل دونوں کے اعتبار سے ضروری ہے۔ تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔ ورنہ یہ سارا کارخانہ ہست وبود بیکار قرار پاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر مستقیم وثابت قدم رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
134 اللہ مالک ہے عرش عظیم کا : جو کہ اس کی عظمت شان اور جلالت قدر کا ایک اور اہم اور انفرادی پہلو ہے۔ سو فرمایا گیا کہ وہی مالک ہے عرش کریم کا۔ جو کہ سب کائنات پر حاوی اور اس کو محیط ہے۔ پس وہ ساری کائنات کا رب اور اس کا مالک ہے ۔ عَزَّ سُلْطَانُہُ وَ جَلَّ بُرْہَانُہ ۔ سو جب وہ اس عرش کریم کا مالک ہے جو کہ اس پوری کائنات پر حاوی اور اس پر محیط ہے تو پھر کوئی بھی چیز نہ اس کے احاطہ قدرت سے نکل سکتی ہے اور نہ اس کی گرفت و پکڑ سے باہر ہوسکتی ہے۔ نیز جو ایسی عظیم الشان کائنات کا خالق ومالک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ تو اس کی کوئی بھی بات اور اس کی کوئی بھی تخلیق نہ بیکار ہوسکتی ہے اور نہ حکمت و مصلحت سے خالی۔ تو پھر انسان جیسی عظیم الشان مخلوق کس طرح عبث اور بیکار ہوسکتی ہے ؟
Ayah 23:117135 مشرک کا حساب اللہ تعالیٰ کے یہاں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس نے اس سب کے باوجود اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو پکارا۔ یعنی جب یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ اللہ کے سوا کسی بھی اور معبود کے لیے نہ کوئی دلیل ہے نہ ہوسکتی ہے۔ سو جس نے اس سب کے باوجود اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو پوجا پکارا اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے یہاں ہی ہے۔ کہ یہ اتنا بڑا اور اس قدر سنگین جرم ہے کہ اس کی سزا وہی وحدہ لاشریک دے سکتا ہے ۔ اَللّٰہُمَّ اِنَّا نَعُوْذُ بِکَ مِنْ اَنْ نُشْرِکَ بِکَ شَیْئًا نَعْلَمُہ وَنَسْتَغْفِرُکَ لِمَا لَا نَعْلَمُہ ۔ بہرکیف اس میں مشرکوں کیلئے سخت تنبیہ ہے کہ ان کا جرم بڑا ہولناک اور نہایت سنگین ہے۔ اور ان کو اپنے رب کے یہاں بہرحال اس کا حساب اور جواب دینا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایسے لوگ یا صحیح اور سچی توبہ کرلیں یا پھر اس کے یہاں کی جوابدہی کے لیے تیار ہوجائیں ۔ والعیاذ باللہ -
136 کافر لوگ کبھی بھی فلاح نہیں پاس کیں گے : اس سورة کریمہ کے شروع میں فرمایا گیا تھا ۔ { قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ } ۔ کہ فلاح پا گئے وہ ایماندار جن کی یہ اور یہ صفات ہیں۔ اور اب اس کے خاتمے پر فرمایا جا رہا ہے ۔ { اِنّہ لایُفْلَحُ الْکَافِرُوْنَ } ۔ کہ یقینی طور پر کافر فلاح نہیں پاسکیں گے۔ سو اس سے یہ واضح ہوگیا کہ ایمان و یقین، کامیابی اور حقیقی کامیابی اور دارین کی فوز و فلاح کی اصل اور اساس متین ہے۔ اور اس کے مقابلے میں کفر و انکار دائمی خسران و نقصان کی جڑ بنیاد ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس انسان کیلئے صحت و سلامتی کی راہ اور سبیل فوز و فلاح یہی ہے کہ وہ کفر و انکار کے تمام شوائب سے بچ کر صدق دل سے اپنے رب پر ایمان لے آئے۔ اس کے دین متین کی تعلیمات مقدسہ کو پوری طرح اپنائے اور اپنے اندر وہ سات صفات پیدا کرے جو اہل ایمان کے شایان شان اور ان کا طرہ امتیاز ہیں اور جن کا ذکر اس سورة کریمہ کے شروع میں فرمایا گیا ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید بکل حال من الاحوال -
Ayah 23:118137 ایک عظیم الشان دعا کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا " اور کہو اے میرے رب میری بخشش فرما اور مجھ پر رحم فرما "۔ ان غلطیوں، کوتاہیوں اور خطاؤں کی جو راہ حق میں ہم سے سرزد ہوجاتی ہیں۔ اور رحم فرما ہم پر۔ ہمیں صحیح اقوال اور صالح اعمال کی توفیق و عنایت سے نواز کر۔ سو مغفرت اور رحمت حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی دو ایسی عظیم الشان عنایتیں ہیں جو درحقیقت دارین کی سعادت اور فوز و فلاح کی شاہ کلید اور اس کی کفیل وضامن ہیں۔ اسی لئے اس آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ کو اور آپ ﷺ کے توسط سے آپ ﷺ کی امت کے ہر فرد کو ان دونوں کے مانگنے اور سوال کرنے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ کیونکہ مغفرت و بخشش کا مقتضیٰ یہ ہے کہ گزشتہ وہ سب لغزشیں اور کو تاہیاں اور گناہ و قصور ہم سے معاف فرما دئے جائیں جو بتقاضائے بشریت اور نفس و شیطان کے اغواء و تغریر کی بناء پر انسان سے سرزد و صادر ہوجاتے ہیں۔ جبکہ رحمت خدا وندی کا حاصل یہ ہے کہ انسان آئندہ کے لئے راہ حق و صواب پر گامزن رہے اوراقوال و اعمال میں سب صحت و درستی اور صلاح و اصلاح سے شاد کام اور فائز المرام رہے۔ (ابن کثیر وغیرہ ) ۔ اور اس میں آنحضرت ﷺ کو خطاب فرما کر اس کی تعلیم و تلقین فرمانے میں یہ خاص درس ہے کہ جب حضرت امام الانبیائ ﷺ کو باوجود اس عظمت شان، رفعت مکان اور معصوم ہونے کے اس کا حکم و ارشاد فرمایا جا رہا ہے تو پھر آپ ﷺ کی امت اور امت کا ہر فرد اس کا کس قدر محتاج ہے ؟۔ (ابن جریر، روح، قرطبی، اضواء البیان، فتح القدیر، التحریر والتنویر اور المعارف وغیرہ) ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید بکل حال من الاحوال -
138 اللہ کی رحمت کا حوالہ وذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور تو ہی ہے اے میرے مالک سب سے بڑا رحم فرمانے ولا ایسا مہربان اور اس قدر رحم فرمانے والا کہ اس کی رحمت کا کوئی کنارہ نہیں۔ جس کی رحمت بہا نہیں چاہتی، بہانے ڈھونڈتی ہے۔ اور جس کی رحمت کے بعد کسی اور کی رحمت و عنایت کی کوئی حاجت نہیں رہتی ۔ فلک الحمدُ یا ربی ولک الشکر قبل کل شیء وبعد کل شیء ۔ انت ربنا ونحن عبید لک ۔ انت المستعان و علیک التکلان ۔ و لا حول و لا قوۃ الا بک وحدک ۔ وصل اللہم وسلم علی نبیک وصفیک وخلیلک وحبیبک سیدنا محمد و علی آلہ الطیبین و اصحابہ الطاہرین ومن اہتدی بہدیہ ودعا بدعوتہ واستن بسنتہ و سار علی دربہ الی یوم الدین و آخردعوانا ان الحمد للہ رب العالمین و انا عبدک العاصی ولعفوک ورحمتک الراجی، محمد اسحٰق خان ۔ غفر اللہ لہ ولوالدیہ و لأہلیہ و لاولادہ واساتذتہ و مشائخہ اجمعین ۔ انک انت السمیع القریب المجیب وعلی ما تشاء قدیر -